3.2 پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر
ہر طرح کے کاروباری ادارے چھوٹے ہوں یا بڑے ، صنعتی ہوں یا تجارتی، نجی ملکیت والے ہوں یا سرکاری ملکیت کے ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ یہ ادارے ہماری روز مرہ معاشی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور اس لیے وہ ہندوستانی معیشت کا حصہ بن گئے ہیں ۔ ہندوستان کی معیشت چونکہ نجی ملکیت اور سرکاری ملکیت اور تجارتی اداروں پر مشتمل ہے اس لئے مخلوط معیشت کہتے ہیں۔ حکومت ہند نے ملک کے لیے مخلوط معیشت کا انتخاب کیا ہے جس میں نجی ملکیت والے اور سرکاری ملکیت والے دونوں اداروں کو کام کرنے کی اجازت ہے۔ اس لیے اس معیشت کو دو شعبوں یا سیکٹروں میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر ۔
جیسا کہ آپ نے پچھلے باب میں پڑھا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر افراد یا افراد کے گروہ کے زیر ملکیت والے کاروبار پر مشتمل ہوتا ہے۔ کاروباری تنظیم کی مختلف قسمیں یعنی تنہاملکیت ، شراکتی ملکیت، مشترک ہندوخاندان امداد باہمی اور کمپنی شکل میں ادارے ہیں۔
پبلک سیکٹر مختلف قسم کے اداروں پر مشتمل ہوتا ہے جو سرکاری ملکیت اور زیر انتظام ہوتے ہیں۔ یہ ادارے جزوی یا کلی طورپر مرکزی یا ریاستی حکومت کی ملکیت ہوسکتے ہیں۔ وہ کسی وزارت کا بھی حصہ ہوسکتے ہیں اور انھیں پارلیمنٹ کے کسی مخصوص قانون کے ذریعے قائم کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت ان کاروباری اداروں اور امداد باہمی کے ذریعے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔
حکومت وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی اپنی پالیسی کی قراردادوں میں ان سر گرمیوں کے دائرہ کار کی وضاحت کرتی ہے جس میں نجی سیکٹر اورسرکاری سیکٹر کو کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ حکومت ہند نے صنعتی پالیسی قرارداد1948میں صنعتی شعبہ کی ترقی کے تئیں اپنے موقف کی وضاحت کی تھی۔ اس میں پرائیویٹ اور سرکاری شعبہ کے کردار کی وضاحت کی گئی تھی۔ حکومت مختلف قوانین و ضوابط کے ذریعہ پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر دونوں کی معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔1956 کی صنعتی پالیسی کی قرارداد میں بھی پبلک سیکٹر کی تعمیل کے لئے بعض مقاصد مقرر کیے گئے تھے تاکہ صنعت کاری اور شرح نمو تیز کی جاسکے ۔ پبلک سیکٹر کو کافی اہمیت دی گئی تھی ، لیکن اس کے ساتھ ہی پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی انحصار پر بھی زور دیاگیا تھا۔ 1991کی صنعتی پالیسی تمام پالیسیوں سے بالکل مختلف تھی جس میں حکومت نے پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کو زیادہ آزادی دینے کی تجویز رکھی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی تجارتی اداروں کو براہ راست سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی تھی۔ اس طرح کثیر قومی کار پو ریشنز یا عالمی تجارتی اداروں کوجو ایک سے زیادہ ملکوں میں کاروبار کرتے ہیں، ہندوستانی معیشت میں قدم رکھنے کا موقع مل گیا۔اس طرح ہندوستان کی معیشت میں پبلک سیکٹر کی اکائیاں، پرائیویٹ سیکٹر اور عالمی ادارے ساتھ ساتھ کام کر رہی ہیں۔
3.3 عوامی شعبے کے تجارتی اداروں کو منظم کرنے کی شکلیں یا طریقے
ملک کے کاروباری اور معاشی سیکٹروں میں حکومت کی شرکت کے لیے کسی نہ کسی طرح کے تنظیمی خاکے کی ضرورت پڑتی ہے جس کے ذریعے کام کیا جاسکے ۔ آپ پرائیویٹ سیکٹر کی کاروباری تنظیموں مثلاً تنہا ملکیت ، شراکت داری ،ہندوغیر منقسم خاندان اور کمپنی کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ حکومت ہند نے صنعتی پالیسی قرار دار 1948میں صنعتی شعبہ کی ترقی کے تئیں اپنے موقف کی وضاحت کی تھی۔ اس میں پرائیویٹ اور سرکاری شعبہ کے کردار کی وضاحت کی گئی تھی۔ حکومت مختلف قوانین و ضوابط کے ذریعہ پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر دونوں کی معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے ۔
پبلک سیکٹر میں جیسے ہی ترقی ہوتی ہے تو اس کی تنظیم کے بارے میں سوال پیدا ہوا ہے کہ اس کی تنظیم یا اس کا تنظیمی ڈھانچہ کس شکل کا ہونا چاہیے ۔حکومت کو پبلک سیکٹر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن حکومت اپنے عوام، اپنے دفاتراور ملازمین کے ذریعے کام کرتی ہے اور یہ سب حکومت کی جانب سے فیصلے کرتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے حکومت کی طرف سے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی غرض سے سرکاری تجارتی ادارے تشکیل دیے گئے تھے اور ان سے توقع کی جا تی ہے کہ وہ آج کی اعتدال پسند اور مسابقتی دنیا میں ملک کی معاشی ترقی میں اپنا تعاون دیں گے۔
یہ سرکاری انٹر پرائززعوام کی ملکیت ہیں اور وہ پارلیمنٹ کے توسط سے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرکاری ملکیت ہیں، وہ اپنی سر گرمیوں کے لیے سرکاری رقوم کی استعمال کرتے ہیں اور انہیں سرکار کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتاہے۔
اپنی کاروباری کارکردگیوں کی نوعیت اور حکومت سے اپنے تعلق کے اعتبار سے کوئی پبلک انٹر پرائز (سرکاری ادارہ)کوئی مخصوص ڈھانچہ اختیار کر سکتا ہے۔ کسی مخصوص تنظیمی ڈھانچے کا انحصا ر اس کی ضروریات پر ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ عام اصولوں کے مطابق پبلک سیکٹر کے کسی ادارے کی تنظیمی کار کردگی اورپیداواریت اور کوالٹی کا معیار یقینی بننا چاہئے۔
کوئی پبلک انٹر پرائز مندرجہ ذیل تنظیمی شکلیں اختیار کرسکتا ہے:
(i) ڈپارٹمنٹل انڈر ٹیکنگ(محکمہ جاتی ادارے)
(ii) آئینی کارپوریشن
(iii) سرکاری کمپنی
3.3.1 ڈپارٹمنٹل انڈر ٹیکنگز (محکمہ جاتی ادارے)
پبلک انٹر پرائز ، تنظیمی ڈھانچہ کو تشکیل دینے کی قدیم ترین اور روایتی شکل ہے۔ یہ ادارے کسی وزارت کے محکموں کے طور پر قائم کیے جاتے ہیں اور خود وزارت کا ایک حصہ یا اس کی توسیع تصور کیے جاتے ہیں ۔ حکومت ان محکموں کے توسط سے کام کرتی ہے ان کی طرف سے انجام دی جانے والی سرگرمیاں حکومت کی کارکردگی کا اٹوٹ حصہ ہوتی ہیں۔ وہ خود مختار آزاد اداروں کی حیثیت سے تشکیل نہیں دیے گئے ہیں اور اس اعتبار سے خود مختار قانونی شناخت کی حیثیت نہیں رکھتے ۔ وہ حکومت کے افسروں کے توسط سے کام کرتے ہیں اوراس کے ملازمین حکومت کے ملازمین ہوتے ہیں ۔ یہ ادارے مرکزی یا ریاستی حکومت کے تحت ہو سکتے ہیں اور ان پر مرکزی یاریاستی حکومت کے ضابطوں کا ہی اطلاق ہوسکتا ہے ۔ اس طرح کے اداروں کی مثالیں ریلویز اور محکمہ ڈاک وتار ہیں۔
خصوصیات
محکمہ جاتی اداروں کی اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں :
(i) ان تجارتی اداروں کے لیے سرمایہ براہ راست سرکاری خزانے سے آتا ہے اور حکومت کے سالانہ بجٹ میں یہ رقم مختص ہوتی ہیں ۔یہ ادارے جو منافع کماتے ہیں وہ بھی سرکاری خزانے میں جمع ہوتا ہے ۔
(ii) یہ ادارے حساب کتاب اور آڈٹ کے ان ضابطوں کے پابند ہوتے ہیں جن کا اطلاق حکومت کی دیگر سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔
(iii) ان اداروں کے ملازمین سرکاری ملازمین ہوتے ہیں اور ا ن کی تقرری اور ملازمت کی شرائط وہی ہوتی ہیں جو براہ راست حکومت کے تحت آنے والے ملازمین کی ہوتی ہیں۔ ان کے سربراہ آئی اے ایس افسران اور سول سرونٹس ہوتے ہیں جن کاتبادلہ ایک وزارت سے دوسری وزارت میں کیا جا سکتا ہے۔
(iv) عموماً انھیں سرکاری محکمے کا ایک ذیلی ڈویژن تصور کیا جاتا ہے اوریہ وزارت کے براہ راست کنٹرول میں کام کرتے ہیں۔
(v) یہ ادارے وزارت کو جواب دہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی انتظامیہ متعلقہ وزارت کے تحت آتی ہے ۔
خوبیاں
اس طرح کے محکمہ جاتی اداروں کے بعض فائدے ہوتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:
(i) یہ ادارے اپنے کاموں پر مؤثر کنٹرول کے لیے پارلیمنٹ کو اپنا اختیار استعمال کرنے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
(ii) یہ اعلیٰ درجے کی عوامی جواب دہی کو یقینی بناتے ہیں۔
(iii) ادارہ جو منافع کماتا ہے وہ براہ راست سرکاری خزانے میں جاتا ہے اور اس طرح یہ حکومت کے لیے آمدنی کا ذریعہ ہے۔
(iv) قومی سلامتی کے اعتبار سے فرم کی یہ شکل موزوں ترین ہے کیوں کہ یہ متعلقہ وزارت کے براہ راست کنٹرول اور نگرانی میں رہتا ہے ۔
حدود
اس قسم کے اداروں میں بعض سنگین خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
(i) محکمہ جاتی اداروںمیں کوئی لچک نہیں ہوتی، جو رکاوٹ سے مبّرا کاروباری سرگرمیوں کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
(ii) ایسے اداروں کے ملازمین اور شعبوں کے سربراہوں کو متعلقہ وزارت کی منظوری کے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اس کی وجہ سے جہاں پر فوری فیصلہ کی ضرورت ہوتی ہے وہاںمعاملات کو نمٹانے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
(iii) یہ ادارے یا انٹرپرائزز کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ افسر شاہوں کی محتاط اور قدامت پسندانہ منظوری کی شرط انھیں مہم جویانہ کوششوں کا موقع نہیں دیتی ۔
(iv) روز مرہ کے کاموں میں ضابطہ جاتی پابندیاں ہیں اور پروپر چینل سے گزارے بغیر کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
(v) وزارت کی طرف سے بہت زیادہ سیاسی مداخلت ہوتی ہے۔
(vi) یہ ادارے عام طور پر صارفین کی ضروریات کے تئیں بے حس ہوتے ہیں ۔ اور یہ انہیں معقول خدمات فراہم نہیں کرتے۔
3.3.2 قانونی حیثیت کی کارپوریشنس
قانونی حیثیت کے حامل یہ کارپوریشنر ایسے کاروباری ادارے ہوتے ہیں جو پارلیمنٹ کے خصوصی قانون کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں۔ اس خصوصی قانون میں ان اداروں کے اختیارات وذمہ داریاں اورکاموں نیز ملازمین کے نظم وضبط سے متعلق قواعد وضوابط اور سرکاری محکموں سے ان کے تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔
یہ قانون کے ذریعہ وجود میں آیا ایک کارپوریٹ ادارہ ہوتاہے۔ جس کے اختیارات اور کام کاج بالکل واضح ہوتے ہیں اور یہ خصوصی شعبہ ،خصوصاً تجارتی سرگرمیوں کی قسم پر مکمل کنٹرول کے ساتھ مالی طور پر پوری طرح آزاد اور خود مختار ہوتا ہے۔ یہ ایک کارپوریٹ شخص کی طرح ہوتا ہے ، جو اپنے نام سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے آئینی حیثیت کے حامل کارپوریشن میں حکومت کا اختیار اور معقول حد تک پرائیویٹ اداروں کے کام کرنے کی لچک ہوتی ہے۔
خصوصیات
آئینی کارپوریشنوں کی بعض نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں ہے:
(1) کارپوریٹ ادارے پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت قائم کیے جاتے ہیں اور یہ قانون کی شرائط کے پابند ہوتے ہیں اور اسی کے تحت کام کرتے ہیں۔ قانون میں ان کے مقاصد، اختیارات اور مراعات کی وضاحت کی گئی ہے۔
(ii) یہ پوری طرح حکومت کی ملکیت میں ہوتے ہیں۔ حتمی مالیاتی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے اور اسے ان کارپوریشنوں کی آمدنی کے استعمال کا اختیار حاصل ہے۔اس کے ساتھ ہی اگر کارپوریشن کو کوئی خسارہ ہو تو اس کی ذمہ داری بھی حکومت کو ہی قبول کرنی ہوتی ہے۔
(iii) یہ ایک کارپوریٹ باڈی (ہیئت اجتماعی ) ہے جو مقدمہ دائر کر سکتی ہے اور جس پر مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے، یہ کسی سے کوئی معاہدہ کر سکتی ہے اور اپنے نام سے جائداد حاصل کر سکتی ہے۔
(iv) اس قسم کے ادارے عام طور پر آزادانہ سرمایہ حاصل کرتے ہیں ۔ یہ مالیہ کے ذریعہ حکومت اور عوام سے قرض لے کر ، اپنی اشیا اور خدمات کی فروخت سے حاصل منافع کے ذریعہ سرمایہ حاصل کرتے ہیں۔ انہیں اپنی آمدنی کو استعمال کرنے کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے۔
(v) اس پر حساب کتاب اور آڈٹ کے ان ضابطوں کا اطلاق نہیں ہوتا جن کا اطلاق حکومت کے محکموں پر ہوتا ہے۔ اور نہ ہی اسے حکومت کے مرکزی بجٹ سے کوئی لینا دینا ہوتا ہے۔
(vi) ان اداروں کے ملازمین سرکاری یا سول سرونٹس نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ سرکاری قواعد وضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کی شرائط ملازمت خود ایکٹ کی شقوں کی پابند ہوتی ہیں۔ ان تنظیموں کی سر براہی کے لیے بعض افسروں کو سرکاری محکموں سے ڈپوٹیشن پر یعنی عارضی طور پربلا یا جاتا ہے۔
اس طرح اداروں کو کام کاج میں بعض فوائد حاصل ہوتے ہیں جو حسب ذیل ہیں:
(i) انھیں اپنے کام کاج میں آزادی اور اعلی درجے کی عملی لچکدار ی حاصل ہوتی ہے۔ وہ ناپسندیدہ سرکاری ضابطوں اور کنٹرول سے آزاد ہوتے ہیں۔
(ii) چوں کہ ان اداروں کو فنڈ مرکزی بجٹ سے نہیں ملتا اس لئے ان کی آمدنی اور وصولی سمیت مالی امور میں حکومت عموماً مداخلت نہیں کرتی۔
(iii) یہ ادارے چونکہ خود مختار ہوتے ہیں۔یہ ایکٹ کے ذریعہ تفویض کردہ اختیارات کے اندر خود اپنی پالیسیاں اور ضابطے وضع کرتے ہیں۔ ایکٹ میں چند ایسے معاملات / مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے لئے متعلقہ وزارت کی پیشگی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔
(vi) قانونی کارپوریشن اقتصادی ترقی کا ایک قیمتی ذریعہ ہوتے ہیں۔انھیں حکومت کے اختیار کے علاوہ پرائیویٹ اداروں کی پہل بھی شامل ہوتی ہے۔
حدود
:اس قسم کے اداروں میں کئی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں:
(i) در حقیقت اس طرح کے اداروں میں اتنی عملی لچک نہیں ہوتی جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔ تمام اقدامات کئی قواعد وضوابط سے مشروط ہوتے ہیں۔
(ii) بڑے فیصلوں میں ، یا ان معاملات میں جن کا سروکار بڑی رقموں سے ہو، ہمیشہ سرکاری مداخلت ہوتی ہے۔
(iii) جہاں عوامی مسائل پر کارروائی کا معاملہ ہو وہاں بدعنوانی کا بول بالا ہوتاہے۔
(iv) حکومت کا عام طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کارپوریشن بورڈکے مشیروں کا تقررکرتی ہے۔ اس سے معاہدوں اور دیگر فیصلوں میں کارپوریشن کی آزادی سلب ہوتی ہے۔ اگر کوئی نااتفاقی ہوتی ہے تو معاملے کو آخری فیصلے کے لیے حکومت کے سپرد کیا جاتا ہے۔ اس سے کارروائی میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔
3.3.3 سرکاری کمپنی
سرکاری کمپنی، کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت قائم کی جاتی ہے۔ اس کا رجسٹریشن اور اس کی نگرانی ایکٹ کے التزامات کے ذریعہ ہوتے ہیں ۔ یہ ادارے خالصتاً کاروباری مقاصد اور پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کے حقیقی جذبے سے قائم کئے جاتے ہیں۔
کمپنیز ایکٹ 2013 کی دفعہ (45)2کے مطابق سرکاری کمپنی کا مطلب ، ایسی کمپنی ،جس میں مرکزی حکومت یا کسی ریاستی حکومت کا ادا شدہ سرمایہ 51فیصد سے کم نہ ہو یا اس میں مرکزی حکومت کا جزوی طور پر ایک یا ایک سے زائد ریاستی حکومتوں یا ایسی کمپنی کا جو سرکاری کمپنی کی ذیلی کمپنی ہو ، اس کا جزوی حصص رکھتی ہو ۔کمپنیز ایکٹ 2013کے تحت کمپنی کی تشریح میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ ایکٹ کے تمام التزامات، جب تک کہ ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوتی ہے ، تمام سرکاری کمپنیوں کے لیے قابل عمل ہوں گے ۔ ایک سرکاری کمپنی ،پرائیویٹ لمیٹڈ یا پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم ہو سکتی ہے۔ بعض ایسے التزامات ہیں جو ڈائریکٹروں اور دوسرے انتظامی عملہ کی تقرری /ریٹائرمنٹ کے لیے قابل عمل ہیں۔
مندرجہ بالا تعریفوں سے واضح ہے کہ حکومت کمپنی کے ادا شدہ حصصی سرمایہ پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے۔ کمپنی کے شیئرز یاحصص صدر جمہوریہ ہند کے نام سے خریدے جاتے ہیں۔ چونکہ حکومت کمپنی کے زیادہ ترحصص کی مالک ہوتی ہے اور ان کمپنیوں کے انتظام پر اپنے اختیار کا استعمال کرتی ہے۔ ا س لیے انہیں سرکاری کمپنیاں کہا جاتا ہے۔
خصوصیات
سرکاری کمپنیوں کی بعض خصوصیات ہوتی ہیں۔ جو انھیں دوسری طرح کے اداروں سے ممتازرکھتی ہیں۔ یہ خصوصیات درج ذیل ہیں:
(i) یہ ایسا ادارہ ہے جو کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت قائم ہوا ہے۔
(ii) کمپنی کسی تیسرے فریق کے خلاف کسی عدالت میں مقدمہ دائر کرسکتی ہے اور اس کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔
(iii) کمپنی کسی سے کوئی معاہدہ کرسکتی ہے اور خود اپنے نام سے جائداد حاصل کرسکتی ہے۔
(iv) کسی دوسری پبلک لمیٹڈ کمپنی کی طرح ہی کمپنی کا انتظام و انصرا م کمپنیز ایکٹ کے ضابطوں کے تحت ہوتا ہے۔
(v) کمپنی کے ملازمین کا تقرر کمپنی کے میمورنڈم اینڈ آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن میں درج اس کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیاجاتا ہے ۔ میمورنڈم اینڈ آرٹکلز آف ایسوسی ایشن کمپنی کے اصل دستاویزات ہوتے ہیں جن میں کمپنی کے اغراض ومقاصد اور قواعد وضوابط تحریر ہیں۔ کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت کمپنی کی تشریح میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ ایکٹ کے تمام التزامات ،جب تک کوئی مخصوص تبدیلی نہ کی گئی ہو، سرکاری کمپنیوں کے لیے قابلِ عمل ہوتے ہیں۔
(v) ان کمپنیوں پر حساب اور آڈٹ کے قواعد وضوابط کی پابندی لازم نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے کسی آڈیٹر کو مقرر کیا جاتا ہے اور کمپنی کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ یا ریاستی مقننہ میں پیش کرنی ہوتی ہے۔
(vii) سرکاری کمپنی اپنا فنڈسرکاری شیئر ہو لڈنگ اور پرائیویٹ شیئر ہولڈروں سے حاصل کرتی ہے۔ اسے سرمایہ بازار سے بھی فنڈ حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
خوبیاں
سرکاری کمپنیوں کو کئی فائدے حاصل رہتے ہیں۔ جو حسب ذیل ہیں:
(i) سرکاری کمپنی انڈین کمپنیز ایکٹ کی شرائط پوری کرکے قائم کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ میں الگ سے ایکٹ لانا ضروری نہیں ہے۔
(ii) حکومت کے علاوہ بھی اس کی ایک الگ قانونی حیثیت ہوتی ہے ۔
(iii) اسے تمام انتظامی فیصلوںمیں خودمختاری حاصل ہوتی ہے اور یہ کارباری مصلحتوں کے مطابق اقدامات کرتی ہے۔
(iv) یہ کمپنیاں معقول قیمتوں پر اشیاء اور خدمات فراہم کرکے بازار پر کنٹرول رکھتی ہیں اور غیر صحت مند کاروباری طریقوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔
حدود
ان کمپنیوں کودی گئی خود مختاری کے باوجود ان کی بعض خامیاں اور حدود بھی ہیں۔
(i) حکومت چونکہ بعض کمپنیوں میں واحد شیئر ہولڈر ہوتی ہے۔ اس لیے کمپنیز ایکٹ کے ضابطوں کی کوئی خاص معنویت نہیں رہ جاتی۔
(ii) یہ آئینی ذمہ داری سے بچتی ہے جب کہ حکومت کے زیرکفالت کسی کمپنی کو ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔یہ براہ راست پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں ہوتی۔
(iii) حکومت چونکہ تنہااور سب سے بڑی شیئرہولڈر ہوتی ہے اس لیے کمپنی کا انتظام اور ایڈمنسٹریشن حکومت کے ہی ہاتھ میں رہتا ہے۔ اس طرح سرکاری کمپنی کا مقصد جو کسی دیگر کمپنیوں کی طرح ہی رجسٹرڈ ہوتی ہے، ختم ہوجاتا ہے۔
3.4 پبلک سیکٹر کا بدلتا ہوا کردار
ملک کی آزادی کے وقت یہ توقع کی گئی تھی کہ پبلک سیکٹر کے تجارتی ادارے، کاروبار میں براہ راست شرکت یا محرک کی حیثیت سے کام کرکے معیشت کے بعض مقاصد کو حاصل کرنے میں اہم کردار نبھائیں گے۔پبلک سیکٹر معیشت کے دوسرے شعبوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرے گا اور اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔پرائیویٹ سیکٹر ان پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا جو بھاری سرمایہ کاری کا مطالبہ کرتے ہوں اور جن میں پیداوارسے پہلے کی مدت طویل ہو۔ حکومت نے یہ ذمہ داری خود قبول کی کہ بنیادی ڈھانچے کی سہولیات اور معیشت کے لیے لازمی وسائل اور خدمات فراہم کی جائیں۔
ہندوستانی معیشت تبدیلی دور سے گذر رہی ہے۔ترقی کے ابتدائی مراحل میں پنج سالہ منصوبوں میں پبلک سیکٹرکو حد درجہ اہمیت دی گئی۔90کے دہے کے بعد کے زمانے میں نئی اقتصادی پالیسیوں کا زور نرم کاری،نجی کاری اور عالم کاری یا گلوبلائزیشن پر تھا۔پبلک سیکٹر کے رول کا تعین دوبارہ کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ غیر فعال ہو کر رہ جائے بلکہ یہ کہ فعال طور پر معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے اور ایک ہی صنعت میں دیگر پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کے ساتھ مسابقت کرے۔ انہیں سرمایہ کاری پر ہونے والے خساروں اور منافعوں کے لیے بھی جواب دہ بنایا گیا۔اگر کوئی پبلک سیکٹر مسلسل خسارے میں چل رہا ہوتا تھا تو مکمل جانچ پڑتال یا کمپنی بند کر دینے کے لیے اسے بورڈ آف انڈسٹریل فائنانس اینڈ ری کنسٹرکشن (BIFR)کے سپرد کیا جاتا تھا۔خراب کار کردگی والے پبلک سیکٹر یونٹوں کے کام کا جائزہ لینے کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں اور اس کے ساتھ رپورٹ دی گئی تھی کہ ان کی انتظامی صلاحیت کو کس طرح بہتر اور نفع بخش بنایا جائے۔ پبلک سیکٹر کا رول یقیناوہ نہیں تھا جس کے بارے میں 60 یا 70 کے دہوں میں زور دیا گیاتھا۔
(i) بنیادی ڈھانچے کی تعمیر : کسی بھی ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر صنعت کاری کی اولین شرط ہوتی ہے۔آزادی کے قبل کے زمانے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نہیں ہوئی تھی اور اسی لیے صنعت کاری کی رفتار بہت سست تھی۔صنعت کاری کے عمل کو نقل و حمل اور مواصلات کی معقول سہولتوں،ایندھن اور توانائی اور بنیادی اور بھاری صنعتوں کے بغیر دیر پا نہیں بنایا جا سکتا۔ پرائیویٹ سیکٹر نے بھاری صنعتوں میں سرمایہ کاری یا اسے کسی طرح ترقی دینے میں پیش قدمی کا ثبوت نہیں دیا۔اس کے پاس فوری طور پر بھاری صنعتیں قائم کرنے کے لیے نہ تربیت یافتہ کارکنان تھے اور نہ ہی مالی وسائل جس کی ضرورت کمپنیوں کو تھی ۔
یہ صرف حکومت ہی تھی جو بڑی مقدار میں سرمایہ فراہم کر سکتی، صنعتی تعمیرات کو مربوط کر سکتی اور مستریوں اور ورکرس کو تربیت دے سکتی تھی۔ریل، سڑک، آبی اور ہوائی نقل و حمل حکومت کی ذمہ داری تھی اور ان کی توسیع نے صنعت کاری کو تیز رفتار بنانے میں تعاون دیا ہے اور مزید معاشی ترقی کی ضمانت دی ہے۔ پبلک سیکٹر کے تجارتی اداروں کو بعض مخصوص شعبوں کی شناخت کرنا تھا جہاںسرمایہ کاری ہونی تھی۔
(a) اہم سیکٹر کو بنیادی ڈھانچہ سونپ دیا جائے کیوں کہ اسے پیچیدہ اور جدید ترین ٹکنالوجی، بڑی اور موثر تنظیمی دھانچوں جیسے فولاد کے کارخانے، بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ، شہری ہوابازی ، ریلوں، پٹرولیم، سرکاری تجارت اور کوئلہ وغیرہ کے لیے کثیر سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
(b) جہاں پرائیویٹ سیکٹر کے انٹر پرائززمطلوبہ سمت میں کام نہ کر رہے ہوں مثلاً کیمیائی کھاد،دواساز کمپنیاں، پیٹرو کیمکلز، اخباری کاغذ،درمیانی اور بھاری انجینئرنگ مرکزی سیکٹر کو سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔
(c) آئندہ سرمایہ کاری مثلاً ہوٹلوں میں ،پروجیکٹوں کے انتظام میں،مشاورتی ایجنسیوں میں ٹیکسٹائلز میں اور آٹو موبائلز وغیرہ میں سرمایہ کاری کی جائے۔
(ii) علاقائی توازن: تمام علاقوں اور ریاستوں کو متوازن انداز میں ترقی دینے اور علاقائی نا برابریوں کو دور کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے ۔آزادی سے پہلے کے زمانے میں بیشتر صنعتیں چند علاقوں تک ہی محدود تھیں مثلاً بندرگاہی شہروں تک۔ 1951 کے بعد حکومت نے اپنے پنج سالہ منصوبوں میں یہ ضابطہ درج کیا کہ خصوصی توجہ ان علاقوں پر دی جائے گی جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں اور اس لیے پبلک سیکٹر کی صنعتیں دانستہ طور پر قائم کی گئیں۔معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے، ورک فورس کو روزگار فراہم کرنے اور ذیلی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے چار بڑے اسٹیل پلانٹ لگائے گئے ۔اس مقصد کو کسی حد تک حاصل کیا گیا لیکن اور بھی بہت کچھ کرنے کے لیے امکان موجود ہے۔ ملک میں علاقائی توازن قائم کرنے کی غرض سے پسماندہ علاقوں کو منصوبہ بند ترقی اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔اس لیے حکومت کو پسماندہ علاقوں میں نئے تجارتی اداروں کی نشاندہی کرنی پڑی اور ساتھ ہی پہلے سے ترقی یافتہ علاقوں میں پرائیویٹ سیکٹر کی اکائیوں کے اضافے کو روکنا پڑا۔
(iii) معیشتوں کے پیمانے: جہاں بڑے پیمانے کی صنعتوں کے لیے بڑے سرمائے درکار ہیں، وہاں سرکاری شعبے کو پیمانے کی معیشتوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے پبلک سیکٹر کو میدان میں اترنا پڑا۔الکٹرک پاور پلانٹس،قدرتی گیس،پٹرولیم اور ٹیلیفون کی صنعتیں پبلک سیکٹر کی مثالیں ہیں جنھوں نے بڑے پیمانے کی اکائیاں لگائیں۔معاشی طور پر کام کرتے رہنے کے لیے ان یونٹوں یا پیداواری اکائیوں کو وسیع تر بنیاددرکار تھی جو سرکاری وسائل اوربڑے پیمانے پر ہونے والی پیداوار کے ذریعہ ہی ممکن تھا ۔
(iv) معاشی قوت کے ایک جگہ مرکوز ہونے پر پابندی: پبلک سیکٹر پرائیویٹ سیکٹر پر لگام لگانے کا کام کرتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ایسے چند ہی صنعتی گھرانے ہوئے ہیں جو بھاری صنعتوں میں سرمایہ لگانے کے لیے رضا مند ہوں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع ہوتی رہتی ہے اور اجارہ دارانہ رویوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔اس سے آمدنی میں عدم مساوات کو بڑھاوا ملتا ہے جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
پبلک سیکٹر بڑی صنعتیں لگانے کے قابل ہوتا ہے جس کے لیے کثیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سے ملنے والی آمدنی اور منافع دونوں میں ملازمین اور کارکنان کی ایک بڑی تعدادحصہ دار ہوتی ہے۔یہ بات پرائیویٹ سیکٹر میں دولت اور معاشی قوت کے ایک جگہ جمع ہونے کو روکتی ہے۔
(v) درآمداتی متبادل: دوسرے اور تیسرے پنج سالہ منصوبوں کی مدت کے دوران ہندوستان کا مقصد کئی میدانوں میں خود کفالت حاصل کرناتھا۔زر مبادلہ حاصل کرنا بھی ایک مسئلہ تھا اور مضبوط صنعتی بنیاد کے لیے درکار بھاری مشینری درآمد کرنا مشکل کام تھا۔اسی وقت درآمداتی تبدل میں مدد کر سکنے والی ہیوی انجینئرنگ سے متعلق پبلک سیکٹر کی کمپنیاں قائم کی گئی تھیں۔اور اس کے ساتھ ہیSTCاورMMTCجیسی پبلک سیکٹر کی کمپنیوں نے ملک کی برآمدات کو وسعت دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔
(iv)
1991سے پبلک سیکٹر سے متعلق سرکاری پالیسی: حکومت ہند نے 1991میں اپنی نئی صنعتی پا لیسی میں پبلک سیکٹر میں چار اہم اصلاحات شروع کی تھیں۔پبلک سیکٹر سے متعلق حکومت کی پالیسی واضح اور سیدھی سادی ہے۔اس کے بنیادی عناصر ہیں:
- امکانی طور پرچلائے جاسکنے والے PSU'sکی دوبارہ درستگی اور تجدید۔
- دوبارہ نہ چلائے جا سکنے والےPSU'sکو بند کیا جائے۔
- اگر ضرورت ہو تو تمام غیراہم PSU'sمیں سرمایہ کاری اکوئٹی کو گھٹا کر% 26یا اور کم کر دیا جائے۔
- کارکنان کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔
(a) پبلک سیکٹر کے لیے محفوظ صنعتوں کی تعداد 17سے گھٹا کر 8اورپھر3کر دینا :صنعتی پالیسی سے متعلق 1956 کی قرار داد میں 17صنعتیں پبلک سیکٹر کے لیے مخصوص کی گئی تھیں۔ 1991میں پبلک سیکٹر کے لیے صرف 8صنعتیں مخصوص کی گئیں اور انھیں ایٹمی توانائی، اسلحہ سازی اور مواصلات،کان کنی اورریلویز تک محدود رکھا گیا۔سال2001میں صرف 3 صنعتیں ایسی تھیں جنھیں خاص طور پر پبلک سیکٹر سے مخصوص کیا گیا۔ یہ ہیں ایٹمی تونائی،اسلحہ اور ریل ٹرانسپورٹ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر (3کو چھوڑ کر)تمام شعبوں میں داخل ہو سکتا ہے اور پبلک سیکٹر کو اس کے ساتھ مسابقت کرنی پڑے گی۔
پبلک سیکٹر نے ہماری معیشت کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔تا ہم پرائیویٹ سیکٹر بھی قومی تعمیر کے عمل میں نمایاں طور پر تعاون دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔اس لیے پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر دونوں کو قومی سیکٹر کے باہمی طورپر تکمیلی حصے کے طور پر دیکھے جانے کی ضرورت ہے ان میں سے کسی ایک کے بغیر دوسرا ادھورا رہے گا۔پرائیویٹ سیکٹر کی صنعتی اکائیوں کو بھی وسیع تر عوامی ذمہ داریاں قبول کرنی چاہئیں۔ اس لئے ساتھ ہی پبلک سیکٹر کو بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حد درجہ مسابقتی بازار میں اپنی مزید کامیابی پر توجہ دے۔
(b)پبلک سیکٹر کے بعض منتخب اداروں کے حصص کی سرمایہ نکاسی : سرمایہ نکاسی میں کو پرائیویٹ سیکٹر اور عوام کے ہاتھ فروخت کرنے کا عمل شامل ہے۔اس کا مقصد یہ تھا کہ وسائل پیدا کیے جائیں اور ان انٹرپرائزز کی ملکیت میں عوام اور کارکنان کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔حکومت نے صنعتی سیکٹر سے دست بردار ہونے اور تمام تجارتی اداروں میں اپنے حصص میں تخفیف کا فیصلہ کیا تھا۔یہ توقع کی جاتی تھی کہ اس سے منیجروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور مالیاتی نظم ونسق کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ لیکن اس شعبے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
پبلک سیکٹر کی نجی کاری کے بنیادی مقاصد حسب ذیل ہیں:
- غیر اہم(PSEs)،میں مخصوص کردہ بڑی عوامی رقوم پر سے پابندی کااٹھایا جانا تا کہ انھیں سماجی ترجیح کے دیگر شعبوں مثلاً بنیادی صحت،خاندانی بہبود اور بنیادی تعلیم پر خرچ کیا جاسکے۔
- عوامی قرضوں کی کثیر رقم اور سود کے بوجھ میں تخفیف کرنا۔
- کاروباری جوکھم کو پرائیویٹ سیکٹر کی طرف منتقل کرنا تاکہ رقوم کی سرمایہ کاری اہم پروجیکٹوں میں کی جاسکے۔
- ان انٹر پرائزز کو حکومت کے اختیار سے آزاد کرانا اور کارپوریٹ انداز حکمرانی کو رائج کرنا۔
- کئی شعبوں میں جہاں پبلک سیکٹر کی اجارہ داری تھی مثلاً ٹیلی کام کا شعبہ، وہاں صارفین کو زیادہ انتخاب کی سہولت،نسبتاً کم قیمتوں اور مصنوعات و خدمات کے بہتر معیار سے فائدہ پہنچا ہے۔
(c) بیمار اکائیوں سے متعلق پالیسی پرائیویٹ سیکٹر جیسی ہی رہے گی: اس کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ کیا بیمار اکائیوں کی تعمیر نو کی جائے یا انہیں بند کر دیا جائے تمام پبلک سیکٹر کے یونٹوں کے معاملے کو بورڈ آف انڈسٹریل انڈ فنانشیل ری کنسٹرکشن کے حوالے کیا گیا تھا۔بورڈ نے بعض اکائیوں کے معاملہ میں احیا اور باز آباد کاری کی اسکیموں پر دوبارہ غور کیا اور بہت سے یونٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔اسی وجہ سے بند کی جانے والی یونٹوں کے کارکنان میں شدید غم و غصہ ہے۔برطرف شدہ مزدوروں کی بحالی یا دوبارہ تعیناتی اور رضا کارانہ سبکدوشی کے خواہش مند پبلک سیکٹر کے ملازمین کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک نیشنل رینیول فنڈ قائم کیا گیا تھا۔
پبلک سیکٹر کی ایسی کئی یونٹیں ہیں جو بیمار ہیں اور پھر سے چلائے جا سکنے کی حالت میں نہیں ہیں کیونکہ وہ بہت خسارے میں جا چکی ہیں ۔سرکاری مالیات پر شدید دباؤ کی وجہ سے مرکزی اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں زیادہ مدت تک زندہ رکھ سکیں ۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے واحد راستہ یہی رہ جاتا ہے کہ ملازمین اور کارکنان کے لیے حفاظتی ضمانت فراہم کرکے اس طرح کی متعدد اکائیوں کو بند کر دیا جائے ۔ نیشنل رینیول فنڈ کے تحت دستیاب وسائل رضاکارانہ علاحدگی اسکیم یا رضاکارانہ سبکدوشی اسکیم کے اخراجات پورے کر نے کے لیے کافی نہیں ہو سکے ہیں۔
(d) مفاہمت کا میمورنڈم (ایم او یو): مفاہمت کے میمورنڈم کے نظام کے ذریعہ کارکردگی کی بہتری جس کی مدد سے انتظامیہ کو وسیع تر خودمختاری دی جاتی ہے لیکن مخصوص نتائج کے لیے جواب دہ بنایا گیا ہے، نظام کے تحت پبلک سیکٹر یونٹوں کے لیے واضح اہداف مقرر کیے گئے اور ان کے حصول کے لیے کام کی خودمختاری بھی دی گئی۔ اس طرح ایم او یو مخصوص پبلک سیکٹر یونٹ اور ان کی انتظامی وزارتوں،ان کے رشتوں اور خودمختاری کی وضاحت کرتی ہے ۔
آپ نے کبھی نہ کبھی کثیرقومی کارپوریشنوں کی تیار کردہ مصنوعات ضرور دیکھی ہوں گی ۔گزشتہ دس سال کے دوران کثیرقومی کارپوریشنوں نے ہندوستانی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ کارپوریشنز دنیا کی بیشتر ترقی پذیر معیشتوں کا عام حصہ بن گئی ہیں۔جیسا کہ ہمارے آس پاس کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے۔ کثیرقومی کارپوریشنز، ایسی وسیع کمپنیاں ہیں جو بہت سے ملکوں میں اپنا کام کرتی ہیں۔ان کی خاصیت یہ ہے کہ ان کا سائز بہت بڑا ہوتا ہے،وہ بہت سی مصنوعات تیار کرتی ہیں۔ ان کی ٹکنالوجی ترقی یافتہ ہوتی ہے ان کی مارکیٹنگ کی حکمت عملی اور مصنوعات سازی کا نظام پوری دنیا میں پھیلا ہوتاہے۔ اس طرح کے عالمی تجارتی ادارے ایسی وسیع صنعتی تنظیمیں ہیں جو کئی ممالک میں اپنی شاخوں کو پھیلاتی ہیں۔ان کی شاخوں کو بھی اکثریتی ملکیت والے غیرملکی الحاقیے(MOFA)کہا جاتا ہے۔ یہ تجارتی ادارے ایسے کئی علاقوں میں کام کرتے ہیں جو کئی ملکوں میں پھیلی ہوئی اپنی حکمت عملی کے ذریعہ ایک سے زیادہ مصنوعات تیارکر تے ہیں۔ ان کا مقصدایک سے دو مصنوعات تک اپنے منافعوں کو زیادہ سے زیادہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کے بجائے اپنی شاخوں کو چاروں طرف پھیلانا ہوتا ہے۔وہ بین الاقوامی معیشت پر اثر ڈالتے ہیں۔یہ اس مقصد سے ظاہر ہے کہ 200 سب سے بڑی کمپنیوں کی مجموعی فروخت 1998 میں دنیا کی GDPکے 28.3 فیصد کے برابر تھی ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 200 سب سے بڑی کثیرقومی کمپنیاں دنیا کی ایک چوتھائی معیشت پر قابض ہیں۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کثیر قومی کارپوریشنز اس وجہ سے دنیا کی معیشت کو بڑی حد تک قابو میں رکھنے پرقادر ہیں کیوں کہ ان کے پاس کثیر وسائل ہیں۔جدید ترین ٹکنالوجی اور ان کی ساکھ مضبوط ہے ۔ان سب کی بدولت وہ مختلف ممالک میں اپنا بنایا ہواکوئی بھی سامان فروخت کر سکتے ہیں۔ان سب سے بعض کارپوریشنز کسی حد تک استحصالی نوعیت کی بھی ہوسکتے ہیں اور اشیاء صرف اور سامان تعیش فروخت کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جن کی خواہش اور طلب ترقی پذیر ممالک کو ہمیشہ نہیں ہوتی۔
ان کارپوریشنوں کی ایسی نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں جو انھیں دیگر پرائیویٹ سیکٹر کمپنیوں اور پبلک سیکٹر کمپنیوں /پبلک سیکٹر انٹر پرائزز سے ممتاز کرتی ہیں ۔یہ خصوصیات حسب ذیل ہیں: