Skip to content
5165CH01


اکائی 1 

                                

کیمسٹری کے کچھ بنیادی تصورات

(Some Basic Concepts of Chemistry)

مقاصد

 اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ   :

علم کیمیا کے فروغ میں ہندوستان کی شراکت داری کو پہچان سکیں گے۔زندگی کے مختلف شعبوں میں کیمسٹری کے کردار کو سمجھ  سکیں  اور اس کی قدر کر سکیں؛

 مادہ کی تین حالتوں کی خصوصیات کی وضاحت کر سکیں؛  

مختلف اشیا کی عناصر، مرکبات اور آمیزوں میں درجہ بندی کر سکیں؛   

•      سائنسی ترسیم (Notation) استعمال کرسکیں با معنی ہندسے (Significant Figures) معلوم کر سکیں؛  

•      ہوبہودرستگی(Precision) اور درستگیٔ صحت (Accuracy) میں فرق کر سکیں؛

•      SI اساسی اکائیوں کی تعریف کر سکیں اور فہرست تیار کر سکیں؛

•      طبعی مقداروں کو ایک نظامِ اکائی سے دوسرے نظامِ اکائی میں تبدیل کر سکیں؛

•       کیمیائی اتحاد (Chemical Combination) کے مختلف قوانین کی وضاحت کر سکیں؛

•       عنصری کمیت، اوسط نمصری کمیت، سالمی کمیت اور ضابطہ کمیت کی اہمیت کی قدر کر سکیں۔

•       اصطلاحات: مول اور مولر کمیت، بیان کر سکیں؛  

•       ایک مرکب کو تشکیل دینے والے مختلف عناصر کی فی صد کمیت کا حساب لگا سکیں؛  

•      دیے ہوئے تجرباتی آنکڑوں سے ایک مرکب کا ایمپیریکل فارمولہ (Empirical Formula) اور سالماتی ضابطہ (Molecular Formula) معلوم کر سکیں؛

 •     تناسب پیمائی (Stoichometric) کی تحسیب کرسکیں۔ 

کیمسٹری سالمات اور ان کے تبدّل (Transformation) کی سائنس ہے۔ یہ صرف سو عناصر کی سائنس ہی نہیں ہے بلکہ ان لاتعداد قسم کے سالمات کی سائنس ہے جو ان سے بنائے جاسکتے ہیں۔                                                  رولڈہوف مان

سائنس کو ، فطرت کو سمجھنے اور بیان کرنے کے لیے علم کومنظم کرنے کی انسان کی مسلسل جدو جہد کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ آپ نے اپنی پچھلی جماعتوں میں پڑھا ہے کہ ہمیں اپنی روز مرہ کی زندگی میں فطرت میں موجود مختلف چیزوں اور تبدیلیوں سے سابقہ پڑتا ہے ۔ دودھ سے دہی کا بننا، ایک طویل عرصے تک گنے کے رس کو رکھنے پر سرکہ کا بننا اور لوہے پر زنگ لگنا وغیرہ ایسی کچھ مثالیں ہیں جن سے اکثر ہمارا سابقہ پڑتا ہے۔ سہولت کے لئے سائنس کو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ علمِ کیمیا ، علم طبیعات ، علم حیاتیات، علمِ ارضیات وغیرہ ۔ سائنس کی وہ شاخ جس میں ہم مادّی اشیا کی تیاری ، خصوصیات ، بناوٹ اور تعاملات کا مطالعہ کرتے ہیں، علمِ کیمیا کہلاتی ہے۔ 

علمِ کیمیا کا فروغ: Development of Chemistry

کیمسٹری ، جیسا کہ آج ہم جانتے ہیں کہ کوئی بہت پرانا علم نہیں ہے۔کیمسٹری کا مطالعہ اس کے لئے نہیں کیا جاتا تھا بلکہ یہ دو بہت دلچسپ چیزوں کی تلاش کے نتیجے میں نکلی ہے۔ 

(i)پارس پتھر جو لوہا ہے اور تانبہ جیسی دھاتوں کو سونے میں بدل سکتا تھا۔

 (ii) آبِ حیات(Elexir of Life) جو انسان کو لافانی بنا سکتی تھی۔

زمانۂ قدیم میں ہندوستان کے لوگ سائنس کے بہت سے مظاہر کی معلومات جدید سائنس آنے سے بہت پہلے سے رکھتے تھے۔ علمِ کیمیا نے1600 -1300صدی عیسوی میں الکیمیا اور آئٹر و کیمسٹری کی شکل میں فروغ پایا ۔ عربوںنے علم کیمیا کو الکیمیا کی روایت کے ذریعہ یوروپ میں متعارف کروایا ۔ چند صدیوں بعد 1800صدی عیسوی کے یوروپ میں جدید کیمسٹری نے اپنی ہیئت اختیار کی ۔ 

دوسری تہذیبوں خاص طور پر چین اور ہندوستان کی اپنی الکیمیا ئی روایتیں تھیں جس میں کیمیائی تکنیکوں اور اعمال کا علم شامل تھا ۔ 

قدیم ہندوستان میں کیمسٹری کو رسائن شاستر ، ’رس تنتر ، رَس کِریا یا رَس وِدیا کہا جاتا تھا ۔ اس میں فلزکاری ، دوائیں، آرائشی سامان ،شیشہ ، رنگ و روغن وغیرہ شامل تھے۔

 سندھ میں موہن جودڑو اور پنجاب میں ہڑپّا کی کھدائی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہندوستان میں عِلم کیمیا کے فروغ کی داستان بہت پرانی ہے۔ آثاریات کے نتائج یہ دکھاتے ہیں کہ عمارت کو بنانے کے لئے پکی ہوئی اینٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ اس میں بڑے پیمانے پرمٹی کی اشیاء کی صنعتی پیداوار کو دکھایا گیا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ سب سے پہلے استعمال ہونے والے کیمیائی اعمال جس میں بڑے پیمانوں پر مادّوں کو ملانا، ڈھالنا اور آگ کا استعمال کرکے اپنی خواہش کے مطابق خصوصیات حاصل کرنے کا استعمال کیا جاتا تھا۔ پالش کی ہوئی مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے موہن جودڑو سے ملے ہیں۔ جپسم سیمنٹ کا استعمال تعمیری کاموں کے ٹکڑے شامل ہوتے تھے۔ (Ca Co3)میں ہوتا تھا ۔ اس میں چونا ، ریت اورکیلشیم کاربونیٹ  ہرپّن نے منقش چینی کے ظروف ، (ایک قسم کا گلاس (شیشہ) جو سجاوٹ کے لئے استعمال ہوتا تھا ) بنائے تھے ۔ وہ سیسہ ، چاندی ،سونا، تانبہ جیسی دھاتوں کو پگھلا کر مختلف قسم کی چیزیں بناتے تھے۔ انھوں نے صناعی کے نمونے بنانے کے لئے تانبہ میں قلعی (ٹِن) اور آرسینک ملا کر اس کی سختی کو بڑھا لیا تھا ۔ جنوبی ہندوستان کے ماسکی علاقہ (900-1000 ق م) اور ہستنا پور اور ٹیکسلہ (200-1000 ق م) میں شیشہ کی اشیاء پائی گئی ہیں۔ رنگ دینے والے گماشتہ جیسے دھاتوں کے آکسا ئیڈ وغیرہ کو ملا کر شیشوں کو رنگین بنایا جاتا تھا۔ 

ہندوستان میں تانبہ کی فِلز کاری کی تاریخ برِ صغیر میں ماقبل تاریخی دور کی تہذیب چلکو لِتھک کلچر (Chalcolithic Culture) کی ابتدا تک جاتی ہے۔ آثاریت کے ایسے بہت سے ثبوت ملتے ہیں جو اس نظریہ کی حمایت کرتے ہیں جیسا کہ تانبہ اور لوہے کو زمین سے نکالنے کی تکنیک مقامی طور پر فروغ دی تھی۔

رِگ وید کے مطابق چمڑے کی دبّاغی(رنگائی) اور سوت کی رنگائی کا استعمال 400-1000 ق م میں ہوتا تھا ۔ شمالی ہندوستان کے سیاہ پالِش شدہ برتنوں کی سنہری چمک کی آج تک نقل نہیں کی جا سکی اور ابھی تک یہ ایک کیمیائی معمہ ہے ۔ یبرتن اس مہارت کو بتاتے ہیں جس کی بدولت بھٹیوں کے درجہ حرارت کو کنٹرول کیا جاتا تھا ۔ کوٹلیہ کا ارتھ شاستر پانی سے نمک بنانے کی ترکیب بیان کرتا ہے۔ قدیم ویدک ادب میں واضح کئے گئے بہت سے بیانات اور اشیاء آج کی جدید سائنس سے اتفاق کرتے ہوئے دکھائے جا سکتے ہیں۔ تانبہ کے برتن لوہے، سونے، چاندی کے زیورات ٹیر یکوٹا کی پلیٹیں اور رنگے ہوئے سرمئی برتن وغیرہ شمالی ہندوستان کے متعدد آثاریاتی مقامات میں پائے گئے ہیں۔ چارک سہتہ میں قدیم ہندوستانیوں کا ذکر ملتا ہے جو گندھک کا تیزاب (سلفیورک ایسڈ) نائٹرک ایسڈ ، تانبہ ،ٹِن اور جستہ کے آکسائڈ ، تانبہ ، جستہ اور لوہے کے سلفیٹ اور سیسہ اور لوہے کے کاربونیٹ کو بنانا جانتے تھے۔ راس اپنشد بندوق کے پاؤڈر کی تیاری کو بیان کر تا ہے۔ تامل کتابوں میں بھی سلفر ،چار کول ، سالٹ پیٹر (پوٹاشیم نائٹریٹ) مرکری (پارہ)اور گندھک کے استعمال سے آتش بازی کے سامان کی تیاری کا ذکر ملتا ہے۔ 

ناگ ارجن ایک عظیم ہندوستانی سائنس داں تھا۔ وہ ایک مانا ہوا کیمیا داں،الکیمسٹ اورفلز کار تھا ۔ اس کے کام رَس رتنا کا (Rasratnaka) کا تعلق پارے کے مرکبات بنانے سے تھا ۔ اس کے سونے ، چاندی ،ٹن اور تانبہ جیسی دھاتوں کی تلخیص سے متعلق طریقوں پر بھی بحث کی ہے۔ایک کتاب سرناوَم (Sarnavam) 800صدی عیسوی کے قریب شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ دھاتوں کو لَونگ سے پہچانا جا سکتا ہے۔ 

چکر ائینی نے پار ے کے سلفائڈ دریافت کئے تھے۔ صابن تیار کرنے کا اعزاز بھی انہی کو جاتا ہے۔ اس نے سرسوں کا تیل اور کچھ الکلی کے اجزاء کو صابن بنانے کے لئے استعمال کیا تھا۔ ہندوستان میں صابن بننے کی ابتدا 18ویں صدی عیسوی میں ہوئی ۔ارنڈ کا تیل اور مہوہ پودے کے بیج اور کیلشیم کاربونیٹ صابن بنانے میں استعمال ہوتے تھے۔ 

اجنتا اور الورا کی دیواروں پر رنگوں سے بنائی گئی تصاویر جو عرصۂ دراز کے بعد بھی تازہ نظر آتی ہیں، اس بات کی دلیل ہیں کہ قدیم ہندوستان  نے اعلیٰ سطح کی سائنس کو حاصل کیا تھا ۔ وراہمیہر(Varahmihir) کی برہت سمہتہ ایک قسم کی انسا ئیکلوپیڈیا ہے جو چھٹی صدی عیسوی میں تیار کی گئی تھی۔ گھروں اور مندوں کی چھتری اور دیواروں پر لگائے جانے والے لیس دار مادّوں کی تیاری کے بارے میں بتاتی ہے۔ اس کو بنانے میں صرف مختلف پودوں، پھلوں، بیجوں اور پیڑوں کی چھالوں کے کشید استعمال ہوتے تھے جن کو ابا ل کر کثیف بنایا جاتا تھا اور پھر مختلف قسم کے نباتاتی گوند ان پر استعمال کئے جاتے تھے۔ ایسے مادّوں کی سائنسی طریقوں سے جانچ کرنا اور استعمال کے لئے آنکنا بھی بہت دلچسپ ہو گا۔ 

کلاسیکی کتابیں جیسے ارتھ وید (1000ق م )میں کچھ رنگنے والے مادّوں کا ذکر ملتا ہے ۔ ان استعمال کئے جانے والے مادّوں میں ہلدی ، مجیٹھا(مدار،زرد پھولوں والا پودا)۔گیندے کے پھول ، ہرتال(زرد سنکھیا)، کھانے میں استعمال ہونے والا سرخ رنگ اور لاکھ وغیرہ شامل تھے۔ دوسرے کچھ اور مادّے جن میں سفیدہ ملے ہوئے روغن کی صلاحیت تھی وہ کمپلیکا (Kamplica) ، پتنگہ(Pattanga) اور جاٹوکا (Jatuka) تھے۔وریہ میر کی برہت سمہتہ میں عطراور حسن افزاء (کاسمیٹک)بالوں کو رنگنے کے لئے نیل کی قسم جیسے پودے اورلوہے کا پاؤڈر ، سیاہ لوہے یا اسٹیل جیسی معدنی اشیا اور کھٹے چاول کے دلیہ کا تیزابی کشید استعمال کئے جاتے تھے۔ خوشبوؤں ، دہن کے لئے عطر، نہانے کا پاؤڈر ،اگر بتی اور ٹیلکم پاؤڈر بنانے کا طریقہ گندھا یولکی(Gandhynlki) میں بیان کیا گیا ہے۔ چینی سیاح آئی ژے تنگ کے بیان کے مطابق ہندوستان 17ویں صدی میں کاغذ سے متعارف تھا ۔ ٹیکسلہ میں کھدائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستان میں چوتھی صدی عیسوی سے روشنائی کا استعمال ہوتا تھا ۔ روشنائی کے رنگ چاک ،سرخ سیسہ اور المونیم سے بنائے جاتے تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ خمیر کے عمل سے بھی ہندوستانی بخوبی واقف تھے۔ویدوں اور کوٹلیہ کے ارتھ شاستر میں مختلف قسم کی شرابوں کا ذکر ملتا ہے۔ چکر سمہتہ میں بھی ایسے اجزاء مثلاً پیڑوں کی چھال،تنے، پھول ،پتی، لکڑی ،دالیں،پھل اور گنے کا آساوس (Asavas) بنانے میں ذکر ملتا ہے۔

یہ تصور کہ مادّہ منفرد بلڈنگ اکائیوں سے مل کر بنتا ہے، ہندوستان میں ق م سے چند سالوں پہلے فلسفہ کے اندازے کی شکل میں ظاہر ہوا تھا ۔ اچاریہ کانڈا جو 600ق م میں پیدا ہوئے تھے، جو اپنے ابتدائی نام کشیپ سے پہچانے جاتے تھے، ایٹمی نظریہ کے پہلے بانی تھے۔ انھوں نے یہ نظریہ قائم کیا تھا کہ مادہ بہت چھوٹے چھوٹے ذرات (جن کو ایٹم سے مشابہ کیا جا سکتا ہے)سے مل کر بنا ہے جو مزید تقسیم نہیں کیے جا سکتے۔ ان کو اس نے پرمانو کا نام دیا تھا ۔ انھوں نے ایک کتاب وسیشکا سوتر(Vaiseshika Sutra) لکھی۔ اس کے مطابق تمام اشیا چھوٹی اکائیوں جن کو پرمانو کہا جاتا ہے، سے مل کر بنی ہیں، جو لافانی ہیں۔انہیں تباہ نہیں کیا جا سکتا ۔ گول اور بالا معقول ہوتی ہیں اور اپنی اصلی حالت میں گردش میں رہتی ہیں۔ اس نے وضاحت کی کہ یہ منفرد اشیا ء انسانی اعضاء سے محسوس نہیں کی جا سکتی ہیں۔ کنڈا نے مزید اضافہ کیا کہ ایٹموں کی اتنی ہی مختلف شکلیں ہیں جتنی کہ اشیاء کی مختلف جماعتیں ہوتی ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہ پرمانو جوڑے یا تگڑی بناتے ہیں اور دوسرے اتحاد میں نادیدہ قوتیں ان کے درمیان تعامل پیدا کرتی ہیں۔ اس نے یہ نظر یہ ڈالٹن (1766-1844) سے 2500 سال پہلے قائم کیا تھا۔ 

چرک سمہتہ ہندوستان میں سب سے پرانا آیورویدک ایپک ہے۔ اس میں بیماریوں کے علاج کی وضاحت کی گئی ہے۔ چرک سمہتہ میں دھاتوں کو ذرات کی شکل میں تخفیف کرنے کے عمل کے تصور کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ذرات کے انتہائی چھوٹے (تخفیف شدہ) ذرات میں تبدیل کرنے کو نینو ٹیکنا لوجی کہا جاتا ہے۔ چرک سمہتہ بیماریوں کے علاج کے لئے ، دھاتوں کے بھسم کے استعمال کو بیان کرتا ہے۔ آج کل یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بھسم میں دھاتوں کے نینو ذرات پائے جاتے ہیں۔ 

الکیمیاکے زوال کے بعد آئیٹر و کیمسٹری ایک متوازی حالت میں پہنچ گئی۔ بیسویں صدی کے مغربی معالجی نظام کے تعارف اور پریکٹس کی بدولت یہ بھی زوال پذیر ہو گئی۔ جمود کے اس دور میں آیوروید پر منحصر دوا ساز کمپنیاں قائم رہیں۔ لیکن وہ بھی رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو گئی ۔ ہندوستانیوں کونئی تکنیک سیکھنے اور استعمال کرنے میں 100 سے 150 سال کا عرصہ لگا ۔ اس وقفہ میں باہر کے سامان آنا شروع ہو گئے اور اس کے نتیجے میں روایتی ہندوستانی طریقہ کار رفتہ رفتہ معدوم ہو گئے ۔ہندوستانی پس منظر میں جدید سائنس انیسویں صدی میں ظاہر ہوئی ۔ انیسویں صدی کے وسط میں یوروپین سائنسدانوں نے ہندوستان آنا شروع کیا اور جدید کیمسٹری نے فروغ پانا شروع کیا ۔ 

مندرجہ بالا بحث سے آپ یہ سمجھ سکے ہوں گے کہ کیمسٹری میں مادہ کی ترکیب (Composition)، ساخت (Structure) خصوصیات اور باہمی تعامل کا مطالعہ مادہ کے بنیادی اجزائے ترکیبی (Constituents) کی شکل میں کیا جاتا ہے اور یہ انسانوں کی روز مرہ (Moleculesکی زندگی میں بہت استعمال ہوتی ہے۔ مادہ کے اجزائے ترکیبی ایٹم اور سالمات )کی شکل میں ان کو بہترین طریقہ سے سمجھا اور بیان کیا جا سکتا ہے ۔ اس لیے کیمسٹری کو ایٹم اور سالمات کی سائنس کہا جاتا ہے۔ کیا ہم ان ذرات (Entities)کو دیکھ، تول یا محسوس کر سکتے ہیں؟ کیا مادہ کی ایک دی ہوئی کمیت میں ایٹموں اور سالمات کی تعداد شمار کرنا نیز کمیت اور ان ذرات (ایٹم اور سالمات) کی تعداد کے مابین مقداری رشتہ حاصل کرنا ممکن ہے؟ اس اکائی میں ہم ایسے کچھ سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ مزید، ہم یہ بھی بیان کریں گے کہ مادہ کی طبعی خاصیتیں، عددی قدروں کو مناسب اکائیوں کے ساتھ استعمال کر کے، مقداری شکل میں کیسے بیان کی جاسکتی ہیں۔

1.1 کیمسٹری کی اہمیت (Importance of Chemistry)

سائنس میں کیمسٹری ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور اکثر یہ سائنس کی دوسری شاخوں کے ساتھ گندھی ہوئی ہوتی ہے۔ کیمسٹری کے اصول مختلف علاقوں میں استعمال ہوتے ہیں جیسے کہ موسم کے پیٹرن ، دماغ کی کارکردگی، کمپیوٹر کے اعمال ، کیمیکل انڈسٹری میں تیار ہونے والی اشیا ،کیمیا ئی کھادوں کی پیداوار، الکلی ،تیزاب ، نمک ، رنگ ،پولیمر، دوائیں،صابن، ڈٹرجینٹ ، دھاتیں، بھرت وغیرہ اور اس میں نئے مادّے بھی شامل ہیں۔ 

کیمیائی اصول مختلف شعبوں میں اہمیت کے حامل ہیں مثلاً موسموں کی طرز، دماغ کی کارکردگی اور ایک کمپیوٹر کا عمل۔ وہ کیمیائی صنعتیں جن میں فرٹیلائزر، الکلی (Alkali)، تیزاب، نمک، رنگ (Dyes)، پالیمر (Polymer) دوائیں، صابن، ڈٹرجنٹ (Detergent)، دھاتیں، بھرت (Alloys) اور دوسرے غیر نامیاتی (Inorganic) اور نامیاتی (Organics)کیمیائی اشیا (Chemicals) تیار کی جاتی ہیں اور جن میں نئی اشیا بھی شامل ہیں، قومی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔

 کیمسٹری، انسان کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے، صحت کی دیکھ بھال سے متعلق اشیا تیار کرنے اور زندگی کو بہتر بنانے کے لیے درکار اشیا تیار کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ جس کی مثالیں ہیں: مختلف قسم کے کھادوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار اور حشرات کش (Insecticides) اور گھن مار (Pesticides) دواؤں کی تیاری۔ اسی طرح زندگی بچانے والی بہت سی دوائیں جیسے سس پلاٹن (Cisplatin) اور ٹیکسول (Taxol) جو کینسر کے علاج میں موثر ہیں اور AZT (ایزی دوتھائی مائی ڈائن) (Azidothymidine) جو AIDS کے شکار مریضوں کی مدد کے لیے استعمال ہوتی ہے، نباتاتی اور حیوانی وسیلوں سے الگ کرکے یا تالیفی طریقوں (Synthetic Methods) سے تیار کی جاتی ہیں۔

 کیمیائی اصولوں کی بہتر تفہیم کی بدولت ایسی نئی اشیا کا ڈیزائن تیار کرنا اور ان کی تالیف کرنا اب ممکن ہو گیا ہے، جن کی مخصوص مقناطیسی، برقی اور بصری خصوصیات ہوتی ہیں۔ اس طرح اب اعلیٰ موصلیت والے سیریمک (Ceramics)، موصل پالیمر اور بصری ریشے (Optical Fibres) بنانے اور ٹھوس حالت آلات (Solid State Devices) کو بڑے پیمانے پر مختصر شکل میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ کیمسٹری نے ایسی انڈسٹریز قائم کرنے مدد کی ہے جس میں قابلِ استعمال چیزیں مثلاً تیزاب، الکلی،رنگ،پولیجر ،دھاتیں وغیرہ تیار کی جاتی ہیں۔ یہ انڈسٹریاں قومی معیشت میں حصہ دار ہیں اور روز گار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

حالیہ برسوں میں کیمسٹری نے ماحولیاتی انحطاط (Environmental Degradation) کے سنگین پہلوؤں پر قابو پانے میں خاصی کامیابی حاصل کی ہے۔ ماحول کے لیے خطرہ بن چکے کلوروفلورو کاربن (جوکہ کرہ قائمہ میں اوزون پرت کے افراغ کے لیے ذمہ دار ہیں) جیسے ریفریجرنٹ کے محفوظ متبادل کامیابی کے ساتھ تالیف کیے جاچکے ہیں۔ پھر بھی، کئی بڑے ماحولیاتی مسائل ابھی بھی ماہرینِ کیمسٹری کے لیے سنجیدہ پریشانی کا باعث ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ میتھین، کاربن ڈائی آکسائڈ جیسی سبز گھر گیسوں کے انتظام سے متعلق ہے۔ حیاتیاتی کیمیائی عملوں کی تفہیم، کیمیائی اشیا اور نئے نو ساختہ مادوں کی بڑے پیمانے پر تیاری اور تالیف میں انزائموں کا استعمال کچھ ایسے ذی فہم چیلنجز ہیں جو نئی نسل کے کیمیادانوں کو درپیش ہیں۔ ہندوستان جیسے ایک ترقی پذیر ملک کو ایسے ہونہار خلاق (Creative) کیمیا دانوں کی ضرورت ہے جو ان چیلنجز کو قبول کر سکیں۔ 

ایک اچھا کیمیا داں بننے کے لئے اور ان تمام چیلنجز کو قبول کرنے کے لئے لازمی ہے کہ پہلے کیمسٹری کے بنیادی تصورات کی سمجھ پیدا ہو جو مادہ کے تصور سے شروع ہوتی ہے ۔ 

آئیے ہم مادّہ کی فطرت سے شروعات کرتے ہیں۔

1.2 مادّہ کی فطرت (Nature of Matter)

آپ اپنی پچھلی جماعتوں میں اصطلاح مادہ (Matter) سے پہلے ہی واقف ہو چکے ہیں۔ کوئی بھی شے، جس میں کمیت ہوتی ہے اور جو جگہ گھیرتی ہے، ’مادّہ‘ کہلاتی ہے۔ ہمارے اردگرد کی ہر ایک چیز مثلاً کتاب، قلم، پنسل، پانی، ہوا، تمام جاندار اشیا وغیرہ مادہ سے بنی ہوئی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ان سب میں کمیت ہوتی ہے اور یہ سب اشیا جگہ گھیرتی ہیں۔

آئیے ہم مادّہ کی حالتوں کی ان خصوصیات کو دہرائیں جو آپ اپنی پچھلی جماعتوں میں پڑھ چکے ہیں۔ 

گیس 

رقیق

ٹھوس

27

شکل 1.1:  ٹھوس، رقیق اور گیسی حالت میں ذرات کی ترتیب

1.2.1 مادّہ کی حالتیں : States of Matter

آپ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ مادہ تین طبعی حالتوں میں پایا جاتا ہے یعنی ٹھوس، رقیق اور گیس۔ ان تینوں حالتوں میں مادہ کے ترکیبی ذرات (Constituent Particles) کو شکل 1.1 کی طرح ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

ٹھوس اشیا میں یہ ذرات ایک دوسرے کے بہت نزدیک ایک ترتیب شدہ طرز میں ہوتے ہیں اور حرکت کرنے کی کچھ زیادہ آزادی نہیں ہوتی۔ رقیق میں، یہ ذرات ایک دوسرے کے نزدیک ہوتے ہیں لیکن وہ اردگرد حرکت کر سکتے ہیں۔ جب کہ گیسوں میں یہ ذرات ٹھوس یا رقیق کے مقابلے میں ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں اور ان کی حرکت آسان اور تیز ہوتی ہے۔ ذرات کی اس طرح کی ترتیب کے باعث مادہ کی مختلف حالتیں مندرجہ ذیل خصوصیات ظاہر کرتی ہیں:

(i) ٹھوس اشیا کا حجم اور شکل مقرر ہوتی ہے۔

(ii) رقیق اشیا کا حجم تو مقرر ہوتا ہے، لیکن شکل مقرر نہیں ہوتی۔ یہ اس برتن کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جس میں انھیں رکھا جاتا ہے۔

(iii) گیسوں کا نہ تو حجم مقرر ہوتا ہے اور نہ ہی شکل مقرر ہوتی ہے۔ یہ پوری طرح سے اس برتن میں پھیل جاتی ہیں، جس میں انھیں رکھا جاتا ہے۔

مادہ کی ان تینوں حالتوں کو، درجہ حرارت اور دباؤ کے حالات کو تبدیل کرکے آپس میں بدلا جاسکتا ہے۔

گیس        گرم کر کے         رقیق           گرم کر کے

            ٹھنڈا کر کے                        ٹھندا کر کے                  ٹھوس

28

ایک ٹھوس گرم کرنے پر، عام طور سے رقیق میں اور مزید گرم کرنے پر رقیق، گیس (یا ابخرات) حالت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس گیس کو ٹھنڈا کرنے پر یہ رقیق میں تبدیل ہو جاتی ہے جوکہ مزید ٹھنڈا کرنے پر ٹھوس شکل اختیار کرلیتی ہے۔

1.2.2 مادّہ کی درجہ بندی (Classification of Matter)

(Chapter)جماعت کے باب  2 IX

 میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب کسی مادے کے تمام ذرات اپنی کیمیائی خصوصیات میں ایک جیسے ہوں،اس کو اصل(خالص) مادہ کہتے ہیں۔ایک آمیزے میں مختلف قسم کے مادّے پائے جاتے ہیں۔ اجمالی (Macroscopic) یا جسیم (Bulk) سطح پر مادہ کی درجہ بندی ’آمیزہ‘ (Mixture) یا ’خالص شے‘ کے تحت کی جاسکتی ہے۔ ان کو مزید اس طرح تقسیم کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ شکل 1.2 میں دکھایا گیا ہے۔

مادہ
آمیزے خالص اشیا
متجانس آمیزے غیر متجانس آمیزے مرکبات عناصر

شکل 1.2:  مادّہ کی درجہ بندی 

آپ کے اطراف میں پائی جانے والی زیادہ تر اشیا ’آمیزے‘ (Mixtures) ہیں۔ مثال کے طور پر پانی میں چینی کا محلول، ہوا، چائے وغیرہ سب آمیزہ ہیں۔جب کسی مادّے کے تمام ذرات اپنی کیمیائی خصوصیات میں ایک جیسے ہوں، اس کواصل (خالص) مادّہ کہتے ہیں۔ ایک آمیزے میں مختلف قسم کے مادّے پائے جاتے ہیں۔اس لئے اس کی ترکیب یکساں نہیں ہوتی۔ ایک آمیزہ متجانس (Homogenous) بھی ہو سکتا ہے اور غیر متجانس (Heterogeneous) بھی۔ متجانس آمیزہ میں اجزا ایک دوسرے میں مکمل طور پر ملے ہوتے ہیں اور پورے آمیزہ میں اس کی ترکیب یکساں ہوتی ہے۔ چینی کا محلول اور ہوا یا چائے متجانس آمیزے کی مثالیں ہیں۔ اس کے برخلاف، غیر متجانس (Heterogenous) آمیزوں میں، ترکیب (Composition) پورے آمیزے میں یکساں نہیں ہوتی اور کبھی کبھی مختلف ترکیب بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر نمک اور چینی، اناج اور دالیں، جن میں کچھ گندگی بھی شامل ہوتی ہے (جو اکثر پتھر ہوتے ہیں)، غیرمتجانس آمیزے ہیں۔ آپ اپنی روزانہ زندگی سے آمیزوں کی ایسی اور کئی مثالیں سوچ سکتے ہیں۔ یہاں یہ بتادینا بھی فائدہ مند ہوگا کہ ایک آمیزے کے اجزا کو طبعی طریقوں کا استعمال کر کے علیحدہ کیا جاسکتا ہے، جیسے ہاتھ سے چن کر، چھان کر، تقطیر (Filter) کر کے، قلماؤ (Crystallization) کے ذریعے، کشید (Distillation) کے ذریعے وغیرہ۔

خالص اشیا کی خاصیتیں آمیزوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی ترکیب (Composition) معین ہوتی ہے۔ (جبکہ آمیزوں میں اجزائے ترکیبی کسی بھی نسبت میں ہو سکتے ہیں اور ان کی ترکیب متغیر (Variable) ہوتی ہے)۔ تانبہ، چاندی، سونا، پانی، گلوکوز، خالص اشیا کی کچھ مثالیں ہیں۔ گلوکوز میں کاربن، ہائڈروجن اور آکسیجن ایک مقررہ نسبت میں شامل ہوتے ہیں، اس لیے گلوکوز کی ترکیب بھی باقی تمام خالص اشیا کی طرح معین ہوتی ہے۔ مزید خالص اشیا کے اجزائے ترکیبی سادہ طبعی طریقوں سے علیحدہ نہیں کیے جاسکتے۔

خالص اشیا کی مزید درجہ بندی عناصر (Elements) اور مرکبات (Compounds) کے تحت کی جاسکتی ہے۔ ایک عنصر صرف ایک ہی قسم کے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ذرات ایٹم (Atom) یا سالمات (Molecules) ہو سکتے ہیں۔ غالباً آپ اپنی پچھلی جماعتوں میں ایٹم اور سالمات سے واقفیت حاصل کرچکے ہیں۔ پھر بھی اکائی 2 میں آپ ان کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے۔ سوڈیم،تانبہ، چاندی، ہائڈروجن، آکسیجن وغیرہ عناصر کی کچھ مثالیں ہیں۔ ان سب میں ایک ہی قسم کے ایٹم ہوتے ہیں۔ حالانکہ مختلف عناصر کے ایٹم اپنی طبع کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ تانبہ اور سوڈیم جیسے کچھ عناصر میں واحد ایٹم، ایک ساتھ رہ کر ان کے اجزائے ترکیبی ہوتے ہیں، جبکہ کچھ دوسرے عناصر میں دو یا دو سے زیادہ ایٹم متحد ہو کر عنصر کا سالمہ بناتے ہیں۔ اس لیے ہائڈروجن، نائٹروجن اور آکسیجن جیسی گیسیں سالمات پر مشتمل ہوتی ہیں، جن میں ان کے دو ایٹم مل کر سالمات بناتے ہیں۔ اسے شکل 1.3 میں دکھایا گیا ہے۔

جب دو یا دو سے زیادہ مختلف عناصر کے ایٹم آپس میں متحد ہوتے ہیں، تو مرکب (Compound) کا سالمہ حاصل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ مرکب کے اجزائے ترکیبی کو نسبتاً سادہ اشیا میں طبعی طریقوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کو کیمیائی طریقوں سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ مرکبات کی کچھ مثالیں ہیں: پانی، امونیا، کاربن ڈائی آکسائڈ، شکر وغیرہ۔ پانی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے سالمات شکل 1.4 میں دکھائے گئے ہیں۔

30

شکل 1.3: ایٹم اور سالمات کا اظہار

31

شکل 1.4:  پانی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے سالمات کا کا اظہار

آپ نے اوپر دیکھا کہ پانی کا ایک سالمہ دوہائڈروجن اور ایک آکسیجن ایٹم پرمشتمل ہے۔ اس طرح کاربن ڈائی آکسائڈ کا ایک سالمہ آکسیجن کے دوایٹم اور کاربن کے ایک ایٹم پرمشتمل ہوتا ہے۔ اس لیے ایک مرکب میں مختلف عناصر کے ایٹم ایک متعین اور مقررہ (Fixed and Definite) نسبت میں شامل ہوتے ہیں اور یہ نسبت اس مخصوص مرکب کی خصوصیت ہے۔ مزید مرکب کی خاصیتیں اس کے ترکیبی عناصر کی خاصیتوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہائڈروجن اور آکسیجن گیسیں ہیں مگر ان کے اتحاد سے بننے والا مرکب یعنی کہ پانی ایک رقیق شے ہے۔ یہ نوٹ کرنا بھی دلچسپ ہوگا کہ ہائڈروجن پاپ (Pop) کی آواز کے ساتھ جلتی ہے اور آکسیجن احتراق میں مدد کرتی ہے، لیکن پانی کو آگ بجھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

1.3مادہ کی خاصیتیں اور ان کی پیمائش (Properties of Matter and Their Measurement)

1.3.1 طبیعی اور کیمیائی خصوصیات : (Physical and Chemical Properties)

ہر ایک شے کی جداگانہ اور نمایاں خاصیتیں ہوتی ہیں۔ ان خاصیتوں کو دو زمروں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔ طبیعی خاصیتیں اور کیمیائی خاصیتیں۔

طبیعی خاصیتیں (Physical Properties) وہ خاصیتیں ہیں جن کی پیمائش یا مشاہدہ، شے کی شناخت (Identity) یا ترکیب کو تبدیل کیے بغیر کیا جاسکتا ہے۔ رنگ، بو، نقطہ گداخت (Melting Point)، نقطہ جوش (Boiling Point)، کثافت (Density) وغیرہ طبیعی خصوصیات کی کچھ مثالیں ہیں۔ کیمیائی خاصیتوں (Chemical Properties) کی پیمائش یا مشاہدہ کرنے کے لیے کیمیائی تبدیلی کا واقع ہونا ضروری ہے۔ کیمیائی خاصیتوں کی مثالیں ہیں: مختلف اشیا کے مابین خصوصی تعاملات، ان میں تیزابیت (Acidity) یا اساسیت (Basicity) اور احتراق پذیری (Combustibility) شامل ہیں۔طبیعی خصوصیات کی پیمائش کے لئے تبدیلی کا واقع ہونا لازمی نہیں ہے۔

1.3.2 طبیعی خصوصیات کی پیمائش (Measurment of Physical Properties)

مادہ کی کئی خاصیتیں جیسے لمبائی، رقبہ، حجم وغیرہ اپنی فطرت کے لحاظ سے مقداری ہیں۔ کسی بھی مقداری مشاہدہ یا پیمائش، کا اظہار ایک عدد اور اس اکائی میں کیا جاتا ہےجس میں اس کی پیمائش کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک کمرے کی لمبائی کو "6m " ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ یہاں '6' عدد ہے اور 'm' میٹر کو ظاہر کرتا ہے یعنی وہ اکائی جس میں لمبائی کی پیمائش کی جاتی ہے۔

پیمائش کے قومی معیاروں کو قائم رکھنا

اکائیوں کا نظام بہ شمول اکائی کی تعریفیں ،وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ جب بھی کسی مخصوص اکائی کی پیمائش کی درستگی صحت میں نئے اصولوں کو قبول کرنے سے خاطر خواہ اضافہ ہوا ، میٹر قرار داد (جس پر 1875میں دستخط کیے گئے) کی ممبر اقوام ، اس اکائی کی رسمی تعریف میں تبدیلی کرنے کے لیے رضا مند ہو گئیں۔ ہر ایک جدید صنعتی ملک ( جس میں ہندوستان بھی شامل ہے)، میں ایک نیشنل میٹیریولوجی انسٹی ٹیوٹ (National Metrology Institute, NMI) ہوتا ہے جو پیمائشوں کا معیار قائم رکھتا ہے۔ ہندوستان میں یہ ذمہ داری نیشنل فزیکل لیبوریٹری (Physical Properties) نئی دہلی کو دی گئی ہے۔ یہ تجربہ گاہ، بنیادی اکائیوں اور مشتق اکائیوں کو حاصل کرنے کے لیے تجربات کرتی ہے اور پیمائش کے قومی معیاروں کو قائم رکھتی ہے۔ ان معیاروں کا موازنہ، ایک دوری مدت کے بعد ، دنیا کے دوسرے ممالک میں قائم نیشنل میٹریولوجی انسٹی ٹیوٹ اور پیرس میں قائم معیاروں کے بین الاقوامی بیورو (National Metrology Institute, NMI) کے معیاروں سے کیا جاتا رہتا ہے۔ 

جدول 1.1:  اساسی طبعی مقداریں اور ان کی اکائیاں

SI اکائی کی علامت SI اکائی کا نام مقدار کی علامت اساسی طبعی مقدار
m
kg
s
K
mol
A
cd
  (Meter) میٹر
 (Kilogram)کلوگرام
 (Second)سیکنڈ
 (Kelvin)کیلون
 (Mole)ول
 (Ampere)ایمپیر
(Candela)کنڈیلا
I
m
t
T
n
I
Iv
 (Length)   لمبائی 
 (Mass)   کمیت
 (Time) وقت
  (Thermodynamic Temperature) حرحرکیاتی درجہ حرارت
(Amount of Substance)  شے کی مقدار
(Electric Current)   برقی ر
 (Luminous Intensity)  درخشاں شدت


میٹر،علامتm،لمبائی کی SIاکائی ہے ۔ اس کی تعریف و کیوم میں روشنی کی چال(c) کی مقررہ عددی قدر 299792458لے کر کی جاتی ہے جب کہ اسے ms-1 میں ظاہر کیا گیا ہو ، جہاں سیکنڈ کی تعریف سیزیم فریکوئنسی ..Ves کے ارکان میں کی جاتی ہے۔

کلوگرام ،علامت kg،کمیت کی SIاکائی ہے۔اس کی تعریف پلانک مستقلہ (h)کی مقررہ عددی قدر 6.66070015x10-34لے کر کی جاتی ہے جب کہ اسے Jsاکائی میں ظاہر کیا جاتا ہے جو kgm2s-1 کے مساوی ہے، جب کہ میٹر اور سیکنڈکی تعریف Cاور Ves  کے ارکان میں کی جاتی ہے۔
سیکنڈ ،علامت s،وقت کی SIاکائی ہے۔اس کی تعریف سیزیم فریکوئنسی Ves  (سیزیم 133ایٹم کی غیر مضطرب گرائونڈ اسٹیٹ ہائپرفائن عبوری فریکوئنسی ) کی مقررہ عددی قدر0 919263177 لے کر کی 
جاتی ہے جب کہ اسے Hzاکائی میں ظاہر کیا گیا ہو جو S-1کے مساوی ہے۔

ایمپیر،علامت A، برقی رو(کرنٹ) کی SIاکائی ہے۔ اس کی تعریف ایلیمنٹری چارج eکی مقررہ عددی قدر 1.602176634x10-19 لے کر کی جاتی ہے جب کہ اسے Cاکائی میں ظاہر کیا گیا ہو جو Asکے مساوی ہے، جب کہ میٹر اور سیکنڈ کی تعریف cاور Ves  کے ارکان میں کی جاتی ہے۔

کیلون،علامت K، حرحرکیاتی درجۂ حرارت کی SIاکائی ہے ۔ اس کی تعریف بولٹز مین مستقلہ Kکی مقررہ عددی قدر 1.380649x10-23 لے کر کی جاتی ہے جب کہ اسے JK-1  اکائی میں ظاہر کیا گیا ہو جو Kgm2s-2K-1کے مساوی ہے، جب کہ کلو گرام ،میٹر اورسیکنڈ کی تعریف h، cاورVes  کے ارکان میں کی جاتی ہے۔ 

 مول،علامت mol، شے کی مقدار کی SIاکائی ہے۔ ایک مول بعینہ 6.02214076X1023  ایلیمنٹری موجودات(اینٹیٹیز) پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ عدد ایووگاڈرومستقلہ ،NA، کی مقررہ عددی قدر ہے، جب کہ اسے mol-1 اکائی میں ظاہر کیا گیا ہو، اور یہ ایووگاڈروعدد کہلاتا ہے۔ کسی نظام میں شے کی مقدار،علامت n، معینہ ایلیمنٹری موجودات کی تعداد کی پیمائش ہے۔ ایلیمنٹری موجودات کوئی ایٹم ،سالمہ ، آین ، الیکٹران یا کوئی دوسرا ذرہ یا ذرات کا مخصوص گروپ ہو سکتا ہے۔ 

کینڈیلا،علامت cd،کسی دی ہوئی سمت میں درخشاں شدت (نوری حدت)کی SIاکائی ہے۔ اس کی تعریف 540x1012Hz فریکوئنسی والے یک رنگی اشعاع، Kedکی نوری اثر انگیزی(Luminous efficacy)کی مقررہ عددی قدر کو 683لے کر کی جاتی ہے جب کہ اسے 1m.W-1اکائی میں ظاہر کیا گیا ہو جو cd.sr.W-1K-1 یاcdkg-1m-2s3 کے مساوی ہے، جب کہ کلو گرام،میٹر اور سیکنڈ کی تعریف c,hاور Ves  کے ارکان میں کی جاتی ہے۔
میٹر


کلوگرام


سیکنڈ

ایمپیر


کیلون


مول


کینڈیلا
لمبائی کی اکائی 

کمیت کی اکائی
وقت کی اکائی

برقی رو (کرنٹ) کی اکائی


حرحرکیاتی درجہ حرارت کی اکائی



نوری حدت (درخشاں شدت)

جدول 1.2: SI بنیادی اکائیوں کی تعریفیں

ابتدا میں دنیا کے مختلف حصّوں میں، پیمائش کے دو مختلف نظام، یعنی کہ ’’انگلش نظام‘‘ اور ’’میٹرک نظام‘‘ استعمال کیے جارہے تھے۔ میٹرک نظام جو سب سے پہلے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں فرانس میں استعمال ہونا شروع ہوا زیادہ سہل تھا، کیونکہ اس کی بنیاد اعشاری نظام پر تھی۔ سائنسی برادری کو ایک مشترک معیاری نظام کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ ایسا نظام 1960 میں قائم ہوا اور اس کی تفصیل سے ذیل میں بحث کی گئی ہے۔

1.3.3 اکائیوں کا بین الاقوامی نظام(The International System of Units: SI)

اکائیوں کا بین الاقوامی نظام (فرانسیسی میں: International d’Unites) (Le System جس کا مخفف ہے SI۔اوزان اور پیمائشوں کی گیارہویں عمومی کانفرنس General Conference on Weights and Measures [فرانسیسی میں: مخفف CGPM ] Conference Generale des Poids at Measures) کے ذریعے قائم کیا گیا۔ CGPM ایک بین حکومتی قرارداد تنظیم ہے، جو ایک سفارتی قرارداد کے ذریعے بنائی گئی تھی جسے میٹر قرارداد (Meter Convention) کے نام سے جانا جاتا ہے، جس پر 1875 میں پیرس میں دستخط کیے گئے تھے۔

SI نظام میں 7 اساسی اکائیاں ہیں جن کی فہرست جدول 1.1 میں دی گئی ہے۔ یہ اکائیاں 7 بنیادی سائنسی مقداروں سے منسلک ہیں۔ باقی تمام طبعی مقداریں، جیسے چال (Speed)، حجم (Volume)، کثافت (Density) وغیرہ، ان مقداروں سے اخذ کی جاسکتی ہیں۔

SI اساسی اکائیوں کی تعریفیں جدول 1.2 میں دی گئی ہیں۔

SI نظام میں ایک اکائی کے اضعاف (Multiples) اور ذیلی اضعاف (Submultiples) کی نشاندہی کرنے کے لیے سابقوں (Prefixes)کے استعمال کی اجازت ہے۔ ان سابقوں کی فہرست جدول 1.3 میں دی گئی ہے۔

آئیے، ذرا تیزی سے ان چند مقداروں پر نظر ڈالیں، جو آپ اس کتاب میں بار بار استعمال کریں گے۔

جدول 1.3:  SI نظام میں استعمال ہونے والے سابقے 

ضعف سابقہ علامت
10-24 (Yocto)یوکٹو
y
10-21 (Zepto)زیب ٹو z
10-18 (Atto)اٹو a
10-15 (Femto)فیم ٹو f
10-15 (Pico)پی کو p
10-9 (Nano)نینو n
10-6 (Micro)مائکرو u
10-3 (Milli)ملی m
10-2 (Centi)سینٹی c
10-1 (Deci)ڈیسی d
10 (Deca)ڈیکا da
102 (Hecto)ہیکٹو h
103 (Kilo)کلو k
106 (Mega)میگا M
109 (Giga)گیگا G
1012 (Tera)ٹیرا T
1015 (Peta)پیٹا P
1018 (Exa)ایکسا E
1021 (Zeta)زیٹا Z
1024 ((Yotto)یوٹا Y



1.3.4 کمیت اور وزن  (Mass and Weight)

ایک شے کی کمیت اس شے میں پائے جانے والے مادے کی مقدار ہے، جب کہ اس کا وزن اس پر ثقل (Gravity) کے باعث لگنے والی قوت ہے۔ شے کی کمیت مستقلہ ہے، جب کہ اس کا وزن ایک مقام سے دوسرے مقام پر کشش ثقل کی تبدیلی کی وجہ سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ آپ کو ان اصطلاحات استعمال کرتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

ایک شے کی کمیت، بہت زیادہ درستگی صحت کے ساتھ، تجربہ گاہ میں ایک تجزیاتی ترازو  (Analytical Balance) استعمال کر کے معلوم کی جاسکتی ہے (شکل 1.5)۔

جیسا کہ جدول 1.1 میں درج ہے، کمیت کی SI اکائی کلوگرام ہے۔ لیکن، اس کی کسر، گرام (1Kg = 1000g) تجربہ گاہوں میں زیادہ استعمال ہوتی ہے، کیونکہ عام طور سے کیمیائی تعاملات میں استعمال ہونے والی کیمیائی اشیا کی مقدار کم ہوتی ہے۔

35

شکل 1.5 :  تجزیاتی ترازو (Analytical Balance)

پیمائش کے قومی معیاروں کو قائم رکھنا 

اکائیوں کا نظام بہ شمول اکائی کی تعریفوں کے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ جب بھی کسی مخصوص اکائی کی پیمائش کی درستگی صحت میں نئے اصولوں کو قبول کرنے سے خاطر خواہ اضافہ ہوا، میٹر قرارداد (جس پر 1875 میں دستخط کیے گئے) کی ممبر اقوام، اس اکائی کی رسمی تعریف میں تبدیلی کرنے کے لیے رضامند ہو گئیں۔ ہر ایک جدید صنعتی ملک (جس میں ہندوستان بھی شامل ہے)، میں ایک نیشنل میٹیریولوجی انسٹی ٹیوٹ (National Metrology Institute, NMI) ہوتا ہے جو پیمائشوں کا معیار قام رکھتا ہے۔ ہندوستان میں یہ ذمہ داری نیشنل فزیکل لیبوریٹری (National Physical Laboratory, NPL) نئی دہلی کو دی گئی ہے۔ یہ تجربہ گاہ بنیادی اکائیوں اورمشتق اکائیوں کو حاصل کرنے کے لیے تجربات کرتی ہے اور پیمائشوں کے قومی معیاروں کو قائم رکھتی ہے۔ ان معیاروں کا موازنہ، ایک دوری مدت کے بعد دنیا کے دوسرے ممالک میں قائم نیشنل میٹریولوجی انسٹی ٹیوٹ اور پیرس میں قائم معیاروں کے بین الاقوامی بیورو (International Bureau of Standards) کےمعیاروں سے کیا جاتا رہتا ہے۔

1.3.5حجم (Volume)

کسی شئے کے ذریعہ گھیری ہوئی جگہ کی مقدار حجم ہوتا ہے۔حجم کی اکائی 3(لمبائی)ہے۔ اس لیے SI نظام میں حجم کی اکائی m3 ہے۔ لیکن کیمیائی تجربہ گاہوں میں مقابلتاً چھوٹے حجم استعمال ہوتے ہیں اس لیے حجم کو اکثر cm3 یا dm3 اکائیوں میں ظاہر کیا جاتا ہے۔

رقیق اشیا کے حجم کی پیمائش کے لیے ایک عام اکائی لیٹر (L) کا استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ SI اکائی نہیں ہے۔ 

 1L = 1000 mL, 1000 cm3 = 1dm3

شکل 1.6 سے ان رشتوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

تجربہ گاہ میں، رقیق اشیا یا محلولوں کا حجم، نشان بند سلنڈر (Graduated Cylinder)، بیوریٹ (Burette) یا پپیٹ (Pipette) وغیرہ کے ذریعے ناپا جاسکتا ہے۔ کسی متعین حجم کو تیار کرنے کے لیے حجمی فلاسک (Volumetric Flask) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پیمائشی آلات شکل 1.7 میں دکھائے گئے ہیں۔

1.3.6 کثافت (Density)

دو خصوصیات جن کا ذکر اوپر کی سطروں میں کیا گیا ہے وہ درج ذیل طریقہ سے ظاہر کی جاتی ہیں 

کثافت =36

کسی شے کی کثافت اس کی کمیت کی مقدار فی اکائی حجم ہے۔ اس لیے کثافت کی SI اکائی مندرجہ ذیل طریقے سے حاصل کی جاسکتی ہے:

             کمیت کی SI اکائی

—    =  کثافت کی SI اکائی

           حجم کی SI اکائی

37

یہ اکائی کافی بڑی ہے اور ایک کیمیاداں، اکثر کثافت g cm3 میں ظاہر کرتا ہے، جہاں کمیت گرام میں اور حجم cm3 میں ظاہر کیا جاتا ہے۔

کسی مادہ کی کثافت ہمیں بتاتی ہے کہ اس کے ذرات کتنے قریب قریب پیک ہیں۔ اگر کثافت زیادہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ذرات بہت قریبی انداز میں پیک ہیں۔

1.3.7درجہ حرارت (Temperature)

درجہ حرارت کی پیمائش کے تین عام پیمانے ہیں — °C (ڈگری سلسیس (F° (Degree Celsius، (ڈگری فارن ہائٹ: Degree Fahrenheit) اور K (کیلون: Kelvin)۔ یہاں SI، K اکائی ہے۔ ان پیمانوں پر مبنی تھرمامیٹر (Thermometer) شکل 1.8 میں دکھائے گئے ہیں۔ عام طور سے سیلسیس پیمانے والے تھرمامیٹر میں 0 سے 100تک نشان بندی کی جاتی ہے جہاں یہ دونوں درجہ حرارت پانی کے بالترتیب نقطہ انجماد (Freezing Point) اور نقطہ جوش (Boiling Point) ہیں۔ فارن ہائٹ اسکیل 32سے 212 تک ظاہر کیا جاتا ہے۔

ان دونوں پیمانوں پر درجہ حرارت میں تعلق مندرجہ ذیل ہے:

38

کیلون اسکیل اور سیلسیس اسکیل میں مندرجہ ذیل رشتہ ہے:

K = °C + 273.15

یہ نوٹ کرنا بھی دلچسپ ہے کہ 0C  سے کم درجہ حرارت (یعنی کہ منفی قدروں) سیلسیس پیمانہ پر ممکن ہیں لیکن کیلون پیمانہ پر منفی درجہ حرارت ممکن نہیں ہے۔

44

شکل 1.6 حجم ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مختلف اکائیاں


45

شکل 1.7 حجم ناپنے کے کچھ آلات

46

شکل 1.8 مختلف درجہ حرارت پیمانے استعمال کرنے والے تھرمامیٹر

 (Reference Standard)   حوالہ معیار

کلوگرام یا میٹر جیسی پیمائش کی اکائی کی تعریف کرنے کے بعد سائنس داں حوالہ معیاروں پر متفق ہوئے جو تمام پیمائشی آلات کی پیمانہ بندی (Calibration) کرنے کو ممکن بناتے ہیں۔ قابلِ اعتماد پیمائشیں (Reliable Mesuremtns) حاصل کرنے کے لیے میٹر چھڑ اور تجزیاتی ترازو جیسے تمام آلات تیار کرنے والوں نے پیمانہ بندی کی ہے۔ تاکہ ان سے درست پیمائش کی جاسکے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک آلہ کو کسی ایک حوالے (Reference) سے معیاری بنایا جاتا ہے یا پیمانہ بند کیا جاتا ہے۔ 1989 سے کمیت معیار، کلوگرام ہے۔ اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ اس پلاٹینم-اریڈیم (Pt-Ir) اسطوانہ کی کمیت ہے جو سیورس، فرانس میں واقع پیمائش اور وزن کے بین الاقوامی بیورو (International Bureau of Weights and Measures) میں ایک ہوا بند (Airtight) جار میں محفوظ ہے۔ Pt-Ir کو اس معیار کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ کیمیائی حملے کے خلاف بہت زیادہ مزاحم ہے اور اس کی کمیت بہت لمبے عرصے تک تبدیل نہیں ہوگی۔ 

سائنس داں کمیت کے کے نئے معیار کی تلاش میں ہیں۔ اس کی کوشش، آووگاڈرو مستقلہ کے درست تعین کے ذریعے کی جارہی ہے۔ اس نئے معیار پر ہونے والا کام، نمونے کی ایک معرف شدہ کمیت میں ایٹموں کی تعداد کی درست پیمائش پر مرکوز ہے۔ ایسے ایک طریقے کی درستگی صحت 106 میں ایک حصّہ ہے، جس میں انتہائی خالص (Ultra Pure) سلیکان کی قلم (Crystal) کی ایٹمی کثافت، -x شعاعوں کے استعمال کے ذریعے معلوم کی جاتی ہے۔ لیکن ابھی اسے بطور معیار قبول نہیں کیا گیا ہے۔ ایسے دوسرے طریقے بھی ہیں لیکن ابھی تک کوئی اس قابل نہیں ہے کہ Pt-Ir اسطوانے کی جگہ لے سکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسی دہائی میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔

میٹر کی شروع میں اس طرح تعریف کی گئی تھی کہ یہ اس Pt - Ir چھڑ پر لگائے گئے دو نشانوں کے درمیان کا فاصلہ ہے، جو کہ (C 0 (273.15 K درجہ حرارت پر رکھی ہوئی ہے۔ 1960 میں ایک میٹر کی لمبائی کی تعریف اسی طرح کی گئی ہے کہ یہ اس روشنی کے طولِ موج (Wave Length) کا 39 گنا ہے جو کہ کرپٹان لیزر (Crypton Laser) خارج کرتا ہے۔ حالانکہ یہ بے تکاسا عدد ہے، اس نے میٹر کی لمبائی کو اس کی متفقہ قدر پر قائم رکھا۔ CGPM نے 1983 میں میٹر کی تعریف دوبارہ کی۔ یہ تعریف اس طرح کی گئی کہ میٹر روشنی کے ذریعہ وکیوم میں طے کیے گئے اس فاصلے کے مساوی ہے جو روشنی ایک سیکنڈ کے 458 792 299 /1 وقفہ میں طے کرتی ہے۔ لمبائی اور کمیت کی طرح دوسری طبعی مقداروں کے لیے بھی حوالہ معیار ہیں۔

1.4  پیمائش میں عدم یقینی (Uncertainty in Measurement)

بعض اوقات کیمسٹری کے مطالعے کے دوران ہمیں تجرباتی اعداد و شمار اور نظریاتی تحسیبات کو برتنا پڑتا ہے۔ ایسے با معنی طریقے ہیں، جن کے ذریعے اعداد کو سہولت کے ساتھ برتا جاسکتا ہے اور آنکڑوں کا حقیقی اظہار، جس حد تک ممکن ہو اتنے یقین کے ساتھ، کیا جاسکتا ہے۔ ان تصورات سے ذیل میں بحث کی گئی ہے۔

1.4.1 سائنسی ترسیم (Scientific Notiation)

کیونکہ کیمسٹری ایٹم اور سالمات کی سائنس ہے، جن کی کمیت بہت کم اور تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، ایک کیمیا داں کو ایسے اعداد کو برتنا پڑتا ہے جو اتنے بڑے ہو سکتے ہیں، جیسے کہ 602,200,000,000,000,000,000,000 جو کہ 2 گرام ہائڈروجن گیس کے سالمات کی تعداد ہے اور اتنے چھوٹے ہو سکتے ہیں جیسے کہ:  40 g جو کہ ایک H ایٹم کی کمیت ہے۔ اس طرح دوسرے مستقلوں جیسے پلانک مستقلہ، روشنی کی چال، ذرات پر برقی چارج وغیرہ میں مندرجہ بالا قدر کے اعداد شامل ہوتے ہیں۔

ایک لمحے کے لیے ایسے اعداد کو گننا یا لکھنا مضحکہ خیز معلوم ہو سکتا ہے، جن میں اتنے صفر شامل ہوں۔ لیکن ایسے اعداد پر سادہ ریاضیاتی عمل: جمع، تفریق، ضرب کرنا، تقسیم کرنا ایک حقیقی چیلنج پیش کرتے ہیں۔ آپ اوپر دی ہوئی قسم کے کوئی بھی دو عدد لکھ سکتے ہیں اور پھر اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے ان پر کوئی بھی سادہ ریاضیاتی عمل کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ تب آپ کو ایسے اعداد کو برتنے میں پیش آنے والی دشواری کا صحیح اندازہ ہوگا۔

اس مسئلے کو، ایسے اعداد کے لیے سائنسی طریقہ کتابت (ترسیم) (Scientific Notation) کے استعمال کے ذریعے حل کیا گیا ہے جو قوت نمائی ترسیم (Exponential Notation) ہے۔ اس ترسیم میں کسی بھی عدد کو N 10n کی کی شکل میں ظاہر کیا جاسکتا ہے، جہاں N ایک قوت نما (Exponent) ہے، جس کی قدر مثبت یا منفی ہو سکتی ہے اور  .....N,1.000 اور.......9.999 کے درمیان کوئی عدد ہو سکتا ہے۔

اس لیے ہم سائنسی ترسیم میں 232.508 کو41لکھ سکتے ہیں۔ نوٹ کریں کہ اس طرح لکھتے وقت، اعشاریہ کو بائیں طرف دو مقام کھسکانا پڑا اور یہی سائنسی ترسیم میں 10 کا قوت نما (2) ہے۔ اسی طرح 0.00016 کو 42لکھا جاسکتا ہے۔ یہاں اعشاریہ کو دائیں طرف 4 مقام کھسکایا گیا ہے اور سائنسی ترسیم میں قوت نما (4--) ہے۔

اب سائنسی ترسیم میں ظاہر کیے گئے اعداد پر ریاضیاتی عمل کرنے کے لیے درجِ ذیل نکات ذہن نشین کرنے ہوں گے۔

ضرب اور تقسیم (Multiplication and Division)

ان دونوں عملوں میں وہی قاعدے بروئے کار لائے جاتے ہیں جو قوت نما اعداد کے قاعدے ہیں۔ یعنی کہ،

 43

جمع اور تفریق (Addition and Subtraction)

ان دونوں عملوں کے لیے پہلے اعداد کو اس طرح لکھا جاتا ہے کہ ان کے قوت نما یکساں ہوں۔ اس کے بعد ضریب کی جمع یا تفریق کی جاتی ہے، جیسی بھی صورت ہو۔

اس لیے 47 کو جمع کرنے کے لیے اس طرح لکھا جائے گا: 48 تاکہ دونوں اعداد کے قوت نما یکساں ہو جائیں۔

پھر یہ دونوں عدد اس طرح جوڑے جائیں گے: 

49

اسی طرح، دو اعداد کی تفریق بھی درجِ ذیل طریقے سے کی جاسکتی ہے:

50

1.4.2 بامعنی ہندسے (Significant Figures)

ہر ایک تجرباتی پیمائش کے ساتھ کچھ نہ کچھ عدم یقینی منسلک ہوتی ہے۔ پیمائشی آلات کی محدودیت کی وجہ سے اور پیمائش کرنے والے کی مہارت کی وجہ سے۔ مثال کے طورپر پلیٹ فارم ترازو کا استعمال کرتے ہوئے ایک شے کا وزن 9.4گرام حاصل ہوتا ہے۔ تجرباتی ترازو میں تولنے پر اس کا وزن 9.4213گرام حاصل ہوتا ہے۔ تجرباتی ترازو کے ذریعہ تولا گیا وزن پلیٹ فارم ترازو کے ذریعہ حاصل کئے گئے وزن کے مقابلے میں تھوڑا سا زیادہ ہے۔لہٰذا عدد 4جو اعشاریہ کے بعد ہے وہ غیر یقینی ہے۔

بامعنی ہندسوں کی تعداد معلوم کرنے کے لیے کچھ قاعدے ہیں۔ یہ نیچے بیان کیے جارہے ہیں۔ 

(1)   تمام غیر صفر ہندسے بامعنی ہیں۔ مثال کے طور پر  285cm میں، تین بامعنی ہندسے ہیں اور 0.25mL میں دو بامعنی ہندسے ہیں۔

(2) پہلے غیر صفر عدد سے پہلے آنے والے صفر بامعنی نہیں ہیں۔ یہ صفر اعشاریہ کا مقام ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے 0.03 میں ایک بامعنی ہندسہ ہے اور 0.0052 میں دو بامعنی ہندسے ہیں۔

(3) دوغیر صفر ہندسوں کے درمیان صفر بامعنی ہیں۔ اس لیے 2.005 میں چار بامعنی ہندسے ہیں۔

(4) کسی عدد کے آخر میں یا دائیں طرف کے صفر بامعنی ہیں، بشرطیکہ وہ اعشاریہ کے دائیں طرف ہوں۔ مثلاً 0.200 میں 3 بامعنی ہندسے ہیں۔

لیکن اگر اس کے برخلاف ہو تو صفر بامعنی نہیں ہیں۔ مثلاً 100 میں صرف ایک بامعنی ہندسہ ہے۔لیکن 100میں تین با معنی اعداد ہیں اور 100.0میں چار با معنی ہندسے ہیں۔ ایسے اعداد کو سائنسی ترقیم/ترسیم (Notation) میں بہتر طریقہ سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ ہم 100کو ایک بامعنی ہندسہ کے لئے 1x102، دو با معنی ہندسوں کے لئے 1.0x102 اورتین بامعنی ہندسوں کے لئے 1.00x103 سے ظاہر کرتے ہیں۔

(5) قطعی اعداد (Exact Numbers) میں بامعنی ہندسوں کی تعداد لامتناہی ہوتی ہے۔ مثلاً، 2 گیندوں یا 20 انڈوں میں لامتناہی بامعنی ہندسے ہیں، کیونکہ یہ قطعی اعداد کے اعشاریہ لگانے کے بعد لامتناہی صفر لکھ کر ظاہر کیے جاسکتے ہیں۔ 

یعنی کہ :2.000000=2؛  20 = 20.000000=02-

جب اعداد سائنسی ترسیم میں لکھے جاتے ہیں تو (1 اور 10 کے بیچ میں) میں جتنے ہندسے ہوتے ہیں اتنی ہی بامعنی ہندسوں کی تعداد ہوتی ہے۔ اس لیے4.01X102  میں تین بامعنی ہندسے ہیں اور 8.256X10-3 میں 4 بامعنی ہندسے ہیں۔

 لیکن ہم ہمیشہ چاہیں گے کہ ہمارے نتائج دقیق (Precise) اور درست (Accurate) ہوں۔ ہم جب بھی پیمائش کی بات کرتے ہیں تو ان کے دقیق اور درست ہونے کا حوالہ دیتے ہیں۔

دقیق پیمائش (Precision) کا مطلب ہے کہ ایک مقدار کی جو مختلف پیمائشیں کی گئی ہیں، وہ ایک دوسرے سے کتنی نزدیک ہیں۔ جبکہ درستی (Accuracy) کا مطلب ہے کہ ایک مخصوص قدر نتیجے کی حقیقی قدر (True Value) کے کس حد تک قریب ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک نتیجے کی حقیقی قدر 2.00g ہے اور ایک طالب علم 'A' اس کی دو مرتبہ پیمائش کرتا ہے اور اپنے نتائج، 1.95gاور 1.93g تحریر کرتا ہے تو یہ قدریں دقیق ہیں، کیونکہ یہ ایک دوسرے کے نزدیک ہیں، لیکن درست نہیں ہیں۔ دوسرا طالب علم اس تجربے کو دہراتا ہے اور دو پیمائشوں کے نتائج حاصل کرتا ہے: 1.94gاور 2.05g ۔ یہ دونوں مشاہدات نہ ہی دقیق ہیں اور نہ درست۔ ایک تیسرا طالب علم بھی یہی تجربہ دہراتا ہے اور اپنے نتائج 2.01g اور 1.99g تحریر کرتا ہے۔ یہ قدریں دقیق بھی ہیں اور درست بھی۔ جدول 1.4 میں دیے گئے اعداد و شمار سے اسے اور بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

تجرباتی یا تحسیب کی گئی قدروں میں عدم یقینی کی نشاندہی با معنی ہندسوں (Significant Figures) کے ذریعے کی جاتی ہے۔ بامعنی ہندسے وہ ہندسے ہیں جو پورے یقین کے ساتھ معلوم ہیں۔ عدم یقینی کی نشاندہی اس طرح کی جاتی ہے کہ یقینی ہندسے اور آخری غیر یقینی  ہندسہ لکھا جاتا ہے۔ لہٰذا، اگر ہم ایک نتیجہ اس طرح لکھتے ہیں: 11.2mL ، تو ہم کہتے ہیں کہ 11 یقینی ہے اور 2 غیر یقینی ہے اور عدم یقینی آخری ہندسے میں 1± ہوگی۔ اگر کچھ اور نہ لکھا ہو تو ہمیشہ آخری ہندسے میں 1± کی عدم یقینی سمجھی جاتی ہے۔

جدول 1.4:  دقیق پیمائش اوردرستی کی وضاحت کرنے کے لیے آنکڑے

(پیمائش (گرام میں
  (g) اوسط  2 1
1.940
1.995
2.00
1.93
2.05
1.99
1.95
1.94
2.01
Aطالب علم
Bطالب علم
Cطالب علم

بامعنی ہندسوں کی جمع اور تفریق (Addition and Subtraction of Significant Figures)

نتیجہ میں اعشاریہ کے دائیں طرف اس سے زیادہ ہندسے نہیں ہو سکتے، جتنے کسی بھی دیے ہوئے عدد میں ہیں:

52

یہاں 18.0 میں اعشاریہ کے بعد صرف ایک ہندسہ ہے، اس لیے نتیجہ میں بھی اعشاریہ کے بعد صرف ایک ہندسہ بتایا جانا چاہیے۔ نتیجہ ہوگا 31.1۔

بامعنی ہندسوں کی ضرب اور تقسیمMultiplication and Division of Significant Figures

ان عملوں میں، نتیجہ میں بھی اتنے ہی بامعنی ہندسے ہونے چاہئیں جتنے کہ پیمائش میں ہیں، جس میں چند بامعنی ہندسے ہیں: 

 3.125=1.25    2.5

کیونکہ 2.5 میں دو بامعنی ہندسے ہیں، اس لیے نتیجہ میں بھی دو سے زیادہ بامعنی ہندسے نہیں ہونے چاہئیں۔ اس لیے حاصل ضرب 3.1 ہے۔

نتیجہ کو بامعنی ہندسوں کی مطلوبہ تعداد تک محدود کرنے کے لیے جیسا کہ مندرجہ بالا ریاضیاتی عملوں میں کیا گیا ہے، اعداد کو مکمل کرنے (Rounding off) کے لیے مندرجہ ذیل نکتے ذہن نشین کرنے چاہئیں:

اگر ہٹائے جانے والا سب سے دائیں طرف کا ہندسہ 5 سے بڑا ہے، تو اس سے پہلے ہندسے میں 1 کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر 1.386 میں سے ہمیں 6 ہٹانا ہے تو ہمیں اسے مکمل بنانے میں 1.39 لکھنا ہوگا۔

اگر ہٹائے جانے والا سب سے دائیں طرف کا ہندسہ  5 سے کم ہے، تو اس سے پہلے والا عدد نہیں بدلتا۔ مثال کے طور پر اگر 4.334 میں 4 ہٹایا جانا ہے تو نتیجہ کو 4.33 تک مکمل بنایا جائے گا۔

اگر دائیں طرف کا ہٹایا جانے والا ہندسہ 5 ہے، تو اس سے پہلے والے ہندسہ کو نہیں بدلا جاتا ہے، اگریہ پہلے والا ہندسہ جفت ہو، لیکن اگر یہ ہندسہ طاق ہو، تو اس میں 1 کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ مثلاً 6.35 کو مکمل کرنے کے لیے 5 ہٹانا ہے تو ہمیں 3 کو 4 بنانا ہوگا، جس سے 6.4 حاصل ہوگا۔ لیکن اگر 6.25 کو مکمل کرنا ہے تو اسے 6.2 لکھا جائے گا۔

1.4.3ابعادی تجزیہ (Dimensional Analysis)

اکثر تحسیب کرتے وقت، اکائیوں کو ایک نظام سے دوسرے نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس کے لیے استعمال کیا جانے والا طریقہ جز ضربی لیبل طریقہ (Factor Label Method) یا اکائی جز ضربی طریقہ (Unit Factor Method) کہلاتا ہے۔ اسے ذیل میں واضح کیا گیا ہے۔

مثال

ایک دھات کا ٹکڑا 3 انچ (3 in) لمبا ہے۔ اس کی لمبائی cm میں کیا ہوگی؟

حل  ہم جانتے ہیں 1in = 2.54 cm

اس مساوات سے، ہم لکھ سکتے ہیں

53

اس طرح54مساوی ہے 1 کے اور55بھی 

1 کے مساوی ہے۔ یہ دونوں اکائی جز ضربی (Unit Factor) کہلاتے ہیں۔ اگر کسی عدد کو ان اکائی اجزائے ضربی سے ضرب کیا جائے (یعنی کہ 1 سے) تو عدد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

فرض کیجیے، اوپر دیے ہوئے 3in کو ہم اکائی جز ضربی سے ضرب کرتے ہیں، تو 

56

اب جس اکائی جز ضربی سے ضرب کرنا ہے تو یہ وہ اکائی جز ضربی 

ہے (اس مثال میں 57 ) جس سے مطلوبہ اکائیاں حاصل ہوسکیں۔ یعنی کہ شمار کنندہ میں وہ حصّہ ہونا چاہیے جو مطلوبہ نتیجہ میں درکار ہے۔

مندرجہ بالا مثال میں یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ اکائیوں کو بھی اسی طرح برتا جاتا ہے، جیسے عددی حصّہ کو۔ انہیں بھی منسوخ (Cancel) کیا جاسکتا ہے، تقسیم کیا جاسکتا ہے، ضرب کیا جاسکتا ہے، مربع کیا جاسکتاہے۔ آئیے اس کے لیے ایک اور مثال کا مطالعہ کریں۔

مثال

ایک جگ میں2L دودھ ہے۔ دودھ کے حجم کا m3 میں حساب لگائیے۔

کیونکہ1L = 1000 cm3 

اور 1m = 100 cm اس سے ملتا ہے

58

اوپر دیے ہوئے اکائی جز ضربی سے m3 حاصل کرنے کے لیے پہلے اکائی جز ضربی کو لیتے ہیں اور اسے کعب کرتے ہیں۔

59

اب 2L = 2 × 1000 cm3 

اوپر دی ہوئی مساوات کو اکائی جزضربی سے ضرب کرتے ہیں

60

مثال 

2 دن میں کتنے سیکنڈ ہوتے ہیں؟

حل

یہاں ہم جانتے ہیں  1 دن = 24 گھنٹے (h)

61

اس لیے، 2 دن کو سیکنڈوں میں تبدیل کرنے کے لیے 

یعنی Sec. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔= ۔۔۔۔۔۔۔ (دن)2

اکائی اجزائے ضربی کی ضرب سلسلہ وار ایک ہی مرحلہ میں کی جاسکتی ہے۔

62

1.5 کیمیائی اتحاد کے قوانین (Law of Chemical Combinations)

مرکبات تشکیل دینے کے لیے عناصر کے اتحاد پر مندرجہ ذیل 5 بنیادی قوانین کا نفاذ ہوتا ہے۔

1.5.1کمیت کی بقا کا قانون (Law of Conservation of Mass) 

اس کلیے کے مطابق مادہ کی نہ تو تخلیق کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسے فنا کیا جاسکتا ہے۔ 

63

یہ قانون 1789 میں انیٹونی لیووسیر (Antoino Lavoisier) نے پیش کیا۔ مندرجہ بالا نتیجے پر پہنچنے کے لیے انہوں نے احتراقی تعاملات (Combustion Reactions) کا ہوشیاری سے تجرباتی مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ تمام طبعی اور کیمیائی تبدیلیوں میں اس عمل کے دوران کل کمیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ۔اس قانون کی بنیاد پر کیمسٹری میں بعد میں کئی اضافے ہوئے۔ دراصل یہ لیووسیر کے ذریعے ہوشیاری سے منصوبہ بندی کے بعد کیے گئے ان تجربات کا نتیجہ تھا جن میں متعاملات (Reactants) اور ماحصلات (Products) کی کمیتوں کی درست پیمائش کی گئی۔

1.5.2 مستقل تناسب کا کلیہ 

(Law of Definite Proportions)

یہ قانون ایک فرانسیسی کیمیاداں جوزف پراؤسٹ (Joseph Proust) نے دیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک دیے ہوئے مرکب میں وزن کے اعتبار سے اس کے عناصر کا تناسب ہمیشہ یکساں ہوتا ہے۔

64

پرآؤسٹ نے کیوپرک کاربونیٹ (Cupric Carbonate) کے دو نمونوں پر تجربے کیے۔ ایک وہ جو قدرتی شکل میں پایا جاتا تھا اور دوسرا جو مصنوعی تھا۔ انہوں نے پایا کہ اس مرکب میں شامل عناصر کی ترکیب (Composition) دونوں نمونوں میں بالکل یکساں تھی، جیسے کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔


کاربن کی فی صد آکسیجن کی فی صد کاپر کی فیصد
38.91 9.74 51.35 قدرتی نمونہ
38.91 9.74 51.35 مصنوعی نمونہ

اس لیے، ایک دیے ہوئے مرکب (ذریعہ کچھ بھی ہو) میں ہمیشہ یکساں عناصر جو ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں کمیت کے حساب سے یکساں نسبت میں پائے جاتے ہیں۔ اس قانون کی معقولیت (Validity) کی مختلف تجربات سے تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کو کبھی کبھی مستقل ترکیب کا کلیہ (Law of Definite of Composition) بھی کہا جاتا ہے۔

1.5.3 ضعفی تناسب کا کلیہ (Law of Multiple Proportions)

یہ کلیہ ڈالٹن (Dalton) نے 1803 میں تجویز کیا۔ اس کلیہ کے مطابق اگر دو عناصر متحد ہو کر ایک سے زیادہ مرکب تشکیل دیتے ہیں، تو ایک عنصر کی کمیتیں جو دوسرے عنصر کی مستقل کمیت سے اتحاد کرتی ہیں، چھوٹے مکمل اعداد کی نسبت میں ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر ہائڈروجن، آکسیجن سے اتحاد کرکے دو مرکبات پانی اور ہائڈروجن پر آکسائڈ تشکیل دیتی ہے۔

ہائڈروجن آکسیجن پانی

      18g         16g         2g

ہائڈروجن + آکسیجن ہائڈروجن پر آکسائڈ

34g  32g 2g

یہاں آکسیجن کی کمیتیں (یعنی کہ 16g اور 32g) جو ہائڈروجن کی ایک مستقل کمیت (2g) سے اتحاد کرتی ہیں، ان میں ایک سادہ نسبت ہے، یعنی کہ: 16:32 یا 1:2۔

1.5.4گیسی حجم کا گیلوسک کا کلیہ (Gay Lussac’s Law of Gaseous Volumes)

یہ کلیہ گیلوسک نے 1808 میں پیش کیا۔ انہوں نے پایا کہ جب ایک کیمیائی تعامل میں گیسیں اتحاد کرتی ہیں یا تشکیل پاتی ہیں تو وہ ایسا اپنے حجم کے اعتبار سے ایک سادہ نسبت میں کرتی ہیں، بشرطیکہ تمام گیسیں یکساں درجہ حرارت اور دباؤ پر ہوں۔

66

اس لیے، 100mL  ہائڈروجن، 50mL  آکسیجن سے متحد ہو کر پانی کے 100mL  ابخرات بناتی ہے۔

ہائڈروجن + آکسیجن پانی

100 mL 50 mL 100 mL

اس لیے ہائڈروجن اور آکسیجن کے حجم (یعنی کہ 100mL  اور 50mL، جو آپس میں متحد ہوتے ہیں، ان میں ایک سادہ نسبت ہے: 2:1۔

گیلوسک کی حجم رشتے میں صحیح عدد نسبت (Integer Ratio) کی دریافت دراصل حجم کے لحاظ سے مستقل تناسب کا قانون ہے۔ مستقل تناسب کا قانون جو اس سے پہلے بیان کیا گیا تھا، کمیت کے لحاظ سے تھا۔ گے-لوسک قانون کی وضاحت، 1811 میں ایووگاڈرو (Avogadro) کے کام کے ذریعے ہوئی۔

67

1.5.5 ایووگاڈرو  کا  قانون (Avogadro Law)

68

1811 میں ایووگاڈرو نے تجویز کیا کہ یکساں درجہ حرارت اور دباؤ پر تمام گیسوں کے یکساں حجم میں سالمات کی تعداد مساوی ہونی چاہیے۔ ایووگاڈرو نے ایٹموں اور سالمات کے درمیان تفریق کی جسے موجودہ دور میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر ہم دوبارہ آکسیجن اور ہائڈروجن کے پانی بنانے کے تعامل پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہائڈروجن کے دو حجم، آکسیجن کے ایک حجم سے اتحاد کرکے پانی کے 2 حجم بناتے ہیں اور کوئی غیر متعامل آکسیجن باقی نہیں بچتی۔

نوٹ کریں کہ شکل 1.9 میں ہر ایک بکس میں سالمات کی تعداد یکساں ہے۔ دراصل ایووگاڈرو نے مندرجہ بالا نتیجے کی تشریح سالمات کو کثیر ایٹمی (Polyatomic) مانتے ہوئے کی۔ اگر ہائڈروجن اور آکسیجن کو دو ایٹمی مانا جائے، جیسا کہ اب تسلیم کیا جاتا ہے، تو مندرجہ بالا نتائج بہ آسانی سمجھے جاسکتے ہیں۔ لیکن، ڈالٹن اور اس وقت کے دوسرے کیمیا دانوں کا خیال تھا کہ ایک ہی قسم کے ایٹم آپس میں متحد نہیں ہو سکتے اور آکسیجن اور ہائڈروجن کے سالمات، جن میں دو یکساں ایٹم ہوں، نہیں پائے جاسکتے۔ ایووگاڈرو کی تجویز فرانسیسی رسالے (Journal) جرنل ڈی فزی ڈیو (Journal de Physidue) میں شائع ہوئی۔ درست ہونے کے باوجود اس تجویز پر کچھ خاص دھیان نہیں دیا گیا۔

تقریباً 50 سال کے بعد، 1860 میں مختلف تصوراتی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے، کالس روہے (Karlsruhe) ، جرمنی میں کیمسٹری کی بین الاقوامی کانفرنس (International Conference on Chemistry ) منعقد کی گئی۔ اس میٹنگ میں اسٹینی سلاؤ کینّی زارو (Stanislao Cannizaro) نے کیمیائی فلسفے کے ایک کورس کا خاکہ پیش کیا، جس میں ایووگاڈرو کے کام کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔

1.6 ڈالٹن کا ایٹمی نظریہ (Dalton’s Atomic Theory)

69

حالانکہ اس نظریہ کا آغاز کہ مادّہ چھوٹے ناقابلِ تقسیم ذرات سے مل کر بنتا ہے، جو کہ اے۔ٹومیو (a-tomio) (معنی — ناقابلِ تقسیم) کہلائے، ایک یونانی فلسفی، ڈیموکریٹس (Democritus) کے زمانے میں ہوا (370-460 ق۔م)۔ کئی تجرباتی مطالعوں کے نتیجے میں یہ نظریہ دوبارہ ابھرنا شروع ہوا جنہوں نے مندرجہ بالا قوانین تک رہنمائی کی۔

1808 میں ڈالٹن نے ’’کیمیائی فلسفے کانیا نظام‘‘ (A New System of Chemical Philosophy) نامی کتابچہ شائع کیا، جس میں مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی گئیں:

1۔ مادہ ناقابلِ تقسیم ایٹموں پر مشتمل ہے۔

2۔ ایک عنصر کے تمام ایٹموں کی متماثل (Identical) خاصیتیں (Properties) ہوتی ہیں، جن میں متماثل کمیت (Identical Mass) بھی شامل ہیں۔ مختلف عناصر کے ایٹموں کی کمیت میں فرق ہوتا ہے۔

3۔ مرکبات اس وقت تشکیل پاتے ہیں جب مختلف عناصر کے ایٹم ایک مستقل نسبت میں اتحاد کرتے ہیں۔

4۔ کیمیائی تعاملات میں ایٹموں کی دوبارہ تنظیم (Reorganisation) شامل ہوتی ہے۔ کیمیائی تعامل کے دوران ایٹم نہ تو تخلیق پاتے ہیں اور نہ ہی فنا ہوتے ہیں۔

ڈالٹن کا نظریہ کیمیائی اتحاد کے قوانین (Laws of Combination) کی وضاحت کرنے میں کامیاب رہا۔ اگر چہ یہ گیسوں کے حجم کے قانون کی وضاحت نہیں کر سکا ۔ یہ ایٹموں کے جڑنے کی وجوہات مہیا نہیں کر سکا، جس کا جواب بعد میں دوسرے سائنسدانوں نے دیا۔ 

1.7 ایٹمی اور سالماتی کمیتیں (Atomic and Molecular Masses)

اصطلاحات ’’ایٹم‘‘ اور ’’سالمات‘‘ کے بارے میں کچھ تصور حاصل کرلینے  کے بعد یہ سمجھنا مناسب ہوگا کہ ایٹمی اور سالماتی کمیتوں سے ہمارا کیا مطلب ہے۔

1.7.1 ایٹمی کمیت  (Atomic Mass)

ایٹمی کمیت یا ایک ایٹم کی کمیت دارصل بہت ہی کم ہوتی ہے۔ کیونکہ ایٹم بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں۔ آج ہمارے پاس بہت سے اعلیٰ طریقے ہیں، جیسے کمیت طیف بینی (Mass Spectrometry) ، جن سے ایٹمی کمیتیں کافی حد تک درستگی کے ساتھ معلوم کی جاسکتی ہیں۔ لیکن انیسویں صدی میں سائنس داں، تجربات کے ذریعے ایک ایٹم کی کمیت دوسرے ایٹم کی کمیت کی مناسبت سے ہی معلوم کر سکتے تھے، جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ ہائڈروجن کیونکہ سب سے ہلکا ایٹم ہے، اس لیے اسے 1 کمیت تفویض کر دی گئی تھی (بغیر کسی اکائی کے) اور باقی عناصر کو اس کی مناسب سے کمیتیں تفویض کی گئی تھیں۔ لیکن ایٹمی کمیتوں کا موجودہ نظام کاربن -12 (Carbon-12) پر مبنی ہے اور بطور معیار اس پر 1961 میں اتفاق کیا گیا تھا۔ یہاں کاربن -12، کاربن کا ایک ہم جا ہے اور اسے 12Cسے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام میں 12C کو بالکل درست 12 ایٹمی کمیت اکائی (Atomic Mass Unit, AMU) کی کمیت تفویض کی گئی ہے ایک ایٹمی کمیت اکائی (AMU) کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ ایک 12C ایٹم کی کمیت کے 1/12 کے مساوی ہے۔ اور

70

71 ایک ہائڈروجن ایٹم کی کمیت

اس لیے amu میں، ایک ہائڈروجن ایٹم کی کمیت

72

اسی طرح، آکسیجن -16 (16O)کے  ایٹم کی کمیت 15.995amu  ہوگی۔

آج کل 'amu' کی جگہ 'u' کا استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ متحدہ کمیت (Unified Mass) کہلاتی ہے۔ جب ہم شماریات میں عناصر کی ایٹمی کمیتیں استعمال کرتے ہیں تو در اصل ہم اوسط ایٹمی کمیتیں (Average Atomic Masses) استعمال کرتے ہیں، جنھیں ذیل میں واضح کیا گیا ہے۔

1.7.2 اوسط ایٹمی کمیت (Average Atomic Mass)

قدرتی طور پر پائے جانے والے بہت سے عناصر ایک سے زیادہ ہم جاؤں (Isotops) کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ جب ہم ان ہم جاؤں کی موجودگی اور ان کی نسبتی کثرت (Relative Abundance) (فی صد وقوع Percent Occurence) کا لحاظ کرتے ہیں، تو اس عنصر کی اوسط ایٹمی کمیت کی تحسیب کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کاربن کے مندرجہ ذیل تین ہم جا ہوتے ہیں اور ان کی نسبتی کثرتیں اور کمیتیں ان کے سامنے دی گئی ہیں:

ایٹمی کمیت
(amu)
نسبتی کثرت
(%)
ہم جا
12
13.00335
14.00317
98.892
1.108
2*10-10
12c
13c
14c

مندرجہ بالا آنکڑوں سے، کاربن کی اوسط ایٹمی کمیت حاصل ہوگی:

74

اسی طرح دوسرے عناصر کی بھی اوسط ایٹمی کمیت کی تحسیب کی جاتی ہے۔ عناصر کی دوری جدول میں مختلف عناصر کی جو کمیتیں درج کی جاتی ہیں دراصل ان کی اوسط ایٹمی کمیتیں ہوتی ہیں۔

1.7.3 سالماتی کمیت (Molecular Mass)

سالماتی کمیت، سالمات میں موجود عناصر کی ایٹمی کمیتوں کا حاصل جمع ہوتی ہے۔ سالماتی کمیت حاصل کرنے کے لیے سالمات کے ہر عنصر کے ایٹموں کی تعداد سے اس کی ایٹمی کمیت کو ضرب کیا جاتا ہے اور ان تمام حاصل ضرب کو آپس میں جمع کردیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، میتھین (Methane)، جس میں ایک کاربن ایٹم اور چار ہائڈروجن ایٹم ہوتے ہیں، کی سالماتی کمیت مندرجہ ذیل طریقے سے معلوم کی جاتی ہے:

میتھین (Methane) کی سالماتی کمیت،

75

اسی طرح، پانی (H2O) کی سالماتی کمیت

(آکسیجن کی ایٹمی کمیت)  1 + (ہائڈروجن کی ایٹمی کمیت) 1 =

                            76

مسئلہ 1.1

گلوکوز (C6 H12 O6) سالمے کی سالماتی کمیت کا حساب لگائیے 

حل

گلوکوز (C6 H12 O6) کی سالماتی کمیت 

77

1.7.4 فارمولا کمیت (Formula Mass)

کچھ اشیا جیسے سوڈیم کلورائڈ (Sodium Chloride) میں مجرد سالمات (Discrete Molecules) بطور اجزائے ترکیبی اکائی (Costituent Unit) کے طور پر نہیں پائے جاتے۔ ایسے مرکبات میں مثبت (سوڈیم آئن) اور منفی (کلورائڈ آئن) اشیا (Entities) ایک سہ ابعادی (Three-dimensional) ساخت میں منظم ہوتی ہیں، جیسا کہ شکل1.10 میں دکھایا گیا ہے۔

78

شکل 1.10 سوڈیم کلورائڈ میں +Na اور -Cl آئنوں کی پیکنگ

یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ سوڈیم کلورائڈ میں ایک +Na آئن  چھ -Cl  آئن سے گھرا ہوتا ہے اور اس کے بر عکس بھی۔

سالماتی کمیت کی بجائے فارمولا جیسے NaCl کا استعمال فارمولا کمیت (Formula Mass) کی تحسیب کے لیے کیا جاتا ہے، کیونکہ ٹھوس حالت میں، سوڈیم کلورائڈ ایک واحد ہستی کی شکل میں نہیں پایا جاتا۔

اس لیے سوڈیم کلورائیڈ کی فارمولا کمیت= 

     79 

1.8مول کا تصور اور مولر کمیتیں (Mole Concept and Moler Masses)

ایٹم اور سالمات سائز کے اعتبار سے بہت زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں اور کسی بھی شے کی بہت ہی قلیل مقدار میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اتنے بڑے اعداد کے لیے اسی قدر کی اکائی ضرورت ہوتی ہے۔

جس طرح ہم 12 اشیا کو ایک درجن سے ظاہر کرتے ہیں، 20 اشیا کو اسکور (Score) سے اور 144 اشیا کو گروس (Gross) سے ظاہر کرتے ہیں، ہم خردبینی سطح  (Microscopic Level) پرمنفرد اشیا (یعنی کہ ایٹم، سالمات، ذرات، الیکٹران، آین وغیرہ) کو شمار کرنے کے لیے مول (Mole) کا تصور استعمال کر سکتے ہیں۔

SI نظام میں، مول (Mole)، علامت 'mol' بطور ساتویں اساسی اکائی شامل کی گئی جو شے کی مقدار ناپنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

 مول،علامت mol، شے کی مقدار کی SIاکائی ہے۔ ایک مول بعینہ 6.02214076X1023 ایلیمنٹری موجودات(اینٹیٹیز) پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ عدد ایووگاڈرومستقلہ ،NA، کی مقررہ عددی قدر ہے، جب کہ اسے mol-1 اکائی میں ظاہر کیا گیا ہو، اور یہ ایووگاڈروعدد کہلاتا ہے۔ کسی نظام میں شے کی مقدار،علامت n، معینہ ایلیمنٹری موجودات کی تعداد کی پیمائش ہے۔ ایلیمنٹری موجودات کوئی ایٹم ،سالمہ ، آین ، الیکٹران یا کوئی دوسرا ذرہ یا ذرات کا مخصوص گروپ ہو سکتا ہے۔  اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ ایک شے کے ایک مول میں ہستیوں کی تعداد ہمیشہ یکساں ہوتی ہے، چاہے وہ شے کوئی بھی ہو۔ اس عدد کو دقیق (Precisely) طور پر معلوم کرنے کے لیے، کاربن 12 ایٹم کی کمیت، ایک کمیت طیف پیما (Mass Spectrometer) کی مدد سے معلوم کی گئی اور یہ پتہ چلا کہ یہ کمیت، 1.992648 × 10–23g ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ کاربن کے ایک مول کاوزن 12g ہے، اس میں موجود ایٹموں کی تعداد مندرجہ ذیل کے مساوی ہے:

80

1mol میں ایٹموں کی تعداد کا یہ عدد اتنا اہم ہے کہ اسے ایک علیحدہ نام، ایووگاڈرو مستقلہ (Avogadro Constant) یا ایووگا ڈرو عدد دیا گیا اور علامت (NA) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ عدد کتنا بڑا ہے اسے سمجھنے کے لیے 10 کی قوتیں استعمال کیے بغیر، آئیے اسے تمام صفروں کے ساتھ لکھیں: 

602213670000000000000000

اس طرح اتنی ہستیاں (ایٹم، سالمات یا کوئی اور ذرہ) کسی مخصوص شے کا ایک مول تشکیل دیتی ہیں۔

اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ 

(ایٹم) 1023 6.022=   ہائڈروجن ایٹم کا ایک مول

(پانی کے سالمات) 1023 6.022 = پانی کے ایٹموں کا ایک مول

(سوڈیم کلورائڈ کی فارمولا اکائیاں) 1023 6.022 = سوڈیم کلورائڈ کا ایک مول

81

شکل 1.11 مختلف اشیا کا ایک مول

مول کی تعریف کر لینے کے بعد، شے یا اجزائے ترکیبی چیزوں کے ایک مول کی کمیت معلوم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک شے کے ایک مول کی گرام میں کمیت، اس کی مولر کمیت (Molar Mass) کہلاتی ہے۔ گرام میں مولرکمیت، عددی طور پر u میں ایٹمی/ سالماتی / فارمولا کمیت کے مساوی ہوتی ہے۔

 18.02g = پانی کی مولر کمیت

 58.5g = سوڈیم کلورائڈ کی مولر کمیت

1.9 فی صد ترکیب (Percentage Composition)

اب تک ہم ایک دیے ہوئے نمونے میں موجود  اشیاء کی تعداد کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ لیکن اکثر، ایک مرکب میں شامل مخصوص عنصر کی فی صد کے متعلق معلومات درکار ہوتی ہے۔ فرض کیجیے کہ آپ کو ایک نامعلوم یا نیا مرکب دیا گیا ہے، تو آپ جو پہلا سوال پوچھیں گے، وہ ہوگا: اس کا فارمولا کیا ہے یا اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور یہ اجزائے ترکیبی دیے ہوئے مرکب میں کس نسبت میں موجود ہیں؟ معلوم مرکبات کے لیے بھی اس قسم کی معلومات یہ جانچ کرنے میں مدد کرتی ہے کہ آیا دیے ہوئے نمونے میں عناصر کی وہی فی صد پائی جاتی ہے جو خالص نمونے میں ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے دیے ہوئے نمونے کے خالص پن کا پتہ کر سکتے ہیں۔

آئیے پانی (H2O) کی مثال کے ذریعے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ پانی میں ہائڈروجن اور آکسیجن شامل ہوتی ہیں، ان دونوں عناصر کی فی صد ترکیب کا مندرجہ ذیل طریقے سے حساب لگایا جاسکتا ہے:

= ایک عنصر کی فی صد کمیت

× 100  مرکب میں اس عنصر کی کمیت

      ———————

اس مرکب کی مولر کمیت

 18.02g = پانی کی مولرکمیت

82 ہائڈروجن کی فی صد کمیت

                   11.18=

83 آکسیجن کی فی صد کمیت

     88.79=

آئیے ایک اور مثال لیتے ہیں۔ ایتھانول (Ethanol) میں کاربن، ہائڈروجن اور آکسیجن کی کیا فی صد ہے؟

 C2H5OH= ایتھانول کا سالماتی فارمولا

84 ایتھانول کی مولر کمیت

کاربن کی فی صد کمیت

85

ہائڈروجن کی فی صد کمیت 

86

آکسیجن کی فی صد کمیت

87

فی صد کمیت کا حساب لگانے کا طریقہ سمجھ لینے کے بعد آئیے دیکھیں کہ فی صد ترکیب اعداد و شمار سے ہم کیا معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

1.9.1سالماتی فارمولے کے لیے ایمپریکل فارمولہ(Empirical Formula for Molecular Formula)

ایک ایمپریکل فارمولا (Empirical Formula) کسی مرکب میں پائے جانے والے مختلف ایٹموں کے سادہ ترین مکمل اعداد نسبت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ سالماتی فارمولا ایک مرکب کے سالمہ میں پائے جانے والے مختلف ایٹموں کی قطعی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔

اگر ایک مرکب میں پائے جانے والے مختلف عناصر کی فی صد کمیت معلوم ہوتو اس کا ایمپریکل فارمولا معلوم کیا جاسکتا ہے۔ پھر سالماتی فارمولا بھی معلوم کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ مولر کمیت معلوم ہو۔ مندرجہ ذیل مثال اس سلسلہ کی وضاحت کرتی ہے۔

مسئلہ 1.2

ایک مرکب میں %4.07 ہائڈروجن، %24.27 کاربن اور %71.65 کلورین شامل ہے۔ اس کی مولر کمیت 98.96g  ہے۔ اس کے ایمپریکل اور سالماتی فارمولے کیا ہیں؟

حل

قدم 1:  فی صد کمیت کو گرام میں تبدیل کرنا

کیونکہ ہمیں فی صد کمیتیں دی گئی ہیں، اس لیے سہولت ہوگی، اگر ہم مان لیں کہ ہمارے پاس مرکب کے 100g  ہیں۔ اس لیے مندرجہ بالا مرکب کے 100g نمونے میں، 4.07g ہائڈروجن، 24.27g  کاربن اور 71.65g  کلورین شامل ہے۔

قدم 2:  ہر عنصر کے مولوں کی تعداد معلوم کرنا

اوپر حاصل کی گئی کمیتوں کو حسبِ ترتیب مختلف عناصر کی ایٹمی کمیتوں سے تقسیم کیجیے۔ یہ مرکب میں موجود اجزا کے مول کی تعداد بتائے گا۔

88 ہائڈروجن کے مول

   89   کاربن کے مول

90کلورین کے مول

قدم 3 :  اوپر حاصل کی گئی ہر ایک مول قدر کو ان میں سے سب سے چھوٹے عدد سے تقسیم کیجیے۔

کیونکہ 2.021 سب سے چھوٹا عدد ہے، اس سے تقسیم کرنے پر، H : C : Cl کے لیے نسبت: 1 : 1 : 2 حاصل ہوتی ہے۔

اگر یہ نسبت مکمل اعداد کی شکل میں نہ ہو، تو انھیں مناسب ضریب (Coefficient) سے ضرب کر کے مکمل اعداد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

قدم 4 : ہر عنصر کی علامت لکھ کر، علامت کے بعد حسبِ ترتیب اوپر معلوم کیا گیا عدد لکھ کر ایمپریکل فارمولا لکھیے۔

اس لیے، مندرجہ بالا مرکب کا ایمپریکل فارمولا ہے: CH2  C1

قدم 5:  سالماتی فارمولا لکھنا:

(a) ایمپریکل فارمولا کمیت معلوم کیجیے:

ایمپریکل فارمولے میں موجود مختلف ایٹموں کی ایٹمی کمیتوں کو جمع  کرکے ایمپریکل فارمولا کمیت معلوم کیجیے CH2  C1 کے لیے، ایمپریکل فارمولا کمیت ہے:

91

(b) مولر کمیت کو ایمپریکل فارمولا کمیت سے تقسیم کیجیے

مولر کمیت

ایمپریکل فارمولا کمیت

92

(c) ایمپریکل فارمولے کو اوپر حاصل کیے گئے n سے ضرب کرکے سالماتی فارمولا حاصل کیجیے:

 CH2Cl; n = 2= ایمپریکل فارمولا 

اس لیے  C2H4Cl2= سالماتی فارمولا 

1.10 تناسب پیمائی اور تناسب پیمایانہ تحسیب  (Stoichiometry and Stoichiometry Calculations)

لفظ Stoichiometry (تناسب پیمائی) دو یونانی الفاظ — Stoicheion (معنی عنصر) اور Metron (معنی پیمائش) سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس لیے تناسب پیمائی، کسی کیمیائی تعامل میں شامل تعاملات


ایک کیمیائی مساوات کو متوازن کرنا (Balancing a Chemical Equation)

کمیت کی بقا کے قانون کے مطابق ایک متوازن کیمیائی مساوات میں، مساوات کے دونوں طرف عنصر کے ایٹموں کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ کئی کیمیائی مساواتوں کو سعی و خطا (Trial and Error) کے ذریعے متوازن کیا جاسکتا ہے۔ آئیے کچھ دھاتوں اور غیردھاتوں کے آکسیجن کے ساتھ تعاملات دیکھیں، جن میں آکسائڈ حاصل ہوتے ہیں۔

(a)متوازن مساوات

(b)متوازن مساوات

(c)غیر متوازن مساوات

94

مساواتیں (a) اور (b) متوازن ہیں کیونکہ ان مساواتوں میں دونوں طرف دھات اور آکسیجن کے ایٹموں کی تعداد یکساں ہے۔ لیکن مساوات (c) متوازن نہیں ہے۔ اس مساوات میں فاسفورس کے ایٹم متوازن ہیں لیکن آکسیجن کے ایٹم نہیں۔ اس کو متوازن کرنے کے لیے ہمیں مساوات کے بائیں طرف آکسیجن کے ساتھ ضریب 5 رکھنا ہوگا تاکہ بائیں طرف آکسیجن کے ایٹموں کی تعداد، مساوات کے دائیں طرف آکسیجن کے ایٹموں کی تعداد کے متوازن ہو جائے: 

متوازن مساوات 95 

آئیے اب پروپین 96 کے احتراق (Combustion) کو دیکھیں۔ یہ مساوات مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے متوازن کی جاسکتی ہے:

قدم 1 تعاملات اور ماحصلات کے درست فارمولے لکھیے۔ یہاں پروپین (Propane) اور آکسیجن متعاملات ہیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی ماحصلات ہیں۔

(غیر متوازن مساوات)97

قدم 2 کاربن ایٹموں کی تعداد متوازن کیجیے: کیونکہ تعاملات میں کاربن کے 3 ایٹم ہیں، اس لیے دائیں طرف CO2 کے تین سالمات چاہیے ہوں گے۔98

قدم 3  ہائڈروجن ایٹموں کی تعداد متوازن کیجیے: بائیں طرف متعاملات میں ہائڈروجن کے 8 ایٹم ہیں جبکہ پانی کے ایک سالمہ میں ہائڈروجن کے 2 ایٹم ہوتے ہیں، اس لیے دائیں طرف ہائڈروجن کے 8 ایٹم حاصل کرنے کے لیے پانی کے 4 سالمات درکار ہوں گے۔99

قدم 4 آکسیجن ایٹموں کی تعداد متوازن کیجیے: دائیں طرف آکسیجن کے 10 ایٹم ہیں ( 6 = 3  2  CO2 میں اور 4 = 1  4 پانی میں)۔ اس لیے درکار 10 آکسیجن ایٹم مہیا کرنے کے لیے پانچ O2 سالمات چاہیے ہوں گے۔

100

قدم 5 تصدیق کیجیے کہ آخری مساوات میں ہر عنصر کے ایٹموں کی تعداد متوازن ہے۔ اس مساوات میں دونوں طرف تین کاربن ایٹم، آٹھ ہائڈروجن ایٹم اور دس آکسیجن ایٹم ہیں۔

ایسی تمام مساواتیں، جن میں تمام متعامل اور ماحصل کا درست فارمولا لکھا گیا ہو، متوازن کی جاسکتی ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ مساوات متوازن کرنے کے لیے، تعاملات اور ماحصلات کے فارمولوں میں ذیلی عدد (Subscript) کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔


 اور ماحصلات کی کمیتوں (کبھی کبھی حجم بھی) کا حساب لگانے کا علم ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم یہ سمجھیں کہ درکار تعاملات یا ماحصلات  کی مقداروں کا حساب کیسے لگایا جاتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں کہ دیے ہوئے تعامل کی متوازن کیمیائی مساوات سے کیا معلومات حاصل ہوتی ہے۔ آئیے میتھین (Methane) کا احتراق (Combustion) ملاحظہ کریں۔ اس تعامل کی متوازن مساوات نیچے دی گئی ہے:

93

یہاں میتھین (Methane) اور آکسیجن، متعاملات کہلاتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی ماحصلات کہلاتے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ مندرجہ بالا مساوات میں تمام متعاملات اور ماحصلات گیسیں ہیں اور فارمولے کے آگے بریکٹ میں لکھے حرف (g) کے ذریعے اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسی طرح، ٹھوس اور رقیق اشیا کے لیے، حسبِ ترتیب، (s) اور (l) لکھے جاتے ہیں۔

O2 اور اور H2O کے ضریب 2، تناسب پیمائی ضریب (Stoichiometric Coefficients) کہلاتے ہیں۔ اسی طرح CH4 اور CO2 کے ضریب 1 ہیں۔ یہ تعامل میں حصّہ لینے والے یا تشکیل پانے والے سالمات کی تعداد (اور ساتھ ہی مول) کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس لیے، مندرجہ بالا کیمیائی مساوات کے مطابق:

  •   CH4(gکا ایک مول  O2(gکے دو مول سے تعامل کر کے،CO2(g  کا ایک مول    H2O(g کے دو مول دیتا ہے
  •   CH4(g کا ایک سالمہ(O2(g کے دو سالمات سے تعامل کر کے ،( CO2(g  کا ایک سالمہ اورH2Oکے دو سالمات بناتا ہے
  •   CH4 کے O2(g) 22.4L کے45.4Lکے ساتھ تعامل کر کے(CO2(g کے  22.7L اور( H2O(g کے45.4L بناتا ہے
  • (CO2(g   کےO2(g) 16g کے2  32g ست تعامل کر کے ،(CO2(g کے 144 g H2O(gکے   2  18  g  بناتا ہے

101

ان رشتوں کی مدد سے دیے ہوئے اعداد و شمار کو اس طرح آپس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے:

سالمات کی تعداد 102مول102 کمیت

کمیت

کثافت = ————

حجم

مسئلہ 1.3

16g  میتھین (Methane) کے احتراق سے بننے والے پانی (گیس) کی مقدار کا حساب لگائیے۔

حل

میتھین کے احتراق کے لیے متوازن مساوات ہے:

103

 (CH4     (i  کے 16 g، ایک مول سے مطابقت رکھتے ہیں۔

(ii)   مندرجہ بالا مساوات کے مطابق، (CH4 (g کا ایک مول، (H2O(g) کے دو مول بناتا ہے۔

 104

(16 + 2) 2 = پانی (H2O) کے دو مول

مسئلہ 1.4

احتراق کے بعد (CO2(g کے 22g بنانے کے لیے، میتھین کے کتنے مول درکار ہوں گے؟

حل

کیمیائی مساوات کے مطابق:

105

(CH4(g کے 16g  سے (CO2 (g کے 44g حاصل ہوتے ہیں۔

[∴(CH4(g کے 1 مول سے (CO2(g کا 1 مول حاصل ہوتا ہے]

(CO2 (g) کے  مول کی تعداد

106

اس لیے107 حاصل ہوں گے یا (g CO2 (g    اصل کرنے کے لیے (CH4 (g  کے 0.5mol درکار ہوں گے۔

1.10.1 تحدیدی متعامل شے (Limiting Reagent)

کئی مرتبہ جب تعاملات کیے جاتے ہیں تو متعاملات اس مقدار میں موجود نہیں ہوتے، جو مقدار ایک متوازن کیمیائی تعامل کے لیے درکار ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ایک متعامل دوسرے متعامل سے زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔ وہ متعامل جو سب سے کم مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد مزید تعامل نہیں ہوتا، چاہے دوسرے متعامل کی کتنی بھی مقدار موجود ہو۔ اس لیے وہ متعامل جو سب سے پہلے استعمال ہو جاتا ہے تشکیل پانے والے ماحصل کی مقدار کو محدود کردیتا ہے اور اس لیے تحدیدی متعامل شے (Limiting Reagent) کہلاتا ہے۔

تناسب پیمائی تحسیب میں اس پہلو کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے۔

مسئلہ 1.5

(N2 (g کے 50.0kg اور (H2 (g کے  10.0kgکو ملا کر (NH3 (g بنائی جاتی ہے۔ حساب لگائیے کہ کتنی (NH3 (g بنے گی؟ اس حالت میں، NH3 کی تشکیل میں تحریدی متعامل شے کی شناخت کیجیے۔

حل

مندرجہ بالا تعامل کے لیے ایک متوازن مساوات اس طرح لکھی جاسکتی ہے:

108

N2 کے مول کی تعداد

109

H2  کے مول کی تعداد

110

مندرجہ بالا مساوات کے مطابق، تعامل کے لیے (1mol N2 (g کو (3mol H2(g درکار ہیں۔ اس لیے N2 کے 17.86X102مول کے لیے درکار (H2 (g کے مولوں کی تعداد۔

111

لیکن ہمارے پاس صرف 112 ہے۔ اس لیے ڈائی ہائڈروجن اس صورت میں تحدیدی متعامل ہے۔ اس لیے ہائڈروجن کی دستیاب مقدار، یعنی کہ 4.96X103Mol سے ہی (NH3(g)، بنے گی۔

کیونکہ، 3 mol H2 (g)، 2 mol NH3 (g) دیتی ہے۔

113

 114  حاصل ہوگی۔

اگر اسے گرام میں تبدیل کرنا ہو، تو مندرجہ ذیل طریقے سے کیا جاسکتا ہے:

115

1.10.2محلول میں تعاملات (Reactions in Solution)

تجربہ گاہ میں کیے جانے والے تعاملات کی بڑی تعداد، محلولوں میں ہوتی ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب کوئی شے محلول کی شکل میں ہوتی ہے تو اس کی مقدار کیسے ظاہر کی جاتی ہے۔ ایک محلول کا ارتکاز (Concentration) یا محلول کے دیے ہوئے حجم میں پائی جانے والی شے کی مقدار، مندرجہ ذیل طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے ظاہر کی جاسکتی ہے۔

کمیت فی صد یا وزن فی صد (%w/w)

مول کسر

مولاریت

 مولالیت

آئیے اب ان میں سے ہر ایک کا تفصیل سے مطالعہ کریں۔

کمیت فی صد (Mass Per Cent)

یہ مندرجہ ذیل رشتے کو استعمال کر کے حاصل کی جاتی ہے:

  منحل کی کمیت

 100—————— = کمیت فی صد

  محلول کی کمیت

مسئلہ 1.6

ایک شے 'A' کے 2g ، کو پانی کے 18g  میں حل کر کے ایک محلول تیار کیا جاتا ہے۔ منحل (Solute) کی کمیت فی صد معلوم کیجیے۔

حل

             A کی کمیت

 100 ——————— =  A کی کمیت فی صد

محلول کی کمیت

2 g

 X100 ——————

پانی کے  A + 18g کے 2g 

116

مول کسر (Mole Fraction)

یہ ایک مخصوص جزو (Component) کے مولوں کی تعداد کی، محلول کے مولوں کی کل تعداد سے نسبت ہے۔ اگر ایک شے A، شے B میں حل کی جاتی ہے اور ان کے مولوں کی تعداد بالترتیب nA اور nB ہے، تب A اور B کی مول کسریں مندرجہ ذیل ہوں گی: 

 A کے مولوں کی تعداد

———————— = A کی مول کسر

محلول کے مولوں کی تعداد

117

B کے مولوں کی تعداد

————————— = B کی مول کسر

محلول کے مولوں کی تعداد

118

3۔مولاریت (Molarity)

یہ سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی اکائی ہے اور اسے M سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ 1 لیٹر محلول میں منحل کے مولوں کی تعداد ہے۔ اس لیے 

   منحل کے مولوں کی تعداد

————————— = (M) مولاریت

  محلول کا حجم(لیٹر میں )

فرض کیجیے، ہمارے پاس ایک شے ،مان لیجیے  NaOH کا  1M محلول ہے ۔ ہم اس سے ایک 0.2M  کا محلول تیار کرنا چاہتے ہیں۔

 1M  NaOH کا مطلب ہے، 1 لیٹر محلول میں NaOH کا 1mol موجود ہے۔ 0.2M محلول کے لیے ہمیں 1 لیٹر محلول میں، NaOH کے 0.2 مول چاہئیں۔

اس لیے1Mمحلول سے 0.2mمحلول بنانے کے لیے ہمیں NaOH کے 0.2 مول لینے ہوں گے اور اس میں پانی ملا کر 1 لیٹر محلول بنانا ہوگا۔

اب ہمیں مرتکز119 محلول کا کتنا حجم لینا ہوگا، جس میں NaOH کے 0.2 مول ہوں۔ یہ حساب مندرجہ ذیل طریقے سے لگایا جاسکتا ہے:

اگر 1L یا  1000mL میں 1mol موجود ہے،

تو 0.2mol موجود ہے،

120

اس لیے، 1M NaOH کے 200mL لیے جاتے ہیں اور پھر اتنا پانی ملایا جاتا ہے کہ 1 لیٹر حجم ہو جائے۔

دراصل ایسی تحسیب میں، ایک عمومی فارمولا: M1  V1 = M2  V2 استعمال کیا جاسکتا ہے، جہاں M اور V بالترتیب مولاریت اور حجم ہیں۔ اس صورت میں، 

121

ان قدروں کو فارمولے میں رکھنے پر

122

نوٹ کریں کہ منحل (NaOH) کے مولوں کی تعداد، 200mL میں 0.2 تھی اور یہ ڈائی لیوشن (Dilution)، (میں100mL) ) کے بعد بھی اتنی ہی رہتی ہے، یعنی کہ 0.2، کیونکہ ہم نے صرف محلل (Solvent) (یعنی پانی) کی مقدار تبدیلی کی ہے اور NaOH کے ساتھ کچھ نہیں کیا ہے۔ لیکن ارتکاز (Concentration) کو دھیان میں رکھیں۔

مسئلہ 1.7

NaOH کے 4g کو اتنے پانی میں حل کر کے محلول تیار کیا جاتا ہے، کہ محلول کے 250mL حاصل ہوتے ہیں۔ NaOH کی مولاریت کا حساب لگائیے۔

حل

منحل کے مولوں کی تعداد

—————————— =  (M) مولاریت

  محلول کا حجم(لیٹر میں )

(NaOH کی مولر کمیت/(NaOH کی کمیت)

————————————— =

123

نوٹ کریں کہ ایک محلول کی مولاریت، درجہ حرارت پر منحصر ہے، کیونکہ ایک محلول کے حجم کا انحصار درجہ حرارت پر ہے۔

مولالیت (Molality)

اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ محلل کے 1kg میں موجود منحل کے مولوں کی تعداد ہے۔ اسے m سے ظاہر کرتے ہیں۔

   منحل کے مولوں کی تعداد

————————— = (m) مولالیت

         kg میں محلل کی کمیت

مسئلہ 1.8

NaCl کے 3M محلول کی کثافت 1-1.25g  mL ہے۔ محلول کی مولالیت کا حساب لگائیے۔

حل

M = 3 mol L–1 

124 محلول میں NaCl 

  کی کمیت

126  محلول کی کمیت

(  1.25gmL-1 = کثافت)

175.5- 1250 = محلول میں پانی کی کمیت

 1074.5g =

منحل کے مولوں کی تعداد

—————————— = مولالیت

kg میں محلل کی کمیت

3 mol

=

1.0745 kg

=2.79 m

127

کیمسٹری تجربہ گاہ میں مطلوبہ ارتکاز کا محلول، اکثر ایک معلوم مقابلتاً زیادہ ارتکاز کے محلول کا ڈائی لیوشن کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ مقابلتاً زیادہ ارتکاز کے محلول کو اسٹاک محلول (Stock Solution) بھی کہتے ہیں۔ نوٹ کریں کہ ایک محلول کی مولالیت، درجہ حرارت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی، کیونکہ درجہ حرارت کا کمیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔


خلاصہ 

کیمسٹری کا مطالعہ بہت اہم ہے کیونکہ اس کے احاطے میں زندگی کا ہر دائرہ آتا ہے۔ کیمسٹری میں اشیا کی خصوصیات اور ترکیب اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ہر ایک شے میں مادہ ہوتا ہے جو تین حالتوں میں پایا جاتا ہے: ٹھوس، رقیق اور گیس۔ مادہ کی ان حالتوں میں ترکیبی ذرات مختلف طریقوں سے ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں اور یہ اپنی نمایاں خصوصیات ظاہر کرتے ہیں۔ مادہ کی درجہ بندی، عناصر، مرکبات یا آمیزوں کے تحت بھی کی جاسکتی ہے۔ ایک عنصر میں صرف ایک ہی قسم کے ذرات ہوتے ہیں جو ایٹم یا سالمات ہو سکتے ہیں۔ مرکبات اس وقت تشکیل پاتے ہیں جب دو یا دو سے زیادہ عناصر کے ایٹم ایک دوسرے کے ساتھ ایک مستقل نسبت میں متحد ہوتے ہیں۔ آمیزے زیادہ تر سے پائے جاتے ہیں اور ہمارے آس پاس پائی جانے والی بہت سی اشیا آمیزے ہیں۔

جب کسی شے کی خاصیتوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو پیمائش اس میں شامل ہوتی ہے۔ خاصیتوں کو مقداری بنانے کے لیے پیمائش کا ایک نظام اور وہ اکائیاں جن میں مقداروں کو ظاہر کیا جاسکے، درکار ہوتے ہیں۔ پیمائش کے بہت سے نظام پائے جاتے ہیں ان میں سے انگلش اور میٹرک نظام زیادہ تر استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن سائنسی برادری ساری دنیا میں ایک یکساں اور مشترکہ نظام استعمال کرنے پر رضامند ہوگئی ہے۔ اس نظام کا مخفف SI اکائیاں ہے ’’اکائیوں کا بین الاقوامی نظام‘‘ (International System of Units)۔

کیونکہ پیمائش میں اعداد و شمار کو ریکارڈ کرنا شامل ہوتا ہے، جن کے ساتھ عدم یقینی کی کچھ مقدار منسلک ہوتی ہے، مقداروں کی پیمائش کے ذریعے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کو صحیح طور پر برتنا بہت اہم ہے۔ کیمسٹری میں مقداروں کی پیمائش ایک بڑی رینج: 31–10 سے 1023 تک پھیلی ہوئی ہے۔ لہٰذا اعداد کو سائنسی ترسیم (Scintific Notation) میں ظاہر کرنے کا آسان نظام بروئے کار لایا جاتا ہے۔  عدم یقینی کا محاصرہ کرنے کے لیے ان بامعنی اعداد کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے جن میں مشاہدات رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ ابعادی تجزیہ سے پیمائش شدہ مقداروں کو اکائیوں کے مختلف نظاموں میں ظاہر کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے نتیجہ کو اکائی کے ایک نظام سے دوسرے نظام میں تبدیل کرنا ممکن ہے۔

مختلف ایٹموں کے اتحاد پر کیمیائی اتحاد کے بنیادی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے یہ قوانین اس طرح ہیں: کمیت کی بقا کا قانون، مستقل تناسب کا قانون، صنفی تناسب کا قانون، گیلو ساک کا گیسی حجموں کا قانون اور ایووگاڈرو قانون۔ ان سب قوانین نے ڈالٹن کے ایٹمی نظریہ تک رہنمائی کی جس کا بیان ہے کہ ایٹم، مادہ کے بلڈنگ بلاک ہیں۔ ایک عنصر کی ایٹمی کمیت کاربن کے ہم جا 12C کی مناسبت سے ظاہر کی جاتی ہے، جس کی بالکل درست قدر12u ہے۔ عام طور سے ایک عنصر کے لیے استعمال کی جانے والی ایٹمی کمیت اس کی اوسط ایٹمی کمیت ہوتی ہے جو کہ اس عنصر کے مختلف ہم جاؤں کی قدرتی کثرت (Natural Abundance) کا لحاظ رکھ کر حاصل کی جاتی ہے۔ ایک سالمہ کی سالماتی کمیت، اس سالمہ میں موجود تمام ایٹموں کی کمیتوں کو جمع کرکے حاصل ہوتی ہے۔ ایک مرکب میں پائے جانے والے مختلف عناصر کی کمیت فی صد اور اس کی سالماتی کمیت معلوم کرکے مرکب کے سالماتی فارمولے کا حساب لگایا جاسکتا ہے۔

ایک دیے ہوئے نظام میں پائی جانے والے ایٹموں، سالمات یا کسی دوسرے ذرات کی تعداد ایووگاڈرو مستقلہ (10.23  6.022) کی شکل میں ظاہر کی جاتی ہے۔ یہ ان ذرات یا ہستیوں کا 1mol کہلاتی ہے۔

کیمیائی تعاملات مختلف عناصر اور مرکبات میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک متوازن کیمیائی مساوات بہت سی معلومات فراہم کرتی ہے۔ ضریب، مولر نسبتوں اور کسی مخصوص تعامل میں حصہ لینے والے ذرات کی متعلقہ تعداد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ درکار متعاملات یا تشکیل پانے والے ماحصلات کا مقداری مطالعہ، تناسب پیمائی کہلاتا ہے۔ تناسب پیمائی کے حساب کا استعمال کر کے ماحصل کی مخصوص مقدار حاصل کرنے کے لیے درکار ایک یا ایک سے زیادہ متعامل (متعاملات) کی مقدار (مقداریں) معلوم کی جاسکتی ہے اور اس کے بر خلاف بھی۔ ایک محلول کے دیے ہوئے حجم میں موجود کسی شے کی مقدار کئی طریقوں سے ظاہر کی جاسکتی ہے۔ مثلاً کمیت فی صد، مول کسر، مولاریت اور مولالیت۔

مشقیں

1.1 مندرجہ ذیل کی سالماتی کمیت معلوم کیجیے:
    128
1.2 سوڈیم سلفیٹ (Na2SO4) میں پائے جانے والے مختلف عناصر کی کمیت فی صد کا حساب لگائیے۔

1.3   لوہے (Iron) کے ایک آکسائڈ کا ایمپریکل فارمولا معلوم کیجیے، جس میں کمیت کے لحاظ سے %69.9 لوہا (Iron) اور %30.1 ڈائی آکسیجن ہے۔

1.4 کاربن ڈائی آکسائڈ کی اس مقدار کا حساب لگائیے جو اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب

(i)   کاربن کے ایک مول کو ہوا میں جلایا جائے۔
(ii) کاربن کے ایک مول کو ڈائی آکسیجن کے 16g میں جلایا جائے۔
(iii) کاربن کے 2 مولوں کو ڈائی آکسیجن کے 16g  میں جلایا جائے۔

1.5 سوڈیم ایسی ٹیٹ (CH3COONa) کی اس کمیت کا حساب لگائیے جو 0.375 مولر آبی محلول کے 500ml بنانے کے لیے درکار ہوگی۔ سوڈیم ایسی ٹیٹ کی مولر کمیت 82.0245g mol-1  ہے۔

1.6  ایک نمونے میں موجود نائٹرک ایسڈ (Nitric Acid) کے ارتکاز کا حساب مول فی لیٹر میں لگائیے۔ نمونے کی کثافت 1.41g  ml-1ہے اور اس میں نائٹرک ایسڈ کی کمیت فی صد %69 ہے۔ 

1.7 کاپرسلفیٹ (CuSO4) کے 100gm سے کاپر کی کتنی مقدار حاصل ہو سکتی ہے؟

1.8 لوہے کے اس آکسائڈ کا سالماتی فارمولا معلوم کیجیے، جس میں آئرن اور آکسیجن کی فی صد کمیتیں، بالترتیب 69.9 اور 30.1 ہیں۔

1.9 مندرجہ ذیل اعداد و شمار کو استعمال کر کے کلورین کی ایٹمی کمیت (اوسط) کا حساب لگائیے

قدرتی کثرت % مولر کمیت
129
1.10 ایتھین (C2H6) کے تین مولوں میں مندرجہ ذیل کا حساب لگائیے 
(i) کاربن ایٹموں کے مولوں کی تعداد۔
(ii) ہائڈروجن ایٹموں کے مولوں کی تعداد۔
(iii) ایتھین کے سالمات کی تعداد۔
1.11 mol L–1 میں، شکر (C12 H22 O11) کا کیا ارتکاز ہوگا، اگر اس کے 20g اتنے پانی میں حل کیے جائیں کہ کل حجم 2Lہو۔

1.12   اگر میتھانول (Methanol) کی کثافت 0.793kg L-1 ہے، تو اس کے 0.25M محلول کے 2.5L بنانے کے لیے اس کا کتنا حجم درکار ہوگا؟

1.13  دباؤ، سطح کے اکائی رقبہ پر لگ رہی قوت کی شکل میں معلوم کیا جاتا ہے۔ دباؤ کی SI اکائی جو کہ پاسکل (Pascal) کہلاتی ہے، ذیل میں دی گئی ہے: 1Pa = 1N m–2 

اگر سطحِ سمندر پر ہوا کی کمیت 1034g cm-2 ہے تو پاسکل میں دباؤ معلوم کیجیے۔

1.14 کمیت کی SI اکائی کیا ہے؟ اس کی تعریف کیسے کی جاتی ہے؟

1.15 مندرجہ ذیل سابقوں اور ان کے اضعاف (Multiples) کے جوڑے بنائیے:

سابقے                            اضعاف


(i)  مائکرو (Micro)                                        

ڈیگا(Deca)

میگا(Mega)

گیگا(Giga)

فیمٹو(Femto)

سابقے اضعاف
130  
1.16 بامعنی ہندسوں (Significant Figures) سے کیا مراد ہے؟

1.17 پینے کے پانی کے ایک نمونے میں کلوروفارم (CHCl3) کی بہت زیادہ ملاوٹ پائی گئی، جسے سرطان زا (Corcinogenic) (جس سے کینسر ہو سکتا ہے) سمجھا جاتا ہے۔ ملاوٹ کی سطح، 15ppm (کمیت کے لحاظ سے) تھی۔

(i) اسے کمیت کے لحاظ سے فی صد میں ظاہر کیجیے۔

(ii) پانی کے نمونے میں کلوروفارم کی مولالیت معلوم کیجیے۔

1.18 مندرجہ ذیل کو سائنسی ترسیم میں ظاہر کیجیے:

131
1.19 مندرجہ ذیل میں بامعنی ہندسوں کی تعداد بتائیے:
132
1.20 مندرجہ ذیل کو تین بامعنی ہندسوں تک مکمل کیجیے:
133
1.21 جب ڈائی نائٹروجن اور ڈائی آکسیجن آپس میں تعامل کر کےمختلف مرکبات تشکیل دیتے ہیں تو مندرجہ ذیل اعداد و شمار حاصل ہوتے ہیں:
ڈائی نائٹروجن کی کمیت ڈائی آکسیجن کی کمیت
134
(a) مندرجہ بالا تجرباتی اعداد و شمار پر کس کیمیائی اتحاد کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے؟ قانون بیان کیجیے۔
(b) مندرجہ ذیل تبدیلیوں میں خالی جگہ بھریے:
  (i) 1 km = ...................... mm = ...................... pm
          (ii) 1 mg = ...................... kg = ...................... ng      
(iii) 1 mL = ...................... L = ...................... dm3

1.22 اگر روشنی کی چال135 ہے، تو 2.00ns میں روشنی کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے کا حساب لگائیے۔

1.23 ایک تعامل: 136 میں، مندرجہ ذیل تعامل آمیزوں میں اگر کوئی تحریدی متعامل شے ہو تو اس کی نشاندہی کیجیے۔

(A (i کے 300 ایٹم  +   B کے 200 سالمات 

(A (ii کے 2 مول   +  B کے 3 مول 

(A (iii کے 100 ایٹم +  B کے 100 سالمات

(A (iv کے 5 مول + B کے 2.5 مول 

(A (v کے 2.5 مول + B کے 5 مول 

1.24 ڈائی نائٹروجن اور ڈائی آکسیجن، آپس میں تعامل کر کے مندرجہ ذیل کیمیائی مساوات کے مطابق امونیا بناتے ہیں: 

137

(i)   اگر 2.00X103g ڈائی نائٹروجن، 1.00X103g ڈائی ہائڈروجن سے تعامل کرتی ہے، تو بننے والی امونیا کی کمیت کا حساب لگائیے۔

(ii)   کیا دونوں میں سے کوئی متعامل، غیر تعامل شدہ رہے گا؟

(iii)  اگر ہاں تو کون سا اور اس کی کتنی کمیت ہوگی؟

1.25 0.5mol Na2Co3 اور 0.5M Na2Co3  کسے مختلف ہیں؟

1.26 اگر ڈائی ہائڈروجن گیس کے 10 حجم، ڈائی آکسیجن گیس کے 5 حجم سے تعامل کرتے ہیں، تو پانی کے ابخرات کے کتنے حجم تشکیل پائیں گے؟

1.27 مندرجہ ذیل کو اساسی اکائیوں میں تبدیل کیجیے:

138
1.28 مندرجہ ذیل میں سے کس میں ایٹموں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی؟
139

1.29 پانی میں ایتھانول (Ethanol) کے اس محلول کی مولاریت معلوم کیجیے، جس میں ایتھانول کی مول کسر 0.040 ہے۔(پانی کی کثافت کو 1.0مانئے)

1.30 ایک 12C ایٹم کی کمیت گرام میں کیا ہوگی؟

1.31 مندرجہ ذیل تحسیبات کے نتائج میں بامعنی ہندسوں کی تعداد کیا ہوگی؟

140

1.32 مندرجہ ذیل جدول میں دیے گئے اعداد و شمار کو استعمال کرکے، قدرتی طور پر پائے جانے والے آرگن کے ہم جاؤں کی مولرکمیت کا حساب لگائیے۔

ہم جا ہم جائی مولر کمیت کثرت

141

1.33 مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک میں ایٹموں کی تعداد معلوم کیجیے۔142

1.34 ایک ویلڈنگ ایندھن گیس میں صرف کاربن اور ہائڈروجن شامل ہیں۔ اس کے ایک نمونے کو آکسیجن میں جلانے پر 3.38g کاربن ڈائی آکسائڈ اور 0.690g پانی حاصل ہوتا ہے اس کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس ویلڈنگ گیس کے 10.0L حجم (STP پر) کا وزن 11.6g ہے۔ حساب لگائیے:

(i)  گیس کا ایمپریکل فارمولا (ii) گیس کی مولر کمیت (iii) سالماتی فارمولا

1.35 کیلشیم کاربونیٹ، HCl کے آبی محلول سے تعامل کر کے مندرجہ ذیل تعامل کے مطابق: کیلشیم کلورائڈ CaC12  اور CO2 دیتا ہے۔

143

0.75M HC1 کے 25ml سے پوری طرح تعامل کرنے کے لیے CaCO3 کی کتنی کمیت درکار ہوگی؟

1.36 تجربہ گاہ میں مینگینزڈائی آکسائڈ (MnO2) کا آبی ہائیڈروکلورک ایسڈ کے ساتھ مندرجہ ذیل تعامل کراکرکلورین تیار کی جاتی ہے۔

144
میگنیزڈائی آکسائڈ کے 5.0g کے ساتھ HCl کے کتنے گرام تعامل کرتے ہیں؟