Skip to content
Karobarimutuala-001


باب8

کاروباری سرمائے کے ذرائع

سیکھنے کے مقاصد

اس باب کو پڑھ لینے کے بعد آپ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ
• کاروباری مالی وسائل کا مطلب ،نوعیت اور اہمیت کو بتا سکیں۔
کاروباری مالی وسائل کے مختلف ذرائع کی درجہ بندی کرسکیں۔
مختلف مالی وسائل کی خوبیوں اور حدود کا جائزہ لے سکیں۔
• مالی وسائل کے بین الاقوامی ذرائع کی نشاندہی کرسکیں
•  ان اسباب کا جائزہ لے سکیں جو مالی وسائل کے کسی موزوں ذریعے کے انتخاب کو متاثر کرتے ہیں۔

مسٹر انل سنگھ پچھلے دوسال سے ایک ریسٹورنٹ چلار ہے ہیں۔ان کے کھانے کے عمدہ معیار نے کچھ ہی دنوں میں ریسٹورنٹ کو مقبول بنادیاہے۔ اپنے کاروبارکی کامیابی سے حوصلہ پاکر مسٹر سنگھ اب اس خیال پر غور کررہے ہیں کہ مختلف جگہوں پر اس طرح کے ریسٹورنٹوں کا پورا سلسلہ کیوں نہ قائم کر دیں۔ تاہم جو رقم انھیں اپنے ذاتی ذرائع سے دستیاب ہے ۔کاروبار کی توسیع کی ضرورتوں کے لیے ناکافی ہے۔ ان کے والد نے ان سے کہا کہ وہ دوسرے ریسٹورنٹ کے مالک کے ساتھ ساجھے داری کرسکتے ہیں جس سے کہ مزید رقم جمع کی جا سکے لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ منافع اور کاروبار کے انتظام میں ساجھے داری کی جائے۔ وہ بینک سے قرض لینے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ وہ اس مسئلے پر اپنے دوست رمیش سے بات کرتے ہیں جو انھیں بعض دیگر طریقوں کے بارے میں بتاتے ہیں مثلاً یہ کہ حصص اور تمسکات(Depenturs)جاری کیے جائیں جو صرف کمپنی کی حیثیت کے کاروباری ادارے کو دستیاب ہوسکتے ہیں، وہ دوست انہیں اس بات سے بھی آگاہ کرتے ہیں کہ ہر طریقے کی اپنی اچھائیاں اور حدود ہوتی ہیں اور ان کا حتمی انتخاب قرض کے مقصد اور اس کی ادائیگی کی مدت جیسے عناصر پر مبنی ہونا چاہیے۔ مسٹر رمیش ان طریقوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

8.1  تعارف

 اس باب میں ان مختلف ذرائع کا ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے جن سے کوئی کاروبار شروع کرنے اور اسے چلانے کے لیے رقوم حاصل کی جاسکتی ہوں ۔ اس میں مختلف ذرائع کے فوائد اور ان کی حدود پر بھی بحث کی گئی ہے اور ان عوامل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو کاروبار کی مالیات کے موزوں ذریعے کے انتخاب کا تعین کرتے ہیں۔

کوئی کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند شخص کے لیے ایسے مختلف ذرائع کے بارے میں جاننا ضروری ہے جہاں سے رقم حاصل کی جاسکے۔ مختلف ذرائع کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے تاکہ کسی موزوں ذریعہ کا انتخاب کیا جاسکے۔

 8.2 کاروباری مالی وسائل کا مفہوم، نوعیت اور اہمیت

کاروبار کا تعلق معاشرے کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اشیاء اور خدمات کی تقسیم وفراہمی سے ہے۔ مختلف کاروبار ی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے کاروبار کو روپئے کی ضرورت ہوتی ہے۔  مالی وسائل کو اسی لیے کسی کاروبارکی شہ رگ کہا جاتا ہے ۔کسی کاروبار کو اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے درکار رقم کو کاروباری مالی وسیلہ کہا جاتا ہے۔

جب تک کسی کاروبار کے لیے موزوں مالی وسائل فراہم نہ کیے جائیں وہ اپنا کام انجام ہی نہیں دے سکتا۔ کار اندازہ (Entrepenture)کی طرف سے لگایا جانے والا ابتدائی سرمایہ کاروبارکی تمام مالی ضروریات کی تکمیل کے لیے ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔ اس لیے کاروباری مالی وسائل کے دیگر ذرائع کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ جہاں سے رقم کی ضرورت پوری کی جاسکے ۔ اس لیے مالی ضروریات کا واضح جائزہ اور مالی وسائل کے مختلف ذرائع کی نشاندہی کسی کاروبار میں ادارے کو چلانے کا نمایاں پہلو ہے۔

رقم کی ضرورت اس مرحلے پر پڑتی ہے جب کوئی کارانداز کوئی کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے بعض رقوم کی ضرورت فوراً ہوتی ہے مثلاً پلانٹ اور مشینری کی خریداری ،فرنیچر اور دیگر قائم یا مستقل اثاثہ جات۔ اسی طرح بعض رقوم روز مرّہ کے کاموں کے لیے درکار ہوتی ہیں مثلاً خام مال خرید نے اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے وغیرہ کے لیے۔ اس کے علاوہ جس کاروبار کو توسیع دی جانی ہوتی ہے اس کے لیے ہمیں رقوم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ 

کسی کاروبار کی مالی ضروریات کو مندرجہ ذیل زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

(a) مستقل نوعیت کے سرمائے کی ضروریات:کوئی کاروبار شروع کرنے کی غرض سے قائم اثاثہ جات مثلاً زمین اور عمارت، پلانٹ اور مشینری اور فرنیچر وغیرہ خرید نے کے لیے رقوم کے ضرورت ہوتی ہے۔ اسے انٹر پرائز کی قائم اصل (پونجی)کی ضروریات کہا جاتا ہے ۔ قائم اصل کی مختلف رقوم لمبی مدت تک کاروبار میں لگتی رہتی ہیں۔ کاروبار کی نوعیت وغیرہ کے اعتبار سے مختلف کاروباری یونٹوں کو الگ الگ رقموں کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا انحصار مختلف عوامل جیسے کاروبار کی نوعیت وغیرہ پر ہوتا ہے ۔ کسی تجارتی کمپنی کو مصنوعات سازی کے ادارے کے مقابلے میں کم قائم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح چھوٹے انٹرپرائز کے مقابلے میں کسی بڑے انٹر پرائز کو زیادہ قائم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔

(b) کاروباری سرمائے کی ضروریات: کسی انٹر پرائز کے قائم اثاثے کے حصول کے ساتھ اس کی مالی ضرورتیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ اس سے قطع نظر کہ کوئی کاروبار کتنا بڑا یا کتنا چھوٹا ہے، اسے اپنے روز مرّہ کے کام کوانجام دینے کے لیے رقوم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسے کسی انٹر پرائز کی کاروباری سرمایے کی ضروریات کہتے ہیں جو موجودہ اثاثوں کو محفوظ رکھنے مثلاً سامانوں کا اسٹاک ،موصولہ مال کے بل اور موجودہ اخراجات کی تکمیل مثلاً تنخواہوں ، اجرتوں ، محصولات اور کرایے کے لیے استعمال کے جاتی ہیں۔

 مطلوبہ کاروباری سرمائے کی رقم ہر کاروباری ادارے کے لیے الگ الگ ہوتی ہے۔جس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔ مثلاً ادھار پر سامان بیچنے والی فرم فروخت کی سست رفتار والے یونٹ کو نقد کی بنیاد پر اشیااور خدمات فروخت کرنے یا نسبتاً تیز رفتار فروخت کی آمدنی رکھنے والے ادارے کی مقابلے میں زیادہ کاروباری سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کاروبار میں ترقی اور توسیع کے ساتھ قائم اور کاروباری سرمائے کی ضرورت میں بھی اضافہ ہو تاجاتا ہے۔ کبھی کبھی کاروبار میں استعمال ہونے والی ٹکنالوجی کو جدید تر بنانے میں مزید فنڈوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اس لیے پیداوار یا مال کی لاگت میں کمی لائی جاسکے۔ اس طرح نسبتاً زیادہ بڑی رقوم کی ضرورت ہوگی۔ڈیمانڈ کے سیزن میں لمبی فرد اشیا مرتب کرنے یا موجودہ قرضوں کو چکانے یا کاروبار کو وسیع کرنے یا کسی نئے مقام عمل پر منتقل ہونے کے لیے پڑسکتی ہے۔ اس لیے ان مختلف ذرائع کا جائزہ لینا ضروری ہے جہاں سے رقوم اکٹھا کی جاسکتی ہوں۔

8.3  رقوم کے ذرائع کی درجہ بندی

مالکانہ اور شراکت داری کے معاملات میں رقوم کی فراہمی یاذاتی ذرائع سے یا بنکوں،دوستوں وغیرہ سے لیے گئے ادھار سے کی جاسکتی ہے ۔اگر کاروباری تنظیم کمپنی کی نوعیت کی ہے تو کاروباری مالی اعانت کے مختلف ذرائع کی زمرہ بندی جدول8.1کے مطابق کی جاسکتی ہے۔
جیسا کہ جدول سے ظاہر کہ رقم کے ذرائع کی مختلف بنیادوں کی مدد سے زمرہ بندی کی جا سکتی ہے یعنی مدت، رقم پیدا ہونے کے ذریعے اور ملکیت کی بنیاد پر ذیل میں اس زمرہ بندی اور ذرائع کی مختصر وضاحت کی گئی ہے؛
15

8.3.1  مدت کی بنیاد پر

مدت کی بنیاد پر فنڈ کے مختلف ذرائع کی زمرہ بندی تین حصوں میں کی جاسکتی ہے ۔یہ ہیں طویل مدتی ذرائع،وسط مدتی ذرائع اورقلیل مدتی ذرائع ۔
طویل مدتی ذرائع کسی انٹر پرائیز کی مالیاتی ضروریات کی تکمیل اتنی مدت کے لیے کرتے ہیں جو پانچ سال سے تجاوز نہ کرے اور اس میں شامل ذرائع ہیں شیئرز اور ڈیبنچرز ،طویل مدتی قرضے اور مالیاتی اداروں سے لیے گئے قرضے۔ اس طرح کی سرمایہ کاری کی ضرورت عام طور پردر آمدات اور مشینری جیسے قائم اثاثے کی فراہمی کے لیے ہوتی ہے۔ 
ایسی حالت میں فنڈ کی ضرورت ایک سال سے زیادہ لیکن 5سال سے کم مدت کے لیے ہوتو وسط مدتی ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ذرائع میں کمرشیل بینکوں سے لیے گئے قرضے ، پبلک ڈپازٹس، نیز سرمایہ کاری اور مالیاتی اداروں سے لیے گئے قرضے شامل ہوتے ہیں۔
قلیل مدتی فنڈ جن کی ضرورت زیادہ سے زیادہ ایک سال کے لیے پڑتی ہو۔ تجارتی قرض ،کمرشیل بینکوں سے لیے گئے قرضے اور تجارتی دستاویزات ان ذرائع کی بعض مثالیں ہیں جو مختصر مدت کے لیے رقوم فراہم کرتے ہیں۔
قلیل مدتی سرمایہ کاری موجودہ اثاثوں کے لیے رقم فراہم کرنے کا عام ترین ذریعہ ہے مثلاً قابل وصول واجبات ، فرد اشیا ایسے موسمی کاروبار جنہیں فروختگی کی کئی ضروریات کی توقع میں فرد اشیا مرتب کرنا ضرورت ہو۔ انہیں سیزنوں کے درمیان ہورہی مدت میں اکثر قلیل مدتی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ایسے تھوک فروش اور مصنوعات کے تیار کنندگان کو بھی جن کے اثاثوں کا ایک بڑا حصہ فرد اشیاء یا قابل وصول واجبات میں گھراہوا ہو۔ مختصر مدت کے لیے بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔

8.3.2   ملکیت کی بنیاد پر

ملکیت کی بنیاد پر رفنڈ کو ملکیتی فنڈ اور ادھارلی گئی رقوم میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ملکیتی رقوم کا مطلب وہ رقوم ہے جو کسی انٹرپرائز کے مالکان کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں اور یہ انٹر پرائز کوئی تنہا تاجر ہوسکتا ہے یا کسی کمپنی میں ساجھے دار ہوسکتا ہے یا اس کے پاس کسی کمپنی کے حصص ہو سکتے ہیں۔اصل رقم کے علاوہ اس میں وہ منافع بھی شامل ہے جسے زیادہ کاروبار میں دوبارہ لگایا گیا ہے۔مالک کا سرمایہ اس میں زیادہ مدت کے لیے لگارہتا ہے اور کاروبار کی زندگی کے دوران اسے لوٹائے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ سرمایہ ایک ایسی بنیاد کی تشکیل کرتا ہے جس کے ذریعے مالکان کو انتظامیہ پرکنٹرول رکھنے کا حق مل جاتا ہے ۔ اکوئٹی شیئرز کا اجرا اور زیر قبضہ کمائی وہ دو اہم ذرائع ہیں جہاں سے ملکیتی رقوم حاصل کی جاسکتی ہیں۔
دوسری طرف ادھار لی گئی رقوم سے مراد وہ رقوم ہیں جو قرضوں اور ادھار سے حاصل کی جاتی ہیں۔ ادھار کی رقم کے حصول کے ذرائع میں کمرشیل بنکوں کے قرضے ،مالیاتی اداروں کے قرضے، ڈبیچرز کا اجراء ،پبلک ڈپازٹس اور کریڈٹ شامل ہیں۔ اس طرح کے ذرائع ایک مخصوص مدت کے لیے رقوم فراہم کرتے ہیں۔ ان کی مخصوص شرائط اور قواعد ہوتے ہیں اور مقررہ مدت کے بعد انھیں واپس اداکرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کی رقوم پر مقررہ شرح سے سود ادا کرنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس سے کاروبار پر بہت بوجھ پڑتا ہے کیونکہ سود کی ادائیگی آمدنی کم ہونے یا کاروبار میں خسارہ ہونے کے باوجودبھی کرنی پڑتی ہے۔ عام طور پر ادھار کی رقوم بعض قائم اثاثوں کی ضمانت پر مہیا کی جاتی ہیں۔

8.3.3  پیداکاری کے ذریعہ کی بنیاد پر

رقوم کے ذرائع کی زمرہ بندی کی ایک اور بنیاد یہ ہوسکتی ہے کہ آیا رقوم خود تجارتی تنظیم کے اندر پیدا کیے گئے ہیں یا خارجی ذرائع سے۔ رقوم کے داخلی ذرائع وہ ہیں جو کاروبار کے اندر پیدا کیے جائیں۔ مثلاً کوئی کاروبار داخلی طور پر قابل حصول حسابات کے عمل کو تیز کرکے فاضل اشیاکی نکاسی کرکے اور اپنے منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری کرکے رقوم پیدا کرسکتا ہے۔ رقوم کے داخلی ذرائع کاروبار کی صرف محدود ضرور توں کی ہی تکمیل کرسکتے ہیں۔
رقوم کے خارجی ذرائع میں وہ ذرائع شامل ہوتے ہیں جو کسی تجارتی تنظیم کے باہر موجود ہوں ۔مثلاً فراہم کنندگان، ساہو کار اور سرمایہ کار،جب بڑی مقدار میں رقم اکٹھی کرنی ہوتی ہے تو اسے عموماً خارجی ذرائع سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔خارجی فنڈ داخلی فنڈوں کے مقابلے میں مہنگے ہو سکتے ہیں ۔ رقوم حاصل کرتے وقت ضمانت کے طور پر گروی خارجی ذرائع سے فنڈ حاصل کرنے کے لیے کچھ صورتوں میں کاروبار کو اپنے اثاثہ جات ضمانت کے طور پر گروی رکھنے پڑ جاتے ہیں۔ڈیبچرز کا اجرا ، کمرشیل بینکوں سے لیا گیا ادھار اور مالیاتی اداروں کے قرضے اور پبلک ڈپوزٹس رقوم کے داخلی ذرائع کی بعض مثالیں ہیں جنہیں کاروباری تنظیمیں استعمال کرتی ہیں۔

8.4  مالیاتی ذرائع

کوئی کاروبار مختلف ذرائع سے فنڈ حاصل کرسکتا ہے، ہر ذریعہ یا وسیلہ کی الگ الگ منفرد خصوصیات ہوتی ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لیا جانا چاہئے تاکہ رقم کی دستیابی کے بہترین ذرائع کی نشاندہی ہوسکے۔ تمام تنظیموں کے لیے رقوم کا ایک بہترین ذریعہ نہیں ہوتا ۔ صورت حال کے مطابق ،مقصد ،لاگت اور اس سے ہونے والے خطرات کو دیکھتے ہوئے استعمال کیے جانے والے ذریعہ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کاروبار قائم سرمائے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم اکٹھا کرنا چاہتا ہے تو طویل مدتی رقوم کی ضرورت ہوسکتی ہے، جو ملکیتی رقوم یا ادھار کی رقوم کی شکل میں اکٹھا کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح اگر اس کا مقصد کاروبار کی روز مرہ کی ضروریات کوپورا کرنا ہے تو قلیل مدتی ذریعہ کی تلاش کرکے اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مختلف ذرائع کا مختصر بیان اس کے فوائد اور حدود کے ساتھ ذیل میں دیا جارہا ہے۔

8.4.1   زیر تحویل آمدنی

عام طور پر کوئی کمپنی تمام کمائیاں شیر ہو لڈرز کے درمیان منافع تقسیم کرنے میں نہیں لگاتی ہے ۔ خالص کمائی کاایک حصہ آئندہ استعمال کرنے کے لیے کاروبار میں بچا کر رکھ لیا جاتا ہے ۔ اسےریزرو اسٹاک سرمایہ کہتے ہیں۔ اور یہ داخلی سرمایہ کاری یا خود سرمایہ کاری یا منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری کاذریعہ ہوتا ہے۔ کسی تنظیم میں باز سرمایہ کاری کے لیے دستیاب رقم کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے جیسے خالص منافع، تقسیم منافع کی پالیسی اورتنظیم کی عمر۔

خوبیاں

سرمایہ کاری کے ایک ذریعے کی حیثیت سے زیر دست کمائی یا سرمائے کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
(i) زیردست سرمایہ کسی تنظیم کے لیے آمدنی کا مستقل ذریعہ ہے 
(ii) اس میں سود، منافع ، متغیر لاگت جیسی کوئی واضح لاگت شامل نہیں ہوتی۔
(iii) رقوم چونکہ داخلی طور پر پیدا ہوتی ہیں اس لیے کام کرنے کی کافی آزادی ہوتی ہے ۔
(iv) کاروبار کو لاحق ہونے والے غیر متوقع خساروں کو برداشت کرنے کی استعداد کو بڑھاتی ہے۔
(v) یہ کمپنی کے اکوئٹی شیئرز کی بازاروں میں قیمت کے اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

حدود

فنڈ کے ذریعے کی حیثیت سے زیردست کمائی کی مندرجہ ذیل حدود ہوتی ہیں:
(i) بہت زیادہ باز سرمایہ کاری کے نتیجے میں شیئر ہولڈرز میں بے اطمینانی پھیل سکتی ہے کیونکہ ان کو منافع کی کم رقم ملے گی۔
(ii) یہ رقوم کا ایک غیر یقینی ذریعہ ہے کیونکہ کاروبار کے منافع میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔
(iii) ان رقوم سے وابستہ اتفاقی لاگت کو کئی فرمیں تسلیم نہیں کرتی ہیں ۔ اس کے نتیجے میں رقوم کا مناسب ترین سے کم استعمال ہوسکتا ہے۔

8.4.2   تجارتی کریڈٹ(قرض)

ٹریڈ کریڈٹ وہ قرض ہے جو ایک ٹریڈر دوسرے ٹریڈر کو سامان اور خدمات کی خریداری کے لیے دیتا ہے۔ تجارتی ادھار فوری ادائیگی کے بغیر ضروری سامانوں کی خریداری میں مددگار ہوتا ہے۔ اس طرح کا کریڈٹ خریدارکے ریکارڈ میں متفرق قرض خواہ یا قابل ادائیگی کھاتہ کے طو رپر دکھایا جاتا ہے۔ ٹریڈ کریڈٹ کو کاروباری ادارے عموماً قلیل مدتی سرمایہ کاری کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یہ ان گاہکوں کو دیا جاتا ہے جن کا مالی استحکام اور ساکھ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کاروباری تنظیمیں، تجارتی اُدھار کو قلیل مدتی سرمایہ کاری کے ایک ذریعہ کے طور پراستعمال کرتی ہیں۔ یہ ایسے گاہکوں کو دیا جاتاہے جن کی معقول مالی ساکھ اور حیثیت ہوتی ہے۔اُدھار کی رقم کی مقدار اور مدت کا انحصار کچھ عوامل پر ہوتا ہے جیسے خریدنے والی فرم کی شہرت، فروخت کنندہ کی مالی حالت، خریداری کا مالی حجم،ماضی میں ادائیگی کا ریکارڈ اور بازار میں اس کی مسابقت یا مقابلہ کی سطح ۔ ٹریڈ کریڈٹ کی شرائط ہر صنعت میں الگ الگ ہوسکتی ہیں۔ کوئی فرم مختلف گاہکوں سے الگ الگ شرائط پر بھی لین دین کی سکتی ہے۔

خوبیاں

ٹریڈ کریڈٹ کی نمایاں خوبیاں حسب ذیل ہیں:
(i) ٹریڈ کریڈٹ رقوم کا آسان اور مسلسل ذریعہ ہے
(ii) اگر گاہک کی ادھار چکانے کی حیثیت سے بیچنے والا فریق واقف ہے تو ٹریڈ کریڈٹ فوری طور پر دستیاب ہوسکتا ہے۔
(iii) ٹریڈ کریڈٹ کو کسی کاروباری تنظیم کی فروخت کے فروغ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(iv) اگر کوئی تنظیم مستقبل قریب میں اپنی فروخت میں متوقع اضافے کے لیے اپنی فہرست اشیا کی سطح کو بڑھانا چاہتی ہے تو وہ اس میں سرمایہ کاری کے لیے ٹریڈ کریڈٹ کو کام میں لاسکتی ہے۔
(v) رقوم فراہم کرتے ہوئے یہ کمپنی کے اثاثوں پر کوئی بار نہیں ڈالتا۔

حدود

رقوم کے ذریعے کی حیثیت سے ٹریڈ کریڈٹ کی مندرجہ ذیل خامیاں اور حدو دہیں۔
(i) ٹریڈ کریڈٹ کی آسان اور لچک دار سہولتیں کسی فرم میں ضرورت سے زیادہ ٹریڈنگ کی عادت ڈال سکتی ہیں جس سے فرم کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
(ii) ٹریڈ کریڈٹ سے صرف محدود مقدار میں رقم پیدا کی جاسکتی ہے۔
(iii) فنڈ جمع کرنے کے دوسرے ذرائع کے مقابلے میں یہ سرمایہ کاری کا زیادہ مہنگاذریعہ ہے۔

8.4.3  فیکٹرنگ

فیکٹرنگ ایک مالیاتی سروس ہے جس کے تحت فیکٹر مختلف خدمات انجام دیتا ہے جس میں شامل ہیں۔
(a) بلوں میں رعایت دینا (چارہ جوئی کے ساتھ یا اس کے بغیر اور گاہکوں کے قرضوں کی وصولی۔ اس کے تحت خدمات یا اشیا کی فروخت سے قابل وصول حسابات مخصوص رعایت پر فیکٹر کو بیچ دیے جاتے ہیں۔ اوروہ خریدار سے قرضے کے وصولی کا ذمہ دار ہوجاتا ہے اور فرم کو قرضوں کے خساروں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ فیکٹر نگ کے دو طریقے ہوتے ہیں یعنی چارہ جوئی اور عدم چارہ جوئی۔چارہ جوئی والی فیکٹرنگ کے تحت مؤکل پھنسے ہوئے قرضوں کے خطرات سے محفوظ نہیں رہتا۔ دوسری طرف فیکٹر عدم چارہ جوئی والی فیکٹرنگ کے تحت قرض کے پورے جو کھم کی ذمہ داری خود رکھ سکتا ہے۔ یعنی یہ کہ قرض کے ڈوب جانے پر گاہک کو فہرست اشیا کی پوری رقم ادا کی جاتی ہے۔ 
(b) متوقع مؤکلوں کی قرض کی ادائیگی کی سے متعلق معلومات فراہم کرنا۔ فیکٹر ز کے پاس فرموں کی تجارتی تاریخ سے متعلق معلومات کا بڑا ذخیرہ ہوتا ہے ۔یہ ان لوگوں کے لیے ایک قیمتی ذریعہ ہوسکتا ہے جو فیکٹرنگ سروسز کا استعمال کرتے ہوں اور اس طرح خراب ادائیگی کا ریکارڈ رکھنے والے گاہکوں سے لین دین کرنے سے بچ سکتے ہیں۔ فیکٹرز سرمایہ کاری،مارکیٹنگ وغیرہ کے شعبوں میں متعلقہ مشاورتی خدمات بھی فراہم کرسکتے ہیں۔
فیکٹر، خدمات کی فراہمی کی اجرت وصول کرتا ہے۔ فیکٹرنگ ہندوستانی سرمایہ کاری کے منظر نامے پر آربی آئی یعنی ریزرو بینک آف انڈیاکے اقدامات کے نتیجے میں 1990کی دہائی کے اوائل میں ہی رونما ہوا ہے۔ اس طرح کی خدمات فراہم کرنے والی تنظیموں میں ایس بی آئی فیکٹر ز اور کمرشیل سروسز لمیٹڈ کین بنک فیکٹرز لمیٹڈ، فورموسٹ فیکٹرز لمیٹڈ، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، کنارا بینک، پنجاب نیشنل بینک اور الہ آباد بینک شامل  ہیں۔اس کے علاوہ بہت سی غیر بینکنگ مالی کمپنیاں اور دیگر ایجنسیاں بھی فیکٹرنگ خدمات فراہم کرتی ہیں۔

خوبیاں

سرمایہ کاری کے ذریعے کے طور پر فیکٹر نگ کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
(i) فیکٹرنگ کے ذریعہ رقوم حاصل کرنا بینک کریڈٹ جیسے ذرائع کے مقابلے میں سستا پڑتا ہے۔
(ii) فیکٹرنگ میں نقدی کے بہاؤ کی رفتار میں تیزی آنے سے موکل وقت ضرورت فوراً اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرسکتا ہے ۔
(iii) سرمایہ کاری کے ذریعے کی حیثیت سے فیکٹرنگ لچکدار ہوتی ہے اور کریڈٹ فروخت سے مقررہ انداز سے نقدی کے آنے کی ضمانت دیتی ہے یہ کسی ایسے قرض کو محفوظ کرتی ہے جو کوئی فرم بصورت دیگر وصول کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
(iv) یہ فرم کے اثاثوں پر کسی طرح کا بوجھ نہیں ڈالتی۔
(v) مؤکل اپنے کاروبار کے دوسرے شعبوں پر توجہ مرکوز کرسکتا ہے کیونکہ کریڈٹ کنٹرول کی ذمہ داری فیکٹر اٹھاتا ہے۔

حدود(خامیاں)

سرمایہ کاری کے ذریعے کی حیثیت سے فیکٹرنگ کی مندرجہ ذیل حدود ہیں:
(i) یہ ذریعہ اس وقت مہنگا ہوجاتا ہے جب فہرست اشیا یا بیجک بہت سی ہوں اور ان کی رقمیں کم ہوں۔
(ii) فیکٹر فرم کی طرف سے دیا جانے والا سرمایہ عام شرح سود کے مقابلے عموماً اونچی شرح سود پر دستیاب ہوتا ہے۔
(iii) فیکٹر اس گاہک کے لیے تیسرا فریق ہوتا ہے جس کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے دشواری محسوس ہو۔

8.4.4  پٹہ سرمایہ کاری

پٹہ ایک معاہدہ جاتی سمجھوتہ ہوتا ہے یعنی ایک فریق کسی اثاثے کا مالک دوسرے فریق کو اپنا کوئی اثاثہ وقفہ جاتی ادائیگی کے عوض استعمال کرنے کی اجازت اور حق دیتا ہے۔ دوسرے رفقاء میں یہ مخصوص مدت کے لیے کسی اثاثے کو کرایے پر اٹھانا ہے۔ اثاثے کے مالک کو پٹہ کار کہتے ہیں جب کہ اثاثے کو استعمال کرنے والے فریق کو پٹے دار کہا جاتا ہے۔ (باکس A میں دیکھیں) پٹہ دار اثاثے کے استعمال کے مدت مقرر وقفے سے طے شدہ رقم ادا کرتا ہے جسے کرایہ پٹہ کہا جاتا ہے ۔ پٹے کے معاہدے کی ضابطہ بندی کرنے والی شرائط اور تقاضے پٹے کے معاہدہ نامے میں دئیے جاتے ہیں ۔پٹے کی مدت کے خاتمہ پر اثاثہ پٹہ کار کو واپس ہوجاتا ہے۔ پٹہ سرمایہ کمپنی کو جدید کاری اور تنوع کاری کااہم وسیلہ فراہم کرتی ہے۔ اس طرح کی سرمایہ کاری کمپیوٹر اورا لیکٹرانک سازوسامان جیسے اثاثوں کے حصول کے لیے زیادہ عام ہے۔ جو ٹکنالوجی کی تیزی سے بدلتی ہوئی ترقیوں کی وجہ سے جلد ہی استعمال سے خارج ہوجاتے ہیں ۔ پٹہ کاری کا فیصلہ کرتے وقت کسی اثاثے کو پٹے پر اٹھانے کی لاگت کا موازنہ اس اثاثے کو ملکیت میں لانے کے خرچ سے کرنا چاہیے۔

خوبیاں

پٹہ سرمایہ کاری کے اہم فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
(i) یہ پٹہ کار کوکم سرمایہ کاری سے کوئی اثاثہ حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے ۔
(ii) سیدھی اور آسان دستاویزی شرائط اثاثوں کے سرمایہ کاری کو آسان بناتی ہیں۔
(iii) پٹے کی قسطیں جو پٹے وار ادا کرتا ہے قابل ٹیکس دہندگی منافعوں کا حساب لگانے کے لیے منہا کی جاسکتی ہیں۔
(iv) یہ حق ملکیت یا کاروبار پر اختیار میں تخفیف کیے بغیر ہی  سرمایہ فراہم کرتی ہے۔
(v) پٹہ معاہدہ کسی انٹرپرائیز کی قرضہ ونقدی کی صلاحیت کو متاثر نہیں کرتا اور
(vi) قرض کے خاتمے کا (Obsolesceuce)جوکھم پٹہ کار کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ اس سے پٹے دار کو کسی اثاثے کی تبدیل کرنے کی زیادہ آسانی مل جاتی ہے۔

حدود

پٹہ سرمایہ کاری کی حدود مندرجہ ذیل ہیں:
(i) کوئی پٹہ معاہدہ اثاثوں کے استعمال پر بعض پابندیاں لگاسکتا ہے مثلاً ہوسکتا ہے کہ وہ پٹے دار کو اثاثے میں کوئی تبدیلی یا رد وبدل کرنے کی اجازت نہ دے۔
(ii) پٹے کی تجدید نہ ہونے کی حالت میں عام کاروباری کاموں پر اثر پڑسکتا ہے۔
(iii) اگر سازوسامان کار آمدنہ پائے جائیں اور پٹے دار پٹہ معاہدے کو مستقل طور پر ختم کرنا چاہے تو اس کے نتیجے میں ادائیگیوں کی ذمہ داری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ 
(iv) پٹے دار اثاثے کا مالک کبھی نہیں بنتا۔ یہ اثاثے کی باقی مالیت سے محرو م کردیتا ہے۔

8.4.5  پبلک ڈپازٹس

تجارتی تنظیمیں جوعوام سے براہ راست ڈپازٹس حاصل کرتی ہیں انھیں پبلک ڈپازٹس کہا جاتا ہے۔ پبلک ڈپازٹس پر جس شرح سے سود دیا جاتا ہے وہ بینک پر ڈپازٹس پر دی جانے والی شرح سے اونچی ہوتی ہے۔ جو شخص بھی کسی تجارتی تنظیم میں رقم جمع کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو، ایک مخصوص فارم بھر کر ایسا کرسکتا ہے۔ اس کے عوض میں متعلقہ تنظیم ایک ڈپازٹ رسید جاری کرتی ہے، جو قرض کا اعتراف ہوتی ہے۔ پبلک ڈپازٹس کسی کاروبار کے وسط مدتی اور قلیل مدتی دونوں طرح کی مالیاتی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں ۔ یہ ڈپازٹس جمع کرنے والے اور کاروباری تنظیم دونوں کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ ایک طرف ڈپازٹس پر جمع کرنے والوں کو بینک کے مقابلے میں سود کی اونچی شرح ملتی ہے تو دوسری طرف کمپنی کو ڈپازٹس کی لاگت بینک سے لی گئی ادھار کی رقم پر آنے والی لاگت سے کم پڑتی ہے۔ کمپنیاں عام طور پر پبلک ڈپازٹس تین سال تک کی مدت کے لیے طلب کرتی ہیں۔ پبلک ڈپازٹس کی منظوری کا ضابطہ ریزرو بینک آف انڈیا طے کرتی ہے۔

خوبیاں

پبلک ڈپازٹس کے مندرجہ ذیل فائدے ہیں:
(i) ڈپازٹس حاصل کرنے کا طریقہ کار آسان ہے اور قرضہ کے معاہدوں کے برعکس ان پر کوئی پابندی عائد کرنے والی شرائط نہیں ہوتیں۔
(ii) پبلک ڈپازٹس پرآنے والی لاگت بینکوں اور مالیاتی اداروں سے ادھارلی گئی رقموں پر آنے والی لاگت سے کم ہوتی ہے۔
(iii) پبلک ڈپازٹس عموماً کمپنی کے اثاثوں پر کوئی بار نہیں ڈالتے۔ اثاثے دیگر ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کے لیے ضمانت کے طور پر کام میں لائے جاسکتے ہیں ۔
(iv) ڈپازٹ کرنے والے لوگوں کو چونکہ ووٹ دینے کے حقوق حاصل نہیں ہوتے لہٰذا کمپنی کے اختیار میں کوئی تخفیف نہیں ہوتی۔

باکس A 

مالکان پٹہ

1۔  ا ختصاص یا فتہ پٹے کار کمپنیاں (لیزنگ کمپنیز): ایسی تقریباً400بڑی کمپنیاں ہیں جن کا تنظیمی محور پٹہ سرمایہ ہوتا ہے اور انھیں لیزنگ کمپنیز کہا جاتا ہے۔
2۔  بینک اور ان کی ضمنی شاخیں: فروری 1994میں آر بی آئی نے بینکوں کو براہ راست پٹہ سرمایہ کاری کے میدان میں اترنے کی اجازت دی تھی۔ اس وقت تک صرف بینک کی شاخوں کو پٹہ سرمایہ کاری کے کاموں میں لگنے کی اجازت تھی جو آر بی آئی کے نزدیک غیر بینک کارانہ سرگرمی تھی۔
3 ۔  اختصاص یافتہ مالیاتی ادارے: ہندوستان میں مرکزی اور صوبائی دونوں سطحوں پر بہت سے مالیاتی ادارے روایتی سرمایہ کاری کی دستاویزات کے ساتھ ساتھ پٹہ سرمایہ کاری کے دستاویزات بھی استعمال کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ICICIہندوستانی پٹہ سرمایہ کاری کے پیش رؤوں میں سے ہے۔
4۔  صنعت کار مالک پٹہ: چونکہ بازار کی مسابقت مصنوعات ساز کو اپنی فروخت کو بڑھانے پر مجبور کرتی ہے۔ لہٰذا اسے پٹے پر اپنی مصنوعات کو بیچنے کا بہترین طریقہ مل جاتا ہے ۔ وینڈرز یا بیوپاری پٹہ سرمایہ کاری کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت موٹر گاڑیوں اور پائدار اشیاء صرف وغیرہ فروخت کرنے والوں کی انجمنیں بنی ہوئی ہیں۔ یا انہوں نے پٹہ کمپنیوں کے ساتھ ان کی مصنوعات کے بدلے پٹہ سرمایہ فراہم کرنے کے لیے مشترک تجارتی اتحادیا تجارتی مہم قائم کرنا شروع کر دیا ہے ۔

مالکان پٹہ

1۔  سرکاری شعبے کی پٹہ داران کاروباری تنظیمیں:  ماضی میں اس بازار نے فروغ کی ایک شرح دیکھی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں دونوں کی ان ملکیتی تنظیموں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کو پٹے کی سرمایہ کاری کی طرف رخ کرنا پڑا ہے۔
2۔  وسط بازار کی کمپنیاں:  وسط بازار کی کمپنیاں (یعنی ایسی کمپنیاں جن کی ساکھ تو اچھی ہوتی ہے لیکن عام لوگوں میں ان کی شبیہ بہت نمایاں نہیں ہوتی۔) پٹے پر سرمایہ فراہمی کے کام میں داخل ہوگئی ہیں اور یہ کام انھوں نے بینک/ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر شروع کیا ہے۔
3۔  صارفین:  کارپوریٹ سرمایہ کاری کے حال کے بُرے تجربے کی وجہ سے پائیدار اشیائے صرف کی خوردہ سرمایہ کاری کی جانب توجہ مرکوز ہوئی ہے۔مثال کے طور پر کاروں کا پٹہ آج کل ہندوستان میں ایک بڑا بازار ہو گیا ہے۔
4۔  سرکاری محکمے یا با اقتدار ادارے:  پٹے کے بازار میں سب سے بعد میں داخل ہونے والوں میں سے ایک خود حکومت ہی ہے۔حال ہی میں مرکزی حکومت کے محکمہ ٹیلی مواصلات نے آگے بڑھ کر پٹے پر سرمایہ دینے کے تقریباً 1,000(ایک ہزار)کروڑ روپئے کے ٹینڈر جاری کیے ہیں۔

حدود

پبلک ڈپازٹس کی نمایاں حدود مندرجہ ذیل ہیں:
(i) عموماً نئی کمپنیوں کے لیے پبلک ڈپازٹس سے رقوم اکٹھا کرنا مشکل ہوتا ہے۔
(ii) یہ سرمایہ حاصل کرنے کا غیر معتبر ذریعہ ہے کیونکہ جب کمپنی کو پیسے کی ضرورت پڑے تو ہوسکتا ہے کہ عوام اس کی طرف توجہ نہ دیں۔
(iii) پبلک ڈپازٹس کا جمع کرنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ خصوصاً جب مطلوبہ ڈپازٹس کی مقدار زیادہ ہو۔

8.4.6  تجارتی تمسکات کمرشیل پیپر (سی پی)

تجارتی تمسک ہمارے ملک میں قلیل مدتی سرمایہ کاری کے ذریعے کی حیثیت سے1990کی دہائی کے اوائل میں رائج ہوئی۔ تجارتی تمسک ایک غیر ضمانت شدہ پرونوٹ ہے جو کوئی فرم رقوم اکٹھا کرنے کے لیے قلیل مدت کے لیے جاری کرتی ہے۔ اور یہ 90دن سے 364دن کی کوئی مدت ہوسکتی ہے۔ یہ ایک فرم کی طرف سے دوسری تجارتی فرموں ،بیمہ کمپنیوں ، پینشن فنڈ ز اور بینکوں کو جاری کی جاسکتی ہے۔ جو رقم کسی بھی کے ذریعے جمع کی جاتی ہے وہ عموماً بہت بڑی ہوتی ہے۔ کیونکہ قرضہ پوری طرح غیر ضمانت شدہ ہوتا ہے، قرض خواہی کی اچھی حیثیت رکھنے والی کمپنیاںہی اسے جاری کرسکتی ہیں۔اس کی ضابطہ بندی، ریزور بینک آف انڈیا کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

تجارتی تمسکات کے فائدے اور نقصانات درج ذیل ہیں:

(i) کوئی تجارتی تمسک غیر ضمانت شدہ بنیاد پر فروخت کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی امتناعی شرائط نہیں ہوتیں۔
(ii) کیونکہ یہ آزادانہ طور پر قابل منتقلی دستاویز ہوتا ہے اس لیے اس کی سیالیت یا نقد قدر بہت زیادہ ہوتی ہے ۔
(iii) یہ دیگر ذرائع کے مقابلے میں زیادہ رقم فراہم کرتا ہے ۔ عموماً جاری کرنے والی کمپنی کے لیے سی پی کی لاگت کمرشیل بینک کے قرضوں کی لاگت سے کم ہوتی ہے۔
(iv) تجارتی تمسک رقوم حاصل کرنے کا مسلسل ذریعہ فراہم کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی مدت تکمیل کوجاری کرنے والی فرم کی ضرورتوں کے مطابق بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تکمیل کو پہنچنے والے سی پی کی ادائیگی نئے سی پی کو فروخت کرکے کی جاسکتی ہے۔
(v) کمپنیاں اپنی فاضل رقوم کو سی پی میں ڈال کر کچھ اچھا منافع حاصل کرسکتی ہیں۔

حدود

(i) تجارتی تمسکات کی مدد سے صرف وہی کمپنیاں رقم اکٹھا کرسکتی ہیں جو مالی طور پر مضبوط او راعلیٰ معیار رکھتی ہوں۔ نئی اور اوسط درجے کی فرمیں اس حالت میں نہیں ہوتیں کہ اس طریقے سے قرضے اکٹھا کر سکیں۔
(ii) تجارتی تمسک کے ذریعے اکٹھا کی جانے والی رقم کی مقدار کسی مخصوص وقت میں رقوم کے فراہم کاروں کے پاس دستیاب نقدی یا سیالیت تک ہی محدود ہوتی ہے۔
(iii) تجارتی تمسک سرمایہ کاری کا ایک غیر ذاتی طریقہ ہے۔ اس اعتبار سے اگر کوئی فرم مالی دشواریوں کی وجہ سے اپنے تمسک کو واپس لینے کی حالت میں نہ ہو تو تجارتی تمسک کی واجب الادا مدت میں توسیع ناممکن ہے۔

8.4.7حصص (شیئرز) کا اجرا

حصص کے اجراء سے حاصل ہونے والا سرمایہ حصص سرمایہ کہلاتا ہے۔ کسی کمپنی کا سرمایہ چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جنہیں حصص کہتے ہیں۔ ہر حصے یا شیئر کی ایک بہت معمولی مقررہ قیمت ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر کوئی کمپنی 10روپئے کی قیمت کے1,00,000حصص جاری کرسکتی ہے جن کی کل قیمت دس لاکھ10,00,000ہوتی ہے۔ جس شخص کے پاس یہ شیئرز ہوتے ہیں اسے شیئر ہولڈر کہتے ہیں۔ شیئرز دو قسموں کے ہوتے ہیں جو عام طو رپر کسی کمپنی کی طرف سے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ اکوئٹی شیئرز اور یا ترجیحی شیئر ہوتے ہیں۔ اکوئٹی شیئرز جاری کرکے حاصل کی گئی رقم اکوئٹی شیئر کپیٹل کہلاتی ہے۔ جب کہ ترجیحی شیئر جاری کرکے حاصل کیا گیا یہ ترجیحی شیئر کپیٹل کہلاتا ہے۔

 (a)  اکوئٹی شیئرز

  اکوئٹی شیئر کسی کمپنی کی طر ف سے طویل مدتی سرمایہ جمع کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔اکوئٹی شیئرز کسی کمپنی کی ملکیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور اس طرح ایسے شیئرز کے اجراء سے جمع کیا گیا سرمایہ اونر شپ کپٹل یا اونرس فنڈ کہلاتا ہے۔ اکوئٹی شیئر کپیٹل کسی کمپنی کے قیام کی پیشگی اونرشپ شرط ہے۔ اکوئٹی شیئر ہولڈر ز کو کوئی مقرر منافع۔ نہیں ملتا بلکہ کمپنی کی کمائی کی بنیاد پر منافع ادا کیا جاتا ہے اس کو بچے کھچے مالکان کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے جو کچھ ملتا ہے وہ کمپنی کی آمدنی پر اور اثاثوں کے تمام دعووں کو نپٹا لینے کے بعدملتا ہے۔انھیں انعام کا لطف بھی حاصل ہوتا ہے اور ملکیت کے جو کھم کو بھی برداشت کرنا ہوتا ہے ۔تاہم ان کی ذمہ داری کمپنی میں لگے ہوئے ان کے سرمائے کی مقدار تک ہی محدود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہے کہ اپنے حق رائے دہندگی کے ذریعے ان شیئر ہولڈر کو کمپنی کے انتظامی امور میں شرکت کا حق حاصل ہوتا ہے۔

خوبیاں

اکوئٹی شیئرز کے اجراکے ذریعے رقم اکٹھا کرنے کے اہم فائدے مندرجہ ذیل ہیں:
(i) اکوئٹی شیئر ان سرمایہ کاروں کے لیے موزوں ہے۔ جو زیادہ منافع کے لیے جوکھم لینے کو تیار ہوں۔
(ii) اکوئٹی شیئر ہولڈرز کو منافع کی ادائیگی کی جانی لازمی نہیں ہے، اس لیے اس معاملے میں کمپنی پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا ۔
(iii) اکوئٹی سرمایہ مستقل سرمائے کا کام کرتا ہے کیونکہ یہ کمپنی کے خاتمہ پر ہی قابل ادائیگی ہوتا ہے کیونکہ مطالبات کی فہرست میں یہ سب سے آخر میں آتا ہے اس لیے کمپنی کے ختم ہونے پر قرض خواہوں کے لیے سہارے کا کام کرتا ہے۔
(iv) اکوئٹی سرمایہ کمپنی کوقرض خواہانہ حیثیت عطا کرتا ہے اور متعلقہ قرض کے فراہم کار ان میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔
(v) اکوئٹی شیئر کے ذریعے کمپنی کے اثاثوں پر کوئی تبدیلی کیے بغیر رقوم اکٹھا کی جاسکتی ہیں۔ اس لیے ضرورت پڑنے پر کسی کمپنی کے اثاثے ادھار رقم لینے کے لیے آزادی سے گروی رکھے جاسکتے ہیں۔
(vi) اکوئٹی شیئر ہولڈرز کے حق رائے دہندگی کی وجہ سے کمپنی کے انتظامات پر جمہوری کنٹرول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

حدود

اکوئٹی شیئرز کے اجراکے ذریعہ رقوم اکٹھا کرنے کی اہم حدودیا خامیاں مندرجہ ذیل ہیں:
(i) مستحکم آمدنی کے خواہش مند سرمایہ کار شاید اکوئٹی شیئرز کو ترجیح نہ دیں کیونکہ اکوئٹی شیئرز میں منافع کی شرح بدلتی رہتی ہے۔
(ii) اکوئٹی شیئرز پر عموما دیگر ذرائع سے رقم اکٹھا کرنے کی لاگت کے مقابلے میں زیادہ خرچ ہوتا ہے۔
(iii) اضافی اکوئٹی شیئرز کے اجرا سے رائے دہندگی کے اختیار اور موجودہ شیئرز ہولڈرز کی آمدنی میں کمی آجاتی ہے۔
(iv) اکوئٹی شیئرز کے اجراء کے ذریعے رقم اکٹھا کرنے میں زیادہ کاغذی خانہ پری کرنی ہوتی ہے اور ضابطے کی تکمیل میں تاخیر ہوتی ہے۔

 (b)  پری فرنس شیئر یا ترجیحی حصص

پری فرنس شیئرز کے اجراء کے ذریعے اکٹھاکی گئی رقم کو پری فرنس شیئر کیپٹل کہتے ہیں۔ پری فرنس شیئر ہولڈرز کو دو طرح سے اکوئٹی شیئر ہولڈرپر فوقیت حاصل ہوتی ہے ۔ (i)اس سے پہلے کہ اکوئٹی شیئر ہولڈرز کے لیے کسی منافع کا اعلان ہو کمپنی کے خالص منافع میں سے انہیں مقررہ شرح کے مطابق منافع دے دیا جاتا ہے۔(ii)کمپنی کے ختم ہونے کے وقت کمپنی کے قرض خواہوں کے مطالبات اور واجبات ادا کرنے کے بعد ا سے اپنا سرمایہ واپس مل جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اکوئٹی شیئر ہولڈر کے مقابلے میں پری فرنس شیئر ہولڈرز منافع پر ترجیحی دعوے اور سرمائے کی باز ادائیگی کا حق رکھتے ہیں ۔ ترجیحی شیئر زڈبنچر سے یا تمسکات ملتے جلتے ہوتے ہیں کیونکہ ان پر مقررہ شرح سے منافع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ چونکہ منافع صرف ڈائریکٹروں کی مرضی اور اختیار سے اور ٹیکس کی کٹوتی کے بعد کے منافع میں سے دیا جاتا ہے۔ اس حد تک وہ اکوئٹی شیئر سے ملتے جلتے ہیں۔ اس لیے پری فرنس شیئر ز میں بعض خصوصیات اکوئٹی شیئرز اور ڈپینچرز کی ہیں۔ پری فرنس شیئر ہولڈر ز کو عموماً رائے دہندگی کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ کوئی کمپنی مختلف اقسام کے پری فرنس شیئر جاری کرسکتی ہے (باکسB میں دیکھیں)

باکس B

پری فرنس شیئرز کی اقسام

1.متزائد اور غیر متزائد ترجیحی شیئر: جو کسی سال منافع نہ اداکئے جانے پر آئندہ سالوں میں غیر ادا شدہ منافع کو جمع کرتے رہنے کا حق رکھتے ہیں انھیں متزاید پری فرنس شیئرز کہا جاتا ہے ۔ دوسری جانب غیر متزائد پری فرنس شیئرز وہ ہیں جن پر اگر کسی سال منافع نہ ادا کیا جائے تو وہ آئندہ سالوں میں جمع نہیں ہوتا۔

2.اشتراکاتی اور غیر اشتراکاتی: پری فرنس شیئرز جو کسی کمپنی کے ان مزید فاضل شیئرز میں جو کسی مقررہ شرح کے منافع کو ادائیگی ہوچکنے میں اشتراک کا حق رکھتے ہوں ، اشتراکاتی کی پری فرنس شیئرز کہلاتے ہیں۔ غیر اشتراکاتی پری فرنس شیئرز وہ ہیں جو کمپنی کے نفع میں اشتراک کا ایسا کوئی حق نہیں رکھتے۔

3.قابل تبدیل اور ناقابل تبدیل: وہ پری فرنس شیئرزجو مخصوص مدت کے دوران اکوئٹی شیئرز میں تبدیل کیے جاسکتے ہوں قابل تبدیل پری فرنس شیئرز کہلاتے ہیں۔ دوسرے طرف ناقابل تبدیل شیئرزوہ ہیں جو اکوئٹی شیئرز میں تبدیل نہ کیے جاسکتے ہوں۔

خوبیاں

پری فرنس شیئرز کی خوبیاں مندرجہ ذیل ہیں:
(i) پری فرنس شیئر مقرر شرح سے منافع کی شکل میں معقول حد تک مستحکم آمدنی فراہم کرتے ہیں اور ان میں سرمایہ بھی محفوظ رہتاہے۔
(ii) پری فرنس شیئرز، ان سرمایہ کاروں کے لیے مفید ہوتے ہیں جو نسبتاً کم جوکھم کے ساتھ مقررہ شرح پر منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
(iii) یہ انتظامیہ پر اکوئٹی شیئر ہولڈرز کے کنٹرول پر کوئی اثر نہیں ڈالتا کیونکہ پری فرنس شیئر ہولڈرز کو رائے دہندگی کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
(iv) پری فرنس شیئر ہولڈرز کو مقررہ شرح سے منافع کی ادائیگی کسی کمپنی کو اچھے وقت میں اکوئٹی شیئر ہولڈرز کے لیے اونچی شرح سے منافع کا اعلان کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔
(v) پری فرنس شیئر ہولڈر ز کو کمپنی کا تصفیہ ہونے پر اکوئٹی شیئر ہولڈرز کے مقابلے میں باز ادائیگی کا ترجیحی حق حاصل ہوتا ہے۔
(vi) پری فرنس کپیٹل کمپنی کے اثاثوں پر کسی طرح کا بار نہیں ڈالتا ۔

حدود

کاروباری سرمایہ کاری کے ذریعے کے طور پر پری فرنس شیئر کی اہم حدود مندرجہ ذیل ہیں:
(i) پری فرنس شیئرز ان سرمایہ کارو ں کے لیے موزوں نہیں ہیں جو جوکھم اٹھانے کثیر آمدنی کے لیے تیار ہوں۔
(ii) پری فرنس کپیٹل کمپنی کے اثاثوں پر اکوئٹی شیئر ہولڈرز کے وعدوں کو ہلکاکردیتا ہے۔
(iii) پری فرنس شیئر پر منافع کی شرح ڈپنیچرز پر منافع کی شرح کے مقابلے میں عموماً اونچی ہوتی ہے۔
(iv) چونکہ ان شیئرز پر منافع صرف اسی وقت ادا کیا جانا ہوتاہے جب کمپنی منافع کمارہی ہو، سرمایہ کاروں کو منافعے ملنے کی یقین دہانی نہیں کرائی جاسکتی اس لیے ہوسکتا ہے کہ ان شیئر میں سرمایہ کاروں کے لیے کوئی کشش نہ ہو، اور 
(v) ادا کیے جانے والے نفع کی رقم خرچ کی حیثیت سے نفع میں سے قابل منہا نہیں ہوتی۔ اس طرح قرضوں پر سود کے معاملے کی طرح ان میں ٹیکس کی کوئی بچت نہیں ہوتی۔

8.4.8  ڈیبنچرزیا روایتی تمسکات

ڈیبنچرز طویل مدتی مستعار سرمایہ حاصل کرنے کی اہم دستاویزہے۔کوئی کمپنی ایسے ڈیبنچرز جاری کرکے رقم اکٹھا کرسکتی ہے جن پر مقررہ شرح سے سود دیا جاتا ہو۔ کسی کمپنی کی طرف سے ڈیبنچرز کا اجراء اس بات کا اعتراف ہے کہ کمپنی نے مخصوص رقم ادھار لی ہے اور آئندہ کسی تاریخ میں اس کی ادائیگی کا وعدہ کررہی ہے۔ اس لیے ڈیبنچر ہولڈرز کو اس کمپنی کے قرض خواہ کہا جاتا ہے ۔ ڈیبنچرز ہولڈرز کو مقرر شرح سے سود کی رقم چھ ماہ یا ایک سال کے مقرر کردہ وقفے سے اداکی جاتی ہے۔ ڈیبنچرز کے پبلک اجراء کے لیے ضروری ہے کہ اس کی درجہ بندی CRI  SIL (کریڈٹ ریٹنگ اینڈانفارمیشن سروس آف انڈیا لمیٹیڈ) جیسی کسی ایجنسی کی طرف سے کی جائے۔ اور یہ درجہ بندی کمپنی کے سابق ریکارڈ ، اس کی نفع کمانے کی صلاحیت، قرض چکانے کی صلاحیت قرض خواہانہ حیثیت اور اسے رقم ادھاردینے کے ظاہری خطرات جیسی بنیادو ں پر کی جانے چاہیے۔ کوئی کمپنی مختلف اقسام کے ڈیبنچرز جاری کرسکتی ہے۔ (باکسC اور D دیکھیں) زیرو انٹرسٹ ڈیبنچرز (ZID)جن پر کوئی واضح شرح سود نہیں ہوتی حالیہ چند برسوں میں مقبول ہوا ہے ۔ ڈیبنچرز کی موجودہ قیمت اور اس کی قیمت خرید کے درمیان فرق سرمایہ کار کا منافع ہوتاہے۔

باکس C

ڈبینجرز کی قسمیں

1۔  محفوظ اور غیر محفوظ: محفوظ ڈیبنچرز وہ ہوتے ہیں جو کمپنی کے اثاثوں پر بار دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کمپنی کو اثاثے رہن رکھنے پڑجاتے ہیں۔ دوسری طرف غیر محفوظ ڈیبنچرز وہ ہوتے ہیں جو کمپنی کے اثاثوں پر کوئی بار یا بوجھ نہیں ڈالتے اور اس کے لئے کوئی ضمانت کمپنی کو نہیں دینی پڑتی۔
رجسٹرڈ اور بیئرر: رجسٹرڈ ڈیبنچرز وہ ہوتے ہیں جو کمپنی کی طرف سے محفوظ رکھے گئے ڈیبنچرز ہولڈرز کے رجسٹر میں ریکارڈ کیے جاتے ہیں ان کی منتقلی صرف کسی باضابطہ منتقلی کی دستاویز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس کے برعکس وہ ڈیبنچرز جو صرف ڈیلروں کے ذریعے منتقل کیے جاسکتے ہوں بیئرر ڈیبنچرز کہلاتے ہیں۔
3۔  قابل بدل اور ناقابل بدل: قابل تبدیل ڈیبنچرز وہ ہوتے ہیں جنہیں مقررہ مدت کے خاتمے پر اکوئٹی شیئرز میں بدلا جاسکے۔ دوسری طرف ناقابل بدل ڈیبنچرز وہ ہوتے ہیں جنہیں اکوئٹی شیئرز میں نہیں بدلا جاسکتا۔
.4  پہلا اور دوسرا: جن ڈیبنچرز کی واپسی کی ادائیگی دوسرے ڈیبنچرز کی واپسی کی ادائیگی سے پہلے کردی جائے انہیں فرسٹ ڈیبنچرز کہا جاتا ہے۔ سکنڈ ڈیبنچرز وہ ہیں جن کی ادائیگی فرسٹ ڈیبنچرز کی واپسی کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے۔

خوبیاں

ڈیبنچرز کے ذریعے رقم اکٹھا کرنے کی خوبیاں مندرجہ ذیل ہیں:
(i) ایسے سرمایہ کار اسے ترجیح دیتے ہیں جو کم خطرہ برداشت کرکے مقررہ شرح کے منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
(ii) ڈیبنچرز مقررہ فیس ڈالنے والے فنڈز ہیں اور کمپنی کے نفع میں وہ شریک نہیں ہوتے۔
(iii) ڈیبنچرز کا اجراء ایسی حالت میں مناسب رہتا ہے جب فروخت اور آمدنی نسبتاً مستحکم ہوں۔
(iv) چونکہ ڈیبنچر ہولڈرز کو رائے دہندگی کا حق حاصل نہیں ہوتا اس لئے ڈیبنچرز کے ذریعے سرمایہ کاری انتظامیہ پر اکوئٹی شیئر ہولڈرز کے کنٹرول میں کمی نہیں آتی۔
(v) ڈیبنچرز کے ذریعے سرمایہ کاری پر پری فرنس یا اکوئٹی کپیٹل کے مقابلے میں کم خرچ آتا ہے کیونکہ ڈیبنچرز پر ادا کیے جانے والے سود پر ٹیکس کی کٹوتی ہوتی ہے۔

حدود

رقوم اکٹھا کرنے کے ذریعے کی حیثیت سے ڈیبنچرز کی بعض حدود ہیں ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
(i) مقررہ مالی بھار ڈالنے والی دستاویز (فکسڈ چارج انسٹرومینٹ) کی حیثیت سے ڈیبنچرز کمپنی کی آمدنی پر ایک مستقل بو جھ ڈالتے ہیں جب کمپنی کی آمدنی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں تو خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے ۔ 
(ii) قابل واپسی ڈیبنچرز کی صورت میں کمپنی کو مقررہ تاریخ پر سرمایہ کاروں کی رقم کو واپس ادا کرنے کا انتظام کرنا ہی ہوتا ہے یہاں تک کہ مالی مشکل کے زمانے میں بھی۔
(iii) ہر کمپنی کی ادھار لینے کی مخصوص استعداد ہوتی ہے ۔ڈیبنچرز کے اجرا ء کے ساتھ کسی کمپنی کی مزید رقم ادھار لینے کی استعداد میں کمی آجاتی ہے۔

8.4.9کمرشیل بینک

کمرشیل بینکوں کو اہم حیثیت اس لیے حاصل ہے کہ وہ مختلف مقاصد اور مختلف مدتوں کے لیے رقوم فراہم کرتے ہیں۔ بینک ہر سائز کی کمپنیوں کو اور کئی طریقوں سے قرضے فراہم کرتے ہیں مثلاً نقد کریڈٹ ،اوور ڈرافٹ ،معیادی قرضے ،بلوں کی خریداری ؍ ڈسکاؤننگ اور کریڈٹ لیٹر کا اجراء۔ بینک جس شرح سے سود وصول کرتے ہیں اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے مثلاً فرم کی خصوصیات اور ملک کی معیشت میں سود کی شرحوں کی سطح ۔ قرض کی ادا ئیگی کی واپسی یا تو یک مشت یا قسطوں میں کی جاتی ہے۔
بینک کریڈٹ رقوم حاصل کرنے کا مستقل ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر چہ بینک اب زیادہ لمبی مدتوں کے لیے قرض فراہم کرنے لگے ہیں۔ عام طور پر اس طرح کے قرضے اوسط مدت سے لے کر مختصر مدتوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ادھار لینے والے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کسی کمرشیل بینک کی طرف سے قرض کی منظوری سے پہلے کو ضمانت مہیا کرے یا بینک کے اثاثوں کے لئے فیس کا انتظام کرے۔

کسی کمرشیل بینک سے رقم حاصل کرنے کے فائدے یا خوبیاں مندرجہ ذیل ہیں:

(i) بینک کاروبار کو ضرورت پر رقم فراہم کرکے کاروباری کی بروقت مدد کرتا ہے۔
(ii) کاروبار کی راز داری برقرار رکھی جاسکتی ہے کیونکہ ادھار لینے والے کی طرف سے بینک کو دی گئی معلومات کو راز داری میں رکھا جاتا ہے۔
(iii) کسی بینک سے رقم حاصل کرنے کے لیے پراسپیکٹس جاری کرنے اور انڈر رائٹنگ جیسی ضابطہ کی کارروائیاں کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس لیے یہ رقم حاصل کرنے کا ایک آسان تر ذریعہ ہے۔

باکسD

انٹر کارپوریٹ ڈپارٹس(آئی سی ڈی) 

انٹر کارپوریٹ ڈپازٹ(آئی سی ڈی) ،غیر محفوظ قلیل مدتی ڈپازٹ ہوتی ہے جو کہ ایک کمپنی کسی دوسری کمپنی کے پاس جمع کرتی ہے۔ آئی سی ڈی مارکٹ کا استعمال بڑے کارپوریٹ ادارے ،نقد کے قلیل مدتی بندوبست کے لیے کرتے ہیں۔ ریزروبینک آف انڈیا جس میں ایک سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ 
انٹر کارپوریٹ ڈپارٹ کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ 
(i) تین ماہ کے لیے ڈپازٹ
(ii)  
6 ماہ کے لیے ڈپازٹ(iii)  کال ڈپازٹس
آئی سی ڈی کی شرح سود مستقل ہو سکتی ہے یا اس میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے۔اس معاملہ میں این ایس ای (NSE) کے ایم آئی بی او آر۔نیشنل اسٹاک ایکسچینج ،ممبئی ،انٹربیک کے ذریعہ طے کردہ اس قسم کی ڈپازٹ پر بینکوں کی ڈپازٹ کو فنڈ کی قلیل مدتی قلت کے مسئلہ کو حل کرنے کے ذریعہ کے طور پر تصور کرتی ہے۔

(v) بینک کا قرض سرمایہ کاری کا ایک لچکدار ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ قرض کی رقم کو کاروبار کی ضروریات کے مطابق بڑھایا جاسکتا ہے اور اگر رقم کی ضرورت نہ ہو تو اس کی باز ادائیگی پیشگی طور پر یعنی مقررہ معیاد کے ختم ہونے کے پہلے بھی کی جاسکتی ہے۔

حدود

سرمایہ کاری کے ایک ذریعہ کی حیثیت سے کمرشیل بینکوں کی اہم حدود مندرجہ ذیل ہیں:
(i) رقوم عموماً مختصر مدتوں کے لیے دستیاب ہوتی ہیں اور ان میں توسیع یا ان کی تجدید غیر یقینی اور مشکل ہوتی ہے۔
(ii) بینک کمپنی کے معاملات، مالیاتی ڈھانچہ وغیرہ کی تحقیقات کرتے ہیں اور اثاثوں کی ـضمانت اور ذاتی ضمانت بھی طلب کرسکتے ہیں، اس سے رقم حاصل کرنے کا طریقہ ذرا دشوار ہو جاتا ہے ۔
(iii) بعض حالات میں بینک کی طرف سے قرض دینے کے لیے مشکل شرائط اور ضابطے عائد کیے جاتے ہیں مثلاً رہن رکھے ہوئے سامان کو فروخت کرنے پر پابندی لگائی جاسکتی ہے اور اس طرح عام کاروباری کام میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔

 8.4.10  مالیاتی ادارے

حکومت نے پورے ملک میں کاروباری تنظیموں (باکس E میں دیکھیں) کو سرمایہ فراہم کرنے کے لیے بہت سے مالیاتی ادارے قائم کیے ہیں ۔ یہ ادارے مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی طرف سے قائم کیے گئے ہیں۔ ادارے طویل اور وسطی مدت کی ضروریات کے لیے ملکیتی اور قرضہ جاتی دونوں طرح کا سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور کمرشیل بینک جیسے روایتی اداروں کی کمی کو پورا کرتے ہیں چونکہ ان اداروں کا مقصد کسی ملک کی صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ اس لیے انھیں ترقیاتی بینک بھی کہا جاتا ہے ۔ مالی مدد فراہم کرنے کے علاوہ یہ ادارے بازار کے سروے بھی انجام دیتے ہیں اور تجارتی ادارے چلانے والے لوگوں کو ٹیکنیکل اور انتظامی خدمات پیش کرتے ہیں ۔سرمایہ کاری کا ذریعہ اس وقت موزوں سمجھاجاتا ہے۔ جب کسی انٹرپرائز کی توسیع ،ازسر نو تنظیم اور جدیدکاری کے لیے بڑی رقوم لمبی معیاد کے لیے درکار ہوں۔

خوبیاں

مالیاتی اداروں کے ذریعے رقوم اکٹھا کرنے کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
(i) مالیاتی ادارے طویل مدتی سرمایہ فراہم کرتے ہیں جو کمرشیل بینکوں سے نہیں مل پاتا۔
(ii) رقوم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے کئی ادارے مالیاتی، مینجریل اورتکنیکی صلاح ومشورہ کاروباری کمپنیوں کو مہیا کراتے ہیں۔
(iii) مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے سے سرمایہ بازار میں ادھارلینے والی کمپنی کی ساکھ بڑھتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی کوئی کمپنی دیگر ذرائع سے بھی رقوم اکٹھا کرسکتی ہے۔
(iv) قرض کی بازادائیگی آسان قسطوں میں کی جاسکتی ہے جس سے کاروبار پر کوئی خاص بوجھ نہیں محسوس ہوتا ۔
(v) مندی کے دور میں بھی فنڈ دستیاب کرائے جاتے ہیں جب مالیات کے دوسرے وسائل دستیاب نہیں ہوتے ۔

حدود

مالیاتی اداروں سے رقم اکٹھا کرنے کی ا ہم حدود مندرجہ ذیل ہیں:
(i) مالیاتی ادارے قرض کی منظوری کے لیے سخت اور غیر لچک دار معیارات پر عمل کرتے ہیں ۔ کاغذی خانہ پری کی بھرمار کی وجہ سے یہ عمل وقت طلب او رمہنگا ہوجاتا ہے۔
(ii) یہ مالیاتی ادارے کچھ پابندیاں عائد کرتے ہیں جیسے منافع کی ادائیگی کے معاملے میں قرض لینے والی کمپنی کے اختیارات پر پابندی ۔
(iii)  مالیاتی ادارے،قرض دینے والی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اپنے نمائندے رکھ سکتے ہیں، جس وہ کمپنی کے اختیارات کو محدود کر دیتے ہیں۔

 8.5  بین الاقوامی سرمایہ کاری

مذکورہ ذرائع کے علاوہ تجارتی تنظیموں کے پاس بین الاقوامی سطح  پر رقم اکٹھا کرنے کے بھی کئی طریقے ہیں۔ معیشت کے کھلے ہونے اور کاروباری تنظیموں کے کاموں کو عالمی حیثیت مل جانے کی وجہ سے ہندوستانی کمپنیاں عالمی سرمایہ بازار سے رقوم اکٹھا کرنے کے قابل ہوگئی ہیں۔ ان مختلف بین الاقوامی ذرائع میں، جہاں رقوم جاری کی جاسکتی ہیں، مندرجہ ذیل ذرائع شامل ہیں۔
(i) کمرشیل بینک : پوری دنیا میں کمرشیل بینک کاروباری مقاصد کے لیے غیر ملکی کرنسی میں قرضے دیتے ہیں ۔ وہ غیر تجارتی بین الاقوامی کاموں کی سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ ہیں۔بینکوں کی طرف سے فراہم کیے جانے والے قرضوں اور خدمات کی نوعیتیں ہر ملک میں الگ الگ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ ہندوستانی صنعت کے لئے غیر ملکی کرنسی کے قرضوں کے ایک بڑے ذریعے کی حیثیت سے ابھرا ہے۔
 (ii)  متعددبین الاقوامی ایجنسیاں اور ترقیاتی بینک: چند برسوں کے دوران بین الاقوامی تجارت اور کاروبار کی سرمایہ کاری کے لیے منظر عام پر آئی ہیں۔ یہ ادارے دنیا کے معاشی طور پر پسماندہ علاقوں کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے طویل اور وسط مدتی قرضے اور گرانٹ فراہم کرتے ہیں۔ یہ ادارے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مالی کفالت کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں کی طرف سے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطحوں پر قائم کیے گئے تھے۔ ان میں زیادہ قابل ذکر ’انٹرنیشنل فائنائنس کارپوریشن (آئی ایف سی ) ،ایکسم بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک شامل ہیں۔
 (iii)  بین الاقوامی سرمایہ بازار: جدید تنظیمیں جن میں کثیر قومی کمپنیاں بھی شامل ہیں روپئے اور غیر ملکی کرنسی کی شکل میں ادھار لی گئی بڑی رقوم پر انحصار کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کام میں لائے جانے والے نمایاں مالیاتی آلۂ کار میں شامل ہیں۔

باکسE

کمپنیاں جی۔ڈی۔آر لانے کی تگ و دو میں

کاروباری چہل پہل صرف اینشیل پبلک آفر (IPO)کے بازار میں ہی نہیں ہوتی ۔ سبھی کمپنیاں جن میں زیادہ تر چھوٹی اور متوسط سائز کی ہیں عالمی امانتی رسیدات (GDR's)کے ذریعے رقوم اکٹھا کرنے کے لیے غیر ملکی بازاروں کی طرف جھپٹ رہی ہیں۔ اس سال پانچ کمپنیوں نے بین الاقوامی بازاروں سے GDRکی پیش کش کرکے464ملین ڈالریعنی تقریباً2040کروڑ روپے اکٹھا کیے ہیں۔ یہ 2286ملین ڈالر سے تقریباً دوگنی ہے۔ نوکمپنیوں نے2004میں اور چار کمپنیوں نے 2003میں 63-09 ملین ڈالر اکٹھا کیے تھے۔ تقریباً 20کمپنیاں آئندہ چند مہینوں میں ایک بلین ڈالر سے زیادہGDRایشوز جاری کرنے کے لیے پرتول رہی ہیں دوسری طرف اگر چہ FCCB(فارن کرنسی کنورٹیبل بانڈز) یعنی غیر ملکی کرنسی میں قابل بدل بانڈزکے ایشوز اشوز لانے والی کمپنیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ کئی کمپنیاں اب بھیFCCBکی دوڑ میں ہیں جس کی وجہ سے ضابطوں میں قرض اور افشائے معلومات کے طریقوں میں ڈھیل ہے۔ مثلاً آرتی ڈرگس لمیٹیڈنے FCCBجاری کرکے12ملین ڈالر کی رقم اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ 
اہم بات یہ ہے کہ اس بار چھوٹی اور متوسط کمپنیاں چھوٹی رقوم اکٹھا کرنے کے لئے GDRکا راستہ اپنا رہی ہیں مثال کے طور پر آپٹہ سرکٹس نے 5ملین ڈالر کے ’’گرین شو اوپشن‘‘ کے سائز 20ملین ڈالر کاGDRایشولانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں اس کمپنی کے حصص (شیئرز) کی قیمتBSEمیں17مئی2004کے34روپے سے بڑھ کرحال ہی میں 160روپے ہوگئی اور اس طرح اس میں370فیصد کا اضافہ ہوا۔ ویڈیو کون انڈسٹریز ،لائیکا لیبز، انڈین اورسیز بینک، سیری انفراسٹریکچر فائنانس، جبلنسٹ آرگنوسس، مہاراشٹر سیملس، موس چپ سمیی کنڈ کٹرز اور کریوBOSیہ سب GDRایشوز کا منصوبہ تیار کر رہی ہیں۔ دو بینکوں میں یوٹی آئی بینک(240ملین ڈالر) اور سینچورین بینک(70ملین ڈالر) نے حال ہی میںGDRمارکٹ سے پیسہ اکٹھا کیا ہے بیرون ملک سود کی شرح میں اضافے کے پیش نظر کمپنیاں اب FCCBکے مقابلے میں GDRکو ترجیح دیتی ہیں۔

(a)عالمی امانتی وصولیابیاں (Global Depository Receipts)

 کسی کمپنی کے مقامی کرنسی کے حصص امانتی بینک کو منتقل کردئیے جاتے ہیں اور امانتی بینک ان حصص کے عوض امانتی رسیدیں جاری کرتے ہیں۔ اس طرح کی امانتی رسیدیں جن پر درج کی گئی رقم امریکی ڈالر میں ہوتی ہے گلوبل ڈپازیٹری رسپٹس یا جی ڈی آر کہلاتی ہیں۔ جی ڈی آر ایک قابل معاوضہ آلہ کار ہوتا ہے او ر کسی دوسری ضمانت یا سکیورٹی کی طرح اسے آزادانہ فروخت کیا جاسکتا ہے ۔ہندوستانی سیاق وسباق میں جی ڈی آر ایسا مالیاتی دستاویز ہے جو ملک سے باہر کسی ہندوستانی کمپنی کی طرف سے کسی غیر ملکی کرنسی میں رقم اکٹھا کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اور اس کا اندراج غیر ملکی اسٹاک ایکسچینج میں ہوتا ہے اور وہاں اس کی تجارت بھی ہوتی ہے۔ جس شخص کے پاس جی ڈی آر ہو وہ اسے کسی وقت بھی اس پر درج شدہ حصص کے برابر مقدار میں تبدیل کراسکتا ہے ۔ GDRرکھنے والے لوگوں کو رائے دہندگی کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ انھیں صرف منافع ملتا ہے۔ اور ان کا سرمایہ بڑھتا رہتا ہے ۔کئی ہندوستانی کمپنیوں مثلاً انفوسس رلائنس ،وپرو(WIPRO) اورICICIنے GDR جاری کرکے رقوم اکٹھا کی ہیں۔

(b) امریکی امانتی رسیدیں(ADRs)یوایس اے کی کسی کمپنی کی طر ف سے جاری کی گئی امانتی رسیدات کو امریکی امانتی رسیدات کہا جاتا ہے۔ ADRIsامریکی بازار وں میں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ اسی طرح جیسے عام طور پر شیئر فروخت کیے جاتے ہیں ۔یہGDRجیسی ہی ہوتی ہیں۔ علاوہ اس کے کہ وہ صرف امریکی شہر یوں کوہی جاری کی جاسکتی ہیں اور ان کا امریکہ کے ہی کسی اسٹاک ایکسچینج میں اندراج کرایا جاسکتا ہے اور وہیں اسے خریدا اور بیچا جاسکتا ہے۔
 (c)  ہندوستان امانتی رسید (IDRs)
ہندوستانی امانتی رسید،امانت کی رسید کی شکل میں ہندوستانی روپئے کی مجوزہ مالی حد شامل ہوتی ہے۔ ہندوستانی امانتی رسید (آئی ڈی آر) کے ذریعہ غیر ملکی کمپنیوں کو ہندوستان کی تمسکات کی منڈی سے فنڈ حاصل کرانے کے قابل بنانے کی غرض سے کمپنی طے شدہ حصص جاری کرتی ہے۔ 
غیر ملک کمپنی، جو ہندوستان کے ڈپوزیٹری (سکیورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا درج رجسٹرڈ تمسکات کی نگراں ہوتی ہے) کے لیے آئی ڈی آر امانتی حصص جاری کرتی ہے۔ اس کے عوض میں امانتدار ،ہندوستان میں اس حصص کے بدلے میں سرمایہ کار کو رسیدیں جاری کرتاہے۔
سیبی (ایس ای بی آئی) کے رہنما خطوط کے مطابق اسی طریقے سے گھریلو حصص کے طور پر ہندوستانی شہریوں کے لیے آئی ڈی آر جاری کیا جاتاہے۔ آئی ڈی آر جاری کرنے والی کمپنی،ہندوستان میں عوام کے سامنے پیش کرتی ہے اور یہاں کے عوام جس طرح ہندوستانی شیئرز کے لیے بولی لگاتے ہیں، ٹھیک اسی فارمیٹ پراس کے لئے بھی بولی لگا سکتے ہیں۔
’’اسٹینڈرڈ چارٹیڈ پی ایل سی ‘‘ پہلی کمپنی تھی جس نے جون 2010ء میں ہندوستان کے سیکورٹی مارکٹ میں ہندوستانی امانتی رسید (آئی ڈی آر) جاری کیا تھا۔
(d) غیر ملکی کرنسی کے قابل بدل بانڈ(FCCB's)غیر ملکی کرنسی کے قابل بدل بانڈ اکوئٹی سے جڑی ہوئی قرضہ جاتی ضمانتیں ہیں جو ایک مقررہ مدت کے بعد اکوئٹی یا امانتی رسیدات میں بتدیل کیے جانے کے لیے ہوتی ہیں اس طرح FCCB رکھنے والے کسی شخص کو یہ اختیار ہے کہ وہ یا تو اس سے پہلے سے مقرر قیمت یا شرح تبادلہ پر حصص میں تبدیل کرالے یا بانڈز کو اپنے پاس رہنے دے۔ FCCBs غیر ملکی کرنسی میں جاری کیے جاتے ہیں اور ان پرایک مقررہ شرح سے سود ملتا ہے۔ جو کسی دیگر یکساں ناقابل بدل مقررہ قرضہ جاتی دستاویز کے مقابلے میں کم شرح کا ہوتا ہے۔ FCCB's ہندوستان میں جاری کیے جانے والے قابل بدل ڈیبنچرز سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔

 8.6  رقوم اکٹھا کرنے کے ذریعے کے انتخاب کو متاثر کرنے والے عوامل

کسی کاروباری ادارے کی مالی ضروریات مختلف نوعیتوں کی ہوتی ہیں اور وہ ہیں طویل مدتی ،قلیل مدتی،معیاد بند اور تغیر پذیر ، اس لیے تجارتی کمپنیاں پیسہ اکٹھا کرنے کے مختلف طریقوں کا سہارا لیتی ہیں ۔قلیل مدتی قرضے میں بے مصرف سرمائے کی قیمت میں تخفیف ہوتے رہنے کی وجہ سے کم ہوتی ہوئی لاگت کا فائدہ ہوتا ہے۔ طویل مدتی قرضے کو بھی کئی بنیادوں پر ایک ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کارپوریٹ سیکٹر میں رقوم اکٹھا کرنے کے منصوبے میں اکوئٹی سرمائے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
چونکہ رقم اکٹھا کرنے کے ذریعے کی اپنی حدود ہوتی ہیں ۔ بہتر یہی ہے کہ بیک وقت کئی طرح کے ذرائع کو ملا جلا کر استعمال کیا جائے بجائے اس کے کہ صرف ایک ہی ذریعے پر انحصار کیا جائے۔ اس امتزاج کے انتخاب کو متاثر کرنے والے کئی اسباب ہوتے ہیں اور کسی کاروبار کے لئے یہ ایک پیچیدہ فیصلہ ہوتا ہے۔ سرمایہ حاصل کرنے کے ذریعے کے انتخاب کو متاثر کرنے والے عوامل پر ذیل میں مختصراً بحث کی گئی ہے۔
 (i)  لاگت:  لاگت دو طرح کی ہوتی ہے یعنی رقوم کے حصول کی لاگت اور رقم کو استعمال کرنے کی لاگت۔ رقم اکٹھا کرنے کے لیے ذریعے کے انتخاب میں کسی کاروباری ادارے کو ان دونوں لاگتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے۔
(ii)  تجارتی اعمال کی مالی قوت واستحکام: کسی کاروبار کی مالی مضبوطی بھی ایک کلیدی سبب ہوتا ہے۔ سرمایہ حاصل کرنے کے ذریعے کے انتخاب میں کاروبار کی مالی حالت مضبوط اور صحت مند ہونی چاہئے تاکہ وہ ادھار لی گئی رقم کی اصل اور سود  دونوں کی باز ادائیگی کے قابل رہ سکے۔ اگر تجارتی تنظیم کی آمدنی مستحکم نہیں ہوتی تو معیاد بند وصولی کی رقوم(Fixed Charged funds)مثلاً پری فرنس شیئرز اور ڈیبنچرز کا انتخاب کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ چیزیں کمپنی کے مالیاتی بوجھ میں اضافہ کرتی ہیں
(iii)تنظیم کا ڈھانچہ اور قانونی حیثیت: کسی تجارتی تنظیم کی شکل اور ڈھانچہ اوراس کی حیثیت پیسہ اکٹھا کرنے کے ذریعے کے انتخاب کو متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی شراکتی فرم اکوئٹی شیئرز جاری کرکے پیسہ اکٹھا نہیں کرسکتی کیونکہ شیئرز کوئی جوائنٹ اسٹاک کمپنی ہی جاری کرسکتی ہے۔
(iv) مقصد اور وقت کی مدت:کاروباری ادارہ کو اپنی منصوبہ بندی اس مدت کے مطابق کرنی چاہئے جس کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر کوئی قلیل مدتی ضرورت مزید کریڈٹ ،تجارتی دستاویز وغیرہ کی مدد سے کم شرح سود پر ادھار رقم لے کر پوری کی جاسکتی ہے۔ طویل مدتی سرمائے کے لیے شیئرز اور ڈیبنچرز جیسے ذرائع زیادہ موزوں ہیں۔ اسی طرح اس مقصد پر جس کے لیے سرمائے کی ضرورت ہے غو رکیا جانا چاہئے۔ تاکہ اس ذریعے اور رقم کے مصرف واستعمال کے درمیان مطابقت کو سمجھا جاسکے۔ مثلاً کاروبار کی توسیع کے طویل مدتی منصوبے کی سرمایہ کاری ایسے بینک اوور ڈرافٹ سے نہیں کرنی چاہئے جسے قلیل مدت میں واپس ادا کرنا ضروری ہو۔ 
 (v) خطرے کا امکان: کاروباری ادارے کو سرمائے کے ہر ایک ذریعے کی جانچ پرکھ اس پہلو سے کرنی چاہئے کہ اس میں کسی طرح کا خطرہ یا جوکھم ہوسکتا ہے۔ مثلاً اکوئٹی میں سب سے کم خطرہ ہے کیونکہ شیئر کپیٹل کی بازادائیگی کمپنی کے ختم کیے جانے پر ہی ہوگی اور اگر کوئی نفع نہیں ہوا ہے تو منافع تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس قرض لینے کی حالت میں اس کے اصل اور سود دونو ں کی باز ادائیگی کا ایک منصوبہ اور نظام مقرر ہوتا ہے اور کمپنی کو نفع ہورہا ہو یا وہ خسارے میں جارہی ہو اسے سود کی ادائیگی تو ہر حال میں کرنی ہی ہوتی ہے۔
(vi)کنٹرول یا اختیار:  حصول سرمایہ کا کوئی مخصوص ذریعہ کمپنی کی انتظامیہ اور مالکان کے کنٹرول کو متاثر کرسکتا ہے ۔اکوئٹی شیئرز کے اجراء کا مطلب اس اختیار میں تخفیف ہوسکتی ہے اور اس کی وجہ مثلاً یہ ہوسکتی ہے کہ اکوئٹی شیئر ہو لڈر ز کو ووٹ دینے کا حق حاصل رہتا ہے۔ مالیاتی ادارے اثاثوں کو یا تو اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں یا معاہدہ قرض کے ایک حصے کے طور پر بعض شرائط عائد کرسکتے ہیں۔ اس لیے تجارتی قرضوں کے اس امرکوذہن میں رکھتے ہوئے کسی ذریعہ کا انتخاب کرنا چاہئے جس حد تک وہ کاروبار کے کنٹرول میں شرکت کرنا چاہتے ہوں۔
(vii) قرض خواہانہ ساکھ پر اثر: بعض مخصوص ذرائع پر کاروباری ادارے کا انحصار بازار میں اس کی قرض خواہانہ حیثیت کو متاثر کرسکتا ہے۔ مثلاً ضمانت شدہ ڈیبنچرز کا اجراء کمپنی کے غیر ضمانت شدہ قرض خواہوں کے مفادات کو متاثر کرسکتا ہے اور کمپنی کو مزید قرض اور ادھار دینے پر اس کی آمادگی کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔
(viii)  لچیلاپن اور آسانی : حصول سرمایہ کے ذریعے کے انتخاب کو متاثر کرنے والا ایک اور پہلو ہے رقم حاصل کرنے میں لچکدار ی اور آسانی ۔مثال کے طور پر بینکوں اور مالیاتی اداروں سے رقم ادھار لینے پر عائد ہونے والی امتناعی شرائط ،تفصیلی چھان بین اور دستاویزی کارروائی اس کی وجہ ہوسکتی ہے کہ اگر دوسرے متبادل دستیاب ہیں تو کوئی کاروباری ادارہ شاید اسے ترجیح نہ دے گا۔
(ix)ٹیکس کے فوائد : مختلف ذرائع سرمایہ کوان سے حاصل ہونے والی ٹیکس مراعات کے پہلو سے بھی جانچا پرکھا جاسکتا ہے مثال کے طور پر اگر پری فرنس شیئر پر ملنے والے منافع پر ٹیکس کی چھوٹ نہیں ملتی ہے تو ڈیبینچرز اور قرض پر ادا کے لیے جانے والے سود پر ٹیکس کی چھوٹ ملتی ہے اور اس لیے ٹیکس کا فائدہ چاہنے والی کمپنی اسی کو ترجیح دے گی۔

اہم اصطلاحات 

سرمایہ /مالیہ قرض لیا ہوا سرمایہ اثاثوں پر وصولی
کاروباری سرمایہ طویل مدتی ذرائع قابل وصول کھاتے
امتناعی شرائط مقرر فیس والے فنڈ جی ڈی آر
حق رائے دہی فیکٹرنگ آئی سی ڈی
بل کی منہانی اے ڈی آر آئی ڈی آر
ایف سی سی بی قائم سرمایہ  
ملکیتی سرمایہ قلیل مدتی ذرائع

خلاصہ

کاروباری سرمائے کا مطلب اور اس کی اہمیت :  کسی کاروباری ادارے کو کوئی کاروبار کو قائم کرنے اور اس کو چلانے کے لیے جس رقم کی ضرورت ہوتی ہے، اسے کاروباری سرمایہ کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی کاروبار مختلف سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے معقول متوازن سرمائے کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔ قائم اثاثے وقائم سرمائے کی خریداری کے لیے روز مرہ کے کام انجام دینے( کاروباری سرمائے کی ضروریات )کے لیے اور کاروباری تنظیم کی توسیع اور فروغ کے منصوبے کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے پیسہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
سرمائے کی ذرائع کی درجہ بندی:  کسی کاروبار کے لیے دستیاب مختلف ذرائع سرمایہ کی زمرہ بندی تین طریقوں سے کی جاسکتی ہے (i)وقت کی مدت ، (طویل مدتی ، قلیل مدتی، وسط مدتی )(ii)ملکیت (مالک کاسرمایہ اور ادھار لیا گیا سرمایہ اور (iii)پیداکاری کا ذریعہ (داخلی ذرائع اور خارجی ذرائع) سرمائے کے طویل مدتی ، وسط مدتی اور قلیل مدتی ذرائع :پانچ سال سے زیادہ عرصے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے ذرائع کو طویل مدتی ذرائع کہا جاتا ہے۔ ایک سال سے زیادہ لیکن 5سال سے کم عرصے کے لیے مالی ضروریات پوری کرنے والے ذائع کو وسط مدتی ذرائع کہتے ہیں اور ایک سال یا اس سے کم عرصے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے ذرائع قلیل مدتی ذرائع کہے جاتے ہیں۔
داخلی اور خارجی ذرائع: سرمائے کے داخلی ذرائع وہ ذرائع ہیں جو کاروبار کے اندر ہی پیدا کیے جاتے ہیں جیسے منافع جات کو پھر سے کاروبار میں لگانا۔دوسری طرف خارجی ذرائع وہ ہوتے ہیں جو کاروبار کے باہر ہوتے ہیں جیسے فراہم کنندگان ساہوکاروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مہیا کیا ہواسرمایہ ۔
مالکانہ سرمایہ اور مستعار سرمایہ:  مالکانہ سرمایہ سے مراد وہ سرمایہ ہے جو کسی تجارتی ادارے یا انٹرپرائز کے مالکان کی طر ف سے فراہم کیے گئے ہوں۔ دوسری طرف مستعار سرمایہ سے مراد وہ سرمایہ ہے کہ جو تجارتی ادارے کے باہر سے آیا ہو۔ مثلاً فراہم کارو ں، ساہو کارو ں اور سرمایہ کاروں کی طرف سے دیا گیا سرمایہ۔
کاروباری سرمایہ کاری کے ذرائع: کسی کاروباری ادارے کو دستیاب سرمائے کے ذریعہ میں زیردست آمدنی ،ٹریڈ کریڈٹ، فیکٹرنگ، پٹہ سرمایہ کاری ، عوامی امانتیں ،تجارتی دستاویز، شیئرز اور ڈیبنچرز کا اجراء ،کمرشیل بینک کے قرضے ،مالیاتی ادارے اور سرمائے کے بین الاقوامی ذرائع شامل ہیں۔
زیردست آمدنی: کمپنی کا خالص آمدنی کا وہ حصہ، جو منافع کے طور پر تقسیم نہ کیا جائے زیردست آمدنی کہلاتا ہے۔ زیردست آمدنی کی دستیاب رقم کا انحصار کمپنی کی منافع کی تقسیم کی پالیسی پر ہوتا ہے۔ اسے عموماً کمپنی کی ترقی اور توسیع کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ٹریڈ کریڈٹ یا تجارتی ادھار:  اشیا اور خدمات خریدنے کے لیے ایک تاجر کی طرف سے دوسرے تاجر کو دیا گیا قرض ٹریڈ کریڈٹ کہلاتا ہے ۔ٹریڈ کریڈٹ سے ضرورت کی اشیاء کو ادھار پر خریدنے میں مدد ملتی ہے۔ ٹریڈ کریڈٹ کی شرائط ہر صنعت میں الگ الگ ہوتی ہیں۔ اور ان کی وضاحت انوائس پر کی گئی ہوتی ہے ۔چھوٹی اور نئی فرمیں ٹریڈ کریڈٹ پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ کیونکہ ان کے لیے دیگر ذرائع کے سرمایہ حاصل کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
فیکٹرنگ:  حالیہ چند برسوں میں فیکٹرنگ قلیل مدتی رقوم حاصل کرنے کے ایک ذریعہ کے طو رپر سامنے آتی ہے۔ یہ ایک مالیاتی سروس ہے جس کے تحت فیکٹر تمام تر کریڈٹ کنٹرول اور خریدار سے قرض کی وصول کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور رڈوبے ہوئے قرض سے فرم کو ہونے والے خساروں سے اسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ فیکٹرنگ کے دو طریقے ہیں چارہ جوئی والی فیکٹرنگ اور غیر چارہ جوئی فیکٹرنگ۔
پٹہ سرمایہ کاری: پٹہ ایک ٹھیکہ معاہدہ ہے جس کے تحت کسی اثاثے کا مالک (مالک پٹہ) کسی دوسرے فریق (پٹے دار ) کو اس اثاثے کو استعمال کرنے کا حق دیتا ہے ۔ مالک پٹہ کسی مخصوص مدت کے لیے اثاثے کو کرایہ پر اٹھانے کے لیے وقفہ جاتی معاوضہ وصول کرتا ہے جسے پٹے کا کرایہ کہا جاتا ہے۔
عوامی امانتیں: کوئی کمپنی عوام کو اپنی بچتوں کو کمپنی میں جمع کرانے کی دعوت دے کر رقوم اکٹھا کرسکتی ہے ۔ عوامی امانتیں کسی کاروبار کی طویل مدتی اور قلیل مدتی دونوں طرح کی مالی ضروریات پوری کرسکتی ہیں۔ ان امانتوں پر سود کی شرح بینکوں اور مالیاتی اداروں کی طرف سے دئے جانے والے سود کی شرح سے زیادہ ہوتی ہے۔
 تجارتی دستاویز (سی پی) : یہ ایک غیر ضمانت شدہ پر وہ نوٹ ہوتا ہے جو کسی فرم کی طرف سے مختصر مدت کے لیے رقوم جمع کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ تجارتی دستاویز کی تکمیلی مدت عموماً90 دن سے364 دن کی ہوتی ہے ۔ چونکہ تجارتی دستاویز غیر ضمانت شدہ ہوتا ہے۔ اس لیے اچھی قرض خواہانہ حیثیت رکھنے والی قرض ہی سی پی جاری کرسکتی ہیں۔ او راس کی ضابطہ بندی ریزور بینک آف انڈیا کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔
اکوئٹی شیئرز کا اجرا : اکوئٹی شیئرز کسی کمپنی کے مالکانہ سرمائے کی نمائندگی کرتے ہیں اپنی تبدیل ہوتی رہنے والی آمدنی کی وجہ سے اکوئٹی شیئر ہولڈرز کسی کمپنی کے جوکھم بر دار یارسک بیرر کہلاتے ہیں۔ ان شیئرز ہولڈرز کو کمپنی کے اچھے دونوں میں اونچا معاوضہ ملتا ہے اور اپنے حقوق رائے دہندگی کے ذریعے انہیں کمپنی کے انتظامی معاملات میں رائے دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
پری فرنس شیئرز (ترجیحی شیئرز) کا اجرا:یہ شیئرز معاوضے کو ادائیگی اور اصل کی بازادائیگی سے متعلق شیئر ہولڈرز کو ترجیحی حقوق دیتے ہیں۔ زیادہ خطرے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر فوری آمدنی کو ترجیح دینے والے سرمایہ کار ان شیئرز میں پیسہ لگانا پسند کرتے ہیں۔ کوئی کمپنی مختلف اقسام کے پری فرنس شیئر ز جاری کرسکتی ہے۔
ڈبنچرز کا اجرا:  ڈبنچرز کسی کمپنی کے سرمایہ قرض کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اورڈبنچرز ہولڈرز قرض خواہ ہوتے ہیں۔ یہ مقررہ خرچ والے سرمائے ہوتے ہیں۔ جن پر سود کی مقررہ شرح واجب ہوتی ہے ۔ ڈبنچرز کا اجراء ایسی حالت میں موزوں ہوتا ہے جب کمپنی کی فروخت اور آمدنی نسبتاً مستحکم ہوں۔
کمرشیل بینک:  بینک ہر سائز کی کمپنی کو قلیل مدتی اور طویل مدتی قرضے فراہم کرتے ہیں ۔یہ قرضے یک مشت طور پریا قسطوں کی شکل میں واپس ادا کیے جاتا ہے۔ بینک کی طرف سے وصول کیے جانے والی سود کی شرح کا انحصار جن اسباب پر ہوتا ہے ان میں ادھار لینے والی فرم کی خصوصیات اور معیشت میں سود کی شرح کی سطح شامل ہیں۔
مالیاتی ادارے:  مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں نے ملک بھر میں کاروباری کمپنیوں کو صنعتی سرمایہ فراہم کرنے کے لیے بہت سے مالیاتی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ ان اداروں کو ترقیاتی بینک بھی کہتے ہیں فراہمی سرمایہ کا یہ ذریعہ اس حالت میں موزوں سمجھا جاتا ہے جب کسی تجارتی ادارے کوتوسیع ،تشکیل نو اور جدید کاری کے لیے کثیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔
بین الاقوامی فراہمی سرمایہ:  معیشت میں توسیع پسندی اور آفاق کاری کی وجہ سے ہندوستانی کمپنیوں نے بین الاقوامی بازاروں سے سرمایہ اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے۔ ان بین الاقوامی ذرائع میں جہاں سے رقوم حاصل کی جاسکتی ہیں ان میں کمرشیل بینکوں سے غیر ملکی کرنسی کے قرضہ جات بین الاقوامی ایجنسیوں اور ترقیاتی بینکوں کے طرف سے فراہم کردہ مالی امداد اور بین الاقوامی سرمایہ بازار میں اور مالیاتی دستاویزات (FCCB/ANR/GDR)کا اجرا شامل ہیں ۔
انتخاب کو متاثر کرنے والے اسباب:  کاروبار کے اہم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کے مختلف وسائل وذرائع کا موثر جائزہ لیا جانا چاہیے۔ کاروباری سرمائے کے ذریعے کا انتخاب لاگت، مالی استحکام ، خطرے کے امکان ،ٹیکس کی مراعات اور رقوم کے حصول کی لچکدار ی پر منحصر ہے ۔ سرمائے کے موزوں ذریعے کے انتخاب سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے ان تمام عوامل کا یکجا طو رپر تجزیہ کیا جانا چاہیے۔

مشقیں

مختصر جوابات والے سوالات

تجارتی سرمایہ کیا ہے ، کاروبار کے لیے رقوم کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟سمجھائیں۔ 
طویل مدتی اور قلیل مدتی سرمایہ اکٹھا کرنے کے ذرائع کے بارے میں لکھیں۔
فراہمی سرمایہ کے داخلی اور خارجی ذرائع کے درمیان کیا فرق ہے؟
4۔پری فرنس شیئر ہولڈرز کو کون سے ترجیحی حقوق حاصل ہوتے ہیں؟
5۔کوئی بھی تین خصوصی مالیاتی اداروں کے نام بتائیں اور ان کی اغراض ومقاصد بیان کریں۔
6۔  GDRاورADRکے درمیان کیا فرق ہے؟سمجھائیں۔ 

طویل جوابی سوالات

سرمایہ کے ذرائع کی حیثیت سے ٹریڈ کریڈٹ اور بینک کریڈٹ کی وضاحت کریں۔
ان ذرائع کے بارے میں بحث کریں جہاں سے کوئی بڑا صنعتی تجارتی ادارہ جدید کاری اور توسیع کی اخراجات کے لیے سرمایہ اکٹھا کرسکتا ہے؟
ڈیبنچرز کا اجرا کے اکوئٹی شیئرز کے اجراء کے مقابلے میں کیا فوائد ہیں؟
کاروباری فراہمی سرمایہ کے طریقوں کی حیثیت سے عوامی امانتوں اور زیردست آمدنی کی خوبیاں اور خامیاں بیان کیجیے۔
بین الاقوامی سرمایہ کاری میں استعمال ہونے والے مالیاتی دستاویز پر بحث کریں۔
تجارتی دستاویز کیا ہے اس کے فوائد اور حدود کیا ہیں؟

پروجیکٹ/تفویض کیے گئے کام

ان کمپنیوں کے بارے میں معلومات جمع کریں جنہوں نے حالیہ برسو ںمیں ڈیبنچرز جاری کیے ہیں ۔ انہیں مزید معقول بنانے کے لیے تجویزیں پیش کریں۔
ادارہ جاتی سرمایہ کار ی نے حالیہ چند برسوں میں اہمیت حاصل کی ہے ۔ ان مختلف مالیاتی اداروں کے بارے میں تفصیلی معلومات رف نوٹ بک پر چسپاں کریں، جو ہندوستانی کمپنیوں کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔ 
اس باب میں جن ذرائع کے بارے میں بحث کی گئی ہے ان کی بنیاد پر ایک ریسٹورینٹ کے مالک کے مالی مسئلے کو حل کرنے کا موزوں متبادل تجویز کریں۔
سرمائے کے تمام ذرائع کا ایک تقابلی چارٹ تیار کریں۔