Skip to content
Karobarimutuala-001


باب4

کاروباری خدمات

سیکھنے کے مقاصد

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ
•  خدمات کی خصوصیات بیان کرسکیں گے۔
خدمات اور اشیاکے درمیان فرق کرسکیں گے۔
کاروباری خدمات کی مختلف اقسام کی درجہ بندی کرسکیں گے۔
ای۔بینک کاری کے تصور کی وضاحت کرسکیں گے۔
بیمہ پالیسیوں کی مختلف اقسام کی شناخت اور درجہ بندی کرسکیں گے۔
گوداموں کی مختلف اقسام کی تشریح کرسکیں گے۔

ہم سب ہی نے پیٹرول پمپ دیکھے ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک پیٹرول پمپ کا مالک ایک گاؤں میں اپنا کاروبار کسی طرح چلاتا ہے؟ اس کو اتنے اندرونی گاؤں میں پیٹرول اور ڈیزل کیسے ملتا ہے؟ اس کے پاس بڑی مقدار میں پیٹرول اور ڈیزل خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ وہ پیٹرول ڈپوں کو اپنی پیٹرول کی ضرورت کے بارے میں ساتھ ہی صارفین کو بھی کس طرح مطلع کرتا ہے؟ وہ کاروبار سے جڑے مختلف خطرات سے اپنی حفاظت کیسے کرتا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب کاروباری خدمات کو سمجھنے سے ملتا ہے۔ آیل ریفانیری یعنی تیل صاف کرنے والے کارخانوں سے پیٹرول پمپوں تک پیٹرول اور ڈیزل آیل اور ٹینکروں کے ذریعے پہنچتا ہے یعنی (ذرائع آمد ورفت کی خدمات سے) ۔پھر یہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں واقع آیل کمپنیوں کے مختلف ڈپوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے (یعنی گودام کاری کی خدمات سے) پیٹرول پمپوں کے مالک ڈاک اور ٹیلی فون کی سہولیات کے ذریعہ اپنی ضروریات کی دستیابی کے بارے میں گاہکوں ،بینکوں اور ڈپوں سے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں(مواصلاتی خدمات سے) کیونکہ آئیل کمپنیاں ہمیشہ ہی پیٹرول اور ڈیزل پیشگی ادائیگی کی بنیاد پر فروخت کرتی ہیں اس لیے مالکان کو اپنی خریداری کے لیے بینکوں سے قرض لینا پڑتا ہے (یعنی بینک کاری کی خدمات )۔پیٹرول اور ڈیزل نہایت پُر خطر اشیاء ہیں اس لیے مالکان کو مختلف خطرات سے حفاطت کی خاطر کاروباری اشیاء اور کارکنان وغیرہ کا بیمہ کرانا پڑتا ہے (بیمہ خدمات)۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پیٹرول پمپ پر پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرنے کا واحد کاروبار دراصل مختلف کاروباری خدمات کا مجموعی نتیجہ ہے۔ ان خدمات کا استعمال پیٹرول اورڈیزل کو آئیل ریفائینریوں سے پورے ہندوستان میں پھیلے پیٹرول پمپوں پر فروخت کرنے کے لیے پہنچانے میں کیا جاتا ہے۔

4.1   تعارف

اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی آپ سبھی کو کاروباری سرگرمیوں کے اثر کا تجربہ ضرور ہوا ہوگا۔ آئیے ہم کاروباری سرگرمیوں کی چند مثالوں کا تجزیہ کریں۔ یعنی اسٹور سے آئس کریم خریدنے اور ریسٹورنٹ میں آئس کریم کھانے، سنیما ہال میں فلم دیکھنے اور ویڈیو کیسٹ یاسی ڈی خریدنے ، ایک اسکول بس خریدنے اور ایک ٹرانسپورٹر سے کرائے پر اسے حاصل کرنے کے تجربات۔  اگر آپ ان تمام سرگرمیوں کا تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ کھانے اور خریدنے، خریدنے اور دیکھنے اور خریدنے اور کرائے پر لینے میں فرق ہوتا ہے۔ لیکن ان سب ہی میں ایک یکساں بات یہ ہے کہ اگر ایک طرف کوئی شخص اشیا کی خریداری کررہا ہے تو دوسری جانب کوئی دوسرا خدمت سے استفادہ کررہا ہے۔ لیکن اشیا اور فراہم کی گئی خدمت کے درمیان فرق ہے۔
ایک عام شخص کے لیے خدمات نظر نہ آنے والی اشیا ہیں جن کی خریداری سے کسی طبعی چیز کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً آپ ڈاکٹر سے صرف مشورہ لے سکتے ہیں۔ آپ اس کو خریدنہیں سکتے ۔ خدمات وہ تمام معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں جو کہ نظر نہ آئیں اور صارف اور خدمت فراہم کردہ کے مابین تعلق کے قائم ہونے پر زور دیتی ہیں۔
خدمات وہ علاحدہ طور پر قابل شناخت غیرمحسوس سرگرمیاں ہیں جو کہ خواہش کو تسکین پہنچاتی ہیں اور لازمی طور پر ایک شے یا دیگر خدمت کی فروخت سے منسلک نہیں ہوتیں۔
ایک چیز جو کہ طبعی مصنوعہ ہے جسے خریدار کو سپرد کیا جاسکتا ہے۔ اور جس کی ملکیت کو بھی فروخت کار سے صارف کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔ سامان کے معنی عام طور پر ہر طرح کی چیز میں استعمال ہوتی ہیں۔جو تجارت یا کامرس سے وابستہ ہوں۔ لیکن خدمات ان میں شامل نہیں ہیں۔ 

4.2   خدمات کی نوعیت

خدمات کی پانچ بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں جو انہیں اشیاء سے جدا کرتی ہیں ان کاذکر ذیل میں کیا گیا ہے۔
(i) غیر محسوس یا نظر نہ آنے والی یا پوشیدہ:  خدمات غیر محسوس ہوتی ہیں یعنی وہ نظر نہیں آتی اور ان کو چھوا نہیں جاسکتا، وہ نوعیت کے اعتبار سے قابل تجربہ ہوتی ہیں۔ کوئی ڈاکٹر کے ذریعہ کیے گئے علاج کاذائقہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی لطف کو چھوسکتا ہے ہر ایک کو صرف اس کا تجربہ ہی ہوتا ہے اس کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ اکثر اس کے معیار کا تعین استعمال سے پہلے نہیں کیا جاسکتا یعنی خریداری سے پہلے ہوہی نہیں سکتا۔ اس لیے خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ خدمات مہیا کرانے کے لیے شعوری طور پر کام کریں جن سے گاہکوں کو موافق تجربہ ہو سکے۔ مثلاًڈاکٹر کے ذریعہ کیا گیاعلاج ایک موافق تجریہ ہونا چاہیے۔
(ii)   غیر یکسانیت:  خدمات کی دوسری اہم خاصیت ان کا غیر یکساں ہونا ہے کیونکہ خدمات کوئی معیاری محسوس کی جانے والی شئے نہیں ہوتیں۔ اس لیے ان کو ہر وقت خاص طور پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ مختلف صارفین کے مطالبات اور توقعات مختلف ہوتی ہیں۔ اس لیے خدمات فراہم کرنے والوں کو صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی خدمات میں کمی بیشی کرنی پڑتی ہے۔ ایسا واقعتا ہوبھی رہا ہے مثلاً موبائل کی خدمات۔
 (iii)
ناقابل علیٰحدگی :  خدمات کی ایک اہم خاصیت پیداوار اور کھپت کا ایک ہی وقت میں واقع ہونا ہے یہی وجہ ہے کہ خدمات کی پیداوار کو اس کی کھپت سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ۔آج ایک کار کو بناکر اس کی فروخت ایک ماہ بعد بھی کی جاسکتی ہے لیکن ایسا خدمات کے ساتھ نہیں ہوتا کہ ان کی پیداوار آج کرکے ان کی کھپت ایک ماہ بعد کرائی جائے۔خدمات فراہم کردہ مناسب تکنیک کا استعمال کرکے اس کا متبادل تیار کرسکتی ہیں لیکن پھر بھی گاہک کے ساتھ تعلق خدمات کی ایک اہم خاصیت بنارہتا ہے۔ اے ٹی ایم نقد کی ادائیگی اور چیک جمع کرنے والے بینکنگ کلرک کی جگہ لے سکتے ہیں لیکن ایسے وقت میں صارفین کی موجودگی بھی ضروری ہوتی ہے اور اے ٹی ایم کے عمل کے ساتھ ان کے تعلق کا انتظام بھی کرناپڑتا ہے۔
 (iv)ذخیرہ یا مال نامہ، نوانٹری:    خدمات میں محسوس کیے جانے والے اجزاء یا تو نہایت کم ہوتے ہیں یا بالکل ہی نہیں ہوتے، اس لیے ان کو مستقبل کے استعمال کے لیے ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ خدمات فراہم کار اپنی بہترین کوشش کے باوجود خدمات سے منسلک چند اشیاء کو تو ذخیرہ کرسکتے ہیں لیکن خدمات کو ذخیرہ نہیں کرسکتے۔ اس کا مطلب ہے کہ مانگ اور سپلائی کا انتظام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے یعنی خدمات اس وقت دی جاتی ہیں جب گاہک ان کا مطالبہ کریں ان کو بعد میں استعمال ہونے کے لیے پہلے سے ادا نہیں کیا جاسکتا مثلاً ریلوے کے ٹکٹ کو تو ذخیرہ کیا جاسکتا ہے لیکن ریلوے کا سفر اس وقت ہی کیا جائے گا جس وقت ریلوے اسے فراہم کرے۔
(v)شمولیت: خدمات کی ایک اہم خاصیت خدمت کی سپردگی کے عمل میں گاہک کی شمولیت ہے۔ ایک گاہک کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق خدمات کو تبدیل کرالے۔

4.2.1   خدمات اور اشیا کے درمیان فرق

مندرجہ بالا تذکرہ سے واضح ہے کہ اشیا اور خدمات کے درمیان دو اہم تفریقی خصوصیات ملکیت کا ناقابل منتقل ہونا اور صارف اور خدمت فراہم کردہ دونوں کی موجودگی ہے ۔ اشیا کوپیدا کیا جاتا ہے جب کہ خدمات تو ادا کی جاتی ہیں۔ خدمت ایک ایسا عمل ہے جس کو گھر نہیں لے جایاجاسکتا ہم گھر پر صرف خدمت کا اثر ہی لے جاتے ہیں۔

4.3   خدمات کی اقسام

خدمات کو تین بڑے زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یعنی کاروباری خدمات ، سماجی خدمات، اور ذاتی خدمات ۔ان کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔
(i)  کاروباری خدمات :  کاروباری خدمات وہ خدمات ہوتی ہیں جن کا استعمال کاروباری ادارے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو انجام دینے میں کرتے ہیں مثلاً بینک کاری،بیمہ، ذرائع آمد ورفت، ذرائع نقل وحمل، گودام کاری؍ویئر ہاؤسنگ اور مواصلاتی خدمات شامل ہیں۔
(ii)  سماجی خدمات:  سماجی خدمات وہ خدمات ہیں جو کچھ سماجی مقاصد حاصل کرنے کے لیے رضا کارانہ طورپر انجام دی جاتی ہیں۔یہ سماجی مقاصد معاشرہ کے کمزور طبقوں کے معیار زندگی میں بہتری لانا، ان کے بچوں کو تعلیمی خدمات فراہم کرنایا گندی بستیوں میں صحت وصفائی کی سہولتیں فراہم کرنا ہوسکتے ہیں۔ یہ خدمات عام طور پر رضا کارانہ طورپر فراہم کی جاتی ہیں لیکن بعض حالات میں کچھ معاوضہ ان کی لاگتوں کو پورا کرنے کے لیے لیا جاسکتا ہے۔ مثلاً سرکاری ایجنسیوں اورچند غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی صحت اور تعلیم کی خدمات۔ 
(iii)  ذاتی خدمات:   ذاتی خدمات وہ خدمات ہوتی ہیں جن کا تجربہ مختلف گاہکوں کو مختلف طور پر ہوتا ہے۔ نوعیت کے اعتبار سے ان خدمات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ان کے مختلف ہونے کا انحصار خدمت فراہم کرنے والے پر ہوتا ہے یہ گاہکوں کی مانگوں اور ترجیحات پر بھی منحصر ہوتی ہیں مثلاً ٹورازم ،ثقافتی خدمات اور ریسٹورنٹس۔
کاروباری دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم اپنی مزید گفتگو کو پہلے زمرے کے خدماتی سیکٹر یعنی کاروباری خدمات تک ہی محدود رکھیں گے۔

خدمات اور اشیا کے درمیان فرق

بنیاد خدمات   اشیا
نوعیت   ایک سرگرمی یا عمل مثلاً سنیما ہال میں فلم دیکھنا     ایک طبعی شے مثلاً ویڈیوکیسٹ فلم کا۔
قسم   ایک دوسرے کے برعکس     ایک ہی جیسی
غیر محسوس   غیر محسوس مثلاً ڈاکٹر کا علاج کرنا    محسوس کیا جاسکتا ہے مثلاً دوائی
غیر یکسانیت  مختلف گاہکوں کی مختلف مانگیں ۔موبائل  مختلف گاہکوں کی معیاری مانگوں کا پورا ہونا مثلاً موبائل فون
ناقبل علیحدگی  ایک ہی وقت میں پیداوار اور کھیت مثلاً ریسٹورنٹ میں آئیس کریم کھانا    پیداوار اور کھیت میں علیحدگی مثلاً ایک دکان سے آئیس کریم خریدنا
انوینٹری   اسٹاک میں نہیں رکھا جاسکتا مثلاً ریل کے ذریعہ سفر   اسٹاک میں رکھا جاسکتا ہے مثلاً ریل سفر کا ٹکٹ
شمولیت  خدمت کی سپردگی کے وقت گاہکوں کی شمولیت مثلاً فاسٹ فوڈ فروخت کرنے والی دکان میں گاہکوں کے ذریعہ اپنی خدمت آپ کرنا   سپردگی کے وقت شمولیت ممکن نہیں مثلاً موٹر گاڑی کا بنانا۔

4.3.1   کاروباری خدمات
آج کی دنیا مقابلہ کی دنیا ہے جہاںسب سے زیادہ مضبوط اور چوکس رہنا ہی بقا کا اصول ہے ۔یہاں پر غیر کارکردگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور اس لیے کمپنیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بہتر ین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ ایک دوسرے سے بہتر مقابلہ کرنے کے لیے کاروباری ادارے ماہرانہ کاروباری خدمات پر زیادہ سے زیادہ منحصر ہوتے جارہے ہیں۔ اب کاروباری ادارے فنڈس کی دستیابی کے لیے بینکوں کی جانب رخ کرتے ہیں ،اپنی اشیاء مشینری،پلانٹ وغیرہ کا بیمہ کرنے کے لیے بیمہ کمپنیوں ، تیار مال اور خام مال کو لانے اور لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور اپنے خریداروں ،سپلائیروں اور گاہکوں سے رابطہ قائم رکھنے کے لیے ٹیلی کام اور ڈاک کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ آج دنیا کی عالم کاری ہندوستان میں خدماتی صنعت کے میدان میں زبردست تبدیلی لے آئی ہے۔اب ہندوستان دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں کو خدمات فراہم کررہا ہے اور اس میدان میں دوسرے ملکوں کے ساتھ مقابلہ میں اس نے سبقت حاصل کرلی ہے۔ کاروباری خدمات حاصل کرنے کے لیے کئی غیر ملکی کمپنیاں ہندوستان کارخ کررہی ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنے کاروباری کام کاج کا کچھ حصہ ہندوستان میں کرنے کی غرض سے اسے یہاں منتقل بھی کررہی ہیں۔ ہم اگلے باب میں اس بارے میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

4.4   بینک کاری

کمرشیل بینک معیشت کا اہم ادارہ ہیں جو اپنے گاہکوں کو ادارتی قرض مہیا کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بینک کاری کمپنی وہ کمپنی ہے جو کہ بینک کاری کے کاروباری سودے کرتی ہے یعنی عوام سے رقم وصول کرتی ہے تاکہ اس کوادھار دے سکے یا اس کی سرمایہ کاری کرسکے۔ یہ رقم مانگے جانے پر قابل واپسی ہوتی ہے یا اس کوچیک ڈرافٹ یا آڈر کے ذریعہ یا کسی دوسرے طریقے سے بینک سے نکالا جاسکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بینک کا ادارہ اسے کہتے ہیں جو جمع کی شکل میں طلب پر واپسی کے لیے رقم وصول کرتا ہے اور اس رقم کو قرض دے کر منافع کا کچھ حصہ کماتا ہے ایک بینک رقم کا سودا کرکے بازار میں معاشی سرگرمی میں زور پیدا کرتا ہے ۔یہ لوگوں کی بچت کو حرکت پذیر بناتا ہے اور کاروباری اداروں کے مالیاتی اور دوسرے سرمایہ کے اخراجات کے لیے فنڈ مہیا کرتا ہے۔ یہ مالیاتی دستاویزات کا کاروبار بھی کرتا ہے اور ایک طے قیمت کے عوض میں مالیاتی خدمات جیسے سود، چھوٹ، کمیشن وغیرہ سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔

سیکٹر کے لحاظ سے ہندوستان کی معیشت میں مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کا تعاون

ہندوستان کی معیشت کو تین شعبوں یعنی زراعت اور اس سے متعلق شعبہ،صنعت اور خدمات میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ خدمات کا شعبہ ہندوستان میں سب سے بڑا شعبہ ہے۔ خدمات کے شعبہ کے لئے موجودہ قیمتوں پر مجموعی قدر و قیمت میں اضافہ (جی وی اے) کا تخمینہ17- 2016میں 73.79 لاکھ کروڑ روپئے(ہندوستانی کرنسی میں) لگایا گیا تھا۔ ملک کی معیشت میں خدمات کے شعبہ کا کل حصہ 137.51لاکھ کروڑ روپئے ہے جو کہ ہندوستان کے جی وی اے کا 53.66 فیصد ہے۔39.90 لاکھ کروڑ روپئے کے جی اے وی کے ساتھ صنعتی شعبہ کا تعاون 29.05فیصد ہے جبکہ زراعت اور متعلقہ شعبہ کا حصہ 17.32 فیصد اور جی وی اے تقریباً% 23.82لاکھ کروڑ روپئے ہے۔ دوسری جانب12 -2011کی قیمتوں کی بنیاد پر زراعت اور متعلقہ شعبہ،صنعت اور خدمات کے شعبہ کا حصہ بالترتیب 15.11فیصد،31.12فیصد اور 53.77فیصد ہے۔  

موجودہ قیمتوں پر (کروڑ روپئے میں) جی وی اے


 شعبہ
 2011-12  2012-13 
2013-14 
  2014-15 
       2015-16 2016-17    حصہ کا فیصد
1    زراعت کا شعبہ 1,501816   16,80,798   19,32,692   20,67935    21,72910  23,82289   17.32%
1.1    زراعت،جنگل بانی اور ماہی گیری   1501816  1,680,798
 1932692  2067935     2172910  2382289 17.32%
 صنعت کا شعبہ   2635052  2921262
3188270   3455221   3683358  3989791   29.02%
2.1  کانکنی اور کھدائی 261035  285776   295716   313844     296041   309178  2.25%
2.2 مینوفیکچرنگ   1409986    1572830 1713445   1883929     2065093   2278149      16.57%
2.3   بجلی،گیس،پانی کی فراہمی اور دیگر سہولیاتی خدمات 186668  215164 259840 279456  321765   338396   2.46%
2.4   تعمیر      777.363 847492 919269  977992       1000459  1064068  7.74%
 خدمات کا شعبہ   3969789   4603255    5245305 5947260  6595670   7378705 53.66%
3.1  تجارت، ہوٹل، ٹرانسپورٹ مواصلات اور نشریات سے متعلق خدمات   1413116 1664083 1874443   2095337  2294367  2538162    18.46%
3.2 مالی اور جائیداد    1530691  1776023  2069386  2363328  2632432  2896300   21.06%

 سرکاری انتظامیہ،دفاع اور دیگر خدمات  1025982
 1163149
  1301476
1488595 
1668871   1944243       14.14%
بنیادی قیمت پرجی وی اے 81,06,656 92,05,315 1,036,6,266 11,47,0415 12,45,1,938 1,37,50,786 100.00%
                                                                                                                                                                                                                       
                                          
       
                   
                
1

بینک کاری اور سماجی مقاصد

سماجی مقاصد کے حصول کے لئے حال ہی میں بینک کاری کو جدید ترین بنانے کے لیے پالیسی سازوں نے بہت کوششیں کی ہیں۔ ملک میں بینک کاری پالیسی میں خاصی تبدیلی آئی ہے :
سے تک
(i)   شہری جھُکاؤ  دیہی جھُکاؤ 
(ii)   درجہ بینک کاری عوامی بینک کاری
(iii)   روایتی تخلیقی عمل
(iv)   قلیل مدتی مقاصد ترقی کے مقاصد



4.4.1   بینکوں کی اقسام

بینک کاری کا نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے، ضروریات جدا ہوتی ہیں اور کام کرنے کے طریقہ میں فرق پایا جاتا ہے۔ اسی لیے مندرجہ بالا پیچیدگیوں کے پیش نظر ہم کو مخصوص اقسام کے بینکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بینکوں کی زمرہ بندی مندرجہ ذیل طرح سے کی جاسکتی ہے۔
.1 کمرشیل بینک
.2 امداد باہمی بینک
.3 مخصوص بینک
.4 مرکزی بینک
(i) کمرشیل بینک:  کمرشیل بینک وہ ادارے ہیں جو رقم کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان بینکوں پر ہندوستانی بینک کاری منضبت کرنے کا قانون 1949 عائد ہوتاہے اور اس کے مطابق  بینک کاری سے مراد قرض دینے یا سرمایہ کاری کے مقصدسے جمع کرنے کے لیے لوگوں سے رقم کی شکل میں پیسہ وصول کرنا ہے ۔ کمرشیل بینک دو طرح کے ہوتے ہیں۔ عوامی سیکٹر کے بینک اورپرائیویٹ سیکٹر کے بینک۔ عوامی سیکٹر کے بینک وہ بینک ہوتے ہیں جن میں زیادہ سرمایہ حکومت کا لگاہوتا ہے ۔سرکاری ملکیت کے سبب یہ بینک منافع پر توجہ نہ کرکے سماجی مقاصد پر زور دیتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر بینکوں کی ملکیت ،انتظام اور کنٹرول نجی سرپرستوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ بازار کے حالات کے پیش نظر اپنی پالیسیاں بنانے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ قومیائے گئے عوامی سیکٹر کے بینکوں کی تعداد 20ہے، جیسے اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک، آئی او بی وغیرہ۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں کی مثالیں ہیں ایچ ایف ڈی سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک ، کوٹک مہندرابینک اور جموں وکشمیر بینک۔
(ii)  امداد باہمی بینک:  امداد باہمی بینکوں پر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیوں کی دفعات عائد ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد اپنے ممبران کو آسان قرض فراہم کرنا ہوتا ہے ۔یہ دیہاتی ادھار یعنی ہندوستان میں زراعت کی مالی مدد کااہم ذریعہ ہیں۔
(iii)  مخصوص بینک:  یہ بینک ان بینکوں میں غیر ملکی زر مبادلہ کے بینک، صنعتی بینک، ترقیاتی بینک، درآمدی، برآمدی بینک شامل ہیں جو ان خاص اور یکتا کاموں کو انجام دینے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں ۔یہ بینک غیر ملکی تجارت، بڑے پراجیکٹوں اور صنعتوں کو مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔
(iv)  مرکزی بینک :  کسی ملک کا مرکزی بینک اس ملک کے تمام کمرشیل بینکوں کی سرگرمیوں کی نگرانی اور کنٹرول کرتا ہے۔ یہ حکومت کے بینک کار کا کام بھی انجام دیتا ہے یہ کسی ملک کی قرض سے متعلق پالیسیوں اور کرنسی کو کنٹرول کرتا ہے اور ان میں رابطہ پیدا کرتا ہے۔

4.4.2   کمرشیل بینکوں کے کام

بینک بہت سے کام کرتے ہیں جو بینکوں کی قسموں کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ ابتدائی یا بنیادی کام کاج ہیں۔ دوسرے کاموں میں ایجنسی کے کام ہیں جن کی نوعیت عام افادی خدمات کی ہوتی ہے۔ ان کا موں پر اختصار کے ساتھ ذیل میں بحث کی جاتی ہے۔

(i)  ڈپازٹ جمع کرنا:  ڈپازٹ قرضہ دینے کے عمل کی بنیاد ہیں کیونکہ بینک رقم ادھار لینے والے بھی ہیں اور ادھار دینے بھی۔ ادھار لینے والوں کی حیثیت سے سود ادا کرتے ہیں اور ادھار دینے والوں کی حیثیت سے وہ دئے گئے قرض کی رقم پر سود وصول کرتے ہیں ۔ یہ ڈپازٹ عموماً چالو کھاتے ،بچت کھاتے اور فکسڈ ڈپازٹ کی شکل میں لیے جاتے ہیں۔چالو کھاتے (Current Account)سے رقم کسی بھی وقت کسی جمع شدہ رقم کی حد تک پہلے سے نوٹس دیے بغیر نکالی جاسکتی ہے۔ 

بچت کھاتے کے لوگوں کو بچت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ان ڈپازٹوں پر بینکوں کے ذریعے دیے جانے والے سود کی شرح کو ریزرو بینک آف انڈیا طے کرتا ہے ۔ ان کھاتوں سے رقم نکالنے پر چند پابندیاں ہوتی ہیں۔ان پابندیوں کا تعلق نکالی جانے والی رقم سے بھی ہوتا ہے اور ایک مقررہ مدت میں کتنی مرتبہ رقم نکالنی ہے اس سے بھی فکسڈ کھاتے(Fixed  deposits) مدتی ڈپازٹ ہوتے ہیں اور بچت کھاتوں کی بہ نسبت ان پر سود کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ مدت پوری ہونے سے قبل بھی رقم نکالنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن اس صورت میں سود کی کچھ فیصد ضبط کرلی جاتی ہے۔

(ii)  قرض دینا :   کمر شیل بینکوں کا دوسرا اہم کا م ڈپازٹوں کے ذریعہ جمع شدہ رقم سے قرضہ اور پیشگی فراہم کرتا ہے۔ یہ پیشگیاں، اور ڈرافٹ، کیش کریڈٹ،بلوں کو بھنانے،مدتی قرض، صارفین کو قرض اور دیگر متفرقہ پیشگیوں کی شکل میں ہوسکتی ہیں۔ بینکوں کے ذریعے قرض دینے سے تجارت ،صنعت، نقل وحمل اور دوسری کاروباری سرگرمیوں کی ترقی میں بڑی مددملتی ہے۔

(iii)  چیک کی سہولت:  دوسرے بینکوں سے حاصل کیے گئے چکوں کی رقم وصول کرکے بینک اپنے گاہکوں کے لیے بہت ہی اہم خدمت انجام دیتے ہیں۔ چیک بینکوں کا قرض کا اہم اورترقی یافتہ دستاویز، خصوصیت اورکام ہے جس کے ذریعہ جمع شدہ رقم کو نکالا جاتا ہے۔ یہ نہایت آسان اور لین دین کا سستا ذریعہ ہے چیک دو طرح کے ہوتے ہیں ۔(a)بیئرر چیک، جنھیں بینک کے کاؤنٹر پر فوراً ہی کیش میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ (b)کراسڈ چیک،جن کو صرف اس شخص کے کھاتے میں ہی جمع کرایا جاسکتا ہے جس کو رقم کی ادائیگی کی جانی ہے۔ 

(iv)  رقم بھیجنے کی آسانیاں :  ایک جگہ سے دوسری جگہ فنڈ کے تبادلے بینک، رقم پے آرڈر یا میل ٹرانسفر کے ذریعہ کرتا ہے، جس پر واجب کمیشن لی جاتی ہے۔ بینک رقم کا ایک ڈرافٹ دوسری جگہوں پر اپنی شاخوں پر یا ان جگہوں پر دوسرے بینکوں کے نام جاری کرتا ہے رقم پانے والا اپنے مقام پر رقم دینے والے بینک کو یہ ڈرافٹ پیش کرتا ہے۔ اور رقم وصول کرلیتا ہے۔

(v)  حلیف خدمات:  مندرجہ بالا کاموں کے علاوہ بینک حلیف خدمات بھی فراہم کرتے ہیں جیسے بلوں کی ادائیگیاں، لاکروں کی سہولیات،انڈررائیٹنگ کی خدمات۔یہ دیگر خدمات بھی انجام دیتے ہیں جیسے ہدایات پر حصص اور ڈبیچرز کی خرید و فروخت اور دیگر نجی خدمات جیسے ڈیویڈینڈ کی وصولیابی ،بیمہ پریمیم کی ادائیگی وغیرہ۔

4.4.3   ای– بینک کاری

انٹرنیٹ اور ای کامرس کی ترقی نے روز مرہ کی زندگی کو تبدیل کردیا ہے۔ عالمی ویب (ورلڈ وائڈویب) اور ای ۔ کامرس کی بدولت پوری دنیا ایک عالمی گاؤں میں بدلتی جارہی ہے۔اطلاعاتی ٹکنالوجی کی ایک جدید دریافت انٹرنیٹ بینک کاری ہے ۔یہ عملی اور حقیقی بینک کاری کا ایک حصہ ہے اور گاہکوں کے لیے رقم کے لین دین کا ایک اور ذریعہ بھی ہے۔

Capture6

سادہ الفاظ میں انٹرنیٹ بینک کاری کا مطلب ہے کہ کوئی بھی شخص جس کے پاس نجی کمپیوٹر اور ایک براوسر ہو وہ بینکوں کی ویب سائٹ سے رابطہ قائم کرسکتا ہے اور عملی بینک کاری/  ورچویل بینک کاری کا کوئی بھی کام انجام دے سکتا ہے۔ اور بینک کی کسی بھی خدمت کا فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ اس عمل میں گاہک کی ضروریات کا جواب دینے کے لیے کوئی بھی انسانی کارکن بینک کی جانب سے موجود نہیں ہوتا ۔ بینک کا ایک مرکزی ڈاٹا بیس (اعداد وشمار بنیاد) ہوتاہے جس کو ویب پر دکھایا جاسکتا ہے۔ وہ تمام خدمات جن کی بینک اجازت دیتا ہے وہ انٹرنیٹ پر ایک مینو میں دکھائی جاتی ہیں کسی بھی خدمت کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ مزید رابطہ بڑھانے کی خدمت کی نوعیت کے مطابق ہدایت دی جاتی ہے۔
نئے ڈیجیٹل بازار میں بینکوں اور مالیاتی اداروں نے انٹرنیٹ پر خدمات فراہم کرنا شروع کردیا ہے۔ انٹرنیٹ پربینکوں کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمات کی یہ قسم ای بینک کاری کہلاتی ہے جس کی بدولت بینک کاری کے لین دین کی لاگت میں کمی واقع ہوئی ہے، صارفین با اختیار ہوئے ہیں اور بینک کاری رشتہ کی قدر میں اضافہ ہواہے۔ای۔ بینک کاری الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کرکے الیکٹرانک بینک کاری کرنا ہے۔اس طرح ای بینک کاری کئی بینکوں کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمت ہے جس کی بدولت گاہک اپنے ذاتی کمپیوٹر اور موبائل فون کا استعمال کرکے انٹرنیٹ پر بینک کاری لین دین کرسکتے ہیں جیسے بچت کا نظم ، کھاتوں کی جانچ، قرضہ کی گزارش ،یا بلوں کی ادائیگی۔ ای ۔ بینک کاری کے ذریعہ پیش کی جانے والی خدمات ہیں: الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر (ای ایف ٹی) یا برقی طور پر رقم کی منتقلی، آٹو میٹک ٹیلرمشین(ATM)اور پوائنٹ آف سیلس (پی او ایس)، ا لیکٹرانک ڈاٹا انٹر چارج (ای ڈی آئی) کریڈٹ کارڈ یا ڈیجیٹل کیش۔

سماجی تحفظ کی اسکیمیں


اٹل پنشن یوجنا:  یہ اسکیم 18سے 40سال تک کی عمر والے افراد کے لیے ہے۔ ایسے لوگوں سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ 60سال کی عمر تک اسکیم میں تعاون کریں گے۔ یہ اسکیم اولڈ ایج پنشن کے لیے سرمایہ کاری کے محور کا کام کرتی ہے۔
پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا:  یہ اسکیم سالانہ 12روپئے کی پریمیم کی ادائیگی پر دو لاکھ روپئے کے حادثاتی اور معذوری بیمہ کا احاطہ کرتی ہے۔ کوئی بھی شخص جو بچت کھاتہ رکھتا ہے وہ اس اسکیم کے تحت درج رجسٹر ہو سکتا ہے۔
پردھان منتری جن دھن یوجنا :  اس اسکیم میں کم از کم بیلنس کی حد کے بینک میں کھاتہ کھلتا ہے۔اس کے ’’روپئے۔اے ٹی ایم–ڈیبٹ کارڈ ‘‘ میں بالترتیب 1,00,000روپئے اور 30,000 روپئے کاحادثہ اور لائف انشورنس شامل ہوتا ہے۔ یہ اسکیم سماج کے معاشی طورپر کمزور طبقات کے لئے موزوں ہے۔ 
پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا:  اسکیم میں سالانہ 330روپئے کے پریمیم کی ادائیگی پر پالیسی ہولڈر کی موت کی صورت میں اس کے ورثہ کو 2,00,000 روپئے کا حفاظتی بیمہ ملتا ہے۔ 18سے 70سال تک کی عمر کا کوئی بھی شخص،جس کا بینک میں بچت کھاتہ ہے، وہ اس اسکیم کو اپنا سکتا ہے۔  

فوائد

ای۔ بینک کاری کے ذریعہ گاہکوں کو کئی طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں جو یہ ہیں:
(i)  ای۔بینکنگ میں رقم کی ڈجیٹل ادائیگی میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں اور مالی روداد میں شفافیت کو فروغ ملتا ہے۔
(ii)  ای۔ بینک کاری سال کے 365دن چوبیس گھنٹے گاہکوں کو بینک کی خدمت فراہم کرتی ہے۔
(iii)  گاہک چند منظور شدہ لین دین موبائل فون کے ذریعہ اپنے دفتر ، گھر یا دوران سفر بھی کرسکتے ہیں۔
(iv) یہ ہر ایک لین دین کا اندراج کرکے مالیاتی نظم وضبط کا احساس پیدا کرتی ہے۔ 
(v) 
 اس طرح کی بینک کاری بینک کی شاخوں تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ گاہکوں کو لامحدود رسائی فراہم کرتی ہے جس سے ان کے اطمینان میں اضافہ ہوتا ہے۔ گاہکوں کو نقد رقم کے ساتھ سفر بھی نہیں کرنا پڑتا اور اس طرح زیادہ تحفظ حاصل ہوتاہے اور خطرات میں کمی آتی ہے۔
بینکوں کو بھی ای۔ بینک کاری سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ فوائدیہ ہیں:
(i) ای۔ بینک کاری بینکوں کو دوسرے بینکوں کے ساتھ مسابقت یا مقابلے میں برتری سے نوازتی ہے ۔
(ii) ای۔ بینک کاری بینک کو لامحدود نیٹ ورک فراہم کرتی ہے اور بینک اپنی شاخوں کی تعداد تک محدود نہیں رہتا۔ کوئی بھی ذاتی کمپیوٹر جو کسی ایسے ماڈیم اور ٹیلی فون سے جڑا ہوا ہو جس کا رابطہ ا نٹرنیٹ سے ہوگا، وہ صارف کی رقم بینک سے نکالنے کی ضرورت کو پورا کرسکتا ہے۔
(iii) اس کے ذریعہ بینک کی شاخوں پر کام کے بوجھ میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ یہ کمی مرکزی ڈاٹا بیس کو قائم کرکے اور چند کھاتا داری کام اس کو سونپ کرکی جاسکتی ہے۔

 4.5  بیمہ

زندگی غیر یقینی حالات سے بھری ہوئی ہے کسی بھی نقصان دہ واقع کا رونما ہونا نہایت غیر یقینی ہے ۔انسانی زندگی کو معذوری اور موت کے خطرات ، اثاثہ جات کو آگ اورچوری کے خطرات مال کو سمندر ی جہاز سے بھیجنے میں سمندری آفات سے خطرات  لاحق ہوتے ہیں وغیرہ۔ اگر ان میں سے کوئی بھی خطرہ حقیقی طور پر واقع ہوجائے تو ایسی صورت میں افراد یا اداروں کو کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے جس کا اٹھانا بعض اوقات ان کی استعداد سے باہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے غیر یقینی حالات کے اثر کو کم سے کم کرنے کے لیے بیمہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمارت یا بھاری مشینری یا دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک کہ ان کو لاحق خطرات سے بچنے کا معقول انتظام نہ کرلیا جائے یعنی ان کا بیمہ نہ کرالیا جائے ۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسے لوگ جن کو مشترک خطرات کا سامنا ہوتا ہے آپس میں مل جاتے ہیں اور ایک مشترک فنڈ میں تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرتے ہیں جس کی بدولت کسی خاص خطرہ سے کسی ایک شخص کو پہنچے نقصان کو ان کی بڑی تعداد میں موجود افراد میں تقسیم کردیا جاتا ہے جن کو یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ 
 بیمہ اس طرح ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعہ کسی غیریقینی واقعہ سے ہونے والے نقصان کو ان تمام لوگوں پر تقسیم کردیا جاتاہے جن کو اس غیر یقینی واقع کا اندیشہ ہو اور جو اس واقع سے بچنے کے لیے اپنا بیمہ کرانے کے لیے تیار ہوں۔ بیمہ ایک معاہدہ یا اقرار نامہ کی شکل ہے جس کے تحت ایک فریق معاوضہ میں طے شدہ رقم دوسرے فریق کو دینے کے لیے راضی ہوجاتا ہے۔ تاکہ کسی قسم کی چیز کو جس میں بیمہ شدہ شخص کا مالی فائدہ ہے اس کو کسی غیر یقینی واقعہ سے ہونے والے نقصان، ہر جانہ یا چوٹ کی تلافی کرے گا۔ یہ معاہدہ ؍ اقرار نامہ تحریری ہوتاہے اور اسے پالیسی کہا جاتا ہے۔ وہ شخص جس کا جوکھم یاخطرے سے تحفظ کیا جاتا ہے اس کو بیمہ کرانے والا یا بیمہ شدہ کہا جاتاہے ۔ اور وہ شخص یا فرم جو کسی جوکھم یا خطرے سے دوسرے فریق کا تحفظ کرتا ہے اس کو بیمہ کار یا بیمہ کنندہ کہتے ہیں ۔

ظاہر کیے جانے والے حقائق کی مثالیں

آگ کا بیمہ:   عمارت کی تعمیر، آگ کا پتہ لگانا ، آگ بجھانے کا سازوسامان اور اس کے استعمال کی نوعیت۔
موٹر بیمہ:   گاڑی کی قسم؛ ڈرائیور کی تفصیل۔
ذاتی حادثہ کا بیمہ:   عمر، لمبائی، وزن، پیشہ، گزشتہ طبی یعنی بیماریوں کی تاریخ اور تفصیلات
زندگی کا بیمہ:   عمر، گزشتہ طبی تاریخ، شراب نوشی یا سگریٹ نوشی کی عادتیں۔

4.5.1   بیمہ کابنیادی اصول

بیمہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بیمہ شدہ فرد یا کاروباری ادارہ مستقبل کی بڑی رقم کے غیر یقینی نقصان کی جگہ ایک پختہ طور پر معلوم رقم خرچ کرنا پسند کرتا ہے۔ اس طرح بیمہ کانچوڑ یہ ہے کہ بڑے ممکنہ نقصان کووقتاً فوقتاً معمولی ادائیگی یعنی پریمیم سے تبدیل کردیا جائے۔ نقصان کا امکان تو اب بھی باقی رہتا ہے لیکن جب نقصان ہوتا ہے تو اس نقصان کو اسی خطرہ سے دوچار بڑی تعداد میں پالیسی کے حاملین میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ وہ جو پریمیم دیتے ہیں اسے اکٹھا کرلیا جاتا ہے اور جب کسی حامل پالیسی کا نقصان ہوتا ہے تو اس رقم میں سے اس کی تلافی کردی جاتی ہے۔ اس طرح درحقیقت خطرات میں دوسروں کو شریک کرلیا جاتا ہے۔ سابقہ حالات کے تجزیہ سے بیمہ کنندہ (بیمہ کمپنی یا انڈررائٹر ) بیمہ میں شامل ہر قسم کے خطرہ سے ممکنہ نقصانات کا اندازہ لگالیتا ہے۔
اس طرح بیمہ، جو کھم یاخطرہ کا انتظام کرنے کی ایک شکل ہے جس کا استعمال بنیادی طور پر مالی نقصان کے خطرہ سے حفاظت کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس طرح بیمہ سے مراد ایک واجب معاوضہ کے بدلے میں ایک تشخص سے دوسرے تشخص پر ممکنہ خطرے کو منتقل کرنا ہے۔ بیمہ کمپنی اس طرح ایک ایسی انجمن یاکارپوریشن یا ادارہ ہے جو ایک معاوضہ (پریمیم) کے بدلے میں تمام برحق مطالبات کی ادائیگی کرنے کا کاروبار کرتا ہے۔
بیمہ ایک ایسا سماجی طریقہ ہے جس میں افراد کا ایک گروپ (بیمہ شدہ) دوسرے فریق پر اپنے جوکھم کو منتقل کردیتا ہے یہ فریق تمام ممبروں سے وصول شدہ رقم (پریمیم) میں سے نقصان کی ادائیگی کرتا ہے ۔بیمہ کا مطلب ہے ایسے غیر یقینی واقعات سے بیمہ شدہ کی حفاظت کرنا جس سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہو۔

4.5.2   بیمہ کے کام

بیمہ کے مختلف کام مندرجہ ذیل ہیں:
 (i)
یقینی بنانا:  بیمہ نقصان کے خطرے کی ادائیگی کو یقینی بناتا ہے نقصان کے رونما ہونے کے وقت اور اس کی رقم کو لے کر غیریقینی بنی رہتی ہے بیمہ اس غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرتا ہے اور نقصان کی رقم کی ادائیگی کو یقینی بناتا ہے ۔بیمہ کرنے والا اس یقینی صورت حال کو فراہم کرنے کے لیے پریمیم وصول کرتا ہے۔
 (ii)
تحفظ: بیمہ کا دوسرا اہم کام ممکنہ نقصان کے امکانات سے تحفظ فراہم کرنا ہے بیمہ کسی واقع یا خطرے کے رونما ہونے کو تو نہیں روک سکتا لیکن اس کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کرسکتا ہے۔
 (iii)
خطرے میں حصہ داری:  کسی واقع کے رونما ہونے پر نقصان میں وہ تمام اشخاص حصہ لیتے ہیں جنہیں اس واقع کا اندیشہ ہوتاہے۔ ہربیمہ شدہ ممبر سے اس کا حصہ بطور پریمیم وصول کیا جاتا ہے۔
 (iv)
سرمایہ کی تشکیل میں معاون : بیمہ کرنے والوں کے ذریعہ جمع شدہ فنڈ جو کہ وہ بیمہ شدہ افراد سے پریمیم کی صورت میں وصول کرتے ہیں۔ اس کی سرمایہ کاری ایسی اسکیموں میں کی جاتی ہے جن سے معیشت میں آمدنی پیدا ہوسکے۔

4.5.3   بیمہ کے اصول

بیمہ کے اصول سے مراد بیمہ کے کاروبار میں مفاد رکھنے والے لوگوں کے اصول عمل اور کردار سے ہواہے۔ مخصوص اصول جو کہ اصل بیمہ کے معاہدے میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں، مندرجہ ذیل ہیں:
 (i)
انتہائی نیک نیتی:   بیمہ کا معاہدہ  Uberrimae fidei  کا معاہدہ ہے اس کے معنی ہیں کہ اس معاہدے کی بنیاد انتہائی نیک نیتی پر مبنی ہے ۔ یہ ہر بیمہ کے معاہدے کی شرط ہے کہ بیمہ کنندہ اوربیمہ شدہ فریقوں کو انتہائی نیک نیتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بیمہ شدہ کا فرض ہے کہ وہ تجویز شدہ جوکھم سے تمام حقائق کورضا کارانہ طور پرکھلے طور سے بتائے او ربیمہ کنندہ کا فرض ہے کہ وہ بیمہ کے معاہدے سے متعلق تمام شراط کو پوری طرح واضح کردے۔ اس طرح تجویز کنندہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جس چیز کا بیمہ کرایا جارہا ہے کہ اس کے متعلق اسے وہ تمام مادی حقائق جنہیں وہ جانتا ہے یا جنہیں اسے جاننا چاہیے ،بیمہ کنندہ کو صاف صاف بتادے ۔مادی حقائق میں ایسی کوئی بھی حقیقت جو ہوشیار بیمہ کنندہ کو بیمہ کی تجویز منظور کرنے یا بیمہ کی پریمیم مقرر کرنے پر اثر انداز ہو،مادی حقیقت کہلاتی ہے۔ اگر بیمہ شدہ مادی حقائق کے اظہار میں ناکام رہتا ہے تو بیمہ کنندہ اگر چاہے تو اس معاہدے کو منسوخ کرسکتا ہے۔

Capture7

                                                                      
(ii)
قابلِ بیمہ مفاد:  بیمہ شدہ کا ،بیمہ شدہ چیز میں قابل بیمہ مفاد ہونا چاہیے۔ اس اصول کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ’’مکان،جہاز، مشنیری، زندگی بیمہ شدہ نہیں ہوتے بلکہ ان میں موجود مالی مفاد بیمہ شدہ ہوتاہے‘‘۔ قابلِ بیمہ مفاد کا مطلب ہے کہ بیمہ شدہ چیز میں مالی مفاد حاصل ہو۔ یہ واضح اور قانونی ہونا چاہیے کہ بیمہ شدہ کو زندگی یا چیز کی حفاظت میں قابل بیمہ مفاد حاصل ہے، تاکہ کسی واقعہ کے رونما ہونے پر جس کے لیے بیمہ کرایا گیاہے بیمہ شدہ کو مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ جائیداد کے بیمہ کی صورت میں واقعہ کے رونما کے وقت بیمہ شدہ کا قابل بیمہ مفاد اس میں موجود ہونا چاہیے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ بیمہ شدہ اس جائیداد کا مالک بھی ہو۔ مثلاً کسی جائیداد کے متولی کا جائیداد میں قابل بیمہ مفاد ہوتاہے ۔
 (iii)
نقصان کی تلافی:  دوسرا اہم اصول نقصان کی تلافی ہے جس کا تعلق جائیداد جیسے بیمہ آگ اور سمندری بیمہ سے ہے۔ آگ اور سمندری بیمہ نقصان کی تلافی کا معاہدہ ہے جس کے تحت کسی واقعے کے رونما ہونے کے نتیجے میں بیمہ شدہ کوہونے والے مالی نقصان کی تلافی کا بیمہ کنندہ وعدہ کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں بیمہ کنندہ بیمہ شدہ کو بیمہ شدہ جائیداد کے بربادیا خراب ہونے کی صورت میں ہونے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتا ہے ۔ تلافی کی رقم جو ادا کی جانی ہے اور جو نقصان ہوا ہے یہ دونوں ایسی ہوں کہ روپے پیسے میں ان کا اندازہ لگایا جاسکے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نقصان کی تلافی کا اصول ذاتی بیمہ میں مثلاً زندگی بیمہ(Life Insurance)  پر لاگو نہیں ہوتا۔
 (iv)
قریب ترین سبب: اس اصول کے مطابق بیمہ پالیسی اس طرح بنائی جاتی ہے کہ صرف ایسے ہی نقصانات کی تلافی کی جائے جو کہ پالیسی میں بیان کردہ خطرات کی وجہ سے واقع ہوئے ہوں۔ اگر نقصان دو یا دو سے زیادہ وجوہات کے نتیجہ میں واقع ہوا ہے تو اس صور ت میں سب سے زیادہ غالب یا موثر سبب کو نقصان کی قدرتی وجہ مانا جا ے گا۔ کسی حادثے سے نقصان ہونے کی صورت میں حادثے کے قریب ترین سبب کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
 (v)
حق ملکیت بدلنا:  اس سے مراد بیمہ کنندہ کے اس حق سے ہے جس کے تحت بیمہ کنندہ بیمہ شدہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے بعد اس کی جگہ لے لیتا ہے یعنی اگر کسی متبادل ذریعہ سے بیمہ شدہ کو کچھ وصول ہونا ہو تو اب اس کوو صول کرنے کا حق بیمہ کنندہ کو ہوتا ہے ۔جب بیمہ شدہ کے نقصان کا معاوضہ دے دیا جاتا ہے تو بیمہ شدہ جائیداد کا حق ملکیت بیمہ کنندہ کو منتقل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ اگر بیمہ شدہ جائیداد کو نقصان پہنچنے کے بعد بھی اس کی کوئی قیمت ہے تو اس کو فروخت کرکے منافع کمانے کی اجازت بیمہ شدہ کو نہیں ہونی چاہیے۔
 (vi)
تعاون :  اس اصول کے تحت بیمہ کنندہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ مطالبہ کی ادائیگی کے بعد دوسرے ذمہ دار بیمہ کنندگان کو اس نقصان کی ادائیگی میں حصہ لینے کے لیے کہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دوہرے بیمہ کی صورت میں بیمہ کنندگان کو اس تناسب میں ہونے والے نقصان کی رقم کو آپس میں تقسیم کرنا ہوتا ہے جس تناسب میں انہوں نے بیمہ کیا ہے۔ اگر ایک جائیداد کی ایک سے زیادہ بیمہ پالیسیاں لی گئی ہوں تو نقصان کی صورت میں بیمہ شدہ کو اصل نقصان سے زائد رقم وصول کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ اگر پوری رقم ایک ہی بیمہ کنندہ سے وصول کرلی جائے تو دوسرے بیمہ کنندہ سے مزید رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔
 (vii)
نقصان میں کمی کرنا :  نقصان میں کمی کا اصول بیمہ شدہ کی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیتاہے جس جائیداد کی بیمہ پالیسی کرائی گئی ہے اس کو حادثے کی صورت میں نقصان کو کم سے کم کرنے کے تمام اقدامات کیے جانے چاہیں۔ مثال کے طور پر مال گودام میں رکھے مال کا آگ کابیمہ ہے۔ حامل پالیسی یعنی بیمہ شدہ کی ذمہ داری ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں وہ تمام کوشش کرے کہ مال کو کم سے کم نقصان ہو،جیسا کہ وہ بیمہ نہ ہونے کی صورت میں کرتا۔ اگر ایک ہوشمندشخص کی طرح واجب دیکھ بھال نہ رکھی جائے تو ایسی صورت میں بیمہ کمپنی سے مطالبہ حاصل کرنے کا حق ضائع ہوجاتا ہے۔

 4.5.4   بیمہ کی اقسام

بیمہ کمپنیوں کے کاموں اور بیمہ کاروبار کو کنٹرول کرنے والے قانون کے مد نظر بیمہ کی مختلف اقسام موجود ہیں۔ موٹے طور پر بیمہ کی زمرہ بندی ذیل میں کی جا سکتی ہے:۔

زندگی کا بیمہ

زندگی غیر یقینی ہوتی ہے۔ اس لیے ہر ایک شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مستقبل کے ناگہانی واقعات کے لیے کچھ رقم کو اپنے لیے  یقینی بنائے۔ہر شخص کو اپنی زندگی میں ہمیشہ ہی کچھ طرح کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔
 یہ خطرہ اس یقینی واقع کا بھی ہوسکتا ہے جسے موت کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں خاندان کے دوسرے ممبران کا کیا ہوگا جو کہ اس شخص آمدنی پر منحصر ہوتے ہیں۔دوسرا خطرہ لمبے عرصہ تک زندہ رہنے کا ہے جب کہ انسان اتنا بوڑھا ہوجاتاہے کہ کمانے کے قابل نہیں رہتا یعنی ریٹائرمنٹ ۔ایسی صورت میں بھی آمدنی یا تو ختم ہوجائے گی یا کم ہونے لگے گی۔ ایسے حالات میں لوگ ان خطرات سے تحفظ کے لیے بیمہ کمپنیوں کا رخ کرتے ہیں اور زندگی کی بیمہ کمپنیاں انہیں ایسے خطرات سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
زندگی کی بیمہ پالیسی زندگی کی غیر یقینی صورت سے تحفظ فراہم کرتی ہے لیکن رفتہ رفتہ اس کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا ہے اور اب مختلف لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق مختلف قسم کی پالیسیاں دستیاب ہیں مثلاً معذوری بیمہ، صحت یا طبی بیمہ، سالانہ معاوضہ بیمہ اور سادہ زندگی بیمہ۔
زندگی بیمہ کی تعریف میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں بیمہ کنندہ مدتی یا پوری پوری پریمیم وصول کرنے کے بدلے میں بیمہ شدہ شخص یا جس کے نام سے پالیسی لی گئی ہے، بیمہ شدہ رقم کی ادائیگی کرنے پر رضا مند ہوتا ہے۔ یہ ادائیگی انسانی زندگی کو متاثر کرنے والے کسی مخصوص واقع یا ایک مخصوص مدت کے خاتمہ پر کی جاتی ہے۔ اس طرح بیمہ کمپنی ایک مخصوص رقم جسے پریمیم کہا جاتا ہے، کے بدلے میں ایک شحص کا بیمہ کرنے پر رضا مند ہوتی ہے ۔ پریمیم کی ادائیگی پوری کی پوری بھی کی جاسکتی ہے اور قسطوں میں بھی، جیسے ماہانہ،سہ ماہی،شش ماہی اورسالانہ بیمہ کمپنی ایسی صورت میں شخص کی وفات ہونے پر یا اس کے ایک خاص عمر کو پہنچنے پر (یعنی ایک مخصوص مدت کے خاتمہ پر) ایک متعین رقم کی ادائیگی کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ اس طرح اس شخص کو یقین ہوتا ہے کہ جب وہ ایک خاص عمر کو پہنچے گا تب اسے وہ مخصوص رقم مل جائے گی یا اس کی وفات کی صورت میں اس پر انحصار کرنے والے لوگوں کو یہ رقم مل جائے گی۔
یہ معاہدہ جس میں تمام شرائط ہوتی ہیں تحریری ہوتاہے اور ایسی دستاویز کو پالیسی کہتے ہیں ۔ جس شخص کی زندگی کا بیمہ کیا گیا ہے اسے بیمہ شدہ کہتے ہیں۔ بیمہ کمپنی بیمہ کنندہ ہوتی ہے۔ بیمہ شدہ کے ذریعہ ادا کی گئی رقم پریمیم کہلاتی ہے ۔ پریمیم کو وقت وقت پر قسطوں میں ادا کیا جاسکتا ہے۔ 
یہ بیمہ اچانک موت کی صورت میں خاندان کو تحفظ فراہم کرتا ہے یا بڑھاپے میں جب کمانے کی صلاحیت میں کمی آجاتی ہے تومعقول رقم فراہم کرتا ہے۔ بیمہ محض ایک تحفظاتی قدم ہی نہیں ہے بلکہ یہ سرمایہ کاری کی بھی ایک قسم ہے کیونکہ موت کے وقت یا ایک خاص مدت کے خاتمہ پر بیمہ شدہ کو ایک مخصوص رقم واپس ادا کی جانی ہوتی ہے۔
زندگی بیمہ، بچت کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ پریمیم کی رقم مسلسل ادا کرنی ہوتی ہے یہ اس طرح بیمہ شدہ اور اس پر منحصر لوگوں کو تحفظ کا احساس دیتا ہے۔
گذشتہ حصہ میں بیان کیے گئے بیمہ کے عام اصولوں کا زندگی کے بیمہ پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ کچھ باتوں کو چھوڑ کر بیمہ معاہدے کے اہم اجزاء درج ذیل ہیں:
(i) بیمہ معاہدے میں ایک کار آمد اور زندہ معاہدے کی تمام ضروری باتیں ہونی چاہئیں۔ ایک معاہدے کے کارآمد  ہونے کے لیے جن عناصر کا ہونا ضروری ہے وہ ہیں  پیش کش اور منظوری ، بغیر دباؤکی رضا مندی، معاہدے کی صلاحیت ، قانونی معاوضہ، اور قانونی شے۔
(ii)
زندگی کے بیمہ کا معاہدہ نہایت نیک نیتی کا معاہدہ ہوتا ہے۔ بیمہ شدہ بیمہ کو کمپنی کو معلومات فراہم کرنے میں دیانت دار ہونا چاہئے۔اسے اپنی صحت کے بارے میں تمام مادی حقائق بیمہ کنندہ کو بتانے چاہئیں۔ اس کا فرض ہے کہ وہ بیمہ کنندہ کو اپنے بارے میں معلوم تمام مادی حقائق بتائے وہ بھی جو کہ بیمہ کنندہ نے اس سے دریافت نہ کیے ہوں۔
(iii) زندگی بیمہ میں بیمہ شدہ کا بیمہ کرائے گئے شخص میں قابل بیمہ مفاد ہونا چاہیے ۔ قابل ِ بیمہ مفاد کی غیر موجودگی میں بیمہ کامعاہدہ اصل معاہدہ نہ ماناجائے گا۔ زندگی کے بیمہ کی صورت میں قابل بیمہ مفادکا ہونا اس وقت ضروری ہے جب بیمہ کرایا گیا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ بیمہ شدہ کا قابل بیمہ مفاد متعین وقت پر ہی ہو۔مثلاً کسی شخص سے امید کی جاتی ہے کہ اس کا اپنی زندگی اور اس کے ہر حصہ سے مفاد وابستہ ہے۔ ایک قرض خواہ کا اپنے قرض دار کی زندگی میں قابل ِ بیمہ مفاد ہے ،ایک ڈرامہ کمپنی کے مالک کا اپنے اداکاروں کی زندگی میں قابلِ بیمہ مفاد ہے۔
(iv) 
 زندگی بیمہ نقصان کی تلافی کا بیمہ نہیں ہے۔ انسانی زندگی کی تلافی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ایک مخصوص رقم میں اسے ناپاجاسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ زندگی بیمہ میں واقعہ کے رونما ہونے پر واجب الادا رقم کو پہلے سے طے کرلیا جاتا ہے۔ اس لیے زندگی کا بیمہ ایک نقصان کی تلافی کا بیمہ نہیں ہے۔

زندگی کی بیمہ پالیسیوں کی اقسام

پالیسی ایک دستاویز ہے۔ یہ بیمہ کنندہ اور بیمہ شدہ کے درمیان تحریری معاہدہ ہوتا ہے۔ جس میں وہ شرائط درج ہوتی ہیں جن کے تحت پالیسی جاری کی جاتی ہے۔ تجویز کنندہ سے تجویز کا فارم، تمام خانہ پری اور دستخطوں کے ساتھ وصول ہونے اور پہلی پریمیم جمع ہونے کے بعد بیمہ کنندہ تجویز کو منظور کرتا ہے اور پالیسی جاری کرتا ہے۔ 
لوگوں کی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں اس لیے وہ ایک ایسی پالیسی لینا پسند کرتے ہیں جو کہ ان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرے۔ زندگی بیمہ کے لیے لوگوں کی ضروریات، خاندانی ضرورتیں ،بچوں کی ضرورتیں، بڑھاپے اور مخصوص ضرورتوں کی شکل میں ہوسکتی ہیں۔لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بیمہ کنندگان نے مختلف اقسام کی پالیسیاں وضع کی ہیں جیسے پوری زندگی کا بیمہ، بندوبستی بیمہ، کل زندگی اور بندوبستی دونوں بیمہ پلانوں کا مرکب، بچوں کا بیمہ اور سالانہ بیمہ پلان، ان میں سے چند کو ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔

زندگی بیمہ، آگ بیمہ اور سمندری بیمہ کے درمیان فرق

 سمندری بیمہ آگ بیمہ
 زندگی بیمہ  
 فرق کی بنیاد   
 جہاز یا جہازی مال کا بیمہ کرایا جاتا ہے۔  بیمہ کرائی جانے والی شے طبعی جائیداد یا اثاثہ ہوتی ہے۔  انسانی زندگی کا بیمہ کرایا جاتا ہے  بیمہ کرائی جانے والی شے 1
 سمندری بیمہ میں صرف تحفظ کا عنصر ہوتا ہے۔ آگ بیمہ صرف تحفظ کا عنصر ہوتا ہے نہ کہ سرمایہ کاری۔    زندگی بیمہ میں تحفظ اور سرمایہ کاری دونوں عناصر موجود ہوتے ہیں۔ عنصر 2  
   قابل بیمہ مفاد کی موجودگی مطالبہ کے واجب الاداد ہونے کے وقت ضروری ہے۔   قابل بیمہ مفاد کا پالیسی کرانے اور مطالبہ کے واجب الادا ہونے دونوں وقت موجود ہونا ضروری ہے۔  قبل بیمہ مفاد کا پالیسی کرانے کے وقت موجود ہونا ضروری ہے، مطالبہ کے واجب الادا ہونے کے وقت اس کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔     قابل بیمہ مفاد
سمندر بیمہ پالیسی یا تو ایک سال یا پھر سمندری  ہےیہ ان دونوں کا مرکب بھی ہوسکتی ہے ۔  آگ بیمہ پالیسی عموماً ایک سال کے عرصہ سے زیادہ کی نہیں ہوتی۔      
 زندگی بیمہ پالیسی عموماً ایک سال سے زیادہ مدت کی ہوتی ہے اور یہ یاتو  5سے30سال کی مدت کے لیے یا پھر زندگی بھر کے لیے لی جاتی ہے۔ مدت
 سمندر ی بیمہ نقصان کی تلافی کا معاہدہ ہے بیمہ شدہ جہاز کی بازاری مالیت اور سمندر میں تباہ ہوئی اشیاء کی لاگت کا مطالبہ کرسکتا ہے اور اس سے نقصان کی تلافی کی جاتی ہے۔  آگ بیمہ نقصان کی تلافی کا معاہدہ ہے۔ بیمہ شدہ نقصان کی اصل رقم کا ہی مطالبہ کرسکتا ہے۔ نقصان کی صورت میں پالیسی میں بیان کردہ زیادہ سے زیادہ ۔رقم کی حد تک ہی ادائیگی کی جاتی ہے  زندگی بیمہ نقصان کی تلافی کے اصول پر مبنی نہیں ہوتا۔ بیمہ شدہ رقم کی ادائیگی یا تو خاص واقع کے رونما ہونے پر یا پھر پالیسی کی متعین مدت پر ہوتی ہے۔ نقصان کی تلافی 5
نقصان قابلِ پیمائش ہوتا ہے۔  نقصان قابلِ پیمائش ہوتا ہے ۔  نقصان قابلِ پیمائش نہیں ہوتا۔  نقصان کی پیمائش 6  
 سمندری بیمہ کوئی دستبرداری مالیت نہیں ہوتی۔  آگ بیمہ کی کوئی دستبرداری مالیت نہیں ہوتی۔   زندگی بیمہ کی دستبرداری مالیت ہوتی ہے۔ دستبرداری مالیت
    سمندری بیمہ میں پالیسی کی رقم جہاز یا جہازی مال کی بازاری مالیت سے زیادہ نہیں ہوتی۔    آگ بیمہ میں پالیسی کی رقم، بیمہ کرائی گئی شہ کی مالیت سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔  زندگی بیمہ کوئی کسی بھی رقم کی حد تک بیمہ کرا یا جا سکتا ہے۔  پالیسی کی رقم 8
سمندرمیں نقصان کاواقع نہیں بھی ہوسکتا۔یہاں غیریقینی کاعنصرہے۔ آگ کی تباہی کاواقع رونمانہیں بھی ہوسکتا۔یہاں غیریقینی کاعنصرپایا جاتاہے اورمطالبہ نہیں بھی کیاجاسکتا۔ اس میں یقینی طورپرواقع ہونے کا عنصرپایاجاتاہے یعنی موت یاپالیسی کی متعین تاریخ یقینی طورپرواقع ہوتی ۔اس لیے مطالبہ بھی کیاجائے گا۔ خطرہ کاامکان 9

(i)پوری زندگی بیمہ کی پالیسی: 
 اس قسم کی پالیسی میں بیمہ شدہ کے انتقال پر ہی نفع کے حقدار کو بیمہ شدہ رقم قابل ادا ہوتی ہے۔ اس طرح واجب الادا رقم صرف مرنے والے کے وارث یا نفع کے حقدار کو ہی ملتی ہے۔
پریمیم یا تو( 20سے 30سال تک) متعین مدت تک واجب الادا ہوتی ہے یا بیمہ شدہ کی کل زندگی تک ۔ اگر پریمیم ایک متعین مدت کے لیے واجب الادا ہے تب بھی پالیسی بیمہ شدہ کی موت تک جاری رہے گی۔
 (ii)
بندوبستی زندگی بیمہ پالیسی:  اس قسم کی پالیسی کے تحت بیمہ کنندہ یہ ذمہ داری لیتا ہے کہ بیمہ شدہ کو اس کی مخصوص عمر تک پہنچنے پر یا اس کی موت پر، ان دونوں میں سے جو بھی پہلے واقع ہو ایک مخصوص رقم ادا کرے گا۔ اگر بیمہ شدہ مخصوص عمر تک پہنچنے سے پہلے انتقال کرجاتا ہے تو یہ رقم اس کے قانونی وارث یا اس کے نامزد شخص کو واجب الادا ہوگی ۔ اس طرح بندوبستی پالیسی محدود سالوں کے بعد مکمل ہوجاتی ہے۔
 (iii)
مشترکہ زندگی پالیسی:  یہ پالیسی دویا دو سے زیادہ لوگوں کے ذریعہ لی جاتی ہے۔ پریمیم کی ادائیگی یا تو مشترکہ طور پر کی جاتی ہے یا پھر دونوں لوگ کرتے ہیں۔ یہ ادائیگی پوری کی پوری بھی ہوسکتی ہے یا قسطوں میں بھی ۔ کسی ایک شخص کے انتقال کی صورت میں بیمہ شدہ رقم کی ادائیگی دوسرے زندہ بچے شخص کو کردی جاتی ہے عموماً یہ پالیسی یا تو شوہر اور بیوی کے ذریعہ مشترکہ طور پر لی جاتی ہے یا پھر شراکت داری کے شرکاء کے ذریعہ لی جاتی ہے ۔ جس میں رقم پر دو اشخاص میں سے زندہ بچے شخص کو قابل ادا ہوتی ہے۔
 (iv)
اینیوٹی پالیسی:  اس پالیسی کے تحت بیمہ شدہ کے ایک خاص عمر کو پہنچنے پر بیمہ شدہ رقم کی ادائیگی ماہانہ، سہ ماہی، شش ماہی یا سالانہ قسطوں میں کردی جاتی ہے۔ بیمہ شدہ کے ذریعہ پریمیم کی ادائیگی ایک مخصوص مدت تک قسطوں میں بھی کی جاسکتی ہے یا ایک مشت بھی کی جاسکتی ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو ایک خاص عمر کے بعد مستقل آمدنی حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
 (v)
بچوں کی بندوبستی پالیسی:  اس طرح کی پالیسی کوئی شخص اپنے بچوں کی تعلیم یا شادی کے اخراجات کو پوراکرنے کے لیے لیتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت بچوں کے ایک خاص عمر کو پہنچنے پر بیمہ کرانے والے کو بیمہ کنندہ کو ایک خاص رقم ادا کرنی ہوتی ہے ۔ جو شخص یہ معاہدہ کرتا ہے اس کو پریمیم ادا کرنی پڑتی ہے لیکن اگر پالیسی کے متعین وقت سے پہلے ہی اس شخص کی موت واقع ہوجائے تو پھر ایسی صورت میں پریمیم کی ادائیگی نہیں کرنی پڑتی۔

آگ بیمہ

آگ بیمہ معاہدے کے تحت بیمہ کنندہ ،بیمہ شدہ کے ذریعہ ادا کی گئی پریمیم کے بدلے میں بیمہ شدہ جائیداد کو آگ سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری لیتا ہے۔ یہ ذمہ داری ایک خاص مدت تک پالیسی میں بیان کی گئی مخصوص رقم تک ہوتی ہے۔ عموماً آگ بیمہ ایک سال تک کی مدت کے لیے ہوتا ہے جس کے بعد وقتاً فوقتاً اس کی تجدید کرانی ہوتی ہے۔ پریمیم کی ادائیگی پوری کی پوری بھی کی جاسکتی ہے اور قسطوں میں بھی۔ آگ سے ہوئے نقصان کے مطالبہ کو درج حالات پر پورا اترنا ضروری ہے:
(i)   نقصان کو حقیقی ہونا چاہیے۔
(ii)   آگ حادثاتی اور غیرارادی ہونی چاہیے۔
آگ بیمہ میں جس خطرہ کی تلافی کا وعدہ کیا جاتا ہے اس میں نقصان آگ یا دوسرے قریب ترین سبب کے باعث ہونا چاہیے۔ اگر نقصان حد سے زیادہ حدت کے باعث واقع ہوا نہ کہ آگ لگنے سے توپھر اسے آگ کا نقصان نہیں مانا جائے گا اور پھر یہ صورتحال آگ بیمہ کے مفہو م میں نہیں آئے گی اور اس طرح کے نقصان کا معاوضہ بیمہ کنندہ سے وصول نہیں کیا جاسکتا۔
آگ بیمہ معاہدہ چند بنیادی اصولوں پر مبنی ہوتا ہے جس کا ذکر عام اصولوں کے تحت کیا جاچکا ہے۔ آگ بیمہ معاہدے کے اہم عناصر مندرجہ ذیل ہیں:۔
(i)   آگ بیمہ میں بیمہ شدہ کا بیمہ کرائی گئی شے میں قابل بیمہ مفاد ہونا چاہیے۔ قابل بیمہ مفاد کی غیر موجودگی میں بیمہ معاہدے کو معاہدہ نہیں مانا جائے گا۔ آگ بیمہ میں زندگی بیمہ کے برعکس قابل بیمہ مفاد بیمہ کرانے کے وقت موجود ہونا چاہیے اور نقصان کے وقت بھی۔ مثلاً ایک کا قابل بیمہ مفاد اپنی جائیداد میں ہوتا ہے۔ ایک تاجر کا اپنے مال میں قابل بیمہ مفاد ہوتا ہے ،ایک ایجنٹ کا اپنے مالک کی جائیداد میں قابل بیمہ مفاد ہوتاہے ،شراکت داری فرم کے شریک کا اپنی فرم کی جائیداد میں قابل بیمہ مفاد ہوتا ہے، ایک سا ہوکار کا گروی رکھی گئی جائیداد میں قابل بیمہ مفاد ہوتا ہے۔
(ii)  زندگی کے بیمہ معاہدے کی طرح آگ بیمہ معاہدہ کا نہایت نیک نیتی کا معاہدہ ہوتا ہے بیمہ شدہ کو بیمہ کرائی گئی شے سے متعلق تمام معلومات سچائی اور دیانت داری سے بیمہ کمپنی کو بتانی چاہیے۔ اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ جائیداد کی نوعیت اور اس سے متعلق خطرات کے تمام حقائق کا ٹھیک ٹھیک اظہار کرے۔ بیمہ کمپنی کو بھی چاہیے کہ وہ بیمہ شدہ کو پالیسی کے حقائق سے آگاہ کرے۔

(iii)  آگ بیمہ کا معاہدہ نقصان کی تلافی کا معاہدہ بھی ہے۔ بیمہ شدہ نقصان کی صورت میں نقصان کی اصل رقم بیمہ کنندہ سے وصول کرسکتا ہے۔ بیمہ شدہ زیادہ سے زیادہ اتنی ہی رقم حاصل کرسکتا ہے جتنی رقم سے شہ کا بیمہ کرایا گیا ہے مثلاً اگر ایک شخص کے اپنے مکان کا بیمہ400000 روپے کا کرایا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ بیمہ کنندہ پوری ہی رقم ادا کرے خواہ مکان پوری طرح سے آگ کے باعث تباہ ہوچکا ہو۔ لیکن بیمہ کنندہ 400000کی زیادہ سے زیادہ رقم میں سے فرسودگی کی رقم گھٹا کر اصل نقصان کی ادائیگی کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی شخص بیمہ سے فائدہ نہ اٹھائے۔

(iv)  بیمہ کنندہ معاوضہ دینے یا تلافی کرنے کا ذمہ دار اسی صورت میں ہوتا ہے جب کہ نقصان یا تباہی کا قریب ترین سبب آگ لگنا ہو۔ 

سمندری بیمہ 

   یہ ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت بیمہ کنندہ سمندری مہم جوئی سے متعلق نقصانات کی تلافی کی ذمہ داری لیتا ہے۔ سمندری بیمہ سمندری نقل وحمل کے دوران مال کو یا جہاز کو نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے سمندری خطرات میں جہاز کا چٹان سے ٹکرانا، یا دشمنوں کا جہاز پر حملہ کرنا، آگ لگنا، بحری قزاقوں کا جہاز پر قبضہ، جہاز کے کپتان اور عملہ کی حرکتیں وغیر ہ شامل ہیں۔ ان خطرات کے سبب جہاز اور اس پر لدا مال یا تو تباہ ہوجاتا ہے یا پھر غائب ہوجاتا ہے اور جہازی مال کرائے کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ اس لیے سمندری بیمہ جہاز، اس پر لدے مال اور جہازی مال کرائے کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس طرح یہ بیمہ کی وہ شکل ہے جس میں بیمہ کنندہ سمندر میں جہاز یا اس پر لدے مال کے مکمل یا جزوی نقصان کی صورت میں اس کے مالک کو معاوضہ دینے کی ذمہ داری لیتا ہے۔ بیمہ کنندہ سمندری مہم جوئی میں رونما ہونے والے خطرا ت کی وجہ سے جہاز یا اس پر لدے مال کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ ایسی صورت میں بیمہ کنندہ ضمانت دینے والا کہلاتا ہے۔ اور بیمہ شدہ اس وصول شدہ ضمانت یا تحفظ کے بدلے میں اسے پریمیم کی ادائیگی کرتا ہے۔ سمندری بیمہ دوسری قسم کے بیموں سے یہ ذرا مختلف ہے اس میں تین چیزیں شامل ہیں یعنی جہاز، جہاز پر لدا مال یا اشیاء اور جہازکا مال کرایہ۔
(a)   جہاز کا بیمہ:  کیونکہ جہاز کو سمندرمیں کئی طرح کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اس لیے بیمہ پالیسی جہاز کی تباہی کی وجہ سے ہوئے نقصان کی تلافی بیمہ شدہ کو کرتی ہے۔
(b)   جہاز پر لدے مال کا بیمہ:   جب مال کوجہاز کے ذریعہ روانہ کیا جاتا ہے تب اسے کئی طرح کے خطرات لاحق ہوتے ہیں یہ بندرگاہ پر بھی ہوسکتے ہیں جیسے چوری اور اشیاء کی گم شدگی کا خطرہ اور سفر کے دوران کوئی خطرہ۔اس طرح مال کو لاحق ایسے خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بیمہ پالیسی جاری کی جاتی ہے۔ 
(c)    جہازی مال کے کرایہ کا بیمہ:  اگر جہاز پر لدا مال نقل و حمل ہونے والے نقصان یا تباہی کی وجہ سے اپنی منزل پر نہ پہنچ پایا تو ایسی صورت میں جہازراں کمپنی کو جہاز کا مال کرائے کی ادائیگی نہیں کی جاتی۔ جہازکا مال کرایہ بیمہ کا مطلب جہاز راں کمپنی کو جہاز کے مال کرائے کے نقصان کی تلافی کرنا ہے۔
سمندری بیمہ کے اصول عام بیمہ کے اصول کی طرح ہی ہیں سمندری بیمہ معاہدے کے اہم عناصر مندرجہ ذیل ہیں:
(i) زندگی بیمہ کے برعکس ، سمندری بیمہ، مفاد نقصان کی تلافی کا معاہدہ ہے۔ بیمہ شدہ نقصان کی صورت میں بیمہ کنندہ سے نقصان کی اصل رقم وصول کرسکتاہے۔ بیمہ شدہ کو کسی حالت میں سمندری بیمہ معاہدے سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن جہازی مال کی پالیسی شدید نقصان کی تلافی سے زیادہ کمرشیل تلافی فراہم کرتی ہے۔ بیمہ کنندہ، بیمہ شدہ کو رضا مندی کے طریقہ اور حدتک تلافی کرنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ جہازی پالیسی میں رواں بازاری مالیت سے زیادہ بیمہ شدہ رقم ایک سطح پر متعین کرلی جاتی ہے۔
(ii) زندگی بیمہ اور آگ بیمہ کی طرح ہی سمندری بیمہ ایک نہایت نیک نیتی کا معاہدہ ہے۔ بیمہ کنندہ اور بیمہ شدہ دونوں کو ہی ان تمام معلوم چیزوں کا ایک دوسرے سے اظہار کرنا چاہیے جن سے بیمہ معاہدہ متاثر ہوسکتا ہے۔ بیمہ شدہ کا فرض ہوتا ہے کہ مال کی نوعیت اور اس کی تباہی سے متعلق خطرات کا ٹھیک ٹھیک اظہار کرے۔
 (iii )قابل بیمہ مفاد کانقصان کے وقت موجود ہونا لازمی ہے لیکن پالیسی لیتے وقت اس کی موجود گی ضروری نہیں۔
(iv) قریب ترین سبب کا اصول بھی اس پر لاگو ہوتا ہے۔بیمہ کمپنی اسی صورت میں ادائیگی کی ذمہ دار ہوگی اگر نقصان پالیسی میں بیان کردہ مخصوص یا قریب ترین سبب کی وجہ سے ہوا ہے۔ مثلاً اگر نقصان کے کئی اسباب ہیں تو ایسی صورت میں قریب ترین سبب کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔

4.6   مواصلاتی خدمات  

مواصلاتی خدمات بیرونی دنیا سے رابطہ قائم کرنے میں کاروبار کی مدد کرتی ہیں جیسے سپلائر ،گاہک اور حریف وغیرہ، کاروبار کا وجود تنہائی یا خلامیں نہیں ہوتا۔اس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ خیالات اور اطلاعات کے تبادلہ کے لیے پیغام رسانی کرنی پڑتی ہے۔ مواصلاتی خدمات کے نہایت کار آمد، درست اور موثر ہونے کے لیے تیز رفتار ہونا ضرری ہے۔ اس تیزی سے متحرک اور مقابلہ سے بھرپور دنیا میں اطلاعات کے فوری لین دین کے لیے اعلی ٹکنا لوجی کو اپنا نا ضروری ہے۔ الیکٹرانک ذرائع اس تبادلہ کے لیے خاص طور پر ذمہ دار ہیں۔ کاروبار کی مدد کرنے والی خاص خدمات کو ڈاک اور ٹیلی کام کے زمروں میں بانٹا جاسکتا ہے۔

ڈاک کی خدمات 

ہندوستانی ڈاک اور تار شعبہ پورے ہندوستان میں ڈاک کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان خدمات کو فراہم کرنے کی خاطر پورے ملک کو 22ڈاکی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ حلقے مختلف ہیڈ آفسوں، ذیلی ڈاک دفتروں کے روز مرہ کے کاموں کا انتظام اپنے علاقائی اور ڈویزنل سطحوں پر کرتے ہیں ۔ڈاک کے شعبہ کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمات کو موٹے طور پر مندرجہ ذیل درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(i) مالی سہولیات:  یہ سہولیات ڈاک دفتر کی بچت سے متعلق اسکیموں کے ذریعہ فراہم کی جاتی ہیں جیسے پی پی ایف(پبلک پروویڈنٹ فنڈ) کسان وکاس پترا اورقومی بچت سر ٹیفکیٹ، عام خوردہ بینک کاری، ماہانہ آمدنی اسکیم کے کاموں کے علاوہ چالو کھاتہ جمع بچت کھاتہ، وقتی ڈپازٹ اور منی آرڈر کی سہولت میں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
(ii)  ڈاک
 کی سہولیات:  ڈاک کی سہولیات میں پارسل کی سہولیات یعنی اشیا کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل، رجسٹریشن سہولیات یعنی بھیجی گئی اشیا کی حفاظت ،اور بیمہ سہولت یعنی ڈاک کے ذریعہ بھیجے جانے کے عمل میں ہونے والے تمام خطرات سے بیمہ کرانا، شامل ہیں۔


بیمہ کی مختلف اقسام 

 1.  صحت کا بیمہ

صحت کا بیمہ بڑھتی ہوئی طبی لاگتوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ صحت کی بیمہ پالیسی، بیمہ کنندہ اور کسی شخص یا گروپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوتاہے جس میں بیمہ کنندہ ایک طے شدہ قیمت (پریمیم ) کے بدلے میں مخصوص صحت کا بیمہ فراہم کرتا ہے۔ پریمیم پوری کی پوری یا قسطوں میں ادا کی جاتی ہے۔ اس کا انحصار بیمہ پالیسی پر ہوتا ہے۔ صحت بیمہ بیماری یا چوٹ سے متعلق اخراجات یا تو براہ راست کرتا ہے یا ان کی تلافی بیمہ کنندہ کو کردیتا ہے۔ صحت بیمہ کے ذریعہ فراہم کیے گئے تحفظ کا دائرہ اور لاگت بیمہ اور خریدی گئی پالیسی پر منحصر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں موجودہ صحت بیمہ کا وجود بنیادی طور پر میڈی کلیم پالیسی کی شکل میں ہے جو کہ کاروباری اداروں سے جڑے افراد کو بیمہ فراہم کرتی ہے۔

  2.  موٹر گاڑی کا بیمہ

موٹر گاڑی بیمہ عام بیمہ کے زمرے میں آتا ہے یہ بیمہ نہایت مقبول ہے اور اس کی اہمیت روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے ۔ موٹر گاڑی بیمہ کے تحت مالک کی ان لوگوں کو معاوضہ دینے کی ذمہ داری جو کہ گاڑی کے ڈرائیور کی غلطی کے باعث مارے یا چوٹ پہونچائے گئے ہیں، بیمہ کمپنی پر منتقل ہوجاتی ہے ۔ موٹر بیمہ کے تحت پریمیم کی شرح کا ایک قائم معیار ہوتا ہے ۔

  3.  چوری بیمہ

چوری بیمہ جائیداد بیمہ کے زمرے میں آتا ہے۔ چوری بیمہ کے تحت چوری، ٹھگی ،نقب زنی اور اسی نوعیت کی دوسری حرکتوں کی وجہ سے گھریلو اشیاء اور جائیداد کو پہنچے نقصان آتے ہیں۔ حقیقی نقصان کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
   (i)   قابل بیمہ مفادکا نقصان کے وقت موجود ہونا لازمی ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہ پالیسی لیتے وقت بھی موجود ہو۔
   (ii)  قریب ترین سبب کے اصول کا اس پر بھی اطلاق ہوتا ہے پالیسی میں بیان کردہ قریب ترین سبب کی صورت میں ہی بیمہ کمپنی کی ذمہ دار ہوگی۔ مثلاً اگر نقصان کئی وجوہات کے باعث ہوا ہے تب نقصان کی قریب ترین وجہ کو دھیان میں
 رکھا جائے گا۔

4 .  مویشی بیمہ

مویشی بیمہ ایک ایسامعاہدہ ہے جس کے تحت بیمہ کنندہ کو بیل، بھینس، گائے بچھڑے جیسے مویشیوں کی موت کی صورت میں ایک مخصوص رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ یہ معاہدہ حادثہ، بیماریا حاملہ ہونے کے نتیجہ میں واقع ہونے والی موت کے لیے ہوتا ہے۔ بیمہ کنندہ نقصان کی ادائیگی کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ 

 5. فصل کا بیمہ

  فصل کا بیمہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو قحط یا سیلاب کی وجہ سے فصل کے برباد ہونے کی صورت میں کسانوں کی مالی مدد کرتا ہے۔ یہ بیمہ چاول ،گیہوں ،دالوں اور تلہنی بیجوں وغیرہ کی پیداوار سے متعلق نقصانات سے بچنے کے لیے کرایاجاتا ہے ۔تمام فصلوں کا تمام طرح کے خطرات سے بیمہ اب تک ہمارے ملک میں شروع نہیں ہوسکاہے۔

6. کھیل کود بیمہ

 یہ پالیسی شوقیہ کھلاڑیوں کو ان کے کھیل سے متعلقہ سازوسامان،ذاتی اثرات، قانونی ذمہ داری اورذاتی حادثہ کے خطرات سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر کھلاڑی اس دستیاب کو تحفظ کی حد کو اپنے ساتھ رہ رہے خاندان کے نامزد ممبران تک بڑھانا چاہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ تحفظ پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ یہ تحفظ درج ذیل کھیلوں میں سے کسی ایک یا اس سے زیادہ کے لیے دستیاب ہے: مچھلی کاشکار، بیڈمنٹن، کرکٹ، گالف، لان ٹینس،اسکواش اور کھیل کی بندوقوں کا استعمال۔

7.  امرتیہ سین شکیشا یووجنا بیمہ

یہ پالیسی جنرل انشورنس کمپنی کے ذریعہ پیش کی گئی ہے جس کا مقصد انحصار کرنے والے بچوں کی تعلیم کو محفوظ بنانا ہے۔ اگر بیمہ شدہ والدین یاقانونی سرپرست کو ایک سال کی مدت کے دوران بیرونی، پُرتشدد اور مرئی یا دکھائی دیئے جانے والے ذرائع کی وجہ سے براہ راست کوئی جسمانی چوٹ پہنچتی ہے جس کی وجہ سے اس کی موت بارہ مہینے کے اندر اسی وجہ سے واقع ہوجاتی ہے یاوہ مستقل طور پر معذور ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں حادثہ سے پالیسی کے خاتمہ تک یا تعلیمی مدت کے خاتمہ تک جو بھی پہلے واقع ہو، بیمہ کنندہ بیمہ شدہ طالب علم کی تمام تعلیم کے اخراجات کی تلافی کرے گا۔ اور ایسی تلافی پالیسی میں بیان شدہ رقم سے زائد نہیں ہوسکتی۔

.8.  راجیشوری مہیلا کلیان بیمہ یوجنا

یہ پالیسی بیمہ شدہ عورت کے خاندان کے تمام ممبران کو امداد فراہم کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اگر بیمہ شدہ عورت کسی ایسے حادثہ کے باعث معذور ہوجاتی ہے یا وفات پاجاتی ہے جو عورتوں کے مسائل سے وابستہ ہوتے ہیں تو اس کے خاندان کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
ڈاک کا شعبہ مندرجہ ذیل اقسام کی متعلقہ سہولیات بھی پیش کرتا ہے:

1. گریٹنگ پوسٹ: خوشی کے ہر موقع کے لیے خوشنما مبارکبادی کارڈ۔

2. میڈیا پوسٹ: پوسٹ کارڈروں، لفافوں، ایروگراموں، ٹیلی گراموں اور لیٹر بکسوں کے ذریعہ ہندوستانی کاروباری اداروں کو اپنے برانڈوں کا اشتہار دینے کی سہولت فراہم کرنا۔

3. براہ راست ڈاک براہ راست تشہیر کے لیے ہوتی ہے۔  اس پر پتہ ہو سکتا ہے اور یہ بغیر پتہ کے بھی ہوسکتی ہے۔

4. یو ایس اے کی ویسٹرن یونین فائننشیل سروسز کے ساتھ مل کر بین الاقوامی رقم تبادلہ کی سہولت فراہم کرنا جو کہ ہندوستان کو 185ممالک سے رقم بھیجنے کے قابل بناتی ہے یعنی185ممالک سے ہندوستان میں پیسہ بھیجا جاسکتا ہے۔

5 . پاسپورٹ کی سہولیات: پاسپورٹ کی درخواست کے لیے سہولت فراہم کرنے میں اس کی وزارت خارجہ کے ساتھ شراکت داری ہے۔

6. اسپیڈ پوسٹ: اس کا پوری دنیا کے 97 اہم ملکوں اور ہندوستان میں 1000 سے زائد مقامات سے رابطہ ہے۔

7. ای۔بل اس شعبہ کی جدید ترین پیش کش ہے جس کے تحت یہ بی ایس این ایل اور بھاری ایئر ٹیل کے بلوں کی رقم وصول کرتی ہے۔

ٹیلی کام خدمات 

عالمی معیار کا ٹیلی کام ڈھانچہ ملک کی تیز رفتار معاشی اور سماجی ترقی کی کنجی ہے ۔ یہ درحقیقت تمام کاروباری سرگرمیوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ آج دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے۔ اورایسی دنیا میں ٹیلی کام کے ڈھانچہ کے بغیر برّاعظموں کے درمیان کاروبار کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پوری دنیا میں آئی ٹی،ٹیلی کام، صارفین الیکٹرانکس اور میڈیا کے میدان میں کافی ترقی ہوئی ہے۔ معیار زندگی کو بلند کرنے میں ٹیلی کام کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اور 2005تک ہندوستان کے آئی ٹی سپر پاور بن جانے کے خواب کو پورا کرنے کی خاطر حکومت ہندوستان نے 1999میں نئی ٹیلی کام فریم ورک پالیسی اور 2004میں براڈبینڈ پالیسی تشکیل دی تھی۔ حکومت نے اس فریم ورک کے ذریعے معیشت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی خدمات فراہم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

مختلف طرح کی ٹیلی کام خدمات مندرجہ ذیل ہیں:

(i)  

سیلولر موبائل خدمات:   اس میں تمام طرح کی موبائل ٹیلی کام خدمات آتی ہیں۔ جن میں اپنے ہی خدماتی میدان میں کسی بھی قسم کے نیٹ ورک کا استعمال کرکے پی سی او خدمات، صوتی اور غیر صوتی پیغامات اور ڈاٹا خدمات شامل ہیں۔ اس کے ذریعہ کسی بھی دوسری قسم کے ٹیلی کام خدمت فراہم کردہ سہولت کے ساتھ باہمی رابطہ بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔

(ii)  فکسڈلائن 

خدمات:  اس میں تمام طرح کی غیرمتحرک اور ایک جگہ قائم یافکسڈ خدمات آتی ہیں جس میں طویل فاصلاتی پیغام رسانی کے لیے رابطوں کو قائم کرنے کی خاطر صوتی اور غیرصوتی پیغامات اور ڈاٹا خدمات شامل ہیں۔ یہ خدمات ملک کے طول وعرض میں بچھائے گئے فائیر آٹیکس سے وابستہ کسی نیٹ ورک کا استعمال کرتی ہیں یہ دوسری اقسام کے ٹیلی کام خدمات فراہم کردہ سہولیات کے ہمراہ باہمی رابطہ بھی فراہم کرتی ہیں۔

(iii)

کیبل خدمات:  یہ یک طرفہ رابطے کی خدمات ہوتی ہے جن کے ذریعہ ایک کام کرنے کے لائسنس شدہ علاقے میں میڈیا کی خدمات کی فراہمی کا کام کیا جاتا ہے۔ جوبنیادی طور پر یک طرفہ تفریح اور لطف اندوزی سے متعلق خدمات ہیں۔ کیبل نیٹ ورک کے ذریعہ دو طرفہ پیغام رسانی جس میں صوتی، ڈاٹا اور اطلاعاتی خدمات شامل ہوں، کا قیام مستقبل میں ہوسکتا ہے۔ کیبل نیٹ ورک کے ذریعہ ان خدمات کی فراہمی فکسڈیاقائم خدمات جیسی ہی ہوگی۔ 

(iv)  

وی ایس اے ٹی خدمات:  وی ایس اے ٹی (ویری اسمال ایرچرٹرمینل ) ایک سیٹ لائیٹ پر مبنی مواصلاتی خدمت ہے۔ یہ کاروباری اورسرکاری ایجنسیوں کو نہایت بہت ہی لچک دار اور قابل بھروسہ مواصلاتی خدمت فراہم کرتی ہے ،یہ خدمت شہری اور دیہی دونوں طرح کے علاقوں میں فراہم کی جاسکتی ہے ۔ زمین پر مبنی خدمات کے مقابلے میں وی ایس اے ٹی زیادہ قابل بھروسہ اور مسلسل خدمات کی فراہمی کرتی ہے۔ اس کا استعمال ملک کے دور دراز علاقوں میں نئے نئے کاموں کو انجام دینے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔جیسے ٹیلی میڈیسن، آن لائن اخبارات ، بازاراور قیمتی شرحیں اور ٹیلی ایجوکیشن۔

نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ

آزادی کے پہلے 50برسوں میں ہندوستان نے 13000کلومیٹر کی قومی شاہراہ کی تعمیر کی تھی۔ این ایچ اے آئی۔(حکومت ہندوستان) کے پروجیکٹ کے تحت ایک سیلچر گولڈن کواڈر بلیٹرل کی تعمیر شامل ہے جو دہلی۔ کولکاتا۔ چنئی اور بمبئی کو جوڑے گا اور شمال جنوب، مشرق، مغرب کا ریڈور بناکر سری نگر کو کنیا کماری اور سیلچر کو پوربند سے جوڑے گا۔ اس کے لیے 8سالوں کی مدت میں13151کلومیٹر کی قومی شاہراہ کی تعمیر کی جائے گی۔ یہ پراجیکٹ نہ صرف سڑک ٹرانسپورٹ کی شکل تبدیل کرلے گا بلکہ اس کے ہماری معیشت پر دوررس اثرات بھی ہوں گے۔ ریلوے کی وزارت نے بھی کاروباری طبقے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال بردار ریلوں، نقل وحمل اور دیکھ بھال میں بھاری اختراعات کی ہیں۔ حکومت ہندوستان بھی کاروباری سرگرمیوں کو جدید شکل دینے کے لیے ہوائی ادڈوں اور بندرگاہوں پر زیادہ بہتر سہولیات کو یقینی بنانے میں سنجیدہ ہے۔ حکومت کا منصوبہ نہ صرف موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش وصلاحیت میں اضافہ کرنے کا ہے بلکہ یہ موزوں علاقوں میں اور جدید طرز پر بندرگاہیں بھی بنانا چاہتی ہے۔


(v)
ڈی ٹی ایچ خدمات: ڈی ٹی ایچ (ڈائریکٹ ٹوہوم) سیلولرکمپنیوں کے فراہم کی جانے والی سیٹ لائٹ پر مبنی میڈیا خدمات ہیں۔کوئی بھی شخص ایک چھوٹے ڈش اینٹینااور ایک سیٹ ٹاپ باکس کی مدد سے براہ راست سیٹ لائیٹ کے ذریعہ میڈیا کی خدمات حاصل کرسکتا ہے۔ ڈی ٹی ایچ کی خدمت کثیر التعداد چینلوں کا گلدستہ فراہم کرتی ہے۔ اس کو ہم اپنے ٹیلی ویژن پر دیکھ سکتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں کیبل نیٹ ورک خدمات پر منحصر رہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

4.7   نقل وحمل یا ٹرانسپورٹیشن

نقل وحمل میں اس کے تمام طریقوں یعنی ریل ، سڑک، ہوا اور سمندر کے ذریعے کرایہ لے کر اشیاء کو حرکت پذیر بنانے اور مسافروں کو بین الاقوامی سطح پر ایک جگہ سے دوسرے جگہ لے جانے کی خدمات اپنی معاون خدمات کے ساتھ شامل ہیں۔ آپ گذشتہ جماعتوں میں نقل وحمل کے مختلف طریقوں کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ ان خدمات کو کاروبار کے لیے نہایت اہم خیال کیا جاتا ہے۔کیونکہ رفتا ر کسی بھی کاروباری سودے کی روح ہے۔ نقل وحمل جگہ کی رکاوٹ بھی ختم کرتی ہے یعنی یہ اشیا کو پیداوار کی جگہ سے صارفین کی جگہ پر دستیاب کراتی ہے۔ ہمیں اپنے نقل وحمل کے نظام کو اپنی معیشت کی ضروریات کے مطابق ترقی دینے کی ضرورت ہے ہمیں اعلیٰ معیار اور معقول چوڑائی کی بہتر سڑکوں کے ڈھانچہ کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس چند ہی بندرگاہیں ہیں اور وہ بھی کافی بھیڑ بھاڑ والی ہیں۔ حکومت اور صنعت دونوں کو اس خدمت کو موثر بنانے کے لیے وقت سے پہلے ہی کوشش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ خدمت کاروباری خدمات کوخط حیات فراہم کرتی ہے۔ زراعت اور غذاکے سیکٹر میں نقل وحمل اور اسٹوریج کے عمل کے دوران اشیاء کا بھاری نقصان ہوتا ہے۔

4.8 گودام میں مال رکھنا

ذخیرہ کاری ہمیشہ ہی معاشی ترقی کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔ گوداموں کو شروعاتی طور پر ایک ایسی غیر متحرک اکائی خیال کیا جاتاتھا جس کا مقصد اشیاء کے اصل معیار، مالیت اور ا ستعمال کی خاصیت کو قائم رکھنے کے لیے سائنسی اور منظم طریقے سے ذخیرہ کرنا تھا۔ مثلاً گودام ریل، ٹرک یا بیل گاڑی کے ذریعہ تجارتی مال رکھنے والے گودام بن گئے۔ اشیاء کو گودام کے اندر اسٹوریج میں ہاتھوں پر لے جایا جاتا تھا اور فرش پر ہاتھوں سے ایک انبار لگایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں ان کا استعمال صنعت کاروں، برآمد کاروں، درآمدکاروں، تھوک فروشوں، خوردہ فروشوں، نقل وحمل، کاروباری گاہکوں وغیرہ کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔
موجودہ دور میں گودام محض اسٹوریج کی خدمت فراہم نہیں کرتے بلکہ یہ نہایت واجب لاگتوں پر دوسری خدمات ورسد بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح گودام نہایت درست لاگت پر صحیح  طبعی شکل میں ، ٹھیک وقت پر ، صحیح جگہ پر، درست مقدار دستیاب کرانے میں مدددیتے ہیں ۔ جدید گودام خود کار گودام میں ہیں۔ ان میں انتظام کے لیے خود کار سافٹ ویئر ،کمپیوٹر سے چلنے والی کرینوں اور خودکار سہولت فراہم کرنے والے اوزاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

گوداموں کی اقسام

(i)  
پرائیویٹ گودام:  پرائیوٹ گودام کی ملکیت اور انتظام ایک ایسی کمپنی کے پاس ہوتا ہے جو کہ اپنی اشیاء کی دیکھ بھال خود ہی کرتی ہے جیسے خوردہ اسٹور کا سلسلہ، یا کثیر برانڈ کی کثیر اشیاء رکھنے والی کمپنیاں ۔اشیاء کی حرکت کو بہتر بنانے کے لیے گودام کو مال بنانے کے نظام کے قریب ہی قائم کیا جاتا ہے ۔پرائیوٹ گودام کئی طرح کے فوائد فراہم کرتے ہیں جیسے کہ کنٹرول،لچک اور متعلقہ کاروباری افراد کے ساتھ بہتر تعلقات۔
(ii) عوامی گودام:  عوامی گودام کا استعمال تاجر، صنعت کار یا عوام کا کوئی بھی ممبر اسٹور کی فیس کے بدلے میں اپنے مال کو اسٹور کرنے کے لیے کرتا ہے ان گوداموں کے کاموں کو حکومت نجی افراد کو لائسنس جاری کرکے منظم کرتی ہے۔

پرائیوٹ گودام کاری کمپنیاں

مرکزی ویئر ہاؤسنک کارپوریشن جو کہ مرکزی حکومت کا ادارہ ہے پرائیویٹ گودام کاری کمپنیاں پورے پورے ملک کے تاجران کو اپنی خدمات فراہم کر تا ہے پرائیویٹ گودام کاری کمپنیاں جسے ٹی سی آئی۔ شنکر انٹرنیشنل بلو ڈراٹ ڈی ایچ ایل وغیرہ نقل وحمل اور گودام کاری دونوں کے لیے کار گو (مال ڈھونڈنے) کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

یہ گودام ریل اور سڑک کے ذریعہ نقل وحمل کی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ اشیا کی مکمل حفاظت کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ چھوٹے صنعت کاروں کو ان سے کافی سہولت ملتی ہے کیونکہ وہ اپنے خود کے گودام تعمیر کرنے کا بار نہیں اٹھاسکتے ۔
ان سے دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جیسے ان کی جائے وقوع کی تعداد میں لچک، قائم لاگت کا نہ ہونا اور پیکنگ اور لیبلنگ جیسی مالی خدمات کی فراہمی پیش کرنے کی استعداد۔
 (iii)بونڈیڈگودام:  بونڈ یڈ گودام حکومت کے ذریعہ لائسنس شدہ ہوتے ہیں۔ ان کو اجازت ہوتی ہے کہ یہ درآمد اشیاء کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی سے قبل وصول کرلیں۔ دوسرے ممالک سے درآمد کی گئی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ درآمد کاروں کو کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی سے پہلے بندرگاہ یا ہوائی اڈے سے مال لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
بعض اوقات جب درآمد کار کسٹم ڈیوٹی کی پوری ادائیگی کرنے کی حالت میں نہیں ہوتے۔ وہ تمام مال کو فوری طور پر نہیں لے جاتے۔ کسٹم حکام کے ذریعے مال کو بونڈیڈ گودام میں رکھا جاتا ہے جب تک کہ کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی نہ ہوجائے۔
درآمد کا ور گاہک مال کو حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کرکے نکال سکتے ہیں اور درآمدڈیوٹی کی ادائیگی قسطوں میں کرسکتے ہیں۔
مال کی فروخت یا استعمال سے پہلے درآمد کار کو درآمد ڈیوٹی (امپورٹ ڈیوٹی)کی ادائیگی کے لیے فنڈ کو روکنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ اگر وہ بونڈیڈ گودام میں رکھے مال کو برآمد کرنا چا ہے تو وہ بغیر کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے ایسا کرسکتا ہے۔ اس طرح بونڈیڈ گودام اینٹریپورٹ تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔
 (iv)سرکاری گودام:  ان گودامو ں کی کلی ملکیت اور انتظام حکومت کے پاس ہوتاہے ۔حکومت پبلک سیکٹر تنظیموں کے ذریعہ ان کا انتظام چلاتی ہے مثلاً فوڈ کار پوریشن آف انڈیا،اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن آف انڈیا، مرکزی اور ریاستی گودام کا رپوریشن وغیرہ۔
(v)   امدادِ باہمی گودام:   چند مارکٹنگ امدادِ باہمی سوسائٹیاں یا زراعتی امداد باہمی سوسائٹیاں اپنی سوسائٹیوں کے ممبران کے لیے اپنے گودام قائم کرتی ہیں۔

گودام کاری کے کام 

گودام کاری کے کام مندرجہ ذیل ہیں:
(a) الحاق (Consolidation): گودام مختلف پیداواری پلانٹوں سے اشیا یا مال کو وصول اور یکجا کرنے اور اس کو نقل وحمل کے ذریعہ ایک مخصوص گاہک تک بھیجنے کا کام کرتے ہیں۔

2
(b) ڈھیر کو توڑنا: گودام پیداواری پلانٹو ں سے وصول شدہ زیادہ مقدار کو کم مقداروں میں تقسیم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ا ن کم مقداروں کو بعد ازاں گاہکو ںکی ضروریات کے مطابق ان کی کاروبار کی جگہوں پر با ذرائع نقل وحمل سے پہنچا دیا جاتا ہے۔
3
(c) ذخیرہ اندوزی: گودام کاری کا ایک اور کام چنندہ کاروباری کی اشیاء کو موسمی طور پر اسٹور کرنا ہے ۔ اشیایا خام مال جن کی ضرورت فروخت یا صنعت کاری کے لیے فوری طور پر نہیں ہوتی ان کو گوداموں میں رکھا جاتا ہے اور گاہکوں کی مانگ کے مطابق ان اشیاء کو دستیاب کرایا جاتا ہے ۔ زراعتی اشیاء جن کی فصل ایک مخصوص وقت میں ہوتی ہے لیکن جن کی کھپت پورے سال رہتی ہے ان کو اسٹور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کو بڑی مقدار میں وقتاً فوقتاً نکالا جاسکے۔
 (d) ویلیوایڈیڈ ؍اضافی مالیت خدمات: گودام چند اضافی مالیاتی خدمات بھی فراہم کرتے ہیں۔ جیسے دوران نقل وحمل مکسنگ،پکیجنگ اور لیبلنگ۔ بعض اوقات اشیاء کو کھولنے اور دوبارہ پیک کرنے اور لیبل لگانے کی ضرورت پڑتی ہے اس وقت لازماً جب کہ ان کا معائنہ ممکنہ گاہک کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ مقدار کے مطابق درجہ بندی یا گریڈنگ اور چھوٹے ڈھیروں میں مال کی تقسیم بھی گودام کے دیگر کام ہیں۔
 (e) قیمت میں استحکام:  اشیاء کی مانگ کے مطابق ان کی سپلائی کو بنائے رکھ کر گودام کاری قیمتوں کو مستحکم رکھنے کا کام بھی انجام دیتی ہے۔ اس طرح، جب سپلائی میں اضافہ اور مانگ میں کمی ہوتی ہے یا مانگ میں اضافہ اور سپلائی میں کمی واقع ہوتی ہے، تو گودام قیمتوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔
(f) مالی مدد:  گودام مالک اشیاء یامال کی ضمانت پر اس کے مالکان کو پیشگی رقم فراہم کرتے ہیں اور گاہکوں کو ادھار کی شرط پر اشیاء کی سپلائی بھی کرتے ہیں۔
4

اہم اصطلاحات

کاروباری خدمت                  بیمہ                        حق نمائندگی                                             آگ کا بیمہ
بینک کاری                       قابل بیمہ مفاد               مصیبت یا آفت کو کم کر نے کی کو شش               بحری  بیمہ 
موا صلاتی خدمات                 ای-بینک کاری             ہر جانہ                                                  دین
شرکت                          مواصلاتی خدمات             کمرشیل بینک قریب ترین سبب                          زندگی کا بیمہ
گودام کاری

خلاصہ

خدمات کی نوعیت:  خدمات، وہ علاحدہ طور پر قابل شناخت اور مادی اور محسوس نہ کی جانے والی سرگرمیاں ہیں جو کہ خواہشات کی تسکین کرتی ہیں اور جن کا تعلق کسی شے یا دیگر خدمت کی فروخت سے نہیں ہوتا ۔ خدمات کی پانچ بنیادی خصوصیات ہیں۔ یہ اشیاء خصوصیات سے مختلف ہیں اور ان کو خدمات کی پانچ آئی(Is) یعنی غیر محسوس،غیر یکسانیت،ناقابل علیحدگی،اشیا کی فہرست (انونٹر) اور شمولیت کہا جاتا ہے۔
خدمات اور اشیا میں فرق:  اشیا کی پیداوار کی جاتی ہے جب کہ خدمات ادا کی جاتی ہیں۔ خدمت ایک ایسا عمل ہے جس کو گھر نہیں لایا جاسکتا ۔ہم گھر صرف خدمت کے اثر کو لاتے ہیں اور کیونکہ خدمات کی فروخت کے مقام پر ہی کھپت ہوتی ہے اس لیے ان کو ذخیرہ بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
خدمات کی اقسام:  کاروباری خدمات، سماجی خدمات، ذاتی خدمات۔
کاروباری خدمات:   دوسری فرموں سے زیادہ بہتر مقابلہ کرنے کے لیے کاروباری ادارے مخصوص کاروباری خدمات پر زیادہ سے زیادہ منحصر ہوتے جارہے ہیں۔ کاروباری ادارے فنڈس کی دستیابی کے لیے بینکوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ بیمہ کمپنیوں سے رجوع کرتے ہیں، اپنی مشینری ، اشیا اور پلانٹ کا بیمہ کراتے ہیں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا رخ خام مال اور تیار مال کے نقل وحمل اور ٹیلی کام اورڈاک خدمات کارخ اپنے سپلائروں ، گاہکوں،فروخت کاروں سے رابطہ رکھنے کے لیے کرتے ہیں۔
بینک کاری:   ہندوستان میں بینک کاری وہ کمپنی ہے جو بینک کاری کا کاروباری کرتی ہے۔ یعنی عوام سے رقم وصول کرتی ہے تاکہ اس کو ادھار دے سکے یا اس کی سرمایہ کاری کرسکے۔ یہ رقم مانگے جانے پر قابل واپسی ہوتی ہے یا اس کو چیک ڈرافٹ یا آرڈ رکے ذریعہ بینک سے نکالا جاسکتا ہے۔
بینکوں کی اقسام: بینکوں کی زمرہ بندی مندرجہ ذیل طرح سے کی جاسکتی ہے۔ کمرشیل بینک، امداد باہمی بینک، مخصوص بینک، مرکزی بینک۔
کمرشل بینک کے کام :  ان میں سے چند ایک بینک کے بنیادی کام ہیں جب کہ دوسرے کاموں میں ایجنسی کے کام ہیں جن کی نوعیت عام افادی خدمات کی ہوتی ہے۔ ڈپازٹ جمع کرنا، رقم ادھار دینا، چیک کی سہولت، رقم بھیجنے کی آسانیاں، دیگر متعلقہ خدمات ۔
ای بینک کاری:   انفارمیشن ٹکنالوجی کی جدید لہر انٹرنیٹ بینک کاری ہے۔ یہ عملی؍ ورچویل بینک کاری کا ایک حصہ ہے۔ ای۔ بینک کاری الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کرکے الیکٹرانک بینک کاری کرتا ہے۔ اس طرح ای۔ بینک کاری کئی بینکوں کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمت ہے۔ جس کی بدولت گاہک اپنے نجی کمپیوٹر ،یا موبائل فون کا استعمال کرکے انٹرنیٹ پر بینک  کاری لین دین کرسکتے ہیں۔ جیسے بچتوں کا انتظام ،کھاتوں کی جانچ، قرضہ کی درخواست دینے یا بلوں کی ادائیگی وغیرہ۔
بیمہ:    بیمہ ایک ایسا طریقہ ہے کہ جس کے ذریعہ کسی غیر یقینی واقع سے ہونے والے نقصان کو ان تمام لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کو اس غیر یقینی واقع کا اندیشہ ہو اور جو اس واقع سے بچنے کے لیے اپنا بیمہ کرانے کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایک معاہدہ یا اقرار نامہ کی شکل ہے جس کے تحت ایک طریق معاوضہ میں طے شدہ رقم دوسرے فریق کو دینے کے لیے راضی ہوجاتا ہے تاکہ کسی قسم کی چیز کو جس میں بیمہ شدہ کا مالی فائدہ ہے اس کو کسی غیر یقینی واقعہ سے ہونے والے نقصان ،ہرجانہ یا چوٹ کی تلافی کرے گا۔
بیمہ کے بنیادی اصول:   بیمہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بیمہ شدہ فرد یا کاروباری ادارہ مستقبل کی بڑی رقم کے غیر یقینی نقصان کے بدلے میں ایک معلوم رقم خرچ کرنا پسند کرتاہے۔ اس طرح بیمہ جو کھم یا خطرہ کا انتظام کرنے کی ایک شکل ہے جس کا استعمال بنیادی طور پر مالی نقصان کے خطرہ سے بچاؤ کے لیے کیا جاتا ہے۔
بیمہ کے کام:   یقینی بنانا، تحفظ، خطرے میں حصہ داری، سرمایہ کا تشکیل میں معاون۔

بیمہ کے اصول

انتہائی نیک نیت :   بیمہ کا معاہدہ Uberrimae fidei کا معاہدہ ہے اس کے معنی ہیں کہ اس معاہدے کی بنیاد انتہائی نیک نیتی پر ہوئی ہے ۔یہ ہر بیمہ کے معاہدے کی شرط ہے کہ بیمہ کنندہ اور بیمہ شدہ دونوں فریقوں کو انتہائی نیک نیتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ قابلِ بیمہ مفاد کا مطلب ہے کہ بیمہ شدہ چیز سے مالی مفاد حاصل ہو۔
نقصان کی تلافی:  اس کے تحت کسی واقعہ کے ہونے کے نتیجہ میں بیمہ شدہ کو ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کا بیمہ کنندہ وعدہ کرتا ہے۔
قریب ترین سبب:   اگر نقصان دو یا دو سے زیادہ اسباب کے نتیجہ میں واقع ہوا ہے تو ایسی صورت میں سب سے زیادہ غالب یا موثر سبب کو نقصان کی قدرتی وجہ مانا جائے گا۔
حق ملکیت بدلنا:   جس سے مراد بیمہ کنندہ کا حق ہے جس کے تحت بیمہ کنندہ بیمہ شدہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے بعد اس کی جگہ لے لیتا ہے یعنی اگر کسی متبادل ذریعہ سے بیمہ شدہ کو کچھ وصول ہونا ہو تو اب اس کو وصول کرنے کا حق بیمہ کنندہ کو ہوتا ہے۔
حصہ چندہ :   اس اصول کے تحت بیمہ کنندہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ مطالبہ کی ادائیگی کے بعد دوسرے ذمہ دار بیمہ کنندگان کو اس نقصان کی ادائیگی میں حصہ لینے کے لیے کہے۔
نقصان میں کمی:  اس اصول کے مطابق بیمہ شدہ کا فرض ہے کہ وہ بیمہ شدہ املاک کے نقصان یا گمشدگی کو کم سے کم کرکے دکھائے گا۔

بیمہ کی اقسام

زندگی بیمہ:   زندگی بیمہ کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں بیمہ کنندہ یا تو مدتی یا پوری پوری پریمیم وصول کرنے کے بدلے میں بیمہ شدہ یا جس کے نام سے پالیسی لی گئی ہے بیمہ شدہ رقم کی ادائیگی کرنے پر رضا مند ہوتا ہے یہ ادائیگی انسانی زندگی کو متاثرکرنے والے کسی مخصوص واقعہ یا ایک مخصوص مدت کے خاتمہ پر کی جاتی ہے۔

یہ بیمہ اچانک موت کی صورت میں خاندان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یا بڑھاپے میں جب کمانے کی صلاحیت میں کمی آجاتی ہے، معقول رقم فراہم کرتا ہے۔ بیمہ محض ایک حفاظت ہی نہیں ہے بلکہ یہ سرمایہ کاری کی بھی ایک قسم ہے کیونکہ موت کے وقت یا ایک خاص مدت کے خاتمہ پر بیمہ شدہ کوایک مخصوص رقم مل جاتی ہے۔ 

زندگی بیمہ معاہدے کے اہم عناصر ہیں:

(i) بیمہ معاہدے میں ایک اصل اور کارآمدمعاہدے کی تمام ضروری باتیں ہونی چاہئیں۔

(ii) زندگی کے بیمہ کا معاہدہ نہایت نیک نیتی کا معاہدہ ہے۔

(iii) زندگی بیمہ میں بیمہ شدہ کا بیمہ کرائی گئی زندگی میں قابل بیمہ مفاد ہونا چاہئے۔

(iv) زندگی بیمہ نقصان کی تلافی کا بیمہ نہیں ہے۔

زندگی بیمہ پالیسی کی اقسام:  لوگوں کی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں اس لیے وہ ایک ایسی پالیسی لینا پسند کرتے ہیں جو کہ ان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرے۔زندگی بیمہ کے لیے لوگوں کی ضروریات، خاندانی ضرورتیں ، بچوں کی ضرورتیں، بڑھاپے اور مخصوص ضرورتوں کی شکل میں ہوسکتی ہیں۔ لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بیمہ کنندگان نے مختلف اقسام کی پالیسیاں وضع کی ہیں جیسے کل زندگی بیمہ، بندوبستی بیمہ، کل زندگی اور بندوبستی بیمہ پلانوں کا مرکب، بچوں کا بیمہ اور سالانہ بیمہ پلان۔

آگ بیمہ:   آگ بیمہ معاہدے کے تحت بیمہ کنندہ ،بیمہ شدہ کے ذریعے ادا کی گئی پریمیم کے بدلے میں بیمہ شدہ جائیداد کو آگ سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی ذمہ داری لیتا ہے۔ یہ ذمہ داری ایک خاص مدت تک پالیسی میں بیان کی گئی مخصوص رقم تک ہوتی ہے۔

آگ بیمہ کے اہم عناصر ہیں:

(i)   آگ بیمہ میں بیمہ شدہ کا بیمہ کرائی گئی چیز میں قابل بیمہ مفا د ہونا چاہیے۔

(ii)   زندگی بیمہ کی طرح آگ بیمہ معاہدہ نہایت نیک نیتی کا معاہدہ ہے۔

(iii)   آگ بیمہ کا معاہدہ شدید نقصان کی تلافی کا معاہدہ ہوتا ہے۔ 

(iv)  

 بیمہ کنندہ معاوضہ دینے یا تلافی کرنے کا ذمہ دار ایسی صورت میں ہوتا ہے جب کہ نقصان یا تباہی کاقریب ترین سبب آگ لگنا ہو۔

سمندری بیمہ:   یہ ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت بیمہ کنندہ سمندری سفر یامال لے جانے سے متعلق نقصا نات کی تلافی کی ذمہ داری لیتا ہے ۔ سمندری بیمہ سمندری نقل وحمل کے دوران مال کو یا جہاز کو نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ سمندری خطرات میں جہاز کا چٹان سے ٹکرانا یا دشمنوں کا جہاز پر قبضہ، آگ لگنا، بحری قزاقوں کا جہاز پر قبضہ، جہاز کے کپتان اور عملہ کا غلط عمل وغیرہ شامل ہیں۔ سمندری بیمہ دوسری قسم کے بیموں سے کچھ مختلف ہوتاہے اس میں تین چیزیں شامل ہیں یعنی جہاز ،جہاز پر لدا مال اور جہاز ی مال کرایہ۔

سمندری بیمہ معاہدے کے اہم عناصر ہیں:

(i) زندگی بیمہ کے برعکس سمندری بیمہ معاہدہ نقصان کی تلافی کا معاہدہ ہے۔

(ii) زندگی بیمہ کی طرح سمندری بیمہ ، نہایت نیک نیتی کا بیمہ ہے۔

(iii) قابلِ بیمہ مفاد کی موجودگی نقصان کے وقت ضروری ہے۔

(iv) قریب ترین سبب کا اصول اس پر لاگو ہوتا ہے۔

مواصلاتی خدمات:  مواصلاتی خدمات بیرونی دنیا سے رابطہ قائم کرنے میں کاروبار کی مدد کرتی ہیں جیسے فراہم کار یا رسدکار، گاہک اور حریف وغیرہ۔

 ڈاک خدمات:   کاروبار کی مدد کرنے والی خاص خدمات کو ڈاک اور ٹیلی کام کے زمروں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ڈاک کے شعبہ کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمات کو موٹے طور پر مندرجہ ذیل درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔مالیاتی سہولیات،ڈاک سہولیات۔

ٹیلی کام خدمات:   مختلف اقسام کی ٹیلی کام خدمات مندرجہ ذیل ہوتی ہیں۔ سیلولر موبائل خدمات ،ریڈیو پیجنگ خدمات، فکسڈ لائن خدمات ،کیبل خدمات ، وی ایس اے ٹی خدمات ، ڈی ٹی ایچ خدمات۔

نقل وحمل:    نقل وحمل میں اس کے تمام طریقوں یعنی ریل، سڑک، ہوا اور سمندر کے راستہ اشیاء کو کرائے پر لانے ،لے جانے اور مسافروں کو بین الاقوامی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی خدمات اپنی معاونین خدمات کے ساتھ شامل ہیں۔

گودام کاری:  گوداموں کو شروعاتی طور پر ایسی اکائی خیال کیا جاتا تھا جس کا مقصد اشیاکے اصل معیار ،مالیت اور استعمال کی خاصیت کو قائم رکھنے کے لیے سائنسی اور منظم طریقے سے اسٹور کرنا تھا۔

موجودہ دور میں گودام محض اسٹور کی خدمت فراہم نہیں کرتے بلکہ یہ نہایت واجب لاگتوں پر دوسری خدمات ورسد بھی فراہم کرتے ہیں۔

گوداموں کی اقسام:   پرائیوٹ گودام، عوامی گودام ،بونڈیڈ گودام، سرکاری گودام، امداد باہمی گودام۔

گودام کاری کے کام:   گودام کاری کے کام مندرجہ ذیل ہیں: الحاق (Consolidation)ڈھیر کو توڑنا(Break the Bulk)،ذخیرہ اندوزی(Stock pilign)اضافی مالیت یا ویلیوایڈیڈ خدمات، قیمت میں استحکام ، مالی مدد۔

مشقیں 

مختصر جوابی سوالات

.1 اشیا اور خدمات کی تعریف بیان کیجیے۔
.2 ای۔ بینک کاری سے کیا مراد ہے ؟ای ۔بینک کے فوائد بیان کیجیے۔
.3 کاروبار کو فروغ دینے والی مختلف ٹیلی کام خدمات پر نوٹ لکھیے۔
.4 بیمہ کے اصولوں کی مختصروضاحت مناسب مثالوں کے ساتھ کیجیے۔
.5 گودام کاری اور اس کے کاموں کی وضاحت کیجیے۔

طویل جوابی سوالات

.1 خدمات سے کیا مراد ہے؟ ان کی امتیازی خصوصیات کی وضاحت کیجیے؟
.2 کمرشیل بینکوں کے کاموں کی مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجیے؟
.3 ہندوستان کے شعبہ ڈاک کے ذریعہ فراہم کی جانے والی مختلف سہولیات پر ایک تفصیلی نوٹ لکھیے۔
.4 بیمہ کی مختلف اقسام کی تشریح کیجیے اور ان خطرات کی نوعیت کی جانچ کیجیے جن کا تحفظ ہر ایک قسم کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
.5 گودام کاری خدمات کی تفصیلی وضاحت کیجیے۔

سرگرمیاں/ پروجیکٹ ورک

.1 اپنے ذریعہ استعمال کی جانے والی مختلف خدمات کی فہرست بنائیے اور ان کی امتیازی خصوصیات کی شناخت کیجیے۔
.2   بینک کاری خدمات پر ایک پروجیکٹ تیار کیجئے ۔ اپنے قریبی بینک جائیے اور وہاں فراہم کی جانے والی مختلف خدمات کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور ان کی مختلف اسکیموں کی خصوصیات کے بارے میں معلوماتی کاغذ بھی حاصل کیجیے۔ بینکوں کو مزید اور کیا سہولیات فراہم کرنی چاہئیں اور ان سے متعلق اپنی جو تجویز پیش کرسکتے ہیں،پیش کیجیے۔
اپنے علاقہ میں قریب واقع بینک کی شاخ میں جائیں اور صارفین کی ضرورت کے مطابق بینک کھاتہ کھولنے کے لئے دستیاب مختلف قسم کے بینک کھاتوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ 
سرگرمی کے دوسرے حصہ میں کالم ’’اے‘‘ میں دی گئی معلومات کا کالم ’’بی‘‘ میں دی گئی معلومات سے مِلان کریں۔

شمار نمبر  کالم ’’اے‘‘    کالم ’’بی‘‘
1  رقم جمع کرنے کے کثیر   متبادل    دو پارٹیوں کے درمیان جب تک کہ لین دین کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا ہے، لین دین کے عمل کے دوران تیسری پارٹی کے کھاتہ کے ذریعہ یہ ایک عارضی پاس ہوتا ہے۔
2    بچت کھاتہ   مختلف بینکوں کے ذریعہ شروع کی گئی ایک قسم کی ڈپازٹ اسکیم ہے جس میں بینک کے بچت کھاتہ میں جمع زیادہ رقم ، فکسڈ ڈپازٹ کھاتہ میں متصل ہو جاتی ہے اور جہاں کھاتہ دار کو زیادہ شرح سود حاصل ہوتی ہے۔ یہ کھاتہ دار کو جمع رقم کے جزوی حصہ کو نکال لینے کی لچک میں فراہم کرتا ہے جب کہ نقد رقم پر بہتر سود ملتا رہے گا۔
 چالو کھاتہ    اسے اجتماعی ڈپازٹ اسکیم بھی کہتے ہیں۔ کوئی بھی انفرادی شہری، ایسوسی ایشن ،کلب، ادارے/ ایجنسیاں، سنگل/جوائنٹ ناموں سے یہ کھاتہ کھلوانے کے اہل ہوتے ہیں۔یہ کھاتہ 6ماہ سے 120ماہ تک کی مدت کے لئے ماہانہ قسط اور ایک ماہ کی ملٹی پل قسطوں میں بھی کھولا جا سکتا ہے۔ اسکیم کے شروع میں قسط کے لئے منتخبہ رقم ہر ماہ واجب الادا ہوتی ہے اور قسط کی تعداد ایک بار متعین ہونے کے بعد اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ شرح سود کا حساب سہ ماہی ہوتا ہے اور حتمی رقم ،اسکیم کی پختگی (میچور ہونے) کے بعد ادا کی جاتی ہے۔
4   فکسڈ ڈپازٹ کھاتہ  کوئی بھی انفرادی شہری ،ایسوسی ایشنز،کلب وغیرہ کھاتہ کھلوانے کے اہل ہوتے ہیں۔ اس میں کسی بھی چارج کے بغیر انٹرنیٹ بینکنگ کی سہولت مہیا کرائی جائے گی ۔ مطلوبہ دستاویزات، دستیاب کراکر طلبا، صفر بیلنس پر یہ کھاتہ کھلوا سکتے ہیں۔
5    ڈیمٹ کھاتہ  کوئی بھی انفرادی شہری،ایسوسی ایشنز،لمیٹڈ کمپنیاں،مذہبی ادارے،تعلیمی ادارے،خیراتی ادارے، کلب وغیرہ یہ کھاتہ کھلوا سکتے ہیں۔ ادائیگیاں لا تعداد بار کی جا سکتی ہیں۔ رقم ملک کے کسی بھی حصہ سے متعلقہ کھاتہ میں بھیجی جا سکتی ہے۔ اوور ڈرافٹ کی سہولت دستیاب ہوگی ۔ انٹر نیٹ بینکنگ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
6  امانتی کھاتہ
    اسے قلیل امانتی رسید اور فکسڈ ڈپازٹ رسید کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔
(a)  قلیل امانتی رسید
(i)   بینک کسٹمرز سے سات دن زائد از زائد 10سال تک کی مدت کے لئے ڈپازٹ قبول کرتے ہیں۔
 (ii) سات دن یا اس سے زائد لیکن یہ مدت 179دن سے تجاوز کرے،ایسی ڈپازٹ کو ’’شارٹ ڈپازٹ‘‘ کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے۔ 
(iii) کم از کم رقم جو اس اسکیم کے تحت جمع کی جا سکتی ہے وہ سات سے 14دنوں کی مدت کے لئے پانچ لاکھ روپئے تک ہو سکتی ہے۔
(b)  فکسڈ ڈپازٹ رسید(ایف ڈی آر)
(i) کوئی بھی انفرادی شہری، ایسوسی ایشنز،نابالغ،سوسائٹیاں،کلب وغیرہ اس کھاتہ کے لئے اہل ہوتے ہیں۔
(ii)بڑے شہروں اور بینکوں کی شہری شاخوں میں کم از کم ایف ڈی آر 10,000/- روپئے اور معمر شہریوں کے دیہی اور اہم شہری علاقوں کی بینکوں میں کم از کم ایف ڈی آر 5000/- روپئے ہوتی ہے۔
(iii)  مختلف بینکوں میں شرح سود مختلف ہوتی ہے اور ان کا انحصار ڈپازٹ کی میعاد پر ہوتا ہے کیونکہ بینکوں کی شرحیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
(iv) معمر شہریوں کے لئے ایک سال یا اس سے زائد عرصہ کے لئے جمع رقم پر بینک% 0.50کا اضافی سود دیتے ہیں۔
7    ورکنگ ڈپازٹ کھاتہ 
 1۔  یہ کھاتہ حصص کے معاملہ میں دباؤ سے آزاد لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
2۔ کوئی شخص ،غیر مقیم ہندوستانی(این آ ر آئی) ،غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار، غیر ملکی ، کارپوریٹ، ٹرسٹ،کلیئرنگ ہاؤس،مالی ادارے ،کلیئرنگ ممبر،میوچول فنڈز،بینک اور دیگر امانتی کھاتے۔
3۔ اس کھاتہ کو کھلوانے کے لئے ایک فارم پُر کرنا پڑتا ہے۔درخواست دہندہ کو ووٹر آئی ڈی/ پاسپورٹ/آدھار کارڈ/ڈرائیونگ لائسنس کی فوٹو کاپی کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی جمع کرانی ہوتی ہے۔ درخواست پر ضابطہ کی کارروائیاں مکمل ہونے کے فوراً بعد درخواست دہندہ کو ڈیمٹ کھاتہ نمبر مہیا کرا دیا جائے گا ۔