Skip to content
Karobarimutuala-001


باب11

بین الاقوامی کاروبار

سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعے کے بعد آپ کو اس قا بل ہو جانا چاہیے کہ 
آپ بین الاقوامی کاروبار کے معنی بیان کر سکیں۔
اندرونی اور بین الاقوامی کاروبار کے درمیان فرق بیان کر سکیں۔
بین الاقوامی کاروبار کے مواقع پر تبادلہ خیال کر سکیں۔
بین الاقوامی کاروبار کے فوائد کا شمار کر سکیں۔
در آمد و برآمد لین دین کے لیے مطلوبہ دستاویزات ۔
بین الاقوامی فرموں کے لیے دستیاب ترغیبات اور اسکیموں کی شناخت کرسکیں۔
بین الاقوامی کاروبار کے فروغ کے سلسلہ میں مختلف تنظیموں کے کردار پر تبادلہ خیال کرسکیں۔
بین الاقوامی تجارت کے فروغ اور ترقی کے لیے عالمی سطح کے معاہدے اور اہم بین الاقوامی اداروں کی فہرست۔


جناب سدھیرمنچندا، کاروں کے حصوں اور کل پرزوں (Automobile Components)  کے ایک چھوٹے صانع یعنی بنانے والے (Manufacturer) ہیں۔ ان کی فیکٹری گڑگاؤں میں واقع ہے اور انھوں نے پلانٹ اور مشینری میں 9.2 ملین روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ 55 کارکنوں کو ملازمین رکھا ہوا ہے۔ گھریلو مارکیٹ میں مندی اور تعطل (Recession) کے سبب، انھیں آئندہ چند سالوں میں اپنی فروخت کے بڑھنے کا امکان نظرنہیں آتا ہے۔لہٰذا وہ بین الاقوامی کاروبار کی طرف جانے کے امکانات تلاش کررہے ہیں، ان کے مقابلہ کرنے والے کچھ لوگ پہلے سے برآمداتی کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ ٹائر کے کاروبار میں لگے اپنے ایک قریبی دوست سے اتفاقیہ گفتگو کے دوران انھیں پتہ چلتا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا اورمشرق وسطیٰ میں کاروں کے پرزوں (Automobile Components) کی خاصی بڑی مارکیٹ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا دوست یہ بھی کہتا ہے’’بین الاقوامی کاروبار کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ گھریلو ملک میں کاروبار کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی کاروبار پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں مارکیٹ کے حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ کے حالات گھریلو کاروباری حالات سے مختلف ہوتے ہیں‘‘۔ مزید یہ کہ جناب منچندا کو یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ انھیں بین الاقوامی کاروبار کو کس طرح شروع کرنا چاہیے۔ کیا وہ سمندر پار کے کچھ گاہکوں کو بذات خود تلاش کریں اور ان سے تعلق قائم کریں اور انھیں براہ راست سامان برآمد کریں؟ یا پھر وہ اپنی اشیا کو برآمداتی گھرانوں (Export Houses) کے ذریعہ برآمد کرنے کی راہ نکالیں، جنھیں دوسروں کے ذریعہ تیار کردہ اشیاکو برآمد کرنے میں مہارت حاصل ہوتی ہے؟
جناب منچندا کے فرزند جو امریکہ سے ایم۔بی۔اے کرکے حال ہی میں لوٹے ہیں، مشورہ دیتے ہیں کہ انھیں جنوب مشرقی ایشیا (South East Asia) اورمشرق وسطیٰ (Middle East) کے گاہکوں کو سپلائی کرنے کے لئے بینکاک (Bangkok) میں مکمل طور پر ذاتی ملکیت کی ایک فیکٹری قائم کرنی چاہیے۔ وہاںمصنوعاتی پلانٹ لگا کر انھیں ہندوستان سے مال بھیجنے پر نقل وحمل کے اخراجات (Transport Costs)  بچانے میں مدد ملے گی۔ مزید یہ کہ اس طرح انھیں سمندر پار (Overseas) کے گاہکوں سے قریب تر ہونے کا موقع بھی ملے گا۔جناب منچندا اس شش وپنج میں ہیں کہ وہ کیا کریں۔جیسا کہ ان کے دوست نے سمندر پار کے خطرات کے بارے میں انھیں بتایا تھااس کے پیش نظر ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آفاقی یا عالمی بازار میں داخل ہوں یا نہ ہوں۔انھیں اس کا بھی پتا نہیں کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے مختلف طریقے کیا کیا ہیں اور کون سا طریقہ ان کے مقصد کے لیے سب سے زیادہ مناسب رہے گا۔

11.1  تعارف

دنیا کے تمام ممالک مختلف اشیا اور خدمات پیدا کرنے کے طریقہ میں ایک بنیادی تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ قومی معیشتیں، (National Economies) جو اب تک خود اعتمادی کے نشانہ کی طرف گامزن تھیں، مختلف قسم کی اشیا اور خدمات کی تحصیل اور فراہمی میں اب تیزی کے ساتھ دوسروں پر انحصار کرنے لگی ہیں۔ سرحد پار تجارت اور سرمایہ کاری کے بڑھ جانے کی وجہ سے دنیا کے ملک اب تنہا نہیں رہ گئے ہیں۔
اس بنیادی تبدیلی کے پیچھے ذرائع رسل و رسائل، تکنیکی مہارتوں اور بنیادی ڈھانچہ (Infrasttmeture) وغیرہ کی ترقی ہے۔ ذرائع رسل ورسائل کے جدید تر طریقوں کے رونما ہونے اور نقل وحمل (Transportation) کے نہایت مؤثر ذرائع کی تیز تر ترقی نے قوموں کو ایک دوسرے سے قریب تر کردیا ہے۔جو ممالک جغرافیائی فاصلوں اور سماجی،معاشی فرق کی وجہ سے ایک دوسرے سے کٹے ہوئے تھے اب ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو متواتر بڑھا رہے ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم (World Trade Organisation) (WTO) اور مختلف ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کی گئی اصلاحات بھی قوموں کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات اور کاروباری روابط کا خاص امدادی سبب ہیں۔
آج ہم ایک ایسی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں اشیا اور اشخاص کی سرحد پار نقل وحرکت میں درپیش رکاوٹیں  بڑی حد تک کم ہوئی ہیں۔ قومی معیشتیں تیزی کے ساتھ غیر سرحدی (Borderless) ہورہی ہیں اور عالمی معیشت کاحصہ بن رہی ہیں۔ لہٰذا یہ تعجب کی بات نہیں کہ آج دنیا کوایک عالمی گاؤں (Global Village) کہا جانے لگا ہے۔ آج کے موجودہ دور میں کاروبار اب صرف گھریلو ملک کی حدوں تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ فرمیں بین الاقوامی کاروبار پر دھاوا بول رہی ہیں، جو انھیں ترقی کے متعدد مواقع اور کثیر منافع فراہم کررہا ہے۔
ہندوستان ایک زمانے سے دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارت کرتا آیا ہے۔ لیکن حال میں عالمی معیشت کے ساتھ شامل ہونے اور اپنی غیرملکی تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے عمل میں اس کی رفتار بڑھی ہے۔ (دیکھئے باکس:A ’ہندوستان عالم کاری کی  راہ پر ‘)

 11.1.1   بین الاقوامی کاروبار کا مفہوم

کسی قوم کی جغرافیائی حدود کے اندر کیے جانے والا کاروباری سودا گھریلو یا قومی کاروبار کہلاتا ہے۔ اسے اندرونی کاروبار یا گھریلو تجارت (Home Trade) بھی کہا جاتا ہے۔اشیاء سازی  اور تجارت (Trade) جو کسی ملک کی اپنی سرحدوں سے پرے کی جاتی ہے اسے بین الاقوامی کاروبار کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی یا بیرونی کاروبار کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ وہ کاروباری سرگرمیاں ہیں جو قومی سرحدوں کے پار وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اس میں نہ صرف اشیا اور خدمات کی، بلکہ سرمایہ، اشخاص، تکنیکی مہارتیں اور دانشورانہ صلاحیت جیسے کاروباری اجارہ داریاں تجارتی مار کہ عملی واقفیت وصلاحیت اور جو طباعت واشاعت کے حقوق کی بین الاقوامی نقل وحرکت بھی شامل ہوتی ہے۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اکثر لوگ بین الاقوامی کاروبار کو بین الاقوامی تجارت ہی خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ برآمدات اور درآمدات پر مشتمل تجارت تاریخی طور پر بین الاقوامی کاروبار کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔لیکن حال میں بین الاقوامی کاروبار کا دائرۂ کار (Scope) بہت وسیع ہوا ہے۔خدمات کی بین الاقوامی تجارت جیسے بین الاقوامی سیر وسیاحت، ذرائع نقل وحمل،ذرائع رسل ورسائل، بینک کاری، گودام کاری اسباب معیشت کی تقسیم اور تشہیری کاموں کے میدان میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے۔ ان ہی کی اہمیت کے برابر دیگر ترقیات ہیں؛ غیر ملکی سرمایہ کاری، سمندری اشیا اور خدمات کی پیداوار میں اضافہ، کمپنیوں نے غیر ممالک میں سرمایہ کاری کو بڑھانا شروع کیا ہے اور وہ غیر ملکی گاہکوں کے قریب تر ہونے اور کم لاگت پر زیادہ مؤثر خدمات بہم پہنچانے میں بہت بڑا حصہ بنی ہیں۔ نتیجتاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ بین الاقوامی کاروبار ایک وسیع تر اصطلاح ہے اور اس میں سرحد پار تجارت اور اشیا وخدمات کی پیداوار دونوں ہی شامل ہیں۔

باکس A

ہندوستان عالم کاری کی راہ پر گامزن

بین الاقوامی کاروبار اصلاحات کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیاہے۔ ہندوستان بھی ان ترقیات سے کٹ کر علیحدہ نہیں رہا۔ ہندوستان1991 میں شدید قرض کے پھندے میں پھنسا تھا اور دائیگیوں کے بقایاجات کے بحران میں بے بسی کی حالت سے دوچار تھا۔ لہٰذا اس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ تک رسائی کی تاکہ اپنے خسارے کو دور کرنے کے لیے مالیات (Funds) حاصل کرسکے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(IMF)، ہندوستان کو قرض دینے پر رضامند ہوا مگر اس شرط کے ساتھ کہ ہندوستان کچھ ساختی تبدیلیاں لائے گا تاکہ وہ قرض کی رقم کو واپس کرنے کی یقین دہانی کراسکے۔
ہندوستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اس تجویز پر رضامند ہو۔ یہ IMF کی عائد کردہ سخت شرائط تھیں جنھوں نے ہندوستان کو کم وبیش مجبور کیا کہ وہ اپنی معاشی پالیسیوں میں نرم کاری کو اختیار کرے۔ اسی وقت سے معاشی محاذ پر بڑی حد تک نرم کاری یا کاروبار کا کھلاپن رونما ہوا۔
اگرچہ اصلاحات کا عمل قدرے سست ہو گیا ہے تا ہم ہندوستان بھی آفاقیت کی راہ پر گامزن ہے اور عالمی معیشت میں شامل ہورہا ہے۔ ایک طرف جبکہ بہت سی ملٹی نیشنل کارپوریشن نے اپنی اشیا اور خدمات کی فروخت کے لیے ہندوستانی مارکیٹ میں قدم رکھنے کا بیڑا اٹھایا ہے تو دوسری طرف بہت سی ہندوستانی کمپنیوں نے بھی غیرممالک میں صارفین کو اپنی اشیاء اور خدمات میں مارکیٹ سازی کے لئے ملک سے باہر قدم اٹھایا ہے۔

11.1.2   بین الاقوامی کاروبار کا سبب 

بین الاقوامی کاروبار کے پیچھے بنیادی سبب یہ ہے کہ ممالک اپنی ضرورت کی تمام تر اشیاکو یکساں طور پر بہتر طور پر یا سستے داموں پر پیدا نہیں کرسکتے۔ اس کا اصل سبب ان کے مابین وسائل کی غیر مساوی تقسیم ہے یا پھر ان کی پیداواری سطح کا فرق۔ پیداوار کے مختلف عوامل کی دستیابی جیسے مزدور (Labour) سرمایہ اور خام مال، جن کی مختلف اشیا اور خدمات کی پیداوار میں ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عوامل ملکوں کے مابین مختلف ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ قوموں کے مابین مختلف سماجی ومعاشی، جغرافیائی اور سیاسی اسباب کی بنا پر مزدوروں کی پیداواریت یعنی پیداواری صلاحیت اور پیداواری لاگتیں مختلف ہوتی ہیں۔
ان امتیازات کی بنا پر یہ پتہ لگانا عام بات نہیں ہے کہ ایک خاص ملک ز بہتر معیار کی اشیا تیار کرنے میں زیادہ بہتر ہو/ یا جو دوسری قومیں بناتی ہیں انھیں وہ کم لاگت پر بناسکتا ہو۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کچھ ممالک منتخب اشیا کی پیداوار اور خدمات میں فائدہ مند حالت میں ہوتے ہیں جنھیں دوسرے ممالک اس قدر مہارت وصلاحیت سے تیار نہیں کرسکتے اور اسی طرح اس کے برعکس ہوتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ہر ملک ان مخصوص اشیا اور خدمات کی پیداور کرنا فائدہ مند سمجھتا ہے جنھیں وہ اپنے گھر میں زیادہ مہارت اور صلاحیت سے تیار کرسکتا ہے اور باقی دیگر اشیا کو دوسرے ممالک سے حاصل کرنانفع بخش سمجھتا ہے، جنھیں وہ ممالک کم لاگت پر تیار کرسکتے ہیں۔ صحیح معنی میں یہی سبب ہے کہ ممالک دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کیوں کرتے ہیں اور کاروبار میں لگتے ہیں جسے بین الاقوامی کاروبار کہا جاتا ہے۔
بین الاقوامی کاروبار آج جس طرح موجود ہے وہ بڑی حدتک ان ہی مذکورہ جغرافیائی تخصیص کا نتیجہ ہے۔ بنیادی طور پر ایک ہی ملک کے اندر دو ریاستوں کے مابین گھریلو تجارت بھی اسی سبب سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ایک ہی ملک میں بہت سی ریاستیں یا خطے ان اشیا اور خدمات کی پیداوار میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں جن کے لیے وہ سب سے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر ہندوستان میں اگر مغربی بنگال کوجوٹ کی پیداواری اشیا میں تخصیص حاصل ہے تو ممبئی اور مہاراشٹر کے پڑوسی علاقے سوتی کپڑے (Cotton Textiles) کی پیداوار میں مشغول ہیں۔ علاقائی تقسیم محنت کا یہ اصول بین الاقوامی سطح پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک جہاں مزدور بڑی تعداد میں موجود ہیں، وہ مثال کے طور پر ملبوسات کی پیداوار اور ان کی برآمد میں اختصاص رکھتے ہیں، سرمایہ اور تکنیکی مہارتوں (Technology) کی کمی کے باعث وہ ٹیکسٹائل مشینری ترقی یافتہ ملکوں سے درآمد کرتے ہیں جسے موخرالذکر (برآمد کرنے والے ملک) زیادہ اہلیت ومہارت کے ساتھ تیار کرسکتے ہیں۔
جو کسی قوم کے لیے سچ ہے کم وبیش وہی فرموں کے لئے بھی سچ ہے۔ بین الاقوامی کاروبار میں لگی فرمیں بھی وہ چیزیں درآمد کرتی ہیں جو دوسرے ملکوں میں کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہے اور اپنی اشیا ان دوسرے ممالک کو برآمد کرتی ہیں جہاں سے انھیں اپنی پیداوار کی زیادہ بہتر قیمت ملنے کی امید ہوتی ہے۔ قیمتوں پر غوروخوض کے ساتھ ساتھ، کچھ دوسرے فوائد بھی ہیں جومختلف قومیں اور فرمیں بین الاقوامی کاروبار سے حاصل کرتی ہیں۔ ایک اعتبار سے یہ دوسرے فوائد بھی قوموں اور فرموں میں بین الاقوامی کاروبار کی تحریک پیدا کرتے ہیں۔ اس باب کے اگلے حصوں میں ہم اپنی توجہ ان فوائد پر مرکوز کریں گے جنھیں بین الاقوامی کاروبار میں لگی قومیں اور فرمیں حاصل کرتی ہیں۔

11.1.3   بین الاقوامی کاروبار بمقابلہ گھریلو کاروبار

بین الاقوامی کاروبار چلانا اور اس کا نظم وانتظام کرنا گھریلو کاروبار چلانے کے مقابلہ زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ ملکوں کے مابین سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی ماحول کے اختلافات کی وجہ سے کاروباری فرموں کو اپنے گھریلو کاروبار کی حکمت عملی کو غیر ملکی مارکیٹ میں وسعت دینا مشکل ہوتا ہے۔سمندر پار کے بازاروںمیں وہاں کے متعین نشانے کے مطابق کامیاب ہونے کے لئے انھیں اپنی چیز اس کی قیمت، اس کی ترقی اور تقسیم کی حکمت عملی اور تمام کاروباری منصوبوں کے موزوںوموافق بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ (دیکھئے باکس B)فرموں کوما حولیاتی اختلافات سمجھنے کی ضرورت ہے گھریلو اور بین الاقوامی کاروبار سے متعلق وہ کلیدی پہلو جو ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، انھیں ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
(i) خریداروں اور فروخت کرنے والوں کی قومیت:  کاروباری معاملات میں کلیدی شرکا (یعنی خریدار اور فروخت کرنے والے) کی قومیت گھریلو کاروبار اور بین الاقوامی کاروبار میں مختلف ہوتی ہے۔ گھریلو کاروبار کی صورت میں خریدار اور فروخت کرنے والے دونوں ایک ہی ملک کے ہوتے ہیں۔ اس سے فریقین کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور کاروباری معاملات میں داخل ہونے میں سہولت ہوتی ہے۔ یہ صورت بین الاقوامی کاروبار کے معاملے میں نہیں ہے جہاں خریدار اور فروخت کرنے والے مختلف ممالک کے ہوتے ہیں۔ زبانوں، مزاجوں، سماجی رسموں اور کاروباری مقاصد اور معمولات میں فرق کی وجہ سے ان کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا اور کاروباری سودوں کی تکمیل کرنا نسبتاً زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔

باکس B

فرموں کو ماحولیاتی اختلافات کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ بین الاقوامی کاروبار کو چلانا اور اس کا نظم ونسق کوئی آسان کھیل نہیں ہے ۔یہ ایک دشوار تر کام ہے کیونکہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی ماحول میں بڑے اختلافات ہوتے ہیں اور وہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوتے ہیں۔
کسی شخص کو صرف ان اختلافات سے واقف ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اسے ان کے مارکیٹنگ پروگرام اور کاروباری حکمت عملی کو موزوں وموافق بناکر ان تبدیلیوں کے تئیں حساس اور ہمدردانہ ردعمل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ نہایت کم فی کس آمدنی کی وجہ سے بہت سے ترقی پذیر افریقی اور ایشیائی ممالک میں صارفین، قیمت کے معاملے میں بڑے حساس ہوتے ہیں اور وہ کم قیمتی اشیا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان،امریکہ، کنیڈا، فرانس، جرمنی اور سوئیزرلینڈ کے صارفین (گاہک) ادائیگی کے لیے اپنی زیادہ بہتر اہلیت کے سبب زیادہ معیاری اور زیادہ قیمت والی اشیا کو خصوصیت سے ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے کاروباری احتیاط کا تقاضا ہے کہ ان ممالک میں مارکیٹنگ کی خواہشمند فرمیں ممالک کے درمیان ان اختلافات سے واقف ہوں اور اس کے مطابق حکمت عملی وضع کریں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ان ممالک میں برآمد کرنے کی خواہشمند فرمیں افریقی اور ایشیائی علاقوں/ خطوں میں صارفین کے لیے کم قیمتی اشیا بنائیں۔ اور زیادہ اونچی قیمت کی اشیا کو جاپان اور بیشتر یوروپی اور شمالی امریکہ کے ملکوں کے لیے وضع کریں اور تیار کریں۔

(ii)  دیگر حصہ داروں کی قومیت:  گھریلواور بین الاقوامی کاروباردیگر حصہ داروں جیسے ملازمین، رسد کنندہ، حصص دار/ شرکاء اور عوام کی قومیت کے اعتبارسے بھی، جو کاروباری فرموں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، مختلف ہوتا ہے۔ گھریلو کاروبار کی صورت میں یہ عاملین ایک ہی ملک سے تعلق رکھتے ہیں تو مقابلتاً وہ اپنے اقداری نظام اور برتاؤ میں زیادہ یک رنگی ویکسانیت کی تصویر کشی کرسکتے ہیں۔ بین الاقوامی کاروبار میں فیصلہ لینا بہت زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے کیونکہ متعلقہ کاروباری فرموں کو مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے حصہ داروں (Stakeholders) کے وسیع تر اقداری نظام اور خواہشات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوتا ہے۔
 (iii)  پیداواری عوامل کی نقل پذیری :  مزدوراور سرمایہ کے عوامل کی نقل پذیری کا درجہ عام طور پر اندرونِ ملک کے مقابلہ ممالک کے درمیان کم ہوتا ہے۔ اگرچہ نقل وحرکت کے یہ عوامل اندرون ملک آزادانہ طور پر حرکت پذیر ہوسکتے ہیں لیکن مختلف قوموں کے درمیان ان کی نقل وحرکت پرمختلف پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ قانونی پابندیوں کے علاوہ سماجی، ثقافتی ماحول میں اختلافات، جغرافیائی اثرات،اور معاشی حالات بھی بڑی حد تک ممالک کے درمیان نقل وحرکت میں سد راہ ہوتے ہیں۔ یہ بالخصوص مزدوروں (Labour)کے معاملہ میں صحیح ہے جنھیں آب و ہوا، معاشی اور سماجی وثقافتی حالات میں اپنے لیے مطابقت پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے۔
(iv)   مارکیٹوں کے درمیان گاہکوں کی رنگا رنگی:  بین الاقوامی بازاروں میں خریدار کیونکہ مختلف ممالک کے باشندے ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے سماجی وثقافتی پس منظر کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے ذوق، فیشن، زبانیں، عقیدے اور رسوم، مزاج اور پیداواری ترجیحات میں فرق نہ صرف مختلف اشیا اور خدمات کے معاملہ میں ان کی مانگ میں فرق کا موجب ہوتا ہے بلکہ ان کی مواصلات کے ذرائع اور خریداری کے برتاؤ میں بھی مختلف ہوتا ہے یہ واضح طور پر سماجی ثقافتی عدم موافقت ہی کی وجہ سے کہ اگر چین کے لوگ بائیسکل کو ترجیح دیتے ہیں تو جاپانی اس کے برعکس موٹر سائیکل (Bike) پر سوار ہونا پسند کرتے ہیں، اسی طرح اگر ہندوستان میں لوگ سیدھے ہاتھ کی طرف سے چلائی جانے والی کاریں استعمال کرتے ہیں تو اس کے برعکس امریکی کاروں میں بریک اور اسٹیرنگ وغیرہ بائیں طرف لگے ہوتے ہیں۔ مزید برآں جب کہ امریکہ (United States) کے لوگ اپنے ٹی۔وی اورموٹرسا ئیکلوں اور دیگرپائیداراشیا صرف کے جزوں کو بہت جلدی جلدی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ( ان کی خریداری سے دو تین سال کے اندر اندر) ہندوستانی اکثر ایسی تبدیلیاں نہیں کرتے جب تک کہ ان کے پاس موجود اشیاء مکمل طور پر تارتار نہ ہوجائیں۔
یہ اختلافات بڑی حد تک اشیا کے وضع کرنے کے کام میں اور مختلف ممالک کے گاہکوں کے لئے اختیار کی گئی حکمت عملی میں دقتیں پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ کسی حد تک اندرون ملک کے گاہک بھی اندرون ملک اپنے ذوق اور ترجیحات میں مختلف ہوتے ہیں، یہ اختلافات مزید چونکا دینے والے ہوجاتے ہیں جب ہم قوموں کے ما بین گاہکوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔
(v) کاروباری نظام اور اس کے چلانے کے طریقوں میں اختلافات:اندرونِ ملک کے مقابلے ممالک کے درمیان کاروباری نظام اور اس کے چلانے میں اختلافات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں، ممالک اپنی سماجی، معاشی ترقی، دستیابی، معاشی ضروریات زندگی اور مارکیٹ معاون خدمات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان تمام اختلافات کی وجہ سے ضروری ہوجاتا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں داخل ہونے کی خواہش مند فرمیں اپنی اشیا، مالیات، انسانی وسائل اور مارکیٹنگ کو بین الاقوامی مارکٹوں میں مروج شرائط کے مطابق موزوں و مطابق بنائیں۔
(vi)  سیاسی نظام اور خطرات: حکومت کی شکل/ قسم، سیاسی جماعتی نظام، سیاسی نظریات اور سیاسی خطرات وغیرہ کچھ ایسے سیاسی عوامل ہیں جن کا کاروباری معاملات پرزبردست اثر پڑتا ہے، ایک کاروباری شخص اپنے ملک کے سیاسی ماحول سے پوری طرح واقف ہونے کی وجہ سے اسے اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اور کاروباری معاملات پر اس کے متوقع اثرات کی پیش بینی کرسکتا ہے، لیکن بین الاقوامی کاروبار کے معاملہ میں ایسا نہیں ہے۔ سیاسی ماحول ملک بہ ملک مختلف ہوتا ہے اس کے لیے تو مختلف سیاسی ماحول اور کاروبار پر پڑنے والے ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے کوشش درکار ہوتی ہیں۔ کیونکہ سیاسی ماحول مستقل بدلتا رہتا ہے اس لیے ایک شخص کو متعلقہ ممالک میں دن بدن رونما ہونے والی، سیاسی تبدیلیوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور مخالف سیاسی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینی ہوتی ہے۔
غیر ممالک کے سیاسی ماحول کے تعلق سے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قومیں اپنے مابین یہ رجحان رکھتی ہیں کہ دوسرے ممالک سے آنے والی اشیاء وخدمات کے مقابلہ اپنے ملک کی اشیا وخدمات کی طرفداری کی جائے۔ گھریلو کاروباری فرموں کے ضمن میں ایسا نہیں ہے لیکن دیگر قوموں کے لیے اپنی اشیاو خدمات کی برآمد یا سمندر پار بازاروں میں اپنے پلانٹ لگانے میں ایک نہایت مشکل مسئلہ بن جاتا ہے۔
(vii)  کاروباری قوانین اور پالیسیاں:  سماجی معاشی ماحول اور سیاسی فلسفہ سے جڑا ہونے کی وجہ سے ہر ملک کاروبار سے متعلق نے اپنے علیحدہ اصول وقوانین وضع کرتاہے اگرچہ اندرون ملک یہ اصول وقوانین اور معاشی پالیسیاں کم وبیش یکساں ہوتی ہیں لیکن قوموں کے درمیان ان میں وسیع اختلافات ہوتا ہے، محصولاتی پالیسیاں، درآمدی کوٹا یعنی مقررہ مقدار کا نظام اعانتیں اور دیگر کنٹرول جو کوئی ملک اختیار کرتا ہے ، دوسرے ممالک میں قطعاً اس طرح کے نہیں ہوتے ، اور اکثر غیر ملکی اشیاء خدمات اور سرمایہ میں تفریق کرتے ہیں اور امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔
(viii)  کاروباری سودوں میں استعمال ہونے والی کرنسی: گھریلو اور بین الاقوامی کاروبار میں دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ موخرالذکر (بین الاقوامی) مختلف ممالک کی کرنسیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ کیونکہ شرح زرمبادلہ یعنی ایک ملک کی کرنسی کی مقررہ قیمت دوسرے ملک کی کرنسی کی مقررہ قیمت کے تعلق سے مستقل گھٹتی بڑھتی رہتی ہے یا اس لیے اپنی اشیاء کی قیمت مقرر کرنے میں بین الاقوامی فرموں کے مسائل بڑھ جاتے ہیں اور وہ غیر ملکی زرمبادلہ کے خطرات سے بچنے کے لیے اپنا تحفظ کرتے ہیں۔

11.1.4   بین الاقوامی کاروبار کا دائرۂ کار

جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی کاروبار بین الاقوامی تجارت سے وسیع تر ہے۔ اس میں نہ صرف بین الاقوامی تجارت (اشیاء وخدمات کی برآمد درآمد) بلکہ دیگر ذرائع بھی شامل ہوتے ہیں جن میں فرمیں بین الاقوامی سطح پر کام کرتی ہیں۔
بین الاقوامی کاروبار کا یقین کرنے والے کچھ خاص کاروباری معاملات درجہ ذیل ہیں:
(i) کاروباری مال کی برآمدات ودرآمدات:  کاروباری مال (Meschandise) کا مطلب ہے وہ اشیاء جو مرئی یا نظر آنے والی ہیں۔ یعنی وہ اشیا جنھیں دیکھا اور چھوا جاسکتا ہے۔ جب اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ اگر کاروباری مال کی برآمدات کا مفہوم مرئی اشیاکو ملک سے باہر (Abroad) بھیجنا ہے تو کاروباری مال کی درآمدات کا مفہوم ہے مرئی اشیاکو کسی غیر ملک سے اپنے ملک میں منگانا۔ کاروباری مال کی برآمدات درآمدات کو اشیاکی تجارت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اوراس میں صرف مرئی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ خدمات کی تجارت کو اس سے علیحدہ رکھا جاتا ہے۔
(ii)  خدمات  برآمدات ودرآمدات : خدماتی برآمدات و درآمدات میں غیر مرئی اشیاء کی تجارت شامل ہے خدمات کے غیر مرئی پہلو کی وجہ سے خدمات کی تجارت کو نظر نہ آنے والی تجارت بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر نہایت مختلف النوع قسم کی خدمات کی تجارت کی جاتی ہے اور ان میں شامل ہیں: سیاحت وسفر قیام وطعام سے متعلق (ہوٹل اور ریسٹورینٹ) تفریح گاہیں ، ذرائع نقل وحمل، پیشہ ورانہ خدمات (جیسے تربیت، تقرر، صلاح مشورہ اور تحقیق مواصلات (ڈاک، ٹیلیفون، فیکس، کوریئر اور دیگر بصری خدمات) تعمیر اور انجینئرنگ،مارکیٹنگ (جیسے تھوک بیوپار، پھٹکر بیوپار) تشہیری خدمات (مارکیٹنگ تحقیق اور گودام) تعلیمی اور مالیاتی خدمات (جیسے بینک کاری اور انشورنش) ان میں سے سیروسیاحت، ٹرانسپورٹیشن اور کاروبار سے متعلق خدمات، خدمات کی تجارت میں عالمی تجارت کا بڑا حصہ ہیں۔
جدول11.1:    گھریلو اور بین الاقوامی کاروبار میںخاص فرق

  بین الاقوامی کاروبار

بین الاقوامی کاروباری سودوں میں مختلف ملکوں کی قومیت والے لوگ یا تنظیمیں حصہ لیتی ہیں۔
 گھریلو کاروبار 

ملکی کاروباری سودوں میں کسی ایک ملک کے لوگ یا تنظیمیں حصہ لیتی ہیں۔
 بنیاد

 1.خریداروں اور فروخت
 کرنےوالوں کی قومیت  
مختلف دیگر حصہ دار جیسے سپلائرس، ملازمین، بچولیے، حصص دار اور شرکا مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔    مختلف دیگر حصہ دار جیسے مال رساں (سپلائرس)، ملازمین، بچولیے، حصص دار اور شر کا عام طور پر ایک ہی ملک کے شہری ہوتے ہیں۔
 2. دیگر حصہ داروں کی
 قومیت 
   پیداواری عوامل کی نقل وحرکت کا درجہ جیسے محنت اور سرمایہ قوموں کے درمیان نسبتاً کم ہی ہوتا ہے۔  پیداواری عوامل کی نقل وحرکت کا درجہ جیسے محنت اور سرمایہ قریب قریب زیادہ تر اندرون ملک ہی ہوتا ہے۔           3. پیداواری عوامل کی نقل وحرکت 
  بین الاقوامی بازاروں میں یک رنگی کم ہوتی ہے کیونکہ مارکٹوں کے درمیان زبان، ترجیحات، رسوم وغیرہ مختلف ہوتی ہیں۔   گھریلو بازاروں کی نوعیت نسبتاً زیادہ یک رنگ ہوتی ہے۔  4.  بازار میں گاہکوں کی رنگا رنگی
 ممالک میں کاروباری نظام اور اس کا چلانا قطعی طور پر مختلف ہوتا ہے۔   اندرون ملک کاروباری نظام اور اس کا چلانا نسبتاً زیادہ یک رنگ ہوتا ہے۔  5.  کاروباری نظام اور عملی طریقوں میں فرق
مختلف ممالک کا سیاسی نظام بھی دوسروں سے مختلف ہوتا ہے اور نقصانات کے درجے بھی مختلف ہوتے ہیں جو اکثر بین الاقوامی کاروبار میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔  گھریلو کاروبار کسی ملک کے سیاسی نظام اور خطرات کے مطابق ہوتا ہے۔             6.    سیاسی نظام اور خطرات
      بین الاقوامی کاروباری سودے مختلف ممالک کے اصول وقوانین اور پالیسیوں، محصولات اور کوٹہ وغیرہ کے مطابق ہوتا ہے۔  گھریلو کاروبار کسی ملک کے اصول وقوانین اور پالیسیوں، محصولاتی نظام وغیرہ کے مطابق ہوتا ہے۔  7.   کاروباری ضوابط اور پالیسیاں 
بین الاقوامی کاروباری سودے ایک سے زیادہ ممالک کی کرنسیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔  گھریلو ملک کی کرنسی کا استعمال ہوتا ہے۔ 
8.  کاروباری سودوں میں استعمال ہونے والی کرنسی

(iii)  لائسنس جاری کرنا:  غیر ملک میں کچھ فیس کے بدلے آپ کے اپنے تجارتی مار کے یا مخصوص نشان (Trade Marks) حق اجارہ داری اور حق اشاعت کے ساتھ اشیا اور ان کی فروخت کے لیے دوسرے فریق کو اجازت دینا بین الاقوامی کاروبار میں داخلے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ یہ اجازت لائسنس کے نظام کے ہی تحت ہے کہ اور غیر ممالک میں مقامی بوتلوں کے ذریعہ دنیا بھر میں بنائی اور فروخت کی جاتی ہیں۔ رعایت دینا بھی اجازت دینے کی طرح ہے لیکن یہ اصطلاح خدمات کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جو دنیا بھر میں رعایتی نظام کے تحت چلاتے ہیں۔
(iv)  غیر ملکی سرمایہ کاری:  غیر ملکی سرمایہ کاری غیر ملکی کاروبار کی دوسری اہم شکل ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں مالیاتی حصول کے بدلے میں ملک سے باہر مالیات (Funds) کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری دو طرح کی ہوسکتی ہے بلاواسطہ اور بالواسطہ ۔
براہ راست سرمایہ کاری اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کمپنی براہ راست اثاثہ جات جیسے پلانٹ اور مشینری میں غیر ممالک میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اس خیال سے کہ وہ ان ممالک میں اشیا اور خدمات کی پیداوار اور مارکیٹنگ کرے گی۔ براہ راست سرمایہ کاری، سرمایہ کار کو غیر ملکی کمپنی کے کنٹرول کا حق فراہم کرتی ہے۔  اسے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی کہا جاتا ہے، جیسے جب پیداوار اور مارکیٹنگ سہولتوں میں سرمایہ کاری  کسی ایک یا ایک سے زائد غیر ملکی فریقین کے ساتھ مشترکہ طور پر کی جاتی ہے اسے مشترکہ کاروباری سرگرمی یا پی پی پی کہا جاتا ہے۔ چاہے تو غیر ممالک کی اپنی کاروباری سرگرمیوں میں سو فیصد سرمایہ کاری کرکے ملک سے باہر مکمل طور پر نجی معاون کمپنی قائم کرسکتی ہے اور اس طرح وہ غیر ملکی مارکیٹ میں معاون کاموں پر مکمل کنٹرول حاصل کرسکتی ہے۔ دوسری طرف ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو ایک کمپنی کسی دوسری کمپنی کے ساتھ اس کے حصص حاصل کرکے یا مؤخرالذکر کو قرضے فراہم کرکے کرتی ہے یا قرضوں پر سود کے ذریعہ آمدنی حاصل کرتی ہے۔ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے برعکس پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں سرمایہ کار پیداوار اور مارکیٹنگ کے کاموں میں براہ راست شامل نہیں ہوتا۔ وہ غیر ممالک میں صرف حصص بانڈوں بلوں (Bills) یا نوٹس میں سرمایہ کاری کے ذریعہ یا غیر ملکی کاروباری فرموں کو قرضے فراہم کرکے آمدنی حاصل کرتا ہے۔

باکسC

سیر وسیاحت،نقل وحمل اورکاروباری خدمات،بین الاقوامی تجارتی خدمات پر غالب ہوتے ہیں 

سیروسیاحت اورنقل وحمل :بین الاقوامی سطح پر خدمات کی تجارت میں ایک بڑے اور اہم جزو کے طور پر ابھری ہیں۔زیادہ تر ائرلائنز، جہازرانی کمپنیاں،ٹریول ایجنسیاںاور ہوٹل اپنی آمدنیوں کا بڑا حصہ اپنے سمندر پارکے گاہکوںاور باہر کے ملکوں میں اپنی سرگرمیوں سے حاصل کرتے ہیں ۔متعدد ممالک بیرونی زرمبادلہ کی کمائی اور روزگار کے لیے اپنی خدمات پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان بیرونی زرمبادلہ کی کافی بڑی مقدار برآمدات اور سیروسیاحت سے متعلق خدمات سے حاصل کرتا ہے۔
کاروباری خدمات:  جب کوئی ملک کسی دوسرے ملک کو خدمات مہیاکرتا ہے اور اس سے غیر ملکی زرمبادلہ کماتا ہے تو اسے بھی بین الاقوامی تجارت ہی کی ایک شکل سمجھا جاتا ہے۔بینک کاری،بیمہ،کرائے،انجینئری اورانتظامی خدمات ہمارے ملک کی زرمبادلہ کی کمائیوں کا ایک حصہ ہیں۔بیرونی ممالک میں تعمیری پروجیکٹوں کا کام ہاتھ میں لینا بھی برآمداتی کاروبار ی خدمات کی ایک مثال ہے۔اس طرح کی خدمات کی دیگر مثالوں میں سمندر پار انتظامی معاہدے،جن میں ایک ملک کی کوئی کمپنی کسی دوسرے ملک کی کمپنی کی کوعمومی یاخصوصی نوعیت کے انتظامی امور انجام دینے کے لیے دوسرے ملک کی جگہ پر سہولت مہیا کرتی ہے،شامل ہیں۔

11.1.5   بین الاقوامی کاروبار کے فوائد

باوجود، نہایت پیچیدگیوں اور خطرات کے بین الاقوامی کاروبار قوموں اور کاروباری فرموں دونوں کے لیے اہم ہوتا ہے۔ اس سے انھیں بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، عرصہ دراز سے ان فوائد کا بڑھتا حصول واقعتا قوموں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں ایک معاون عنصر رہا ہے، جس کے نتیجہ میں عالمی تجارت (Globalisation) کا نظریہ سامنے آیا۔ قوموں اور کاروباری فرموں کے لیے بین الاقوامی کاروبار کے کچھ فوائد ذیل میں بیان کئے گئے ہیں۔

ممالک کے لیے فوائد 

(i)   غیر ملکی زرمبادلہ کا حصول :  بین الاقوامی کاروبار کسی ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول میں مدد کرتا ہے، جسے وہ اپنی اشیا اصل یا بڑے سامان،تکنیکی مہارتوں (Technology) پٹرولیم کی مصنوعات اورکیمیائی کھاد، دواسازی اشیا اوربہت سی دیگر اشیاء صرف کی درآمدات کی ادائیگی کے لیے کام میں لاسکتا ہے، جوبصورت دیگر گھریلو طور پردستیاب نہیں ہوسکتیں۔
(ii)  وسائل کا زیادہ کارگر اور بھرپور استحصال :  جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا بین الاقوامی کاروبار ایک سادہ اصول پر چلتا ہے۔ یہ کہ پیدا کرو/ بناؤ جو تمہارا ملک زیادہ ہنرمندانہ طور پر پیدا کرسکتا ہے/بناسکتا ہے اور اس طرح سے پیدا کردہ فاضل پیداوار کی دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرواور وہاں سے وہ سامان حاصل کرو جسے وہ زیادہ ہنرمندی سے پیدا کرتے ہیں جب ممالک اس اصول پر کاروبار کرتے ہیں تو وہ جس قدر پیداوار کرسکتے ہیں بالآخر اس سے کہیں زیادہ پیداوار کرلیتے ہیںا ور ملک تمام چیزیں اور خدمات خود پیدا کرنے کی کوشش کرتاہے۔ اگر اشیاء وخدمات کا ایسا بڑا سرمایہ (Enhansed Pool) قوموں کے مابین منصفانہ طور پر تقسیم ہوجاتا ہے تو اس سے تمام تجارتی قوموں کو فائدہ پہنچتا ہے
(iii)  فروغ کے مواقع اور روزگار کے امکانات بڑھانا: صرف گھریلو استعمال کے مقصد سے پیداوار کرنے سے کسی ملک کی ترقی اور روزگار کے مواقع بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ بہت سے ممالک بالخصوص ترقی پذیر ملک زیادہ بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے کے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہناسکتے کہ لوگوں کے لیے روزگار پیدا ہوتاکیونکہ ان کا گھریلو مارکیٹ اتنا بڑا نہیں تھا جس میں وہ تمام زائد پیداوار سماسکے۔ بعد مین کچھ ملکوں نے جیسے سنگاپور جنوبی کوریا اور چائنا غیر ممالک میں اپنی پیداوار کے لیے مارکیٹ دیکھی، اس حکمت عملی پر عمل کیا کہ ’’برآمد کرو اور خوشحال بنو‘‘ اور جلد ہی وہ دنیا کے نقشہ پرنمایاں اور اہم کارگذار بن گئے۔ اس طریقہ نے نہ صرف ان کی ترقی کے مواقع کی بہتری میں مدد کی بلکہ ساتھ ہی ان ملکوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے۔
(iv)  معیار زندگی میں اضافہ:  اشیا اور خدمات کی بین الاقوامی تجارت کی عدم موجودگی میں عالمی برادری کے لئے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ دوسرے ممالک میں پیدا کی گئی اشیااور خدمات کو استعمال میں لاسکیں تاکہ ان ممالک کے لوگ انھیں استعمال کرسکیں اور بہتر معیار زندگی کا لطف لے سکیں۔

 فرموں کے لیے فوائد

(i)  زیادہ منافع کے مواقع :  بین الاقوامی کاروبار گھریلو کاروبار کے مقابلہ زیادہ منافع بخش ہوسکتا ہے جب گھریلو قیمتیں کچھ کم ہوتی ہیں تو کاروباری فرمیں اپنی اشیا/ پیداوار کو ان ممالک میں فروخت کرکے زیادہ منافع کماسکتی ہیں جہاں ان کی قیمت زیادہ ہو۔
(ii)  افادی صلاحیت میں اضافہ:  بہت سی فرمیں پیداواری صلاحیت کو اس طرح طے کرتی ہیں جو گھریلو مارکیٹ میں ان کی اشیا کی مانگ سے بالکل زائد ہوتی ہیں، سمندر پار توسیعی منصوبہ بندی کے ذریعہ اور غیر ملکی گاہکوں سے آرڈر حاصل کرکے وہ اپنی زائد پیداوری صلاحیت کے استعمال کے بارے میں سوچ سکتی ہیں نیز اپنے کام سے منافع کو بڑھاسکتی ہیں، بڑے پیمانے پر پیداوار اکثر کفایتی پیمانے تک لے جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں پیداوری لاگت کم ہوجاتی ہے اور منافع کی حد فی اکائی بڑھ جاتی ہے۔
(iii)  ترقی کے مواقع :  کاروباری فرموں کے لئے یہ بڑی محرومی یا ناکامی کی بات ہوتی ہے، جب ان کی اشیاکی مانگ گھریلو مارکیٹ میں ٹھہر جاتی ہے۔ ایسی فرمیں سمندر پار مارکیٹ (Overseas Markets) میں غوطہ زنی کرکے اپنی پیداور کے مواقع کو خاطر خواہ بہتر بناسکتی ہیں۔ جی ہاں! ایسا ہی ہے۔ جس نے ترقی یافتہ ممالک سے بہت سی کثیر ملکی فرموں کو ترقی پذیر ممالک کی مارکیٹوں میں داخل کرکے آگے بڑھایا ہے۔ جب ان کے اپنے گھریلو ملکوں میں ان کی اشیاء کی مانگ تقریباً ٹھہر گئی تو انھیں پتہ چلا کہ ان کی اشیا ترقی پذیرملکوں میں مرغوب وپسندیدہ ہیں اور وہاں ان کی مانگ بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
(iv) گھریلو مارکیٹ میں شدید مقابلہ کاحل: جب گھریلو مارکیٹ میں مقابلہ بہت شدید ہوتا ہے تو صرف بین الاقوامی عمل ہی قابل لحاظ فروغ حاصل کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ گھریلو مارکیٹ میں شدید مقابلے نے بہت سی کمپنیوں کو اپنی اشیا کی مارکیٹ کی تلاش میں بین الاقوامی بازار میں لاکھڑا کیا ہے۔ بین الاقوامی کاروبار، اس طرح گھریلو مارکیٹ کے سخت حالات کی وجہ سے گھریلو مارکیٹ سے اکھاڑ دی گئی فرموں کو ترقی کی راہ پر لانے کا موجب ہوتا ہے۔
(v)  کاروبارکا بہتر زاویہ نگاہ :  بہت سی کمپنیوں کے بین الاقوامی کاروبار کی ترقی دراصل ان کی کاروباری پالیسیوں یا مدبرانہ نظام کا حصہ ہوتی ہے، بین الاقوامی بننے کی نظر ترقی کرنے کے شوق، مزید مقابلہ کرنے کی ضرورت، تنوع وگوناگونی کی ضرورت اور بین الاقومی عمل کے فوائد کو حاصل کرنے کے احساس سے آتی ہے۔

11.2   بین الاقوامی کاروبار میں داخلے کے طور طریقے

سادہ بول چال میں طور طریق (Modes) کی اصطلاح کے معنی ہیں طریقہ یا راستہ، اس لیے بین الاقوامی کاروبار میں داخلے کے طریقے فقرہ کا مفہوم ہے وہ مختلف طور طریق جن کے ذریعہ ایک کمپنی بین الاقوامی کاروبار میں داخل ہوسکتی ہے۔ بین الاقوامی کاروبار کے مفہوم اور دائرۂ عمل سے ہم آپ کو واقف کراچکے ہیں۔ درج ذیل حصوں میں ہم بین الاقوامی کاروبار میں داخلے کے اہم طور وطریق پر ان کے فوائد اور نقصانات کے ساتھ بحث کریں گے۔ اس بحث سے آپ یہ جاننے کے قابل ہوسکیں گے کہ کون سا طریقہ کن حالات میں زیادہ مناسب و موزوں ہے۔

 11.2.1   برآمد کاری اور درآمد کاری

برآمدکاری (Exporting) سے مراد دہے اشیا اور خدمات کو گھریلو ملک سے غیر ملک میں بھیجنا۔ ٹھیک اسی طرح درآمد کاری (Importing) سے مراد ہے غیر ملکی اشیا خدمات کی خریداری اور انھیں گھریلو ملک میں لانا۔ کسی فرم کے لئے اشیا کی برآمد ودرآمد کے دو اہم طریقے ہیں بلاواسطہ (براہ راست) Direct اور بلواسطہ (Indirect)۔ برآمد کاری/ درآمد کاری براہ راست برآمدکاری براہ راست درآمدکاری کی صورت میں ایک فرم سمندر پار خریدار/ سپلائر تک بذات خود پہنچتی ہے اور برآمد کاری ان کارروائیوں میں اشیا کو جہاز پر لدوانے (Shipment) اور اشیا وخدمات کے لیے مالیات فراہم کرنے کی کارروائیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
دوسری طرف بلواسطہ برآمد کاری/ درآمد کاری وہ ہے جہاں برآمد/ درآمد کے کاموں میں فرم کی شرکت کم سے کم ہوتی ہے اور اشیا برآمد درآمد سے متعلق بیشتر کام بچولیوں یادلالوں کے ذریعہ انجام دیئے جاتے ہیں، جیسے برآمداتی گھرانوں یا سمندر پار گاہکوں کے خریداری دفتر جو گھریلو ملک میں واقع ہوتے ہیں، یا درآمدی کاموں کی صورت میں تھوک درآمد کرنے والوں کے ذریعہ۔ ایسی فرمیں برآمدات کی صورت میں سمندر پار گاہکوں سے اور درآمدات کی صورت میں سپلائر/رسد کنندگان (Suppliers) سے براہ راست رابطہ نہیں قائم کرتیں۔

فوائد

 برآمد کاری کے خاص فوائد میں شامل ہیں:
     • دیگر ذرائع کے مقابلہ برآمدکاری/ درآمد کاری،بین الاقوامی مارکٹوں میں داخلہ حاصل کرنے کا سب سے زیادہ آسان راستہ ہے۔ مشترکہ کاروباری سرگرمی (Joint Stock Ventures) یا بیرون ملک خالصتاً نجی معاون فرموں کے انتظام کے مقابلہ یہ ایک کم پیچیدہ سرگرمی ہے۔
     • برآمدکاری / درآمدکاری اس اعتبار سے کم ملوثی ہوتی ہے کیونکہ کاروباری فرموں کو اس قدر وقت اور رقم صرف کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، جتنی کہ اس وقت ہوتی ہے جب وہ مشترکہ کاروباری سرگرمی (Joint Venture) میں داخل ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں یا میزبان ملکوں میں مصنوعاتی پلانٹ (Manufacturing Plant)  لگاتے اور سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
برآمد کاری/ درآمد کاری کو کیونکہ غیر ممالک میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضررت نہیں پڑتی، اس لیے غیر ملکی سرمایہ کاری میں خطرات کا ہونا بالکل نہیں کے برابر ہے یا بہت کم ہے، اس کے مقابلہ کہ جب فرم بین الاقوامی کاروبار میں داخلے کے دوسرے طور طریق کو اختیار کرتی ہے۔
حدود
 بین الاقوامی کاروبار میں داخلے کے ایک طریقے کی حیثیت سے برآمد کاری/ درآمد کاری کے نمایاں نقصانات درج ذیل ہیں۔
     • چونکہ اشیا ظاہری طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچتی ہیں اس لیے برآمدکاری/ درآمد کاری میں پیکیجنگ ذرائع نقل و حمل (Tarnsporation) اور بیمہ لاگت کا اضافہ شامل ہوتا ہے۔ خاص طور پر وزنی قسم کے مال (Items)کی صورت میں تنہا ٹرانسپورٹ لاگت ان کی برآمد/ درآمد کے لئے ایک رکاوٹ ڈالنے والا عنصر بن جاتا ہے۔ غیر ممالک کے ساحلوں پر (Shores) پر پہنچنے کے بعد یہ اشیا بڑی حد تک کسٹم ڈیوٹیوں اور مختلف قسم کے دیگر محصولات اور اخراجات (Charges) کی پابند ہوتی ہیں۔ ان تمام اخراجات اور ادائیگیوں کی وجہ سے اشیا کی لاگت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور اس لیے وہ کم مقابلہ کرپاتی ہیں۔
  • جب کسی ملک میں درآمدی پابندیاں عائد ہوں تو برآمد کاری کا عمل مفید اور قابل عمل نہیں ہوتا۔ اس قسم کی صورت حال میں فرموں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ وہ داخلے کے دوسرے طور طریق اختیار کریں جیسے لائسینس حاصل کرنا (Licensing) حق ملکیت واجارہ داری (Transchesing) یا مشترکہ کاروباری سرگرمی (Joint Venture)۔ اس سے غیر ممالک میں اس کی پیداواری اور مقامی طور پر مارکیٹ میں لانے کے ذریعہ اشیاء کی فراہمی ممکن ہوپاتی ہے۔
    • غیر ملکی فرمیں بنیادی طور پر اپنے گھریلو ملکوں سے کام  چلاتی ہیں۔ وہ گھریلو ملک میں اشیاء بناتی ہیں اور پھر غیر ممالک کے لیے اشیا کوبھیجنے کا اہتمام کرتی ہیں۔ غیرممالک میں اپنی اشیا کو فروغ دینے کے لیے برآمدی فرموں کے اعلیٰ عہدیداروں (Executives) کے ذریعہ کی گئی چند Visits (سفروں) کے علاوہ برآمدی فرموں کے پاس غیر ممالک میں مارکیٹ میں عام طور پر زیادہ ٹھیکے (Contracts) نہیں ہوتے۔ اس سے برآمدی فرمیں نقصان میں رہتی ہیں۔ اسی طرح مقامی   فر موں کا معاملہ ہے جو گاہکوں کے بہت قریب ہوتی ہیں اور ان کی خدمت کرتی ہیں۔
مذکورہ بالا نقصانات کے باوجود برآمد کاری/ درآمدکاری کاروباری فرموں کے لے سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ وہ واقعی بین الاقوامی کاروبار میں شامل ہوں۔ بالکل اسی طرح یہ معاملہ ہے کہ فرمیں اپنے سمندر پار کے کاموں کو برآمد یا درآمد کے ساتھ شروع کرتی ہیں اور غیر ملکی مارکیٹ میں درآمد کے فوائد سے واقف ہونے کے بعد بین الاقوامی کاروباری کاموں کی دوسری شکلوں کی طرف مڑتی ہیں۔

11.2.2   ٹھیکہ پر مصنوعات سازی

ٹھیکہ (Contract Manufacturing) پر سامان تیار کرنے سے مراد ہے بین الاقوامی کاروبار کی وہ قسم جہاں غیر ممالک میں ایک فرم دوسری کسی فرم یاچند مقامی صنعت کاروں (Manufacturers) کے ساتھ داخل ہوتی ہے جس کا مقصد کچھ خاص اجراء (Components) یا تیار کی گئی اشیا کو اس کی تفصیلات کے مطابق حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ٹھیکہ سازی کو باہری ذریعہ سازی (Ourtsourcing) بھی کہا جاتا ہے اس کی تین خاص شکلیں ہیں۔
    • کچھ پرزوں کی تیاری جیسے آٹو موبائل کے پرزے یا جوتوں کے (Uppers) جنھیں بعد میں استعمال کرکے کسی شے کو آخری شکل دی جا سکے جیسے کاریں اور جوتے۔ 
   • پرزوں کو اشیا کی آخری شکل میں جوڑنا جیسے کمپیوٹر میں Glopydisk Mother Board Diskdrive اور Modernchip وغیرہ۔
    • کسی چیز کی مکمل صنعت سازی جیسے ملبوسات۔
مقامی صنعت کار اشیاکو بنانے یا ان کے حصوں کو جوڑنے کا کام غیر ملکی کمپنی کی تکنیکی اور انتظامی رہنمائی کے مطابق کرتے ہیں۔ مقامی صنعت کاروں کی اس طرح بنائی گئی یا تیار کی گئی اشیا کو انھیں اس کی تکمیلی شے میں استعمال کے لئے بین الاقوامی فرم کے پاس بھیج دیا جاتا ہے یا پھر قطعی طور پر انھیں بین الاقوامی فرم کے ذریعہ اس کے تجارتی مار کہ (Brand Names) کے تحت مختلف ممالک بشمول گھریلو ملک، میزبان اور دیگرممالک میں ایک مکمل تیار شدہ شے میں فروخت کر دیا جاتاہے۔ تمام خاص خاص بین الاقوامی کمپنیاں جیسے اور آج اپنی اشیا یا ان کے پرزوں / حصوں کو ٹھیکہ سازی، صناعی کے تحت ترقی پذیر ممالک میں تیار کراتی ہیں۔

فوائد

ٹھیکہ کی صنعت کاری کے غیر ممالک میں بین الاقوامی کمپنی اور مقامی اشیاء سازوں دونوں کے لیے بہت سے فوائد ہیں۔
     • ٹھیکہ کی صنعت کاری میں بین الاقوامی فرموں کونہ صرف بغیر سرمایہ کاری کے ضرورت کی اشیاء کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کی اجازت دیتی ہے بلکہ یہ فرمیں غیر ممالک میں پہلے سے موجود پیداواری سہولتوں کا بھی استعمال کرپاتی ہیں۔
     • چونکہ غیر ممالک میں بغیر سرمایہ کاری یا مختصر سرمایہ کاری سے کام چل جاتا ہے اس لیے غیر ممالک میں بھی نقصانات/ خطرات سے متعلق بمشکل تمام ہی کوئی سرمایہ کاری کرنی ہوتی ہے۔
   • ٹھیکہ کی صنعت کاری سے بین الاقوامی کمپنی کو یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کم لاگت پر اشیا سازی یا انھیں جوڑنے کا کام(Assenbling)کرسکتے ہیں، بالخصوص اگر مقامی اشیا ساز/ صنعت کاروں کا تعلق ایسے ممالک سے ہو جہاں خام مال اور مزدور کم قیمت پر دستیاب ہوں۔
    • مقامی اشیا ساز بھی غیر ممالک میں ٹھیکہ کی صنعت سازی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اگر ان کی پیداواری صلاحیت سست ہو تو ٹھیکہ کی بنیاد پر صنعت کاری کے کام حاصل کرکے وہ اپنی اشیا کے لیے مارکیٹ فراہم کرتے ہیں اور اپنی پیداواری صلاحیتوں کے زیادہ بڑے استعمال کو یقینی بناسکتے ہیں۔ ٹھیکہ کی صنعت کاری کی ہی بدولت ہے کہ ہندوستان میں Godreg Group اس سے فائدہ ٹھا رہا ہے۔ اس ٹھیکہ کے تحت بہت سی کثیر قومی کمپنیوں کے لیے صابن بنانے کا کام کر رہا ہے۔ ان میں شامل ہے ڈیٹول صابن (Dettol Soap) جو وہ اور کے لیے تیار کرتا ہے، جس نے اسے صابن بنانے کی زائد صلاحیت کو استعمال میں لانے میں مدد دی ہے۔
     • مقامی صنعت کار بھی بین الاقوامی کاروبار میں شامل ہونے کا موقع اور مراعات حاصل کرتا ہے، اگر وہ موجود ہیں اور جو برآمد کرنے والی فرموں کو دی گئی ہیں۔ اس صورت میں کہ اگر بین الاقوامی فرم چاہے کہ ان کی تیار کردہ اشیاکو اپنے گھریلو ملک یا دوسرے غیر ممالک بھیجا جائے۔
حدود 
 غیر ممالک میں بین الاقوامی فرم اور مقامی اشیا ساز کے لیے ٹھیکہ کی اشیا سازی کے نمایاں نقصانات درج ذیل ہیں:
     • مقامی فرمیں ممکن ہے کہ پیداوار، ڈیزائن اور کوالٹی معیارات کی پابند نہ ہوں،اس سے بین الاقوامی فرموں کو اشیا کے کوالٹی معیارات سے متعلق شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
     • غیر ملک میں مقامی صنعت کاراشیا سازی کے عمل میں اپنے کنٹرول کو کھودیتا ہے کیونکہ اشیا سازی قطعی طور پر ٹھیکے کی شرائط اور تصریحات کے مطابق کی جاتی ہے۔
   • مقامی فرم، جو ٹھیکہ سازی کے تحت اشیا سازی کررہی ہے، اسے اپنے ٹھیکہ پر تیار مال (Output)کو اپنی مرضی کے مطابق کسی کو فروخت کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ اسے اشیاکو بین الاقوامی کمپنی کو پہلے سے طے شدہ قیمت پر فروخت کرنا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مقامی فرم کے منافع جات کم ہوجاتے ہیں۔ اگر ان اشیاء کی کھلی مارکیٹ میں قیمت ٹھیکہ کے تحت طے کی گئی قیمت سے زیادہ ہو۔  

11.2.3  اجازت نامہ اور حق ملکیت واجارہ داری 

لائسینس یا اجازت نامہ حاصل کرنا یا دینا(Licensing) ایک معاہدانہ انتظام ہے جس میں ایک فرم اپنی تجارتی اجارہ داری (Patents)، تجارتی اسرار ورموز یا غیر ملک میں دوسری فرم کو فیس جسے معاوضہ (Royalty) کہا جاتا ہے تکنیکی مہارتوں (Technology) تک رسائی کی منظوری دیتی ہے، وہ فرم جو دوسری فرم کو یہ اجازت فراہم کرتی ہے اسے اجازت نامہ دہندہ (Licensor) کہا جاتا ہے اور غیر ملک میں دوسری فرم تجارتی اجارہ داری وتکنیکی مہارتوں کے یہ حقوق حاصل کرتی ہے اسے اجازت نامہ دار (licensee) کہا جاتا ہے ۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ صرف ٹکنالوجی (Technology) کا لائسنس دیا جاتا ہے۔ فیشن کی صنعت میں متعدد ڈیزائنر اپنے نام کا استعمال کرنے کا لائسنس دیتے ہیں، کچھ صورتوں میں ٹیکنالوجی کا تبادلہ دو فرموں کے مابین ہوتا ہے، کبھی کبھی فرموں کے مابین علم و مہارت اور یا تجارتی ادارہ داری کا باہمی تبادلہ بھی ہوتا ہے جسے متضاد اجازت مانگی (Cross Licensing) کہا جاتا ہے۔ حق ملکیت واجارہ داری/ حق خود مختاری ۔
Faranchising ایک اصطلاح ہے جو بالکل Licensing کی طرح ہے تاہم ا ن دونوں میں نمایاں فرقیہ ہے کہ اول الذکر Licensing کو اشیا اور ان کی مارکیٹنگ کے ضمن میں استعمال کیا جاتا ہے اور Faranchising کا اطلاق خدمات کی تجارت میں ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان دوسرا فرق یہ ہے کہ Franchising نسبتاً زیادہ سیدھا ہے بمقابلہ Licensing کے حق ملکیت رکھنے والے کے۔ اس کے اصول نسبتاً زیادہ سخت ہوتے ہیں اپنے کاروبار کے دوران اسے کس طرح چلائیں سوائے ان دو نمایاں فرق کے بھی کی طرح ہی ہوتی ہے۔ Licensing کی طرح Franchising معاہدہ میں بھی ایک شخص کے ذریعہ دوسرے شخص کو ایک خاص مدت تک کے لئے متعین ادائیگی کے بدلےTrade Mark Technology اور Patents کے استعمال کے حقوق کی فراہمی شامل ہوتی ہے Patent کمپنی خود مختار کہلاتی ہے اور معاہدہ کی دوسری پارٹی Franching کہلاتی ہے۔ Franches کسی بھی قسم کی خدمت فراہم کرنے والا ہوسکتا ہے خواہ وہ ایک ریسٹورنٹ ہو۔ ہوٹل ہو، ٹریول ایجنسی ہو، بینک ہو، تھوک بیوپاری ہو یا خوردہ فروش ہو۔ جس نے اپنے ذاتی نام اور ٹریڈ مارک کے تحت خدمات پیدا کرنے اور ان کی مارکیٹنگ کے لیے بے مثال تکنیک وضع کی ہو۔ یہ تکنیک کی بے مثالیت وانفرادیت ہی ہے جو Franchisors کو میدان میں اپنے مقابلہ کرنے والوں پر اکساتی ہے اور متوقع خدمات فراہم کرنے والوں میں نظام میں شامل ہونے کی خواہش پیدا کراتی ہے۔ Pizza Hut, McDonald اور Walmart دنیا بھر میں Franchising کے کاموں میں رہنمائی کرنے والی کچھ خاص مثالیں ہیں۔

فوائد

مشترکہ کاروباری سرگرمیوں (Joint Venlines) اور خالصتاً نجی ملکیت والی فرموں کے مقابلہ مصدقہ اشیا/ ٹیکنالوجی کے ساتھ اور زیادہ کاروباری نقصانات کے بغیر غیر ممالک کے بازاروںمیں داخل ہونے کا نسبتاً زیادہ آسان طریقہ ہے۔ Licensing کے کچھ خاص فوائد درج ذیل ہیں:
     • لائسنسنگ/فرنچائزنگ نظام کے تحت لائسنسر/ فرنچائزر کاروباری اکائیوں کو قائم کرتا ہے اور کاروبار میں اپنی ذاتی رقم لگاتا ہے۔ اس طرح کو ملک سے باہر واقعتا کوئی سرمایہ کاری نہیں کرنی پڑتی۔ اس لیے اسے بین الاقوامی کاروبار میں داخل ہونے کا کم لاگت والا طریقہ خیال کیا گیا ہے۔
     • غیر ملکی سرمایہ کاری کے بغیر یا اس کے کم شامل ہونے کی وجہ سے نقصانات میں شریک نہیں ہوتی، اگر ایسا کوئی نقصان ہو جو غیر ملکی کا روبار میں پیش آتے ہیں۔ Franchesor Lecensor کو پہلے سے متعین فیس کے ذریعہ پیداوار یا کل فروخت (Turnouev) کی فیصد کے طور پر ادائیگی کردی جاتی  ہے۔ یہ معاوضہ Royalty یا فیس کو اس وقت تک حاصل ہوتی رہتی ہے، جب تک کہ پیداوار اور فروخت کے کاروباری اکائی میں جاری رہتی ہے۔
  • غیر ملک میں کاروبار کا انتظام چونکہ لائسنسی/فرنچائزی کے ذریعہ کیا جاتا ہے جو ایک مقامی شخص ہوتا ہے، اس لئے کاروبار باز واپسی (Takeover) یا سرکاری مداخلتوں کے خطرات کم ہوتے ہیں۔
    • لائسنسی کے مقامی شخص ہونے کی وجہ سے اس کے پاس بازاری معلومات اور ٹھیکے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے سبب اپنے مارکیٹنگ کاموں کو کامیابی کے ساتھ چلنے میں مددملتی ہے۔
    • معاہدوں کی شرائط کے مطابق صرف فریقین ہی غیر ممالک میں Franchisor/Licensor  کے حق اشاعت وطباعت (Copyrights) حق ملکیت اجارہ داری (Patents) اور تجارتی مار کے کو استعمال کرسکتے ہیں، اس کے نتیجہ میں غیر ملکی مارکیٹ میں دوسری فرمیں ان تجارتی مارکوں اور حق ملکیت واجارہ داری کا استعمال نہیں کرسکتیں۔

حدود

Franchisingکے بین الاقوامی کاروبار کے ایک طریقے کے طور پر درج ذیل خامیاں ہیں:
   • جب Franchises/Licensed Franchesee/Licensee اشیا کی مارکیٹنگ میں ماہر ہوجاتا ہے تو یہ خطرہ رہتا ہے کہ Licensee کہیں ذرا مختلف تجارتی مارکے کے ساتھ بالکل اسی جیسی شے کی مارکیٹنگ نہ شروع کردے۔ یہ Franchisor/Licensor کے لیے سخت مقابلہ کا باعث ہوسکتا ہے۔
     • اگر قاعدے سے نہ رکھے جائیں تو تجارتی راز غیر ملکی مارکٹوں میں دوسروں پر فاش ہوسکتے ہیں Franchiesor/ Licensee کی طرف سے یہ کوتاہیاں Franchisor/Licensor کے لیے شدید نقصانات کی موجب ہوسکتی ہیں۔
     • ایک وقت کے ساتھ  Franchisor/Licensor کے درمیان کچھ معاملات میں اکثر اختلافات رونما ہونے لگتے ہیں جیسے اکاؤنٹس/ سائنس حساب کتاب کے تیار کرنے میں معاوضہ Roylty کی ادائیگی میں اور معیاری اشیا سازی سے متعلق ضابطوں کی پابندی کرنے کی صورت میں یہ اختلافات اکثر مہنگے مقدمہ بازیوںمیں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

11.2.4   مشترکہ کاروباری سرگرمی 

Joint Rentureغیر ملکی مارکیٹوں میں داخل ہونے کی بہت اہم حکمت عملی ہے مشترکہ کاروباری سرگرمی (Joint Renture)کا مطلب ہے ایک ایسی فرم قائم کرنا جو دویا دو سے زیادہ آزاد فرموں کے ذریعہ قائم ہو اوراس کی مشترکہ ملکیت ہو۔ اس اصطلاح کے وسیع تر مفہوم میں اسے ایک ایسی انجمن کی حیثیت سے بیان کیا جاسکتا ہے جس کا مفہوم ہے (Joint Ownership Venture) اس کو تین خاص طریقوں سے قائم کیا جاسکتا ہے:
(i) غیر ملکی سرمایہ کار مقامی کمپنی کا ایک حصہ خرید لے ۔
(ii) مقامی فرم موجود غیر ملکی فرم میں مفاد حاصل کرلے۔
(iii) غیر ملکی اور مقامی نجی کاروباری کارانداز
(Entrepreneour) دونوں ہی مشترکہ طور پر نئے کاروبار کی تشکیل کرتے ہیں۔

فوائد

 کاروباری مہم کے فوائد میں یہ باتیں شامل ہیں:
چونکہ مقامی شریک کار بھی اس طرح کی مہم میں اکوٹی سرمایہ لگاتا ہے، اس لیے بین الاقوامی فرم اپنے آپ کو عالمی سطح پر وسیع کرنے کے لئے مالیاتی اعتبار سے کم بوجھ سمجھتی ہے۔
   • مشترکہ کاروباری مہم بڑے پروجیکٹس (منصوبوں) کی عمل آوری کو ممکن بناتی ہے جن میں کثیر سرمایہ مصارف اور انسانی قوت (Manpower) کی ضرورت ہوتی ہے۔
    • غیر ملکی کاروباری فرم میزبان ملکوں کے مقامی شریک کار کی مقابلہ سے متعلق صورتحال،تہذیب وثقافت، زبان، سیاسی نظام اور کاروباری نظام کے بارے میں واقفیت سے فائدہ اٹھاتی ہے ۔
     • بہت سی صورتوں میں غیر ملکی مارکیٹ میں داخل ہونا بہت مہنگا اورجوکھم بھرا ہوتا ہے۔ اس سے مقامی شریک کار کے ساتھ لاگتوں اورجوکھموں میں شریک ہوکر بچا جاسکتا ہے۔

حدود

    • غیر ملکی فرمیں جو غیر ممالک میں مقامی فرموں کے ساتھ ٹیکنالوجی اور تجارتی اسرار ورموز میں مشترکہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے آتی ہیں، ہمیشہ اپنی ٹیکنالوجی اور تجارتی اسرار ورموز کے دوسروں کے پردہ فاش ہوجانے کے خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔
     • ملکیت کا دہرا انتظام سرمایہ کاری کرنے والی فرموں کے مابین تصادم کو بڑھاسکتا ہے اور نتیجتاًیہ دونوں سرمایہ کار فرموں کے لیے اختیارات حاصل کرنے کی جنگ بن سکتی ہے۔

11.2.5  خالصتاً نجی ملکیت والی معاون فرمیں

بین الاقوامی کاروبار میں داخل ہونے کا یہ طریقہ ان کمپنیوں کے لیے بہتر خیال کیا جاتا ہے جو اپنے سمندر پار کام کاج پر مکمل اختیار/ کنٹرول کے خواہشمند ہوتی ہیں۔ سر پرست کمپنی اپنے نجی سرمایہ میں صد فیصد (%100) سرمایہ کاری کے ذریعہ غیر ملکی کمیٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیتی ہے، غیر ملکی بازار میں ایک خالصتاً نجی معاون فرم ان دو طریقوں میں سے کسی بھی طریقہ سے قائم کی جا سکتی ہیں۔
(i) کسی غیر ملک میں ایک بالکل نئی فرم قائم کرنا اسے سبزمیدانی کاروبار (Greenfield Venture) بھی کہا جاتا ہے۔
(ii) کسی غیر ملک میں وہاں کی ایک قائم شدہ فرم کو حاصل کرنا اس فرم کو میزبان ملک میں اپنی اشیا سازی کرنااور اس کی مصنوعات کے فروغ کے لیے کام کرنا۔

فوائد

کسی غیر ملک میں خالصتاً ذاتی ملکیت والی فرموں کے فوائد درج ذیل ہیں:
    • سرپرست فرم غیر ممالک میں اپنے کام کاج پر مکمل کنٹرول کر سکتی ہے۔
     • چونکہ سرپرست فرم غیر ملکی معاون فرم کی نگہداشت خود کرتی ہے، اس لیے دوسروں پر اپنے تکنیکی مہارتوں یا تجارتی اسرار و رموز کو افشا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

حدود

 ملک سے باہر خالصتاً نجی معاون فرموں کے قائم کرنے میں یہ خرابیاں ہیں:
    • سرپرست کمپنی کو غیر ملکی معاون فرموں میں صد فیصد اپنی نجی سرمایہ کاری (Equity Investment) کرنی ہوتی ہے اس لیے اس قسم کا بین الاقوامی کاروبار چھوٹے اور اوسط درجے کی فرموں کے لیے موزوں نہیں ہوتا جن کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا کہ وہ ملک سے باہر سرمایہ کاری کرسکیں۔
     • چونکہ سرپرست کمپنی کا ملکی کمپنی میں صد فیصد نجی سرمایہ لگا ہوتا ہے اور وہ اس کی مالک ہوتی ہے اور کنٹرول حاصل ہوتا ہے اس لیے اپنے غیر ملکی کام کاج کی ناکامی کی صورت میں بھی نقصانات تن تنہا اسے خود ہی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
     • کچھ ممالک اپنے ملک میں غیر ملکیوں کے سوفیصدی نجی معاون فرموں کے قائم کرنے کے خلاف ہیں لہٰذااس قسم کے بین الاقوامی کاروباری کام کاج میں بڑے سیاسی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

11.3  برآمد درآمدطریقہ ہائے کار اور دستاویزات کی تیاری 

گھریلو اور بین الاقوامی کاروبار کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ موخر الذکر (بین الاقوامی کاروبار) ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اشیا کی برآمد اور درآمد اتنی سادہ وآسان اور سیدھی سادھی نہیں جتنی کہ گھریلورماکیٹ میں خرید وفروخت ۔ کیونکہ غیر ملکی تجارت کے سودوں میں اشیا کا سرحد پار نقل و حمل ہونا اور غیر ملکی زر مبادلہ کا استعمال شا مل ہوتا ہے اس لیے اشیاکے ایک ملک کی سرحد کو چھوڑنے سے لے کر دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے تک متعدد کارروائیاں انجام دینی پڑتی ہیں۔مندرجہ ذیل حصوں میں خصوصی طور پر ان بنیادی اقدامات سے متعلق بحث کی گئی ہے جن کی برآمد ودرآمد سے متعلق سودوں کی تکمیل کے لیے ضرورت پڑتی ہے۔

11.3.1   برآمد کا طریقہ کار

برآمدکے ضمن میں کیے جانے والے مختلف اقدامات کی تعداد اور ترتیب ایک برآمدی سودے کے مقابلہ دوسرے برآمدی سودے میں مختلف ہوتی ہے۔ ایک منفرد برآمدی سودے میں شامل اقدامات درج ذیل ہیں۔
(i)  پوچھ تاچھ کی رسید اور شرح نرخ بھیجنا:  کسی شے کا متوقع خریدار مختلف برآمد کاروں (Exporters)کو پوچھ تاچھ نامہ (Enquiry)بھیجتا ہے جس میں ان سے اشیاکی برآمد کے لیے ان کی قیمت، معیار اور شرائط وغیرہ سے متعلق معلومات بھیجنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس قسم کی پوچھ تاچھ کے لیے ایکسپورٹروں کو امپورٹر کے توسط سے بزنس میں کسی اشتہار کے ذریعہ بھی مطلع کا جاسکتا ہے۔ایکسپورٹر نرخ نامہ (Quotation)کی شکل میں اس پوچھ تاچھ کا جواب بھیجتا ہے جسے نرخ نامہ برائے تکمیل ضابطہ ؍یا شرح نرخ نامہ کا خاکہ (Proforma Invoice)سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پروفارماانوائس میں قیمت سے متعلق اطلاعات شامل ہوتی ہیں، جس کی بنیاد پر ایکسپورٹر اشیا کی فروخت کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ اس میں اشیا کی کوالٹی، درجہ ، سائز، وزن، اشیاء کے پہنچانے کا طریقہ(Mode of Delivery)،پیکنگ کی قسم اور ادائیگی کی معیاد وغیرہ سے متعلق معلومات بھی موجود ہوتی ہیں۔
(ii)  آرڈر یا فرمائشی تحریرکی رسید : اگر متوقع خریدار (مثلاً درآمدکرنے والی فرم) کو برآمد کی جانے والی شے کی قیمت اور دیگر شرائط قابل قبول ہوتی ہیں تو وہ اشیا کی روانگی کے لیے آرڈر دیتا ہے۔ اس آرڈر کو فرمائشی  تحریر(Indent)انڈینٹ بھی کہا جاتا ہے۔ انڈینٹ میں آرڈر دی گئی اشیا کی تفصیلات،ادا کی جانے والی قیمت، مال پہچانے کی شرائط ، میعاد ،پیکنگ اور مارکہ سے متعلق تفصیلات اور حوالگی (Delivery)سے متعلق ہدایات شامل ہوتی ہیں۔
(iii)  درآمد کار کی ساکھ واعتماد کاتعین کرنا اور ادائیگیوں  کے لیے ضمانت کی حصولی: انڈینٹ کی رسید کے بعد، برآمدکار، درآمدکار کی ساکھ اور اعتماد وبھروسے سے متعلق ضروری تفتیش کرتا ہے۔ اس پوچھ تاچھ کامقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ درآمدکار کے جائے وقوع پر اشیاکے پہنچنے کے بعدامپورٹر کی عدم ادائیگی کے نقصانات کاتعین کیا جاسکے۔ اس قسم کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایکسپورٹر امپورٹر سے ضمانت نامہ(Letter of Caredit)کامطالبہ کرتا ہے ضمانت نامہ ایک قسم کی ضمانت ہے جسے امپورٹر کے بینک کے ذریعہ جاری کیا جاتا ہے۔ اس میں ایکسپورٹر کو ایک مخصوص رقم تک کے لئے ایکسپورٹ بلوں کی ادائیگی کا ذکر ہوتا ہے۔ ضمانت نامہ (Letter of Ceridit)ادائیگی کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور محفوظ طریقہ ہے جسے بین الاقوامی سودوں کی بجا آوری کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔
(iv)  برآمدی لائسنس حاصل کرنا:  ادائیگیوں سے متعلق یقین دہانی ہوجانے کے بعد برآمد کار فرم برآمدات کے ضابطوں کی بجا آوری سے متعلق پیش قدمی کرتی ہے۔ ہندوستان میں اشیا کی برآمد کسٹم کے قوانین پر مبنی ہے۔ جن کی رو سے ایک برآمداتی فرم کو برآمد کے لئے قدم بڑھانے سے پہلے ایکسپورٹ لائسنس یعنی برآمدی/اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ برآمدی لائسنس حاصل کرنے کے لیے کچھ اہم بنیادی شرائط درج ذیل ہیں:
     • ریزوربینک انڈیا (RBI)سے منظور شدہ کسی بینک میں کھا تہ کھلوانا ہو اور اکاؤنٹ نمبر حاصل کرنا۔
   • ڈائریکٹریٹ جنرل فارن ٹریڈ (DGFT)یا علاقائی امپورٹ ایکسپورٹ اتھارٹی سے در آمد برآمد کو ڈ نمبر حاصل کرنا۔
     • متعلقہ کونسل برائے فروغ برآمدات (Export Promotion Council) میں اندراج کرانا۔
    • عدم ادائیگی کے نقصانات سے حفاظت کے لیے برآمد سے متعلق ادھار اور ضمانتی کا رپوریشن (ECGE) میں رجسٹر کرانا۔
مختلف ایکسپورٹ؍امپورٹ دستاویزوں میں بھرے جانے کی وجہ سے ایکسپورٹ فرم کو امپورٹر ایکسپورٹر کو ڈ نمبر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ IECنمبرحاصل کرنے کے لیے فرم کو ڈائریکٹر جنرل فارن ٹریڈکے دفتر میں درخواست دینی ہوتی ہے درخواست کے ساتھ کچھ ضروری دستاویز بھی جمع کرنے ہوتے ہیں جیسے ایکسپورٹر، امپورٹر خاکہ (Profile)ضروری فیس کی بینک کی رسید ،فارم پر بینک کا تصدیق نامہ ، بینک سے تصدیق شدہ دو فوٹوگراف ،غیر رہائشی مقصد کی تفصیلات اور مشتبہ شمار کردہ فرموں سے لاتعلقی کا حلف نامہ۔
متعلقہ برآمد فروغ کونسل کے یہاں رجسٹر کرانا ہر برآمدکار کے لیے قانوناً لازمی ہے۔ حکومت ہند نے مختلف قسم کی اشیا کی برآمد کے فروغ وترقی کے لیے مختلف فروغ برآمد ات کو نسلیں قائم کی ہیں جیسے انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل (EIPC) اور اپیرل ایکسپورٹ پروموشن کونسل(AEPC)،کونسل برائے فروغ برآمدات سے متعلق ہم بعدمیں بحث کریں گے ۔ لیکن یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ برآمدکار کے لیے لازمی ہے کہ وہ متعلقہ ایکسپورٹ پروموشن کونسل کا ممبر بنے اور حکومت کی طرف سے ایکسپورٹ فرموں کے لیے فراہم کردہ مراعات وفوائد کے حصول کے لیے رجسٹریشن بشمول ممبر شپ سر  ٹیفکیٹ حاصل کرے۔
سیاسی اور کاروباری خطرات کے سبب سمندر پار کی ادائیگیوں سے تحفظ کے پیش نظر ECGCکے ہاں رجسٹریشن کرانا ضروری ہوتا ہے۔
(v)  مال بر داری سے پہلے مالیات کا حصول :  ایک بار مصدقہ آرڈر اور ضمانت نامہ حاصل کرنے کے بعدبرآمدکار، ایکسپورٹ پیدوار کے لیے جہاز برادری مالیات حاصل کرنے کے لیے اپنے بینک سے رجوع کرتا ہے۔ جہاز مال برداری مالیات، وہ مالیات ہیں جن کی برآمدکار کو خام مال اور دوسرے اجزاء حاصل کرنے، اشیا کی پورے عمل کی تیاری ، پیکنگ اور جہازی بندرگاہ تک نقل وحمل کے (Transportation) اخراجات کے لیے ضرورت ہوتی ہے ۔
(vi)  اشیا کی پیداوار یا تحصیل: بینک سے ماقبل جہاز مال برادری مالیات کے حصول کے بعد ایکسپورٹر ،امپورٹر کی تصریحات کے مطابق اشیا کی تیاری کا کام شروع کرتا ہے۔ فرم یا توبذات خود اشیا سازی کرتی ہے یا بصورت دیگر مارکیٹ سے خریدتی ہے۔ 
(vii)  ماقبل جہاز برداری معائنہ: حکومت ہند نے ملک سے بیرون ملک برآمدات کے ضمن میں بہت سے اقدام کیے ہیں جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صرف عمدہ معیاری اشیاء ہی برآمد کی جاسکیں۔ اس طرح کے اقدام میں ایک ضروری قدم یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے طے شدہ کسی ایجنسی کے ذریعے کچھ اشیا کا معائنہ کرایا جائے گا۔اس مقصد کے لیے حکومت نے برآمد ی اشیا سے متعلق کوالٹی کنٹرول، اور معائنہ کا قانون 1963 (ایکسپورٹ کوالٹی کنٹرول اینڈ انسپیکشن ایکٹ 1963)بنایا ہے اس کے لیے حکومت نے کچھ ایجنسیوں کو معائنہ جاتی ایجنسی کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اگر برآمد کی جانے والی شے اس زمرے میں آتی ہے تو برآمد کار کو جانچ سر  ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے ایکسپورٹ انسپیکشن ایجنسی (EIA)سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ برآمد کرتے وقت دیگر برآمد اتی دستاویزات کے ساتھ ماقبل جہاز برداری معائنہ رپورٹ(Preshipment inspection report)کو بھی جمع کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اگر اشیا کو اسٹار ٹریڈ نگ ہاوسز ٹریڈنگ ہاؤ سز ایکسپورٹ پر مبنی پروسینگ زون میں قائم انڈسٹریل پونٹس، اسپیشل اکنومکس زون (EPZs/SEZs)اور 100% ایکسپورٹ پر مبنی یونٹوں (F=0US)کے ذریعے ایکسپورٹ کیا گیا ہو تو ماقبل جہاز برداری معائنہ کی ضرورت نہیں رہتی۔
(viii)  محصول آبکاری کا پروانہ راہ داری :سینٹرل ایکسائز ٹیرف ایکٹ کے مطابق اشیا سازی میں سامان کے استعمال میں آب کاری محصول(Excise Duty)کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ ایکسپورٹر کو اس لئے اپنے خطے میں متعلقہ ایکسائز کمشنر کے یہاں انوائس یعنی رسید (Invioce)کے ساتھ درخواست دینی پڑتی ہے ۔ اگر ایکسائز کمشنر مطمئن ہوجاتا ہے تو وہ محصول آب کاری کا پروانہ راہ دری جاری کرسکتا ہے۔ لیکن بہت سے مواقع پر حکومت محصول آب کاری کی ادائیگی کو معاف کردیتی ہے یا بعد میں اسے واپس کردیتی ہے، بشرطیکہ اشیا کو برآمد کے مقصد سے تیار کیا گیا ہو۔ اس چھوٹ یا بازواپسی کے پیچھے یہ احساس کار فرما ہے کہ برآمدکاروں کو مراعات فراہم کرائی جائیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ برآمد کرسکیں اور عالمی مارکیٹ میں ایکسپورٹ کی جانے والی اشیا کو مزید مسابقتی بنایا جاسکے۔ محصول کی واپسی (Refund) کو واپس کیا گیا محصول(Duty Draw back)  کہا جاتا ہے۔ فی الحال اس اسکیم کا انتظام و انصرام ڈائریکٹریٹ آف ڈرا بیک کرتا ہے جو وزارت مالیات کے ماتحت ہے اوراشیا کے لئے ڈرابیک کی شرحیں متعین کرنے کا مجاز ہے۔ ڈرابیک (Draw back)کی منظوری اور ادائیگی سے متعلق کام کی نگرانی ونگہداشت کمشنر آف کسٹمز یا سنٹرل ایکسائز انچارج کے ذریعے یا متعلقہ بندرگاہ  (ایئرپورٹ) لینڈ کسٹم اسٹیشن کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ جہاں سے اشیا کی ایکسپورٹ کرنے پر غور کیا جاتا ہے۔ 
 (ix)  اساسی سرٹیفکیٹ کا حصول: کچھ اہم ممالک کی خاص ملک سے اشیاء کی آمد پر حاصل رعایتیں یا دیگر مستثنیات فراہم کرتی ہیں ۔ ان مراعات کے حصول کے لیے درآمدکار،برآمدکار سے اساسی سرٹیفکیٹ   (Certificate of Origin) ارسال کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ اساسی سرٹیفکیٹ ایک ثبوت کا کام کرتا ہے کہ اشیاواقعتا اسی ملک میں تیار کی گئی ہیں جہاں سے انہیں برآمد کیا گیا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ برآمدکار کے ملک میں قائم تجارتی قونصل خانہ (Trade Consulate)سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
 (x)  جہازی مال برداری کے لیے جگہ کا ریزرویشن:  برآمدکار فرم جہازی کمپنی کے یہاں جہازی جگہ کے محفوظ؍ مخصوص کرنے کے لیے درخواست دیتی ہے۔ اس کے لیے اسے ایکسپورٹ کی جانے والی اشیا کی اقسام کو واضح کرنا ہوتا ہے۔ جہازی مال برداری (Shipping)کے لیے دی گئی درخواست کے منظور ہونے پر ہی شپینگ کمپنی(Shipping Order) حکم نامہ جاری کرتی ہے۔ شپنگ آرڈر جہاز کے کپتان کے لیے ایک ایسی دستاویز ہے جس میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ مخصوص اشیا کو ان کے کسٹم پروانہ راہ داری کے بعد ایک متعین بندرگاہ پر جہاز پر وصول کرلیا جائے ۔
(xi)  پیکنگ اور روانگی : اشیا کو پھر ضروری تفصیلات جیسے درآمدکارکا نام اور پتہ، کل اور خالص وزن، جہازی بندرگاہ اور جائے وقوع اور اصل ملک وغیرہ کے ساتھ باقاعدہ طور پر پیک کیا جاتا ہے اور مارکہ لگایا جاتا ہے ۔ پھر ایکسپورٹر اشیا کی بندرگاہ تک نقل وحمل (Transportation)کے لیے ضروری انتظام کرتا ہے۔ مال گاڑی کے ڈبوں(Wagon)میں اشیاکی بار برداری پر ریلوے رسید جاری کرتی ہے۔ جو اشیا کی سند (Title)کا کام دیتی ہے برآمدکار ریلوے رسید کو اپنے ایجنٹ کے حق میں منتقل کرتا ہے تاکہ وہ مال بردا رجہاز کی بندرگاہ پراشیاکی حوالگی (Delivery) لے سکے۔
(xii)  اشیا کابیمہ: اس کے بعد برآمدکار کسی بیمہ کمپنی سے اشیا کا بیمہ کراتا ہے تاکہ دوران رسد سمندری خطرات کے سبب ہونے والے نقصانات سے اشیا کے خراب یا ضائع ہونے کی حفاظت کی جاسکے۔
(xiii)کسٹم پروانہ راہ داری(کسٹم کلیئرنس): اشیا کو جہاز پر لدوانے سے قبل کسٹم سے ان کا پروانہ راہ داری لینا لازمی ہوتا ہے۔ کسٹم کے پروانہ راہ داری کے حصول کے لیے ایکسپورٹر مال برداری جہازبل (Shipping Bill)تیار کرتا ہے۔ Shipping Bill ایک اہم دستاویز ہے جس کی بنیاد پر کسٹم آفس، ایکسپورٹ کی اجازت دیتا ہے شپنگ بل میں ایکسپورٹ کی جانے والی اشیاکی تفصیلات ،بحری جہاز کا نام ،بندرگاہ کا نام، جہاں سے اشیا کو چھڑانا ہے، آخری مقام کے ملک کا نام اور پتہ وغیرہ جیسی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ اس کے بعد کسٹم ہاؤس میں کسٹم تشخیص کار کے پاس سامان شپنگ بل کی پانچ نقلیں مند رجہ ذیل دستاویزات کے ساتھ جمع کرنی ہوتی ہیں۔
    • ایکسپورٹ معاہدہ یا ایکسپورٹ آرڈر
    • ضمانت نامہ
     • کاروباری نرخ نامہ
     • اساسی سر  ٹیفکیٹ
     • معائنہ کا سر  ٹیفکیٹ جہاں ضروری ہو۔
     • بحری بیمہ پالیسی
ان دستاویزات کو جمع کرنے کے بعد ،متعلقہ بندرگاہ ٹرسٹ کے سپرنٹنڈینٹ تک پہنچاجاتا ہے۔ تاکہ Carting order (گاڑی آرڈر)حاصل کیا جاسکے۔کارٹنگ آرڈر بندرگاہ کے دروازہ پر موجود اسٹاف کے لوگوں کے لئے ہدایت نامہ ہے تاکہ گودی(Dock)میں بار جہاز(Cargo)کے داخلے کی اجازت دی جاسکے۔کارٹنگ آرڈر حاصل کرنے کے بعد بار برادر جہاز بندرگاہ کے علاقے میں لے جایاجاتا ہے۔اور اسے مناسب شیڈ میں جمع کر دیا جاتاہے۔ یہ تمام کارروائیاں انجام دینے کے لئے چونکہ برآمدکار ایکسپورٹر کا بذات خود موجود رہنا ممکن نہیں ہوتا اس لیے یہ تمام کام ایک ایجنٹ کے ذریعے انجام دئیے جاتے ہیں جسے Clearing and forwarding Agent) C&F)کہا جاتاہے۔
(xiv)   جہاز کے کپتان کی رسید کا حصول:  اس کے بعد اشیا کو جہاز کے Boardپر لدوا کر Mate یا جہاز کا کپتان بندرگاہ کے سپرنٹنڈینٹ کے نامMate Receiptجاری کرتا ہے۔ Mate Receiptایک ایسی رسید ہے جسے جہا زکا کمانڈنگ آفس جاری کرتا ہے۔ اس وقت جب کہ بار جہاز (Cargo)کو جہاز پر لدوا یا جاتا ہے۔ اس رسید میں بحری جہاز (Vessed)کا نام، Berth،شپمنٹ (جہاز بار برداری) کی تاریخ ،پیکیجنگ(Pakcages)کاذکر، مار کے اور نمبر، جہاز کے بورڈ پر وصولی کے وقت کی حالت وغیرہ ۔بندرگاہ سپرنٹنڈینٹ بندرگاہ کے واجبات کی وصولیابی کے بعد C&F ایجنٹ کو  Mate resceipt  حوالے کردیتا ہے۔

(xv)  جہاز کے کرائے بھاڑے کی ادائیگی اور بحری جہاز کے مال کی بلٹی جاری کرنا، :C&F Agent  میٹ رسید کو شپنگ کمپنی کے حوالے کرتا ہے تاکہ جہاز کے بھاڑے کا حساب لگایا جاسکے۔ مال بھاڑے کی رسید کے بعد شپنگ کمپنی جہاز کے مال کی بلٹی (Freight)  (Bill of Landing)تیار کرتی ہے جس کا مقصد یہ ثبوت فراہم کرنا ہوتا ہے کہ شپنگ کمپنی نے متعینہ مقام تک لے جانے کے لیے اشیاء کو قبول کرلیا ہے۔ ہوائی راستے سے اشیا بھیجنے کی صورت میں یہ دستاویز ہوائی راہ بل (airway bill)کہلاتا ہے۔
(xvi)  نرخ نامہ کی تیاری:  اشیاکی روانگی کے بعد روانہ شدہ اشیا کا نرخ نامہ (Invioce)تیار کیا جاتا ہے۔ انوائس میں بھیجی گئی اشیاکی تعداد اور برآمد کار کے ذریعے ادا کی جانے والی رقم کا ذکر ہوتا ہے ۔ C&F Agentکسٹم کے لیے اس کی تصدیق کراتا ہے۔

(xvii)  ادائیگی کی وصولیابی:  اشیاء کے جہاز پر لدوانے کے بعدایکسپورٹر ‘ امپورٹر کو اشیا کے جہاز پر بار برداری کی اطلاع دیتا ہے ۔ امپورٹر کو اپنے ملک میں اشیا کے پہنچنے پر اور کسٹم سے چھڑانے پر ان کی تصدیق کے حصول کے لئے مختلف دستاویزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں جن دستاویزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہیں Invioceکی تصدیق شدہ نقل، جہاز کے مال کی بلٹی،(Bil of Lading)پیکنگ لسٹ ،بیمہ پالیسی ، اساسی سرٹیفکیٹ (Certificate of Orgin) اور ضمانت نامہ ایکسپورٹر ان دستاویزات کو اپنے بینک کے ذریعے اس ہدایت کے ساتھ روانہ کرتا ہے کہ وہ ان دستاویزات کو درآمدکار کو اس سے زر مبادلہ بل کی منظوری لے کر حوالے کردے۔ زر مبادلہ کا بل ایک دستاویز ہے جو برآمدکار کے ذریعہ بینک کو مذکورہ دستاویزات کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ رقم کی وصولیابی کے مقصد سے بنک میں متعلقہ دستاویزات جمع کرنے کو دستاویزات کا سکارنا (Negiation of Documents) کہتے ہیں۔
ہنڈی (Bill of Exchange) ایک مقررہ رقم کی ادائیگی کا برآمدکار کے لیے یا جس کو حکم دیا جائے یا کسی خاص شخص کو یا حامل دستاویز کے لیے ایک حکم نامہ ہے۔ یہ دو طرح کا ہوسکتا ہے: دستاویز بمقابلہ نظر(Documents Against sight) نظری خاکہ(Sight Draft)یا دستاویز مقابلہ منظوری (Document apoint acceptance) میعاد ادائیگی کا(Usance Draft)نظری خاکہ صورت میں دستاویزات رقم کی ادائیگی کے بدلے ہی امپورٹر کے حوالے کردیے جاتے ہیں جس وقت کہ جس کی امپورٹر نظری خاکہ پر دستخط کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے اسی وقت متعلقہ دستاویزات اس کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ دوسری ان میعاد ِ ادائیگی خاکے کی صورت میں امپورٹر کو دستاویزات کی سپردگی زر مبادلہ بل کی منظوری کے بدلے کی جاتی ہے جس میں رقم کی ادائیگی مقررہ مدت کے اختتام پر ہی کی جاتی ہے۔ 
جیسے تین ماہ ہنڈی کی صولی پر امپورٹر نظری خاکہ کی صورت میں رقم سے دست بردار ہوجاتا ہے یا پھر میعاد ادائیگی خانے کو اپنی منظوری دیتا ہے۔ کہ زرمبادلہ بل کی ادائیگی اس کی واجب الادا رقم چکانے پر کی جائے گی۔ ایکسپورٹر کا بینک، امپورٹر کے بینک سے رقم وصول کرتا ہے۔ اور ایکسپورٹر کے کھاتے کو کریڈٹ کردیتا ہے۔
ایکسپورٹر کو بہر حال رقم کا اس وقت تک انتظار نہیں کرنا پڑتا جب تک درآمدکار کے ذریعے اس کی ادائیگی نہ ہوجائے ایکسپورٹر دستاویزات جمع کرکے تلافی نامہ(Indemnity letter)پر دستخط کرکے اپنے بینک سے فوری طور پر رقم وصولی کرسکتا ہے۔ تلافی نامہ پر دستخط کرکے ایکسپورٹر بینک کو یقین دلاتا ہے کہ درآمدکار سے رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں وہ اسے بمع سود کے اس کی تلافی کردے گا۔ 
ایکسپورٹ کی رقم کی وصولیابی کے بعد برآمدکارکو ادائیگی کا بینک سر  ٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ادائیگی کا بینک سر  ٹیفکیٹ (Bank Certificat of payment) ایک تصدیق نامہ ہے کہ مذکورہ ایکسپورٹ سے متعلق ضروری دستاویزات (بشمول زر مبادلہ بل) لیے گئے ہیں(یعنی انہیں امپورٹر کو ادائیگی کے لئے پیش کیا جاچکا ہے۔) اور زر مبادلہ کنٹرول قوانین(Exchang control agentation) کے مطابق رقم کی و صولیابی ہوچکی ہے۔

11.3.2   درآمد کا طریق کار

درآمد تجارت(Import trade)سے مرا دہے کسی دوسرے ملک سے اشیا کا خریدنا۔ درآمد کا طریق کار ملک بہ ملک مختلف اور ہر ملک کی درآمد اور کسٹم سے متعلق پالیسوں اور دیگر قانونی ضابطوں پر مبنی ہوتاہے ۔ ذیل کی عبارتوں میں ہندوستانی علاقے میں اشیا منگانے کے لئے ایک مثالی درآمد ی سودے سے متعلق کیے جانے والے مختلف اقدام سے بحث کی گئی ہے۔
(i)  تجارتی پوچھ تاچھ: پہلا کام جو کسی درآمداتی فرم کو کرنا ہوتا ہے ، یہ ہے کہ وہ ان ملکوں اور فرموں سے متعلق معلومات اکٹھا کرے جو اس پہلے کو برآمد کرتی ہیں۔درآمدکار یہ معلومات تجارتی ڈائریکٹریوں اور ؍یاتجارتی اداروں اور تنظیموں سے حاصل کرسکتا ہے۔ اس سے برآمد کرنے والے ملک اور فرموں کی نشاندہی ہوجانے کے بعد امپورٹنگ فرم ایکسپورٹ فرم تک کسی تجارتی پوچھ تاچھ (Trade Enquiry)کی مدد سے رسائی حاصل کرتی ہے۔ تاکہ ان کی برآمداتی قیمتوں اور برآمد سے متعلق شرائط کے بارے میں معلوما ت حاصل کرسکیں۔ تجارتی پوچھ تاچھ ایک تحریری عرضداشت ہے جو کسی درآمدی فرم کے ذریعے کی جاتی ہے کہ برآمدکار انہیں قیمت اور مختلف شرائط وضوابط سے متعلق اطلاعات فراہم کرے جن پر موخر الذکر (یعنی ایکسپورٹر) اشیا کے برآمد پر آمادہ ہو۔
تجارتی پوچھ تاچھ کے بعد برآمداتی نرخ نامہ تیار کرتا ہے اور اسے درآمدکار کے پاس بھیجتا ہے یہ نرخ (Quotation)  شرح نرخ نامہ (Invoice)کہلاتی ہے۔ شرح نرخ نامہ کا خاکہ (Proforma Invoice)ایک ایسی دستاویز ہے جس میں برآمد کی جانے والی اشیا کی کوالٹی ،گریڈ ،ڈیزائن ،سائز وزن اور قیمت سے متعلق تفصیلات درج ہوتی ہیں نیز وہ تمام شرائط وضوابط بھی جن پر سامان برآمد کیا جائے گا۔
(ii)  امپورٹ لائسنس کا حصول:  بہت سی اشیا ایسی ہیں جنھیں بآسانی درآمد کیا جاسکتا ہے جب کہ کچھ دوسری اشیا کے لیے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ امپورٹر کو مروجہ ایکسپورٹ امپورٹ پالیسی(IXIM)سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ یہ جاننے کے لئے کہ جن اشیا کو وہ امپورٹ کرنا چاہتا ہے یا چاہتی ہے کیا ان کے لیے امپورٹ لائسنس کی ضرورت ہے۔ اس صورت میں کہ اشیاکو صرف لائسنس کی بنیاد پر ہی امپورٹ کیا جاسکتا ہے ، درآمدکار کو امپورٹ لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ہر امپورٹر نیز ایکسپورٹر کے لیے یہ قانون ضروری ہے کہ وہ ڈائریکٹریٹ جنرل فارن ٹریڈ (DGFT)میں یاریجنل امپورٹ ایکسپورٹ لائسنس اتھارٹی کے یہاں رجسٹریشن کرائے اور امپورٹ ایکسپورٹ کو ڈ نمبر حاصل کرے (IEC)متعدد امپورٹ دستاویزوں میں اس کوڈ نمبر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ 
 (iii)  غیر ملکی زرمبادلہ کا حصول :  درآمدی سودے کے ضمن میں کیونکہ سپلائر(مال رساں) کسی غیر ملک میں رہ رہا ہوتا ہے اس لیے وہ ادائیگیوں کے لیے غیر ملکی سکہ رائج الوقت (کرنسی) کا مطالبہ کرتا ہے ؍کرتی ہے۔ غیر ملکی کرنسی میں ادائیگی کا مطلب ہے کہ ہندستانی کرنسی کا غیر ملکی کرنسی میں مبادلہ کیا جائے۔ ہندوستان میں تمام غیر ملکی زر مبادلہ سودے ریزروبینک آف انڈیا (RBI)کے ایکسچینج کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ہی طے کیے جاتے ہیں۔ مروجہ قوانین کی رو سے ہر درآمدکار کو غیر ملکی زر مبادلہ کی منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے لیے یہ منظوری حاصل کرنے کے لیے امپورٹر کو RBIسے منظور شدہ کسی بینک میں درخواست دینی پڑتی ہے۔ ایکسچینج  کنٹرول ایکٹ (Exchange Control Act)کے ضابطوں کے مطابق یہ درخواست مجوزہ فارم پر امپورٹ لائسنس کے ساتھ دینی ہوتی ہے۔ درخواست فارم کی مناسب جانچ پڑتال کے بعد بینک درآمدی سودے کے لیے ضروری غیر ملکی زرمبادلہ کی منظوری دیتا ہے۔
(iv)  آرڈر دینا یا انڈینٹ: امپورٹ لائسنس حاصل ہوجانے کے بعد امپورٹر ،ایکسپورٹر کو مخصوص اشیا کی سپلائی کے لے امپورٹ آرڈر یا انڈینٹ دیتا ہے۔ امپورٹ آرڈر میں قیمت تعداد، مقدار، سائز،گریڈاور آرڈر دی گئی اشیا سے متعلق کوالٹی وغیرہ کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ اس میں پیکنگ ، شیپنگ ،مال بردار جہاز کی بندرگاہوں اور جائے وقوع حوالگی گوشوار ہ (Delivery Schedule)بیمہ اور ادائیگی کے طریقے سے متعلق اطلاعات درج ہوتی ہیں۔ امپورٹ آرڈر کا مسودہ بہت دھیان سے تیار کیا جانا چاہیے تاکہ امپورٹر اور ایکسپورٹر کے درمیان کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا ابہام اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تصادم سے بچاجاسکے۔

برآمدات کے تعلق سے کن اہم دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے

A.  سامان سے متعلق دستاویزات

ایکسپورٹ اِن وائس: ایکسپورٹ اِن وائس فروخت کار کا ایک بل ہوتا ہے جس میں سامان کی فہرست اور اس کے متعلق مزید تفصیل جیسے سامان کی تعداد، مقدار، قیمت، پیکٹوں کی تعداد، پیکنگ پرنشانات، بندرگاہ کا نام جہاں مال بھیجاگیا ہے، جہاز کا نام، جہازی بلٹی کا نمبر، سپردگی سے متعلق شرائط اورادائیگی وغیرہ مذکورہوتے ہیں۔
پیکنگ فہرست: پیکنگ فہرست پٹیوں یا گانٹھوں کی تعداد اور ان میں رکھے گئے مال کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس سے برآمد کیے گئے مال کی نوعیت اورتفصیل ہوتی ہے۔
سرٹیفکیٹ آف اوریجن یعنی جائے پیداوار کی سند: یہ وہ سرٹیفکیٹ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ مال کی پیداوار کس ملک میں ہوئی ہے۔ اس سرٹیفکیٹ سے مال درآمدکرنے والے کو پیشگی طورپر مقرر ملکوں میں پیداواری اشیا پر ٹیکس میں چھوٹ یا پھر دیگرسہولتیں جیسے کوٹا پابندی کا لاگوہونا وغیرہ حاصل ہوجاتی ہیں۔ جب کچھ چنے ہوئے بیرونی ملکوں سے کچھ خاص اشیا پر پابندی ہوتب بھی اس سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اگر مال پابندی لگے ملکوں میں تیار/پیدانہیں ہوا ہے تبھی ان کو درآمداتی ملک میں جانے دیا جائے گا۔
معائنہ سرٹیفکیٹ(Certificate of Inspection): پیداوار یا مال کی کوالٹی اورمعیارطے کرنے کے لیے سرکار نے کچھ پیداواروں یا مصنوعات کا کسی منظورشدہ ایجنسی کے ذریعہ معائنہ لازمی کردیا ہے۔ ای آئی سی آئی(ایکسپورٹ انسپیکشن کونسل آف انڈیا) ایک ایسی ہی ایجنسی ہے جو اس طرح کا معائنہ کرتی ہے اور اس بات کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے کہ بھیجے گئے مال کے برآمداتی معیارکے ایکسپورٹ کی جانچ کوالٹی کنٹرول اینڈ انسپیکشن ایکٹ 1963 کے تحت کرلی گئی ہے اور یہ اس پرلاگو کوالٹی کنٹرول اور انسپیکشن کی شرطوں کو پوراکرتاہے اور یہ برآمدکرنے کے لائق ہے۔ سرٹیفکیٹ کو کچھ ملکوں نے درآمداتی اشیا کے لیے لازمی کردیا ہے۔

B. جہازلدان سے متعلق دستاویزات

میٹ رسید(Mate's Receipt): یہ رسید جہاز کے کمانڈنگ آفیسرکے ذریعہ مال کے لدان کے بعد برآمد کرنے والے کو دی جاتی ہے۔ اس رسیدمیں جہاز کانام، برتھ، مال بھیجنے کی تاریخ، پیکجوں کی تفصیل، نشان اور تعداد ،جہاز پر مال کی وصولی کے وقت مال کی کیفیت وغیرہ لکھی جاتی ہے۔ جہازی کمپنی اس وقت تک جہازی بلٹی جاری نہیں کرتی جب کہ یہ میٹ رسید حاصل نہیں کرلیتی۔
جہازی بل(Shipping Bill): سب سے اہم دستاویزہوتی ہے۔ اس کی بنیاد پر کسٹم آفس ایکسپورٹ کی اجازت عطا کرتا ہے۔ جہازی بل میں ایکسپورٹ کیے جارہے مال کی تفصیل، جہازکانام، بندرگاہ جس پر مال اتاراجاتاہے، آخری منزل، ایکسپورٹر کا نام اور پتہ وغیرہ ہوتاہے۔
جہازی بلٹی: یہ ایک ایسی دستاویزہے جو جہازی کمپنی کے ذریعہ جاری شدہ جہازپر مال کی وصولی کی رسید ہے اور ساتھ ہی مقصود بندرگاہ تک سامان لے جانے کا عہدبھی۔ یہ مال کی ملکیت کی ایک دستاویزبھی ہے۔ اسی لیے یہ بیچان اورسپردگی کے ذریعہ آزادانہ طورپر قابل انتقال ہے۔
ایئروے بل(Airway Bill): جہازی بلٹی کی طرح  ایئروے بل بھی ایک دستاویز ہے جو ایئرلائن کمپنی کی ہوائی جہازپر مال کی وصولی کی باقاعدہ رسیدہوتی ہے اور جس میں وہ آخری ہوائی اڈّے(منزل مقصود)تک مال لے جانے کا عہدبھی ہوتاہے۔ یہ بھی مال پر مالکانہ حق کی ایک دستاویز ہے اور یہ بیچان اور سپردگی کے ذریعہ آزادانہ طورپر قابل انتقال ہے۔
بحری بیمہ پالیسی(Marine insurance policy): یہ ایک بیمہ معاہدہ کا سرٹیفکیٹ ہے جس میں بیمہ کمپنی پریمیم کی ادائیگی کے بدلے کسی بحری جوکھم سے نقصان کی تلافی کا عہدکرتی ہے۔
گاڑی ٹکٹ(Cart Ticket): اسے گاڑی جٹ یا گیٹ پاس بھی کہتے ہیں۔ اسے ایکسپورٹرتیارکرتاہے اوراس میں ایکسپورٹ سامان کا تفصیلی بیان ہوتا ہے جیسے کہ مال بھیجنے والے کانام، پیکیجوں کی تعداد،جہازی بل کا نمبر،مقصود بندرگاہ اورمال ڈھونے والی گاڑی کا نمبر۔
(C) ادائیگی سے متعلق دستاویز
ساکھ خط یا لیٹرآف کریڈٹ:کریڈٹ لیٹر درآمدکرنے والے کے بینک کے ذریعہ دی جانے والی گارنٹی ہے جس میں وہ ایکسپورٹر کے بینک کو ایک متعین رقم تک کے ایکسپورٹ بل کی ادائیگی کی گارنٹی دیتاہے۔ یہ بین الاقوامی سودوں کے نپٹان کے لیے ادائیگی کا سب سے مناسب اورمحفوظ ذریعہ ہے۔
بل آف ایکسچینج(Bill of Exchange)
یہ ایک تحریری دستاویزہوتی ہے جس میں اس کو جاری کرنے والا دوسرے فریق کوایک متعین رقم ایک طے شدہ شخص یا اس دستاویز کے حامل کو ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ایکسپورٹ امپورٹ لین دین کے حوالہ سے بل آف ایکسچینج ایکسپورٹر کے ذریعے امپورٹر پرلکھاجاتا ہے جس میں امپورٹرایک طے شدہ شخص یا اس کے حامل کو ایک طے شدہ رقم کی ادائیگی کے لیے کہتاہے۔ایکسپورٹ کیے گئے مال پر مالکانہ حق دینے والی دستاویزامپورٹرکوصرف اس صورت میں ہی سونپی جاتی ہے جب کہ وہ بل میں دیے گئے حکم قبول کرلیتا ہے۔
بینک کا ادائیگی سے متعلق سرٹیفکیٹ: سرٹیفکیٹ یہ تصدیق کرتا ہے کہ ایک طے شدہ ایکسپورٹ سامان سے متعلق دستاویزات(مع بل آف ایکسچینج)کوشروع کردیاگیا(یعنی ادائیگی کے لیے امپورٹرکے سامنے پیش کرایاگیاہے)اور ادائیگی، ایکسچینج کنٹرول ضابطوں کے مطابق وصول ہوگئی ہے۔

(v)  ساکھ نامہ کا حصول : اگر امپورٹر اور سمندر یا سامان رساں (Overseas supplier)کے درمیان ادائیگی کی شرائط پر رضا مندی ہوجاتی ہے ،توپھر درآمدکار کو اپنے بینک سے قرض نامہ (Letter of Credit)حاصل کرنا ہوتا ہے اورپھر اسے سمندر پار سامان رساں کو بھیجنا ہوتا ہے جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ ساکھ نامہ ایک ضمانت نامہ(Guarantee)ہے جسے امپورٹر کے بینک کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے جس میں ایکسپورٹر کے بینک کو ایکسپورٹ بلوں کی ادائیگی کے لیے رقم کی ادائیگی کرنے کی بات ہوتی ہے۔ قرض نامہ(Letter of Credit) بین الاقوامی سودوں کا حساب چکانے کے لیے ادائیگی کے لیے اختیار کیے جانے والا سب سے زیادہ مناسب اور محفوظ طریقہ ہے ایکسپورٹر چاہتا ہے کہ یہ دستاویز لازمی طور پر ہو کیونکہ اس کے سبب عدم ادائیگی کا کوئی خطرہ نہیں رہتا۔
(vi)  مالیات کی فراہمی :درآمدکار کو اشیا کی بندرگاہ پر پہنچ جانے کے بعد ایکسپورٹر کو رقم ادا کرنے کے لیے پہلے سے کچھ انتظامات کرلینے چاہئیں۔ درآمدات (امپورٹس) کے لیے سرمائے کی پہلے سے منصوبہ بندی ضروری ہے۔ تاکہ ادائیگی کی ضرورت سے بندرگاہ پر غیر بے باق (Uncleared)درآمد شدہ اشیا پر ہونے والے بڑے ہر جانے سے بچا جاسکے۔
(vii)  جہازی ہدایت کی رسید: باربردار جہاز پر اشیا لادے جانے کے بعد سمندر پارسامان رساں امپورٹر کو جہاز ی ہدایت کی رسید(Shippment Adivce)بھیجتا ہے Shippment Adviceمیں اشیا کے جہاز پر لادے جانے سے متعلق اطلاعات درج ہوتی ہیں۔ Shippment Adviceمیں فراہم کردہ اطلاعات میں Invoiceنمبر Bill of Lading  Airway Bill,نمبر اور تاریخ، بار بردار جہاز کا نام اور تاریخ ایکسپورٹ کی بندرگاہ اشیا کی کیفیت وار تعداد ومقدار اور بحری جہاز پر روانگی کی تاریخ وغیرہ تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔
(viii)  درآمدی دستاویزات کی تکمیل سبکدوشی:  اشیا کو جہاز پر لادے جانے کے بعد سمندر پار سامان رساں(سپلائر) معاہدہ کی شرائط اور ساکھ نامہ(Letter of Credit)کے مطابق ضروری دستاویزات کا ایک سیٹ تیار کرتا ہے۔ اور اسے اپنےبینک کے حوالے کردیتا ہے۔ تاکہ وہ ان دستاویزات کو ساکھ نامہ کی تفصیلات کے مطابق امپورٹ کو مزید منتقلی اور کارروائی کے لیے آگے بڑھادے۔ دستاویزات کے اس سیٹ میں عام طور پرہنڈی (Bill of Exchange)، تجارتی نرخ نامہ (Commercial Invoice)مال بردار جہاز کی بلٹی (Bill of Lading) ہوائی بل (Airway    bill)پیکنگ لسٹ ، اساسی سر ٹیفیکٹ بحری بیمہ پالیسی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
مذکورہ دستاویزات کے ساتھ شامل زرمبادلہ بل کو دستاویزی زر مبادلہ بل(Documentary bill of Exchange) کہا جاتا ہے۔ برآمدی طریق کار کے ضمن میں جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ دستاویز زرمبادلہ بل دو طرح کا ہوتا ہے: دستاویز بمقابلہ ادائیگی (نظری خاکہSight Draft) یا دستاویز مقابلہ منظوری (Document apoints Acceptance) میعاد ادائیگی خاکہ(Usance Draft)نظری خاکے (Sigth Drafts)کی صورت میں دستاویزات رقم کی ادائیگی کے بدلے ہی درآمد کار کے حوالے کردیے جاتے ہیں لیکن میعاد ادائیگی خاکہ (Usance Draft)کی صورت میں درآمدکار کو دستاویزات زر مبادلہ بل کی منظوری کے بدلے حوالے کیے جاتے ہیں۔ دستاویزات کے حوالے کیے جانے کے مقصد سے زرمبادلہ بل کی منظوری کو درآمدی دستاویزات کی تکمیل یا سبکدوشی کہا جاتا ہے۔ دستاویزات کی تکمیل ؍ سبکدوشی کا یہ عمل (Retirement) جب مکمل ہوجاتا ہے تو بینک درآمدی دستاویزات کو درآمدکار کے حوالے کردیتا ہے۔ 
(ix)  اشیا کی آمد:   معاہدہ کے مطابق سمندر پار سامان فراہم کنندہ(Overseas Supplier)کے ذریعے اشیا کو جہاز پر لاددیا جاتا ہے۔ مال بردار جہاز (بحری یا ہوائی) کا نگراں (انچارج ) شخص، گودی یا ہوائی ادے پر انچارج جو افسر کو درآمدی ملک میں اشیا کی آمد سے متعلق اطلاع دیتا ہے۔ وہ ایک دستاویز فراہم کرتا ہے۔ جسے Import general manifest درآمدی مال کی عمومی فہرست کہا جاتا ہے۔ Import general manifest ایک ایسی دستاویز ہے جس میں درآمد اشیا کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ یہی وہ دستاویز ہے جس کی بنیاد پر Cargo سے مال چھڑایا جاتا ہے۔ 
(x)  کسٹم کا پروانہ راہ داری اور اشیا کا چھڑانا:  ہندوستان میں درآمد تمام مال کو ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کے بعد کسٹم کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے مرحلے سے گزرناپڑتا ہے۔ کسٹم کاپروانہ راہ داری کسی حد تک ایک پیچیدہ (Custom Clearance)عمل ہے اور اس کے لیے بہت سی کارروائیاں انجام دینی پڑتی ہیں اسی لئے مشورہ دیا جاتا ہے کہ امپورٹرس C&F ایجنٹس کا تقرر کریں جو اس طرح کی کارروائیوں کے انجام دینے میں بڑے ماہر ہوتے ہیں اور کسٹم سے مال کے پروانہ راہ داری حاصل کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔
سب سے پہلے درآمد کار کو حوالگی حکم نامہ حاصل کرنا ہوتا ہے جسے دوسرے لفظوں میں حوالگی کی منتقلی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر جب مال بردار جہاز بندرگاہ پر پہنچتا ہے تو امپورٹر مال جہاز کی بلٹی (Bill of lading)کی پشت پر منتقلی (Endorement) حاصل کرتا ہے۔ یہ Endorement متعلقہ شیپنگ کمپنی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں بل کو Endorseکرنے کے بجائے شپنگ کمپنی حوالگی حکم نا مہ (Deleveiry order) جاری کرتی ہے تو اس حکم نامہ سے امپورٹر اشیا کی حوالگی کا حقدار ہوتا ہے۔ اشیاکی تحویل سے قبل بلا شبہ امپورٹر کو پہلے مال بھاڑے کے اخراجات (Freight) (اگر ایکسپورٹر کے ذریعے انھیں ادانہ کیا گیا ہو) ادا کرنے پڑتے ہیں۔
درآمدکار کوگودی(Dock)کے واجبات کی بھی ادائیگی کرنی پڑتی ہے اورPort trust dues receiptحاصل کرنی ہوتی ہے۔ اس کے لیے امپورٹر landing and Shipping Dues officeمیں پُرکیے گئے فارم کی دو نقلیں جمع کرنی ہوتی ہیں جسے درخواست برائے درآمد (Application to import)کہا جاتا ہے۔ Dock, landing and Shipping dues officeافسران کی خدمات کے لیے چارج لگاتا ہے۔ جسےدرآمدکار کے ذریعہ ہی ادا کیا جاتا ہے۔ Dock charges کی ادائیگی کے بعد درخواست کی ایک نقل امپورٹر کو رسیددے دی جاتی ہے۔ اس رسید کو بندرگاہ کے سارے واجبات کی رسید Post trust dues receiptکہا جاتا ہے۔ 
درآمد کار پھر کسٹم کی درآمدی محصول(Import  duty)کا حساب لگانے کے لیے ایک فارم(Bill of Entry) پُر کرتا ہے۔ پھر ایک تشخیص کار (appraiser)دستاویزات کو دھیان سے جانچتا ہے۔ اور جانچ پڑتال کئے جانے کا حکم نامہ دیتا ہے۔امپورٹر تشخیص کار کے ذریعے تیار کی گئی اس دستاویز کو حاصل کرتا ہے اور اگر ضروری ہوتو محصول (Duty)ادا کرتا ہے۔
درآمدی محصول(Import Duty)کی ادائیگی کے بعد Dock سپرینٹنڈینٹ کو داخلہ کا بل (Bill of Entry)پیش کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ اسے سپریٹنڈینٹ  کے ذریعے نقصان زر (Marked)کیا جاتا ہے اور ایک ممتحن(Examiner) سے درآمد شدہ مال کی باقاعدہ جانچ کے لیے کہا جاتا ہے ۔جانچ کنندہ داخلے کے بل (Bill of Entry)پر اپنی رپورٹ دیتا ہے امپورٹر یا اس کا ایجنٹ(Bill of entry)کو بندرگاہ افسران(Port authority) کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ضروری اخراجات حاصل کرنے کے بعد بندرگاہ کا محکمہ اشیا چھڑانے کا حکم نامہ (Release Order)جاری کرتا ہے۔

درآمداتی لین دین میں استعمال ہونے والی اہم دستاویزات (Major Documents used in an import Transaction)

تجارتی پوچھ تاچھ(Trade enquiry): یہ درآمدکرنے والی کمپنی کی طرف برآمد کرنے والے کے لیے ایک تحریری درخواست ہوتی ہے جس میں وہ برآمد کرنے والے کے ذریعہ برآمداتی اشیا کی قیمت اورمختلف شرائط کی معلومات دینے کو کہا جاتاہے۔
پروفارماانوایس(پروفارمابیجک): یہ وہ دستاویز ہے جس میں برآمداتی مال کی قیمت، معیار، گریڈ، ڈیزائن، پیمائش، وزن اوربرآمدکی شرائط کا تفصیل سے ذکرہوتاہے۔
امپورٹ آرڈر یا انڈینٹ: یہ ایک ایسی دستاویز ہے جس میں خریدار یا درآمد کرنے والا شخص اپنے مطلوب سامان کو سپلائی کرنے کا آرڈر برآمدکرنے والے کوبھیجتاہے۔ آرڈر یا انڈینٹ میں،سامان کی مقدار /تعداد، قیمت، سامان بھیجنے کا طریقہ، پیکنگ کی نوعیت اورادائیگی کے طریقہ کی معلومات شامل ہوتی ہے۔
ساکھ خط(لیٹرآف کریڈٹ): اس دستاویزمیں درآمدکرنے والے کے بینک کے ذریعہ برآمد کرنے والے کے بینک کوایک طے شدہ رقم کی ادائیگی کی ضمانت (گارنٹی) شامل ہوتی ہے۔ اسے درآمد کرنے والے کا بینک، برآمدکرنے والے بینک کو اشیا کی برآمد کے بدلے میں جاری کرتاہے۔
مال بھیجنے کی اطلاع(Shipment Advice): اس دستاویزمیں مال برآمد کرنے والا مال درآمد کرنے والے کو مال بھیجنے کی اطلاع دیتا ہے اور بتاتاہے کہ مال کا لدان کردیاگیا ہے۔ اس دستاویزمیں بیجک نمبر، جہازی بلٹی/ہوائی جہاز بل نمبر، تاریخ، جہازکا نام مع تاریخ، بندرگاہ کانام، سامان اور سامان کی مقدار اورجہاز کے چلنے کی تاریخ درج ہوتی ہے۔
جہازی بلٹی: یہ جہاز کے آفیسر کے ذریعہ تیار کردہ اور دستخط کردہ دستاویز ہے جس میں وہ مال کی جہازپر وصولی کوقبول کرتاہے۔ اس میں مال کو متعینہ بندرگاہ تک لے جانے سے متعلق شرائط دی گئی ہوتی ہیں۔
ایئروے بل(Airway Bill): جہازی بلٹی کی طرح ایئروے بل بھی ایک دستاویزہے جس میں کوئی ایئرلائن یا شیپنگ کمپنی سامان اوراس کے جہازپر لدان سے متعلق سرکاری رسید عطا کرتی ہے اور سامان کو منزل مقصود بندرگاہ یا ہوائی اڈّے تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتی ہے۔ یہ سامان کی ملکیت کی بھی ایک دستاویز ہوتی ہے اور آزادانہ طورپر بیچان اور سپردگی کے ذریعہ قابل انتقال ہے۔
داخلہ بل(Bill of Entry): داخلہ بل ایک فارم ہے جسے کسٹم آفس درآمدکرنے والے کو مہیا کراتاہے۔ اسے درآمد کرنے والا سامان وصول کرنے کے وقت پُرکرتاہے۔ اس کی تین کاپیاں ہوتی ہیں جو بھرنے کے بعد کسٹم آفس میں جمع کی جاتی ہیں۔ اس بل میں، درآمدکرنے والے کا نام اور پتہ، جہازکا نام، پیکیجوں کی تعداد،پیکیجوں کے نشان،سامان کی تفصیل، مقدار اور قدر،برآمد کرنے والے کا نام اورپتہ، مقصود بندرگاہ اورقابل ادائیگی کسٹم ڈیوٹی وغیرہ لکھی جاتی ہیں۔
بل آف ایکسچینج: یہ ایک تحریر دستاویز ہے جس میں ایشو کرنے والا شخص دوسری پارٹی کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ ایک مقررہ رقم کسی تیسری پارٹی یا حامل دستاویز کو ادا کرے۔ایکسپورٹ-امپورٹ لین دین کے حوالے سے ایکسپورٹ کیے گئے مال پرمالکانہ حق دینے والی دستاویزات کو صرف اسی حالت میں ایکسپورٹ کرنے والے کو سونپا جائے گاجب وہ بل میں دیے گئے حکم کو قبول کرے۔
سائٹ ڈرافٹ: یہ بل آف ایکسچینج کی وہ قسم ہے جس میں دستاویزکوجاری کرنے والا شخص بینک کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ ادائیگی کے بدلے متعلقہ دستاویزات امپورٹرکو دے دے۔
مدتی ڈرافٹ: یہ بل آف ایکسچینج کی وہ قسم ہے جس میں بل جاری کرنے والا شخص بینک کویہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ صرف بل آف ایکسچینج کی قبولیت کے بدلے میں متعلقہ دستاویزات درآمد کرنے والے(امپورٹر)کے حوالے کرے۔
درآمدی مال کی فہرست: یہ وہ دستاویز ہے جس میں درآمد شدہ مال کی تفصیلی جانکاری دی جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر مال کوجہاز سے اتروایا جاتاہے۔
ڈاک چالان(Dock Challan): ڈاک چارجز اس وقت ادا کیے جاتے ہیں جب کسٹم کی تمام کارروائی پوری ہوجاتی ہے۔ ڈاک چارجزکی ادائیگی کے وقت، امپورٹر یا اس کا کوئی نکاسی ایجنٹ ڈاک خرچ کی رقم ایک چالان یا فارم میں دکھاتا ہے جسے ڈاک چالان کہا جاتاہے۔

11.4   غیر ملکی تجارت کا فروغ: ترغیبات اور تنظیمی اعانت

ملک میں کاروباری فرموں کے لئے ان کی برآمدات کی مسابقتوں کو بہتر بنانے کے لئے متعدد مراعات اور اسکیمیں مقبول ہیں۔  وقتاً فوقتاً حکومت نے بھی بہت سی تنظیمیں قائم کی ہیں۔ جو بین الاقوامی کاروبار میں لگی فرموں کو بنیادی خدمات پر مشتمل تعاون اور مارکیٹ سے متعلق اعانت فراہم کرتی ہیں۔ غیر ملکی تجارت کے فروغ سے متعلق کچھ خاص خاص اسکیموں اور تنظیموں کے بارے میں ذیل کے حصو ںمیں بحث کی گئی ہے۔ 

11.4.1   غیر ملکی تجارت کا فروغ۔ اقدامات اور اسکیمیں

حکومت اپنی برآمد۔ درآمد پالیسی(EXIM)میں کاروباری فرموں کے لئے موجود تجارتی فروغ کی مختلف اسکیموں اور طریقوں کی تفصیلات کا اعلان کرتی رہتی ہے۔ تاکہ برآمد درآمد کاروبار کے لئے سہولیات بہم پہنچائے۔تجارت کے فروغ کے کچھ خاص طریقے(خاص طور پر ایکسپورٹ سے متعلق) جو آج کل رائج ہیں ،درج ذیل ہیں:
(i)  محصول واپسی اسکیم:   برآمد کے لئے تیار کی گئی اشیا کیونکہ گھریلو طورپر استعمال نہیں ہوتیں ۔ اس لئے ان پر مختلف قسم کے محصولات (Excuse & Custom Duty)لاگو نہیں ہوتے۔ برآمداتی اشیا پر ادا کیے گئے اس قسم کے محصولات کو متعلقہ افسران کے ذریعے برآمدکاروں کو ان اشیا کی برآمد کا ثبوت ؍تصدیق نامہ پیش کرکے واپس کردیے جاتے ہیں۔ محصولات کی یہ باز ادائیگی محصولات واپسی ادائیگی(Duty Drawback)   کہلاتی ہے۔ کچھ خاص محصولات کی باز ادائیگیوں میں یہ محصولات شامل ہیں۔ جسے ایکسپورٹ کے لیے بنائی گئی اشیا پر ادا کی گئی آب کاری محصولات کی باز ادائیگی، ایکسپورٹ پیداوار کے
لئے امپورٹ کئے گئے خام مال اور مشینوں پر ادا کئے گئے کسٹم محصولاتی باز ادائیگی۔ موخر الذکر (کسٹم محصولات سے متعلق) کو کسٹم کی باز ادائیگی (Custom Drawback) بھی کہا جاتا ہے۔
(ii)  اقرار نامہ اسکیم کے تحت برآمدی پیداوار:  یہ سہولت فرموں کو آب کاری یا ایکسائزاور دیگر محصولات کی ادائیگی کے بغیر اشیا تیار کرنے کا حقدار بناتی ہیں۔ یہ سہولیت حاصل کرنے کی خواہش مند فرموں کو اس کے لیے ایک حلف نامہ یا اقرار نامہ(Bond) دینا پڑتا ہے، کہ وہ اشیا کو ایکسپورٹ کے مقصد سے تیار کررہی ہیں نیز وہ ان اشیا کو ان کی تیاری پر ایکسپورٹ کریں گی۔
(iii)  سیلزٹیکس کی ادائیگی سے چھوٹ:  برآمدات کے مقصد سے بنائی گئی اشیا پر فروخت ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ ایک طویل عرصہ تک برآمداتی کا روبار سے حاصل شدہ آمدنی کو آمدنی ٹیکس (Income tax)کی ادائیگی میں بھی چھوٹ حاصل تھی لیکن اب آمدنی ٹیکس سے چھوٹ کا یہ فائدہ صرف ان اشیاء کے لئے ہے جو صدفیصدبرآمد پر مبنی ہوں اور وہ اشیا(Units)جنھیں منتخب سالوں کے لیے (EPZs) Export procesing   Special Economic Zones  (SEZs)میں تیا رکیا گیا ہو۔ آئندہ عبارتوں میں ہم مختصر طور پر ان اشیا سے متعلق بحث کریں گے جنھیں صدفی صدایکسپورٹ پر مبنی اشیا% 100 Export oriented Units (100% FOUs)اور(EPZs) Export Processing Zones (SEZs) Special Economic Zones میں برآمد کے لیے تیار کیا گیا ہو۔
(iv)  پیشگی لائسنس اسکیم:  یہ ایک ایسی اسکیم ہے جس کے تحت برآمدکار کو برآمداتی اشیا کی پیداوار کے لئے مطلوب گھریلو اور در آمد شدہ اشیا بغیر کسی محصول کے سپلائی کیے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس طرح برآمدکار کو برآمدی اشیا کی پیداوار میں استعمال کے لیے درآمد شدہ اشیا پر کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دونوں قسم کے برآمدکاروں کے لیے پیشگی لائسنس کی سہولت فراہم ہے۔ خواہ وہ باقاعدگی کے ساتھ لگاتار برآمد کرتے ہوں یا وقتی طور پربرآمد کرتے ہوں۔ باقاعدگی کے ساتھ مسلسل برآمد کرنے والے اپنے پیداوار ی پروگرام کے بدلے میں یہ پیشگی لائسنس حاصل کرسکتے ہیں۔ان کے علاوہ وقفے وقفے سے برآمد کرنے والی فرمیں بھی مخصوص برآمداتی آرڈروں کے بدلے میں یہ پیشگی لائسنس حاصل کرسکتی ہیں۔
(v)  برآمدات کے فروغ کے لیے اشیاء اصل کی اسکیم:  اس اسکیم کا بنیادی مقصدبرآمدی پیداوار کے لیے اشیا اصل (Capital Goods)کی درآمد کو بڑھاوا دینا ہے۔ یہ اسکیم ایکسپورٹ کو بغیر کسٹم ڈیوٹی یا کم شرح کسٹم ڈیوٹی پر اشیا اصل Capital Goodsکی درآمد کی اجازت دیتی ہے بشرطیکہ وہ اصل صارف کے احوال(Actual user condition) اور ایکسپورٹ کے خاص قوانین کی تکمیل کرتی ہوں۔ اگر اشیا سازوں(Manufacturers)کے ذریعے مذکورہ شرائط کی تکمیل ہوجاتی ہے۔ تو وہ اشیااصل(Capital goods)کو درآمد ی محصول کی صفر شرح پر یا رعایتی شرح پر درآمد کرسکتے ہیں۔ معاون اشیا ساز اور خدمات بہم پہنچانے والے (Service providers)بھی اس اسکیم کے تحت Capitalgoodsکو درآمد کرسکتے ہیں۔ یہ اسکیم بالخصوص ان صنعتی اکائیوں کے لیے فائدہ مند ہے جو اپنے موجودہ پلانٹ اور مشینری کی جدید کاری اور انھیں اعلیٰ درجے کا بنانے (upgradation)کے خواہش مند ہیں۔ اب خدمات بہم پہنچانے والی فرمیں بھی درآمد کیے جانے والی اشیا کے لیے حاصل کرسکتی ہیں۔ جیسے کہ ایکسپورٹ کے مقصد سے Computer Software Systemsجس کی Software Systemsکی تیاری کے لیے ضرورت پڑتی ہے۔
(vi)  ایکسپورٹ فرموں کو ایکسپورٹ ہاؤس ٹریڈ ہاؤس اور سپر اسٹار ٹریڈ ہاؤس کی منظوری دینے کی اسکیم:  مستقل طور پر برآمد کرنے والوں کو ترقی دینے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی پیداوار کولانے کے لیے تعاون دینے کے مقصد سے حکومت برآمداتی فرموں کا انتخاب کرکے انہیں ایکسپورٹ ہاؤس کا درجہ دیتی ہے۔ کسی فرم کو یہ درجہ اسی وقت دیا جاتا ہے۔ جب کہ اس نے گذشتہ مخصوص برسوں میں اپنی کارکردگی کی مجوزہ اوسط ایکسپورٹ تک رسائی حاصل کی ہو۔ اس طرح کی برآمدکار فرموں کو امپورٹ ایکسپورٹ پالیسی میں درج دیگر شرائط کو بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔ ایکسپورٹ کے فروغ کے لیے مطلوب مارکیٹنگ خدمات کا بنیادی ڈھانچہ اور مہارت پیدا کرنے کے لیے مختلف قسم کے ایکسپورٹ ہاؤسز کو منظوری دی گئی ہے۔ ان گھرانوں کو ایکسپورٹ کے فروغ کے لیے فوری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ اور موثر ترین ادارے چلائیں اور برآمدات کی ترقی کے ایک اہم ستون کی حیثیت سے سرگرم عمل ہوں۔
(vii) خدمات کی برآمد:  برآمدی خدمات کو بڑھانے کے خیال سے مختلف قسم کے خدماتی گھرانوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان ہاؤسز کو خدمات بہم پہنچانے والوںکو برآمداتی کارکردگی کی بنیاد پر منظوری دی گئی ہے۔ انہیں ان کی برآمداتی کارکردگی کی بنیاد پر :Service Export House international star service house  اور international Service export House.  کہا جاتا ہے۔
(viii)  برآمدی مالیات:  مصنوعات کی تیاری میں ایکسپورٹرس کو مالیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مالیات کی ضرورت جہاز پر مال برداری کے بعد بھی ہوتی ہے کیونکہ درآمد کنندہ سے رقم کی وصولیابی میں وقت لگتاہے۔ لہٰذا دو طرح کی مالیات ہوتی ہیں جنہیں حکومت سے منظور شدہ بینک ایکسپورٹرس کو فراہم کرتے ہیں۔جنھیں ماقبل بار برداری مالیات یا پیکیجنگ قرض اور مابعد بار برداری  مالیات (Post Shipment)کے نام سے جانا جاتا ہے۔ Pre shipment financeکی صورت میں برآمدکار کو ایکسپورٹ کے مقصد سے اشیاء کی خریداری یا پیکنگ کے لیے مالیات کی فراہمی کی جاتی ہے ۔مابعد بار برداری جہاز، مالیات کی صورت میں ایکسپورٹر کو مالیات کی فراہمی اس کے ملک میں اشیاکے مال جہاز پر لادے جانے کے بعد قرض کی توسیع کی تاریخ سے کی جاتی ہے۔برآمدکاروں کو مالیات کی یہ فراہمی سود کی رعایتی شرح پر کی جاتی ہے۔
(ix)  برآمد عمل آوری علاقے (ایکسپورٹ پروسیسنگ زون): صنعتی املاک (Industrial Estates)ہیں جو گھریلو محاصل علاقوں (Domestic Traiff Areas) (DTA)سے رہائشی علاقے بنائے جاتے ہیں۔ یہ علاقے عام طور پر بندرگاہوں یا ہوائی اڈوں کے قریب بنائے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد برآمداتی پیداوار کے لیے کم لاگت پر بین الاقوامی سطح پر مقابلتاً محصول سے بَری ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس سے  EPZs کی پیداوار ،کوالٹی اور قیمت دونوں اعتبار سے مسابقتی (Competative)ہوجاتی ہے۔ ہندوستان میں مختلف مقامات پر یہ زون قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں شامل ہیں :  کنڈلا (گجرات)سانتاکرز(ممبئی) فالٹا (مغربی بنگال) نوئیڈا (اترپردیش) کوچین (کیرالہ) ،چنئی (تامل ناڈو) اور وشاکھاپٹنم (آندھراپردیش) ۔
سانتاکرز ،زون خصوصی طور پر الیکٹرانک اشیااور ہیرے جواہرات کی اشیا(Gem & Jewellery items) کے لیے بنایا گیا ہے ۔دیگر تمام EPZsمختلف النوع اشیا سے متعلق ہیں۔حال ہی میں EPZsکو خصوصی اقتصادی زون (Special Economic Zones (SEZs)میں تبدیل کردیا گیا ہے جو Export Processing Zonesکی زیادہ ترقی یافتہ شکل ہیں۔
یہSEZsدرآمدی وبرآمدی اشیا پرعائد ہونے والے تمام احکام وقوانین سے بَری ہیں۔ سوائے مزدور طبقہ اور بینک کاری (Labour & Banking)کے۔
حکومت نے بھی نجی سرکاری یا مشترکہ شعبہ(Private State or joint Sector)کے ذریعے EPZsکی ترقی کی اجازت دے دی ہے ۔بین وزارتی کمیٹی (Inter Ministerial Committee)،EPZsپر ممبئی، سورت اور کانچی پورم میں پرائیویٹ EPZsکے قیام کے لیے کی گئی تجاویز کو پہلے منظوری دے چکی ہے۔ 
(x)  صد فیصد برآمد پر مبنی اکائیاں:   صدفیصد برآمد پر مبنی اشیا اسکیم کو 1981کی ابتداء میں شروع کیا گیا۔ یہ اسکیم EPZ اسکیم کی تکمیلی شکل ہے۔ یہ بھی وہی  نظام پیداواراختیار کرتی ہے لیکن ساتھ ہی علاقو ں کے لیے زیادہ وسیع انتخاب پیش کرتی ہے ان عوامل کے حوالے سے جیسے خام مال کے ذرائع، خشکی پر سہولیات ، ساحل سمندر سے متعلق سہولیات، تکنیکی مہارتوں کی فراہمی ،صنعتی بنیادکی موجودگی اور پروجیکٹ کے لیے زمین کے زیادہ بڑے علاقے کی ضرورت ہے۔ صد فی صد برآمداتی اکائیوں (EOUs)کو پالیسی کا ایک موزوں خاکہ ،کاموں میں لچک اور ترغیبات مہیا کرکے برآمداتی مقاصدکے لیے اضافی پیداواری صلاحیت پیدا کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔

11.4.2 تنظیمی تعاون

حکومت ہند نے ملک میں غیر ملکی تجارت کے عمل کو سہولیات بہم پہنچانے کے خیال سے وقتاً فوقتاً مختلف ادارے قائم کیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ اہم ادارے درج ذیل ہیں۔:
شعبہ کامرس: حکومت ہند کی وزارت کامرس میں شعبہ کامرس ایک چوٹی کی تنظیم ہے۔ جو ملک کی بیرونی تجارت اور اس سے متعلق تمام معاملات کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ معاملات دوسرے ممالک سے تجارتی تعلقات، روابط بڑھانے کی شکل میں ہوسکتے ہیں۔ یا پھر ملکی تجارت ،برآمد کے فروغ وترقی کے طریقے اور ایکسپورٹ پر مبنی کچھ خاص صنعتوں اور اشیاء سے متعلق ضابطوں پر بھی مشتمل ہوسکتے ہیں۔ شعبہ کامرس خاص طور پر غیر ملکی تجارت کے میدان میں اور بالعموم ملک کی درآمد اور برآمد پالیسی سے متعلق پالیسیاں مرتب کرتا ہے۔
فروغ برآمدات کی کونسلیں (ای پی سی):  یہ غیر منافع بخش تنظیمیں ہیں جو کمپنی قانون (Companies Act)یا سوسائٹیوں کے رجسٹریشن ایکٹ(Sociaties Registration Act) کے تحت جو بھی صورت ہو قائم کی گئی ہیں۔برآمدی فروغ کی کاؤنسلوں (Export Promotion councils) کا بنیادی مقصد ان کے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی خاص اشیا کے لیے ملک کی بر آمد کو فروغ و ترقی دینا ہے ۔ اس وقت تکEPCs 21ہیں جو مختلف اشیا سے متعلق کام کرتی ہیں۔
مجالس : اشیا بورڈ وہ مجلسیں ہیں جنھیں حکومت ہند نے روایتی اشیا کی پیداوار اور ان کی برآمد ے لیے قائم کیا ہے۔ یہ بورڈر؍ مجلسیںEPCsکی معاون ہیں۔ اشیاء کے بورڈز (Commodity Boards)کے کام EPCs کے کاموں کی ہی طرح ہیں۔ ہندوستان میں ابھی تک سات Commodity Boardsہیں جیسے کافی بورڈ،ربربورڈ، تمباکو بورڈ،مسالہ بورڈ، سنٹرل سلک بورڈ ،چائے بورڈ اور کوائر ایا ناریل کی جٹا کا  بورڈ۔
برآمداتی معائنہ کونسل: Export Inspection  Council of Indiaکو حکومت ہند کے ذریعےExport  Quality Control & Inspection Act 1963 کی دفعہ تین(3)کے تحت قائم کیا گیا۔ اس کونسل کا مقصد کوالٹی کنٹرول اور ماقبل بار برداری کے معائنے(Preshipment Inspection)کے ذریعے برآمدی تجارت کو خاطرخواہ ترقی دینا ہے۔ یہ کونسل برآمد کے لیے تیار کی گئی اشیاء کی کوالٹی کنٹرول سامان اور بھیجنے سے پہلے معائنہ سے متعلق کاموں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تنظیم ہے۔ سوائے کچھ استثنا کے برآمد کے لیے مخصوص تمام اشیا کو EICکے ذریعے پاس کیا جانا لازمی ہوتا ہے۔ 
ہندوستانی تجارت فروغ تنظیم(آئی ٹی پی او) :اس تنظیم کو حکومت ہند کی وزارت کامرس کے ذریعےCompanies Act
1956 کے تحت یکم جنوری 1992ء کو قائم کیا گیا۔ اس کا صدر دفتر نئی دہلی میں ہے۔ ITPOکی تشکیل دو سابقہ ایجنسیوں، جسےTrade Development Authority اورTrade fair Authority of Indiaکو ملاکر ہوئی۔ITPOایک خدماتی تنظیم ہے اور یہ تجارت، صنعت او ر حکومت کے ساتھ مسلسل اور گہرے تعلق رکھتی ہے۔ یہ تنظیم ملک وبیرونی ملک میں میلوں اور نمائشوں (Trade fair & Exhibitions)کے انتظام کے ذریعے صنعتوں کے لئے خدمت انجام دیتی ہے۔ برآمدی فرموں کی بین الاقوامی کاروباری معاملات اور نمائشوں میں حصہ لینے میں مدد کرتی ہے۔ نئی اشیا کی برآمد کو بڑھاوا دیتی ہے، تعاون دیتی ہے اورتجارتی کاروبار سے متعلق اپ ڈیٹ اطلاعات بہم پہنچاتی ہے۔ اس کے پانچ علاقائی دفتر ہیں ممبئی، بنگلور، کولکاتہ ، کانپور اور چنئی میں اور چار بین الاقوامی دفتر ہیں جرمنی،جاپان یواے ای اوریو ایس اے میں۔
غیر ملکی تجارت کا ہندوستانی ادارہ(آئی آئی ایف ٹی): یہ ادارہ حکومت ہند کے ذریعے ایک خود مختار تنظیم کی حیثیت 1963میں قائم کیا گیا تھا۔ اسےSocieties Registrion    Actکے تحت رجسٹرڈ کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد ملک کی غیر ملکی تجارت کے انتظام کو پیشہ وارانہ بنانا ہے۔ اسے حال ہی میں امکانی یونی ورسٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔یہ ادارہ بین الاقوامی تجارت میں تربیت (Training)فراہم کرتا ہے۔ بین الاقوامی کاروبار کے میدانوں میں تحقیقات کا نظم کرنا اور بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق اعداد وشمار کی نشر واشاعت کرتا ہے۔
انڈین انسٹیٹیوٹ آف پیکیجنگ(آئی آئی پی): یہ ادارہ1966 میں حکومت ہند کی وزارت کامرس اور Indian Institute of Packaging Industry and allied intrests کے ذریعے مشترکہ طور پر ایک قومی ادارہ کی حیثیت سے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا صدر دفتر اور اصل تجربہ گاہ ممبئی میں ہے اور تین علاقائی تجربہ گاہیں، کو لکاتہ، دہلی اور چنئی میں ہیں۔ پیکیجنگ(Packaging)اور جانچ (Testing)سے متعلق یہ ایک مشترک تربیتی اور تحقیقی ادارہ ہے۔پیکیج بنانے والی صنعتوں اور اس کی صارف صنعتوں کے Packageکی مختلف ضروریات کی تکمیل کے لیے اس ادارہ کے پاس بنیادی ڈھانچہ کی شاندار سہولتیں موجود ہیں۔ گھریلو اور غیر ملکی برآمد ی مارکٹوں کے لیے یہ ادارہPackaging کی ضروریات کی تکمیل کرتا ہے۔ یہ ادارہPackging کے فروغ کے لیے تکنیکی تشخیص اور جانچ پڑتال کی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔ اور تربیتی وتعلیمی پروگرام بھی وضع کرتا ہے۔ ترقیاتی ایوارڈ کے مقابلے بھی کراتا ہے۔ اطلاعاتی خدمات اور دیگر متعلقہ خدمات بھی انجام دیتا ہے۔
ریاستی تجارتی تنظیمیں: ہندوستان میں بڑی تعدادمیں ایسی گھریلو فرمیں قائم ہیں جن کے لیے عالمی بازار میں مقابلہ کرنا سخت دشوار ہے۔ مزید یہ موجودہ تجارتی ذرائع، برآمد کے فروغ اور یوروپی ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ تجارت میں تنوع لانے کے لیے غیر موزوں تھے۔ یہ وہ حالات تھے جن میں مئی1956میںState Trading Corprationکا قیام عمل میں آیا۔ STC کا بنیادی مقصد دنیا کے مختلف تجارتی شرکاکے مابین تجارت، بالخصوص برآمدی تجارت کو بڑھاوا دینا تھا۔ بعد میں حکومت نے کچھ اور تنظیمیں بھی قائم کیں جن میں خاص خاص یہ ہیں(MMTC) Melats & Minerals Trading Corporation (ITHEC) Handloms & handicraifts Export Corporation.

11.5   بین الاقوامی تجارتی ادارے اور تجارتی معاہدے

پہلی عالمی جنگ1914تا1919)اور دوسری عالمی جنگ (45-1939)اپنے ساتھ پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر انسانی جان ومال کی تباہی لے کر آئیں۔ دنیا بھرکی تقریباً تمام معیشتیں بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔ ذرائع کی کمی کے باعث ممالک اس حالت میں نہیں تھے کہ وہ دوبارہ کوئی تعمیری اور ترقیاتی کام کرسکیں۔ یہاں تک کہ ملکوں کے درمیان بین الاقوامی تجارت بھی عالمی کرنسی نظام کے درہم برہم ہونے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی۔ زرمبادلہ کی شرح کا کوئی بھی نظام ایسا نہ تھا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی وہ نازک موقع اور صورت حال تھی جب44ملکوں کے نمائندے معروف ماہر معاشیات (J.M.Keynes)جے ایم کنیز، کی قیادت میںBrelton Woods, New Hampshireمیں جمع ہوئے تاکہ دنیا میں امن وامان اور خوش گوار حالات کو بحال کرنے کے ذرائع تلاش کیے جاسکیں۔تین بین الاقوامی اداروں کے قیام کے ساتھ اس اجتماع کا اختتام ہوا، ان کے نام ہیں:
International Bank for Reconstruction & Developments (IBRD),International Moretery Fund (IMF)International Trade Organisation
 (ITO) ان بین الاقوامی نمائندوں نے ان تینوں تنظیموں کو دنیا کی معاشی ترقی کے تین ستون قرار دیا۔ جب کہ عالمی بینک (World Bank)کو جنگ سے تباہ حال معیشتوں، کی ازسر نو تعمیر کا کام تفویض کیا گیا اور خاص طور پر یوروپ کی معیشتوں کی تعمیر نو کے لیے۔ آئی ایم ایف کو عالمی تجارت کے فروغ کی راہ ہموار کرنے کے لئے شرح مبادلہ کی شرحوں کے استحکام کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 
ITOکا بنیادی مقصد جس کی وہ اس وقت پیش بینی کرسکے یہ تھا کہ اس وقت درپیش مختلف پابندیوں اور امتیازات کو زیر کرکے شریک ممالک کے درمیان بین الاقوامی تجارت کو فروغ اور ترقی دی جائے۔ 
پہلے دو ادارے یعنیIBRDاورIMF فوری طور پر وجود میں آگئے۔ITOکے قیام کی تجویز ،بہر حال،امریکہ کی طرف سے سخت مخالفت کے باعث عملی شکل نہ اختیار کرسکی۔ ایک تنظیم کی بجائے جو کچھ حادثاتی طورپر رونما ہوا وہ یہ تھا کہ بین الاقوامی تجارت کو شدید کسٹم محصولات اور دیگر قسم کی پابندیوں سے آزاد کرانے کے لیے انتظامات کیے جائیں۔ اس انتظام کو General Agreement for Tarrifs & Trade (GATT) یعنی محصولات اور عام تجارت پر سمجھوتہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہندوستان ان تینوں بین الاقوامی تنظیموں کا ایک اساسی رکن ہے۔درج ذیل حصوں میں ان تینوں بین الاقوامی اداروں کے خاص مقاصد اور کاموں سے متعلق بحث کی گئی ہے۔

 11.5.1  عالمی بنک

بین الاقوامی بینک برائے تعمیر وترقی نو: جو عام طور پر عالمی بینک (World Bank)کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بینک Bretlon Woods Conferenceکا  ایک نتیجہ تھا۔ اس بین الاقوامی تنظیم کے قیام کے پیچھے اہم مقاصد یوروپ کی جنگ سے متاثر معیشتوں کی ازسر نوتعمیر کے کام میںا عانت کرنا اور دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں مدددینا تھا۔ ابتدائی چند سالوں تک تو عالمی بینک، یوروپ میں جنگ سے تباہ حال ملکوں کی تعمیر نوکے کام میں مصروف رہا۔ اس کا م میں 1950تک کامیابی حاصل کرنے کے بعد عالمی بینک نے اپنی توجہ غیر ترقی یافتہ ملکوں کی طر ف مبذول کی۔ اس نے سمجھ لیا کہ ان ممالک میں خاص طور پر سماجی اور معاشی شعبے میں جیسے صحت اور تعلیم کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے ذریعے وہ ترقی پذیر ممالک میں ضروری سماجی اور معاشی تبدیلی کا باعث ہوسکتا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں اس سرمایہ کاری کے پہلو کو عملی شکل دینے کے لیے 1960میں International Development Association 
(IDA)تشکیل دی گئی۔
IDAکے قیام کا بنیادی مقصد ان ملکوں کو جن کی فی کس آمدنی (Per Cepita Income)بحرانی اور نازک سطح سے کم ہے وہاں رعایتی شرائط پر قرض فراہم کیا جائے۔ رعایتی شرائط(Concessional terms and Condition)  کا مطلب ہے کہ :(i)پیسے کی واپسی،واپسی کی مدت: IBRDکی باز ادائیگی مدت کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہو اور (ii)مقروض ملکوں کو قرض پر لی گئی رقم پر کسی سود کی ادائیگی کی ضرورت نہیں، اس طرحIDAغیر اقوام کو بلاسودی طویل مدتی قرضے فراہم کرتی ہے۔ IBRDبھی قرضے فراہم کرتی ہے مگر ان پر تجارتی بنیاد پرسودلگتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ دیگر تنظیمیں عالمی بینک کے زیر سایہ قائم کی گئی ہیں۔ آج بھی عالمی بینک پانچ بین الاقوامی تنظیموں کا ایک گروپ ہے جو مختلف ممالک کو مالیات فراہم کرنے کا مجاز ہے۔ ہر گروپ اور اس سے ملحق تنظیموں کے صدر دفاتر جو واشنگٹن ڈی ،سی میں ہیں، مختلف مالیاتی ضرورتوں کو پورا کرنے کا کام کرتی ہے۔باکس Aمیں درج ہیں جس کا عنوان ہے، عالمی بینک اور اس سے ملحقہ ادارے ۔

 11.5.2  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)

IMF،عالمی بینک کے بعد دوسری بین الاقوامی تنظیم ہے۔ IMFکا قیام1945میں ہوا تھا جس کا صدر دفتر واشنگٹن DCمیں ہے۔ 2005میں191ممالک اس کے رکن تھے۔ IMFکے قیام میں یہ خیال پیش نظر تھا کہ ایک باضابطہ بین الاقوامی مالیاتی نظام مرتب کیا جائے ۔یعنی بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام کو فروغ دینے میں سہولیات بہم پہنچائی جائیں اور قومی کرنسیوں کے درمیان زر مبادلہ کی شرحوں میں مطابقت پیدا کی جائے۔

آئی ایم ایف کے اہم مقاصد میں شامل ہیں

     • ایک مستحکم ادارہ کے ذریعہ بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو فروغ دینا ۔
      • بین الاقوامی تجارت کی متوازی وسیع ترقی کو آسان بنانا  اور اس کی بدولت روزگار کی اعلیٰ سطحوں اور حقیقی آمدنی کی ضروریات زندگی میں اعانت کرنا۔
      • رکن ممالک کے مابین باضابطہ زرمبادلہ انتظامات کرنے کے نقطہ نظر سے زرمبادلہ کے استحکام کو بڑھاوا دیا جائے۔
      • ممبران کے درمیان رواں سودوں سے متعلق ادائیگیوں کے کثیر رخی(Multilateral)نظام کے قیام میں اعانت کی جائے۔

آئی ایم ایف کے کام کاج

مذکورہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے IMF مختلف کام انجام دیتاہے ۔ IMFکے کچھ خاص کاموں میں شامل ہیں:
     •  ایک مختصر معیادی قرض کے ادارے کی حیثیت سے کام کرنا۔
     • زرمبادلہ کی شرحوں کے باضابطہ تطابق کے لیے مشینری فراہم کرنا۔
     •  تمام ممبر ممالک کی کرنسیوں کے لیے خزانہ کی حیثیت سے کام کرنا۔
    • غیر ملکی کرنسی اور رواں سودوں کے قرض دینے والے ادارے کی حیثیت سے کام کرنا۔
    • کسی ملک کی کرنسی کی قدر کا تعین کرنا اور اگر ضرورت ہو تو اسے تبدیل کرنا ،تاکہ ممبر ممالک کی زرمبادلہ کی شرحوں کی باضابطہ تطبیق ہوسکے اور 
      • بین الاقوامی صلاح مشورہ کے لیے مشنری فراہم کرنا۔

11.5.3  بین الاقوامی تجارتی تنظیم اور اہم معاہدے

ْIMFاور عالمی بینک کے خطوط پرBretton Woods Conferenceمیں شروع ہی میں یہ طے کیا گیا کہ ممبر ممالک کے مابین بین الاقومی تجارت کو فروغ دینے اور اسے آسان بنانے کے لیے International Trade Organisation

(ITO)کا قیام عمل میں لایا جائے اور اس وقت کی جانے والی مختلف تفریقوں اور عائد کردہ پابندیوں کو دورکیا جائے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے سخت مخالفت کی وجہ سے اس خیال کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ اس خیال کو سرے سے رد کرنے کے بجائے وہ ممالک جوBretton Woods Conferenceمیں شریک تھے اس بات پر رضا مند ہوئے کہ اپنے مابین کچھ ایسے انتظامات کے لیے جائیں تاکہ اس وقت موجود کسٹم کے کثیر محصولات اور دیگر قسم کی مختلف پابندیوں سے آزادی حاصل ہو سکے۔ اس انتظام کو ’’محصولات اورتجارت کے عام معاہدے‘‘ کو General Agrement for Tariffs and Trade (GATT) کے نام سے جانا گیا۔

GATTکا قیام یکم جنوری1948میں ہوا۔ اور یہ دسمبر1994تک روبہ عمل رہا۔ محصولاتی اورغیر محصولاتی (Tariff and non-Tariff) بندشوں کو کم کرنے کے لیے GATTکی سرپرستی میں گفت وشنید کے مختلف دور ہوتے رہے۔ اس گفت وشنید کے آخری دور کو Uruguay Round کہا جاتا ہے جو متنازعہ مسائل کا احاطہ کرنے کے اعتبار سے سب سے زیادہ جامع تھا اور سب سے زیادہ طویل بھی۔ اس لحاظ سے کہ بات چیت کا یہ دور 1986سے 1994تک سات سال تک چلتا رہا۔

GATTبات چیت کےUruguay Round    کی کلیدی کامیابیوں میں سے ایک اہم فیصلہ یہ تھا کہ ممالک کے مابین آزاد اور صاف ستھری تجارت کے فروغ کی نگہداشت کے لیے ایک مستحکم ادارہ قائم کیا جائے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یکم جنوری1995کوGATTایک عالمی تجارتی تنظیم (World Trade Organisation) (WTO) میں تبدیل کردیا گیا۔ WTOکا صدر دفتر جنیوا میں واقع ہے۔ WTOکا قیام اس طرح ITOکے قیام کی اصل تجویز کو لاگو کیے جانے کی نمائندگی کرتا ہے۔ جس کا آغاز تقریباً پانچ دہائی قبل ہوا تھا۔ 

اگرچہWTO،

GATTکی جانشین ہے لیکن یہ GATTسے زیادہ طاقتور تنظیم ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف اشیا کی تجارت، بلکہ خدمات او ردانشورانہ املاکی حقوق کا بھی نظم کرتی ہے،GATTکے برخلافWTO ایک مستقل تنظیم ہے جسے بین الاقوامی عہد نامہ کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اور ممبر ممالک کی حکومتوں اور قانون ساز مجلسوں (Legislaures)نے اس کی توثیق کی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنظیم ممبروں کے ذیعے چلائی گئی اور اصول پر مبنی تنظیم ہے۔ اس اعتبار سے کہ اس میں تمام فیصلے عمومی اتفاق رائے کی بنیاد پر ممبر حکومتیں کرتی ہیں۔ ملکوں کے درمیان تجارتی مسائل کے حل سے متعلق ایک اصل بین الاقوامی تنظیم اور کثیر رخی تجارتی گفت وشنید کے لیے ایک اجتماعی مقام (Forum)فراہم کرنے والی تنظیم کی حیثیت سے اس نے IMFاور عالمی بینک کی طرح ایک شاندار مقام حاصل کرلیا ہے۔ ہندوستان WTO کا اساسی ممبر ہے۔11 دسمبر 2005 تک WTO میں 149 رکن ممالک شامل تھے۔

ڈبلیو ٹی او( عالمی تجارتی تنظیم) کے مقاصد

WTOکے بنیادی مقاصد بھی وہی ہیں جوGATTکے ہیں۔ یعنی معیار زندگی اور آمدنی کو بڑھانا ، مکمل روزگار کو یقینی بنانا، پیداوار اور تجارت کو بڑھانا اور عالمی ذرائع کا زیادہ سے زیادہ اور مناسب ترین استعمال کرنا۔GATTاورWTOکے مقاصد کے ما بین نمایاں فرق ہے۔ WTOکے مقاصد زیادہ واضح ہیں اور یہ مقاصد خدمات کے میدان میں تجارت کو شامل کرنے کے لیے WTOکے دائرہ کار کو بڑھاتے بھی ہیں۔مزید برآں WTOکے مقاصد عالمی وسائل کے زیادہ سے زیادہ اور مناسب ترین استعمال کے تعلق سے ’’قابل برداشت ترقی‘‘ (Sustaniable Development) کے نظریے سے بحث کرتے ہیں۔ تاکہ ماحول کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ مذکورہ بحث کے پیش نظر ہم WTOکے خاص مقاصد کو زیادہ تفصیل و صراحت کے ساتھ ذیل میں بیان کرسکتے ہیں۔

      • مختلف ممالک کے ذریعے عائد کی گئی محصولاتی اور تجارتی پابندیوں میں تخفیف کایقین دلانا۔

      • ایسی سرگرمیوں میں لگنا جو معیار زندگی کو بہتر بناتی ہیں، روزگار پیدا کرتی ہیں آمدنی اور موثر طلب (Demand) میں اضافہ کرتی ہیں نیز یہ کہ زیادہ پیداوار اور تجارت کو آسان بناتی ہیں۔ 

     • پائیدار ترقی کے لیے عالمی وسائل کے زیادہ سے زیادہ اور مناسب ترین استعمال کو آسان بنانا ۔

     • ایک مکمل زیادہ قابل عمل اور پائیدار تجارتی نظام کو فروغ دینا۔

 ڈبلیو ٹی اوکے کام

WTO کے خاص کاموں میں شامل ہیں:

      • ایسے ماحول کو تقویت دینا جس سے اس کے رکن ممالک کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ اپنے شکوے شکایات کو کم کرکے WTOکی طرف پیش قدمی کریں۔

      • بشمول محصولات تجارتی پابندیوں کو کم کرنے کے نقطۂ نظر سے اس نے ایک ایسا ضابطہ اخلاق بنانا جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات میں امتیازات کو ختم کرنا۔

     • لڑائی جھگڑوں کا تصفیہ کرنے والی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنا۔

    • یہ یقینی بناناکہ تمام اصول وضوابط جو مجوزہ قانون میں دئیے گئے ہیں ۔ان پرممبر ممالک اپنے باہمی تنازعات کے تصفیے کے لیے باقاعدہ طور پر عمل درآمد کرتے ہیں۔

     •آفاقی معاشی پالیسی بنانے میں بہتر مفاہمت او رتعاون پیدا کرنے کے لیے IMPاور IBRDاور اس کی ملحق ایجنسیوں کے ساتھ صلاح ومشورہ کرنا۔

      • اشیا خدمات اور دانشورانہ حقوق(TRIPS)سے متعلق تجارت کے لیے نظرثانی کیے گئے معاہدوں اور وزارتی اعلانات کے کاموں کی باقاعدہ سلسلہ وار نگرانی کرنا۔

ڈبلیو ٹی اوکے فوائد

1995میں اپنے آغاز سے ہیWTOنے آج کے کثیر رخی تجارتی نظام کی قانونی اور ادارتی بنیاد قائم کرنے میں ایک طویل راستہ طے کیا ہے۔ نہ صرف تجارت کو آسان بنانے میں بلکہ معیار زندگی کو بہتر بنانے اور ممبر ممالک کے مابین تعاون پیدا کرنے میں یہ تنظیم بہت معاون رہی ہے۔ WTOکے کچھ خاص فوائد مندرجہ ذیل ہیں:

      WTOبین الاقوامی امن وامان کو قائم رکھنے میں مدد کرتی ہے اور بین الاقوامی کاروبار کو آسان بناتی ہے۔

    • ممبر ممالک کے مابین تمام تنازعات باہمی صلاح ومشورہ سے طے کیے جاتے ہیں۔

     • قاعدے قوانین بین الاقوامی تجارت اور تعلقات کو بہت آسان اور پیشن گوئی کیے جانے کے قابل بناتے ہیں۔

     • آزاد انہ تجارت آمدنی کے بڑھ جانے کی وجہ سے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتی ہے۔

   • آزادانہ تجارت مختلف النوع معیاری اشیاکے حاصل کرنے کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔

    •آزادانہ تجارت کی وجہ سے معاشی ترقی تیز ہوتی ہے۔

      WTO تجارت سے متعلق معاملات میں خصوصی اور ترجیحی برتاؤ فراہم کرنے کی وجہ سے ترقی پذیر ملکوں کی نشوونما میں مدد کرتی ہے۔


اہم اصطلاحات

نرخ نامہ کا خاکہ                         جہاز لدان کا بل                              حوالگی آرڈر                            مال و اسباب
آرڈر یا فرمائش                           ہوائی بل                                      داخلہ بل                              بورڈز
برآمداتی لائسنس                        تجارتی سامان کی فہرست                        سی اینڈ ایف ایجنٹ                    آئی آئی ایف ٹی
آئی ای سی نمبر                         زر مبادلہ بل(ہنڈی)                            پورٹ ٹرسٹ واجبات کی رسید         انڈینٹ
رجسٹریشن مع                          نظری خاکہ                                      محصول واپسی اسکیم                     انسٹی ٹیوٹ آف 
رکنیت                                  ادائیگی خاکہ                                      برآمدات کے لیے اشیا کی تیاری       پیکیجنگ
سرٹیفکیٹ                               بلوں کا تبادلہ                                   بانڈ اسکیم کے تحت                     آئی ٹی پی او
ماقبل باربرداری سرمایہ                  سمندری بیمہ                                    پیشگی لائسنس اسکیم                     برآمد
باربرداری سے ماقبل                    پالیسی                                           فروغ برآمدات سرمایہ                    معائنہ
معائنہ                                  گاڑی ٹکٹ                                       سامان کی اسکیم (ای پی سی جی)        کونسل
برآمداتی معائنہ                       ادائیگی کا بینک سرٹیفکیٹ                            برآمداتی سرمایہ                          اسٹیٹ 
ایجنسی                                بینک سرٹیفکیٹ                                      مابعد باربرداری سرمایہ                   ٹریڈنگ
آبکاری کلیئرنس                       معائینہ کا سرٹیفکیٹ                                 برآمداتی پروسیسنگ زون                 آرگنائزیشن
اساسی سرٹیفکیٹ                      سرٹیفیکٹ                                           (ای پی زیڈ)
کسٹم کلیئرنس                          تجارتی پوچھ تاچھ                                   صد فیصد برآمداتی
ضمانت /ساکھ نامہ                    جہازی ہدایت کی رسید                              اکائی (%100ای او یو)
جہازی بل                          عام درآمداتی                                         محکمہ تجارت
میٹ رسید                           فہرست                                             فروغ برآمداتی کونسل

خلاصہ

بین الاقوامی کاروبار:  بین الاقوامی کاروبار سے مراد وہ کاروبار ی سرگرمیاں ہوتی ہیں جو ملک کی سرحدوں سے باہر انجام دی جاتی ہیں۔ پھر بھی کئی لوگ اس سلسلہ میں بین الاقوامی کاروبار اور بین الاقوامی تجارت کی اصطلاح کو ہم معنی استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ بین الاقوامی کاروبار زیادہ وسیع اصطلاح ہے۔ بین الاقوامی کاروبار میں صرف اشیا اور خدمات کی تجارت ہی شامل نہیں ہوتی بلکہ اس میں بیرون ملک اشیا اور خدمات کی پیداوار اور مارکٹنگ جیسی دوسری عملی کارروائیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
بین الاقوامی بنام گھریلو کاروبار:  بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کو انجام دینا اور ان کا انتظام و انصراف ،گھریلو کاروبار کے مقابلہ میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس میں پارٹیوں کی قومیت مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ سے پیداوار کی نسبتاً کم نقل و حمل،مارکٹ میں مختلف النوع صارفین ،کاروباری طریقہ کار اور سیاسی نظام میں اختلاف ،کاروباری ضابطوں اور پالیسیوں کا مختلف ہونا اور مختلف کرنسیوں کا استعمال، وہ اہم پہلو ہیں جو گھریلو کاروبار سے بین الاقوامی کاروبار کو مختلف بناتے ہیں۔ یہ کم و بیش وہ عناصر ہوتے ہیں جو بین الاقوامی کاروبار کو مختلف بناتے ہیں۔یہ کم و بیش و عناصر ہوتے ہیں جو بین الاقوامی کاروبار کو زیادہ پیچیدہ اور مشکل سرگرمی بناتے ہیں۔
برآمدات کے طریقہ کار :   برآمداتی سودے کا نقطہ آغاز،سمندر پار کے خریدار کی جانب سے پوچھ تاچھ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں برآمدکار برآمداتی نرخ نامہ(Export Quotation) تیار کرتا ہے—اسے خریدار کو بھیجی گئی فہرست(Proforma Invoice) کہا جاتا ہے ۔ اس میں برآمد کی جانے والی اشیا سے متعلق تفصیلات اور شرائط دی جاتی ہیں۔ اگر درآمد کار کو شرح نرخ قبول ہوتی ہے تو وہ آرڈر یا انڈینٹ دیتا ہے اور اپنے بینک سے ایک رپورٹر کے لیے ساکھ نامہ(Letter of Credit) حاصل کرتا ہے۔ 
بعد ازاں برآمد کار ، غیر ملکی تجارت کے ڈائریکٹر جنرل ( Director General of Foreign Trade)  سے ایکسپورٹ لائسنس حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں کرتا ہے۔ ایکسپورٹ پروموشن کونسل سے رجسٹریشن مع ممبر شپ سر  ٹیفکیٹ حاصل کرتا ہے۔ یہ کونسل متعلقہ اشیا کی برآمد سے متعلق ذمہ داری کو انجام دیتی ہے۔ اگر برآمد کار کو سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بینک سے مال کے جہاز پر بار برداری سے قبل سرمایہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد برآمد کار اشیا سازی یا اشیا کی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے اور برآمداتی معائنہ کونسل (Export Inspection Council) سے تیار اشیا کا معائنہ کراتا ہے۔ درآمد کار کے لیے اگر ضرورت ہو تو برآمد کار ،سر  ٹیفکیٹ آف اوریجن حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی قونصل خانہ سے رجوع کرتا ہے تاکہ درآمد کار ، درآمداتی منزل پر سامان وصول کرتے وقت محصولاتی یا رسدی رعایتیں حاصل کر سکے۔ اس کے بعد برآمدکار، جہاز پر سامان کے لیے جگہ محفوظ کرانے کا نظم کرتا ہے اور دوران نقل و حمل پیش آنے والے خطرات کے مقابلہ کے لیے سامان کا بیمہ کراتا ہے۔ ایکسائز کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد سامان کو کسٹم کلیئرنس کے لیے متعلقہ بندرگاہ کو بھیجا جاتا ہے ۔ چونکہ کلیئرنس حاصل کرنا ایک پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے اس لیے برآمد کار اکثر و بیشتر اس کام کے لئے کلیئرنگ اینڈ فاروارڈنگ ایجنٹوں(C&F Agents) کو مقرر کرتے ہیں تاکہ مختلف کسٹم دستاویزات کی تیاری میں ان کی خدمات حاصل کر سکیں اور سامان کو کسٹم سے چھڑایا جا سکے۔
کسٹم سے مال چھڑانے کے بعد اور بندرگاہ کے افسران کو گودی کی فیس (Dock Change) اور جہاز راں کمپنی کو کرائے کی ادائیگی کرکے اشیا کو جہاز پر لاد دیا جاتا ہے۔ جہاز کا کپتان ایک میٹ رسید (Mate Receipt) جاری کرتاہے۔ یہ میٹ رسید، کرائے بھاڑے کی ادائیگی کے لیے شیپنگ کمپنی کے دفتر میں جمع کر دی جاتی ہے۔ مال بھاڑے کے حاصل ہونے کے بعد شیپنگ کمپنی لدان مل (Bill of Landing) جاری کرتی ہے جو شپنگ کمپنی کے ذریعہ اشیا کے جہاز پر لدوانے سے متعلق معاہدے کی ایک دستاویز ہے۔ سامان کو جب روانہ کر دیا جاتا ہے تو برآمد کار اس سے متعلق ایک نرخ نامہ(Invoice) تیار کرتا ہے اور اپنےبینک کے ذریعہ درآمدکار کو ضروری دستاویزات بھیجتا ہے۔ یہ دستاویزات نرخ نامہ کی تصدیق شدہ نقل ،لدان بل ،پیکنگ لسٹ ،بیمہ پالیسی ، اساسی دستاویز، ساکھ نامہ اور زر مبادلہ بل پر مشتمل ہوتی ہے۔ درآمد کار کے ذریعہ زر مبادلہ بل پر مشتمل ہوتی ہے۔ درآمد کار کے ذریعہ زر مبادلہ بل کی منظوری حاصل ہونے پر دستاویزات درآمدکار کے حوالے کردی جاتی ہیں تاکہ وہ درآمد شدہ اشیا کو حاصل کر سکے۔ جب رقم ادا کی جاتی ہے تو برآمد کار اپنے بینک سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اسے ادائیگی کا سرٹیفکٹ جاری کرے۔ادائیگی کا سرٹیفکٹ ایک ایسی دستاویز ہے جو تصدیق کرتی ہے کہ برآمدی سودے کی تکمیل ہو گئی اور رقم کی ادائیگی بھی ہو گئی ہے۔
درآمدات کے طریقہ کار:   درآمد کرنے کا طریقہ بھی بہت سی کارروائیوں پر محیط ہے۔ یہ عمل برآمد کرنے والی فرموں کی تلاش سے شروع ہوتا ہے۔ پھر اشیا کو قیمت اور برآمد کی شرائط سے متعلق پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع ہو تاہے۔ برآمد کرنے والی فرم کے انتخاب کے بعد درآمدکار(امپورٹر)،برآمدکار (ایکسپورٹر) سے باضابطہ نرخ نامہ(Invoice) منگواتا ہے جسے نرخ نامہ کا خاکہ(Proforma Invoice) کہا جاتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو درآمد کار ، درآمدی کا خاکہ(Proforma Invoice) کہا جاتا ہے۔اگر ضرورت ہو تو درآمدکار، درآمدی لائسینس حاصل کرنے کی کارروائی کرتا ہے۔ یہ لائسینس ،ڈائرکٹوریٹ جنرل فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی ) یا ریجنل امپورٹ ایکسپورٹ لائسنسنگ اتھارٹی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ درآمدکار،امپورٹ کوڈ نمبر کے حصول کے لئے بھی درخواست دیتا ہے۔ درآمدکار،امپورٹ کوڈ نمبر کے حصول کے لیے بھی درخواست دیتا ہے۔ درآمدکار، امپورٹ کوڈ نمبر کے حصول کے لیے بھی درخواست دیتا ہے۔ درآمد سے متعلق زیادہ تر دستاویزات میں یہ کوڈ نمبر دینے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ درآمد کے لیے رقم کی ادائیگی میں غیر ملکی کرنسی کا ایک ضابطہ ہوتا ہے اس لیے درآمد کار کو ضرورت کے مطابق غیر ملکی زر مبادلہ کی منظوری کے لیے کسی مجازبینک میں درخواست دینی ہوتی ہے۔
امپورٹ لائسنس حاصل کر لینے کے بعد درآمد کار ،اشیا کی درآمد کے لیے برآمد کار کو یہ آرڈر یا انڈینٹ دیتا ہے کہ وہ اسے مخصوص اشیا سپلائی کرے۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق اگر ضروری ہو تو درآمدکار، برآمدکار کے لیے بینک سے ساکھ کا پروانہ(Letter of Credit) جاری کروانے کا انتظام کرتا ہے۔ درآمدکار کو شپ منٹ(Shipment) کے مطابق اشیا جہاز پر لدوانے کے بعد برآمدکار ضروری دستاویزات کا ایک سیٹ بھیجتا ہے۔ ان دستاویزات میں زرمبادلہ بل،(Bill of Exchange)،نرخ نامہ (Invoice)، مال کی بلٹی ،پیکنگ لسٹ ،اساسی دستاویز،بحری بیمہ پالیسی وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ یہ دستاویز،درآمدکار کو اشیا کے منزل مقصود کی بندرگاہ پر پہنچنے کے بعد ان کے حصول کا حقدار بناتی ہے۔ برآمدکار، ان دستاویزات کو اپنے بینک کی وساطت سے درآمدکار کو ارسال کرتا ہے۔ بینک ان دستاویزات کو درآمدکار کو دیتا ہے اور پھر زر مبادلہ بل پر اس کی منظوری حاصل کرنے کے بعد دستاویزات کو درآمدکار کے حوالے کردیتا ہے۔ 
درآمد کرنے والے ملک میں اشیا کے پہنچ جانے کے بعد باربرداری (بحری جہاز/ہوائی راستہ)کا انچارج درآمدشدہ اشیا کی عام فہرست تیار کر تا ہے۔اس کے ذریعہ وہ گودی پر انچارج آفیسر کو اطلاع دیتا ہے کہ مال ، درآمد کرنے والے ملک کی بندر گاہ پر پہنچ گیاہے۔ درآمد کرنے والا یا اس کا  C&F Agent ، شپنگ کمپنی کو کرایہ بھاڑا (اگر برآمد کار کے ذریعہ پہلے ادانہ کیا گیا ہو تو ) ادا کرتا ہے اور اس سے ڈلیوری کا آرڈر حاصل کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ درآمدکار بندرگاہ سے اپنا مال حاصل کرنے کا حقدار ہو جاتا ہے۔اسی وقت بندرگاہ کی گودی کے اخراجات بھی ادا کرنے پڑتے ہیں اور پورٹ ٹرسٹ کی واجب الادا رقم ادا کرکے اس سے رقم کی ادائیگی کی رسید حاصل ہوتی ہے۔ درآمدکار اس کے بعد ایک فارم بھرتا ہے جسے بل آف انٹری کہتے ہیں۔ یہ بل کسٹم امپورٹ ڈیوٹی کا حساب لگانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ درآمداتی محصول (امپورٹ ڈیوٹی) کی ادائیگی کے بعد داخلہ بل کو گودی کے سپریٹنڈنٹ کے پاس اشیا کی جانچ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ اشیا کی جانچ کرنے والا داخلہ میں اپنی رپورٹ دیتا ہے۔درآمد کار یا اس کی طرف سے مقرر کردہ ایجنٹ، مال چھڑانے کا آرڈر جاری کرانے کے لیے بندرگاہ کے افسران کو داخلہ بل(Bill of Entry) پیش کرتا ہے۔

مشقیں

مختصر جوابی سوالات

بین الاقوامی تجارت اور بین الاقوامی کاروبار میں فرق واضح کیجیے؟
بین الاقوامی کاروبار کے کوئی تین فوائد بیان کیجیے ؟
قوموں کے درمیان تجارت کا کیا خاص سبب ہوتا ہے؟
یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ اجازت طلبی (لائسنسنگ )، عالمی سطح پر توسیع کاآسان ترین راستہ ہے؟
ٹھیکہ پر مینو فیکچرنگ اور بیرون ملک پوری ملکیت والی ذیلی پیداواری اکائی کے قیام میں فرق واضح کیجیے؟
برآمداتی لائسنس کے حصول میں شامل کارروائیوں کو بیان کیجیے؟
برآمد فروغ کونسل (ایکسپورٹ پروموشن کونسل) میں خود کو درج رجسٹر کروانا کیوں ضروری ہے؟
برآمداتی فرم کے لیے اپنے سامان کو جہاز پر لدائی سے قبل معائنہ کرانا کیوں ضروری ہے؟
لدان کا بل کیا ہوتا ہے؟ یہ داخلہ بل سے مختلف کس طرح ہے؟
10۔ میٹ رسید کے معنی کی وضاحت کریں؟
11۔ ضمانت نامہ کیا ہوتا ہے؟ برآمد کار کو اس دستاویز کی کیوں ضرورت ہوتی ہے؟
12۔ برآمدات کے لیے ادائیگی کو یقینی بنانے کے عمل پر تبادلہ خیال کریں۔

طویل جوابی سوالات

’’بین الاقوامی کاروبار،بین الاقوامی تجارت کے مقابلہ میں زیادہ وسیع ہے۔تبصرہ کیجیے۔
فرمیں بین الاقوامی کاروبار میں داخل ہو کر کیا فائدے حاصل کرتی ہیں؟
بیرون ملک مکمل ملکیت والی ذیلی اکائی قائم کرنے کے مقابلہ میں برآمدات،بین الاقوامی منڈیوں میں داخل ہونے کا آسان ترین راستہ کس طرح ہے؟
ریکھا گارمینٹس کو آسٹریلیا میں واقع سوئیفٹ امپورٹ لمیٹڈ کو 2000مردانہ ٹروزرس(پائیجامہ) برآمد کرنے کا آرڈر ملا ہے۔ اس ضمن میں ریکھا گارمینٹس کو برآمدی آرڈر کی بجا آوری کے لیے کس طریقہ کار کی ضرورت ہوگی ۔ اس پر اظہار خیال کیجیے؟
آپ کی فرم،کناڈا سے ٹکسٹائلز مشینری درآمد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کی درآمد کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کی وضاحت کیجیے؟
ملک کی غیر ملکی تجارت کے فروغ کے لیے حکومت کے ذریعہ جو مختلف تنظیمیں قائم کی گئی ہیں ان کی نشاندہی کیجیے؟
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کیا ہے۔ اس کے مختلف مقاصد اور کام کاج کے بارے میں بتائیں؟
عالمی ادارہ تجارت (ڈبلیو ٹی او) کی خصوصیات ، ساخت، مقاصد اور کاموں پر تفصیلی نوٹ لکھئے؟

پروجیکٹ—  عالمی تجارت میں ہندوستان

دیے گئے اعداد و شمار کاپورے احتیاط کے ساتھ مطالعہ کریں۔ یہ اعداد و شمار عالمی تجارت میں ہندوستان کی کارکردگی سے متعلق ہیں۔ حکومت ہند نے حال ہی میں ’میک ان انڈیا‘ ، ’ڈجیٹل انڈیا‘‘،اسکل انڈیا ‘‘ جیسے اقدامات کیے  اورجس نے برآمدات و درآمدات اور تجارتی توازن کے اعتبار سے ہندوستان کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
جدول 1میں دنیا کی بڑی معیشتوں کے بیچ ہندوستان کی پوزیشن کو دکھایا گیا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کے عالمی پس منظر میں  سال 2017سے سال2005کےدرمیان ہندوستان کے مقام سے متعلق رجحان پرایک رپورٹ تیارکریں۔

جدول 1


نمبر   ممالک   عالمی تجارت میں فیصد شیئر
1     ریاستہائے متحدہ 
24.3
2  چین   14.8
3 جاپان    5.9
4   جرمنی    4.5
5  یونائٹڈکنگڈم 3.9
6  فرانس 3.3
7  ہندوستان   2.8
8   اٹلی  2.5
9  برازل 2.4
10  کناڈا  2.1
ماخذ: عالمی بینک 2018


                                    
1  
20
22
23
24
25
26