Skip to content
Karobarimutuala-001


باب 2

کاروباری تنظیم کی شکلیں

سیکھنے کے مقاصد 

اس باب کے مطالعے کے بعد آپ
کاروباری تنظیم کی مختلف شکلوں کی شناخت کرسکیں گے۔
•منتخب کاروباری تنظیم کی شکلوں کی خصوصیات، خوبیاں ا ور خامیاں بیان کرسکیں گے۔
•تنظیم کی مختلف اقسام کے درمیان فرق کرسکیں گے۔
کاروباری تنظیم کی موزوں شکل کے انتخاب کا تعین کرنے والے عوامل کاتجزیہ کرسکیں گے۔

نیہا، فائنل ایئر کی ایک ذہین طالبہ تھی جو کہ اپنے نتیجہ کے اعلان ہونے کا انتظار کررہی تھی ۔ اس دوران اس نے گھر پر اپنے بیکار وقت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ مزاجاً مصور تھی۔اس لئے اس نے مٹی کے برتنوں اور پیالوں پر ڈیزائن بناکر انھیں سجانے کی کوشش کی۔ اس کے دوستوں اور شناساؤں نے اس کے کام کی تعریف کی جس سے اس میں جوش بھر گیا۔ یہاں تک کہ اس نے مٹی کے چند چھوٹے برتن اپنی بستی اوراس کے آس پاس رہنے والے لوگو ں کو فروخت بھی کرڈالے۔ جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ وہ کاروبار میں اتر چکی ہے۔ گھر سے کام کرنے کی وجہ سے وہ مکان کے کرائے کی ادائیگیوں کی بچت کرنے کے قابل ہوگئی تھی۔ وہ لوگوں کی زبانی تشہیر کے باعث تنہا مالک کی حیثیت سے مشہور ہوگئی تھی۔ اس نے مٹی کے برتنوں پر اپنی مصوری کی مہارتیں پیش کیں اور نئے ڈیزائنوں اور نقاشی پرمزیدہاتھ صاف کیا۔ اس سے اس کے گاہکوں میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوئی اور اس کی اشیا کی مانگ تیزی سے بڑھنے لگی۔ گرمیوں کے اواخر میں اس نے پایا کہ اس نے ڈرائنگ شیٹس ،مٹی کے برتنوں اور رنگوں میں معمولی سی رقم لگاکر 2500روپے کا منافع کمالیاہے۔

اس سے اس کو ا س کام کو بطور پیشہ اپنانے کی ترغیب ملی لہٰذا اس نے اپنے فن پاروں کا کاروبار کو قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ اپنے اس کام کو بطور تنہا مالک جاری رکھ سکتی ہے لیکن اس کو اپنے اس کام کو بڑے پیمانے پر کرنے کے لئے زیادہ روپیوں کی ضرورت تھی ۔ اس کے والد نے اسے مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے رشتے کے ایک بھائی کو شریک کاروبار بنائے جس سے اس کی مزید سرمائے کی ضرورتیں بھی پوری ہوں گی اور ذمہ داریوں اورکاروبار کے خطرات میں بھی کوئی اس کا شریک ہو جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا خیال یہ بھی تھا کہ ہو سکتا ہے کاروبار مزید ترقی کرے ا ور اسے ایک کمپنی کی تشکیل کی ضرورت پڑے۔ اب اسے طے کرناتھا کہ اسے کس قسم کی کاروباری تنظیم کو قائم کرنی چاہئے؟

2.1تعارف

اگر کوئی شخص ایک کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے یا موجودہ کاروبار کی توسیع کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے کاروبار کی قسم کے انتخاب کے بارے میں اہم فیصلہ لینا ہوگا۔ موزوں ترین قسم کا تعین اپنی ضروریات کے پیش نظر ہر طرح کی تنظیم کی خوبیوں اور خامیوں کی جانچ کرکے کیا جاتا ہے۔

کاروباری تنظیم کی مختلف قسمیں جن میں سے کسی ایک موزوں قسم کا انتخاب کیا جاسکتا ہے:

(a) تنہاملکیت

(b) مشترکہ ہندو خاندان کاروبار

(c) شراکت داری

(d) امداد باہمی کی سوسائٹی اور

(e) مشترکہ سرمایہ کمپنی

آئیے ہم اپنی گفتگو کا آغاز تنہا ملکیت سے کریں جو کہ کارباری ادارے کی سب سے سادہ قسم ہے۔ بعد ازاں ہم اداروں کی زیادہ پیچیدہ اقسام کا تجزیہ کریں گے۔

2.2  تنہا ملکیت

کیا آپ اکثر شام میں اپنے پڑوس کی چھوٹی اسٹیشنری کی دکان سے رجسٹر، قلم، چارٹ پیپر وغیرہ خریدنے جانتے ہیں ؟ اغلب یہ ہے کہ آپ اپنے ان تمام سودوں کو کرنے کے دوران دوکان کے اصل مالک کے ساتھ رابطے میں آئے ہیں ۔

تنہا ملکیت، کاروباری تنظیم کی ایک عام شکل ہے اور یہ چھوٹے کاروباروں کی نہایت موزوں قسم ہے خصوصاً جب کہ وہ اپنے کام کے ابتدائی برسوں میں ہوں۔ تنہا ملکیت سے مراد کاروباری ادارے کی ایک ایسی شکل ہے جس کی ملکیت ، انتظام اور کنٹرول ایک فردِ واحد کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ حاصل ہونے والے تمام منافع کا تن تنہا مالک ہوتا ہے لیکن تمام نقصانات بھی اسی کوبرداشت کرنے ہوتے ہیں۔ تنہا ملکیت کی اصطلاح سے ہی اس بات کااظہار ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا کاروبار ہے جس کا مالک فردِ واحد ہوتاہے ۔کاروبار کی یہ شکل شخصی خدمات کے میدان جیسے بیوٹی پالر، حجام کی دکان اور چھوٹے پیمانے کے کام جیسے کسی علاقہ میں خردہ فروشی کی دکان چلانا وغیرہ عام ہیں۔

خصوصیات

تنہا ملکیت  والی تنظیموں کی اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں:

(i)تشکیل اور خاتمہ:   تنہا ملکیت کے کاروبار کے لئے کوئی علیحدہ قانون نہیں ہے۔ تنہا ملکیت والے کاروبار کو شروع کرنے کے لئے قانونی کارروائی کی بمشکل ہی کہیں پڑتی ہوتی ہے اگر چہ چند صورتوں میں محض ایک لائسنس ہی لینا پڑسکتا ہے۔تنہا ملکیت کے کاروبار کے لیے کوئی علیحدہ قانون نہیں ہے۔ کاروبارآسانی سے بند بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اس قسم کے کاروبار کے قیام اور خاتمہ دونوں میں آسانی ہوتی ہے۔

(ii)دین داری: تنہا مالکان کی ذمہ داری غیر محدود ہوتی ہے یعنی کاروباری نقصانات کی شکل میں جب کہ کاروباری قرض کو کاروباری اثاثوں سے پورا نہیں کیا جاسکتاہے تو تنہا مالکان کو قرض کی ادائیگی کے لئے اپنے ذاتی اثاثے جیسے ذاتی کار وغیرہ بھی فروخت کرنے پڑ سکتے ہیں۔فرض کیجئے کوئی تنہا ملکیت ڈرائی کلینر کی دکان کے بند ہونے کے وقت اس کی کل بیرونی دین داریاں 80,000روپے ہیں جب کہ اس کے اثاثے صرف 60,000روپے کے ہیں توایسی صورتحال میں مالک کو 20,000روپے اپنے ذاتی وسائل سے لانے ہونگے، چاہے اسے اپنی ذاتی جائیداد بھی فرم کے قرض کی ادائیگی کے لئے فروخت کرنی پڑے۔


تنہا تاجر، کا روباری اکائی کی وہ قسم ہے جہاں ایک شخص کاروباری تنظیم کو درپیش خطرات کو برداشت کرنے اور سرمائے کی فراہمی کے لئے  تنہاذمہ دار ہوتا ہے۔

جے۔ ایل ۔ ہینسن

انفرادی ملکیت والی کاروباری تنظیم کی وہ قسم ہے جس  کا سربراہ ایک فردِ واحد ہوتا ہے جو کہ  کاروبار کے کاموں کی رہنمائی کرتا ہے اور ناکامی کے  خطرہ کے لئے بھی تن تنہا ذمہ دار ہوتا ہے۔

ایل ۔ایچ۔ ہینے


(iii)تنہا خطرات برداشت کرنے اور منافع حاصل کرنے والا:
 تنہا مالک کو کاروبار کی ناکامی کے خطرے کو تن تنہا برداشت کرنا ہوتا ہے ۔ بہر حال اگر کاروبار میں کامیابی ہوتی ہے تب مالک ہی تمام منافع کا حقدا رہوتا ہے۔ یہ تمام منافع اس کے ذریعہ اٹھائے گئے خطرات کے لئے راست انعام بن جاتے ہیں۔
(iv)کنٹرول : کاروبار چلانے اور تمام فیصلوں کو لینے کا حق  تنہا مالک کو ہوتاہے۔ وہ دوسروں کی مداخلت کے بغیر اپنے منصوبوں پر عمل کرسکتا ہے۔
(v)علیحدہ تشخص کا نہ ہونا: قانون کی نظر میں تنہا تاجر اور  کاروبار کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاتی کیونکہ کاروبار کی مالک سے کوئی علیحدہ شناخت نہیں ہوتی، اس لئے مالک کو کاروبار کی تمام سرگرمیوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرا یا جاتا ہے۔
(vi)کاروباری تسلسل کا فقدان : کیونکہ مالک اور اس کے کاروبار کا تشخص یکساں ہوتا ہے اس لئے تنہا مالک کی موت، پاگل پن ، بیماری ،یا دیوالیہ ہونے کا بلا واسطہ اثر کاروبار پر پڑتا ہے اور یہاں تک کہ یہ کاروبار کے خاتمہ کا سبب بھی ہوسکتا ہے۔

خوبیاں 

تنہا ملکیت کے کئی فوائد ہیں۔ان میں سے چند اہم فوائد حسب ذیل ہیں:
(i)فوری فیصلہ سازی:  تنہا تاجر کو کاروباری فیصلے لینے کی کافی آزادی حاصل ہوتی ہے مزید یہ کہ فیصلہ سازی جلد ہوتی ہے کیونکہ دوسرے لوگوں سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس سے مارکیٹ کے مواقع سے بروقت فائدہ اٹھانا ممکن ہوتا ہے۔
(ii)کاروباری اطلاعات کا مخفی رہنا: تنہا فیصلہ سازی کا اختیارمالک کو کاروباری کاموں سے متعلق تمام اطلاعات اور رازوں کو پوشیدہ رکھنے کے قابل بناتا ہے ۔ فرم کے کھاتوں کو شائع کرنے کے لئے تنہا تاجر کے لئے قانونی طور پر پابندی نہیں ہے۔
(iii)براہ راست ترغیب: ایک تنہامالک اپنی کوششوں کا بلا واسطہ فائدہ اٹھاتا ہے کیونکہ وہ تمام منافع کا تن تنہا وصول کنندہ اور تنہا مالک ہوتا ہے اس لئے منافع کے بٹوارے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس سے تنہا تاجر کو محنت کرنے کی بھر پور ترغیب ملتی ہے۔
(iv)تکمیل یاکامیابی کا احساس:  اپنے لئے کام کرنے میں ذاتی تسکین شامل ہوتی ہے ۔ جب کسی کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ وہ خود کاروبار کی کامیابی کا ذمہ دار ہے تو یہ بات نہ صرف اسے دلی تسکین پہنچاتی ہے بلکہ اسے کا میابی کے احساس سے بھی نوازتی ہے اور اسے اپنی صلاحیتوں پر مزید اعتماد پیدا  ہوتا ہے۔

(v)تشکیل اور خاتمہ کی آسانی:  تنہا ملکیت کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس طرح کے کاروبار میں آنے کے لئے کم سے کم قانونی کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے تنہا ملکیت کے کاروبار کے لئے کوئی علیحدہ قانون نہیں ہے چونکہ تنہا ملکیت کاروبار کی سب سے کم ضابطہ بند شکل ہے اس لئے اس کو حسب خواہش قائم کرنا اور ختم کرنا آسان ہوتا ہے۔

 ایک تازگی لانے والی شروعات: کو کاکولا کی ابتداء تنہا ملکیت والے کاروبار سے ہوئی تھی !

وہ شے جس نے دنیا کو اس کا سب سے زیادہ جانا پہچانا ذائقہ دیا وہ 8مئی 1986کو اٹلانٹا ،جارجیامیں پیدا ہوئی تھی۔ ڈاکٹر جان اسٹیتھ پیمبرٹن نے جو کہ ایک مقامی دواساز تھے کوکاکولا کا مشروب تیار کیا اور اس نئی شے کا ایک جگ گلی میں موجودجیکب کی دکان ،جیک فارمیسی میں لے گئے جہاں یہ بطور نمونہ پانچ سینٹ فی گلاس سوڈا  فاؤنٹین مشروب کے نام سے فروخت کے لئے رکھی گئی۔ اس کو ایکسلینٹ کا نام دیا گیا۔ ڈاکٹر پیمبرٹن کو اپنے تیار کردہ مشروب میں پوشیدہ قوت کا کبھی احساس نہ ہوا، انہوں نے رفتہ رفتہ اپنے کاروبار کے حصے مختلف شرکاء کو فروخت کرڈالے۔ اور 1988میں اپنی وفات سے ذرا قبل انہوں نے کوکاکولا میں اپنا بقیہ حصہ بھی اسا کینڈلر (Asa.G. Candler)کوفروخت کردیا جو کہ ایک اٹلانٹا کے شہری تھے اور ان میں کافی کاروباری صلاحیت تھی۔ کینڈلر مزید اضافی حقوق خریدتے چلے گئے اور آخر کار انہوں نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔1مئی 1989کو اساکینڈلر نے دی اٹلانٹا جرنل ،میں ایک پورے صفحہ کا اشتہار شائع کیا جس میں انہوں نے اپنے عطاری کے تھوک اور خردہ کاروبار کا کچھ اس طرح اعلان کیا۔ ’’کوکا کولا جو کہ ایک ذائقہ دار ،فرحت بخش، شگفتگی بخش اور قوت بخش کی تنہا ملکیت مشروب‘‘ ہے ۔تنہا ملکیت جو کہ جناب کینڈلر دراصل1891تک حاصل نہیں کرسکے کیونکہ ان کو2300ڈالر کی ضرورت تھی۔
1892میں جناب کینڈ لر نے ایک کمپنی قائم کی جس کو کوکا کولا کارپوریشن کا نام دیاگیا۔
ماخذ: کوکا کولا کمپنی کی ویب سائٹ

حدود

فوائدکے باوجود تنہا ملکیت والی تنظیم کی شکل خامیوں سے مبرا نہیں ہے۔ تنہا ملکیت کی چند اہم بندشیں حسب ذیل ہیں:

(i)محدود وسائل:  تنہا مالک کے وسائل اس کی اپنی بچت اور دوسرے لوگوں سے لئے گئے قرض کی حد تک محدود ہوتے ہیں بینک اور دوسرے قرض دینے والے ادارے تنہا مالک کو طویل مدتی قرض دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے ہی اس طرح کے کاروبار کا حجم شاذ ہی بڑھتا ہے اور عام طور پر چھوٹا رہتا ہے۔ 

(ii)کاروباری تنظیم کی محدود زندگی: قانون کی نظر میں تنہا ملکیت اور اس کے مالک کو ایک ہی مانا جاتا ہے مالک کی موت، دیوالیہ پن یابیماری کا اثر کاروبار پڑتا ہے اس سے کاروبار بند بھی ہو سکتا ہے۔
 (iii)لامحدود ذمہ داری: تنہا ملکیت والے کاروبار کی بڑی خامی مالک کی لا محدود ذمہ داری ہے۔ اگر کاروبارناکام ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں قرض دینے والے اپنا قرض نہ صرف کاروبار کے اثاثوں سے وصول کرتے ہیں بلکہ یہ مالک کے ذاتی اثاثوں سے بھی اپنے قرضوں کی وصولیابی کرسکتے ہیں۔ ایک غلط فیصلہ یا نامناسب صورتحال مالکان کے لئے ایک سنگین مالی بوجھ بن سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ تنہا تاجر کاروبار میں توسیع یا اختراع کرنے کے جو کھم اٹھانے کے لئے کم ہی تیار ہوتا ہے۔ 
(iv)محدود انتظامی صلاحیت: مالک کو مختلف انتظامی کاموں جیسے خریداری ،فروخت ،سرمایہ وغیرہ کی ذمہ داری خود ہی اٹھانی پڑتی ہے ایسا شاذ و نادر ہی ہوتاہے کہ ایک شخص ان تمام میدانوں میں مہارت رکھتاہو۔ اس لئے فیصلہ سازی تمام صورتحالوں میں متوازن نہیں ہوسکتی ۔ تنہا تاجر وسائل کی کمی کے باعث ہنر مند اور پرجوش لوگوں کو ملازمت نہیں دے سکتا اور نہ ہی انھیں روکے رکھ سکتا ہے۔
اگرچہ تنہا ملکیت میں مختلف خامیاں پائی جاتی ہیں پھر بھی کئی تاجر اس کے موروثی فوائد کی وجہ سے اس قسم کی تجارت میں آتے ہیں۔اس میں سرمائے کی کم رقم کی ضرورت ہوتی ہے یہ ایسے کاروباروں کے لئے نہایت موزوں ہے جو کہ چھوٹے پیمانے پر چلائے جاتے ہیں اورجہاں گاہک شخصی خدمات کرتے ہیں۔

2.3مشترکہ ہندوخاندان کا روبار

مشترکہ ہندو خاندان کا روبار ،کاروباری تنظیم کی ایک مخصوص شکل ہے جو کہ صرف ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ ملک میں یہ کاروباری تنظیموں کی ایک سب سے قدیم شکل ہے۔ اس سے مراد کاروباری ادارے کی ایک ایسی قسم ہے جس میں کاروبار کی ملکیت اور دیکھ بھال کا ذمہ غیر منقسم ہندوخاندان کے ممبران کا ہوتا ہے۔ ایسے کاروبار پر ہندوقانون لاگو ہوتا ہے ۔رکنیت ایک مخصوص خاندان میں پیدائش کی بنیاد پر ہوتی ہے اور تین متواتر نسلیں کاروبار میں ممبر بن سکتی ہیں۔
کاروبار کو خاندان کے معمر ترین شخص کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتاہے جو کہ ’’کرتا‘‘ کہلاتا ہے تمام ممبران کو ورثے میں ملی جائیداد پر یکسا ں حق ملکیت حاصل ہوتا ہے اور ان ممبران کو شریک وارث (Co-parceners) کہتے ہیں۔
خاندانی کاروبار کی ممبر شپ پردو قانون لاگو ہوتے ہیں جنہیں ’’دیابھاگا‘‘ اور ’’متاکشارا نظام‘‘ کہتے ہیں۔ ’’دیا بھاگا‘‘ نظام مغربی بنگال میں رائج ہے اور یہ خاندان کے مرد وعورت دونوں طرح کے ممبروں کو شریک وارث ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ متاکشارا نظام مغربی بنگال کو چھوڑ کر تمام ہندوستان میں رائج ہے اور یہ صرف مرد ممبران کو ہی کاروبار میں شریک وارث بننے کی اجازت دیتا ہے۔

خصوصیات

مشترکہ ہندو خاندان کا روبار کی اہم خصوصیات پر ذیل میں روشنی ڈالی گئی ہے:

مشترکہ ہندوخاندان میں جنسی مساوات ایک حقیقت 

ہندو وراثت (ترمیمی) ایکٹ 2005کے مطابق مشترکہ ہندو خاندان کی لڑکی وراثت میں شریک وارث بن گئی ہے۔ ایسے مشترکہ ہندو خاندان کی وراثت کی تقسیم کے وقت موروثی املاک ،تمام شریک وراثت میں بلا جنسی امتیاز (مرد یا عورت ) کے یکساں (مرد یا عورت) کرتا بنے گا۔ مشترکہ ہندو خاندان میں شادی شدہ لڑکی کا بھی جائیداد میں مساوی حق ہوتا ہے۔ 


(i)تشکیل: ایک مشترکہ ہندو خاندان کاروبار کے لئے خاندان میں کم از کم دو ممبران کا ہونا ضروری ہے جو کہ موروثی جائیداد کے وارث ہوں۔ کاروبار کے لئے کسی سمجھوتے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ممبر شپ پیدائشی ہوتی ہے اس پر ہندو ورا ثت قانون 1956 کا اطلاق ہوتاہے ۔
(ii)ذمہ داری: کرتاکے علاوہ تمام ممبران کی ذمہ داری کاروبار کی مشترکہ جائیدا میں اپنے حصے تک محدود ہوتی ہے تاہم کرتا کی ذمہ داری لامحدود ہوتی ہے۔
(iii)کنٹرول : خاندانی کاروبار کا کنٹرول کرتا کے پاس ہوتا ہے۔ وہ تمام فیصلے لیتا ہے اور کاروبار کے انتظام کا اختیار رکھتا ہے دوسرے تمام ممبر اس کے فیصلوں کے پابند ہوتے ہیں۔
(iv)تسلسل: کاروبار ،کرتا کی موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے کیونکہ اگلا عمر رسیدہ ممبرکرتا  کی جگہ لے لیتا ہے اور کاروبار کے تسلسل کو قائم رکھتا ہے ۔کاروبار کا خاتمہ ممبران کی باہمی رضا مندی سے کیا جاسکتا ہے۔
خوبیاں
مشترکہ ہندوخاندان کے کاروبار کی خوبیاں مندرجہ ذیل ہیں:
(i)مئوثر کنٹرول : فیصلہ سازی کا مکمل اختیارکرتا کے پاس ہوتا ہے اس وجہ سے ممبران کے درمیان تنازعات پیدا نہیں ہوپاتے کیونکہ کوئی بھی اس کے فیصلہ لینے کے حق میں دخیل نہیں ہوتا ۔ اس کے نتیجے میں لچک دار او ربروقت فیصلہ سازی بھی ہوتی ہے۔
(ii)کاروبارکے وجود میں تسلسل :’ کرتا‘کی موت سے کاروبار متاثر نہیں ہوتا کیونکہ اگلا معمر ممبر اس کے مقام کو لیے لیتا ہے اس طرح کاروباری کاموں کا خاتمہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کاروبار کے تسلسل کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
(iii)ممبران کی محدود ذمہ داری:’کرتا‘کے علاوہ تمام شریک وارثوں کی ذمہ داری کاروبار میں ان کے اپنے حصہ تک محدود ہوتی ہے اور نتیجتاً ان کے ممکنہ جوکھم اور خطرے کا تعین واضح طور پر ہوتا ہے ۔
(iv)بڑھتی وفاداری اور تعاون : چونکہ کاروبار ایک ہی خاندان کے رکن چلا تے ہیں اس لئے ایک دوسرے کے تئیں زیادہ وفاداری کا جذبہ پایا جاتا ہے اور کاروبار کی ترقی خاندانی افتخار سے جڑی ہوتی ہے۔ اس سے تمام ممبران سے بہتر باہمی تعاون حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

حدود

مشترکہ ہندو خاندان کی حدود مندرجہ ذیل ہیں:
(i)محدود وسائل: مشترکہ ہندو خاندان کے کاروبار کو محدود سرمائے کی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ اس طرح کا کاروبار زیادہ ترموروثی جائیداد پرمنحصر ہوتا ہے جس کی وجہ سے کاروبار کی توسیع کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے۔
(ii)کرتاکی لامحدود ذمہ داری:  کرتا پر نہ صرف یہ کہ فیصلہ سازی اور کاروبار کے انتظام کی ذمہ داری کابوجھ ہوتا ہے بلکہ اس 

شراکت داری ایسے لوگوں کے درمیان تعلق کو کہتے ہیں جو کہ سمجھوتہ کرنے کے اہل ہوں او رجو کہ باہمی طور پر ایک قانونی کاروبار کو ذاتی فائدے کی غرض سے چلانے پر رضا مند ہوگئے ہوں۔

(ایل۔ ایچ۔ ہینے)

شراکت داری ایسے لوگوں کے درمیان وجود پاچکا رشتہ ہے جو کسی کاروبار میں اپنی جائیداد ،محنت یا ہنر مندی کو یکجا کرنے پر اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع کو آپس میں تقسیم کرنے پر رضا مند ہوگئے ہوں۔

’’دی انڈین کانٹریکٹ ایکٹ‘‘



کو لامحدود دین داری کی پریشانی کا سامنابھی کرنا پڑتاہے۔ کاروباری قرض کی ادائیگی کے لئے اس کی ذاتی جائیداد کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔
(iii)کرتا کا غلبہ: کرتا انفرادی طو پر کاروبار کا انتظام کرتا ہے جو کہ بعض اوقات دیگر ممبران کو قبول نہیں ہوتا۔ اس سے ان کے درمیان تنازعات پیدا ہوتے ہیں اوریہاں تک کہ خاندان اکائی میں پھوٹ بھی پڑسکتی ہے اور خاندان ٹوٹ بھی سکتا ہے۔
(iv) محدود انتظامی صلاحیت: چونکہ کرتا  انتظام کے تمام  شعبوں کا ماہر نہیں ہوتا اس لئے اس کے غیر دانش مندانہ فیصلوں کی وجہ سے کاروبار کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ اس کے موثر فیصلہ نہ لے پانے کی وجہ سے منافع میں کمی ہوسکتی ہے اور ادارے کو بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑسکتا ہے۔
مختصریہ کہ مشترکہ ہندوخاندان کا کاروبار ملک میں مشترکہ ہندو خاندانوں کی گھٹتی تعداد کے باعث زوال پذیر ہے۔

 2.4   شراکت داری 

وسعت پذیر کاروبا رکا انتظام کرنے اور اس میں سرمایہ کاری میں موجود اندرونی خامیوں اور نقصانات کی بنا پر ایک قابل مقابلہ متبادل کی شکل میں شراکت داری کے لئے راستہ ہموار ہوتا ہے۔ شراکت داری زیادہ بڑی سرمایہ کاری، متنوع ہنر مندی اور خطرات کو بانٹنے کا ایک راستہ ہے۔
ہندوستانی شراکت داری ایکٹ،1932میں شراکت داری کی تعریف اس طرح ہے ’’ان لوگوں کے درمیان ایسا تعلق ہے جو اس کاروبار کے منافع کو بانٹنے پر رضامند ہوگئے ہیں جسے یہ سب یا ان میں سے کوئی ایک سب کی طرف سے چلائے‘‘

خصوصیات

کاروباری اداروں کی شراکت داری کی درج ذیل اہم خصوصیات کی تعریفیں اوپر دی گئی ہیں۔
(i)تشکیل: شراکت داری کاروبار پر ہندوستانی شراکت قانون 1932(Indian Partnership Act 1932) کا اطلاق ہوتا ہے یہ ایک قانونی معاہدے کے ذریعہ وجود میں آتا ہے۔ جس میں کاروبار کو چلانے کے طریقوں،نفع ونقصان کی تقسیم اورشرکاء کے درمیان آپسی تعلق سے متعلق تمام شرائط اور دفعات کی وضاحت ہوتی ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شراکت داری کا روبار قانونی ہونا چاہیے اور اسے منافع کے مقصد سے کیا جانا چاہیے۔ اس طرح دو لوگ کسی خیراتی مقصد سے  ساتھ ہوئے ہوں تو پھر اسے شراکت داری نہیں کہا جائے گا۔
(ii)ذمہ داری  :  فرم کے شراکت داروں کی ذمہ داری لامحدود ہوتی ہے قرض کی ادائیگی کے لئے اگر کاروباری اثاثے ناکافی  ہوں تو ایسی صورت میں شراکت داروں کے ذاتی اثاثے کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مزید یہ کہ شرکاء مجموعی طور پر اور انفرادی طور پر قرضوں کی ادائیگی کے لئے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ کاروبار میں اپنے حصے کے تناسب سے رقم لگاتے ہیں اس لئے وہ اسی حد تک ذمہ دارٹھہریں گے ۔انفرادی طور پر بھی ہر ایک  شراکت دار کو کاروبار کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے ذمہ دار ماناجاتا ہے ۔ بہرحال ایسا شراکت دار دوسرے شراکت داروں سے شراکت داری کے معاہدے میں درج ذمہ داری کے مطابق مساوی رقم وصول کر سکتا ہے۔
(iii)خطرہ اٹھانا :  شراکت دار کاروبار کو چلانے میں پیش آنے والے خطرات بطور ایک ٹیم کے برداشت کرتے ہیں۔ اس کا صلہ انہیں منافع کی شکل میں ملتا ہے جسے وہ اپنے درمیان ایک متفقہ تناسب میں بانٹ لیتے ہیں۔ فرم کو نقصان ہونے کی صورت میں وہ اس نقصان کو بھی اسی تناسب میں تقسیم کر لیتے ہیں۔
(iv)فیصلہ سازی اور کنٹرول: کاروبار کی روز مرہ کی سرگرمیوں سے متعلق فیصلہ سازی اور ان کے کنٹرول کی ذمہ داری شراکت دار اپنے درمیان تقسیم کرلیتے ہیں ۔فیصلے عموماً باہمی رضا مندی سے لئے جاتے ہیں اس طرح ایک شراکت داری فرم کی سرگرمیوں کا انتظام تمام شرکاء کی اجتماعی کوششوں سے ہوتا ہے۔
(v)تسلسل: شراکت داری کاروبار کی ایک خاصیت اس کے تسلسل میں کمی ہے کیونکہ کسی شریک کی موت، پاگل پن،یا اس کے دیوالیہ یا ریٹائر ہونے سے کاروبار کا خاتمہ ہوجاتا ہے بہرحال اگر باقی بچے شرکاء کاروبار کو جاری رکھنا چاہیں تو وہ ایک نئے معاہدے کی بنیاد پر ایسا کرسکتے ہیں۔
(vi)شراکت داروں کی تعداد: شراکت داری میں فرم شروع کرنے کے لئے کم از کم دو شراکت داروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمپنیز ایکٹ 2013کی دفعہ 464کے مطابق شراکت داری کی فرم میں شراکت داروں کی زیادہ سے زیادہ تعدا دحکومت کے ذریعہ مجوزہ تعداد کے مطابق 100ہو سکتی ہے ۔ کمپنیز (متفرقات) ، رولز 2014کے ضابطہ 10کے مطابق ممبران کی زیادہ سے زیادہ تعداد فی الحال 50ہو سکتی ہے۔ 
(vii)باہمی ایجنسی : شراکت داری کی تعریف اس حقیقت پر  روشنی ڈالتی ہے کہ یہ ایک ایسا کاروبار ہے جو تمام شرکاء مل کر چلاتے ہیں یا ان میں سے کوئی ایک ان سب کی طرف سے چلاتا ہے دوسرے الفاظ میں ہر شراکت دار،اصل اور ایجنٹ دونوں ہوتا ہے اور مالک بھی ۔ وہ دوسرے شراکت دار کا ایجنٹ ہوتا ہے کیونکہ وہ ان کی نمائندگی کرتا ہے اور اپنے کسی عمل سے انہیں پابند کر سکتا ہے وہ بھی ایک مالک (Principal)ہوتا ہے کیونکہ وہ خود بھی دوسرے شرکاء کے عمل کا پابند ہوسکتا ہے۔

خوبیاں

شراکت داری فرم کے فوائد کی درج ذیل نکات وضاحت کرتے ہوں:
(i)تشکیل اور خاتمہ میں آسانی:  شراکت داری میں بنی فرم کو بہ آسانی تشکیل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے اہل شرکاء کے درمیان ایک معاہدے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں وہ ایک فرم کے کاروبار کو چلانے اور خطرات میں حصہ داری پر رضا مند ہوتے ہیں۔ فرم کا رجسٹریشن کرنا بھی لازمی نہیں ہے اور فرم کا خاتمہ بھی ایک آسان کام ہوتا ہے۔
(ii)متوازن فیصلہ سازی: شراکت دار اپنی مہارت کے مطابق مختلف کاموں کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ایک فرد کو مختلف کاموں کی دیکھ بھال نہیں کرنی ہوتی۔ اس سے نہ صرف کام کے بوجھ میں کمی ہوتی ہے بلکہ فیصلہ سازی میں ہونے والی غلطیوں کی گنجائش بھی کم رہتی ہے نتیجتاً فیصلے زیادہ متوازن ہوتے ہیں۔
(iii)زیادہ فنڈ : شراکت داری والے کاروبار میں کئی شراکت دار سرمایہ لگاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تنہا ملکیت کے کاروبار کی بہ نسبت شراکت داری میں فنڈکی بڑی رقم یکجا کرنا ممکن ہوتا ہے او رحسب ضرورت اضافی کام بھی کئے جاسکتے ہیں۔
(iv)خطرات میں حصہ داری: شراکت داری فرم کو چلانے میں پیش خطرات میں تمام شرکاء حصہ دار ہوتے ہیں۔ اس سے انفرادی شراکت دار کی پریشانیوں اور بوجھ میں کمی ہوتی ہے۔
(v) رازداری: ایک شراکت داری فرم کے لئے اپنے کھاتوں کو شائع کرنا اور اپنی رپورٹ پیش کرنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے لہٰذاایسی فرم اپنے کاموں سے منسلک تمام اطلاعات کو مخفی رکھ سکتی ہے۔

حدود

(i)غیر محدود ذمے داری: اگر فرم اثاثہ قرض کی ادائیگی کے لئے ناکافی ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شراکت داروں کو اپنے ذاتی وسائل سے ان کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے چونکہ شراکت داروں کی ذمہ داری انفرادی اور مشترکہ دونوں طرح کی ہوتی ہے اس لئے یہ ایسے شراکت داروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے جن کے پاس زیادہ ذاتی دولت ہے کیونکہ اگر کوئی ایسی صورت سامنے آتی ہے جس میں دوسرے شراکت دار فرم کے قرضات کی ادائیگی کے قابل نہیں ہوتے ہیں توپھر انھیں پورا قرض چکانا پڑتا ہے۔
(ii)محدود وسائل: چونکہ شراکت داروں کی تعداد پر پابندی ہوتی ہے اس لئے لگایا گیا سرمایہ، سرمایہ کاری کے لحاظ سے عموماً بڑے پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے کافی نہیں ہوتا ۔نتیجتاً شراکت داری والے فرم کو ایک خاص حجم سے زیادہ توسیع نہ کرپانے کے مسئلہ کا سامنا رہتا ہے ۔
(iii)جھگڑے اور اختلافات کا امکان: شراکت داری لوگو ں کے ایک گروپ کے ذریعہ چلائی جاتی ہے جس میں فیصلہ سازی کے اختیار میں حصہ داری ہوتی ہے ۔چند مسائل پر اختلاف رائے شراکت داروں کے درمیان تنازعات پیدا کرسکتا ہے ۔ مزید یہ کہ ایک حصہ دار کے فیصلوں کے دوسرے تمام شریک پابند ہوتے ہیں اس لئے کسی ایک کا غیر دانش مندانہ فیصلہ دوسرے تمام حصہ داروں کے لئے مالی بربادی کے نتیجہ میں نکل سکتا ہے۔اگر ایک شرکت دار فرم کو چھوڑنا چاہتا ہے تو پوری شراکت داری ختم ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں ملکیت کی منتقلی پر پابندی ہوتی ہے ۔
(iv)تسلسل کا فقدان : کسی بھی شراکت دار کی وفات، پاگل پن ، دیوالیہ یا ریٹائر ہونے سے شراکت داری کا خاتمہ ہوجاتا ہے کیونکہ شراکت داری کو باہمی رضا مندی سے کسی وقت بھی ختم کیا جاسکتا ہے ۔ اس  سے اس میں تسلسل ختم ہوتا ہے ،تاہم باقی ماندہ شراکت دار نیا معاہدہ کر کے کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔
(v)عوامی اعتماد کی کمی: شراکت داری فرم کو قانوناً اپنی مالی رپورٹوں کو شائع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی نہ ہی اسے متعلقہ اطلاعات کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کے لئے فرم کی حقیقی مالی حالت کا پتہ چلانا مشکل ہوتا ہے اسی لئے شراکت داری فرم میں عوام کا اعتماد عموماً کم ہوتا ہے۔

2.4.1شراکت داری کی اقسام

 شراکت داری میں چلنے والے فرم میں اپنی مختلف ذمہ داریوں اور کرداروں کے ساتھ مختلف طرح کے شراکت دار ہوسکتے ہیں ان کے حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح طور پر سمجھنے کے لئے ان کی اقسام کو سمجھنا ضروری ہے ان کی اقسام مندرجہ ذیل ہے:
(i)سرگرم شرکت دار: ایک سرگرم شرکت دار فرم میں سرمایہ لگاتا ہے اس کے انتظام میں حصہ لیتا ہے ،نفع اور نقصان میں حصہ دار ہوتا ہے اور فرم کے قرض خواہوں کی جانب اس کی ذمہ داری لامحدود حد تک ہوتی ہے یہ شرکاء دوسرے شراکت داروں کی طرف سے فرم کے کاروبار کو چلانے میں حقیقی طور پر حصہ لیتے ہیں۔
(ii)غیر متحرک یا خوابیدہ شرکت دار: شراکت دارجو کاروبار کے روز مرہ کے کاموں میں حصہ نہیں لیتے، خوابیدہ شراکت دار کہلاتے ہیں۔ ایک خوابیدہ شریک بہر حال فرم میں سرمایہ لگاتا ہے۔ اس کے نفع اور نقصان میں حصہ دار ہوتا ہے اور ا سکی ذمہ داریاں لامحدود ہوتی ہے۔
(iii)پوشیدہ شراکت دار: ایک پوشیدہ شراکت دار وہ ہوتا ہے جس کا فرم کے ساتھ تعلق عام لوگوں کے علم میں نہیں ہوتا اس امتیازی خاصیت کے علاوہ دیگر تمام پہلوؤں میں وہ بقیہ شراکت دار کی طرح ہی ہوتا ہے۔ وہ فرم میں سرمایہ لگاتاہے ، انتظام میں حصہ لیتا ہے ، اس کے نفع اور نقصان میں حصہ دار ہوتا ہے اورقرض خواہوں کے تئیں لامحدود ذمہ داری رکھتا ہے۔
(iv)برائے نام شراکت دار: برائے نام شراکت دار وہ ہوتے ہیں جنہیں کاروبار میں توکوئی دلچسپی نہیں ہوتی نہ اس میں سرمایہ کاری کر تے ہیں لیکن فرم میں اپنا نام شامل کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ انہیں انتظامیہ میں حصہ لینے کا حق ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے شراکت دار کی طرح وہ بھی فرم کے قرضوں کے ادا کرنے کے لئے ذمہ دارہوتے ہیں۔
(v)ظاہری (Estoppel) شراکت دار:  ایک شخص کواس صورت ظاہری شراکت دار میں مانا جاتا ہے اگر کسی عمل یا برتاؤ سے دوسرے لوگوں پر یہ اثر پڑتا ہے کہ وہ فرم کا ایک شراکت دار ہے۔ ایسے شراکت دار کو فرم کے قرض کے لئے ذمہ دار ٹھہرا یا جاتا ہے کیونکہ کسی تیسرے فریق کی نگاہ میں وہ فرم کے شرکا ہی خیال کئے جاتے ہیں حالانکہ وہ نہ تو فرم میں سرمایہ لگاتے ہیں اور نہ ہی اس کے انتظام میں حصہ لیتے ہیں۔ فرض کیجئے، رانی، سیما کی دوست ہے جو کہ ایک سافٹ ویئر فرم سمپلیکس سالیوشن(Simplex Solution) میں شراکت دار ہے۔ سیما کی درخواست پر رانی بھی موہن سافٹ ویئر کے ساتھ ایک تجارتی میٹنگ میں اس کے ساتھ جاتی ہے اور ایک تجارتی سودے کے لئے بات چیت کے عمل میں سرگرم حصہ لیتی اور یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ بھی سمپلیکس سالیوشن میں ایک شراکت دار ہے ۔ اگر مانا جائے کہ اس بات چیت کی بنیاد پر سمپلیکس سالیوشن کو قرض دیا گیا تو ایسے قرض کی ادائیگی کے لئے رانی بھی ذمہ دار ہوگی کیونکہ اس نے خود کو فرم میں شراکت دار کی حیثیت سے پیش کیا۔
(vi) یقین دلانے والا شراکت دار : ایک یقین دلانے والا شریک وہ ہوتا ہے جو کہ فرم میںشریک نہیں ہوتا لیکن جان بوجھ کر فرم میں ایک شریک کی حیثیت سے خود کو پیش کرائے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ ایسے اظہار کی بنیاد پر اگر فرم کو کوئی قرض دیا گیا ہے تو قرض کی ادائیگی کے لئے یہ شریک بھی ذمہ دار ہوجاتا ہے ۔ ایسی صورت میں جب کہ وہ واقعی شراکت دار نہیں ہے اور خود کو ایسے لین دین سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو پھر اسے فوراً ایک تردید نامہ جاری کرنا چاہئے جس میں وہ فرم میں اپنے شریک نہ ہونے کی وضاحت کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو وہ کسی ایسے قرض کے لئے تیسرے فریق کی جانب ذمہ دار ہوگا۔

 2.4.2   شراکت داری کی قسمیں

مدت اور ذمہ داری کی بنیاد پر شراکت داری کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے ۔مدت کی بنیاد پر شراکت داری کی دو قسمیں ہیں—  خوشی سے شراکت داری اور مخصوص شراکت داری۔ذمہ داری کی بنیادپر بھی شراکت داری کی دو قسمیں ہیں : 
ایک ہے محدود ذمہ داری کے ساتھ شراکت داری اور دوسری شراکت داری لامحدود ذمہ داری کے ساتھ ہوتی ہے۔

مدت کی بنیاد پر درجہ بندی

(i) خوشی ؍ مرضی کی شراکت داری: ایسی شراکت داری کا وجو د شراکت دار کی مرضی پر ہوتاہے اس کامطلب ہے کہ ایسی شراکت داری اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب کبھی کوئی شریک ایسا کرنے کا نوٹس دیتا ہے۔
(ii)مخصوص شراکت داری: مخصوص پروجیکٹ کو پورا کرنے کے لئے جو شراکت داری تشکیل کی جاتی ہے اسے مخصوص شراکت داری کہا جاتا ہے مثلاً ایک عمارت کی تعمیر یا کسی معینہ مدت تک کے لئے کسی کام کی انجام دہی وغیرہ۔ جیسے ہی کام پورا ہوجاتا ہے یا جب معینہ مدت ختم ہوجاتی ہے، شراکت داری خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔

جدول 2.1شراکت داروں کی مختلف اقسام 


Capture5

جدول 2.1 شراکت داروں کی مختلف اقسام

قسم سرمایہ میں حصہ انتظام نفع ونقصان میں حصہ داری ذمہ داری
شراکت دار سرمایہ لگاتاہے انتظام میں حصہ لیتاہے نفع و نقصان میں حصہ دار ہوتا ہے لامحدود ذمہ داری
خوابیدہ شراکت دار سرمایہ لگاتا ہے انتظام میں حصہ نہیں لیتا نفع و نقصان میں حصہ دار ہوتا ہے لامحدود ذمہ داری
برائے نام شراکت دار سرمایہ نہیں لگاتا انتظام میں  حصہ  لیتا ہےلیکن پوشیدہ طور پر
عموماً نفع ونقصان میں حصہ دا ر نہیں ہوتا لامحدود ذمہ داری
ظاہری شراکت دار  سرمایہ نہیں لگاتا انتظام میں حصہ نہیں لیتا نفع ونقصان میں حصہ دار نہیں ہوتا  لامحدود ذمہ داری
یقین دلانے   سرمایہ نہیں لگاتا انتظام میں حصہ نہیں لیتا نفع ونقصان میں حصہ دار نہیں ہوتا لامحدود ذمہ داری

نابالغ بطور ایک شراکت دار

شراکت داری، دو لوگوں کے درمیان ایک قانونی معاہدے پر مبنی ہوتی ہے جو ایک کاروبار کے نفع یا نقصان میں حصہ داری کرنے پر رضا مند ہوتے ہیں۔ یہ کاروبار ان کے ذریعہ چلایا جاتا ہے کیونکہ ایک نابالغ دوسرے کے ساتھ معاہدہ کرنے کا اہل نہیں ہوتا اس لئے وہ کسی فرم میں ایک شراکت دار نہیں بن سکتا۔ دوسرے تمام شراکت داروں کی باہمی رضامندی سے ایک نابالغ کو شراکت داری فرم کے فوائد میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی ذمہ داری  فرم میں اس کے ذریعہ لگائے گئے سرمائے تک ہی محدود ہوگی۔ وہ فرم کی انتظامیہ میں سرگرم حصہ لینے کے قابل نہیں ہوگا۔ اس طرح ایک نابالغ صرف نفع میں حصہ دار ہوسکتا ہے اس لئے نقصان برداشت کرنے کے لئے نہیں کہا جاسکتا ہے۔ پھر بھی اگر وہ چاہے تو فرم کے کھاتوں کی جانچ کرسکتا ہے۔ نابالغ کے بالغ ہونے پر اس کی حیثیت تبدیل ہوجاتی ہے۔ بالغ ہونے پر دراصل اس کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا وہ فر م میں شراکت دار بنارہے یا نہیں۔ اس لئے چھ ماہ کے اندر اپنے فیصلہ کا ایک عوامی نوٹس دینا پڑتا ہے۔ اگر وہ دیئے گئے وقت میں ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے تو پھر اسے فرم کا پوری طرح سے شراکت دار مانا جائے گا۔ اور وہ دوسرے شراکت داروں کی طرح فرم کے قرضوں کے لئے لامحدود حد تک ذمہ دار بن جائے گا۔

دین داری کی بنیاد پردرجہ بندی

(i)
عا م شراکت داری: عام شراکت داری میں شرکاء کی ذمہ داری لامحدود اور مشترکہ ہوتی ہے۔ شرکاء کو فرم کے انتظام میں حصہ لینے کا حق حاصل ہوتا ہے اور ان کے کئے گئے کاموں کی فرم پابند ہوتی ہے اور وہ بھی ایک دوسرے کے ذریعہ انجام دیئے گئے کاموں کے پابند ہوتے ہیں ۔فرم کا رجسٹریشن کرانا اختیاری ہوتا ہے ۔فرم کا وجود شراکت داروں کی موت، پاگل پن، دیوالیہ اور ریٹائر ہونے سے متاثر ہوتا ہے۔
(ii) محدود شراکت داری: محدود شراکت داری میں کم ازکم ایک شراکت دار کی ذمہ داری لامحدود ہوتی ہے جب کہ باقی تمام  شراکت داروں کی ذمہ داری محدود ہوتی ہے ایسی شراکت داری کا خاتمہ محدود شراکت داروں کی موت پاگل یا دیوالیہ ہونے سے نہیں ہوتا، محدود شراکت داروں کو انتظام میں حصہ لینے کا حق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اپنے کاموں سے فرم کو یا دوسرے شراکت داروں کو پابندبناتے ہیں ایسی شراکت داری کا کو رجسٹریشن کرانا لازمی ہوتا ہے۔
ہندوستان میں پہلے اس قسم کی شراکت داری کی اجازت نہیں تھی۔ 1991میں نئی چھوٹے انٹر پرائیز پالیسی کے نفاذکے بعد محدود ذمہ داری رکھنے والی شراکت داری فرموں کی تشکیل کی اجازت دی گئی۔ ایسے اقدام کے پس پشت خیال چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے تاجروں کے دوستوں اور رشتہ داروں سے شراکت داری فرم کے لئے حصص اور سرمایہ حاصل کرنا تھا جو کہ شراکت داری کی عام قسم میں لامحدود ذمہ داری کی شق کے باعث ایسی شراکت داری میں تعاون کرنے سے ہچکچاتے تھے۔

 2.4.3  شراکت نامہ 

شراکت داری ایسے لوگوں کی رضا کارانہ انجمن ہے جو مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے یکجا ہوئے ہوں۔ شراکت داری کی تشکیل کے لئے تمام شرائط و ضوابط کے تعین کے بعد شرکاء کے  مابین اس کے تمام پہلوؤں سے متعلق ایک واضح معاہدے کا ہونا ضروری ہے تاکہ بعد میں شرکاء کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ ایسا معاہدہ تحریری اور زبانی بھی ہوسکتا ہے تاہم  تحریری معاہدہ ضروری نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی تحریری معاہدہ کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ ان تمام شرائط کا ثبو ت ہوتا ہے جن پر شرکاء کے درمیان رضا مندی ہوتی ہے۔ تحریری معاہدہ جو کہ شراکت داری پر لاگو ہونے والی شرائط اور دفعات کی وضاحت کرتا ہے، شراکت نامہ کہلاتا ہے۔
شراکت نامہ میں عموماً درج ذیل شرائط اور دفعات شامل ہوتی ہیں:
فرم کانام
کاروبار کی جگہ اور اس کی نوعیت
کاروبار کی مدت
ہر ایک شرکت دار کے ذریعہ کی گئی سرمایہ کاری
نفع اور نقصان کی تقسیم
شراکت داروں کے فرائض اور ذمہ داریاں
شراکت داروں کی تنخواہ اور رقم کی نکاسی 
شراکت دار کے داخلے ،ریٹائیر منٹ اور اخراج سے متعلق شرائط 
اصل سرمایہ اور کاروبار سے نکالے جانے والے پیسہ پر سود
فرم کے خاتمہ کا طریقۂ عمل 
کھاتوں کی تیاری اور ان  کا احتساب (Auditing)
تنازعات کے حل کا طریقہ

2.4.4رجسٹریشن

شراکت داری کے رجسٹریشن سے مراد فرمو ں کے رجسٹرار کے  دفتر میں رکھے فرموں کے رجسٹر میں فرم کا نام معہ طے کردہ تفصیلات درج کرانا ۔ یہ شراکت داری فرم کو اس کے وجود کاپختہ ثبوت فراہم کرتا ہے۔
 شراکت داری والی فرم کا رجسٹریشن اختیاری ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی شراکت داری فرم خود کو درج رجسٹرڈ نہیں کراتی ہے تو پھر یہ کئی فوائد سے محروم رہ جاتی ہے۔ فرم کے رجسٹرڈ نہ کرانے کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں:

پرائس واٹر ہا ؤس کو پرس سے پہلے ایک شراکت داری فرم تھی

پرائس واٹر ہائوس جو دنیا کی ایک اعلی ترین اکاؤنٹینسی فرم ہے اس کا قیام 1998میں دو کمپنیوں کے انضمام سے عمل میں آیا۔ یہ دو کمپنیاں پرائس واٹر ہاؤس کو پر س اور یسبرانڈ تھیں جن کی تاریخی جڑیں  150سال قبل انیسویں صدی کے ملک برطانیہ سے جڑی ہوئی تھیں۔ 1850میں سیموئل لویل پرائس نے اپنے اکاؤنٹینسی کے کاروبار کو لندن میں قائم کیا تھا۔ 1865میں ولیم ایچ ہولی لینڈ اور ایڈون واٹرہاؤس نے اس کے ساتھ شراکت داری شروع کی۔ پھر جیسے جیسے فرم کا فروغ ہوا اس کے پیشہ وارانہ عملہ کے قابل ممبران شراکت داری میں شامل ہوتے گئے۔ 1800کے اواخر میں پرائس واٹر ہاؤس نے ایک اکاؤنٹنگ فرم کی حیثیت سے کافی پہچان بنالی۔ 
ماخذ : کولمبیایونیورسٹی میں پرائس واٹر ہاؤس کو پرس کی تاریخی دستاویزات امداد باہمی، ادارے کی ایک ایسی شکل ہے جس میں لوگ اپنے معاشی مفادکے فروغ کے لئے مساوات کی بنیا دپر بطور انسان آپس میں مل کر ایک رضا کارانہ انجمن تشکیل دیتے ہیں۔
ای۔ ایچ۔ کالورٹ
امداد باہمی تنظیم ایک ایسی سوسائٹی ہے جس کے مقاصد امداد  باہمی اصولوں کے مطابق اپنے ممبران کے معاشی مفادات کوفروغ دینا ہوتے ہیں ۔

ہندوستان کا امدادِ باہمی سوسائٹیز ایکٹ1912

(a) غیر رجسٹری شدہ فرم کا شراکت دار اپنے حقوق کے لئے فرم یا شراکت داروں کے خلاف عدالت میں قانونی چارہ جوئی نہیں کرسکتا۔
(b) غیر رجسٹر شدہ فرم کسی تیسرے فریق کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کرسکتی۔
(c) ایسی فرم اپنے کسی شراکت دار کے خلاف بھی مقدمہ دائر نہیں کرسکتی۔
ان تنائج کے پیش نظر فرم کودرج رجسٹرڈ کروانا چاہئے۔ ہندوستانی شراکت داری قانون 1932کے مطابق شرکاء کو فرم کا رجسٹریشن اس ریاست کے فرمو ں کے رجسٹرار کے دفتر میں کروانا چاہئے جہاں کہ فرم واقع ہے۔ رجسٹریشن فرم کے قیام کے وقت بھی کروایا جاسکتا ہے یا اس کی زندگی میں کسی وقت بھی۔ فرم کودرج رجسٹر کرانے کا طریقۂ کار حسب ذیل ہے:
مجوزہ فارم پر درخواست لکھ کر فرموں کے رجسٹرار کے یہاں جمع کرنا۔ درخواست میں مندرجہ ذیل تفصیلات شامل ہونی چاہئیں:
فرم کا نام 
فرم کا محل وقوع
دوسرے مقامات کے نام جہاں فرم کا روبار چلاتی ہے
ہر شریک کی فرم میں شمولیت کی تاریخ
شراکت داروں کے نام اور پتے
•شراکت داری کی مدت
اس درخواست پر تمام شراکت دار کے دستخط ہونے چاہئیں۔
فرموں کے رجسٹرار کے یہاں مطلوبہ فیس جمع کرنا
رجسٹرار درخواست منظو رکرنے کے بعد فرموں کے رجسٹر میں اندراج کرے گا اور اس کے بعد رجسٹریشن سے متعلق سند جاری کردے گا۔

2.5  امداد باہمی کی سوسائٹی

امدادِ باہمی لفظ کا مطلب ایک مشترک مقصد کے لئے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔
امدادِ باہمی کی سوسائٹی ایسے لوگوں کی ایک رضاکارانہ انجمن ہوتی ہے جو ممبران کی فلاح بہبود کے مقصد سے آپس میں ایک دوسرے سے مل جائیں۔ ان کا مقصد اپنے معاشی مفاد کا تحفظ ہوتا ہے کیونکہ وہ خود کو ایسے بچولیوں کے ہاتھوں بچانا چاہتے ہیں جو کہ بہت زیادہ منافع کمانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ امدادِ باہمی  کی سوسائٹی کو امداد باہمی سوسائٹیز قانون1912کے تحت درج رجسٹر کرانا لازمی ہوتا ہے۔ امداد باہمی سوسائٹی کو قائم کرنے کا عمل نہایت سادہ ہے۔ ایک ایسی سوسائٹی کو تشکیل دینے کے لئے کم از کم دس بالغ لوگوں کی رضا مندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوسائٹی کے لئے سرمایہ، ممبران کو حصص جاری کرکے حاصل کیا جاتا ہے رجسٹریشن کے بعد سوسائٹی ، امتیازی قانونی شناخت حاصل کرلیتی ہے۔

خصوصیات

امدادِ باہمی کی سوسائٹی کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
(i)
رضا کارانہ ممبر شپ: امدادِ باہمی سوسائٹی کی رکنیت رضاکارانہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص امدادِ باہمی سوسائٹی میں شریک ہوسکتا ہے اور حسب خواہش کسی بھی وقت اس سے علیحدہ ہوسکتا ہے وہ کسی بھی طرح سوسائٹی میں شامل ہونے یا اس سے الگ ہونے کے لئے مجبور نہیں ہوتا۔ حالانکہ اس کے لئے سوسائٹی کا ممبر بنے رہنا لازم نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ اگر سوسائٹی کو چھوڑ نا چاہتا ہے تواسے طریقۂ کارکے مطابق سوسائٹی کو چھوڑنے سے قبل نوٹس دینا ہوتا ہے۔ ممبر شپ مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر ہر ایک کے لئے کھلی ہوتی ہے۔ 
(ii)
قانونی درجہ: امدادِ باہمی کی سوسائٹی کا رجسٹریشن کرانا لازمی ہوتا ہے۔ رجسٹریشن سے سوسائٹی کو اپنے ممبران سے الگ قانونی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ سوسائٹی اپنے نام سے معاہدے بھی کرسکتی ہے اور جائیداد بھی رکھ سکتی ہے اس پر مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے اور یہ دوسروں پر مقدمہ دائر کرسکتی ہے۔ ایک الگ قانونی تشخص ہونے کی وجہ سے اس پر ممبران کے داخلے یا ان کے اخراج کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
(iii)محدود ذمہ داری: امدادِ باہمی سوسائٹی کے ممبران کی ذمہ داری ان کے ذریعہ لگائے گئے سرمایہ کی حد تک ہی محدود ہوتی ہے۔ اس سے اس زیادہ سے زیادہ خطرہ کا تعین ہو جاتا ہے جو کہ ممبر کو برداشت کرنے کے لئے کہا جا سکتا ہے۔
(iv)کنٹرول : امدادِ باہمی سوسائٹی میں فیصلے لینے کا اختیار منتخب انتظامیہ کمیٹی کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ ووٹ دینے کا حق ممبران کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ان اراکین کا انتخاب کریں جو انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل کریں گی۔ اس کے نتیجہ میں امدادِ باہمی سوسائٹی کو جمہوری کردار ملتا ہے۔
(v)خدمت کی محرکات : امدادِ باہمی سوسائٹی اپنے مقصد کے تحت باہمی تعاون اورفلاح وبہبودپر زور دیتی ہے، اس لئے اس کے کاموں پر خدمت کا مقصد غالب رہتا ہے ۔اگر اس کو اپنے کاموں کے نتیجہ میں کچھ اضافی فائدہ ہوتا ہے تو اس کو ممبران کے درمیان ڈیویڈینڈ(منافع) کی شکل میں بطور تقسیم کردیا جاتا ہے۔

خوبیاں

امدادِ باہمی سوسائٹی اپنے ممبران کو کافی فوائد پہنچاتی ہے۔ امدادِ باہمی تنظیم کے چند فوائد حسب ِ ذیل ہیں:
(i)ووٹ دینے کا مساوی حق: امدادِ باہمی سوسائٹی’ ایک آدمی ایک ووٹ‘ کے اصول پر کام کرتی ہے۔ ایک ممبر کے ذریعہ کی گئی سرمایہ کاری کی رقم سے قطع نظر ہر ممبر کومساوی حق رائے دہی حاصل ہوتی ہے۔
(ii)محدود ذمہ داری: امدادِ باہمی سوسائٹی کے ممبران کی ذمہ داری ان کے ذریعہ لگائے سرمائے کی حد تک محدود ہوتی ہے اس لئے ممبران کا ذاتی اثاثہ کا روباری قرض کی ادائیگی میں استعمال کئے جانے سے محفوظ ہوتا ہے۔
(iii)وجود کااستحکام: امدادِ باہمی سوسائٹی پر ممبر کی موت، پاگل پن یا دیوالیہ ہونے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اس لئے ایک سوسائٹی ممبرشپ میں ہونے والی کسی بھی طرح کی تبدیلی سے متاثر ہوئے بغیر کام کرتی رہتی ہے۔
(iv)کام میں معیشت : سوسائٹی کے  ممبررضا کارانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس میں بچولیوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ جس سے لاگت میں کمی آتی ہے۔ صارفین اور پیداکار دونوںہی چونکہ سوسائٹی کے ممبر ہوتے ہیں اس لئے قرض کے ڈوبنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
(v)حکومت کی پشت پناہی: امدادِ باہمی سوسائٹی جمہوریت  کے تصورات کی مثال پیش کرتی ہے اس لئے حکومت امدادِ باہمی سوسائٹی کو کم شرح سود پر قرضہ ،مالی رعایتوں(سبسڈی)کی فراہمی اور ٹیکسوں میں کمی کی شکل میں مدد بہم پہنچا ہے۔
(vi)تشکیل میں آسانی: امدادِ باہمی کی شروعات کم از کم 10ممبروں کی جاسکتی ہے۔ اس کے رجسٹریشن کا عمل بھی سادہ ہوتا جس میں محض چند قانونی کاروائیاں شامل ہوتی ہیں۔ اس کی تشکیل پر امدادِ باہمی سوسائٹیز ایکٹ 1912 کا اطلاق ہوتا ہے۔

حدود

امداد باہمی، تنظیم کی وہ شکل ہے، جس میں درج ذیل خامیاں پائی جاتی ہیں:
(i)محدود وسائل: امدادِ باہمی سوسائٹی کے وسائل میں سرمایہ لگانے والے اراکین کے محدود وسائل شامل ہوتے ہیں۔ ان سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری پر دیے جانے والے کم شرح کے ڈیویڈ ینڈ منافع کی وجہ سے بھی یہ سوسائٹیاں نہ تو زیادہ ممبر شپ کرپاتی ہیں اور نہ ہی موجودہ ممبران سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرپاتی ہیں۔
(ii)غیر موثر انتظام: امدادِ باہمی سوسائٹیاں ماہر منیجروں کو ملازمت پر نہیں رکھ پاتیں کیونکہ وہ ان کوزیادہ تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ ممبران جو کہ رضاکارانہ بنیاد پر بلا تنخواہ خدمات انجام دیتے ہیں وہ عموماً انتظامی کاموں کو موثر طریقہ  سے انجام دینے کی پیشہ ورانہ صلاحیت نہیں رکھتے ۔
(iii)راز داری کا فقدان:ممبران کی میٹنگ میں کھل کربات چیت اور سوسائٹیز ایکٹ (7)کے مطابق تمام تفصیلات کے اظہارکے لازمی ہونے کے نتیجہ میں امداد باہمی سوسائٹی کے لئے اپنے کاموں کی راز داری قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔
(iv) سرکاری کنٹرول: حکومت کے ذریعہ دی گئی مراعات کے بدلے میں امداد باہمی کی سوسائٹیوں کو اپنے کھاتوں کی آڈیٹنگ ،کھاتے پیش کرنے وغیرہ سے متعلق چند اصول وضوابط پر باقاعدگی سے عمل کرنا لازم ہوتا ہے۔ریاستوں کے امداد باہمی کے محکمہ کی جانب سے امداد باہمی تنظیم کے کاموں میں کی جانے والی مداخلت، ا س کے کام کرنے کی آزادی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
(v)اختلاف رائے: اختلاف رائے کے نتیجہ میں رونما ہونے والے اندرونی جھگڑے فیصلہ سازی میں مشکلات پیدا کرتے ہیں، ذاتی مفادات خدمت کے مقصد پر غالب آنے لگتے ہیں۔ جب چند ممبران ذاتی فائدے کو ترجیح دینے لگتے ہیں تب دوسرے ممبران کے فوائد پس پشت چلیجاتے ہیں۔

2.5.1  امداد باہمی سوسائٹیوں کی اقسام

سرگرمیوں کی نوعیت کی بنیاد پر امداد باہمی سوسائٹیوں کی خاص اقسام مندرجہ ذیل ہیں:
(i)
صارفین کی امداد باہمی سوسائٹیاں: صارفین کی امدادِ باہمی سوسائٹیاں، صارفین کے مفادات کے تحفظ کی خاطر بنائی جاتی ہیں ۔اس کے ممبران ایسے صارفین ہوتے ہیں جو بہترمعیار کی اشیاء کو واجب قیمتوں پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سوسائٹی کا مقصد کام کاج میں کفایت حاصل کرنے کے لئے بچولیوں کا خاتمہ کرناہوتاہے ۔ یہ بڑی تعداد میں براہ راست تھوک فرشوں سے اشیاء کی خریداری کرتی ہیں اور ممبران کو اشیاء کی فروخت کرتی ہیں۔ اس طرح یہ بچولیوں کا خاتمہ کردیتی ہیں۔ اگر کچھ منافع ہوتا ہے تو اس کو ممبران کے درمیان ان کے لگائے گئے سرمائے کی بنیاد پر یا ان کے ذریعہ انفرادی طور پر کی گئی خریداری کی بنیاد پر تقسیم کردیا جاتا ہے۔
(ii)
پیدا کاروں کی امداد باہمی سوسائٹیاں: یہ سوسائٹیاں چھوٹے پیدا کاروں کے مفاد کے تحفظ کے لئے قائم کی جاتی ہیں اس کے ممبران ایسے پیدا کار ہوتے ہیں جو صارفین کی مانگوں کو پورا کرنے کے لئے اشیا کی پیداوار کے لئے خام مال حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سوسائٹی کا مقصد بڑے سرمایہ کاروں سے مقابلہ کرناہوتا ہے۔ اور چھوٹے پیداکاروں کی سودے بازی کی قوت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے یہ سوسائٹیاں ممبران کو خام مال ،آلات اوردیگر ساز وسامان فراہم کرتی ہیں اور ان کی پیداوار کی فروخت کے لیے خریداری بھی کرتی ہیں۔ منافع ممبران کے درمیان یا تو پیدا کی گئی تمام اشیاء میں ان کے حصہ کی بنیاد پر یا سوسائٹی کے ذریعہ فروخت کی بنیاد پر تقسیم کردیا جاتاہے۔


امول (Amul)کی حیرت انگیز امداد باہمی کی سرگرمی

امول کسانوں سے ہر روز 447000لٹیر دودھ اور 2.12ملین اکٹھا کرتا ہے جن میں کئی ناخواندہ ہوتے ہیں۔ پھر اس دودھ کوڈبہ یا تھیلی بند کی اشیاء میں تبدیل کرتاہے اور 6کروڑ روپے کی مالیت کی اشیاء کو پورے ملک میں000, 500سے زائد خردہ دکانوں تک پہنچاتا ہے۔
اس سب کی ابتداء 1946میں کسانوں کے ایک گروپ نے کی تھی۔ جو کہ خود کو بچولیوں کے چنگل سے چھڑانا چاہتے تھے اور بازاروں تک اپنی پہنچ بڑھا کر اپنی محنت کازیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ آنند نامی گاؤں میں واقع کھیڑاڈسٹرکٹ ملک کی کوآپرٹیویونین (جو کہ امول کے نام سے جانی جاتی ہے) نے بڑے پیمانے پر وسعت حاصل کی ۔ اس نے دودھ کی دوسری امداد باہمی تنظیموں کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا۔ گجرات نیٹ ورک کے دائرے میں 2.12ملین کسانوں،10411دیہاتی سطح پر دودھ اکٹھا کرنے والے مراکز اور 14ڈسٹرکٹ سطح کے پلانٹوں پر پھیلا ہوا ہے مختلف پلانٹوں کے ذریعہ پیدا کی جانے والی دودھ کی اشیاء کے لیے امول مشترکہ برانڈ ہے یہ اشیاء ہیں: رقیق دودھ ،دودھ کا پائوڈر ،مکھن، گھی،پنیر ،کوکوسے تیار کردہ اشیا، مٹھائیاں ،آئس کریم اورکنڈیسنڈ دودھ۔امول کے ذیلی برانڈوں میں شامل ہیں:امول اسپرے، اَمولیہ، اور نورامل وغیرہ۔
ماخذ: پنکج چھابڑا کے ریڈیف ڈاٹ کام،بزنس اسپیثل۔
(iii)امدادِ باہمی مارکیٹنگ سوسائٹیز: ایسی سوسائٹیاں چھوٹے پیداکاروں کو ان کے مال کی فروخت میں مدد دینے کے لئے قائم کی جاتی ہیں۔ اس کے ممبران وہ پیداکار ہوتے ہیں جو کہ اپنے مال کی واجب قیمت حاصل کرنا چاہتے ہیں، سوسائٹی کا مقصد بچولیوں کا خاتمہ اور اپنے ممبران کی اشیاء کو ایک موافق بازار فراہم کرکے ان کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانا ہوتاہے۔ یہ ممبران کی انفرادی پیداوار کو یک جا کرتی ہیں اور ان کو بہتر ممکنہ قیمت پر فروخت کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ،گوداموں کاانتظام، پیکیجنگ وغیرہ جیسے مارکیٹنگ کے کام انجام دیتی ہیں۔ منافع کا بٹوارہ ممبران کے درمیان پیداوار کے ذخیرہ میں ان کے حصہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔
(iv)کسانوں کی امداد باہمی سوسائٹیاں: یہ سوسائٹیاں کسانوں کے مفاد کے تحفظ کے لئے قائم کی جاتی ہیں اور انہیں واجب لاگت پر خام مال فراہم کراتی ہیں۔ ان کے ممبران ایسے کسان ہوتے ہیں جو اجتماعی طور پر زراعتی سرگرمیاں انجام دینا چاہتے ہیں، ان کا مقصد پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ اور بڑے پیمانے پر کی جانے والی زراعت کے فوائد کا حصول ہوتا ہے ۔یہ سوسائٹیاں فصلوں کی کاشت میں استعمال کے لئے اچھے معیار کے بیج، کھاد، مشینیں اور دوسری جدید تکنیکیں فراہم کرتیں ہیں ۔ اس سے نہ صرف فصل اچھی ہوتی ہے اورکسانوں کو اچھی آمدنی ملتی ہے بلکہ اس سے ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے کھیتوں پر کاشتکاری کرنے کے مسائل بھی حل ہوجاتے ہیں۔



جدول 2.2فورچون گلوبل آر گنائزیشن کی جماعت میں ہندوستانی کمپنیاں


ویب سائٹ  (مابعد (کروڑ
ہندوستان میں رینک گلوبل بینک کمپنی
www.ril.com
5,80,553 1 106
ریلائنس نڈسٹریز لمیٹڈ
www.iocl.com 5,35,793 2 117 انڈین آئیل کارپوریشن لمیٹڈ
www.bharatpetroleum.in 4,36,052 3 160 بھارت پیٹرولیم کارپویشن لمیٹڈ
www.sbi.co.in 3,30,687 4 236 اسٹیٹ بینک آف انڈیا
www.tatamotors.com 3,03,227 5 265 ٹاٹاموٹرزلمیٹ
       قرض دینے والی باہمی سوسائٹیاں: امداد باہمی قرض سوسائٹیاں ممبران کو واجب شرائط پر آسان قرض فراہم کرنے کی غرض سے قائم کی جاتی ہیں۔ ممبران، ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو قرضوں کی شکل میں مالی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سوسائٹیوں کا مقصد ممبران کو ایسے ادھار دینے والوں کو استحصال سے محفوظ رکھناہوتا ہے جو دیئے جانے والے قرضوں پر زیادہ شرح سودوصول کرتے ہیں۔ یہ سوسائٹیاں ممبران کے ذریعہ لگائے گئے سرمائے کی رقم میں سے ان کو قر ض مہیا کرتی ہیں اور کم شرح سود وصول کرتی ہیں۔
(vi) امداد باہمی کی ہاؤسنگ سوسائٹیاں: یہ سوسائٹیاں ایسے محدود آمدنی والے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے قائم کی جاتی ہیں جوواجب لاگتوں پر مکانوں کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ممبران ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کم لاگتو ںپر رہائشی مکان حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
سوسائٹیوں کامقصد مکان تعمیر کرکے ممبران کی رہائش کے مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے ممبران سوسائٹیوں کو قسطوں میں رقم کی ادائیگی کرسکتے ہیں ۔یہ سوسائٹیاں ممبران کے لئے فلیٹ تعمیر کرتی ہیں یا پھر انہیں پلاٹ مہیا کرتی ہیں جن پر ممبران اپنی مرضی کے مطابق مکانات کی تعمیر کرسکتے ہیں۔

2.6 مشترکہ حصص کمپنی

کمپنی ایسے افراد کی انجمن ہوتی ہے ، جو کاروباری سرگرمیاں انجام دینے کے لئے تشکیل کی جاتی ہے ۔ اس کی اپنے ممبران سے علیحدہ قانونی حیثیت ہوتی ہے۔ کمپنی کی وضاحت اس مصنوعی شخص کے طور پر کی جا سکتی ہے ، جس کی علیحدہ آئینی حیثیت ، دائمی تسلسل اور ایک مشترکہ ’’سیل‘‘ ہوتی ہے۔ کمپنی ،ادارے کی وہ شکل ہے جو کمپنیز ایکٹ 2013کے تحت کام کرتی ہے۔ کمپنیز ایکٹ 2013 کی دفعہ 2(20)کے مطابق کمپنی کا مطلب یہ ہے کہ یہ کمپنی اس ایکٹ یا کسی دوسرے سابق کمپنی قانون کے تحت تشکیل پائی ہے ۔ 
کمپنی کے حصص دار ، کمپنی کے مالکان ہوتے ہیں جبکہ کمپنی کا انتظام و انصرام ،حصص داروں کے ذریعہ منتخب بورڈ آف ڈائریکٹروں کے ذریعہ کیا جا تا ہے۔ عام طور پر مالکان کا کاروبار پر بالواسطہ کنٹرول ہوتا ہے۔ کمپنی کے سرمائے کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جا تاہے ،جنہیں حصص کہا جاتا ہے۔ اس حصص کو حصص دار کسی دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے ۔ ایسا پرائیویٹ کمپنیوں میں نہیں کیا جا سکتا۔

خصوصیات

مشترکہ اسٹاک کمپنی کی تعریف میں کمپنی کی درج ذیل خصوصیات  نمایاں ہوتی ہیں:
(i)
مصنوعی شخص: کمپنی ایک قانون کے تحت تشکیل پاتی ہے اور اس کا وجود اپنے ممبران سے علیحدہ ہوتا ہے۔ قدرتی اشخاص کی طرح ہی کمپنی جائیداد رکھ سکتی ہے، قرض دے اور لے سکتی ہے، معاہدے کرسکتی ہے ،اس پر مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے اور یہ دوسروں پر مقدمہ دائر کرسکتی ہے، لیکن یہ قدرتی اشخاص کی طرح نہ تو سانس لے سکتی ہے نہ کھاسکتی نہ دوڑ سکتی اور نہ ہی بات چیت وغیرہ کرسکتی ہے۔ اس لئے ایسے مصنوعی شخص کہا جاتا ہے۔
(ii)علیحدہ قانونی حیثیت: اپنی تشکیل کے دن سے کمپنی اپنے ممبران سے علیحدہ ایک شناخت حاصل کرلیتی ہے۔ اس کے اثاثے اور دین داریاں اس کے مالکان سے الگ علاحدہ ہوتی ہیں۔ قانون، مالکان اور کاروبار کو ایک اور یکساں تسلیم نہیں کرتا۔
(iii)تشکیل: کمپنی کی تشکیل ایک  وقت طلب، مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔ اس کے کام کاج شروع کرنے سے قبل کئی طرح کے دستاویزات کی تیاری اور کئی قانونی ضرورتوں پر عمل د رآمد شامل ہے ۔
(iv)دائمی وراثت: کمپنی،قانون کے تحت تشکیل پانے کی وجہ کمپنی صرف قانون کے ذریعہ ہی ختم کی جاسکتی ہے۔ اس کا خاتمہ ایک خاص طریقہ کارکے ذریعہ ہی کیا جاسکتا ہے جسے سمیٹنا یا وائنڈنگ اپ کہتے ہیں ممبران آسکتے ہیں ممبران جاسکتے ہیں لیکن کمپنی کا وجود قائم رہتا ہے۔
(v)کنٹرول: کمپنی کے معاملات کا انتظام و انصرام اور کنٹرول بورڈ کے ڈائریکٹر ز کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔بورڈ کاروبار چلانے کے لئے اعلیٰ انتظامی افسروں کا تقرر کرتا ہے۔ ڈائریکٹر کی حیثیت انتہائی اہم ہوتی ہے کیونکہ وہ حصص رکھنے والوں کے سامنے کمپنی کی کارکردگی کے لئے جوابدہ ہوتا ہے۔ پھربھی حصص داروں کو کاروبار کے روز مرہ کے کاموںمیں دخل دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا ۔
(vi)
ذمہ داری:  ممبران کی ذمہ داری کمپنی میں ان کے ذریعہ لگائے گئے سرمائے تک ہی محدودہوتی ہے۔ قرض خواہ اپنے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے صرف کمپنی کے اثاثہ استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ قرض دار کمپنی ہوتی ہے نہ کہ ممبران ۔ ممبران سے صرف اس حد تک ہی نقصان میں حصہ لینے کے لئے کہا جاسکتا ہے جس حد تک انہوں نے اپنے حصص پر رقم کی ادائیگی نہیں کی۔ فرض کیجئے اکشے ایک کمپنی میں حصہ دار ہے اس کے پاس2000حصص ہیں جن کی قیمت 10روپے فی حصص ہے۔ اکشے 7روپے فی حصص ادا کرچکا ہے۔ اس کی ذمہ داری کمپنی کے نقصان یا اس کے قرض کی ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں صرف 6000روپے تک ہوسکتی ہے جو کہ اس کے سرمائے کی نہ اداکی گئی رقم ہے (کمپنی 2000حصص پر 3روپے فی حصص) ا س سے زیادہ وہ کمپنی کے نقصانوں یا قرض کی ادائیگی کے لئے ذمہ دار نہیں ہے۔

     سابق کمپنی قانون کا مطلب ہے،جن کا ذکر ذیل میں کیاگیاہے۔
کمپنی سے متعلق ایکٹ جو انڈین  کمپنیز ایکٹ 1866سے قبل نافذ العمل تھے(1866کا شمار 10)
انڈین  کمپنیز ایکٹ 1866(1866کا 10واں ایکٹ)
انڈین  کمپنیز ایکٹ 1882(1882کا چھٹا ایکٹ)
انڈین  کمپنیز ایکٹ 1913(1913کاچھٹا ایکٹ)
منتقل شدہ کمپنیز آرڈیننس  1942کا رجسٹریشن(1942کا آرڈیننس 42)
کمپنیز ایکٹ 1956


(vii)مشترکہ سیل (مہر): کمپنی کے پاس مشترکہ سیل ہو سکتی ہے  یا نہیں ہو سکتی ہے ۔اگر کمپنی کے پاس مشترکہ سیل ہے تو اسے کمپنی  کے معاہدوں جیسے دستاویز پر ثبت کرنا ہوگی ۔ اگر کمپنی کے پاس مشترکہ سیل (مہر) نہیں ہے ۔ تو دستاویز پر دستخط کرنے والا شخص بورڈ کے فیصلوں کے ذریعہ مجاز کیا گیا ہونا چاہئے ۔ 
(viii)
خطرہ اٹھانا: کمپنی کے نقصانا ت کا خطرہ تمام حصہ دار مل کر برداشت کرتے ہیں۔ یہ صورت تنہا ملکیت یا شراکت داری جیسی نہیں ہے جہاں کسی ایک کو یا محض چند اشخاص کو نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ مالی مشکلات کی صورت میں کمپنی کے تمام حصہ دار قرض کی ادائیگی کے لئے کمپنی میں اپنے حصص کی حد تک حصہ لیتے ہیں اس طرح نقصان کا خطرہ حصص داروں کی بڑی تعداد تک پھیلا ہوتا ہے۔

فوائد

کمپنی ادارے کی وہ شکل ہے جس کے کثیر فوائد ہیں۔ ان میں سے چند پر ذیل میں تبادلہ خیال کیا جا تا ہے:  
(i)محدود ذمہ داری: حصہ داران اپنے حصص پر ادانہ کی گئی رقم کی حد تک ہی ذمہ دار ہوتے ہیں کمپنی کے قرضات کی ادائیگی کے لئے صرف کمپنی کے اثاثہ کو ہی استعمال کیا جاسکتا ہے نہ کہ مالکان کی ذاتی جائیداد کو، اس سے ایک سرمایہ کار کو در پیش خطرہ میں کمی ہوتی ہے۔
 
(ii)مفاد کی منتقلی: ملکیت کے تبادلہ میں آسانی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے کے فوائد میں اضافہ کردیتی ہے کیونکہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے حصص کو بوقت ضرورت بآسانی بازار میں فروخت کیا جاسکتا ہے اور نقد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے سرمایہ کاری کے رک جانے سے بچا جا سکتا ہے اور اس وجہ سے کمپنی کے لئے سرمایہ کاری کی ایک موافق راہ کھل جاتی ہے۔
(iii)دائمی وجود: کمپنی کا وجود اس کے ممبران کی موت ،پاگل پن، دیوالیہ یا ریٹائر ہونے سے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ ا س کا اپنے ممبران سے علیحدہ وجود ہوتا ہے۔ اگر اس کے تمام ممبران کی وفات ہوجائے تب بھی کمپنی کا وجود جاری رہے گا۔ اس کا خاتمہ صرف کمپنیز ایکٹ 2013 کی دفعات کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔
(iv)توسیع کاامکان: تنہا ملکیت اور شراکت داری والے ادارے کی بہ نسبت کمپنی کے پاس زیادہ مالی وسائل ہوتے ہیں مزید یہ کہ سرمائے کو نہ صرف عوام سے بلکہ مالی اداروں اور بینکوں سے قرض کی شکل میں بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کمپنی میں توسیع کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ سرمایہ کار حصص میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ کمپنی میں زیادہ منافع کے امکانات ہوتے ہیں، ذمہ داری محدود ہوتی ہے اور ملکیت کی منتقلی کی سہولت ہوتی ہے۔ 
(v)پیشہ وارانہ نظم: کمپنی ماہرین اور پیشہ ور منتظمین کو زیادہ تنخواہیں ادا کرنے کے قابل ہوتی ہے اس لئے  یہ ایسے لوگوں کو ملازم رکھ سکتی ہے جو اپنے کاموں کے میدان میں ماہرہوتے ہیں۔ کمپنی کے کاموں کا پیمانہ کام کی تقسیم کو ممکن بناتا ہے۔ہر شعبہ ایک مخصوص کام کو انجام دیتا ہے اور اس کا سربراہ ایک ماہر شخص ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف کمپنی کی کار گزاری میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ متوازن فیصلہ سازی بھی ممکن ہوتی ہے۔

جدول 2.3:پبلک اورپرائیویٹ کمپنی میں فرق
    نجی کمپنی  عوامی کمپنی     بنیاد     
   کم ازکم  2زیادہ زیادہ200     کم ازکم 7،زیادہ سے زیاد ہ کی کوئی حد نہیں   ممبران کی تعداد  
      کم ازکم دو   تین   ڈائریکٹروں کی کم از کم تعداد  
  لازمی نہیں    لازمی ہے   ممبران کی فہرست 
    منتقلی پر پابندی  کوئی پابندی نہیں  حصص کی منتقلی 
      اپنے تمسکات کی فروخت کے لیے عوام کو دعوت دے سکتی ہے ۔    اپنے حصص یا تمسکات کی فروخت کے لیے عوام کو دعوت دے سکتی ہے ۔  حصص کی عوامی فروخت کی دعوت                                                                                                                                         



حدود

ادارے کی شکل میں کمپنی کی اہم خامیاں حسب ذیل ہوتی ہیں:
(i)تشکیل میں پیچیدگی: کمپنی کی تشکیل میں زیادہ وقت، محنت اور قانونی ضروریات اور طریقۂ کار کا تفصیلی علم درکار ہوتا ہے ۔تنہا ملکیت اور شراکت داری کی بہ نسبت ایک کمپنی کی تشکیل زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
(ii)راز داری کا فقدان: کمپنی قانون کے تحت ہر ایک پبلک کمپنی کے لئے وقتاً فوقتاً کمپنی رجسٹرار کے دفتر میں بہت سی اطلاعات فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسی اطلاعات عوام الناس کے لئے بھی دستیاب ہوتی ہیں۔اس لئے کمپنی کے کاموں کی مکمل رازداری کو بنائے رکھنا مشکل ہوتا ہے۔
(iii)کام کا غیر شخصی ماحول: ملکیت اور انتظامیہ کی علاحدگی ایک ایسی صورتحال پیدا کر دیتی ہے جس میں کمپنی کے افسران کی جانب سے کمپنی کے کاموں میں ذاتی دلچسپی اور کوششوںکی کمی پیدا ہو جاتی ہے ۔کمپنی کا بڑا سائز بھی مالکان اور اعلیٰ انتظامیہ کے لئے اپنے ملازمین ،صارفین اور قرض خواہوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنا مزید مشکل بنادیتا ہے۔
(iv)ضوابط کی کثرت: کمپنی کے کاموں کوکئی قانونی دفعات اور مجبوریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمپنی پر آڈٹ، ووٹنگ، دستاویزات کی تیاری اور ر پورٹیں پیش کرنے جیسے معاملات سے متعلق متعدد پابندیوں کے بوجھ کے علاوہ اسے مختلف ایجنسیوں جیسے رجسٹرار ، سیبی وغیرہ سے کئی طرح کی سندیں بھی حاصل کرنی پڑتی ہیں۔ اس جہ سے کمپنی اپنے کاموں کو آزادی سے انجام نہیں دے پاتی اور اس کا کافی وقت،محنت اورپیسہ بھی صرف ہوجاتا ہے۔
(v)
فیصلہ سازی میں تاخیر: کمپنی کا انتظام جمہوری طور پر بورڈ آف ڈائریکٹر زکے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بعد اعلیٰ، درمیانی اور نچلی سطح کے منتظمین انتظامی امور کو دیکھتے ہیں۔ مواصلات کے علاوہ مختلف تجویزات کی منظوری کی وجہ سے ان پر فیصلے لینے بلکہ ان پر عمل کرنے  پر بھی تاخیر ہوتی ہے۔
(vi) عدیدیہ یا چند ستری انتظامیہ:نظریاتی طور پر کمپنی ایک جمہوری ادارہ ہے جس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز حصص داروں  کے نمائندے ہوتے ہیں جو کمپنی کے مالکان ہوتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر بڑی کمپنیوں میں حصص داروں کی تعداد چونکہ بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے ان کا یعنی مالکان کا کاروبار کے چلانے یا اس پر اختیار رکھنے میں ان کا اثر بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ حصہ داران ملک میں پھیلے ہوتے ہیں اور ان کی بہت تھوڑی تعداد ہی جنرل میٹنگ میں حاضر ہوپاتی ہے۔ ڈائریکٹروں کے بورڈ کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کی کافی آزادی ہوتی ہے لہٰذا وہ بعض اوقات اس کا استعمال حصہ داران کے مفادات کے خلاف کرتے ہیں ۔غیر مطمئن حصص داروں کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے حصص کو فروخت کرکے کمپنی سے رخصت لیں ۔چونکہ ڈائریکٹرز کو تمام اہم فیصلہ لینے کا حق ہوتا ہے اس لئے ایسی صورت حال کو چند نفری حکومت کہا جاتا ہے۔

(vii)مفادات کا ٹکراؤ:کمپنی میں سرمایہ لگانے والے مختلف لوگوں کے مفادات میں ٹکراؤ بھی ہوسکتا ہے مثلاً ملازمین زیادہ تنخواہوں کے لئے ،صارفین کم قیمت پر معیاری اشیاء کے لئے حصص دار ڈیوینڈینڈ کی شکل میں زیادہ منافع اور اپنے حصص کی زیادہ مالیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ایسی مانگیں کمیٹی کے انتظام کے لئے مسئلہ بن جاتی ہیں کیونکہ ایسے مختلف مفادات کی تسکین کر پانا اکثر کافی مشکل ہوتا ہے۔

2.6.1 کمپنیوں کی اقسام

ایک کمپنی پرائیویٹ یا پبلک کمپنی ہو سکتی ہے۔ان دونوں قسموں کی کمپنیوں پر ذیل میں تفصیل سے تبادلۂ خیال ہوگا۔

پرائیویٹ کمپنی 

پرائیویٹ کمپنی اس کمپنی کو کہتے ہیں :
(a) جس میں ممبر کے حصص منتقل کرنے کے حق پر پابندی عائد کرتی ہے ۔
(b) جس میں کم از کم دو اور زائد از زائد 200ممبران ہوتے ہیں جو سابقہ اور موجودہ ملازمین کوچھوڑ کر ہوتے ہیں۔
(c) جو عوام کو حصص یا ڈبنچرز خریدنے کی دعوت نہیں دیتی ۔
نجی کمپنی کے لئے اپنے نام کے آگے پرائیویٹ لمیٹیڈ کا لفظ استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ایک نجی کمپنی مندرجہ بالا دفعات میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کرتی ہے توپھر اس کو ایک نجی کمپنی نہیں مانا جائے گااور وہ حاصل شدہ تمام رعایات اور استثنائی حقوق سے محروم ہو جائے گی۔
پبلک لمیٹڈ کمپنی کے معاملہ میں نجی کمپنی کو حاصل مراعات میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1)پرائیویٹ کمپنی کی تشکیل دوممبروں سے کی جا سکتی ہے جبکہ ایک  پبلک کمپنی کی تشکیل کے لئے سات ممبروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(2) پرائیویٹ کمپنی عوام کو حصص خریدنے کے لئے دعوت نہیں دیتی اس لئے اس کو پراسپیکٹس جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
(3)یہ کم از کم میمری جنس وصول کئے بغیر ہی حصص کا الاٹمنٹ ہو سکتا ہے ۔
(4)پرائیویٹ کمپنی کو صرف دو ڈائریکٹر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پبلک کمپنی کے لئے کم ا زکم تین ڈائریکٹروں کا ہونا لازمی ہے۔
(6)پرائیویٹ کمپنی کے لئے ممبر ان کی فہرست رکھنا ضروری نہیں ہے جبکہ پبلک کمپنی کے لئے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔

پبلک کمپنی 

ایک پبلک کمپنی سے مراد وہ کمپنی ہے جو ایک پرائیویٹ کمپنی نہ ہو۔ ہندوستانی کمپنی قانون کے مطابق ایک پبلک کمپنی وہ ہے۔
(a)جس میں ممبران کی تعداد کم ازکم سات اور زیادہ سے زیادہ ممبران کی کوئی حد مقرر نہ ہو۔
(b)تمسکات کو منتقل کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔
(c) اپنے حصص کو فروخت کرنے کی دعوت دینے پر پابندی نہیں۔
پھر بھی ایک پرائیویٹ کمپنی جو کہ پبلک کمپنی کی ایک شاخ ہے، اسے بھی پبلک کمپنی ہی تصور کیا جائے گا۔

2.7 کاروباری ادارے کی شکل کاانتخاب

کاروباری اداروں کی مختلف اقسام کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ ہر ادارے کی شکل کی کچھ خامیاں اور فوائد ہوتے ہیں اس لئے ایک مناسب شکل کاانتخاب کرنے کے لئے کچھ بنیادی اور اہم باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہوتاہے،ادارے کے انتخاب کو متعین کرنے والے عوامل جدول 2.4میں درج ہیں اوار ذیل میں ان پر گفتگو کی گئی ہے۔

(i) ادارے کی تشکیل کی لاگت اور سہولت:جہاں تک کاروبار تشکیل کرنے کی ابتدائی لاگتوں کا سوال ہے تو تنہا ملکیت والے کسی کاروبار کو شروع کرنے کا نہایت کم خرچیلا طریقہ ہے۔ اس میں کام کرنے کا دائرہ چھوٹا اور قانونی کارروائیاں کم سے کم ہوتی ہیں شراکت داری کی صورت میں بھی کاموں کا دائرہ کم ہونے کی وجہ سے لاگت کم ہوتی ہے اور کارروائیاں بھی کم کرنی پڑتی ہیں،امداد باہمی سوسائٹیوںاور کمپنیوں کو رجسٹر کرانا لازمی ہوتاہے۔ کمپنی کی تشکیل کے لئے مہنگے اور طویل قانونی طریقۂ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ابتدائی لاگتوں کے نقطہ ٔ نظر سے تنہا ملکیت والی ایک ترجیحی شکل ہے کیونکہ اس میں خرچ کم سے کم ہوتا ہے۔اس کے برعکس کمپنی کو شروع کرنے میں لاگت بھی لگتی ہے اور یہ کاروبار کی زیادہ پیچیدہ شکل ہے ۔
(ii) ذمہ داری: تنہا ملکیت اور شراکت داری والی فرموں میں مالکان کی ذمہ داری لامحدود ہوتی ہے۔ اس میں قرضوں کی ادائیگی کے لئے مالکان کی ذاتی جائداد استعمال کی جا سکتی ہے ۔  مشترکہ ہندوخاندان والے کاروبار میں صرف ’’کرتا‘‘کی ذمہ داری لامحدود ۔امداد باہمی اور سوسائٹیوں اور کمپنیوں میں بہر حال ذمہ داری محدود ہوتی ہے اور قرض خواہ صرف کمپنی کے اثاثہ کی حد تک اپنے قرض کی ادائیگی پر زور دے سکتے ہیں۔ اس طرح سرمایہ کاروں کے نقطہ ٔ نظر سے کمپنی، کاروباری تنظیم کی زیادہ موزوں شکل ہے کیونکہ اس میں شامل خطرہ کم سے کم ہوتا ہے۔

جدول 2.4کاروباری ادارے کے انتخاب کو متاثر کرنے والے عوامل 

 کم سے کم مفید  زیادہ سے زیادہ مفید عوامل 
 تنہا ملکیت  کمپنی  سرمائے کی دستیابی
  کمپنی  تنہا ملکیت  تشکیل کی لاگت  
 کمپنی    تنہا ملکیت تشکیل میں آسانی
  شراکت داری  (کمپنی (پرائیویٹ کمپنی کو چھوڑکر )  ملکیت کی منتقلی 
   تنہا ملکیت     کمپنی انتظامی ہنرمندی
  کمپنی  تنہا ملکیت ضوابط 
  کمپنی   تنہا ملکیت  لچیلاپن 
  تنہا ملکیت  کمپنی تسلسل
   تنہا ملکیت    کمپنی  ذمہ داری 

                                            
37

جدول  2.5 تنظیم کے ارتقاکے تقابلی طوروطریقہ

تقابلی بنیاد تنہاملکیت شراکت داری مشترکہ ہندوخاندان امدادباہمی سوسائیٹی کمپنی
تشکیل کم از کم قانونی کاروائیاں۔سب سے آسان تشکیل رجسٹریشن ضروری نہیں آسان تشکیل
کم قانونی کاروائیاں رجسٹریشن سے مستثنیٰ آسان تشکیل رجسٹریشن لازمی زیادہ قانونی کاروائیاں رجسٹریشن لازمی تشکیل کامہنگااورطویل عمل
ممبران صرف مالک کم از کم ۔2زیادہ سے زیادہ بینک کاری 10 دیگر20 خاندانی جائدادکے بٹوارے کے لیے کم ازکم  لوگ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حدنہیں کم ازکم۔10بالغ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حدنہیں کم از کم۔نجی کمپنی۔2 عوامی کمپنی۔7 سے زیادہ سے زیادہ نجی کمپنی۔لامحدود
لگایاگیاسرمایہ محدودسرمایہ محدودلیکن تنہاملکیت کی نسبت زیادہ موروثی جائیداد محدود وسیع مالی وسائل
ذمہ داری لامحدود لامحدوداوراجتماعی لامحدود (کرتا) محدوددیگرممبران محدود محدود
کنٹرول اورانتظام تمام فیصلے مالکان لیتے ہیں،فوری فیصلہ سازی فیصلے شرکا لیتے ہیں تمام شرکاکی رضامندی کی ضرورت ہے کرتا فیصلے لیتاہے منتخب نمائندگان جوکہ انتظامیہ کمیٹی کوتشکیل دیتے ہیں،فیصلے لیتے ہیں۔ ملکیت اورانتظامیہ میں علاحدگی
تسلسل غیرمستحکم کاروباراورمالک کوایک ہی ماناجاتاہے زیادہ مستحکم لیکن شرکاکی حیثیت سے متاثرہوتاہے مستحکم کاروبارکرتاکی موت کے بعدبھی جاری رہتاہے مستحکم علاحدہ قانونی حیثیت کی وجہ سے مستحکم کی علاحدہ قانونی حیثیت کی وجہ سے

(iii)تسلسل:تنہا ملکیت اور شراکت داری والی فرموں میں کاروبار کا تسلسل مالکان کی موت،پاگل پن،یا دیوالیہ ہونے کی صورت میں متاثر ہوتاہے۔لیکن مشترکہ ہندو خاندان کاروبار، امداد باہمی سوسائٹیوں اورکمپنیوں کی صورت میں کاروبار کا تسلسل ایسے عوامل سے متاثر نہیں ہوتا۔اگر کاروبار کو ایک دائمی ڈھانچہ کی ضرورت ہے تو اس کے لئے کمپنی زیادہ موزوں شکل ہے۔قلیل مدتی کاروبار کے لئے ملکیت یا شراکت داری کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
(iv)انتظامی قابلیت:ایک تنہا تاجر کے لئے انتظام سے متعلق تمام کاموں میں مہارت رکھنا دشوار ہوتا ہے۔شراکت داری اور کمپنی جیسے دوسرے کاروباری اداروں کی صورت میں ایسا مسئلہ نہیں ہوتا۔ایسے اداروں میں ممبران کے درمیان کام کی تقسیم منتظمین کو مخصوص میدانوں میں ماہر بنا دیتی ہے۔جس سے بہتر فیصلہ سازی ممکن ہوتی ہے لیکن اس سے لوگوں کے درمیان اختلاف رائے کے باعث تنازعات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر ادارے کے کام پیچیدہ نوعیت کے ہیں اور ان کو انجام دینے کے لئے پیشہ ورانہ انتظامیہ کی ضرورت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کمپنی ایک بہتر متبادل ہے۔لیکن ایسے کاروبار جہاں کام سادہ ہوتے ہیں او ر کاروبار کو محدود صلاحیت کے لوگ چلا سکتے ہیں تو اس صورت میں تنہا ملکیت یا شراکت داری موزوں ہو سکتی ہے۔اس طرح کاموں کی خاصیت اور پیشہ ورانہ انتظامیہ کی ضرورت بھی کاروباری شکل منتخب کرنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
(v)سرمائے سے متعلق غوروفکر:کمپنیاں بڑی تعداد میں سرمایہ کاروں کو حصص جاری کر کے کافی سرمایہ اکٹھاکرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔شراکت داری فرموں کو بھی تمام شرکاء کے وسائل کو یکجا کرنے کا فائدہ حاصل رہتا ہے۔ لیکن تنہا ملکیت کے وسائل محدود ہوتے ہیں اس طرح بڑے پیمانے پر کاروبار کرنے کے لئے کمپنی ہی موزوں ہوتی ہے جب کہ درمیانی اور چھوٹے پیمانے کے کاروبارکے لئے شراکت داری اور تنہا ملکیت کو اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ توسیع کے نقطہ ٔ نظر سے کمپنی توسیعی منصوبوں میںسرمایہ کاری کرنے اور زیادہ فنڈ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا موزوں ادارہ ہے۔ٹھیک اسی مقصد سے ہمارے ابتدائی معاملے میں نیہا کے والد نے اسے مشورہ دیا تھا کہ اسے اپنے ادارے کو کمپنی کی شکل میں تبدیل کرلینا چاہیے۔
 (vi)کنٹرول کی حد:اگر کاروبار کے کاموں پر براہ راست کنٹرول اور مکمل فیصلہ سازی کے اختیار کی ضرورت ہے تو ایسی صورت میں تنہا ملکیت کو ترجیح دی جا سکتی ہے ۔لیکن اگرمالکان کنٹرول اور فیصلہ سازی میں حصہ داری کی پرواہ نہیں کرتے تب شراکت داری یا کمپنی کی شکل کی تنظیم کو اپنایا جا سکتا ہے۔مالکان اورانتظامیہ میں مکمل علاحدگی کمپنی کے معاملات کے انتظام کے لیے بیرونی پیشہ ور لوگوں کا تقرر کیا جا تا ہے۔
(vii)کاروبار کی نوعیت:تنہا ملکیت اس صورت میں زیادہ موزوں ہوتی ہے جہاں صارفین سے براہ راست ذاتی  رابطہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے پنساری کی دکان۔لیکن بڑی صنعتی اکائیاں جہاں صارفین سے براہ راست ذاتی تعلق کی ضرورت نہیں ہوتی وہاں کمپنی کی شکل کے ادارے کو اپنایا جا سکتا ہے۔اسی طرح جہاں پیشہ ورانہ نوعیت کی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے وہاں شراکت داری کی شکل زیادہ موزوں ہوتی ہے۔
یہاں یہ ذکر کرنا بیجا نہ ہوگاکہ مندرجہ بالا تمام عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کاروبار کی نوعیت اور حجم کے ساتھ ساتھ سرمائے کا حصہ اور خطرات جیسے عوامل بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اسی لئے ایک کاروباری تنظیم جو چھوٹے پیمانے پر چلائی جائے کاروبار کے لیے خطرات کے نقطہ ٔ نظر سے کسی ایک وقت میں موزوں ہو سکتی ہے مگر وہ اسی کاروبار کے لئے دوسرے وقت میں موزوں نہیں ہوتی جب کہ یہ کاروبار بڑے پیمانے پر چلایا جائے ۔اسی لئے کسی کاروباری ادارے کی شکل سے متعلق فیصلہ کرتے وقت تمام عوامل کو مد نظر رکھنا چاہیے۔



2.8 کاروباری اداروں کی مختلف اشکال کی ایک تقابلی تشخیص

اب ہم پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کاروباری اداروں کی مختلف اقسام کیا ہیں اور یہ کس طرح کاروبار کو چلانے اور قائم رکھنے میں مددگار ہوتی ہیں۔اب تک کا تذکرہ ٹکڑوںمیں ہوا ہے جسمیں ادارے کی ہر شکل کی خصوصیات کا تجزیہ ایک ایک کرکے کیا گیا ہے۔جدول 2.5میں ہم اداروں کی مختلف اقسام کا تجزیہ ایک ساتھ کریں گے تاکہ آپ تقابلی بنیاد پر سمجھ سکیں کہ مخصوص خصوصیات کے حوالے سے ایک ادارے کی قسم دوسرے کے مقابلے کیسی ہے۔
اہم اصطلاحات
تنہا ملکیت                     شراکت داری                          مشترکہ ہندو خاندان
باہمی ایجنسی                   امداد باہمی کی سوسائٹیاں               مشترکہ حصص کمپنی
دائمی حق وراثت              مصنوعی شخص                         ہولڈنگ کمپنی
شریک وارث                 کمپنی کی تشکیل

خلاصہ

کاروباری اداروں کی اشکال سے مراد اداروں کی وہ اقسام ہیں جو ملکیت اور انتظامیہ کے حوالے سے مختلف ہوتی ہیں۔ ادارے کی اہم اقسام میں تنہا ملکیت،شراکت داری،مشترکہ ہندوخاندان،امداد باہمی سوسائٹی اور کمپنی شامل ہیں۔

تنہا ملکیت سے مراد کاروباری اداروں کی وہ قسم ہے جس میں کاروبار کی ملکیت،کنٹرول اور انتظام ایک فرد واحد کے ذریعہ انجام دیا  جاتاہے جو تمام خطرات کو برداشت کرتا ہے اور تمام منافع کا مستحق ہوتا ہے۔کاروباری اداروں کی اس قسم کے فوائد میں فوری        فیصلہ سازی، براہ راست ترغیب،ذاتی تسکین،تشکیل اور خاتمہ کی آسانی شامل ہیں۔لیکن اس شکل کے ادارے کی کئی حدود بھی ہیں جیسے محدود وسائل،کاروبار کا غیرمستحکم ہونا ،لامحدود ذمہ داری اور محدود انتظامی صلاحیت۔

شراکت داری کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ یہ دو یا دو سے زیادہ اشخاص کی ایک انجمن ہوتی ہے جو ایک کاروبار کو مل کر چلانے، اس کے خطرات کو برداشت کرنے اور منافع کو باہم تقسیم کرنے پر رضامند ہوتے ہیں۔شراکت داری کے اہم فوائد ہیں:تشکیل اور خاتمہ کی آسانی ،مہارت کے فوائد،زیادہ فنڈ اور خطرات میں کمی۔شراکت داری کی اہم حد میں:شرکاء کی لامحدود ذمہ داری، تنازعات کا امکان،تسلسل اور عوامی اعتمادکی کمی ہوتی ہے ۔شراکت دار مختلف قسم کے ہوتے ہیں،جیسے سرگرم،خوابیدہ،پوشیدہ ، نام کے شرکا ہوتے ہیں۔اسی طرح شراکت داری بھی کئی طرح کی ہوسکتی ہے جیسے عام شراکت داری،محدود شراکت داری،مرضی کی شراکت داری اور مخصوص شراکت داری۔

مشترکہ ہندو خاندان  کاروبار وہ کاروبار ہوتا ہے جوایک غیرمنقسم ہندو خاندان کی ملکیت ہوتا ہے اور اس کے ممبران کے ذریعہ چلایا جاتاہے۔اس پر ہندو قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔خاندان کا معمر ترین مرد جو کہ’’ کرتا‘‘ کہلاتا ہے، کاروبار کو کنٹرول کرتا ہے ۔
مشترکہ ہندوخاندان کاروبار کے فوائد میں:موثر کنٹرول ،مستحکم وجود،محدود ذمہ داری اور خاندان کے ممبران کے درمیان زیادہ وفاداری لیکن اس قسم کے ادارے کی چند خامیاں بھی ہیں جیسے محدود وسائل،ترغیب کی کمی،کرتا کی حکمرانی اور محدود انتظامی صلاحیت شامل ہے۔
 امداد باہمی سوسائٹی لوگوں کی ایک رضاکارانہ انجمن ہے جو کہ مل جل کر جو اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔امداد باہمی سوسائٹی کے اہم فوائد میں ووٹ کے مساوی حقوق،ممبران کی محدود ذمہ داری،مستحکم وجودسرگرم معیشت حکومت کی مدد اور تشکیل میں آسانی ہوتی ہے۔لیکن اس قسم کے ادارے میں خامیاں بھی ہوتی ہیں جیسے ان کے وسائل محدود ہوتے ہیں، انتظامیہ میں نااہلی رہتی ہے، رازداری کا فقدان ہوتا ہے ، وہ سرکاری کنٹرول میں ہوتی ہیں اور سوسائٹی کا انتظام و انصرام کس طرح ہونا چائیے اس معاملہ میں ممبران کے درمیان اختلاف ہوتا ہے ۔ مختلف اقسام کی سوسائٹی کے ممبران کے مقاصد اور نوعیت کی بنیاد پر جس ادارے کی تشکیل ہوتی ہے ان میں صارفین کی امداد باہمی کی سوسائٹی ، پیداکاروں کی امداد باہمی سوسائیٹی ،مارکیٹنگ امداد باہمی سوسائٹی ،مسافروں کی امداد باہمی سوسائیٹی ،قرض دینے والی امداد باہمی سوسائٹی اور امداد باہمی ہاؤسنگ سوسائٹی شامل ہے۔ 
کمپنی کی تعریف میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک مصنوعی شخص ہوتا ہے جو صرف قانون کی نظر میں دائمی حق وراثت کے ،علاحدہ اپنی علیحدہ قانونی شناخت کمپنی کے فوائد ہیں جہاںممبران کی محدود ذمہ داری،مفادات کی منتقلی،مستحکم وجود،توسیع کے مواقع اور پیشہ ورانہ انتظامیہ ہوتی ہے وہیںا س کی اہم خامیاں ہیں:تشکیل میں پیچیدگی،رازداری کمی،غیر شخصی کا موں کا ماحول،متعدد ضوابط،فیصلہ سازی میں تاخیر،عدیدیہ انتظام اور مختلف شراکت داروں کے مفادات متصادم ہوتے ہیں۔
کمپنیاں دو قسم کی یعنی پرائیویٹ اور پبلک ہو سکتی ہیں۔پرائیویٹ کمپنی وہ ہوتی ہے جو اپنے حصص کی منتقلی پر پابندی عائد کر تی ہے اور اپنے تمسکات کی خریداری کے لئے عوام کو دعوت نہیں دیتی۔دوسری طرف پبلک کمپنی عوام کو اپنے تمسکات کی خریداری کی دعوت دیتی ہے اور اس طرح اپنا سرمایہ جمع کرتی ہے۔مزید یہ کہ پبلک کمپنی میں تمسکات کی منتقلی پر کوئی پابندی نہیں ہوتی ۔
 کاروباری ادارے کا انتخاب:  مناسب ادارے کا انتخاب مختلف عوامل کو مد نظر رکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ابتدائی لاگت،ذمہ داری ، تسلسل مالی ضروریات،انتظامی صلاحیت،کاروبار کی نوعیت اورکنٹرول وہ اہم عوامل ہیں جن کو مد نظر رکھ کر ہی موزوں کاروباری ادارے کے بارے میں فیصلہ لیا جاتا ہے۔

مشقیں

مختصر جوابی سوالات 

.1 مشترکہ ہندو خاندان کا روبار میں ایک نابالغ کی حیثیت کا موازنہ شراکت داری والی فرم میں نابالغ کی حیثیت سے کریں۔
.2 اگر خود کو درج رجسٹر کرانا اختیاری ہے تو پھر شراکت داری والی فرمیں، خوشی سے یہ قانونی کارروائیاں پوری کرکے،خود کو کیوں درج رجسٹر کراتی ہیں؟ وضاحت کریں۔
.3 پرائیویٹ کمپنی کو دستیاب اہم مراعات بیان کریں۔
.4 امداد باہمی کی سوسائٹیاں ،کس طرح جمہوریت اور سیکولرزم کی مثال پیش کرتی ہے؟ وضاحت کریں۔
.5 ظاہری شراکت دار ( Estoppel)کے کیا معنی ہیں؟ وضاحت کریں۔ 
.6 درج ذیل اصلاحات کو اختصار سے بیان کریں:
(a) دائمی وراثت /تسلسل (b)مشترکہ سیل(مہر)
(c) کرتا (d)  مصنوعی شخص

طویل جوابی سوالات

تنہا ملکیت فرم سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟اس کی خوبیوں اور خامیوں کی وضاحت کیجیے۔
شراکت داری کو چند لوگ کاروباری ملکیت کی نسبتاً غیر مقبول شکل کیوں مانتے ہیں ؟شراکت داری کی خوبیوں اور خامیوں کی وضاحت کیجیے۔
کاروباری ادارے کی ایک مناسب شکل کا انتخاب کیوں ضروری ہے؟کاروباری ادارے کی شکل کے انتخاب  کے عوامل پر بحث کیجیے۔
امداد باہمی سوسائٹیوں کی خصوصیات، خوبیوںاور حدود پر بحث کیجئے اور امداد باہمی اداروں کی مختلف قسموں کی مختصراً تشریح بھی کیجئے۔
5 ۔ شراکت داری اور مشترکہ ہندو خاندان کاروبار کے درمیان تفریق کیجیے۔
کئی لوگ تنہاملکیت کو اس کے سائز اور وسائل کی خامیوں کے باوجود اداروں کی دوسری اقسام پر ترجیح دیتے ہیں کیوں؟

عملی وضع کے سوالات 

1 کاروبار ی ادا رے کی کس قسم میں کسی ایک مالک کے ذریعہ کیا گیا تجارتی معاہدہ، دوسروں کو اس کا پابند بناتا ہے؟اپنے جواب کی حمایت میں وجوہات دیجیے۔
ایک ادارے کے کاروباری اثاثہ اگر 50,000 روپئے کی بقدر رہے لیکن غیر ادا شدہ قرض80,000روپے کا ہے۔قرض خواہ کیا طریقۂ عمل اپنا سکتے ہیں :
(a) یہ ادارہ تنہا ملکیت والی فرم ہے۔
(b)ادارہ شراکت داری فرم ہے جس میں اینتھونی اور اکبر شراکت دار ہیں۔قرض کی وصولی کے لئے قرض خواہ کسی شراکت دار کے پاس جائیں گے؟وجوہات کی وضاحت کیجیے۔
کرن کاروبار کا تنہا مالک ہے ۔وہ علاقے کی ایک چھوٹی خردہ دوکان سے جس کی اب شہر میں تین برانچ ہیں، مصنوعی زیورات، بیگ، بالوں کی کلپ اور نیل پالش وغیرہ جیسی اشیا فروخت کیا کرتی تھی۔گذشتہ دہائی کے دوران اس کاروبار کافی ترقی پا چکا ہے۔  وہ تمام شاخوں میں مختلف کاموں کی خودہی نگرانی کرتی ہے لیکن اب وہ فکر مند ہے کہ اسے اپنے کاروبار کے بہتر انتظام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل کرنی چاہیے یا نہیں۔اس کے پاس پورے ملک میں شاخیں قائم کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
(a) ایک تنہا  ملکیت بنے رہنے کے دو فوائد واضح کیجیے ۔
(b)مشترکہ حصص کی کمپنی میں تبدیل ہونے کے دو فائدے واضح کیجیے ۔
(c)اس کے پورے ملک میں شاخیں قائم کرنے کا فیصلہ کاروباری ادارے کی قسم کے انتخاب میں کیا رول ادا کرے گا؟
(d) بطور ایک کمپنی ، کاروبار چلانے کے لئے اسے کیا قانونی کارروائیاں کرنی ہوں گی؟

پروجیکٹ کا کام

درج ذیل کاموں کے لیے طلبا کو دو ٹیموں میں تقسیم کیجیے۔
(a) اپنے پڑوس کی کسی پانچ پنساری/اسٹشنری کی دکانوں کے خاکہ کا مطالعہ کرنا۔
(b) ایک مشترکہ ہندو خاندان کاروبار کے طریقۂ کار کا مطالعہ کرنا۔
(c) کسی پانچ شراکت داری فرموں کی تشکیل کامطالعہ کرنا۔
(d) علاقہ میں موجود امداد باہمی سوسائٹیوں کے کام کاج اور نظریات کا مطالعہ کرنا۔
(e) کسی پانچ کمپنیوں کے خاکہ کا مطالعہ کرنا (پرائیویٹ اور عوامی کمپنیاں دونوں)

نوٹس

مذکورہ بالا مطالعات کے لئے طلباء کو درج ذیل میں سے چند پہلو دیے جا سکتے ہیں۔
کاروبار کی نوعیت، لگائے گئے سرمائے کے اعتبار سے ؛کاروبار کے حجم کی جانچ،کام کرنے والے لوگوں کی تعداد یافرخت سے  لین دین،مسائل کا سامنا،ترغیب، مخصوص قسم کے انتخاب کے پس پشت اسباب،فیصلہ سازی کاطریقہ،توسیع کا ارادہ اور متعلقہ قابل غور امور،شکل کے فائدے وغیرہ ۔
طلبہ کی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ پراجیکٹ رپورٹ اور ملٹی میڈیا پیش کش کی شکل میں اپنے مطالعہ کی تحقیقات اور نتائج  پیش کر سکیں۔