باب 1-
کاروبار،تجارت اور بیوپار
سیکھنے کے مقاصد
1.1تعارف
تمام انسان ، جہاں کہیں بھی رہتے ہوں ، انہیں اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے مختلف اقسام کی اشیا اور خدمات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ضروری اشیا و خدمات کی فراہمی کی ضرورت کے پیش نظر لوگوں کے ذریعہ بعض سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں تاکہ دوسروں کی ضرورت کے لحاظ سے اشیا کی پیداوار کر سکیں او ر انہیں فروخت کر سکیں۔ جدید سماج میں کاروبار ایک اہم معاشی عمل ہے کیونکہ یہ لوگوں کی ضروریات کے لیے سامان اور خدمات کی پیداوار اور فروخت سے جڑا ہوا ہے۔ زیادہ تر کاروباری سرگرمیوں کے پیچھے کاروبار کا اہم مقصد اشیا و خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ پوری کرتے ہوئے پیسہ کمانا ہوتا ہے۔ کاروبار ہماری زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر چہ جدید سماج میں ہماری زندگی متعدد دوسرے اداروں جیسے اسکولوں ، کالجوں ،اسپتالوں ،سیاسی پارٹیوں اور مذہبی جماعتوں سے متاثر ہوتی ہے تاہم کاروبار ہماری روز مرہ کی زندگی کو بہت متاثر کرتا ہے ۔ اس لیے یہ اہم ہو جاتا ہے کہ ہم کاروبار کے تصور ،نوعیت اور مقصد کو سمجھیں۔
اس باب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں ،ہندوستان میں تجارت اور بیوپار کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں کاروبار کے تصور، نوعیت اور مقصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
سیکشن۔ I
(تجارت اور بیوپار کی تاریخ)
کسی بھی سرزمین کی معاشی اور تجارتی ارتقا کا انحصار اس کے ظاہری ماحول پر ہوتا ہے۔ یہ حقیقت مجموعی طور پر برصغیر ہند کے معاملہ میں بالکل درست ہے کیونکہ اس کے شمال میں کوہ ہمالیہ اور اس کے پہلو میں بحر ہند ،بحیرۂ عرب اور خلیج بنگال ہیں۔ تجارتی سڑک جو شاہراہ ریشم کے نام سے مشہور ہے نے،پڑوسی ملکوں،خصوصی طور پر ایشیائی ملکوں کے ساتھ اور عمومی طور پر پوری دنیا کے ساتھ تجارتی اور سیاسی رابطہ قائم کرنے میں مدد کی ہے۔ سمندری راستے اس کے مشرق اور مغرب میں سمند ر سے منسلک ہیں اور یہ مصالحوں کی تجارت کے لئے استعمال ہوتے تھے اسی لئے یہ مصالحہ کے راستہ کے طور پر مشہور تھے۔ انہی راستوں کی وجہ سے اہم ملکوں ،اہم تجارتی مراکز اور صنعتی پٹی کو فروغ ملا جس کے بدلے میں قدیم ہندوستان میں گھریلو اور بین الاقوامی تجارت کی ترقی ہوئی ۔
پرانے زمانہ میں تجارت اور بیوپار نے معاشی دنیا میں ہندوستان کو بڑا برآمداتی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ آثاریاتی شواہد(Archaeological Evidences) سے ظاہرہوتاہے کہ اندرون و بیرون ملک ، خشکی اور سمندری راستہ سے تجارت و بیوپار قدیم ہندوستان میں کافی مددگار رہا ہے۔ تین ہزار سال قبل مسیح ہڑپّا اور موہن جوداڑو جیسے تجارتی شہروں کو بسایا گیا تھا۔ان تہذیبوں نے میسوپوٹامیہ کے ساتھ تجارتی رشتے قائم کئے تھے اور ان کے ساتھ سونا،چاندی ، تانبا ،رنگین قیمتی پتھر ،منکے ،موتی ،سیپوں ،ٹیرا کوٹہ کے برتنو ں وغیرہ کی تجارت ہوتی تھی۔ یہ دور حقیقی تجارتی سرگرمیوں اور شہری ترقی کے لئے نمایاں تھا ۔ چوتھے اور تیسرے ہزار سال قبل مسیح کے دوران مغربی ہندوستان میں تجارتی مراکز بھی قائم ہوئے تھے۔ نتیجہ کے طور پر ہندوستانی سماج میں تاجروں اور تاجر برادریوں کی بالا دستی قائم ہو گئی تھی۔ قدیم زمانہ میں بر صغیر ہندوستان کے زیادہ تر علاقوں میں بڑے احتیاط کے ساتھ سیاسی معیشت ، ملیٹری سیکورٹی اور تجارتی ضابطے وضع کئے گئے تھے۔ ان دنوں مختلف مقامات پر مختلف قسم کے سکے اور طریقہ اوزان رائج تھے۔ رقم تبدیل کرنے والوں کی مدد سے اور حوالے کے طور پر بعض متفقہ طریقہ اوزان اور پیمائش اپنا کر اس مسئلہ کو حل کرتے تھے۔
1.2 اندرون ملک بینک کاری
معاشی زندگی نے چونکہ ترقی کی ہے اس لئے رقم کے طور پر اپنی پائیداری اور تقسیمی صلاحیت کی وجہ سے دوسری اشیا کی کمی پوری کرنے کے لئے دھات کا استعمال شروع ہوا ۔پیسے چونکہ اشیا کے تبادلے ،پیمائش کے ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے دھات کے سکّے کا رواج شروع کیا گیا ، جس کے استعمال سے معاشی سرگرمیوں کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
لین دین کے لئے ’ہنڈی ‘ اور ’چِتّی‘ جیسے دستاویزات کا استعمال ہوتا تھا ، جس میں رقم ایک فرد سے دوسرے فرد کو منتقل ہوتی تھی۔ ’’ہنڈی ‘‘ پورے بر صغیر ہند میں تبادلے کا ایک مقامی ذریعہ ہے ۔ جسے ایک کنٹریکٹ تصور کیا جاتا ہے۔ جس میں (i) رقم کی ادائیگی کا وعدہ یا حکم نامہ ہوتا ہے یا جو غیر مشروط ہوتا ہے۔(ii) جس میں ضابطہ کے مطابق بات چیت کے بعد منتقلی کے ذریعہ تبدیلی کی صلاحیت ہوتی ہے۔
| ہندوستان کی تجارتی برادریوں کے ذریعہ استعمال میں لائی جانے والی ہنڈیاں |
| ہنڈی کے نام | وسیع درجہ بندی | ہنڈی کانام |
| کسی بھی شخص کے لئے واجب الادا رقم وصول کرنے والے پر کوئی دینداری نہیں ہوتی۔ |
درشنی | دھنی۔جوگ |
| کسی مخصوص وقابل احترام شخص کے لئے واجب الادا ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوگی جو رقم حاصل کرتا ہے۔ |
درشنی | شاہ -جوگ |
| ہنڈی ،حکم نامہ کو قابل ادائیگی بناتا ہے۔ | درشنی | فرمان -جوگ |
| پیش کرنے یا حاصل کرنے والے کے واجب الادا | درشنی | دیکھن-ہار |
| جو رقم حاصل کرتا ہے لیکن رقم کی ادائیگی مدت پوری ہونے پر ہوتی ہے ۔ | مدّتی | دھنی جوگ |
| مقرر شرط پرہی ہنڈی ، حکم نامہ پر قابل ادا ہوتی ہے ۔ | مدّتی | قربان ۔جوگ |
| روانہ شدہ اشیا کے مقابلہ میں وصول کیا جاتا ہے ۔اگر نقل و حمل کے دوران اشیاضائع ہو جاتی ہیں، تو ایسی صورت میں جو کھمی ہنڈی رکھنے والے یاحاصل کرنےوالے اس کی لاگت برداشت کریں گے۔ اشیا کے حاصل کرنے والے پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔ | مدّتی | جوکھمی |
1.2.1 بچولیوں کا فروغ
1.3 نقل و حمل (ٹرانسپورٹ)
1.4 تجارتی برادریوں کا استحکام
1.4.1 سودا گروں کی جماعت (Merchant Corporation)
1.4.2 اہم تجارتی مرکز
1.4.3 اہم برآمدات و درآمدات
1.5 عالمی معیشت میں بر صغیر ہند کی حیثیت (یکم عیسوی سے 1991ء تک)
ماخذ:انگس میڈیسن (2001اور 2003)، دی ورلڈ اکانومی: اے ملینیل پرسپکٹیو، او ای سی ڈی ، پیرس۔ انگس میڈیسن، دی ورلڈ اکانومی، ہسٹوریکل اسٹیٹسٹکس
1.5.1 ہندوستان میں دوبارہ صنعت کاری کا عمل شروع ہوا
1947ء میں آزادی کے وقت ہندوستان کے صنعت کار کافی مضبوط تھے اور وہ اس حالت میں تھے کہ یہاں سے جانے والے انگریزوں کے کاروباری ادارے خرید رہے تھے۔ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) میں صنعت کا حصہ 1913ء میں 3.18فیصد سے دو گنا بڑھ کر 1947میں 7.5فیصد ہو گیا اور برآمدات میں برآمدکاروں کا حصہ1913ء اور 1947ء میں بالترتیب 22.4فیصد سے بڑھ کر 30فیصد ہو گیا ۔
ماخذ :۔ بی آر ٹام لیسن، دی اکانومی آف مارڈرن انڈیا 1870-1970، دی نیو کیمبرج ہسٹری آف انڈیا ، وولیوم 3.3، کیمبرج یونیورسٹی پریس 1996
سیکشن II-
کاروبار کی نوعیت اور تصور
1.6 کاروبار کا تصور
کاروبار (Business) کی اصطلاح لفظ مصروف(Busy) سے ماخوذ ہے۔ چنانچہ کاروبار سے مراد مصروف رہنے سے ہے۔ پھر بھی اس کا مخصوص معنی ایسے پیشے سے منسوب ہے جس میں لوگ منافع کمانے کے لئے پابندی کے ساتھ اشیا اور خدمات کی خریداری ،پیداوار اور فروخت کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ اس سرگرمی میں دوسروں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے فروخت کی غرض سے اشیا کی پیداوار ، خریداری یا اشیا کا تبادلہ یا خدما ت کی فراہمی شامل ہوتی ہے۔
ہر ایک سماج میں لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے مختلف سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کی موٹے طور پر دو گروپوں معاشی اور غیر معاشی سرگرمیوںمیں درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔معاشی سرگرمیاں وہ ہوتی ہیں جنہیں ہم معاش کمانے کی غرض سے انجام دیتے ہیں جبکہ غیر معاشی سرگرمیاں پیارو محبت ، ہمدردی ،جذبات اور حب الوطنی وغیرہ کی وجہ سے انجام پاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مزدور ذریعہ معاش کے طور پر کسی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ ایک ڈاکٹر اپنی کلینک (مطب) چلاتا ہے۔ ایک منیجر دفتر میں کام کرتا ہے اور ایک استاد اسکول میں پڑھاتا ہے۔ اس لئے وہ معاشی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ دوسری جانب ایک گھریلو خاتون اپنے کنبے کے لئے کھانا پکاتی ہے یا کوئی لڑکا جب کسی بوڑھے شخص کی سڑک پار کرنے میں مدد کرتا ہے تو وہ غیر معاشی سرگرمیاں انجام دیتا ہے کیونکہ وہ یہ کام پیار و محبت یا ہمدردی کی بنیاد پر انجام دیتے ہیں۔ معاشی سرگرمیوں کو مزید تین زمروں یعنی کاروبار، پیشہ اور روزگار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ کاروبار کی وضاحت ایسی معاشی سرگرمی کے طور پر کی جا سکتی ہے جس میں سماج کی انسانی ضرورتوں کی تکمیل کرکے منافع کمانے کی غرض سے اشیا اور خدمات کی پیداوار اور فروخت کرنا شامل ہوتا ہے
آپ اپنے طور پر یہ کوشش کریں:
بتائیں کہ کیا درج ذیل میں سے ہر ایک معاشی سرگرمی ہوتی ہے:
1۔ کسان اپنے استعمال کے لئے چاول کی پیداوار کرتا ہے۔ ہاں/ نہیں
2۔فیکٹری کا مالک مارکیٹ میں اسکول بیگ کی فروخت کے لئے پیداوار کرتا ہے۔ ہاں/ نہیں
3۔مصروف ترین ٹریفک چوراہے پر بھیک مانگنے والا شخص۔ ہاں/ نہیں
4۔گھریلو نوکر جو اپنے مالک کے گھر میں چھوٹے موٹے کام کرتا ہے۔ ہاں/ نہیں
5۔گھریلو خاتون جو اپنے گھر میں چھوٹے موٹے گھریلو کام کرتی ہے۔ ہاں/ نہیں
1.6.1 کاروباری سرگرمیوں کی خصوصیات
ادارے کی سطح پر کاروباری کام کاجکاروبار میں مختلف قسم کے اداروں،جنہیں کاروباری ادارہ یا فرم کہا جاتا ہے، کے ذریعہ انجام دیئے جانے والے کام کاج شامل ہوتے ہیں۔ کاروبار چلانے کے لئے کاروباری اداروں کو چار اہم کام یعنی سرمایہ کاری، پیداوار، مارکیٹنگ اور انسانی وسائل کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ سرمایہ کاری ،کاروباری ادارہ چلانے کے لئے فنڈ کے حصول اور اس کے استعمال سے متعلق ہوتی ہے۔ پیداوار میں خام مال کی تیار مصنوعات میں تبدیلی یا خدمات کی پیداوار شامل ہوتی ہے۔ مارکیٹنگ سے وہ تمام سرگرمیاں مراد ہیں جو پیداکار (پروڈیوسر) سے ان لوگوں کو اشیا اور خدمات کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں، جن کی انہیں جس جگہ اور جس وقت ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ انسانی وسائل کے نظم کا مقصد، اداروںمیں مختلف کام انجام دینے کے لئے ضروری ہنر مند افراد کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
|
1.6.2 کاروبار،پیشہ اور روزگار کا موازنہ
| بنیاد | کاروبار | پیشہ | روزگار |
| 1-قیام کا طریقہ | تاجر کا فیصلہ اور دوسری قانونی کارروائیاں، اگر ضروری ہوں تو | پیشہ ور ادارے کی رکنیت اور پریکٹس کی سند | تقرر نامہ اور خدمات سے متعلق معاہدہ |
| 2-۔ کام کی نوعیت | عوام کے لئے اشیا اور خدمات کا بندو بست | ذاتی ،ماہرانہ خدمات کی انجام دہی |
خدمت کے معاہدے یا خدمت کے ضابطوں کے مطابق کام انجام دینا |
| 3- قابلیت | کم از کم تعلیمی لیاقت کی ضرورت نہیں | پیشہ ورانہ ادارے کے ذریعہ تجویز کردہ لیاقت،کسی خاص شعبہ میں مہارت اور تربیت ضروری ہے ۔ | آجر کے ذریعہ تجویز کردہ تعلیمی لیاقت اور تربیت |
| 4- ہدیہ یا معاوضہ | منافع کمانا | پیشہ ورانہ فیس | تنخواہ یا اجرت |
| 5- سرمایہ پونجی | کاروبار کی نوعیت اور حجم کے مطابق مطلوب سرمایہ پونجی | قیام کے لئے محدود سرمائے کی ضرورت | سرمایہ ضروری نہیں ہے۔ |
| 6- جوکھم | منافع غیر یقینی اور بے ضابطہ ہوتا ہے۔جوکھم موجود ہوتا ہے۔ | فیس پابندی سے اور یقینی ہوتی ہے ۔ تھوڑا بہت جوکھم ہوتا ہے۔ | ادائیگی طے شدہ اورپابندی سے ہوتی ہے۔ کوئی جوکھم نہیں ہوتا۔ |
| 7-مفاد کی منتقلی | کچھ کارروائیوں کے ساتھ منتقلی ممکن | ممکن نہیں | ممکن نہیں |
| 8- ضابطۂ اخلاق | کوئی ضابطۂ اخلاق نہیں ہوتا | پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ | آجر کے ذریعہ وضع کردہ کردار کے معیارات کی پیروی کرنی ہوتی ہے۔ |
| 9-۔مثال | دکان ،فیکٹری | قانونی ،طبی معالج،چارٹیڈ اکاؤنٹینسی | بینکوں،بیمہ کمپنیوں،سرکاری محکموں میں روزگار |
1.7 کاروباری سرگرمیوں کی درجہ بندی
1.7.1 صنعت
(a) ابتدائی صنعتیں: ابتدائی صنعتوں میں وہ تمام سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں جن کا تعلق قدرتی ذرائع کے اخذ کرنے اور قدرتی وسائل سے جانداروں کی تعداد کو بڑھانے،پیداکرنے اور پودوں وغیرہ کو ترقی دینے سے ہے۔انہیں ذیل میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
کاروباری سرگرمیوں کو ظاہر کرنے والے چارٹ

میک ان انڈیا
| 1. آٹو موبائلز 4 . با یو ٹکنا لوجی 7. دفاعی مینوفیکچرنگ 10. فوڈ پروسیسنگ 13. میڈیا اور تفریح 16. فارماسیوٹیکلز 19. قابل احیا توانائی 22. ٹکسٹائلز اور ملبوسات |
2 . آٹو موبائلز کے آلات 5 . کیمیکلز 8 . الیکٹریکل مشینری 11. اطلاعاتی ٹکنا لوجی اور بزنس پروسس مینجمنٹ 14 کانکنی 17. بندر گاہ اور جہاز رانی 20. سڑک اور شاہراہیں 23. حرارتی بجلی |
3. ہوا بازی 6 . تعمیرات 9 . الیکٹرانک نظام 12. چمڑہ 15. تیل اور گیس 18. ریلویز 21. خلاء اور فلکیات 24. سیاحت اور مہمان نوازی |
1.7.2 کامرس
1.7.3 تجارت
1.7.2 تجارت کے معاونین
(v) تشہیر(Advertising): تشہیر یا ایڈورٹائزنگ ،سامان کی فروخت (Sale) بڑھانے کے ،خصوصاً اشیائے صرف جیسے الیکٹرانک کا سامان، موٹر کاریں،صابن،میل صاف کرنے والے پاؤڈر وغیرہ کی سیلز بڑھانے کے انتہائی اہم طریقوں میں ایک ہے۔ ان میں سے اکثر چیزیں بہت چھوٹی یا بڑی فرمیں تیار کرتی ہیں اور انہیں مارکیٹ میں سپلائی کرتی ہیں۔ مال تیار کرنے والوں یا تاجروں کے لئے عملی طور پر ہر ایک صارف کے ساتھ رابطہ کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لئے سیلز کے فروغ کے لئے متوقع خریداروں کو مارکیٹ میں دستیاب اشیا اور خدمات کی خصوصیات اور قیمتوں وغیرہ کے بارے میں علم ہونا چاہئے۔ صارفین کو اشیا اور خدمات کی کوالٹی، استعمال اور قیمت وغیرہ سے باخبر کرنے کے لئے سامان کا اشتہار دیا جاتا ہے۔ اس طرح اشتہارات،بازار میں دستیاب اشیا اور خدمات کے بارے میں بتاتے ہیں اورمخصوص چیزوں کے خریدنے پر صارف کو آمادہ کرتےہیں۔
1.8 کاروبار کے مقاصد
1.9 کاروبار کے کثیر جہتی مقاصد
خطرات سے نمٹنے کے طریقے
1.10.1 کاروباری خطرات کی نوعیت
کاروباری خطرات محتلف اسباب سے پیداہوتے ہیں،جن کی ذیل میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔
(i) قدرتی اسباب: