سماجی ذمہ داری کے لیے کیا جانے والا درست کام کیا ہے؟ کیا کاروباری ادارے کو مالکان کے فائدے کے لیے چلایا جانا چاہیے جو کہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہیں یا پھر اس کو سماج کے دیگر طبقات جیسے گاہکوں، ملازموں، سپلائروں، بستی کے لوگوںاور حکومت کے مفاد کو پورا کرنے کے لیے ذمہ داری نبھانی چاہیے؟ سماجی ذمہ داری کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک اخلاقی مسئلہ ہے۔ کیونکہ اس میں فرم کی ذمہ داریوں سے متعلق اخلاقی طورپر غلط اور صحیح کا سوال شامل ہوتا ہے۔ سماجی ذمہ داری میں تاجر کی جانب سے رضاکارانہ عمل کا جز بھی ہوتا ہے کہ جو کہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے یا نہ کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ سماج کے مختلف طبقات کی خدمت انھیں کس حد تک کرنی ہے اس کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی وہ اپنی آزادی کا استعمال کرسکتے ہیں۔ کاروبار کو سماجی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں یا نہیں اس پر لمبے عرصہ سے بحث ومباحثہ ہورہا ہے۔ چند لوگوں کا پکا یقین ہے کہ فرم کی سماجی ذمہ داری صرف اس کے مالکان کے تئیں ہے جبکہ چند دیگر لوگوں کا نظریہ اس کے برعکس ہے وہ یہ جواز پیش کرتے ہیں۔ کہ فرم کی سماجی ذمہ داری معاشرہ کے ان تمام طبقات کے تئیں ہے جو کہ اس کے فیصلوں اور کاموں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے کاروبار کی سماجی ذمہ داریوں کے تصور کی موافقت اور مخالفت میں دیئے گئے دلائل کو سمجھنا ضروری ہوگا۔
(i) بقا اور ترقی کے لیے جواز: کاروبار کے قیام کا مقصد اشیا اور خدمات کی فراہمی کے ذریعہ انسانی ضروریات کو مطمئن کرنا ہے جبکہ منافع کا مقصد کاروباری ادارے کے کاموں کے لئے ایک اہم وجہ جواز ہے لیکن پھر بھی اس کو لوگوں کو پیش کی جانے والی خدمت کے بدلے میں ملنے والا فائدہ ہی ماننا چاہیے۔ درحقیقت کاروبار کی خوشحالی اور ترقی معاشرہ کی مسلسل خدمت سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ اس طرح کاروبار کی سماجی ذمہ داری کا مفروضہ اس کی بقا اور ترقی کے لئے جواز پیش کرتا ہے۔
(ii) فرم کا طویل مدتی مفاد: ایک فرم اور اس کی شبیہ لمبے عرصہ میں اس صورت میں زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرسکتی ہے جبکہ یہ اپنے اعلیٰ ترین مقصد کو پورا کرلے، یہ اعلیٰ ترین مقصد ہے ’’معاشرہ کی خدمت‘‘۔ جب بڑی تعداد میں سماج کے ممبر (جن میں کارکنان، صارفین، حصہ داران، سرکاری افسران وغیرہ شامل ہیں) یہ محسوس کرتے ہیں کہ ادارہ ان کے بہترین مفاد کو پورا نہیں کر رہا ہے تو پھر وہ اس ادارے کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ اس لیے یہ فرم کے خود اپنے مفاد میں ہے کہ وہ سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ جب کوئی فرم سماجی مقاصد کو پورا کرتی ہے تو اس کی عوامی شبیہ بھی بہترہوتی ہے۔
(iii) حکومت کے ضوابط سے احترازیاان سے بچنا: تاجر کے نقطۂ نظر سے حکومت کے ضوابط نا پسندیدہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ آزادی پر پابندی لگاتے ہیں۔ اس لیے یہ مانا جاتا ہے کہ تاجر رضاکارانہ طور پر سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرکے حکومت کے ضوابط سے بچ سکتا ہے اور اس سے نئے قوانین کی تشکیل کی ضرورت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔
(iv) معاشرہ کی دیکھ ریکھ: یہاں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ تمام ممکنہ حالات کے لیے قانون نہیں بنائے جاسکتے۔ جن لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کاروبار سے اپنے واجبات حاصل نہیں کرپا رہے ہیں تو پھر ایسے لوگ غیر سماجی حرکات میں ملوث ہوجاتے ہیں جس سے کاروبار کا خود اپنا نقصان بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اچھا ہے کہ کاروباری ادارے اپنی سماجی ذمہ داریاں نبھائیں۔
(v) کاروبار کے پاس وسائل کی دستیابی: اس دلیل کے مطابق کہ کاروباری اداروں کے پاس قیمتی مالی اور انسانی وسائل ہوتے ہیں جن کا استعمال مسائل کو مؤثر طور پر حل کرنے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً کاروبار کے پاس بہت زیادہ انتظامی صلاحیت، مالیاتی وسائل اور کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنے کا برسوں کا تجربہ ہوتاہے۔ اس سے سماج کو اپنے مسائل کوبہتر طور پر حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیوں کہ اس کے یعنی کاروبار کے پاس بہت بڑی مقدار میں مالی اور انسانی وسائل موجود ہوتے ہیں۔
(vi) مسائل کو مواقع میں تبدیل کرنا: یہ دلیل گزشتہ دلیل سے تعلق رکھتی ہے اس میں کہا جاتا ہے کہ کاروبار کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے پرخطر صورتحال کو منافع بخش سودوں میں تبدیل کیا ہے اس لیے یہ نہ صرف سماجی مسائل کو حل کرسکتا ہے بلکہ چیلنج کو قبول کرکے انھیں مؤثر طور پر مفید بناسکتا ہے۔
(vii) کاروبار کرنے کے لیے بہتر ماحول: کاروبار کو ایک مختلف النوع اور پیچیدہ مسائل سے بھرے ہوئے سماج میں کام کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے کامیابی حاصل کرنے کا بہت تھوڑا موقع ہوتا ہے۔ اس لیے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کاروباری نظام کو کچھ کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ اس کا سابقہ اسی صورتحال سے پڑ ے کہ جب بہت سی سماجی بیماریوں کے باعث اس کی اپنی بقا خطرے میں پڑجائے۔ ایک ایسا سماج جس میں چند ہی مسائل ہوتے ہیں، فرم کو اپنا کاروبار کرنے کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے۔
(viii) سماجی مسائل کے لیے کاروبار کو ذمہ دار ٹھہرانا: یہ دلیل دی جاتی ہے کہ کچھ سماجی مسائل یا تو کاروباری اداروں نے خود پیدا کیے ہیں یا انھیں بڑھایا ہے۔ماحول کی آلودگی،کام کرنے کی غیرمحفوظ جگہیں،سرکاری اداروںمیں بدعنوانی اور روزگار میں امتیازی سلوک ان مسائل کی چند مثالیں ہیں۔ اس لیے یہ کاروبار کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے میں حصہ لے نہ کہ محض دیگر سماجی ایجنسیوں سے اس بات کی توقع کرے کہ وہ ان مسائل کو خود ہی حل کرلیں گی۔
6.3.2 سماجی ذمہ داری کی مخالفت میں دلائل
سماجی ذمہ داری کی مخالفت میں دئیے جانے والے اہم دلائل حسب ذیل ہیں:
(i) زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے مقصد کی خلاف ورزی: اس دلیل کے مطابق کاروبار کا وجود صرف اس لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جائے ۔لہٰذا سماجی ذمہ داری کی کوئی بات کرنا اس مقصد کے خلاف ہے ۔درحقیقت کاروبار کارگزاری میں اضافہ اور لاگتوں میں کمی کرکے زیادہ سے زیادہ منافع کماکر اپنی سماجی ذمہ داری کو بہترین طریقہ سے پورا کرسکتا ہے۔
(ii) صارفین پر بوجھ: یہ دلیل دی جاتی ہے کہ آلودگی پر کنٹرول اور ماحولیاتی تحفظ جیسی سماجی ذمہ داریاں بہت مہنگی ہوتی ہیں اور ان کے لیے اکثر بہت زیادہ مالی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے ایسے حالات میں اس بات کا امکان ہے کہ کاروباری لوگ سماجی ذمہ داری کے اس بوجھ کو صارفین پر ان سے زیادہ قیمتیں وصول کرکے منتقل کردیں بجائے اس کے کہ وہ اسے خود برداشت کریں، اس لیے سماجی ذمہ داری کے نام پر صارفین سے ٹیکس وصول کرنا غیر مناسب ہے۔
(iii) سماجی ہنرمندی کی کمی: تمام سماجی مسائل کو کاروباری مسائل کی طرح حل نہیں کیا جاسکتا۔ درحقیقت کاروباری لوگوں کو بھی سماجی مسائل حل کرنے کی ضروری سمجھ اور تربیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے اس دلیل کے مطابق سماجی مسائل کو دوسری ماہر ایجنسیوں کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔
(iv) عوامی حمایت کی کمی: یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ عام طور سے عوام سماجی پروگراموں میں کاروبار کی شمولیت یا مداخلت پسند نہیں کرتے ہیں۔ اس لیے کاروبار عوام کے اعتماد اور تعاون کی کمی کے باعث سماجی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
6.3.3 سماجی ذمہ داری کی حقیقت
سماجی ذمہ داری کی موافقت اور مخالفت میں دیے گئے مندرجہ بالا دلائل کی بنیاد پر کوئی بھی تعجب میں پڑسکتا ہے کہ کاروباری لوگ آخر کرتے کیا ہیں۔ کیا ان کی توجہ کا مرکز زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے؟ یا وہ سماجی مقاصد کی حمایت کرتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کاروباری لوگوں کے رویہ میں آنے والی ایک اہم حالیہ تبدیلی سے ان پر اس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ اب انھیں اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے منافع کمانے کے ساتھ سماجی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا ہوگا۔ بے شک اس احساس یا انکشاف کاایک جزو حقیقی نہیں ہے اور یہ صرف زبانی ہے جو کہ نجی ادارے کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نجی کاروبار بھی جزوی طور پر اس سچائی کو پہچانتے اور محسوس کرتے ہیں کہ نجی فرم کو بھی جمہوری سماج کے مطالبات کو پورا کرنا پڑتا ہے، جہاں تمام لوگوں کو چند انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ کاروبار سے ایک ذمہ دارانہ طرزِعمل کی مانگ کرسکتے ہیں۔ جب تک کاروبار اپنے گھر کو ٹھیک نہیں کرتا، اپنی شکل وصورت میں تبدیلی نہیں کرتا اور سماجی عضو ہونے کے اپنے کردار کو نبھانے کی تیاری نہیں کرتا اس وقت تک اس کے لیے کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے۔ یہاں پر ان قوتوں اور عوامل کا سمجھنا ضروری ہوگا جو کہ کاروباری لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کی ترغیب دیتے ہیں اور ان پر ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ ان میں سے چند اہم مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) عوامی ضابطہ کا اندیشہ: آج کی جمہوری طور پر منتخب حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فلاحی ریاستوں کی مانند کام کریں گی جہاں انھیں سماج کے تمام طبقات کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔ اس طرح جہاں کاروباری ادارے سماجی طورپر غیر ذمہ دارانہ طریقے سے کام کرتے ہیں وہاں لوگوں کے مفاد کے تحفظ کی خاطر انھیں باضابطہ کرنے کے لیے اقدام کیے جاتے ہیں۔ یہ عوامی ضابطہ کا اندیشہ ایک اہم وجہ ہے جس کے باعث کاروباری ادارے سماجی ذمہ داری کو پورا کرنے پر خاص توجہ دیتے ہیں۔
(ii) مزدور تحریک کا دباؤ: گذشتہ صدی سے مزدور زیادہ تعلیم یافتہ اور منظم ہو گئے ہیں اس لیے مزدور تحریک کام کرنے والے طبقہ کے لیے فوائد حاصل کرنے کی خاطر تمام دنیا میں بہت طاقتور ہوگئی ہے۔ اس سے کاروباری اداروں پر کارکنان کی فلاح وبہبود پر توجہ دینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اب وہ ’رکھو اور نکالو‘ (Hire and fire) کی پالیسی پر عمل نہیں کرسکتے جس کے تحت وہ مزدوروں کے ساتھ اپنی مرضی سے پیش آتے تھے۔
(iii) صارفین کی بیداری کا اثر: تعلیمی ترقی، ماس میڈیا، اور بازار میں بڑھتے ہوئے مقابلے نے صارفین کو بیدار کردیا ہے۔ اب وہ بازاری قوتوں کو متعین کرنے میں اپنے حق اور اختیار سے بخوبی واقف ہوگئے ہیں۔ اب ’’خریدار ہوشیار رہیں‘‘کا اصول ’’صارفین بادشاہ ہیں‘‘ کے اصول میں تبدیل ہوچکا ہے۔ کاروباری اداروں نے اب صارفین پر مرکوز پالیسیوں کو اپنانا شروع کردیا ہے۔
(iv) کاروباری لوگوں کے لیے سماجی معیار کا قیام: کاروباروں کو اب محض پیسے کا دیوانہ نہیں سمجھا جاتا جنھیں کسی بھی طرح کا کاروباری عمل کرکے ہر قیمت پر پیسہ حاصل کرنے کی اجازت ہو اور وہ اپنی مرضی سے کاروبار چلائیں۔ نئے سماجی معیارات کاروباری ادارے کی معاشی سرگرمی کو اس صورت میں جائز ٹھہراتے ہیں جب کہ وہ سماجی ضروریات کو بھی پورا کریں کوئی بھی کاروبار سماج سے علیحدگی اختیار کرکے نہیں کیا جاسکتا۔ سماج ہی کاروبار کو بقا اور نشو ونما کی اجازت دیتا ہے اور سماجی معیار کی بنیاد پر کاروباری کاموں کو جانچا جاتا ہے۔
(v) کاروباری تعلیم کی ترقی: اپنے بھرپور سماجی مضامین کے ساتھ کاروباری تعلیم کی ترقی نے لوگوں کو کاروبار کے سماجی مقصد سے واقف کرایا ہے ۔صارفین، سرمایہ کار، ملازمین یا مالکان تعلیم یافتہ لوگ ہونے کی وجہ سے اب سماجی معاملات کے تئیں زیادہ حساس ہوگئے ہیں۔ یہ صورت گذشتہ دور سے مختلف ہے جبکہ ایسی تعلیم دستیاب نہیں تھی۔
(vi) کا روباری مفاد اور سماجی مفاد کے درمیان تعلق: کاروباری اداروں کو اس حقیقت کا احساس ہونے لگا ہے کہ سماج مفاد اور کاروبار ایک دوسرے کی تردید نہیں کرتے بلکہ وہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ پہلے یہ محسوس کیا جاتا تھا کہ سماج کا استحصال کرکے کاروبار کو وسعت دی جاسکتی ہے لیکن اب عقیدہ یہ ہے کہ کاروبار کا طویل مدتی فائدہ سماج کی بہتر خدمت میں پوشیدہ ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہے کیونکہ کاروبار جیسے مفید ادارے کو ایک جدید مہذب سماج کا لازمی جزو مانا جاتا ہے۔
(vii) پیشہ ور انتظامی طبقہ کی ترقی: یونیورسٹیوں اور مخصوص انتظامی اداروں میں دی جانے والی پیشہ ورانہ انتظامی تعلیم نے پیشہ ور منتظمین کے ایک علاحدہ طبقہ کو جنم دیا ہے جس کا رویّہ گذشتہ منتظمین (جو کہ مالکان کے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے) کے مقابلہ میں سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بالکل مختلف ہے۔ پیشہ ور منتظمین کاروباری ادارے کو کامیابی سے چلانے کے لیے منافع کے مقصد کو اپنانے کی بہ نسبت سماج کے مختلف گروپوں کے مفادات کو پورا کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
ان تمام اور دوسری بہت سی سماجی اور معاشی قوتوں نے مل کر کاروبار کو ایک سماجی معاشی سرگرمی بنادیا ہے۔ کاروبار اب محض ایک پیشہ نہیں رہا ہے۔اب یہ ایک معاشی ادارہ ہوگیا ہے جسے اپنے کم مدتی اور طویل مدتی مفادات اور سماج کی مانگوں کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھنی پڑتی ہے اور اسی وجہ سے کاروبار کی عام اور مخصوص سماجی ذمہ داریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جہاںایک طرف اس حقیقت کی تردید نہیں کی جاسکتی کہ کاروبار ایک معاشی ادارہ ہے اور اسے معاشی کارکردگی کے لحاظ سے اپنے ساتھ انصاف برتنا ضروری ہے وہاں دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ کاروبار سماج کا ایک عضو ہے اور اسی لیے سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرنا بھی اس کے لیے ضروری ہے۔
6.4 سماجی ذمہ داری کی اقسام
موٹے طور پر کاروبار کی سماجی ذمہ داری کوچار زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جومندرجہ ذیل ہیں:
(a) معاشی ذمہ داری: کاروباری ادارہ بنیادی طور پر ایک معاشی وجود ہے اور اس لیے اس کی اولین سماجی ذمہ داری معاشی ہے یعنی سماج کی خواہشات کے مطابق اشیا اور خدمات کی پیداوار کرنا اور انھیں منافع پر فروخت کرنا۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں کاروبار کی تھوڑی بہت مرضی شامل ہوتی ہے۔
(b) قانونی ذمہ داری: ہرکاروبار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملکی قوانین کے تحت کام کرے۔ کیونکہ یہ قوانین سماج کی بھلائی کے لیے ہوتے ہیں اس لیے جو ادارہ قانون کی پابندی کرتا ہے وہ سماجی طور پر ایک ذمہ دار ادارہ بھی ہوتا ہے۔
(c) اخلاقی ذمہ داری: اس میں فرم کے ذریعہ کیا جانے والا برتاؤ شامل ہوتا ہے، جس کی توقع سماج کو فرم سے ہوتی ہے لیکن جس کی تدوین قانون میں نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شے کی تشہیر کرتے وقت لوگوں کے وقار و عزت اور مذہبی جذبات و احساسات کا احترام کرنا۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں کاروبار کی جانب سے ایک رضاکارانہ عمل کا عنصر شامل ہوتا ہے۔
(d) مرضی پر منحصر ذمہ داری: اس سے مراد وہ خالص رضاکارانہ ذمہ داریاں ہیں جو ایک ادارہ پوری طرح کرتا ہے جیسے تعلیمی اداروں کو خیراتی عطیات فراہم کرنا یا سیلاب اور زلزلہ سے متاثر لوگوں کی مدد کرنا۔ یہ کمپنی کے انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سٹےّبازی کے کاموں سے بچ کر صرف صحت مندانہ کاروباری کام کریں جن سے سرمایہ کاری پر بہتر منافع حاصل ہو اور اس طرح لوگوں کی مالیاتی سرمایہ کاری کا تحفظ کریں۔
6.5 مختلف گروپوں کے مفاد کے تئیں سماجی ذمہ داری
ایک بار جب کاروبار کے سماجی مقصد کی شناخت ہوجائے تو یہ جاننا ضروری ہوجاتا ہے کہ کاروبار اور اس کی انتظامیہ کس کے لیے ذمہ دار ہے۔ ایک کاروباری اکائی کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اسے سماجی مقاصد کو کس میدان میں پورا کرنا چاہیے۔ ادارے کی چند مخصوص ذمہ داریاں حسب ذیل ہیں:
(i)
مالکان یا حصہ داران کے تئیں ذمہ داری: ایک کاروباری ادارے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مالکان یا حصہ داروں کے ذریعہ کی گئی مالی سرمایہ کاری پر انھیں مناسب منافع فراہم کرے اور ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ایک کمپنی کے لیے مستقبل میں وسعت کی اسکیموں اور اپنی کارکردگی کے بارے میں حصہ داران کو باقاعدہ اور پوری طرح مطلع کرنا لازمی ہوتا ہے۔
(ii)
کارکنان کے تئیں ذمہ داری: ادارے کی انتظامیہ کارکنان کو ایسے مواقع فراہم کرنے کے لیے ذمہ دار ہوتی ہے جن سے ان کو بامعنی کام ملے۔ اسے کام کرنے کے ٹھیک طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کارکنوں کا تعاون مل سکے۔ ادارے کو کارکنوں کی یونین بنانے کے جمہوری حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ کارکنوں کو منصفانہ معاوضہ اور انتظامیہ کی جانب سے منصفانہ سلوک کی یقین دہانی ہونی چاہیے۔
(iii) صارفین کے تئیں ذمہ داری: صارفین کو صحیح معیار اور مقدار میں اشیا کی سپلائی واجب قیمتوں پر کرنا ادارے کی صارفین کے تئیں ذمہ داری ہے ادارے کو ملاوٹ، غیر معیاری اشیا کی سپلائی، صارفین کو اطمینان بخش خدمت فراہم کرنے کافقدان، بہکانے والے اور غلط اشتہارات جیسے کاموں کے خلاف مناسب احتیاط برتنی چاہیے۔ صارفین کو اشیا، کمپنی اور ان تمام باتوں کے بارے میں معلومات کا حق ہونا چاہیے جو ان کی خریداری کو متاثر کرتی ہیں ۔
(iv)کمیونٹی اور حکومت کے تئیں ذمہ داری: ادارے کو ملک کے قوانین کا احترام کرنا چاہیے اور اس کو ٹیکسوں کی ادائیگی باقاعدگی اور دیانت داری سے کرنی چاہیے۔ اسے ایک اچھے شہری کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے اور سماج کی اقدار کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ اسے قدرتی ماحول کا تحفظ کرنا چاہیے اور ماحول کو آلودہ کرنے والے فاضل مادوں کے اخراج، دھواں اگلتی چمنیوں، بدنما عمارتوں، کام کے گندگی بھرے ماحول سے بچنا چاہئے اسے لوگوں کے مختلف گروپوں کے ساتھ مل کر معاشرہ میں اپنی ایک بہتر شبیہ بنانی چاہیے۔
6.6کاروبار اورماحولیاتی تحفظ
کاروباری منتظمین اور فیصلہ سازوں کے سامنے ماحولیاتی تحفظ ایک اہم مسئلہ ہے ۔ماحول سے مراد انسان کے اطراف میں موجودتمام چیزیں ہیں جن میں قدرتی چیزیں اور انسان کی بنائی ہوئی تمام چیزیں شامل ہیں۔ یہ اطرافی اشیا نوعیت کے اعتبار سے وسائل ہیں جو انسانی زندگی کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ ان وسائل کو قدرتی وسائل بھی کہا جاسکتا ہے جیسے زمین، پانی، ہوا، نباتات وحیوانات اور خام مال یا انسانوں کے ذریعہ بنائے گئے وسائل جیسے ثقافتی ورثہ، سماجی معاشی ادارے اور لوگ۔ یہ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ہمارے ماحول کا معیار خاص طور پر صنعتوں کی وجہ سے تیزی کے ساتھ تباہ ہورہا ہے۔ ہمارے ملک کی مختلف ریاستوں اور اہم شہروں جیسے کانپور، جے پور، دہلی، پانی پت، کولکاتا میں یہ صنعتیں ایک عام منظر ہیں۔ ان کے ذریعہ آلودگی پھیلانے والے مادوں کا اخراج لوگوں کی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں۔ آلودگی- جو کہ ماحول میں مہلک مادوں کا پہنچا ہوناہے یہ صورتحال درحقیقت صنعتی پیداوار کے باعث پیداہوتی ہے کیونکہ توانائی اور خام مال کے استعمال میں فاضل مادوں کا اخراج ناگزیر ہے۔ اس لیے صنعت کاروں کو ان فاضل مادوں کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مناسب تکنیکوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ماحول کے تحفظ میں ہم سب کی بھلائی ہے۔
ماحولیاتی مشکلات
اقوام متحدہ نے آٹھ ایسی مشکلات کی شناخت کی ہے جن سے قدرتی یا طبعی ماحول کونقصان پہنچتا ہے۔
یہ مشکلات درج ذیل ہیں :
(i) اوزون کاکم ہونا (v)میٹھے پانی کی کوالٹی اورمقدار
(ii) عالمی حدت (vi) جنگلات کی کٹائی
(iii) ٹھوس اور مہلک کچرا (vii) زمین کی تنزلی
(iv) آبی آلودگی (viii)حیاتیاتی تنوع کوخطرہ
آلودگی ہماری ہوا، زمین اور پانی کی طبعی، کیمیائی اور حیاتیاتی خصوصیات کو تبدیل کردیتی ہے۔ آلودگی انسانی اور دیگر مخلوقات کی زندگی کے لیے مضر ہے یہ خام مال کے وسائل کو ضائع کرکے ہمارے رہنے کے ماحول اور ثقافتی ورثہ میں گراوٹ پیدا کرتی ہے، آلودگی کے وجود پانے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ماحول محدود مقدار میں ہی آلودہ اور فاضل مادوں کو اپنے اندر جذب کرسکتا ہے۔ چند مہلک فاضل مادوں یا پیدوار کی زہریلی باقیات اور کیمیکلز کو مہلک آلودہ مادے کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں زہریلی خاصیت ہوتی ہے اور ماحول ان کو گلا نہیں سکتا۔اس طرح آلودگی سے ماحولیاتی معیار اور انسانی صحت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے قدرتی اور انسان کے بنائے وسائل بھی تباہ ہوتے ہیں۔ ماحول کے تحفظ کا براہِ راست تعلق آلودگی کے کنٹرول سے ہے۔
6.6.1 آلودگی کی وجوہات
ہمارے معاشرہ کے تمام طبقات فاضل مادوں کو پیدا کرتے ہیں چاہے وہ صنعت ہو حکومت، زراعت، کانکنی، توانائی، ذرائع آمد ورفت، تعمیرات یا صارفین ہوں۔ ان فضلات میں آلودہ مادے شامل ہوتے ہیں جو کہ کھیت یا پیداوار کے عمل کے دوران باقی رہ جانے والے کیمیائی مادے ہوتے ہیں۔ آلودگی ان ہی مادوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جن کو ماحول میں اس کی گلانے کی صلاحیت سے زیادہ مقدار میں خارج کیا جاتا ہے، آلودگی کے مختلف ذرائع ہیں لیکن صنعتی فضلات اپنی مقدار اور زہریلی خاصیت کے لحاظ سے آلودگی پیدا کرنے کا سب سے بڑاذریعہ ہیں۔کاروباری سرگرمیوں، جیسے پیداوارکی تقسیم،ذرائع آمدورفت، اسٹوریج، اشیا کی کھپت اور خدمات کو ماحولیاتی آلودگی کے مسائل کا سب سے اہم ذریعہ مانا جاتا ہے۔ کئی کاروباری ادارے (i) فضا (ii)پانی (iii) زمین اور (iv)شوروغل کی آلودگی پھیلانے کے لیے ذمہ دار ہیں۔
ان اقسام کی آلودگیوں کا تذکرہ ذیل میں کیا گیا ہے:
(i) فضائی آلودگی:جب بہت سے عوامل مل کر ہوا کی کوالٹی کو کم کرتے ہیں تو فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ موٹر گاڑیوں سے نکلنے والی کاربن مونوکسائڈ فضائی آلودگی کا سبب ہوتی ہے۔ فضائی آلودگی نے اوزون کی تہہ میں سوراخ کردیا ہے جس کی وجہ سے زمین کو خطرناک گرمی کا سامنا ہے۔
(ii)
آبی آلودگی: بنیادی طور پر کیمیا ئی اشیا اور کوڑاکرکٹ ڈالنے سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔سالوں سے کاروباری ادارے اور شہر دونوں نتائج سے بے خبر ہوکر کوڑا کرکٹ دریاؤں ، ندیوں اور جھیلوں میں ڈالتے رہے ہیں۔ آبی آلودگی کے باعث کئی جانور مرچکے ہیں اور اس کی وجہ سے انسانی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
(iii)زمینی آلودگی: زمین پر زہریلا کوڑا کرکٹ اور فضلات ڈالنا زمینی آلودگی کی وجہ ہے۔ اس سے زمین کی کوالٹی خراب ہوتی ہے اور پھر یہ زراعت اور باغبانی کے قابل نہیں رہتی۔ زمین کی کوالٹی کو خراب ہونے سے بچانا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
(iv) شوروغل کی آلودگی: کارخانوں اور موٹرگاڑیوں کے چلنے سے پیدا ہونے والا شوروغل نہ صرف طبیعت پر گراں گزرتا ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بھی نہایت مہلک ہے۔ شوروغل کی آلودگی سے کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جیسے قوتِ سماع میں کمی، قلبی اور دماغی بیماریاں۔
6.6.2 آلودگی کو کنٹرول کرنے کی ضرورت
آلودگی کو کنٹرول کرنے کی ضرورت، بیش قیمتی ماحولیاتی وسائل کو محفوظ کرنے اور ماحول کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے ہوتی ہے تاکہ ان محفوظ شدہ وسائل کا استعمال انسانیت کے فائدے اور لوگوں کی صحت اور تندرستی کو بہتر بنانے کے لیے کیا جاسکے۔ کسی وسیلہ (میڈیم) کو (ہوا، پانی، زمین سے) کتنا نقصان ہوتا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آلودگی کس قسم کی ہے۔ خارج کیے گئے آلودہ مادوں کی مقدار کتنی ہے اور آلودگی کا ماخذ کتنے فاصلہ پر ہے لیکن یہ تمام آلودہ مادے ماحول کی کوالٹی میں گراوٹ کا باعث ہیں اور کسی حد تک معمول کی زندگی گزارنے میں دشواری پیدا کرتے ہیں۔ اب لوگ ان آلودگی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے خلاف زورشور سے اپنی آواز بلند کررہے ہیں۔ کاروباری ادارے بھی ماحولیاتی تباہی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کاروباری اداروں کو نہ صرف تنقیدوں سے بچنے کے لیے آلودگی کے کنٹرول کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ان اقدامات سے انھیں دوسرے فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں، آلودگی کوکنٹرول کرنے کی چند اہم وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
(i)
صحت کو لاحق خطرات میں کمی: ہمارے سماج میں کینسر، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں اموات کا بڑا سبب ہیں۔ ان بیماریوں کے پھیلنے اور ماحول کو آلودہ کرنے والے عوامل میں تعلق کے ثبوت میں اضافہ ہورہا ہے۔ آلودگی کے کنٹرول کے اقدام نہ صرف ایسی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکتے ہیں بلکہ یہ زمین پر صحت مندانہ زندگی بسر کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
(ii) ذمہ داری کے خطرہ میں کمی: ادارے کو ایسے لوگوں کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا ممکن ہے جو کہ ماحول میں اس کے ذریعہ رقیق، گیس اور ٹھوس کی شکل میں خارج کیے گئے فاضل مادوں سے متاثر ہوں۔ اس لیے خدشات اور ذمہ داری کو کم کرنے کے خیال سے کارخانوں میں آلودگی کنٹرول کے آلات نصب کرنا ایک اچھے کاروبار کی پالیسی ہونی چاہیے۔
(iii) لاگتوں میں بچت: ایک مؤثر آلودگی کنٹرول پر وگرام کی ضرورت کاروباری کاموں کو انجام دینے کی لاگتوں میں بچت کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔ لاگت میں بچت کرنے کی ضرورت خصوصاً اس وقت ہوتی ہے جب نامناسب پیداواری تکنیک کے نتیجہ میں بہت زیادہ فضلات اکٹھے ہوجاتے ہیں جن کو ٹھکانے لگانے اور پلانٹوں کو صاف کرنے میں بہت زیادہ لاگتیں آتی ہیں۔
(iv) بہتر عوامی شبیہ:کیونکہ اب ماحولیاتی کوالٹی کے تئیں عوامی بیداری میں اضافہ ہورہا ہے اس لیے ایک فرم کی فضلات کوکنٹرول کرنے کی پالیسیاں اورطریقے لوگوں کے رویہ کو اس برابر متاثر کرتے رہیں گے۔ ایک فرم کو جو کہ ماحول کی موافقت میں کام کرتی ہے اچھی شہرت ملے گی اور اسے سماجی طور پر ذمہ دار ادارہ سمجھا جانے لگے گا۔
(v) دیگر سماجی فوائد: آلودگی کو کنٹرول کرنے کے نتیجہ میں کئی دوسرے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جیسے صاف طور پر دکھائی دینا، عمارتوں کا اجلا پن، بہتر معیارِ زندگی اور قدرتی اشیاء کی خالص شکل میں دستیابی۔
6.6.3 ماحولیاتی تحفظ میں کاروبار کا کردار
چونکہ ماحول کی کوالٹی ہم سبھی کے لئے اہم ہے اس لیے خراب ہوجانے سے اس کی حفاظت کرنا ہم سبھی کی مجموعی ذمہ داری ہے۔ چاہے حکومت ہو، کاروباری ادارے، صارفین، کارکنان، یا معاشرہ کے دیگر ممبران ہوں ہر ایک ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لیے کچھ نہ کچھ کرسکتا ہے۔ حکومت آلودگی پھیلانے والی مہلک اشیا کی پیدوارپر پابندی کے قوانین لاگو کرسکتی ہے۔ صارفین، کارکنان اور معاشرہ کے دیگر ممبران ان اشیا کے استعمال کو نظرانداز کرسکتے ہیں اور ایسے کام انجام دے سکتے ہیں جو کہ ماحول کی بھلائی میں ہوں۔
بہرحال کاروباری اداروں کو ماحولیاتی مسائل حل کرنے میں رہنمائی کرنی چاہیے۔ یہ ہر کاروبار کی سماجی ذمہ داری ہے کہ ہر قسم کی آلودگی کو روکنے کے لیے نہ صرف اقدام کرے بلکہ ماحولیاتی وسائل کی حفاظت بھی کرے۔ کاروباری ادارے دولت، روزگار، تجارت اور ٹکنالوجی کے رہنما خالق ہیں۔ وہ وسیع پیمانے پر مالی، طبعی اور انسانی وسائل کے مالک بھی ہیں، ان کے پاس ماحولیاتی آلودگی کو حل کرنے کا مناسب علم بھی ہے وہ جانتے ہیں کہ آلودگی پھیلانے والے مادوں کو ان کے مخرج پر ہی روک کر کس طرح ماحول کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ کئی حالات میں تو پیداوار کے عمل میں تجدید کرکے، آلات کو نئی طرح ڈھال کر، خراب معیار کے خام مال کو بہتر معیار کے خام مال سے تبدیل کرکے یا دوسرے اختراعی طرزِ عمل اپنا کر آلودگی کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے۔ چند خاص اقدام جو کہ کاروباری ادارہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے کرسکتا ہے مندرجہ ذیل ہیں:
(i) ادارے کی اعلیٰ انتظامیہ کا آلودگی کے خاتمہ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کا ماحول بنانے، قائم رکھنے اور ترقی دینے کا پکا عہد کرنا۔
(ii) ماحولیاتی تحفظ کی ذمہ داری میں ادارے کے تمام شعبوں اور ملازمین کی حصہ داری کو یقینی بنانا۔
(iii) آلودگی کو کنٹرول کرنے کے مقصد کے لیے اچھے معیار کے خام مال کی خریداری، بہتر تکنالوجی، فاضل مادوں کے خاتمہ میں سائنسی طریقوں کا استعمال اور ملازمین کی مہارتوں کو بڑھانے والی پالیسیوں اور پروگراموں کوتیارکرنا۔
(iv) آلودگی کے خاتمہ کے لیے حکومت کے ذریعہ نافذ کیے گئے قوانین اور ضابطوں پر باقاعدگی سے عمل کرنا۔
(v) حکومت کے پروگراموں میں حصہ لینا جن کا تعلق خطرناک مادوں سے نمٹنے کے بندوبست ، آلودہ دریاؤں کی صفائی، شجرکاری اور جنگلات کے خاتمے کو روکنے سے ہو۔
(vi) لاگتوں اور فوائد کے لحاظ سے آلودگی کنٹرول کے پروگراموں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہنا تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ان کی رفتار کو بڑھایا جاسکے۔
(vii) تعلیمی ورکشاپ کا انعقاد کرنا اور تربیتی مواد کو سپلائیروں، ڈیلروں اور گاہکوں میں تقسیم کرنا تاکہ تکنیکی معلومات اور تجربات کو ان کے ساتھ بانٹا جاسکے اور ان کو سرگرم طور پر آلودگی کنٹرول پروگراموں میں شامل کیا جاسکے۔
6.7 کاروباری اخلاقیات
سماج کے نقطۂ نظر سے کاروبار کا مقصد لوگوں کو اشیا اور خدمات کی سپلائی کرنا ہے۔ انفرادی نقطۂ نظر سے کاروباری فرم کا اولین مقصد منافع کمانا ہے۔ ہر ایک شخص کاروبار سے یہی توقع کرتا ہے کہ اس کے انفرادی مقاصد اور سماجی مقاصد کے درمیان ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ بہرحال کاروباری ادارے انسانوں کے ذریعہ ہی چلائے جاتے ہیں جن کے فیصلے اور کام ہمیشہ ہی سماج کی توقعات کے مطابق نہیں ہوتے۔ ایک ادارہ معاشی کارکردگی (جیسے محاصل، لاگت اور منافع) کے لحاظ سے اچھا ہوسکتا ہے لیکن سماجی کارکردگی جیسے واجب قیمتوں پر اچھی کوالٹی کی اشیاء کی سپلائی کے لحاظ سے پست بھی ہوسکتا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سماجی نقطۂ نظر سے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ اس سوال کا جواب اہم ہے کیونکہ کاروباری ادارے نہ صرف سماج کی پیداوار ہوتے ہیں بلکہ اس سے متاثر بھی ہوتے ہیں ان کو سماج کی اقدار اور ترجیحات کے مطابق ڈھلنا پڑتا ہے۔ اخلاقیات کے مضمون کے مواد کا تعلق انفرادی بھلائی اور سماجی بہبود کے درمیان رشتہ قائم کرنے سے ہے۔
ہندوستان میں ماحولیاتی تحفظ (حکومت کے اقدامات)
1۔ قوانین: ہندوستان کے آئین میں ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں ماحولیات کے تحفظ پر زوردیاگیا ہے۔ جو قوانین اس سلسلے میں وضع کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
i۔ جنگلاتی تحفظ کا قانون1972
ii۔ پانی(آلودگی سے حفاظت اورآلودگی پرکنٹرول) کا قانون 1974۔اس قانون میں1974اور1968میں ترمیم ہوئی۔
iii۔ ہوا(آلودگی سے بچاؤ اور آلودگی پرکنٹرول) کا قانون 1974، 1974اور 1988میں ترمیم ہوئی۔
iv۔ ماحول(تحفظ)قانون1986
v۔جنگلات(تحفظ)قانون1988،1980میں ترمیم ہوئی۔
vi۔مہلک کچرا1989
2۔ ضوابط وقوانین: حکومت نے پالیسی رہنما اصول بنائے اور انتظامی اقدامات کیے۔حکومت نے 1980میں ماحولیات کا ایک جداگانہ ڈپارٹمنٹ بنایا۔
3۔ کچھ ریکَیولیٹری ادارے یا نیم عدالتی اتھارٹیز بھی سرکار نے قائم کیں جیسے:
• قومی جنگلات کاری (Afforestation) اور ایکوڈویلپمنٹ بورڈ اور
•نیشنل ویسٹ لینڈس ڈویلپمنٹ بورڈ
4۔ بڑے شہروں میں مینوفیکچرنگ اکائیاں بندکردی گئی ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے مینوفیکچرنگ اکائیوں کو دہلی سے باہرمنتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح عدالتوں نے کارخانوں کو آگرہ شہر سے بھی ہٹانے کا حکم دیا ہے اور مینوفیکچرنگ اکائیوں کوکانپورسے منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
5۔ ماحولیات سے متعلق تعلیم پرمختلف پرگراموں اور اس سلسلہ میں بیداری پیداکرنے کے لیے سیمیناروں وغیرہ کے منعقد کرانے کے پروگرام بھی چل رہے ہیں۔
6۔ سرکار نے ماحولیات سے متعلق ایک عملی منصوبہ (EAP) بھی تیار کیا ہے۔
6.7.1 کاروباری اخلاقیات کا تصور
لفظ ’ایتھیکس‘ یونانی لفظ ’ایتھکس‘ سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں معاشرہ میں رائج اخلاقیات یا معیارات، ضوابط یا کردار۔ اخلاقیات کا تعلق انسانی برتاؤ کو معاشرہ کے ذریعہ منظور شدہ معیاری انفرادی برتاؤ کی بنیاد پر صحیح اور غلط ٹھہرائے جانے سے ہے۔ اخلاقیات کو اخلاقی اقدار کا ایسا مکمل مجموعہ خیال کیا جاتا ہے جسے سماج انسانی کاموں کے ساتھ جوڑتا ہے، اخلاقیات سے مراد وسائل کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے مجموعۂ قوانین یا دیگر نظاموں سے بھی ہے تاکہ ان سے انسانوں کی خدمت کی جاسکے۔ اخلاقی معیارات اکثر قوانین میں تشکیل کئے جاتے ہیں۔ لیکن اخلاقی برتاؤ ایک ایسا منصفانہ اور شفاف طرزِعمل ہے جو محض قوانین اور حکومت کے ضابطوں پر چلنے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے اخلاقی اصولوں کا خیال رکھنا، مخصوص اقدار کے ذریعہ رہنمائی حاصل کرنا اور اس طرح برتاؤ کرنا کہ لوگ اس پر عمل کریں۔ تحریری یا غیر تحریری مجموعۂ قوانین/ اصول جو ایک پیشہ ورانہ یا انسانی سرگرمی پر لاگو ہوتے ہیں اخلاقیات کہلاتے ہیں۔
کاروباری اخلاقیات کا تعلق کاروبار کے مقاصد، طرزِعمل، تکنیکوں اور سماجی بھلائی کے بیچ رشتے کے ساتھ ہے۔ کاروباری اخلاقیات سے مراد سماجی طور پر متعین کیے گئے،وہ اخلاقی اصول ہیں جن کو کاروباری سرگرمیوں پر لاگو ہونا چاہیے۔ کاروباری اخلاقیات کی چند مثالیں ہیں: صارفین سے واجبی قیمتیں وصول کرنا۔ اشیاکی پیمائش میں مناسب وزنوں کا استعمال کرنا، کارکنوں کے ساتھ مناسب برتاؤ کرنا، اور واجب منافع کمانا۔ ایک کاروباری شخص اس وقت اخلاقی برتاؤ کرتا ہے جب وہ اپنے کاموں کو صحیح طور پر اور سماج کے مفاد میں انجام دیتا ہے۔ یہ بات بے شک ان لوگوں پر بھی عائدہوتی ہے جو کاروبار میں ہیں لیکن دیگر لوگوں اور کاروباری لوگوں کے درمیان اصل فرق یہ ہے کہ کاروباری اشخاص سماجی وسائل پر زیادہ کنٹرول رکھتے ہیں اور اسی لیے سماج میں ہونے والے واقعات پر ان کا اثر نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ کاروباری اشخاص اور سیاست دانوں سے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ معیاری ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ شاید یہ سماج کی جانب سے فیصلہ سازی کے اختیارات رکھنے کی قیمت ہے جو ان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
اب تمام دنیا میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ ہر کاروبار اور سماج کی ترقی کے لیے اخلاقیات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ اخلاقی کاروبار ایک اچھا کاروبار ہوتا ہے۔اخلاقی کاروباری برتاؤ کاروبار کی عوامی شبیہ کو بہتر بناتا ہے۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے اور عظیم کامیابی کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔لمبے عرصہ میں اخلاقیات اور منافع ساتھ ساتھ آگے بڑھتے رہے ہیں۔ اخلاقیات ہی معاشرہ کو عظیم بناسکتے ہیں نہ کہ حکومت یا قوانین۔ ایک اخلاقی طور پر ذمہ دار ادارہ لوگوں اور ماحول کی نگہداشت کرنے والی ثقافت کو ترقی دیتا ہے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے میں اعلیٰ درجہ کی ایمانداری کو بروئے کار لاتا ہے۔ درحقیقت اخلاقی کام اپنے آپ میں بھی قیمتی ہوتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ہماری زندگی کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کام کے معیار میں بھی جو ہم کرتے ہیں۔
6.7.2 کاروباری اخلاقیات کے عناصر
اخلاقی کاروباری برتاؤ، کاروباری ادارے اور سماج دونوں کی بھلائی میں ہوتا ہے اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ادارہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں اخلاقیات کی کس طرح حوصلہ افزائی کرسکتا ہے۔ ادارے کو چلانے میں کاروباری اخلاقیات کے بنیادی عناصر مندرجہ ذیل ہیں:
(i)
اعلیٰ انتظامیہ کا عہد: اعلیٰ انتظامیہ کا پورے ادارے کی اخلاقی طور پر درست برتاؤ کی جانب رہنمائی کرنے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ نتائج حاصل کرنے کے لیے چیف ایکزیکٹیو آفیسر (سی ای او) اور دیگر اعلیٰ سطحی منتظمین کو اخلاقی برتاؤ پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادارے کی اقدار کو قائم رکھنے اور ترقی دینے کے لیے انھیں مسلسل رہنمائی کرنی چاہیے۔
(ii) ضابطہ (کوڈ) شائع کرنا: مؤثر اخلاقی پروگرام رکھنے والے ادارے پوری تنظیم کے لیے عملی اصول تدوین کرتے ہیں جو تحریری دستاویزات کی شکل میں ہوتے ہیں اور انھیں ’’کوڈ‘‘ یا ’’ضابطہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں عموماً جن باتوں کوشامل کیا جاتا ہے وہ ہیں بنیادی دیانت داری اور قوانین پر عمل،معیاری اور محفوظ اشیا، کام کرنے کی صحت مند اور محفوظ جگہ ،مفاد کے تنازعات، روزگار کے معمولات، مارکٹنگ/ سیلنگ کے کاموں میں ایمانداری اور مالیاتی رپورٹنگ۔
(iii)
تعلیمی میکانزم کا قیام: فرم کے اخلاقی معیاروں پر حقیقی فیصلوں اور کاموں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مناسب میکانزم کو قائم کرنا چاہیے۔ ایسے میکانزموں کی چند مثالیں ہیں: بھرتی کرنے اور کرائے پر رکھنے میں اخلاقی اقدار پر توجہ دینا، تربیت دینے میں کارپوریٹ کی اخلاقیات پر زور، اخلاقیات پر کس درجہ عمل ہو رہا ہے اس کا تجزیہ کرنے کے لیے مسلسل جانچ کرنا، اور ایسا ترسیلی نظام قائم کرنا جس سے غیر اخلاقی برتاؤ کے واقعات کی رپورٹ کرنے میں ملازمین کو مدد ملے۔
(iv)
تمام
سطحوں پر ملازمین کو شامل کرنا: یہ ملازمین ہی ہوتے ہیں جو مختلف سطحوں پر اخلاقیاتی پالیسیوں کو لاگو کرتے ہیں اور کاروباری اخلاقیات کو ایک حقیقی شکل دیتے ہیں۔ اس لیے اخلاقیاتی پروگراموں میں ان کی شمولیت لازمی ہوجاتی ہے۔ مثلاً فرم کی اخلاقیاتی پالیسیوں پر بحث کرنے کے لیے ملازمین کے چھوٹے چھوٹے گروپ تشکیل کیے جاسکتے ہیں اور ان پالیسیوں کے تئیں ملازمین کے رویّہ کی جانچ کی جاسکتی ہے۔
(v) نتائج کی پیمائش: اگرچہ اخلاقیاتی پروگراموں کے نتائج کی ٹھیک ٹھیک پیمائش کرنا مشکل ہے پھر بھی فرم اخلاقیاتی معیاروں کی تعمیل پر نظر رکھ کر جانچ کرسکتی ہے۔ اعلیٰ انتظامیہ کی ٹیم اور دیگر ملازمین کو پھر ان نتائج پر بحث کرنی چاہیے تاکہ آگے لائحہ عمل طے ہوسکے
اخلاقیات کے بنیادی اصول
ان اصولوں کی نوعیت چند آفاقی خوبیوں کی ہے جن کو اپناکر، ترقی دے کر اور بروئے کار لاکر ہر انسان کواپنی زندگی میں اخلاقی انسان بننا چاہیے۔
(a) قابل اعتماد بنو
(b) دوسروں کا احترام کرو
(c) ذمہ دار بنو
(d) معاملات میں ایمانداری برتو
(e) دوسروں کی فلاح کے لیے فکرمند رہو
(f) شہری فرائض اور اچھائیوں پر پورے اتر کر ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دو۔
اہم اصطلاحات
سماجی ذمہ داری آبی آلودگی کاروباری اخلاقیات
ماحول (صوتی )شوروغل کی آلودگی قانونی ذمہ داری
ماحولیاتی تحفظ فضائی آلودگی اخلاقیات
آلودگی زمینی آلودگی اخلاقیات کا کوڈ (ضابطہ)
خلاصہ
سماجی ذمہ داری کا تصور: کاروبار کی سماجی ذمہ داری سے مراد اس کے ان فیصلوں کو لینے اور ان کاموں کو انجام دینے کی ذمہ داری سے ہے جو کہ ہمارے سماج کی اقدار اور مقاصد کے لحاظ سے قابل قبول ہوں۔
سماجی ذمہ داری کی ضرورت: سماج کے مفاد اور کاروبار کے مفاد دونوں کی وجہ سے کاروبار کی سماجی ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے بہرحال سماجی ذمہ داری کی موافقت اور مخالفت دونوں کے لیے دلائل دیئے جاتے ہیں: