Skip to content
Karobarimutuala-001


باب7

کمپنی کی تشکیل

سیکھنے کے مقاصد
اس باب کو پڑھنے کے بعد اتنی استعداد ہوجانی چاہیے کہ آپ
 • کمپنی کی تشکیل میں اہم مراحل کی صراحت کرسکیں؛
کمپنی کی تشکیل کے ہر مرحلے میں شامل اقدامات کو بیان کرسکیں؛
کمپنیوں کے رجسٹرار کے پاس داخل کیے جانے والے دستاویزات کی صراحت کرسکیں؛
 • کمپنی کی تشکیل اور کاروبا شروع کرنے کی سند کے لیے سر  ٹیفکیٹ کی اہمیت کو بیان کرسکیں؛

اوتار جو کہ ایک ذہین آٹو موبائل انجینئر ہے، اس نے حال ہی میں اپنی فیکٹری میں ایک نیا کار بوریٹر تیار کیا ہے جسے وہ ایک تنہا مالک کی حیثیت سے چلا رہا ہے۔ اس نئے کاربوریٹرسے ایک کار کے انجن کی پٹرول کی کھپت 40 فی صد کم ہوسکتی ہے۔ اب وہ یہ سوچ رہاہے کہ اسے بڑے پیمانے پر تیار کرے جس کے لیے اسے کافی رقم کی ضرورت ہے۔ اپنے کاربوریٹر کو بنانے اوراس کی  فروخت کے کاروبار کو انجام دینے کے لیے اسے تنظیموں کی مختلف شکلوں کا جائزہ لینا ہے۔ وہ اپنی تنہا ملکیت کو شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خلاف فیصلہ کرتا ہے۔ کیونکہ اس پروجیکٹ کے لیے فنڈوں (مالی وسائل) کی ضرورت زیادہ ہے اور چونکہ اس کا مال نیا ہے۔ اس لیے اس میں جوکھم بھی کافی ہے۔ اسے ایک کمپنی کی تشکیل کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کمپنی کی تشکیل کے لیے وہ مطلوبہ رسمی قواعد واصول (Formalities) کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔

7.1  تعارف

جدید دور کے کاروبار کے لیے بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑھتی مسابقت اور تیزی سے بدلتے تکنیکی ماحول کے سبب بھی جوکھم کا عنصر بڑھ رہا ہے۔ نتیجتاً، زیادہ سے زیادہ کاروباری فرموں کے ذریعہ تنظیم بالخصوص اوسط درجے کی اور بڑی تنظیم قائم کرنے کے لیے تنظیم کی کمپنی شکل کو ترجیح دی جارہی ہے۔
 کاروبار کا تصور پیدا ہونے کے وقت سے لے کر کاروبار شروع کرنے تک اور قانونی طور پر کمپنی کے تیار ہونے کے وقت تک جو اقدامات مطلوب ہوتے ہیں انھیں کمپنی کی تشکیل میں مراحل کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو یہ اقدامات کرتے ہیں اور جوکھم مول لیتے ہیں اور کمپنی کو فروغ دیتے ہیں انھیں اس کے فروغ کاروں یا بانیوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اس باب میں کمپنی کی تشکیل میں آنے والے مراحل کے بارے میں بعض تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور ہر مرحلے میں کیے جانے والے مطلوبہ اقدامات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے تاکہ ان پہلوؤں کے بارے میں ایک خاطر خواہ تصور پیدا کیا جاسکے۔

7.2 کمپنی کی تشکیل 

جیسا کہ پچھلے باب، تنظیموں کی اشکال میں بتایا گیا ہے کہ کسی کمپنی کی تشکیل ایک پیچیدہ سرگرمی ہے جس میں بہت سارے قانونی قواعد وضوابط اور طریقہ عمل کو پورا کیا جانا شامل ہوتا ہے۔ طریقۂ عمل کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ان قواعد وضوابط کو چار واضح مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جو کہ درج ذیل ہیں:(i) فروغ  (ii)کمپنی کی تشکیل (iii) وصول سرمایہ؛ اور (iv) کاروبار کی شروعات۔
تاہم یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ مراحل پبلک لمیٹڈ کمپنی کی تشکیل کے نقطۂ نگاہ سے موزوں ہیں۔ جہاں تک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا تعلق ہے صرف درج بالا ابتدائی دو مراحل موزوں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک پرائیویٹ کمپنی اپنا کاروبار تشکیل کا سر  ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد اپنا کاروبار فوراً شروع کرسکتی ہے۔ چونکہ اس میں عوام سے فنڈ اکٹھا کرنے کی ممانعت ہے، اس لیے اس میں پراسپیکٹس (Prospectus) جاری کرنے اور کم سے کم وصولی کے رسمی قواعد کو پورا کیے جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جبکہ دوسری طرف پبلک کمپنی سرمایہ وصولی کے مرحلے میں جاتی ہے اور اس کے بعد شروع کرنے کی سند حاصل کرتی ہے۔ اس طرح اس میں بھی چار مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ اب ہم بعض تفصیلات کے ساتھ کمپنی کی تشکیل میں ان چار مراحل کے بارے میں بات کریں گے۔

7.2.1 کمپنی کا فروغ

کمپنی کی تشکیل میں پہلا مرحلہ فروغ ہے۔ اس میں کاروباری مواقع کے بارے میں سوچنا سمجھنا اور کمپنی کی تشکیل کے لیے پیش قدمی کرنا شامل ہے چنانچہ دستیاب کاروباری مواقع بھرپور استعمال کرتے ہوئے اسے عملی شکل دی جاسکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کسی شخص یا افراد کے کسی گروپ یاکمپنی نے مواقع دریافت کر لیے ہوں۔ اگر ایسا کوئی شخص، افراد کا ایک گروپ یا کوئی کمپنی کسی کمپنی کی تشکیل کے لیے کارروائی کرتے ہیں تب ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کمپنی کے فروغ کار یا بانی ہیں۔
 فروغ کار وہ ہے جو کسی متعین پروجیکٹ کے حوالے کے ساتھ کمپنی کی تشکیل کی ذمہ داری لیتا ہے اور اس کی شروعات کو مرتب کرتا ہے اور جو اس مقصد کی تکمیل کے لیے ضروری اقدامات کرتا ہے۔ کاروباری مواقع کے بارے میں سوچنے کے علاوہ فروغ کار اس کی توقعات یا امکانات کا تجزیہ کرتا ہے اور افراد، سامان، مشینری، انتظامی صلاحیتوں اور مالی وسائل کو تنظیم کے اعتبار سے مرتب کرتا ہے ۔

سیکشن 69کے مطابق پروموٹر(Promotor)سے وہ شخص مراد ہے :
(a) جوکسی پراسپیکٹس میں نامزد کیاگیا ہو یا پھر کمپنی نے سیکشن 92میں مذکورسالانہ منافع میں اس کی نشان دہی کی ہو۔
(b) یا جو کمپنی کے معاملات پر بالواسطہ یا بلاواسطہ کنٹرول رکھتاہو، شیئرہولڈرکی حیثیت سے،ڈائریکٹرکی حیثیت سے یا پھر کسی دیگر حیثیت سے؛یا
(c) یا وہ جس کی ہدایات اورمشوروں کے مطابق کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرس عمل کرتا ہو۔بہرصورت، اس میں شرط یہ ہے کہ اس ذیلی دفعہ کا اطلاق اس شخص پر نہیں ہوگا جو صرف کسی پیشہ ورانہ حیثیت میں کام کررہا ہوگا۔
تصور کی عمل پذیری کی پوری طرح جانچ کے بعد کمپنی کو رجسٹر کرنے کے لیے فروغ کاروں کو وسائل جمع کرنے، ضروری دستاویزات تیار کرنے، اس کا نام رکھنے اور مختلف دیگر سرگرمیوں کو انجام دینے اور کاروبار شروع کرنے کے لیے کمپنی کو اہل بنانے کے سلسلے میں ضروری سر  ٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل انجام دینا چاہیے۔ اسی طرح فروغ کاروں کو کمپنی کو وجود میں لانے کے لیے مختلف کام انجام دینے پڑتے ہیں، ان پر ذیل میں بحث کی گئی ہے۔

فروغ کار کے کام

فروغ کاروں کے اہم ترین کاموں کی فہرست کچھ اس طرح ہے:
(i) 
 کاروباری مواقع کی شناخت:  پروموٹر یا فروغ کار کی پہلی اور نہایت اہم سرگرمی، کاروباری مواقع کی شناخت ہوتی ہے۔یہ موقع نئے پروڈکٹ یا خدمات کو پیش کرنے یا مختلف ذرائع سے دستیاب بعض پروجیکٹ تیار کرنے یا کوئی دیگر موقع جس میں سرمایہ کاری کا امکان ہو، سے متعلق ہوسکتا ہے ۔اس طرح کے موقع کا تجزیہ یہ دیکھنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ آیا پروجیکٹ تکنیکی اور معاشی طور پر قابل عمل ہے یا نہیں۔
(ii)  قابل عمل معلوم کرنے کے لیے مطالعات :   ممکن ہے کہ سبھی شناخت شدہ کاروباری مواقع کو حقیقی پروجیکٹ میں منتقل کرنا آسان یا نفع بخش نہ ہواس لیے فروغ کار کو کاروبار شروع کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کی جانچ اور قابل عمل ہونے کے لیے تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں۔ پروجیکٹ کی نوعیت پر موقوف، درج ذیل قابل عمل ہونے کے مطالعات کیے جاسکتے ہیں جس کے لیے ماہرین، جیسے انجینئر، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ وغیرہ کی مدد لی جاسکتی ہے کہ آیا اس کاروباری موقع کو نفع بخش طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں جس کے بارے میں سوچا گیا ہے۔
 (a)  
تکنیکی طور پر قابل عمل ہونا: کبھی کبھی کوئی تصور اچھا ہوسکتا ہے لیکن تکنیکی طور پر اسے عمل میں لانا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مطلوبہ خام مال یا ٹکنالوجی آسانی سے دستیاب نہ ہوں۔ ہماری پہلی مثال میں مان لیجئے اوتار کو کاربوریٹر تیار کرنے کے لیے کسی مخصوص دھات کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دھات ملک میں تیار نہیں کی جاتی اور اچھے سیاسی رشتے نہ ہونے کے سبب اس کی برآمد اس ملک سے نہیں کی جاسکتی ہے جو اسے تیار کرتا ہے،تو پروجیکٹ تکنیکی طور پر اس وقت تک قابل عمل نہیں ہوگا جب تک کہ دھات کی دستیابی کے لیے دوسرے ذرائع سے کوئی بندوبست نہ کیا جائے۔

نام کی شق

کسی نام کو درج ذیل معاملوں میں ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے:
(a) اگر کسی موجودہ کمپنی کے نام سے بالکل مماثل یا بہت زیادہ قریبی طور پر ملتا جلتا ہو۔
(b) اگر یہ گمراہ کن ہو اس صورت میں ایسا سمجھا جاتا ہے کہ کمپنی کسی مخصوص کاروبار میں ہے یا یہ کسی مخصوص قسم کی انجمن ہے جب کہ یہ صحیح نہ ہو۔
(c) اگر یہ مخصوص نشان یا علامت اور ناموں (غلط استعمال کی روک تھام) کی شق ایکٹ 1950 جیسا کہ اس ایکٹ کے شیڈول میں دیا گیا ہے ، کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس شیڈول میں منجملہ دیگر، اقوام متحدہ اور اس کے اداروں جیسے عالمی صحت تنظیم،یونیسکو (UNESCO) وغیرہ، حکومت ہند، ریاستی حکومتوں، صدر جمہوریہ ہند یا کسی ریاست کے گورنر، ہندوستان کے قومی جھنڈے کے نام، نشان یا سرکاری مہر کی صراحت کی گئی ہے۔ یہ کسی ایسے نام کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے جس سے حکومت ہند یا کسی ریاستی حکومت یا کسی مقامی اتھارٹی کی سرپرستی کو ظاہر کرتا ہو۔

(b)  مالیاتی طور پر قابل عمل ہونا:  ہر کاروباری سرگرمی میں رقم کی ضرورت ہوتی ہے ، فروغ کار کو شناخت کیے ہوئے کاروباری مواقع کے لیے ضروری فنڈ کا تخمینہ لگانا ہوتا ہے۔ اگر پروجیکٹ کے لیے مطلوبہ صرفہ اتنا بڑاہوتا ہے کہ اس کا بندوبست دستیاب ذرائع سے آسانی کے ساتھ نہیں ہوسکتا تب پروجیکٹ کو چھوڑنا پڑے گا۔ مثال کے لیے کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ ٹاؤن شپ کو فروغ دینا بہت نفع بخش ہے۔ اس میں ظاہر ہے مطلوبہ فنڈ کئی کروڑ روپیوں کا ہوسکتا ہے جس کا بندوبست فروغ کاروں کے ذریعہ کمپنی چلانے کے ذریعہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ خیال پروجیکٹ کی عمل پذیری کی کمی کے سبب ترک کرنا پڑسکتا ہے۔
(c)   معاشی طور پر قابل عمل ہونا: کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پروجیکٹ تکنیکی طور پر قابل عمل ہو اور مالیاتی طور پر سہل العمل بھی ہو لیکن اس کے منافع بخش ہونے کا امکان بہت کم ہو۔ ایسے معاملے میں بھی اس کا خیال چھوڑنا پڑسکتا ہے۔ فروغ کار ان مطالعات کا اہتمام کرنے میں عام طور پر ماہرین کی مدد لیتے ہیں۔ یہ بات غور کرنے کی ہے کہ یہ ماہرین فروغ کار نہیں بن جاتے کیونکہ ان مطالعات میں وہ محض فروغ کاروں کی مدد کررہے ہیں۔ جب ان تفتیشات یا تحقیق میں پراجیکٹ مثبت نتائج پر غور کیا گیا ہو تبھی فروغ کار در حقیقت کمپنی شروع کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
(iii)  نام کی منظوری:   کمپنی شروع کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد فروغ کاروں کو اس کے لیے نام منتخب کرنا ہوتا ہے اوراس ریاست ،جس کا رجسٹرڈ آفس کا محل وقوع متوقع ہو، کے کمپنیوں کے رجسٹرار کو ایک درخواست اس کی منظوری کے لیے پیش کرنی ہوتی ہے جہاں کمپنی قائم کرنے کی توقع ہے۔ مجوزہ نام کی منظوری مل سکتی ہے اگر اسے قابل اعتراض نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ اسی نام کی دوسری کمپنی موجود ہو یا یہ اس سے بالکل ملتا جلتا نام ہو یا پسندیدہ نام گمراہ کن ہو۔ بالفرض یہ اشارہ کرے کہ کمپنی کسی مخصوص کاروبار میں ہے جبکہ یہ بات صحیح نہ ہو۔ ایسے معاملوں میں مجوزہ نام تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ متبادل نام کی منظوری مل سکتی ہے۔ لہٰذا تین نام ان کی ترجیح کے لحاظ سے کمپنیوں کے رجسٹرار کو دی جانے والی درخواست میں دئیے جاتے ہیں۔ ناموں کی دستیابی کے لیے درخواست پر عمل ہونے کے بارے میں تفصیل درج ذیل ہے۔
(iv) میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کے دستخط کنندگان کے بارے میں طے کرنا:   فروغ کاروں کو ان ممبران کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو مجوزہ کمپنی کے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن پر دستخط کریں گے۔ عام طور پر جو لوگ میمورنڈم پر دستخط کرتے ہیں وہ کمپنی کے پہلے ڈائریکٹربھی ہوتے ہیں۔ان کے بطور ڈائریکٹر کام کرنے اور مشروط حصص حاصل کرنے کی تحریری رضامندی ضروری ہوتی ہے۔
(v)  پیشہ ور افراد کی تقرری:  فروغ کاروں کے ذریعہ مخصوص  پیشہ ور افراد جیسے تجارتی بینک کار، محاسب (Auditor) وغیرہ کی تقرری، ضروری دستاویزات کی تیاری میں ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے جن کا کہ کمپنیوں کے رجسٹرار کے پاس رکھا جانا ضروری ہوتاہے۔ شیئر ہولڈروں (حصہ داروں) کے نام اور پتے اور ہر ایک کی شیئروں کی مختص تعداد رجسٹرار کے یہاں پیش کی جاتی ہے یہ ایک بیان ہوتا ہے جسے تفویض کا اندراج (Return of Allotment) کہا جاتا ہے۔
(vi)  ضروری دستاویزات کی تیاری: کمپنی کی رجسٹری کرانے کے لیے کمپنیوں کے رجسٹرار کے پاس قانون کے تحت مخصوص قانونی دستاویزات پیش کرنے ہوتے ہیں جنھیں تیار کرنے کے لیے فروغ کار کو اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ یہ دستاویزات ہیں، انجمن کے اغراض و مقاصد (میمورنڈم آف ایسوسی ایشن) آرٹیکل آف ایسوسی ایشن اور کنسنٹ آف ڈائریکٹر۔
لازمی دستاویز کا پیش کرنا
(a)  میمورنڈم آف ایسوسی ایشن:  میمورنڈم آف ایسو سی ایشن نہایت اہم دستاویز ہے کیونکہ اس میں کمپنی کے اغراض و مقاصد کی توضیح ہوتی ہے۔ کوئی بھی کمپنی قانونی طور پر ان سرگرمیوں کو انجام نہیں دے سکتی جو کہ اس کے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن میں نہ شامل ہوں۔ میمورنڈم آف ایسوسی ایشن میں مختلف شقیں شامل ہوتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

میمورنڈم آف ایسوی ایشن کی جد ا جداشکلیں

حصص کے ذریعہ کمپنی کا ایم او اے  ٹیبل اے -1
  حصص سرمایہ نہ رکھنے والی بلکہ گارنٹی کے ذریعہ لمیٹڈ کمپنی کا ایم او اے ٹیبل بی  -2
  حصص سرمایہ نہ رکھنے والی بلکہ گارنٹی کے ذریعہ لمیٹڈ کمپنی کا ایم او اے  ٹیبل سی -3
   غیرلمیٹڈ کمپنی کا ایم او اے، جس کے پاس حصص سرمایہ ہے  ٹیبل ڈی  -4
 غیر لمیٹڈ کمپنی کا ایم او اے،جس کے پاس حصص سرمایہ ہے ٹیبل ای -5 

  آرٹیکلز آف کمپنی کی جدا جدا شکلیں

حصص کے ذریعہ لمیٹڈ کمپنی کا اے او اے ٹیبل ایف  -6
گارنٹی اور حصص سرمایہ رکھنے والی لمیٹڈ کمپنی کا اے او اے  ٹیبل جی -7
   گارنٹی کے ذریعہ لمیٹڈ کمپنی، اس کے پاس حصص سرمایہ نہیں ہے کا اے او اے ٹیبل ایچ -8
  غیر لمیٹڈ کمپنی ، جس کے پاس حصص سرمایہ ہے کا اے او اے ٹیبل آئی  -9
 غیر لمیٹڈ کمپنی، جس کے پاس حصص سرمایہ نہیں ہے کا اے او اے ٹیبل جے -10


(i)  نام کی شق:  اس شق میں کمپنی کا نام شامل ہوتا ہے جس سے کمپنی جانی جائے گی اور جسے کمپنیوں کے رجسٹرار کے ذریعہ پہلے ہی منظوری مل چکی ہے ۔
(ii)  رجسٹرڈ آفس کی شق:  اس شق میں اس ریاست کا نام درج ہوتا ہے جس میں کمپنی کے رجسٹرڈ آفس کے وقوع کی تجویز رکھی گئی۔ اس مرحلے میں رجسٹرڈ آفس کے بالکل صحیح صحیح پتے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن کمیٹی کی تشکیل کے تیس دنوں کے اندر رجسٹرار کو اس کی اطلاع ضرور دینی ہوتی ہے۔
(iii)  مقاصد کی شق:  یہ غالباً میمورنڈم کی سب سے اہم شق ہوتی ہے۔ اس میں مقصد کی وضاحت ہوتی ہے جس کے لیے کمپنی کی تشکیل کی جاتی ہے۔ کمپنی اس وقت تک قانونی طور پرکوئی کام کرنے کی مجاز نہیں ہوتی جواس شق میں بیان کردہ مقاصد سے باہر ہوں۔  جن خاص مقاصد کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی جاتی ہے وہ اس ذیلی دفعہ میں درج فہرست ہوتے ہیں، یہ دیکھا جانا چاہئے کہ کمپنی کے اہم مقاصد کی حصولیابی کے لیے کوئی عمل خواہ ضروری ہو یا اتفاقی اسے جائز مانا جاتا ہے اگر چہ اسے ذیلی دفعہ میں واضح طور پر بھلے ہی نہ بیان کیا گیا ہو۔
(iv)  واجبات کی شق:  یہ شق ممبران کے لیے ان کے مالکانہ شیئروں (حصص) ہر غیر ادا شدہ رقم کے تئیں واجبات کی حدود کا تعین کرتی ہے۔
مثال کے لیے، اگر ایک شیئر ہولڈردس دس روپئے کے 1000 شیئرس خریدتا ہے اور اس نے 6 روپے فی حصص کے حساب سے پہلے ادا کیا ہے تب اس کی واجبات 4 روپے فی شیئر (حصص) تک محدود ہوں گی اس طرح بدترین حالتوں میں اس سے  صرف 4000 روپے ادا کرنے کے لئے کہہ سکتا ہے۔
(v)  پونجی کی شق:  یہ شق اس زیادہ سے زیادہ پونجی کی صراحت کرتی ہے جسے کمپنی شیئرس جاری کرکے وصول کرنے کی مجاز ہوگی۔ مجوزہ کمپنی کی مجاز شیئر پونجی بمع شیئروں کی تعداد میں اس کی تقسیم جس کی مقررہ ظاہری قدر ہو، اس کی صراحت اس میں کی جاتی ہے۔ مثال کے لیے کمپنی کی مجاز شیئر پونجی دس روپے فی شیئر کے 2.5 لاکھ شیئروں میں تقسیم کے ساتھ 25 لاکھ روپئے ہوسکتی ہے۔ مذکورہ کمپنی اس شق میں بیان کی گئی مقدار سے زائد میں شیئر پونجی نہیں جاری کرسکتی۔
 میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کے دستخط کنندگان کمپنی سے متعلق اپنے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہیں اور مجاز شیئروں کو خریدنے کے لیے اپنی منظوری دیتے ہیں۔ کمپنی کے اغراض و مقاصد جدول I- کے ٹیبل اے،بی،سی،ڈی اور ای میں اس کی متعلقہ شکلوں میں جو بھی کمپنی کے قابل ہوگا، درج ہوں گے۔
ایسوسی ایشن کے میمورنڈم پر پبلک کمپنی کی صورت میں کم سے کم سات افراد کے اور پرائیویٹ کمپنی کے معاملہ میں دو افراد کے دستخط ہونے چاہئیں۔ میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کی نقل باب کے آخری میں دی گئی ہے

ایسو سی ایشن کی شق

ایسوسی ایشن کی دفعہ میں یہ تحریر ہوتا ہے ’’ہم متعدد افراد جن کے نام اور پتے نیچے دیئے گئے ہیں اس میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کو عمل میں لانے کی کی کوشش کے طور پر اسے کمپنی میں تشکیل کیے جانے کے خواہش مند ہیں اور ہم کمپنی پونجی میں شیئروں کی تعداد جو کہ بالترتیب ہمارے متعلقہ ناموں کے سامنے تحریر ہے، کو اختیار کرنے کے لئے متفق ہیں‘‘۔

قواعد و ضوابط (آرٹیکلز) میں عام طور پر درج ذیل امور شامل ہوتے ہیں۔

ٹیبل ایف کا کلی یا جزوی طور پر اخراج۔
ابتدائی معاہدوں کو اپنانا
حصص کی تعداد اور مالیت
ترجیحی حصص کا اجرا
حصص کی تخصیص 
حصص کا مطالبہ
حصص کا قانونی حق
حصص کی منتقلی اور ترسیل
نا مزدگی
10۔ حصص کی ضبطی
11۔ سرمائے میں بدلاؤ
12۔ حصص کی واپسی
13۔ حصص کا سر ٹیفیکٹ
14۔ غیر واقع ہونا
15۔ حصص کی اسٹاک میں تبدیلی ،  کمپنیزاور اتفاقی معاملات کی آمیزش
16۔ ووٹنگ کے حقوق اور نیابت
17۔ میٹنگیں اور کمیٹیوں سے متعلق ضابطے
18۔ ڈائریکٹر ز،ان کی تقرری اور تفویض اختیارات
19۔ نامزد ڈائریکٹر 
20۔ ۔۔۔اور اسٹاک کا اجرا
21۔ استحصاب کرنے والی کمیٹی
22۔ منیجنگ  ڈائریکٹر  ،کل وقتی  ڈائریکٹر ، منیجر،سکریٹری۔
23۔ اضافی (ایڈیشنل )  ڈائریکٹر ز
24۔ مہر(سیل)
25۔ ڈائرکٹروں کی تنخواہ
26۔ عام میٹنگیں
27۔ ڈائریکٹروں کی میٹنگیں
28۔ مستعار لینے کے اختیارات
29۔ منافع(ڈویڈنٹس) اور بچا کر رکھی گئی رقم 
30۔ کھاتہ اور احتساب (آؤٹ)
31۔ کمپنی بند کرنا
32۔ معاوضہ
33۔  بچا کر رکھی گئی رقم کی سرمایہ کاری

(b) کمپنی کے قواعد وضوابط : کمپنی کے قواعد وضوابط کمپنی کے داخلی انتظامیہ سے متعلق اصول ہوتے ہیں۔یہ اصول میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کے تکمیلی ہوتے ہیں اور اس لیے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن میں بیان کی گئی کسی بات کے متضاد یا متجاوز نہیں ہونے جاہئیں۔ کمپنیز ایکٹ 2013کی دفعہ(s) 
2مطابق آرٹیکل کے معنی ہیں، کمپنی کے قواعد و ضوابط جو اصلاً وضع کئے گئے ہیں یا وقتاً فوقتاً ان میں پھیر بدل کیا گیا ہے یا اس ایکٹ یا کسی بھی سابقہ کمپنی قانون سے مطابقت رکھتا ہو۔ کمپنی کے قواعد و ضوابط جو جدولI-کے ٹیبل ایف،جی،ایچ،آئی اور جے کی متعلقہ شکلوں میں درج ہوگا۔پھر بھی کمپنیاں اپنے طور پر قواعد و ضوابط وضع کرنے کے لیے آزاد ہیں جو ٹیبل ایف، جی، ایچ،آئی،جے کی شکلوں سے مطابقت رکھتی ہوں اور جو کمپنی کے ذریعہ اپنایا گیا ہے وہ واحد ضوابط کمپنی کے لئے قابل عمل ہوں گے۔ 
(c)   نامزد ڈائریکٹروں کی اجازت:میمورنڈم اور قواعد وضوابط کے علاوہ ہر اس شخص کی تحریری رضامندی ضروری ہے جس کا نام دائریکٹر کے طور پر رکھا گیا ہے وہ اس بات کی توثیق کریں کہ وہ اس حیثیت میں عمل کرنے سے اتفاق رکھتے ہیں اور مجاز شیئروں کی خریداری اور ادائیگی کی ذمہ داری لیتے ہیں جیسا کہ کمپنی کے قواعد وضوابط میں بیان کیا گیا ہے۔
(d) معاہدہ:  اگر کوئی معاہدہ ہے جس میں کمپنی اپنے منیجنگ ڈائریکٹر یا کل وقتی ڈائریکٹر یا منیجر کے طور پر کسی فرد کی تقرری کے لیے تجویز پیش کرتی ہے تو اس کے لیے کمپنی ایکٹ کے تحت کمپنی کے رجسٹریشن کے لیے رجسٹرار کے پاس دوسری دستاویز داخل کرنا ہوتا ہے۔
(e) قانونی اعلان:  یہ اعلان بیان کرتا ہے کہ رجسٹریشن سے متعلق سبھی قانونی ضروریات کو مرتب کرلیا گیا ہے جسے قانون کے تحت کمپنی کا رجسٹریشن کرانے کے لیے درج بالا دستاویزات کے ساتھ رجسٹرار کے پاس پیش کرنا ہوتا ہے۔
اس بیان پر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کایا چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ دستخط کر سکتا ہے جو کل وقتی پریکٹس میں ہو یا کوئی ایسا فرد جس کا نام قواعد وضوابط میں کمپنی کے ڈائریکٹر یا منیجر یا سیکریٹری کے طور پر ہو۔  
(f)  فیس کی ادائیگی:  درج بالا دستاویزات کے ساتھ کمپنی کے رجسٹریشن کے لیے ضروری فیس ادا کرنی ہوتی ہے، ایسی فیس کی رقم کمپنی کے مجاز سرمایہ حصص (Share Capital)  پر منحصر ہوگی۔

فروغ کاروں کی حیثیت

فروغ کاروں کو کمپنی کا رجسٹریشن کرائے جانے کے لیے اور کاروبار شروع کرنے کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں انجام دینی ہوتی ہیں۔ لیکن وہ نہ تو کمپنی کے ایجنٹ اور نہ ٹرسٹی ہوتے ہیں۔ وہ ایجنٹ اس لیے نہیں ہوسکتے کہ کمپنی کی ابھی تشکیل کی جانی ہے۔ لہٰذا وہ ذاتی طور پر سبھی معاہدوں کے لیے جو کہ اس کے ذریعہ کمپنی کی تشکیل سے قبل کیے جاتے ہیں، قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں، بشرطیکہ بعد میں کمپنی ان کی توثیق نہ کرے۔ اس کے علاوہ فروغ کار کمپنی کے ٹرسٹی بھی نہیں ہوتے۔

ابتدائی معاہدے

کمپنی کے فروغ کے دوران ، فروغ کاروں کو کمپنی کی طرف سے تیسرے فریقوں کے ساتھ بعض معاہدوں میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ انہیں ابتدائی معاہدے یا قبل تشکیل معاہدے کہاجاتا ہے۔ ان کے لیے کمپنی پر قانونی بندش نہیں ہے۔ کمپنی کے وجود میں آنے کے بعد وہ اگر چاہے تو انہیں جاری رکھ سکتی ہے یا فروغ کاروں کے ذریعہ کیے گیے معاہدوں کے پاس ولحاظ کے لیے اسی شرائط وضوابط کے ساتھ تازہ معاہدہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ توجہ دیں کہ یہ ابتدائی معاہدے کی توثیق نہیں کر سکتا ۔ ایک کمپنی اس طرح ابتدائی معاہدے کے احترام کو مجبور نہیں کر سکتی تاہم فروغ کار، ان معاہدوں کے لیے تیسرے فریقوں کے اب بھی ذاتی طور پر پابند ہوتے ہیں۔


کمپنی کے فروغ کار کمپنی کے امین کی حیثیت سے استفادہ  کرتے ہیں لیکن وہ اس کا غلط استعمال نہیں کرسکتے۔ وہ اس سے نفع حاصل کرسکتے ہیں اگر اسے ظاہر کیا گیا ہے لیکن کوئی پوشیدہ منافع نہیں حاصل کرسکتے۔ ظاہر نہ کیے جانے کی صورت میں کمپنی معاہدہ کو منسوخ کرسکتی ہے اور فروغ کاروں کو ادا کی گئی خرید قیمت کو وصول کرسکتی ہے، یہ مادی معلومات کی ظاہر نہ کیے جانے کی صورت میں ہونے والے نقصان تلافی کے طور پر دعویٰ بھی پیش کرسکتی ہے۔
فروغ کاروں کو کمپنی کے فروغ کے لیے ہونے والے اخراجات کا دعویٰ کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ تاہم کمپنی قبل تشکیل اخراجات کے لیے ان کی بے باقی کا قصد کرسکتی ہے۔ کمپنی فروغ کاروں کو ان کی کوششوں کے لیے یک مشت (Lumpsum) رقم یا ان کے ذریعہ خریدی گئی جائیداد کی قیمت خرید پر یا فروخت شیئروں پر کمیشن ادا کرنے کے طور پر معاوضہ یا محنتانہ بھی دے سکتی ہے، کمپنی انھیں شیئر یا ڈبنچر تفویض کرسکتی ہے یا مستقبل کی تاریخ کی سیکورٹیز (ہنڈیاں) خریدنے کا اختیار انھیں دے سکتی ہے۔

7.2.2  تشکیل

مذکورہ رسمی قواعد وضوابط کو پورا کرنے کے بعد فروغ کاروں کو کمپنی کی تشکیل کے لئے ایک درخواست دینی ہوتی ہے۔جس ریاست میں کمپنی کے رجسٹرڈ آفس کو قائم کرنے کا وہ منصوبہ بناتے ہیں، وہاں کی کمپنیوں کے رجسٹرار کے پاس درخواست داخل کرنی ہوتی ہے۔ رجسٹریشن کے لئے درخواست کے ساتھ بعض دستاویزات بھی دینی پڑتی ہیں جس کے بارے میں ہم پہلے ہی پچھلے سیکشنوں میں بات کرچکے ہیں۔ ان کو مختصراً ذیل میں پھر بیان کیا جاسکتا ہے۔
میمورنڈم آف ایسوسی ایشن (کمپنی کے اغراض ومقاصد) پر ٹھیک ڈھنگ سے مہر لگی ہونی چاہیے، دستخط ہونے چاہئیں اور گواہوں کی تصدیق بھی ۔ پبلک کمپنی کے معاملے میں کم سے کم سات ممبروں کو اس پر دستخط کر نے چاہئیں۔ پرائیویٹ کمپنی کے لیے بہرحال دو ممبروں کے دستخط کافی ہیں۔ دستخط کنندگان کو اپنے پتے، پیشے اور شیئروں کی تعداد (جو انھوں نے قبول کی ہے) کے بارے میں بھی معلومات دینی چاہئے۔
آرٹیکل آف ایسوسی ایشن (کمپنی کے قواعد وضوابط ) جیسا کہ میمورنڈم کے معاملے میں کیا جاتا ہے، اس پر بھی اسی طرح کما حقہ مہر لگائی جانی چاہیے اور گواہی ہونا چاہیے، تاہم جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ ایک پبلک کمپنی کے ذریعہ ٹیبل A اپنایا جاسکتا ہے جو کہ قواعد وضوابط کے سیٹ کا ایک نمونہ ہے جیسا کہ کمپنیز ایکٹ میں دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں پراس پیکٹس کے عوض بیان داخل کیا جاتا ہے، جو کہ آرٹیکلس کی جگہ پر ہوتا ہے۔
ڈائریکٹروں کے طور پر کام کرنے اور مجاز یا ضروری شیئروں کی خرید کا قصد کرنے کے لیے مجوزہ ڈائریکٹروں کی تحریری منظوری۔
4 ۔ اگر مجوزہ منیجنگ ڈائریکٹر، منیجر یا کل وقتی ڈائریکٹر کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے۔
5 ۔ کمپنی کے نام کی منظوری کے سلسلے میں رجسٹرار کے خط کی ایک نقل۔
ایک قانون کے تحت اعلانیہ جو یہ توثیق کرتا ہے کہ رجسٹریشن کے لیے سبھی قانونی تقاضوں کی تعمیل کی گئی ہے، اس پر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ یا میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کے دستخط کنندہ یا چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ یا کمپنی سیکریٹری جو کہ ہندوستان میں کل وقتی پریکٹس میں ہو، کے دستخط ہونے چاہئیں۔
ان دستاویزات کے ساتھ رجسٹرڈ آفس کے بالکل صحیح پتے کے بارے میں نوٹس بھی داخل کرایا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر تشکیل کے وقت اسے داخل نہیں کیا جاتا تب اسے تشکیل کے سر ٹیفکیٹ کی رسید کے 30 دنوں کے اندر داخل کیا جاسکتا ہے۔
رجسٹریشن فائل کرنے کی فیس کی ادائیگی کا دستاویزی ثبوت۔ رجسٹرار کو مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ درخواست داخل کرنے پرمطمئن ہوجانا چاہئے کہ دستاویزات صحیح اور ٹھیک ٹھاک ہیں اور رجسٹریشن کے لحاظ سے قانون کے تحت سبھی ضروریات کی تعمیل کی گئی ہے۔ تاہم دستاویز میں مذکورہ حقائق کی تصدیق کے لیے ایک مکمل تفتیش انجام دینے کی ذمہ داری اس کی نہیں ہے۔
جب رجسٹرار رجسٹریشن کے لیے رسمی قواعد وضوابط کی تکمیل کے بارے میں مطمئن ہوجاتا ہے تب کمپنی کو تشکیل کا سر ٹیفکیٹ جاری کرتا ہے جو کمپنی کے وجود میں آنے کا مظہر ہے۔ تشکیل کے سر  ٹیفکیٹ کو اس لیے کمپنی کا پیدائش سر ٹیفکیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یکم نومبر 2000 سے رجسٹرار آف کمپنیز ایک کارپوریٹ شناخت نمبر (CIN)کمپنی کو تفویض کرنے لگا ہے۔

ڈائریکٹر شناختی نمبر (ڈی آئی این)

ہر وہ فرد جو کمپنی کے ڈائریکٹر کے طور پر تقرری کا ارادہ رکھتا ہے اسے مجوذہ فارم پر فیس کے ساتھ مرکزی حکومت کو ڈائریکٹر شناختی نمبر (ڈی آئی این)کی تخصیص کے لئے درخواست دینا ہوگا۔ 
مرکزی حکومت ،درخواست موصول ہونے کے ایک ماہ کے اندر درخواست پر ڈائریکٹر شناختی نمبر الاٹ کردے گی ۔ کوئی بھی فرد ، جس کے پاس قبل ہی ڈائریکٹر شناختی نمبر الاٹ کیا جا چکا ہے وہ دوسرا ڈائرکٹر شناختی نمبر حاصل کرنے یا رکھنے کے لئے درخواست نہیں دینی ہوگی۔

تشکیل کے سر  ٹیفکیٹ کا اثر

تشکیل کے سر  ٹیفکیٹ پر چھپی تاریخ کے دن سے کمپنی قانونی طور پر وجود میں آجاتی ہے۔ اس تاریخ کو دائمی سلسلے کے ساتھ یہ قانونی ہستی بن جاتی ہے۔ یہ جائز معاہدوں میں شامل ہونے کی حقدار ہوجاتی ہے۔ تشکیل کا سر  ٹیفکیٹ کمپنی کی تشکیل کی باقاعدگی کی حتمی شہادت ہے۔ تصور کیجئے، کسی بھولی بھالی پارٹی کے ساتھ کیا واقع ہوتا اگر جس کے ساتھ کمپنی کسی معاہدے میں شامل ہوتی اور بعد میں یہ پایا جاتا کہ اس کمپنی کی تشکیل صحیح نہیں ہے اور اس لیے ناجائز ہے۔ لہٰذا قانونی صورت یہ ہے کہ جب تشکیل کا سر  ٹیفکیٹ ایک بار جاری ہوجاتا ہے تو کمپنی اپنے رجسٹریشن سے کسی قانونی رکاوٹوں سے قطع نظر ایک قانونی کاروباری ہستی بن جاتی ہے۔ تشکیل کا سر ٹیفکیٹ اس طرح کمپنی کے قانونی وجود کا ایک حتمی ثبوت ہے۔ تشکیل کے سر  ٹیفکیٹ کی حتمیت کے اثر کے اظہار کی  کچھ دلچسپ مثالیں درج ذیل ہیں۔
(a) رجسٹریشن کے لیے دستاویزات 6 جنوری کو پیش کی گئی تھیں۔ تشکیل کا سر  ٹیفکیٹ 8 جنوری کو جاری کیا گیا۔ لیکن    سر ٹیفکیٹ پر جو تاریخ درج تھی وہ 6 جنوری تھی۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کمپنی 6 جنوری کو وجود میں آئی تھی اور اس تاریخ کو جو معاہدے کیے گئے تھے انھیں جائز سمجھا گیا۔
 (b) ایک شخص نے میمورنڈم پر دوسروں کے جعلی دستخط کیے۔ تشکیل کو پھر بھی جائز سمجھا گیا تھا۔
اس طرح رسمی ضوابط وقواعد میں خواہ کوئی کمی یا نقص ہو تشکیل کا سر ٹیفکیٹ جب ایک بار جاری ہوجاتا ہے تو وہ کمپنی کے وجود کی حتمی شہادت ہوتی ہے۔ حتی کہ جب کوئی کمپنی غیر قانونی چیزوں کے ساتھ رجسٹر ہوجاتی ہے تب بھی کمپنی کے وجود میں آنے پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ اس کا صرف ایک علاج ہے کہ اسے ختم کردیا جائے۔ چونکہ تشکیل کا سر ٹیفکیٹ اتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رجسٹرار کو اس کے جاری کرنے سے قبل بہت محتاط طور پر اس کی جانچ پڑتال کرنی پڑتی ہے۔
پبلک اورپرائیویٹ دونوں کمپنیوں کو اپنی تشکیل کے 180دنوں کے اندرکاروبارشروع کرنے کے لیے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایک مرتبہ کمپنی رجسٹرارسے سرٹیفکیٹ حاصل ہوجانے کے بعد وہ کمپنی اپنا کاروبار شروع کرسکتی ہے۔

7.2.3   پونجی دینے والا

 پبلک کمپنی شیئروں اور ڈینچروں(تمسکات) جاری کرنے کے ذریعہ عوام سے مطلوبہ فنڈ اکٹھا کرسکتی ہے۔ اسے انجام دینے کے لیے اسے تعارفی دستاویز (Prospectus) جاری کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعہ کمپنی کے لیے پونجی حاصل کرنے اور مختلف دیگر رسمی ضوابط کی خاطر عوام کو مدعو کیا جاتا ہے۔عوام سے فنڈمہیا کرنے کے سلسلے میں درج ذیل اقدامات مطلوب ہوتے ہیں۔
(i)
 SEBI  کی منظوری:   SEBI 
 (سیکورٹیز ایند ایکسچینج بورڈ آف انڈیا) جو کہ ہمارے ملک میں ضابطے کے تحت مقتدرہ (اتھارٹی) ہے، وہ معلومات کے انکشاف اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے رہنما اصول جاری کرتی ہے۔ کوئی کمپنی جب عام لوگوں سے فنڈ مدعو کرتی ہے تب اسے سبھی متعلقہ معلومات کا مناسب انکشاف کرنا ہوتا ہے اور متوقع سرمایہ کاروں سے کسی طرح کی مادی معلومات کو وہ پوشیدہ نہیں رکھ سکتی۔ یہ سرمایہ کاروں کے مفاد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے عوام سے فنڈ وصولی کی کارروائی سے قبل SEBIکی پیش منظوری مطلوب ہوتی ہے۔
(ii)  پراسپیکٹس فائل کرنا:   پراسپیکٹس (تعارفی دستاویز) یا پراس پیکٹس کے بجائے بیان کی نقل کمپنیوں کے رجسٹرار کے یہاں فائل کرنی ہوتی ہے۔ پراسپیسکٹس کوئی بھی دستاویز جو    پر اس پیکٹس بشمول کوئی اطلاع نامہ، سرکلر، اشتہار یا دیگر دستاویز کے طور پر بیان یا جاری کیا جاتا ہے، جس میں عوام کو ڈپازٹ کے لیے مدعو کیا جاتا ہے یا اس میں کسی شیئروں کی یا ادارہ کا رپوریٹ (Body Corporate) کے ڈبنچروں کو عوام کے ذریعہ قبول کرنے یا خریداری کے لیے پرکشش پیش کش کی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کمپنی کے شیئروں یا ڈبنچروں کے لیے ڈپازٹ کرنے کے سلسلے میں درخواست کرنے کے لیے عوام کو مدعوکیا جاتا ہے۔ سرمایہ کار کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں اپنے ذہن کو ابتدائی طور پر اس دستاویز میں شامل معلومات کی بنیاد پر تیار کرتا ہے۔ لہٰذا پراسپیکٹس میں کسی طرح کی غلط بیانی نہ ہو اور سبھی اہم وقابل ذکر معلومات کو پوری طرح منکشف کیا جانا چاہیے۔
(iii) بینک کاروں، دلالوں، حصص بیمہ کاروں(انڈر رائٹر) وغیرہ کی تقرری:  عوام سے فنڈوں کا حصول ایک زبردست کام ہے۔ کمپنی کے بینک کاروں کے ذریعہ درخواست کی گئی رقم وصول کرنی ہوتی ہے۔ دلال (Brokers)، عوام کو فارموں کی تقسیم کرنے اور شیئروں کے لیے درخواست دینے کی حوصلہ افزائی کرنے کے ذریعہ شیئر فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کمپنی ایشو کے تئیں اچھے عوامی ردعمل کو معقول طور پر یقینی نہیں بناتی ہے تب وہ ایشو کے لیے بیمہ کاروں (Underwriters) کی تقرری کرسکتی ہے۔ حصص کے بیمہ کار شیئروں کی خریدنے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اگر انھیں عوام کے ذریعہ نہیں قبول کیا جاتا، ایشو کے بیمہ کے لیے وہ کمیشن وصول کرتے ہیں۔ حصص بیمہ کاروں کی تقرری ضروری نہیں ہے۔
(iv) کم سے کم وصولی:  ناکافی وسائل کے ساتھ کاروبار شروع کرنے سے کمپنیوں کو روکنے کے لیے یہ شرط لگائی گئی ہے کہ کمپنی کو شیئروں کی تفویض پر کارروائی سے قبل شیئروں کی کم سے کم تعداد کے لیے درخواستیں وصول کرنی چاہیے۔ کمپنیز ایکٹ کے مطابق اسے کم سے کم وصول کہا جاتا ہے۔ کم سے کم وصولی کی حد ایشو کے سائز کا 90 فیصد ہے اسی طرح اگر شیئروں کے لیے وصول کی گئیں درخواستیں ایشو سائز کے 90 فیصد سے کم ہیں تب الاٹ منٹ (تفویض) نہیں کی جاسکتی اور درخواست کی رقم جو درخواست کنندگان سے وصول کی جاتی ہے اسے انھیں واپس کرنا ہوتا ہے۔
(v)  اسٹاک ایکسچینج میں درخواست : درخواست کم سے کم ایک اسٹاک ایکسچینج میں اس کے شیئروں یا ڈبنچروں کا معاملہ کرنے کی اجازت کے لیے کی جاتی ہے۔ اگر وصولی فہرست کے بند ہونے کی تاریخ سے دس ہفتوں کا وقت گزرجانے سے پہلے اس طرح کی اجازت قبول نہیں کی جاتی تب الاٹ منٹ کالعدم ہوجائے گا اور درخواست دہندگان سے وصولی کی گئی رقم آٹھ دنوں کے اندر انھیں واپس کرنی ہوگی۔

میمورنڈم آف ایسوسی ایشن (اغراض ومقاصد کمپنی) اور آرٹیکل آف ایسوسی ایشن (قواعد وضوابط کمپنی) کے درمیان فرق

 آرٹیکل آف ایسو سی ایشن   میمورنڈم آف ایسوسی ایشن اختلافات کی بنیاد
آرٹیکلس آف ایسو سی ایشن کمپنی کے داخلی انتظامیہ کے قواعد وضوابط ہیں۔ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کمپنی کے مقاصد کو کس طرح حاصل کیا جاتاہے۔ میمورنڈم آف ایسوسی ایشن ان مقاصد کی توضیح کرتا ہے جس کے لیے کمپنی کی تشکیل کی گئی ہے۔ مقاصد
  یہ ایک ضمنی دستاویز ہے اور میمورنڈم آف ایسو سی ایشن اور کمپنیز ایکٹ دونوں کا تابع ہوتا ہے۔ یہ کمپنی کی خاص دستاویز ہے اور کمپنیز ایکٹ کے تابع ہوتا ہے۔  حیثیت
آرٹیکل ممبروں اور کمپنی کے رشتوں کی توضیح کرتے ہیں۔  میمورنڈم آف ایسو سی ایشن باہری لوگوں کے ساتھ کمپنی کے رشتوں کی توضیح کرتا ہے۔ رشتہ
 ایکٹ جو آرٹیکل سے متجاوز عمل یا اقدامات کی منظوری ممبران دے سکتے ہیں بشر طیکہ کہ یہ میمورنڈم کی خلاف ورزی نہ کرتے ہوں۔
 پبلک لمیٹڈ کمپنی کے لیے یہ لازمی نہیں ہے کہ آرٹیکل آف ایسوسی ایشن پیش کرے۔ وہ کمپنیز ایکٹ 2013کا ٹیبل ایف اپنا سکتی ہے۔
 میمورنڈم آف ایسو سی ایشن سے متجاوز عمل ناجائز ہوتے ہیں اور ممبران کے اتفاق رائے کے ذریعہ بھی ان کی رسمی منظوری نہیں دی جا سکتی۔
ہر کمپنی کو میمورنڈم آف ایسو سی ایشن داخل کرنا پڑتا ہے۔    

واجبیت

ضرورت


(vi) حصص کی تفویض (الاٹمنٹ): اگر الاٹ کیے گئے شیئروں کی تعداد درخواست کی گئی تعداد سے کم ہے یا جہاں درخواست کنندہ کو کوئی شیئر الاٹ نہیں کیے گئے ہیں تب زائد درخواست رقم، اگر کوئی ہو، تو اسے درخواست کنندگان کو واپس کرنی ہوتی ہے یا ان سے واجب الادا رقم کے الاٹ منٹ کے تئیں تطبیق کی جاتی ہے۔ کامیاب تفویض یاب کو الاٹ منٹ خطوط جاری کیے جاتے ہیں۔ الاٹ منٹ کی واپسی، جس پر ڈائریکٹر یا سکریٹری کے دستخط ہوتے ہیں اسے الاٹمنٹ کے 30 دنوں کے اندر کمپنیوں کے رجسٹرار کے پاس داخل کرنا ہوتا ہے۔
ضروری نہیں کہ ایک پبلک کمپنی اپنے شیئروں کی وصولی کے لیے عوام کو مدعو کرے۔ اس کے بجائے وہ دوستوں، رشتہ داروں یا بعض نجی بندوبستوں کے ذریعہ فنڈوں کو مہیا کرسکتی ہے جیسا کہ پرائیویٹ کمپنی کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے معاملوں میں پراسپیکٹس جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بدلے ایک بیان الاٹ منٹ کرنے سے کم سے کم 3 دن پہلے رجسٹرار کے پاس داخل کرنا ہوتا ہے۔

یک شخصی کمپنی

 کمپنیز ایکٹ 2013 کے عمل درآمد کے ساتھ یک شخصی کمپنی (او پی سی ) نظریہ کے تحت فرد اور ایک کمپنی تشکیل دے سکتا ہے۔ قانونی نظام میں او بی سی کی شروعات، ایک ایسا قدم ہے جس سے بہت چھوٹے کاروبار اور انٹر پرینیو شپ کو ادارے کی شکل دینے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
ہندوستان میں سال2005 ء میں جے جے ایرانی ایکسپریس کمیٹی نے او پی سی کی تشکیل کی سفارش کی تھی۔ اس میں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ ایسے اداروں کو استثنیٰ کے ساتھ آسانی قانونی ضابطوں کے تحت لایا جائے تاکہ چھوٹے کاروباریوں کو اپنا زیادہ تر وقت ، توانائی اور وسائل قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے مجبور نہ ہونا پڑے۔
یک شخصی کمپنی وہ کمپنی ہوتی ہے، جس میں ایک ہی شخص اس کا ممبر ہوتا ہے۔ وہ فرد واحد کمپنی کا شیئر ہولڈر ہوگا۔اسے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے تمام فوائد جیسے علیحدہ قانونی حیثیت کاروباری دینداری سے ذاتی اثاثوں کا تحفظ اور دائمی وراثت کا فائدہ حاصل ہوگا۔

خصوصیات

صرف وہی شخص جو ہندوستان کا شہری ہے اور ہندوستان میں رہتا ہے، 
(a) وہ یک شخصی کمپنی شروع کرنے کے لیے اہل ہوگا۔
(b) وہ یک شخصی کمپنی کے اکیلے ممبر کے لیے نافذ ہوگا 
وضاحت: اس ضابطہ کے مقصد کے لیے ’’ریسیڈنٹ ان انڈیا‘‘کا مطلب ایک ایسے شخص سے ہے جو گزشتہ ایک سال کے دوران ہندوستان میں مقیم رہا ہے۔ قیام کی یہ مدت 182 دن ہونی چاہئے۔
ایسا کوئی بھی شخص ایک سے زائد یک شخصی کمپنی قائم کرنے کا اہل نہیں ہوگا یا ایک سے زائد ایسی کمپنی کے لیے نامزد نہیں ہو سکتا ۔ 
آیا، ایک شخص، اس ضابطے کے مطابق یک شخصی کمپنی کا ممبر رہتے ہوئے،ایسی کسی کمپنی کے لیے نامزد ہونے کی وجہ سے دوسری کمپنی کا ممبر بنتا ہے تو کیا ایسا شخص 182دن کی مدت کے اندر ذیلی ضابطہ(2) میں درج اہلیت کی شرط پوری کرے گا۔
کوئی بھی نابالغ کسی یک شخصی کمپنی کے لیے نامزد یا ممبر نہیں بن سکتا اور نہ باہمی مفاد کا حصص رکھ سکتا ہے۔
ایسی کمپنی ،ایکٹ کی دفعہ 8کے تحت تکمیل پا سکتی ہے اور نہ کمپنی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ایسی کمپنی کسی کارپوریٹ ادارے کے تمسکات میں سرمایہ کاری سمیت غیر بینکنگ مالی سرمایہ کاری نہیں کرسکتی۔ 
کوئی کمپنی ،رضاکارانہ طور پر اس وقت تک کسی بھی قسم کی کمپنی میں تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ایک شخص کمپنی کی تشکیل کی مدت اس کے قیام کی تاریخ سے دو سال نہیں ہو جاتی۔ سوائے اس کے کہ اس کی ابتدا کی حد(اداشدہ سرمایہ کا حصہ) 50لاکھ روپئے سے زائد ہو جائے یا متعلقہ مدت کے دوران اس کا سالانہ کاروبار اوسطًا دو کروڑ روپئے سے تجاوز کر جاتا ہے۔  



جدولI-

(دیکھیں دفعات 4اور 5)

حصص کے ذریعہ لمیٹڈ کمپنی کا میمورنڈم اور ایسوسی ایشن 

کمپنی کا نام ..............................................................................................لمیٹڈ /پرائیویٹ لمیٹڈ
کمپنی کا رجسٹرڈ دفتر ریاست .......................................................................................میں قائم ہوگا
(a)کمپنی کے ذریعہ اپنے قیام کے بعد آگے بڑھائے جانے والے مقاصد........................................... ..................................................................................................................................... .....................................................................................................................................
  (b) شقa) 3) میں تصریح کردہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری امور............................................ ..................................................................................................................................... .................................................................................................................................. 
ممبران کی ذمہ داری محدود ہوتی ہے اور یہ دینداری ،اگر کوئی ہے تو ان کے حصص کے مطابق غیر ادا شدہ رقم تک محدود ہوتی ہے۔ 
کمپنی کا سرمایہ شیئر......................................................................................رویہ ہے، ...... ...... ...........................................فی کس روپئے................................................کے شیئر میں تقسیم ہے۔
ہم متعدد افرادجن کے نام اور پتے ،درج کئے جا رہے ہیں، اس میمورنڈم آف ایسو سی ایشن پر عمل کرتے ہوئے ایک کمپنی تشکیل دینا چاہتے ہیں اور ہم نے اپنے اپنے نام کے سامنے درج کمیٹی کے سرمائے کی مذکورہ تعداد میں شیئرز حاصل کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔
 
   گواہ کا دستخط ،نام ،پتہ، تفصیلات اور پیشہ  خریدار کا دستخط   ہر ایک کے ذریعہ لیے گئے شیئرز کی تعداد  خریدار کا نام ،پیشہ، تفصیلات اور پیشہ
    مجھ سے قبل دستخط کیا  
----------دستخط 
--------------------------  چاے ۔بی کا ..................مرچنٹ
 مجھ سے قبل دستخط کیا 
----------دستخط  
 --------------------------  سی ۔ڈی کا ..................مرچنٹ
   مجھ سے قبل دستخط کیا
  -------------دستخط
 ---------------------------  ای ۔ایف کا ................مرچنٹ
    مجھ سے قبل دستخط کیا
 ------------- دستحط
---------------------------
جی۔ایچ کا..................مرچنٹ
 مجھ سے قبل دستخط کیا
------------- دستحط 
 ----------------------------  آئی ۔جے کا ..............مرچنٹ
مجھ سے قبل دستخط کیا
------------- دستحط 
----------------------------  کے ۔ایل کا ..................مرچنٹ
 مجھ سے قبل دستخط کیا 
------------- دستحط 
---------------------------- ایم۔این کا ..................مرچنٹ
لیے گئے کل شیئرز
                                                                                                                                                                                                                                                              
میں،جس کا نام اور پتہ ذیل دیا گیا ہے، اس میمورنڈم آف ایسوسی ایشن پر عمل کرتے ہوئے ،ایک کمپنی تشکیل دینا چاہتا ہوں اور کمپنی کی پونجی میں تمام حصص لینے پر اتفاق کرتا ہوں (یک شخصی کمپنی کے معاملہ میں ما قبل عمل ):-
خریدار کا نام،پتہ خریدار کا دستخط    گواہ کا نام ،پتہ ،تفصیلات اور پیشہ
پیشہ


جناب/محترمہ......................................................پسر/دختر............................................
 حال مقام ....................................عمر....................................سال،اکیلے ممبر کی رحلت کی ضرورت میں نامزد ہوں گے (یک شخصی کمپنی کے معاملہ میں قابل عمل)۔
تاریخ ....................................بروز....................................

اہم  اصطلاحات 

     فروغ میمورنڈم آف ایسوسی ایشن آرٹیکل آف ایسوسی ایشن
     براس کمپٹس تشکیل پونجی خریداری
     کاروبار کی شروعات

خلاصہ

پرائیویٹ کمپنی کی تشکیل، فروغ اور رسمی یا قانونی تشکیل میں دو مراحل ہوتے ہیں۔ پبلک کمپنی کو اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے پونجی وصولی کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے۔
فروغ: اس کی شروعات امکانی کاروبار کے تصور سے ہوتی ہے۔ مخصوص قابل عمل مطالعات جیسے تکنیکی، مالیاتی اور معاشی کا اہتمام یہ متعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ آیا اس تصور کا منافع بخش طور پر استحصال کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ اس سے موافق نتائج حاصل ہوں، فروغ کار کمپنی کی تشکیل کے لیے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ وہ افراد جو کاروبار کے خیال کو ذہن میں لاتے ہیں، کمپنی کی تشکیل کا فیصلہ کرتے ہیں اس کے لیے ضروری اقدامات کرتے ہیں اور متعلقہ جوکھموں کو قبول کرتے ہیں، انھیں فروغ کار کہا جاتا ہے۔

فروغ میں کیے جانے والے اقدامات

(i) کمپنی کے نام کی منظوری رجسٹرار آف  کمپنیز سے لی جاتی ہے۔
(ii) میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کے دستخط کنندگان کے نام طے کیے جاتے ہیں۔
(iii) فروغ کاروں کی مدد کے لیے مخصوص پیشہ ور افراد کا تقرر کیا جاتا ہے۔
(iv) رجسٹریشن کے لیے ضروری دستاویزات تیار کیے جاتے ہیں۔

ضروری دستاویزات

(a) میمورنڈم آف ایسوسی ایشن
(b) آرٹیکل آف ایسوسی ایشن
(c) مجوزہ ڈائریکٹروں کی رضامندی
(d) مجوزہ منیجنگ یا کل وقتی ڈائریکٹر کے ساتھ معاہدہ اگر کوئی ہو
(e) قانونی اقرار نامہ
قانونی تشکیل:ضروری دستاویزات اور رجسٹریشن فیس کے ساتھ کمپنیوں کے رجسٹرار کے پاس فروغ کاروں کو درخواست دینی ہوتی ہے۔ رجسٹرار موزوں چھان بین کے بعد تشکیل کا سر  ٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔رجسٹریشن دینے سے صرف اس صورت میں انکار کیا جا سکتا ہے جب دستاویزات میں کوئی بڑا نقص ہو۔ تشکیل کا سر  ٹیفکیٹ کمپنی کی قانونی موجودگی کا حقیقی ثبوت ہوگا ۔ اگر تشکیل میں کوئی بڑا نقص موجود بھی ہے تب بھی کمپنی کے قانونی وجود کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
سرمایہ کی وصولی: کوئی پبلک کمپنی جو عوام سے فنڈاکٹھا کرتی ہے ۔ اسے اس کے لیے درج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(i)
 SEBIکی منظوری
(ii) رجسٹرارآف  کمپنیز کے یہاں پراسپکٹس کی نقل فائل کر نا ۔
(iii) دلالوں ،بینک کاروں اورحصص بیمہ کاروں وغیرہ کی تقرری۔
(iv) یقینی بنانا کہ کم سے کم رقم وصول ہوجائے ۔
(v) کمپنی کی سیکورٹیزکو درج فہرست کرنے کے لیے درخواست دینا ۔
(vi) زائد وصول شدہ درخواست کی فیس کو واپس کرنا یا اس کی تطبیق کرنا۔
(vii) کامیاب درخواست دہندگان کو الائمنٹ کے خطوط جاری کرنا۔
(viii) رجسٹرارآف  کمپنیز (ROC) کے پاس الائمنٹ کے فارم جمع کرنا ۔
پبلک کمپنی جو نجی طور پررشتہ داروں یا دوستوں سے فنڈ اکٹھا کرتی ہیں(عوام سے نہیں)اسے پراسپیکٹس کی جگہ رجسٹرار آف  کمپنیز کے پاس ایک بیان فائل کرنا ہوتا ہے جو شیئر الاٹ ہونے سے کم از کم تین روز پہلے کیا جانا ضروری ہے اور الا ٹمنٹ کے فارم الاٹمنٹ مکمل ہوجانے کے بعدسیبی (سی ای بی آئی) کے رہنما خطوط کے مطابق کم از کم وصولی، عوام کو جاری کئے جانے والے حصص(شیئرز) کا 90 فیصد تک ہوگی۔
ابتدائی معاہدے: تیسرے فریقوں کے ساتھ فروغ کاروں کے ذریعہ دستخط کیے گئے معاہدے جو کمپنی کی تشکیل سے پہلے ہوتے ہیں، ابتدائی معاہدے ہوتے ہیں ۔
عارضی معاہدے : عارضی معاہدے تشکیل کے بعد لیکن کاروبار شروع کرنے سے پہلے کے دستخط شدہ معاہدے عارضی ہوتے ہیں ۔

مشقیں 

مختصرجواب والے سوالات 

کمپنی کی تشکیل میں ہونے والے مراحل کے نام لکھیے۔
کمپنی کی تشکیل کے لیے مطلوبہ دستاویزات کو درج فہرست کیجیے۔
پراس پکٹس کیا ہے؟کیا پراس پکٹس کو داخل کرنا کمپنی کے لیے ضروری ہے ؟
الاٹمنٹ کی واپسی (Return of Allotment) اصطلاح کی مختصراًوضاحت کیجیے؟
تشکیل کے کس مرحلے میں کمپنی سیبی(SEBI) کے رابطہ میں آتی ہے۔ 

طویل جواب والے سوالات

فروغ (Promotion) سے کیا مراد ہے ؟ کمپنی کے فروغ کے معاملہ میں فروغ کا روں کی قانونی حیثیت پر بحث کیجیے؟
کسی کمپنی کے فروغ میں فروغ کاروں کے ذریعہ اٹھائے جانے والے اقدامات کی وضاحت کیجیے؟ 
’میمورنڈم آف ایسوسی ایشن ‘ کیا ہے ؟مختصراً ان کی دفعات (شقوں) کی وضاحت کیجیے؟ 
’ میمورنڈم آف ایسوسی ایشن ‘ (اغراض و مقاصد کمپنی ) اور آرٹیکل آف ایسو سی ایشن(قواعد وضوابط کمپنی )کے درمیان فرق بتائے؟
کاروبار شروع کرنے کے سرٹیفکیٹ کے معنی کیا ہیں؟
کمپنی کی تشکیل کے مراحل پر تبادلۂ خیال کریں۔

 پروجیکٹ/تفویض کیے گئے کام 

رجسٹرار آف  کمپنیز کے دفتر سے معلوم کریں کہ کمپنی کی تشکیل کیسے ہوتی ہے۔کیا وہ اس سے میل کھاتا ہے جو آپ نے پڑھا ہے۔کمپنی کوخود رجسٹرڈ ہونے میں کون کون سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ تیارکیجیے اوراپنی جماعت میں اس کے بارے میں گفتگوکیجیے۔