Skip to content
Karobarimutuala-001


باب  9

چھوٹا کاروبار اور کاراندازی

سیکھنے کے مقاصد 

اس سبق کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ 
چھوٹے کاروبار کے مفہوم اور نوعیت کی وضاحت کر سکیں گے 
ہندوستان میں چھوٹے کاروبار کے کردار کو سمجھ سکیں گے 
کاروباری کاراندازی کی ضرورت کی وضاحت کر سکیں گے 
کار اندازی کے فروغ کے حوالے سے حقوق روشن فکری(IPR)کی اہمیت پر گفتگو کر سکیں گے ۔

منی پور کے رومی تھیلے

کھمبو نگر مایوم دھن چندر سنگھ کی زندگی میں کچھ زیادہ آسانیاں نہ تھیں وہ ایک غریب درزی کا لڑکا تھا اور بیشتر سہولتوں سے محروم تھا ۔ وہ اپنے والد کو دن رات کام کرتے دیکھتا جو مشکل سے تھوڑی بہت کمائی کر لیتے ۔وہ دیکھتا تھا کہ امیر لوگ زیادہ امیر ہو تے جاتے ہیں اور غریب لوگ غریب ہی رہتے ہیں۔ یہ لڑکا چاہتا تھا کہ اپنی زندگی میں کچھ اور کر سکیں۔ وہ فقط کپڑے سی کر زندگی گزارنے پر مطمئن نہ تھا اور اپنی بقا کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ امپھال ایک چھوٹا شہر ہے ۔محنتی مرد اور عورتیں اپنے بچوں کو بڑے شہروں میں اس لیے بھیج دیتے تھے تاکہ ان کو وہاں ترقی کے مواقع حاصل ہو سکیں۔ کھمبونگ مایوم کے والد اپنے بیٹے کو باہر بھیجنے کے متحمل نہ تھے اور نہ ہی وہ اس کو تعلیم دلا سکتے تھے۔ وہ درزی کا کام جانتے تھے اور یہی کام انھوں نے اپنے بیٹے کو سکھادیاتھا ۔ کپڑوں کی کاٹ ، سلائی اور کپڑوں کے انداز، بس ان ہی کے درمیان اس کی زندگی گزری تھی ۔ صرف ایک سلائی مشین تھی اور جب مشین خالی ہوتی تبھی وہ ا س کا استعمال کر پاتا تھا۔ اس نے درزی کا کام بڑی خاموشی سے سیکھ لیا تھا ۔ اس کو معلوم تھا کہ اس کا باپ یہی چاہتا تھا ۔لیکن اس کا دل اس کام میں نہیں لگتاتھا ۔ 

کبھی کبھی کوئی حادثہ یا واقعہ آپ کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا ۔ جب وہ بچی کھچی کترنوں سے ایک پرس بنا رہا تھا ۔ اس نے وہ پرس اپنے ایک دوست کو پیش کیا جو اس کے انوکھے ڈیزائن پر بہت حیرت زدہ ہوا ۔ اس دوست نے اس شاندار پرس کو اپنے دوسرے ساتھی کو دکھایا ۔ انھوں نے کھمبونگ مایوم سے کہا کہ وہ ان کے لیے بھی ایک ایسا پرس بنا دے۔ اسے اس بات پر بڑی حیرت تھی کہ کیا اس کے ڈیزائنوں کے لیے اس طرح بھی ایک مارکیٹ بن سکتی ہے۔ اسے ایسا لگا کہ اس کے پروڈکٹ کی مانگ بڑھے گی ۔ اس نے اس کی لاگت، اخراجات اور متوقع آمدنی کا حساب لگا لیا۔ اس نے اپنے اوپر تنقید کر نے والوں اور راستے سے بھٹکانے والوں کو بالکل نظر انداز کر دیا ۔ اس نے پہلی مرتبہ نیا کام شروع کیا تھا ، اس کا خیال تھا کہ وہ مال کی کوئی بھی کوالٹی استعمال کر سکتا ہے ۔ یہ اس کی ایک بڑی بھول تھی ۔ صارفین نے جوتوں کے میٹریل کی سستی کوالٹی کو قبول نہ کیا۔ مال واپس آنے لگا اور باقی مال فیکٹری میں بغیر فروخت ہوئے پڑا رہا ۔ اس سے کھمبونگ مایوم نے پہلا سبق سیکھا ۔ 2007 میں اسے چھوٹے اور درمیانی کاروبار کے زمرے میں تھیلے بنانے کے لیے قومی اعزاز حاصل ہوا ۔ اگرچہ یہ صرف اس کے لیے ایک ابتدا تھی، کھمبونگ مایوم دھن چند ر سنگھ نے محنت ، تحمل اور ہوشیاری سے اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کر لی۔ آپ کو کوئی بھی چیز آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتی ۔ لیکن کامیابی آپ کو ایک دن میں نہیں مل سکتی اور نہ ہی آپ ایک دن میں کامیابی کی بلندی کو چھوپا ئیں گے ۔

9.1  تعارف

چھوٹے پیمانے کی صنعتیں ترقی کے عمل میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ یہ صنعتیں کار اندازی کی بنیاد کو وسعت دے کر اور مقامی خام مال نیز دیسی مہارتوں کو استعمال کر کے اقتصادی خوشحالی کے لیے پیداوار،روزگار اور راحت کے حوالے سے صنعت کاری میں ایک اہم کڑی کے طور پر کام کرتی ہیں۔  

چھوٹے پیمانے کی صنعتیں ملک کے صنعتی منظر نامے میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ یہ محنت کش طبقہ کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے اور برآمدات کے امکانات بھی بہت وسیع ہیں۔ 

ہندوستان میں ، دیہی اور چھوٹی صنعتوں کا شعبہ، روایتی اور جدید دونوں طرح کی چھوٹی صنعتوں پر مشتمل ہے۔ اس شعبہ میں آٹھ ذیلی گروپ ہیں ۔یہ گروپ ہینڈلوم (ہتھ کرگھا)،دست کاریاں، ریشے ،ریشم کی پیداوار،کھادی اور دیہی صنعتیں،چھوٹے پیمانے کی صنعتیں اور پاورلوم ہیں۔ آخری دو ذیلی گروپ جدید نوعیت کی چھوٹی صنعتوں کے تحت جب کہ باقی ذیلی گروپ روایتی صنعتوں کے تحت آتے ہیں۔ دیہی اور چھوٹی صنعتیں ہندوستان میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

9.2  چھوٹے کاروبار کی اقسام 

ہمارے ملک میں کسی صنعت کے سائز کو جاننا بہت ضروری ہے یعنی کہ صنعتیں چھوٹی ہیں یا بڑی ۔کاروباری اکائیوں کے سائز کی پیمائش کے لیے مختلف پیرامیٹروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں کاروبار میں ملازم لوگوں کی تعداد،کاروبار میں لگا سرمایہ ، پیداوار کا حجم یا کاروبار کی پیداوار کی قدر اور کاروباری سرگرمیوں میں خرچ ہونے والی بجلی وغیرہ شامل ہیں۔ بہر حال کوئی بھی ایسا پیرامیٹر نہیں ہے جس میں محدود ہئیتیں (limitations)  نہ ہوں ۔ یہ سب پیمائش یا پیمانے ضرورت کے حساب سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ چھوٹی صنعتوں کی وضاحت کے لیے حکومت ہند نے جو تعریف کی ہے وہ پلانٹ اور مشینری پر مبنی ہے۔اس پیمائش کے مطابق ہندوستان میں سماجی و اقتصادی ماحول کو پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ یہاں سرمایہ کی قلت اور محنت کش طبقہ یا کامگاروں کی فراوانی ہے۔ 

جب خدمات کے عظیم شعبے کا ظہور ہوا تو حکومت نے ان دیگر انٹر پرائنروں کو بھی اس میں شامل کر لیا جو چھوٹے پیمانے کی صنعتوں (SSI)اور متعلقہ سروس اکا ئیوں پر مشتمل تھیں۔ چھوٹے پیمانے کے انٹر پرائنروں کی توسیع سے درمیانی پیمانے کے انٹر پرائز بڑھتے رہے اور نتیجتاً تیزی سے عالم کاری کی طرف بڑھتی دنیا میں مسابقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹیکنالوجی کو اپنانا ضروری ہو گیا ۔ MSMED (یعنی چھوٹے ، چھوٹے اور درمیانی انٹر پرائزوں کی ترقی) ایکٹ 2006نے ان کی تعریف ، اعتبار (کریڈٹ)، مارکیٹنگ اور ٹیکنالوجی کی بہتر سازی (Upgradation)سے متعلق مسائل کو حل کیا ہے۔ درمیانی پیمانے کی انٹر پرائزیں اور خدمات سے متعلق انٹرپرائزیں بھی اس ایکٹ کے دائرے میں آتی ہیں۔ 

MSMED ایکٹ 2006 اکتوبر 2006سے لاگو ہوا ہے۔ 

چنانچہ تمام انٹرپرائز کو دو بڑے زمروں یعنی مینوفیکچرنگ اور خدمات میں تقسیم کیا گیا ہے۔

9.2.1مینوفیکچرنگ 

صنعتوں کے پہلے شیڈول (ترقی اور ضابطہ بندی) میں تصریح شدہ ’ایکٹ 1951سے متعلق ‘مینوفیکچرنگ یا سامان کی پیداوارمیں مشغول انٹرپرائزوں کی تین قسمیں ہیں۔

(i) مائیکروانٹرپرائز:  یہ وہ انٹرپرائزز ہیں جن پلانٹ اور مشینری میں لگا سرمایہ 25لاکھ روپیہ سے زیادہ نہیں ہوتا ۔ 

(ii) چھوٹے انٹر پرائز:  جہاں پلانٹ اور مشینری میں لگا سرمایہ 25 لاکھ روپیہ سے زیادہ ہوتا ہے لیکن 5کروڑ سے زیادہ نہیں ہوتا ۔ 

(iii) درمیان انٹرپرائز: جہاں پلانٹ اور مشینری میں لگا سرمایہ 5کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے لیکن دس کروڑ سے زیادہ نہیں ہوتا۔

9.2.2  خدمات(Services)

ایسے انٹرپرائزوں کی جو خدمات مہیا کرانے میں لگی ہوں، تین قسمیں ہیں۔

(i)مائیکرو انٹر پرائز: جہاں ضروری ساز و سامان پر لگا سرمایہ 10لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہو ۔

(ii)چھوٹے انٹرپرائز:جہاں ضروری ساز و سامان پر لگا سرمایہ 10لاکھ سے زائد لیکن دو کروڑ سے زائد نہ ہو 

(iii)متوسط یا درمیانی انٹرپرائز : جہاں ضروری ساز و سامان پر لگا سرمایہ دوکروڑ سے زیادہ ہو لیکن پانچ کروڑ سے زیادہ نہ ہو ۔

 9.2.3  دیہی صنعتیں اور گھریلو صنعتیں

دیہی صنعت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ ایسی صنعت ہے جو دیسی علاقے میں کسی سامان کی پیداوار میں مشغول ہو اور بجلی کا استعمال کرکے یا بجلی کے استعمال بغیر کوئی خدمت مہیا کرتی ہو اور جس کا قائم سرمایہ کار اثاثہ فی کس یا فی کاریگر یا کارگروقتاً فوقتاً مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتا ہے۔ 

9.2.4گھریلو (کانچ) صنعت

گھریلو صنعتوں کو دیہی صنعتوں یا روایتی صنعتوں کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ دیگر چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی طرح ان کی تعریف سرمایہ کاری کے معیار پر نہیں کی جاتی ہے۔ بہر حال گھریلو یاکویٹر صنعتوں کی کچھ خصوصیات حسب ذیل ہیں۔ 

ان صنعتوں کو افراد ایسے نجی وسائل سے منظم کرتے ہیں۔ 

یہ لوگ عام طور پر خاندان کے لوگوں یا پھر مقامی طور پر دستیاب باصلاحیت لوگوں سے کام لیتے ہیں۔

ان صنعتوں میں استعمال ہونے والا ساز و سامان سادہ ہوتا ہے۔

سرمایہ کاری کے طور پر استعمال ہونے والا سرمایہ یا اثاثہ بھی تھوڑا ہوتا ہے ۔

سادہ قسم کی مصنوعات یا پیداوار تیار کر لی جاتی ہیں جو عام طور پر اسی احاطہ میں تیار ہو جاتی ہیں۔

دیسی ٹیکنا لوجی کا استعمال کرکے سامان تیار ہوتا ہے۔ 

9.3  ہندوستان میں چھوٹے کاروبار کا کردار 

ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو ہندوستان میں بڑا اہم مقام حاصل ہے۔ مندرجہ ذیل نکات سے ان صنعتوں کے تعاون پر روشنی پڑ سکتی ہے۔ 

(i) ہمارے ملک کی متوازن علاقائی ترقی میں چھوٹی صنعتوں کا رول بہت اہم اور قابل ذکر ہے۔ ملک کی پچانوے فیصد صنعتی اکائیاں، انہیں چھوٹی صنعتوں کی مرہون منت ہیں۔ 

(ii) ملک کے انسانی وسائل کے روزگار کے لحاظ سے یہ چھوٹی صنعتیں زراعت کے بعد دوسری سب سے بڑی روزگار مہیا کرنے والی اکائیاں ہیں۔ بڑی صنعتوں کے مقابلے یہ لگائے گئے سرمایہ کی فی اکائی روزگار کے مواقع کی زیادہ بڑی تعداد مہیا کرتی ہیں۔اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں محنت زیادہ لگتی ہے اور سرمایہ کم لگتا ہے۔ یہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں محنت کش طبقہ زیادہ ہے یہ ایک بڑی نعمت ہے۔ 

(iii) ہمارے ملک میں چھوٹی صنعتوں سے مصنوعات کی زبردست اقسام حاصل ہوتی ہیں جن میں عوامی مصرف یا استعمال کا بڑا سامان ، تیار شدہ کپڑے ، ہوزری کا سامان ، نوشت و خورد کا سامان، نہانے اورکپڑے دھونے کے صابن ،گھریلو استعمال کے برتن ،چمڑے ،پلاسٹک اور ربر کا سامان ،ڈبہ بند کھانے کی اشیا اور سبزیاں ،لکڑی اور اسٹیل کا فرنیچر پینٹ،وارنش،سیفٹی ماچس وغیرہ شامل ہیں۔ نفیس قسم کی مصنوعات میں ٹیلی ویژن ،کیلکولیٹر، الیکٹرومیڈیکل سامان ،الیکٹرانک ٹیچنگ امدادی سامان جیسے اورہیڈ پروجیکٹر ، ایئر کنڈیشن کا سامان، ڈریس اور ادویاتی ساز و سامان،زراعت ،گھریلو آلات اور مختلف اقسام کے انجینئرنگ ساز و سامان شامل ہیں۔ یہاں ہتھ کرگھوں،دستکاروں اور دیہی گھریلو صنعتوں کی دیگر مصنوعات کا ذکر بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ان کی برآمداتی قدر و قیمت بہت ہوتی ہے۔ (باکس A دیکھیے جس سے ان بڑے صنعتی گروپوں پر روشنی پڑتی ہے جو حکومت کے ذریعے بیان کردہ درجہ بندی کے حساب سے چھوٹی صنعتوں کے دائرہ میں آتے ہیں ) 

(iv) وہ چھوٹی صنعتیں جو سادہ ٹیکنالوجی کا استعمال کریں سادہ مصنوعات تیار کرتی ہیں اور جو خام مال اور کپڑے کے معاملے میں دستیاب وسائل پر منحصر ہوتی ہیں ملک میں کہیں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ چونکہ یہ کسی قسم کی پابندی کے بغیر بڑے پیمانے پر پھیلی ہو سکتی ہیں اس کے لیے ان کے کارندے ہر خطے کے لوگوں کو بیچ سکتے ہیں ۔ اسی لیے ملک کی متوازن ترقی میں ان کے تعاون کی بڑی اہمیت ہے ۔

(v) چھوٹی صنعتیں کاراندازی کے لیے بھی بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں۔ لوگوں کی پوشیدہ مہارتوں اور امکانی صلاحیتوں کو کاروباری تصورات اور نظریات میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور تھوڑی سی پونجی کے ساتھ اور کم سے کم پابندیوں کے ساتھ ان کو حقیقت میں تبدیل کیا جا سکتاہے اور اس طرح ایک چھوٹا کاروبار شروع ہو سکتا ہے۔ 

(vi) پیداوار کی کم لاگت بھی چھوٹی صنعتوں کا ایک اہم فائدہ ہے۔ مقامی طور پر دستیاب وسائل کم خرچ پر دستیاب ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی صنعتوں کی تاسیس اور ان کا چلانا سستا پڑتا ہے کیونکہ ان کے اوپری خرچ کم ہوتے ہیں ۔در حقیقت، پیداوار کی کم لاگت جو کہ چھوٹی صنعتوں کی خصوصیت ہے، وہی ان کی مسابقتی طاقت ہے۔ 

(vii) تنظیموں کے چھوٹے سائز کی وجہ سے فیصلے فوری طو ر پر اور زیادہ لوگوں سے مشورہ لیے بغیر لیے جا سکتے ہیں۔

9.4 ترقی پذیر ملکوں میں چھوٹے کاروبار 

ترقی پذیر ملکوں میں روایتی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ دیہی خاندان خاص طو ر پر زراعت میں لگے رہتے ہیں۔ اس بات کے بہت ثبوت ہیں کہ دیہی خاندانوں کو بہت متنوع اور بڑی تعدا د میں آمدنی کے ذرائع حاصل ہیں اور اسی لیے دیہی خاندان غیر زراعتی سرگرمیوں میں بھی خوب حصہ لیتے ہیں — مثال کے طور پر کھیتی باڑی اور زراعتی محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ کامرس اور خدمات کی مینوفیکچرنگ میں مزدوری اور خود روزگار —اس کا سہراسب کچھ حکومت ہند کے ذریعہ اپنائے گئے ان اقدامات کو جاتا ہے جو حکومت نے زراعت پر مبنی دیہی صنعتیں قائم کرنے، ان کو فروغ دینے اور ان کو بڑھاوا دینے کے لیے اٹھائے ہیں۔ 

دیہی اور چھوٹی صنعتوں پرزور ہمیشہ سے ہندوستان کی صنعتی پالیسی کا لازمی حصہ رہا ہے۔ گھریلو اور دیہی صنعتیں دیہی علاقوں میں اور خاص طور پر روایتی ہنر مند افراد اور سماج کے کمزور طبقات کے لیے روزگار کے مواقع کو فراہمی میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ دیہی اور طبقات کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ دیہی اور گھریلو صنعتی روزگار کی تلاش میں دیہی آبادی کے شہری علاقوں کی طرف ہجرت کو روکتی ہیں۔ 

چونکہ دیہی اور چھوٹی صنعتیں صارف اشیا کو تیار کرتی ہیں اور اس میں سرپلس محنت کش طبقہ کی بھی کھپت ہو جاتی ہے اس لیے یہ بہت اہمیت کی حامل ہیں اور اس طرح ان سے غریبی اور روزگاری دونوں مسئلے حل ہوتے ہیں۔ ان صنعتوں سے سماجی اور اقتصادی مسائل حل کرنے میں بھی کافی مدد ملتی ہے۔ ان مسائل میں آمدنی کی نابرابری ،صنعتوں کی بکھری ہوئی ترقی اور معیشت کے دیگر شعبوں سے رابطے جیسے فیلو شامل ہیں۔

در حقیقت چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے فروغ اور ایسے میں گاؤں میں صنعتوں کے پھیلاؤ کو حکومت ہند ’’ سریع صنعتی نمو ‘‘ (Accelarated Industrial Growth)

حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہند چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے فروغ اور دیہی علاقوں کے صنعیتانے کو دیہی اور پسماندہ علاقوں میں سریع صنعتی نمو (Accelarated Industrial Growth)اور امکانی روزگار کی اضافی پیدوار ی تخلیق (Additional Productive Employment Potential)کا ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔

بہر حال ،چھوٹی صنعتوں کی بالقوہ صلاحیت کا بھر پور طور پر ادراک کر لیا گیا ہے۔ کیونکہ صنعتوں کے سائز سے مختلف مسائل جڑے ہوتے ہیں۔ہم یہاں کچھ اہم مسائل کا ذکر کریں گے جن سے ہماری روز مرہ کی زندگی میں شہر اور دونوں جگہ میں چھوٹے کاروبار کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

9.5  چھوٹے کاروبار کے مسائل

بڑے پیمانے کی صنعتوں کے مقابلے چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو کچھ اہم دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے کچھ دقتیں مالیہ کی فراہمی،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کے صلاحیت ،خام مال کی فراہمی اور ذخیرہ اندوزی وغیرہ ہیں۔ ان سے متعدد اہم مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ 

ان میں سے اکثر مسائل کاروبار کے چھوٹے سائز سے متعلق ہیں جو بہت سے امور میں فائدہ اٹھانے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کا فائدہ بڑی کاروباری تنظیموں کو مل جاتا ہے۔ بہر حال چھوٹے کاروباروں کے تمام زمروں میں یہ مسائل یکساں نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر چھوٹی معاون اکائیوں کے معاملے میں ، ادائیگیوں میں تاخیر ،پیدا اکائیوں سے آرڈروں کا حصول اور پیداواری عمل میں مسلسل تبدیلیاں اہم مسائل ہیں۔ 

چھوٹے پیمانے کی اکائیوں کے برآمداتی مسائل میں ، غیر ملکی بازاروں سے متعلق ناکافی معلومات،بازاری شعور کی کمی، زرمبادلہ کی شرح کا اتار چڑھاؤ ،کوالٹی کے معیار اور قبل از روانگی مالیہ (Pre–Shipment Finance) وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں۔ عام طور پر ،چھوٹے کاروباروں کو مندرجہ ذیل مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ 

(i)مالیات : SSIS کو جن مشکل مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے ان میں مسئلہ کا م کاج کو چلانے کے لیے بقدر کفایت مالیہ کی عدم فراہمی ہے۔

عام طور پر چھوٹی کاروباری سرمایہ کی ایک چھوٹی اساس سے شروع ہو سکتا ہے۔ چھوٹے شعبہ(Factor) کی بہت سی اکائیوں میں سرمایہ بازاروں سے سرمایہ پیدا کرنے کے لیے مطلوبہ ساکھ کی کمی ہوتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو مقامی مالی وسائل پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور اس طرح وہ ساہوکاروں کے استحصال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان اکائیوں کو اکثر کاروباری سرمایہ کی کمی رہتی ہے جس کی وجہ یا تو ان کو حاصل ہونے والے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے یا پھر ان کا سرمایہ غیر فروخت شدہ اسٹاکوں میں پھنس جاتا ہے۔ بینک بھی ثانوی خدمات (Collateral Security) اور اضافی رقم (Margin Money) کے بغیر قرض نہیں دیتے جب کہ بہت سی اکائیاں ان چیزوں کو فراہم نہیں کر پاتیں۔ 

(ii)خام مال :چھوٹے کاروبار کا ایک دوسرا اہم مسئلہ خام مال کی فراہمی یا خریداروں سے اگر مطلوبہ چھوٹے کاروبار کا ایک دوسرا اہم مسئلہ خام مال کی فراہمی یا خریداری ہے۔ خام مال دستیاب نہ ہو تو پھر کوالٹی سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے یا پھر اچھا مال حاصل کرنے کے لیے زیادہ قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ ان اکائیوں کی قوت خرید ، خریدے جانے والے مال کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے نسبتاً کم ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ اکائیاں زیادہ مال خریدنے کی متحمل نہیں ہوتیں کیونکہ ان کے پاس خام مال ذخیرہ کرنے کی سہولت نہیں ہوتی ۔ کیونکہ معیشت میں دھاتوں،کیمیکلز اور استخراجی خام مالوں کی عام قلت ہوتی ہے اس لیے چھوٹے پیمانے کے شعبے اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے معیشت کے لیے پیداواری صلاحیت کا ضیاع اور مزید اکائیوں کا نقصان ۔

(iii)  اہتمام و انصرام کی مہارتیں: چھوٹا کاروبار عام طور پر شخص واحد ہی چلاتا ہے اور وہی ا س کو فروغ دیتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ یہ شخص کاروبار چلانے کی مہارت نہ رکھتا ہو ۔ بہت سے چھوٹے کاروبار کے کارنداز بہت مستحکم تکنیکی معلومات رکھتے ہیں لیکن اپنی پیداوار کی مارکیٹنگ میں کم کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے تمام کام کاجی یا عمل سرگرمیوں کے بارے میں دلچسپی لینے کا اس کو وقت نہ ملتا ہو ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ پیشہ ورانہ منیجروں کے بوجھ کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔ 

(iv)چھوٹے کاروبار کی فرمس (Firms) ملازمین کی بڑی بڑی تنخواہوں کی ادائیگی کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اس سے ملازمین محنت شاقہ اور زیادہ پیداوار دینے سے بے رغبت ہو جاتے ہیں۔اس طرح فی ملازم پیداواریت نسبتاً کم ہو جاتی ہے اور ملازمین کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے، چھوٹے کاروباری تنظیموں میں پیش کیے جانے والے مشاہرہ کے کم ہونے کی وجہ سے با صلاحیت لوگوں کا ملنا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ 

کم مزدوری پرغیر ماہر کامگار نوکری کر لیتے ہیں لیکن ان کو تربیت دینے کا عمل بہت لمبا کام ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تنظیموں کے برخلاف ، محنت(Labour) کی تقسیم قابل عمل نہیں ہوتی اور نتیجتاً تخصص(Specialisation)اور توجہ (Concentration) کا مسئلہ بنتی ہے۔

(v) مارکیٹنگ :  مارکیٹنگ ایک بہت ہی اہم سرگرمی ہے کیونکہ اسی سرگرمی سے آمدنی ہوتی ہے سامان یا اشیا کی مؤثر مارکیٹنگ کے لیے صارف کی ضرورتوں اور اس کی امیدوں کا بڑے پیمانہ پر ادراک ضروری ہے۔ اکثر معاملوں میں مارکیٹنگ چھوٹی تنظیموں کا ایک کمزور شعبہ ہوتا ہے۔اسی لیے ان تنظیموں کو بچولیوں پر زیادہ منحصر ہونا پڑتا ہے جو کبھی کبھی کم قیمت ادا کرکے یا ادائیگی میں تاخیر کرکے ان تنظیموں کا استحصال کرتی ہیں۔ مزید برآں، بلاواسطہ مارکیٹنگ چھوٹی کاروباری تنظیموں کے لیے قابل امکان نہیں ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس ضروری بنیادی ڈھانچہ نہیں ہوتا ہے۔

(vi)کوالٹی: بہت سی چھوٹی کاروباری تنظیمیں کوالٹی کے مطلوبہ  یا پسندیدہ معیاروں کو پورا نہیں کر پاتیں۔ اس کے بجائے، یہ لاگت گھٹانے اور قیمتیں کم رکھنے پر توجہ کرتی ہیں۔ ان کے پاس کوالٹی ریسرچ پر پیسہ لگانے کے لیے اور صنعت کے معیاروں کو برقرار رکھنے کے لیے نہ کافی وسائل ہوتے ہیں اور نہ ٹیکنالوجی کا معیار بلند کرنے کے لیے فنی مہارت۔ درحقیقت عالمی بازاروں میں مقابلہ کے لیے کوالٹی کو برقرار رکھنا ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

(vii)صلاحیت کا استعمال : مارکیٹنگ کی مہارت کی کمی یا مطالبہ (Demand)کی کمی کی وجہ سے ،بہت ساری چھوٹی کاروباری کمپنیوں کو پوری صلاحیت لگانی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ان کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ آہستہ آہستہ یہ کاروبارخستہ حال اور بند کرنے کا باعث بنتا ہے ۔ 

(viii) ٹیکنالوجی : چھوٹی صنعتوں کے مقابلے میں پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال کو اکثر ایک سنجیدہ کمی بتایا جاتا ہے۔ اس پرانی ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیداواریت میں کمی بھی ہوتی ہے اور پیداوار مہنگی بھی بیٹھتی ہے۔ 

(ix) بیماری : کچھ چھوٹی صنعتوں میں بیماری کی موجودگی پالیسی سازوں اور کاراندازوں کی پریشانی کا سبب ہوتی ہے۔ بیماری کے اسباب داخلی بھی ہو سکتے ہیں اور خارجی بھی ۔ ہنر مند اور تربیت یافتہ کامگاروں اور مارکیٹنگ نیز اہتمام و انصرام سے متعلق معاملوں کی کمی داخلی مسائل میں شامل ہیں جبکہ ادائیگی میں تاخیر، کاروباری سرمایہ کی کمی ،قرضوں کا ناکافی ہونا اور مصنوعات یا پیداوار کی طلب (Demand)میں کمی خارجی مسائل میں داخل ہیں۔ 

(x) عالمی مسابقت : مذکورہ بالا مسائل کے علاوہ چھوٹے کاروباروں کو خطرے لگے ہی رہتے ہیں ؛خاص طور پر اس لیے کہ موجودہ نرم کاری (Liberalisation)،نجی کاری اور عالمی کاری کی پالیسیوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ہندوستان نے بھی ان ایل پی جی پالیسیوں (Liberalisation, Privatisation and Globalisation Policies) کے راستہ کو 1991 سے ہی اپنا رکھا ہے۔ ہم ان شعبوں کو دیکھیں جن میں عالمی مسابقت کے حملے سے چھوٹی صنعتیں خطرات محسوس کرتی ہیں۔ 

(a)  یہ مسابقت صرف درمیانی اور بڑی صنعتوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے بھی ہے جو اپنے سائز اور کاروباری حجم کے اعتبار سے بہت بڑی ہوتی ہیں۔ کسی تجارت کی شروعات کا مطلب ہے چھوٹے پیمانے کی اکائیوں سے کڑا مقابلہ۔

(b) بڑی کوالٹی صنعتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کوالٹی کے معیاروں،تکنیکی مہارتوں،مالی ساکھ اور اہتمام و انصرام کی صلاحیتوں میں مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ 

(c)

  ISO 9000  جیسے کوالٹی سرٹی فی کیشن کی سخت شرائط کی وجہ سے ترقی یافتہ ملکوں، کے بازاروں میں محدود رسانی ہی ہو سکتی ہے۔ 

9.6  چھوٹی صنعتی اکائیوں کو سرکاری مدد

روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ملک کی متوازن علاقائی ترقی اور برآمدات کے فروغ میں چھوٹے کاروبار کی اہمیت اور ا س کے تعاون کے پیش نظر حکومت ہند کی پالیسی کا بڑا زور اس پر ہے کہ پچھڑے علاقوں میں چھوٹے کاروباری شعبہ کو اور خاص طور پر دیہی صنعتوں اور گھریلو دستکاریوں کو قائم کیا جائے ، ان کو فروغ دیا جائے اور ان کی ترقی کا سامان بہم پہنچایا جائے، مرکزی اور ریاستی سرکاریں، بنیادی ڈھانچہ ،مالی مدد،ٹیکنالوجی، تربیت، خام مال اور مارکیٹنگ کی سہولیات مہیا کرائیں ۔ دیہی علاقوں میں خود روزگار کے مواقع کو فروغ دینے میں بہت سرگرمی سے حصہ لیتی ہیں۔ دیہی صنعتوں کے فروغ کے لیے سرکاری مدد کی مختلف پالیسیوں اور اسکیموں کا بڑا روز مقامی وسائل ،خام مال اور مقامی طور پر دستیاب انسانی وسائل سے استعارہ پرہے ۔ ان اسکیموں اور پالیسیوں کو مختلف ان ایجنسیوں،ڈپارٹمنٹوں اور کارپوریشنوں وغیرہ کے ذریعہ عمل میں لایا جاتا ہے جو سب صنعتوں کے ڈیپارٹ منٹوں اور کارپوریشنوں وغیرہ کے ذریعہ عمل میں لایا جا تاہے جو سب صنعتوں کے ڈپارٹمنٹ کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ یہ سب بنیادی طور پر چھوٹی اور دیہی صنعتوں کے فروغ سے متعلق ہیں۔ چھوٹی اور دیہی صنعتوں وغیرہ کے فروغ کے لیے جو سہارا (Support Measures)اور پروگرام وغیرہ تیار کیے گئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

نیشنل بینک فار ایگر یکلچر اینڈ رورل ڈویلپمنٹ (NABARD)  

زراعت اور دیہی ترقی کے لیے قومی بینک (NABARD) کو ایک ہم آہنگ دیہی ترقی کے فروغ کے 1982میں قائم کیا گیا تھا ۔ زراعت کے علاوہ یہ چھوٹی صنعتوں،گھریلو صنعتوں اور ان دیہی ہنر مند کاریگروں کو بھی سہارا دیتا ہے جو کریڈٹ اور نان کریڈٹ ذرائع یا طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ نبارڈ (NABARD) دیہی کاراندازوں کے لیے رہنمائی اور مشورہ کی خدمات مہیا کراتا ہے نیز تربیت اور ترقی کے پروگرام بھی منعقد کراتا ہے۔ 

2۔  رورل اسمال بزنس ڈویلپمنٹ سینٹر (RSBDC)

یہ RSBDCیعنی دیہی چھوٹے کاروبار کی ترقی کا مرکز NABARDکی سرپرستی میں مشغول ہے اور سماجی اور معاشی طور پر غیر مستفید (Disadvantage)افراد اور گروپوں کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے پروگراموں کے ذریعے بے روزگار دیہی مردوں اور عورتوں کی بڑی تعداد کی مختلف تجارتوں میں کھپت ہو جاتی ہے۔ ان ٹریڈس میں غذاؤں کی ڈبہ بندی (فوڈ پروسیسنگ)کھلونا سازی،ریڈی میڈ کپڑوں کی تیاری،موم بتی سازی ،اگر بتی سازی ، ٹووہیلر کی مرمت اور سروس، کھاد کی تیاری اور غیر روایتی بلڈنگ مٹیر وغیرہ شامل ہیں۔

3۔ نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (NSIC) 

نیشنل اسمال انڈسٹریز کا رپوریشن ملک میں چھوٹی کاروباری اکائیوں کو فروغ دینے، ان کو مدد پہنچانے اور ان کی نشو و نما کے لیے 1955 میں قائم کی گئی تھی ۔ اس کا اہم مقصد ان کاموں کے تجارتی پہلوؤں پر توجہ دینا تھا ۔

(i) دیسی اور درآمد شدہ مشینیں آسان کرایہ– خرید (Hire-Puchase) شرطوں پر مہیا کرانا۔ 

(ii) دیسی اور درآمدشدہ خام مال کی فراہمی ،سپلائی اور تقسیم ۔

(iii) چھوٹی کاروباری اکائیوں کی مصنوعات کی برآمد اور ان کی برآمداتی کوالٹی کا فروغ۔

(iv) دیکھ بھال اور صلاح و مشورہ کی خدمات۔

(a)  ٹیکنالوجی بزی نیس انکیوبیٹر (Technology Buisness Incubators) کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ 

(b)  ٹیکنالوجی کی تجدید کے بارے میں بیداری پیدا کرتی ہے۔

(c)  سافٹ ویر ٹیکنا لوجی یا ایک ٹیکنا لوجی ٹرانسفر سینٹر س کا فروغ 

4۔رورل اینڈ ویمن انٹر پرینر شپ ڈویلپمنگ   (RWED)

دیہی اور خواتین کی کاراندازی کے فروغ (RWED) کے اس پروگرام کا مقصد ایک مساعد کاروباری ماحول کو فروغ دینا اور ایسی انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر کرنا ہے جو دیہی لوگوں اور خواتین کی کاراندازی کی صلاحیتوں کو سہارا دیں اور ان کے شوق کو بڑھائیں۔ RWFمندرجہ خدمات مہیا کراتی ہے۔ 

(i) ایک ایسا کاروباری ماحول پیدا کرتی ہے جس سے دیہی لوگوں اور خواتین کا ر اندازوں کے اقدامات کو حوصلہ ملے۔

(ii) کاراندازی کی فعالیت پسندی کو پروان چڑھانے کے لیے مطلوبہ انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بھی بڑھاتی ہے اور پیداوار میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

(iii) یہ خواتین کاراندازوں کے لیے تربیتی کتابچے مہیا کراتی ہے اور ان کو تربیت بھی بناتی ہے۔ 

(iv) دیگر ایڈوائزی خدمات بھی انجام دیتی ہے۔ 

5۔ اسکیم آف فنڈ فار رجسٹریشن آف ٹریڈیشنل انڈسٹریز (SFURTI)

روایتی صنعتوں کو زیادہ پیداواری اور مسابقتی بنانے کے لیے اور ان کی پائدار ترقی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے مرکزی سرکار نے اس کو 2005میں قائم کیا تھا ۔ اس اسکیم کے اہم مقاصد حسب ذیل ہیں:

(i) ملک کے مختلف حصوں میں روایتی صنعتوں کے مراکز کو ترقی دینا ۔

(ii) ملازمانہ اور روایتی مہارتوں کی تعمیر کرنا ۔ ٹیکنالوجیوں کو بہتربنانا،پبلک اور پرائیویٹ شراکت داری کی حوصلہ افزائی کرنا، بازاری ہوشمندی کو بڑھاوا دینا ، اس کے درمیان بازاروں کو مسابقتی ، قابل منافع اور پائیدار بنانا وغیرہ ۔

(iii) روایتی صنعتوں میں پائدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ۔

6۔ضلعی صنعتی مراکز  (DICs) 

ضلع صنعتی مرکز 1978 میں شروع کیا گیا تھا ۔ اس کی منشا ضلعی سطح پر ایک ہم آہنگ انتظامی سانچہ (Integrated Administrative Framework) مہیا کرانا تھا جو اس ضلع میں مجموعی طور پرصنعت کاری کے مسائل کی دیکھ ریکھ کرسکے ۔ مناسب اسکیموں کی نشاندہی، امکانی سہولتوں کی رپورٹیں تیار کرنا، قرض کے لیے انتظام کرنا ، خام مال اور دیگر توسیعی خدمات مہیا کرنا یہ سب ان مراکز کی ہی سرگرمیاں ہیں۔ 

 9.7  کاراندازی کا فروغ

کاراندازی (Entrepreneurship) خود اپنا کاروبار شروع کرنے کا عمل ہے۔ جو ہر قسم کی دیگر معاشی سرگرمی (خواہ وہ روزگار ہو یا کوئی اور پیشہ)سے ممتاز اور مختلف ہے۔ جو شخص اپنا کاروبار شروع کرتا ہے اسے کارانداز (Entrepreneur) کہتے ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ یعنی کاروباری اکائی - انٹرپرائز (Enterprise) کہلاتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کاراندازی ،کارانداز کے لیے خود روزگار دینے کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک دیگر دو معاشی سرگرمیوں یعنی روزگار اور پیشہ (Profession) کے مواقع کی تخلیق اور توسیع بھی کرتی ہے اور اس طرح کاراندازی ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں زبردست اہمیت کی حامل ہے ۔ اگر آپ کاراندازی کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ ملازمت کے متلاشی نہ ہوں گے بلکہ دوسرے لوگوں کو نوکری /ملازمت مہیا کرانے والے بنیں گے اور بہت سے مالی اور نفسیاتی فائدے آپ کے قدم چومیں گے ۔ کاراندازی ،در اصل کاراندازی کی تعریف ہم یوں کر سکتے ہیں کہ یہ کاروبار سے جڑے جوکھموں اور عدم یقین کے تناظر میں گراہکوں کو قدر کی تحویل ،سرمایہ کاروں کو آمدنی اور خود کو نفع پہنچانے کے نقطہ نظر سے ضرورت اور تخلیقی سرگرمی ہے۔یہ تعریف کاراندازی کی کچھ خصوصیات کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی طرف ہمیں اپنی توجہ مبذول کرنی ہے۔

کاراندازی خود بخود وجود میں آنے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ کسی فرد اور اس کے ماحول کے درمیان باہمی عمل کا نتیجہ ہے۔ کاراندازی کو کیریئر(پیشے )کے طور پر منتخب کرنے کا کام بہرحال فرد ہی کو انجام دینا ہے۔ اس کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ انتخاب اس کے مستقبل کے لحاظ سے پسندیدہ ہے یا نہیں۔اس سلسلے میں ، ماحول سے متعلق عوامل کے ساتھ ساتھ پسندیدگی اور امکان سے متعلق فرد کے نظریہ سے وابستہ عوامل پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ 

 9.7.1  کار اندازی کی خصوصیات

کاراندازوں کی ہر ملک کو ضرورت ہوتی ہے خواہ وہ ملک ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر ۔ ترقی پذیر ملکوں میں کارانداز ترقی کے عمل کی داغ بیل ڈالتے ہیں اور پائیدار بناتے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ پس منظر میں جہاں ایک طرف پبلک سیکٹر (عوامی شعبے) اور بڑے پیمانے کے سیکٹروں میں روزگار کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں ۔ ایسے میں کار اندازی ہندوستان کو معاشی سپر پاور بنا کر بلند مقام عطا کر سکتی ہے۔ اس طرح کار اندازی کی ضرورت کاراندازوں کے ان کاموں کی وجہ سے ہی ہے جو وہ معاشی ترقی کے عمل اور بزنس انٹرپرائز کے حوالے سے انجام دیتے ہیں۔ 

کار اندازی کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

(i)۔باقاعدہ سرگرمی: کار اندازی کوئی پر اسرار تحفہ یا جادو نہیں ہے اور نہ کوئی ایسی چیز ہے جو اتفاقی طور پر وجود میں آجائے ۔ یہ ایک باقاعدہ ، مرحلہ وار اور بامقصد سرگرمی ہے۔ اس کے لیے ایک مخصوص مزاج، مہارت اور دیگر معلومات نیز استعدادکی ضرورت ہوتی ہے جن کو رسمی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ مشاہدہ اور تجربہ سے سیکھا جا سکتا ہے، حاصل کیا جا سکتا ہے اور فروغ بھی دیا جا سکتا ہے۔ کار اندازی کے عمل کی صحیح سمجھ اس وہم اور باطل گمان کو دور کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ کار انداز پیدا ہوتے ہیں، بنتے نہیں ہیں۔ 

(ii)جائز اور با مقصد سرگرمی : کار اندازی کا مقصد ایک جائز کاروبار ہے اس بات کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ غیر قانونی یا ناجائز سرگرمیوں کو صرف اس بنیا دپر کار اندازی نہیں کہا  جا سکتا کہ کار اندازی میں بھی جوکھم ہو تا ہے اور ناجائز کاروبا ر میں بھی ۔ کار اندازی کا مقصد انفرادی منافع اور سماجی مفاد کے لیے اقدار کی تخلیق و تعمیر کرنا ہے۔ 

(iii)اختراع: کسی فرم کے نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو  اختراع سے لاگت میں کمی یا آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں ہی باتیں ہوں تو اختراع بہت ہی خوش آئندہ ہے۔ اگر اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا ہے تب بھی ا س کو خوش آئندہی کہنا چاہیے کیوں کہ اختراع پسندی طبیعت یا مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔ 

کار اندازی اس مفہوم میں تخلیقی عمل ہے کہ اس سے قدر کی تخلیق ہوتی ہے ۔ پیداوار کے مختلف عوامل کے امتزاج سے ہی کار انداز ایسی اشیا اور خدمات تیار کرتے ہیں جن سے سماج کی ضرورتیں اور خواہشات پوری ہوتی ہیں۔ کار اندازی کے ہر عمل کے نتیجے میں آمدنی اور دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کا راندازی اس مفہوم میں بھی تخلیقی ہے کہ اس میں نئی نئی چیزوں کا اختراع ہوتا ہے۔نئی مصنوعات بازار میں آتی ہیں، نئے نئے بازاروں،خام اشیا کی فراہمی کے ذرائع کی کھوج ہوتی رہتی ہے،ٹیکنا لوجی کے شعبے میں نئی نئی ترقیات ہوتی ہیں اور موجودہ تناظر میں چیزوں کو بہتر ، کفایتی اور تیز رفتار ی کے ساتھ تشکیل دینے کے لیے جدید تر تنظیمی شکلوں سے متعارف کرانا کہ ماحولی نظام ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچنے۔ 

کیا ہوگااگر، آپ کا خیال محض ایک خیال نہ ہو ؟

کیا ہو گا اگر ، آپ کا خیال شرمندہ ٔ  تعبیر ہو جائے ؟

کیا ہوگا اگر، وہ حقیقتاً وجود میں آ جائے ؟

کیا ہو گا اگر ، کوئی اس خیال پر یقین کرے اور اس کی آبیاری کرے؟

کیا ہو گا اگر ، آپ اپنی منزل تک سفر کے لیے راستہ کا تعین کریں؟

کیا ہو گا اگر ، یہ نمو پا جائے اور پھلنے پھولنے لگے؟

کیا ہوگا اگر ، دنیا آپ کے اس خیال کو قبول کرلے؟

کیا ہو گا اگر ، آپ کا یہ خیال مستقبل کی نسلوں کے لیے دنیا کو محفوظ ،خوش و خرم اور کامیاب بنانے کے قابل ہو جائے؟

www.startupindia.gov.inسے ماخوذ

(iv)پیداوار کی تنظیم کاری :  پیداوار میں افادیت کی تخلیق کی جاتی ہے۔ اس میں شکل ،مقام ،وقت اور شخصی افادیت شامل ہو سکتی ہے اور ان سب کے لیے پیداوار کے مختلف عوامل یعنی زمین، محنت سرمایہ اور ٹیکنا لوجی کی ایک متحد ہ شکل میں ضرورت ہوتی ہے۔ ایک کار انداز مواقع کا فائدہ اٹھا کر اور وسائل کو استعمال کرکے ایک پیدواری انٹر پرائز یا فرم کو وجود میں لاتا ہے ۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ کار انداز کے پاس ان میں سے کوئی بھی وسیلہ نہیں ہوتا ،اس کے پاس بس ایک آئیڈیا ہوتا ہے جس کو وہ وسائل مہیا کرنے والوں کے درمیان پروان چڑھاتا ہے ۔ ایک ایسی معیشت جہاں مالی نظام بہت ترقی یافتہ ہو اسے رقم مہیا کرنے والی تنظیموں کو مطمئن کرنا ہوتا ہے اور وہ سرمایے کا بندوبست اس طرح کرتا ہے کہ ساز و سامان ،مال،ضروری خدمات(مثلاً بجلی اور پانی وغیرہ) اور ٹیکنا لوجی کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ ایک پیدواری تنظیم کے لیے کن کن چیزوں کی ضرورت ہو گی، ان کی کب ضرورت پڑے گی اور ان کی فراہمی کب اور کہاں سے ممکن ہو گی اور ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیسے ہوگا ان سب باتوں کا بندوبست ایک کار انداز ہی کا کام ہے۔ ایک کار انداز انٹرپرائز کے مفاد میں وسائل کو جٹانے کے لیے گفت و شنید کی صلاحیت سے بھی استفادہ کر تا ہے۔
(v)جوکھم برداشت کرنا : عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ کار انداز بھاری جوکھم اٹھاتے ہیں۔ ہاں جو افراد کار اندازی کے شعبے کو اپنے کیرئیر کے طور پر منتخب کرتے ہیں انھیں ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ جوکھم اٹھانا پڑتا ہے جو ملازمت یا کسی اور پیشے کو کیرئیر کے طور پر اختیار کرتے ہیں ۔ کیوں کہ کار اندازی میں کوئی یقینی آمدنی نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر عملی زندگی میں جب کوئی شخص اپنی نوکری چھوڑ کر خود کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو وہ حساب لگاتا ہے کہ کیا وہ اتنے روپے کما سکے گا یا نہیں۔ ایک مستقل نوکری / ملازمت اور امید افزا پیشے کو چھوڑنا بہت بڑا جوکھم ہے لیکن اس نے جو جوکھم اٹھایا ہے وہ حسابی جوکھم ہے لیکن ان کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہوتا ہے کہ وہ% 50 امکانات کو% 100کامیابی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ وہ اونچے جوکھموں والے حالات سے گریز کرتے ہیں کیوں کہ وہ ناکامی سے نفرت کرتے ہیں اور یہ ایک فطری امر ہے؛ وہ کم جوکھم والی صورت حال کو بھی ناپسند کرتے ہیں کیوں کہ کاروبار کوئی کھیل یا مذاق نہیں ہے۔ جوکھم مالی نہ ہو کر شخصی اور ذاتی بن جاتا ہے جہاں توقع سے کم کارکردگی ناخوشی اور اذیت پہنچاتی ہے۔

 9.8  اسٹارٹ اپ انڈیا اسکیم 

اسٹارٹ اپ اسکیم حکومت ہند کی ایک ایسی اہم ترین پہل ہے جو ملک میں اختراع اور اسٹارٹ اپ کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی ماحولی نظام کو تراشنے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ اس پہل سے پائیدار معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت ہند کا مقصد یہ ہے کہ اسٹارٹ اپ کو اختراع اور ڈیزائن کے ذریعے سے بااختیار بنایا جائے۔  اس اسکیم کے خصوصی مقاصد ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں۔ 
(i) سماج میں بڑے پیمانے پر کار اندازی کی ثقافت کو تحریک دینا اور کار اندازی کی اقدار کو فروغ دینا اور کار اندازی کی سمت لوگوں کی ذہن سازی کرنا ۔ 
(ii) لوگوں میں کار اندازی کے عمل کے بارے میں اور خاص طور پر نوجوان طبقہ میں کار انداز بننے کا شوق پیدا کرنا اور کار اندازی کے عمل کے بارے میں ان کے اندر بیداری پیدا کرنا ۔ 
(iii) تعلیم یافتہ نوجوانوں،سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ترغیب دے کر زیادہ متحرک اسٹارٹ اپ کی حوصلہ افزائی کرنا ۔ 
(iv) کار اندازی کے فروغ کے ابتدائی مرحلہ میں معاونت کرنا جس میں قابل اسٹارٹ اپ، ابتدائی مرحلہ اور اسٹارٹ اپ کے فوری بعد والا مرحلہ اور نمو پذیر پرائز شامل ہیں۔
(v) پیرامڈ کے سب سے نچلے حصے میں موجود آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے مقاصد سے شمولی طرز اور پائیدار ترقی کو حاصل کرنے کے لیے نمائندگی سے محروم ٹارگیٹ گروپ مثلاً خواتین،سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات ، درج فہرست ذاتیں اور درج فہرست قبائل، نمائندگی سے محروم علاقوں کی مخصوص ضروریات کو پورا کرکے کاراندازی کی فراہمی کی اساس کو وسعت دینا ۔ 
وزارت ،تجارت و صنعت کے ذریعے 17فروری 2017کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ،اسٹارٹ اپ سے مراد ہے؛
(i) ایسی اکائی جو ہندوستان میں قانونی طور پر تشکیل شدہ یا رجسٹرڈ ہو۔
(ii) پانچ سال سے زیادہ پرانی نہ ہو ۔
(iii) گذشتہ سال میں سالانہ ٹرن اوور 25کروڑ سے زیادہ نہ ہو ۔
(iv) اختراع،ٹیکنا لوجی یا IPRs  اور پیٹنٹ پر مبنی مصنوعات /خدمات/عملوں کے فروغ یا تجارت کاری کے لیے کام کرتا ہو ۔ 

 9.8.1  اسٹارٹ اپ انڈیا کی شروعات کے سلسلے میں عمل درآمد 

(i) اسٹارٹ اپ کو موافق اور لچک دار بنانے کے لیے سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ 
(ii) اسٹارٹ اپ انڈیا ہب: اس کا مقصد مکمل اسٹارٹ اپ اور فنڈنگ تک رسائی کو آسان بنانا ۔
(iii) قانونی مدد اور پیٹنٹ کی جانچ میں تیزی لانا ۔
اختراعی اور متعلقہ اسٹارٹ اپ کے پیٹنٹ ،ٹریڈ مارک اور ڈیزائنوں کے تحفظ میں سہولت بہم پہنچانے کے لیے اسٹارٹ اپ ذہنی ملکیت تحفظات کی اسکیم پر غور کیا گیا ۔
(iv) آسان خروج:  کاروبار کے ناکام ہوجانے اور کام بند ہو جانے کی صورت میں سرمایہ اور وسائل کو زیادہ پیداوار والے کاموں میں باز اختصاص کے لیے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ اس سے پیچیدہ اور طویل خروجی عمل کے خوف کے بغیر نئے اور اختراعی خیالات کو پرکھنے کے عمل کو فروغ ملے گا۔ 
(v) انکیوبیئر قائم کرنے کے لیے نجی شعبہ سے استفادہ کرنا حکومت کی سرپرستی /فنڈنگ سے چلنے والے اِنکیوبیئر کے پیشہ ورانہ انتظام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ملک بھر میں PPP کے طرز پر انکویٹر قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ 
(vi) ٹیکس میں چھوٹ :  اسٹارٹ اپ اکائیوں کو حاصل ہونے والا نفع تین سال کی مدت تک آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ 

9.8.2  اسٹارٹ اپ کو مالیہ فراہم کرنے کے طریقے

اسٹارٹ اپ سرمایہ اور بینک سے قرض فراہم کرنے کے لیے حکومت کے منصوبوں کے علاوہ اسٹارٹ اپ کے لیے فنڈ کا حصول مندرجہ ذیل طریقوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ 
(i) بوٹ اسٹریپنگ (Boot Strapping) :  اسے عام طور سے سیلف فائنائسنگ کہا جا تا ہے۔ اسے فنڈنگ کا پہلا متبادل بھی تصور کیا جا تا ہے کیونکہ آپ جمع پونجی اور وسائل کو استعمال کرکے اپنے کاروبار سے جڑ جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ سرمایہ کار اسے آپ کی خوبی سمجھتے ہیں، تاہم فنڈنگ کا یہ طریقہ ضرور اسی صورت میں بہتر ہے جب ابتدائی ضروریات مختصر ہوں۔ 
(ii) کراؤڈ فنڈنگ:لوگوں کے گروہ کے ذریعے وسائل کو ساجھا کرکے یا اکٹھا کرکے کسی مشترک نشانے /ہدف کو پورا کرنے کا طریقہ ہے۔ فنڈنگ کا یہ طریقہ ہندوستان کے لیے کوئی نیا نہیں ہے۔ ایسے کئی واقعات یا مثالیں ہیں جب تنظیمیں فنڈنگ کے لیے عام لوگوں کے پاس جاتی ہیں۔ حالاں کہ ہندوستان میں کراؤڈ فنڈنگ کو بڑھاوا دینے والے پلیٹ فارم ابھی حال ہی میں نمودار ہوئے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم اسٹارٹ اپ اور چھوٹے کاروباروں کی فنڈنگ کی ضروریات کی تکمیل میں مدد کرتے ہیں۔ 
(iii) اینجل سرمایہ کاری: اینجل سرمایہ کاروہ افراد ہیں جن کے  پاس اضافی سرمایہ ہے اور آنے والے اسٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں ۔ وہ سرمایہ کے ساتھ ساتھ سرپرستی اور مفید مشاورت کی پیش کش بھی کرتے ہیں۔ 
(iv) وینچر سرمایہ: کچھ ایسے بھی فنڈ ہیں جن کا انتظام پیشہ ورانہ انداز میں کیا جا تا ہے ۔ یہ فنڈ ایسی کمپنیوں میں سرمایہ لگاتے ہیں جہاں ترقی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ وینچر سرمایہ کار کاروباری کمپنیوں کو سرپرستی اور مہارتیں مہیا کراتے ہیں نیز پائیداری اور ترقی کے نقطہ نظر سے کاروباری تنظیم کی قدر پیمائی کے لیے لمٹس ٹیسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں ۔
(v) کاروباری انکیوبیٹر اور ایکسلیریٹر(اسراع کار):  ابتدائی مرحلے والے کاروبار انکیوبیٹر(Incubator) اور   اسراع کار (Accelerator)پروگراموں کو فنڈنگ کے لیے منتخب کر سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ہر سال ہزاروں اسٹارٹ اپ کاروباروں کو مدد بہم پہنچاتے ہیں۔ یہ دونوں عام طور سے متبادل طو ر پر استعمال کیے جاتے ہیں تاہم ، انکیوبیٹر ایسے والدین کی طرح ہے جو کاروبار (بچہ)کی پرورش کرتے ہیں اور جب کہ اسراع کار کاروبار کو چلانے میں مدد کرتے ہیں۔ انکیوبیٹر اور ایکسیلریٹر ، اسٹارٹ اپ کو سرپرستوں /صلاح کاروں، سرمایہ کاروں اور ساتھی اسٹارٹ اپ کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ 
(vi) مائیکروفائنانس اور این ایف بی سی : مائکروفائنانس بنیادی طو ر پر ان کاروباری اکائیوں کو مالی خدمات فراہم کرتے ہیں جن کو روایتی بینکنگ خدمات تک رسائی حاصل نہیں ہے یا وہ بینک سے قرض لینے کے لیے اہل نہیں ہیں۔  اسی طرح این بی ایف سی (غیر بینکنگ مالیاتی کارپوریشن) بینک کی قانونی ضروریات کو پورا کیے بغیر بینکنگ خدمات فراہم کراتے ہیں۔ 

9.9  حقوق روشن فکری /ذ ہنی املاک(IPR)

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران حقوق روشن فکری (ذہنی املاک ) اس بلندی تک نمو پا چکے ہیں جہاں سے یہ عالمی معیشت کی ترقی میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ذہنی املاک ہر جگہ موجود ہے مثلاً آپ جو موسیقی سنتے ہیں ۔ وہ ٹیکنالوجی جس کی مدد سے آپ کا فون کام کرتا ہے۔آپ کی پسندیدہ کار کا ڈیزائن ، آپ کے جوتوں پر بنا ہوا لوگو وغیرہ ۔ یہ ان سبھی چیزوں میں موجود ہے جنہیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ انسانی تخلیق اور ہنر کی تمام پیداوار مثلاً سبھی ایجادات ،کتابیں ،پینٹنگ ،نغمے ، علامات ،نام ،شبہات یا کاروبار میں استعمال ہونے والے ڈیزائن وغیرہ تخلیقات کی سبھی ایجادات ایک ’خیال‘سے شروع ہوتی ہیں۔ جب کوئی خیال یا تصور حقیقی پروڈکٹ یعنی ذہنی ملکیت بن جاتا ہے تو کوئی فرد اس کے تحفظ کے لیے حکومت ہند کے تحت متعلقہ اتھارٹی کو درخواست کر سکتا ہے۔ اس قسم کے پروڈکٹ کو اداکیے جانے والے قانونی حقوق کو حقوق روشن فکری /حقوق ذہنی املاک (IPRs)کہا جاتا ہے۔ لہٰذا ذہنی ملکیت (IP)سے مراد انسانی ذہن کی پیداوار (پروڈکٹ) سے ہے، اس لیے دیگر قسم کی املاک کی ہی طرح  IP کے مالکان انھیں دوسرے لوگوں کو کرائے پر دے سکتے ہیں یا فروخت کر سکتے ہیں۔ 
خاص طور سے ، ذہنی ملکیت (IR) سے مراد انسانی ذہن سے جنم لینے والی تخلیقات سے ہے مثلاً دریافتیں/ایجادات، ادب اور فنون لطیفہ سے متعلق کام اور کاروبار میں استعمال ہونے والے نام ،علامات ،شبیہات اور ڈیزائن ملکیت کو دو وسیع زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک زمرہ صنعتی ملکیت کہلاتا ہے جس میں ایجادات(پیٹنٹ)،ٹریڈ مارک،صنعتی ڈیزائن اور جغرافیائی اشارات شامل ہیں جب کہ دوسرا زمرہ ’کاپی رائٹ‘ ہے جس میں ادب اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے کام جیسے ناول ، نظمیں ، ناٹک،فلمیں ،موسیقی سے متعلق کام،فنون لطیفہ سے متعلق کام جیسے ڈرائنگ ،پینٹنگ،فوٹو گراف ، سنگ تراشی /مجسمہ سازی اور فن تعمیر سے متعلق ڈیزائن شامل ہیں۔ 

تاریخ میں آپ نے ہلدی گھاٹی کی تاریخی جنگ کے بارے میں ضرور پڑھاہوگا۔ یہ جنگ اس وقت کے راجپوت اورمیواڑ (راجستھان)کے راجہ رانا پرتاپ سنگھ اور مغل بادشاہ اکبر کے درمیان1567عیسوی میں لڑی گئی تھی۔ ہلدی گھاٹی کی ایک ایسی ہی جنگ 1997میں بھی بڑے زورشور سے لڑی گئی تھی۔ یہ جنگ پیٹنٹ کے مسئلہ پرلٹری گئی تھی۔ امریکی پیٹنٹ آفس نے1995میں ہلدی (Turmeric)کے پیٹنٹ حقوق، مسی سی پی یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر کو دے دیے تھے کیونکہ ہلدی میں زخموں کو مندمل کرنے کی خصوصیت ہے اور یہ ایک نئی دریافت ہے۔ ہم سب قدیم تر زمانے سے ہی ہلدی کو زخم مندمل کرنے کی خصوصیت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ حکومت نے بہت شدومد کے ساتھ اس پیٹنٹ کی مخالفت کی اورانجام کارہندوستان نے یہ جنگ جیت لی۔یہ پیٹنٹ رد کردیاگیا۔


ذہنی ملکیت اور دیگر اقسام کی ملکیت کے درمیان واضح فرق یہ ہے کہ ذہنی ملکیت غیر لمسی/ناقابل لمس ہوتی ہے یعنی اس کی شناخت یا تعین (تعریف) اس کے اپنے طبیعاتی پیرامیٹر کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا ۔ ذہنی ملکیت کا دائرہ کار (Scope)اور تعریف نئی فرموں کی شمولیت کے ساتھ ساتھ مستقل طور پر ارتقائی منازل طے کر رہی ہے۔ابھی حال ہی میں جغرافیائی اشارات انٹگریٹیڈ سرکٹ اور مختلف قسم کے حقوق ذہنی املاک کو تسلیم کیا گیا ہے۔ کاپی رائٹ،ٹریڈ مارک ،جغرافیائی اشارات ،پیٹنٹ، ڈیزائن پودوں کی اقسام،نیم موصل اینٹیگریٹیڈ سرکٹ ،لے آؤٹ ڈیزائن۔ علاوہ ازیں روایتی معلومات بھی IPکے تحت آتی ہے۔ 
آپ نے کسی بیماری کے علاج کے لیے کوئی گھریلو نسخہ ضرور آزمایا ہو گا جس کا علم آ پ کو اپنے دادا /پردادا یا نانی /پرنانی /نانا / پر نانا کے ذریعہ سے ہوگا ۔ یہ گھریلو علاج روایتی قسم کی دوائیں ہیں جو گذشتہ کئی صدیوں سے ہندوستان میں رائج ہیں۔ انھیں روایتی معلومات کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ہندوستان کے روایتی ادویاتی نظاموں کی کچھ مثالیں اس طرح ہیں۔ آیوروید، یونانی ،سدھ اور یوگ،روایتی معلومات (TK)سے مراد دنیا بھر میں مقامی طبقات کے مابین رائج معلومات ، نظاموں اور رواجوں سے ہے۔ یہ دانائی/عقلمندی برسوں کی مدت میں جمع ہوتی ہے اور فروغ پاتی ہے اور پیڑھی در پیڑھی استعمال اور منتقل ہو رہی ہے۔ حکومت ہند نے ایک روایتی معلومات ڈیجیٹل لائبریری(TKDL) تیار کی ہے جو لازماً روایتی معلومات کا ایک ڈجیٹل معلوماتی مخزن ہے اور یہ ہماری قدیم تہذیب میں خاص طور سے ادویاتی پودوں اور ہندوستانی نظامات طب میں استعمال ہونے والی فارمولہ سازی /ضابطہ بندی کے بارے میں موجود ہے۔ اہم معلومات کا یہ ادارہ ہماری روایتی معلومات کو غیر قانونی /غلط طریقے سے پیٹنٹ کرانے کے عمل کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ ذہنی ملکیت (IP) کی ایک اور قسم بھی ہے جسے تجارتی راز کہتے ہیں۔ آپ نے ایک مقبول عام مشروب کوکا کولا کے بارے میں ضرور سنا ہوگا ۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس مشروب کا نسخہ پوری دنیا میں صرف تین لوگ ہی جانتے ہیں۔ اس پوشیدہ یا مخفی معلومات کو تجارتی راز کی اصطلاح کے طو ر پر جانا جاتا ہے ۔ تجارتی رازبنیادی طور پر خفیہ معلومات ہے جو بہت زیادہ مسابقت کو بڑھاوا دیتی ہے۔ ہندوستان میں تجارتی رازکو انڈین کانٹریکٹ ایکٹ 1872 کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ 

9.9.1 کاراندازوں کے لیے IPR اہم کیوں ہے؟

یہ نئی اور اہم ترین ایجادات مثلاً کینسر کا علاج کرنے والی دواؤں کی تخلیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ موجدوں،مصنفوں،تخلیق کاروں وغیرہ کو اپنے کام کی انجام دہی کی سمت ترغیب دیتا ہے۔ یہ کسی شخص کی تخلیق کو صرف اس کی رضا مندی کے بعد ہی عوام تک پہنچانے اور ان کے درمیان تقسیم کرنے کی اجازت دیتا ہے لہٰذا یہ آمدنی میں ہونے والے نقصان کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے مصنفوں ،تخلیق کاروں ،فروغ کاروں اور مالکان کو ان کے ذریعے انجام دیے گئے کاموں کے سلسلے میں ایک پہچان مہیا کرانے میں مدد کرتا ہے۔ 

کاپی رائٹ کے تحت کون سے پروڈکٹ ہیں ؟

ادبی کام   پمفلٹ ،برشر،ناول،کتب،نظمیں ،نغمے ، گیت ،کمپیوٹر پروگرام
فنی کام   ڈرائنگ ،پینٹنگ ،مجسمے،فن تعمیر سے متعلق ڈرائنگ ،تکنیکی ڈرائنگ،نقشے ،لوگو
ڈرامائی کام    رقص یا خاموش اداکاری،اسکرین پلے ،موسیقی ،آواز کی ریکارڈنگ، سینیموٹوگرافک فلم
عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے قیام کے ساتھ ہی تجارت سے متعلق ذہنی ملکیت نظام (TRIPs) معاہدے کے تحت ذہنی ملکیت کے تحفظ کی اہمیت اور کردارکو واضح کر دیا گیا ۔ ڈبلیو ٹی او کے قیام اور TRIPS سے متعلق معاہدے پر ہندوستان کے ذریعے دستخط کیے جانے کے بعد بین الاقوامی پابندیوں پر عمل کرنے کے لیے حقوق ذہنی ملکیت کی تحفظ کے لیے کئی قوانین پاس کیے گئے ۔ ان قوانین میں ٹریڈ مارک ایکٹ 1999اشیا کے جغرافیائی اشارات قوانین (رجسٹریشن اور تحفظ )سے متعلق ایکٹ 1999،ڈیزائن ایکٹ 2000،نباتاتی انواع کے تحفظ اور کاشت کاروں کے حقوق سے متعلق ایکٹ 2001 پیٹنٹ ایکٹ 2005اور کاپی رائٹ (ترمیم شدہ ) ایکٹ 2012شامل ہیں ۔

9.9.2  IPs کی اقسام 

تخلیق کو پروان چڑھانے اور ملک کی معاشی ترقی میں تعاون کے پیش نظر IPRS بہت زیادہ ضروری ہیں ۔ ان حقوق کی وجہ سے تخلیق کاروں اور ایجاد کرنے والے افراد کو اپنی تخلیقات اور ایجادات پر پورا اختیار ہوتا ہے۔ یہ حقوق فنکاروں ،کار اندازوں اور موجدوں کو نئی ٹیکنالوجی اور تخلیقی کاموں میں مزید تحقیق و ترقی اور تعریف کے لیے تن دہی سے کام کرنے کی ترغیبات کی تخلیق کرتے ہیں۔ بدلتی ہوئی عالمی معیشت انسانی فروغ کے عمل میں مسلسل پیش رفت کے لیے بے نظیر یا غیر متوقع چیلنجز اور مواقع کی تشکیل کر رہی ہے۔ IPکی تعریف یا فروخت کے لیے عالمی سطح پر کاروباری مواقع دستیاب ہیں۔ جغرافیائی سرحدیں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کر پائیں۔ تقریباً ہر ایک چیز تک صارفین کو فوری رسائی حاصل ہے۔ ایسے وقت میں یہ بہت اہم ہوجاتا ہے کہ ہم IPRs کی اہمیت اور ہماری روزمرہ کی زندگی پر پڑنے والے ان کے اثرات کے سلسلے میں بیدار ہوں ۔ ذہنی ملکیت تین اہم پہلوؤں کا مطالبہ کرتی ہے جو اس طرح ہیں: 
(i) قانون –حقوق ذہنی املاک،تخلیق کاروں/ذہنی ملکیت کے مالکان کو حاصل ایسے قانونی حقوق ہیں جو محفوظ(تحفظ شدہ )مواد کو استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ یہ معلومات کے قانونی پہرے دار ہیں۔ 
(ii) ٹیکنا لوجی –ذہنی املاک کی لازمی شرط یہ ہے کہ تخلیق ’اصل‘ ہونی چاہیے ۔ تخلیق کار ایک انوکھی چیز کو وجود میں لائے ۔ ٹیکنالوجی کے ضمن میں IPRs انفارمیشن ٹیکنالوجی، آٹوموبائل،معاون سپوٹیکل،بایو ٹیکنالوجی وغیرہ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ 
(iii) کاروبار اور معاشیات– حقوق ذہنی املا ک کے بنیادی عناصر صنعتی ترقی اور کاروبار کو کامیاب بنانے میں مدد کرتے ہیں ۔IPR، کاروبار کرنے والوں کو حقوق فراہم کرتے ہیں۔ 
آئیے ہر ایک ذہنی ملکیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کاپی رائٹ 

کاپی رائٹ ’’نقل نہ کیے جانے‘‘ کا حق ہے ۔یہ حق اس وقت عطا کیا جاتا ہے جب کوئی تخلیق کار یا مصنف کسی اصل خیال کا اظہار کرتا ہے۔ یہ حق ادبی اور فنی کام ،موسیقی اور آواز کی ریکارڈنگ، سنیمیوٹوگرافک فلم کے تخلیق کاروں کو عطا کیا جاتا ہے۔ کاپی رائٹ کسی مواد کے تخلیق کار کو حاصل خصوصی حق ہے جو مواد کے غیر قانونی استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ کاپی رائٹ کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ جیسے ہی موادوجود میں آتا ہے سا تھ ہی ساتھ اس کے تحفظ کا سامان خود بخود مہیا ہو جاتا ہے۔ مواد کا رجسٹریشن حالانکہ ضروری یا لازمی شرط نہیں ہے لیکن خلاف ورزی کی صورت میں خصوصی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے رجسٹریشن ضروری ہے۔ 
کا پی رائٹ کے تحت کن چیزوں کو تحفظ حاصل ہے؟

ٹریڈ مارک(تجارتی نشان) 

ایک ٹریڈ مارک ایسا لفظ ،نام یا علامت ( یا ان کی مجموعی شکل ) ہے جو ہمیں کسی فرد،تنظیم یا کمپنی کے ذریعے تیار کی گئی اشیا کو پہچاننے میں مدد کرتا ہے۔ ٹریڈ مارک کی بنیاد پر ہم مختلف کمپنیوں کی اشیا کے درمیان فرق کر سکتے ہیں۔ واحد برانڈ یا لوگو میں ٹریڈمارک کمپنی کی ساکھ ، شہرت،مصنوعات(پروڈکٹ) اور خدمات کے بارے میں کئی چیزوں کو جاننے میں مدد کرتا ہے۔ ٹریڈ مارک بازار میں اپنے حریفوں کی ایک جیسی مصنوعات کے درمیان فرق کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک حریف بازار میں اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے اسی جیسا یا اس سے ملتا جلتا تجارتی نشان استعمال نہیں کر سکتا کیوں کہ ایسا کرنا فریب کارانہ یکسانیت کے تصور کے تحت آتا ہے جس کی وضاحت صوتی، ساختی یا بصری یکسانیت کے طور پر کی جا سکتی ہے۔ ٹریڈ مارک کی درجہ بندی روایتی اور غیر روایتی ٹریڈ مارک کے تحت کی جاتی ہے۔
(i) روایتی تجارتی نشان–الفاظ ، رنگ اتحاد ، پسل ، لوگو ، پیکیجنگ ، اشیا کی شکل وغیرہ ۔
(ii) غیر روایتی تجارتی نشان – اس زمرے میں وہ تجارتی نشانات شامل کیے گئے ہیں جو پہلے زمرے میں شامل نہیں ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت قائم  کر رہے ہیں جیسے صوتی نشان، حرکی نشان وغیرہ ۔
 ان سب کے علاوہ دنیا کے کچھ حصوں میں بو اور ذائقہ کو بھی تجارتی نشانات کے طور پر تحفظ کے دائرے میں شامل کیا جاتا ہے، لیکن ہندوستان میں انھیں تجارتی نشانات کے طورپر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ٹریڈ مارک ایکٹ 1999 کے تحت ٹریڈ مارک کا رجسٹریشن لازمی نہیں ہے، لیکن تجارتی نشان کا رجسٹریشن، نشان پر جامع اور مانع حقوق کو قائم کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ تجارتی نشان کا رجسٹریشن کرانے کے لیے آپ انڈین ٹریڈ مارک رجسٹری کی ویب سائٹ http://www.ipinclia.nic.in  پر جا سکتے ہیں۔

جغرافیائی اشارہ 

جغرافیائی اشارہ (GI)بنیادی طور پر ایک ایسا اشارہ ہے جو زرعی،قدرتی یا تیار کی گئی مصنوعات (دست کاری ،صنعتی مال اور غذائی اشیا) کی ایک مخصوص جغرافیائی خطے کی پیداوار کے طور پر نشاندہی کرتا ہے جہاں ایک متعینہ کوالٹی ،شہرت یا دیگر خصوصیات اس کے جغرافیائی اصل سے منسوب ہوتی ہیں۔ 
جغرافیائی اشارہ (GI) ہمارے مجموعی اور ذہنی ورثہ کا حصہ ہے جس کا تحفظ اور فروغ بہت ضروری ہے۔ ان کی زمرہ بندی جغرافیائی اشاروں (GI) کے طور پر رجسٹرڈ اور تحفظ فراہم کیا گیا ۔ جن اشیا کو زرعی پیداوار ،قدرتی ،دست کاری ، صنعتی پیمانے پر پیدا کی گئی اشیا اور غذائی اشیا کے طور پر کی جاتی ہے۔ ناگا مرچا، میزوچلی ،شیفی لنیفی ،موئی رانگ فی اور جکھیسنگ شال، بستر ڈھوکرا، ورلی پینٹنگ ،دارجلنگ چائے ،کانگڑا پینٹنگ ، ناگپوری سنترے ، بنارسی ساڑیاں اور بروکیڈ ،کشمیری پشمینہ GIکی کچھ اور مثالیں ہیں گذشتہ چند دہائیوں کے دوران جغرافیائی نشانات کی اہمیت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ 
جغرافیائی نشان کسی جغرافیائی خطے کی مجموعی شہرت کی نمائندگی کرتے ہیں جو صدیوں میں اپنے آپ اس خطے کو حاصل ہوتی ہے۔ آج صارفین ، مصنوعات /اشیا کو خریدتے ہیں ان میں موجود نمایاں خصوصیات کو بہت زیادہ ملحوظ رکھتے ہیں ۔کچھ معاملوں میں ’اصل مقام ‘ اور ’’جغرافیائی اشاروں ‘‘ کے درمیان فرق ہوتا ہے جو صارفین کو یہ تجویز کرتا ہے کہ پروڈکٹ میں ایک نمایاں /منفرد کوالٹی /خصوصیت ہوگی جسے انھیں اہمیت دینی چاہیے۔ 

پیٹنٹ(Patent)

پیٹنٹ ،IPRکی ایک قسم ہے جو سائنسی دریافتوں(پروڈکٹ اور/یا پروسس) کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو پہلے سے معلوم پروڈکٹ کے بارے میں تکنیکی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ پیٹنٹ حکومت کی طرف سے عطا کردہ ایک جامع اور مانع حق ہے جو دیگر افراد کو مہیا کرنے اور اس ایجاد / دریافت کو ترتیب دینے، استعمال کرنے ، فروخت کرنے کے لیے پیش کرنے، فروخت کرنے یا درآمد کرنے سے روکنے کا خصوصی حق فراہم کرتا ہے۔ کسی ایجاد کا پیٹنٹ کرانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایجاد نئی ہو ، کتنی بھی ایسے شخص پر واضح نہ ہو ۔ جو ٹیکنالوجی کے متعلق شعبے میں مہارت رکھتا ہو اور وہ صنعتی استعمال کے لائق ہو۔
(i) یہ لازمی طور پر نئی ہو یعنی موجودہ معلومات کے مطابق دنیا میں کہیں پر بھی اس کا وجود نہ ہو یعنی پیٹنٹ کے لیے درخواست دینے سے پہلے یہ کسی بھی شکل میں پبلک ڈومین میں نہ ہو ۔ (انوکھا پن ) 
(ii) کسی بھی ایسے شخص کو اس کے بارے میں معلوم نہ ہو جسے ٹیکنا لوجی کے متعلقہ شعبہ میں مہارت حاصل ہو یعنی معیاری طور پر ، ایسا شخص جو مطالعے کے اس شعبے میں موزوں طور پر مہارت رکھتا ہے۔ (ایجادی مرحلہ ) 
(iii) آخری بات یہ کہ یہ ایجاد صنعتی استعمال کی اہل ہونی چاہیے یعنی صنعت میں استعمال کیے جانے یا تیار کیے جانے کی اہل ہو ۔
 پیٹنٹ کی درخواست صرف کسی ایجاد (Invention) پر حق حاصل کرنے کے لیے دی جا سکتی ہے کھوج پر نہیں۔ نیوٹن نے سیب کو نیچے گرتے ہوئے دیکھا اور کشش ثقل کی کھوج کی ۔ اسے صرف ایک کھوج مانا جاتا ہے۔ جب کہ ٹیلی فون کے موجد الگزینڈر گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا ۔ اس طرح جب کسی انوکھی شے کی تخلیق کرنے یا کسی منفرد چیز کو وجود میں لانے کے لیے اپنی استعداد/صلاحیت کا استعمال کرتے ہیں تو اسے ایجاد کہا جاتا ہے جب کہ پہلے سے موجود کسی چیز کے وجود کو اجاگر کرنے /منظر عامل پر لانے کے عمل کو کھوج / دریافت کہتے ہیں۔
پیٹنٹ کا مقصد سائنسی میدان میں جدت کاری/اختراع کو فروغ دینا ہے۔ پیٹنٹ کسی موجد کو 20سال کی مدت تک کے لیے جامع اور مانع حقوق عطا کرتا کرتا ہے جس کے دوران کوئی بھی شخص جو پیٹنٹ شدہ مواد کو استعمال کرنا چاہے اس کو پیٹنٹ کرانے والی کمپنی /ادارے سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے جس کے لیے اسے اس ایجاد کے تجارتی استعمال کے عوض کچھ قیمت ادا کرنی پڑے گی ۔ پیٹنٹ کرانے والے کے ذریعے حقوق حاصل کرنے کا عمل لائسنسنگ کہلاتا ہے ۔ پیٹنٹ ایک قسم کی وقتی اجارہ داری پیدا کرتی ہے۔ جب پیٹنٹ کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو پھر وہ ایجاد پبلک ڈومین میں آجاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس کا استعمال ایک عام آدمی بھی کر سکتا ہے۔ یہ پیٹنٹ کرانے والے کو اجارہ داری کی تشکیل وغیرہ جیسی مسابقت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے باز رکھتا ہے۔ 

کن چیزوں کا پیٹنٹ نہیں کیا جا سکتا؟

پیٹنٹ ایکٹ 1970کے سیکشن 3اور 4کے تحت سائنسی اصول ، مضبوط بنیادوں پر قائم فطری قوانین کے بر خلاف، تجریدی نظریہ کی ضابطہ سازی، چھوٹی چھوٹی ایجادات، اخلاقیات کے لیے مضر یا عوامی صحت کو نقصان پہنچانے والی زراعت یا باغبانی کے طریقے، علاج کے طریقے،ملاوٹ، روایتی معلومات،اضافہ کرنے والی ایجادات (افادیت میں اضافہ کرنے والی ایجادات کو چھوڑ کر ) اور ایٹمی توانائی سے متعلق ایجادات کو پیٹنٹ نہیں کیا جا سکتا۔

ڈیزائن

ڈیزائن شکل ،پیٹرن اور خطوں یا رنگوں کی آمیزش کی ترکیب کی وہ ترتیب ہے جو کسی بھی چیز میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفظ ہے جو کسی جمالیاتی شکل اور جاذب نظر خدو خال کو دیا جا سکتا ہے۔ کسی ڈیزائن کے تحفظ کی اصطلاح دس سال تک کے لیے قابل اعتبار ہوتی ہے۔ جس کی تجدید اس مدت کے گذرنے کے بعد مزید پانچ سال کے لیے کی جا سکتی ہے۔ اس مدت کے دوران ایک رجسٹرڈ ڈیزائن کا استعمال مالک کے ذریعے لائسنس حاصل کرنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے اور جب معتبریت کی یہ مدت (Validity Period)ختم ہو جائے تو پھر یہ ڈیزائن عوامی ڈومین (Domain) میں آجاتا ہے۔ 

پودوں کا تنوع

 پودوں کا تنوع لازمی طور پر پودوں کو ان کی نباتاتی خصوصیت کی بنیاد پر زمرہ بند کرتا ہے۔ یہ بھی کسی ورائٹی کی ایک قسم ہے۔ جس کو کسان نسل تیار کرتے اور اس کو فروغ دیتے ہیں۔ اس سے پودے کے جینیاتی وسائل کو محفوظ رکھنے ، ان کو بہتر اور دستیاب بنانے میں مدد ملتی ہے، مثال کے طور پر آلوؤں کی مخلوط یا دوغلی قسم۔ ایسا تحفظ R4Dمیں سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے، ہندوستانی کسانوں کو کاشت کار ،تحفظ کار اور نسل ساز کے طور پر پہچانتا ہے اور اعلیٰ کوالٹی کے بیجوں اور پودا کاری میٹیریل کے معاملے سہولت بہم پہنچاتا ہے۔ 

سیمی کنڈکٹر انٹگریٹیڈ سرکٹس لے آؤٹ ڈیزائن

(Semiconductor Integrated

Circuits Layout Design)

آپ نے کبھی کمپیوٹر کی چپ دیکھی ہے؟ کیا آپ انٹگریٹیڈ سرکٹوں سے واقف ہیں جنہیں ICS بھی کہا جاتا ہے۔ ایک سیمی کنڈکٹر پر کمپیوٹر چپ کا ایک ہم آہنگ حصہ ہے۔ کوئی بھی پروڈکٹ جس میں ٹرانسسٹر یا دیگر سرکٹری ایلیمینٹ استعمال کئے جاتے ہیں اور وہ نیم موصل مادّے پر برق متراحم شے کے طور پر یا نیم موصل مادے کے اندر بنا ہو ۔ اس کا ڈیزائن ایک الیکٹرانک سرکٹری فنکشن انجام دیتا ہے۔ 

اموال روشن فکری اور کاروبار

ہم اس سے اموال روشن فکری (ذہنی ملکیت) کی اہمیت اور اموال روشن فکری کے حقوق کے طور طریقوں پر گفتگو کر چکے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اس سے کاروبار میں کس طرح مدد ملتی ہے۔ ایک پرانے محاورے ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے ‘ کو یاد کیجیے ۔ اگر ہم حجری عہد سے پہیّے کے ارتقا کا اندازہ لگائیں تو پائیں گے کہ گول پہیّے کی کھوج کی گئی کیونکہ مال برداری کے لیے اس کی ضرورت محسوس کی گئی تھی اور آج توہم JK Tyres CEAT اور Brig Bridgenboue وغیرہ جیسی بڑی کمپنیوں کے کامیاب کاروبار سے خوب واقف ہیں ہی چاہے کوئی کاروبار بازار میں اپنی موجودگی کی برقراری میں مصروف ہے یا پہلے سے ہی بھر پور طور پر رہنے کا کام ہوگا لیکن اموال روشن فکری کا تحفظ اور ان کا انتظام و انصرام کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے بے انتہا اہم ہے۔ ہر کاروبار کی ذمہ داری کہ تجدید یا جدت پسندی کو لگاتار طور پر اپناتا رہے اور ترقی کی طرف گامزن رہے ورنہ سیدھے الفاظ میں کاروبار میں جمود آجائے گا اور کاروبار مرجھا جائے گا۔ دوسروں کے حقوق روشن فکری کا احترام بھی نہ صرف اخلاقی طور پر بلکہ قانونی طور پر بھی ضروری ہے
۔ دوسروں کے حقوق روشن فکری کا احترام اپنے حقوق روشن فکری کے لیے بھی لازمی ہے۔ اسٹارٹ اپ (Start-up) کاراندازی کی ایک ایسی کوشش ہے جو ہدف کے لیے نئی مصنوعات کے فروغ ، ان میں سدھار اور ان کی جدید کاری سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ آج اسٹارٹ اپ اسی متعدد خلل انگیز ٹیکنالوجیوں کے لیے ذمہ دار ہیں جنھوں نے ہماری سوچ اور زندگی کے طور طریقوں کو بدل دیا ہے۔ آج ہندوستان میں 20000سے زائد اسٹارٹ اپ ہیں اور اسی لیے ہندوستان کو دنیا کا تیسرا بڑا اسٹارٹ اپ ماحول والا ملک کہا جا تا ہے۔ ’اسٹارٹ اپ انڈیا‘ کی پہل ،ہندوستانیوں میں کاراندازی کے دورپر پکڑ بنانے اور روزگار ڈھونڈھنے والوں کے بجائے نوکری مہیا کرانے والوں کا ملک بنانے کے لیے ہے۔ حقوق روشن فکری بہت اہم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی مددسے نئے کاروبار اپنے نظریات کو سودمند بنا سکتے ہیں اور حقوق روشن فکری سے جو تحفظ حاصل ہے اس میں توسیع پیدا کرکے بازار میں مسابقت قائم کر سکتے ہیں۔ 

اہم اصطلاحات 

    چھوٹے پیمانے کی صنعتیں گھریلو صنعتیں جزوی کاروبار کے ادارے 
بر آمد اساس اکائیاں دیہی صنعتیں خواتین کا راندازوں کے زیر ملکیت ادارے 
ضمنی ادارے کھادی صنعتیں بہت چھوٹی صنعتیں 

خلاصہ

ہندوستان میں چھوٹے کاروبار کا کردار:   ملک کی سماجی ومعاشی ترقی میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کا نمایاں رول ہے۔  یہ صنعتیں، صنعتی اکائیوں کا 95فی صد ہیں اور کل اضافہ شدہ صنعتی مالیت کا تقریباً 40فی صد حصہ اور کل برآمدات کا 45    فی صد حصّہ فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹے پیمانے کی صنعتیں زراعت کے بعد انسانی وسائل کی دوسری سب سے بڑی آجر ہیں۔ اور معیشت کے لیے مختلف طرح کی اشیا پیدا کرتی ہیں۔ یہ اکائیاں علاقائی سازوسامان اور گھریلو ٹکنالوجی کا استعمال کرکے ملک کی علاقائی طور پر متوازن ترقی میں مدد کرتی ہیں۔ اس طرح ان کی بدولت کئی طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسے تاجرانہ مہم جوئی کے دائے میں وسعت، کم لاگت پر پیداوار کا فائدہ، فوری فیصلہ سازی، فوری طو پر تبدیلی کو اپنانے کی صلاحیت۔ 
دیہی ہندوستان میں چھوٹے کاروبار کا کردار:  چھوٹے کاروباری ادارے غیر زرعی سرگرمیوں کے وسیع دائرے کی شکل میں آمدنی کے کثیر وسائل اور دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں خصوصاً معاشرے کے کمزور طبقوں اور روایتی فنکاروں کے لیے۔
چھوٹی صنعتوں کو سرکاری امداد:  چھوٹے کاروبار نے مختلف میدانوں جیسے روز گار پیدا کرنا، متوازن علاقائی ترقی، اور برآمدات کے فروغ وغیرہ میں نہایت اہم رول ادا کیا ہے اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومت چھوٹے پیمانے کی صنعتی اکائیوں کو بنیادی ڈھانچہ، سرمایہ، ٹکنا لوجی، تربیت وغیرہ کی شکل میں امداد فراہم کررہی ہے۔
امداد فراہم کرنے والے چند اہم ادارے ہیں۔ نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ، رورل اسمال بزنس ڈیولپمنٹ سینٹر، نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن، اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (SIDBI)  ، نیشنل کمیشن فار انٹرپرائزز اِن اَن آرگنائزڈ سیکٹر (NCEUS)، رورل اینڈ وومین انٹرپرینیورشِپ ڈیولپمنٹ (RWE)، ورلڈ ایسوسی ایشن فار اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز  (WASME)،  اسکیم آف فنڈفار دی جنریشن آف ٹریڈیشنل انڈسٹریز  (DIC)۔

مشقیں

مختصر جوابی سوالات

  .1  کاروبار کے حجم کی پیمائش میں استعمال کیے جانے والے مختلف پیمانے کیا ہیں؟
  .2 چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی تعریف حکومت ہند کے ذریعہ کس طرح کی جاتی ہے؟
.3 آپ ایک بہت ہی چھوٹی اکائی (Tiny unit)   اور ایک ضمنی اکائی(Ancillary unit)   کے درمیان کس طرح فرق کریں گے؟
  .4 گھریلو صنعتوں کی خصوصیات بیان کیجئے۔

طویل جوابی سوالات

  .1  ہندوستان کی سماجی –معاشی ترقی میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں نے کس طرح تعاون کیا ہے ۔ وضاحت کیجیے۔
  .2  دیہی ہندوستان میں چھوٹے کاروبار کا رول واضح کیجیے؟
  .3  چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو در پیش مسائل کی تشریح کیجیے؟
  .4  اسمال اسکیل سیکٹر میں بازار کاری اور مالی مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت نے کیا اقدام کیے ہیں؟
  .5  پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں صنعتوں کے لیے حکومت نے کیا مراعات فراہم کی ہیں۔ 

پروجیکٹ ورک/تفویض کیے گئے کام

 .1   ایک چھوٹے پیمانے کی اکائی کے مالک کو درپیش حقیقی مسائل کو جاننے کے لیے سوال نامہ  (Questionnaire)  تیار کیجیے۔ اس پر ایک پروجیکٹ رپورٹ تیار کیجیے۔
 .2   اپنے علاقے کی پانچ چھوٹے پیمانے کی اکائیوں کا سروے کیجیے اور معلوم کیجیے کہ کیا انھیں حکومت کے ذریعہ قائم کیے گئے اداروں سے کوئی امداد حاصل ہوئی ہے یا نہیں؟