باب 9
چھوٹا کاروبار اور کاراندازی
سیکھنے کے مقاصد
منی پور کے رومی تھیلے
کھمبو نگر مایوم دھن چندر سنگھ کی زندگی میں کچھ زیادہ آسانیاں نہ تھیں وہ ایک غریب درزی کا لڑکا تھا اور بیشتر سہولتوں سے محروم تھا ۔ وہ اپنے والد کو دن رات کام کرتے دیکھتا جو مشکل سے تھوڑی بہت کمائی کر لیتے ۔وہ دیکھتا تھا کہ امیر لوگ زیادہ امیر ہو تے جاتے ہیں اور غریب لوگ غریب ہی رہتے ہیں۔ یہ لڑکا چاہتا تھا کہ اپنی زندگی میں کچھ اور کر سکیں۔ وہ فقط کپڑے سی کر زندگی گزارنے پر مطمئن نہ تھا اور اپنی بقا کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ امپھال ایک چھوٹا شہر ہے ۔محنتی مرد اور عورتیں اپنے بچوں کو بڑے شہروں میں اس لیے بھیج دیتے تھے تاکہ ان کو وہاں ترقی کے مواقع حاصل ہو سکیں۔ کھمبونگ مایوم کے والد اپنے بیٹے کو باہر بھیجنے کے متحمل نہ تھے اور نہ ہی وہ اس کو تعلیم دلا سکتے تھے۔ وہ درزی کا کام جانتے تھے اور یہی کام انھوں نے اپنے بیٹے کو سکھادیاتھا ۔ کپڑوں کی کاٹ ، سلائی اور کپڑوں کے انداز، بس ان ہی کے درمیان اس کی زندگی گزری تھی ۔ صرف ایک سلائی مشین تھی اور جب مشین خالی ہوتی تبھی وہ ا س کا استعمال کر پاتا تھا۔ اس نے درزی کا کام بڑی خاموشی سے سیکھ لیا تھا ۔ اس کو معلوم تھا کہ اس کا باپ یہی چاہتا تھا ۔لیکن اس کا دل اس کام میں نہیں لگتاتھا ۔
کبھی کبھی کوئی حادثہ یا واقعہ آپ کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا ۔ جب وہ بچی کھچی کترنوں سے ایک پرس بنا رہا تھا ۔ اس نے وہ پرس اپنے ایک دوست کو پیش کیا جو اس کے انوکھے ڈیزائن پر بہت حیرت زدہ ہوا ۔ اس دوست نے اس شاندار پرس کو اپنے دوسرے ساتھی کو دکھایا ۔ انھوں نے کھمبونگ مایوم سے کہا کہ وہ ان کے لیے بھی ایک ایسا پرس بنا دے۔ اسے اس بات پر بڑی حیرت تھی کہ کیا اس کے ڈیزائنوں کے لیے اس طرح بھی ایک مارکیٹ بن سکتی ہے۔ اسے ایسا لگا کہ اس کے پروڈکٹ کی مانگ بڑھے گی ۔ اس نے اس کی لاگت، اخراجات اور متوقع آمدنی کا حساب لگا لیا۔ اس نے اپنے اوپر تنقید کر نے والوں اور راستے سے بھٹکانے والوں کو بالکل نظر انداز کر دیا ۔ اس نے پہلی مرتبہ نیا کام شروع کیا تھا ، اس کا خیال تھا کہ وہ مال کی کوئی بھی کوالٹی استعمال کر سکتا ہے ۔ یہ اس کی ایک بڑی بھول تھی ۔ صارفین نے جوتوں کے میٹریل کی سستی کوالٹی کو قبول نہ کیا۔ مال واپس آنے لگا اور باقی مال فیکٹری میں بغیر فروخت ہوئے پڑا رہا ۔ اس سے کھمبونگ مایوم نے پہلا سبق سیکھا ۔ 2007 میں اسے چھوٹے اور درمیانی کاروبار کے زمرے میں تھیلے بنانے کے لیے قومی اعزاز حاصل ہوا ۔ اگرچہ یہ صرف اس کے لیے ایک ابتدا تھی، کھمبونگ مایوم دھن چند ر سنگھ نے محنت ، تحمل اور ہوشیاری سے اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کر لی۔ آپ کو کوئی بھی چیز آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتی ۔ لیکن کامیابی آپ کو ایک دن میں نہیں مل سکتی اور نہ ہی آپ ایک دن میں کامیابی کی بلندی کو چھوپا ئیں گے ۔
9.1 تعارف
چھوٹے پیمانے کی صنعتیں ترقی کے عمل میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ یہ صنعتیں کار اندازی کی بنیاد کو وسعت دے کر اور مقامی خام مال نیز دیسی مہارتوں کو استعمال کر کے اقتصادی خوشحالی کے لیے پیداوار،روزگار اور راحت کے حوالے سے صنعت کاری میں ایک اہم کڑی کے طور پر کام کرتی ہیں۔
چھوٹے پیمانے کی صنعتیں ملک کے صنعتی منظر نامے میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ یہ محنت کش طبقہ کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے اور برآمدات کے امکانات بھی بہت وسیع ہیں۔
ہندوستان میں ، دیہی اور چھوٹی صنعتوں کا شعبہ، روایتی اور جدید دونوں طرح کی چھوٹی صنعتوں پر مشتمل ہے۔ اس شعبہ میں آٹھ ذیلی گروپ ہیں ۔یہ گروپ ہینڈلوم (ہتھ کرگھا)،دست کاریاں، ریشے ،ریشم کی پیداوار،کھادی اور دیہی صنعتیں،چھوٹے پیمانے کی صنعتیں اور پاورلوم ہیں۔ آخری دو ذیلی گروپ جدید نوعیت کی چھوٹی صنعتوں کے تحت جب کہ باقی ذیلی گروپ روایتی صنعتوں کے تحت آتے ہیں۔ دیہی اور چھوٹی صنعتیں ہندوستان میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
9.2 چھوٹے کاروبار کی اقسام
ہمارے ملک میں کسی صنعت کے سائز کو جاننا بہت ضروری ہے یعنی کہ صنعتیں چھوٹی ہیں یا بڑی ۔کاروباری اکائیوں کے سائز کی پیمائش کے لیے مختلف پیرامیٹروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں کاروبار میں ملازم لوگوں کی تعداد،کاروبار میں لگا سرمایہ ، پیداوار کا حجم یا کاروبار کی پیداوار کی قدر اور کاروباری سرگرمیوں میں خرچ ہونے والی بجلی وغیرہ شامل ہیں۔ بہر حال کوئی بھی ایسا پیرامیٹر نہیں ہے جس میں محدود ہئیتیں (limitations) نہ ہوں ۔ یہ سب پیمائش یا پیمانے ضرورت کے حساب سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ چھوٹی صنعتوں کی وضاحت کے لیے حکومت ہند نے جو تعریف کی ہے وہ پلانٹ اور مشینری پر مبنی ہے۔اس پیمائش کے مطابق ہندوستان میں سماجی و اقتصادی ماحول کو پیش نظر رکھنا چاہئے کیونکہ یہاں سرمایہ کی قلت اور محنت کش طبقہ یا کامگاروں کی فراوانی ہے۔
جب خدمات کے عظیم شعبے کا ظہور ہوا تو حکومت نے ان دیگر انٹر پرائنروں کو بھی اس میں شامل کر لیا جو چھوٹے پیمانے کی صنعتوں (SSI)اور متعلقہ سروس اکا ئیوں پر مشتمل تھیں۔ چھوٹے پیمانے کے انٹر پرائنروں کی توسیع سے درمیانی پیمانے کے انٹر پرائز بڑھتے رہے اور نتیجتاً تیزی سے عالم کاری کی طرف بڑھتی دنیا میں مسابقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹیکنالوجی کو اپنانا ضروری ہو گیا ۔ MSMED (یعنی چھوٹے ، چھوٹے اور درمیانی انٹر پرائزوں کی ترقی) ایکٹ 2006نے ان کی تعریف ، اعتبار (کریڈٹ)، مارکیٹنگ اور ٹیکنالوجی کی بہتر سازی (Upgradation)سے متعلق مسائل کو حل کیا ہے۔ درمیانی پیمانے کی انٹر پرائزیں اور خدمات سے متعلق انٹرپرائزیں بھی اس ایکٹ کے دائرے میں آتی ہیں۔
MSMED ایکٹ 2006 اکتوبر 2006سے لاگو ہوا ہے۔
چنانچہ تمام انٹرپرائز کو دو بڑے زمروں یعنی مینوفیکچرنگ اور خدمات میں تقسیم کیا گیا ہے۔
9.2.1مینوفیکچرنگ
صنعتوں کے پہلے شیڈول (ترقی اور ضابطہ بندی) میں تصریح شدہ ’ایکٹ 1951سے متعلق ‘مینوفیکچرنگ یا سامان کی پیداوارمیں مشغول انٹرپرائزوں کی تین قسمیں ہیں۔
(i) مائیکروانٹرپرائز: یہ وہ انٹرپرائزز ہیں جن پلانٹ اور مشینری میں لگا سرمایہ 25لاکھ روپیہ سے زیادہ نہیں ہوتا ۔
(ii) چھوٹے انٹر پرائز: جہاں پلانٹ اور مشینری میں لگا سرمایہ 25 لاکھ روپیہ سے زیادہ ہوتا ہے لیکن 5کروڑ سے زیادہ نہیں ہوتا ۔
(iii) درمیان انٹرپرائز: جہاں پلانٹ اور مشینری میں لگا سرمایہ 5کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے لیکن دس کروڑ سے زیادہ نہیں ہوتا۔
9.2.2 خدمات(Services)
ایسے انٹرپرائزوں کی جو خدمات مہیا کرانے میں لگی ہوں، تین قسمیں ہیں۔
(i)مائیکرو انٹر پرائز: جہاں ضروری ساز و سامان پر لگا سرمایہ 10لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہو ۔
(ii)چھوٹے انٹرپرائز:جہاں ضروری ساز و سامان پر لگا سرمایہ 10لاکھ سے زائد لیکن دو کروڑ سے زائد نہ ہو
(iii)متوسط یا درمیانی انٹرپرائز : جہاں ضروری ساز و سامان پر لگا سرمایہ دوکروڑ سے زیادہ ہو لیکن پانچ کروڑ سے زیادہ نہ ہو ۔
9.2.3 دیہی صنعتیں اور گھریلو صنعتیں
دیہی صنعت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ ایسی صنعت ہے جو دیسی علاقے میں کسی سامان کی پیداوار میں مشغول ہو اور بجلی کا استعمال کرکے یا بجلی کے استعمال بغیر کوئی خدمت مہیا کرتی ہو اور جس کا قائم سرمایہ کار اثاثہ فی کس یا فی کاریگر یا کارگروقتاً فوقتاً مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتا ہے۔
9.2.4گھریلو (کانچ) صنعت
گھریلو صنعتوں کو دیہی صنعتوں یا روایتی صنعتوں کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ دیگر چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی طرح ان کی تعریف سرمایہ کاری کے معیار پر نہیں کی جاتی ہے۔ بہر حال گھریلو یاکویٹر صنعتوں کی کچھ خصوصیات حسب ذیل ہیں۔
• ان صنعتوں کو افراد ایسے نجی وسائل سے منظم کرتے ہیں۔
• یہ لوگ عام طور پر خاندان کے لوگوں یا پھر مقامی طور پر دستیاب باصلاحیت لوگوں سے کام لیتے ہیں۔
• ان صنعتوں میں استعمال ہونے والا ساز و سامان سادہ ہوتا ہے۔
• سرمایہ کاری کے طور پر استعمال ہونے والا سرمایہ یا اثاثہ بھی تھوڑا ہوتا ہے ۔
• سادہ قسم کی مصنوعات یا پیداوار تیار کر لی جاتی ہیں جو عام طور پر اسی احاطہ میں تیار ہو جاتی ہیں۔
• دیسی ٹیکنا لوجی کا استعمال کرکے سامان تیار ہوتا ہے۔
9.3 ہندوستان میں چھوٹے کاروبار کا کردار
ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو ہندوستان میں بڑا اہم مقام حاصل ہے۔ مندرجہ ذیل نکات سے ان صنعتوں کے تعاون پر روشنی پڑ سکتی ہے۔
(i) ہمارے ملک کی متوازن علاقائی ترقی میں چھوٹی صنعتوں کا رول بہت اہم اور قابل ذکر ہے۔ ملک کی پچانوے فیصد صنعتی اکائیاں، انہیں چھوٹی صنعتوں کی مرہون منت ہیں۔
(ii) ملک کے انسانی وسائل کے روزگار کے لحاظ سے یہ چھوٹی صنعتیں زراعت کے بعد دوسری سب سے بڑی روزگار مہیا کرنے والی اکائیاں ہیں۔ بڑی صنعتوں کے مقابلے یہ لگائے گئے سرمایہ کی فی اکائی روزگار کے مواقع کی زیادہ بڑی تعداد مہیا کرتی ہیں۔اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں محنت زیادہ لگتی ہے اور سرمایہ کم لگتا ہے۔ یہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں محنت کش طبقہ زیادہ ہے یہ ایک بڑی نعمت ہے۔
(iii) ہمارے ملک میں چھوٹی صنعتوں سے مصنوعات کی زبردست اقسام حاصل ہوتی ہیں جن میں عوامی مصرف یا استعمال کا بڑا سامان ، تیار شدہ کپڑے ، ہوزری کا سامان ، نوشت و خورد کا سامان، نہانے اورکپڑے دھونے کے صابن ،گھریلو استعمال کے برتن ،چمڑے ،پلاسٹک اور ربر کا سامان ،ڈبہ بند کھانے کی اشیا اور سبزیاں ،لکڑی اور اسٹیل کا فرنیچر پینٹ،وارنش،سیفٹی ماچس وغیرہ شامل ہیں۔ نفیس قسم کی مصنوعات میں ٹیلی ویژن ،کیلکولیٹر، الیکٹرومیڈیکل سامان ،الیکٹرانک ٹیچنگ امدادی سامان جیسے اورہیڈ پروجیکٹر ، ایئر کنڈیشن کا سامان، ڈریس اور ادویاتی ساز و سامان،زراعت ،گھریلو آلات اور مختلف اقسام کے انجینئرنگ ساز و سامان شامل ہیں۔ یہاں ہتھ کرگھوں،دستکاروں اور دیہی گھریلو صنعتوں کی دیگر مصنوعات کا ذکر بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ان کی برآمداتی قدر و قیمت بہت ہوتی ہے۔ (باکس A دیکھیے جس سے ان بڑے صنعتی گروپوں پر روشنی پڑتی ہے جو حکومت کے ذریعے بیان کردہ درجہ بندی کے حساب سے چھوٹی صنعتوں کے دائرہ میں آتے ہیں )
(iv) وہ چھوٹی صنعتیں جو سادہ ٹیکنالوجی کا استعمال کریں سادہ مصنوعات تیار کرتی ہیں اور جو خام مال اور کپڑے کے معاملے میں دستیاب وسائل پر منحصر ہوتی ہیں ملک میں کہیں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ چونکہ یہ کسی قسم کی پابندی کے بغیر بڑے پیمانے پر پھیلی ہو سکتی ہیں اس کے لیے ان کے کارندے ہر خطے کے لوگوں کو بیچ سکتے ہیں ۔ اسی لیے ملک کی متوازن ترقی میں ان کے تعاون کی بڑی اہمیت ہے ۔
(v) چھوٹی صنعتیں کاراندازی کے لیے بھی بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں۔ لوگوں کی پوشیدہ مہارتوں اور امکانی صلاحیتوں کو کاروباری تصورات اور نظریات میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور تھوڑی سی پونجی کے ساتھ اور کم سے کم پابندیوں کے ساتھ ان کو حقیقت میں تبدیل کیا جا سکتاہے اور اس طرح ایک چھوٹا کاروبار شروع ہو سکتا ہے۔
(vi) پیداوار کی کم لاگت بھی چھوٹی صنعتوں کا ایک اہم فائدہ ہے۔ مقامی طور پر دستیاب وسائل کم خرچ پر دستیاب ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی صنعتوں کی تاسیس اور ان کا چلانا سستا پڑتا ہے کیونکہ ان کے اوپری خرچ کم ہوتے ہیں ۔در حقیقت، پیداوار کی کم لاگت جو کہ چھوٹی صنعتوں کی خصوصیت ہے، وہی ان کی مسابقتی طاقت ہے۔
(vii) تنظیموں کے چھوٹے سائز کی وجہ سے فیصلے فوری طو ر پر اور زیادہ لوگوں سے مشورہ لیے بغیر لیے جا سکتے ہیں۔
9.4 ترقی پذیر ملکوں میں چھوٹے کاروبار
ترقی پذیر ملکوں میں روایتی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ دیہی خاندان خاص طو ر پر زراعت میں لگے رہتے ہیں۔ اس بات کے بہت ثبوت ہیں کہ دیہی خاندانوں کو بہت متنوع اور بڑی تعدا د میں آمدنی کے ذرائع حاصل ہیں اور اسی لیے دیہی خاندان غیر زراعتی سرگرمیوں میں بھی خوب حصہ لیتے ہیں — مثال کے طور پر کھیتی باڑی اور زراعتی محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ کامرس اور خدمات کی مینوفیکچرنگ میں مزدوری اور خود روزگار —اس کا سہراسب کچھ حکومت ہند کے ذریعہ اپنائے گئے ان اقدامات کو جاتا ہے جو حکومت نے زراعت پر مبنی دیہی صنعتیں قائم کرنے، ان کو فروغ دینے اور ان کو بڑھاوا دینے کے لیے اٹھائے ہیں۔
دیہی اور چھوٹی صنعتوں پرزور ہمیشہ سے ہندوستان کی صنعتی پالیسی کا لازمی حصہ رہا ہے۔ گھریلو اور دیہی صنعتیں دیہی علاقوں میں اور خاص طور پر روایتی ہنر مند افراد اور سماج کے کمزور طبقات کے لیے روزگار کے مواقع کو فراہمی میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ دیہی اور طبقات کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ دیہی اور گھریلو صنعتی روزگار کی تلاش میں دیہی آبادی کے شہری علاقوں کی طرف ہجرت کو روکتی ہیں۔
چونکہ دیہی اور چھوٹی صنعتیں صارف اشیا کو تیار کرتی ہیں اور اس میں سرپلس محنت کش طبقہ کی بھی کھپت ہو جاتی ہے اس لیے یہ بہت اہمیت کی حامل ہیں اور اس طرح ان سے غریبی اور روزگاری دونوں مسئلے حل ہوتے ہیں۔ ان صنعتوں سے سماجی اور اقتصادی مسائل حل کرنے میں بھی کافی مدد ملتی ہے۔ ان مسائل میں آمدنی کی نابرابری ،صنعتوں کی بکھری ہوئی ترقی اور معیشت کے دیگر شعبوں سے رابطے جیسے فیلو شامل ہیں۔
در حقیقت چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے فروغ اور ایسے میں گاؤں میں صنعتوں کے پھیلاؤ کو حکومت ہند ’’ سریع صنعتی نمو ‘‘ (Accelarated Industrial Growth)
حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہند چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے فروغ اور دیہی علاقوں کے صنعیتانے کو دیہی اور پسماندہ علاقوں میں سریع صنعتی نمو (Accelarated Industrial Growth)اور امکانی روزگار کی اضافی پیدوار ی تخلیق (Additional Productive Employment Potential)کا ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔
بہر حال ،چھوٹی صنعتوں کی بالقوہ صلاحیت کا بھر پور طور پر ادراک کر لیا گیا ہے۔ کیونکہ صنعتوں کے سائز سے مختلف مسائل جڑے ہوتے ہیں۔ہم یہاں کچھ اہم مسائل کا ذکر کریں گے جن سے ہماری روز مرہ کی زندگی میں شہر اور دونوں جگہ میں چھوٹے کاروبار کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
9.5 چھوٹے کاروبار کے مسائل
بڑے پیمانے کی صنعتوں کے مقابلے چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو کچھ اہم دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے کچھ دقتیں مالیہ کی فراہمی،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کے صلاحیت ،خام مال کی فراہمی اور ذخیرہ اندوزی وغیرہ ہیں۔ ان سے متعدد اہم مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
ان میں سے اکثر مسائل کاروبار کے چھوٹے سائز سے متعلق ہیں جو بہت سے امور میں فائدہ اٹھانے سے حاصل ہوتے ہیں اور جن کا فائدہ بڑی کاروباری تنظیموں کو مل جاتا ہے۔ بہر حال چھوٹے کاروباروں کے تمام زمروں میں یہ مسائل یکساں نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر چھوٹی معاون اکائیوں کے معاملے میں ، ادائیگیوں میں تاخیر ،پیدا اکائیوں سے آرڈروں کا حصول اور پیداواری عمل میں مسلسل تبدیلیاں اہم مسائل ہیں۔
چھوٹے پیمانے کی اکائیوں کے برآمداتی مسائل میں ، غیر ملکی بازاروں سے متعلق ناکافی معلومات،بازاری شعور کی کمی، زرمبادلہ کی شرح کا اتار چڑھاؤ ،کوالٹی کے معیار اور قبل از روانگی مالیہ (Pre–Shipment Finance) وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں۔ عام طور پر ،چھوٹے کاروباروں کو مندرجہ ذیل مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔
(i)مالیات : SSIS کو جن مشکل مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے ان میں مسئلہ کا م کاج کو چلانے کے لیے بقدر کفایت مالیہ کی عدم فراہمی ہے۔
عام طور پر چھوٹی کاروباری سرمایہ کی ایک چھوٹی اساس سے شروع ہو سکتا ہے۔ چھوٹے شعبہ(Factor) کی بہت سی اکائیوں میں سرمایہ بازاروں سے سرمایہ پیدا کرنے کے لیے مطلوبہ ساکھ کی کمی ہوتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو مقامی مالی وسائل پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور اس طرح وہ ساہوکاروں کے استحصال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان اکائیوں کو اکثر کاروباری سرمایہ کی کمی رہتی ہے جس کی وجہ یا تو ان کو حاصل ہونے والے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے یا پھر ان کا سرمایہ غیر فروخت شدہ اسٹاکوں میں پھنس جاتا ہے۔ بینک بھی ثانوی خدمات (Collateral Security) اور اضافی رقم (Margin Money) کے بغیر قرض نہیں دیتے جب کہ بہت سی اکائیاں ان چیزوں کو فراہم نہیں کر پاتیں۔
(ii)خام مال :چھوٹے کاروبار کا ایک دوسرا اہم مسئلہ خام مال کی فراہمی یا خریداروں سے اگر مطلوبہ چھوٹے کاروبار کا ایک دوسرا اہم مسئلہ خام مال کی فراہمی یا خریداری ہے۔ خام مال دستیاب نہ ہو تو پھر کوالٹی سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے یا پھر اچھا مال حاصل کرنے کے لیے زیادہ قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ ان اکائیوں کی قوت خرید ، خریدے جانے والے مال کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے نسبتاً کم ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ اکائیاں زیادہ مال خریدنے کی متحمل نہیں ہوتیں کیونکہ ان کے پاس خام مال ذخیرہ کرنے کی سہولت نہیں ہوتی ۔ کیونکہ معیشت میں دھاتوں،کیمیکلز اور استخراجی خام مالوں کی عام قلت ہوتی ہے اس لیے چھوٹے پیمانے کے شعبے اس کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے معیشت کے لیے پیداواری صلاحیت کا ضیاع اور مزید اکائیوں کا نقصان ۔
(iii) اہتمام و انصرام کی مہارتیں: چھوٹا کاروبار عام طور پر شخص واحد ہی چلاتا ہے اور وہی ا س کو فروغ دیتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ یہ شخص کاروبار چلانے کی مہارت نہ رکھتا ہو ۔ بہت سے چھوٹے کاروبار کے کارنداز بہت مستحکم تکنیکی معلومات رکھتے ہیں لیکن اپنی پیداوار کی مارکیٹنگ میں کم کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے تمام کام کاجی یا عمل سرگرمیوں کے بارے میں دلچسپی لینے کا اس کو وقت نہ ملتا ہو ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ پیشہ ورانہ منیجروں کے بوجھ کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔
(iv)چھوٹے کاروبار کی فرمس (Firms) ملازمین کی بڑی بڑی تنخواہوں کی ادائیگی کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اس سے ملازمین محنت شاقہ اور زیادہ پیداوار دینے سے بے رغبت ہو جاتے ہیں۔اس طرح فی ملازم پیداواریت نسبتاً کم ہو جاتی ہے اور ملازمین کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے، چھوٹے کاروباری تنظیموں میں پیش کیے جانے والے مشاہرہ کے کم ہونے کی وجہ سے با صلاحیت لوگوں کا ملنا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
کم مزدوری پرغیر ماہر کامگار نوکری کر لیتے ہیں لیکن ان کو تربیت دینے کا عمل بہت لمبا کام ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تنظیموں کے برخلاف ، محنت(Labour) کی تقسیم قابل عمل نہیں ہوتی اور نتیجتاً تخصص(Specialisation)اور توجہ (Concentration) کا مسئلہ بنتی ہے۔
(v) مارکیٹنگ : مارکیٹنگ ایک بہت ہی اہم سرگرمی ہے کیونکہ اسی سرگرمی سے آمدنی ہوتی ہے سامان یا اشیا کی مؤثر مارکیٹنگ کے لیے صارف کی ضرورتوں اور اس کی امیدوں کا بڑے پیمانہ پر ادراک ضروری ہے۔ اکثر معاملوں میں مارکیٹنگ چھوٹی تنظیموں کا ایک کمزور شعبہ ہوتا ہے۔اسی لیے ان تنظیموں کو بچولیوں پر زیادہ منحصر ہونا پڑتا ہے جو کبھی کبھی کم قیمت ادا کرکے یا ادائیگی میں تاخیر کرکے ان تنظیموں کا استحصال کرتی ہیں۔ مزید برآں، بلاواسطہ مارکیٹنگ چھوٹی کاروباری تنظیموں کے لیے قابل امکان نہیں ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس ضروری بنیادی ڈھانچہ نہیں ہوتا ہے۔
(vi)کوالٹی: بہت سی چھوٹی کاروباری تنظیمیں کوالٹی کے مطلوبہ یا پسندیدہ معیاروں کو پورا نہیں کر پاتیں۔ اس کے بجائے، یہ لاگت گھٹانے اور قیمتیں کم رکھنے پر توجہ کرتی ہیں۔ ان کے پاس کوالٹی ریسرچ پر پیسہ لگانے کے لیے اور صنعت کے معیاروں کو برقرار رکھنے کے لیے نہ کافی وسائل ہوتے ہیں اور نہ ٹیکنالوجی کا معیار بلند کرنے کے لیے فنی مہارت۔ درحقیقت عالمی بازاروں میں مقابلہ کے لیے کوالٹی کو برقرار رکھنا ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
(vii)صلاحیت کا استعمال : مارکیٹنگ کی مہارت کی کمی یا مطالبہ (Demand)کی کمی کی وجہ سے ،بہت ساری چھوٹی کاروباری کمپنیوں کو پوری صلاحیت لگانی پڑتی ہے جس کی وجہ سے ان کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ آہستہ آہستہ یہ کاروبارخستہ حال اور بند کرنے کا باعث بنتا ہے ۔
(viii) ٹیکنالوجی : چھوٹی صنعتوں کے مقابلے میں پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال کو اکثر ایک سنجیدہ کمی بتایا جاتا ہے۔ اس پرانی ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیداواریت میں کمی بھی ہوتی ہے اور پیداوار مہنگی بھی بیٹھتی ہے۔
(ix) بیماری : کچھ چھوٹی صنعتوں میں بیماری کی موجودگی پالیسی سازوں اور کاراندازوں کی پریشانی کا سبب ہوتی ہے۔ بیماری کے اسباب داخلی بھی ہو سکتے ہیں اور خارجی بھی ۔ ہنر مند اور تربیت یافتہ کامگاروں اور مارکیٹنگ نیز اہتمام و انصرام سے متعلق معاملوں کی کمی داخلی مسائل میں شامل ہیں جبکہ ادائیگی میں تاخیر، کاروباری سرمایہ کی کمی ،قرضوں کا ناکافی ہونا اور مصنوعات یا پیداوار کی طلب (Demand)میں کمی خارجی مسائل میں داخل ہیں۔
(x) عالمی مسابقت : مذکورہ بالا مسائل کے علاوہ چھوٹے کاروباروں کو خطرے لگے ہی رہتے ہیں ؛خاص طور پر اس لیے کہ موجودہ نرم کاری (Liberalisation)،نجی کاری اور عالمی کاری کی پالیسیوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ہندوستان نے بھی ان ایل پی جی پالیسیوں (Liberalisation, Privatisation and Globalisation Policies) کے راستہ کو 1991 سے ہی اپنا رکھا ہے۔ ہم ان شعبوں کو دیکھیں جن میں عالمی مسابقت کے حملے سے چھوٹی صنعتیں خطرات محسوس کرتی ہیں۔
(a) یہ مسابقت صرف درمیانی اور بڑی صنعتوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے بھی ہے جو اپنے سائز اور کاروباری حجم کے اعتبار سے بہت بڑی ہوتی ہیں۔ کسی تجارت کی شروعات کا مطلب ہے چھوٹے پیمانے کی اکائیوں سے کڑا مقابلہ۔
(b) بڑی کوالٹی صنعتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کوالٹی کے معیاروں،تکنیکی مہارتوں،مالی ساکھ اور اہتمام و انصرام کی صلاحیتوں میں مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے۔
(c)
ISO 9000 جیسے کوالٹی سرٹی فی کیشن کی سخت شرائط کی وجہ سے ترقی یافتہ ملکوں، کے بازاروں میں محدود رسانی ہی ہو سکتی ہے۔
9.6 چھوٹی صنعتی اکائیوں کو سرکاری مدد
روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ملک کی متوازن علاقائی ترقی اور برآمدات کے فروغ میں چھوٹے کاروبار کی اہمیت اور ا س کے تعاون کے پیش نظر حکومت ہند کی پالیسی کا بڑا زور اس پر ہے کہ پچھڑے علاقوں میں چھوٹے کاروباری شعبہ کو اور خاص طور پر دیہی صنعتوں اور گھریلو دستکاریوں کو قائم کیا جائے ، ان کو فروغ دیا جائے اور ان کی ترقی کا سامان بہم پہنچایا جائے، مرکزی اور ریاستی سرکاریں، بنیادی ڈھانچہ ،مالی مدد،ٹیکنالوجی، تربیت، خام مال اور مارکیٹنگ کی سہولیات مہیا کرائیں ۔ دیہی علاقوں میں خود روزگار کے مواقع کو فروغ دینے میں بہت سرگرمی سے حصہ لیتی ہیں۔ دیہی صنعتوں کے فروغ کے لیے سرکاری مدد کی مختلف پالیسیوں اور اسکیموں کا بڑا روز مقامی وسائل ،خام مال اور مقامی طور پر دستیاب انسانی وسائل سے استعارہ پرہے ۔ ان اسکیموں اور پالیسیوں کو مختلف ان ایجنسیوں،ڈپارٹمنٹوں اور کارپوریشنوں وغیرہ کے ذریعہ عمل میں لایا جاتا ہے جو سب صنعتوں کے ڈیپارٹ منٹوں اور کارپوریشنوں وغیرہ کے ذریعہ عمل میں لایا جا تاہے جو سب صنعتوں کے ڈپارٹمنٹ کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ یہ سب بنیادی طور پر چھوٹی اور دیہی صنعتوں کے فروغ سے متعلق ہیں۔ چھوٹی اور دیہی صنعتوں وغیرہ کے فروغ کے لیے جو سہارا (Support Measures)اور پروگرام وغیرہ تیار کیے گئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
1۔ نیشنل بینک فار ایگر یکلچر اینڈ رورل ڈویلپمنٹ (NABARD)
زراعت اور دیہی ترقی کے لیے قومی بینک (NABARD) کو ایک ہم آہنگ دیہی ترقی کے فروغ کے 1982میں قائم کیا گیا تھا ۔ زراعت کے علاوہ یہ چھوٹی صنعتوں،گھریلو صنعتوں اور ان دیہی ہنر مند کاریگروں کو بھی سہارا دیتا ہے جو کریڈٹ اور نان کریڈٹ ذرائع یا طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ نبارڈ (NABARD) دیہی کاراندازوں کے لیے رہنمائی اور مشورہ کی خدمات مہیا کراتا ہے نیز تربیت اور ترقی کے پروگرام بھی منعقد کراتا ہے۔
2۔ رورل اسمال بزنس ڈویلپمنٹ سینٹر (RSBDC)
یہ RSBDCیعنی دیہی چھوٹے کاروبار کی ترقی کا مرکز NABARDکی سرپرستی میں مشغول ہے اور سماجی اور معاشی طور پر غیر مستفید (Disadvantage)افراد اور گروپوں کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے پروگراموں کے ذریعے بے روزگار دیہی مردوں اور عورتوں کی بڑی تعداد کی مختلف تجارتوں میں کھپت ہو جاتی ہے۔ ان ٹریڈس میں غذاؤں کی ڈبہ بندی (فوڈ پروسیسنگ)کھلونا سازی،ریڈی میڈ کپڑوں کی تیاری،موم بتی سازی ،اگر بتی سازی ، ٹووہیلر کی مرمت اور سروس، کھاد کی تیاری اور غیر روایتی بلڈنگ مٹیر وغیرہ شامل ہیں۔
3۔ نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (NSIC)
نیشنل اسمال انڈسٹریز کا رپوریشن ملک میں چھوٹی کاروباری اکائیوں کو فروغ دینے، ان کو مدد پہنچانے اور ان کی نشو و نما کے لیے 1955 میں قائم کی گئی تھی ۔ اس کا اہم مقصد ان کاموں کے تجارتی پہلوؤں پر توجہ دینا تھا ۔
(i) دیسی اور درآمد شدہ مشینیں آسان کرایہ– خرید (Hire-Puchase) شرطوں پر مہیا کرانا۔
(ii) دیسی اور درآمدشدہ خام مال کی فراہمی ،سپلائی اور تقسیم ۔
(iii) چھوٹی کاروباری اکائیوں کی مصنوعات کی برآمد اور ان کی برآمداتی کوالٹی کا فروغ۔
(iv) دیکھ بھال اور صلاح و مشورہ کی خدمات۔
(a) ٹیکنالوجی بزی نیس انکیوبیٹر (Technology Buisness Incubators) کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
(b) ٹیکنالوجی کی تجدید کے بارے میں بیداری پیدا کرتی ہے۔
(c) سافٹ ویر ٹیکنا لوجی یا ایک ٹیکنا لوجی ٹرانسفر سینٹر س کا فروغ
4۔رورل اینڈ ویمن انٹر پرینر شپ ڈویلپمنگ (RWED)
دیہی اور خواتین کی کاراندازی کے فروغ (RWED) کے اس پروگرام کا مقصد ایک مساعد کاروباری ماحول کو فروغ دینا اور ایسی انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر کرنا ہے جو دیہی لوگوں اور خواتین کی کاراندازی کی صلاحیتوں کو سہارا دیں اور ان کے شوق کو بڑھائیں۔ RWFمندرجہ خدمات مہیا کراتی ہے۔
(i) ایک ایسا کاروباری ماحول پیدا کرتی ہے جس سے دیہی لوگوں اور خواتین کا ر اندازوں کے اقدامات کو حوصلہ ملے۔
(ii) کاراندازی کی فعالیت پسندی کو پروان چڑھانے کے لیے مطلوبہ انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بھی بڑھاتی ہے اور پیداوار میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
(iii) یہ خواتین کاراندازوں کے لیے تربیتی کتابچے مہیا کراتی ہے اور ان کو تربیت بھی بناتی ہے۔
(iv) دیگر ایڈوائزی خدمات بھی انجام دیتی ہے۔
5۔ اسکیم آف فنڈ فار رجسٹریشن آف ٹریڈیشنل انڈسٹریز (SFURTI)
روایتی صنعتوں کو زیادہ پیداواری اور مسابقتی بنانے کے لیے اور ان کی پائدار ترقی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے مرکزی سرکار نے اس کو 2005میں قائم کیا تھا ۔ اس اسکیم کے اہم مقاصد حسب ذیل ہیں:
(i) ملک کے مختلف حصوں میں روایتی صنعتوں کے مراکز کو ترقی دینا ۔
(ii) ملازمانہ اور روایتی مہارتوں کی تعمیر کرنا ۔ ٹیکنالوجیوں کو بہتربنانا،پبلک اور پرائیویٹ شراکت داری کی حوصلہ افزائی کرنا، بازاری ہوشمندی کو بڑھاوا دینا ، اس کے درمیان بازاروں کو مسابقتی ، قابل منافع اور پائیدار بنانا وغیرہ ۔
(iii) روایتی صنعتوں میں پائدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ۔
6۔ضلعی صنعتی مراکز (DICs)
ضلع صنعتی مرکز 1978 میں شروع کیا گیا تھا ۔ اس کی منشا ضلعی سطح پر ایک ہم آہنگ انتظامی سانچہ (Integrated Administrative Framework) مہیا کرانا تھا جو اس ضلع میں مجموعی طور پرصنعت کاری کے مسائل کی دیکھ ریکھ کرسکے ۔ مناسب اسکیموں کی نشاندہی، امکانی سہولتوں کی رپورٹیں تیار کرنا، قرض کے لیے انتظام کرنا ، خام مال اور دیگر توسیعی خدمات مہیا کرنا یہ سب ان مراکز کی ہی سرگرمیاں ہیں۔
9.7 کاراندازی کا فروغ
کاراندازی (Entrepreneurship) خود اپنا کاروبار شروع کرنے کا عمل ہے۔ جو ہر قسم کی دیگر معاشی سرگرمی (خواہ وہ روزگار ہو یا کوئی اور پیشہ)سے ممتاز اور مختلف ہے۔ جو شخص اپنا کاروبار شروع کرتا ہے اسے کارانداز (Entrepreneur) کہتے ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ یعنی کاروباری اکائی - انٹرپرائز (Enterprise) کہلاتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کاراندازی ،کارانداز کے لیے خود روزگار دینے کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک دیگر دو معاشی سرگرمیوں یعنی روزگار اور پیشہ (Profession) کے مواقع کی تخلیق اور توسیع بھی کرتی ہے اور اس طرح کاراندازی ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں زبردست اہمیت کی حامل ہے ۔ اگر آپ کاراندازی کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ ملازمت کے متلاشی نہ ہوں گے بلکہ دوسرے لوگوں کو نوکری /ملازمت مہیا کرانے والے بنیں گے اور بہت سے مالی اور نفسیاتی فائدے آپ کے قدم چومیں گے ۔ کاراندازی ،در اصل کاراندازی کی تعریف ہم یوں کر سکتے ہیں کہ یہ کاروبار سے جڑے جوکھموں اور عدم یقین کے تناظر میں گراہکوں کو قدر کی تحویل ،سرمایہ کاروں کو آمدنی اور خود کو نفع پہنچانے کے نقطہ نظر سے ضرورت اور تخلیقی سرگرمی ہے۔یہ تعریف کاراندازی کی کچھ خصوصیات کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی طرف ہمیں اپنی توجہ مبذول کرنی ہے۔
کاراندازی خود بخود وجود میں آنے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ کسی فرد اور اس کے ماحول کے درمیان باہمی عمل کا نتیجہ ہے۔ کاراندازی کو کیریئر(پیشے )کے طور پر منتخب کرنے کا کام بہرحال فرد ہی کو انجام دینا ہے۔ اس کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ انتخاب اس کے مستقبل کے لحاظ سے پسندیدہ ہے یا نہیں۔اس سلسلے میں ، ماحول سے متعلق عوامل کے ساتھ ساتھ پسندیدگی اور امکان سے متعلق فرد کے نظریہ سے وابستہ عوامل پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔
9.7.1 کار اندازی کی خصوصیات
کاراندازوں کی ہر ملک کو ضرورت ہوتی ہے خواہ وہ ملک ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر ۔ ترقی پذیر ملکوں میں کارانداز ترقی کے عمل کی داغ بیل ڈالتے ہیں اور پائیدار بناتے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ پس منظر میں جہاں ایک طرف پبلک سیکٹر (عوامی شعبے) اور بڑے پیمانے کے سیکٹروں میں روزگار کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں ۔ ایسے میں کار اندازی ہندوستان کو معاشی سپر پاور بنا کر بلند مقام عطا کر سکتی ہے۔ اس طرح کار اندازی کی ضرورت کاراندازوں کے ان کاموں کی وجہ سے ہی ہے جو وہ معاشی ترقی کے عمل اور بزنس انٹرپرائز کے حوالے سے انجام دیتے ہیں۔
کار اندازی کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
(i)۔باقاعدہ سرگرمی: کار اندازی کوئی پر اسرار تحفہ یا جادو نہیں ہے اور نہ کوئی ایسی چیز ہے جو اتفاقی طور پر وجود میں آجائے ۔ یہ ایک باقاعدہ ، مرحلہ وار اور بامقصد سرگرمی ہے۔ اس کے لیے ایک مخصوص مزاج، مہارت اور دیگر معلومات نیز استعدادکی ضرورت ہوتی ہے جن کو رسمی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ مشاہدہ اور تجربہ سے سیکھا جا سکتا ہے، حاصل کیا جا سکتا ہے اور فروغ بھی دیا جا سکتا ہے۔ کار اندازی کے عمل کی صحیح سمجھ اس وہم اور باطل گمان کو دور کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ کار انداز پیدا ہوتے ہیں، بنتے نہیں ہیں۔
(ii)جائز اور با مقصد سرگرمی : کار اندازی کا مقصد ایک جائز کاروبار ہے اس بات کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ غیر قانونی یا ناجائز سرگرمیوں کو صرف اس بنیا دپر کار اندازی نہیں کہا جا سکتا کہ کار اندازی میں بھی جوکھم ہو تا ہے اور ناجائز کاروبا ر میں بھی ۔ کار اندازی کا مقصد انفرادی منافع اور سماجی مفاد کے لیے اقدار کی تخلیق و تعمیر کرنا ہے۔
(iii)اختراع: کسی فرم کے نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو اختراع سے لاگت میں کمی یا آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں ہی باتیں ہوں تو اختراع بہت ہی خوش آئندہ ہے۔ اگر اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا ہے تب بھی ا س کو خوش آئندہی کہنا چاہیے کیوں کہ اختراع پسندی طبیعت یا مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔
کار اندازی اس مفہوم میں تخلیقی عمل ہے کہ اس سے قدر کی تخلیق ہوتی ہے ۔ پیداوار کے مختلف عوامل کے امتزاج سے ہی کار انداز ایسی اشیا اور خدمات تیار کرتے ہیں جن سے سماج کی ضرورتیں اور خواہشات پوری ہوتی ہیں۔ کار اندازی کے ہر عمل کے نتیجے میں آمدنی اور دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کا راندازی اس مفہوم میں بھی تخلیقی ہے کہ اس میں نئی نئی چیزوں کا اختراع ہوتا ہے۔نئی مصنوعات بازار میں آتی ہیں، نئے نئے بازاروں،خام اشیا کی فراہمی کے ذرائع کی کھوج ہوتی رہتی ہے،ٹیکنا لوجی کے شعبے میں نئی نئی ترقیات ہوتی ہیں اور موجودہ تناظر میں چیزوں کو بہتر ، کفایتی اور تیز رفتار ی کے ساتھ تشکیل دینے کے لیے جدید تر تنظیمی شکلوں سے متعارف کرانا کہ ماحولی نظام ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچنے۔
کیا ہوگااگر، آپ کا خیال محض ایک خیال نہ ہو ؟
کیا ہو گا اگر ، آپ کا خیال شرمندہ ٔ تعبیر ہو جائے ؟
کیا ہوگا اگر، وہ حقیقتاً وجود میں آ جائے ؟
کیا ہو گا اگر ، کوئی اس خیال پر یقین کرے اور اس کی آبیاری کرے؟
کیا ہو گا اگر ، آپ اپنی منزل تک سفر کے لیے راستہ کا تعین کریں؟
کیا ہو گا اگر ، یہ نمو پا جائے اور پھلنے پھولنے لگے؟
کیا ہوگا اگر ، دنیا آپ کے اس خیال کو قبول کرلے؟
کیا ہو گا اگر ، آپ کا یہ خیال مستقبل کی نسلوں کے لیے دنیا کو محفوظ ،خوش و خرم اور کامیاب بنانے کے قابل ہو جائے؟
www.startupindia.gov.inسے ماخوذ
9.8 اسٹارٹ اپ انڈیا اسکیم
9.8.1 اسٹارٹ اپ انڈیا کی شروعات کے سلسلے میں عمل درآمد
9.8.2 اسٹارٹ اپ کو مالیہ فراہم کرنے کے طریقے
9.9 حقوق روشن فکری /ذ ہنی املاک(IPR)
تاریخ میں آپ نے ہلدی گھاٹی کی تاریخی جنگ کے بارے میں ضرور پڑھاہوگا۔ یہ جنگ اس وقت کے راجپوت اورمیواڑ (راجستھان)کے راجہ رانا پرتاپ سنگھ اور مغل بادشاہ اکبر کے درمیان1567عیسوی میں لڑی گئی تھی۔ ہلدی گھاٹی کی ایک ایسی ہی جنگ 1997میں بھی بڑے زورشور سے لڑی گئی تھی۔ یہ جنگ پیٹنٹ کے مسئلہ پرلٹری گئی تھی۔ امریکی پیٹنٹ آفس نے1995میں ہلدی (Turmeric)کے پیٹنٹ حقوق، مسی سی پی یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر کو دے دیے تھے کیونکہ ہلدی میں زخموں کو مندمل کرنے کی خصوصیت ہے اور یہ ایک نئی دریافت ہے۔ ہم سب قدیم تر زمانے سے ہی ہلدی کو زخم مندمل کرنے کی خصوصیت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ حکومت نے بہت شدومد کے ساتھ اس پیٹنٹ کی مخالفت کی اورانجام کارہندوستان نے یہ جنگ جیت لی۔یہ پیٹنٹ رد کردیاگیا۔
9.9.1 کاراندازوں کے لیے IPR اہم کیوں ہے؟
کاپی رائٹ کے تحت کون سے پروڈکٹ ہیں ؟
| ادبی کام | پمفلٹ ،برشر،ناول،کتب،نظمیں ،نغمے ، گیت ،کمپیوٹر پروگرام |
| فنی کام | ڈرائنگ ،پینٹنگ ،مجسمے،فن تعمیر سے متعلق ڈرائنگ ،تکنیکی ڈرائنگ،نقشے ،لوگو |
| ڈرامائی کام | رقص یا خاموش اداکاری،اسکرین پلے ،موسیقی ،آواز کی ریکارڈنگ، سینیموٹوگرافک فلم |