Skip to content
Karobarimutuala-001

 

باب  5 

کاروبار کے ابھرتے طریقے

سیکھنے کے مقاصد

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ
 •    ای-کاروبار کے معنی بتا سکیں گے۔
 •     ای- کاروبار کے ایک حصہ کے طور پر آن لائن خریدوفروخت کے عمل کی وضاحت کرسکیں گے۔
 •     روایتی کاروبار اور ای-کاروبار میں فرق کرسکیں گے۔
 • الیکٹرانک طریقے کو اختیار کرنے کے فوائد بیان کرسکیں گے۔
 • ای-کاروبار شروع کرنے کے لیے فرم کی ضروریات کی وضاحت کرسکیں گے۔
 •      کاروبار کے الیکٹرانک طریقے میں اہم حفاظتی تشویشات کی شناخت کرسکیں گے۔
 •      کاروباری عمل کی آؤٹ سورسنگ کی ضرورت کی تشریح کرسکیں گے۔
 •     کاروبار کے آؤٹ سورسنگ عمل کے مواقع کی شناخت کر سکیں گے۔

’’آؤ کچھ خریداری کریں‘‘ ریتا نے ریکھا کو جھنجھوڑا جو کہ اس کے آبائی گاؤں میں رہنے والی اس کی سہیلی تھی اور چھٹیوں کے دوران دہلی آئی ہوئی تھی ۔ ’’اس وقت جبکہ آدھی سے زیادہ رات گزرچکی ہے‘‘ ریکھا نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے کہا ’’تمہارے لیے کون اپنی دکان کھولے بیٹھا ہوگا؟ اوہ! شاید میں تمہیں صحیح طرح سمجھا نہیں سکی۔ ہم کہیں نہیں جارہے ہیں، میں انٹرنیٹ پر آن لائن خریداری کی بات کررہی ہوں‘‘ ریتا نے کہا۔ اوہ ہاں! میں آن لائن خریداری کے بارے میں سن چکی ہوں لیکن میں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ ریکھا نے خود سے کہا اوروہ بڑبڑاتی رہی ’’وہ انٹرنیٹ پر کیا بیچتے ہوں گے۔ وہ اشیاکو پہنچائیں گے کیسے، ادائیگی کیسے ہوگی، انٹرنیٹ اب تک دیہاتوں میں اتنے مقبول کیوں نہیں ہوئے؟ ابھی ریکھا ان سوالات کا حل تلاش رہی تھی اور ریتا ہندوستان کے سب سے بڑے ایک شاپنگ مال میں سے ایک انڈیا ٹائمس ڈاٹ کام پر لاگ آن کرچکی تھی۔

5.1   تعارف

کاروبار کرنے کے طریقے میں گذشتہ دہائی سے بنیادی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں، کاروبار کے طریقے سے مراد کاروبار کو کرنے کے طرز عمل سے ہے اور اس پر سابقہ ابھرتے اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تبدیلیاں ہمارے آج کے دور میں رونما ہورہی ہیں۔ اور یہ رجحان آگے بھی جاری رہنے والا ہے۔ درحقیقت اگر کسی شخص کو تین ایسے پرزور رجحانات کی فہرست بنانی ہو جو کہ آج کاروبار کی تشکیل کررہے ہیں تو یہ ہونگے (i)ہندسہ کاری (ڈیجیٹائیزیشن) متن، آواز، شبیحات، ویڈیو اور دیگر مواد کو اکائیوں اور صفروں کے ایک سلسلہ میں تبدیل کرنا جس کو برقی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاسکتا ہو۔ (ii)بیرونی ذرائع سے کرائے پر حاصل کرنے کا عمل (آؤٹ سورسنگ) (iii)بین الاقوام کاری اور عالم کاری۔ آپ بین الاقوامی کاروبار کے بارے میں یونٹ گیارہ میں پڑھیں گے۔ اس میں ہم آپ کو پہلے دو رجحانات سے روشناس کرائیں گے، یعنی ہندسہ کاری کے ذریعے کاروبار کی ہندسہ کاری۔ جیسے الیکٹرانک بزنس بھی کہا جاتا ہے اور بیرونی ذرائع سے کرائے پر حاصل کرنے کا کاروباری عمل (بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ)۔ ایسا کرنے سے پیش تر ان دونوں نئے کاروباری طریقوں کے لیے ذمہ دار عوامل کے مختصراً تشریح کرنا مناسب ہوگا۔
کاروبار کرنے کے نئے طریقے کوئی نیا کاروبار نہیں ہیں۔ یہ دراصل کئی عوامل کی وجہ سے کاروبار کو نئی طرز کرنے سے کرنے کے عمل ہیں۔ آپ واقف ہیں کہ کاروبار ایک ایسی سرگرمی ہے جس کا مقصد افادیت یا مالیت کو ایسی اشیاء اور خدمات کی شکل میں پیدا کرنا ہے جن کو گھریلو لوگ اور صنعت کار اپنی ضروریات اور خواہشات پوری کرنے کے لیے خریدتے ہیں۔ کاروباری کاموں (خریداری، پیداور، مارکٹنگ، مالیات یا انسانی وسائل) کو بہتر بنانے کے لیے کاروباری منتظمین اور کاروباری مفکرین کاروبار کرنے کے نئے اور بہتر طریقوں کی دریافت میں لگے رہتے ہیں۔ کاروباری فرموں کو اپنی افادیت پیدا کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا پڑتا ہے۔ ان کو اپنی مالیت سپردگی صلاحیتوں کو بھی قوی کرنا ہوتا ہے تاکہ یہ بازاری مقابلے کے دباؤ اور صارفین کی بہتر کوائلٹی، کم قیمتوں، تیز تر حوالگی، اور صارفین کی بہتر دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی مانگوں کو کامیابی کے ساتھ پورا کرسکیں۔اس کے علاوہ ابھرتی تکنیکوں سے فائدہ حاصل کرنے کی جستجو کا مطلب ہے کہ کاروبار ایک سرگرمی جو جاری رہتی ہے۔

5.2   ای-کاروبار/ ای-بزنس

اگر کاروبار سے مراد وسیع دائرے کی سرگرمیاں ہیں جو صنعت، تجارت اور کامرس کی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہیں تو ای-کاروبار کی تعریف میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ صنعت، تجارت اور کامرس کو کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کرکے انجام دینے کانام ہے۔ نیٹ ورک جس سے آپ بطور طلباء یا صارف انٹرنیٹ سے بخوبی واقف ہیں، جب کہ انٹرنیٹ مکمل طور پر عوامی طریقہ بن چکا ہے لیکن فرمیں زیادہ نجی اور زیادہ محفوظ نیٹ ورکوں کا استعمال کرتی ہیں اور اس لیے ان کے اندرونی کاموں کا انتظام بھی زیادہ باصلاحیت اور مؤثر ہوتا ہے۔

ای کاروبار بمقابلہ ای کامرس:  اگرچہ بعض اوقات ای- کاروبار اور ای-کامرس کی اصطلاحات کو ایک دوسرے کے متبادل استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان دونوں کی زیادہ درست تعریفیں ان کے درمیان تفریق کریں گی۔ جیسا کہ کاروبار کی اصطلاح کامرس کی اصطلاح کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہے ویسے ہی ای- کاروبارکی اصطلاح زیادہ وسیع ہے اور الیکٹرانک کے ذریعہ کیے جانے والے مختلف کاروباری کاموں اور سودوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ان سودوں کا پورا دائرہ بھی شامل ہے جو زیادہ مقبول ہیں اور ای- کامرس کہلاتے ہیں ۔ ای- کامرس کے دائرۂ کار میں ایک فرم کا صرف اپنے گاہکوں اور سپلائروں کے ساتھ سودے کرنا شامل ہے۔ ای کاروبار میں نہ صرف ای کامرس شامل ہے بلکہ برقی طور پر کئے گئے دوسرے کاروباری کام جیسے پیداوار، انوینٹری انتظام، مصنوعات کی ترقی، کھاتاداری اور سرمایہ اور انسانی وسائل کا انتظام آتے ہیں اس لیے ای کاروبار انٹرنیٹ پر خریدوفروخت کرنے یعنی ای کامرس سے کہیں زیادہ ہے۔

6

شکل 5.1 :   فرم کے فراہم کاروں اور گاہکوں کے مابین ایک کڑی کے طور پر

5.2.1  ای-کاروبار کا دائرۂ کار  

ہم اوپر تذکرہ کرچکے ہیں کہ ای کاروبار کا دائرہ کار کافی وسیع ہے۔ اس میں تمام طرح کے کاروباری کام (جیسے پیداوار، مالیات، مارکٹنگ یا عملہ کا انتظام) اور انتظامی سرگرمیاں منصوبہ بندی، تنظیم کاری اور کنٹرولنگ کمپیوٹر نیٹ ورک پرکیے جاسکتے ہیں، ای کاروبار کے دائرئہ کار کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ الیکٹرانک سودوں اور نیٹ ورکوں میں شامل لوگوں کے تعلق سے اس کی جانچ کرنا ہے۔ اس نقطہ ٔ نظر سے دیکھا جائے تو کسی فرم کے الیکٹرونک لین دین اور نیٹ ورک تین سمتوں میں بڑھتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے، (i) بی 2بی یعنی (ایک فرم کا دوسرے کاروباروں کے ساتھ باہمی تعلق اور رابطہ)۔ (ii) بی 2سی یعنی(ایک فرم کا اپنے گاہکوں کے ساتھ باہمی تعلق اور رابطہ) اور(iii)اندرون -بی انٹرا بی  (ای فرم کے اندرونی کام کاج)۔
 شکل 1 ان فریقین کے نیٹ ورک اور باہم تعلق کا خلاصہ کرتی ہے جن پر ای کاروبار مشتمل ہے۔ 
مندرجہ ذیل پیرا گراف ای کاروبار کو تشکیل دینے والے مختلف اجزاء اور ان کے مابین سودوں کی تشریح کرتے ہیں۔
 (i)
بی2بی کا مرس:  ای کامرس سودوں میں شامل دونوں فریق کاروباری فرمیں ہی ہیں۔ اس لیے اس کا نام ’’بی 2بی‘‘ یعنی کاروبار سے کاروبار کو ہے۔ افادی چیزوں کی پیداوار یا مالیت کی سپردگی کے لیے ایک فرم کو دوسری کئی فرموں کے ساتھ باہمی تعلق اور رابطہ قائم رکھنا پڑتا ہے جو کہ یا تو مختلف طرح کے خام مالوں کی فراہم کار ہوتی ہیں یا اس سلسلہ کا ایک حصہ ہوتی ہیں جس کے ذریعہ فرم اپنی اشیا صارفین مین تقسیم کرتی ہے۔ مثلاً موٹرگاڑیاں بنانے والے صنعت کار کو اس کے پرزے بنانے والوں کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہوتی ہے جو کہ کہیں خود بھی صنعت کار ہوتے ہیں (موٹرگاڑیوں کے کارخانے کے علاقہ میں ہی کہیں یا سمندر پار بھی)۔ صرف ایک ہی سپلائر پر انحصار کو کم کرنے کے لیے موٹرگاڑی کارخانہ کو ہر پرزے کے لیے ایک سے زیادہ فروخت کاروں سے تعلق رکھنا پڑتا ہے۔ کمپیوٹروں کے ایک نیٹ ورک کو آڈر دینے، پیداوار پر نظر رکھنے، پرزوں کی سپردگی کرنے اور ادائیگیاں کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک فرم اپنے تقسیمی نظام کو مضبوط اور بہتر بناسکتی ہے۔ وہ مختلف جگہوں پر مختلف بچولیوں کے پاس موجود اسٹاک اور سفر سے گزر رہے اسٹاک پر وقت کو کنٹرول کرکے اسے کم کرسکتی ہے۔ مثلاً گودام اور موجود اسٹاک سے مرسلہ مال پر نظر رکھی جاسکتی ہے اور وقت ضرورت اسے کمک پہنچائی جاسکتی ہے اور دوبارہ بھرا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ گاہک کی مخصوص ضروریات یا خواہشات کو ڈیلر کارخانہ تک پہنچاتے ہیں، جہاں صنعت کاری نظام کو ان سے آگاہ کیا جاتا ہے تا کہ ایسی ہی پیداوار کی جاسکے۔ ای- کامرس کا استعمال اطلاعات اور دستاویزات کی نقل وحرکت کی منتقلی کو تیز بنادیتا ہے۔ اور حال ہی میں روپے پیسے کی منتقلی بھی اسی ذریعے سے ہونے لگی ہے۔
تاریخی طور پر ای-کامرس کی اصطلاح کا آغاز بی 2 بی سودوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہوا تھا جس میں الیکٹریک ڈاٹا انڑ چینج (ای ڈی آئی) ٹکنیک کا استعمال کرکے کمرشیل دستاویزات جیسے خریداری آڈر یا انوائس کو بھیجا اور وصول کیا جاتا تھا۔ 
(ii) یعنی بی 2سی کامرس:   جیسا کہ نام سے ظاہر ہے بی 2 سی (کاروبار سے گاہک) سودوں میں ایک طرف کاروباری فرم اوردوسری جانب اس کے گاہک ہوتے ہیں۔ اس سے فوری طور پر کسی کے بھی ذہن میں آن لائن شاپنگ کا خیال آئے گا لیکن یہ بات جاننی چاہیے کہ (سیلنگ )  فروخت کاری، مارکٹنگ کے عمل کا نتیجہ ہے اور مارکٹنگ کا عمل اشیاکو فروخت کرنے کے لیے پیش کرنے سے پہلے شروع ہوجاتا ہے اور یہ عمل ان کی فروخت کے بعد تک جاری رہتا ہے۔ اس لیے بی 2سی کامرس میں مارکٹنگ سرگرمیوں کا وسیع دائرہ کار ہے جیسے سرگرمیوں کی شناخت، ترقی اور بعض اوقات تو اشیا کی سپردگی تک (مثلاً موسیقی یا فلمیں) جو آن لائن پہنچائی جاسکتی ہیں۔ ای-کامرس کے ذریعہ ان سرگرمیوں کو بہت تیزی کے ساتھ اور نہایت کم لاگت پر انجام دیا جاسکتا ہے۔مثال کے طو پر ATMکے ذریعے روپیہ تیزی کے ساتھ نکالا جاسکتا ہے۔ 
آج کے دور کے گاہک بہت زیادہ انتخاب کرنے والے ہوگئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان پر انفرادی طور پر توجہ دی جائے۔ ان کو نہ صرف اپنی ضروریات کے مطابق ہی تیار کردہ اشیا خصوصیات کے ساتھ چاہئیں بلکہ وہ حسب خواہش ادائیگی اورسپردگی میں آسانی بھی چاہتے ہیں۔ ای- کامرس کے ہونے سے یہ تمام چیزیں ایک حقیقت بن گئی ہیں۔


مائیکروسافٹ انٹرنیٹ ایکس پلورر، نیٹ اسکیپ نیویگیڑ اور موزٹیک شامل ہیں۔ موزٹیک تصویر کشی (گرافکس) کو متعارف کرنے والا پہلا بروسر تھا اس سے پہلے استعمال کندگان صرف ویب پیج کے متن کو دیکھ سکتے تھے۔
***  سیکیور ساکیٹ لیئر (ایس ایس ایل): ایس ایس ایل کی تشکیل نیٹ اسکیپ نے ای کامرس میں ہونے والے ایسے سودوں میں استعمال کے لئے کیا گیا جن میں اطلاعات کو راز رکھنا ضروری ہوتا تھا جیسے کریڈٹ کارڈ کے نمبر- ایس ایس ایل میں کو پرکھنے اور سچائی ثابت کرنے کے لئے عوامی اور نجی کنجی کے ساتھ دیگر اسکیموں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر محفوط اور رازداری سے سودے کرنے کی صلاحیت ای کامرس کی کامیابی کے لئے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ عوامی کنجی ایک پاس ورڈ ہوتا ہے جس کو بھیجنے والا ڈاٹا کو خفیہ بنانے کے لئے استعمال کرتا ہے اور نجی کنجی پیغام کو وصول کرنے والے کے ذریعہ ڈاٹا کو غیر خفیہ بنانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

 اے ٹی ایم نے پیسہ نکالنے کے عمل کو تیز کردیا ہے۔

ای کامرس نے بی 2سی عمل کو نہایت سہل اور تیز تر کردیا ہے مثال کے طور پر کسی کے لیے بینکوں سے اپنی رقم نکالنا ماضی میں ایک پیچیدہ عمل تھا۔ اس کو اپنی رقم کے حصول کے لیے کارروائیوں کے ایک سلسلہ وار عمل سے گزرنا ہوتا تھا۔ اے ٹی ایم کے متعارف ہونے کے بعد سے یہ تمام باتیں اب ماضی کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ اس میں پہلی چیز جو رونما ہوتی ہے وہ یہ کہ گاہک اپنا پیسہ نکالنے کے قابل ہوتا ہے اور اس کی پشت پر ہونے والے باقی سلسلہ وار عمل اس کے بعد ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ ای کامرس کی بی 2سی خاصیت نے کاروبار کو چوبیسوں گھنٹے اپنے گاہکوں کے ساتھ تعلق رکھنے کے قابل بنادیا ہے، کمپنیاں یہ معلوم کرنے کے لئے آن لائن سروے بھی کرسکتی ہیں کہ کون کیا خرید رہا ہے اور گاہکوں کے اطمینان کی سطح کیا ہے۔اب شاید آپ کی یہ رائے بن گئی ہوگی کہ بی 2سی یک طرفہ ٹریفک ہے یعنی کاروبار سے گاہکوں تک۔ لیکن یاد رکھیے کہ اس کا نتیجہ یعنی سی 2بی کامرس اب بڑی حد تک ایک حقیقت بن چکا ہے جو کہ گاہکوں کو اپنی مرضی کے مطابق خریداری/ شاپنگ کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ گاہک کمپنیوں کے ذریعہ قائم کیے گئے کال سینٹروں کا استعمال معلومات حاصل کرنے اور شکایات درج کرانے کے لیے کرسکتے ہیں ان کال سینٹروں پر مفت کال چوبیسوں گھنٹے کی جاسکتی ہے اور اس طرح کوئی اضافی خرچ بھی گاہکوں کو نہیں اٹھانا پڑتا۔ اس عمل کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کال سینٹروں یا ہیلپ لائنوں کو خود سے قائم کرنے کی بھی ضرورت نہیں، ان کو بیرونی ذرائع سے کرائے پر حاصل (آؤٹ سروس) کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس پہلو پر بعد میں بزنس پراسیس آؤٹ سروس کے حصہ میں بات کریں گے۔
(iii) اندرون بی- انٹرا بی کامرس: یہاں الیکٹرانک (برقی) لین دین میں شامل فریقین کاروباری فرم کے اندر کے ہی ہوتے ہیں اور اس لیے اس کا نام اندرون بی کامرس ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا کہ ای- کامرس اور ای- کاروبار میں اہم فرق یہ ہے کہ ای-کامرس انٹرنیٹ پر کاروباری فرم کے اپنے سپلائیروں، دسٹریبوٹروں/ تقسیم کاروں/ دیگر کاروباری فرموں (بی 2بی) اور گاہکوں (بی 2سی) سے تعلق پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ ای- کاروبار میں اس کے علاوہ انٹرنیٹ کا استعمال فرم کے اندر مختلف شعبوں اور لوگوں کے درمیان معاملات اور تعلقات کا انتظام کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ انٹرا بی کامرس کے استعمال کی ہی دین ہے کہ آج فرمیں لچک دار صنعت کاری کرنے کے قابل ہوگئی ہیں، کمپیوٹر نیٹ ورک کا استعمال کرکے مارکٹنگ ڈپارٹمنٹ مسلسل پیداکاری ڈپارٹمنٹ کے ساتھ تعلق میں رہتا ہے اور انفرادی گاہک کی ضروریات کے مطابق ہی پیداوار کراتا ہے۔ اسی طرح دوسرے شعبوں/ ڈپارٹمنٹوں کے درمیان کمپیوٹر پر مبنی تعلق سے فرم کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسے نقد کا انتظام اور انونیٹری کی بہترکار گزاری کے فوائد مشینوں اور پلانٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال، گاہکوں کے آڈروں کا مؤثر انتظام اور انسانی وسائل کا مؤثر انتظام وغیرہ۔
جس طرح انٹر کام ایک آفس میں آواز کی ترسیل میں مدد دیتا ہے اسی طرح انٹرنیٹ تنظیمی اکائیوں کے درمیان ملٹی میڈیا اور یہاں تک کہD- 3گرافک کی ترسیل کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ جس سے بہتر معلومات پر مبنی فیصلہ سازی بہتر ربط کام کی رفتار اور فیصلہ سازی کی رفتار میں تیزی آتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک فرم کا اپنے ملازمین کے ساتھ باہمی رابطہ میں ہونا بی 2ای کامرس کہلاتا ہے، کمپنیاں عملہ کی بھرتی، انٹرویو اور انتخاب، تربیت، ترقی اور تعلیم اب ای کامرس کے ذریعہ کررہی ہیں جسے عرف عام میں ای - لرننگ کہا جاتا ہے ۔ملازمین گاہکوں سے بہتر تعلق قائم رکھنے کے لیے الیکٹرانک کیٹا لوگ اور آڈرنگ فارموں کا استعمال کرتی ہیں تاکہ انوینٹری سے متعلق معلومات حاصل ہوسکیں۔ وہ فیلڈ رپورٹوں کو ای-میل کے ذریعہ انتظامیہ کو بھیجتے ہیں۔ انتظامیہ ان رپورٹوں کو وقت ضرورت استعمال کرتی ہے درحقیقت و ہ وررچوبل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) تکنیک  کا مطلب ہے کہ ملازمین کو دفتر نہیں آنا پڑے گا بلکہ ایک طرح سے وفتر ہی ان کے پاس جائے گا اور وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے اپنی آسانی اور رفتار کے مطابق کام کو انجام دے سکیں گے۔ میٹنگیں بھی ٹیلی / ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ آن لائن ہوسکتی ہیں۔

ای۔ کامرس کے فوائد 

1- کاروباری ادارے 
(i) قومی اور بین الاقوامی منڈیوں کے لیے مارکیٹ پلیس کی توسیع 
(ii) کارو باریوں کی لاگت میں رفتہ رفتہ کمی 
(iii) سپلائی چین منجمنٹ ’پُل‘ میں آسانیاں بہم پہنچانا 
(iv) مسابقت کاروں کے مقابلہ میں مسابقاتی فائدہ 
(v) وقت کا مناسب بندوبست اور کاروباری عمل میں تعاون 
(vi) بڑی فرموں کے ساتھ ساتھ چھوٹی فرموں کی بقاء
صارفین اور سماج کے فوائد 
(i) لچیلاپن 
(ii) مسابقتی قیمت، چھوٹ،دست برداری 
(iii) زیادہ متبادل اور انتخاب اور صارفین کی ضرورت کے مطابق مصنوعات 
(iv) فوری طور پر اور بر وقت فراہمی (ڈجیٹلائزڈپروڈکٹس )
(v) روزگار کی صلاحیت 
(vi) ای۔ نیلامی اور ای۔ ٹنڈر کی سہولت بہم پہنچانا 
(vii) صارفین کے ساتھ بات چیت
(viii) وسیع رسائی  
 

(iv)سی 2 سی کامرس:  یہاں کاروبار کا آغاز اور انجام دونوں صارفین پر ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کا نام سی 2 سی کامرس ہے ۔ اس قسم کا کامرس ان ہی اشیا کی خریدوفروخت کے لیے نہایت موزوں ہے جن کا کوئی قائم شدہ بازاری میکانزم نہیں ہوتا ہے مثلاً استعمال شدہ کتابوں یا کپڑوں کو نقد یا بارٹر یعنی شے کے بدلے شے کی بنیاد پر فروخت کرنا۔ اہل خریداروں کے لیے عالمی ای کامرس کی تکنیک ایسے سودوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو کہ ایسی صورت حال میں ہوتے ہیں جبکہ خریدار اوربیچنے والا ایک دوسرے سے غیر شناسا ہوں۔ اس کی بہترین مثال ای- بے  میں دیکھنے کو ملتی ہے جہاں صارفین اپنی اشیا اور خدمات دیگر صارفین کو فروخت کرتے ہیں۔ اس سرگرمی کو زیادہ محفوظ ومضبوط بنانے کے لیے کئی تکنیکیں سامنے آچکی ہیں۔ ای۔ بے سب سے پہلے خریداروں اور فروخت کاروں کو ایک دوسرے کے لیے ایک درجہ متعین کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس طرح مستقبل کے خریدار دیکھ سکتے ہیں کہ ایک مخصوص فروخت کار 2000 سے زیادہ گاہکوں کو اپنی اشیا یا خدمات فروخت کرچکا ہے اور اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ ایک بہترین درجہ کا فروخت کار ہے۔ دوسری مثال میں اگر ایک خریدار یہ دیکھتا ہے کہ فروخت کار نے ماضی میں صرف چار مرتبہ ہی فروخت کی ہے تو وہ فروخت کار کے لیے پست درجہ طے کرتا ہے۔ اس طرح کی معلومات مددگار ہوتی ہے۔ سی 2 سی سرگرمیوں کی مدد کے لیے ایک اور تکنیک جو سامنے آئی ہے وہ ہے ادائیگی کے لیے بیچولیوں کا ہونا۔ اس قسم کی تکنیک کی ایک بہتر مثال ’پے پال‘ ہے۔ ایک غیر شناسا،ناقابل اعتماد فروخت کار سے براہ راست اشیا کی خریداری کرنے کے بجائے خریدار پے پال کو رقم بھیج سکتے ہیں۔ وہاں سے پے پال فروخت کار کو مطلع کرتا ہے کہ رقم اس کے پاس آگئی ہے اور وہ اس کو جب تک اپنے پاس روکے رکھے گا جب تک کہ اشیا جہاز کے ذریعہ خریدار تک نہ پہنچ جائیں اور وہ ان کو وصول نہ کرلیں۔
باہمی ربط وضبط کی کامرس کے لیے سی 2سی کا ایک اہم میدان صارفین فورم اور دباؤ ڈالنے والے گروپوں کی تشکیل ہوسکتا ہے۔ آپ شاید ’’یاہو‘‘گروپ کے بارے میں سن چکے ہوں گے۔ جس طرح ایک گاڑی کا مالک ریڈیو پر پیغام بھیج کر دوسروں کو ٹریفک جام کے بارے میں ہوشیار کرسکتا ہے (آپ نے ایف ایم پر ٹریفک الرٹ سنا ہوگا) اسی طرح ایک ستم زدہ گاہک بھی ایک اشیا /خدمت/ فروخت کار کے ساتھ اپنے تجربہ کے بارے میں دوسروں کو ایک پیغام لکھ کر خبردار کرسکتا ہے اور تمام گروپ کواس طرح اپنے تجربہ سے آگاہ کرسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ گروپ کے دباؤ کی وجہ سے اس مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے۔
ای کاروبار کے دائرہ کار کے بارے میں گذشتہ تذکرہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ ای کاروبار کے ایپلی کیشنز کے کئی اور مختلف النوع استعمالات ہیں۔

ای کاروبار بمقابلہ روایتی کاروبار

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ الیکٹرانک قابلیت نے کس طرح کاروبار کرنے کے طریقوں کو تبدیل کردیا ہے، جدول 5.1 روایتی کاروبار اور ای کاروبار کے درمیان تقابلی خصوصیات کو پیش کرتا ہے۔
جدول 5.1 میں روایتی اور ای کاروبار کی خصوصیات کی تقابلی تشخیص ای کاروبار کے امتیازی فوائد اور حدود کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی تشریح ذیل کے پیرا گراف میں کی گئی ہے۔

5.3   ای- کاروبار کے فوائد

(i) تشکیل میں آسانی اور کم سرمایہ کاری کی ضرورت:  ایک صنعت شروع کرنے کے لیے ضروری عملی کارروائیوں کے برعکس ای کاروبار کو شروع کرنا نسبتاً آسان ہے۔ چھوٹے یا بڑے دونوں طرح کے کاروبار انٹرنیٹ ٹکنالوجی سے یکساں طور پر مستفید ہوسکتے ہیں۔ درحقیقت انٹر نیٹ اس محاورہ کی مقبولیت کے لیے ذمہ دار ہے: 

ای- کامرس نے لچک دار صنعت کاری اور عوامی پسند کے مطابق اشیاء کی پیداوار کو ممکن بنایا

روایتی طور پر پسند کے مطابق اشیا فنکاروں کو آڈر دے کر بنوائی جاتی تھیں اس لیے یہ مہنگی ہوتی تھیں اور ان کی سپردگی میں وقت بھی کافی لگتا تھا۔ صنعتی انقلاب کا مطلب تھا کہ تنظیمیں بڑے پیمانے پر اشیاکی پیداوار کرسکتی تھیں اور بڑے پیمانے پر ایک ہی جیسی اشیا پیدا کرنے کی پیداواری لاگت بھی کم آتی تھی۔ لیکن تنظیمیں ای کامرس کی وجہ سے پسند کے مطابق ویسی ہی اشیا اور خدمات کم لاگتوں پر پیش کرسکتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے پہلے بڑے پیمانے پر ایک ہی جیسی اشیا کو پیدا کیا کرتی تھیں۔ یہاں چند مثالیں دی گئی ہیں:

401 (کے) فارم (یو ایس)                         انفرادی انٹرویو کی بنیاد پر ویسا ہی تعلیمی مضمون اور سرمایہ کاری کا مشورہ
ایکسومین کارپوریشن (یو ایس)                        انٹرنیٹ کا استعمال کرکے خصوصیت کے مطابق وٹامین کی گولیوں کا حصول۔ گاہکوں کو طرز زندگی اور صحت سے متعلق سوالیہ پرچہ پر کرنا ہے۔
ڈیل (یو ایس) اپناذاتی پی سی بنائیں                                   
گرین ماؤنٹین امیرجی ریسورسیس(یوایس) بجلی کے سپلائر (نہ کہ جنریٹر کے) گاہک اپنے بجلی کے ذرائع کا انتخاب کرسکتے ہیں مثلاً کو
 پن بجلی ، شمسی وغیرہ
لی وائس جینس [اوریجنل اسپین] (یو ایس)         درزیوں کے ذریعہ سلوائی گئی جینس کی خدمات ۔خردہ فروشوں کی شکایات پر ویب کے ذریعہ
 خدمت کی فراہمی کو ختم کردیا گیا تھا لیکن اب خوردہ فروشوں کے ذریعہ ہی اس خدمت کو پیش
 کیا گیا ہے۔ یہ 49500 مختلف سائزوں اور 30 اسٹائیلوں کو کل 1.5ملین متبادل انتخابات کے ساتھ
 صرف 55 ڈالر پر پیش کرتا ہے۔ آڈر نیٹ کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں اور جینس 2 سے 3ہفتوں میں تیار
 کرکے روانہ کردی جاتی ہیں۔
این- وی- نٹسبیڈریجیف ویسٹ لینڈ
(نیوزی لینڈ)                    ویسٹ لینڈ ،نیوزی لینڈ میں کئی ٹیولپ اگانے والوں کو قدرتی گیس کی سپلائی کرتا ہے، گرین ہاؤس کے کمپیوٹر
 گرین ہاؤس کے مالکان کی ان کا درجہ حرارت، سی اور 2 پیداوار، نمی روشنی اور دیگر عوامل دیکھ ریکھ میں مدد
 کرتے ہیں اور وہ یہ کام نہایت مناسب لاگت پر انجام دیتے ہیں۔
نیشنل بائیسکل (جاپان)           آرڈر لینے کے 2 یا 3 دن میں بتائی گئی پسند کے مطابق بائیسکل تیار کرتا ہے۔
سائمن اینڈ شوسٹر (یو ایس)            اساتذہ انفرادی کورس اور طلباء کی ضرورت سے مطابقت رکھنے والی کتابوں کا آرڈر دے سکتے ہیں۔زیراکس
 ڈوکوٹیک پرنٹرس ایک ماہ میں 125000 سے زائد مرضی سے مطابق رکھنے والی کتابیں تیارکررہے ہیں۔
اسکائی وے (یو ایس)           اسکائی وے ایک فوجی نقل وحمل طرز کی ایک کمپنی ہے جو اسٹور یا صارف کے کاغذی کارروائی کے ایک سیٹ پر
 ہی دیے گئے آرڈر پر مختلف مقامات سے نقل و حمل کے مختلف طریقوں سے سامان بھیجنے اور پورے آرڈر کوڈلیور
 کرنے کی پیشکش کرتی ہے ۔ 

اسمیتھ کلین بیچیم (یو ایس)        یہ صارفین کے لیے ان کی ہدایت پر اسٹاپ اسموکنگ پروگرام تیار کرتی ہے۔ ذاتی رابطہ قائم         

                                         کرنے کے لیے یہ کال سینٹر کے سوال ناموں کا استعمال کرتی ہے ۔  
ماخد: http://www.managingchange.com 

صارف سے صارف تک،ای ۔کامرس

اشتہار دیتے ہیں

7

شکل 5.2 :   صارف سے صارف تک، ای کامرس (C2C)

باکس اے

 ای کاروبار کے چند استعمالات

ای- پراکیورمنٹ(ای-خریداری):   اس میں کاروباری فرموں کے درمیان انٹرنیٹ پر مبنی فروخت کے مسودے شامل ہوتے ہیں۔ جس میں دونوں طرح سودے ہوتے ہیں: ’’ریزرو آکشن‘‘ جو کہ ایک کاروباری خریدار اور کئی فروخت کاروں کے درمیان آن لائن تجارت میں سہولت فراہم کرتا ہے اور دوسرا ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس جو کثیر التعداد خریداروں اور فروخت کاروں کے درمیان آن لائن تجارت میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
ای- بولی لگانا /ای- نیلام کرنا:   خریداری کے زیادہ تر مقامات ’’اپنی قیمت بتائیے‘‘ لکھا ہوتا ہے جس سے آپ سامان یا خدمات (جیسے ہوائی جہاز کے ٹکٹ)۔ اس میں ای-ٹینڈر طلب کرنا بھی شامل ہوتا ہے جس کے ذریعے کوئی شخص ٹینڈروں کے کوٹیشن آن لائن جمع کرسکتا ہے۔
ای-کمیونیکشن/ ای-پروموشن:  اس میں ای میل سے لے کر گاہکوں کے سروے ’اوپنین پول‘ بینروں کے ذریعہ اشتہارات، آن لائن کیٹالاگ کا شائع کرنا، جس میں اشیاء کی شبیہ کا اظہار وغیرہ شامل ہے۔ اس میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ میٹنگیں اور کانفرنسیں بھی کرائی جاسکتی ہیں۔
ای-ڈیلیوری:   اس میں استعمال کنندگان کے کمپیوٹروں کو کمپیوٹر سافٹ ویئر، فوٹوگرافس، ویڈیو، کتابیں، جرنلس اور دیگر ملٹی میڈیا مضامین کی الیکٹرانک سپردگی شامل ہے۔ اس میں قانون، طبی اور دیگر مشاورتی خدمات الیکٹرانکلی/ برقی طور پر فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ درحقیقت انٹرنیٹ، فرموں کو انفارمیشن ٹکنالوجی انیبلڈ سروسیس (آئی ٹی ای ایس) کی آؤٹ سروسنگ کے مواقع فراہم کرتا ہے جس کا ذکر ہم بزنس پراسیس آؤٹ سروسنگ کے تحت کریں گے۔ اب آپ گھر پر ہی ہوائی جہاز اور ریل کے ٹکٹوں کو چھاپ سکتے ہیں۔
ای-ٹریڈنگ:  اس میں تمسکات کی تجارت شامل ہے یعنی حصص اور دیگر مالی دستاویزات کی آن لائن خریدوفروخت مثلاً شیرخان ڈاٹ کام ہندوستان کی سب سے بڑی آن لائن ٹریڈنگ فرم ہے۔

خاص سرمایہ دار (نیٹ ورتھ) لوگوں کی نسبت نیٹ ورک سے جڑے لوگ اور فرمیں زیادہ اچھی کارگزاری کا مظاہرہ کرتی ہیں! اس کا مطلب یہ کہ اگر آپ کے پاس زیادہ سرمایہ (نیٹ ورتھ) نہیں ہے لیکن آپ کے تعلقات (نیٹ ورک) ہیں تو آپ شاندار کاروبار کرسکتے ہیں۔
ایک ایسے ریسٹورنٹ کا تصور کیجیے جسے کسی طبعی جگہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جی ہاں! آپ اپنے پاس دنیا بھر کے ان بہترین ریسٹورنٹوں کے بہترین کھانوں کا ایک آن لائن مینو رکھ سکتے ہیں جن کے ساتھ آپ کا نیٹ ورک جڑا ہوا ہے۔ گاہک آپ کی ویب سائٹ پر نظر ڈالے گا، مینو کے بارے میں فیصلہ کرے گا اور آڈر دے گا جو آپ اس کے علاقہ کے قریب تر ریسٹورنٹ کو دے دیں گے کھانا۔ پہنچانے اور ادائیگی وصول کرنے کا کام ریسٹورنٹ کا عملہ کرے گا اور آپ کی واجب رقم بطور کلائنٹ سالسٹر آپ کے اکاؤنٹ میں الیکٹرانک کلیئرنگ نظام کے ذریعہ جمع کردی جائے گی۔
(ii) آسانی:  انٹرنیٹ ایک سال کے 365 دنوں × ایک ہفتے کے 7 دن ×24گھنٹوں کاروبار کرنے کی پیش کش کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ابتدائی کیس میں ریتا اور ریکھا آدھی رات کے  بعدخریداری کرنے جارہی تھیں۔ یہ آسانی تنظیم کے عملہ کو بھی دستیاب ہوتی ہے وہ جہاں سے جب چاہیں اپنی مرضی کے مطابق کام کرسکتے ہیں۔ ای کاروبار واقعی ایک حقیقی کاروبار ہے جس نے الیکٹرانکس کے ذریعہ ترقی پائی ہے اور کسی بھی جگہ کسی بھی وقت، کسی بھی چیز کی پہنچ کے فوائد پیش کیے ہیں۔
(iii) رفتار:  جیسا کہ پہلے ہی بیان کیا جاچکا ہے کہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر خریدوفروخت میں اطلاعات کا لین دین شامل ہوتاہے جو کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ماؤس کی ایک کلک پر ہوجاتی ہے۔ یہ فائدہ انفارمیشن، اٹننینسیو اشیاء جیسے سافٹ ویئر، فلمیں، موسیقی، ای کتابیں اور جرنل کی صورت میں زیادہ پرکشش ہوجاتا ہے کیونکہ ان کی سپردگی آن لائن کی جاسکتی ہے۔ سائیکل ٹائم یعنی اشیاء کی مانگ کے پیدا ہونے سے اس کی مانگ کی تکمیل کے پورے دائرہ عمل میں لگنے والا وقت اب گھٹ کر کم ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب کاروباری کام کاج سلسلہ وار ہونے سے تبدیل ہوکر یک دم یا ایک دوسرے متوازی ہوگئے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں، ای کامرس کو فنڈس منتقل کرنے والی ٹکنالوجی کے باعث پیسے کو روشنی کی رفتار پر الیکٹرانک پلس (برقی دھڑکن) کہا جاتا ہے۔
(iv) عالمی پہنچ؍رسائی:  انٹرنیٹ کی واقعی کوئی حد نہیں ہے ایک طرف تو یہ فروخت کار کو عالمی بازار تک رسائی فراہم کرتا ہے تو دوسری جانب ایک خریدار کو دنیا کے کسی بھی حصہ میں سے اشیا کا انتخاب کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انٹرنیٹ کی غیرموجودگی میں عالم کاری کا دائرۂ کار اور رفتار وہ نہ ہوتی جو آج ہے۔
(v) غیر کاغذی سماج کے تئیں تحریک:  انٹرنیٹ کے استعمال نے کاغذی کام کاج اور مصائب لال فیتے میں کافی حد تک کمی کردی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ماروتی اُدیوگ اپنے خام مال اور پرزوں کی بڑی تعداد میں سپلائی غیر کاغذی طریقے سے حاصل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری شعبہ جات اور ریگولیٹری اتھارٹیس بھی اس سمت میں حرکت کررہی ہیں جہاں پر وہ ریٹرنوں اور ریورٹوں کی الیکٹرانک فائیلنگ کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ درحقیقت ای کامرس کے اوزار/ طریقے ان انتظامی تبدیلیوں کو متاثر کررہے ہیں جن کا مقصد اجازتوں، منظوریوں اور لائسنسوں کو دینے کے عمل میں تیزی لانا ہے۔ اس حوالے سے انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعات قابل غور ہیں۔

5.4   ای کاروبار کی حدود

ای کاروبار کلی طور پر اتنا پرکشش نہیں ہے۔ الیکٹرانک طریقے سے کاروبار کرنے کی چند حدود بھی ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) شخصی تعلق کی کمی:  ای کاروبار، اعلیٰ تکنیک ہوسکتا ہے، مگر بہرحال اس میں ایک دوسرے کے ساتھ ذاتی تعلق اور لگاؤ کی کمی ہوتی ۔ اس لیے یہ ان کاروباروں کے لیے نسبتاً کم موزوں ہوتا ہے جن میں شخصی تعلق کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جسے کپڑوںاور غسل خانے سے متعلق اشیا کا کاروباروغیرہ۔
(ii) آڈر لینے/ دینے کی رفتار اور آڈر پورا کرنے کی رفتار کے درمیان غیربرابری: معلومات ماؤس کی ایک کلک پر حاصل ہوسکتی ہیں لیکن اشیاکی طبعی سپردگی میں وقت لگتا ہے۔ یہ بے محل گاہکوں کے لیے صبر آزما ہوسکتی ہے بعض اوقات تکنیکی وجوہات کے باعث ویب سائٹ کو کھولنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے جس سے استعمال کنندگان مزید بیزار ہوتے ہیں۔
(iii)   ای کاروبار سے متعلقہ فریقین کے لیے تکنیکی صلاحیت اور استعداد کی ضرورت:    روایتی تین آر (R) (ریڈنگ، رائٹنگ، ارتھ میٹک یعنی لکھنا، پڑھنا، حساب کرنا) کے علاوہ ای کاروبار سے متعلقہ فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ کمپیوٹروں کی دنیا کے بارے میں اعلیٰ درجہ کی واقفیت رکھیں اور یہی ضرورت اس بات کی ذمہ داری ہے جسے ’ڈیجیٹل تقسیم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تقسیم دراصل ڈیجیٹل ٹکنالوجی سے واقفیت کی بنیاد پر سماج کی تقسیم ہے۔
(iv)  فریقین کا ایک دوسرے سے ناواقف اور ناقابل سراغ ہونے کی وجہ سے زیادہ خطرہ: انٹرنیٹ پر سودے سائبر شخصیات کے درمیان واقع ہوتے ہیں اس لیے فریقین کی شناخت کر پانا مشکل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ کوئی یہ بھی نہیں جان پاتا کہ فریقین کہاں سے کام رہے ہیں۔ اس لیے انٹرنیٹ سے سودے کرنا زیادہ پُر خطر ہے۔ ای- کاروبار میں جعلی شخصیت تیار کرنے اور رازدارانہ معلومات کے عام ہونے (جیسے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات) کا ڈر رہتا ہے جس کے بارے میں آپ سن چکے ہوں گے۔ اگر نہیں تو ہم اس کا ذکر آن لائن کاروبار سے متعلقہ حفاظتی تدابیر پر گفتگو کرتے وقت کریں گے۔

جدول5.1:  روایتی کاروبار اور ای کاروبار کے درمیان فرق
 الیکٹرانک کاروبار  روایتی کاروبار  امتیاز کی اساس 
  سادہ    مشکل تشکیل کی سہولت 
 غیرمطلوب  مطلوب جسمانی موجودگی 
 کوئی نہیں    خام مال کے ذرائع سے نزدیکی پروڈکٹ کے لیے بازار سے نز دیکی  محل وقوع کی ضرورتیں 
 چونکہ جسمانی سہولتوں کی ضرورت نہیں اس لیے بہت کم لاگت  بہت زیادہ  شروعاتی لاگت
 وسائل کی ملکیت سے زیادہ ریلیشن شپ کے نیٹ ورک پر اعتماد کے نتیجہ میں بہت کم  بہت زیادہ: کیونکہ قائم چارچیز کا تعلق وصولی، اسٹوریج پیداوار،مارکیٹنگ اورتقسیم کی سہولتوں سے ہے۔ کاروبار چلانے کی لاگت
   براہ راست  بچولیوں کے ذریعہ، بالواسطہ سپلائروں اور گراہکوں کے ساتھ رابطہ کی نوعیت
 مراتب کا کوئی نظام نہیں، براہ راست، افقی، عمودی اور ترچھے ابلاغ وترسیل کی اجازت  نظام مراتب: مینجمنٹ کے ٹاپ لیول سے،مینجمنٹ کے درمیانی اورپھردرمیانی سے نچلی سطح کے مینجمنٹ تک داخلی ابلاغ وترسیل کی نوعیت
 فوری۔بلاتاخیر  طویل  گراہکوں سے ملنے کے لیے داخلی ضرورتوں کے لیے وقت
   حکم اور ترسیل کے بلاواسطہ ہونے کے سبب افقی/چپٹا  نظام مراتب کی وجہ سے یا احکامات کی زنجیر کی وجہ سے عمودی /لمبا تنظیمی ڈھانچہ کی شکل
فوری اوربرجستہ عمل، کاروباری اعمال کا دورمختصر ہوتاہے۔       ترتیبی اولیت، ریلیشن شپ کی جانشینی یعنی خریداری/پیداوار،کام کاج، مارکیٹنگ/فروخت۔اس لیے کاروباری اعمال کا دور(سائیکل)لمباہوتاہے۔ کاروباری عمل اور دور (یا سائیکل) کی لمبائی
 کم  بہت زیادہ   داخلی طورپر ذاتی رابطے 
        پیداوارکے لیےاس طرح کاموقع Digitable کم ۔بہرحال
غیرمعمولی ہے۔آپ موسیقی،کتابی،سافٹ ویئراورویڈیووغیرہ کی 
پیشگی سیمپلنگ کرسکتے ہیں۔
 بہت زیادہ  پیداوارکی جسمانی پیشگی سیمپلنگ کا موقع
 زیادہ۔درحقیقت سائبر کی وسعت کی کوئی حدنہیں کم عالم کاری، گلوبلائزیشن کی سہولت
 بہت زیادہ۔ کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کاسیکٹرسرکارکی سب سے اہم ترجیح ہے۔  سکڑتی ہے  سرکاری سرپرستی 
 تکنیکی اورپیشہ ورانہ طورپر کوالیفائڈ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقیم ہنر مند اورغیرہنرمند ورکروں کی ضرورت رہتی ہے۔  انسانی سرمایہ کی نوعیت 
 ساجھے داروں کی دوری اور ان کے نامعلوم ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔  ساجھیداروں کی قربت اوران کے باہمی روابط کی وجہ سے کم ہوتے ہیں۔  لین دین کے خطرات

(v) لوگوں کی مزاحمت:   نئی تکنیک سے ہم آہنگی اور چیزوں کو نئے طریقے سے کرنے کا عمل لوگوں میں غیر محفوظ ہونے کا احساس اور ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ نتیجتاً لوگ ادارے کے ای کاروبار میں داخل ہونے کے منصوبوں کی مزاحمت کرسکتے ہیں۔
(vi) اخلاقی اثرات:  ’’اچھا تم نوکری چھوڑنے کا منصوبہ بنارہی ہو، بہتر ہے کہ تم ابھی چھوڑ دو‘‘، ایچ۔آر۔ منیجر نے اس ای–میل کی نقل دکھاتے ہوئے کہا جو اس نے اپنی سہیلی کو لکھا تھا۔ شبینہ کو تعجب ہوا کہ اس کا باس اس کے ای میل اکاؤنٹ تک کیسے رسائی حاصل کرسکا۔ آج کے دور میں کمپنیاں’ الیکٹرانک آنکھوں‘ کا استعمال آپ کے ذریعہ استعمال کی گئی کمپیوٹر فائلوں، ای میل اکاؤنٹ، آپ کے ذریعہ دیکھی گئی ویب سائٹ وغیرہ کا سراغ لگانے کے لیے کرتی ہیں۔ کیا یہ اخلاقی بات ہے؟

 اپنی حدود کے باوجود، ای-کامرس ہی راستہ یا طریقہ ہے

ای کامرس کی مندرجہ بالا تمام حدود/ خامیاں اپنے حل ہونے کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ ویب سائٹیں زیادہ سے زیادہ تعلقات پیدا کررہی ہیں تاکہ کم تعلق کا مسئلہ حل ہوجائے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ ترسیل کی کوالٹی اور رفتار میں اضافہ کرنے کے لیے کمیونیکشن  ٹکنالوجی مسلسل نشو و نما پارہی ہے۔ ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ مثلاً ہندوستان کے گاؤں اور دیہی علاقوں میں کمیونٹی ٹیلی سینٹر قائم کیے جارہے ہیں۔ اس کام میں سرکاری ایجنسیاں، غیر سرکاری تنظیمیں (این جی او) اور بین الاقوامی ادارے شامل ہیں۔ ٹیلی سینٹرس پروجیکٹ، ای کامرس کو ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کے لیے ہندوستان ایسے 150 پروجیکٹس شروع کرچکا ہے۔
مندرجہ بالا تذکرہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ای کامرس کو باقی رہنا ہے اور یہ کاروباروں، معیشتوں اور سربراہوں کو نئی شکل عطا کرتا رہے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بخوبی واقف ہوں کہ ای -کاروبار کس طرح کیا جاتا ہے۔

5.5   آن لائن سودے

آپ عملی طور پر آن سودوں کی لین دین میں شامل تین مرحلوں کا تصور کرسکتے ہیں۔ پہلا مرحلہ خریداری/ فروخت کا مرحلہ ہے جو کہ چند اقدامات پر مشتمل ہے جیسے قیمت کی بات چیت، خرید/ فروخت سودے کا طے کرنا اور ادائیگی، اور تیسرا مرحلہ سپردگی کا مرحلہ ہوتا ہے (دیکھیے شکل 5.2)۔ شکل 5.2 سے یہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ سپردگی سے متعلق مرحلہ کے علاوہ دیگر تمام مراحل میں معلومات یا اطلاعات کا بہاؤ شامل ہوتا ہے۔ اطلاعات کا لین دین، روایتی کاروباری طریقے سے بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے میں وقت اور لاگت کافی لگتی ہے مثلاً روایتی کاروباری طریقے میں اگر کسی کو آمنے سامنے بات چیت کرنی ہے تو اسے دوسرے فریق سے بات کرنے کے لیے سفر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے سفری تھکان ہوتی ہے اورزیادہ وقت اور لاگت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیلی فون کے ذریعہ اطلاعات کے لین دین میں بھی وقت ہوتی ہے۔ اس میں اطلاع، زبانی لین دین کے لیے فریقین کی ایک ہی وقت میں موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ اطلاع کو ڈاگ کے ذریعہ بھی منتقل کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بھی ایک وقت طلب اور مہنگا عمل ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسا ذریعہ ہے جو مندرجہ بالا زیادہ تر مسائل سے پاک ہے۔ اطلاع پر مبنی اشیا اور خدمات جیسے سافٹ ویئر اور موسیقی کی صورت میں تو ان کی سپردگی بھی آن لائن ہوسکتی ہے۔


انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ2000سے ایک بے کاغذ سماج کے لیے راستہ ہموار ہوا
ذیل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ2000کی کچھ دفعات دی جارہی ہے جنہھوں نے کارو بار کی دنیا میں اور خود سرکاری اقلیم میں بھی بے کاغذ کارو بار (Paper less Dealing) کو ممکن بنا دیا ۔ 
الیکٹرانک ریکارڈس کی قانونی حیثیت ( سکشن4)؛ جہاں کسی قانون میں یہ بندو بست ہے کہ انفارمیشن یا کوئی بھی  دیگر معاملہ تحریری یا ٹائپ شدہ یا مطبو عہ ہو نا چاہیے ،توایسا ہو تے ہوئے بھی 
اس قانون میں شامل ایسی ضرورت تشفی بخش مانی جائے گی، اگر ایسی معلومات یا ایسا امر کسی الیکٹرانک شکل میں پیش کیا با جاتا ہے یا دستیاب کرا جا تا ہے اور بعد میں حوالہ کے طور پر استفادہ کے لیے دستیاب رہتا ہے
ڈیجیٹل دستخط کی قانونی منظوری (سیکشن8): جہاں کسی قانون میں یہ بندر بست ہے کہ انفارمیشن یا کوئی بھی دیگر امور دستخط کے ذریعہ مستند مانے  جا ئیں گے یا کسی بھی دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے یا اس پر کسی بھی شخص کے دستخط ہو نے چاہئیں  اس لیے ایسا ہوتے ہوئے بھی اس قانون میں شامل ایسی کوئی شرط/ ضرورت تشفی بخش مانی جائے گی بشرطیکہ ایسی انفارمیشن یا ایسے امور ڈیجیٹل دستخط سے ثابت شدہ ہوں جس کو مرکزی حکومت سے منظوری حاصل ہے۔
سرکار اور اس کی ایجنسیوں میں الیکٹرانک ریکارڈ اور ڈیجیٹل دستخط (سیکشن6.1) : جہاں کوئی قانون کسی فارم درخواست یا کسی دیگر دستاویز کو کسی دفتر، اتھارٹی، کسی سرکاری ملکیت یا کنٹرول والی ایجنسی میں خاص طور پر جمع  کرانے میں ،ایک خاص طریقہ سے لائسنس ، پر مٹ منظوری یا کسی بھی نام سے منظوری جاری کر نے یا قبول کر نے میں ایک خاص طریقے سے  پونجی کی وصولی یا ادائیگی کرنے میں قانونی سہولت دیتا ہے تو ایسا ہوتے ہوئے بھی اس وقت رائج کسی دوسرے قانون میں شامل ایسی ضرورتیں تشفی بخش مانی جائیں گی۔ اگر وہ جمع کرانے، منظوری جاری کرنے، وصولی
یا ادائیگی کرنے میں اس الیکٹرانک ذریعہ سے جاری ہو جسے سرکارنے منظورکیا ہو۔
الیکٹرانک دستاویزات (سیکشن7.1): جہاں قانون یا بندو بست کرتا ہے کہ دستاویزات، ریکارڈس اور اطلاعات (Information)  کو کسی خاص مدت تک کے لیے برقرار یا سنبھال کر رکھا جائے تو اس ضرورت (Requirement) کو الیکٹرانک میں محفوض رکھا جائے گا
(ماخذ؛ انفارمیشن ٹیکنا لوجی ایکٹ،2000)


گاہک کے نقطۂ نظر سے آن لائن تجارت کے عمل کو ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔ فروخت کار کے نقطۂ نظر سے عمل کو ہم ’’ای کاروبار کے درکار وسائل‘‘ کے عنوان میں بیان کریں گے۔ چلئے کیا اب آپ اپنی شاپنگ لسٹ کے ساتھ تیار ہیں یا پھر شاپنگ مال میں جاکرہی آپ اپنی پسند سے خریداری کریں گے؟ آیئے ہم بھی ریتا اور ریکھا کی مانند انڈیا ٹائمس ڈاٹ کام کی بروسنگ کو اپنائیں( شکل 5.1)
(i)  رجسٹریشن:
آن لائن خریداری/ شاپنگ سے پہلے خریدار کو ایک رجسٹریشن فارم پر کرکے خود کو آن لائن فروخت کار کے پاس رجسٹر کرانا پڑتا ہے۔ رجسٹریشن کا مطلب ہے کہ آپ کا ایک اکاؤنٹ آن لائن فروخت کار کے پاس کھل گیا۔ فارم میں بھری جانے والی دیگر تفصیلات کے ساتھ پاس ورڈ بھی دینا ضروری ہوتا ہے یہ پاس ورڈ آپ کے اکاؤنٹ اور شاپنگ کارٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے ورنہ کوئی بھی آپ کے نام سے آپ کے اکاؤنٹ میں شاپنگ کرسکتا ہے جس سے آپ پریشانی میں پڑسکتے ہیں۔
(ii)  
آرڈر 
دینا:آپ شاپنگ کاٹ یا خریداری کی گاڑی میں اشیا ڈال بھی سکتے اور اٹھا بھی سکتے ہیں شاپنگ کارٹ آن لائن اسٹور پر بروسنگ کرتے وقت اس بات کا ریکارڈ ہے کہ آپ نے کیا اٹھایا ہے جس طرح آپ ایک طبعی اسٹور میں اپنی گاڑی یا کارٹ پر اشیا ڈال اور اٹھاسکتے ہیں اس طرح آپ یہ کام آن لائن شاپنگ کرتے وقت بھی کرسکتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ کرلینے کے بعد کہ آپ کو کیا خریدنا ہے آپ چیک آؤٹ، (باہر نکلنا) کرسکتے ہیں اور اپنے ادائیگی کے آپشن (اختیار) کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
(iii)  ادائیگی میکانزم:  شکل5.1 سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آن لائن خریداری کی ادائیگی کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں۔ جیسے:
• کیش آن ڈیلیوری یا سپردگی پر نقد  (سی او ڈی): جیسا کہ نام سے ظاہر ہے آن لائن آڈر کی گئی اشیا کے لیے ادائیگی ان کی طبعی سپردگی کے وقت نقد کی شکل میں کی جاسکتی ہے۔
• چیک: آن لائن فروخت کار گاہکوں سے چیک بھی وصول کرسکتے ہیں، ان کی وصولیابی کے بعد اشیاکی سپردگی کی جاسکتی ہے۔
نیٹ بینک کاری منتقلی: جدید بینک اپنے گاہکوں کو انٹر نیٹ کا استعمال کر کے فوری ادائیگی خدمت (آئی ایم پی ایس)، این ای ایف ٹی اور آر ٹی جی ایس کے ذریعہ فنڈز کی الیکٹرانک منتقلی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔لہٰذا اس معاملہ میں خریدار سودے کی متفقہ قیمت کی رقم کو آن لائن فروخت کار کے کھاتہ میں منتقل کرتا ہے،فروخت کار رقم کی منتقلی کے بعد اشیا کی فراہمی کا نظم کرتا ہے۔
•  کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ:   یہ پلاسٹک منی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔یہ کارڈ بڑے پیمانے پر آن لائن سودوں میں رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتے ہیں درحقیقت 95 فیصد سے زیادہ آن لائن صارفین سودے کریڈٹ کارڈ سے ہی کیے جاتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ اپنے حامل کو ادھار خریداری کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ حامل کارڈ کی آن لائن فروخت کار کی جانب جو واجب رقم ہوتی ہے وہ کارڈ جاری کرنے والے بینک کے ذریعہ فروخت کارکو واجب الادا مانی جاتی ہے جو کہ بعد ازاں سودے میں شامل رقم کو فروخت کار کے کھاتے میں کریڈٹ اور خریدار کے کھاتے سے ڈیبٹ کردیتا ہے۔ خریدار کو اکثر رقم قسطوں میں اور اپنی سہولت کے مطابق جمع کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ ڈیبٹ کارڈ اپنے حامل کو اپنے کھاتے/ اکاؤنٹ میں موجود رقم کی حد تک خریداری کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ کسی سروے کے وقوع پذیر ہوتے ہی ادائیگی کے لیے واجب رقم کارڈ سے الیکٹرانک طور پر گھٹا دی جاتی ہے۔ آن لائن ادائیگی کے بطور کریڈٹ کارڈ کو قبول کرنے کے لیے سب سے پہلے فروخت کارڈ کو اپنے گاہک سے کریڈٹ کارڈ کی معلومات حاصل کرنے کے لیے محفوظ ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے۔ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگیاں یا تو دستی طور پر وصول کی جاتی ہیں یا پھر آن لائن اتھورائیزیشن نظام جیسے ایس ایس ایل سر  ٹیفکیٹ کے ذریعہ (دیکھیے باکس 5.1: ای کامرس کی تاریخ)
8

شکل 5.3:(A)اور (B): ای۔ کاروبار کے ذریعہ تقسیمی راستہ کو مختصر کیا گیا ہے ۔ 


 •  ڈیجیٹل کیش:   یہ الیکٹرانک کرنسی کی ایک شکل ہے جس کا وجود صرف سائبر اسپیس میں ہی ہے۔ اس قسم کی کرنسی کی کوئی حقیقی طبعی خصوصیات نہیں ہوتیں لیکن اس کو الیکٹرانک شکل میں حقیقی کرنسی کی طرح استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ پہلے آپ کو بینک میں (چیک، ڈرافٹ وغیرہ کے ذریعہ ڈیجیٹل کیش کے برابر اتنی ہی رقم ادا کرنی پڑتی ہے جتنی کہ آپ ڈیجیٹل کیش کی صورت بینک سے جاری کرانا چاہتے ہیں جس کے بعد ای- کیش میں معاملہ کرنے والا بینک آپ کو ایک خاص سافٹ ویئر بھیجے گا ۔آپ اس سافٹ ویئر کو اپنے ہارڈ ڈسک پر ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ سافٹ ویئر سے آپ اپنے بینک اکاؤنٹ سے ڈیجیٹل کیش نکال سکتے ہیں۔ آپ پھر ڈیجیٹل کش کا استعمال ویب پر خریداری کرنے کے لیے کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے ادائیگی نظام سے انٹرنیٹ پر کریڈٹ کارڈ نمبروں کے استعمال سے متعلق حفاظتی مسائل کو حل کرنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔

 5.6  ای-سودوں کی سلامتی اور حفاظت: ای-کاروبار کے خطرات

طبعی لین دین میں تھوڑے فاصلہ کے سودوں کے برعکس ای- سودے زیادہ خطرات کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ خطرات سے مراد کسی ناخوشگوار واقع کے امکان سے ہے جس کے نتیجہ میں سودے میں شامل فریقین کو مالی، ذ ہنی یا ساکھ کا نقصان ہوسکتا ہے۔ آن لائن سودوں کی صورت میں ایسے خطرات کے زیادہ امکانات کے باعث ای کا روبار میں سلامتی اور حفاظت کے مسئلے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مسئلوں کو تین عنوانات کے تحت ذیل میں بیان کیا گیا ہے:
(i)  سودے کے خطرات: آن لائن سودے مندرجہ ذیل سودے کے خطرات کا ہدف بن سکتے ہیں:
 •  فروخت کار، گاہک کے ذریعہ دیے گئے آرڈر کا منکر ہوسکتا ہے یا گاہک اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ اس نے آڈر دیا تھا۔ اسے آڈر لینے/ دینے میں کوتاہی بھی کہا جاتا ہے۔
•متوقع سپردگی واقع ہی نہ ہو۔ اشیا کو غلط پتہ پر پہنچ دیا جائے۔ یا وہ اشیا پہنچ جائیں جن کا آڈر نہیں دیا گیا تھا۔ اس کو سپردگی میں کوتاہی کہا جاسکتا ہے۔
• گاہک یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے سپلائی کی گئی اشیاء کی ادائیگی کردی ہے جبکہ فروخت کارکو اس کی ادائیگی وصول نہیں ہوئی۔ اس کو ادائیگی میں کوتاہی کہا جاسکتا ہے۔

اس طرح ای-کاروبار میں آرڈر لینے / دینے، سپردگی اور ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے گاہک اور فروخت کار دونوں کے لیے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔رجسٹریشن کے وقت پتہ کی تصدیق کے لیے شناخت فراہم کرکے، ادائیگی کی وصولیابی اور آرڈر کی تصدیق کے لیے اختیار حاصل کرکے ایسے حالات سے بچا جاسکتا ہے۔ مثلاً اس بات کی توثیق کرنے کے لیے کہ گاہک نے رجسٹریشن فارم میں اپنی تفصیلات درست درج کی ہیں فروخت کار’ کوکیز‘ سے بھی دوہری تصدیق کرسکتا ہے، کوکیز کافی حد تک ٹیلیفون کے کالر آئی ڈی کی طرح ہوتے ہیں جو ٹیلی مار کیٹروں کو گاہک کا نام، پتہ پچھلی خرید پر ادائیگی کا ریکارڈ وغیرہ جیسی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جہاں تک گم نام فروخت کاروں کا معاملہ ہے، اس خطرے سے بچنے کے لیے ہمیشہ شاپنگ سائٹوں سے خریداری کریں۔ ان ویب سائٹوں سے نہ صرف مشتہرین اپنی اشیا آن لائن فروخت کرسکتے ہیں بلکہ یہ ویب سائٹیں گاہکوں کو فروخت کار کی شناخت، پتے اور سروس ریکارڈ کا بھی یقین دلاتی ہیں۔ ای بے جیسی ویب سائٹ تو فروخت کاروں کے درجہ (ریٹنگ) کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہیں۔ یہ ویب سائٹیں گاہکوں کو سپردگی میں کوتاہی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں اور ادائیگیوں کی کچھ حد تک واپسی بھی کردیتی ہیں۔
جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ آن لائن خریداریوں کے لیے لوگ 95 فیصد حالات میں کریڈٹ کارڈوں کا استعمال کرتے ہیں۔ آڈر کی تصدیق کرتے وقت خریدار کو آن لائن رہ کر چند تفصیلات دینی ہوتی ہیں جیسے کارڈ نمبر، کارڈ جاری کرنے والا اور کارڈ کے قابل استعمال رہنے کی مدت (ویلیڈیٹی)۔ ان تفصیلات کو آن لائن نہ رہ کر بھی دیا جاسکتا ہے۔ کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات سے مطمئن ہونے کے بعد ہی فروخت کار اشیا کی سپردگی کرتا ہے ۔ ای -کامرس ٹکنالوجی کے ذریعہ آج آن لائن رہ کر ہی کریڈٹ کارڈ کی معلومات کی توثیق کی جاسکتی ہے۔ کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات کے غلط استعمال سے بچاؤ کے شاپنگ مال آج کل انٹر ٹکنالوجی جیسے نیٹ سکیپ سیکیور ساکٹ لیئر (ایس ایس ایل) کا استعمال کررہے ہیں۔ آپ (ایس ایس ایل) کے بارے میں مزید معلومات باکس 5.1 : ای- کامرس کی تاریخ سے حاصل کرسکتے ہیں۔ آگے آنے والے حصہ میں ہم آپ کو انکرپشن یا کریپٹو گرافی سے روشناس کرائیں گے جو آن لائن سودوں میں ڈاٹا منتقلی خطرات سے تحفظ کی خاطر استعمال کیا جانے والا ایک طریقہ ہے۔
(ii) ڈاٹا اسٹوریج اور ٹرانس میشن (ترسیلی) خطرات:  معلومات واقعی قوت ہے۔ لیکن ایک لمحہ کے لیے سوچیے کہ اگر یہ قوت غلط ہاتھوں میں پڑجائے! تو کمپیوٹر سسٹموں میں اسٹور کیا گیا ڈاٹا بہت زیادہ خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ اہم معلومات اور اطلاعات کو چرایا جاسکتا ، ان میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے اور پھر انھیں اپنے مقاصد یا محض لطف حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے وائرس اور ہیکنگ کے بارے میں سنا ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وائرس کی فل فورم کیا ہے: اس کا مطلب ہے وائیٹل انفارمیشن انڈر پیج یا اہم معلومات کا محاصرہ ۔درحقیقت وائرس،ایک ایسا پروگرام (احکام یا کمانڈس کا سلسلہ) ہے جو کہ دوسرے کمپیوٹر سسٹموں پر ہوبہو اپنی نقل تیار کرلیتا ہے۔ کمپیوٹر وائرس کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ یہ سطح 1 کے وائرس بھی ہوسکتے ہیں جو کہ کمپیوٹر اسکرین پر کچھ منظر پیش کرکے غصہ کی وجہ بنتے ہیں، سطح -2کے وائرس کمپیوٹر کو چلانے میں دقت پیش کرتے ہیں، سطح-3کے وائرس ہدف بنائی گئی فائلوں کو تباہ کردیتے ہیں، سطح-4 کے وائریس سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کردیتے ہیں۔ اینٹی وائرس پروگراموں کو لگا کر ان کی وقتاً فوقتاً تجدید کرکے، فائلوں اور ٹمام ڈسکوں کو چھانٹ کر آپ اپنی ڈاٹا فائلوں فولڈروں اور سسٹموں کو وائرس کے حملوں سے بچاسکتے ہیں۔
ڈاٹا کو اس کی منتقلی کے عمل کے دوران میں پکڑا جاسکتا ہے اس کے لیے کریٹو گرافی کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مراد معلومات کی حفاظت کا فن ہے جس سے معلومات یا اطلاعات کو نہ پڑھ سکے جانے والے خاکے (خفیہ) میں تبدیل کردیاجاتا ہے۔ اسے سائیفر ٹیکسٹ بھی کہتے ہیں۔ صرف وہ لوگ جن کے پاس خفیہ کنجی ہوتی ہے اس پیغام کو غامض سے تبدیل کرکے مادہ متن (پلین ٹیکسٹ) میں لے آتے ہیں۔ یہ کوڈ ورڈ استعمال کرنے جیسا ہی ہے تاکہ کوئی دوسرا آپ کی گفتگو نہ سمجھ سکے۔
(iii) پرائیویسی اور املاک دانشوراں کو درپیش خطرات: انٹرنیٹ ایک کھلی جگہ ہے۔ معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہوتے ہی یہ آپ کی نجی معلومات نہیں رہتی۔ پھر اس کی نقل ہونے سے حفاظت کرنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ ایک آن لائن سودے میں دیا گیا ڈاٹا دوسروں کو سپلائی کیا جاسکتا ہے جو آپ کے ای میل باکس کو اشتہارات سے بھرنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ صرف وصول کرنے والے بن کر رہ جاتے ہیں اور ایسی بے کار ای میلوں سے آپ بچ نہیں پاتے۔

5.7  ایک کامیاب ای-کاروبار کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری وسائل

کسی بھی کاروبار کو قائم کرنے کے لیے روپے پیسے، انسانوں اور مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ای کاروبار کے لیے آپ کو ایک ویب سائٹ بنانے، اس کے ذریعہ کام کرنے اور اسے ترقی دینے کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائٹ کا مطلب ہے کہ جگہ یا محل وقوع اور ویب کا مطلب ہے ورلڈ وائیڈ ویب (www) سادہ الفاظ میں ویب سائٹ، ورلڈ وائیڈ ویب پر فرم کا محل وقوع ہوتا ہے۔ ویب سائٹ ایک طبعی محل وقوع نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک فرم کے ا ن تمام آن لائن مواد کا مجسمہ ہوتی ہے جو وہ دوسرے لوگوں کو فراہم کرنا چاہتی ہے۔

5.8  آؤٹ سورسنگ (بیرونی ذرائع سے کرایہ پر حاصل کرنا): تصور، ضرورت اور دائرہ عمل

آؤٹ سورسنگ بھی ایک ایسا رجحان ہے جو تیزی سے کاروبار کی تشکیل نو کررہا ہے۔ آؤٹ سورسنگ سے مراد طویل مدت کے لیے بیرونی ماہرین کی خدمات کو معاہدے پر حاصل کرنا ہے تاکہ ان کے تجربہ، مہارت، کارگزاری اور یہاں تک کہ سرمایہ کاری سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ عام طور پر یہ خدمات، ادارے کی بنیادی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے نہیں لی جاتی لیکن اب انھیں چند بنیادی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔
اس سیدھی سادی تعریف سے آؤٹ سورسنگ کے تصور کی مندرجہ ذیل اہم خصوصیات سامنے آتی ہیں جو کسی ایک صنعت، کاروبار یا ملک کے لیے مخصوص نہیں ہیں لیکن ایک عالمی مظہر بن چکی ہے۔
(i)  آؤٹ سورسنگ میں بیرونی معاہدہ کیا جاتا ہے:  آؤٹ سورسنگ کا مطلب وہ کام بیرونی ذرائع سے کراناہے جو آپ اب تک ادارے میں ہی انجام دے رہے ہیں۔ مثلاً کئی کمپنیاں اپنی عمارات اور متعلقات کی صفائی، رکھ رکھاؤ تمام خانہ داری سرگرمیوں کے لیے عملہ کا تقرر اب تک خود ہی کر رہی تھیں لیکن اب کئی کمپنیوں نے ان سرگرمیوں کو آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ کرانا شروع کردیا ہے، یعنی انھوں نے یہ کام بیرونی ایجنسیوں کو معاہدے کی بنیاد پرسونپ دیا ہے، اب یہ ایجنسیاں ادارے کے لیے یہ کام انجام دیتی ہیں۔
(ii)   عام طور پر غیر اہم کاروباری سرگرمیوں کو آؤٹ سورس کر دیا جاتا ہے:  زیادہ تر اداروں کے لیے صفائی ستھرائی اور ہاؤس کیپنگ غیر اہم کام ہوتے ہیں ۔یہی کام میونسپلٹی اور دیگر صفائی کی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے ان کے بنیادی کاروباری کام ہیں۔ ہاؤسنگ کیمپنگ ہوٹلوں کی بنیادی سرگرمی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک کمپنی جس کاروبار میں ہوتی ہے اس کاروبار کے بنیادی کاروباری مقصد کے لیے کی جانے والی سرگرمیاں مرکزی سرگرمیاں ہوتی ہیں ۔دیگر سرگرمیوں کو ثانوی یا واقعاتی سرگرمیاں کہا جاسکتا ہے مثلاً ایک اسکول کا مقصد نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعہ طالب علم کی نشوو نما کرنا ہے، واضح طور پر یہ سرگرمیاں اسکول کی بنیادی سرگرمیاں ہیں۔ ایک کے لیے کینٹین یا کتابوں کا اسٹور چلانا غیر اہم سرگرمی ہے۔
جب تنظیمیں آؤٹ سورسنگ کا تجربہ کرنا چاہتی ہیں تب وہ شروعاتی طور پر صرف غیر اہم سرگرمیاں ہی آؤٹ سورس کراتی ہیں۔ لیکن بعد میں جب وہ ایک دوسرے پر منحصر رہ کر کام کرنے سے مطمئن ہوجاتی ہیں تب وہ بیرونی لوگوں سے بنیادی سرگرمیاں بھی انجام دلانا شروع کرسکتی ہیں، مثلاً ایک اسکول کسی کمپیوٹر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے اشتراک کرسکتا ہے کہ وہ اس کے طلباء کو کمپیوٹر کی تعلیم دے۔
(iii)  چھوٹی اکائی یا ایک تیسرے فریق کے ذریعہ کاموں کی آؤٹ سورسنگ کی جاسکتی ہے: ایک بڑی کثیرقومی کارپوریشن کے بارے میں سوچئے جو کہ مختلف النوع اشیا کے سودے کرتی ہے اور ان کی بازار کاری متعدد ممالک میں کرتی ہے اس کی مختلف ممالک میں کام کرنے والی تمام ذیلی اکائیوں میں بہت سارے کام یکساں ہوتے ہیں جیسے بھرتی، انتخاب، تربیت اور ریکارڈ (انسانی وسائل) قابل وصول اور قابل ادا کھاتوں کا انتظام (کھاتا داری اور مالیات)، گاہکوں کی مدد، تکالیف کی سماعت، پریشانی رفع کرنا (مارکٹنگ)۔ اگر ان کو مرکزیت عطا کردی جائے اور انھیں ایک ایسی بیرونی کاروباری اکائی کوسونپ دیا جائے جو خصوصاً اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اس سے وسائل کے دوبارایک ہی استعمال سے بچا جاسکتا ہے۔ تو ایک جیسی سرگرمی کو بڑے پیمانے پر ایک ہی یا چند منتخب مقاموں پر انجام دینے سے بہتر کارگزاری، اور دیگر فوائد کا حصول اور نتیجتاً لاگتوں میں بھاری کمی آتی ہے۔ اس لیے اگر کسی سرگرمی کو بڑے پیمانے پر انجام دینا ہو تو فرم کے لیے ایک چھوٹی خدمت فراہم کرنے والا، سودمند ثابت ہوتا ہے یعنی چھوٹی خدمت فراہم کردہ سے مراد ایک ایسا خدمت فراہم کرنے والا ہے جو صرف ایک ہی فرم کو مخصوص قسم کی خدمات فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہو۔ مثلاًجنرل الیکٹرانکس (جی ای) ہندوستان کا سب سے بڑا کیپکٹیو بی پی او یونٹ ہے جو کہ امریکہ میں اپنی سربراہ کمپنی اور دیگر ممالک میں اپنی ذیلی کمپنیوں کو مخصوص قسم کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کام کسی تیسرے بیرونی فریق (خدمت فراہم کردہ) کو بھی سونپے جاسکتے ہیں جو بازار میں آزادانہ کام کرتاہے اور دوسری فرموں کو بھی خدمات فراہم کرتا ہو۔ 
شکل 5.3 ایک نظریاتی خاکہ فراہم کرتی ہے کہ ایک فرم کسی تیسرے فریق (خدمات فراہم کردہ) سے کس طرح اپنی چند سرگرمیاں انجام دلاتی ہے۔ اب تک بیان کیے گئے تیسرے فریق (خدمات فراہم کردہ) ایسی فرمیں/ لوگ ہیں جو کہ چند کاموں میں ماہر ہیں (جیسے انسانی وسائل) ایسے تیسرے فریق کو آؤٹ سورسنگ کی اصطلاح میں افقی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے تیسرے فریق (خدمات فراہم کردہ) بھی ہوتے ہیں جو ایک یا دو صنعتوں میں ماہر ہوتے ہیں اور اپنے لحاظ سے بنیادی اور غیر بنیادی متعدد کام انجام دیتے ہیں۔ ان کو ’عمودی‘ کہا جاتا ہے جیسے جیسے خدمت فراہم کردہ بازار میں پختہ ہوتے جاتے ہیں وہ خود بخود افقی سے عمودی بنتے جاتے ہیں۔
آؤٹ سورسنگ کے استعمال کی ایک اہم وجہ دوسرے لوگوں کے تجربہ اور مہارت سے فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اسکولوں، کمپنیوں اور اسٹالوں جیسے اداروں کے چائے خانہ (کیفیٹیریا) کی سرگرمی کو کیٹرنگ فرموں سے آؤٹ سروس کراسکتے ہیں۔ ان فرموں کے لیے سرگرمیاں بنیادی یا قلبی کام کی حیثیت رکھتی ہیں آؤٹ سورسنگ کا نظریہ نہ صرف اس لیے قیمتی ہے کہ اس کے ذریعہ دوسروں کی مہارت اور تجربہ سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے بلکہ یوں بھی کہ اس کی وجہ سے آپ کی سرمایہ کاری محدود رہتی ہے اور آپ اپنے بنیادی کاموں پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آؤٹ سورسنگ تیزی سے کاروبار کا ایک ابھرتا طریقہ بنتا جارہا ہے فرمیں اپنے ایسے کاموں کی زیادہ تر آؤٹ سورسنگ کرارہی ہیں جو کہ دوسروں کے ذریعہ زیادہ مؤثر طریقے پر انجام پاسکتے ہیں۔ آؤٹ سورسنگ کاروبار کا ایک ابھرتا طریقہ اس لیے بھی بن رہا ہے کیونکہ اسے لوگوں نے کاروبار کی بنیادی پالیسی اور فلسفہ کے طور پر قبول کرنا شروع کردیا ہے جبکہ پہلے کاروبار سے متعلق لوگوں کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ تمام کام خود ہی انجام دیئے جائیں۔

5.8.1   آؤٹ سورسنگ کا دائرۂ عمل

آؤٹ سورسنگ چار کلیدی حصوں پر مشتمل ہے: معاہدہ برائے صنعت کاری، معاہدہ برائے فروخت کاری، معاہدہ برائے تحقیقات، انفارمیٹکس (معاہدہ برائے معلومات)

آؤٹ سورسنگ کی اصطلاح بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ یا آئی ٹی کے اہل بنانے والی خدمات کے ساتھ زیادہ مقبول ہورہی ہے درحقیقت کال سینٹروں کی اصطلاح زیادہ مقبول ہے جو گاہکوں کو معلومات، آواز پر مبنی خدمات کے ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ بی بی او صنعت کا تقریبا% 70 محاصل کال سینٹروں سے وصول ہوتا ہے،% 20 ہائی، والیوم اور لو والیوم کے ڈاٹا کاموں سے اور بقیہ% 10اعلیٰ، قیمت کے معلوماتی کام سے حاصل ہوتا ہے۔ کال سینٹروں کی سرگرمیوں کا زیادہ تر حصہ گاہکوں کی نگہداشت ہے جس میں معلومات اور اطلاعات کے دو طرفہ ٹریفک کو 24 گھنٹے ساتوں دن سنبھالا جاتا ہے اس ٹریفک کا بہاؤ اندر کی جانب بھی ہوتا ہے (جیسے گاہکوں کی پوچھ تاچھ اور تکالیف وشکایات) اور باہر کی جانب بھی (جیسے گاہکوں کے سروے، کی گئی ادائیگی کی دریافت اور ٹیلی مارکٹنگ)۔ شکل 5.5 آؤٹ سورسنگ کے مختلف طریقوں کی وضاحت کرتی ہے۔

5.8.2   آؤٹ سورسنگ کی ضرورت

کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ آؤٹ سورسنگ کے لیے بھی یہی بات سچ ہے جیسا کہ سبق کے تعارف میں بیان کیا گیا کہ عالمی مقابلہ نے تین باتوں پر زور ڈالا ہے۔کم لاگتوں پر اعلیٰ معیار کی اشیاء خدمات،گاہکوں کی لگاتار مانگ اور ابھرتی ہوئی نئی تکنیکیں۔ انھیں باتوں کی وجہ سے کاروباری افعال پر از سرنو غورو فکر کی ضرورت پیدا ہوئی ہے۔ یہی تین ایسے عوامل ہیں جو آؤٹ سورسنگ کو کاربار کے ایک طریقے کی حیثیت سے مسلسل ابھرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ درحقیقت آؤٹ سورسنگ کو آج بحالت مجبوری بروئے کار نہیں لایا جاتا بلکہ ایسا اپنی مرضی سے بھی کیا جاتا ہے۔ آؤٹ سورسنگ کی چند اہم وجوہات / فوائد مندرجہ ذیل ہیں۔
9

شکل  5.4    آؤٹ سورسنگ سروس پروائیڈوں(خدمت فراہم کرنے والوں) کی قسم

(i)  توجہ کی مرکوزیت:  ہوسکتا ہے آپ اپنی تعلیمی اور زائد از نصاب سرگرمیوں میں سے بہت سی چیزوں کو اچھے طور پر کر رہے ہوں لیکن پھر بھی آپ اپنے وقت اور پیسے کو صرف چند چیزوں تک محدود کرکے زیادہ مؤثر طور پر انھیں انجام دے سکتے ہیں۔ اسی طرح کاروباری فرموں کو ان چند میدانوں پر اپنی توجہ کو مرکوز کرنے کے فوائد کا احساس ہو رہا ہے جن میں وہ امتیازی صلاحیت یا بنیادی قابلیت رکھتی ہیں اور بقیہ سرگرمیاں وہ اپنے آؤٹ سورسنگ کے شرکاء کو معاہدے پر انجام دینے کے لیے سونپ دیتی ہیں۔ آپ واقف ہیں کہ افادیت یا قیمت پیدا کرنے کے لیے ایک کاروبار متعدد کاموں میں مشغول ہوتا ہے جیسے خریداری اور پیداوار، مارکٹنگ اور فروخت کاری، تحقیق وترقی، اکاؤنٹنگ اور مالیات، انسانی وسائل اور انتظام وغیرہ۔ فرموں کو اپنی ایک شناخت بنانی پڑتی ہے مثلاً انھیں غور کرنا پڑتا ہے کہ وہ کیا کہلایا جانا پسند کریں گی۔ ایک صنعت کاری تنظیم یا ایک مارکٹنگ تنظیم اس لیے انھیں اپنے کاربار کے دائرۂ عمل کو محدود کرکے چند منتخب سرگرمیوں پر اپنی توجہ اور وسائل مرکوز کرنے پڑتے ہیں تاکہ وہ مؤثر طریقہ پر بہتر کارگزاری دکھاسکیں۔
10

شکل  5.5    بیرونی ممالک سے انسانی ذارئع کی تحصیل کی ترکیب اعضاء  (Outsourcing)

(ii)  عمدگی کی تلاش:  آپ محنت کی تقسیم اور مہارت کے فوائد سے واقف ہیں۔ بیرونی ذرائع سے افرادی قوت حاصل کرنے سے کاروباری فرمیں ، عمدگی کی جستجو دوطریقوں سے کرسکتی ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ بذات خود ان کاموں میں بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کرتی ہیں جو وہ بہترین طور پر محدود ارتکاز کی وجہ سے انجام دے سکتی ہیں۔ اور اپنی اہلیتوں کو باقی ماندہ سرگرمیوں کے سرانجام دینے کے لیے باہر کے ایسے لوگوں کو بلاکر اپنی اعلی ترین صلاحیتوں کی توسیع کرتی ہیں اُن سرگرمیوں کو بہترین طور پر کرسکتے ہیں۔ عمدگی کی تلاش کے لیے نہ صرف یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کن چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہیں گے بلکہ یہ جاننابھی ضروری ہے کہ آپ دوسروں سے اپنے لیے کیا کچھ کروانا چاہیں گے۔
(iii)  لاگت میں کمی:  عالمی مسابقت کے لیے نہ صرف عالمی معیار ہونا ضروری ہے بلکہ عالمی طور پر مقابلہ کرنے والی قیمت کا ہونا بھی ضرورت ہے کیونکہ مسابقتی دباؤ کے باعث قیمتوں میں گراوٹ ہورہی ہے۔ اس لیے زندگی گزارنے اور منافع حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اوروہ ہے لاگت میں کمی۔ محنت کی تقسیم اور مہارت معیار کو بہتر بنانے کے علاوہ لاگت میں بھی کمی کرتے ہیں یہ صورت بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کے فوائد کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے جو کہ آؤٹ سورسنگ شرکاء کی بدولت کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ وہ بڑی تعداد میں تنظیموں کو ایک جیسی خدمات فراہم کرتے ہیں۔مختلف ملکوں میں پیدواری عناصرکی قیمتوں میں فرق بھی لاگتوں میں کمی کے لیے ذمہ دار ہے مثلاً ہندوستان کو تحقیق وترقی، صنعت کاری، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی عالمی آؤٹ سورسنگ کے لیے ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ یہاں بڑے پیمانے پر عملہ کم لاگتوں پر دستیاب ہے۔
(iv) اتحاد کے ذریعہ فروغ:  جس حد تک آپ دوسروں کی خدمات حاصل کریں گے اس حد تک آپ کو کم سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ دوسرے لوگ آپ کی سرگرمیوں میں آپ کے لیے سرمایہ کاری کریں گے۔ یہاںتک کہ اگر آپ اپنے آؤٹ سورسنگ شریکوں کے کاروبار میں بھی حصہ لینا چاہیں گے تو نہ صرف آپ کو ان کے ذریعہ فراہم کی گئی خدمات کی بہتر کوالٹی اور کم لاگت سے منافع حاصل ہوں گے بلکہ آپ ان کے تمام تر کاروبار کے منافع میں بھی حصہ دار ہوں گے۔ اس لیے آپ تیزی سے فروغ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ آپ کی ایک ہی سرمایہ کاری رقم کے نتیجہ میں آپ بڑی تعداد میں کاروبار تشکیل پاسکتے ہیں۔ مالی منافع کے علاوہ آؤٹ سورسنگ تنظیموں کو ایک دوسرے کے ساتھ اپنے علوم کو بانٹے اور مل جل کر نئی باتوں کو دیکھنے میں بھی مدد دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل فرمیں نہ صرف اپنے روزمرہ اور غیربنیادی کاموں کی آؤٹ سورسنگ کر رہی ہیں بلکہ یہ تحقیق وترقی جیسے بنیادی کاموں کی آؤٹ سورسنگ سے بھی مستفید ہورہی ہیں۔
(v) معاشی ترقی کی محرک:  غیر ممالک کے لیے آؤٹ سورسنگ میزبان ملک میں تجارت، روزگار اور برآمدات کو بڑھاوا دیتی ہے۔میزبان ملک سے مراد وہ ملک ہے جہاں آؤٹ سورسنگ کا عمل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں آج صرف آئی ٹی سیکٹر میں ہی تجارت، روزگار اور برآمدات کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا ہے ہم سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور آئی ٹی کے قابل بنانے والی خدمات کی عالمی آؤٹ سورسنگ کے میدان میں غیر متنازعہ رہنما ہوگئے ہیں حال ہی میں ہم نے انفومیٹکس سیکٹر میں 150 بلین ڈالر (۱بلین= 100 کروڑ) کی کل عالمی آؤٹ سورسنگ کا% 60حاصل کرلیا ہے۔

5.8.3   آؤٹ سورسنگ سے متعلق تشویشات

آؤٹ سورسنگ کو جن تشویشات کا سامنا ہے ان سے واقفیت بھی بے محل نہ ہوگی۔
(i)  رازداری:   آؤٹ سورسنگ بہت ساری اہم معلومات اور واقفیت کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے پر منحصر ہے۔ اگر آؤٹ سورسنگ شریک رازداری کو قائم نہیں رکھتا ہے۔ مثلاً وہ اسے کسی حریف کو سونپ دیتا ہے تو اس سے اس فریق کے مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس نے اپنے طریق کار کو آؤٹ سورس کرایا ہے۔ اگر تمام کام یا تمام اشیاء کی ہی آؤٹ سورسنگ کی گئی ہے تو ایسی صورت میں مزید خطرہ ہے کیونکہ آؤٹ سورسنگ شریک ایک مسابقتی کاروبار قائم کرسکتا ہے۔
(ii)  کڑی محنت-شاپنگ:  فرمیں اپنی لاگتوں میں کمی لانے کے لیے میزبان ملک کے کم لاگتی کارکنان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ عام طور پر صنعت کاری یا آئی ٹی سیکٹر میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے ہی پرزوں یا کاموں کی آؤٹ سورسنگ کرائی جاتی ہے جو آؤٹ سورسنگ شریک کی قابلیت اور صلاحیت میں ایک طے کردہ حد سے زیادہ اضافہ نہیں کرتی۔ اسی لیے جو فرم بھی آؤٹ سورسنگ کرانا چاہتی ہے وہ میزبان ملک میں صرف محنت کی صلاحیت تلاش کرتی ہے نہ کہ ذہنی صلاحیتوں کی ترقی کے لئے کوشش کرتی ہے۔
(iii)  اخلاقی تشویشات:   ایک جوتا بنانے والی کمپنی کا تصور کیجیے جو لاگت میں کمی کے مقصد سے اپنی صنعت کاری کو ترقی پذیر ممالک سے آؤٹ سورس کرتی ہے جہاں وہ بچوں یا عورتوں کو بطور مزدور کارخانوں میں استعمال کرتی ہے جبکہ اپنے ملک میں کمپنی ایسا نہیں کرسکتی کیونکہ وہاں بچوں کو بطور مزدور استعمال کرنے کی ممانعت سے متعلق سخت قوانین ہیں۔ کیا لاگت میں کمی لانے کی وجہ سے بچوں کو ایسے ممالک میں بطور مزدور استعمال کرنا جہاں یہ غیر قانونی نہیں ہے یا جہاں قانون کمزور ہیں، ایک اخلاقی طرز عمل ہے؟ اس طرح کیا ایسے ممالک سے کام کو آؤٹ سورس کرنا اخلاقی ہے جہاں کارکنوں کی جنس کی بنیاد پر اجرتوں میں فرق پایا جاتا ہے۔
(iv)  وطن میں آزردگی:  صنعت کاری، مارکٹنگ، تحقیق وترقی اور آئی ٹی پر مبنی خدمات کو بیرونی معاہدے پر دینے کے عمل میں دراصل روزگار، اور آسامیوںکو بیرونی معاہدے پر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے گھریلو ملک میں آزردگی یا ناراضگی پیدا ہوتی ہے۔ گھریلو ملک سے مراد وہ ملک جس نے اپنے کاموں کو دوسرے ممالک سے آؤٹ سورس کرایا ہے گھریلو ملک میں آزردگی اس صورت میں اور زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ ملک اپنے نوجوانوں کے روزگاری کے مسئلہ سے پریشان ہو۔
عالمی آؤٹ سورسنگ مسلسل فروغ پارہی ہے ایسی صورت میں مندرجہ بالا تشویشات بہرحال بے معنی نظر آتی ہیں، ہندوستان عالمی آؤٹ سورسنگ کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اس کی صنعت کے تیز شرح سے فروغ پانے کی پیش گوئی کی گئی ہے اس کے 1998 میں 23000  لوگوں اور 10 ملین ڈالر سالانہ سے بڑھ کر 2008 تک ایک ملین سے زائد لوگ اور 20 ملین ڈالر سے زائد محاصلات پر پہنچ جانے کی امید ہے۔
 

اہم اصطلاحات
ای-کاروبار................. ای-کامرس............................. بروسر

وائرس  ------------------- سیکیور ساکٹس لیئر (ایس ایس ایل)---------------- آن لائن تجارت

ای-تجارت-------------------- ای-پروکیورمینٹ-------------------------- ای-بڈنگ/ ای بولی

ای-کیش/ ای-نقد          بی۔پی۔او(بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ) ------------------------ کال سینٹرس

عمودی                       افقی                                    چھوٹی بی پی او اکائیاں
سخت محنت -شاپنگ        

خلاصہ

کاروباری دنیاتبدیل ہورہی ہے۔ ای- کاروبار اور آؤٹ سورسنگ اس تبدیلی کے دو اہم مظہر ہیں۔ اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے دباؤ اس تبدیلی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ اندرونی طور پر کاروباری فرموں نے بہتر کارگزاری اور برتری حاصل کرنے کے لیے ای کاروبار اور آؤٹ سورسنگ کو اپنایا ہے۔ بیرونی طور پراس تبدیلی کی وجہ تیزی سے بڑھتا ہوا مقابلہ اور گاہکوں کی مانگیں ہیں۔
کاروبار کو الیکٹرانک طریقہ سے کرنا یا جسے ای کاروبار کہا جاتا ہے اس کے ذریعے کرنا فرم کو اس کے گاہکوں کے لیے کسی بھی جگہ کسی بھی وقت کسی بھی چیز کے لیے پیش کرنا ہے، یہ صورتحال کامیابی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرسکتی ہے، کیونکہ اس کی بدولت فرم کی کارگزاری پر زمان ومکان کی حدود ختم ہوجاتی ہیں۔ حالانکہ ای کاروبار اعلیٰ تکنیکی کاروبارہے، لیکن اس میں شخصی تعلق کی کمی کی خامی پائی جاتی ہے نتیجتاً گاہکوں کی باہمی ذاتی تعلقات کی بنیاد پر تواضع نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر کاروباری لین دین کرنے والوں کی پرائیویسی اور ای سودوں کی سلامتی وحفاظت بھی تشویش کاباعث ہیں۔ ای کامرس کے فوائد بھی ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں اور مختلف ممالک کے درمیان غیر مساوی نظر آتے ہیں۔
ڈیجیٹل بن جانے کے علاوہ فرموں کی ’’سارے کام خود کیے جائیں‘‘، والی ذہنیت میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ اب وہ بڑے پیمانے پر صنعت کاری، تحقیق وترقی، دیگر کاروباری کاموں چاہے وہ آئی ٹی کے قابل بنانے والے ہوں یا نہیں بیرونی معاہدوں پر انجام دینے کے لیے دے رہی ہیں۔ ہندوستان نے عالمی آؤٹ سورسنگ کے کاروبار میں خاصی ترقی کی ہے اور روزگار کے مواقع کی فر ا ہمی، صلاحیتوں کی تعمیر جی ڈی پی اور برآمدات میں اضافہ کے حوالے سے کافی فائدہ حاصل کیا ہے۔
ای کاروبار اور آؤٹ سورسنگ کے رجحانات مل جل کر موجودہ اور آنے والے کاروباری طرزِعمل کی تشکیل نو کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ای کاروبار اور آؤٹ سورسنگ مسلسل نشو و نما پارہے ہیں اور اسی لیے ان کو کاروبار کے ابھرتے طریقے کہا جاتا ہے۔

مشقیں

مختصر جوابی سوالات (50 الفاظ)

.1 ای-کاروبار اور روایتی کاروبار کے درمیان کوئی سے تین فرق بیان کیجیے۔
.2 آؤٹ سورسنگ کاروبار کے ایک نئے طریقے کو کیسے پیش کرتا ہے؟
.3 ای کاروبار کے کسی دو استعمال کی مختصراً تشریح کیجیے۔
.4 آؤٹ سورسنگ میں اخلاقی تشویشات کیا ہیں؟
.5 ای کاروبار میں اعداد وشمار کو جمع رکھنا اور ترسیل کے خطرات کی وضاحت کیجیے۔

 طویل جوابی سوالات 

.1  ای کاروبار اور آؤٹ سورسنگ کو کاروبار کے ابھرتے طریقے کیوں کہا جاتا ہے؟ ان رجحانات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے اسباب وعناصر کی وضاحت کیجیے۔
.2 آن لائن تجارت میں شامل اقدامات کی تشریح کیجیے۔
.3 آؤٹ سورسنگ کی ضرورت کی جانچ کیجئے اور اس کی حدود/ خامیوں پر بحث کیجیے۔
.4 بی  2 سی کامرس کے پہلوؤں کی تشریح کیجیے۔
     .5  الیکٹرانک طریقے سے کاروبار کرنے کی خامیوں؍حدود کی وضاحت کیجیے کیا یہ خامیاں اتنی زیادہ سنگین ہیں کہ اس کے دائرہ کار کو محدود کردیتی ہیں؟ اپنے جواب میں دلائل دیجیے۔

پرو جیکٹس ؍ سرگرمیاں

    .1   انٹرنیٹ اور خوردہ دکانوں میں دستیاب اشیا اور ان کی قیمتوں کے درمیان موازنہ کیجیے۔ کیا ان کا معیار، صارفین کی تسکین اور دیگر عوامل یکساں ہوتے ہیں؟
.2  کسی کاروباری اکائی؍ کمپنی کا مطالعہ کیجیے جو کہ اپنے کاروبار میں ای کامرس، ا ی–کاروبارکا استعمال کررہی ہے۔ وہاں کام کررہے چند لوگوں کا انٹرویو کیجیے اور حقیقی کاروبار میں اس کی لاگت سے متعلق فوائد بھی معلوم کیجیے۔