Skip to content
Karobarimutuala-001



باب 1-

کاروبار،تجارت اور بیوپار 


سیکھنے کے مقاصد

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ :مرچب
(i) تاریخی تناظرمیں تجارت اور بیوپار کے فروغ کا اعتراف کر سکیں ۔
(ii) تجارت اور بیوپار میں گھریلو بینک کاری کے نظام کو سمجھ سکیں۔ 
(iii) کاروبار کے تصور اور مقاصد کی وضاحت کر سکیں ۔ 
(iv) صنعتوں کی اقسام پر مباحث کر سکیں ۔
(v) بیوپار سے متعلق سرگرمیوں کی وضاحت کر سکیں۔ 
(vi) کاروباری خطرات کی نوعیت اور ان کے اسباب بیان کر سکیں ۔ 
(vii) کاروبار شروع کرنے سے پہلے اس کے بنیادی عوامل پربحث کر سکیں ۔ 



عمران ،من پریت ،جوزف اور پرینکا دسویں درجے میں ایک ہی کلاس کے ہم جماعت رہے ہیں۔ اپنے امتحان کے مکمل ہونے کے بعد وہ اپنی مشترکہ دوست روچیکا کے گھر پر ملتے ہیں۔ جب وہ امتحان کے دنوں کے اپنے اپنے تجربات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے تو روچیکا کے والد مسٹر رگھوراج چودھری وہاں آتے ہیں اور ان لوگوں سے ان کی خیریت دریافت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سے اس کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی اس کا کوئی معقول جواب نہیں تھا۔ مسٹر رگھوراج جو خود ایک کامیاب تاجر ہیں، وہ انہیں پیشے کے طور پر کاروبار کے بارے میں بتاتے ہیں۔ جوزف کو تجسس پیدا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’ہاں واقعی کاروبار بہت سارے پیسہ کمانے کے لیے بہتر ہے ۔‘‘مسٹر رگھوراج اسے بتاتے ہیں کہ ’کاروبار میں پیسہ کمانے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔‘ کاروباری سرگرمیاں ، کسی بھی ملک کو فروغ اور ترقی دیتی ہیں۔ وہ انہیں مزید بتاتے ہیں کہ کاروباری سرگرمیوں کی جڑیں پرانے زمانہ میں بھی مل سکتی ہیں اور یہ کہ تجارت نے بر صغیر ہند کی خوشحالی میں کس طرح مدد کی ہے۔ پرینکا نے کہا کہ اس نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں شاہراہ ریشم(سِلک روٹ) کے بارے میں پڑھا ہے۔ بعد ازا ں مسٹر رگھو راج اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ پھر بھی چاروںہم جماعت سوالات کرتے رہے۔ ان چاروں ساتھیوں کی گفتگو کا مقصد اس بات پر تھا کہ زمانہ قدیم میں تجارتی سرگرمیاں کس طرح انجام پاتی تھیں۔ تجارتی سرگرمیوں کی جڑوں کا کس طرح پتہ لگایا جا سکتا ہے ؟ اس وقت ہندوستان آنے والے سیاحوں نے بر صغیر ہند و ستان کو ’’سورن بھارت اور سورن دیپ ‘‘کیوں کہا تھا؟ آخر کس بات نے کولمبس اور واسکوڈی گاما کو ہندوستان کا پتہ لگانے کے لیے سفر کرنے پر مجبور کیا ؟ ان دوستو ں نے کاروبار کی ترقی ، نوعیت اور مقصد کے بارے میں متعدد سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے اپنے اسکول کے کامرس کے ٹیچر سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ۔


1.1تعارف

تمام انسان ، جہاں کہیں بھی رہتے ہوں ، انہیں اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے مختلف اقسام کی اشیا اور خدمات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ضروری اشیا و خدمات کی فراہمی کی ضرورت کے پیش نظر لوگوں کے ذریعہ بعض سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں تاکہ دوسروں کی ضرورت کے لحاظ سے اشیا کی پیداوار کر سکیں او ر انہیں فروخت کر سکیں۔ جدید سماج میں کاروبار ایک اہم معاشی عمل ہے کیونکہ یہ لوگوں کی ضروریات کے لیے سامان اور خدمات کی پیداوار اور فروخت سے جڑا ہوا ہے۔ زیادہ تر کاروباری سرگرمیوں کے پیچھے کاروبار کا اہم مقصد اشیا و خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ پوری کرتے ہوئے پیسہ کمانا ہوتا ہے۔ کاروبار ہماری زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر چہ جدید سماج میں ہماری زندگی متعدد دوسرے اداروں جیسے اسکولوں ، کالجوں ،اسپتالوں ،سیاسی پارٹیوں اور مذہبی جماعتوں سے متاثر ہوتی ہے تاہم کاروبار ہماری روز مرہ کی زندگی کو بہت متاثر کرتا ہے ۔ اس لیے یہ اہم ہو جاتا ہے کہ ہم کاروبار کے تصور ،نوعیت اور مقصد کو سمجھیں۔

اس باب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں ،ہندوستان میں تجارت اور بیوپار کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں کاروبار کے تصور، نوعیت اور مقصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ 

سیکشن۔ I

(تجارت اور بیوپار کی تاریخ) 

کسی بھی سرزمین کی معاشی اور تجارتی ارتقا کا انحصار اس کے ظاہری ماحول پر ہوتا ہے۔ یہ حقیقت مجموعی طور پر برصغیر ہند کے معاملہ میں بالکل درست ہے کیونکہ اس کے شمال میں کوہ ہمالیہ اور اس کے پہلو میں بحر ہند ،بحیرۂ عرب اور خلیج بنگال ہیں۔ تجارتی سڑک جو شاہراہ ریشم کے نام سے مشہور ہے نے،پڑوسی ملکوں،خصوصی طور پر ایشیائی ملکوں کے ساتھ اور عمومی طور پر پوری دنیا کے ساتھ تجارتی اور سیاسی رابطہ قائم کرنے میں مدد کی ہے۔ سمندری راستے اس کے مشرق اور مغرب میں سمند ر سے منسلک ہیں اور یہ مصالحوں کی تجارت کے لئے استعمال ہوتے تھے اسی لئے یہ مصالحہ کے راستہ کے طور پر مشہور تھے۔ انہی راستوں کی وجہ سے اہم ملکوں ،اہم تجارتی مراکز اور صنعتی پٹی کو فروغ ملا جس کے بدلے میں قدیم ہندوستان میں گھریلو اور بین الاقوامی تجارت کی ترقی ہوئی ۔ 

پرانے زمانہ میں تجارت اور بیوپار نے معاشی دنیا میں ہندوستان کو بڑا برآمداتی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ آثاریاتی شواہد(Archaeological Evidences)  سے ظاہرہوتاہے کہ اندرون و بیرون ملک ، خشکی اور سمندری راستہ سے تجارت و بیوپار قدیم ہندوستان میں کافی مددگار رہا ہے۔ تین ہزار سال قبل مسیح ہڑپّا اور موہن جوداڑو جیسے تجارتی شہروں کو بسایا گیا تھا۔ان تہذیبوں نے میسوپوٹامیہ کے ساتھ تجارتی رشتے قائم کئے تھے اور ان کے ساتھ سونا،چاندی ، تانبا ،رنگین قیمتی پتھر ،منکے ،موتی ،سیپوں ،ٹیرا کوٹہ کے برتنو ں وغیرہ کی تجارت ہوتی تھی۔ یہ دور حقیقی تجارتی سرگرمیوں اور شہری ترقی کے لئے نمایاں تھا ۔ چوتھے اور تیسرے ہزار سال قبل مسیح کے دوران مغربی ہندوستان میں تجارتی مراکز بھی قائم ہوئے تھے۔ نتیجہ کے طور پر ہندوستانی سماج میں تاجروں اور تاجر برادریوں کی بالا دستی قائم ہو گئی تھی۔ قدیم زمانہ میں بر صغیر ہندوستان کے زیادہ تر علاقوں میں بڑے احتیاط کے ساتھ سیاسی معیشت ، ملیٹری سیکورٹی اور تجارتی ضابطے وضع کئے گئے تھے۔ ان دنوں مختلف مقامات پر مختلف قسم کے سکے اور طریقہ اوزان رائج تھے۔ رقم تبدیل کرنے والوں کی مدد سے اور حوالے کے طور پر بعض متفقہ طریقہ اوزان اور پیمائش اپنا کر اس مسئلہ کو حل کرتے تھے۔

1.2 اندرون ملک بینک کاری 

معاشی زندگی نے چونکہ ترقی کی ہے اس لئے رقم کے طور پر اپنی پائیداری اور تقسیمی صلاحیت کی وجہ سے دوسری اشیا کی کمی پوری کرنے کے لئے دھات کا استعمال شروع ہوا ۔پیسے چونکہ اشیا کے تبادلے ،پیمائش کے ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے دھات کے سکّے کا رواج شروع کیا گیا ، جس کے استعمال سے معاشی سرگرمیوں کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ 

لین دین کے لئے ’ہنڈی ‘ اور ’چِتّی‘  جیسے دستاویزات کا استعمال ہوتا تھا ، جس میں رقم ایک فرد سے دوسرے فرد کو منتقل ہوتی تھی۔ ’’ہنڈی ‘‘ پورے بر صغیر ہند میں تبادلے کا ایک مقامی ذریعہ ہے ۔ جسے ایک کنٹریکٹ تصور کیا جاتا ہے۔ جس میں (i)  رقم کی ادائیگی کا وعدہ یا حکم نامہ ہوتا ہے یا جو غیر مشروط ہوتا ہے۔(ii)  جس میں ضابطہ کے مطابق بات چیت کے بعد منتقلی کے ذریعہ تبدیلی کی صلاحیت ہوتی ہے۔ 

ہندوستان کی تجارتی برادریوں کے ذریعہ استعمال میں لائی جانے والی ہنڈیاں
ہنڈی کے نام وسیع درجہ بندی ہنڈی کانام
  کسی بھی شخص کے لئے واجب الادا رقم وصول کرنے والے پر کوئی دینداری نہیں ہوتی۔
درشنی دھنی۔جوگ
   کسی مخصوص وقابل احترام شخص کے لئے واجب الادا ذمہ داری اس شخص پر عائد ہوگی جو رقم حاصل کرتا ہے۔
 درشنی شاہ -جوگ 
 ہنڈی ،حکم نامہ کو قابل ادائیگی بناتا ہے۔  درشنی فرمان -جوگ 
   پیش کرنے یا حاصل کرنے والے کے واجب الادا  درشنی    دیکھن-ہار  
جو رقم حاصل کرتا ہے لیکن رقم کی ادائیگی مدت پوری ہونے پر ہوتی ہے ۔  مدّتی دھنی جوگ
مقرر شرط پرہی ہنڈی ، حکم نامہ پر قابل ادا ہوتی ہے ۔  مدّتی  قربان ۔جوگ
  روانہ شدہ اشیا کے مقابلہ میں وصول کیا جاتا ہے ۔اگر نقل و حمل کے دوران اشیاضائع ہو جاتی ہیں، تو ایسی صورت میں جو کھمی ہنڈی رکھنے والے یاحاصل کرنےوالے اس کی لاگت برداشت کریں گے۔ اشیا کے حاصل کرنے والے پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔ مدّتی جوکھمی



دیسی بینک کاری نظام نے رقم قرض دینے اور گھریلو اور غیر ملکی تجارت کے لئے نوٹ یا قرض نامہ /ساکھ نامہ کے ذریعہ سرمایہ کاری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ بینک کاری کے فروغ کے ساتھ لوگوں نے یا سیٹھوں کے پاس قیمتی دھاتیں جمع کرانی شروع کر دیں اور اس طرح رقم زیادہ سے زیادہ پیداوار کے ذریعہ کے ساتھ مینو فیکچر رز کو سپلائی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ 
زراعت اور جانوروں کو پالتوں بنانا قدیم لوگوں کی معاشی زندگی کا اہم عنصر تھا۔ معقول موسمی حالات کی وجہ سے وہ سال میں دو یا تین فصلیں پیدا کر لیتے تھے۔ علاوہ ازیں کپاس کی بنائی ،رنگائی، مٹی کے برتن ، ظروف ،فن پاروں، دستکاری ،مجسمہ سازی ،گھریلو صنعت ،معماری ، سامان سازی (مینو فیکچرنگ) ،ٹرانسپورٹ (یعنی بیل گاڑی ،کشتی اور بحری جہاز) وغیرہ سے وہ مزید سرمایہ کاری کے لئے اضافی پیداوار اور بچت کرنے کے قابل بن سکے۔ 
ورک شاپ (کارخانہ) ،جہاں ہنر مند کاریگر ،خام مال کو اس تیار اشیا میں تبدیل کر دیتا ہے جن کی بازار میں کافی مانگ ہوتی ہے۔کنبے پر مبنی کارآموزی نظام (اپرنٹس شپ سسٹم ) رائج ہے اور تجارت کی مخصوص ہنر مندی کے حصول کے لیے اس پر عمل ہوتا ہے۔ مختلف قسم کی تجارتوں کے لئے کاریگر ،دستکار اور ہنر مند لیبر ،ہنر مند ی حاصل کرتے ہیں، ہنر مندی کو فروغ دیتے ہیں اور اس سے متعلق علم و ہنر ایک پیڑھی سے دوسری پیڑھی کو منتقل ہوتا ہے۔

1.2.1 بچولیوں کا فروغ 

بچولیوں نے تجارت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پیدا ہونے والے خطرات ،خصوصاً غیر ملکی تجارت میں لاحق خطرات کی ذمہ داری اپنے سر لے کر مینوفیکچرر زکو معقول مالی سیکورٹی فراہم کی ہے۔ ان لوگوں میں کمیشن ایجنٹ ، دلال اور تھوک نیز خوردہ دونوں طرح کی اشیا کے تقسیم کار شامل ہیں۔ تجارت کی توسیع کے نتیجے میں اشیا میں کثیر تعداد میں سونے چاندی کی اینٹیں آئیں، اور ان اینٹوں کا بڑا حصہ ہندوستان میں آیا ۔ 
مغلوں کے عہد  اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں یہاں جگت سیٹھوں جیسے ادارے قائم ہوئے اور انہوں نے یہاں معیشتوں کو کافی متاثر کیا ۔ بینکروں نے اوقاف کے متولیوں اور کارندوں کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا ۔ غیر ملکی تجارت کے لئے قرض فراہم کرائے گئے ۔ پھر بھی طویل سمندری سفر کے لئے شرح سود ، اس میں حائل خطرات کے پیش نظر زیادہ رکھی گئی۔ 
قرض کے لین دین ،قرض کی دستیابی اور رقم کی پیشگی ادائیگی کی حالت کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ برصغیر ہندوستان کو موافق تجارتی توازن کا فائدہ حاصل ہو ا ہے ،جہاں کثیر منافع کے ساتھ درآمدات کے مقابلہ میں بر آمدات میں اضافہ ہوا اور گھریلو بینکنگ نظام سے مینو فیکچررز ، تاجروں اور غیر ملکی تاجروں کو اپنے کاروبار کی توسیع اور فروغ کے لئے اضافی پونجی کا فائدہ ہوا ۔ 

1.3 نقل و حمل (ٹرانسپورٹ)

قدیم زمانہ میں خشکی اور آبی نقل و حمل (ٹرانسپورٹ)مقبول تھا۔ خشکی اور سمندر دونوں راستہ سے تجارت ہوتی تھی۔ رسل و رسائل کے ذریعہ کے طور پر سڑکوں کو اندرون ملک تجارت کی ترقی خصوصاً خشکی کے راستہ تجارت کے فروغ کے پورے عمل میں نمایاں اہمیت حاصل ہوئی ۔ شمالی شاہراہ کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ پٹی در اصل بنگال سے تکشیلا کی پٹی ہے۔ جنوب ،مشرق اور مغرب میں بھی تجارتی راستے قائم تھے۔ تجارتی راستے کشادہ اور رفتار نیز سیفٹی کے لحاظ سے تعمیر کئے گئے تھے۔ 
سمندری تجارت ، عالمی تجارتی نیٹ ورک کی دوسری اہم شاخ تھی۔ مالا بار ساحل ، جس پر کالی کٹ واقع ہے، یہاں سے بین الاقوامی سمندری تجارت کی تاریخ روسی سلطنت کے عہد تک منتج ہوتی ہے۔ کالی مرچ کو روسی سلطنت میں کافی اہمیت حاصل تھی اور یہ سیاہ سونے کے طور پر مشہور تھی ۔ اس تجارتی راستہ پر بالا دستی کے لئے مختلف حکومتوں اور تجارتی طاقتوں کے درمیان صدیوں تک رقابت اور تصادم کی وجہ بھی بنی۔ مصالحہ کے لئے ہندوستان تک پہنچنے کے لئے دوسرے متبادل راستوں کی تلاش کی گئی جس کے نتیجے میں 15ویں صدی کے آخری عرصے میں امریکہ کے کو لمبس نے اور 1498میں واسکوڈی گاما نے مالا بار ساحل کی تلاش کی تھی۔
کالی کٹ ایساسر گرم تجارتی مرکز تھا کہ یہاں مشرق وسطیٰ سے لوبار (نباتی تیل ) اور خوشبو دار گوند(عطر،ادویہ میں استعمال ہونے والی خوشبو دار گوند) کے علاوہ ہندوستان سے کالی مرچ ، ہیرے،موتی اور کپاس کی خریداری کے لئے چینی بحری جہاز بھی یہاں لنگڑ انداز ہوتے ۔ سترہویں صدی کے اوائل میں جنوبی یا کورو منڈل ساحل پر پولی کٹ ایک اہم بندرگاہ تھی۔پولی کٹ بندر گاہ سے جنوب مشرقی ایشیاتک برآمد ہونے والی اشیا میں کپڑا اہم تھا ۔ 

1.4 تجارتی برادریوں کا استحکام 

ملک کے مختلف حصوں میں مختلف برادریوں کا تجارت پر غلبہ ہے۔ پنجابی اور ملتانی تاجر جہاں شمالی خطہ میں کاروبار کرتے ہیں تو بھاٹ برادری ریاست گجرات اور راجستھان میں تجارت کرتی ہے۔ مغربی ہندوستان میں ان گروپوں کو مہاجن کہا جاتا ہے۔ احمد آباد جیسے شہری مراکز میں مہاجنوں کی نمائندگی مشترکہ طور پر تاجر برادری کے مکھیا کے ذریعہ کی جاتی ہے،جسے نگر سیٹھ کہا جاتا ہے۔ دوسرے شہری گروپوں میں حکیم اور وید (معالج) ،وکیل ،پنڈت یا ملّا (استاد)، پینٹر ،موسیقار ،خطاط وغیرہ شامل ہیں۔ 

1.4.1 سودا گروں کی جماعت (Merchant Corporation)

سوداگروں کی برادری گلڈ(Guild) سے بھی طاقت اور وقار حاصل کرتی تھی، جو کہ ان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے تشکیل دی گئی ایک خود مختار جماعت تھی۔ یہ کارپوریشن ، جن کی تشکیل رسمی بنیاد پر ہوتی ہے ان کی رکنیت کے اپنے ضابطے اور پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق ہوتے ہیں، جن کے بارے میں ایسا سمجھا جاتا ہے کہ بادشاہ بھی ان کا احترام کرتا ہے اور انہیں قبول کرتا ہے۔ تجارت و صنعت سے متعلق ٹیکس بھی ریوینیو(Revenue) کا اہم ذریعہ ہوتے تھے، تاجروں کو جنگی محصول (Octroi) ادا کرنا ہوتا تھا جو مختلف شرحوں سے زیادہ تر درآمد شدہ اشیا پر وصول کیا جاتاتھا ۔ یہ محصول نقد یا جنس کی شکل میں ادا کیے جاتے تھے۔ 
کسٹم محصول اشیاکے مطابق مختلف ہوتاتھا۔ یہ محصول ایک صوبہ سے دوسرے صوبے میں مختلف ہوتا تھا ۔ گھاٹ(فیری) ٹیکس آمدنی کا دوسرا ذریعہ تھا ۔ یہ مسافروں، اشیا ، مویشیوں اور بیل گاڑیوں کے لیے ادا کرنا پڑتا تھا۔ لیبر ٹیکس وصول کرنے کا حق عام طور پر بلدیاتی اداروں کو منتقل کر دیا گیا تھا ۔ 
گلڈ کا مکھیا (سربراہ) براہ راست راجہ سے یا ٹیکس وصول کرنے والوں سے بات چیت کرتا ہے اور طے شدہ رقم کے عوض اپنے ساتھی سوداگروں کی جانب سے بازار کی چنگی کا نمٹارہ کر تا ہے۔ گلڈ کے سوداگرمذہبی مفادات کے نگراں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ یہ مندر کی تعمیر کاکام بھی کرتے ہیں اور اس کے لئے اپنے اراکین پر کارپوریٹ ٹیکس وصول کرکے عطیہ بھی کرتے ہیں۔ کاروباری سرگرمی سے بڑے سوداگر سماج میں طاقت بھی حاصل کرتے ہیں ۔

1.4.2 اہم تجارتی مرکز

اس وقت ہر قسم کے شہر یعنی ساحلی (بندرگاہ) شہر ، پیداواری (مینوفیکچرنگ ) شہر ، تجارتی شہر ، مقدس مقامات اورتیرتھ شہر تھے۔ ان شہروں کی موجودگی سوداگر برادریوں اور پیشہ ور طبقات کی خوشحالی کے اشارے ہیں۔ قدیم ہندوستان میں اہم تجارتی مراکز حسب ذیل تھے:
1۔   پاٹلی پتر:یہ آج پٹنہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ صرف ایک کاروباری شہر ہی نہیں تھا بلکہ یہ برآمدات خصوصاً پتھروں کا برآمداتی مرکز بھی تھا ۔ 
2۔   پشاور:یہ ان دنوں اون کا ایک اہم برآمداتی اور گھوڑوں کا درآمداتی مرکز تھا ۔ پہلی صدی عیسوی میں یہاں ہندوستان ، چین اور روم کے درمیان کافی بڑا کاروباری لین دین ہوا کرتا تھا۔ 
3۔   تکشیلا : یہ ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان اہم زمینی راستہ پر ایک اہم مرکز تھا ۔ یہ مالی تجارتی بینکوں کا شہر بھی تھا ۔ اس شہر کو بودھوں کے عہد میں بھی تعلیم کے مرکز کے طور پر اہم مقام حاصل تھا ۔ مشہور زمانہ تکشیلا یونیورسٹی یہیں تھی ۔ 
4۔   اندر پرستھ : یہ شاہی سڑک پر واقع ایک تجارتی مرکز تھا جہاں مشرق ، مغرب، جنوب اور شمال سے آنے والی زیادہ تر سڑکیں ملتی تھیں۔ 
5۔   متھرا: یہ ایک تجارتی منڈی تھی اور یہاں کے لوگ بیوپار پر گزارہ کرتے تھے ۔جنوبی ہندوستان سے آنے والے کئی راستے متھرا اور بھروچ سے گزرتے تھے ۔ 
6۔   وارانسی: اس کا محل وقوع کافی بہتر تھا کیونکہ یہ گنگائی راستوں اور ان شاہراہوں پر واقع تھا جو شمال کو مشرق کے ساتھ جوڑتے تھے۔ اس نے کپڑے کی صنعت کے طور پر ترقی کی اور خوبصورت سونے کے کام سے (زر دوزی) بنے ریشمی کپڑے اور صندل کی لکڑی سے سامان کے حوالے سے کافی مشہور ہوا ۔ اس کے تکشیلا اور بھروچ کے ساتھ بھی رابطے تھے۔
7۔   میتھلا:  میتھلا کے تاجروں کی کشتیاں خلیج بنگال کے راستے جنوبی چین کے سمندر میں اترتیں اور جزائر جاوا ، سماترا اور بورینو کی بندرگاہوں پر تجارت کرتے تھے۔ میتھلا کے تاجروں نے جنوبی چین میں خصوصاً  یونن(Yunnan) صوبہ میں اپنی تجارتی کالونیاں قائم کر رکھی تھیں۔ 
8۔   اجّین :  اجّین سے مختلف مراکز عقیق ، عقیق احمر ، آب رواں (ململ) اور خطمی  کالاکپڑا (Mallow cloth)یا مونچل (Mallow)کپڑے برآمد ہوتے تھے۔ اس کے خشکی راستہ سے تکشیلا  اور پشاور تک کی منڈیوں سے رابطے قائم تھے۔ 
9۔   سورت : مغلوں کے دور میں یہ مغربی تجارت کا بڑا بازار تھا ۔ سورت کے کپڑے اپنے سونے کے بارڈروں(زری) کے لئے مشہور تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سورت کی منڈیاں، مصر اور ایران کی منڈیوں میں بھی چلتی تھیں۔ 
10۔   کانچی: یہ آج کانچی پورم کے نام سے مشہور ہے ۔ یہاں غیر ملکی کشتیوں پر آنے والے چینی تاجر ،یہاں سے موتی ، شیشہ اور نادر قیمتی پتھر خریدا کرتے اور ان کے بدلے میں سونا اور ریشم فروخت کیا کرتے ۔ 
11۔   مدورا:  یہ پانڈیا راجائوں کی راجدھانی تھا۔ ان کا خلیج منّار میں ماہی گیری پر کنٹرول تھا اور یہ موتی ، ہیرے جواہرات اور نفیس کپڑوں کا ایک اہم برآمداتی مرکز تھا۔ 
12۔  بھروچ:مغربی ہندوستان میں یہ سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا ۔ یہ نرمدا ندی کے کنارے واقع ہے اور سڑکوں سے تقریباً تمام اہم بازاروں سے منسلک تھا ۔ 
13۔  کا وری پٹّا:یہ کاویری پٹنم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بطور ایک شہر اس کی تعمیر کافی سائنسی تھی اور یہاں سامان تجارت کو اتارنے،لدا مال اور سوداگری کی مستحکم سہولتیں موجود تھیں۔ اس شہر میں غیر ملکی تاجروں کے صدر دفاتر بھی قائم تھے۔ یہ ملیشیا، انڈونیشیا ،چین اور مشرق بعید کے تاجروں کے لیے موزوں ترین جگہ تھی۔ یہاں خوشبو (عطریات) ، اشیائے زیبائش، پاؤڈر ،سینٹس ،ریشم ،اون ، سوت ،مونگا ،موتی ،سونے اور قیمتی پتھروں کی تجارت کے علاوہ جہاز سازی کا مرکز بھی تھا۔ 
14۔  تمرا لپتی:  یہ بہت بڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھا جو مغرب اور مشرق بعید سے سمندر اور خشکی دونوں راستوں سے جڑا ہوا تھا ۔ یہ بنارس اورتکشیلاسے سڑک کے راستے جڑا ہوا تھا ۔ 

1.4.3  اہم برآمدات و درآمدات

برآمدہونے والی اشیا میں مصالحہ ، گندم ،چینی ،نیل، افیون، تل کاتیل ،کپاس،ریشم ، طوطا ، زندہ جانور اور جانوروں کی مصنوعات ، چمڑے،موٹے چمڑے،پنکھ ، سینگ ، کچھوے کے خول،موتی ،نیلم ،سنگ بردار،کرسٹل (بلور)، سنگ لاجورد،نیلے رنگ کا کم قیمتی پتھر، سنگ مرمر ،فیروزہ اور تانبے وغیرہ شامل تھے۔ 
درآمدات میں گھوڑے، جانوروں کی مصنوعات ، چینی ،ریشم ،فلیکس اور سوتی دھاگے، شراب ،سونا ،چاندی ،ٹن، تانبا ،سیسہ، یاقوت، پکھراج(زمرد) ،مونگا،شیشہ اور عنبر وغیرہ شامل تھے۔ 

1.5  عالمی معیشت میں بر صغیر ہند کی حیثیت (یکم عیسوی سے 1991ء تک) 

یکم سے 17ویں صدی عیسوی کے درمیان یہ اندازہ ہے کہ ہندوستان ، قدیم اور قرون و سطیٰ میں سب سے بڑی معیشت تھی جو دنیا کی دولت کا تقریباً ایک تہائی اور ایک چوتھائی کو کنٹرول کرتا رہا تھا۔ میگا ستھینس ، فاکیان(فاہیان) ، ژوان ز انگ (ہیون تسانگ) ،البرونی (گیارہویں صدی) ،ابن بطوطہ (گیارہویں صدی )،فرینچ مین فرنیکوئس(سترہویںصدی) جیسے متعدد سیاحوں نے اپنی تحریروں میں ہندوستان کو اکثر و بیشتر ’’سورن بھومی‘‘ اور ’’سورن دیپ‘‘ کہا ہے اور دوسرے سیاح جو مختلف ادوار میں یہاں آئے انہوں نے ہندوستان کی سماجی ،تہذیبی، ارضیاتی، معاشی ،تجارتی اور سیاسی ڈھانچے اور ملک کی خوشحالی کے بارے میں باتیں کہی ہیں۔

شروع۔ یکم صدی عیسوی
32%(سب سے بڑاعلاقائی تعاون)

1000صدی عیسوی
32%(سب سے بڑاعلاقائی تعاون)

1500صدی عیسوی:%24.36
(علاقائی حصہ میں دوسرا)

1850عیسوی: %10-5
1750-1700 عیسوی
دنیاکی صنعتی پیداوارکا%25

1700صدی عیسوی
% 24.46

1600صدی عیسوی
% 24.41


1870عیسوی: (عالمی آمدنی برطانوی سلطنت)

1900صدی عیسوی %2 
(عالمی صنعتی پیداوار)

1913عیسوی % 5.4
(برطانوی سلطنت)

1991عیسوی: اقتصادی نرم کاری

1973عیسوی: % 3.1

1952عیسوی: دنیاکی آمدنی کا% 3.8
Capture3

ماخذ:انگس میڈیسن (2001اور 2003)، دی ورلڈ اکانومی: اے ملینیل پرسپکٹیو، او ای سی ڈی ، پیرس۔ انگس میڈیسن، دی ورلڈ اکانومی، ہسٹوریکل اسٹیٹسٹکس


برطانوی تسلط سے قبل برصغیر ہندوستان میں خوشحالی کا دور دورہ تھا ۔ اسی خوشحالی نے یوروپیوں کو ہندوستان کی تلاش کے لئے سمندری سفر پر روانہ کیا ۔ ابتدا میں وہ یہاں لوٹ پاٹ کی غرض سے آئے لیکن انہیں جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ سونے چاندی کے عوض تجارت کے کافی فائدے ہیں ۔ تجارتی شعبے کی ترقی کے باوجود یہ ظاہر تھا کہ اٹھارہویں صدی میں ہندوستان ٹکنا لوجی ، جدت پسندی اور خیالات کے معاملہ میں مغربی یوروپ سے کافی پیچھے تھا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے اختیارات کے ساتھ آزادی میں کمی آئی اور کوئی زرعی اور سائنسی انقلاب نہیں آیا۔ عوام کی تعلیم تک رسائی محدود ہوئی، آبادی بڑھی اور انسانی ہنر مندی کے مقابلہ مشینوں کو ترجیح دینے سے ہندوستان ایک خوشحال ملک تو بن گیا لیکن یہاں کے عوام غریب ہو گئے ۔ اٹھارہویں صدی کے وسط میں برطانوی سلطنت نے ہندوستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنی شروع کر دی تھیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے زیر تسلط صوبوں سے ہندوستانی خام مال، مصالحہ اور اشیا کی خریداری کے لئے مال وصول کرنے لگی تھی ۔ لہٰذا دولت کی لگاتار نکاسی سے ، جو غیر ملکی تجارت سے حاصل ہوتی تھی، وہ آنی بند ہو گئی۔ اس سے ہندوستان کی معیشت کی حالت تیار مال کے برآمد کار سے بدل کر خام مال کے برآمد کار اور تیار اشیا کے برآمد کار کے طور پر بدل گئی ۔ 

1.5.1  ہندوستان میں دوبارہ صنعت کاری کا عمل شروع ہوا 

آزادی کے بعد معیشت کی تعمیر نو کا عمل شروع ہوا اور ہندوستان میں مرکزی منصوبہ بندی ہوئی۔ پہلا پنج سالہ منصوبہ 1952میں نافذ العمل ہوا ۔ اس میں جدید صنعتوں،جدید تکنیکی اور سائنسی اداروں کے قیام، خلاء اورنیوکلیائی پروگراموں کو خاص طور پر اہمیت دی گئی۔ان کوششوں کے باوجود ہندوستان کی معیشت تیز رفتار سے ترقی نہیں کر سکی ۔ سرمائے کی تشکیل کا فقدان ، آبادی میں اضافہ، دفاع پر کثیر خرچ اور ناکافی بنیادی ڈھانچہ اس کے اہم اسباب تھے۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستان غیر ملکی ذرائع سے قرض لینے پر کافی انحصار کرتا تھااور آخر میں اس نے 1991 ء 
میں اقتصادی نرم کاری پر اتفاق کر لیا ۔
ہندوستان کی معیشت آج دنیا میں تیزی سے ترقی کر رہی معیشتوں میں سے ایک ہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے لیے ترجیحی مقام ہے۔ آنے والی دہائیوں کے لیے یہاں کی بڑھتی آمدنی، بچت، سرمایہ کاری کے مواقع، گھریلو کھپت میں اضافہ اور نوجوان آبادی،ترقی کی یقین دہانی کراتی ہے۔ زیادہ ترقی کرنے والے ان شعبوں کی شناخت کر لی گئی ہے ، جن کی پوری دنیا میں تیز رفتار سے ترقی کرنے کی امید ہے اور حکومت ہند کے ذریعہ ’’میک ان انڈیا‘‘،’’ڈجیٹل انڈیا ‘‘ جیسے حال ہی میں کئے گئے اقدامات اور غیر ملکی تجارتی پالیسی (ایف ٹی پی20- 2015  )کے نفاذ سے برآمدات اور درآمدات نیز تجارتی توازن کے اعتبار سے ہندوستان کی معیشت کو مدد ملنے کی امید ہے۔

ہندوستان کے صنعت کاروں نے 1850کے بعد اپنی جدید ٹکسٹائلز ملیں قائم کرنی شروع کر دیں اور رفتہ رفتہ گھریلو مارکیٹ پر قبضہ کر لیا۔ 1896ء میں ہندوستان کی ملیں ہندوستان میں کھپت ہونے والے کل کپڑے کا 8فیصد ،1913ء میں 20 فیصد، 1936ء میں 62 فیصد اور 1945ء میں 76فیصد سپلائی کرتی تھیں۔ لہٰذا 1913 کے درمیان ہندوستان کی مینو فیکچرنگ پیداوار سالانہ 5.6فیصد تھی جو کہ عالمی اوسط 3.3 فیصد زیادہ تھی۔ برطانوی حکومت نے بالآخر 1920ء سے محصولاتی تحفظ فراہم کیا جس سے صنعت کاروں کو اپنی ملوں میں توسیع اور تنوع لانے میں مدد ملی۔ 

1947ء میں آزادی کے وقت ہندوستان کے صنعت کار کافی مضبوط تھے اور وہ اس حالت میں تھے کہ یہاں سے جانے والے انگریزوں کے کاروباری ادارے خرید رہے تھے۔ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) میں صنعت کا حصہ 1913ء میں 3.18فیصد سے دو گنا بڑھ کر 1947میں 7.5فیصد ہو گیا اور برآمدات میں برآمدکاروں کا حصہ1913ء اور 1947ء میں بالترتیب 22.4فیصد سے بڑھ کر 30فیصد ہو گیا ۔ 

ماخذ :۔ بی آر ٹام لیسن، دی اکانومی آف مارڈرن انڈیا 1870-1970، دی نیو کیمبرج ہسٹری آف انڈیا ، وولیوم 3.3، کیمبرج یونیورسٹی پریس 1996

سیکشن II-

کاروبار کی نوعیت اور تصور

1.6  کاروبار کا تصور

کاروبار (Business) کی اصطلاح لفظ مصروف(Busy) سے ماخوذ ہے۔ چنانچہ کاروبار سے مراد مصروف رہنے سے ہے۔ پھر بھی اس کا مخصوص معنی ایسے پیشے سے منسوب ہے جس میں لوگ منافع کمانے کے لئے پابندی کے ساتھ اشیا اور خدمات کی خریداری ،پیداوار اور فروخت کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ اس سرگرمی میں دوسروں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے فروخت کی غرض سے اشیا کی پیداوار ، خریداری یا اشیا کا تبادلہ یا خدما ت کی فراہمی شامل ہوتی ہے۔

ہر ایک سماج میں لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے مختلف سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کی موٹے طور پر دو گروپوں معاشی اور غیر معاشی سرگرمیوںمیں درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔معاشی سرگرمیاں وہ ہوتی ہیں جنہیں ہم معاش کمانے کی غرض سے انجام دیتے ہیں جبکہ غیر معاشی سرگرمیاں پیارو محبت ، ہمدردی ،جذبات اور حب الوطنی وغیرہ کی وجہ سے انجام پاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مزدور ذریعہ معاش کے طور پر کسی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ ایک ڈاکٹر اپنی کلینک (مطب) چلاتا ہے۔ ایک منیجر دفتر میں کام کرتا ہے اور ایک استاد اسکول میں پڑھاتا ہے۔ اس لئے وہ معاشی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ دوسری جانب ایک گھریلو خاتون اپنے کنبے کے لئے کھانا پکاتی ہے یا کوئی لڑکا جب کسی بوڑھے شخص کی سڑک پار کرنے میں مدد کرتا ہے تو وہ غیر معاشی سرگرمیاں انجام دیتا ہے کیونکہ وہ یہ کام پیار و محبت یا ہمدردی کی بنیاد پر انجام دیتے ہیں۔ معاشی سرگرمیوں کو مزید تین زمروں یعنی کاروبار، پیشہ اور روزگار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ کاروبار کی وضاحت ایسی معاشی سرگرمی کے طور پر کی جا سکتی ہے جس میں سماج کی انسانی ضرورتوں کی تکمیل کرکے منافع کمانے کی غرض سے اشیا اور خدمات کی پیداوار اور فروخت کرنا شامل ہوتا ہے 

آپ اپنے طور پر یہ کوشش کریں:

بتائیں کہ کیا درج ذیل میں سے ہر ایک معاشی سرگرمی ہوتی ہے:

1۔ کسان اپنے استعمال کے لئے چاول کی پیداوار کرتا ہے۔ ہاں/ نہیں

2۔فیکٹری کا مالک مارکیٹ میں اسکول بیگ کی فروخت کے لئے پیداوار کرتا ہے۔ ہاں/ نہیں

3۔مصروف ترین ٹریفک چوراہے پر بھیک مانگنے والا شخص۔  ہاں/ نہیں

4۔گھریلو نوکر جو اپنے مالک کے گھر میں چھوٹے موٹے کام کرتا ہے۔  ہاں/ نہیں

5۔گھریلو خاتون جو اپنے گھر میں چھوٹے موٹے گھریلو کام کرتی ہے۔ ہاں/ نہیں

1.6.1  کاروباری سرگرمیوں کی خصوصیات

یہ جاننے کے لئے کہ سماج میں کاروباری سرگرمی دیگر سرگرمیوں سے کس طرح مختلف ہے، کاروبار کی نوعیت یا اس کی بنیادی علامت ، اس کی امتیازی خصوصیات کے ضمن میں واضح کرنا ضروری ہے جو حسب ذیل ہیں:۔
(i) معاشی سرگرمی:کاروبار کو ایک معاشی سرگرمی مانا جاتا ہے کیونکہ یہ روپئے کمانے یا ذریعہ معاش کے مقصد سے کی جاتی ہے ،نہ کہ پیار و محبت ،ہمدردی یا دوسرے جذباتی اسباب سے ہوتی ہے۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سرگرمی چھوٹی یا انفرادی سطح پر یعنی (دکاندار کے ذریعہ خرید و فروخت)یا بڑے پیمانے پر زیادہ رسمی اور منظم سطح پر (امداد باہمی کی سوسائٹی یا کمپنی کے ذریعہ خرید و فروخت )انجام دی جاتی ہے۔
(ii) اشیا اور خدمات کی پیداوار یا خریداری: استعمال اور کھپت کے لئے لوگوں کو اشیا دینے سے پہلے کاروباری اداروں کو تیار کرنا ہوتا ہے یا حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے ہرکاروباری ادارہ یا تو اشیا کی پیداوار کرتا ہے یا پھر اشیا بنانے والوں سے انہیں حاصل کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ انہیں صارفین یا استعمال کرنے والوں کو فروخت کر دیتا ہے۔اشیا میں روز مرہ استعمال ہونے والی اشیا جیسے چینی ،گھی ، قلم ،نوٹ بک وغیرہ یا بڑے سامان جیسے مشینری ، فرنیچر وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ خدمات میں صارفین، فرموں اور اداروں کو ٹرانسپورٹ، بینکنگ ، بجلی وغیرہ کی شکل میں بہم پہنچائی جانے والی سہولیات شامل ہو سکتی ہیں۔
(iii) اشیا اور خدمات کی فروخت اور تبادلہ : کاروبار میں قیمت کے عوض اشیا اور خدمات کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تبادلہ یا منتقلی ہوتی ہے۔ اگر اشیا کی پیداوار،فروخت کے مقصد سے نہیں بلکہ ذاتی استعمال کے لئے ہوتی ہے تو اسے کاروباری سرگرمی نہیں کہا جا سکتا ۔ گھروں میں کنبہ کے لئے کھانے کی تیاری ،کاروبار نہیں ہوتا بلکہ ہوٹلوں/ریستراں میں کھانے کی تیاری اور دوسروں کے ہاتھوں ان کی فروخت ،کاروبار ہوتا ہے۔ لہٰذا کاروبار کی لازمی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں خریدار اور فروخت کرنے والے کے درمیان اشیا کی خرید و فروخت یا تبادلہ ہونا چاہئے ۔ 
(iv) باقاعدگی سے اشیا اور خدمات کے کاروبار کی انجام دہی : کاروبار میں باقاعدگی کی بنیاد پر اشیا کی خرید و فروخت کی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ خرید و فروخت کا صرف ایک لین دین کاروبار میں شامل نہیں ہوتا ۔ لہٰذا مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنا گھریلو ریڈیوسیٹ منافع میں فروخت کرتا ہے تو اسے کاروبار نہیں مانا جائے گا۔ لیکن اگر وہ کسی دکان کے ذریعہ یا اپنے گھر پر پابندی سے ریڈیو سیٹ فروخت کرتا ہے تو اسے کاروباری سرگرمی مانا جائے گا۔ 
(v) منافع کمانا : کاروبار کے اہم مقاصد میں سے ایک منافع کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی کاروبار بغیر منافع کے زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس لئے تاجروں کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ فروخت بڑھا کر یا قیمت میں کمی کرکے زیادہ سے زیادہ منافع کمائے۔ 
(vi) منافع کی غیر یقینی حالت :  منافع کی غیر یقینی حالت سے مراد،مقررہ مدت میں کاروباری سرگرمیوں سے ملنے والے منافع کی رقم کی حصولیابی کے تعلق سے لاعلمی ہوتی ہے۔ منافع کے حصول کے مقصد سے ہر کاروباری سرگرمی کے لئے پونجی کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ یقینی نہیں ہوتا کہ اس میں منافع کی رقم کیا ہوگی۔ کاروبار میں بہتر کوششوں کے باوجود ہمیشہ ہی نقصان کا امکان موجود رہتا ہے۔
(vii) جوکھم کا عنصر :  جوکھم ،نقصان سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ یہ صورتحال کچھ موافق اور ناپسندیدہ حالات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جوکھم کا تعلق بعض اسباب جیسے صارفین کے ذوق اور فیشن میں تبدیلیوں،پیداوار کے طریقوں میں تبدیلیوں ، ہڑتالیں اور  ناکہ بندیوں، بازار میں بڑھتا مقابلہ، آگ ،چوری ،حادثات ،قدرتی آفات وغیرہ سے بھی ہے۔ کوئی بھی کاروبار جوکھم سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ 

ادارے کی سطح پر کاروباری کام کاج

کاروبار میں مختلف قسم کے اداروں،جنہیں کاروباری ادارہ یا فرم کہا جاتا ہے، کے ذریعہ انجام دیئے جانے والے کام کاج شامل ہوتے ہیں۔ کاروبار چلانے کے لئے کاروباری اداروں کو چار اہم کام یعنی سرمایہ کاری، پیداوار، مارکیٹنگ اور انسانی وسائل کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ سرمایہ کاری ،کاروباری ادارہ چلانے کے لئے فنڈ کے حصول اور اس کے استعمال سے متعلق ہوتی ہے۔ پیداوار میں خام مال کی تیار مصنوعات میں تبدیلی یا خدمات کی پیداوار شامل ہوتی ہے۔ مارکیٹنگ سے وہ تمام سرگرمیاں مراد ہیں جو پیداکار (پروڈیوسر) سے ان لوگوں کو اشیا اور خدمات کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں، جن کی انہیں جس جگہ اور جس وقت ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ انسانی وسائل کے نظم کا مقصد، اداروںمیں مختلف کام انجام دینے کے لئے ضروری ہنر مند افراد کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ 

1.6.2   کاروبار،پیشہ اور روزگار کا موازنہ

جیساکہ قبل بیان کیا جا چکا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو تین اہم زمروں یعنی کاروبار،پیشہ اور روزگار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ان تینوں اصطلاحات میں درمیان کے فرق کو درج ذیل جدول میں پیش کیا گیا ہے:


بنیاد      کاروبار   پیشہ       روزگار
1-قیام کا طریقہ      تاجر کا فیصلہ اور دوسری قانونی  کارروائیاں، اگر ضروری ہوں تو     پیشہ ور ادارے کی رکنیت اور پریکٹس کی سند   تقرر نامہ اور خدمات سے متعلق معاہدہ 
2-۔ کام کی نوعیت    عوام کے لئے اشیا اور خدمات کا  بندو بست    ذاتی ،ماہرانہ خدمات کی انجام دہی     
   خدمت کے معاہدے یا خدمت کے ضابطوں کے مطابق کام انجام دینا
3- قابلیت    کم از کم تعلیمی لیاقت کی ضرورت نہیں     پیشہ ورانہ ادارے کے ذریعہ تجویز کردہ لیاقت،کسی خاص شعبہ میں مہارت اور تربیت ضروری ہے  ۔   آجر کے ذریعہ تجویز کردہ تعلیمی لیاقت اور تربیت
4- ہدیہ یا معاوضہ    منافع کمانا    پیشہ ورانہ فیس    تنخواہ یا اجرت
5- سرمایہ پونجی   کاروبار کی نوعیت اور حجم کے مطابق مطلوب سرمایہ پونجی    قیام کے لئے محدود سرمائے کی ضرورت   سرمایہ ضروری نہیں ہے۔
6- جوکھم    منافع غیر یقینی اور بے ضابطہ ہوتا ہے۔جوکھم موجود ہوتا ہے۔   فیس پابندی سے اور یقینی ہوتی ہے ۔ تھوڑا بہت جوکھم ہوتا ہے۔    ادائیگی طے شدہ اورپابندی سے ہوتی ہے۔ کوئی جوکھم نہیں ہوتا۔
7-مفاد کی منتقلی  کچھ کارروائیوں کے ساتھ منتقلی ممکن  ممکن نہیں      ممکن نہیں
8- ضابطۂ اخلاق  کوئی ضابطۂ اخلاق نہیں ہوتا   پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہوتا ہے۔       آجر کے ذریعہ وضع کردہ کردار کے معیارات کی پیروی کرنی ہوتی ہے۔
9-۔مثال      دکان ،فیکٹری     قانونی ،طبی معالج،چارٹیڈ اکاؤنٹینسی     بینکوں،بیمہ کمپنیوں،سرکاری محکموں میں روزگار

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                    

1.7   کاروباری سرگرمیوں کی درجہ بندی

مختلف کاروباری سرگرمیاں،دو واضح زمروں—صنعت اور تجارت میں درجہ بندکی جاسکتی ہیں۔ صنعت کا تعلق مال اور سامان کی تیاری سے ہوتا ہے جبکہ تجارت میں وہ سب سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں جو سامان اور خدمات کے تبادلے میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ ان دونوں زمروں کی بنیاد پر ہم کاروباری فرموں کی صنعتی اور تجارتی اداروں میں درجہ بندی کر سکتے ہیں۔ اب ہم کاروبار سے متعلق ان سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

1.7.1   صنعت 

صنعت،ایسی معاشی سرگرمیوں سے مراد ہے جو مفید مال یا اشیاء کو ذرائع میں تبدیل کرتی ہیں۔ صنعت لفظ عام طور پر ان سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جن میں میکانیکی آلات اور تکنیکی مہارت کا استعمال ہوتا ہے۔ ان اشیا کو تیار کرنے یا تیاری کے عمل کے علاوہ جانوروں کی افزائش اور ان کی پرورش بھی شامل ہے۔ وسیع معنوں میں صنعت کی اصطلاح کا مطلب فرموں کے ان گروپوں سے ہے جو یکساں یا ایک دوسرے سے وابستہ اشیا کی پیداوار میں مصروف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سوتی کپڑے کی صنعت سے مراد ان تمام مینو فیکچرنگ اکائیوں سے ہے ،جہاں سوت سے بنے کپڑوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ اسی طرح الیکٹرانک صنعت میں وہ تمام فرمیں شامل ہوتی ہیں جو الیکٹرانک اشیا وغیرہ کی پیداوار کرتی ہیں۔ مزید بر آں عام زبان میں بعض خدمات جیسے بینک کاری اور بیمہ کو بھی صنعت کہا جاتا ہے۔ صنعتوں کوتین واضح زمروں یعنی ابتدائی،ثانوی اور ثلاثی صنعت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:۔

(a)  ابتدائی صنعتیں:  ابتدائی صنعتوں میں وہ تمام سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں جن کا تعلق قدرتی ذرائع کے اخذ کرنے اور قدرتی وسائل سے جانداروں کی تعداد کو بڑھانے،پیداکرنے اور پودوں وغیرہ کو ترقی دینے سے ہے۔انہیں ذیل میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ 

(i)استخراجی صنعتیں:  یہ صنعتیں، قدرتی ذرائع سے کچھ اخذ کرتی ہیں یا ان میں سے کچھ نکالتی یا نچوڑتی ہیں۔ استخراجی صنعتیں چند بنیادی خام مال فراہم کرتی ہیں جو کہ زیادہ تر جغرافیائی اور قدرتی ماحول کی پیداوار ہوتی ہیں۔ ایسی صنعتوں کی پیداوار کو عموماً مال کی تیاری کی صنعتوں کے ذریعہ دوسرے مفید سامان کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اہم استخراجی صنعتوں میں کاشتکاری،کانکنی ،جنگلوں سے لکڑیاں حاصل کرنا، شکار اورماہی گیری وغیرہ شامل ہوتی ہیں-
(ii) جینیات سے متعلق صنعتیں(Genetic Industries)
یہ صنعتیں پودوں اور جانوروں کی افزائش نسل سے وابستہ ہوتی ہیں تاکہ مستقبل میں ان کا استعمال مزید تولید کے لئے کیا جا سکے۔ پودوں کی افزائش کے لئے بیج اور نرسری کمپنیاں جینیاتی صنعتوں کی خاص مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ مویشی پروری فارم،مرغی پروری فارم اور ماہی پروری کی سرگرمیاں اس زمرے کی صنعتوں کے تحت آتی ہیں۔
(b) ثانوی صنعتیں:  ثانوی صنعتوں کا تعلق اس مال سے ہوتا ہے جس کو پہلے ہی ابتدائی منزل میں نکالا/کشید کیا جا چکا ہوتا ہے۔ یہ صنعتیں اس مال کو مصنوعات بنانے میں استعمال کرتی ہیں جو کہ حتمی مصرف میں آ سکیں یا پھر دوسری صنعتی اکائیوں میں ان کی پروسیسنگ ہو سکے۔ مثال کے طور پر کان سے خام لوہا نکالنا ابتدائی صنعت ہے 
لیکن خام لوہے کی پروسیسنگ سے فولاد کی تیاری ثانوی صنعت ہے۔ ثانوی صنعتوں کو ذیل میں مزید تقسیم کیا جا سکتا ہے:۔
(i) مینوفیکچرنگ صنعتیں:  یہ صنعتیں خام مال کی پروسیسنگ کے ذریعہ اشیا کی پیداوار کرتی ہیں۔ اور اس طرح صنعتوں سے پیدا وار کرتی ہیں ۔ یہ صنعتیں متنوع تیار اشیا کی پیداوار کرتی ہیں،جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں یا یہ صنعتیں خام مال کی تبدیلی یا اپنے پیداواری عمل میں جزوی طور پر تیار مال کو استعمال میں لاتی ہیں۔ صنعتوں کو اپنے پیداواری عمل کی بنیاد پر چار زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:      
•تجزیائی صنعت (Analytical Industry)جو ایک ہی طرح کے مواد کا تجزیہ کرتی ہے اور اس سے مختلف عناصر کو علیحدہ کرتی ہے جیسے تیل صاف کرنے والے کارخانے (آئیل ریفائنری) ۔
•ترکیبی صنعت (Synthetical Industry) یہ وہ صنعتیں ہیں جو مختلف اجزا کو ملا کر ایک نئی شے پیدا کر تی ہیں ۔ سیمنٹ اس کی مثال ہے۔
• پراسیسنگ صنعت(Processing Industry)،یہ صنعتیں تیار شدہ مال کو بنانے کے مختلف مراحل سے متعلق ہوتی ہیں جیسے چینی اور کاغذ کی صنعت۔
•اسمبلنگ کی صنعت (Assembling Industry)،یہ صنعتیں ایک نئی شے بنانے کے لئے اس سے متعلق مختلف حصول کو آپس میں جوڑتی ہیں جیسے ٹیلی ویژن،کار،کمپیوٹر وغیرہ کی صنعت۔

کاروباری سرگرمیوں کو ظاہر کرنے والے چارٹ

Capture2
33

میک ان انڈیا

حکومت ہند کے ذریعہ 25ستمبر 2014ء کو شروع کی گئی ’’میک ان انڈیا‘‘ نام کی پہل کا مقصد قومی کے علاوہ کثیر قومی کمپنیوں کی ہندوستان میں اپنی مصنوعات کی تیاری کے لئے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ’میک ان انڈیا ‘پہل کے پس پشت اہم مقاصد معیشت کے 25شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ہنر مندی کو بہتر بنانا ہے۔ ’میک ان انڈیا‘ میں معیشت کے درج ذیل 25شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے:
1. آٹو موبائلز  
4 . با یو ٹکنا لوجی  
7.   دفاعی مینوفیکچرنگ
10.  فوڈ پروسیسنگ
13.  میڈیا اور تفریح
16.  فارماسیوٹیکلز  
19.  قابل احیا توانائی  
22. ٹکسٹائلز اور ملبوسات 
 2 .  آٹو موبائلز کے آلات 
 5 .  کیمیکلز 
 8 . الیکٹریکل مشینری
11.  اطلاعاتی ٹکنا لوجی اور بزنس پروسس مینجمنٹ
14  کانکنی  
17.  بندر گاہ اور جہاز رانی 
20.  سڑک اور شاہراہیں 
23.  حرارتی بجلی 
 3.   ہوا بازی
6 .  تعمیرات
9 .  الیکٹرانک نظام
12.  چمڑہ 
15.  تیل اور گیس
18.  ریلویز
21.   خلاء اور فلکیات
24.   سیاحت اور مہمان نوازی

                                                                                      .             
(ii) تعمیراتی صنعتیں:  وہ صنعتیں ہیں جن کا تعلق عمارتوں، پل ،ڈیم ،سڑک،سرنگ اور نہروں وغیرہ کی تعمیر سے ہوتا ہے۔ انجینئرنگ اور فن تعمیر میں ہنر مندی، تعمیری صنعتوں کااہم حصہ ہوتی ہے۔

(C) ثلاثی صنعتیں :  ثلاثی صنعتیں، ابتدائی اور ثانوی صنعتوں کو معاون خدمات فراہم کرنے کے علاوہ تجارتی سرگرمیوں سے متعلق ہوتی ہیں۔ یہ صنعتیں خدمت کی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں کے اعتبار سے انہیں تجارت کا حصہ مان سکتے ہیں کیونکہ یہ تجارت کے معاون کی حیثیت سے تجارت میں مدد کرتی ہیں۔ اس زمرے میں نقل و حمل(ٹرانسپورٹ)،بینک کاری، بیمہ ،گودام،مواصلات،پیکیجنگ اور تشہیر کے کام شامل ہیں۔ 

1.7.2  کامرس

کامرس میں دو قسم کی سرگرمیاں یعنی (i)تجارت اور (ii) تجارت میں معاون سرگرمیاں شامل ہیں۔ اشیا کی خرید و فروخت کو تجارت کہا جاتا ہے۔ لیکن بہت ساری ایسی سرگرمیاں ہیں جن کے لئے اشیا کی خرید و فروخت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں خدمات اور تجارت میں معاون سرگرمیاں کہا جاتا ہے اور ان میں ٹرانسپورٹ ،بینک کاری ، بیمہ،مواصلات،تشہیر، پیکیجنگ اور گودام کاری شامل ہے۔ لہٰذا کامرس میں اشیا کی خرید و فروخت دونوں یعنی تجارت کے علاوہ معاون سرگرمیاں جیسے ٹرانسپورٹ ،بینک کاری وغیرہ شامل ہیں۔
کامرس ،پیداکاروں اور صارفین کے درمیان ضروری رابطہ فراہم کرتا ہے۔ یہ ان تمام سرگرمیوں کو انجام دیتا ہے جو اشیا اور خدمات کی آزادانہ منتقلی کا عمل بحال رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ لہٰذا وہ تمام سرگرمیاں جو منتقلی کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتی ہیں، وہ کامرس میں شامل ہیں۔ افراد کی رکاوٹ تجارت سے دو ر کی جاتی ہے۔ اس ذریعہ سے پیداکاروں کی تحویل یا ملکیت سے صارفین کو اشیا دستیاب کرائی جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ ،فروخت کے لئے اشیا کو پیداواری مقامات سے مارکیٹ تک پہنچا کر جگہ کی رکاوٹیں دور کرتی ہے۔ ذخیرہ اور گودام کی سرگرمیاں، اشیا کا اسٹاک رکھنے کی سہولت بہم پہنچا کر وقت کی رکاوٹ دور کرتی ہیں تاکہ حسب ضرورت انہیں فروخت کیا جائے۔ مال کا اسٹاک کرنے کے علاوہ ان کے نقل و حمل(ٹرانسپورٹ) کے دوران چوری ، آگ ،حادثات وغیرہ سے مال کے نقصان اور خراب ہونے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ مال کا بیمہ کراکر ان خطرات سے بچاؤ کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا سرگرمیوں کے لیے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے جو بینک اور مالی ادارے فراہم کرتے ہیں۔ پیداکاروں اور تاجروں کے لیے اشتہارات کے ذریعہ صارفین کو مارکیٹ میں دستیاب اشیا اور خدمات کے بارے میں بتانا ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا کامرس ان تمام سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہے جو اشیا اور خدمات کے تبادلے کے عمل میں حائل افراد،جگہ،وقت،خطرہ،سرمایہ اور معلومات کی رکاوٹیں دور کرتی ہے۔

1.7.3  تجارت

تجارت ،کامرس کا لازمی حصہ ہے۔ اس سے مراد فروخت یا اشیا کی منتقلی یا تبادلہ سے ہے۔ یہ تیارمال کو حتمی صارفین یا استعمال کرنے والوں کو مہیا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ موجودہ دور میں مال کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ مال تیار کرنے والوں کے لئے اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لئے ہر ایک خریدار تک پہنچنا مشکل کام ہوتا ہے۔ کاروباری لوگ، بطور ’مڈل مین‘ تجارتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں تاکہ مختلف مارکیٹوں میں صارفین کو مال فراہم کرا سکیں۔ تجارت کی عدم موجودگی میں بڑے پیمانے پر مال تیار کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ 
تجارت کو موٹے طور پر دو زمروں—داخلی یا اندرونی تجارت اور بیرونی تجارت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اندرونی ،گھریلو یا داخلی تجارت میں اشیا اور خدمات کی خرید و فروخت ملک کی جغرافیائی حدود کے اندر ہوتی ہے۔ ایسی تجارت کو مزید تھوک تجارت اور خردہ تجارت میں تقسیم کیا   جا سکتا ہے۔ جب مال کا حتمی استعمال کے لئے مقابلتاً کم مقدار میں خرید و فروخت کیا جاتا ہے تو اسے خردہ تجارت کہتے ہیں۔ بیرونی یا غیر ملکی تجارت میں اشیا اور خدمات کا تبادلہ ایسے اشخاص یا اداروں کے درمیان ہوتا ہے جو د و یا دو سے زائد ملکوں میں سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ اگر مال کسی دوسرے ملک سے خریدا جاتا ہے تو اسے درآمداتی تجارت (Import Trade) کہتے ہیں۔ اگر مال دوسرے ملک کو فروخت کیا جائے تو اسے برآمداتی تجارت (Export Trade) کہتے ہیں۔جب مال در آمد کیا جائے تاکہ دوسرے ملکوں کو برآمد کیا جائے تو اسے درآمد برآمد تجارت (Entreport Trade) کہتے ہیں۔

1.7.2  تجارت کے معاونین

تجارت کی مدد کے لئے سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں، انہیں کاروبار کے معاونین کہتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو عام طور پر خدمات کہتے ہیں کیونکہ ان کی نوعیت تجارت اور صنعت سے متعلق سرگرمیوں میں سہولت پیدا کرنے والے کی ہوتی ہے۔ نقل و حمل (ٹرانسپورٹ ) ،بینک کاری ،بیمہ ، گودام کاری اور اشتہارات کو تجارت کے معاونین کہا جاتا ہے یعنی یہ سرگرمیاں مددگار کا کردار انجام دیتی ہیں۔ در حقیقت یہ سرگرمیاں نہ صرف تجارت میں مدد کرتی ہیں بلکہ صنعت کی مدد بھی کرتی ہیں اور اس طرح تمام کاروباری سرگرمیوں میں مددگار ہوتی ہیں۔تجارت کے معاونین خاص طور سے کامرس اور عمومی طور پر کاروباری سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں مال کی پیداوار اور تقسیم سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ، اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں مدد کرتاہے۔ بینک کاری سے سامان تیار کرنے والوں اور تاجروں کو مالی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ بیمہ، کاروبارکے مختلف قسم کے خطرات کا احاطہ کرتا ہے۔ گودام کاری،مال کا اسٹاک گرتے وقت کی افادیت پیدا کرتی ہے۔ اشتہارات،صارفین کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سرگرمیوں سے سامان کی نقل و حمل، مال کو اسٹور کرنے،سرمایہ کاری ،خطرات سے بچاؤ اور اشیا کی فروخت کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔ تجارت کے معاونین کو ذیل میں مختصر طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ 
(i) ٹرانسپورٹ اور مواصلات:  اشیا کی پیداوار عام طور پر مخصوص مقامات پرہوتی ہے۔ مثال کے طور پر چائے کی پیداوار خاص طور سے آسام میں ہوتی ہے۔ کپاس کی پیداوار گجرات اور مہاراشٹر وغیرہ میں ہوتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کی ملک کے مختلف حصوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ جگہ کی اس رکاوٹ کو سڑک، ریل گاڑی یا ساحلی جہاز رانی کےذریعہ نقل و حمل سے دور کیا جاتا ہے۔ٹرانسپورٹ خام مال کو پیداوار کی جگہ پر لے جانے میں اور تیار شدہ مال کو کارخانوں سے کھپت کی جگہ تک پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔ نقل و حمل کے ساتھ پیغام رسانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مال تیار کرنے والے تاجر اور صارفین آپس میں معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔ اسی طرح ڈاک خدمات اور ٹیلی فون کی سہولیات کو بھی کاروبار کے معاونین سمجھا جاتا ہے۔ 
(ii) بینک کاری اور سرمایہ :  کاروباری سرگرمیاں اس وقت تک نہیں ہو سکتیں جب تک کہ اثاثوں کے حصول ،خام مال کی خریداری اور دوسرے اخراجات کے لئے فنڈ موجود نہ ہو۔ کاروباری لوگ ضروری فنڈ بینک سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح بینک، مالیاتی پریشانیوں کو حل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ کمرشیل بینک عام طور پر اوورڈرافٹ اور کیش کریڈٹ کی آسانیاں،قرض اور ایڈوانس کی شکل میں رقم ادھار دیتے ہیں۔ بینک،چیکوں کی وصولی، فنڈ کی مختلف مقامات پر ادائیگی اور تاجروں کی طرف سے بلوں کوبھنانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ غیر ملکی تجارت میں کمرشیل بینک در آمد کاروں سے، رقم وصول کرنے میں برآمد کاروں کی مدد کرتے ہیں۔ کمرشیل بینک ،کمپنی کے فروغ کاروں(Promoters)کی عوام سے سرمایہ حاصل کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
(iii) بیمہ : کاروبار میں مختلف قسم کے جوکھم موجود ہوتے ہیں۔ فیکٹری کی عمارت،مشینری اور فرنیچر وغیرہ کی آگ، چوری اور دوسرے خطرات سے حفاظت ہونی چاہئے۔خام مال اور اسٹاک میں موجود تیار مال اور جو مال راستہ میں ہے، ان سب کو کھونے یا ان کے خراب ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ملازمین کو بھی حادثات اور پیشہ ورانہ خطرات سے حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سب معاملات میں بیمہ،تحفظ فراہم کرتا ہے۔پریمیم کی معمولی سی رقم ادا کرکے بیمہ کمپنی سے نقصان کی رقم اور اگر کسی کو چوٹ لگ گئی ہے تو ایسی صورت میں معاوضہ کی رقم وصول کی جا سکتی ہے۔
(iv) گودام کاری(Warehousing): عام طور پر مال تیار ہونے کے فوراً بعد نہ تو استعمال ہوتا ہے اور نہ فروخت ہوتا ہے۔ اس کو اسٹاک میں رکھا جاتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت دستیاب ہو سکے۔ مال کو خراب ہونے یا اسے نقصان سے بچانے کے لئے اس کو اسٹور کرنے کے خصوصی انتظامات کرنے ہوتے ہیں۔ گودام کاری، کاروباری فرموں کو اشیا کے ذخیرہ کرنے کے مسئلہ کو حل کرنے اور ضرورت کے وقت ان کی دستیابی میں مدد کرتی ہے۔ اس طرح مال کو مسلسل سپلائی کے ذریعہ قیمتوں کو معقول سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

(v)  تشہیر(Advertising): تشہیر یا ایڈورٹائزنگ ،سامان کی فروخت (Sale) بڑھانے کے ،خصوصاً اشیائے صرف جیسے الیکٹرانک کا سامان، موٹر کاریں،صابن،میل صاف کرنے والے پاؤڈر وغیرہ کی سیلز بڑھانے کے انتہائی اہم طریقوں میں ایک ہے۔ ان میں سے اکثر چیزیں بہت چھوٹی یا بڑی فرمیں تیار کرتی ہیں اور انہیں مارکیٹ میں سپلائی کرتی ہیں۔ مال تیار کرنے والوں یا تاجروں کے لئے عملی طور پر ہر ایک صارف کے ساتھ رابطہ کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لئے سیلز کے فروغ کے لئے متوقع خریداروں کو مارکیٹ میں دستیاب اشیا اور خدمات کی خصوصیات اور قیمتوں وغیرہ کے بارے میں علم ہونا چاہئے۔ صارفین کو اشیا اور خدمات کی کوالٹی، استعمال اور قیمت وغیرہ سے باخبر کرنے کے لئے سامان   کا اشتہار دیا جاتا ہے۔ اس طرح اشتہارات،بازار میں دستیاب اشیا اور خدمات کے بارے میں بتاتے ہیں اورمخصوص چیزوں کے خریدنے پر صارف کو آمادہ کرتےہیں۔ 


1.8  کاروبار کے مقاصد

مقصد،کاروبار کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ ہر ایک کاروبار چند مقاصد کے حصول کے لئے ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو کاروباری لوگ اپنے کاموں کے عوض میں چاہتے ہیں۔ عام طور پر ایسا سمجھا جاتا ہے کہ کاروباری سرگرمی صرف منافع کمانے کے لئے ہوتی ہے۔ خود کاروباری لوگوں کا بھی یہی خیال ہے کہ ان کا بنیادی مقصد منافع حاصل کرنے کے لئے اشیا اور خدمات کی پیداوار اور ان کی تقسیم ہے۔ ایسا کہاجاتا ہے کہ ہر طرح کے کاروبار سے جڑے کاروباری لوگ،کاروبار میں لگائی پونجی سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کمایا گیا منافع ،لاگت کے مقابلہ میں زیادہ ہوتا ہے۔ پھر بھی اب وسیع پیمانہ پر یہ تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ کاروباری ادارے معاشرہ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس لئے آگے چل کر بقا اور خوشحالی سمیت ان کے کئی طرح کے مقاصد ہونے چاہئیں۔ منافع ایک اہم اور نمایاں مقصد تو ہے لیکن واحد مقصد نہیں ہوتا ہے۔ 
اگر چہ منافع کمانا ،کاروبار کا واحد مقصد نہیں ہو سکتا پھر بھی اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر طرح کے کاروبار میں کی گئی سرمایہ کاری پر اس سے زیادہ منافع کمانے کی کوشش ہوتی ہے۔ منافع در اصل لاگت کے اوپر کی اضافی آمدنی ہوتا ہے۔ مختلف اسباب کی بنا پر منافع کو کاروبار کا اہم مقصد مانا جاسکتا ہے۔ (i)یہ تاجر کے لئے آمدنی کا وسیلہ ہوتا ہے۔(ii) یہ کاروبار کی توسیع سے متعلق ضروریات پوری کرنے کے لئے سرمایہ کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔(iii) یہ کاروبار کی بہتر کارگذاری کی نشاندہی کرتا ہے۔(iv)  اس کو کاروبار کی افادیت کے لئے سماج کی جانب سے منظوری مانا جاتا ہے۔ (v)یہ کاروباری ادارے کی ساکھ بناتا ہے۔ 
پھر بھی دوسرے مقاصد کو پس پشت ڈال کر منافع پر زیادہ زور دینا اچھے کاروبار کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔منافع کے مقصد کے طور پر کاروبار کے منتظمین،صارفین،ملازمین،سرمایہ کاروں اور عمومی طور پر سماج کے تئیں دوسری تمام ذمہ داریوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ منافع کمانے کے لئے وہ سماج کے دوسرے طبقات کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کاروباری اداروں کے غلط کاموں کے خلاف لوگوں کی مخالفت یا عدم تعاون کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ جس کی وجہ سے کاروباری ادارے اپنا کاروبار کھو سکتے ہیں اور وہ منافع کمانے کے قابل نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مشکل سے ہی کوئی ایسا کاروباری ادارہ ہوگا جس کا واحد مقصد منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہو۔

1.9  کاروبار کے کثیر جہتی مقاصد

ہر وہ شعبہ جو کاروبار کی بقا اور خوشحالی کو متاثر کرتا ہے، وہاں مقاصد کا ہونا ضروری ہے۔ کاروبار میں چونکہ ضرورتوں اور مقاصد کے مابین توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے، اس لئے ان میں کاروبار کے کثیر جہتی مقاصد ہونے ضروری ہوتے ہیں۔ اس میں صرف ایک مقصد پر عمل کرکے عمدگی حاصل کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ کاروبار کے ہر ایک شعبہ اور ماحول کے لئے مخصوص مقاصد ہونے چاہئیں۔ مثال کے طور پر فروخت کے نشانے طے کرنے ہوں گے،حاصل کئے جانے والے سرمایہ کی رقم کا تخمینہ لگانا ہوگا اور مطلوبہ پیداوار کرنے والی کثیر تعداد کی اکائیوں کی وضاحت کرنی ہوگی۔ٹھوس بنیادیں،جن پر کاروبار کیا جا رہا ہے،ان کے مقاصد واضح ہوتے ہیں۔ یہ مقاصد کاروبار کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مستقبل میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ 
مقاصد ،ہر اس شعبہ کے لئے ضروری ہوتے ہیں، جہاں کارکردگی اور نتائج،کاروبار کی بقا اور خوشحالی کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں سے چند کی ذیل میں وضاحت کی جاتی ہے۔
(a)  بازار میں ساکھ :  بازار میں ساکھ سے مراداپنے حریفوں کے مقابلہ میں ادارے کی پوزیشن سے ہے۔ ایک کاروباری ادارے کا مقصد ہونا چاہئے کہ وہ اپنے صارفین کو مسابقتی اشیا پیش کرنے کے معاملہ میں مستحکم بنیادوں پر قائم رہے اور انہیں مطمئن کرے۔ 
(b)  اختراع :  اختراع کا مطلب کسی چیز کو کرنے یا بنانے میں کسی نئے خیال یا طریقہ کار کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ ہر کاروبار میں دو طرح کی اختراع ہوتی ہے یعنی (i) اشیا یا خدمات میں اختراع اور (ii) اشیا اور خدمات کی فراہمی کے لئے درکار سرگرمیوں اور ہنر مندی میں اختراع۔ کوئی بھی کاروباری ادارہ مقابلہ سے بھری اس دنیا میں بلا اختراع نہیں پاسکتا۔ اس لئے اختراع ایک اہم مقصد بن جاتا ہے۔ 
(c)  پیداواریت :  تیارمال کی مالیت کا خام مال کی مالیت سے موازنہ کرکے پیداواریت کا پتہ لگایا جاتاہے۔ ا س کا استعمال اہلیت کی جانچ کے طورپر پر کیا جاتا ہے ۔مسلسل بقا اور ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ہر کاروباری ادارے کا مقصد،دستیاب وسائل کو بہتر ڈھنگ سے استعمال میں لاکر اپنی پیداواری صلاحیت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہونا چاہئے۔
(d)  طبیعی اور مالی وسائل : کسی بھی کاروبار کے لئے ظاہری وسائل جیسے پلانٹ،مشینری،دفاتر وغیرہ اور مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی فنڈ سے کوئی بھی فرم اپنے صارف کو اشیا اور خدمات کی فراہمی اور پیداوار کرنے کے قابل ہوتی ہے ۔کاروباری ادارے کا مقصد اپنی ضروریات کے مطابق ان وسائل کا حصول اور اہلیت کے ساتھ ان کا استعمال ہونا چاہئے۔
(e)  منافع کمانا : کاروبار کے مقاصد میں سے ایک ،لگائی گئی پونجی پر منافع کمانا ہوتا ہے۔ منافع سے مراد،کاروبار میں لگائی گئی پونجی پر ملنے والا منافع ہوتا ہے۔ ہر کاروبار میں واجب منافع حاصل ہونا چاہئے،جو اس کی بقا اور ترقی کے لئے کافی اہم ہوتا ہے۔
(f)  منتظمین کی کارگزاری اور ترقی : کاروباری اداروں کو اپنی کاروباری سرگرمیاں انجام دینے اور ان میں تال میل قائم رکھنے کے لئے منتظمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں منتظم یا منیجر کی کارگذاری اور ترقی ایک اہم مقصد ہوتا ہے۔ کاروباری اداروں کو اس کے حصول کے لیے سرگرمی سے کام کرنا چاہیے۔ 
(g)  کارکنوں کی کارگزاری اور رویہ :کسی بھی ادارے کی پیداواریت اور منافع کا تعین اس ادارے کے کارکنوں کی کارگزاری اور رویہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے ہر ادارے کا مقصد ہونا چاہئے کہ وہ اپنے کارکنوں کی کارگزاری کو بہتر بنائے۔کارکنوں کے مثبت رویہ کویقینی بنانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔ 
(h)  سماجی ذمہ داری: سماجی ذمہ داری سے مراد،کاروباری فرموں کی اس ذمہ داری سے ہے جس کے مطابق اپنے وسائل کا استعمال معاشرہ کے مسائل حل کرنے اور اپنے کام سماجی طور پر انجام دینے کی ہوتی ہے۔ لہٰذا کاروباری اداروں کو مختلف افراد اور گروہوں کو مطمئن کرنے کے لیے کثیر جہتی مقاصد رکھنے چاہئیں۔ یہ ان کی بقا اور خوشحالی کے لئے بھی ضروری ہے۔ 

خطرات سے نمٹنے کے طریقے

اگرچہ کوئی بھی کاروباری ادارہ جوکھموں سے نہیں بچ سکتا پھر بھی بہت سے ایسے طریقے ہیں جن سے وہ خطرات کی حالتوں سے نمٹ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کاروباری ادارہ (a) یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ جوکھم بھرے سودے نہ کرے (b)خطرات کم کرنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتا ہے جیسے آگ بجھانے والے آلات نصب کرنا،(c) بیمہ پالیسی لے سکتا ہے تاکہ خطرات بیمہ کمپنی کی جانب منتقل ہو جائیں(d) موجودہ کمائی کے لئے ایسے آلات رکھ سکتا ہے جیسے ڈوبنے والے اور غیر یقینی ادھار یعنی موجودہ آمدنی سے ایسے قرضوں کی ادائیگی کے لئے گنجائش رکھ کر جوکھم اٹھا سکتا ہے یا (e) دوسرے کاروباری خطرات میں اس طرح شریک ہو سکتا ہے جیسے تھوک فروش اور پیدا کار کرتے ہیں کہ گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات میں شریک ہو جاتے ہیں۔ 

1.10     کاروباری خطرات
لفظ ’’کاروباری خطرات‘‘ سے مراد غیر متوقع یا غیر یقینی حالات کی وجہ سے ناکافی منافع یا نقصان سے ہے۔ مثال کے طور پر صارفین کے ذوق اور ترجیحات میں تبدیلی اوردوسرے پیدا کاروں (پروڈیوسروں) کی طرف سے مقابلے کی وجہ سے مخصوص پیداوار میں کمی آ سکتی ہے۔مانگ( ڈمانڈ)  میں کمی کے باعث فروخت اور منافع میں بھی کمی آجاتی ہے۔دوسری حالت میں خام مال کی قلت کے باعث مارکیٹ میں اس کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں خام مال کا استعمال کرنے والی فرم کو اس کے لئے زیادہ ادائیگی کرنی ہوگی،نتیجتاً پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے منافع میں کمی آ سکتی ہے۔ 
کاروباری اداروں کو لگاتار دو طرح کے خطرات:قیاسی (Speculative) اور اصل (Pure)خطرے کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ قیاسی خطرات میں فائدہ کے علاوہ نقصان،دونوں کا امکان شامل ہوتا ہے۔ قیاسی خطرات کی صورتحال میں سامان کی مانگ اور فراہمی میں اتار چڑھائو ، قیمتوں میں تبدیلی یا صارفین کے فیشن اور ذوق میں تبدیلی سمیت بازار میں آرہی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ بازار کے موافق حالات کے نتیجہ میں فائدہ ہو سکتا ہے جبکہ ناموافق حالات کے نتیجہ میں نقصان ہو سکتا ہے۔ اصل خطرات میں نقصان ہونے یا نقصان نہ ہونے کا امکان شامل ہوتا ہے۔آگ لگنا ،چوری یا ہڑتال ،اصل خطرات کی مثالیں ہیں۔ ان کے واقع ہونے کے نتیجے میں نقصان ہو سکتا ہے جبکہ واقع نہ ہونے کی صورت میں فائدہ نہ ہونے کے بجائے نقصان نہیں ہوگا۔ 

1.10.1    کاروباری خطرات کی نوعیت

کاروباری خطرات کی نوعیت کو ان کی مخصوص خصوصیات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ 
(i)  غیر یقینی حالات کی وجہ سے لاحق ہونے والے کاروباری خطرات:  غیر یقینی حالات سے مراد مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں لا علمی سے ہے۔ قدرتی آفات، مانگ اور قیمتوں میں تبدیلی ،حکومت کی پالیسی میں تبدیلی ،ٹکنا لوجی میں بہتری وغیرہ ،  غیر یقینی حالات کی چند مثالیں ہیں، جن سے کاروبار کے لئے خطرات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ مستقبل کے ان واقعات کے نتائج کا پیشگی علم نہیں ہوتا ۔ 
(ii)  خطرہ ہر کاروبار کا لازمی حصہ ہوتا ہے:   ہر کاروبار میں کچھ خطرات ہوتے ہیں۔ کوئی بھی کاروبار خطرہ سے نہیں بچ سکتا ،تاہم خطرے کی نوعیت مختلف کاروبار میں مختلف ہو سکتی ہے۔ خطرہ کو کم تو کیا جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ 
(iii)  خطرے کی حد کا انحصار کاروبار کی نوعیت اور حجم پر ہوتا ہے: کاروبار کی نوعیت (یعنی پیداوار اور فروخت کا حجم) ایسے خاص عوامل ہوتے ہیں جو کاروبار میں خطرے کی حد کا تعین کرتے ہیں۔ مثلاً فیشن سے متعلق اشیا کے کاروبار میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بڑے پیمانے کا کاروبار ،چھوٹے کاروبار کے مقابلہ میں زیادہ جوکھم بھرا ہوتا ہے۔ 
(iv)  منافع خطرے کا سامنا کرنے کا انعام ہوتا ہے :   ایک قدیم اصول ہے کہ بلا خطرہ اٹھائے منافع نہیں ہوتا ۔ یہ اصول ہر طرح کے کاروبار پر عائد ہوتا ہے جس کاروبار میں جتنا زیادہ جوکھم ہوتا ہے ، اس میں اتنا ہی زیادہ منافع کا امکان ہوتا ہے۔ کاروباری شخص زیادہ منافع کمانے کی امید میں خطرات /جوکھم اٹھاتا ہے۔ اس طرح منافع خطرہ مول لینے کا انعام ہوتا ہے۔

1.10.2 کاروباری خطرات کے اسباب

 کاروباری خطرات محتلف اسباب سے پیداہوتے ہیں،جن کی ذیل میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔

(i) قدرتی اسباب:

انسان کاجس طرح قدرتی آفات جیسے سیلاب،زلزلہ،آسمانی بجلی کاگرنا،بھاری بارش اورقحط سالی وغیرہ پربہت کم کنٹرول ہوتاہے، اسی طرح کاروبارمیں املاک اورآمدنی پرکنٹرول نہیں ہوتا۔
(ii) انسانی اسباب: انسانی اسباب میں غیرمتوقع واقعات جیسے ملازمین کی غیردیانتداری،لاپرواہی یابے توجہی،بجلی کی فراہمی رکنے،ہڑتال،فسادانتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے کام کارکناشامل ہے۔
(iii) معاشی اسباب: ان میں اشیا کی مانگ،مسابقت،قیمت،صارفین سے بقائے کی وصولی،ٹکنالوجی یاپیداوار کے طریقہ کارمیں تبدیلی وغیرہ سے متعلق غیریقینی حالات شامل ہوتے ہیں۔مالی وسائل جیسے قرض کے لیے سودکی شرح اضافہ ،زیادہ ٹیکسوں کی وصولی وغیرہ بھی اسی طرح کے اسباب کے تحت آتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے کاروبارکوچلانے کی لاکت میں غیرمتوقع اضافہ ہوجاتاہے۔
(iv) دیگراسباب: اس میں غیرمتوقع واقعات جیسے سیاسی گڑبڑی،مشینی خرابی جیسے بوائلرکاپھٹنا،لین دین کی شرح میں اتارچڑھاؤ وغیرہ  شامل ہیں جن کے نتیجہ میں کاروبارمیں خطرے کاامکان پیداہوتاہے۔

 1.11 :  کاروبار کی شروعات—بنیادی عناصر

کاروبار کی ابتدا کسی دوسری انسانی کوششوں کی طرح ہی ہوتی ہے۔ جس میں بعض مقاصد کے حصول کے لئے وسائل کام میں لائے جاتے ہیں۔ کاروبار میں کامیابی کے نتائج کا انحصار نئے کاروباریوں یا نیا کاروبار شروع کرنے والوں کی اس صلاحیت پر ہوتا ہے کہ وہ مسائل کا اندازہ لگا کر انہیں کم از کم لاگت پر کیسے حل کر سکتا ہے۔ یہ نئی کاروباری دنیا کے لئے خاص طور پر درست ہے جہاں مسابقت نہایت سخت اور خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چند مسائل جن سے کاروباری فرموں کو سابقہ پڑتا ہے ،بنیادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک فیکٹری لگانے کے لیے چند مسائل جیسے کاروبار کی جائے وقوع ،صارفین کی ممکنہ تعداد، آلات کی قسم اور تعداد ،دکان کا نقشہ ،ضرورتوں کے مطابق خریداری اور ان کے لئے پیشوں کا انتظام اور کارکنوں کی بھرتی کے تعلق سے منصوبہ بنانا اور انہیں عملی جامہ پہنانا ہوتا ہے۔ یہ مسائل بڑے کاروبار میں زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ پھر بھی نیا کاروبار شروع کرنے میں چند بنیادی عوامل کا خیال رکھنا چاہیے،جو حسب ذیل ہیں:
(i) کاروبار کی لائن کا انتخاب :  نیا کاروبار شروع کرنے والے نئے کاروباری کو پہلے جس چیز کا فیصلہ پہلے کرنا ہوتا ہے وہ کاروبار کی نوعیت اور قسم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے وہ صنعت اور کامرس کی ایسی شاخ کو اپنا نا چاہے گا جس میں منافع کا امکان زیادہ ہو ۔اس کا فیصلہ بازار میں صارفین کی ضروریات،مخصوص مال کی پیداوار کرنے میں اس کی دلچسپی اور تکنیکی معلومات سے متاثرہوگا- 
(ii)  فرم کا حجم :  کاروبار شروع کرنے کے لئے فرم کے حجم یا اس کے کاموں کے پیمانہ کے بارے میں فیصلہ لینا بھی اہم ہوتا ہے۔چند عوامل بڑے فرم کی موافقت کرتے ہیں جبکہ دوسروں میں کاموں کے پیمانے کو محدود رکھنے کا رجحان ہوتا ہے۔ اگر کاروباری کو پورا اعتماد ہے کہ اس کی پیداوار کی مانگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی جائے گی اور وہ کاروبار کے لئے سرمائے کا انتظام بھی کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں وہ بڑے پیمانے پر کام کی شروعات کرے گا ۔ لیکن اگر بازار کے حالات غیر یقینی ہیں اور خطرات بھی زیادہ ہیں تو پھر چھوٹا کاروبار ہی بہترانتخاب ہوگا۔ 
(iii) ملکیت کی شکل کا انتخاب :  ملکیت کے حوالے سے کاروباری ادارے تنہا ملکیت ، شراکت داری یا مشترکہ سرمایہ کمپنی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ہر شکل یا قسم کی اپنی خوبیاں اورخامیاں ہوتی ہیں۔ ایک موزوں ملکیت کی شکل کے انتخاب کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، جیسے کاروباری لائن، سرمائے کی ضروریات،مالکان کی ذمہ داریاں، منافع کی تقسیم، قانونی کارروائیاں ،کاروبار کا تسلسل اور مفاد کی منتقلی وغیرہ۔
(iv) کاروباری ادارے کی جائے وقوع: کاروبار شروع کرتے وقت ،ایک اہم عنصر کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے، وہ اس جگہ کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے ،جہاں کاروباری ادارہ قائم کیا جائے گا ۔ اس میں کوئی بھی غلطی کئی طرح کے نقصانات کا سبب بن سکتی ہے جیسے پیداوار کی لاگت میں اضافہ،پیداوار کے لئے ضروری خام مال کی دستیابی میں دشواری یا صارفین کو بہتر خدمات مہیا کرانے میں دشواری وغیرہ۔ جگہ کا انتخاب کرتے وقت جن عوامل کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے ، وہ ہیں: مزدوروں اور خام مال کی دستیابی، بجلی کی فراہمی اور بینک کاری،نقل و حمل کی سہولت،مواصلات ،گودام کاری وغیرہ جیسی خدمات کی دستیابی وغیرہ۔
(v)  سرمایہ کاری کا مسئلہ:  سرمائے کا تعلق مجوزہ کاروبار شروع کرنے اور اسے چلانے کے لئے ضروری پونجی فراہمی سے ہے۔ مستقل اثاثے جیسے زمین،عمارت ،مشینری اور آلات اور چالو اثاثے جیسے خام مال ،کھاتے کی قرض داریاں ،تیار شدہ اشیاء کے اسٹاک وغیرہ میں سرمایہ کاری کے لیے پونجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرمائے کی ضرورت روز مرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔(a)سرمائے کی ضروریات(b)سرمایہ وصول کرنے کے ذرائع اور (c) فرم میں سرمائے کے بہتر استعمال کے تعین کے لیے مناسب مالی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
(vi) ظاہری سہولیات: کوئی بھی کاروبار شروع کرتے وقت ایک قابل غور عنصر، مشینوں اور آلات،عمارت اور معاون خدمات سمیت ظاہری سہولیات کی دستیابی ہوتا ہے۔ اس عنصر سے متعلق فیصلہ کا انحصار کاروبار کی نوعیت اور حجم ،فنڈ کی دستیابی اور پیداواری عمل پر ہوتا ہے۔
(vii)پلانٹ کا خاکہ : ظاہری سہولیات کے تعین کے بعد کاروباری کو ان سہولیات کے مناسب انتظام کو ظاہر کرنے والا خاکہ تیار کرنا چاہئے۔خاکہ یا ’’لے آوٹ‘‘ کا مطلب کسی شے کی تیاری کے لیے ضروری مشین اور آلات کا ظاہری نظم کرنا ہوتا ہے۔ 
(viii) با صلاحیت اور محنتی عملہ:  ہر کاروباری ادارے کو مختلف سرگرمیاں انجام دینے کے لیے با صلاحیت اور محنتی عملہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ظاہری اور مالی وسائل کو حسب خواہش پیداوار میں تبدیل کیا جا سکے۔ چونکہ ایک صنعتکار تمام کاموں کو تنہا انجام نہیں دے سکتا اس لیے اسے ہنر مند اور غیر ہنر مند کارکنوں اور انتظامی عملہ کی شناخت کرنی ہوتی ہے۔ اس لیے ملازمین کی تربیت اور انہیں ترغیب دینے سے متعلق منصوبے بھی بنانے چاہئیں تاکہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ 
(ix)  ٹیکس کی منصوبہ بندی:  موجودہ دور میں ٹیکس منصوبہ بندی ضروری بن چکی ہے، کیونکہ ملک میں ٹیکس سے متعلق ایسے متعدد قوانین ہیں جو نئے کاروبار کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کرتے ہیں۔کاروبار شروع کرنے والے کو مختلف ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس کی دین داری ،جو کاروباری فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، ان پر پہلے سے دھیان رکھنا ہوتا ہے۔
(x) کاروباری ادارے کی شروعات:  مذکورہ بالا عوامل سے متعلق فیصلوں کے بعد کاروباری، حقیقی معنوں میں کاروباری ادارے کی شروعات کر سکتا ہے، جس کا مطلب ہوگا کہ وہ مختلف وسائل کو یکجا کرے،ضروری قانونی اور ضابطہ جاتی کارروائیاں پوری کرے، پیداواری عمل شروع کرے اور پھر سیلز کو فروغ دینے کی مہم شروع کرے۔ 

مختصر جوابی سوالات: 

1۔قدیم ہندوستان کے کسی پانچ بڑے تجارتی شہروں کے نام بتائیں۔
2۔ ہنڈی کیا ہے ؟
3۔قدیم ہندوستان کی اہم برآمدات اور درآمدات کے نام بتائیں۔
4۔پرانے زمانے میں تاجروں کے ذریعہ استعمال میں لائی جانے والی ہنڈیوں کی مختلف قسمیں کیا تھیں؟
5۔سمندری راستہ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
6۔معاشی سرگرمیوں کی مختلف قسموں کی وضاحت کریں۔
7۔کاروبار کو معاشی سرگرمیاں کیوں سمجھا جاتا ہے؟
8۔کاروبار کے معنی بتائیں۔
9۔کاروباری سرگرمیوں کی آپ درجہ بندی کس طرح کریں گے؟
10۔صنعتوں کی مختلف قسمیں کیا ہیں؟
11۔ایسی کسی دو کاروباری سرگرمیوں کی وضاحت کیجیے جو تجارت میں معاون ہوں۔ 
12۔کاروبار میں منافع کا کیا کردار ہوتا ہے؟
13۔ کاروباری جوکھم کیا ہے؟ اس کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟

طویل جوابی سوالات

ہندوستانی بر صغیر میں گھریلو بینکنگ نظام کے فروغ پر تبادلہ خیال کریں۔
کاروبار کی وضاحت کریں۔ اس کی اہم خصوصیات بیان کریں۔
کاروبار کا پیشہ اور روزگار کے ساتھ موازنہ کریں۔ 
صنعت کی وضاحت کریں۔ مثال دے کر صنعتوں کی مختلف قسمیں بیان کریں۔
کامرس سے متعلق سرگرمیوں کی تشریح کریں۔
کاروبار کے پانچ مقاصد کی وضاحت کریں۔
کاروبار خطرات/جوکھم کے تصور اور اس کے اسباب بیان کریں ۔
کاروبار شروع کرتے وقت،غور کیے جانے والے عناصر کیا ہیں۔ وضاحت کریں۔

پروجیکٹ/تفویض کیے گئے کام

آپ اپنے علاقہ میں واقع کسی کاروباری اکائی میں جائیں۔ یہ پتہ لگانے کے لیے کاروبار شروع کرنے کے اقدامات کیا ہیں، کاروباری اکائی کے مالک کے ساتھ بات چیت کریں۔ 
یکم سے 17عیسوی کے درمیان تجارت اور کاروبار کے فروغ سے متعلق پروجیکٹ رپورٹ تیار کریں۔
معیشت کے کسی پانچ شعبے سے متعلق معلومات یکجا کریں، جن پر ’’میک ان انڈیا ‘‘ میں توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران ان شعبوں میں کی گئی سرمایہ کاری کا پتہ لگائیں۔ وہ کیا ممکنہ اسباب تھے جنہوں نے سرمایہ کاروں میں ان شعبوں کی جانب دلچسپی پیدا کی ۔ درج ذیل خاکہ میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔


Capture4