Skip to content
Karobarimutuala-001


باب10 

داخلی تجارت

سیکھنے کے مقاصد


اس سبق کا مطالعہ کرنے کے بعدآپ 
داخلی تجارت کے مفہوم اور اقسام کو بیان کرسکیں گے۔
تھوک فروشوں ، پیدا کاروں اور خوردہ فروشوں کو خدمات کی تصریح کرسکیں گے۔
خوردہ فروشوں کی خدمات کی وضاحت کر سکیں گے۔
خوردہ فروشوں کی اقسام کی درجہ بندی کر سکیں گے۔
چھوٹے پیمانے اور بڑے پیمانے کے خوردہ فروشوں کی وضعات کی تشریح کر سکیں گے۔
داخلی تجارت کے فروغ میں چیمبرس آف کامرس اور صنعت کے کردار کو بیان کرسکیں گے۔


کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر بازار نہ ہوتے تو صنعت کاروں کا تیار کردہ مال ہم تک کیسے پہنچتا؟ہم سب آس پاس کی کرانے کی دوکان سے واقف ہیں جہاں ہماری روزمرہ کی ضرورت کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں۔لیکن کیا اتنا جاننا کافی ہے؟جب ہمیں کچھ مخصوص اشیادرکار ہوتی ہیں تو ہم بڑے بازاروں یا بڑی دوکانوں کی طرف دیکھتے ہیں جہاں مختلف قسم کا سامان ملتا ہے۔ ہمیں اپنے مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف قسم کی چیزیں یا خاص اشیا فروخت کرنے والی دوکانیں ہوتی ہیں اور ہم اپنی ضرورت کے مطابق کچھ بازاروں یا دوکانوں سے انھیں خرید سکتے ہیں۔ہم نے دیہی علاقوں میں دیکھا ہوگا کہ لوگ سڑکوں پر سامان بیچتے ہیں۔ ان میں سبزیوں سے لے کر کپڑوں تک مختلف اشیا ہوتی ہیں۔یہ منظر اس سے بالکل مختلف ہے جو ہمیں شہری علاقوں میں نظر آتا ہے ۔ہمارے ملک میں ہر طرح کے بازار ایک ساتھ موجود ہیں اور ہم آہنگی کے ساتھ ایسی دوکانیں بھی وجود میں آ گئی ہیں جہاں تمام اشیا ملتی ہیں۔بڑے شہروں اور قصبوں میں بہت سی خوردہ فروشی کی دوکانیں ہیں جہاں صرف مخصوص برانڈ کا ہی سامان ملتا ہے۔ان سب باتوں کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ سب مصنوعات کارخانوں سے دوکانوں تک کیسے پہنچتی ہیں؟ اس کام کو کرنے کے لیے بچولیے ضرور ہوتے ہوں گے۔کیا یہ لوگ واقعی کارآمد ہیں یا قیمتیں ان ہی کی وجہ سے بڑھتی ہیں؟ 

10.1   تعارف 

تجارت کا مطلب چیزوں اور خدمات کی خرید وفروخت سے ہے جو نفع کمانے کے مقصد سے کی جاتی ہے۔ بنی نوع انسان تہذیب کے ابتدائی زمانے سے ہی کسی نہ کسی شکل میں تجارت میں مصروف ہے۔ جدید دور میں تجارت کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیوں کہ نئی نئی اشیا ہر روز بنائی جارہی ہیں۔ اور لوگوں کے استعمال کے لیے پوری دنیا میں انھیں دستیاب کرایا جارہا ہے۔ کوئی بھی فرد یا ملک اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ جن اشیااور خدمات کی انہیں ضرورت ہے وہ ان کی پیداوار میں خود کفیل ہیں۔ اس لیے ہر ایک ان چیزوں کو بنانے میں لگا ہوا ہے جو اس کے لیے مناسب ترین ہیں اور زائد پیداوار کا دوسروں کے ساتھ تبادلہ کر لیتا ہے۔
خریدار اور فروخت کنندہ کی جغرافیائی علاقے کی بنیاد پر تجارت کودو بڑی فہرستوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔ (i) داخلی تجارت (ii) بیرونی تجارت۔ تجارت جو ملک کے اندر ہی کی جاتی ہے اسے اندرونی تجارت کہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ تجارت جو دو یا دو سے زیادہ ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔ بیرونی تجارت کہلاتی ہے۔ یہ سبق اندرونی تجارت کے معنی اور فطرت اور اس کی مختلف اقسام کو اور چیمبر آف کامرس کے اندرونی تجارت کو فروغ دینے کے کردار کو تفصیل سے بیان کرے گا۔

 10.2   داخلی تجارت   

چیزوں اور خدمات کی خرید وفروخت ملک کی سرحد میں کرنا داخلی تجارت کہلاتا ہے۔ خواہ چیزوں کو علاقے میں قریب کی دوکان سے خریداگیا ہویا مرکزی بازار یا ڈپارٹمنٹل اسٹور یا مال (Mall) سے یا دروازے پر کسی فروخت کار سے یا کسی نمائش سے۔ یہ سبھی مثالیں داخلی تجارت کی مثال مانی جائیں گی کیوں کہ یہ چیزیں کسی فرد یا ملک میں قائم کسی تنظیم سے خریدی گئی ہیں۔ اس طرح کی تجارت پر کسی طرح کادر آمدی ٹیکس یامحصول عائد نہیں کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ چیزیں گھریلو پیداوار کا ہی حصہ ہوتی ہیں اور گھریلو استعمال کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں۔ عام طور سے ادائیگی ملک کی قانونی کرنسی میں کی جاتی ہے یا کسی دوسری قابل قبول کرنسی میں کی جاتی ہے۔
داخلی تجارت کو دو وسیع زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔  (i) تھوک تجارت  (ii) خوردہ تجارت ۔عام طور سے ایسی اشیا کے معاملے میں جن کو خریداروں کی ایک بڑی تعداد میں تقسیم کرنا ہوتا ہے جو کہ وسیع جغرافیائی علاقے میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ پیدا کار کے لیے مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ سبھی صارفین یا استعمال کرنے والوں کے پاس براہ راست پہنچ سکے۔مثال کے طور پر نباتاتی تیل یا نہانے کا صابن یا نمک خواہ ملک کے کسی حصے میں کسی فیکٹری میں پیدا کیے گئے ہوں ان کو پورے ملک میں پھیلے ہوئے صارفین تک پہنچانا ہوتا ہے۔اس کے لیے تھوک فروشوں اور خوردہ فروشوں کی مدد بہت اہم ہوتی ہے۔ اور چیز وں اور خدمات کی بڑی تعداد میں خریداورفروخت اور اس مقصد کے لیے کہ ان کو دوبارہ فروخت کیا جائے، تھوک تجارت کہلاتی ہے۔
دوسری جانب چیزوں کی خریداور فروخت جوکم مقدار میں عام طور سے آخری صارفین کو کی جاتی ہے، خوردہ تجارت کہلاتی ہے۔ تاجر، جو تھوک تجارت میں لین دین کرتے ہیں۔ ان کو تھوک فروش کہتے ہیں اور وہ لوگ جو خوردہ تجارت میں لین دین کرتے ہیں وہ خوردہ فروش کہلاتے ہیں۔ خوردہ فروش اور تھوک فروش دونوں فروخت کے اہم بچولیے ہیں جو کہ چیزوں اور خدمات کے تبادلے کے عمل میں پیداکار اور آخری صارفین کے بیچ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ داخلی تجارت کا مقصد چیزوں کو تیزی کے ساتھ اور مناسب لاگت پر ملک میں مساوی طور پرتقسیم کرناہے۔

10.3   تھوک کاروبار  

جیسا کہ پہلے سیکشن میں بیان کیا گیاہے۔ تھوک کاروبار کا مطلب ہے دوبارہ فروخت کرنے کے مقصد سے چیزوں اور خدمات کو زیادہ مقدار میں خریدنا اور فروخت کرنا۔ 
تھوک کاروبار کاتعلق اداروں اور لوگوں کی ان سرگرمیوں سے ہے جو کہ خوردہ فروشوں اور دوسرے تاجروں یا صنعتی اداروں اورتجارت میں استعمال کرنے والوں کو فروخت کرتا ہے لیکن آخری صارفین کو فروخت کرنانہیں ہوتا۔ تھوک فروش، پیدا کار اور خوردہ فروش کے بیچ ایک تعلق پیدا کرتا ہے۔ تھوک فروش نہ صرف پیدا کار کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ دور دراز کے علاقوں میں پھیلے ہوئے صارفین کے پاس پہنچے بلکہ اشیا اور خدمات کی تقسیم میں وہ بہت سے کام انجام دیتا ہے ۔ یہ عام طور سے اشیاکو اپنی ملکیت میں لیتے ہیں اوراشیاء کو اپنے نام سے خرید کراوربیچ کر کاروبار کے خطرات کو برداشت کرتے ہیں۔وہ زیادہ مقدار میں خریداری کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی مقدار میں خوردہ فروش اور صنعت کار کے ہاتھ بیچتے ہیں۔ وہ بہت سے کام انجام دیتے ہیں جیسے اشیاکی گریڈنگ، چیزوں کی چھوٹی چھوٹی پیکنگ ذخیرہ کاری،نقل وحمل، اشیا کا فروغ، بازار کی معلومات کو اکھٹا کرنا، خوردہ فروشوں کے چھوٹے اور دور دراز میں پھیلے ہوئے آرڈر وں کو اکٹھا کرنا اور پھر ان کواشیاسپلائی کرنا۔ وہ خوردہ فروشو ںکو ادھار کی سہولیات بھی مہیا کراتے ہیں اور ساتھ ساتھ خوردہ فروشوں کو اس بات کی سہولیت مہیا کراتاہے کہ وہ چیزوں کا کثیر مقدار میں ذخیرہ نہ کریں۔ تھوک فروش کے زیادہ تر کام ایسے ہیں جن کو ختم نہیں کیاجاسکتا ۔اگر تھوک فروش نہ ہو ں تو یہ سارے کام یا تو پیدا کار کو انجام دینے ہوں گے یا پھر خوردہ فروشوں کو۔

تھوک فروشوں کی خدمات

تھوک فروش پیداکاروں اور خوردہ فروشوں کو بہت سی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ اور چیزوں اور خدمات کی تقسیم میں بڑی مدد کرتے ہیں۔ تھوک فروش اشیا ضرورت کے مطابق اور ضرورت کے وقت ان مقامات پر مہیا کرتا ہے جہاں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف طبقات کے لیے تھوک فروشوں کی مختلف خدمات پر ذیل میں تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

10.3.1  پیدا کاروں کو دی جانے والی خدمات

سامان اور خدمات پیدا کرنے والوں کو تھوک فروشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اہم خدمات درج ذیل ہیں:
(i) بڑے پیمانے پر پیداوار کی سہولیت: تھوک فروش چھوٹے چھوٹے آرڈر بہت سے خوردہ فروشوں سے اکٹھا کرتا ہے۔ اس کے بعد ان آرڈروں کو پیدا کار کے پاس بھیج دیتاہے اور بڑی مقدار میں خریداری کرتا ہے۔ یہ چیز پیدا کار کو بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اورپیدا کار بڑے پیمانے کی پیداوار کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
(ii)  جوکھم اٹھانا یا خطرہ برداشت کرنا:   تھوک فروش چیزوں کا لین دین اپنے نام سے کرتاہے۔اشیا کی سپردگی کرتا ہے۔ اور بڑی مقدار میں خریدی گئی چیزوں کو مال گودام میں رکھتا ہے۔ اس عمل میں وہ بہت سے خطرات کو برداشت کرتا ہے جیسے چیزوں کی قیمتوں میں کمی ،چوری، اشیا کاخراب ہونا، آگ وغیرہ اس حد تک وہ پیداکار کو ان خطرات کے اٹھانے سے بچاتا ہے۔
(iii) 
 مالیاتی امداد:   تھوک فروش پیدا کار کو ان معنوں میں مالیاتی امداد مہیا کرتے ہیں کہ وہ عموماً خریدے ہوئے مال کی ادائیگی نقد کرتے ہیں۔اس حد تک پیداکاروں کو ذخیرہ کردہ چیزوں میں اپنا پیسہ پھنسانا نہیں پڑتا۔ کبھی کبھی زیادہ مقدار میں دیے گئے آرڈر وں کے لیے تھوک فروش پیداکار کو مال کے لیے پہلے سے ادائیگی کردیتا ہے۔
(iv)  ماہرانہ مشورہ:  چوں کہ تھوک فروشوں کا خوردہ فروشوں سے براہ راست تعلق ہوتاہے اس لیے تھوک فروش اس حالت میں ہوتے ہیں کہ وہ پیداکار کو مختلف پہلوؤں پر مشورہ دے سکیں، جیسے صارفین کی دلچسپی اور ان کی ترجیحات، بازار کی حالت، مقابلے کی سرگرمیاں اور خریدا ر کی خصوصیات کی ترجیحات ۔اس طرح تھوک فروش بازار کی معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
(v)  تسویق یا فروخت کے عمل میں مدد:   تھوک فروش اشیاکی تقسیم میں کئی خوردہ فروشوں کا دھیان رکھتے ہیں ،جو ان چیزوں کو گاہکوں کی کثیر تعداد کو فروخت کرتے ہیں جو وسیع جغرافیائی علاقے میں پھیلے ہوتے ہیں۔اس طرح تھوک فروش پیدا کار کو ایسی سہولیات مہیا کرتے ہیں کہ انھیں بہت سی بازار کاری کی سرگرمیوں سے نجات مل جاتی ہے اور وہ اپنا پورا دھیان اشیا کی پیدا وار پر لگاتے ہیں۔
(vi)  پیداواری تسلسل کو آسان بنانا:  تھوک فروش پیداوار ی سرگرمی پورے سال متواتر قائم رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔یہ اس طرح کہ تھوک فروش چیزوں کو اسی وقت خریدلیتا ہے جب اور جہاں وہ پیدا کی جاتی ہیں۔
(vii)  ذخیرہ کاری :   تھوک فروش چیزوں کو فیکٹری میں تیار ہوجانے کے وقت ہی اٹھا لیتا ہے اور ان چیزوں کو اپنے مال گودام میں ذخیرہ کرتا ہے۔ اس طرح تھوک فروش پیدا کاروں کو تیار شدہ چیزوں کو ذخیرہ کرنے کے بوجھ سے بچاتا ہے۔

10.3.2   خوردہ فروشوں کی خدمات

 تھوک فروشوں کی خوردہ فروشوں کو دی جانے والی اہم خدمات مندرجہ ذیل ہیں:
(i)  اشیا کی دستیابی :  خوردہ فروش کو مختلف اشیاکا مناسب ذخیرہ کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے صارفین کو چیزوں کی مختلف اقسام پیش کرسکے۔ تھوک فروش مختلف پیداکاروں کی اشیاخوردہ فروش کو دستیاب کرانے کے لیے تیار رکھتا ہے۔ اس سے خوردہ فروش کو مختلف پیداکاروں سے چیزوں کو اکٹھا کرنے او ران کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرنے سے بچاتا ہے۔
(ii)  فروخت میں امداد:    تھوک فروش مارکیٹنگ کے بہت سے کام انجام دیتا ہے اور ساتھ ساتھ خوردہ فروش کی مددبھی کرتا ہے۔ وہ تشہیر اور فروخت سے متعلق فروغ کی سرگرمیاں بھی انجام دیتا ہے تاکہ صارفین کو چیزیں خریدنے کے لیے اکسایا جائے ۔ مختلف نئی اشیاکی مانگ کو بڑھانے میں بھی تھوک فروش خوردہ فروش کی مدد کرتا ہے۔
(iii)   ادھار کی منظوری :   تھوک فروش عام طور سے اپنے روزانہ کے صارفین کو ایک حد تک ادھار کی سہولت دیتا ہے۔ اس طرح خوردہ فروش کو اپنے کاروبار کا انتظام چلانے کے لیے بہت کم کاروباری سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(iv)  مہارت سے متعلق معلومات:   تھوک فروش ایک ہی لائن کی اشیا میں خاص مہارت رکھتا ہے اور بازار کی نبض پہچانتا ہے وہ اپنی خاص معلومات کے فائدے خوردہ فروش کو پہنچاتا ہے۔وہ خوردہ فروش کو نئی مصنوعات کے بارے میں بتاتا ہے اوران کے استعمال، کو الٹی، قیمت وغیرہ کی معلومات فراہم کرتا ہے۔ تھوک فروش، خوردہ فروش کو خوردہ فروشی کی دوکان کی سجاوٹ، چیزوں کو الماری میں سجانے کی صحیح جگہ وغیرہ کے بارے میں بتاتاہے اور کچھ مصنوعات کی صحیح نمائش کا مشورہ بھی دیتا ہے ۔
(v)  خطرے میں شرکت:   تھوک فروش چیزوں کو کثیر مقدار میں خریدتا ہے اور نسبتاًچھوٹی چھوٹی مقدار میں خوردہ فروش کو فروخت کرتا ہے۔ خوردہ فروش، اشیا کو چھوٹی چھوٹی مقدار میں خرید نے کی وجہ سے اس حالت میں ہوتاہے کہ وہ ذخیرہ کرنے کے خطروں،چوٹے پن،قیمتوں میں کمی،اشیاکی متروکیت اور کالعدمی اور مانگ میں اتار چڑھاؤ کو نظر انداز کر سکے۔ اس طرح خوردہ فروش ان چیزوں کو خریدسکتا ہے جن کی خدمات تھوک فروش کے ذریعہ دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔

10.4  خوردہ فروشی کی تجارت

ایک خوردہ فروش ایسی تجارتی تنظیم ہے جو چیزوں اور خدمات کو براہ راست آخری صارفین کوفروخت کرتی ہے ۔ وہ عام طور سے تھوک فروش سے کثیر مقدار میں اشیاخریدتے ہیں اور صارفین کو چھوٹی مقدار میں فروخت کرتے ہیں۔ یہ مال کی تقسیم کی آخری سطح ہوتی ہے۔ جہاں چیزیں تاجروں سے آخری صارفین کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی ہیں ۔اس طرح خوردہ فروشی، تجارت کی ایک ایسی شاخ ہوتی ہے جوچیزوں اور خدمات کو آخری صارفین کو فروخت کرنے کاکام کرتی ہے، جو انھیں غیر تجارتی استعمال میں لاتے ہیں۔
چیزوں کو فروخت کرنے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ چیزوں کو ذاتی طور پر ٹیلیفون ؍ یا وینڈنگ مشین کے ذریعہ فروخت کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ مصنوعات مختلف مقامات پر بھی بیچی جا سکتی ہیں جیسے کسی اسٹورمیں، صارف کے مکان پر یا کسی دوسری جگہ پر۔ہماری روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والی کچھ عام صورتیں یا حالات ایسے ہوتے ہیں جیسے مثال کے طور پر بال پین(قلم)یا کوئی جادوئی دوا،یا لطیفوں کی کتاب کی روڈویز کی بسوں میں فروخت،کپڑے دھونے کے صابن اور پاؤڈر،سنگھار کا سامان اور خوشبو وغیرہ کی گھر گھر بکری اور سڑک کے کنارے سبزیاں فروخت کرتا ہوا کسان۔لیکن جب تک چیزیں آخری صارفین کو فروخت کی جاتی ہیں تو اس حالت کو خوردہ فروشی کہتے ہیں، اس سے قطع نظر کہ اشیا کس طرح فروخت ہوئیں اور کہاں فروخت ہوئیں، اگر فروخت براہ راست صارفین کو کی جاتی ہے تو اسے خوردہ فروشی مانا جائے گا۔
 ایک خوردہ فروش چیزوں اور خدمات کی تقسیم میں مختلف کام انجام دیتا ہے۔ خوردہ فروش چیزوں کی مختلف اقسام تھوک میں تقسیم کرنے والے اور دوسرے لوگوں کو فروخت کرتا ہے۔ چیزوں کی ذخیرہ کاری کے لیے مناسب انتظام کرتا ہے۔ اشیا کی گریڈنگ، بازار کی معلومات حاصل کرنا خریدار کو ادھار کی سہولت دینا اور چیزوں کی نمائش اور مختلف اسکیموں میں حصے وغیرہ کے ذریعہ چیزوں کی فروخت کو فروغ دیتا ہے۔

خوردہ فروش کی خدمات

خوردہ فروش، اشیاکی تقسیم میں پیداکار اور آخری صارفین کے بیچ ایک کڑی کاکام کرتا ہے۔ اس عمل میں خوردہ فروش صارفین، تھوک فروشوں اور پیداکاروں کو اہم خدمات مہیا کرتے ہیں۔ خوردہ فروش کی کچھ اہم خدمات ذیل میں بیان کی گئی ہیں۔

10.4.1  پیداکاروں اور تھوک فروشوں کو خدمات

گراں قدر خدمات جو خوردہ فروش ،تھوک فروشوں اور پیداکاروں کے لیے کرتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:
(i)  اشیا کی تقسیم میں مدد:  ایک خوردہ فروش کی پیداکاروں اور تھوک فروشوں کے لیے سب سے اہم خدمت یہ ہے کہ وہ ان کی چیزوں کی تقسیم اور انھیں آخری صارفین تک پہنچانے میں مدد کرتا ہے جو کہ جغرافیائی علاقہ میں دوردراز تک پھیلے ہوتے ہیں۔
(ii)  ذاتی فروخت:  بہت سی اشیا صَرف کو فروخت کرنے میں کچھ ذاتی فروخت کی کوشش بھی ضروری ہوتی ہے۔ ذاتی فروخت کی کوششوں کے ذریعہ خوردہ فروش پیداکار کو اس سرگرمی سے نجات دلا دیتا ہے اور مال کی فروخت کو اصلی بنانے میں ان کی بڑی مدد کرتا ہے۔
(iii)  بڑے پیمانے پر کام کرنے میں مدد: خوردہ فروش کی خدمات پیداکاروں اور تھوک فروشوں کو اس پریشانی سے آزاد کردیتی ہیں کہ وہ سامان کو چھوٹی چھوٹی مقدار میں صارفین کو انفرادی طور پر فروخت کرتے پھریں۔ یہ بات ان لوگوں کو بڑے پیمانے پر کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ اپنی دوسری سرگرمیوں پر پورا دھیان دیتے ہیں۔
(iv)  بازار کی معلومات اکٹھاکرنا :  چوں کہ خوردہ فروش خریداروں سے لگاتار اور براہ راست تعلق بنائے رکھتے ہیں اس لیے یہ بازار کی معلومات اکٹھا کرنے کا بہت ہی اہم ذریعہ ہیں۔ جیسے صارفین کے ذوق، ترجیحات اور ان کے نظریات ؍ خیالات وغیرہ۔ایسی معلومات تنظیم میں مارکیٹنگ یعنی فروخت سے متعلق اہم فیصلے لینے کے لیے بہت مفید سمجھی جاتی ہیں۔
(v)  چیزوں اور خدمات کو فروغ دینے میں مدد:  وقتاً فوقتاً پیداکار اور تقسیم کنندگان کو اپنی اشیاء کی فروخت کو بڑھانے کے لیے مختلف فروغی سرگرمیاں انجام دینی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور وہ اپنی اشیا کی تشہیر کرتے ہیں اور کم مدتی ترغیبات، کو پنوں، مفت تحفوں، فروخت کے مقا بلوں وغیرہ کی شکل میں کرتے ہیں۔ خوردہ فروش ان سرگرمیوں میں مختلف طریقوں سے حصہ لیتے ہیں اور اشیا کی فروخت کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔

10.4.2  صارفین کو خدمات

صارفین کے نقطۂ نظر سے خوردہ فروشوں کی چند اہم خدمات درج ذیل ہیں:
(i)  اشیا کی مسلسل دستیابی:  یہ خوردہ فروش کی صارفین کے لیے سب سے اہم خدمت ہے۔ وہ مختلف پیداکاروں کی مصنوعات کوصارفین کے لیے ہمیشہ دستیاب رکھتے ہیں۔ اس طرح یہ بات صارفین ؍خریدار کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ چیزوں کی مختلف اقسام میں سے اپنی ضرورت کے مطابق انھیں خریدسکیں ۔
(ii)  نئی چیزوں کی معلومات:   چیزوں کی پُراثر نمائش کا انتظام کرکے اورفروخت کی اپنی ذاتی کوششوں کے ذریعے خوردہ فروش صارفین کو نئی اشیا کے آنے اور ا ن کی خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔یہ خدمت صارفین کو اشیا کی خریداری کے فیصلے لینے کے عمل میں ایک اہم عنصر ہے ۔
(iii)  خریداری میں سہولت:  خوردہ فروش عام طور سے چیزوں کو زیادہ مقدار میں خریدتے ہیں اوران چیزوں کو چھوٹی چھوٹی مقدار میں صارفین کی ضرورت کے مطابق فروخت کرتے ہیں۔ خوردہ فروشوں کی دوکانیں عام طور سے صارفین کے مکانات کے قریب ہوتی ہیں اور کافی وقت تک کھلی رہتی ہیں۔ اس سے صارفین کو اپنی ضرورت کے مطابق چیزوں کو خرید نے کی سہولت حاصل ہوتی ہے ۔ 
(iv)  وسیع انتخاب:   خوردہ فروش مختلف پیداکاروں کی مختلف اشیا کی اقسام کی ذخیرہ کاری کرتے ہیں ۔یہ بات صارفین کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مختلف اشیاکی بہت سی اقسام میں سے چیزوں کا انتخاب کرسکیں۔
(v)  فروخت کے بعد کی خدمات:  خوردہ فروش، فروخت کے بعد اہم خدمات مہیا کرتے ہیں۔ جیسے گھر پر چیزوں کو پہنچانا، فالتو پرزوں اور حصوں کی رسد اور صارفین کی خدمت میں حاضر رہنا وغیرہ۔ اس عنصر کی بنا پرصارفین مصنوعات کودوبارہ خریدنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

تجارت کی شرائط (Terms of Trade)

ذیل میں کچھ اہم اصطلاحات درج ہیں جو تجارت میں استعمال ہوتی ہیں:

1۔ادائیگی تحویل پر(Cash on delivery):یہ لین دین کی ایسی قسم ہے جس میں کسی سامان یا خدمت کی ادائیگی اس سامان کی ڈلیوری (تحویل)پرہوتی ہے۔ اگرخریدار سامان یا خدمات کی تحویل پر ادائیگی نہیں کرسکا تو سامان فروشندہ (Seller) کوواپس کردیا جائے گا۔

2۔ جہاز پر فری یا ریل میں فری(Free on Board/Free on Rail): فری آن بورڈ(FOD) اور فری آف ریل(FOR)کا مطلب یہ ہے کہ خریدا اور فروخت کار کے درمیان جومعاہدہ ہے اس کے مطابق ڈلیوری کے مقام تک اورکیریئر(جہاز،ریل یا لاری وغیرہ) تک سارے خرچ فروخت کار کے ذمے ہوں گے۔

3۔ لاگت،بیمہ اور بھاڑا(C& CFF): یہ اس سامان کی قیمت ہے جس میں نہ صرف سامان کی لاگت شامل ہے بلکہ انشورنس اوربھاڑے کے چارجز بھی شامل ہیں جو پورٹ تک سامان کے اوپر قابل ادائیگی ہیں۔

4۔بھول چوک لینی دینی(Errors and Omissions are Excepted): یہ اصطلاح ان تجارتی دستاویزات میں استعمال ہوتی ہے جن میں کہاجاتا ہے کہ جوغلطی ہوتی ہے اور جوچیزیں چھوٹ گئی ہیں انھیں بھی دھیان میں رکھاجائے گا۔

(vi)  ادھار کی سہولتیں مہیاکرنا: کبھی کبھی خوردہ فروش اپنے روزانہ کے خریداروں کو ادھار کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں۔ بعد میں یہ بات صارفین کی کھپت کی سطح اوراس طرح معیار زندگی کو بہتر بناتی ہے۔

10.5  خوردہ فروشی تجارت کی اقسام

ہندوستان میں مختلف اقسام کے خوردہ فروش ہیں ۔ٹھیک طور پر سمجھنے کے لیے یہ مفید ہوگاکہ ان خوردہ فروشوں کی کچھ عام طریقے کی زمرہ بندی کی جائے۔ ماہرین نے خوردہ فروشوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا ہے ۔مثال کے طور پر ان خوردہ فروشوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کرنے کے لیے کاروبارکے سائز کو بنیاد بنایا ہے اور ان کو بڑے، درمیانی اور چھوٹے خوردہ فروشوں کے مطابق تقسیم کیا ہے ۔ملکیت کی تقسیم کی بنیاد پر ان کو تنہا تجارتی ساجھے داری فرم، کو آئریٹو اسٹور اور کمپنی میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مال کو سنبھالنے کی بنیاد پر مختلف درجہ بندیاں ہوسکتی ہیں جیسے اسٹور، سپرمارکیٹ ، ڈپارٹمنٹل اسٹور وغیرہ ۔دوسری عام تقسیم کی بنیاد پر ان کی تجارتی جگہ مستقل اور غیر مستقل ہوسکتی ہے اس بنیاد پر خوردہ فروش دو طرح کے ہوسکتے ہیں۔
(a)   گھومتے پھرتے (پھیری والے )خوردہ فروش
(b)   مستقل دوکان والے خوردہ فروش
ان دونو ں خوردہ فروشوں کے بارے میں اس کے بعد کے سیکشنوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

10.5.1   پھیری لگانے والے خوردہ فروش 

 گھومتے پھرتے خوردہ فروش وہ کاروباری ہوتے ہیں جن کے پاس اپنی تجارت کو چلانے کے لیے کوئی مستقل جگہ نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے مال کے ساتھ ایک گلی سے دوسری گلی اور ایک جگہ سے دوسرے جگہ گاہکوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔

خصوصیات

 (a) یہ چھوٹے تاجر ہوتے ہیں جو محدود وسائل سے کام کرتے ہیں۔
 (b) یہ عام طور سے روزمرہ استعمال میں آنے والے سامان کا کاروبار کرتے ہیں جیسے غسل خانے میں استعمال ہونے والی چیزیں، صابن وغیرہ اورپھل اور سبزیاں وغیرہ۔
 (c) اس طرح کے تاجروں کا خاص زور صارف کو اہم خدمات دینے پر ہوتا ہے ۔یہ خدمات صارفین کو اشیا ان کے دروازے تک پہنچا کر مہیا کی جاتی ہیں۔
 (d) چوں کہ ان تاجروں کی کوئی مستقل کاروباری تنصیب یا ٹھکانہ کاروبار کو چلانے کے لیے نہیں ہوتا اس لیے یہ تجارتی چیزوں کا محدود ذخیرہ یا تو گھر پر رکھتے ہیں یا کسی دوسری جگہ پر۔

ہندوستان میں پھیری لگا کر کام کرنے والے خوردہ فروشوں کی کچھ اہم قسمیں مندرجہ ذیل ہیں:

(i)  خوانچہ والے اور بساطی (پیڈلر اور ہاکر):  عام طور سے یہ بازار میں خوردہ فروشوں کی سب سے پرانی قسم ہے جنہوں نے اپنی اہمیت کو اس موجودہ دور میں بھی نہیں کھویاہے یہ چھوٹے پیداکاریا چھوٹے تاجر ہوتے ہیں جو اپنی چیزوں ؍اشیاکو سائیکل،ہاتھ کی گاڑی ، سائیکل رکشا یا اپنے سرپر رکھ کرایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتے رہتے ہیں اور چیزوں کو صارفین کے دروازوں تک جاکر فروخت کرتے ہیں۔یہ لو گ عام طور سے غیر معیاری اور کم قیمت کی اشیا کا لین دین کرتے ہیں جیسے کھلونے ،سبزیاں، پھل ،کپڑے ،کارپیٹ ،تلا ہوا سامان اور آئس کریم وغیرہ ۔یہ اپنے سامان کو رہائشی مکانات کی گلیوں ، نمائشوں کی جگہوں اور اسکول کے باہر تفریح کے وقفے میں فروخت کرتے ہیں۔
اس خوردہ فروشی کی سب سے فائدہ مند بات یہ ہے کہ اس میں صارفین کو نمایاں خدمات دی جاتی ہیں۔ حالانکہ ان سے لین دین کرتے وقت بہت زیادہ دھیان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کا اشیاکا لین دین قیمت اور معیار کے لحاظ سے ہمیشہ ناقابل بھروسہ ہوتا ہے ۔
(ii)  بازار 
ی تاجر:  بازار ی تاجر چھوٹے خوردہ فروش ہوتے ہیں جو اپنی دوکانوں کو مختلف جگہوں پر مقررہ دنوں یا تاریخ پر ہی کھولتے ہیں جیسے ہر ہفتے یا متبادل ہفتے۔ اور اس کے علاوہ یہ کاروباری کسی ایک لائن کی خاص اشیاکا لین دین کرتے ہیں جیسے کپڑا یا سلے سلائے کپڑے ،کھلونے یا برتن، یا اس کے بجائے جنرل مرچنٹ کا کام۔ یہ تاجر زیادہ تر کم آمدنی والے گاہکوں کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں اور روزمرہ کے استعمال کی سستی چیزوں کی تجارت کرتے ہیں۔ 
(iii)  گلی یا فٹ پاتھ کے تاجر:  گلی کے کاروباری چھوٹے خوردہ فروش ہوتے ہیں۔ جو عام طور سے اپنا کاروبار ان جگہوں پر کرتے ہیں جہاں ایک بڑی رواںآبادی جمع ہوتی ہے مثال کے طور پر ریلوے اسٹیشن او ربس اسٹینڈ کے قریب جہاں وہ عام استعمال کی اشیافروخت کرتے ہیں جیسے اسٹیشنری کی چیزیں کھانے کی چیزیں، ملبوسات، اخبار اور رسالے وغیرہ۔ یہ بازار کے کاریوں سے الگ ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنی تجارتی جگہ بہت جلدی جلدی تبدیل نہیں کرتے۔
(iv)  چیپ جیک (Cheap Jack):  یہ چھوٹے خوردہ فروش ہوتے ہیں جن کی تجارتی علاقے میں غیر مستقل وضع کی آزاد دکانیں ہوتی ہیں۔ یہ خوردہ فروش ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اپنا کاروبار علاقے میں فروخت کے امکانات کی بنیاد پر تبدیل کرتے رہتے ہیں، حالانکہ یہ لوگ تبدیلی اتنی جلدی نہیں کرتے ہیں جتنی کہ بازارکے کاروباری کرتے ہیں یہ لوگ عام طور سے صارفین کی چیزوں کا لین دین کرتے ہیں اور صارفین کی خدمت اس طرح سے کرتے ہیں کہ جہاں صارف کو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ وہیں چیزوں کومہیا کراتے ہیں۔

10.5.2  مستقل دکانوں کے خوردہ فروش

بازاری علاقے میں یہ بہت عام قسم کے خوردہ فروش ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ یہ وہ خوردہ فروشی کی دکانیں ہوتی ہیں جو اپنی تنصیب کو چیزوں کو بیچنے اورفروخت کرنے کے لیے مستقل طور پر قائم رکھتی ہیں ۔ اس لیے یہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ صارفین کی خدمت کے لیے نہیں گھومتے ہیں۔ ان تاجروں کی دوسری خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔

خصوصیات

 (a) پھیری والے تاجروں کے مقابلہ میں عام طور سے ان کے پاس زیادہ وسائل ہوتے ہیں۔اور اپنے کاروبار کو پھیری والوں کے مقابلے زیادہ بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔ تاہم مستقل دوکان والے خوردہ فروش مختلف سائز گروپ کے ہوتے ہیں۔یہ دوکانیں بہت چھوٹے سائز سے بہت بڑے سائز تک کی ہوتی ہیں۔
(b) یہ خوردہ فروش مختلف اشیا کا لین دین کرتے ہیں جن میں پائیدار اور غیر پائیدار دونوں طرح کی اشیائے صرف شامل ہوتی ہیں ۔
 (c) خوردہ فروشوں کے اس زمرے پر صارفین کو بہت زیادہ اعتماد ہوتا ہے اور یہ خوردہ فروش اس حالت میں ہوتے ہیں کہ وہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ خدمات مہیا کرسکیں، جیسے گھر تک سامان لاکر پہنچانا ۔ گارنٹی، مرمت، ادھار کی سہولیات اورفالتو حصوں پرزوں کی دستیابی وغیرہ۔
قسمیں
مستقل دوکان والے خوردہ فروشوں کوان کے کاموں کے سائز کی بنیاد پر دو نمایاں قسموں میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔یہ مندرجہ ذیل ہیں:
(a)   چھوٹے دوکاندار
(b)   بڑے خوردہ فروش
خوردہ فروش کی مندرجہ بالا دو مختلف اقسام کونیچے بیان کیا گیا ہے:

مستقل دوکان والے چھوٹے خوردہ فروش

(i)  جنرل اسٹور:   جنرل اسٹور عام طور سے مقامی بازاروں اور رہائشی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے یہ دوکانیں مختلف اشیا کا ذخیرہ رکھتی ہیں تاکہ قریب کے رہائشی علاقوں میں رہنے والے صارفین کی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔یہ اسٹور مناسب اوقات میں کافی دیر تک کھلے رہتے ہیں اور اپنے مستقل گاہکوں کو ادھا ر پرسامان لینے کی سہولیات بھی مہیا کرتے ہیں ۔ ان اسٹوروں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صارفین اپنی روز مرہ کی ضروریات کا سامان آسانی کے ساتھ خرید سکتے ہیں جیسے کہ کھانے کا سامان، سافٹ ڈرنک (کوکا کولا وغیرہ)اشیااسٹیشنری اورمٹھائیاں وغیرہ۔ان کے زیادہ تر گاہکوں کی رہائش اسی علاقے میں ہوتی ہے جس میں یہ اسٹورہوتا ہے۔ ان اسٹوروں کی کامیابی کا ایک اہم عنصر مالک کی ساکھ ہے اوریہ کہ اس نے اپنے گاہکوں کے ساتھ کس طرح کا رشتہ قائم کیا ہوا ہے۔
(ii)  خصوصی اشیا کے اسٹور:  اس طرح کی خوردہ دوکانیں بہت زیادہ شہرت حاصل کررہی ہیں۔ خاص کر شہری علاقوں میں۔ بجائے اس کے کہ یہ اسٹور مختلف اقسام کی اشیا ء کی فروخت کریں اشیاکی خاص لائن کی چیزوں کو فروخت کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ دوکانیں بچوں کے کپڑے، آدمیوں کے کپڑے، عورتوں کے جوتے، کھلونے اور تحفے، اسکول کی یونیفارم، کالج کی کتابیں یا الیکٹرانک چیزیں وغیرہ فروخت کرتی ہیں ۔بازار میں اس طرح کی دوکانیں عام طور سے پائی جاتی ہیں اور بہت مقبول ہوتی ہیں۔
مخصوص اشیاکی دوکانیں عام طور سے مرکزی علاقے میں ہوتی ہیں جہاں صارفین بڑی تعداد میں آسکیں اور وہ صارفین کو اشیا کا وسیع انتخاب کرنے کے مواقع مہیا کراتے ہیں۔
(iii)  سڑکوں پر چھوٹے اسٹال والے تاجر:  یہ چھوٹے خوردہ فروش عام طور سے گلی کوپارکرنے کی جگہ یا دوسری جگہوں پر جہاں پر ٹریفک زیادہ ہوتا ہے، وہاں زیادہ تر پائے جاتے ہیں۔ یہ گھومتے ہوئے صارفین کو لبھاتے ہیں اور یہ خوردہ فروش عام طور سے کم قیمت والی اشیا کا لین دین کرتے ہیں جیسے انڈر ویر، بنیان اور موزے وغیرہ(Hosiery)کھلونے،سگریٹ، سافٹ ڈرنک وغیرہ۔ یہ اپنے مال کو علاقے میں موجود مال کی سپلائی دینے والے یا تھوک فروش سے حاصل کرتے ہیں۔ اس اسٹال کا رقبہ بہت کم ہوتا ہے ۔اسی وجہ سے یہ چیزوں کو چھوٹے پیمانے پر ہی رکھتے ہیں ان اسٹالوں کا خاص فائدہ یہ ہے کہ صارفین کو ان کی ضرورت کی چیزیں خرید نے میں آسانی ہوجاتی ہے ۔
(iv)  استعمال شدہ یا پرانی اشیاء کی دوکانیں:  یہ دوکانیں پرانی اشیا ء، یا استعمال کی ہوئی(سیکنڈ ہینڈ) اشیا کا کاروبار کرتی ہیں، جیسے کتابیں، کپڑے، موٹر گاڑیاں، فرنیچر اور دوسری گھریلو چیزیں وغیرہ۔ عام طور سے وہ لوگ جن کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے، ان ہی دوکانوں سے چیزیں خریدتے ہیں ۔ یہاں چیزوں کو کم قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی دوکانیں تاریخی اعتبار سے اہم اور نایاب اشیا کا ذخیرہ رکھتی ہیں اور ان لوگوں کوجو ایسی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اونچی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔
وہ دوکانیں جو پرانی اشیافروخت کرتی ہیں ، سڑک کی کراسنگ یا بھیڑ بھاڑ والی گلیوں میں قائم کی جاتی ہیں اس طرح کی دوکانیں ایک ٹیبل یا ایک غیر مستقل پلیٹ فارم یا بہت چھوٹے اسٹال بناکر قائم کی جاتی ہیں تاکہ کتابوں کو سجایا جاسکے اوران کی نمائش کی جاسکے ۔ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا بنیادی ڈھانچہ اچھا ہو جیسا کہ پرانی کاروں،اسکوٹر،موٹر سائیکلیں اور فرنیچر کی دوکانوں کا ہوتا ہے۔

مستقل دوکان– بڑے اسٹور

1۔   ڈپارٹمنٹل اسٹور

  ڈپارٹمنٹل اسٹور ایک بڑی تنظیم ہوتی ہے جو کہ اشیا کی مختلف اقسام مہیا کرتی ہے۔ اس کا خاص مقصد ایک ہی چھت کے نیچے صارفین کی ضروریات کی تکمیل کرتا ہے۔ اس کے کئی ڈپارٹمنٹ ہوتے ہیں اور ہر ایک ڈپارٹمنٹ کی سرگرمیاں کسی ایک چیز تک ہی محدود ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پرخوشبوئیں اور غسل خانے میں استعمال ہونے والاسامان Toiletries،ادویات، فرنیچر، کریانہ، الیکٹرانک سامان،کپڑے اور ڈریس مٹیریل کے لیے علیحدہ علیحدہ ڈپارٹمنٹ ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ ڈپارٹمنٹ چیزوں اور خدمات کی منتشر بازاری لائنوں کی وسیع اقسام مہیا کرتے ہیں ۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ڈپارٹمنٹ اسٹور کے لیے یہ ایک عام بات ہے کہ وہ سوئی سے لے کر ہوائی جہاز یاتمام خریداری (Shopping) کا انتظام ایک ہی چھت کے نیچے کرے۔
ہر ایک چیزپن سے لے کر ہوائی جہازتک دستیاب ہوسکے، یہ ایک مثالی ڈپارٹمنٹ اسٹور کی خصوصیت ہے۔ ہندوستان میں ابھی صحیح معنوں میں ڈپارٹمنٹل اسٹور خوردہ تجارت میں بڑی تعداد میں نہیں ہیں۔ حالانکہ اس انداز کے کچھ اسٹور ہندوستان میں ہیں جیسے ممبئی میں اکبر علی اور چنئی میں اسپنسرس(Spencers)۔ ڈپارٹمینٹل اسٹور کی کچھ اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔
(a) جدید ڈپارٹمنٹ اسٹور ریسٹورنٹ، سیاحت اور معلومات بیورو، ٹیلی فون بوتھ ، آرام کے کمرے وغیرہ جیسی سبھی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ڈپارٹمنٹ اسٹور اعلیٰ طبقہ کے ایسے صارفین کو زیادہ سے زیادہ خدمات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جن کے لیے قیمت ثانوی اہمیت رکھتی ہے۔
(b) اس طرح کے اسٹور عام طور سے شہر کے اندر مرکزی مقامات میں قائم کئے جاتے ہیں جہاں پر بہت زیادہ لوگ آتے ہیں۔
(c) چوں کہ ان اسٹور وں کا سائز بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ عام طور سے Joint Stock Company کی شکل میں قائم کیے جاتے ہیں۔جن کا انتظام Board of Directors کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک Managing Director ہوتا ہے جس کی مدد ایک جنرل منیجر اور دوسرے ڈپارٹمنٹ کے منیجر کرتے ہیں۔
(d) یہ ڈپارٹمنٹ اسٹور خوردہ فروشی اور ذخیرہ کاری دونوں ہی کام انجام دیتے ہیں ۔یہ مال کو براہ راست پیداکار سے خریدتے ہیں اور ان کے الگ الگ مال گودام بناتے ہیں۔ اس طرح یہ ڈپارٹمنٹ اسٹور غیر ضروری بچیولیوں کو،جو کہ پیداکار اور صارفین کے درمیان ہوتے ہیں، ہٹانے میں مدد کرتے ہیں اور
(e) یہ ڈپارٹمنٹ اسٹور مرتکز خریداری کا انتظام کرتے ہیں۔ ڈپارٹمنٹ اسٹور میں سبھی خریداری ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ذریعہ کی جاتی ہے جہاں پر فروخت غیر مر تکز ہوتی ہے  یعنی مختلف شعبوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

فوائد

ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ذریعہ خوردہ فروشی کے فائدے مندرجہ ذیل ہیں:
(i)  یہ بڑے پیمانے پر صارفین کو اپنی طرف کھینچتے ہیں:  چونکہ یہ ڈپارٹمنٹ اسٹورعام طور سے مرکزی جگہوں پر قائم کیے جاتے ہیں اس لیے دن کے بہترین حصے میں  بڑے پیمانے پر صارفین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
(ii)  خریداری میں آسانی :  ڈپارٹمنٹل اسٹور ایک ہی چھت کے نیچے اشیاء کی بڑی اقسام مہیا کرتے ہیں اس طرح یہ اسٹور صارفین کو ایک ہی جگہ سے اپنی ضروریات کی سبھی چیزیں خریدنے میں آسانی مہیا کرتے ہیں اور صارفین کو اپنی خریداری کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا نہیں پڑتا۔
(iii)  متوجہ کرنے والی خدمات:  کسی ڈپارٹمنٹ اسٹور کا خاص مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ خدمات مہیا کرنا ہوتا ہے اس کی خدمات میں شامل ہیں چیزوں کی گھروں پر سپردگی، ٹیلیفون پر آرڈروں کی تکمیل،ادھار کی سہولیات اور آرام کے کمروں کا انتظام ، ٹیلیفون بوتھ ریسٹورینٹ اور سیلون (Saloon) وغیرہ۔
(iv)  بڑے پیمانے کے کام کی معیشت:   چوں کہ یہ اسٹور بہت بڑے پیمانے پر چلائے جاتے ہیں اس لیے بڑے پیمانے کے کام کے فائدے خاص طور سے چیزوں کی خرید، انہیں دستیاب ہوتے ہیں۔
(v)  فروخت کا فروغ:  ڈپارٹمنٹ اسٹور اس حالت میں ہوتے ہیں کہ وہ ایک اچھی رقم تشہیر اور فروغ کی سرگرمیوں پر خرچ کرسکتے ہیں جو ان کی فروخت کو بڑھانے میں مدد کرتی ہیں۔ 

حدود

حالانکہ اس طرح کی خوردہ فروشی کی کچھ خاص خامیاں بھی ہیں جن کو ذیل میں بیان کیا گیا ہے:
(i)  انفرادی ؍ذاتی توجہ کی کمی:  بڑے پیمانے پر کام کی وجہ سے ڈپارٹمنٹ میں صارفین پر ذاتی توجہ دینا بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
(ii) کاروبار چلانے پر اونچی آپریٹنگ لاگت:  چوں کہ ڈپارٹمنٹ اسٹو رخدمات دینے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آپریٹنگ لاگت بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ لاگت چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہے۔ اس طرح یہ ڈپارٹمنٹ اسٹور کم آمدنی والے طبقے کے لوگوں کو اپنی طرف راغب نہیں کرسکتے۔ 
(iii)  نقصان کا بہت زیادہ امکان :  چوں کہ ڈپارٹمنٹ اسٹور کی کو چلانے کی لاگت زیادہ ہوتی ہے اور بڑے پیمانے پر کام کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے اس میں نقصان ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر صارفین کی مانگ میں تبدیلی آتی ہے یا جدید فیشن میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو ایسی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔اس لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ فیشن سے باہرکی چیزوں کی فروخت کلیئرنس فروخت میں کی جاتی ہے تاکہ چیزوں کا بڑے پیمانے پر کیا گیا ذخیرہ کم کیا جاسکے۔
(iv)  نامناسب جائے وقوع:  چوں کہ ڈپارٹمنٹ اسٹورعام طور سے مرکزی علاقہ میں قائم ہوتے ہیں اس لیے یہ اسٹور ان چیزوں کے لیے موزوں نہیں ہیں جن کی ضرورت ہمیں بہت جلد ہوتی ہے۔ ان خامیوں کے باوجود ڈپارٹمنٹ اسٹور دنیا کے مغربی ممالک میں بہت زیادہ مقبول ہیں، کیونکہ یہ اسٹور ایک خاص طبقے کے صارفین کے لیے فائدہ مند ہیں۔
2۔  اسٹوروں کا سلسلہ یا تعددی (کئی شاخوں والی) دوکانیں:  متعدد دوکانیں خوردہ دوکانوں کا ایک ایسا جال ہے، جسے پیداکار یا بچولیے چلاتے ہیں اور یہی ان کے مالک بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح کے انتظام کے تحت ایک ہی طرح کی بہت سی دوکانیں مختلف جگہوں پر قائم کی جاتی ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ مختلف اقسام کی دوکانیں عام طور سے معیاری اور برانڈڈ اشیا صرف کا لین دین کرتی ہیں۔ جن کی بِکری تیز رفتار ہوتی ہے۔ ان دکانوں کو ایک ہی تنظیم چلاتی ہے ۔ اور ان کی تجارتی حکمت عملی ایک ہی طرح کی ہوتی ہے ۔ ان میں بالکل ایک جیسی چیزیں ایک ہی اندازمیں رکھی جاتی ہیں ان دوکانوں کی چند اہم خصوصیات ذیل میں بیان کی گئی ہیں۔
(a) یہ وکانیں عام طور سے اچھی خاصی آبادی والے علاقوں میں قائم کی جاتی ہیں جہاں سے زیادہ سے زیادہ صارفین تک رسائی ہو سکتی ہو۔اس کے پس پردہ تصور یہ ہے کہ صارفین کی ایک ایسے مقام پر خدمت کی جائے جو ان کے رہائشی علاقے یا کام کی جگہ کے قریب ہو،بجائے اس کے کہ ان میں کسی ایک مرکزی مقام پر آنے کی کشش پیداکی جائے۔
(b) تمام خوردہ فروش اکائیوں کی پیداوار ہیڈ آفس میں مرکوز ہوتی ہے جہاں سے اشیا کو ان دوکانوں پر ان کی ضرورت کے مطابق بھیجاجاتا ہے۔ اس طرح سے ان اسٹوروں کی آپریٹنگ لاگت کم ہوجاتی ہے ۔ 
(c) ہر خوردہ دوکان کی نگرانی براہ راست برانچ منیجر کرتا ہے جواپنے روزمرہ کے انتظام کے لیے ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ برانچ منیجر ہیڈ آفس کو فروخت سے متعلق اور رقم کے جمع کرنے نیزاسٹاک کی ضرورتوں کی روزانہ کی رپورٹ ہیڈ آفس کو بھیجتا ہے۔
(d) سبھی شاخیں ہیڈ آفس ہی کنٹرول کرتا ہے جس کا کام پالیسیاں بنانا اور ان پر عمل درآمد کرانا ہوتا ہے ۔
(e) اشیا کی قیمتیں ان دوکانوں میں پہلے سے طے ہوتی ہیں اور فروخت نقد میں کی جاتی ہے۔ کاروباری مال کو فروخت کرکے جو رقم حاصل ہوتی ہے، اس رقم کو ہیڈ آفس کی طرف سے علاقائی بینک میں روزانہ جمع کرایا جاتا ہے اور اس سے متعلق رپورٹ ہیڈ آفس بھیجی جاتی ہے۔
(f) ہیڈ آفس عام طور سے ایک انسپکٹر کو منتخب کرتا ہے جو کہ ان دوکانوں کی صارفین کو مہیا کی جانے والی کو الٹی اورہیڈ آفس کی پالیسیوں پر عمل سے متعلق نگرانی روزمرہ کرتا ہے۔
تعددی دوکانیں بڑے پیمانے پر کاروباری مال کو بیچنے کے لیے بہت زیادہ موثر ہوتی ہیں۔ جن کا فروخت پورے سال لگ  بھگ ایک جیسا ہوتا ہے۔ ہندوستان میں باٹا کے جوٹوں کی دوکانوں کی یہ سب سے اچھی مثال ہے۔ اسی طرح کی خورد ہ دوکانیں دوسری مصنوعات میں بھی داخل ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور D.C.Mکے خاص شوروم ،ریمنڈس اور Nirulas McDonald اور Pizza Kingکی فاسٹ فوڈ کڑیاں وغیرہ متعدد دوکانیں صارفین کو بہت سے فائدے پیش کرتی ہیں جن کو نیچے بیان کیا گیا ہے۔

فوائد

تعددی دوکانیں صارفین کو مختلف سہولتیں مہیا کراتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
(i)  پیمانۂ معاشیات :  چوں کہ سامان کی تحصیل یا پیداوار مرکزی ہوتی ہے، اس طرح کی دوکانوں کی تنظیم کو پیمانۂ کفایات سے فائدہ اٹھانے کاموقع ملتا ہے۔
(ii) بچولیوں کو ہٹانا: تعددی دوکانوں میں صارفین کو براہ راست فروخت کی جاتی ہے۔ اس طرح ایسی دوکانوں کی تنظیم چیزوں اور خدمات کی فروخت میں غیر ضروری بچولیوں کو ختم کر دیتی ہے ۔
(iii)  وصول نہ ہوسکنے والے قرضے کا نہ ہونا:  چوں کہ ان دوکانوں میں سبھی فروخت نقد کی بنیاد پر کی جاتی ہے اس لیے وصول نہ ہوسکنے والے قرضے کا نقصان نہیں ہوتا ہے۔
(iv)  اشیا کی منتقلی : جن چیزوں کی مانگ کسی خاص علاقے میں نہیں ہوتی ہے، ان چیزوں کو ان علاقوں میں منتقل کردیا جاتا ہے جہاں ان کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح ان دوکانوں میں اسٹاک کے بیکار ؍ پڑے رہنے ؍ مرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
(v)  جوکھموں کا پھیلاؤ:  ایک دوکان میں ہوئے نقصان کو دوسری دوکانوں میں ہوئے منافع سے پورا کیا جاسکتاہے جو کہ پوری تنظیم کے جوکھموں کو منتشر کر دیتا ہے یا ان پر بانٹ دیتا ہے۔ 
(vi) کم لاگت:   خریداروں کے مرکزی نظام کی وجہ سے بچولیوں کو ہٹانا،مرکزی فروخت کے فروغ اور فروخت میں اضافہ کی و جہ سے ان کثیر تعدادی دوکانوں کی تجارتی لاگت کم ہوتی ہے۔
(vii)  لچیلا پن: اس نظام میں اگر ایک دوکان منافع نہیں کمارہی ہے تو انتظامیہ یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ تنظیم کے منافع کمانے کی صلاحیت کو متاثر کیے بغیر یا تو اس دوکان کو بند کردے یا اس کو کسی دوسری جگہ منتقل کردے۔

خامیاں یا نقصانات

(i)  اشیا کا محدود انتخاب: کثیر تعدادی دوکانیں صرف محدود لائن کی اشیامیں لین دین کرتی ہیں جو کہ عام طور سے پیداکار کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہیں۔ یہ دوکانیں دوسرے پیداکاروں کی چیزیں فروخت نہیں کرتیں اس طرح صارفین کے لئے چیزوں کا انتخاب محدود ہوکر رہ جاتا ہے۔
(ii)  پہل کی کمی:  جولوگ اس قسم کی دوکانوں کا انتظام کرتے ہیں ان لوگوں کو ہیڈ آفس سے ملے احکامات کو ماننا پڑتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ اس بات کے عادی ہوجاتے ہیں کہ وہ سبھی معاملات پر ہیڈآفس کے احکامات کا انتظار کرتے رہیں اوریہ طریقۂ کار انہیں پہل کرنے سے روکتا ہے۔
(iii)  ذاتی رابطہ کی کمی:  کارکنان میں پہل قدمی کی کمی کی وجہ سے کبھی کبھی ان میں عدم دلچسپی /لاپرواہی آجاتی ہے اوران میں ذاتی رابطہ کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔
(iv)  مانگ کو تبدیل کرنا مشکل: اگران دوکانوں کے کاروباری مال کی مانگ بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے تو اس حالت میں انتظامیہ کوبہت بڑا نقصان نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ بہت بڑی مقدار میں اسٹاک مرکزی ڈپو میں بغیر فروخت کیے ہوئے پڑا رہتا ہے۔

ڈپارٹمنٹل اسٹور اورکثیر تعدادی دوکانوں میں فرق 

حالانکہ ان دونوں طرح کی خوردہ تنظیموں کو بڑے پیمانے پر قائم کیا جاتا ہے پھر بھی ان دونوں میں کچھ خاص فرق ہیں۔ یہ فرق ذیل میں دیے گئے ہیں۔
(i)  محل وقوع:  ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور ایسی مرکزی جگہ پر قائم کیا جاتا ہے جہاں زیادہ سے زیادہ صارفین پہنچ سکیں حالانکہ کثیر  تعدادی دوکانیں بہت سے علاقوں میں قائم کی جاتی ہیں تاکہ بڑی تعداد میں صارفین ان دوکانوں تک پہنچ سکیں۔ اس لیے مرکزی جگہ متعدد دوکان کے لیے ضروری نہیں ہے۔
(ii)  اشیا کی وسعت:  ڈپارٹمنٹ اسٹور کا سب سے خاص مقصد ایک ہی چھت کے نیچے صارفین کی سبھی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں اشیاء کی مختلف اقسام رکھنی پڑتی ہیں جب کہ تعددی اسٹور کا مقصد صارفین کی ان ضروریات کی تسکین ہے، جن کا تعلق ان کی اپنی مخصوص مصنوعات سے ہوتا ہے۔ 
(iii)  پیش کردہ خدمات : ڈپارٹمنٹ اسٹوراپنے گاہکوں کو زیادہ سے زیادہ خدمات مہیا کرنے پر زور دیتے ہیں۔خدمات جووہ مہیا کرتے ہیں وہ ہیں ڈاک گھر اور ریسٹورنٹ وغیرہ۔ اس کے برخلاف تعددی دوکانیں بہت کم خدمات مہیا کرتی ہیں جیسے فروخت کی گئی اشیاء میں کوئی خرابی ہے تو اس کی گارنٹی یا اس کی مرمت تک ہی ان کی خدمت محدود ہوتی ہے۔
(iv)  قیمتوں کا تعین: کثیر شاخوں والی دوکانیں، چیزوں کی فروخت ایک مقررہ قیمت پر ہی کرتی ہیں اور سبھی دوکانوں قیمت کی پالیسیاں ایک جیسی ہوتی ہیں جب کہ ڈپارٹمنٹ اسٹور کی قیمت کی پالیسیاں سبھی ڈپارٹمنٹ اسٹوروں میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یہ دوکانیں کبھی کبھی اپنے اسٹاک کو نکالنے کے لیے کچھ خاص چیزوں پر چھوٹ (Discount)دے دیتی ہیں۔
(v)  صارفین کا طبقہ:  ڈپارٹمنٹ اسٹور نسبتاًاونچی آمدنی کے طبقے کے لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا کام کرتے ہیں،جو طبقہ اس کی پرواہ کرتا ہے کہ کس طرح کی خدمات مہیا کی جارہی ہیں نہ کہ اس بات کی کہ اشیا کی قیمت کیا ہے۔دوسری کثیر جہت دوکانیں مختلف قسم کے صارفین کا دھیان رکھتی ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کا بھی جو کہ کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جو مناسب داموں پر معیاری سامان کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
(vi)  ادھار کی سہولیات: کثیری جہت دوکانوں میں سبھی فروخت نقد میں جاتی ہے۔ جب کہ ڈپارٹمنٹ اسٹور اپنے کچھ مستقل گاہکوں کو ادھار کی سہولیات مہیا کراسکتے ہیں۔
(vii)  لچیلاپن:   چوں کہ ڈپارٹمنٹل اسٹور چیزوں کی مختلف اقسام فروخت کرتے ہیں۔ اس لیے ان ڈپارٹمنٹ اسٹوروںمیں ایک لائن کی چیزوں کو بازار میں بیچنے کے مقابلہ میں لچیلا پن ہوتاہے جب کہ کثیر جہت دوکانوں میں لچیلے پن کی کمی ہوتی ہے یہ صرف مصنوعات کی ایک محدود لائن کی اشیا کا ہی کاروبار کرتے ہیں۔

ڈاک کے ذریعہ تجارت 

ڈاک آرڈر ہاؤسس، وہ خوردہ دوکانیں ہیں جو اپنے کاروباری مال کو ڈاک کے ذریعہ فروخت کرتی ہیں۔عام طور پر اس طرح کے کاروبارو میں خریدار اور فروخت کنندہ کے بیچ کسی بھی طرح کا براہ راست رابطہ قائم نہیں ہوتا ہے۔ آرڈر حاصل کرنے کے لیے متعلقہ صارفین تک اخباروں، اشتہاروں، رسالوں، سرکولروں، کیٹ لاگوں،نمونوں اور بل اورقیمت کی فہرستیں ڈاک کے ذریعہ بھیجی جاتی ہیں۔ اشیاء سے متعلق سبھی معلومات جیسے قیمت، خصوصیات، سپردگی کا طریقہ ،ادائیگی کا طریقہ وغیرہ سبھی اشتہار میں بیان کیا جاتا ہے۔ آرڈر حاصل کرنے پر چیزوں کو بہت دھیان کے ساتھ جانچا جاتا ہے کہ خریدار کی مطلوبہ تفصیلات کے مطابق ہیں یا نہیں اوراس کے بعد ڈاک گھر کے ذریعہ آرڈر کی تعمیل کی جاتی ہے۔
ادائیگی کی وصولیابی سے متعلق مختلف متبادل ہوسکتے ہیں۔ سب سے پہلا صارفین سے پوری ادائیگی پہلے ہی کرنے کو کہا جائے۔ دوسرا چیزوں کو Value payable post VPP.  کے ذریعہ بھیجا جائے۔ اس انتظام کے تحت چیزوں کو ڈاک کے ذریعہ بھیجاجاتا ہے اور صارفین کو اسی وقت سپردکیا جاتا ہے جب وہ ان چیزوں کی قیمت کے برابر پوری ادائیگی کردیتے ہیں۔ تیسرے چیزیں بینک کے ذریعہ بھیجی جاسکتی ہیں او ربینک کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ چیزوں کو صارفین کے سپرد کردے۔ اس انتظام میں وصول نہ ہونے والے قرضے کا خطرہ نہیں ہوتا ہے۔ خریدار کو چیزیں جب ہی سپرد کی جاتی ہیں جب وہ ان کی پوری ادائیگی کردیتا ہے حالانکہ یہاں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ خریدار کو اس بات کی یقین دہائی کرائی جائے کہ جو چیزیں خریدار کو سپرد کی جارہی ہیں وہ وہی ہیں جو اس نے مانگی ہیں۔
اس طرح کی تجارت سبھی طرح کی اشیا کے لیے موزوں نہیں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ چیزیں جو جلدی خراب ہونے والی ہوتی ہیں یا زیادہ مقدار میں اور جن کو آسانی کے ساتھ سنبھالا نہیں جاسکتا اس طرح کی چیزوں کے لیے ڈاک کے ذریعہ تجارت موزوں نہیں ہے۔ اس طریقے کے تحت صرف وہ چیزیں جو (i) چھانٹی ہوئی اور معیاری ہوں (ii)جن کا کم لاگت پر آسانی سے نقل وحمل کیا جاسکتا ہو۔ (iii)جن کی بازار میں زیادہ مانگ ہو۔ (iv)جو بڑی مقدار میں پورے سال دستیاب ہوں۔ (v) بازار میں جن کے کم سے کم مقابلے کے امکانات ہوں۔ (vi)جن کو تصویروں وغیرہ کے ذریعہ بیان کیا جاسکتا ہو۔ وغیرہ، اس طرح کے کاروبار کے لیے مناسب ہیں۔ یہاں پر ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ڈاک کے ذریعہ تجارت اس وقت تک کامیابی کے ساتھ نہیں چلائی جاسکتی جب تک کہ تعلیم پوری طرح سے نہ پھیلی ہوئی ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ صرف خواندہ لوگوں تک ہی اشتہارات اوردوسرے تحریری رسل ورسائل کے ذریعہ پہنچا جا سکتا ہے ۔

فوائد

(i)  محدود سرمائے کی ضرورت:  ڈاک کے ذریعہ تجارت میں بلڈنگ اور دوسرے کاروباری سہولیات کے لیے زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے اس طرح کا کاروبار عام طور سے نسبتاًکم سرمائے کے ساتھ شروع کیا جاسکتا ہے۔
(ii)  بچولیوں کو ہٹانا:  ڈاک کے ذریعہ تجارت کا سب سے بڑا فائدہ خریدار کے نقطہ نظر سے یہ ہے کہ غیر ضروری بچولیوں کو جو کہ خریدا ر اور فروخت کردہ کے درمیان ہوتے ہیں، ہٹا دیا جاتا ہے اس کے نتیجے میں خریدار اور فروخت کار دونوں کو ہی بچت ہوجاتی ہے۔
(iii)  وصول نہ ہونے والے قرضے کی غیر موجودگی:  ڈاک کے ذریعہ تجارت صارفین کو ادھار کی سہولیات مہیا نہیں کرتی۔ اس طرح کے کاروبار میں صارفین یا گاہکوں کے ادائیگی نہ کرنے کے امکانات نہیں ہوتے ہیں۔
(iv)  وسیع رسائی: اس طرح کے نظا م میں چیزیں ان سب جگہوں پر بھیجی جاسکتی ہیں جہاں پر ڈاک کی خدمات موجود ہیں۔ یہ بات تجارت کے دائرۂ کار کو وسیع کردیتی ہے کیوں کہ ڈاک کے ذریعہ پورے ملک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو خدمات دی جاسکتی ہیں۔
(v) آسانی: اس نظام میں چیزوں کی سپردگی صارفین کے دروازے پر کی جاتی ہے اس سے صارفین کو چیزیں خرید نے میں بہت سہولت ہو جاتی ہے ۔

خامیاں

(i)  ذاتی رابطہ کی کمی: کیوں کہ ڈاک کے ذریعہ فروخت کے نظام میں خریدار اور فروخت کار کے درمیان ذاتی رابطہ قائم نہیں ہوتا، اس لیے دونوں کے بیچ شک اور غلط فہمی کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ خریدار اس حالت میں نہیں ہوتا کہ وہ چیزوں کو خریدنے سے پہلے ان کی پوری جانچ پڑتال کرسکے اور فروخت کنندہ ذاتی توجہ نہیں دے سکتا کہ گاہک کی کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے اور نہ ہی اشتہارات اور کیٹلاگ کے ذریعہ خریدار کے سبھی شبہات کو دور کرسکتا ہے۔
 (ii)  فروغ کی اونچی لاگت:  ڈاک کے ذریعہ تجارت کو اشتہارات اور فروغ کے دوسرے طریقوں پر بھروسہ کرنا ہوتا ہے تاکہ امکانی خریدار کو اشیاء کے بارے میں معلومات فراہم کی جاسکیں اور انہیں اشیا کو خریدنے کے لیے قائل کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں اشیا کے فروغ پر بہت زیادہ خرچ ہو تا ہے۔
(iii)  فروخت کے بعد خدمت کی غیر موجودگی: ڈاک کے ذریعہ تجارت میں خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ایک دوسرے سے بہت دور دراز کے علاقے میں بسے ہوتے ہیں اس وجہ سے دونو ں کے درمیان ذاتی رابطہ قائم نہیں ہوتا۔ اس طرح سے اس تجارت میں فروخت کے بعد خدمت کی غیر موجودگی ہوتی ہے جو کہ صارفین کی تسکین کے لیے بہت اہم ہے۔
(iv)  ادھار کی سہولیات کی غیر موجودگی: ڈاک کے ذریعہ تجارت اپنے خریدار کو ادھار کی سہولیات مہیا نہیں کرتی ہے اس طرح وہ گاہک جن کے محدودذرائع ہوتے ہیں اس طرح کی تجارت میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔
(v)  سامان ڈلیوری میں تاخیر: صارفین کو اشیا کی سپردگی فوری طور پر نہیں کی جاتی کیوں کہ آرڈر کے پہنچنے اور اس کی تعمیل میں کافی وقت لگ جاتاہے۔
(vi)  غلط استعمال کے امکانات: اس طرح کی تجارت بے ایمان تاجروں کو گاہکوںکو دھوکہ دینے اور حالات کاغلط استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ یہ تاجر مصنوعات کے بارے میں جھوٹے وعدے کر سکتے ہیں یا اشتہاروں وغیرہ میں کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کوتا ہی کر سکتے ہیں ۔
(vii)  ڈاک کی خدمات پر بہت زیادہ انحصار: ڈاک کے ذریعہ تجارت کی کامیابی کا بہت دارومدار اس جگہ پر ڈاک خدمات کی موثر اور کارگردستیابی پر ہوتا ہے لیکن ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں آج بھی ایسی جگہیں ہیں جہاں ڈاک کی سہولیات مہیا نہیں ہیں۔ ایسے ملکوں میں اس طرح کی تجارت کی کامیابی کے امکانات محدود ہوتے ہیں۔

صارفین کے کو آپریٹیو اسٹور

 صارف کو آپریٹو اسٹور وہ تنظیم ہے جس کی ملکیت، انتظام اور کنٹرول خود صارفین کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ایسے اسٹوروں کا خاص مقصد بچولیوں کی تعداد کو کم کرنا ہے جو کہ پیداوار کی لاگت کو بڑھادیتے ہیں اور اس طرح اپنے ممبران کو خدمات پیش کرنا ہے۔ کوآپریٹواسٹور عام طور سے پیداکار یا تھوک فروش سے براہ راست بڑی مقدار میں سامان خریدتے ہیں اور صارفین کو مناسب قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں۔ چوں کہ بچولیوں کو ہٹادیا جاتاہے یا کم کر دیا جاتا ہے اس لیے ممبران معیاری چیزیں کم قیمتوں پر حاصل کرسکتے ہیں۔ صارف کو آپریٹو اسٹور کے ذریعہ سال میں جو منافع کمایا جاتاہے اس کو ممبران کی خریداری کے مطابق انھیں بونس (Bonus) کے طور پر دینے کا اعلان کردیا جاتا ہے اور منافع کو عام بہبود اور محفوظ فنڈوں یا اسی طرح کے دوسرے فنڈوں کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن سے ممبروں کو سماجی اور تعلیمی فوائد حا صل ہو سکیں۔
صارف کو آپریٹو اسٹور کو قائم کرنے کے لیے کم سے کم 10 لوگوں کو ایک ساتھ ہونا پڑتا ہے اورایک رضاکارا نہ انجمن قائم کرنی ہوتی ہے اور کو آپریٹو سو سائٹی ایکٹ کے مطابق اس کا رجسٹریشن کرانا ہوتا ہے ۔کو آپریٹو اسٹو رکے لیے سرمایہ ممبران کو حصص جاری کرکے حاصل کیا جاتا ہے اسٹور کا انتظام جمہوری طرز پر کیا جاتا ہے اور ایک انتظامی کمیٹی کو منتخب کیا جاتا ہے جہاں ایک آدمی اور ایک ووٹ کا اصول کام کر تا ہے کو آپریٹو اسٹور میں ممبران کی ذمہ داری عام طور سے ان کے لگائے گئے سرمایے کی حد تک محدود ہوتی ہے ۔ فنڈ کے درست نظام کو یقینی بنانے کے لیے کو آپریٹیو اسٹور کے کھاتوں کی جانچ پڑتال کو آپریٹیو سوسائٹیوں کا رجسٹرار کرتا ہے ۔

فوائد

صارف کو آپریٹو اسٹور کے اہم فائدے مندرجہ ذیل ہیں:
(i)  قائم کرنے میں آسانی:  صارف کو آپریٹو سوسائٹی کو قائم کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ کوئی بھی 10اشخاص ایک ساتھ مل کر ایک رضاکارانہ انجمن قائم کرسکتے ہیں اور اس کا رجسٹریشن کو آپریٹو سوسائٹی کے رجسٹرار سے چند کارروائیوں کو پورا کرکے کراسکتے ہیں۔
(ii)  محدود ذمہ داری: کوآپریٹو اسٹور میں ممبران کی ذمہ داری ان کے لگائے گئے سرمائے تک محدود ہوتی ہے۔اس رقم کے علاوہ وہ سوسائٹی کے قرضے کی ادائیگی کے لیے ذاتی طور پر ذمہ دار نہیں ہوتے خواہ سوسائٹی کی ذمہ داریاں اس کے اثاثوں سے زیادہ ہو جائیں۔
     (iii)   جمہوری انتظام:  ممبران کے ذریعہ منتخب کی گئی انتظامی کمیٹی کو آپریٹو سوسائٹیز کا انتظام جمہوری طرز پر کرتی ہے۔ ہر ایک ممبر کا ایک ووٹ ہوتا ہے خواہ اس کے حصص کتنے ہی ہوں۔
(iv) کم قیمتیں: ایک کوآپریٹو اسٹور، چیزوں کی خرید براہ راست پیداکار یا تھوک فروش سے کرتا ہے اور ممبران اور دوسرے لوگوں فروخت کرتا ہے۔ بچولیوں کو ہٹانے کی وجہ سے ممبروں کو دی جانے والی اشیاء صَرف کی قیمت کم ہوجاتی ہے۔
(v)   نقد فروخت: صارف کو آپریٹو اسٹور عام طور سے چیزوں کی نقد میں فروخت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کاروباری سرمائے کی ضرورت گھٹ جاتی ہے۔
(vi)  مناسب محل وقوع:  صارف کو آپریٹو اسٹور عام طور سے سہولت والی عوامی جگہوں پر کھولے جاتے ہیں جہاں ممبران اور دوسرے لوگ اپنی ضرورت کے مطابق چیزوں کو آسانی سے خریدسکیں۔

خامیاں

صارف کو آپریٹو اسٹور کی خامیاں مندرجہ ذیل ہیں:
(i)  پہل کی کمی:  چوں کہ کو آپریٹو اسٹور کا انتظام ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتاہے جو اعزازی طور پر بلا تنخواہ کام کرتے ہیں اس لیے ان کے اندر حسب ضرورت پہل قدمی اور موثر طور پرکام کرنے کے شوق کی کمی ہوتی ہے۔
(ii)  سرمائے کی قلت:  کوآپریٹو اسٹور کے فنڈ کابنیادی ذریعہ وہ پیسہ ہے جو ممبران کو حصص جاری کرکے اکٹھا کیا جاتا ہے اسٹور عام طورسے فنڈ کی قلت محسوس کرتے ہیں کیوں کہ ان کے ممبران کی تعداد کم ہوتی ہے۔ یہ بات کو آپریٹو اسٹور کی ترقی اور نشوونما میں رکاوٹ بنتی ہے۔
(iii)  سرپرستی کی کمی: کوآپریٹو اسٹور کے ممبران اس کی سرپرستی مستقل طور پر نہیں کرتے ۔ اس کی وجہ سے یہ اسٹور کامیابی کے ساتھ اپنا کام نہیں کرپاتے ہیں۔
(iv)  تجارتی تربیت کا فقدان:  وہ لوگ جو کوآپریٹو اسٹور کے انتظام میں لگے ہوتے ہیں ان میں مہارت کا فقدان ہوتا ہے کیونکہ انہیں اس بات کی تربیت نہیں دی جاتی کہ اسٹور کو کارگر طریقے سے کس طرح چلانا ہے۔

سُپر بازار

سپر بازار ایک بڑی خوردہ تجارتی اکائی ہے جہاں پر اشیا ء صرف کی مختلف اقسام کم منافع،وسیع تنوع،خود خدمت اور تجارت کو پر کشش بنانے کی بنیاد پر فروخت کی جاتی ہیں۔ اس بازار میں عام طور سے کھانے کی اشیاء کی تجارت کی جاتی ہے اور دوسری کم قیمت پر برانڈڈ اور بڑے پیمانے پرا ستعمال ہونے والی اشیا صرف جیسے کریانہ ،برتن ،کپڑا ،الیکٹرانک سامان، گھر میں استعمال کی اشیا اور دوائیاں مہیا کی جاتی ہیں۔ سپر بازار خاص خریداری کے مراکز میں قائم کیے جاتے ہیں۔ ان اسٹور وںمیں چیزیں کھلی الماریوں میں رکھی جاتی ہیں اور ان چیزوں پر معیاری ٹیگ اور قیمت کی چٹ لگی ہوتی ہے۔ صارفین اسٹور میں گھومتے ہیں،اپنی ضرورت کا سامان اکٹھا کرتے ہیں اور ان چیزوں کو لے کر نقد   کا ئو نٹر پر آتے ہیں وہاں چیزوں کی قیمت کے ادائیگی کرکے سامان گھر لے جاتے ہیں۔
سپر بازار کو ڈپارٹمنٹل اسٹور کی طرز پر قائم کیا جاتا ہے جہاں پر صارفین ایک ہی چھت کے نیچے مختلف اقسام کی چیزوں کو خرید سکتے ہیں۔ حالانکہ ڈپارٹمینٹل اسٹور کے مقابلے یہ بازار کچھ خاص خدمات مہیا نہیں کرتے ہیں جیسے چیزوں کی گھر پرمفت سپردگی، ادھار کی سہولیات وغیرہ، او رنہ ہی یہ فروخت کاروں کا تقرر کرتے ہیں کہ وہ صارفین کو چیزوں کے معیار کے بارے میں بتاکر خریدنے کے لیے تیار کریں ۔سپربازار کی کچھ اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(i) ایک سپر بازار عام طور سے کھانے اور کریانہ کی اشیاء کی مکمل لائن کی تجارت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری  چیزوں کی بھی تجارت کرتا ہے۔
(ii) خریدار اس طرح کے بازار میں اپنی ضرورت کی مختلف اشیاء ایک ہی چھت کے نیچے خرید سکتا ہے۔
(iii) سپر بازار خود سے خدمت کے اصول پر چلایا جاتا ہے اس کی وجہ سے مال کی تقسیم کی لاگت کم ہوجاتی ہے۔
(iv) سپر بازار میں دوسرے خوردہ اسٹور کے مقابلے اشیاء کی قیمتیں کم ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہ اسٹور بڑی مقدار اور تعداد میں خریداری کرتے ہیں ان کی آپریشنل لاگت اور منافع کی شرح بھی کم ہوتی ہے۔
(v) چیزوں کی فروخت صرف نقد کی بنیاد پر ہی کی جاتی ہے۔
(vi) سپر بازار عام طور سے مرکزی علاقہ میں قائم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی فروخت زیادہ سے زیادہ کرسکے۔

فوائد

سپر بازاروں کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(i)  ایک ہی چھت،قیمت کم:  سپر بازار، مصنوعات کا ایک وسیع تنوع پیش کرتے ہیں جو کم قیمت کی ہوتی ہیں اور ایک ہی چھت کے نیچے خریدی جا سکتی ہیں۔لہٰذا یہ دوکانیں نہ صرف سہولتی بلکہ کفایتی بھی ہوتی ہیں۔
(ii)  مرکزی محل وقوع :  سپر بازار عام طور پر شہر کے بیچوں بیچ ہوتے ہیں۔نتیجتاً ارد گرد کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے ا ن تک پہنچناآسان ہو تا ہے ۔
(iii)  چیزوں کا وسیع انتخاب:  سپر بازاروں میں مختلف ڈیزائن اور رنگ وغیرہ کی متنوع اشیا دستیاب ہوتی ہیں جس سے خریدار بہتر انتخاب کر سکتا ہے۔
(iv)  ناقابل حصول قرض کا نہ ہونا:  چوں کہ عام طور پر سپر بازار نقدکی بنیاد پر مال فروخت کرتے ہیں لہٰذ ان کے ناقابل حصول قرضے نہیں ہوتے ۔
(v)  بڑے پیمانے کا ہونے کے فوائد :  سپر بازار ایک بڑے پیمانے کا خوردہ اسٹور ہوتا ہے ۔اسے بڑے پیمانے کی خرید اور فروخت کے تمام فوائد حاصل ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے کام چلانے کی لاگتیں نسبتاً کم ہوتی ہیں ۔

خامیاں

سپر بازار کی بڑی خامیاں درج ذیل ہیں :
(i)  ادھار کی سہولت کا نہ ہونا: سپر بازار اپنا سامان صرف نقد   کی بنیاد پر ہی فروخت کرتے ہیں ۔خریداروں کو ادھار کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہوتی ۔اس سے خریداروں کی ایسے بازاروں سے چیزیں خریدنے کی قوت پر پابندی یا رکاوٹ آجاتی ہے ۔
(ii)  ذاتی توجہ کی عدم موجودگی: سپر بازار خود سے خدمت کے اصول پر کام کرتا ہے لہٰذاصارفین کی طرف ذاتی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اس طرح جن اشیا کے لیے فروخت کار کی ذاتی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے سپربازارمیں ان چیزوں کا انتظا م پر اثر انداز میں نہیں کیا جاسکتا ۔
(iii)  اشیا کو غلط طریقے سے سنبھالنا: کچھ صارفین المار ی میں رکھی ہوئی چیزوں کولاپرواہی سے پکڑتے ہیں جس کی وجہ سے سپربازار کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
(iv)  زیادہ بالائی اخراجات: سپربازار کے بالائی اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اس کی وجہ سے سپربازار صارفین کے لیے کم قیمت پر چیزیں مہیا کرنے کی کشش پیدا نہیں کر سکے ہیں ۔
(v)  بہت بڑے سرمائے کی ضرورت:  سپربازار کو قائم کرنے اور اس کو چلانے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسٹور کی کل فروخت  (Turnover) زیادہ ہونا چاہئے تاکہ بالائی خرچ (Overheads)کو مناسب سطح پر رکھا جاسکے ،یہ بڑے شہر میں ممکن ہوسکتا ہے چھوٹے شہروں میں نہیں ۔

وینڈنگ مشین

وینڈنگ مشین فروخت کے طریقوں میں نیا انقلاب ہے ۔ وینڈنگ مشینوں کو سکے کے ذریعہ چلایا جاتا ہے بہت سے ممالک میں یہ مشین مختلف اشیا کی فروخت کرنے جیسے گرم مشروبات، پلیٹ فارم ٹکٹ، دودھ ،سگریٹ ، سوفٹ ڈرنک، چاکلیٹ، اخباروغیرہ کی فروخت کے لیے کافی فائدہ مند ہوتی ہے۔جن  اشیا کایہاں ذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ جو نیا علاقہ جس کا تصور ہمارے ملک کے بہت سے حصوں میں مقبول ہورہا ہے وہ ہے Automatic Teller Machine) ATM  جو کہ بینک کاری کی خدمت میں استعمال کی جاتی ہے جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ان مشینوں سے بینک کی کسی بھی شاخ میں جائے بغیر کسی بھی وقت روپیہ نکالا جاسکتا ہے۔
 وینڈنگ مشین پہلے سے پیک برانڈ کم قیمت کی اشیا کو فروخت کرنے کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہورہی ہے۔ جن کی کل فروخت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور وہ سائز اور وزن میں یکساں ہوتے ہیں۔حالانکہ ایک وینڈنگ مشین کو لگانے کا شروعاتی خرچ بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس کی دیکھ بھال اور مرمت پر بھی کافی خرچ آتا ہے اور نہ ہی صارفین چیزوں کو خریدنے سے پہلے انہیں محسوس کرسکتے ہیں او رنہ ہی دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ غیر ضروری اشیا کو واپس کرسکیں ۔ اس کے علاوہ ان خاص پیک کو مشین کے مطابق ہی تیار کیا جاتا ہے۔ مشینوں کا کام اس طرح ہو جس پر یقین کیا جاسکے۔ ان برائیوں کے باوجود وینڈنگ مشین کفایت کے ساتھ ترقی پر ہے۔ اونچی فروخت او رکم قیمت صارف اشیاکی خوردہ فروشی میں وینڈنگ مشینوں کا مستقبل بہت روشن ہے۔

گڈز اینڈ سروس ٹیکس(جی ایس ٹی)

حکومت ہند نے یکم جولائی 2017ء سے جی ایس ٹی کو نافذ کرکے ’’ ایک ملک ، ایک ٹیکس ‘‘ کے اصول پر کارروائی شروع کر دی ہے اور یہ ایک مساوی منڈی چاہتی ہے جس سے پورے ملک میں اشیا کا آزادانہ نقل و حمل ہوسکے گا اور مینوفیکچرر، پروڈیوسر، سرمایہ کار اور صارفین کے لیے آسانیاں پید ا ہو سکیں گی۔ اس نظام کو ہندوستان کی ٹیکس کاری کی تاریخ میں انتہائی انقلابی ٹیکس اصلاحات کے طور پر تصور کیا جاتاہے۔ ٹیکس ، مالی آمدنی یا ترقی کا ذریعہ ہونے کے علاوہ اپنے ٹیکس دہندگان کے تئیں حکومت کو جوابدہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ موثر ٹیکس کاری سے یہ بات یقینی ہوتی ہے کہ سرکاری فنڈ کا پائیدار ترقی نیز سماجی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے بہتر ڈھنگ سے استعمال ہو ۔ 
جی ایس ٹی ، مینوفیکچرر سے صارفین کو منزل مقصود پر اشیا اورخدمات کی فراہمی کے وقت سنگل ٹیکس نظام ہے۔ اس نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ وصول کیے جانے والے بالواسطہ کثیر ٹیکسوں کی جگہ لی ہے۔ اس طرح ملک مشترکہ منڈی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس سے دوسرے فوائد ہیں ۔جی ایس ٹی سے ٹیکس کی ادائیگی، ٹیکس پر ٹیکس کی حالت کو ختم کرکے ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے ،ٹیکس انتظامیہ کے بہتر ہونے، ٹیکس چوری کے واقعات میں کمی،معیشت کے منظم شعبہ میں توسیع اور ٹیکس سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہونے کی امید ہے۔ جی ایس ٹی نے 17بالواسطہ ٹیکسوں (8مرکزی اور 9ریاستی سطح کے ٹیکس) اور مرکزی نیز ریاستوں کے 23 سیسس(Cesses) کی جگہ لی ہے۔ اس سے پیداکار (پروڈیوسر) سے صارف تک اشیا کی سپلائی چین کے ساتھ اشیا اور خدمات پر وصول کئے جانے والے کے جائزے اور انہیں ضابطہ بند بنانے کے علاوہ کئی طرح کے ریٹرن داخل کرنے کی ضرورت ختم ہوئی ہے۔ جی ایس ٹی میں مرکزی جی ایس ٹی(سی جی ایس ٹی ) اور ریاستی جی ایس ٹی (ایس جی ایس ٹی) دونوں شامل ہیں جبکہ پہلے مرکز اور ریاستی حکومتوں دونوں کے ذریعہ ٹیکس وصول کیے جاتے تھے۔ جی ایس ٹی (سی جی ایس ٹی +ایس جی ایس ٹی ) ، قدری اضافے کے ہر مرحلے پر وصول کی جاتی ہے۔ سپلائر ٹیکس کریڈٹ میکنزم کے قدری اضافہ کے پچھلے مرحلے میں دیے گئے ٹیکس کے مساوی ٹیکس وصول کر تا ہے۔ سپلائی چین میں شامل آخری ڈیلر یہ جی ایس ٹی صارفین سے وصول کر تا ہے۔ جس سے جی ایس ٹی ، آخری منزل پر وصول کئے جانے والا ٹیکس بن گیا ہے۔ ویلیو چین کے ہر مرحلے میں ان پٹ کریڈٹ کی سہولت کے استفادہ سے جی ایس ٹی کے تحت ٹیکس پرٹیکس دینے کی صورتحال سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ امید ہے کہ جی ایس ٹی سے اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی اور اس کا فائدہ صارفین کو حاصل ہوگا۔

جی ایس ٹی کے کچھ حقائق

جی ایس ٹی کا مقصد پورے ملک میں ٹیکسوں کی بھیڑ کو ایک ٹیکس دائرے میں لانا،ملک میں اشیا کی قیمتوں میں یکسانیت لانا،ہر چند کہ کچھ اشیا کافی مہنگی ہو گئی ہیں لیکن کچھ سستی بھی ہوئی ہیں۔ 
جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ آرام و آسائش والی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں اور عوام کے ذریعہ استعمال میں لائی جانے والی اشیا سستی ہوئی ہیں۔
جی ایس ٹی ، سورس پر ٹیکس کاری نہیں ہے۔ یہ منزل مقصود پر وصول کی جانے والی یا پھر کھپت پر مبنی ٹیکس ہے۔ کوئی چیز تمل ناڈو میں پیدا ہوتی ہے اور پورے ملک کا سفر کرکے دلّی پہنچتی ہے، جہاں خریدار یا صارف اس کے لئے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اس ٹیکس میں مرکز اور ریاست دونوں کا حصہ ہوتا ہے۔
ہندوستان کے جی ایس ٹی میں فہرست (انوائس) کے موازنہ کا میکانزم ہوگا ۔ خریدی گئی اشیا پر ان پٹ ٹیکس لیا جائے گا اور خدمات کے معاملہ میں یہ اسی وقت دستیاب ہوگا جب سپلائر کے ذریعہ صرف قابل ٹیکس سپلائی پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ 
منافع خوروں کے خلاف اقدامات،حال ہی میں نافذ کئے گئے گڈز اینڈ سروسیزٹیکس(جی ایس ٹی) قانون کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے۔ یہ اقدامات، جی ایس ٹی کی وجہ سے اداروں کو حد سے زیادہ منافع کمانے سے روکتے ہیں۔ چونکہ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے ساتھ جی ایس ٹی سے اشیا کی قیمتیں کم ہونے کی امید ہے، اس لئے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ لاگت میں کمی کی وجہ سے کاروباری اداروں کو ملنے والے فائدے صارفین کو پہنچیں ۔ ایسا بھی ہے کہ کاروباری ادارے جی ایس ٹی کا حوالہ دے کر اشیا کی قیمتوں میں نامناسب اضافہ کرتے ہیں۔ انہیں اس ادارے کے ذریعہ روکا جائے گا۔

جی ایس ٹی سے کیسے فائدہ ہوگا اور شہری با اختیار ہوں گے

ٹیکس کے مجموعی بوجھ میں کمی
کوئی پوشیدہ ٹیکس نہیں
اشیا اور خدمات کے لیے ہم آہنگ قومی منڈی کا قیام
سردست،تعلیم اور لازمی ضروریات کے لیے زیادہ قابل خرچ آمدنی
• صارفین کے سامنے وسیع تر انتخاب کی سہولت
معاشی سرگرمی میں اضافہ
• روزگار کے مزید مواقع

جی ایس ٹی کی اہم خصوصیات

جی ایس ٹی کی علاقائی توسیع جموں و کشمیر سمیت پورے ملک میں ہوئی ہے۔
جی ایس ٹی ،اشیا کی پیداوار یا اشیا کی فروخت یا خدمات کے التزام پر ٹیکس کے موجودہ نظریہ کے مقابلے میں اشیا یا خدمات کی ’’سپلائی ‘‘  پر قابل عمل ہے۔
اساس کی بنیاد پر ٹیکس کاری کے موجودہ اصول کے مقابلہ میں یہ کھپت کی منزل مقصود پر ٹیکس کاری کے اصول پر مبنی ہے۔
اشیا اور خدمات کی درآمد کو بین ریاستی سپلائی تصور کیا جاتا ہے۔ اس پر قابل عمل کسٹم محصولات کے علاوہ آئی جی ایس ٹی کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔ 
سی جی ایس ٹی ، ایس جی ایس ٹی اور آئی جی ایس ٹی کی وصولی جی ایس ٹی کونسل کی نگرانی میں مرکز اور ریاستوں کے ذریعہ متفقہ شرحوں پر ہوتی ہے۔ 
تمام اشیا اور خدمات کے لیے جی ایس ٹی کے چار سلیب یعنی 5فیصد ،12فیصد،18فیصد اور 28فیصد کی شرح سے متعین ہیں۔
خصوصی اقتصادی زون(ایس ای زیڈ) کے لیے برآمدات اور سپلائی کے لیے جی ایس ٹی صفر ہے۔ 
ٹیکس دہندگان کے لیے انٹرنیٹ بینکنگ ،ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈ اور نیشنل الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر (این ای ایف ٹی) /رئیل ٹائم گراس سگمنٹ(آر ٹی جی ایس ) سمیت ٹیکس ادائیگی کے متعدد طریقے دستیاب ہیں۔

جی ایس ٹی کونسل

 چیئرپرسن –مرکزی وزیر خزانہ
وائس چیئر مین – ریاستی حکومتوں کے وزرا میں منتخب ہوگا۔
ممبران –وزیر مملکت (خزانہ) اور ہر ایک ریاست کے وزرائے خزانہ/ٹیکس کاری 
کورم –کل ممبران کا%  50ہے۔
ریاستیں 2/3– ویٹیج اور مرکز –  1/3 ویٹیج
فیصلے%  75کی اکثریت سے 
کونسل کو رولز اور شرحوں سمیت جی ایس ٹی سے متعلق ہر ایک چیز کے بارے میں سفارش کرتی ہے۔



جی ایس ٹی

سی جی ایس ٹی / ایس جی ایس ٹی اشیااورخدمات یادونوں کی تمام ریاستوں میں فراہمی پرواجب الادا آئی جی ایس ٹی،اشیااورخدمات کی بین ریاستی سپلائی پرواجب الادا ٹیکس اداکرنے کے قابل شخص،جب رعایت کی حدیعنی 20 لاکھ سے تجاوزکرجاتاہے توٹیکس کی دین داری پیداہوجاتی ہے۔


18

10.6   داخلی تجارت کے فروغ میں انڈین چیمبرس 

آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاکردار

انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاروباری اور صنعتی گھرانوں کی ایک ایسو سی ایشن کے طور پر بنائی گئی تھی جس کا مقصد ان کے مشترکہ مفادات اور مقاصد کو آگے بڑھانا تھا۔  ایسے بہت سے چیمبر بنائے گئے اور ملک میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پرASSOCHAMکنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) اور فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) یہ ایسو سی ایشنز یا انجمنیں یا چیمبرس خود کو ہندوستان کی تجارت، کامرس اور انڈسٹری کے رکھوالے سمجھتے ہیں۔
انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری داخلی تجارت کو مضبوط کرنے اور اسے مجموعی معاشی سرگرمی کا ایک اہم جزو بنانے میں فعال کردار ادا کرتا آیا ہے۔
یہ چیمبرس مختلف سطحات پر حکومت کے ساتھ پالیسیوں کو ازسر نو وضع کرنے یا ان کو صحیح مقام پر رکھنے کے مقصد سے ربط و ضبط قائم کرتے رہتے ہیں تا کہ رکاوٹوں کو کم کیا جا ئے،  ریاستوں کے مابین مال کی نقل و حرکت کو بڑھایا جائے،شفافیت کو لایا جائے اور سرکاری افسران کی پیدا کردہ رکاوٹوں،نیز معائنہ کی کثیر جہت پرتوں کو ہٹایا جائے۔اس کے علاوہ ان چیمبروں کا مقصد یہ بھی ہے کہ مضبوط پائدار بنیادی ڈھانچہ کھڑا کیا جائے اور ٹیکس کے ڈھانچوں کو آسان بنایا جائے اور ان میں یک جہتی پیدا کی جائے۔ ان کی دخل اندازی خصوصی طور پر ان معاملوں میں ہے۔
(i)   سامان کی بین ریاستی نقل و حرکت: انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری ریاستوں کے درمیان مال کی نقل وحمل سے متعلق بہت سی سرگرمیوں میں مدد کرتے ہیں جس میں گاڑیوں کا رجسٹریشن،خشکی کے راستے نقل وحمل کی پالیسیاں، سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر شامل ہیں۔ مثال کے طور پر سنہرے چوطرفہ گلیارے کی تعمیر جس کا اعلان وزیر اعظم نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI)کے ایک سالانہ اجلاس میں کیاتھا، داخلی تجارت کو آسان بنا دے گی۔
(ii)  چنگی اور دیگر مقامی ٹیکس:  چنگی اور مقامی ٹیکس مقامی حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔یہ ا س مال پر اور ان لوگوں سے وصول کیے جاتے ہیں جو کسی ریاست یا میونسپل حدود میں داخل ہوتے ہیں۔حکومت اور چیمبرس آف کامرس کو چاہئے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ ٹیکس بلا روک ٹوک نقل وحمل اور مقامی تجارت کی قیمت پر عائد نہ کیے جائیں ،یعنی ان ٹیکسوں کی وصولی کے دوران سامان کی نقل وحمل اور مقامی تجارت پر برا اثر نہ پڑے۔
(iii)  سیلز ٹیکس اور VATکے ڈھانچے میں ہم آہنگی پیداکرنا:  چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری مختلف ریاستوں میں سیلز ٹیکس کے ڈھانچے میں ہم آہنگی اور تال میل پیدا کرنے کے لیے حکومت سے باہمی بات چیت اور رابطہ کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔سیلز ٹیکس ریاستوں کی آمدنی کا ایک اہم حصہ ہے۔ تجارت کے فروغ میں توازن قائم کرنے کے لیے سیلز ٹیکس کا ایک معقول اور عملی ڈھانچہ اور اس کی تمام ریاستوں میں یکساں شرحیں اہم ہیں۔حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق VATکو سیلز ٹیکس کی جگہ عائد کیا جارہا ہے تاکہ سیلز ٹیکس کے تباہ کن اثرات کو ختم کیا جا سکے۔
(iv)  زرعی پیداوار کی بازار میں فروخت اورمتعلقہ امور: کسانوںکی انجمنیں اور دوسری فیڈریشن زرعی پیدا وار اور زرعی مصنوعات کو بازار تک پہنچا کر فروخت کرنے کے کام میں اہم کردار نبھاتی ہیں۔مقامی مالی رعایتوں کو درست کرنا اور تنظیموں کی فروخت سے متعلق پالیسیاں کچھ ایسے معاملات ہیں جن پر چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری درحقیقت دخل اندازای کر سکتے ہیں اور متعلقہ ایجنسیوں،جیسے کھیتی باڑی کی کوآپریٹیو سوسائٹیوں سے مکمل بات چیت کر سکتے ہیں۔
(v)  اوزان اور پیمانے اور نقلی مال کی روک تھام: وزن اور پیمائش سے متعلق قوانین اور برانڈ کی حفاظت صارفین اور تاجروں دونوں کے مفاد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انھیں سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایسے قوانین وضع کرنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کر نے کے سلسلہ میں حکومت سے رابطہ رکھتے ہیں اور بات کرتے رہتے ہیں۔
(vi)  آب کاری محصول:  مرکزی آب کاری محصول حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جسے تمام ریاستوں میں مرکزی حکومت عائد کرتی ہے۔آب کاری کی پالیسی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس لیے ایسو سی ایشنوں اور انجمنوں کو آب کاری محصول کی نوک پلک درست کرنے کے سلسلے میں حکومت سے تعلق قائم رکھنا اور گفتگو کرتے رہنا چاہیے۔
(vii)  مضبوط بنیادی ڈھانچہ کو فروغ دینا: ایک مضبوط بنیادی ڈھانچہ جیسے سڑک،بندرگاہ،ہوائی اڈہ،بجلی،ریلوے وغیرہ تجارت کے فروغ میں بہت فعال کردار ادا کرتا ہے۔ چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو چاہیے کہ حکومت کے ساتھ مل کر بڑے پروجیکٹوں میں سرمایہ لگائے اور انھیں شروع کرے۔
(viii)  مزدوروں کے قوانین: ایک سیدھا سادہ اور لچیلا مزدوروں کا قانون صنعتوں کو چلانے،پیداوار کو بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور حکومت، مزدوروں کے قوانین،چھٹنی (ملازمت سے ہٹانااور اس طرح مزدوروں کی تعداد کو کم کرنا) وغیرہ کے بارے میں لگاتا ر باہمی رابطہ قائم رکھتی ہیں۔

اہم اصطلاحات

داخلی تجارت                        تھوک فروش                                بازار کے تاجر
تھوک تجارت                       خوردہ فروش                                 چھٹ بھئیے تاجر
خوردہ فروش تجارت               داخلی خوردہ فروش                            خصوصی اسٹور
ایک ہی زمرے کے سامان کے( ڈپارٹمنٹل) اسٹور  سلسلہ وار اسٹور             فروخت کی (وینڈنگ)مشینیں
ڈپارٹمنٹل اسٹور                    سپر بازار                                      چیمبرس آف کامرس

خلاصہ 

خریدار اور فروخت کنندہ کی جغرافیائی علاقے کی بنیاد پر نفع کمانے کے مقصد سے چیزوں اور خدمات کی خرید وفروخت کاروبار کہلاتا ہے۔ کاروبار کو د و بڑے حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔ (i)داخلی تجارت(ii)بیرونی تجارت۔
داخلی تجارت:  چیزوں اور خدمات کی خرید وفروخت ملک کی سرحد میں کرنا داخلی تجارت کہلاتا ہے۔ اس طرح کی تجارت پر کسی بھی طرح کا محصول عائد نہیں کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ چیزیں گھریلو پیداوار کاہی حصہ ہوتی ہیں۔ اور گھریلو استعمال کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں۔ داخلی تجارت کو دو بڑے زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
تھوک تجارت:   چیزوں اور خدمات کی بڑی تعداد میں اس مقصد کے لیے خریداور فروخت کہ ان کو دو بارہ فروحت کیا جائے تھوک تجارت کہلاتی ہے، تھو ک فروش چیزوں اور خدمات کی تقسیم میں پیدا کار اور خوردہ فروش بہت سی اہم خدمات مہیا کرتا ہے۔
تھوک فروش کی خدمات:   تھوک فروش پیداکار اور خوردہ فروش کے درمیان ایک اہم رشتہ پیدا کرتا ہے تھوک فروش وقت اور جگہ کی افادیت پیدا کرتا ہے۔
پیداکار کی خدمات:   تھوک فروش کی جانب سے پیدا کار کو دی جانے والی خدمات مندرجہ ذیل ہیں:
(i)بڑے پیمانے پر پیداوار کی سہولیت پیدا کرنا(ii)خطرہ برادشت کرنا(iii)مالی مدد کرنا (iv)ماہر صلاح (v)فروخت کے عمل میں مدد (vi)تسلسل میں سہولت اور ذخیرہ کاری۔
خوردہ فروش کی خدمات:  تھوک فروش کے ذریعہ خوردہ فروش کو دی جانے والی خدمات میں شامل ہیں:(i)اشیا کی دستیابی (ii) فروخت میں مدد (iii)ادھار کی منظوری (iv)مخصوص معلومات (v)خطرے میں شرکت۔
خوردہ تجارت:   خوردہ فروشی ایسی تجارتی تنظیم ہے جو چیزوں اور خدمات کو براہ راست آخری صارفین کو فروخت کرتی ہے۔
خوردہ فروش کی خدمات:  خوردہ فروش پیداکار اورآخری صارفین کے بیچ ایک اہم رشتہ پیدا کرتا ہے۔ خوردہ فروش اشیا اور خدمات کی تقسیم میں صارفین ،تھوک فروش اور پیداکار کو اہم خدمات مہیا کرتا ہے۔
پیدا کارخوردہ فروشوں کی تھوک فروشوں کے لئے خدمات:  خوردہ فروش کے ذریعہ تھوک فروشوں اور پیداکار کو دی جانے والی خدمات میں شامل ہیں:  (i)چیزوں کی تقسیم میں مدد  (ii)ذاتی فروخت  (iii)بڑے پیمانے پر کام کرنے میں مدد(iv)بازار کی معلومات اکٹھا کرنا(v) چیزوں اور خدمات کی فروغ میں مدد۔
صارفین کو خدمات:  صارفین کو دی جانے والی خدمات میں شامل ہیں (i)چیزوں؍اشیا کی مسلسل دستیابی (ii)نئی چیزوں کی معلومات (iii)خریداری میں آسانی (iv)وسیع انتخاب (v)فروخت کے بعدکی خدمات  (vi)ادھار کی سہولت مہیا کرنا۔

خوردہ تجارت کی اقسام:  خوردہ تجارت کو سائز اورملکیت کی بنیاد پر مختلف اقسام میں منقسم کیا جاسکتا ہے۔ خوردہ فروش کو دودرجوں میں تقسیم کرسکتے ہیں جیسے (i)گھومتے پھرتے تاجر؛  (ii)مستقل دوکان والے خوردہ فروش۔

گھومتے پھرتے خوردہ فروش:  گھومتے پھرتے خوردہ فروش ایسے کاروباری لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس اپنی تجارت کو چلانے کے لیے مستقل جگہ نہیں ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے تاجر ہوتے ہیں جو کہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ ایک گلی سے دوسری گلی اور ایک جگہ سے دوسری جگہ صارفین کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں ۔ یہ خوردہ فروش مختلف اقسام کے ہوتے ہیں:
(i)  خوانچہ لگانے والے اور سڑکوں پر سامان بیچنے والے :  یہ چھوٹے پیداکار یا تاجرہوتے ہیں جو اپنی چیزوں کو سائیکل، ہاتھ کا ٹھیلہ ، سائیکل رکشا یا اپنے سر پر رکھ کر گھومتے ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جاکر اپنی چیزوں کو صارفین کے دروازے پر پہنچ کر فروخت کرتے ہیں۔
(ii)  بازار کا روباری:  بازارکاروباری چھوٹے خوردہ فروش ہوتے ہیں جو اپنی دوکانوں کو مختلف جگہوں پر طے شدہ دنوں یا تاریخ پر ہی کھولتے ہیں یہ عام طور سے صاریفین کی کم آمدنی والے طبقے کی روزمرہ استعمال میں آنے والی کم قیمت کی چیزوں کا لین دین کرتے ہیں۔
(iii) گلی کے کاروباری:   گلی کے کاروباری چھوٹے خوردہ فروش ہوتے ہیں جو عام طور سے اپنا کاروبار ان جگہوں پر کرتے ہیں جہاں ایک بڑی آبادی جمع ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹینڈ کے قریب صرف کی اشیافروخت کرتے ہیں جو کہ عام استعال میں آتی ہیں جیسے اسٹیشنری کی چیزیں، کھانے کی چیزیں وغیرہ۔

 (iv)  چیپ جیک :   وہ چھوٹے خوردہ فروش ہوتے ہیں جن کی تجارتی علاقے میں غیر مستقل نوعیت کی آزاد دوکانیں ہوتی ہیں یہ لوگ عام طور سے اشیائے صرف کی چیزوں کا لین دین کرتے ہیں۔ اور صارفین کی خدمت اس طرح سے کرتے ہیں کہ جہاں صارف کو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہیں چیزوں کو مہیا کراتے ہیں۔

مستقل دوکان والے خور دہ فروش:  کام کے سائز کی بنیاد پر مستقل دوکان خوردہ فروشوں کو دوزمروں میںتقسیم کیا جاسکتا ہے جیسے (a)چھوٹے دوکاندار  (b)بڑے خوردہ فروش۔

مستقل دوکان والے چھوٹے خور دہ فروش

(i)  عام اسٹور:  یہ دوکانیں مختلف اشیا کا ذخیرہ رکھتی ہیں جیسے کریانہ کی چیزیں، سافٹ ڈرنک، ٹوائلیٹ کا سامان، اسٹیشنری اور میٹھائیاں وغیرہ تاکہ قریب کے رہائشی علاقوں میں رہنے والے صارفین کی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔
(ii)  مخصوص دوکانیں:  یہ خوردہ اسٹو راشیاء کی خاص لائن کی چیزوں کو فروخت کرنے میں یونیفارم، کالج کی کتابیں یا الیکٹرانک چیزیں وغیرہ فروخت کرتے ہیں ۔
(iii)  سڑکوں پر اسٹال لگانے والے تاجر :  یہ چھوٹے خوردہ فروش عام طور سے گلی کو پار کرنے کی جگہ یا دوسری جگہوں پر جہاں ٹریفک کا  زیادہ ہوتا ہے۔ان جگہوں پر زیادہ قائم کی جاتی ہیں۔ یہ گھومتے ہوئے صارفین کو متوجہ کرتے ہیں اور خوردفروش عام طور سے کم قیمت کی اشیاء کا لین دین کرتے ہیں، جیسے بنیان ،موزے وغیرہ ،کھلونے ،سگریٹ ،سوفٹ ڈرنک وغیرہ۔
(iv)  پرانی اشیا کی دوکانیں:  یہ دوکانیں پرانی اشیا یا استعمال کی ہوئی اشیا کا لین دین کرتی ہیں جیسے فرنیچر، کتابیں، کپڑے، گھریلوچیزیں جو کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔
(v)  واحد لائن اسٹور :  واحد لائن اسٹور وہ دوکانیں ہوتی ہیں جو کہ صرف ایک ہی لائن کی چیزوں کا لین دین کرتی ہیں جیسے تیار شدہ کپڑے، گھڑیاں ، کپڑا،جوتے وغیرہ۔ یہ دوکانیں ایک ہی لائن کی مختلف اقسام کی اشیا رکھتی ہیں اور یہ مرکزی جگہ پر قائم ہوتی ہیں۔
مستقل دوکان والے بڑے اسٹور:  مستقل دوکان والے بڑے اسٹور میں چیزوں کی قسم اور سائز کا بڑے پیمانے پر ذخیرہ ہوتا ہے۔
ڈپارٹمنٹل اسٹور :   ڈپارٹمنٹ اسٹور ایک بڑی تنظیم ہوتی ہے جو کہ اشیاکی مختلف اقسام مہیا کرتی ہے۔ اس کا خاص مقصد ایک ہی چھت کے نیچے صارفین کی ضروریات کو مطمئن کرنا ہے۔
فوائد:(a) بڑے پیمانے پر صارفین کو اپنی طرف کھینچنا  (b)خریداری میں آسانی(c)متوجہ کرنے والی خدمات (d)بڑے پیمانے کے کام کی کفایت(e)فروخت کی فروغ۔
خامیاں:(a) ذاتی دھیان کی کمی  (b)اونچی آپریٹنگ لاگت(c) نقصان کے زیادہ امکانات(d) غیر موزوں مقام۔
کثیر جہتی دوکانیں:  کثیر جہتی دوکانیں خوردہ دوکانوں کا ایک ایسا جال ہوتاہے جو کہ پیداکاریا بچولیوں کے ذریعہ سے چلائی جاتی ہیں یہ دوکانیں عام طور سے معیاری اور برانڈ ڈ اشیا کا لین دین کرتی ہیں جن کی مجموعی فروخت بہت تیز رفتار ہوتی ہے۔
فوائد: (a)پیمانے کی کفایت(b) بچولیوں کو ہٹانا(c) وصول نہ ہونے والے قرضے کی غیر موجودگی (d)اشیا کی منتقلی (e)خطرہ کم کرنا(f) کم لاگت(g)لچیلا پن۔
نقصانات:(a) ِْٓاشیا کا محدود انتخاب  (b)پہل قدمی کی کمی(c) ذاتی رابطہ کی کمی(d) مانگ کو تبدیل کرنا مشکل۔
ڈپارٹمنٹ اسٹور اور کثیر جہتی دوکانوں میں فرق:  (a)محل وقوع(b) اشیا کا پھیلاؤ(c) پیش کردہ خدمات (d)قیمتوں کا تعین  (e) صارفین کاطبقہ  (f) ادھار کی سہولیات  (g)لچکیلاپن۔
ڈاک کے ذریعہ تجارت: ڈاک کے ذریعہ تجارت کرنے والی وہ خوردہ دوکانیں ہوتی ہیں جو اپنے کاروباری مال کو ڈاک کے ذریعہ فروخت کرتی ہیں۔ اس طرح کے کاروبار میں خریدار اورفروخت کردہ کے بیچ میں کسی بھی طرح کا براہ راست رابطہ قائم نہیں ہوتا ہے۔
فوائد:   (a)محدود سرمائے کی ضرورت  (b)بچولیوں کوہٹانا  (c)وصول نہ ہونے والے قرضے کی غیر موجودگی  (d)وسیع پہنچ (e)آسانی
خامیاں:  (a)ذاتی رابطہ کی کمی  (b)اونچی لاگت فروغ  (c)فروخت کے بعد خدمت کا حاصل نہ ہونا  (d)ادھار کی سہولیات کی   غیر موجودگی  (e)سپردگی میں تاخیر  (f)غلط استعمال کے امکانات  (g)ڈاک کی خدمت پر زیادہ انحصار۔
صارف کو آپریٹو اسٹور:  ایک صارف کو آپریٹو اسٹور وہ تنظیم ہے جس کی ملکیت انتظام اور کنٹرول ؍صارفین کے ذریعہ کیا جاتا ہے کو آپریٹو اسٹور کا خاص مقصد بچولیوں کی تعداد کو کم کرنا ہے اور ممبران کو خدمت پیش کرنا ہے۔
فوائد:  (a)قائم کرنے میں آسانی  (b)محدود ذمہ داری  (c)جمہوری انتظام (d)کم قیمتیں (e)نقد فروخت (f) مناسب جگہ۔
خامیاں:  (a)پہل کی کمی  (b)فنڈ کی کمی (c) سرپرستی کی کمی  (d)تجارتی تربیت کی کمی۔
سپر بازار:  سپر بازار ایک بڑی خوردہ تجارتی اکائی ہے جہاں پر صارف کی اشیا کی مختلف اقسام کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔ اس بازار میں خود سے خدمت کرنے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔
فوائد:(a) ایک چھت کم لاگت (b)مرکزی مقام (c)وسیع انتخاب (d)وصول نہ ہونے والے قرضے کی غیر موجودگی (e) بڑے پیمانے کے فائدے۔
خامیاں:  (a)ادھار کی سہولت کی عدم موجودگی (b) انفرادی توجہ کی کمی(c)اشیاکو غلط طریقے سے سنبھالنا(d) زیادہ بالائی اخراجات  (e)زیادہ سرمائے کی ضرورت۔
وینڈنگ مشین: وینڈنگ مشین پہلے سے پیک کی ہوئی برانڈ کی کم قیمت کی ایسی اشیا کو فروخت کرنے کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہورہی ہے جن کی کل فروخت زیادہ ہوتی ہے اور وہ سائز اور وزن میں یکسا ں ہوتی ہیں۔

مشقیں

مختصر جوابی سوالات

داخلی تجارت سے آپ کا کیا سمجھتے ہیں؟
مستقل دوکان والے خوردہ فروش کی خصوصیات کی تشریح کیجیے۔
مال گودام کی سہولیات مہیا کرکے تھوک فروش کس مقصد کو پورا کرتا ہے؟
بازار سے متعلق معلومات جو تھوک فروش کے ذریعہ مہیا کی جاتی ہیں، پیدا کار کو کس طرح فائدہ پہنچاتی ہیں؟
 تھوک فروش پیمانے کی کفایت پیداکار کو حاصل کرنے میں کس طرح مدد کرتی ہے؟
واحد لائن اسٹور اور اسپیشلٹی اسٹور میں فرق واضح کیجیے۔ کیا آپ اپنے علاقے میں اسٹور کی شناخت کرسکتے ہیں؟
آپ کس طرح گلی کے تاجر اور گلی کی دوکانوں میں فرق واضح کریں گے؟
تھوک فروش کی جانب سے خوردہ فروش کو پیش کی جانے والی خدمات کی تشریح کیجیے۔
ایک خوردہ فروش، تھوک فروش اور صارفین کو کیا خدمات پیش کرتا ہے؟

طویل جوابی سوالات

1۔   گھومتے پھرتے تجارتی ہندوستان کی داخلی تجارت میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کی کامیابی کا تجربہ کیجیے جب کہ ان کا مقابلہ بڑے پیمانے کے خوردہ فروشوں سے ہوتاہے۔
2۔   ڈپارٹمنٹل اسٹور کی خصوصیات پر مباحثہ کیجیے۔ یہ کثیر جہت دوکانوں سے کس طرح الگ ہوتی ہیں؟ 
3۔   صارف کو آپریٹو اسٹور کوکم خرچیلا کیوں ماناجاتا ہے؟دوسرے بڑے پیمانے کے خوردہ فروش کے مقابلے میں اس کے کیا فائدے ہیں؟
4۔   مقامی بازار کی غیر موجودگی میں زندگی کا تصور کیجیے۔ اگر خوردہ دوکانیں نہ ہوں تو ایک صارف کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟
5۔   ڈاک کے ذریعہ تجارت کے فائدے بیان کیجیے ۔عام طور سے کس طرح کی اشیا کا کاروبار ان کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ صراحت کیجیے۔

پروجیکٹ/عملی کام 

1۔   اپنے مقامی بازار میں مختلف مستقل خوردہ فروشوں کی دوکانوں کی شناخت کیجئے۔اور ان کی فہرست کی ترتیب ان مختلف اقسام کے مطابق کیجیے جو آپ نے پڑھی ہیں۔
2۔   کیا آپ ایسے خوردہ فروش کو جانتے ہیں جو آپ کے علاقے میں استعمال کی ہوئی چیزوں کو فروخت کرتا ہے۔ معلوم کیجیے کہ یہ لوگ کونسی چیزوں کا لین دین کرتے ہیں؟کونسی چیزیں دوبارہ فروخت کرنے کے لیے مناسب ہوتی ہیں؟اپنی معلومات کی فہرست بنائیے۔ آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟
3۔   کیا آپ نے ماضی اور آنے والے وقت کی خوردہ تجارت میں کسی فرق پر غور کیا ہے؟ اس پر مختصراً لکھئے اور کلاس میں اس پر مباحثہ کیجیے۔
4۔   اپنے تجربے سے دو خوردہ اسٹور وں کا جو ایک ہی چیز کی فروخت کرتے ہیں،موازنہ کیجیے۔مثال کے طور پر ایک جیسی چیزیں جو ایک چھوٹے پیمانے کا خوردہ فروش فروخت کررہا ہے جیسے جنرل اسٹور اور ایک بڑے اسٹور میں جیسے ایک ڈیپارٹمینٹل اسٹور۔ قیمت،خدمت،اقسام اور آسانی وغیرہ کی بنیاد پر آپ ان اسٹوروں میں کیایکسانیت اور کیا اختلاف دیکھتے ہیں؟ شناخت کیجیے۔
.5 حکومت ہند کے ذریعہ یکم جولائی 2017سے جی ایس ٹی کا نفاذ کیا گیا ہے۔ جی ایس ٹی کی شرحوں یعنی%0،
% 12 ،18%اور% 28کے تحت مختلف اشیا اور خدمات کی درجہ بندی کی گئی ہے ۔جی ایس ٹی سے متعلق معلومات،اخبارات ،میڈیا نیوز، انٹرنیٹ اور بزنس میگزین سے حاصل کیجیے اور درج ذیل اشیا اور خدمات کو پانچ جی ایس ٹی شرحوں میں درجہ بندکیجیے۔

سرگرمی : مختلف اشیا اور خدمات کی جی ایس ٹی شرحوں کے تحت درجہ بندی 

آئٹم   کوئی ٹیکس نہیں  5%       12%        18%      18% 
جوٹ(پلسن)
اخبار
کافی/چائے
شمپو
واشنگ مشین
موٹر سائیکل
سبزیاں
دودھ
دہی
نمک
مصالحہ
مٹی کاتیل
پتنگ
ملبوسات1000 روپے سے
زائد
پنیر
گھی
فروٹ جوس
بھجیا
آیورویدک ادویہ
سلائی مشین
سیل فون
کیچ اپ اورسوس
کاپی
نوٹ بک
چشمہ
نن۔اے سی
فرٹیلائزر
بسکٹ
پاستا
پیسٹریزاورکیک
جام
منرل واٹر
اسٹیل
پروڈکٹ
کیمرہ
اسپیکراورمانیٹر
الومینم فائل
سی سی ڈی وی
ٹیلی کام سروسز
برانڈیڈملبوسات
                                                              x










مصالحہ
مٹی کا تیل
پتنگ
ملبوسات1000روپئے سے زائد
پنیر
گھی 
فروٹ جوس 
بھجیا
آیورویدک ادویہ
سلائی مشین
سیل فون 
کیچ اپ اور سوس
کاپی
نوٹ بک
چشمہ
نن ۔اے سی 
فرٹیلائزر
بسکٹ
پاستا
پیسٹریز اور کیک
جام 
منرل واٹر
اسٹیل
پروڈکٹ
کیمرہ
اسپیکر اور مانیٹر
الومینم فائل
سی سی ڈی وی 
ٹیلی کام سروسز
برانڈ یڈ ملبوسات