Skip to content
Karobarimutuala-001

باب3

پرائیویٹ، پبلک اور عالمی تجارتی ادارے 


سیکھنے کے مقاصد

اس باب کے مطالعے کے بعد آپ 
کاروبار کے نظریہ اور خصوصیات کی وضاحت کر سکتے ہیں۔
پبلک انٹر پرائز(سرمایہ کاری کاروباری اداروں) کی مختلف شکلوں یعنی محکمہ جاتی ،آئینی حیثیت کے کارپوریشنوں اور سرکاری کمپنیوں کی خصوصیات بیان کر سکتے ہیں۔
پبلک سیکٹر کے بدلتے ہوئے کردار کا تنقیدی جائزہ لے سکتے ہیں۔
عالمی تجارتی اداروں یا انٹر پرائزز کی خصوصیات بیان کرسکتے ہیں۔ 
 مشترک کاروباری مہمات کے فوائد کو پرکھ سکتے ہیں۔


انیتا ،گیارہویں درجہ کی طالبہ ہے۔ ان دنوں وہ کچھ اخبارات دیکھ رہی تھی۔ خبروں کی سرخیاں اس کے سامنے تھیں، ان سرخیوں میں سے ایک یہ تھی کہ حکومت نے چند کمپنیوں سے اپنے سرمائے کی نکاسی کا منصوبہ بنایا ہے۔ دوسرے دن سرکاری دائرہ کار کی ایک کمپنی کے بارے میں یہ خبر تھی کہ اسے کافی نقصان ہوا ہے، اس لیے اسے بند کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے بر خلاف اس نے دوسری خبر پڑھی کہ پرائیویٹ سیکٹر کے تحت کچھ کمپنیاں کس طرح بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وہ در اصل یہ جاننے کے لیے پر تجسس تھی کہ پبلک سیکٹر ،سرمایہ نکاسی ،نجی کاری جیسی ان اصطلاحات کے کیا معنی ہیں۔ اس نے یہ محسوس کیا کہ بعض شعبے ایسے ہیں جہاں صرف حکومت کام کرتی ہے، جیسے ریلویز ہیں اور کچھ شعبے ہیں جو پرائیویٹ اور سرکاری دونوں کاروبار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھاری صنعت کا شعبہ ایس اے آئی ایل (سیل) ، بی ایچ ای ایل(بھیل) اور ٹسکو (ٹی آئی ایس سی او) ،ریلائنس ، برلا ہیں اور ٹیلی کام کے شعبے میں ٹاٹا،ریلائنس،ایئرٹیل جیسی کمپنیاں آتی ہیں۔ اس زمرے میں حال ہی میں سہارا اور جیٹ ائیر لائنس سرکاری ملکیت والی کمپنیاں جیسے ایم ٹی این ایل، بی ایس این ایل ، انڈین ائیرلائنس ،سرکاری ملکیت والی کمپنیاں جیسے ایم ٹی این ایل، بی ایس این ایل ، انڈین ایئر لائنس، ائیر انڈیا وغیرہ داخل ہوئی ہیں۔بعد ازاں اس نے یہ تلاش شروع کی کہ کوکا کولا ، پیپسی ،ہنڈائی جیسی کمپنیاں کہاں سے آئی ہیں؟ کیا وہ ہمیشہ سے یہاں تھیں یا پھر کسی دوسرے ملک میں کاروبار کر رہی تھیں۔ وہ لائبریری جاتی ہے، وہاں اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہاں کتابوں،کاروباری میگزین اور اخبارات میں ان کمپنیوں کے بارے میں معلومات بھری پڑی ہیں۔

3.1   تعارف

آپ کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر طرح کے کاروباری اداروں سے واسطہ پڑا ہوگا ۔ آپ کے علاقے کے قریبی بازار میں ایسی دکانیں ہوں گی جو ایک ہی شخص کی ملکیت ہوں گی ۔ یا ایسی خوردہ فروشی کی دکانیں ہوں گی جنہیں کوئی کمپنی چلاتی ہوگی۔ اس کے علاوہ ایسے لوگ ہوں گے جو آپ کو خدمات فراہم کرتے ہوں گے مثلاً قانونی خدمات ، طبی خدمات جو ایک سے زیادہ افراد کی ملکیت ہوتی ہیں یعنی پارٹنر شپ یا شراکتی فرم ۔ یہ سب نجی ملکیت کی تنظیمیں ہیں۔ اسی طرح ایسے دوسرے دفاتر اور کاروباری جگہیں یا مراکز بھی ہوں گے جو حکومت کی ملکیت والے ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ریلویز ایسا ادارہ ہے جو پوری طرح حکومت کی ملکیت اور زیر انتظام ہے۔ آپ کے علاقے کاڈاک خانہ ، محکمہ ڈاک وتار حکومت ہند کی ملکیت ہے۔ اگر چہ ڈاک کی خدمات پر ہمارا انحصا ر بہت کم ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سی پرائیویٹ کو ریر سروسز (دستی ڈاک پہنچانے والی خدمات) بازار میں کام کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے کاروبار ہیں جو ایک سے زیادہ ملکوں میں چلتے ہیں جنہیں عالمی تجارتی ادارے کہاجاتا ہے۔ اس لیے شاید آپ نے دیکھا ہوکہ ہر طرح کی تنظیمیں ہمارے ملک میں کاروبار کررہی ہیں چاہے وہ سرکار ی ہوں یا نجی یا عالمی ۔ اس باب میں ہم یہ پڑھیں گے کہ معیشت کس طرح دو سیکٹروں یعنی پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں بٹی ہوئی ہے، پبلک انٹر پرایئز کی مختلف اقسام کون کون سی ہیں اور ان کا کیا کردار ہے اور گلوبل انٹر پرائزز یا عالمی تجارتی ادارے کیا ہوتے ہیں۔ 

3.2   پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر 

ہر طرح کے کاروباری ادارے چھوٹے ہوں یا بڑے ، صنعتی ہوں یا تجارتی، نجی ملکیت والے ہوں یا سرکاری ملکیت کے ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ یہ ادارے ہماری روز مرہ معاشی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور اس لیے وہ ہندوستانی معیشت کا حصہ بن گئے ہیں ۔ ہندوستان کی معیشت چونکہ نجی ملکیت اور سرکاری ملکیت اور تجارتی اداروں پر مشتمل ہے اس لئے مخلوط معیشت کہتے ہیں۔ حکومت ہند نے ملک کے لیے مخلوط معیشت کا انتخاب کیا ہے جس میں نجی ملکیت والے اور سرکاری ملکیت والے دونوں اداروں کو کام کرنے کی اجازت ہے۔ اس لیے اس معیشت کو دو شعبوں یا سیکٹروں میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر ۔ 
جیسا کہ آپ نے پچھلے باب میں پڑھا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر افراد یا افراد کے گروہ کے زیر ملکیت والے کاروبار پر مشتمل ہوتا ہے۔ کاروباری تنظیم کی مختلف قسمیں یعنی تنہاملکیت ، شراکتی ملکیت، مشترک ہندوخاندان امداد باہمی اور کمپنی شکل میں ادارے ہیں۔ 
پبلک سیکٹر مختلف قسم کے اداروں پر مشتمل ہوتا ہے جو سرکاری ملکیت اور زیر انتظام ہوتے ہیں۔ یہ ادارے جزوی یا کلی طورپر مرکزی یا ریاستی حکومت کی ملکیت ہوسکتے ہیں۔ وہ کسی وزارت کا بھی حصہ ہوسکتے ہیں اور انھیں پارلیمنٹ کے کسی مخصوص قانون کے ذریعے قائم کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت ان کاروباری اداروں اور امداد باہمی کے ذریعے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔ 
حکومت وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی اپنی پالیسی کی قراردادوں میں ان سر گرمیوں کے دائرہ کار کی وضاحت کرتی ہے جس میں نجی سیکٹر اورسرکاری سیکٹر کو کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ حکومت ہند نے صنعتی پالیسی قرارداد1948میں صنعتی شعبہ کی ترقی کے تئیں اپنے موقف  کی وضاحت کی تھی۔ اس میں پرائیویٹ اور سرکاری شعبہ کے کردار کی وضاحت کی گئی تھی۔ حکومت مختلف قوانین و ضوابط کے ذریعہ پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر دونوں کی معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔1956 کی صنعتی پالیسی کی قرارداد میں بھی پبلک سیکٹر کی تعمیل کے لئے بعض مقاصد مقرر کیے گئے تھے تاکہ صنعت کاری  اور شرح نمو تیز کی جاسکے ۔ پبلک سیکٹر کو کافی اہمیت دی گئی تھی ، لیکن اس کے ساتھ ہی پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی انحصار پر بھی زور دیاگیا تھا۔ 1991کی صنعتی پالیسی تمام پالیسیوں سے بالکل مختلف تھی جس میں حکومت نے پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کو زیادہ آزادی دینے کی تجویز رکھی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی تجارتی اداروں کو براہ راست سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی تھی۔ اس طرح کثیر قومی کار پو ریشنز یا عالمی تجارتی اداروں کوجو ایک سے زیادہ ملکوں میں کاروبار کرتے ہیں، ہندوستانی معیشت میں قدم رکھنے کا موقع مل گیا۔اس طرح ہندوستان کی معیشت میں پبلک سیکٹر کی اکائیاں، پرائیویٹ سیکٹر اور عالمی ادارے ساتھ ساتھ کام کر رہی ہیں۔

3.3   عوامی شعبے کے تجارتی اداروں کو منظم کرنے کی شکلیں یا طریقے 

ملک کے کاروباری اور معاشی سیکٹروں میں حکومت کی شرکت کے لیے کسی نہ کسی طرح کے تنظیمی خاکے کی ضرورت پڑتی ہے جس کے ذریعے کام کیا جاسکے ۔ آپ پرائیویٹ سیکٹر کی کاروباری تنظیموں مثلاً تنہا ملکیت ، شراکت داری ،ہندوغیر منقسم خاندان  اور کمپنی کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ حکومت ہند نے صنعتی پالیسی قرار دار 1948میں صنعتی شعبہ کی ترقی کے تئیں اپنے موقف کی وضاحت کی تھی۔ اس میں پرائیویٹ اور سرکاری شعبہ  کے کردار کی وضاحت کی گئی تھی۔ حکومت مختلف قوانین و ضوابط کے ذریعہ پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر دونوں کی معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے ۔ 
پبلک سیکٹر میں جیسے ہی ترقی ہوتی ہے تو اس کی تنظیم کے بارے میں سوال پیدا ہوا ہے کہ اس کی تنظیم یا اس کا تنظیمی ڈھانچہ کس شکل کا ہونا چاہیے ۔حکومت کو پبلک سیکٹر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن حکومت اپنے عوام، اپنے دفاتراور ملازمین کے ذریعے کام کرتی ہے اور یہ سب حکومت کی جانب سے فیصلے کرتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے حکومت کی طرف سے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی غرض سے سرکاری تجارتی ادارے تشکیل دیے گئے تھے اور ان سے توقع کی جا تی ہے کہ وہ آج کی اعتدال پسند اور مسابقتی دنیا میں ملک کی معاشی ترقی میں اپنا تعاون دیں گے۔
 یہ سرکاری انٹر پرائززعوام کی ملکیت ہیں اور وہ پارلیمنٹ کے توسط سے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرکاری ملکیت ہیں، وہ اپنی سر گرمیوں کے لیے سرکاری رقوم کی استعمال کرتے ہیں اور انہیں سرکار کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتاہے۔ 
اپنی کاروباری کارکردگیوں کی نوعیت اور حکومت سے اپنے تعلق کے اعتبار سے کوئی پبلک انٹر پرائز (سرکاری ادارہ)کوئی مخصوص ڈھانچہ اختیار کر سکتا ہے۔ کسی مخصوص تنظیمی ڈھانچے کا انحصا ر اس کی ضروریات پر ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ عام اصولوں کے مطابق پبلک سیکٹر کے کسی ادارے کی تنظیمی کار کردگی  اورپیداواریت اور کوالٹی کا معیار یقینی بننا چاہئے۔
کوئی پبلک انٹر پرائز مندرجہ ذیل تنظیمی شکلیں اختیار کرسکتا ہے: 
 (i) ڈپارٹمنٹل انڈر ٹیکنگ(محکمہ جاتی ادارے)
 (ii) آئینی کارپوریشن
(iii)   سرکاری کمپنی 

3.3.1  ڈپارٹمنٹل انڈر ٹیکنگز (محکمہ جاتی ادارے)

 پبلک انٹر پرائز ، تنظیمی ڈھانچہ کو تشکیل دینے کی قدیم ترین اور روایتی شکل ہے۔ یہ ادارے کسی وزارت کے محکموں کے طور پر قائم کیے جاتے ہیں اور خود وزارت کا ایک حصہ یا اس کی توسیع تصور کیے جاتے ہیں ۔ حکومت ان محکموں کے توسط سے کام کرتی ہے ان کی طرف سے انجام دی جانے والی سرگرمیاں حکومت کی کارکردگی کا اٹوٹ حصہ ہوتی ہیں۔ وہ خود مختار آزاد اداروں کی حیثیت سے تشکیل نہیں دیے گئے ہیں اور اس اعتبار سے خود مختار قانونی شناخت کی حیثیت نہیں رکھتے ۔ وہ حکومت کے افسروں کے توسط سے کام کرتے ہیں اوراس کے ملازمین حکومت کے ملازمین ہوتے ہیں ۔ یہ ادارے مرکزی یا ریاستی حکومت کے تحت ہو سکتے ہیں اور ان پر مرکزی یاریاستی حکومت کے ضابطوں کا ہی اطلاق ہوسکتا ہے ۔ اس طرح کے اداروں کی مثالیں ریلویز اور محکمہ ڈاک وتار ہیں۔ 

خصوصیات

 محکمہ جاتی اداروں کی اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں :
 (i)  ان تجارتی اداروں کے لیے سرمایہ براہ راست سرکاری خزانے سے آتا ہے اور حکومت کے سالانہ بجٹ میں یہ رقم مختص ہوتی ہیں ۔یہ ادارے جو منافع کماتے ہیں وہ بھی سرکاری خزانے میں جمع ہوتا ہے ۔
(ii)  یہ ادارے حساب کتاب اور آڈٹ کے ان ضابطوں کے پابند ہوتے ہیں جن کا اطلاق حکومت کی دیگر سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ 
(iii)  ان اداروں کے ملازمین سرکاری ملازمین ہوتے ہیں اور ا ن کی تقرری اور ملازمت کی شرائط وہی ہوتی ہیں جو براہ راست حکومت کے تحت آنے والے ملازمین کی ہوتی ہیں۔ ان کے سربراہ آئی اے ایس افسران اور سول سرونٹس ہوتے ہیں جن کاتبادلہ ایک وزارت سے دوسری وزارت میں کیا جا سکتا ہے۔ 
(iv)  عموماً انھیں سرکاری محکمے کا ایک ذیلی ڈویژن تصور کیا جاتا ہے اوریہ وزارت کے براہ راست کنٹرول میں کام کرتے ہیں۔
(v)  یہ ادارے وزارت کو جواب دہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی انتظامیہ متعلقہ وزارت کے تحت آتی ہے ۔

خوبیاں

اس طرح کے محکمہ جاتی اداروں کے بعض فائدے ہوتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:
(i)  یہ ادارے اپنے کاموں پر مؤثر کنٹرول کے لیے پارلیمنٹ کو اپنا اختیار استعمال کرنے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ 
(ii)  یہ اعلیٰ درجے کی عوامی جواب دہی کو یقینی بناتے ہیں۔ 
(iii)  ادارہ جو منافع کماتا ہے وہ براہ راست سرکاری خزانے میں جاتا ہے اور اس طرح یہ حکومت کے لیے آمدنی کا ذریعہ ہے۔ 
(iv)  قومی سلامتی کے اعتبار سے فرم کی یہ شکل موزوں ترین ہے کیوں کہ یہ متعلقہ وزارت کے براہ راست کنٹرول اور نگرانی میں رہتا ہے ۔ 

حدود

اس قسم کے اداروں میں بعض سنگین خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
(i) محکمہ جاتی اداروںمیں کوئی لچک نہیں ہوتی، جو رکاوٹ سے مبّرا کاروباری سرگرمیوں کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ 
(ii)  ایسے اداروں کے ملازمین اور شعبوں کے سربراہوں کو متعلقہ وزارت کی منظوری کے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اس کی وجہ سے جہاں پر فوری فیصلہ کی ضرورت ہوتی ہے وہاںمعاملات کو نمٹانے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
(iii)  یہ ادارے یا انٹرپرائزز کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ افسر شاہوں کی محتاط اور قدامت پسندانہ منظوری کی شرط انھیں مہم جویانہ کوششوں کا موقع نہیں دیتی ۔ 
(iv)  روز مرہ کے کاموں میں ضابطہ جاتی پابندیاں ہیں اور پروپر چینل سے گزارے بغیر کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ 
(v)  وزارت کی طرف سے بہت زیادہ سیاسی مداخلت ہوتی ہے۔ 
(vi)   یہ ادارے عام طور پر صارفین کی ضروریات کے تئیں   بے حس ہوتے ہیں ۔ اور یہ انہیں معقول خدمات فراہم نہیں کرتے۔ 

3.3.2   قانونی حیثیت کی کارپوریشنس

قانونی حیثیت کے حامل یہ کارپوریشنر ایسے کاروباری ادارے ہوتے ہیں جو پارلیمنٹ کے خصوصی قانون کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں۔ اس خصوصی قانون میں ان اداروں کے اختیارات وذمہ داریاں اورکاموں نیز ملازمین کے نظم وضبط سے متعلق قواعد وضوابط اور سرکاری محکموں سے ان کے تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔ 
یہ قانون کے ذریعہ وجود میں آیا ایک کارپوریٹ ادارہ ہوتاہے۔ جس کے اختیارات اور کام کاج بالکل واضح ہوتے ہیں اور یہ خصوصی شعبہ ،خصوصاً تجارتی سرگرمیوں کی قسم پر مکمل کنٹرول کے ساتھ مالی طور پر پوری طرح آزاد اور خود مختار ہوتا ہے۔ یہ ایک کارپوریٹ شخص کی طرح ہوتا ہے ، جو اپنے نام سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے آئینی حیثیت کے حامل کارپوریشن میں حکومت کا اختیار اور معقول حد تک پرائیویٹ اداروں کے کام کرنے کی لچک ہوتی ہے۔ 

خصوصیات

آئینی کارپوریشنوں کی بعض نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں ہے:
(1)  کارپوریٹ ادارے پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت قائم کیے جاتے ہیں اور یہ قانون کی شرائط کے پابند ہوتے ہیں اور اسی کے تحت کام کرتے ہیں۔ قانون میں ان کے مقاصد، اختیارات اور مراعات کی وضاحت کی گئی ہے۔ 
(ii)  یہ پوری طرح حکومت کی ملکیت میں ہوتے ہیں۔ حتمی مالیاتی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے اور اسے ان کارپوریشنوں کی آمدنی کے استعمال کا اختیار حاصل ہے۔اس کے ساتھ ہی اگر کارپوریشن کو کوئی خسارہ ہو تو اس کی ذمہ داری بھی حکومت کو ہی قبول کرنی ہوتی ہے۔ 
(iii)   یہ ایک کارپوریٹ باڈی (ہیئت اجتماعی ) ہے جو مقدمہ دائر کر سکتی ہے اور جس پر مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے، یہ کسی سے کوئی معاہدہ کر سکتی ہے اور اپنے نام سے جائداد حاصل کر سکتی ہے۔
(iv)   اس قسم کے ادارے عام طور پر آزادانہ سرمایہ حاصل کرتے ہیں ۔ یہ مالیہ کے ذریعہ حکومت اور عوام سے قرض لے کر ، اپنی اشیا اور خدمات کی فروخت سے حاصل منافع کے ذریعہ سرمایہ حاصل کرتے ہیں۔ انہیں اپنی آمدنی کو استعمال کرنے کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے۔ 
(v)  اس پر حساب کتاب اور آڈٹ کے ان ضابطوں کا اطلاق نہیں ہوتا جن کا اطلاق حکومت کے محکموں پر ہوتا ہے۔ اور نہ ہی اسے حکومت کے مرکزی بجٹ سے کوئی لینا دینا ہوتا ہے۔ 
(vi)  ان اداروں کے ملازمین سرکاری یا سول سرونٹس نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ سرکاری قواعد وضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کی شرائط ملازمت خود ایکٹ کی شقوں کی پابند ہوتی ہیں۔ ان تنظیموں کی سر براہی کے لیے بعض افسروں کو سرکاری محکموں سے ڈپوٹیشن پر یعنی عارضی طور پربلا یا جاتا ہے۔

خوبیاں

اس طرح اداروں کو کام کاج میں بعض فوائد حاصل ہوتے ہیں جو حسب ذیل ہیں: 
(i)   انھیں اپنے کام کاج میں آزادی اور اعلی درجے کی  عملی لچکدار ی حاصل ہوتی ہے۔ وہ ناپسندیدہ سرکاری ضابطوں اور کنٹرول سے آزاد ہوتے ہیں۔ 
(ii)   چوں کہ ان اداروں کو فنڈ مرکزی بجٹ سے نہیں ملتا اس لئے ان کی آمدنی اور وصولی سمیت مالی امور میں حکومت عموماً مداخلت نہیں کرتی۔
(iii)   یہ ادارے چونکہ خود مختار ہوتے ہیں۔یہ ایکٹ  کے ذریعہ تفویض کردہ اختیارات کے اندر خود اپنی پالیسیاں اور ضابطے وضع کرتے ہیں۔ ایکٹ میں چند ایسے معاملات / مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے لئے متعلقہ وزارت کی پیشگی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
(vi)  قانونی کارپوریشن اقتصادی ترقی کا ایک قیمتی ذریعہ ہوتے ہیں۔انھیں حکومت کے اختیار کے علاوہ پرائیویٹ اداروں کی پہل بھی شامل ہوتی ہے۔ 

حدود

:اس قسم کے اداروں میں کئی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں:
(i)   در حقیقت اس طرح کے اداروں میں اتنی عملی لچک نہیں ہوتی جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔ تمام اقدامات کئی قواعد وضوابط سے مشروط ہوتے ہیں۔ 
(ii)  بڑے فیصلوں میں ، یا ان معاملات میں جن کا سروکار بڑی رقموں سے ہو، ہمیشہ سرکاری مداخلت ہوتی ہے۔  
(iii)  جہاں عوامی مسائل پر کارروائی کا معاملہ ہو وہاں بدعنوانی کا بول بالا ہوتاہے۔ 

(iv)  حکومت کا عام طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کارپوریشن بورڈکے مشیروں کا تقررکرتی ہے۔ اس سے معاہدوں اور دیگر فیصلوں میں کارپوریشن کی آزادی سلب ہوتی ہے۔ اگر کوئی نااتفاقی ہوتی ہے تو معاملے کو آخری فیصلے کے لیے حکومت کے سپرد کیا جاتا ہے۔ اس سے کارروائی میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔ 

3.3.3   سرکاری کمپنی 

سرکاری کمپنی، کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت قائم کی جاتی ہے۔ اس کا رجسٹریشن اور اس کی نگرانی ایکٹ کے التزامات کے ذریعہ ہوتے ہیں ۔ یہ ادارے خالصتاً کاروباری مقاصد اور پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کے حقیقی جذبے سے قائم کئے جاتے ہیں۔ 
کمپنیز ایکٹ 2013 کی دفعہ (45)2کے مطابق سرکاری کمپنی کا مطلب ، ایسی کمپنی ،جس میں مرکزی حکومت یا کسی ریاستی حکومت کا ادا شدہ سرمایہ 51فیصد سے کم نہ ہو یا اس میں مرکزی حکومت کا جزوی طور پر ایک یا ایک سے زائد ریاستی حکومتوں یا ایسی کمپنی کا جو سرکاری کمپنی کی ذیلی کمپنی ہو ، اس کا جزوی حصص رکھتی ہو ۔کمپنیز ایکٹ 2013کے تحت کمپنی کی تشریح میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ ایکٹ کے تمام التزامات، جب تک کہ ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوتی ہے ، تمام سرکاری کمپنیوں کے لیے قابل عمل ہوں گے ۔ ایک سرکاری کمپنی ،پرائیویٹ لمیٹڈ یا پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہو سکتی ہے۔ بعض ایسے التزامات ہیں جو ڈائریکٹروں اور دوسرے انتظامی عملہ کی تقرری /ریٹائرمنٹ کے لیے قابل عمل ہیں۔ 
مندرجہ بالا تعریفوں سے واضح ہے کہ حکومت کمپنی کے ادا شدہ حصصی سرمایہ پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے۔ کمپنی کے شیئرز یاحصص صدر جمہوریہ ہند کے نام سے خریدے جاتے ہیں۔ چونکہ حکومت کمپنی کے زیادہ ترحصص کی مالک ہوتی ہے اور ان کمپنیوں کے انتظام پر اپنے اختیار کا استعمال کرتی ہے۔ ا س لیے انہیں سرکاری کمپنیاں کہا جاتا ہے۔ 

خصوصیات

سرکاری کمپنیوں کی بعض خصوصیات ہوتی ہیں۔ جو انھیں دوسری طرح کے اداروں سے ممتازرکھتی ہیں۔ یہ خصوصیات درج ذیل ہیں:
(i)  یہ ایسا ادارہ ہے جو  کمپنیز ایکٹ 2013  کے تحت قائم ہوا ہے۔
(ii) کمپنی کسی تیسرے فریق کے خلاف کسی عدالت میں مقدمہ دائر کرسکتی ہے اور اس کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔ 
(iii) کمپنی کسی سے کوئی معاہدہ کرسکتی ہے اور خود اپنے نام سے جائداد حاصل کرسکتی ہے۔ 
(iv) کسی دوسری پبلک لمیٹڈ کمپنی کی طرح ہی کمپنی کا انتظام و انصرا م کمپنیز ایکٹ کے ضابطوں کے تحت ہوتا ہے۔ 
(v) کمپنی کے ملازمین کا تقرر کمپنی کے میمورنڈم اینڈ آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن میں درج اس کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیاجاتا ہے ۔ میمورنڈم اینڈ آرٹکلز آف ایسوسی ایشن کمپنی کے اصل دستاویزات ہوتے ہیں جن میں کمپنی کے اغراض ومقاصد اور قواعد وضوابط تحریر ہیں۔ کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت کمپنی کی تشریح میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ ایکٹ کے تمام التزامات ،جب تک کوئی مخصوص تبدیلی نہ کی گئی ہو، سرکاری کمپنیوں کے لیے قابلِ عمل ہوتے ہیں۔
(v)   ان کمپنیوں پر حساب اور آڈٹ کے قواعد وضوابط کی پابندی لازم نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے کسی آڈیٹر کو مقرر کیا جاتا ہے اور کمپنی کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ یا ریاستی مقننہ میں پیش کرنی ہوتی ہے۔ 
(vii)   سرکاری کمپنی اپنا فنڈسرکاری شیئر ہو لڈنگ اور پرائیویٹ شیئر ہولڈروں سے حاصل کرتی ہے۔ اسے سرمایہ بازار سے بھی فنڈ حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ 

خوبیاں

سرکاری کمپنیوں کو کئی فائدے حاصل رہتے ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں:
(i)   سرکاری کمپنی انڈین کمپنیز ایکٹ کی شرائط پوری کرکے  قائم کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ میں الگ سے ایکٹ لانا ضروری نہیں ہے۔
(ii)   حکومت کے علاوہ بھی اس کی ایک الگ قانونی حیثیت ہوتی ہے ۔ 
(iii)   اسے تمام انتظامی فیصلوںمیں خودمختاری حاصل ہوتی ہے اور یہ کارباری مصلحتوں کے مطابق اقدامات کرتی ہے۔ 
(iv)  یہ کمپنیاں معقول قیمتوں پر اشیاء اور خدمات فراہم کرکے بازار پر کنٹرول رکھتی ہیں اور غیر صحت مند کاروباری طریقوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔ 

حدود

ان کمپنیوں کودی گئی خود مختاری کے باوجود ان کی بعض خامیاں اور حدود بھی ہیں۔ 
(i)   حکومت چونکہ بعض کمپنیوں میں واحد شیئر ہولڈر ہوتی ہے۔ اس لیے کمپنیز ایکٹ کے ضابطوں کی کوئی خاص معنویت نہیں رہ جاتی۔
(ii)  یہ آئینی ذمہ داری سے بچتی ہے جب کہ حکومت کے زیرکفالت کسی کمپنی کو ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔یہ براہ راست پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہوتی۔ 
(iii)   حکومت چونکہ تنہااور سب سے بڑی  شیئرہولڈر ہوتی ہے اس لیے کمپنی کا انتظام اور ایڈمنسٹریشن حکومت کے ہی ہاتھ میں رہتا ہے۔ اس طرح سرکاری کمپنی کا مقصد جو کسی دیگر کمپنیوں کی طرح ہی رجسٹرڈ ہوتی ہے، ختم ہوجاتا ہے۔

3.4   پبلک سیکٹر کا بدلتا ہوا کردار   

ملک کی آزادی کے وقت یہ توقع کی گئی تھی کہ پبلک سیکٹر کے تجارتی ادارے، کاروبار میں براہ راست شرکت یا محرک کی حیثیت سے کام کرکے معیشت کے بعض مقاصد کو حاصل کرنے میں اہم کردار نبھائیں گے۔پبلک سیکٹر معیشت کے دوسرے شعبوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرے گا اور اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔پرائیویٹ سیکٹر ان پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا جو بھاری سرمایہ کاری کا مطالبہ کرتے ہوں اور جن میں پیداوارسے پہلے کی مدت طویل ہو۔ حکومت نے یہ ذمہ داری خود قبول کی کہ بنیادی ڈھانچے کی سہولیات اور معیشت کے لیے لازمی وسائل اور خدمات فراہم کی جائیں۔
ہندوستانی معیشت تبدیلی دور سے گذر رہی ہے۔ترقی کے ابتدائی مراحل میں پنج سالہ منصوبوں میں پبلک سیکٹرکو حد درجہ اہمیت دی گئی۔90کے دہے کے بعد کے زمانے میں نئی اقتصادی پالیسیوں کا زور نرم کاری،نجی کاری اور عالم کاری یا گلوبلائزیشن پر تھا۔پبلک سیکٹر کے رول کا تعین دوبارہ کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ غیر فعال ہو کر رہ جائے بلکہ یہ کہ فعال طور پر معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے اور ایک ہی صنعت میں دیگر پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کرے۔ انہیں سرمایہ کاری پر ہونے والے خساروں اور منافعوں کے لیے بھی جواب دہ بنایا گیا۔اگر کوئی پبلک سیکٹر مسلسل خسارے میں چل رہا ہوتا تھا تو مکمل جانچ پڑتال یا کمپنی بند کر دینے کے لیے اسے بورڈ آف انڈسٹریل فائنانس اینڈ ری کنسٹرکشن (BIFR)کے سپرد کیا جاتا تھا۔خراب کار کردگی والے پبلک سیکٹر یونٹوں کے کام کا جائزہ لینے کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں اور اس کے ساتھ رپورٹ دی گئی تھی کہ ان کی انتظامی صلاحیت کو کس طرح بہتر اور نفع بخش بنایا جائے۔ پبلک سیکٹر کا رول یقیناوہ نہیں تھا جس کے بارے میں 60 یا 70 کے دہوں میں زور دیا گیاتھا۔ 

(i)  بنیادی ڈھانچے کی تعمیر : کسی بھی ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر صنعت کاری کی اولین شرط ہوتی ہے۔آزادی کے قبل کے زمانے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نہیں ہوئی تھی اور اسی لیے صنعت کاری کی رفتار بہت سست تھی۔صنعت کاری کے عمل کو نقل  و حمل اور مواصلات کی معقول سہولتوں،ایندھن اور توانائی اور بنیادی اور بھاری صنعتوں کے بغیر دیر پا نہیں بنایا جا سکتا۔ پرائیویٹ  سیکٹر نے بھاری صنعتوں میں سرمایہ کاری یا اسے کسی طرح ترقی دینے میں پیش قدمی کا ثبوت نہیں دیا۔اس کے پاس فوری طور پر بھاری صنعتیں قائم کرنے کے لیے نہ تربیت یافتہ کارکنان تھے اور نہ ہی مالی وسائل جس کی ضرورت کمپنیوں کو تھی ۔

یہ صرف حکومت ہی تھی جو بڑی مقدار میں سرمایہ فراہم کر سکتی، صنعتی تعمیرات کو مربوط کر سکتی اور مستریوں اور ورکرس کو تربیت دے سکتی تھی۔ریل، سڑک، آبی اور ہوائی نقل و حمل حکومت کی ذمہ داری تھی اور ان کی توسیع نے صنعت کاری کو تیز رفتار بنانے میں تعاون دیا ہے اور مزید معاشی ترقی کی ضمانت دی ہے۔ پبلک سیکٹر کے تجارتی اداروں کو بعض مخصوص شعبوں کی شناخت  کرنا تھا جہاںسرمایہ کاری ہونی تھی۔
(a) اہم سیکٹر کو بنیادی ڈھانچہ سونپ دیا جائے کیوں کہ اسے پیچیدہ اور جدید ترین ٹکنالوجی، بڑی اور موثر تنظیمی دھانچوں جیسے فولاد کے کارخانے، بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ، شہری ہوابازی ، ریلوں، پٹرولیم، سرکاری تجارت اور کوئلہ وغیرہ کے لیے کثیر سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
(b) جہاں پرائیویٹ سیکٹر کے انٹر پرائززمطلوبہ سمت میں کام نہ کر رہے ہوں مثلاً کیمیائی کھاد،دواساز کمپنیاں، پیٹرو کیمکلز، اخباری کاغذ،درمیانی اور بھاری انجینئرنگ مرکزی سیکٹر کو سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔
(c) آئندہ سرمایہ کاری مثلاً ہوٹلوں میں ،پروجیکٹوں کے انتظام میں،مشاورتی ایجنسیوں میں ٹیکسٹائلز میں اور آٹو موبائلز وغیرہ میں سرمایہ کاری کی جائے۔ 
 (ii) علاقائی توازن:   تمام علاقوں اور ریاستوں کو متوازن انداز میں ترقی دینے اور علاقائی نا برابریوں کو دور کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے ۔آزادی سے پہلے کے زمانے میں بیشتر صنعتیں چند علاقوں تک ہی محدود تھیں مثلاً بندرگاہی شہروں تک۔ 1951 کے بعد حکومت نے اپنے پنج سالہ منصوبوں میں یہ ضابطہ درج کیا کہ خصوصی توجہ ان علاقوں پر دی جائے گی جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں اور اس لیے پبلک سیکٹر کی صنعتیں دانستہ طور پر قائم کی گئیں۔معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے، ورک فورس کو روزگار فراہم کرنے اور ذیلی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے چار بڑے اسٹیل پلانٹ لگائے گئے ۔اس مقصد کو کسی حد تک حاصل کیا گیا لیکن اور بھی بہت کچھ کرنے کے لیے امکان موجود ہے۔ ملک میں علاقائی توازن قائم کرنے کی غرض سے پسماندہ علاقوں کو منصوبہ بند ترقی اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔اس لیے حکومت کو پسماندہ علاقوں میں نئے تجارتی اداروں کی نشاندہی کرنی پڑی اور ساتھ ہی پہلے سے ترقی یافتہ علاقوں میں پرائیویٹ سیکٹر کی اکائیوں کے اضافے کو روکنا پڑا۔
(iii) معیشتوں کے پیمانے:  جہاں بڑے پیمانے کی صنعتوں کے لیے بڑے سرمائے  درکار ہیں، وہاں سرکاری شعبے کو پیمانے کی معیشتوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے پبلک سیکٹر کو میدان میں اترنا پڑا۔الکٹرک پاور پلانٹس،قدرتی گیس،پٹرولیم اور ٹیلیفون کی صنعتیں پبلک سیکٹر کی مثالیں ہیں جنھوں نے بڑے پیمانے کی اکائیاں لگائیں۔معاشی طور پر کام کرتے رہنے کے لیے ان یونٹوں یا پیداواری اکائیوں کو وسیع تر بنیاددرکار تھی جو سرکاری وسائل اوربڑے پیمانے پر ہونے والی پیداوار کے ذریعہ ہی ممکن تھا ۔
(iv)   معاشی قوت کے ایک جگہ مرکوز ہونے پر پابندی:   پبلک سیکٹر پرائیویٹ سیکٹر پر لگام لگانے کا کام کرتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ایسے چند ہی صنعتی گھرانے ہوئے ہیں جو بھاری صنعتوں میں سرمایہ لگانے کے لیے رضا مند ہوں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع ہوتی رہتی ہے اور اجارہ دارانہ رویوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔اس سے آمدنی میں  عدم مساوات کو بڑھاوا ملتا ہے جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
پبلک سیکٹر بڑی صنعتیں لگانے کے قابل ہوتا ہے جس کے لیے کثیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سے ملنے والی آمدنی اور منافع دونوں میں ملازمین اور کارکنان کی ایک بڑی تعدادحصہ دار ہوتی ہے۔یہ بات پرائیویٹ سیکٹر میں دولت اور معاشی قوت کے ایک جگہ جمع ہونے کو روکتی ہے۔
(v) درآمداتی متبادل:   دوسرے اور تیسرے پنج سالہ منصوبوں کی مدت کے دوران ہندوستان کا مقصد کئی میدانوں میں خود کفالت حاصل کرناتھا۔زر مبادلہ حاصل کرنا بھی ایک مسئلہ تھا اور مضبوط صنعتی بنیاد کے لیے درکار بھاری مشینری درآمد کرنا مشکل کام تھا۔اسی وقت درآمداتی تبدل میں مدد کر سکنے والی ہیوی انجینئرنگ سے متعلق پبلک سیکٹر کی کمپنیاں قائم کی گئی تھیں۔اور اس کے ساتھ ہیSTCاورMMTCجیسی پبلک سیکٹر کی کمپنیوں نے ملک کی برآمدات کو وسعت دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔
(iv)
  1991سے پبلک سیکٹر سے متعلق سرکاری پالیسی: حکومت ہند نے 1991میں اپنی نئی صنعتی پا لیسی میں پبلک سیکٹر میں چار اہم اصلاحات شروع کی تھیں۔پبلک سیکٹر سے متعلق حکومت کی پالیسی واضح اور سیدھی سادی ہے۔اس کے بنیادی عناصر ہیں:
  •   امکانی طور پرچلائے جاسکنے والے PSU'sکی دوبارہ درستگی اور تجدید۔
  •   دوبارہ نہ چلائے جا سکنے والےPSU'sکو بند کیا جائے۔
  •   اگر ضرورت ہو تو تمام غیراہم PSU'sمیں سرمایہ کاری اکوئٹی کو گھٹا کر% 26یا اور کم کر دیا جائے۔
  •  کارکنان کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔
  (a) پبلک سیکٹر کے لیے محفوظ صنعتوں کی تعداد 17سے گھٹا کر 8اورپھر3کر دینا :صنعتی پالیسی سے متعلق 1956 کی قرار داد میں 17صنعتیں پبلک سیکٹر کے لیے مخصوص کی گئی تھیں۔ 1991میں پبلک سیکٹر کے لیے صرف 8صنعتیں مخصوص کی گئیں اور انھیں ایٹمی توانائی، اسلحہ سازی اور مواصلات،کان کنی اورریلویز تک محدود رکھا گیا۔سال2001میں صرف 3 صنعتیں ایسی تھیں جنھیں خاص طور پر پبلک سیکٹر سے مخصوص کیا گیا۔ یہ ہیں ایٹمی تونائی،اسلحہ اور ریل ٹرانسپورٹ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر (3کو چھوڑ کر)تمام شعبوں میں داخل ہو سکتا ہے اور پبلک سیکٹر کو اس کے ساتھ مسابقت کرنی پڑے گی۔
پبلک سیکٹر نے ہماری معیشت کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔تا ہم پرائیویٹ سیکٹر بھی قومی تعمیر کے عمل میں نمایاں طور پر تعاون دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔اس لیے پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر دونوں کو قومی سیکٹر کے باہمی طورپر تکمیلی حصے کے طور پر دیکھے جانے کی ضرورت ہے ان میں سے کسی ایک کے بغیر دوسرا ادھورا رہے گا۔پرائیویٹ سیکٹر کی صنعتی اکائیوں کو بھی وسیع تر عوامی ذمہ داریاں قبول کرنی چاہئیں۔ اس لئے ساتھ ہی پبلک سیکٹر کو بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حد درجہ مسابقتی بازار میں اپنی مزید کامیابی پر توجہ دے۔

 (b)پبلک سیکٹر کے بعض منتخب اداروں کے حصص کی سرمایہ نکاسی : سرمایہ نکاسی میں کو پرائیویٹ سیکٹر اور عوام کے ہاتھ فروخت کرنے کا عمل شامل ہے۔اس کا مقصد یہ تھا کہ وسائل پیدا کیے جائیں اور ان انٹرپرائزز کی ملکیت میں عوام اور کارکنان کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔حکومت نے صنعتی سیکٹر سے دست بردار ہونے اور تمام تجارتی اداروں میں اپنے حصص میں تخفیف کا فیصلہ کیا تھا۔یہ توقع کی جاتی تھی کہ اس سے منیجروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور مالیاتی نظم ونسق کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ لیکن اس شعبے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

پبلک سیکٹر کی نجی کاری کے بنیادی مقاصد حسب ذیل ہیں:
  •   غیر اہم(PSEs)،میں مخصوص کردہ بڑی عوامی رقوم پر سے پابندی کااٹھایا جانا تا کہ انھیں سماجی ترجیح کے دیگر شعبوں مثلاً بنیادی صحت،خاندانی بہبود اور بنیادی تعلیم پر خرچ کیا جاسکے۔
  • عوامی قرضوں کی کثیر رقم اور سود کے بوجھ میں تخفیف کرنا۔
  • کاروباری جوکھم کو پرائیویٹ سیکٹر کی طرف منتقل کرنا تاکہ رقوم کی سرمایہ کاری اہم پروجیکٹوں میں کی جاسکے۔
  •  ان انٹر پرائزز کو حکومت کے اختیار سے آزاد کرانا اور کارپوریٹ انداز حکمرانی کو رائج کرنا۔
  •  کئی شعبوں میں جہاں پبلک سیکٹر کی اجارہ داری تھی مثلاً ٹیلی کام کا شعبہ، وہاں صارفین کو زیادہ انتخاب کی سہولت،نسبتاً کم قیمتوں اور مصنوعات و خدمات کے بہتر معیار سے فائدہ پہنچا ہے۔
(c) بیمار اکائیوں سے متعلق پالیسی پرائیویٹ سیکٹر جیسی ہی رہے گی:  اس کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ کیا بیمار اکائیوں کی تعمیر نو کی جائے یا انہیں بند کر دیا جائے تمام پبلک سیکٹر کے یونٹوں کے معاملے کو بورڈ آف انڈسٹریل انڈ فنانشیل ری کنسٹرکشن کے حوالے کیا گیا تھا۔بورڈ نے بعض اکائیوں کے معاملہ میں احیا اور باز آباد کاری کی اسکیموں پر دوبارہ غور کیا اور بہت سے یونٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔اسی وجہ سے بند کی جانے والی یونٹوں کے کارکنان میں شدید غم و غصہ ہے۔برطرف شدہ مزدوروں کی بحالی یا دوبارہ تعیناتی اور رضا کارانہ سبکدوشی کے خواہش مند پبلک سیکٹر کے ملازمین کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک نیشنل رینیول فنڈ قائم کیا گیا تھا۔
پبلک سیکٹر کی ایسی کئی یونٹیں ہیں جو بیمار ہیں اور پھر سے چلائے جا سکنے کی حالت میں نہیں ہیں کیونکہ وہ بہت خسارے میں جا چکی ہیں ۔سرکاری مالیات پر شدید دباؤ کی وجہ سے مرکزی اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں زیادہ مدت تک زندہ رکھ سکیں ۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے واحد راستہ یہی رہ جاتا ہے کہ ملازمین اور کارکنان کے لیے حفاظتی ضمانت فراہم کرکے اس طرح کی متعدد اکائیوں کو بند کر دیا جائے ۔ نیشنل رینیول فنڈ کے تحت دستیاب وسائل رضاکارانہ علاحدگی اسکیم یا رضاکارانہ سبکدوشی اسکیم کے اخراجات پورے کر نے کے لیے کافی نہیں ہو سکے ہیں۔
 (d) مفاہمت کا میمورنڈم (ایم او یو): مفاہمت کے میمورنڈم کے نظام کے ذریعہ کارکردگی کی بہتری جس کی مدد سے انتظامیہ کو وسیع تر خودمختاری دی جاتی ہے لیکن مخصوص نتائج کے لیے جواب دہ بنایا گیا ہے، نظام کے تحت پبلک سیکٹر یونٹوں کے لیے واضح اہداف مقرر کیے گئے اور ان کے حصول کے لیے کام کی خودمختاری بھی دی گئی۔ اس طرح ایم او یو مخصوص پبلک سیکٹر یونٹ اور ان کی انتظامی وزارتوں،ان کے رشتوں اور خودمختاری کی وضاحت کرتی ہے ۔

3.5 عالمی تجارتی ادارے 

آپ نے کبھی نہ کبھی کثیرقومی کارپوریشنوں کی تیار کردہ مصنوعات ضرور دیکھی ہوں گی ۔گزشتہ دس سال کے دوران کثیرقومی کارپوریشنوں نے ہندوستانی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کارپوریشنز دنیا کی بیشتر ترقی پذیر معیشتوں کا عام حصہ بن گئی ہیں۔جیسا کہ ہمارے آس پاس کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے۔ کثیرقومی کارپوریشنز، ایسی وسیع کمپنیاں ہیں جو بہت سے ملکوں میں اپنا کام کرتی ہیں۔ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان کا سائز بہت بڑا ہوتا ہے،وہ بہت سی مصنوعات تیار کرتی ہیں۔ ان کی ٹکنالوجی ترقی یافتہ ہوتی ہے ان کی مارکیٹنگ کی حکمت عملی اور مصنوعات سازی کا نظام پوری دنیا میں پھیلا ہوتاہے۔ اس طرح کے عالمی تجارتی ادارے ایسی وسیع صنعتی تنظیمیں ہیں جو کئی ممالک میں اپنی شاخوں کو پھیلاتی ہیں۔ان کی شاخوں کو بھی اکثریتی ملکیت والے غیرملکی الحاقیے(MOFA)کہا جاتا ہے۔ یہ تجارتی ادارے ایسے کئی علاقوں میں کام کرتے ہیں جو کئی ملکوں میں پھیلی ہوئی اپنی حکمت عملی کے ذریعہ ایک سے زیادہ مصنوعات تیارکر تے ہیں۔ ان کا مقصدایک سے دو مصنوعات تک اپنے منافعوں کو زیادہ سے زیادہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کے بجائے اپنی شاخوں کو چاروں طرف پھیلانا ہوتا ہے۔وہ بین الاقوامی معیشت پر اثر ڈالتے ہیں۔یہ اس مقصد سے ظاہر ہے کہ 200 سب سے بڑی کمپنیوں کی مجموعی فروخت 1998 میں دنیا کی GDPکے 28.3 فیصد کے برابر تھی ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 200 سب سے بڑی کثیرقومی کمپنیاں دنیا کی ایک چوتھائی معیشت پر قابض ہیں۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کثیر قومی کارپوریشنز اس وجہ سے دنیا کی معیشت کو بڑی حد تک قابو میں رکھنے پرقادر ہیں کیوں کہ ان کے پاس کثیر وسائل ہیں۔جدید ترین ٹکنالوجی اور ان کی ساکھ مضبوط ہے ۔ان سب کی بدولت وہ مختلف ممالک میں اپنا بنایا ہواکوئی بھی سامان فروخت کر سکتے ہیں۔ان سب سے بعض کارپوریشنز کسی حد تک استحصالی نوعیت کی بھی ہوسکتے ہیں اور اشیاء صرف اور سامان تعیش فروخت کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جن کی خواہش اور طلب ترقی پذیر ممالک کو ہمیشہ نہیں ہوتی۔

خصوصیات

ان کارپوریشنوں کی ایسی نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں جو انھیں دیگر پرائیویٹ سیکٹر کمپنیوں اور پبلک سیکٹر کمپنیوں /پبلک سیکٹر انٹر پرائزز سے ممتاز کرتی ہیں ۔یہ خصوصیات حسب ذیل ہیں:

(i)
وسیع مالی وسائل:  ان تجارتی اداروں کی نمایاں خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ وسیع مالی وسائل کے مالک ہوتے ہیں اور مختلف ذرائع سے رقوم اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ مختلف ذرائع سے رقوم سے حا صل کر سکتے ہیں۔ وہ حصص ڈنیچرز یا ہنڈیا ں جاری کر سکتے ہیں۔وہ اس حیثیت میں بھی ہوتے ہیں کہ مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی بینکوں سے رقم ادھار لے لیں۔انھیں سرمایہ بازار میں معتبریت حاصل رہتی ہے۔یہاں تک کہ میزبان ملک کے سرمایہ کاراور بینک بھی ان پر پیسہ لگانے کو تیار رہتے ہیں۔ان کی مالی مضبوطی اور استحکام کی وجہ سے وہ تمام حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ 
 (ii)غیر ملکی اشتراک :  عالمی تجارتی ادارے عموماً ٹکنالوجی کی فروخت ، اشیاء کی تیاری یا تیار شدہ مصنوعات کے لیے برانڈ ناموں کے استعمال سے متعلق ہندوستانی کمپنیوں سے معاہدے کرتے ہیں۔ یہ کثیرقومی کمپنیاں پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹروں کی کمپنیوں سے تعاون واشتراک کرسکتی ہیں۔ ٹکنالوجی کے تبادلے، قیمت اور ڈویڈنڈ کی ادائیگی، غیر ملکی تکنیکی ماہرین کے امتناعی کے سخت کنٹرول اور نگرانی سے متعلق معاہدے میں عموماً مختلف امتناعی شقیں عامل ہوتی ہیں۔ اپنی تجارت میں تنوع لانے اور اسے وسیع کرنے کے خواہشمند بڑے صنعتی گھرانوں نے پیٹنٹ اور وسائل، غیر ملکی زرمبادلہ وغیرہ کے معاملے میں کثیر قومی کمپنیوں اور کارپوریشنز سے اشتراک کرکے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ان غیر ملکی اشتراک کی وجہ سے اجارہ داریوں میں اضافے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور دونوں سمٹ کر چند ہاتھوں میں آگئی ہے۔ 
 (iii)  ترقی یافتہ ٹکنا لوجی:  ان تجارتی اداروں کو اپنے مصنوعات سازی کے طریقوں میں ٹکنالوجی کے اعتبار سے برتری حاصل ہے۔ وہ بین ا لاقوامی معیارات اور کوالٹی کی تخصیصات کی تکمیل کرسکتے ہیں اس کے نتیجے میں اس ملک کو صنعتی ترقی حاصل ہوتی ہے جن میں وہ کام کرتے ہیں کیونکہ وہ مقامی وسائل اور خام مواد کو پوری طرح استعمال میں لاسکتے ہیں۔ کمپیوٹرکاری اور دیگر ایجادات کثیر قومی کمپنیوںکی لائی ٹکنالوجیکل ترقیوں کی وجہ سے ہی ہیں۔ 
 (iv)  مصنوعات میں اختراع:  ان تجارتی اداروں کی نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں اعلیٰ درجہ کے ترقی یافتہ تحقیق وترقی کے شعبے ہوتے ہیں۔ جو نئی مصنوعات ایجاد کرنے اور موجودہ مصنوعات کو نفیس تر شکل وصورت دینے میں مصروف رہتے ہیں ۔ ماہیتی یا کوالٹی تحقیق کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف عالمی تجارتی ادارے ہی برداشت کر سکتے ہیں۔
(v) مارکیٹنگ سے متعلق حکمت عملیاں:  عالمی کمپنیوں کی مارکیٹنگ حکمت عملیاں دوسری کمپنیوں کے مقابلے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔ مختصر مدت میں اپنی فروخت کو بڑھانے کے لیے وہ جارحانہ حکمت عملی کا سہارا لیتی ہیں۔ ان کے پاس بازار کی اطلاعات کا زیادہ قابل اعتماد اور جدید نظام ہوتا ہے۔ اُن کے تشہیری اور فروخت کو فروغ دینے کے طریقے عموماً بہت مؤثر ہوتے ہیں۔ چونکہ انھوں نے عالمی منڈی میں پہلے ہی سے اپنا مقام بنالیا ہوتا ہے اور ان کے برانڈوں کی اچھی طرح شہرت ہوجاتی ہے۔ اس لیے ان کی مصنوعات کے بِکنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔
(vi)  بازاری علاقے کی حدود میں توسیع:  ان کے کام اور سرگرمیاں خود ان کے ممالک کی جغرافیائی حدود سے باہر پھیلی ہوتی ہیں۔ ان کی بین الاقوامی شبیہ بھی بہتر ہوتی ہے اور ان کی  مارکیٹنگ کی حدیں وسیع ہوتی ہیں جس سے انھیں بین الاقوامی برانڈ لینے میں مدد ملتی ہے۔ وہ میزبان ملک میں ذیلی کمپنیوں ، شاخوں اور الحاقی اداروں کے نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ اپنے وسیع وعریض حجم یا سائز کی وجہ سے وہ بازار میں غالب حیثیت رکھتے ہیں۔
 (vii)مرکزی کنٹرول:  ان کے ہیڈ کوارٹر ان کے اس وطن میں ہوتے ہیں جہاں سے وہ اپنی تمام شاخوں اور ذیلی اداروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ تاہم یہ کنٹرول اصل کمپنی کی پالیسی کے دائرہ کار تک ہی محدود ہوتا ہے۔ روز مرہ کی کارروائیوں میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی ۔

 3.6  مشترک مہمیں(جوائنٹ وینچر)یا مشترک کاروبار

مفہوم

جیسا کہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ تجارتی ادارے مختلف نوعیتوں کے ہوسکتے ہیں۔ نجی یا سرکاری ملکیت کی یا عالمی تجارتی ادارے۔ کوئی بھی تجارتی ادارہ اگر چاہے تو باہمی منفعت کے لیے کسی بھی دوسرے کاروباری ادارے سے ہاتھ ملاسکتا ہے۔ یہ دو سرکاری ملکیت کی، نجی یا غیر ملکی کمپنیاں ہوسکتی ہیں۔ جب دو کاروباری ادارے مشترک مقصد اور باہمی منفعت کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو اس سے ایک مشترک مہم وجود میں آتی ہے۔ کسی طرح کا بھی کاروباری ادارہ طویل مدتی رشتے کو مضبوط بنانے یا قلیل مدتی پروجیکٹوں میں تعاون و اشتراک کرنے کے لیے جوائنٹ وینچر کو استعمال کرسکتا ہے۔ فریقوں کی ضروریات کے اعتبارسے کوئی مشترک مہم لچکدار ہوسکتی ہے۔ بعد میں کسی مرحلے پر تصادم سے بچنے کے لیے ان ضروریات کو مشترک مہم کے معاہدے میں درج کیا جاتا ہے۔
کوئی بھی جوائنٹ وینچر مختلف ممالک کے دوتجارتی اداروں کے درمیان معاہدے کانتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ایسی حالت میں دونوں ملکوں کی حکومتوں کی طرف سے بعض ایسی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ۔ جن کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ 
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مشترک کاروباری مہم کا مفہوم اس اعتبار سے ایک سے زیادہ ہوسکتا ہے کہ ہم اسے کس سیاق و سباق میں استعمال کررہے ہیں۔ لیکن ایک وسیع مفہوم میں  جوائنٹ وینچر کسی مخصوص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دویا اُس سے زیادہ تجارتی اداروں کی طرف سے وسائل اور مہارت کو یکجا کرنا ہوتاہے۔ کاروبار کے فوائد اور نقصانات میں فریقین شریک رہتے ہیں۔ مشترک مہم کے اسباب میں اکثر کاروبار کی توسیع، نئی مصنوعات کی ترویج وترقی یا نئی منڈیوں کی طرف قدم بڑھانا خصوصاً کسی دوسرے ملک کی طرف شامل ہوتا ہے ۔ کمپنیوں کے لیے دوسرے کاروباری اداروں اورکمپنیوں کے ساتھ مشترک مہم کاکام کرنا اور ان کے ساتھ اہم اتحاد تشکیل دینا بہت عام سی بات ہوتی جارہی ہے۔ ان اشتراکات اور اتحاد کا سبب شایدتکمیلی صلاحیتیں اور وسائل ہیں جیسے مصنوعات کی تقسیم کی راہیں ٹکنالوجی یا سرمایہ۔ اس نوعیت کے جوائنٹ وینچر میں دویا اس سے زیادہ (اصل) کمپنیاں سرمائے ٹکنالوجی، انسانی وسائل شراکتی کنٹرول کے تحت ایک نئی حیثیت کی تشکیل کے خطرات وفوائد کی حصہ داری پر اتفاق کرتی ہیں ۔
ہندوستان میں جوائنٹ وینچر کاروبار کرنے کا بہترین طریقہ ہیں۔ ان جوائنٹ وینچر کے لیے الگ سے قوانین نہیں ہیں۔ ہندوستان میں سند یافتہ کمپنیوں کو ملک کے اندر کی کمپنیوں جیسا ہی مانا جاتا ہے۔
مشترک کاروبارکی دوقسمیں ہیں ۔
معاہداتی مشترک کاروبار
 اکیوٹی پرمبنی مشترک کاروبار

3.6.1  مشترکہ کاروبار کی قسمیں

(i) معاہداتی مشترکہ کاروبار(CJV): معاہداتی مشترکہ کاروبار میں کوئی مشترکہ ملکیت والا نیاکاروبار شروع نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی بنیاد باہمی طورپر کاروبار کرنے کی صرف ایک قرار داد ہوتی ہے۔اس میں فریقوں کے درمیان کاروبارکی کوئی مشترکہ ملکیت نہیں ہوتی بلکہ مشترکہ کاروبار کو کنٹرول کرنے کے کچھ عناصر پر عمل کیاجاتاہے۔ فرنچائزی ریلیشن شپ (Franchisee  Relationship) معاہداتی مشترکہ کاروبار کی بہت اچھی مثال ہے۔ اس طرح کی ریلیشن شپ کے کلیدی عناصر مندرجہ ذیل ہیں:
(a) ایسے کسی مشترکہ کاروبار کوچلانے کے لیے دویا زیادہ فریقوں کا ایک مشترکہ مقصد یا مشترکہ ارادہ 
(b) ہرفریق کچھ نہ کچھ سرمایہ لگائے گا۔
(c) کاروبار پر دونوں فریقوں کا کچھ نہ کچھ کنٹرول ہوگا۔
(d) یہ اتحاد(Relationship)صرف لین دین سے لین دین تک کا ہی عمل نہیں ہے بلکہ اس کا کردار (Character) نسبتاً لمبے دورانیہ کا ہوتاہے۔

مشترک
معاہداتی ایکویٹی پرمبنی
امدادباہمی قرارداد/ (اسٹریٹجک)آتلاف پارٹنرشب محدودذمہ داری والی شرکت یاپارٹنرشپ کمپنی
38()
(ii) اکیوٹی پرمبنی مشترکہ کاروبار(EJV):
اکویٹی پرمبنی مشترکہ کاروبار کی قرارداد وہ ہوتی ہے جس میں دویا زیادہ فریقوں کی مشترکہ ملکیت والی کوئی جداگانہ کاروباری اکائی فریقوں کے درمیان باہمی قرارداد کے مطابق تشکیل پاتی ہے۔اس طرح کی صورت حال میں دو یا زیادہ فریقوں کے ذریعہ مشترکہ ملکیت اس کے چلانے کے لیے بہت اہم عامل(Factor)ہے۔
اس قسم کی کاروباری اکائی کی شکل الگ الگ ہوسکتی ہے۔ مثلاً کمپنی، ساجھے داری فرم، ٹرسٹ، محدود ذمہ داری والی ساجھے داری فرم یا مشترکہ سرمایہ فنڈ وغیرہ۔
(a) اس میں یا توایک نئی اکائی بنانے کا یا موجودہ اکائی میں کسی ایک فریق کے ذریعے ملکیت میں شرکت کا سمجھوتہ ہوتاہے۔
(b) اس میں متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے۔
(c) مشترکہ ملکیت والی اکائی کا ساجھا اہتمام وانصرام
(d) سرمایہ کاری اور دیگر مالی معاملات میں ساجھا ذمہ داریاں
(e) سمجھوتہ کے مطابق ساجھا نفع اور نقصان
مشترکہ کاروبار کی اساس ایک میمورنڈم پرہوتی ہے جس پر دونوں فریق دستخط کرتے ہیں اورجس میں مشترکہ کاروبار کے سمجھوتہ کی وضاحت ہوتی ہے۔ بعد کے کسی بھی مرحلہ پر رونماہونے والی کسی بھی پیچیدگی سے بچنے کے لیے شرائط پر تفصیل سے غوروخوض اور مذاکرات ضروری ہیں۔معاہدہ اورشرائط دونوںفریقوں کے تہذیبی اورقانونی پس منظر کودھیان میں رکھ کر طے ہونے چاہئیں۔مشترکہ کاروبار کے اس معاہدہ میں یہ بھی بیان ہونا چاہیے کہ حکومت کے ذریعہ لاگوتمام ضروری منظوری یا لائسنس معینہ مدت کے اندر حاصل کرلیے جائیںگے۔
مشترکہ کاروبار کی مثالیں:

3.6.2   فوائد 

کسی شریک کار کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے ذریعے کوئی کاروبار  غیر متوقع فائدے حاصل کرسکتا ہے۔ جوائنٹ وینچر شریک تجارت کی دونوں فریقوں کے لیے حد درجہ مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک فریق کے پاس ترقی کی قوی صلاحیتیں اور اختراعی خیالات ہوسکتے ہیں لیکن پھر بھی جوائنٹ وینچر میں داخل ہو کر اس سے فائدہ اٹھانے کا امکان اس لیے رہتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی پیداواری صلاحیت وسائل اور تکنیکی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
(i)  بڑھے ہوئے وسائل اور پیداوار ی صلاحیت : فریقوں کے ساتھ آنے یالوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے موجود وسائل اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جوائنٹ وینچر کمپنی کو زیادہ تیزی سے اور مؤثر ڈھنگ سے ترقی اور توسیع کا موقع ملتا ہے۔ نئی تجارت مختلف مالی اور انسانی وسائل کو یکجا کرتی ہے اور اس طرح بازار کے مسائل کا مقابلہ کرنے کے قابل رہنے کے علاوہ نئے مواقع سے فائدہ بھی اٹھاتی ہے۔
(ii) 
 نئی منڈیوں اور تقسیم کے نیٹ ورک تک رسائی:  جب کوئی تجارتی ادارہ کسی دوسرے ملک کے شریک کار ممبران کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں شامل ہوتا ہے تو ایک وسیع ترقی کا امکان رکھنے والے بازار کا دروازہ کھلتا ہے۔ مثال کے طورپر جب غیر ملکی کمپنیاں ہندوستان میں مشترک مہم کی کمپنیاں کھولتی ہیں تو وہ وسیع ہندوستانی بازاروں تک رسائی حاصل کرتی ہیں ۔ ان کی وہ مصنوعات جو خود اپنے ملک کے بازار وں میں نقطۂ سیرابی کو پہنچ چکی ہوتی ہیں، نئے بازاروں میں آسانی سے فروخت کی جاسکتی ہیں۔ 
وہ تقسیم کے پہلے سے قائم کردہ ذرائع کا بھی فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ یعنی مختلف مقامی بازاروں میں خوردہ فروش کے مراکزسے، ورنہ اگر انھیں اپنے خوردہ فروشی کے مراکز کھولنے پڑیں تو یہ ان کے لیے بہت مہنگا پڑے گا۔
(iii) ٹکنالوجی تک رسائی:  جوائنٹ وینچر میں شریک ہونے والے بیشتر تجارتی اداروں کے لیے ٹکنالوجی بڑی وجہ ہوتی ہے۔ پیداوارکی ترقی یافتہ اور جدید طریقے جن سے اعلی معیاری مصنوعات بنائی جاسکیں، کافی وقت ، توانائی اور سرمایہ بھی بچاتی ہیں کیونکہ انھیں خود اپنی ٹکنالوجی، تشکیل اور وضع کرنی نہیں پڑتی۔ ٹکنالوجی، کارکردگی اور اثر پذیری کو بڑھاتی ہے اور اس طرح مصنوعات پر آنے والی لاگت میں کمی آتی ہے۔
(iv)  اختراع: نئی اور اختراع پسندانہ مصنوعات کے لیے بازاروں کے مطالبات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ جوائنٹ وینچرز تجارتی اداروں کو ایک ہی بازار کے لیے نئی اوراختراعی اشیاء لے کر آنے کا موقع دیتی ہیں۔ نئے خیالوں اور ٹکنالوجی کی وجہ سے خاص طور پر غیر ملکی شرکاء اختراعی مصنوعات بازار میں اتار سکتے ہیں۔
(v) پیداوار کی کم لاگت: جب بین الاقوامی کارپوریشنز ہندوستان میں اپنا پیسہ لگاتی ہیں تو وہ پیداوارکی کم لاگت کی وجہ سے زبردست فائدہ اٹھاتی ہیں۔ وہ اپنی عالمی ضروریات کے لیے معیاری مصنوعات حاصل کرسکتی ہیں۔ ہندوستان کئی مصنوعات میں اہم عالمی ذریعہ اور حد درجہ مسابقتی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
اس کے کئی اسباب ہیں مثلاً خام مال کی کم قیمت، سستے مزدور، تکنیکی اعتبار سے سندیافتہ افرادی قوت، انتظامی امور کے ماہرین، وکیلوں، چارٹرڈ اکاونٹوں، انجینئروں اور سائنسدانوں کے مختلف زمروں کے بہترین ارکان اور ملازمین۔اس طرح بین الاقوامی شریک کو مطلوبہ معیاری اور مصنوعاتی اعتبار سے کھری والی مصنوعات مل جاتی ہیں اور وہ بھی خود اُن کے وطن میں مروجہ لاگت اور قیمت کے مقابلے میں بہت کم قیمت پر۔
(vi) مصنوعات کے قائم شدہ برانڈنام: جب دوتجارتی ادارے کسی جوائنٹ وینچر میں شامل ہوتے ہیں تو دونوں فریقوں میں سے کوئی ایک دوسرے کی ساکھ سے فائدہ اُٹھاتا ہے جو بازار میں قائم ہوچکی ہوتی ہے۔ اگر جوائنٹ وینچر ہندوستان میں اور کسی ہندوستانی کمپنی کے ساتھ چل رہی ہے تو ہندوستانی کمپنی کو اپنے بنائے گئے سامان کے لیے کوئی تجارتی نام وضع کرنے یا نظام تقسیم تشکیل دینے کے لیے وقت و روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ تو پہلے ہی سے تیار بازار موجود ہے جو تیار شدہ سامان کے اترنے کے انتظار میں ہے۔اس عمل میں کافی سرمائے کی بچت ہوجاتی ہے۔

3.7   پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی)

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل میں پبلک اور پرائیویٹ شراکت داروں کے درمیان کام، ذمہ داری اور خطرات کو مستحسن طریقے سے تفویض کیا جاتا ہے۔ پی پی پی میں پبلک پارٹنرز (سرکاری شراکت دار )، سرکاری ادارے یعنی وزارتیں، محکمے، میونسپلٹیاں یا سرکاری ملکیت والے ادارے آتے ہیں۔ پرائیویٹ پارٹنر میں مقامی یا غیر ملکی (بین الاقوامی) یا پرو جیکٹ سے متعلق تکنیکی یا مالی مہارت رکھنے والا کارو باری یا سرمایہ کار شامل ہوتا ہے ۔پی پی پی میں رضاکار تنظیمیں (این جی او) اور سماج پر مبنی تنظیمیں شراکت دار ہوتی ہیں، جو پروجیکٹ سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ لہٰذا پی پی پی کی وضاحت بنیادی ڈھانچے اور دیگر خدمات کے پس منظر میں سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان کے رشتوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ پی پی پی ماڈل کے تحت سرکاری  شعبہ، اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ اس سے سماجی ذمہ داری، شعبہ جاتی اصلاحات اور سرکاری سرمایہ کی ضرورتوں کی کامیابی کے ساتھ تکمیل ہو سکے ۔ پی پی پی میں حکومتوں کا تعاون، سرمایہ کاری کے لیے پونجی، اثاثوں کی منتقلی کی شکل میں ہوتا ہے ۔ جس سے سماجی ذمہ داری، ماحولیاتی بیداری اور مقامی معلومات کے علاوہ شراکت داری میں مدد ہوتی ہے ۔ 
پارٹنرشپ میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار، کاروبار کو پوری اہلیت کے ساتھ چلانے میں اپنی عملی مہارت، انتظامی ذمہ داری اور اختراعی صلاحیت کو بروئے کار لانا ہوتا ہے ۔ 
پوری دنیا میں وہ شعبہ جہاں پی پی پی ماڈل کے تحت پروجیکٹ مکمل ہوا ہے ، ان میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم ، پانی اور صفائی ستھرائی، فضلے کا نمٹارہ، پائپ لائن، اسپتال، اسکولوں کی عمارتیں، تدریسی سہولیات ، اسٹیڈیم ، ائر ٹریفک کنٹرول، جیل، ریلویز، سڑکیں، بلنگ، دیگر اطلاعاتی ٹکنالوجی کے مقام اور ہاؤ سنگ شامل ہیں۔ 

پی پی پی ماڈل 

خصوصیات 

•سرکاری عمارتوں کی ڈیزائن کی تیاری اور تعمیر کے لیے پرائیویٹ  پارٹی کو ٹھیکہ دینا۔ 
سرکاری شعبہ کے ذریعہ اس اکائی کے لیے سرمایہ مہیا کرایا جاتا ہے اور یہ اس کی ملکیت ہوتی ہے ۔ 
اس میں اہم محرک ڈیزائن کی منتقلی اور تعمیراتی جوکھم ہوتا ہے ۔ 
استعمال  
یہ چھوٹی عملی ضرورتوں کے ساتھ سرمایہ پروجیکٹوں کے لیے موزوں ہوتا ہے ۔ 
ان سرمایہ پر و جیکٹوں کے لیے موزوں ہوتا ہے جہاں پبلک سیکٹر ، عملی ذمہ داریاں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے ۔
طاقت   
ڈیزائن اور تعمیری جوکھم کی منتقلی۔ 
پروجیکٹ کی رفتار تیز کرنے کی صلاحیت ۔ 
کمزوریاں   
ماحولیاتی معاملات میں فریقین کے ما بین ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو سکتی ہے ۔  
یہ پرائیویٹ سرمایہ کو آسانی سے متوجہ نہیں کر پاتا ۔ 
مثال   
کنڈلی مانیسر ایکسپریس وے لمیٹڈ ، اس135کلو میٹر لمبی ایکسپریس وے کے لیے حکومت کے ذریعہ زمین مہیا کرائی گئی اور کمپنی کے ذریعہ اسے مسطح کیا گیا ۔ 

اہم اصطلاحات                                        

پبلک سیکٹر                         ڈپارٹمینٹل انڈرٹیکنگ(محکمہ جاتی ادارے )                       نجی کاری

سرکاری ادارے                       سرکاری کمپنیاں                                                   عالم کاری
آئینی کارپوریشن                       سرمایہ نکاسی                                                       عالمی ادارے
اشتراک میں کاروبار                    عوامی جوابدہی                                                     سرکاری دائرہ کار کے ادارے
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ

خلاصہ

پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر:   ہر طر ح کے کاروباری ادارے چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ، صنعتی ہوں یا تجارتی، نجی ملکیت کی ہوں یا سرکاری ملکیت کے ہوں، ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ تمام قسم کی تنظیمیں ہماری روز مرہ کی معاشی زندگی کو متاثر کرتی ہیں اور اس لیے وہ ہندوستانی معیشت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ہندوستان کی حکومت نے ایک ملی جلی معیشت کے اصول کو اختیار کیا تھا جس میں نجی اور سرکاری ملکیت والے دونوں طرح کے انٹرپرائزز کو کام کرنے کی اجازت ہے۔اس لیے ہماری معیشت کو دوشعبوں یا سیکٹروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یعنی پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر۔ پرائیویٹ سیکٹر ان کاروباری اداروں پر مشتمل ہوتا ہے جس کے مالک افراد یا افراد کے گروپ ہیں۔ اداروں کی مختلف شکلیں جیسے تنہا ملکیت،شراکت، مشترک ہندو فیملی ، کوآپریٹو اور کمپنی ہیں۔ پبلک سیکٹر میں مختلف ادارے شامل ہیں جو حکومت کی ملکیت میں ہوتی ہیں اور حکومت ہی اُن کا انتظام چلاتی ہے۔ یہ یاتوجزوی یا مکمل طور پر مرکزی یا ریاستی حکومت کی ملکیت ہوسکتی ہیں۔
پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی تنظیم بندی کی شکلیں:  ملک کے کاروباری اور معاشی شعبوں میں حکومت کی شرکت کے لیے ملک کو کام کرنے کی غرض سے کسی نہ کسی طرح کے تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی پبلک انٹرپرائز اپنے کاموں کی نوعیت اور حکومت سے اپنے رشتوں کے اعتبار سے کوئی بھی ادارہ جاتی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ کسی مخصوص شکل کے ادارے کی موزونیت کا انحصار اس کی ضروریات پر ہوگا۔ ادارے کی وہ شکلیں جو کوئی پبلک انٹر پرائز اختیار کرسکتی ہے، مندرجہ ذیل ہیں:
(i)   محکمہ جاتی ادارہ 
(ii)   قانونی کارپوریشن
(iii)   سرکاری کمپنی
محکمہ جاتی ادارے:  یہ ادارے متعلقہ وزارتوں کے شعبوں کے طورپر قائم کیے جاتے ہیں اور اُنھیں خود وزارت کی توسیع کا ایک حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ حکومت ان محکموں یا شعبوں کے توسط سے کام کرتی ہے اور جو سرگرمیاں یہ انجام دیتے ہیں حکومت کے طریقۂ کار کا اٹوٹ حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
قانونی کارپوریشنز:  قانونی کارپوریشنز وہ سرکاری ادارے ہوتے ہیں جو پارلیمنٹ کے خصوصی ایکٹ کے تحت قائم کیے جاتے ہیں۔ یہ ایکٹ اُن کے اختیارات، کاموں، اُس کے ملازمین پر قابل نفاذ قوانین وضوابط اور حکومت سے اُس کے رشتوں کا تعین کرتا ہے۔ یہ کارپوریٹ ادارے آتے ہیں جو مقررہ اختیارات واعمال کے ساتھ مقننہ کی طرف سے قائم کئے جاتے ہیں اور مالی طور پر خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ کسی مخصوص میدان یا مخصوص نوعیت کی کاروباری سرگرمی پر اُن کا واضح طور پر اختیار ہوتا ہے۔
سرکاری کمپنی:  سرکاری کمپنی کا مطلب ہے کوئی ایسی کمپنی جس میں ادا شدہ اصل سرمائے کا  حصّہ جو51 فیصد سے کم نہ ہو مرکزی حکومت یا کسی ریاستی حکومت کا یا حکومت یا جزوی طور پر مرکزی حکومت کا اور جزوی طورپر ایک یا اُس سے زیادہ ریاستی حکومتوں کاہو۔ اس میں سرکاری کمپنی کی ذیلی کمپنی بھی شامل ہے۔
پبلک سیکٹر کابدلتا ہوا کردار:  ملک کی آزادی کے وقت یہ توقع کی گئی تھی کہ پبلک سیکٹر کے تجارتی ادارے کاروبار میں براہ راست شرکت کرکے یا محرک کا کام انجام دے کر معیشت کے بعض مقاصد کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ہندوستانی معیشت تبدیلی کے دور سے گذررہی ہے۔ گذشتہ 1990کے دہے کے بعد کے زمانے میں نئی معاشی پالیسیوں میں نرم کاری، نجی کاروبار اور عالم کاری پر زور دیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر کے رول کا دوبارہ تعین کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ مجہول کردار ادا کرے بلکہ فعال شرکت کے ذریعے ایک ہی طرح کی صنعت میں دیگر پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ بازار میں مقابلہ کرے۔
معیاری ڈھانچے کی تشکیل:  صنعت کاری کے عمل کو موزوں نقل وحمل اور مواصلاتی سہولتوں، ایندھن اور توانائی اور بنیادی اور بھاری صنعتوں کے بغیر قائم اور باقی نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ صرف حکومت ہی ہے جو کثیر مقدار میں سرمایہ اکٹھا کرسکتی ہے ، صنعتی تعمیرکو مربوط کرسکتی ہے اور اس کے لیے تکنیکی لوگوں اور کام گاروں کی فوج کو تربیت دے سکتی ہے۔
علاقائی توازن:  حکومت کی تمام علاقوں اور ریاستوں کو متوازن انداز میں ترقی دینے اور علاقائی عدم مساوات کو دور کرنے کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں علاقائی توازن کی ضمانت دینے کی غرض سے پسماندہ علاقوں کی ترقی منصوبہ بند ترقی کے بڑے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے۔ اور اس لیے حکومت کو پسماندہ علاقوں میں نئے ادارے قائم کرنا اور اُس کے ساتھ ہی پہلے سے ترقی یافتہ علاقوں میں پرائیویٹ سیکٹر کے خود رو پھیلاؤ کو روکنا تھا۔
پیمانہ بند معیشتیں:   جہاں کثیر سرمائے کے خرچ والی بڑے پیمانے کی صنعتیں قائم کرنے کی ضرورت پڑے،وہاں پبلک سیکٹر کو پیمانہ بند معیشتوں کا فائدہ اُٹھانے کے لیے مداخلت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
معاشی قوت کے ارتکاز پر پابندی:  پبلک سیکٹر، پرائیویٹ سیکٹر کی پیش بندی کے طور پر کام کرتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ایسے چندہی صنعتی گھرانے ہوتے ہیں، جو بھاری صنعتوں میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دولت چند یا متعدد ہاتھوںمیں سمٹ جاتی ہے اور اجارہ دارانہ طور طریقوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ 
درآمداتی متبادل:  دوسرے اور تیسرے پنج سالہ منصوبوں کے دوران ہندوستان کئی شعبوں میں خود کفیل بننا چاہتا تھا، درآمداتی متادل میں مدد کرسکنے والی بھاری انجینئرنگ میں ملوث پبلک سیکٹر کمپنیاں قائم کی گئیں۔جن سے درآمد کے متبادلوں میں مدد مل سکی۔

1991کے بعد سے پبلک سیکٹر سے متعلق سرکاری پالیسی اس کے اہم عناصر ہیں:   

امکانی طور پر قابل رسائی پبلک سیکٹر یونٹوں کے ڈھانچے کو درست کرنا؛ 
پرائیویٹ ،پبلک اور عالمی تجارتی ادارے 
ایسے پبلک سیکٹر یونٹوں کو بند کرنا جنھیں سر گرم کیا جاسکتا ہے۔
 تمام غیراہم پبلک سیکٹر یونٹوں میں حکومت کی اکوئٹی کو کم کرکے% 26پر لانا 
اور اگر ضروری ہو تو اور کم کرنا اور 
 کارکنان کے مفاد کا پوری طرح تحفظ کرنا۔
(a)  پبلک سیکٹر کے لیے محفوظ صنعتوں کی تعدا د کو گھٹا کر 12سے 8(اور پھر3) کرنا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر(3کو چھوڑ کر) تمام شعبوں میں قدم رکھ سکتا ہے اور پبلک سیکٹر کو اُن کے ساتھ مسابقت کرنی ہوگی۔ 
(b)  چند منتخب پبلک سیکٹر کے حصص کی سرمایہ نکاسی کا مطلب ہے اکیوٹی حصص کو نجی شعبے کے ہاتھوں اور عوام کو فروخت کرنا۔ اس کا مقصد وسائل مہیا کرنا اور انٹرپرائز کی ملکیت میں عام لوگوں کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ حکومت نے صنعتی سیکٹر سے دست بردار ہونے اور تمام اداروں میں اس کی اکوئٹی میں تخفیف کا فیصلہ کیا تھا۔ 
(c) بیما راکائیوں سے متعلق پالیسی، کا پرائیویٹ سیکٹر کی پالیسی جیسا ہی رہنا۔ تمام پبلک سیکٹر یونٹوں کا معاملہ، یہ فیصلہ کرنے کے لیے بیورو آف انڈسٹریل اینڈ فائنانشیل دی کنٹرکشن کے سپرد کیاگیا کہ کسی بیماریونٹ کو از سرنو بنایا جائے یاڈھانچے کو درست کیا جائے تاکہ اُسے بند کردیا جائے۔
مفاہمتی دستاویز  (میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ) :  کارگزاری میں ایم او یو (میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ) کے نظام کے ذریعے اداروں کی انتظامیہ کو کارگزاری کو بہتر بنانے کے مقصد سے وسیع تر خود مختاری دی جائے گی۔ لیکن مخصوص نتائج کے لیے اُنھیں ذمہ دار گردانا جائے گا۔
عالمی ادارے: گذشتہ دس سال کے دوران کثیرقومی کارپوریشنوں نے ہندوستانی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ اپنی وسعت مصنوعات کی کثیر مقدار ، ترقی یافتہ ٹیکنالوجی ، مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں اور پوری دنیا میں کام کے نیٹ ورک سے پہچانے جاتے ہیں۔ اس طرح عالمی انٹرپرائز وہ بہت بڑے صنعتی ادارے ہیں جو کئی ملکوں میں اپنی شاخوں کے جال کے ذریعے اپنے صنعتی اور تسویقی کاموں کو پھیلاتے رہتے ہیں۔ ان کارپوریشنز کی نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں جو اُنھیں دوسری پرائیویٹ سیکٹر کی اور پبلک سیکٹر کمپنیوں یا پبلک سیکٹرانٹر پرائزز سے ممتاز کرتی ہیں:(i)  سرمائے کے وسیع وسائل  (ii) غیرملکی اشتراک وتعاون  (iii) ترقی یافتہ ٹیکنالوجی (iv)  مصنوعاتی اختراع   (v)  مارکیٹنگ کی حکمت عملیاں  (vi)  بازاری علاقے کا پھیلاؤ  (vii)مرکز ی نظم وضبط۔
مشترک مہم  (جوائنٹ وینچر):  مشترک کاروباری مہم کا مفہوم ایک سے زیادہ اس اعتبار سے ہوسکتا ہے کہ ہم اسے کس سیاق وسباق میں استعمال کررہے ہیں لیکن ایک وسیع مفہوم میں جوائنٹ وینچر کسی مخصوص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دو یا اس سے زیادہ تجارتی اداروں کی طرف سے وسائل اور مہارت واختصاص کو یکجا کرنا ہوتا ہے ۔ کاروبار کے فوائد اور نقصانات میں فریقین شریک رہتے ہیں۔ جوائنٹ وینچر کے اسباب میں اکثر کاروبار کی توسیع، نئی مصنوعات کی ترویج وترقی یا نئی منڈیوں کی طرف پیش قدمی خصوصاً کسی دوسرے ملک کی جانب ، جیسے اسباب شامل ہیں۔ 
 

مشقیں

مختصر جوابی سوالات

.1 پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کے نظرئیے کی وضاحت کیجیے۔
.2 پرائیویٹ سیکٹر میں مختلف اقسام کے اداروں کے بارے میں بتائیے۔
.3 پبلک سیکٹر کے تحت آنے والی مختلف اقسام کے ادارے کون سے ہیں؟
.4 پبلک سیکٹر کے تحت آنے والے بعض انٹر پرائزز کے نام لکھیں اور اُن کی زمرہ بندی کریں۔
.5 سرکاری کمپنی کی شکل کی تنظیموں، ادارے کو پبلک سیکٹر کی دوسری نوعیتوں کی تنظیموں پر ترجیح کیوں دی جاتی ہے؟
.6 حکومت ملک میں علاقائی توازن کیسے برقرار رکھتی ہے ؟
.7 پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے معنی بتائیں۔

طویل جوابی سوالات

.1 پبلک سیکٹر سے متعلق صنعتی پالیسی 1991کی وضاحت کیجیے۔
.2 1991سے پہلے پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کا کیاکردار تھا ؟
.3 کیا منافع اور کارکردگی کے اعتبار سے پبلک سیکٹر کی کمپنیاں پرائیویٹ سیکٹر سے مقابلہ کرسکتی ہیں ؟ اپنے جواب کے اسباب بھی لکھئے۔
.4 ملٹی نیشنل کمپنیز کو کاروباری اداروں سے برتر کیوں تصور کیا جاتا ہے؟
.5 جوائنٹ وینچر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں شامل ہونے کے کیا فائدے ہیں؟
.6 حکومت ملک میں علاقائی کوانن کیسے برقرار رکھتی ہے ۔ 

پروجیکٹ ورک

.1    ان پبلک سیکٹر کمپنیوں کے بارے میں معلومات یکجا کیجئے جو گزشتہ 2-3سالوں میں سرمایہ نکاسی کے لیے منتخب کی گئی ہیں۔ ان فیصلوں سے پیدا ہونے والے تنازعات کا تجزیہ بھی کیجیے۔ ایک پراجیکٹ رپورٹ تیار کیجیے۔

.2     ایسی ہندوستانی کمپنیوں کی فہرست بنائیے جنھوں نے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا ہے۔ ایسی مہموں سے حاصل ہونے والے فوائد بھی معلوم کیجیے۔