Skip to content
5165CH01

اکائی 2


ایٹم کی ساخت

(Structure of Atom)

مقاصد

:اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ 

الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران کی دریافت اور ان کی خصوصیات کے بارے میں جان سکیں۔ •

تھامسن، ردرفورڈ اور بوہر کے ایٹمی ماڈلوں کو بیان کرسکیں۔ •

ایٹم کے کوانٹم میکانیکی ماڈل کے اہم نکات سمجھ سکیں۔ •

برق مقناطیسی اشعاع اور پلانک کے کوانٹم نظریہ کی طبع کو سمجھ سکیں۔ •

ضیا برقی اثر کی وضاحت کرسکیں اور ایٹمی اسپیکٹرا کے نکات بیان کرسکیں۔ •

ڈی۔براگلی رشتہ اور ہائز نبرگ عدم یقینی اصول بیان کرسکیں۔ •

کوانٹم نمبر کی شکل میں ایٹمی اربٹل کی تعریف کرسکیں۔ •

اوف باؤ اصول، پالی کا اصول استشنیٰ اور ازحد تضاعف کا ہنڈ کا قاعدہ بتا سکیں۔ •

ایٹموں کا الیکٹرانی تشکل لکھ سکیں۔ •

مختلف عناصر کے ایٹموں کے بہت زیادہ متنوع کیمیائی طرز عمل کی اصل وجہ انکی اندرونی ساخت میں پایا جانے والا فرق ہے

قدیم ہندوستانی اور یونانی فلسفیوں (400ق۔م) کے زمانے سے ہی ایٹم کی موجودگی تجویز کی جاتی رہی ہے۔ ان فلسفیوں کا خیال تھا کہ ایٹم مادے کے بنیادی بلڈنگ بلاک ہیں۔ ان کے مطابق، مادے کی مسلسل تقسیم کے نتیجے میں ہمیں بالآخر ایٹم حاصل ہوں گے، جو مزید قابلِ تقسیم نہیں ہوں گے۔ لفظ ایٹم یونانی لفظ اے۔ٹومیو (a-tomio) سے اخذ کیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں ناقابلِ تراش (un-cutable) یا ناقابلِ تقسیم (un-devisible)۔ یہ قدیم تصورات صرف خیالات پر مبنی تھے اور ان کو پرکھنے کا کوئی تجرباتی طریقہ نہیں تھا۔ بہت لمبے عرصے تک یہ تصورات خوابیدہ رہے اور انیسویں صدی میں سائنس دانوں نے انہیں دوبارہ متحرک کیا۔

مضبوط سائنسی بنیادوں پر، ایٹمی نظریہ، سب سے پہلے 1808میں، ایک برطانوی اسکول کے استاد، جان ڈالٹن نے پیش کیا۔ ان کے نظریہ جو کہ ’ڈالٹن کا ایٹمی نظریہ‘ کہلاتاہے،کے مطابق  ایٹم کو مادے کا حتمی ذرہ مانا جاتا ہے۔ (اکائی1)

ڈالٹن کا ایٹمی نظریہ،Dalton’s Atomic Theory کمیت کی بقا کے قانون، مستقل تناسب کے قانون اور صنفی تناسب کے قانون کی بہ خوبی وضاحت کرنے میں کامیاب رہا۔ لیکن یہ نظریہ کئی تجربات کے نتائج کی وضاحت نہیں کرسکا۔ مثال کے طور پر، یہ معلوم تھا کہ کانچ اور آبنوس جیسی اشیا کو جب سلک یا فر سے رگڑا جاتا ہے تو بجلی پیدا ہوتی ہے۔

اس اکائی میں ہم ان تجرباتی مشاہدات سے شروعات کریں گے جوسائنس دانوں نے انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں کیے تھے۔ ان تجربات سے یہ ثابت ہوگیا کہ ایٹم ذیلی ایٹمی ذرات Sub Atomic Particles یعنی کہ الیکٹران، پروٹان، اور نیوٹران سے مل کر بنتا ہے۔ یہ تصور ڈالٹن کےنظریہ سے بالکل مختلف ہے۔

2.1 ذیلی ایٹمی ذرات کی دریافت Discovery of Sub-Atomic Particles

 بیسویں صدی میں ذیلی ایٹمی ذرات کی بہت سی مختلف قسموں کی دریافت ہوئی لیکن اس حصّہ میں ہم صرف دو ذرات، الیکٹران اورپروٹان کی بات کریں گے۔

ایٹم کی ساخت کے بارے میں کچھ بصیرت ان تجربوں سے حاصل ہوئی جو گیسوں کے اندر سے برقی ڈسچارج گزار کر کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے کہ ہم ان نتائج سے بحث کریں، چارج شدہ ذرات کے طرزعمل سےمتعلق ایک بنیادی قاعدہ اپنے ذہن میں رکھنا ہوگا: یکساں چارج ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں اور غیر یکساں چارج ایک دوسرے کے تئیں کشش کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘

2.1.1  الیکٹران کی دریافت (Discovery of Electrorn)

1830 میں مائیکل فیراڈے نے تجربہ کرکے دکھایا کہ جب ایک الیکٹرولائٹ (Electrolyte) کے محلول سے برقی رو گزاری جاتی ہے تو الیکٹروڈ پر کیمیائی تعامل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مادہ خارج ہوتا ہے اور الیکٹروڈ پر جمع (Deposit)ہوجاتا ہے انہوں نے کچھ قوانین بھی ضابطہ کی شکل میں پیش کیے، جن کا مطالعہ آپ جماعت XII میں کریں گے۔ ان نتائج نے برق کی ذراتی فطرت (Particulate Nature) تجویز کی۔

خلا پمپ

اینوڈ

کیتھوڈ

ہائی وولٹیج

1

شکل 2.1 (a)  ایک کیتھوڈ رے ڈسچارج ٹیوب

1850 ویں صدی کی پانچویں دہائی کے وسط میں کئی سائنسدانوں، خاص طور پر فیراڈے،نے جزوی طور پر وکیوم شدہ ٹیوب میں جو کہ کیتھوڈرے ڈسچارج ٹیوب (Cathode Ray Discharge Tubes) کہلاتی ہیں، برقی ڈسچارج کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ ایسی ایک ٹیوب شکل 2.1 میں دکھائی گئی ہے۔ ایک کیتھوڈ رے ٹیوب کانچ کی بنی ہوتی ہے، جس میں دو دھات کے پتلے ٹکڑے سیل کیے ہوئے رکھے ہوتے ہیں، جو کہ الیکٹروڈ (Electrodes)کہلاتے ہیں۔ گیسوں میں برقی ڈسچارج کا مشاہدہ صرف بہت کم دباو اور بہت زیادہ وولٹیج (Voltage) پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ کانچ کی نلی میں مختلف گیسوں کے دباؤ کو خلا کاری (Evacuation) کے ذریعے مرتب کیا جاسکتا ہے۔ جب الیکٹروڈ (Electrodes) پر ضرورت کے مطابق بہت زیادہ وولٹیج لگایا جاتا ہے تو ذرات کی لہر میں سے کرنٹ بہنے لگتا ہے، جو کہ ٹیوب میں منفی الیکٹروڈ کیتھوڈ (Cathode) سے مثبتی الیکٹروڈ اینوڈ (Anode) کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ انہیں کیتھوڈ شعاعیں (Cathode Rays) یا کیتھوڈ شعاع ذرات (Cathode Ray Particles) کا نام دیا گیا۔ کیتھوڈ سے اینوڈ کی سمت میں برقی رو کے بہاؤ کی مزید جانچ کرنے کے لیے اینوڈ میں ایک سوراخ کردیا گیا اینوڈ کے پیچھے ٹیوب پر فاسفوری دمک والے مادے (Phosphorescent material) زنک سلفائڈ کی پرت چڑھائی گئی۔ جب یہ شعاعیں اینوڈ سے گزرنے کے بعد زنک سلفائڈ کی پرت پر پڑتی ہیں، تو پرت پر ایک چمکدار دھبّہ پیدا ہوتا ہے (یہی چیز ٹیلی ویژن سیٹ میں بھی دیکھنے میں آتی ہے)[شکل b) 2.1)]۔

وکیوم پمپ کو

فلوریسینٹ پرت

کیتھوڈ

ہائی وولٹیج

2

شکل 2.1(b) سوراخ دار اینوڈ والی کیتھوڈ رے ڈسچارج ٹیوب

:ان تجربات کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے

(i) کیتھوڈ شعاعیں، کیتھوڈ سے نکلتی ہیں اور اینوڈ کی سمت میں حرکت کرتی ہیں۔

(ii) یہ شعاعیں بذاتِ خود نظر نہیں آتیں، لیکن ان کے طرز عمل کا مشاہدہ خاص قسم کے مادوں کی مدد سے کیا جاسکتا ہے (فلوریسینٹ یا فاسفوریسینٹ) جو ان شعاعوں کے ٹکرانے سے چمکنے لگتے ہیں۔ ٹیلی ویژن کی پکچر ٹیوب، بھی کیتھوڈ رے ٹیوب ہیں اور ٹیلی ویژن پر تصویریں، اس کے اسکرین (پردے) پر خاص قسم کے فلوریسینٹ مادوں کی پرت کی وجہ سے بنتی ہیں۔

(iii)برقی یا مقناطیسی میدان کی غیر موجودگی میں یہ شعاعیں خطِ مستقیم میں سفر کرتی ہیں(شکل 2.2)۔

(iv) برقی یا مقناطیسی میدان کی موجودگی میں، کیتھوڈ شعاعوں کا طرز عمل بالکل اس طرح ہی ہوتا ہے، جیسا کہ منفی چارج شدہ ذرات Negatively Charged Particles سے توقع کی جاتی ہے، اس طرح یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کیتھوڈ شعاعیں منفی چارج شدہ ذرات پرمشتمل ہیں، جو الیکٹران کہلاتے ہیں۔

(v) کیتھوڈ شعاعوں (الیکٹران) کی خاصیتیں الیکٹروڈ (Electrodes) کے مادے اور کیتھوڈ رے ٹیوب (Cathode Ray Tube) میں موجود گیس کی طبع پر منحصر نہیں ہیں۔ 

2.1.2 الیکٹران کے چارج کی کمیت سے نسبت (Charge to Mass Ratio of Electron)

3
شکل 2.2. الیکٹران کے برقی چارج و کمیت کی نسبت معلوم کرنے کے لیے آلات

1897 میں برطانوی طبیعیات داں، جے۔جے۔ تھامسن نے برقی چارج (Electrical Charge) (e) کی الیکٹران کی کمیت (Mass of Electrons)(me)سے نسبت کی پیمائش کی۔ اس کے لیے انھوں نے کیتھوڈ رے ٹیوب (Cathode Ray Tube)کا استعمال کیا اور برقی اور مقناطیسی میدان اس طرح لگایا کہ دونوں میدان ایک دوسرے کے عمودی ہوں اور ساتھ ہی ساتھ الیکٹران کے راستے کے بھی عمودی (Perpendicular) ہوں (شکل 2.2)۔ جب صرف برقی میدان لگایا جاتا ہے تو الیکٹران اپنے راستے سے انحراف کرتے ہیں اور کیتھوڈ رے ٹیوب سے نقطہA پر ٹکراتے ہیں(شکل 2.2)۔ اسی طرح جب صرف مقناطیسی میدان لگایا جاتا ہے، تو الیکٹران، کیتھوڈ رے ٹیوب سے نقطہ C پر ٹکراتے ہیں۔ ہوشیاری سے برقی اور مقناطیسی میدانوں کی قوتوں کو متوازن کرنے سے یہ ممکن ہے کہ الیکٹرانوں کو اسی راستے پر واپس لایا جاسکے جو وہ برقی یا مقناطیسی میدان کی غیر موجودگی میں اختیار کرتے ہیں اور وہ اسکرین کے نقط B پر ٹکراتے ہیں۔ تھامسن نے توجیہہ پیش کی کہ برقی و مقناطیسی میدان کی موجودگی میں، ذرات کا اپنے راستے سے انحراف مندرجہ ذیل پر منحصر ہے:

(i)ذرے کے منفی چارج کی عددی قدر پر، ذرے پر منفی چارج کی عددی قدر جتنی زیادہ ہوگی، برقی یا مقناطیسی میدان سے اس کا باہمی عمل (Interaction) بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اور اس لیے انفراج (Deflection) بھی زیادہ ہوگا۔

(ii) ذرے کی کمیت پر— ذرہ جتنا ہلکا ہوگا، انفراج اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

(iii) برقی یا مقناطیسی میدان کی قوت (Strengthپر— الیکٹرانوں کا اپنے اصل راستے سے انحراف، الیکٹروڈ کے درمیان لگائی گئی برقی قوت یا مقناطیسی میدان کی قوت میں اضافہ کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔

 الیکٹرانوں کے راستے میں آئے ہوئے انحراف کی مقدار کی اور اس انحراف کو پیدا کرنے والے برقی و مقناطیسی میدانوں کی قوتوں کی درستگی کے ساتھ پیمائش کرکے، تھامسن نے e/me  کی قدر معلوم کی:

4 (2.1)   

جہاں me کلو گرام میں الیکٹران کی کمیت ہے اور 'eکو لمب (C) میں الیکٹران کے برقی چارج کی عددی قدر ہے۔ کیونکہ الیکٹران منفی چارج شدہ ہوتے ہیں، اس لیے الیکٹران پر برقی چارج e-ہے۔

2.1.3 الیکٹران پر برقی چارج (Charge on the Electron)

آر۔اے۔ملیکن (R.A. Milikan) (1868-1953) نے (1914-1906) الیکٹران کے برقی چارج کو معلوم کرنے کا ایک طریقہ نکالا جو تیل بوند تجربہ (Oil Drop Experiment) کہلاتا ہے۔ انھوں نے معلوم کیا کہ الیکٹران کا برقی چارج 5 ہے۔ برقی چارج کی موجودہ منظور شدہ قدر 6ہے۔ الیکٹران کی کمیت me، ان نتائج کو تھامسن کے ذریعہ معلوم کی گئی e/meنسبت کے ساتھ ملانے پر معلوم کی گئی:

7

2.1.4 پروٹان اور نیوٹران کی دریافت (Discovery of Proton and Neutrons)

اصلاح شدہ کیتھوڈ رے ٹیوب میں کیے گئے برقی ڈسچارج نے مثبت چارج شدہ ذرات کی دریافت کی راہ دکھائی، جو کینال شعاعیں (Canal Rays) بھی کہلاتی ہیں۔ ان مثبت چارج شدہ ذرات کی خاصیتوں کی فہرست نیچے دی گئی ہے:

(i) کیتھوڈ شعاعوں کےبرخلاف، مثبت چارج شدہ ذرات کی کمیت، کیتھوڈ رے ٹیوب میں موجود گیس کی فطرت پر منحصر ہیں۔ یہ صرف مثبت چارج شدہ گیسی آین ہیں۔

(ii)    ذرات کے برقی چارج کی ان کی کمیت سے نسبت اس گیس پر منحصر ہے، جس سے وہ نکلتے ہیں۔

(iii) کچھ مثبت چارج شدہ ذرات پر برقی چارج، برقی چارج کی بنیادی اکائی کے اضعاف (Multiples) ہوتے ہیں۔

(iv) مقناطیسی یا برقی میدان میں ان ذرات کا طرز عمل ، الیکٹران یا کیتھوڈ شعاعوں کے مشاہدہ کیے گئے طرز عمل کے برعکس ہوتا ہے۔

سب سے چھوٹا اور سب سے ہلکامثبت آین، ہائڈروجن سے حاصل کیا گیا اور اسے پروٹان (Proton) کا نام دیا گیا۔ اس مثبت چارج شدہ ذرے کی خاصیتیں 1919 میں معلوم ہوئیں۔ بعد میں، یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ ایٹم کے بنیادی اجزائے ترکیبی کے طور پر ایک برقی تعدیلی (Electrically Neutral) ذرہ بھی پایا جانا چاہیے۔ یہ ذرات چاڈوِک (1932) (Chadwick) نے دریافت کیے۔ انھوں نے اس دریافت کے لیے بیریلیم (Baryllium) کی ایک پتلی چادر پر a ذرات کی بوچھار کی۔ جب برقی طور پر تعدیلی ذرات، جن کی کمیت پروٹان کی کمیت سے معمولی سی زیادہ تھی خارج ہوئے تو انہوں نے ان ذرات کو نیوٹران (Neutron) کا نام دیا۔ ان تمام بنیادی ذرات کی اہم خاصیتیں جدول 2.1 میں دی گئی ہیں۔

ملیکن کا تیل بوند طریقہ (Milikan's Oil Drop Method)

اس طریقہ میں تیل کے چھوٹے چھوٹے قطروں کو ’کہر (Mist) کی شکل میں، جو کہ ایٹومائزر (Atomiser) کے ذریعے پیدا کیے گئے تھے، برقی کنڈنسر(Electrical Condensor) کی اوپری پلیٹ میں ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے، داخل ہونے دیا گیا۔ ان قطروں کے ذریعے نیچے کی سمت میں کی گئی حرکت کا مشاہدہ ایک دوربین کے ذریعے کیا گیا جس میں ایک مائیکرومیٹر چشمیہ (Micrometer Eye Piece) لگا ہوا تھا۔ ان قطروں کی نیچے گرنے کی شرح کی پیمائش کے ذریعے ملیکن ان قطروں کی کمیت معلوم کرسکے۔ چیمبر (Chamber) کے اندر کی ہوا میں سے x- شعاعوں کو گزار کر، آین سازی کردی گئی۔ ان تیل کے قطروں نے گیسی آینوں سے تصادم (Collision) کے ذریعے برقی چارج حاصل کرلیا۔ ان چارج شدہ تیل کے قطروں کی نیچے گرنے کی رفتار میں ابطا (Retardation) یا اسراع پیدا کیا جاسکتا ہے اور انھیں حالت سکون میں بھی لایا جاسکتا ہے۔ ایسا کرسکنا اس پر منحصر ہے کہ قطروں پر چارج کتنا ہے اور پلیٹ پر لگائے گئے وولٹیج کی قطبیت (Polarity) اور قدر کیا ہے ہوشیاری کے ساتھ قطروں کی حرکت پر برقی میدان کی قوت کے تیل کے اثر کی پیمائش کے ذریعے، ملیکن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قطروں پر برقی چارج کی عددی قدر 'q' ہمیشہ برقی چارج eکا صحیح عددی ضعف (Integral multiple) ہوتی ہے۔ یعنی کہ :  q=ne    (جہاں......n=1,2,3)

چارج شدہ پلیٹ

تیل کے قطرے

چھوٹا سوراخ

ایٹومائزر

ماخذ سے  رے

دوربین

زیر مشاہدہ تیل کا قطرہ

چارج شدہ چادر(-) 

  8       

شکل 2.3 چارج 'e' کی پیمائش کے لیے ملیکن تیل بوند آلہ۔ چیمبر میں تیل کے قطرے پر کام کر رہی قوتیں ہیں: کشش ثقل، برقی میدان کی وجہ سے برق سکونی اور ایک مزوجی کشید قوتViscous Drag Force جو تیل کے قطرے کے حرکت کرنے کے دوران لگتی ہیں۔

2.2 ایٹمی ماڈل (Atomic Models)

پچھلے سیکشن میں بیان کیے گئے تجربات سے حاصل ہونے والے مشاہدات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈالٹن کا ناقابلِ تقسیم ایٹم، ذیلی ایٹمی ذرات (Sub-Atomic Particles)سے مل کر بنا ہے، جن پر منفی اور مثبت برقی چارج ہوتا ہے۔  اس وقت سائنس دانوں کے سامنے اہم مسائل تھے:

ذیلی ایٹمی ذرات کی دریافت کے بعد ایٹم کے استحکام (stability) کا احاطہ کرنا۔

• طبیعی اور کیمیائی، دونوں قسم کی خاصیتوں کی شکل میں ایک عنصر کے طرز عمل کا دوسرے عنصر کے طرز عمل سے مقابلہ کرنا۔

• مختلف ایٹموں کے اتحاد سے مختلف قسم کے سالمات کی تشکیل کی وضاحت کرنااور

•  ایٹموں کے ذریعے خارج یا جذب کیے جانے والے مقناطیسی اشعاع کے مبدا (Origin)اور خصوصیات کی طبع کو سمجھنا۔

  ایک ایٹم میں ان برقی چارج شدہ ذرات کی تقسیم (Distribution) کی وضاحت کرنے کے لیے مختلف ایٹمی ماڈل تجویز کیے گئے۔ حالانکہ ان میں سے کچھ ماڈل ایٹم کے استحکام (Stability) کی وضاحت نہیں کرسکتے، ہم ذیل میں، ان میں سے  ایک وہ جو جے۔ جے۔ تھامسن اور  دوسرا ارنیسٹ ردر فورڈ کے تجویز کردہ دو ماڈلوں سے بحث کر رہے ہیں۔

2.2.1 ایٹم کا تھامسن ماڈل (Thomson Model of Atom)

جے۔جے۔ تھامسن نے 1898 میں تجویز کیا کہ ایک ایٹم کی شکل کروی (Spherical) ہوتی ہے۔ (نصف قطر، تقریباً، 10) جس میں مثبت چارج یکساں طور پر تقسیم ہوتا ہے۔ الیکٹران اس میں اس طرح پیوست ہوتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مستحکم برقی سکونی ترتیب حاصل ہوسکے (شکل 2.4)۔ اس ماڈل کو کئی مختلف نام دیے گئے ہیں، مثال کے طور پر آلویہ پڈنگ (Plum Pudding)، ریزن پڈنگ(Raisin Pudding) یا تربوز (Watermelon) ماڈل۔ اس ماڈل کو ہم مثبت چارج کی پڈنگ یا مثبت چارج کا تربوز تصور کرسکتے ہیں، جس میں آلویہ یا بیج (الیکٹران)پیوسٹ ہوتے ہیں۔ اس ماڈل کی اہم خاصیت یہ ہے کہ اس ماڈل کے مطابق ایٹم کی کمیت پورے ایٹم میں یکساں طور پر تقسیم ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ ماڈل ایٹم کی مجموعی تعدیلی (Neutrality) کی وضاحت تو کرسکا لیکن بعد میں کیے گئے تجربات کے نتائج سے ہم آہنگ (Consistent) نہیں تھا۔1906 میں تھامسن کو گیسوں میں برقی ایصال کی نظریاتی اور تجرباتی تحقیقات کے لیے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ 

مثبت کرہ

الیکٹران

9

         شکل 2.4 ایٹم کا تھامسن ماڈل

جدول 2.1 بنیادی ذرات کی خاصیتیں

(u)تقریبی کمیت (u)کمیت (کمیت(کلوگرام نسبتی برقی چارج
(c)مطلق برقی چارج علامت نام
0 0.00054 9.109382*10-31 -1 -1.602176*10-19 e الیکٹرون
1 1.00727 1.6726216*10-27 +1 +1.602176*10-19 p پروٹان
1 1.00867 1.674927*10-27 0 0 n نیوٹران


انیسویں صدی کے نصف آخر میں مختلف قسم کی شعاعیں (Rays) دریافت ہوئیں، جو ان کے علاوہ ہیں جن کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ ولہیم رونٹجن (Wilhalm Roentgen) (1845 - 1923) نے 1895میں دکھایا کہ جب الیکٹران، کیتھوڈ رے ٹیوب (Cathode Ray Tube) میں مادے سے ٹکراتے ہیں تو ایسی شعاعیں پیدا ہوتی ہیں جو کہ کیتھوڈ رے ٹیوب کے باہر رکھے ہوئے فلوریسینٹ مادے (Flourescent)میں فلوریسنس (Flourescence) پیدا کرسکتی ہے۔ کیونکہ رونٹجن کو اشعاع (Radiations) کی فطرت کے بارے میں معلوم نہیں تھا، اس نے انہیں -x شعاع کا نام دیا اور یہ نام ابھی بھی رائج ہے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ -x شعاعیں موثر طور پر اس وقت پیدا ہوتی ہیں، جب الیکٹران کثیف دھاتی اینوڈ (Dense Metal Anode)، جو ہدف (Targets) کہلاتے ہیں، سے ٹکراتے ہیں۔ یہ شعاعیں برقی اور مقناطیسی میدانوں سے منحرف نہیں ہوتیں اور ان میں مادے سے گزر سکنے کی بہت زیادہ دخولی طاقت (Penetrating Power) ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان شعاعوں کا استعمال اشیا کے اندرون کا مطالعہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔یہ شعاعیں بہت کم طولِ موج (Wave Length) کی ہوتی ہیں۔ (~o.1nm˜) اور ان کی برق۔ مقناطیسی (Electromagnetic) خاصیت ہوتی ہے (سیکشن2.3.1)۔

ہینری بیکوریل (Henri Becqueral)  (1852-1908) نے مشاہدہ کیا کہ ایسے عناصر (Elements)ہیں جو اپنے آپ اشعاع کا اخراج کرتے ہیں اور اس مظہر(Phenomenon)کو تابکاری (Radioactivity) کا نام دیا اور یہ عناصر ’’تابکار عناصر‘‘ کہلاتے ہیں۔ یہ دکھایا گیا کہ تین قسم کی شعاعیں خارج ہوتی ہیں، یعنی کہ a، b اور y شعاعیں خارج ہوتی ہیں۔ ردرفورڈ (Rutherford)نے معلوم کیا کہ -a  شعاعیں بہت زیادہ توانائی کے ذرات پر مشتمل ہیں جن پر 2 اکائی مثبت برقی چارج ہوتا ہے اور جن کی کمیت 4ایٹمی کمیت اکائی (a.m.u) ہوتی ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ -a ذرات ہیلیم (Helium) کے نیوکلیس ہیں کیونکہ یہ -a ذرات، 2الیکٹرانوں کے ساتھ مل کر ہیلیم گیس بناتے ہیں۔ -bشعاعیں، منفی چارج شدہ ذرات ہیں جو الیکٹرانوں جیسی ہی ہیں۔ -yشعاعیں x-شعاعوں کی طرح اعلیٰ توانائی والے اشعاع ہیں۔ یہ تعدیلی (Neutral) ہیں اور ذرات پر مشتمل نہیں ہوتیں۔ جہاں تک دخولی پاور (Penetrating Power) کا تعلق ہے، -a  ذرات کی دخولی پاور سب سے کم ہوتی ہے، اس کے بعد -b شعاعیں آتی ہیں، (a- ذرات کی دخولی قوت کی 100گنا) اور پھر y- شعاعیں (a- ذرات کی 1000 گنا)

2.2.2ردرفورڈ کا ایٹم کا نیوکلیائی ماڈل (Rutherford's Nuclear Model of Atom)

ردرفورڈ (Rutherford) اور ان کے شاگردوں ہینس گیگر اور ارنیسٹ مارسڈن (Hans Gieger and Ernest Marsden) نے سونے کے بہت پتلے ورق پر -a ذرات کی بوچھارکی۔ ردرفورڈ کا مشہور a- ذرات انتشار تجربہ (a-Particles Scattering Experiment) شکل 2.5 میں دکھایا گیا ہے۔

ایک تابکار ماخذ سے نکلنے والے بہت زیادہ توانائی کے a- ذرات کے ایک دھارے کو سونے (دھات) کے ایک پتلے ورق (موٹائی ˜100nm) پر ڈالا جاتا ہے۔ سونے کے پتلے ورق کے ارد گرد ایک دائری فلوریسینٹ زنک سلفائڈ پردہ لگا ہوتا ہے۔جب بھی کوئی a- ذرہ پردے سے ٹکراتا ہے تو اس نقطہ پر روشنی کی ایک معمولی سی چمک پیدا ہوتی ہے۔ 

سونے کا ورق

فوٹوگرافک پلیٹ

سیسہ کی پلیٹ

ذرات کا ماخذ

12

سونے کے ورق کا سالماتی خاکہ

پتلا سونے کا ورق

ذرات کا بیم

منفرج - aذرہ

منفرج -a ذرہ

منفرج - aذرہ

شکل 2.5 ردر فورڈ کے انتشار تجربہ کا خاکہ۰ جب a-ذرات کا ایک بیم ایک پتلے، سونے کے ورق پر ڈالا جاتا ہے۔ تو بیشتر -aذرات سونے کے ورق سے متاثر ہوئے بغیر ورق سے گذر جاتے ہیں۔لیکن کچھ منفرج ہوجاتے ہیں۔

انتشار تجربہ کے نتائج امید کے بہت برخلاف تھے۔ تھامسن کے ایٹم کے ماڈل کے مطابق، ورق میں سونے کے ہر ایک ایٹم کی کمیت پورے ایٹم میں یکساں طور پر پھیلی ہونی چاہیے تھی اور a- ذرات میں اتنی توانائی تھی جو کمیت کی ایسی یکساں تقسیم سے سیدھے گزر سکنے کے لیے کافی ہوتی۔ امید یہ تھی کہ ورق سے گزرتے ہوئے، ذرات کی چال آہستہ ہوجائے گی اور ان کی سمت میں تبدیلی صرف چھوٹے زاویوں سے ہی ہوگی۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ

(i) زیادہ تر a- ذرات سونے کے ورق سے بغیر کسی انفراج کے گزر گئے۔

(a-(iiذرات کی ایک چھوٹی کسر، چھوٹے زاویوں سے منفرج ہوئی۔

(iii) چند ذرات ہی (20,000میں سے 1) ٹکرا کر اسی سمت میں واپس لوٹ آئے، یعنی کہ ان میں تقریباً 180کا انفراج (Deflection) ہوا۔

ان مشاہدات کی بنیاد پر ردرفورڈ نے ایٹم کی ساخت کے بارے میں مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے:

(i) ایٹم میں زیادہ تر جگہ خالی ہے، کیونکہ بیشتر ∼-ذرات ورق سے بنا منفرج ہوئے گزر گئے۔

(ii) چند مثبت چارج شدہ a- ذرات ہی منفرج ہوئے۔ یہ انفراج یقینا ایک بڑی دافع قوت (Repulsive force) کی وجہ سے ہوا ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایٹم کا مثبت برقی چارج پورے ایٹم میں یکساں طور پر پھیلا ہوا نہیں تھا، جیسا کہ تھامسن نے مانا تھا۔ یہ مثبت برقی چارج لازمی طور پر ایک بہت چھوٹے حجم میں مرتکز ہونا چاہیے، تبھی وہ مثبت چارج شدہ a- ذرات کو دفع اور منفرج کرسکتا ہے۔

(iii) ردر فورڈ کے ذریعے کی گئی تحسیبات سے ظاہر ہوا کہ نیوکلیس کے ذریعے گھیرا گیا حجم، ایٹم کے کل حجم کے مقابلے میں قابلِ نظر انداز حد تک کم ہوتا ہے۔

ایٹم کا نصف قطر تقریباً 10ہے، جبکہ نیوکلیس کا نصف قطر14ہے۔ ایٹم اور نیوکلیس کے سائز میں اس فرق کو ہم مندرجہ ذیل مثال کے ذریعے بہتر طور پر محسوس کرسکتے ہیں۔ اگر ایک کرکٹ کی گیند نیوکلیس کو ظاہر کرتی ہے تو ایٹم کا نصف قطر تقریباً 5kmہوگا۔

مندرجہ بالا مشاہدات اور نتائج کی بنیاد پر، ردرفورڈ نے ایٹم کا نیوکلیائی ماڈل تجویز کیا ۔اس ماڈل کےمطابق: 

(i) مثبت چارج اور ایٹم کی بیشتر کمیت بہت ہی چھوٹے خطے میں کثیف طور پر مرتکز ہوتی ہے۔ ایٹم کے اِس بہت ہی چھوٹے حصّے کو ردرفورڈ نے نیوکلیس (Nucleus)کا نام دیا۔

(ii) نیوکلیس الیکٹرانوں سے گھرا ہوتا ہے جو نیوکلیس کے ارد گرد بہت تیز رفتار سے دائری راستوں پر، جنھیں مدار (Orbit) کہتے ہیں، حرکت کرتے ہیں۔ اس طرح، ردرفورڈ کا ماڈل شمسی نظام سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں نیوکلیس سورج کا کردار ادا کرتا ہے اور الیکٹران چکر لگا رہے سیاروں کے ردل ادا کرتے ہیں۔

(iii) الیکٹران اور نیوکلیس ایک ساتھ برق سکونی قوتوں کے ذریعے قائم رہتے ہیں۔

2.2.3  ایٹمی عدد اور کمیتی عدد (Atomic Number and Mass Number)

نیوکلیس میں مثبت برقی چارج کی موجودگی، نیوکلیس میں پائے جانے والے پروٹانوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ پہلے ثابت کیا جاچکا ہے، پروٹان کا برقی چارج الیکٹران کے برقی چارج کے مساوی اور مخالف ہوتا ہے۔ نیوکلیس میں موجود پروٹانوں کی تعداد ایٹمی عدد (Z)(Atomic Number) کے مساوی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہائڈروجن کے نیوکلیس میں پروٹانوں کی تعداد 1ہے، سوڈیم ایٹم میں 11ہے، اس لیے ان کے ایٹمی عدد، بالترتیب، 1اور 11ہیں۔ برقی معادلت کو برقرار رکھنے کے لیے، ایک ایٹم میں الیکٹرانوں کی تعداد، پروٹانوں کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے (ایٹمی عدد Z)۔ مثلاً ہائڈروجن ایٹم اورسوڈیم ایٹم میں الیکٹرانوں کی تعداد، بالترتیب، 1اور 11ہے۔

ایک ایٹم کے نیوکلیس میں پروٹانوں کی تعداد =ایٹمی عدد (Z)

ایک تعدیل ایٹم میں الیکٹرانوں کی تعداد =(2.3)  

جبکہ نیوکلیس کا مثبت برقی چارج پروٹانوں کی وجہ سے ہوتا ہے، نیوکلیس کی کمیت پروٹانوں اور نیوٹرانوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایاجاچکا ہے، نیوکلیس میں موجود پروٹانوں اور نیوٹرانوں کو مشترکہ طور پر نیوکلیان (Nucleons)کہتے ہیں۔ نیوکلیانوں کی کل تعداد کو ایٹم کا کمیتی عدد (Mass Number) کہتے ہیں۔

نیوٹرانوں کی تعداد (n)+پروٹانوں کی تعداد(Z)= کمیتی عدد (A)

                                                                                      (2.4)

2.2.4 آئسوبار اور آسوٹوپ (Isobars and Isotopes)

کسی بھی ایٹم کی ترکیب (Composition) کو اس کے معیاری عنصر کی علامت (X) کو استعمال کرکے ظاہر کیا جاتا ہے، جس کے اوپر کی جانب بائیں کونے پر ایٹمی کمیت عدد (A)اور نیچے کی جانب بائیں کونے پر ایٹمی عدد Zلکھا جاتا ہے (یعنی کہ15 )۔

آئسوبار(ہم بار) وہ ایٹم میں، جن کا کمیتی عدد یکساں ہوتا ہے لیکن ایٹمی عدد مختلف ہوتا ہے، مثال کے طور پر16 اور 17 ۔ دوسری طرف ایسے ایٹم، جن کے ایٹمی عدد یکساں ہوتے ہیں اور کمیتی عدد مختلف ہوتے ہیں، آئسو ٹوپ ہم جا (Isotopes) کہلاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں (مساوات 2.4کے مطابق)، یہ ظاہر ہے کہ آئسوٹوپ میں فرق، ان کے نیوکلیس میں موجود نیوٹرانوں کی مختلف تعداد کی وجہ سے ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم ہائڈروجن ایٹم پر ہی دوبارہ غور کریں تو ہائڈروجن کے %99.985 ایٹموں میں صرف ایک پروٹان ہوتا ہے۔ یہ آئسوٹوپ پروٹیم 18 کہلاتا ہے۔ ہائڈروجن ایٹم کی باقی بچی فیصد میں دو مزید آئسوٹوپ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس میں ایک پروٹان اور ایک نیوٹران ہوتا ہے اور جسے ڈیوٹیرم (Deuterium) 19 اور دوسرا وہ جس میں ایک پروٹان اور 2نیوٹران ہوتے ہیں اور جسے ٹرائی ٹیم (Tritium) کہتے ہیں۔ آخرالذکر آئسوٹوپ زمین پر بہت کم مقدار میں پایا جاتا ہے۔ عام طور سے پائے جانے والے کچھ اور آئسوٹوپ کی مثالیں ہیں: کاربن کے ایٹم، جن میں 6پروٹانوں کے ساتھ ساتھ 6‘7یا 8نیوٹران پائے جاتے ہیں۔20 ، کلورین کے ایٹم، جن میں 17پروٹانوں کے ساتھ 18اور 20 نیوٹران پائے جاتے ہیں 21 ۔

آخرمیں آئسوٹوپ سے متعلق ایک اہم نکتہ، جس کا ذکر کیا جانا چاہیے، یہ ہے کہ ایٹموں کی کیمیائی خاصیتیں الیکٹرانوں کی تعداد سے کنٹرول ہوتی ہیں، جو نیوکلیس میں پروٹانوں کی تعداد سے معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ ایک نیوکلیس میں موجود نیوٹرانوںکی تعداد سے ایک عنصر کی کیمیائی خاصیتوں پر بہت کم اثر پڑتا ہے۔ اس لیے، ایک عنصر کے تمام آئسوٹوپ یکساں کیمیائی طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔

مسئلہ 2.1

  22میں پروٹان نیوٹران اور الیکٹرانوں کی تعداد کا حساب لگائیے۔

حل

اس صورت میں :

 Z = 35  A = 80  , 22

کیونکہ نوع تعدیلی  ہے۔

 Z = 35= الیکٹرانوں کی تعداد  = پروٹانوں کی تعداد

 80 – 35 = 45= نیوٹرانوں کی تعداد

(مساوات 2.4)

مسئلہ2.2

ایک نوع (Species) میں الیکٹرانوں، پروٹانوں اور نیوٹرانوں کی تعداد بالترتیب 18، 16اور16ہے۔ نوع کو مناسب علامت سے ظاہر کیجئے۔

حل

ایٹمی عدد پروٹانوں کی تعداد کے برابر ہے یعنی -16عنصر سلفر (S) ہے۔

نیوٹرانوں کی تعداد +پروٹانوں کی تعداد =ایٹمی کمیت عدد

32= 16 + 16 = 

نوع، تعدیلی نہیں ہے، کیونکہ پروٹانوں کی تعداد الیکٹرانوں کی تعداد کے مساوی نہیں ہے۔ یہ اینائن (منفی چارج شدہ) ہے، جس کا چارج اضافی الیکٹرانوں کے مساوی ہے، 

یعنی کہ :  2= 16 – 18  

علامت ہے  23

نوٹ: علامت  24استعمال کرنے سے پہلے، معلوم کیجئے کہ نوع معادل ایٹم ہے، ایک مثبت آین ہے یا منفی آین ہے۔ اگر یہ تعدیلی ایٹم ہے تو مساوات (2.3)درست ہے، یعنی کہ ایٹمی عدد=الیکٹرانوں کی تعداد = پروٹانوں کی تعداد، اگر نوع ایک آین ہے تو معلوم کیجئے کہ آیا پروٹانوں کی تعداد الیکٹرانوں کی تعداد سے زیادہ ہے (مثبت آین) یا کم (منفی آین)۔ نیوٹرانوں کی تعداد ہمیشہ (A–Z)سے حاصل ہوگی، چاہے نوع تعدیلی ہو یا آین ہو۔

*کلاسیکی میکینکس ایک نظریاتی سائنس ہے جو نیوٹن کے حرکت کے قوانین پر مبنی ہے۔ یہ کلاں اجسام (Macroscopic Bodies) کے حرکت کے قوانین کا تعین کرتی ہے۔

2.2.5 ردر فورڈ ماڈل کی خامیاں (Drawbacks of Rutherford Model)

جیسا کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں،ردر فورڈ کا نیوکلیائی ماڈل برائے ایٹم ایک چھوٹے پیمانے کے شمسی نظام کی طرح ہے، جس میں نیوکلیس، وزنی سورج کا کردار ادا کرتا ہے اور الیکٹران مقابلتاً ہلکے سیاروں کی طرح ہیں۔  جب شمسی نظام پر *کلاسیکی میکینکس کا اطلاق کیا جاتا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیارے، سورج کے گرد، بہ خوبی معرف مدار بناتے ہیں۔سیاروں کے درمیان کی قوت کشش کو  25 سے ظاہر کرتے ہیں۔ جہاں m1

اور m2 کمیتیں ہیں، rکمیتوں کے درمیان کا فاصلہ ہے اور G کشش ثقل کا مستقلہ ہے۔ اس نظریہ (Theory)سے سیاروں کے مدار اور تجرباتی پیمائشوں سے ان کے اتفاق کی درستگی صحت کے ساتھ تحسیب کی جاسکتی ہے۔

شمسی نظام اور نیوکلیائی ماڈل میں مشابہت یہ تجویز کرتی ہے کہ الیکٹرانوں کو بھی نیوکلیس کے گرد بہ خوبی معرف مداروں میں حرکت کرنا چاہیے۔ مزید الیکٹران اور نیوکلیس کے درمیان کو لمب قوت کو (kq1q2/r2) سے ظاہر کرتے ہیں، جہاں q1اورq2برقی چارج ہیں، rبرقی چارجوں کے درمیان کا فاصلہ ہے اور k تناسبیت کا مستقلہ ہے)، ریاضیاتی طور پر کشش قوت الیکٹران اور نیوکلپس کے درمیان کے مشابہ ہے لیکن، جب کوئی جسم ایک مدار میں گھومتا ہے، تو اس میں اسراع پیدا ہوتا ہے اگر ایک مدار میں کوئی جسم مستقل چال سے بھی حرکت کررہا ہو، تو سمت کی تبدیلی کی وجہ سے اس میں اسراع پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نیوکلیائی ماڈل کے مطابق ایک الیکٹران جو سیاروں کے جیسے مدار میں حرکت کر رہا ہے، اس پر اسراع کام کر رہا ہے۔ میکسویل (Maxwell) کے برق مقناطیسی نظریہ (Electromagnetic Theory) کے مطابق چارج شدہ ذرات، جب اسراع پذیر ہوتے ہیں تو انھیں برق مقناطیسی اشعاع خارج کرنا چاہیے (یہ خاصیت سیاروں میں نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ چارج شدہ نہیں ہیں)۔ اس لیے ایک مدار میں حرکت کرتا ہوا ایک الیکٹران اشعار خارج کرے گا، اور اشعاع کے ذریعے خارج ہوئی توانائی، الیکٹرانی حرکت سے حاصل ہوگی۔ اس لیے مدار لگاتار سکڑتا رہے گا۔ تحسیبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک الیکٹران صرف26 میں چکر کھاتے کھاتے نیوکلیس میں گر پڑے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اس لیے ردرفورڈ ماڈل ایٹم کے استحکام (Stability) کی وضاحت نہیں کرسکتا۔ اگر ہم الیکٹران کی حرکت کو کلاسیکی میکینکس اور برق مقناطیسی نظریہ کی بنیاد پر بیان کرتے ہیں تو آپ سوال کرسکتے ہیں کہ اگر الیکٹرانوں کی حرکت کی وجہ سے ایٹم غیر مستحکم ہورہا ہے تو کیوں نہ نیوکلیس کے گرد الیکٹرانوں کو ساکت (Stationary) مان لیا جائے۔ اگر الیکٹران ساکت ہوتے تو کثیف نیوکلیس اور الیکٹرانوں کے مابین برق سکونی کشش، الیکٹرانوں کو نیوکلیس کی طرف کھینچ لے گی اور ہمیں تھامسن ماڈل کی ایک چھوٹی شکل ہی حاصل ہوگی۔

ردرفورڈ ماڈل کی ایک اور بڑی خامی یہ ہے کہ یہ ایٹم کی الیکٹرانی بناوٹ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ یعنی کہ، نیوکلیس کے گرد الیکٹرانوں کی تقسیم کس طرح ہے اور ان الیکٹرانوں کی توانائیاں کیا ہوتی ہیں۔

2.3ایٹم کے بوہر ماڈل کی راہ دکھانے والے انکشافات (Developments Leading to the Bohr's Model of Atom)

تاریخی طور پر، اشعاع کے مادے کے ساتھ ہونے والے باہمی عملوں کے مطالعے سے حاصل کیے گئے نتائج نے سالمات اور ایٹموں کی ساخت کے بارے میں بہت معلومات مہیا کی ہے۔ نیلس بوہر (Neils Bohr) نے ان نتائج کو استعمال کرکے، ردرفورڈ کے تجویز کردہ ماڈل کو بہتر بنایا۔ ایٹم کے بوہر ماڈل کی تشکیل میں دو انکشافات نے بڑا رول ادا کیا۔ یہ ہیں:

(i) برق مقناطیسی اشعاع کا دہرا کردار (Dual Character)، جس کا مطلب ہے کہ اشعاع میں موج (Wave) اور ذرہ (Particle) جیسی دونوں خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔

(ii) ایٹمی طیف (Atomic Spectra) سے متعلق تجرباتی نتائج، جن کی وضاحت، ایٹم میں صرف کو انٹمی (سیکشن 2.4) الیکٹرانی انرجی لیول (Qantised Electronic Energy Levels)  فرض کرکے ہی کی جاسکتی ہے۔

سب سے پہلے ہم برق مقناطیسی اشعاع کی دوہری فطرت پر بحث کریں گے۔ ایٹمی کیف سے متعلق تجربات کے نتائج ہم سیکشن 2.4میں پڑھیں گے۔

2.31  برق مقناطیسی اشعاع کی لہری فطرت (Wave Nature of Electromegnatic Radiation)

انیسویں صدی کے وسط میں طبعیات دانوں نے گرم اشیاء سے خارج اور جذب ہونے والی شعاؤں کا مطالعہ کیا تھا ۔ ان کو حرارتی اشعاع کہا جاتا ہے۔ وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ یہ حرارتی اشعاع کس چیز سے بنی ہوئی ہیں۔ اب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ حرارتی اشعاع مختلف فریکوئنسی یا ہر لمبائی کی برقی مقناطیسی لہروں سے مل کر بنتی ہیں۔ یہ کئی جدید تصورات پر مبنی ہے جن کا علم انیسویں صدی کے وسط میں نہیں تھا۔ حرارتی اشعاع قانون کا پہلا فعال مطالعہ 1850میں اور برقی مقناطیسی لہروں کا نظریہ اور اسراع شدہ چارج ہوئے ذرات سے ایسی لہروں کا اخراج 1870میں جان کلارک میکسویل کے ذریعہ فروغ دیا گیا ۔جیسے بعد میں ہینرک ہرٹس (Heinrich Hearts) نے تجربات کی بنیاد پر یقینی بنایا ۔ ہم برقی مقناطیسی اشعاع کے بارے میں کچھ تصورات یہاں پڑھیں گے۔

جیمس میکسویل (James Maxwell) (1870) وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے چارج شدہ اجسام کے مابین باہمی عمل اور برقی و مقناطیسی میدانوں کے طرز عمل کی میکروواسکوپک سطح پر تفصیلی وضاحت کی۔ انھوں نے تجویز کیا کہ جب برقی چارج شدہ ذرات، اسراع کے ساتھ حرکت کرتے ہیں تو متبادل  (Alternating) برقی اور مقناطیسی میدان پیدا ہوتے ہیں اور ترسیل ہوتے ہیں۔ یہ میدان، لہروں کی شکل میں ترسیل ہوتے ہیں جو برق۔ مقناطیسی لہریں  (Electromagnetic Waves)  یا برق مقناطیسی اشعاع (Electromagnetic Radiation) کہلاتی ہیں۔

زمانہ قدیم سے یہ معلوم ہے کہ روشنی بھی اشعاع کی ایک شکل ہے اور ا س کی طبع کے بارے میں قدیم زمانے سے ہی اندازے لگائے جاتے رہے ہیں۔ پہلے (نیوٹن) سمجھا جاتا تھا کہ روشنی ذرات (ذریچوں) (Corpuscles) سے مل کر بنی ہے۔ انیسویں صدی میں ہی روشنی کی لہری فطرت (Wave Nature) تسلیم کی جاسکی۔

میکسویل ہی پھر وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے یہ دکھایاکہ روشنی کی لہریں، اہترازی برقی اور مقناطیسی کردار کی حامل ہیں(شکل 2.6)۔ حالانکہ برق مقناطیسی لہر حرکت اپنی طبع کے لحاظ سے پیچیدہ ہے یہاں ہم کچھ سادہ خاصیتیں ہی ملاحظہ کریں گے۔

 i) اہتراز کررہے چارج شدہ ذرات سے پیدا ہونے والے اہتزازی برقی و مقناطیسی میدان، ایک دوسرے پر عمودی ہوتے ہیں اور یہ دونوں موج کی اشاعت کی سمت پر عمودی ہوتے ہیں۔ برق مقناطیسی لہر کی ایک سادہ تصویر شکل 2.6 میں دکھائی گئی ہے۔

برقی میدان جزو

اشاعت کی سمت

27

شکل 2.6 ایک برق مقناطیسی لہر کے برقی و مقناطیسی جزو۔ ان اجزا کی طولِ موج، سرعت، چال اور وسعت یکساں ہوتی ہے، لیکن یہ دو باہم عمودی مستویوں میں ارتعاش کرتے ہیں۔

(ii)   آواز کی لہروں اور پانی کی لہروں کے برخلاف، برق مقناطیسی لہروں کو میڈیم (Medium) کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ وکیوم (Vacuum)میں حرکت کرسکتی ہیں۔

(iii)   یہ اب اچھی طرح ثابت ہوچکا ہے کہ برق مقناطیسی اشعاع کی کئی قسمیں ہیں، جو ایک دوسرے سے طولِ موج یاسرعت میں مختلف ہوتی ہیں۔ یہ برق مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum) تشکیل دیتی ہیں (شکل 2.7)۔ طیف کے مختلف علاقے مختلف ناموں سے شناخت کیے جاتے ہیں۔ کچھ مثالیں ہیں: ریڈیو فریکوئنس خطّہ جو 106Hz کے آس پاس ہوتا ہے اور جس کا استعمال نشریات میں کیا جاتا ہے، مائیکرو ویو (Microvave) خطّہ، جو 1010Hzکے آس پاس ہوتا ہے اور راڈار (Radar) میں استعمال ہوتا ہے، انفراریڈ (Infrared) خطّہ جو 1013Hz کے آس پاس ہوتا ہے اور جس کا استعمال گرم کرنے میں ہوتا ہے، الٹراوائلٹ (Ultraviolet) خطّہ جو 1016Hz کے آس پاس ہے اور سورج کی شعاعوں کا ایک جزو ہے۔1015Hz کے آس پاس ایک چھوٹا سا خطّہ وہ ہے جو عام طور سے مرئی روشنی (Visible Region) کہلاتا ہے۔ صرف یہی وہ حصّہ ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں (یاشناس کرسکتی ہیں)۔ غیر مرئی اشعاع کی شناس کے لیے خاص آلات درکار ہوتے ہیں۔

(iv) برق مقناطیسی اشعاع کو ظاہر کرنے کے لیے مختلف قسم کی اکائیاں استعمال ہوتی ہیں۔

28

اور طولِ موج (λ)

شکل 2.7 (a) برقی مقناطیس اشعاع کا طیف (b) مرئی طیف۔ مرئی خطّہ کل طیف کا صرف ایک چھوٹا حصّہ ہے۔

         اور طول موج () ان اشعاع کی خاصیتیں ہیں: فریکوئنسی (v) 

فریکوئنسی کی S1اکائی ہرٹز  29 ہے جو ہیزک ہرٹز کے نام پر رکھی گئی ہے۔

ایک ہرٹز کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ لہرو ں کی وہ تعداد ہے جو ایک دیے ہوئے نقطے سے ایک سیکنڈ میں گزرتی ہیں۔

طولِ موج کی اکائی، لمبائی کی اکائی ہونا چاہیے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں لمبائی کی اکائی میٹر (m) ہے۔ کیونکہ برق مقناطیسی لہریں مختلف قسم کی لہرو ں پر مشتمل ہوتی ہیں، جن کی طولِ موج میٹر سے بہت کم ہوتی ہے، اس لیے چھوٹی اکائیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ شکل 2.7 میں برق مقناطیسی اشعاع کی مختلف قسمیں دکھائی گئی ہیں، جو ایک دوسرے سے طولِ موج اور فریکوئنسی میں مختلف ہیں۔

وکیوم میں ہر قسم کی برق مقناطیسی لہریں، طولِ موج سے قطع نظر، یکساں چال سے سفر کرتی ہیں، یعنی کہ30 (درستگی صحت کے ساتھ،31  یہ روشنی کی چال کہلاتی ہے اور اسے علامت ’c‘ دی گئی ہے۔ فریکوئنسی (v)  طولِ موج  (λ) اور روشنی کی رفتار (c)، مساوات 2.5 کے مطابق ایک دوسرے سے منسلک ہیں:

(c=v  ý (2.5

اسپیکٹرو اسکوپی (Spectroscopy) میں عام طور سے استعمال ہونے والی ایک اور مقدار ہے، لہر عدد (Wave Number)  اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ لہر عدد طول موج کی تعداد فی اکائی لمبائی ہے۔ اس کی اکائی طولِ موج کی اکائی کا مقلوب (Reciprocal) ہے، یعنی کہ 1-m حالانکہ عام طور سے استعمال ہونے والی اکائی1-m   ہے (جو S1اکائی نہیں ہے)۔

مسئلہ 2.3

آل انڈیا ریڈیو دہلی کا وودھ بھارتی اسٹیشن 1.368kHz  کی فریکوئنسی پر نشر ہوتا ہے۔ ٹرانسمیٹر سے خارج ہونے والے برق مقناطیسی اشعاع کی طولِ موج کا حساب لگائیے۔ یہ برق  مقناطیسی طیف کے کس خطّے سے تعلق رکھتا ہے۔

حل

طولِ موج c/v ýکے مساوی ہے جہاں c وکیوم میں برق مقناطیسی اشعاع کی رفتار ہے اور v  فریکوئنسی ہے۔ دی ہوئی قیمتوں کو رکھنے پر، ہمیں حاصل ہوتا ہے:

32

یہ ریڈیو لہر طولِ موج کی نمائندہ طولِ موج ہے۔

مسئلہ2.4

مرئی طیف کی طولِ موج کی رینج وائلٹ(400nm) (Violet) سے سرخ (750nm ) تک ہے۔ ان طولِ موج کو فریکوئنسی (Hz)میں ظاہر کیجئے۔33

حل

مساوات 2.5 استعمال کرتے ہوئے، وائلٹ روشنی کی فریکوئنسی 

34

سرخ روشنی کی فریکوئنسی

35

فریکوئنسی اکائیوں کے اعتبار سے مرئی طیف کی رینج ×4.0  1014 سے 36  تک ہے۔ 

* انصراف، ایک رکاوٹ کے اردگرد موج کا مڑنا ہے۔

* تداخل، یکساں یا مختلف فریکوئنسی کی دو لہرو ں کا ایسا اتحاد (combination) ہے جو ایک ایسی موج دیتا ہے جس کا اسپیس میں ہر ایک نقطے پر بٹاؤ اس نقطہ پر ہر ایک تداخلی موج کے ذریعہ پیدا ہونے والے خلل کا الجبری یاویکٹر حاصل جمع ہوتا ہے۔ 

 مسئلہ 2.5

حساب لگائیے: (a) لہر عدد اور (b) فریکوئنسی کا، اس پیلی اشعاع کے لیے جس کا طولِ موج  2800Á ہے

حل

(a) لہر عدد (ν‾) کی تحسیب :

37

(b) فریکوئنسی (V)  کی تحسیب :

38

2.3.2  برق مقناطیسی اشعاع کی ذراتی فطرت: پلانک کا کوانٹم نظریہ (Particle Nature of Electromagnetic Radiation : Plank's Quantum Theory)

کچھ تجرباتی مظاہر، جیسے انصراف* (Diffraction) اور تداخل** (Interference) وغیرہ کی، وضاحت برق مقناطیسی اشعاع کی لہر۔ فطرت کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ لیکن ذیل میں جو مشاہدات دیے جارہے ہیں، وہ ان میں سے چند مشاہدات ہیں جن کی انیسویں صدی کی طبیعیات (جو کلاسیکی طبیعیات کہلاتی ہے) کے برق مقناطیسی نظریہ کی مدد سے بھی وضاحت نہیں کی جاسکتی۔

(i) گرم اجسام سے خارج ہونے والے اشعاع کی طبع (سیاہ–جسم اشعاع)۔

(ii) دھاتی سطح سے اشعاع کے ٹکرانے پر، الیکٹرانوں کا خارج ہونا (ضیا برقی اثر  Photo Electric Effect)۔

(iii)    درجہ حرارت کے تفاعل کے طور پر ٹھوس اشیا کی حرارتی گنجائش میں تغیر۔

(iv)  ایٹموں کے خطّی طیف (Line Spectra)، خاص طور سے ہائڈروجن کے حوالے سے ۔

یہ عمل یہ ظاہر کرتاہے کہ نظام ، توانائی کو صرف مجرد مقدار میں حاصل کر سکتا ہے تمام ممکنہ توانائیاں جذب یا خارج نہیں کی جا سکتی ہیں۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ سیاہ۔ جسم اشعاع کے مظہر جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، کی ٹھوس وضاحت سب سے پہلے میکس پلانک(Max Planck) نے 1900 میں کی۔ آئیے اس مظہر کو سمجھتے ہیں جو درج ذیل دیا گیا ہے:

 ٹھوس اشیا کو گرم ہو کر برقی– مقناطیسی اشعاع خارج کرتی ہیں، جس کی طولِ موج کی رینج بہت زیادہ ہوتی ہے۔زیادہ درجۂ حرارت پر اشعاع کا ایک اچھا خاصا تناسب کیف کے مرئی حصّہ میں ہوتا ہے۔ جب درجۂ حرارت کو بڑھایا جاتا ہے تو کم لہری طول کا زیادہ تناسب(نیلی روشنی) پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب ایک لوہے کی چھڑ کو ایک بھٹّی میں گرم کیا جاتا ہے، تو پہلے اس کا رنگ ہلکا سرخ ہوتا ہے اور پھر جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، سرخی بھی بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ پھر جب چھڑ کو مزید گرم کیا جاتا ہے، تو خارج ہونے والی شعائیں سفید ہوجاتی ہیں۔اور پھر درجۂ حرارت بہت زیادہ ہوجاتا ہے تو نیلی ہوجاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ سرخ شعاعیں ایک خاص درجۂ حرارت پر شدید ہوتی ہیں اور نیلی شعاعیں کسی دوسرے درجۂ حرارت پر شدید ہوتی ہیں۔یعنی گرم اجسام سے نکلنے والی مختلف طولِ موج کی خارج اشعاع کی شدت کا انحصار درجۂ حرارت پر ہوتا ہے۔   

1850کے آخری حصّہ تک یہ معلوم تھا کہ مختلف درجۂ حرارت پر رکھی گئی مختلف مادوں سے بنی ہوئی اشیا مختلف مقدار میں اشعا ع کا اخراج کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ جب کسی شے کی سطح کو اعلیٰ برقی -مقناطیسی شعاؤں کے زیرِ اثر لایا جاتاہے تو بکھری ہوئی توانائی کا کچھ حصّہ اسی طرح منعکس ہو جاتا ہے۔ کچھ حصّہ جذب ہوجاتاہے اوراسی کا کچھ حصہ منتقل ہوجاتا ہے۔نامکمل انجذاب کی وجہ ہے کہ عام مادّے ، ایک اصول کے مطابق اشعاعوں کے ناقص جاذب ہوتے ہیں۔  وہ ’’مثالی جسم‘‘ (Ideal body) جو تمام فریکوئنسی کو خارج کرتا ہے اور جذب کرتا ہے، سیاہ جسم کہلاتا ہے اور ایسے جسم کے ذریعے خارج کیا گیا اشعاع، سیاہ جسم اشعاع کہلاتا ہے۔حقیقت میں ایسا کوئی جسم نہیں ہوتا ۔ کاربن سیاہ تقریباً سیاہ جسم کی طرح ہی ہوتا ہے۔کسی سیاہ جسم کی مشابہت ایک گڈھے سے کی جا سکتی ہے جس میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہے اور کوئی دوسرا حصّہ کھلا ہوا نہیں ہے۔ کوئی بھی شعاع جو اس کی خلا میں داخل ہوتی ہے وہ اس کی دیواروں سے منعکس ہو جاتی ہے اور بالاخر دیواروں میں جذب ہو جاتی ہے۔ ایک سیاہ جسم شعاعوں کی اخراجی توانائی کا ایک کامل شعاع ریز بھی ہے۔ مزید ایک سیاہ جسم اپنے گرد و پیش کے ساتھ حرارتی توازن میں بھی قائم رہتا ہے۔ یہ فی اکائی رقبہ میں اسی مقدار میں توانائی کو خارج کرتا ہے جتنی وہ کسی دئیے ہوئے وقت میں اپنے گردو پیش سے جذب کرتا ہے۔

39

تصویر 2.8(a) سیاہ جسم

 سیاہ جسم سے خارج ہوئے اشعاع اور اس کی کیفی تقسیم صرف اس کے درجہ حرارت پر منحصر ہے۔ ایک دیے ہوئے درجہ حرارت پر، خارج ہونے والے اشعاع کی شدت میں طولِ موج میں اضافہ کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے،پھر ایک دیے ہوئے طولِ موج پر اس کی قدر بہت زیادہ (Maximum) ہوجاتی ہے اور پھر طولِ موج میں مزید اضافہ کے ساتھ یہ کم ہونے لگتی ہے جیسا کہ شکل 2.8میں دکھایا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی جیسے جیسے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے ۔مدوّر (Curve) کا انتہائی نقط (Maxima) کم لہری طول کی سمت منتقل ہو جاتاہے۔ ایسی بہت سے کوششیں کی گئی ہیں جس سے شعاعوں کی شدت کی لہری طول کے طریقِ کار کے طور پر پیشن گوئی کی جا سکے۔

40

شکل 2.8  طول موج - شدر رشتہ

مندرجہ بالا تجرباتی نتائج کی، روشنی کے لہر نظریہ کی بنیاد پر خاطر خواہ وضاحت نہیں کی جاسکی۔ پلانک ایک اطمینان بخش نتیجہ پرپہنچتا ہے جب وہ یہ جانتا ہے کہ اشعاع کے انجذاب اور اخراج سے نکلتے ہیں (سیاہ اجسام کی دیواروں کے ایٹم) ان کی فریکوئنسی برقی مقناطیسی اشعاعوں کے (Occilators) سے باہمی عمل کی وجہ سے تبدیل ہو جاتی ہے۔ پلانک نے تجویز کیا کہ ایٹم اور سالمات صرف مجرّد مقداروں (Discrete quantities)میں ہی توانائی خارج یا جذب کرسکتے ہیں اور ایک لگاتار سلسلے کی شکل میں نہیں، جیسا کہ اس وقت مقبول تصور تھا۔ پلانک نے توانائی کی اس کم ترین مقدار کو‘ جو برق مقناطیسی اشعاع کی شکل میں خارج یا جذب ہوسکتی ہے، کوانٹم (Quantum)کا نام دیا۔ اشعاع کے ایک کوانٹم کی توانائی (E)اس کی فریکوئنسی (v)کے متناسب ہے اور مساوات 2.6سے ظاہر کی جاتی ہے:

41

تناسبیت مستقلہ 'h' پلانک مستقلہ (Plank's Constant) کہلاتا ہے اور اس کی قدر ہے: 42

اس نظریہ کے ذریعے پلانک، مختلف درجۂ حرارت پر، سیاہ جسم سے خارج ہونے والے اشعاع کی شدت کی تقسیم کی فریکوئنسی یا طولِ موج کے تفاعل کے طور پر وضاحت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

کوانٹائزیشن کو سیڑھیوں پر کھڑے ہونے سے مماثل کہا جاسکتا ہے۔ایک شخص ایک سیڑھی کے کسی بھی پائے پر کھڑا ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دو پایوں کے درمیان کھڑا ہو سکے۔ توانائی درج ذیل میں سے کسی ایک قیمت کو لے سکتی ہے لیکن ان کی کسی درمیانی قیمت کو نہیں لے سکتی ۔

E= O  hv  2hv   3hv.........nhv

دھاتی سطح

روشنی

شناس کار

الیکٹران

ویکیوم چیمبر

ایم میٹر

بیٹری

43

شکل 2.9 ضیا برقی اثر کا مطالعہ کرنے کے لیے آلات۔ ایک مخصوص فریکوئنسی کی روشنی، وکیوم چیمبر میں رکھی ہوئی صاف دھاتی سطح سے ٹکراتی ہے، دھات سے الیکٹران خارج ہوتے ہیں اور ایک شناس کار کے ذریعے ان کو شمار کیا جاتا ہے جو ان کی حرکی توانائی کی پیمائش کرتا ہے۔

میکس پلانک (1858-1947)

44

میکس پلانک، ایک جرمن طبیعیات داں، نے 1879 میں میونخ یونیورسٹی (Munich University) سے نظریاتی  طبیعیات میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ 1888 میں انھیں برلن یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف تھیوریٹکل فزکس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ پلانک کو 1918 میں ان کے کوانٹم نظریہ کے لیے طبیعیات کا نوبل انعام دیاگیا۔ پلانک نے تھرموڈائنمکس (Thermodynamics) اور طبیعیات کی دوسری شاخوں میں بھی اہم تعاون کیا۔

ضیا برقی اثر (Photoelectric Effect)

1887میں، ایچ۔ہرٹز (H-Hertz)نے ایک بہت دلچسپ تجربہ کیا۔ اس تجربہ میں، جب کچھ خاص دھاتوں (مثال کے طور پر پوٹاشیم، روبیڈیم، سیزیم وغیرہ) پر روشنی کا ایک بیم ڈالا گیا تو الیکٹران (یا برقی کرنٹ) خارج ہوئے، جیسا کہ شکل 2.9میں دکھایا گیاہے۔

یہ مظہر ضیا برقی اثر کہلاتا ہے اس تجربہ میں مشاہدہ کیے گئے نتائج ہیں:

(i)   دھات کی سطح سے الیکٹران، روشنی کی شعاع کے سطح سے ٹکراتے ہی نکلنے لگتے ہیں، یعنی کہ روشنی کی شعاع کے دھات کی سطح سے ٹکرانے اور سطح سے الیکٹرانوں کے خارج ہونے میں کوئی درمیانی وقفہ نہیں ہوتا۔

(ii)   خارج ہونے والے الیکٹرانوں کی تعداد روشنی کی شدت یا چمک (Brightness)کے متناسب ہے۔

(iii)   ہر دھات کے لیے ایک مخصوص کم سے کم فریکوئنسی (جسے دہلیز فریکوئنسی (threshold frequency) بھی کہتے ہیں)، vºہے جس سے کم فریکوئنسی پر ضیا برقی اثر نہیں دیکھا جاسکتا۔ 50پر خارج ہوئے الیکٹران کسی حرکی توانائی کے ساتھ باہر آتے ہیں۔ ان الیکٹرانوں کی حرکی توانائیوں میں استعمال کی جانے والی روشنی کی فریکوئنسی میں اضافہ کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔

اوپر دیے ہوئے تمام نتائج کی، کلاسیکی طبیعیات کے قوانین کی بنیاد پر وضاحت نہیں کی جاسکی۔ کلاسیکی طبیعیات کے مطابق روشنی کی شعاع کی توانائی روشنی کی چمک پر منحصر ہے۔ دوسرے الفاظ میں اخراج ہونے والے الیکٹرانوں اور ان سے وابستہ حرکی توانائی کو روشنی کی چمک پر منحصر ہونا چاہئے۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ حالانکہ خارج ہوئے الیکٹرانوں کی فریکوئنسی روشنی کی چمک پر منحصر ہے، لیکن خارج ہوئے الیکٹرانوں کی حرکی توانائی چمک پر منحصر نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سرخ روشنی 51 چاہے کسی بھی چمک (شدت) کی ہو، اگر اسے پوٹاشیم دھات پر گھنٹوں بھی ڈالا جائے، تب بھی کوئی فوٹو الیکٹران خارج نہیں ہوتا، لیکن جیسے ہی بہت کمزور پیلی روشنی  52 اسی پوٹاشیم چادر پر ڈالی جاتی ہے، ضیا برقی اثر دکھائی دینے لگتا ہے۔ پوٹاشیم دھات کے لیے دہلیز فریکوئنسی (threshold  frequency)

53ہے۔

البرٹ آئنسٹائن ، جو کہ جرمنی میں پیداہوئے امریکی طبیعیات داں تھے، بہت سے لوگ انھیں آج تک کے دو سب سے بڑے طبیعیات دانوں میں شمار کرتے ہیں (دوسرے اسحاق نیوٹن ہیں)۔ ان کے تین تحقیقی مقالوں نے، [جو مخصوص اضافیت (Special Relativity)، براؤنین حرکت (Brownian motion) اور ضیابرقی اثر، پر مبنی تھے] جنھیں انھوں نے 1905 میں شائع کرایا، جبکہ وہ برن (Berne) میں سوئز پیٹنٹ آفس (swiss patent office) میں بہ طور ٹیکنیکل اسسٹنٹ ملازم تھے، طبیعیات کی ارتقا پر گہرا اثر ڈالا۔ انھیں 1921 میں، ضیا برقی اثر کی وضاحت کرنے کے لیے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

picture 1

جدول 2.2  کچھ دھاتوں کے لیے کام فنکشن (We) کی قدریں 

Ag Cu Mg K Na Li
4.3 4.8 3.7 2.25 2.3 2.42 Wo/ev

آئنسٹائن (1905) نے، پلانک کے، برقی و مقناطیسی اشعاع کے، کوانٹم نظریہ کو آغازی نکتہ مانتے ہوئے، ضیا برقی اثر کی وضاحت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

ایک دھات کی سطح پر روشنی کے بیم کے ڈالنے کو سمجھا جاسکتا ہے کہ ذرات کا ایک بیم ڈالا جارہا ہے، جو کہ فوٹان (Photons) ہیں۔ جب ایک کافی توانائی کا فوٹان، دھات کے ایٹم کے ایک الیکٹران سےٹکراتا ہے، تو وہ، فوری طور پرٹکراؤ کے دوران، اپنی توانائی الیکٹران کو منتقل کردیتا ہے اور الیکٹران فوراً، بغیر کسی درمیانی وقفہ کےخارج ہوجاتا ہے۔ فوٹان کی توانائی جتنی زیادہ ہوگی، الیکٹران کو اتنی ہی زیادہ توانائی منتقل ہوگی اور خارج ہوئے الیکٹران کی حرکی توانائی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں، خارج ہوئے الیکٹران کی حرکی توانائی، برق مقناطیسی اشعاع کی فریکوئنسی کے متناسب ہے۔ کیونکہ ٹکرانے والے فوٹان کی توانائی hvکے مساوی ہے اور الیکٹران خارج کرنے کے لیے کم ترین درکار توانائی hvo ہے (جسے ورک فنکشن،  Work Function) wo) بھی کہتے ہیں) (جدول 2.2)، تب توانائی کا فرق:( hv- hvo) بطور فوٹو الیکٹران کی حرکی توانائی کے طور پر منتقل ہوتا ہے۔ توانائی کی بقا کے اصول کے مطابق خارج ہوئے الیکٹران کی حرکی توانائی مساوات (2.7)سے دی جاتی ہے۔

54

جہاں mالیکٹران کی کمیت ہے اور v خارج ہوئے الیکٹران کی رفتار ہے۔ آخر میں، روشنی کی ایک زیادہ شدت والی شعاع، فوٹانوں کی زیادہ تعداد پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے بمقابلے اس تجربے کے جس میں کمزور شدت کی شعاع استعمال کی گئی ہو، زیادہ شدت والی شعاع سے الیکٹرانوں کی مقابلتاً زیادہ تعداد خارج ہوتی ہے۔

برق-مقناطیسی اشعاع کا دہرا طرز عمل 

روشنی کی ذراتی فطرت نے سائنسدانوں کے لیے ایک دوہری شکل پیدا کردی۔ ایک طرف، اس کے ذریعے سیاہ جسم اشعاع اور ضیا برقی اثر کی قابلِ اطمینان وضاحت کی جاسکتی تھی تو دوسری طرف یہ روشنی کی معلوم لہر فطرت سے ہم آہنگ نہیں تھی، جو تداخل (Interference) اور انصراف(Diffraction) جیسے مظاہر کی وضاحت کرسکتی تھی۔ اس دوہری شکل کو حل کرنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ روشنی، لہروں اور ذرات جیسی، دونوں طرح کی خاصیتیں رکھتی ہے، یعنی کہ روشنی کا دہرا طرز عمل ہوتا ہے۔ تجربہ پر انحصار کرتے ہوئے، ہم پاتے ہیں کہ روشنی یا تو ایک لہر کی طرح طرز عمل کا اظہار کرتی ہے یا ایک ذرات کی شعاع کے طور پر طرز عمل کا اظہار کرتی ہے۔ جب بھی اشعاع مادہ سے باہمی عمل کرتا ہے تو یہ ذرات جیسی خاصیتوں کا اظہار کرتی ہے اور جب روشنی کی اشاعت (Propagation) ہوتی ہے تو یہ لہر جیسی خاصیتوں کا اظہار کرتی ہے (تداخل اور انصراف)۔ یہ تصوراس سے بالکل جدا تھا، جس طرح سائنس داں مادے اور اشعاع کے بارے میں سوچتے تھے، اور انھیں اس کی درستگی تسلیم کرنے میں لمبا عرصہ لگا۔ پھر یہ معلوم ہوا، جو آپ بعد میں پڑھیں گے، کہ کچھ خردبینی ذرات (Microscopic particles)، جیسے الیکٹران بھی، اس لہر۔ ذراتی دہرے طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔

* کسی بھی خاصیت کو مجرد قدروں کا پابند کردینا، کوانٹم سازی کہلاتا ہے

مسئلہ 2.6

اس اشعاع کے فوٹانوں کے ایک مول کی توانائی کا حساب لگائیے جس کی فریکوئنسی 5x1014 Hzہے۔

حل

ایک فوٹان کی توانائی (E)عبارت سے ظاہر کی جاتی ہے۔

E=hv

(دیا ہوا ہے) v=5x1014s-1

 55

فوٹانوں کے ایک مول کی توانائی

56

مسئلہ2.7

ایک 100واٹ کا بلب،  400nm طولِ موج کی یک رنگ (monochromatic) روشنی خارج کرتا ہے۔ ایک سیکنڈ میں بلب سے خارج ہو رہے فوٹانوں کی تعداد معلوم کیجئے۔

حل

 57بلب کی پاور

58 ایک فوٹان کی توانائی 

59

خارج ہونے والے فوٹانوں کی تعداد

60

مسئلہ 2.8

جب 300nm  طولِ موج کا برق مقناطیسی اشعاع سوڈیم کی سطح پر پڑتا ہے۔ تو 61 کی حرکی توانائی کے ساتھ الیکٹران خارج ہوتے ہیں۔ سوڈیم سے ایک الیکٹران خارج کرنے کے لیے کم از کم کتنی توانائی درکار ہوگی؟ وہ زیادہ سے زیادہ طولِ موج کیا ہوگی جو ایک فوٹو الیکٹران کو خارج کرسکے۔

حل

ایک 300nm  فوٹان کی توانائی (E) 

62

فوٹانوں کے ایک مول کی توانائی

63

 سوڈیم سے الیکٹرانوں کا ایک مول خارج کرنے کے لیے درکار کم ترین توانائی

64

ایک الیکٹران کے لیے کم ترین توانائی ۔

65

یہ مطابقت رکھتی ہے، طولِ موج λ سے:

66

(یہ ہری روشنی سے مطابقت رکھتی ہے)

مسئلہ 2.9

ایک دھات کے لیے دہلیز فریکوئنسی 67ہے۔ اس الیکٹران کی حرکی توانائی کا حساب لگائیے۔ جو  68 فریکوئنسی کے اشعاع کے دھات پر پڑنے سے خارج ہوتاہے۔

حل

آئنسٹائن مساوات کے مطابق:

  69حرکی توانائی

70

2.3.3 *کوانٹمی الیکٹرانی انرجی لیول کے لیے شہادتیں: ایٹمی طیف (Evidence for the Quantized Electronic Energy Levels : Atomic Spectra)

روشنی کی رفتار اس میڈیم کی فطرت پر منحصر ہے، جس سے وہ گزرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، روشنی جب ایک میڈیم سے دوسرے میڈیم میں داخل ہوتی یہ تو اپنے اصل راستے سے منحرف ہوجاتی ہے۔ یہ مشاہدہ کیاگیا ہے کہ جب سفید روشنی کی ایک شعاع اکسی پرزم (Prism) میں سے گزاری جاتی ہے، تو مقابلتاً کم طولِ موج کی لہر زیادہ طولِ موج والی لہر کے مقابلے میں زیادہ منحرف ہوتی ہے۔ کیونکہ عام سفید روشنی، مرئی رینج کی تمام طولِ موج پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے سفید روشنی کی ایک شعاع، پرزم میں سے گرنے پر رنگین پٹیوں (Coloured Bands) کے ایک سلسلے کی شکل میں پھیل جاتی ہے، جسے طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ سرخ رنگ کی روشنی، جس کا طولِ موج سب سے زیادہ ہے، سب سے کم منحرف ہوتی ہے، جبکہ وائلٹ (Violet)روشنی، جس کا طولِ موج سب سے کم ہے، سب سے زیادہ منحرف ہوتی ہے۔ سفید روشنی کے طیف کی رینج جسے ہم دیکھ سکتے ہیں، وائلٹ (Violet) سے (تعدد:  7.50x1014hz) سے سرخ (تعدد: 4x1014hz)، تک ہوتی ہے۔ ایسے طیف کو مسلسل طیف (Continous Spectrum) کہتے ہیں۔ مسلسل اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وائلٹ، نیلے میں ضم ہوجاتا ہے، نیلا، ہرے میں اور اسی طرح اور آگے بھی۔ اسی طرح کا ایک طیف اس وقت بھی بنتا ہے جب آسمان میں قوس و قزح بنتی ہے۔ یاد رکھیے کہ مرئی روشنی، برق مقناطیسی اشعاع کا ایک چھوٹا سا حصّہ ہے (شکل 2.7)۔ جب برق مقناطیسی اشعاع ، مادے سے باہمی دگر عمل کرتا ہے تو ایٹم اور سالمات توانائی جذب کرسکتے ہیں اور توانائی کی مقابلتاً اونچی حالت (High Energy State)پر پہنچ سکتے ہیں۔ مقابلتاً زیادہ توانائی کے ساتھ، یہ غیر مستحکم حالت میں ہوتے ہیں۔ اپنی عام حالت (مقابلتاً، زیادہ مستحکم، مقابلتاً کم توانائی کی حالتیں) پر واپس آنے کے لیے، ایٹم اور سالمات، اشعاع خارج کرتے ہیں، جو برق مقناطیسی طیف کے مختلف خطوں سے تعلق رکھتا ہے۔

اخراج اور انجذاب طیف (Emission and and Absorption Spectrum)

ایسی شے کے ذریعے خارج کیا گیا طیف جس نے توانائی جذب کی ہے، اخراج طیف (Emission Spectrum) کہلاتا ہے۔ ایٹم، سالمات اور آین، جنھوں نے توانائی جذب کی ہوتی ہے، مشتعل (Excited)کہلاتے ہیں۔ ایک اخراج طیف پیدا کرنے کے لیے، ایک نمونے (Sample) کو گرم کرکے یا اشعاع ریزی) (Irradiated) کرکے، توانائی مہیا کی جاتی ہے اور جب نمونہ جذب شدہ توانائی خارج کرتا ہے تو خارج ہونے والے اشعاع کی طولِ موج (یا فریکوئنسی) کو ریکارڈ کرلیا جاتا ہے۔

ایک انجذابی طیف اخراجی طیف کے فوٹو گرافک نگیٹو کی طرح ہے۔ ایک نمونے سے اشعاع کا ایک سلسلہ (Continuum) گزارا جاتا ہے جو مخصوص طول موج کا اشعاع جذب کرلیتا ہے۔ غائب ہوئے طولِ موج، جو مادہ کے ذریعے جذب کیے گئے اشعاع سے مطابقت رکھتے ہیں، چمکدار مسلسل طیف میں سیاہ خالی جگہیں چھوڑ دیتے ہیں۔

اخراجی یا انجذابی طیف کا مطالعہ طیف پیمائی (Spectroscopy) کہلاتا ہے۔ مرئی روشنی کا طیف، جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے، مسلسل تھا، کیونکہ اس طیف میں مرئی روشنی کے تمام طولِ موج (سرخ سے وائلٹ تک) کی نمائندگی ہورہی تھی۔ گیسی حالت (Gas Phase) میں ایٹموں کے انجذابی طیف، اس کے برخلاف، سرخ سے وائلٹ تک تمام طولِ موج کا مسلسل پھیلاؤ نہیں ظاہر کرتا بلکہ یہ صرف مخصوص طولِ موج کی روشنیاں ہی خارج کرتے ہیں اور ان کے درمیان سیاہ خالی جگہیں ہوتی ہیں۔ ایسے طیف، خطی طیف (Line Spectra) یا ایٹمی طیف کہلاتے ہیں کیونکہ خارج ہوئے اشعاع کی شناخت طیف میں چمکدار خطوط کے ظاہر ہونے کے ذریعے کی جاتی ہے (شکل 2.10)۔

الیکٹرانی ساخت کے مطالعے میں خطّی اخراجی طیف (Line emission spectra) بہت دلچسپی کے حامل ہیں۔ ہر عنصر کا یکتا (Unique) خطی اخراجی طیف ہوتا ہے۔ ایٹمی طیف میں مخصوص خطوط کیمیائی تجزیہ میں غیر معلوم عناصر کو شناخت کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ جس طرح انگلیوں کے نشانات کسی شخص کی شناخت کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ایک معلوم ایٹم کے اخراجی طیف کے خطوط کا ایک غیرمعلوم نمونے کے خطوط سے درست مقابلہ کرکے آخرالذکر کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ روبرٹ بنسن (Robert Bunsen)  (1811-1899)، ایک جرمن کیمیاداں، وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے خطی طیف کو عناصرکی شناخت کے لیے استعمال کیا۔

روبیڈیم (Rubidium's Rb)، سیزیم(Caesium' Cs)، تھیلیم (Thallium'Tl) انڈیم (Indium' In) گیلیم (Gallium' Ga) اور اسکینڈیم (Scandium' Sc)جیسے عناصر اس وقت دریافت ہوئے جب ان کی معدنیات (Minerals) کا اسپیکٹرو اسکوپک طریقوں (Spectroscopic Methods) سے تجزیہ کیا گیا۔ عنصر ہیلیم (Helium'He)کی سورج میں موجودگی کی دریافت بھی اسپیکٹرواسکوپک طریقوں سے ہوئی۔

ہائڈروجن کا خطّی طیف (Line Spectrum of Hydrogen)

جب گیسی ہائڈروجن سے ایک برقی ڈسچارج گزارا جاتا ہے، تو H2سالمہ کا افتراق (Dissociation) ہوجاتا ہے اور توانائی کے اعتبار سے مشتعل ہائڈروجن ایٹم، مجرد فریکوئنسی (Discrete Frequencies) کا برق مقناطیسی اشعاع خارج کرتے ہیں۔ ہائڈروجن طیف خطوط کے کئی سلسلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جن کے نام انھیں دریافت کرنے والوں کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔ بالمر (Balmer) نے 1885 میں تجرباتی مشاہدات کی بنا پر دکھایا کہ اگر اسپیکٹرواسکوپک خطوط کو لہر عدد (ν‾) کی شکل میں ظاہر کیا جائے، تو ہائڈروجن طیف کے مرئی خطوط (Visible Line) مندرجہ ذیل فارمولے کے طابع ہوتے ہیں:

71 (2.8)   

جہاںnایک صحیح عدد (Integer) ہے جو 3کے مساوی یا اس سے بڑا ہوسکتا ہے۔ یعنی کہ: …n=3,4,5

اس فارمولہ سے بیان کیے جانے والے خطوط کا سلسلہ بالمر سلسلہ (Balmer Series)کہلاتا ہے۔ ہائڈروجن کے طیف میں خطوط کا بالمر سلسلہ ہی وہ واحد خطوط ہیں جو برق مقناطیسی طیف کے مرئی خطّے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ سوئڈن کے ماہر طیف پیما جوہنس رڈبرگ (Johannes Rydburg) نے بتایا کہ ہائڈروجن طیف کے تمام خطوط کے سلسلے مندرجہ ذیل عبارت سے بیان کیے جاسکتے ہیں:

72 (2.9)   

قدر 1-109,677cm ہائڈروجن کے لیے رِڈبرگ مستقلہ کہلاتی ہے۔ خطوط کے پہلے پانچ سلسلے، جو 1,2,3,4,5 =n1  سے مطابقت رکھتے ہیں، بالترتیب لیمن (Lyman)، بالمر (Balmer)، پاسچن (Paschen) ، بریکٹ (Bracket)اور پی فنڈ (P fund) سلسلے کہلاتے ہیں۔ جدول 2.3میں ہائڈروجن طیف کے لیے ترسیل کے یہ سلسلے دکھائے گئے ہیں۔

بڑھتی ہوئی طول موج

اخراجی طیف

بڑھتی ہوئی طول موج

انجذابی طیف

فلم یا شناس                       مشتعمل نمونہ

                  پرزم

فلم یا شناس              جاذب نمونہ

                 پرزم                            سفید روشنی کا ماخذ

73

شکل 2.10 (a) ایٹمی اخراج مشتعل ہائڈروجن ایٹموں (یا کسی دوسرے عنصر) کے نمونے سے خارج ہوئی روشنی کو ایک پرزم سے گذارا جاتا ہے اور مخصوص مجرد طول موج میں علیحدہ کرلیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک طیف، جو علیحدہ ہوئی طول موج کی فوٹو گرافک ریکارڈنگ ہے، حاصل ہوتا ہے جو خطی طیف کہلاتا ہے۔ ایک مناسب سائز کے کسی بھی نمونے میں ایٹموں کی بہت بڑی تعداد ہوتی ہے۔ حالانکہ ایک واحد ایٹم کسی ایک خاص وقت پر صرف کسی ایک مشتعل حالت میں ہوسکتا ہے، ایٹموں کے مجموعہ میں تمام ممکنہ مشتعل حالتیں شامل ہوتی ہیں۔ ان ایٹموں کے مقابلتاً کم توانائی حالتوںمیں گرنے سے خارج ہونے والی روشنی طیف کے لیے ذمہ دار ہے۔(b) ایٹمی انجذاب جب سفید روشنی غیر مشتعل ایٹمی ہائڈروجن سے گذاری جاتی ہے اور پھر ایک جھری (Slit) اور پرزم (Prism) سے گذاری جاتی ہے تو ترسیل شدہ روشنی (Transmitted Light) کی شدت (Intensity)، انھیں طولِ موج پر جو (a) میں خارج ہوئی تھیں، کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ ریکارڈ کیا ہوا انجذابی طیف بھی ایک خطّی طیف ہوتا ہے اور اخراجی طیف کا فوٹو گرافک نگیٹو ہوتا ہے۔


تمام عناصرمیں ہائڈروجن ایٹم کا خطی طیف سب سے سادہ ہوتا ہے۔ بھاری ایٹموں کے لیے خطّی طیف زیادہ سے زیادہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن کچھ خاصیتیں ہیں جو تمام خطی طیف میں مشترک ہیں: (i) ہر عنصر کا خطی طیف یکتا ہوتا ہے۔ اور (ii) ہر عنصر کے خطی طیف میں ایک باقاعدگی (Regularity) پائی جاتی ہے۔ اب جو سوال پیدا ہوتے ہیں، وہ ہیں: ان مشترک خاصیتوں کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا اس کا کچھ تعلق ایٹم کی الیکٹرانی ساخت سے ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم بعد میں معلوم کریں گے کہ ان سوالوں کے جواب ان عناصر کی الیکٹرانی ساخت کو سمجھنے کی کنجی فراہم کرتے ہیں۔

2.4 ہائڈروجن ایٹم کے لیے بوہر ماڈل (Bohr's Model for Hydrogen Atom)

نیل بوہر (1913) [Neils Bohr] وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے ہائڈروجن ایٹم کی ساخت اور اس کے طیف کی مقداری شکل میں وضاحت کی۔ انھوں نے پلانک کا توانائی کے کوانٹائزیشن (Quantization) کے تصور کا استعمال کیا ۔حالانکہ ان کا نظریہ، جدید کوانٹم میکینکس نہیں ہے، پھر بھی یہ ایٹم کی ساخت اور طیف کے کئی نکتوں کو استدلالی بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہائڈروجن ایٹم کے لیے بوہر ماڈل مندرجہ ذیل بنیادی مفروضات (Postulates) پر مبنی ہے:

(i) ہائڈروجن ایٹم میں الیکٹران، نیوکلیس کے گرد ایک متعین (Fixed) نصف قطر اور توانائی کے دائری راستے پر حرکت کرسکتے ہیں۔ یہ راستے مدار (Orbits)، سکونی حالتیں (Stationary States) یا منظور شدہ توانائی حالتیں (Allowed Energy State) کہلاتے ہیں۔ یہ مدار نیوکلیس کے گرد ہم مرکز شکل (Concentrically) میں مرتب ہوتے ہیں۔

       جدول 2.3: ایٹمی ہائڈروجن کے لیے اسپیکٹرواسکوپک خطوط

ّاسپیکٹر واسکوپک خطہ n2 n1 سلسلہ
الٹراوائلٹ 2,3,... 1 لےمین
مرئی 3,4,... 2 بالمر
الفراریڈ 4,5, ... 3 پاسچن
الفراریڈ 5,6, ... 4 بریکٹ
الفراریڈ 6,7, ... 5 پی فنڈ


75

شکل 2.11 ہائڈروجن ایٹم میں الیکٹران کا عبور (Transitions) (ڈائیگرام میں ٹرانزیشن کے لے مین، بالمر اور پاسچن سلسلے دکھائے گئے ہیں)

(ii) ایک مدار میں الیکٹران کی توانائی وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی۔ لیکن ایک الیکٹران، ایک نچلی سکونی حالت سے اوپری سکونی حالت میں حرکت کرے گا، جب وہ توانائی کی مطلوبہ مقدار جذب کرے گا یا جب الیکٹران اوپری سکوتی حالت سے نچلی سکونی حالت میں حرکت کرتا ہے تو توانائی خارج ہوتی ہے (مساوات2.6)۔

توانائی کی تبدیلی مسلسل طور پر نہیں ہوتی۔

زاویائی معیار حرکت 

جس طرح خطّی تحرک (Linear Momentum)کمیت 'm'اور خطی رفتار 'v'کا حاصلِ ضرب ہے، بالکل اسی طرح زاویائی تحرک، استمراری گردشہ (Moment of Inertia) (I)،اور زاویائی رفتار76  (Angular Velocity) کا حاصلِ ضرب ہے۔ ایک me کمیت کے الیکٹران کے لیے، جو نیوکلیس کے گرد، r  نصف قطر کے دائری راستے پر حرکت کر رہا ہے،

77  زاویائی معیار حرکت (Angular Momentum)

(جہاں vخطّی رفتار ہے) 78

79  زاویائی معیار حرکت 

(iii) ’’سکونی حالتوں کے درمیان، جن کا توانائی کا فرق ΔE ہے، جب ٹرانزیشن (Transition) ہوتا ہے تو جذب یا خارج ہونے والے اشعاع کی فریکوئنسی کو اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے:

80 (2.10)  

جہاں E1 اور E2، نچلی اور اوپری منظور شدہ توانائی حالتوں کی توانائیاں ہیں۔ یہ عبارت عام طور سے بوہر کے فریکوئنسی کے قاعدے کے طور پر جانی جاتی ہے۔

(iv) الیکٹران کا زاویائی معیار حرکت کوائنٹائز ایک دی ہوئی سکونی حالت میں یہ ایک مساوات (2.11) کے ذریعے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

81 (2.11)  

جہاں mالیکٹران کی کمیت ہے، v اس کی رفتار اور r اس مدار کا نصف قطر ہے جس میں الیکٹران حرکت کر رہا ہے۔

اس طرح ایک الیکٹران صرف انھیں مداروں میں حرکت کر سکتا ہے، جن کے لیے اس کازیائی معیار حرکت82 کا صحیح عددی ضعف (Integral Multiple)ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ زادیانی معیار کوانٹائز کیا گیا ہے۔ اشعاع کا اخراج یا انجذاب صرف اسی وقت ہوگا جب ایک الیکٹران زاویائی معیار کی ایک کوانٹا نٹرڈ سطح سے دوسری سطح میں منتقل ہوگا۔ لہٰذا میکس ویل برقی مقناطیسی نظریہ کا اطلاق یہاں نہیں ہوگا۔ اسی لیے صرف کچھ متعین مدار ہی منظور شدہ ہیں۔

نیلس بوہر (Neils Bohr) (1885-1962)

نیلس بوہر نے، ڈنمارک کے طبیعیات داں تھے، 1911 میں کوپن ہیگن یونیورسٹی (University of Copenhagen) سے ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک سال انگلینڈ میں جے۔جے۔ تھامسن اور ارنیسٹ ردرفورڈ کے ساتھ گزرا۔ 1913 میں وہ کوپن ہیگن واپس آگئے اور پھر زندگی کا بقیہ حصّہ وہیں گزارا۔ 1920 میں انھیں انسٹی ٹیوٹ آف تھیورٹیکل فزکس کا ڈائرکٹر نامزد کیا گیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد بوہر نے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے لیے بڑی محنت سے کام کیا۔ 1957 میں انھیں پہلا "Atoms for Pence" (امن کے لیے ایٹم) انعام ملا۔ بوہر کو 1922 میں طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔

83

سکونی حالتوں کی توانائی کو وضع (Derive) کرنے کی، بوہر کے ذریعے استعمال کی گئی تفصیلات کافی پیچیدہ ہیں اور ان سے اعلیٰ درجات میں بحث جائے گی۔ پھر بھی، ہائڈروجن ایٹم کے بوہر کے نظریے کے مطابق:

(a) الیکٹران کی سکونی حالتوں کو عدد دیے جاتے ہیں: .....n =1,2,3  یہ صحیح اعداد (Integral Numbers) پرنسپل کوانٹم نمبر (Principal Quantum Numbers) کہلاتے ہیں (سیکشن2.6.2)۔

(b) سکونی حالتوں کے نصف قطر مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیے جاتے ہیں:

84

جہاں:85   اس لیے پہلی سکونی حالت کا نصف قطر بوہر نصف قطر کہلاتا ہے جو کہ 52.9pm  ہے۔ عام طور سے ہائڈروجن ایٹم میں الیکٹران اس مدار میں پایا جاتا ہے (یعنی کہ n = 1)۔ جیسے جیسے n بڑھتا جاتا ہے‘ r بھی بڑھتا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں الیکٹران نیوکلیس سے دور پایا جائے گا۔

(c) الیکٹران سے منسلک سب سے اہم خاصیت، اس کی سکونی حالت کی توانائی ہے۔ یہ مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر کی جاتی ہے: 

86(2.13)

جہاں RH رِڈبرگ مستقلہ کہلاتا ہے اور اس کی قدر87  ہے۔ سب سے نچلی حالت، (جو کہ گراؤنڈ اسٹیٹ (Ground State) بھی کہلاتی ہے) کی توانائی ہے: 

88

n=2 کے لیے سکونی حالت کی توانائی ہوگی:

89

شکل 2.11میں ہائڈروجن ایٹم کی مختلف سکونی حالتوں کی توانائیاں یا انرجی لیول دھائے گئے ہیں۔ یہ اظہار انرجی لیول ڈائیگرام کہلاتا ہے۔

ہائڈروجن ایٹم کے لیے منفی الیکٹرانی توانائی (En) کا کیا مطلب ہے؟

ہائڈروجن ایٹم میں الیکٹران کی توانائی کی علامت تمام ممکنہ مدار کے لیے منفی ہے (مساوات 2.13)۔ یہ منفی علامت کیا ظاہر کرتی ہے؟ اس منفی علامت کا مطلب ہے کہ ایٹم میں الیکٹران کی توانائی، ایک حالت سکون (rest) میں آزاد الیکٹران کی توانائی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ حالت سکون میں ایک آزاد (free) الیکٹران، نیوکلیس سے لامتناہی فاصلے پر ہوتا ہے اور اس کے لیے توانائی کی قدر ’صفر‘ مخصوص کی گئی ہے۔ ریاضیاتی طور پر، یہ مساوات (2.13)میں ∞=n  رکھنے سے مطابقت رکھتا ہے، اس طرح کہ E∞ = 0 الیکٹران جیسے جیسے نیوکلیس کے قریب تر ہوتا جاتا ہے (جیسے جیسے nکم ہوتا جاتا ہے)En اپنی مطلق قدر (Absolute Value) میں بڑھتی جاتی ہے اور مزید منفی ہوتی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ منفی توانائی کی قدر n = 1 سے دی جاتی ہے، جو سب سے زیادہ مستحکم مدار سے مطابقت رکھتی ہے۔ ہم اسے گراؤنڈ اسٹیٹ (Ground State) کہتے ہیں۔

جب الیکٹران نیوکلیس کے اثر سے آزاد ہوتا ہے تو توانائی کو صفر لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں الیکٹران سے، ∞=n پرنسپل کوانٹم نمبر کی سکونی حالت منسلک کی جاتی ہے۔ اس وقت اس کو آئینی ہائڈروجن ایٹم کہتے ہیں۔ جب الیکٹران نیوکلیس کے زیر کشش ہوتا ہے اور مدار n میں پایا جاتا ہے، تو توانائی خارج ہوتی ہے اور اس کی توانائی کم ہوجاتی ہے۔ مساوات (2.13)میں منفی علامت کی موجودگی کی یہی وجہ ہے اور یہ صفر توانائی کی حوالہ حالت اور ∞=n کی مناسبت سے اس کے استحکام (Stability) کو ظاہر کرتی ہے۔

(d) بوہر نظریہ کا اطلاق ان آینوں پر بھی ہوسکتا ہے، جن میں ہائڈروجن ایٹم کی طرح صرف ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر +He+ Li2+, Be3 اور اسی طرح اور اس قسم کے آینوں سے منسلک (جو ہائڈروجن جیسی انواع بھی کہلاتے ہیں)‘ سکونی حالتوں کی توانائیاں مندرجہ ذیل عبارت کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہیں:

90 (2.14)  

اور نصف قطر اِس عبارت سے ظاہر کیے جاتے ہیں:

91 (2.15)  

جہاں Z ایٹمی عدد ہے اور ہیلیم و لینتھیم ایٹموں کے لیے اس کی قدر، بالترتیب ، 2اور 3ہے۔مندرجہ بالا مساوات سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ Z میں اضافے کے ساتھ توانائی کی قدر اور زیادہ منفی ہوجاتی ہے اور نصف قطر کی قدر اور کم ہوجاتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ الیکٹران نیوکلیس کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے بندھا ہوا ہوگا۔

(e)  ان مداروں میں حرکت کر رہے الیکٹرانوں کی رفتاروں کا حساب لگانا بھی ممکن ہے۔حالانکہ بالکل درست مساوات یہاں نہیں دی جارہی ہے، کیفیتی طور پر، الیکٹران کی رفتار کی عددی قدر میں، نیوکلیس پر مثبت برقی چارج میں اضافہ کے ساتھ، اضافہ ہوتا ہے اور پرنسپل کوانٹم نمبرمیں اضافہ کے ساتھ، کمی ہوتی ہے۔

2.4.1 ہائڈروجن کے خطی طیف کی وضاحت  (Explanation of Line Spectrum of Hydrogen)

ہائڈروجن ایٹم کے مشاہدہ کیے گئے خطی طیف کی (جسے سیکشن 2.3.3میں بیان کیا گیا ہے) بوہر ماڈل استعمال کرتے ہوئے، مقداری شکل میں وضاحت کی جاسکتی ہے۔ مفروضہ 2کے مطابق، اشعاع (توانائی) کا انجذاب ہوتا ہے اگر الیکٹران مقابلتاً چھوٹے پرنسپل کوانٹم نمبر کے مدار سے بڑے پرنسپل کوانٹم نمبر کے مدار میں حرکت کرے، جبکہ اشعاع (توانائی) خارج ہوتی ہے اگر الیکٹران مقابلتاً اونچے مدار سے نچلے مدار میں حرکت کرتا ہے۔ دونوں مداروں کے درمیان توانائی فصل (Energy Gap) مساوات (2.16)سے ظاہر کیا جاتا ہے:

92 (2.16)

مساوات (2.13)اور (2.16) کو ملانے پر

93 (جہاں ní اور  ní بالترتیب آغازی (Initial)اور اختتامی (Final) مداروں کو ظاہر کرتے ہیں۔

94

فوٹان کے انجذاب اور اخراج سے منسلک فریکوئنسی (v)کو مساوات (2.18) کی مدد سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ 

95 (2.18)

96       (2.19)

اور لہر عدد  97  کی شکل میں:

98 (2.20)

99   (2.21)

انجذابی طیف کی صورت میں100  اور قوسین (Paranthesis) میں دیا ہوا رکن (Term)مثبت ہے اور توانائی جذب ہورہی ہے۔ دوسری طرف، اخراجی طیف کی صورت میں : 101 منفی ہے اور توانائی خارج ہورہی ہے۔

عبارت (2.17) اس عبارت جیسی ہے جو رِڈبرگ نے اس وقت دستیاب تجرباتی اعداد و شمار کو استعمال کرکے آزمائشی طور (empirically) پر وضع (Derive) کی تھی (مساوات 2.9)۔ مزید، ہر ایک اسپیکٹرواسکوپک خط، چاہے وہ انجذابی طیف میں ہو یا اخراجی طیف میں، ہائڈروجن ایٹم میں ہونے والے کسی مخصوص ٹرانزیشن (Transition) سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہائڈروجن ایٹموں کی بہت بڑی تعداد ہو تو مختلف ممکنہ ٹرانزیشن کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اس لیے اسپیکٹرواسکوپک خطوط کی بھی بہت بڑی تعداد حاصل ہوتی ہے۔ اسپیکٹرواسکوپک خطوط کی چمک یا شدت، جذب ہونے یا خارج ہونے والے، یکساں طولِ موج یا فریکوئنسی کے فوٹانوں کی تعداد پر منحصر ہے۔

مسئلہ 2.10

ہائڈروجن ایٹم میں n=5 حالت سے n=2 حالت میں ٹرانزیشن کے دوران خارج ہونے والے فوٹان کی طولِ موج اور فریکوئنسی کیا ہوں گے؟

حل

کیونکہ ، 5=ni اور 2=ni اس لیے یہ ٹرانزیشن، بالمر سلسلہ کے مرئی خطّہ میں اسپیکٹرواسکوپک خط دیتا ہے۔ مساوات (2.17)سے

102

یہ ایک اخراجی توانائی ہے۔

فوٹان کی فریکوئنسی (توانائی کو اس کی عددی قدر کی شکل میں لیتے ہوئے) مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کی جاتی ہے۔

103

مسئلہ2.11

+He کے پہلے مدار سے منسلک توانائی کا حساب لگائیے۔ اس مدار کا نصف قطر کیا ہے؟

حل

104

مدار کا نصف قطر مساوات (2.15)سے دیا جاتا ہے:

105

2.4.2 بوہر ماڈل کی حدود (Limitation of Bohr's Model)

بوہر کا ہائڈروجن ایٹم کا ماڈل یقینا ردرفورڈ کے نیوکلیائی ماڈل سے بہتر تھا، کیونکہ یہ ایٹم کے استحکام اور ہائڈروجن ایٹم اور ہائڈروجن جیسے آینوں(مثال کے طور پر +Be3+،Li2+،He وغیرہ) کے خطی طیفوں کی وضاحت کرنے میں کامیاب تھا۔ لیکن بوہر ماڈل اتنا سادہ تھا کہ مندرجہ ذیل نکات کی وضاحت نہیں کرسکا:

(i)   یہ ہائڈروجن ایٹم طیف کی ان باریک تفصیلات کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا (ڈبلیٹ (Doublet)یعنی کہ دو نزدیکی خطوط) جو طیف پیمائی کی اور بہتر تکنیکوں کے استعمال سے سامنے آئیں۔ یہ ماڈل، ہائڈروجن کے علاوہ اور کسی عنصر کے طیف کی وضاحت کرسکنے میں کامیاب نہیں رہا، جیسے ہیلیم ایٹم، جس میں صرف 2 الیکٹران ہوتے ہیں۔ مزید، بوہر کا نظریہ، مقناطیسی میدان کی موجودگی میں (Zeeman Effect) یا برقی میدان (Stark Effect) کی موجودگی میں اسپیکٹرواسکوپک خطوط کی علیحدگی (Splitting) کی بھی وضاحت بھی نہیں کرسکا۔

(ii)  یہ ایٹموں کی ’کیمیائی بندشوں کے ذریعے، سالمات تشکیل دینے کی صلاحیتوں کی وضاحت نہیں کرسکا۔

دوسرے لفظوں میں، اوپر دیے ہوئے نکات کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمیں ایک بہتر نظریہ کی ضرورت ہے جو پیچیدہ ایٹموں کی ساخت کی اہم خاصیتوں کی وضاحت کرسکے۔

2.5  ایٹم کے کوانٹم میکانیکی ماڈل کی سمت (Towards Quantum Mechanical Model of the Atom)

بوہر ماڈل کی خامیوں کے پیشِ نظر، ایٹموں کے لیے ایک زیادہ مناسب اور عمومی ماڈل تیار کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ دو اہم انکشافات جنھوں نے ایسے ماڈل کی تشکیل میں اہم حصّہ لیا وہ تھے:

مادہ کا دہرا طرز عمل

2۔    ہائزنبرگ کا عدم یقینی اصول

2.5.1مادہ کا دہرا طرز عمل (Dual Behavior of Matter)

1924 میں فرانسیسی طبیعیات داں، ڈی براگلی (De Broglie) نے تجویز پیش کی کہ اشعاع کی طرح، مادے کو بھی دوہرے طرز عمل کا اظہار کرنا چاہیے، یعنی کہ ذرہ اور لہر جیسی، دونوں قسم کی خاصیتیں ظاہر کرنا چاہئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جیسے فوٹان کا معیار حرکت بھی ہوتا ہے اور طولِ موج بھی، اسی طرح الیکٹرانوں کا معیار حرکت بھی ہونا چاہیے اور طولِ موج بھی۔ اس مماثلت (Analogy) سے، ڈی۔براگلی نے ایک مادی ذرہ کے طولِ موج106  اور معیار حرکت (p) کے درمیان مندرجہ ذیل رشتہ دیا:

107 (2.22)

جہاںm’ ذرہ کی کمیت ہے، v اس کی رفتار ہے اور p اس کا معیار حرکت ہے۔ ڈی۔براگلی کی پیشین گوئی تجربہ سے اس وقت ثابت ہوئی جب ایک الیکٹران بیم کے انصراف (Diffraction) کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس معلومات کا استعمال الیکٹران مائیکروسکوپ بنانے میں کیا گیا، جو بالکل اسی طرح الیکٹران کی لہریائی خصوصیت پر منحصر ہے، جس طرح کہ عام مائیکرو سکوپ (خوردبین) میں روشنی کی لہر فطرت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک الیکٹران مائیکروسکوپ، جدید سائنسی تحقیق میں استعمال ہونے والا ایک موثر آلہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے تقریباً 15 ملین گنا تکبیر (Magnification) حاصل کی جاسکتی ہے۔

108

لوئس ڈی براگلی (1892-1987)

لوئس ڈی براگلی (Louis de Broglie)، ایک فرانسیسی طبیعیات داں نے 1910کے شروعاتی برسوں میں بی۔اے کے طالب علم کی حیثیت سے تاریخ کا مطالعہ کیا۔ پہلی عالمی جنگ1کے دوران جب ان کی تقرری ریڈیو ترسیل میں ہوئی تو انھیں سائنس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ انھوں نے پیرس یونیورسٹی (Paris University) سے 1924میں سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری (Dr. Sc.)حاصل کی۔ وہ 1932سے ملازمت سے سبکدوش ہونے تک (1962)، پیرس یونیورسٹی میں نظریاتی طبیعیات کے پروفیسر رہے۔ انھیں 1929میں طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔

یہ نوٹ کرنا بہت اہم ہے کہ ڈی۔براگلی(de Broglie) کے مطابق، حرکت کرتی ہوئی ہر ایک شے میں لہر خاصیت پائی جاتی ہے۔ عام اشیا سے منسلک طولِ موج اتنے چھوٹے ہیں (ان کی زیادہ کمیت کی وجہ سے) کہ ان کی لہر خاصیت شناس نہیں کی جاسکتی۔ الیکٹران اور دوسرے ذیلی ایٹمی ذرات (جن کی کمیت بہت کم ہوتی ہے) سے منسلک طولِ موج کو تجربات کے ذریعے شناس کیا جاسکتا ہے۔ مندرجہ ذیل مسئلہ سے حاصل ہونے والے نتائج اس نکتہ کو کیفیتی طور سے ثابت کرتے ہیں۔

مسئلہ 2.12

0.1kg  کمیت کی ایک گیند کی طولِ موج کیا ہوگی، جب کہ وہ  1-10ms  کی رفتار سے حرکت کررہی ہو۔

حل

ڈی براگلی مساوات (2.22)کے مطابق

109

مسئلہ 2.13

ایک الیکٹران کی کمیت  110 ہے۔ اگر اس کی حرکی توانائی 111  ہے تو اس کے طولِ موج کا حساب لگائیے۔

حل

کیونکہ

112

113

مسئلہ2.14

ایک فوٹان کی کمیت معلوم کیجیے، جس کا طولِ موج  114 ہے

حل:  115

روشنی کی رفتار  = فوٹان کی رفتار

116

2.5.2 ہائزنبرگ کا عدم یقینی اصول(Heisenberg's Uncertainty Principle)

ایک جرمن طبیعیات داں، ورنر ہائزنبرگ (Werner Heisenberg) نے 1927میں عدم یقینی اصول (Uncertainty Principle) بیان کیا، جو مادے اور اشعاع کی دہری طبع کا نتیجہ ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ’’ایک الیکٹران کا بالکل درست مقام اور بالکل درست معیار حرکت (یا رفتار)، ہمہ وقت (simultaneously) معلوم کرنا ناممکن ہے:‘‘

ریاضیاتی شکل میں اسے مساوات (2.23)کے ذریعے بیان کیا جاسکتا ہے۔

117 (2.23)

یا 118

یا 119

جہاں ΔX  ذرے کے مقام میں عدم یقینی ہے اور ΔPx (یا ΔVx) ذرے کے معیار حرکت (یا رفتار) میں عدم یقینی ہے۔ اگر ایک الیکٹران کا مقام زیادہ درجہ کی درستگی صحت کے ساتھ معلوم ہے (ΔX چھوٹا ہے)‘ تو الیکٹران کی رفتار غیر یقینی ہوگی [ 120 بڑا ہوگا]۔ دوسری طرف اگر الیکٹران کی رفتار درستگی صحت کے ساتھ معلوم ہے، [ 120 چھوٹا ہے] تو الیکٹران کا مقام غیر یقینی ہوگا (ΔX بڑا ہوگا)۔ اس لیے اگر ہم الیکٹران کا مقام اور اس کی رفتار معلوم کرنے کے لیے کوئی طبعی پیمائش کریں تو نتیجہ میں حاصل ہونے والی تصویر ہمیشہ دھندلی اور غیر واضح ہوگی۔

عدم یقینی اصول کو ایک مثال کے ذریعے سب سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ آپ کو ایک کاغذ کی موٹائی ایسی میٹر چھڑ سے ناپنے کے لیے کہا گیا ہے، جس پر نشانات لگے ہوئے نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ جو نتائج حاصل کریں گے وہ بہت زیادہ غیر درست اور بے معنی ہوں گے۔ کچھ بھی درستگی صحت حاصل کرنے کے لیے، آپ کو چاہیے کہ آپ ایسا آلہ استعمال کریں، جس پر کاغذ کی موٹائی سے چھوٹی اکائیوں کے نشانات لگے ہوں۔ اس مماثلت کے مطابق، ایک الیکٹران کا مقام معلوم کرنے کے لیے ہمیں ایسی میٹر چھڑ استعمال کرنا لازمی ہے جس میں لگے ہوئے نشانات کی اکائیاں، الیکٹران کے ابعاد (Dimension) سے چھوٹی ہوں۔ (یہ بات ذہن میں رکھیں کہ الیکٹران کو ایک نقطہ چارج مانا جاتا ہے اور اس لیے اس کا کوئی ابعاد نہیں ہیں۔) ایک الیکٹران کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہمیں اسے روشنی یا برق مقناطیسی اشعاع سے منور کرنا پڑے گا۔ ضروری ہے کہ استعمال کی جانے والی روشنی کا طولِ موج الیکٹران کے ابعاد سے چھوٹا ہو۔ ایسی روشنی کے زیادہ معیار حرکت والے 

فوٹان 121  ، الیکٹرانوں سے ٹکرا کر ان کی توانائی تبدیل کردیں 

گے۔ اس عمل کے دوران، ہم بے شک، الیکٹران کے مقام کا حساب تو لگا سکیں گے، لیکن تصادم کے بعد الیکٹران کی رفتار کے بارے میں بہت کم جان سکیں گے۔

عدم یقینی کے اصول کی اہمیت  (Significance of Uncertainty Principle)

ہائزن برگ(Heisenberg) کے عدم یقینی کے اصول کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ یہ الیکٹران اور اس جیسے دوسرے ذرات کے متعین راستوں اور خطوطِ حرکت (Trajectories) کی موجودگی کو خارج کرتا ہے۔ ایک شے کا خطِ حرکت، مختلف لمحات پر، اس کے مقام اور اس کی رفتار کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ ایک خاص لمحہ وقت پر ایک جسم کہاں ہے اور اگر ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ اُس لمحہ وقت پر اس کی رفتار کیا ہے اور اس پر کون سی قوتیں کام کر رہی ہیں، تو ہم بتا سکتے ہیں کہ کچھ دیر بعد ایک دوسرے لمحہ وقت پر وہ جسم کہاں ہوگا۔ اس لیے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایک شے کا مقام اور اس کی رفتار اس شے کا خطِ حرکت متعین کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک ذیلی ایٹمی شے جیسے ایک الیکٹران، کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، کہ کسی دیے ہوئے لمحہ وقت پر اس کا مقام اور اس کی رفتار ہمہ وقت (Simultaneously) ایک اختیاری (Arbitrary) درستگی صحت (Precision) کے ساتھ معلوم کی جاسکے، اس لیے ایک الیکٹران کے خطِ حرکت کی بات کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

ہائزنبرگ کے عدم یقینی اصول کا اثر صرف خوردبینی اشیا (Microscopie Objects) کے لیے ہی اہم ہے اور کلاں اشیا (Macro Objects) کے لیے قابلِ نظر انداز ہے۔ اسے مندرجہ ذیل مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔

اگر عدم یقینی اصول کا اطلاق ایک ایسی شے پر کیا جائے، جس کی کمیت، مان لیجیے، ایک ملی گرام 122کے قریب ہے، تو

123

حاصل ہوئی 124 کی قدر بہت زیادہ چھوٹی ہے لہٰذا غیر اہم ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملی گرام ناپ کی یا اس سے بھاری اشیا کے ساتھ منسلک عدم یقینی حقیقی قابلِ لحاظ اثر نہیں ڈالتیں۔

دوسری طرف، ایک الیکٹران جیسے خوردبینی ذرہ کے لیے، حاصل ہونے والی 124کی قدر اس سے کہیں زیادہ ہے اور عدم یقینی حقیقت میں موثر ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک الیکٹران، جس کی کمیت  125 ہے، کے لیے، ہائزنبرگ عدم یقینی اصول کے مطابق:

126


129      ورنرہائزنبرگ (1901-1976) نے 1923 میں میونخ یونیورسٹی سے طبیعیات میں پی۔ایچ۔ڈی۔ کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک برس گوٹنجن (Gottingen) میں میکس بورن کے ساتھ اورتین برس کوپن ہیگن میں نیلس بوہر کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزارے۔ وہ 1927 سے 1941 تک لیپزگ (Leipzig) یونیورسٹی میں طبیعیات کے پروفیسر رہے۔ عالمی جنگ II کے دوران ہائزنبرگ کی ایٹم بم پر جرمن ریسرچ کے انچارج رہے۔ جنگ کے بعد انھیں گوٹنجن میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار فزکس کا ڈائرکٹر نامزد کیا گیا۔ وہ ایک ماہر کوہ پیما بھی تھے۔ ہائزنبرگ کو 1932 میں طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔


اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص الیکٹران کا مقام، صرف 127  کی عدم یقینی کے ساتھ، معلوم کرنا چاہتا ہے، تو اس کی رفتار میں عدم یقینی Δv ہوگی:

128

جو اتنی زیادہ ہے کہ بوہر کے مداروں (متعین) میں گھومتے ہوئے الیکٹرانوں کی کلاسیکی تصویر درست نہیں ہوسکتی۔ اس کا مطلب ہے کہ الیکٹرانوں کے مقام اور ان کی رفتار کے بالکل درست بیانوں کو، احتمال (Probability) کے ان بیانات سے تبدیل کرنا ہوگا جو الیکٹران کے لیے دیے ہوئے مقام یا معیار حرکت کا ہے۔ ایٹم کے کوانٹم میکانیکی ماڈل میں یہی ہوتا ہے۔

مسئلہ 2.15

ایک ایٹم میں  0.1Åکے فاصلے کے اندر ایک الیکٹران کا مقام متعین کرنے کے لیے ایک خوردبین استعمال کیا جاتا ہے، جس میں مناسب فوٹان استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کی رفتار کی پیمائش میں کتنی عدم یقینی شامل ہوگی؟

حل                         

130

مسئلہ2.16

ایک گولف گیند کی کمیت 40gاور چال 45m/s  ہے۔ اگر چال %2 کی درستگی صحت کے ساتھ ناپی جاسکتی ہے، تو اس کے مقام میں عدم یقینی کا حساب لگائیے۔ 

حل

چال میں عدم یقینی ہے، %2، یعنی کہ

131

مساوات:(2.2) استعمال کرتے ہوئے

132

یہ تقریباً ایک ایٹمی نیوکلیس کے قطر سے تقریباً 1018 ˜  گنا چھوٹی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکاہے، بڑے ذرات کے لیے، عدم یقینی اصول پیمائشوں کی درستگی صحت کے لیے کوئی بامعنی حدود نہیں قائم کرتا۔

بوہر ماڈل کی ناکامی کے اسباب (Reasons for the Failure of the Bohr Model)

اب ہم بوہر ماڈل کی ناکامی کے اسباب سمجھ سکتے ہیں۔ بوہر ماڈل میں ایک الیکٹران کو ایک چارج شدہ ذرہ مانا جاتا ہے۔ جو نیوکلیس کے گرد دائری مداروں میں حرکت کررہا ہے۔ بوہر ماڈل میں الیکٹران کی لہر فطرت کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ مزید یہ کہ مدار ایک مخصوص راستہ ہے اور اس  راستہ کی مکمل طور پر تعریف صرف اسی وقت کی جاسکتی ہے، جبکہ بالکل ایک ہی وقت پر الیکٹران کا مقام اور اس کی رفتار دونوں معلوم ہوں۔ یہ ہائزنبرگ کے عدم یقینی اصول کے مطابق ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ہائڈروجن ایٹم کا بوہر ماڈل نہ صرف مادے کے دہرے طرز عمل کو نظر انداز کرتا ہے، بلکہ ہائنرنبرگ کے عدم یقینی اصول کی تغلیظ بھی کرتا ہے۔ بوہر ماڈل کی ان بنیادی خامیوں کے پیشِ نظر، بوہر ماڈل کی توسیع دوسرے عناصر کے لیے کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ دراصل، ایٹم کی ساخت کے اس ادراک کی ضرورت تھی جو مادہ کے لہر ذرہ دہرے پن کو سمجھا سکے اور ہائزنبرگ کے عدم یقینی اصول سے ہم آہنگ ہو۔ یہ کوانٹم میکینکس (Quantum Mechanics) کے ظہور سے ممکن ہوسکا۔

2.6  ایٹم کا کوانٹم میکینکس ماڈل(Quantum Mechanical Model of Atom)

کلاسیکی مکانک، جو نیوٹن کے حرکت کے قوانین پر مبنی ہے، تمام کلاں اشیا جیسے گرتا ہوا پتھر، مدار میں چکر لگاتے ہوئے سیارے، وغیرہ کی حرکت کو کامیابی کے ساتھ بیان کرتی ہے، جن کا طرز عمل صرف ذرات کی طرح کا ہوتا ہے، جیسا کہ پچھلے باب میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن کلاسیکی میکینکس اس وقت ناکام ہوجاتی ہے، جب اس کا اطلاق خوردبینی اشیا جیسے الیکٹران، ایٹم، سالمات وغیرہ پر کیا جاتا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ کلاسیکی مکانک، خاص طور پر ذیلی ایٹمی ذرات کے لیے مادہ کے دہرے طرز عمل اور عدم یقینی اصول کو نظر انداز کردیتی ہے۔ سائنس کی وہ شاخ جو مادے کے اس دہرے طرز عمل کا لحاظ رکھتی ہے، کوانٹم میکینکس کہلاتی ہے۔

کوانٹم میکینکس ایک نظریاتی سائنس ہے جس میں ان خوردبینی اشیا کا، جو موج اور ذرہ دونوں طرح کی خاصیتوں کا اظہار کرتی ہیں، مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ حرکت کے ان قوانین کو متعین کرتی ہے جو ان اشیا پر لاگو ہوتے ہیں۔ جب کوانٹم کا اطلاق کلاں اشیا پر کیا جاتاہے (جن کے لیے لہریاتی خاصیتیں غیر اہم ہیں) تو وہی نتائج حاصل ہوتے ہیں جو کلاسیکی مکانک سے حاصل ہوتے ہیں۔

کوانٹم میکینکس کو 1926میں ورنر ہائزنبرگ اور ارون شروڈنگر نے، علیحدہ علیحدہ کام کرتے ہوئے فروغ دیا۔ لیکن یہاں ہم اس کوانٹم میکینکس سے بحث کریں گے جو موج حرکت کے تصورات پر مبنی ہے۔ کوانٹم میکینکس کی بنیادی مساوات شروڈنگر نے دی اور اس کے لیے انھیں 1933میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ مساوات جس میں، جیسا کہ ڈی براگلی نے تجویز کیا تھا، مادے کی لہر ذرہ دوئی (Duality) شامل ہے، کافی پیچیدہ ہے اور اسے حل کرنے کے لیے اعلیٰ ریاضی کی معلومات درکار ہے۔ آپ مختلف نظاموں کے لیے اس کے حل اعلیٰ جماعتوں میں سیکھیں گے۔

133

ارون شیرو ڈنگر

(1857 - 1961)

ایک اسٹریائی طبیعیات داں، ارون شرو ڈنگر (Erwin Schrodinger) نے 1910 میں نظریاتی طبیعیات میں وینا یونیورسٹی (University of Vienna) سے پی۔ایچ۔ڈی کی سند حاصل کی۔ 1927 میں شرو ڈنگر نے برلن یونیورسٹی میں میکس پلانک (Max Planck) کی درخواست پر ان کی جگہ لی۔ 1933 میں شروڈونگر نے برلن چھوڑ دیا کیونکہ وہ ہٹلر اور نازی پالیسیوں کے خلاف تھے اور 1936 میں آسٹریا واپس لوٹ آئے۔ آسٹریا میں جرمنی کی فوجی کرروائی کے بعد شروڈنگر کو زبردستی پروفیسر شپ سے ہٹا دیا گیا۔ وہ پھر ڈبلن، آئرلینڈ (Dublin-Ireland) چلے گئے اور وہاں 7 سال تک رہے۔ 1933 میں انھیں پی۔اے۔ایم۔ ڈراک (P.A.M. Dirac) کے ساتھ نشہ کہ طور پر طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

ایک ایسے نظام کے لیے (جیسا کہ ایک ایٹم یا ایک سالمہ، جس کی توانائی وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی)، شروڈنگر مساوات اس طرح لکھی جاتی ہے: y = Ey 134جہاں134 ایک ریاضیاتی آپریٹر (Operator ہے جو ہیملٹونین (Hamiltonian)کہلاتا ہے۔ شروڈنگر نے اس آپریٹر کو نظام کی کل توانائی کی عبارت سے تشکیل دینے کی ایک ترکیب بتائی۔ نظام کی کل توانائی میں تمام ذیلی ذرات (الیکٹران، نیوکلیس) کی حرکی توانائیاں، الیکٹرانوں اور نیوکلیسوں کے درمیان کشش مضمر (Attractive Potential) اور الیکٹرانوں نیز نیوکلیسوں کے درمیان، علیحدہ علیحدہ، دافع مضمر (Repulsive Potential) شامل ہیں۔ اس مساوات کا حل E اور y دیتا ہے۔

ہائڈروجن ایٹم اور شروڈنگر مساوات (Hydrogen Atom and the Schrodinger Equation)

جب ہائڈروجن ایٹم کے لیے شروڈ نگر مساوات حل کی جاتی ہے، تو حل وہ تمام ممکنہ انرجی لیول مہیا کرتا ہے جہاں الیکٹران پائے جاسکتے ہیں اور ہر انرجی لیول سے منسلک الیکٹران سے مطابقت رکھنے والا لہر۔ تفاعل (Wave Function) بھی حاصل ہوتا ہے۔یہ کوانٹمی توانائی حالتیں اور ان کے نظیری لہر۔ تفاعل، جن کی خاصیتیں تین کوانٹم اعداد کے ایک سیٹ سے بیان کی جاتی ہیں (پرنسپل کوانٹم نمبر n، سمت راسی (Azimuthal) کوانٹم عدد l اور مقناطیسی کوانٹم عدد ml) جو شروڈنگر مساوات کے حل میں قدرتی نتائج کے طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ جب ایک الیکٹران کسی بھی توانائی حالت میں ہوتاہے، تو اس توانائی حالت کے نظیری لہر تفاعل الیکٹران کے بارے میں تمام معلومات رکھتا ہے۔ لہر تفاعل ایک ریاضیاتی تفاعل ہے، جس کی قدر ایٹم میں الیکٹران کے کوآرڈینیٹ (Coordinates) پر مبنی ہے اور اس کے کوئی طبعی معنی نہیں ہوتے۔ ہائڈروجن یا ہائڈروجن جیسی انواع (جن میں ایک الیکٹران ہوتا ہے) کے یہ لہر تفاعل ایٹمی ارٹبل (Atomic Orbitals) کہلاتے ہیں۔ ایسے موج۔ تفاعلات جو ایک الیکٹران نوع سے متعلق ہوتے ہیں، ایک الیکٹران نظام کہلاتے ہیں۔ ایک ایٹم کے اندر کسی ایک نقطے پر الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال، اس نقطہ پر 135  کے متناسب ہوتا ہے۔ ہائڈروجن ایٹم کے کوانٹم میکانیکی نتائج، کامیابی کے ساتھ، ہائڈروجن ایٹم طیف کے تمام پہلوؤں کی پیشین گوئی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان مظاہر کی وضاحت بھی کرتے ہیں جن کی وضاحت بوہر ماڈل نہیں کرسکا تھا۔

کثیر۔ الیکٹرانی ایٹموں پر شروڈنگر مساوات کے اطلاق میں ایک دشواری پیش آتی ہے: کثیر الیکٹرانی ایٹم کے لیے شروڈنگر مساوات کو بالکل درستگی کے ساتھ حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس مشکل پر تقریبی طریقوں (Approximate Methods)کو استعمال کرکے قابو پایا جا سکتا ہے۔ جدید کمپیوٹروں کی مدد سے کی گئی ایسی تحسیبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہائڈروجن کے علاوہ دوسرے ایٹموں کے اربٹل، اوپر بیان کیے گئے ہائڈروجن اربٹل سے بنیادی طور پر مختلف نہیں ہوتے۔ خاص فرق نیوکلیائی چارج میں اضافے کے نتائج کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے تمام اربٹل کچھ سکڑ جاتے ہیں۔ مزید، جیسا کہ آپ آگے دیکھیں گے (ذیلی سیکشن  2.6.3اور 2.6.4میں)، ہائڈروجن یا ہائڈروجن جیسی انواع کے برخلاف، جن کی توانائیاں صرف کوانٹمی عدد nپر منحصرہیں، کثیر الیکٹرانی ایٹموں کی توانائیاں کوانٹمی اعداد nاور l پر منحصر ہیں۔

ایٹم کے کوانٹم میکانیکی ماڈل کی اہم خاصیتیں

ایٹم کا کوانٹم میکانیکی ماڈل، ایٹم کی ساخت کی وہ تصویر ہے۔ جو ایٹموں پر شروڈنگر مساوات کے اطلاق سے ابھرتی ہے۔ ایٹم کے کوانٹم میکانیکی ماڈل کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

ایٹموں میں الیکٹرانوں کی توانائی کوانٹمی ہوتی ہے (یعنی کہ‘ اس کی صرف کچھ مخصوص قدریں ہوسکتی ہیں)،جبکہ ایٹم میں الیکٹران نیوکلیس سے بندھے ہوتے ہیں۔مثلاً

کوانٹمی الیکٹرانی انرجی لیول کی موجودگی الیکٹرانوں کی لہر جیسی خاصیتوں کا براہِ راست نتیجہ ہے اور یہ شروڈنگر لہر مساوات کے تسلیم شدہ حل (Allowed Solutions) ہیں۔

ایک ایٹم میں ایک الیکٹران کا قطعی مقام (Exact Position) اور اس کی قطعی رفتار، دونوں ہمہ وقت (Simultaneously) نہیں معلوم کیے جاسکتے (ہائز نبرگ عدم یقینی اصول)۔ اس لیے، ایٹم میں ایک الیکٹران کا راستہ کبھی بھی درستگی صحت کے ساتھ نہیں معلوم کیا جاسکتا۔ اسی وجہ سے جیسا کہ آپ آگے دیکھیں گے، ہم صرف ایک ایٹم میں، اس کے مختلف نقاط پر الیکٹران کے پائے جانے کے احتمال کی بات کرتے ہیں۔

ایک ایٹمی اربٹل، کسی ایٹم میں الیکٹران کے لیے لہر تفاعل y ہے۔ جب بھی کسی الیکٹران کو ایک لہر تفاعل کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ الیکٹران اُس اربٹل کو گھیرے ہوئے یا اس اربٹل میں ہے۔ کیونکہ ایک الیکٹران کے لیے ایسے بہت سے لہر۔تفاعلات ممکن ہیں، اس لیے ایک ایٹم میں کئی ایٹمی اربٹل ہوتے ہیں۔ یہ ’’ایک الیکٹران اربٹل لہر تفاعل‘‘ یا اربٹل ایٹموں کی الیکٹرانی ساخت کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ ہر اربٹل میں، الیکٹران کی ایک متعین توانائی ہوتی ہے۔ ایک اربٹل میں دو سے زیادہ الیکٹران نہیں ہوسکتے۔ ایک کثیر الیکٹرانی ایٹم میں الیکٹران مختلف اربٹل میں، توانائی کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں بھرے ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک کثیر الیکٹرانی ایٹم کے ہر الیکٹران کے لیے ایک اربٹل لہر۔ تفاعل ہونا چاہیے جو اس اربٹل کی خاصیت ہو جس میں الیکٹران پایا جائے۔ ایک ایٹم میں الیکٹران کے بارے میں تمام معلومات اس کے اربٹل لہر تفاعل y میں محفوظ ہوتی ہے اور کوانٹم میکینکس کی مدد سے اس معلومات کو y سے حاصل کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ 

ایک ایٹم کے اندر کسی ایک نقطہ پر الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال، اس نقطہ پر اربٹل موج تفاعل کے مربع کے راست متناسب ہے، یعنی کہ 135کو بہ طور احتمال کثافت (Probability density) جانا جاتا ہے اور یہ ہمیشہ مثبت ہوتی ہے۔ ایک ایٹم میں مختلف نقاط پر 135  کی قدر کے ذریعے، نیوکلیس کے اردگرد اس خطّے کی پیشین گوئی کرنا ممکن ہے جہاں الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال سب سے زیادہ ہے۔

2.6.1  اربٹل اور کوانٹم نمبر (Orbital and Quantum Numbers)

ایک ایٹم میں اربٹل کی ایک بڑی تعداد ممکن ہے۔ کیفیتی طور پر (Qualitatively) ان اربٹل میں امتیاز ان کے سائز، شکل اور تشریق (Orientation)کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ ایک مقابلتاً کم سائز کے اربٹل کا مطلب ہے کہ الیکٹران کا نیوکلیس کے نزدیک پائے جانے کا امکان زیادہ ہے۔ اسی طرح سے شکل اور تشریق کا مطلب ہے کہ الیکٹران کا کسی ایک سمت میں، دوسری سمتوں کے مقابلے میں پائے جانے کا احتمال زیادہ ہے ۔ ایٹمی اربٹل میں امتیاز کوانٹمی اعداد کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ہر اربٹل کو تین کوانٹمی عدد دیے جاتے ہیں، جنھیں 1m، اور ml نام دیے جاتے ہیں۔

پرنسپل کوانٹم نمبر n، ایک مثبت صحیح عدد ہے اور اس کی قدریں ہوسکتی ہیں!… n = 1,2,3 پرنسپل کوانٹم نمبر اربٹل کا سائز اور بڑی حد تک اس کی توانائی کا تعین کرتا ہے۔ ہائڈروجن ایٹم اور ہائڈروجن جیسے انواع کے لیے (+Li2+، He،… وغیرہ) اربٹل کی توانائی اور اس کا سائز صرف 'n' پر منحصر ہے۔

پرنسپل کوانٹم نمبر، شیل (Shell) کی بھی شناخت کرتا ہے۔ n کی قدر میں اضافہ کے ساتھ، تسلیم شدہ اربٹل کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔اور یہ تعداد n2 سے ظاہر کی جاتی ہے۔ n-کی ایک دی ہوئی قدر کے تمام اربٹل ایٹم کا ایک واحد شیل تشکیل دیتے ہیں اور یہ مندرجہ ذیل حروف سے ظاہر کیے جاتے ہیں:

...........n = 1   2   3   4   

 ...........  K   L   M  N     = شیل   

nمیں اضافہ کے ساتھ اربٹل کے سائز میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں الیکٹران نیوکلیس سے زیادہ فاصلے پر پایا جائے گا۔ کیونکہ منفی چارج شدہ الیکٹران کو مثبت چارج شدہ نیوکلیس سے دور لے جانے میں توانائی درکار ہوگی، اس لیے nمیں اضافہ کے ساتھ، اربٹل کی توانائی میں، اضافہ ہوگا۔

سمت راس کوانٹمی عدد 'l' (Azimuthal Quantum Number) اربٹل زاویائی معیار حرکت (Orbital Angular Momentum)یا ذیلی کوانٹمی عدد (Subsidiary Quantum Number)بھی کہلاتا ہے۔

یہ مدراچہ کی سہ ابعادی شکل کو معرف کرتا ہے۔ nکی ایک دی ہوئی قدر کے لیے، lکی n قدریں ہوسکتی ہیں، جن کی وسعت 0 سے(n–1) تک ہوتی ہے۔ یعنی کہ nکی ایک دی ہوئی قدر کے لیے l کی ممکنہ قدریں ہیں:136

مثال کے طور پر، اگر n = 1 ہے تو lکی قدر صرف 0ہے۔ n=2 کے لیے، lکی ممکنہ قدریں 0 اور 1ہیں n=3کے لیے، l کی ممکنہ قدریں 0، 1اور 2ہیں۔

ہر ایک شیل ایک یا اس سے زیادہ ذیلی شیل یا سب لیول(Sub Level)پرمشتمل ہوتا ہے۔ ایک پرنسپل شیل (Principal Shell) میں ذیلی شیل کی تعداد n کے مساوی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پہلے شیل (n=1) میں صرف ایک تحت شیل ہوتا ہے، جو  0=1 سے مطابقت رکھتا ہے۔ دوسرے شیل (n = 2)میں دو ذیلی شیل (l = 0,1) ہوتے ہیں، تیسرے شیل (n = 3) میں 3 ذیلی  شیل (l = 0, 1, 2)ہوتے ہیں، اور اسی طرح ہر ذیلی شیل کو ایک راس سمت کوانٹمی عدد (l)دیا جاتا ہے۔ l کی مختلف قدروں سے مطابقت رکھنے والے ذیلی شیل مندرجہ ذیل علامتوں سے ظاہر کیے جاتے ہیں۔

..........   5  4   3   2   1   0 :  l   کی قدر

.............  s   p    d    f    g    h   ذیلی شیل کی علامت

جدول 2.4میں ایک دیے ہوئے پرنسپل کوانٹم نمبر کے لیے l کی مباح  (Permissible) اقدار اور نظیری ذیلی شیل ترسیم دی گئی ہے۔

      جدول 2.4 ذیلی شیل علامتیں

ذیلی شے ترسیم I n
1s
2s
2p
3s
3p
3d
4s
4p
4d
4f
0
0
1
0
1
2
0
1
2
3
1
2
2
3
3
3
4
4
4
4

مقناطیسی اربٹل کوانٹم نمبر (Magnetic Orbital Quantum) ml کورآڈینیٹ محوروں کے معیاری سیٹ (Standard Set of Coordinate Axes) کے لحاظ سے اربٹل کی مکانی تشریق (Spatial Orientation) کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی ذیلی شیل کے لیے (جو lقدر سے معرف کیا جاتا ہے)، mlکی 2l + 1 قدریں ممکن ہیں اور یہ دی جاتی ہیں:

ml  = – l, – (l –1), – (l –2)... 0,1... (l –2), (l –1), l

اس لیے‘ l = 0کے لیے mlکی مباح قدر صرف‘ ml = 0 ہے۔ (2=1+(0)2  ایکs اربٹل)l=2کے لیے:   [ml = –2, –1, 0,+1  2 (2+1)=5 پانچ d اربٹل]یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ ml کی قدریں l سے اخذ کی جاتی ہیں اور lکی قدر nسے اخذ کی جاتی ہے۔

اس لیے، ایٹم میں ہر اربٹل l ,n اور ml کی قدروں کے ایک سیٹ کے ذریعے معرف کیا جاتا ہے۔ایک اربٹل جو :n = 2, l = 1, ml = 0 سے بیان کیا جاتاہے وہ دوسرے شیل کے p ذیلی شیل میں ایک اربٹل ہے۔ مندرجہ ذیل چارٹ ذیلی۔ شیل اور اس سے منسلک اربٹل کی تعداد کے درمیان رشتہ ظاہر کرتاہے۔

5 4 3 2 1 کے لیے قدر I
h g f d p ذیلی شیل ترسیل
11 9 7 5 3 اربٹل کی تعداد

الیکٹران اسپن 's': ایک ایٹمی اربٹل کو لیبل کرنے والے یہ تین کوانٹمی اعداد (n, l, ml)‘ اس کی توانائی، اور تشریق (Orientation) کی تعریف کرنے کے لیے بھی بہ خوبی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ تینوں اعداد، کثیر الیکٹرانی نظاموں میں حاصل ہونے والے خطی طیف کی وضاحت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ کچھ خطوط دراصل ڈپبلیٹ  (Doublet) (دو خطوط جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں )، ٹرپلیٹ (Triplets) ( تین خطوط جو بہت قریب قریب ہیں ) وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ ان چند مزید انرجی لیول کی موجودگی تجویز کرتاہے، جن کی پیشین گوئی تین کوانٹمی اعداد کرتے ہیں۔

اربٹ، اربٹل اور اس کی اہمیت

اربٹ اور اربٹل ہم معنی نہیں ہیں۔ ایک اربٹ، جیسا کہ بوہر نے تجویز کیا تھا‘ نیوکلیس کے گرد ایک دائری راستہ ہے، جس پر الیکٹران حرکت کرتا ہے۔ ہائزنبرگ کے عدم یقینی قانون کے مطابق الیکٹران کے اس راستہ کو بالکل درست طور پر بیان کرنا ناممکن ہے۔ بوہر کے اربٹ کا، اس لیے کوئی اصل معنی نہیں ہے اور ان کی موجودگی کا کبھی بھی تجربے کے ذریعے مظاہرہ نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری طرف، ایک ایٹمی اربٹل ایک کوانٹم میکانیکی تصور ہے اور ایک ایٹم میں الیکٹران کے لہر تفاعل سے متعلق ہے۔ اس کی خاصیتیں تین کوانٹمی اعداد ( 1،  n اور ml) سے ظاہر کی جاتی ہیں اور اس کی قدر الیکٹران کے کوآرڈی نیٹ پر منحصر ہے۔ بذاتِ خود y کے کوئی طبعی معنی نہیں ہوتے۔ یہ لہر۔تفاعل کا مربع، یعنی کہ |y|2 ہے، جس کے طبعی معنی ہیں۔ ایک ایٹم میں کسی بھی نقطے پر |y|2، اس نقطہ پر احتمال کثافت کی قدر ہے۔ احتمال کثافت |y|2 احتمال فی اکائی حجم ہے اور |y|2اور ایک چھوٹے حجم (جو حجم عنصر کہلاتا ہے) کا حاصلِ ضرب ہے جس سے اس حجم میں الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال حاصل ہوتا ہے (ایک چھوٹے حجم عنصر کو متعین کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اسپیس (Space)میں ایک خطّے سے دوسرے خطے تک |y|2 تبدیل ہوتا رہتا ہے لیکن ایک چھوٹے حجم عنصر میں اس کی قدر کو مستقل مانا جاسکتا ہے۔) پھر دیے ہوئے حجم میں الیکٹران کے پائے جانے کے کل احتمال کا حساب |y|2 اور اس سے مطابقت رکھنے والے حجم عنصر کے تمام حاصل ضرب کو جمع کرکے لگایا جاسکتاہے۔بس اس طرح سے ایک اربٹل میں الیکٹران کی احتمالی تقسیم (Probable Distribution) حاصل کرنا ممکن ہے۔

1925میں، جارج اوہلن بیک (George Uhlenbeck) اور سیمویل گاؤڈاسمٹ (Samuel Goudsmit) نے ایک چوتھے کوانٹمی عدد کی موجودگی تجویز کی، جو الیکٹران اسپن کوانٹمی عدد (Bs) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک الیکٹران اپنے محور پر گھومتا ہے، بالکل اسی طرح، جس طرح زمین سورج کے گرد چکر لگاتے ہوئے، اپنے محور پر گھومتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک الیکٹران کا برقی چارج اور کمیت کے ساتھ ساتھ ذاتی اسپن زاویائی کوانٹم نمبر (Intrinsic Spin Angular Quantum Number) بھی ہوتا ہے۔ الیکٹران کا اسپن زاویائی معیار ایک سمتیہ مقدار ہے جس کی منتخب کیے گئے محور کی نسبت سے دو تشریقیں (Orientations) ہوسکتی ہیں۔ ان دو تشریقوں میں امتیاز، اسپن کوانٹمی عدد ms کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کی دو قدریں: ½+ اور ½- ہوسکتی ہیں۔ یہ الیکٹران کی دو اسپن حالتیں (Spin States) کہلاتی ہیں اور عام طور سے دو تیروں کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہیں: ↑ (اسپن اوپر) اور ↓ (اسپن نیچے)۔ ایسے دو الیکٹران جن کی ms قدریں مختلف ہوں (ایک ½+ اور دوسری ½-) مخالف اسپن (Opposite Spin)کے الیکٹران کہلاتے ہیں۔ ایک اربٹل میں دو سے زیادہ الیکٹران نہیں پائے جاسکتے اور ان دونوں الیکٹرانوں کی اسپن بھی ایک دوسرے کے مخالف ہونا چاہیے۔

خلاصہ کے طور پر، یہ چار کوانٹمی اعداد مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرتے ہیں:

(in شیل کی تعریف بیان کرتا ہے اربٹل کا سائز متعین کرتا ہے اور بڑی حد تک اربٹل کی توانائی بھی متعین کرتاہے۔

nth   (ii شیل میں n ذیلی شیل ہوتے ہیں۔ l ذیلی شیل کی شناخت کرتا ہے اور اربٹل کی شکل متعین کرتا ہے (دیکھیے سیکشن 2.6.2)۔ ایک ذیلی شیل میں ہر ایک قسم کے (2l + 1) اربٹل ہوتے ہیں، یعنی کہ، ایک s اربٹل (l = 0)‘ تین pاربٹل (1=1) اور پانچ d اربٹل (l= 2)، فی ذیلی شیل کچھ حد تک lبھی، ایک کثیر الیکٹرانی ایٹم میں‘ اربٹل کی توانائی متعین کرتا ہے۔

  m1 ( iii ‘ اربٹل کی تشریق مقرر کرتا ہے۔ lکی ایک دی ہوئی قدر کے لیے ml کی (2l + 1)قدریں ہوتی ہیں، اتنی ہی جتنی کہ اربٹل کی تعداد فی ذیلی شیل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اربٹل کی تعداد ان طریقوں کی تعداد کے مساوی ہے جتنی طرح سے ان کی تشریق کی جاسکتی ہے۔

ms ( iv ‘  الیکٹران کی اسپن کی تشریق سے متعلق ہے۔

مسئلہ2.17

پرنسپل کوانٹم نمبر n = 3 سے منسلک اربٹل کی کل تعداد کیا ہوگی؟

حل

n = 3کے لیے‘lکی ممکنہ قدریں : 2, 1, 0 ہیں۔ اس لیے ایک 3sاربٹل(n = 3, l = 0 اور ml = 0) ہوگا، تین 3p اربٹل (n = 3, l = 1 اور ml = –1, 0, +1) ہوں گے اور پانچ 3d اربٹل (n = 3, l = 2 اور ml = –2, –1,0, +1+, +2) ہوں گے۔

اس لیے اربٹل کی کل تعداد:  9= 5 + 3 + 1 

یہی قدر مندرجہ ذیل رشتے کو استعمال کرکے بھی حاصل کی جاسکتی ہے:

n2 = 32 =9 اربٹل کی تعداد

مسئلہ 2.18

f، d، p، s علامتوں کو استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل کوانٹمی اعداد کے اربٹل بیان کیجیے۔

 n) = 2, l = 1, (b) n = 4, l = 0) 

   c)  n = 5, l = 3, (d) n = 3, l = 2)

حل

                         n                    i                   اربٹل                   
a                       2               1           2p
b                     4 11                        4s
c                     53                            5f
d2                       30                             3d


137

2.6.2 ایٹمی اربٹل کی شکلیں (Shapes of Atomic Orbitals)

کسی ایٹم میں ایک الیکٹران کے لیے اربٹل لہر تفاعل y کے کوئی طبعی معنی نہیں ہیں۔ یہ صرف الیکٹران کے کو آرڈی نیٹ کا ایک ریاضیاتی تفاعل ہے۔ تاہم مختلف اربٹل کے لیے، ان سے مطابقت رکھنے والے لہر تفاعلات کے گراف rکے تفاعل کے طور پر (نیوکلیس سے فاصلہ)‘ مختلف ہوتے ہیں۔ [شکل 2.12(a)] میں 1s (n = 1, l = 0 اور (2s (n= 2, l = 0 اربٹل کے لیے ایسے گراف دیے گئے ہیں۔

جرمن طبیعیات داں، میکس بورن کے مطابق، ایک نقطہ پر لہر تفاعل کا مربع، اس نقطہ پر الیکٹران کی احتمال کثافت دیتا ہے۔ y2 میں‘ rکے تفاعل کے طور پر تغیر شکل 2.12 (b) میں دکھایا گیا ہے (1sاور 25 ارٹبل کے لیے)۔ یہاں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ 1sاور 2sکے لیے منحنی (curves)مختلف ہیں۔

138

شکل 2.12 (a) اربٹل لہر تفاعل (y(r کا گراف 1s (b) اور 2s اربٹل کے لیے الیکٹران کے نیوکلیس سے فاصلے rکے تفاعل کے طور پر، احتمال کثافت  (y2(r کا تغیر۔

یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ 1s اربٹل  کے لیے، احتمال کثافت نیوکلیس پر سب سے زیادہ (Maximum)ہوتی ہے اور جیسے جیسے ہم اس سے دورجاتے ہیں، یہ تیزی سے کم ہوتی جاتی ہے۔ دوسری طرف، 2s اربٹل کے لیے، احتمال کثافت پہلے تیزی سے کم ہوتی ہوئی صفر ہوجاتی ہے اور پھر بڑھنا شروع کردیتی ہے۔ ایک چھوٹے میکزیما (Maxima) پر پہنچنے کے بعد rکی قدر میں مزید اضافہ ہونے پر، یہ پھر کم ہونے لگتی ہے اور صفر کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ وہ خطّہ جس میں احتمال کثافت تفاعل کم ہوکر صفر ہوجاتا ہے، نو ڈل سطحیں (Nodel Surface) یا صرف نوڈ کہلاتا ہے۔ عمومی شکل میں، یہ معلوم ہوا ہے کہ -ns اربٹل کے (n – 1) نوڈ ہوتے ہیں، یعنی کہ نوڈ کی تعداد میں، پرنسپل کوانٹم نمبر nمیں اضافے کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، –2sاربٹل کے لیے نوڈ کی تعداد ایک ہوگی، 3sکے لیے دو ہوگی اور اسی طرح آگے بھی۔

اس احتمال کثافت تغیر کا چارج بادل ڈائیگراموں [شکل2.13(a)] کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ ان ڈائیگراموں میں، ایک خطّے میں نقطوں (Dotsکی کثافت اس خطّے میں الیکٹران احتمال کثافت کو ظاہر کرتی ہے۔

139

شکل 2.13 (a) 

1sاور 2s ایٹمی اربٹل کے احتمال کثافت پلاٹ نقطوں کی کثافت، اس خطّے میں الیکٹران کے پائے جانے کی احتمال کثافت کو ظاہر کرتی ہے

 (1s (b اور 2s اربٹل کے لیے باؤنڈری سطح ڈائیگرام 

*  ایک دی ہوئی سطح پر اگر احتمال کثافت 2|y| مستقل ہے تو اس سطح پرy| بھی مستقلہ ہے۔2|y| اور  |y| کے لیے سرحدی سطح متماثل (Identical) ہیں۔

مختلف اربٹل کے لیے مستقل احتمال کثافت کے باؤنڈری سطح ڈائیگرام (Bondary Surface Diagram) اربٹل کی شکل کو بہتر طریقے سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس اظہار میں ایک اربٹل کے لیے اسپیس (Space)میں ایک ایسی باؤنڈری سطح یا حدود نما سطح (Contour Surface)کھینچی جاتی ہے، جس پر احتمال کثافت 2|y| کی قدر مستقل ہوتی ہے۔ اصولی طور پر ایسی کئی باؤنڈری سطحیں ممکن ہوسکتی ہیں۔ لیکن، ایک دیے ہوئے اربٹل کے لیے، مستقل احتمال کثافت* کی صرف اسی باؤنڈری سطح ڈائیگرام کو اربٹل کی شکل کا اچھا اظہار مانا جاتا ہے جو ایسے خطّے یا حجم کو گھیرتی ہے، جس میں الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال بہت زیادہ ہو، جیسے 1s - 90%اور 2s اربٹل کے لیے باؤنڈری سطح ڈائیگرام شکل 2.13(b) میں دیے گئے ہیں۔ کوئی بھی یہ سوال کرسکتا ہے کہ ہم ایسی باؤنڈری سطح ڈائیگرام کیوں نہیں کھینچتے، جس میں الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال %100ہو؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نیوکلیس سے کسی بھی متناہی (Finite) فاصلے پر احتمال کثافت 2|y|   کی ہمیشہ کچھ نہ کچھ قدر ہوتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک متناہی سائز کا ایسی باؤنڈری سطح ڈائیگرام کھینچا جاسکے، جس میں الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال %100ہو۔ sاربٹل کے لیے باؤنڈری سطح ڈائیگرام دراصل ایک کرہ (Sphere) ہے، جس کا مرکز نیوکلیس ہے۔ دوابعاد میں یہ کرہ ایک دائرہ کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایسے خطّے کو گھیرتا ہے، جس میں الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال تقریباً %90ہے۔

اس لیے، ہم دیکھتے ہیں کہ 1sاور 2sاور اربٹل کی شکل کروی ہوتی ہے۔دراصل، تمام s -اربٹل کروی طور پر متشاکل (Spherically Symmetric) ہوتے ہیں۔ یعنی کہ ایک دیے ہوئے فاصلے پر الیکٹران کے پائے جانے کا احتمال تمام سمتوں میں مساوی ہے۔یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ nمیں اضافہ کے ساتھ s اربٹل کے سائز میں اضافہ ہوتا ہے، یعنی کہ : 4s> 3s> 2s> 1s اور جیسے جیسے پرنسپل کوانٹم نمبر بڑھتا ہے، الیکٹران نیوکلیس سے اتنے ہی زیادہ فاصلے پر پایاجاتا ہے۔

140

       شکل 2.14  تین 2p اربٹل کے لیے باؤنڈری سطح ڈائیگرام

تین
2p
اربٹل کے لیے(l = 1) باؤنڈری سطح ڈائیگرام شکل 2.14 میں دکھایا گیا ہے۔ ان ڈائیگراموں میں نیوکلیس مبدہ (Origin) پر ہے۔ یہاں s اربٹل کے برخلاف، باؤنڈری سطح ڈائیگرام، کروی نہیں ہیں۔ اس کی جگہ ہر ایک p- اربٹل دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جو Lobes کہلاتے ہیں۔ یہ نیوکلیس سے ہو کر گزر رہے مستوی کے دونوں طرف ہوتے ہیں۔ احتمال کثافت تفاعل مستوی پر وہاں صفر ہوتا ہے جہاں دونوں Lobes ایک دوسرے کو چھوتے ہیں۔ تینوں اربٹل کے لیے، سائز شکل اور توانائی متماثل ہیں۔ لیکن ان کے Lobes کی تشریق مختلف ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ مانا جاسکتا ہے کہ Lobes،  x،  yاور zمحوروں میں سے کسی ایک محور کی سمت میں ہوں گے، اس لیے انھیں 2py،  2px، اور 2pz سے ظاہر کیا جاتاہے۔ لیکن یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ml کی اقدار (-1, 0, 1) اور z, y, x سمتوں میں کوئی سادہ رشتہ نہیں ہے۔ ہمارے لیے اتنا یاد رکھنا کافی ہے کہ، کیونکہ mlکی تین ممکنہ قدریں ہیں، اس لیے تین pاربٹل ہیں، جن کے محور باہم عمود (Mutually Perpendicular) ہیں۔ s اربٹل کی طرح پرنسپل کوانٹم نمبر میں اضافہ کے ساتھ p اربٹل کی توانائی اور ان کے سائز میں بھی، اضافہ ہوتاہے، اس لیے مختلف p اربٹل کی توانائی اور ان کے سائز کی ترتیب اس طرح ہے: 4p > 3p > 2p مزید، s اربٹل کی طرح، p اربٹل کے لیے بھی احتمال کثافت تفاعل بھی، صفر اور لامتناہی فاصلے کے علاوہ بھی، نیوکلیس سے فاصلہ بڑھنے کے ساتھ، صفر قدر سے گزرتا ہے۔ نوڈ کی تعداد (n – 2)سے دی جاتی ہے، یعنی کہ 3p اربٹل کے لیے نصف قطری نوڈ (Radial Node) کی تعداد 1ہوگی، 4p کے لیے دو اوراسی طرح آگے بھی۔

l = 2 کے لیے، اربٹل، -d اربٹل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پرنسپل کوانٹم نمبر کی کم از کم قدر 3ہوسکتی ہے، کیونکہ lکی قدر n – 1سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ l = 2کے لیے پانچ mlقدریں ہیں (-2, -1, 0, 1, 2-) اور اس لیے پانچ -d اربٹل ہوں گے۔ -d اربٹل کے لیے باونڈری سطح ڈائیگرام شکل 2.15میں دکھایا گیا ہے۔

پانچ -dاربٹل کو نام دیے جاتے ہیں: dx2، y2، dxz، dyz–dxy اور dz2سے منسوب کیا جاتا ہے۔ پہلے چار -d اربٹل کی شکلیں ایک جیسی ہوتی ہیں، جبکہ پانچویں، dz2 کی شکل باقی سب سے مختلف ہوتی ہے، لیکن پانچوں -d اربٹل کی توانائی مساوی ہوتی ہے۔ وہ -d اربٹل جن کے لیے nکی قدر 3سے زیادہ ہے (.....4d, 5d, )‘ ان کی شکلیں بھی 3d اربٹل جیسی ہوتی ہیں لیکن وہ توانائی اور سائز کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔

نصف قطری نوڈ کے علاوہ (یعنی کہ، احتمال کثافت تفاعل صفر ہے)، npاور nd اربٹل کے لیے احتمال کثافت تفاعل، مستوی (s) پر، نیوکلیس (مبدا)سے گزرتے ہوئے، صفر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور pzاربٹل کے لیے، -xyمستوی ایک نوڈل مستوی ہے، dxy اربٹل کے لیے، دو نوڈل مستوی ہیں جو مبدا سے گزرتے ہیں اور -zمحور والے xy- مستوی کی تنصیف کرتے ہیں۔ یہ زاویائی نوڈ (Angular Nodes) کہلاتے ہیں اور زاویائی نوڈ کی تعداد lسے دی جاتی ہے، یعنی کہ pاربٹل کے لیے ایک زاویائی نوڈ ہوگا، d اربٹل کے لیے دو زادیائی نوڈ ہوں گے، اور اسی طرح آگے بھی۔ نوڈ کی کل تعداد (n – 1) سے دی جاتی ہے یعنی کہ lزادیائی نوڈ اور (n – l – 1)نصف قطری نوڈ کی حاصلِ جمع۔

2.6.3 اربٹل کی توانائیاں (Energies of Orbitals)

ہائڈروجن ایٹم میں ایک الیکٹران کی توانائی مکمل طور پر صرف پرنسپل کوانٹم نمبر سے متعین ہوتی ہے۔ اس لیے ہائیڈروجن ایٹم میں اربٹل کی توانائی مندرجہ ذیل طور پر بڑھتی ہے:

>1s<2s = 2p < 3s = 3p = 3d < 4s = 4p = 4d = 4f 

(2.23)


141

شکل 2.15 پانچ 3d اربٹل کی باونڈری سطح ڈائیگرام

اور شکل 2.16 میں دکھائی گئی ہے۔حالانکہ 2sاور 2p اربٹل کی شکلیں مختلف ہیں، لیکن ایک الیکٹران جب 2s اربٹل میں ہوتا ہے تو اس کی توانائی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ 2p اربٹل میں ہوتی ہے۔ ایسے اربٹل جن کی توانائی یکساں ہوتی ہے، فاسد (Degenerate)کہلاتے ہیں۔ ایک ہائڈروجن ایٹم میں 1s جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے، سب سے زیادہ مستحکم حالت کے نظیری ہے اور اسے گراؤنڈ اسٹیٹ (Ground State)کہتے ہیں، اور اس اربٹل میں پایا جانے والا الیکٹران، نیوکلیس سے سب سے زیادہ مضبوطی سے بندھا ہوتا ہے۔ ہائڈروجن ایٹم میں ایک الیکٹران اگر 2sیا 2p یا مزید اونچے اربٹل میں پایا جاتا ہے تو وہ مشتعل حالت (Excited State) میں ہے۔

142

شکل 2.16 انرجی لیول ڈائیگرام (a) ہائڈروجن ایٹم کے کچھ الیکٹرانی شیل کے لیے (b)کثیر الیکٹرانی ایٹموں کے کچھ الیکٹرانی شیل کے لیے۔ نوٹ کیجیے کہ ہائڈروجن ایٹم کے لیے مختلف سمت۔ راس کوانٹمی عددوں کے لیے بھی، یکساں پرنسپل کوانٹم نمبر کی قدر والے اربٹل کی توانائیاں یکساں ہیں۔ لیکن کثیر الیکٹران ایٹموں کے لیے یکساں پرنسپل کوانٹم نمبر والے اربٹل کی توانائیاں، مختلف سمت راسی کوانٹمی عدودوں کے لیے مختلف ہیں۔

ایک کثیر الیکٹرانی ایٹم میں الیکٹران کی توانائی، ہائڈروجن ایٹم میں الیکٹران کی توانائی کے برخلاف، نہ صرف یہ کہ اس کے پرنسپل کوانٹم شیل پر منحصر ہے بلکہ اس کے سمت راس کوانٹمی عدد (ذیلی شیل) پر بھی منحصر ہے۔ یعنی کہ ایک دیے ہوئے پرنسپل کوانٹم عدد کے لیے f، d، p، s سب کی توانائیاں مختلف ہوں گی۔ ایک دیے گئے پرنسپل کو انٹم عدد میں آربٹل کی توانائی درج ذیل ترتیب میں بڑھتی ہے s<p<d<f اونچی توانائی سطح کے لئے یہ فرق کافی واضح ہیں اور آربٹل کی توانائی تذبذب عمل میں آسکتا ہے مثال کے طور پر 4s<3dاور 6s<5d; 4f < 6pوغیرہ۔ ایک کثیر الیکٹرانی ایٹم میں مختلف ذیلی شیل کی توانائیاں مختلف ہونے کی اصل وجہ الیکٹرانوں کے درمیان باہم دفع (Mutual Repulsion)ہے۔ ہائڈروجن ایٹم میں صرف ایک ہی برقی باہم دگر عمل ہوتاہے جو منفی چارج شدہ الیکٹران اور مثبت چارج شدہ نیوکلیس کے مابین ہوتا ہے۔ کثیر الیکٹرانی ایٹموں میں، الیکٹران اور نیوکلیس کے درمیان کشش کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ہر ایک الیکٹران کے ایٹم میں موجود دوسرے تمام الیکٹرانوں کے ساتھ دافع ارکان بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کثیر الیکٹرانی ایٹم میں ایک الیکٹران کے استحکام کی وجہ یہ ہے کہ کل کششی باہم عمل، دافع عملوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ عمومی طور پر، باہری شیل کے الیکٹرانوں کے، اندرونی شیل کے الیکٹرانوں کے ساتھ دافع باہمی عمل زیادہ اہم ہیں۔ دوسری طرف، ایک الیکٹران کے کششی باہمی عملوں میں، نیوکلیس پر پائے جانے والے مثبت چارج (Ze)میں اضافہ کے ساتھ، اضافہ ہوتا ہے۔ اندرونی شیل میں الیکٹرانوں کی موجودگی کی وجہ سے، باہری شیل کا الیکٹران، نیوکلیس کے پورے مثبت چارج (Ze)کو محسوس نہیں کرتا بلکہ، نیوکلیس پر موجود مثبت چارج کی اندرونی شیل کے الیکٹرانوں کے ذریعے کئے گئے جزوی حجاب (Screening)کی وجہ سے، اس میں کمی آجاتی ہے۔ اسے اندرونی شیل کے الیکٹرانوں کے ذریعے کیا گیا باہری شیل کے الیکٹرانوں کا نیوکلیس سے حجاب کہتے ہیں نیوکلیس کا الیکٹران کے ذریعے محسوس کیا گیا نیٹ (Net)مثبت چارج موثر نیوکلیائی چارج (Effective Nuclear Charge) کہلاتا ہے143یوکلیس سے اندرونی شیل کے الیکٹرانوں کے ذریعے کیے گئے باہری الیکٹرانوں کے حجاب کے باوجود، باہری شیل کے الیکٹرانوں کے ذریعے محسوس کی جانے والی قوت کشش میں، نیوکلیائی چارج میں اضافہ کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں نیوکلیس اور الیکٹران کے مابین باہمی عمل کی توانائی (یعنی کہ اربٹل کی توانائی) میں ایٹمی عدد(Z)میں اضافہ کے ساتھ، کمی آتی ہے (یعنی کہ یہ زیادہ منفی ہوجاتی ہے)۔

کششی اور دافع، دونوں باہمی عمل، شیل اور اس اربٹل کی شکل پر منحصر ہیں، جس میں الیکٹران پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، شکل میں کروی ہونے کی وجہ سے، sاربٹل الیکٹرانوں کا نیوکلیس سے حجاب، p اربٹل کے مقابلے میں، زیادہ موثر طور پر کرتا ہے۔ اسی طرح، دونوں کی شکلیں مختلف ہونے کی وجہ سے، pاربٹل نیوکلیس سے الیکٹرانوں کا حجاب، dاربٹل کے مقابلے میں زیادہ موثر طور پر کرتے ہیں، حالانکہ یہ سب اربٹل ایک ہی شیل میں پائے جاتے ہیں۔ مزید، کروی شکل کی وجہ سے، sاربٹل کے الیکٹران، pاربٹل کے مقابلے میں، نیوکلیس کے قریب زیادہ وقت گزارتے ہیں اور p اربٹل کے الیکٹران، dاربٹل  کے مقابلے میں، نیوکلیس کے قریب زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ایک دیے ہوئے شیل کے لیے پرنسپل کوانٹم نمبر، اربٹل کے ذریعے محسوس کیا گیا144، راس سمت کوانٹمی عدد (l) میں اضافہ کے ساتھ، کم ہوتا ہے۔ یعنی کہ s اربٹل، pاربٹل کے مقابلے میں زیادہ سختی سے نیوکلیس سے بندھا ہوگا اور p اربٹل، dاربٹل کے مقابلے میں نیوکلیس سے زیادہ بہتر بندھا ہوگا۔ sاربٹل کی توانائی، pاربٹل کی توانائی کے مقابلے میں کم ہوگی (زیادہ منفی ہوگی) اور p اربٹل کی توانائی d اربٹل کی توانائی کے مقابلے میں کم ہوگی اور اسی طرح کیونکہ نیوکلیس کے حجاب کی حد مختلف اربٹل کے لیے مختلف ہوگی، یہ ایک ہی شیل کے اندر  (یایکساں پرنسپل کوا نٹم نمبر) مختلف اربٹل کی توانائی کی علیحدگی (Splitting) کی سمت لے جاتا ہے۔ یعنی کہ اربٹل کی توانائی، جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکاہے، nاور lکی قدروں پر منحصر ہے۔ ریاضیاتی اعتبار سے اربٹل کی توانائیوں کا nاور lپر انحصار کافی پیچیدہ ہے لیکن ایک سادہ قاعدہ nاور l کی مجموعی قدر کا ہے۔ جس اربٹل کے لیے (n + l)کی قدر مقابلتاً کم ہوگی، اس کی توانائی بھی مقابلتاً کم ہوگی۔ اگر دو اربٹل کی (n + l)قدر یکساں ہے تو جس اربٹل کی nقدر مقابلتاً کم ہے اس کی توانائی بھی مقابلتاً کم ہوگی۔ جدول 2.5، (n + l) قاعدے کو ظاہر کرتا ہے اور شکل 2.16 میں کثیر الیکٹرانی ایٹموں کے انرجی لیول دکھائے گئے ہیں۔ یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ کثیر الیکٹرانی ایٹموں کے لیے، ایک خاص شیل کے مختلف ذیلی شیل کی توانائیاں مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن، ہائڈروجن ایٹم میں ان کی توانائیاں یکساں ہوتی ہیں۔ آخر میں یہ ذکر بھی کیا جاسکتا ہے کہ یکساں ذیلی شیل میں اربٹل کی توانائیاں ایٹمی عدد ()144 میں اضافہ کی ساتھ کم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہائڈروجن ایٹم کے 2sاربٹل کی توانائی، لیتھیم کے 2sاربٹل کی توانائی سے زیادہ ہے اور لیتھیم کی توانائی سوڈیم سے زیادہ ہے اور اسی طرح آگے بھی یعنی کہ : (E2s(H) > E2s(Li) > E2s(Na) > E2s(K)۔

2.6.4   ایک ایٹم میں اربٹل کا بھر نا (Filling of Orbitals in Atom)

مختلف ایٹموں کے اربٹل میں الیکٹرانوں کا بھرنا آف باؤ اصول کے مطابق انجام پاتا ہے، جو کہ پالی (Pauli)کے استثنیٰ اصول (Exclusion Principle) ہنڈ (Hund)کے ازحد تضاعف(Maximum Multiplicity) اور اربٹل کی نسبتی توانائیوں (Relative Energies) کے قاعدے پر مبنی ہے۔

آف باؤ اصول  (Aufbau Principle)

جرمن زبان میں لفظ آف باؤ (Aufbau) کا مطلب ہے ’’تعمیر کرنا‘‘۔ اربٹل کے تعمیر کرنے سے مطلب ہے ان میں الیکٹرانوں کا بھرنا۔ اس اصول کا بیان ہے: ایٹم کی گراؤنڈ اسٹیٹ (Ground State) میں، اربٹل بڑھتی ہوئی توانائی کی ترتیب میں بھرے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، الیکٹران سب سے پہلے اس اربٹل میں جاتے ہیں جس کی توانائی، دستیاب اربٹل میں سب سے کم ہوتی ہے اور مقابلتاً زیادہ توانائی کے اربٹل میں صرف اسی وقت داخل ہوتے ہیں جب مقابلتاً کم توانائی والے اربٹل بھر جاتے ہیں۔ جیسا کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کسی بھی دیے گئے آربٹل میں توانائی مؤثر نیلو کلیر چارج پر منحصر ہوتی ہے اور مختلف قسم کے آربٹل مختلف حدود تک متاثر ہوتے ہیں ۔آربٹل توانائی کا کوئی واحد سلسلہ نہیں ہے جو عالمی سطح پر تمام الیکٹرانوں کے لئے صحیح ہو ۔ 

بہر حال درج ذیل اربٹل کی توانائیوں کی بڑھنے کی ترتیب  جس میں اربٹل بہت مفیدہے:

5p ,4d ,5s , 4p ,3d , 4s , 3p , 3s , 2p , 2s , 1s, 

  ,7s , 6p , 5d , 4f ...

یہ ترتیب شکل 2.17 میں دیے گئے طریقے سے یاد کی جاسکتی ہے۔ اوپری سرے سے شروع کرتے ہوئے، تیروں کی سمت، اربٹل کے بھرے جانے کی ترتیب بتاتی ہے، یعنی کہ اوپری دائیں سرے سے نچلے بائیں سرے تک۔ 

سب سے باہر والے یا ویلنس الیکٹرانوں کو مقام دینے سے متعلق یہ تمام ایٹموں کے لئے بڑی حد تک بالکل صحیح ہے۔ مثال کے طور پر پوٹاشیم میں ویلنس الیکٹران کو 3dاور 4sکے درمیان انتخاب کرنا چاہئے اور جیسا کہ ترتیب میں پیشن گوئی کی گئی ہے، یہ &4 کے درمیان انتخاب کرنا چاہئے اور جیسا کہ ترتیب میں پیشین گوئی کی گئی ہے، یہ &4میں پایا جاتا ہے۔ 

مندرجہ بالا ترتیب کو توانائی کی سطحوں کو پُر کرنے کا ایک رف گائیڈ سمجھنا چاہئے۔بہت سی حالتوں میں آربٹل توانائی کے اعتبار سے بہت یکسانیت پائی جاتی ہے اور ایٹمی ساخت میں بہت کم تبدیلی آربٹل کو پُر کرنے کی ترتیب میں فرق پیدا کر دے گی ۔ اس حالت میں بھی مندرجہ بالا تسلسل ایٹموں کے الیکٹرانک اسٹرکچر بنانے میں مفید گائڈ ہے ۔ بشرطیکہ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ انحراف بھی ہو سکتا ہے۔

جدول 2.5: بڑھتی ہوئی توانائی کے ساتھ اربٹل کی ترتیب، (n + l) قاعدے کی بنیاد پر

کی قدر    (n+I) کی قدرI کی قدرn  اربٹل

  کی   2p (n=2)
توانائی کم ہے بمقابلہ
3s(n=3)
  کی 3p(n=3)
توانائی کم ہے بہ مقابلہ
4p(n=4)
کی  3d (n=3)
توانائی کم ہے بمقابلہ
4p (n=4)
1+0=1
2+0=2
2+1=3

3+1=3
3+1=4

4+0=4
3+2=5

4+1=5
0
0
1

0
1

0
2

1
1
2
2  

3
3

4
3  

4
1s
2s
2p

3s
3p

4s
3d

4s

     پالی کا استثنیٰ اصول (Pauli Exclusion Principle)

مختلف اربٹل میں بھرے جانے والے الیکٹرانوں کی تعداد، آسٹرین سائنس داں وولف گانگ پالی (1926)(Wolfgang Pauli) کے دیے ہوئے استثنیٰ اصول سے محدود ہوجاتی ہے۔ اس اصول کے مطابق: ایک ایٹم میں کوئی بھی دو الیکٹرانوں کا چار کوانٹمی اعداد کا سیٹ یکساں نہیں ہوسکتا۔ پالی کے استثنیٰ اصول کو ایسے بھی بیان کیا جاسکتا ہے: ’’ایک ہی اربٹل میں صرف 2الیکٹران ہی رہ سکتے ہیں اور ان الیکٹرانوں کی اسپن بھی ایک دوسرے کے مخالف ہونا لازمی ہے‘‘۔ اس کا مطلب ہے کہ ان دو الیکٹرانوں کے، تین کوانٹم نمبر : l، nاور ml، کی قدریں یکساں ہوسکتی ہیں لیکن اسپن کوانٹم نمبر کی قدر کا مخالف ہونا لازمی ہے۔ ایک اربٹل میں رہ سکنے والے الیکٹرانوں کی تعداد پر پالی کی لگائی گئی یہ حد ایک ذیلی شیل کی الیکٹران رکھ سکنے کی گنجائش کا حساب لگانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ذیلی شیل 1sایک اربٹل پر مشتمل ہے، اس لیے 1sذیلی شیل میں پائے جاسکنے واے الیکٹرانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 2ہوسکتی ہے، pاور d ذیلی شیل میں الیکٹرانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 6اور 10(بالترتیب) ہوسکتی ہے، اسی طرح آگے بھی۔ اس کا خلاصہ ایسے کیا جاسکتا ہے: پرنسپل کوانٹم نمبر n کے شیل میں الیکٹرانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد  2n2ہوسکتی ہے۔

147

شکل 2.17 اربٹل کے بھرنے کی ترتیب

ازحد تضاعف کا ہنڈ کا قاعدہ

  (Hund's Role of Maximum Multiplicity)

یہ قاعدہ ان اربٹل میں الیکٹران بھرنے کے لیے ہے جو ایک ہی ذیلی شیل سے تعلق رکھتے ہیں (یعنی کہ مساوی توانائی کے اربٹل، جو کہ فاسد اربٹل کہلاتے ہیں)۔ اس کا بیان ہے: یکساں ذیلی شیل (p، d یا f) سے تعلق رکھنے والے اربٹل میں الیکٹرانوں کے جوڑے اس وقت تک نہیں بنتے جب تک کہ اس ذیلی شیل سے تعلق رکھنے والے ہر ایک اربٹل میں ایک ایک الیکٹران نہ آجائے، یعنی کہ وہ واحد الیکٹران سے بھرا ہوا نہ ہو۔ 

کیونکہ تین p، پانچ dاور سات f اربٹل ہوتے ہیں، اس لیے p، d اور f اربٹل میں الیکٹرانوں کے جوڑے بننا، بالترتیب، چوتھے، چھٹے اور آٹھویں الیکٹران کے داخلے کے ساتھ شروع ہوں گے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ آدھے بھرے ہوئے اور پورے بھرے ہوئے اربٹل کے فاسد سیٹ، اپنے تشاکل (Symmetry) کی وجہ سے، مزید استحکام حاصل کرلیتے ہیں (دیکھیے سیکشن 2.6.7)۔

2.6.5 ایٹموں کا الیکٹرانی تشکل (Electronic Configration of Atoms)

ایک ایٹم کے اربٹل میں الیکٹرانوں کی تقسیم، الیکٹرانی تشکل (Electronic Configuaration) کہلاتی ہے۔ اگر ہم ان بنیادی قاعدوں کو اپنے ذہن میں رکھیں، جن کے مطابق مختلف ایٹمی اربٹل بھرے جاتے ہیں، تو مختلف ایٹموں کے الیکٹرانی تشکل بہ آسانی لکھے جاسکتے ہے۔

مختلف ایٹموں کے الیکٹرانی تشکل کا اظہار دو طریقوں سے کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر :

148. ترسیم 

(ii) اربٹل ڈائیگرام

149

پہلی ترسیم میں ذیلی شیل متعلقہ حرفی علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے اور اس ذیلی شیل میں پائے جانے والے الیکٹرانوں کی تعداد اوپری دائیں کونے پر لکھی جاتی ہے، جیسے c, b, aوغیرہ۔ مختلف شیل کے لیے یکساں ذیلی شیل میں فرق کرنے کے لیے متعلقہ ذیلی شیل سے پہلے پرنسپل کوانٹم نمبر لکھا جاتا ہے۔ دوسری ترسیم میں، ذیلی شیل ایک بکس کے ذریعے ظاہر کیا جاتاہے اور مثبت اسپن کا الیکٹران ایک سیدھے تیر (↑­) کے ذریعے اور منفی اسپن کا الیکٹران ایک الٹے تیر (↓) کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ دوسری ترسیم کا پہلی ترسیم کے مقابلے میں فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے چاروں کوانٹم نمبر کا اظہار ہوجاتا ہے۔

ہائڈروجن ایٹم میں صرف ایک ہی الیکٹران ہوتا ہے، جو اس اربٹل میں جاتا ہے، جس کی توانائی سب سے کم ہوتی ہے، یعنی کہ 1s۔ ہائڈروجن ایٹم کا الیکٹرانی تشکل ہے 1s1 جس کا مطلب ہے کہ اس کے 1s اربٹل میں ایک الیکٹران ہے۔ ہیلیم (He)کا دوسرا الیکٹران بھی 1sاربٹل کو گھیر سکتا ہے۔ اس کا تشکل ہے: 1s2 جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ دونوں الیکٹران ایک دوسرے سے مخالف اسپن کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں، جیسا کہ اربٹل ڈائیگرام سے دیکھا جاسکتا ہے۔

150

لیتھیم (Li) کے تیسرے الیکٹران کو، پالی استثنیٰ اصول کی وجہ سے 1s اربٹل میں جانے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے یہ اس کے بعد دستیاب اربٹل، یعنی کہ 2s اربٹل میں جاتا ہے۔ Liکا الیکٹرانی تشکل ہے: Is22s1۔2s اربٹل میں ایک اور الیکٹران کے لیے جگہ ہے۔ اس لیے بیریلیم (Be)ایٹم کا تشکل ہے:Is22s2 (عناصر کے الیکٹرانی تشکل کے لیے دیکھیے جدول 2.6)۔

اگلے چھ عناصر بوران (B,1s22s22p1) کاربن (C,1s22s22p2)، نائٹروجن (N,1s22s22p3)‘ آکسیجن (O,1s22s22p4) فلورین (F, 1s22s22p5) اور نیون (Ne,1s22s22p6) میں 2p اربٹل بتدریج بھرتا جاتا ہے۔ یہ عمل نیون ایٹم کے ساتھ مکمل ہوجاتا ہے۔ ان عناصر کی اربٹل تصویر مندرجہ ذیل طور پر ظاہر کی جاسکتی ہے۔

151

عناصر سوڈیم 152سے آرگن153  تک الیکٹرانی تشکل اسی نمونے پر ہوتے ہیں جو لیتھیم سے نیون تک ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب 3sاور 3p اربٹل بھرے جارہے ہیں۔ اس عمل کو سادہ بنایا جاسکتا ہے اگر ہم پہلے دو خولوں میں بھرے جانے والے الیکٹرانوں کی کل تعداد کو عنصر نیون (Ne)کے نام سے ظاہر کریں۔ عناصر سوڈیم سے آرگن تک کا الیکٹرانی تشکل اس طرح لکھا جاسکتا ہے: 154 سے155  تک۔ وہ الیکٹران جو مکمل طور پر بھرے ہوئے شیل میں ہوتے ہیں، کور (Core) الیکٹران کہلاتے ہیں اور وہ الیکٹران جو سب سے بڑے، پرنسپل کوانٹم نمبر والے الیکٹرانی شیل میں شامل کیے جاتے ہیں، گرفت الیکٹران (Valence Electron) کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر‘ وہ الیکٹران جو Ne میں ہیں، کور الیکٹران ہیں اور Na سے Ar تک میں جو الیکٹران ہیں، گرفت الیکٹران ہیں۔ پوٹاشیم (K)اور کیلشیم (Ca) میں، کیونکہ 4sاربٹل کی توانائی میں 3d اربٹل سے کم ہے، اس لیے اس میں، بالترتیب ایک اور دو الیکٹران ہوتے ہیں۔

اسکینڈیم (Sc) سے ایک نیا نمونہ شروع ہوتا ہے۔ 3d اربٹل، جس کی توانائی 4p اربٹل سے کم ہے، پہلے بھرنا شروع ہوتا ہے۔ اس لیے اگلے دس عناصر: اسکانڈیم (Sc)، ٹائیٹینیم (Ti)، وینے ڈیم (V)، کرومیم(Cr) مینگنیز (Mn)، آئرن (Fe)، کوبالٹ (Co)، نِکِل (Ni) کاپر (Cu)اور زِنک (Zn)میں پانچ 3d اربٹل ایک ایک کرکے بھرتے جاتے ہیں۔ ہمیں حیرت ہوسکتی ہے کہ کرومیم اور کاپر میں3dاربٹل میں 5 اور 10 الیکٹران ہیں، جب کہ ان کے مقام کے مطابق، 2الیکٹران 4s اربٹل میں اور 3d اربٹل میں 4اور 9 الیکٹران ہونے چاہیے تھے۔ وجہ یہ ہے کہ مکمل طور پر بھرے ہوئے اور آدھے بھرے ہوئے اربٹل میں مزید استحکام ہوتا ہے (یعنی کہ مقابلتاً کم توانائی)۔ اس لیے 156  وغیرہ تشکل، جو یا تو آدھی بھری ہیں یا مکمل بھری ہیں، مقابلتاً زیادہ مستحکم ہیں۔ کرومیم اور کاپر، اس لیے، d5 اور  d10  تشکل اختیارکرتے ہیں۔ (سیکشن2.6.7) [انتباہ: استثنیٰ بھی پائے جاتے ہیں۔]

3d اربٹل کے سیرشدہ (Saturation) ہوجانے کے بعد، گیلیم (Ga) سے 4p اربٹل کا بھرنا شروع ہوتا ہے، جو کرپٹان (Kr) پر مکمل ہوتا ہے۔ روبیڈیم (Rb) سے لے کر زینان (Xe) تک، یعنی کہ، اگلے 18عناصر میں 5s، 4d اور 5p اور اربٹل اسی نمونے کے مطابق بھرے جاتے ہیں، جو اوپر بیان کیے گئے، 4s، 3dاور 4p اربٹل میں تھا۔ پھر 6s اربٹل کی باری آتی ہے۔ سیزیم (Caesium, Cs)اور بیریم (Ba) میں اس اربٹل میں، بالترتیب ایک اور دو الیکٹران ہوتے ہیں۔ پھر لینتھینم (La) سے مرکری (Hg) تک 4f اور 5d میں الیکٹران بھرے جاتے ہیں۔ یورینیم (U) کے بعد تمام عناصر مختصر دورِ حیات (Life Period) والے ہیں اور مصنوعی طریقوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ معلوم عناصر کے الیکٹرانی تشکل (جیسا کہ اسپیکٹرواسکوپک طریقوں سے معلوم کئے گئے ہیں) جدول 2.6 میں دیے گیے ہیں۔

ہم پوچھ سکتے ہیں کہ آخر الیکٹرانی تشکل جاننے کا فائدہ یا استعمال کیا ہے؟ کیمسٹری کو سمجھنے کی جدید طرز رسائی در اصل، کیمیائی طرز عمل کو سمجھنے اور اس کی وضاحت کرنے کے لیے، تقریباً پوری طرح سے الیکٹرانی تقسیم پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر ایسے سوالات کہ دو یا دو سے زیادہ ایٹم مل کرسالمات کیوں تشکیل دیتے ہیں؟‘ کچھ عناصر ’’دھاتیں‘‘ کیوں ہیں جب کہ دیگر غیر دھاتیں ہیں؟‘ ہیلیم اور آرگن جیسے عناصر متعامل (Reactive) کیوں نہیں ہیں جبکہ ہیلوجن (Halogens) جیسے عناصر متعامل ہیں؟ ان سوالوں کے جواب الیکٹرانی تشکل کے ذریعے بہ آسانی واضح ہوجاتے ہیں۔ ڈالٹن کا ایٹمی ماڈل ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں فراہم کرتا۔ اس لیے جدید کیمیائی معلومات کے مختلف پہلوؤں میں درک حاصل کرنے کے لیے، ایٹم کی الیکٹرانی ساخت کو تفصیل کے ساتھ سمجھنا بہت ضروری ہے۔

2.6.6 مکمل بھرے ہوئے اور نصف بھرے ہوئے ذیلی شیل کا استحکام :(Stability of Completely Filled and Half Filled Subshell)

ایٹم کا گراؤنڈ اسٹیٹ الیکٹرانی تشکل ہمیشہ کم ترین کل الیکٹرانی توانائی سے مطابقت رکھتا ہے۔ زیادہ تر ایٹموں کے الیکٹرانی تشکل سیکشن 2.6.5 میں دے گئے بنیادی قاعدوں کے مطابق ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ خاص عناصر میں، جیسے Cuیا Crجہاں ذیلی شیل (4sاور 3d) کی توانائیوں میں معمولی سا فرق ہوتا ہے، ایک الیکٹران مقابلتاً کم توانائی کے ذیلی شیل (4s)سے مقابلتاً زیادہ توانائی کے ذیلی شیل میں چلا جاتا ہے، بشرطیکہ اس کے نتیجے میں، مقابلتاً زیادہ توانائی کے ذیلی شیل کے تمام اربٹل مکمل یا نصف بھر جائیں۔ اس لیے Cu اور Cr کے گرفت الیکٹرانی تشکل، بالترتیب،  157 ہیں۔ یہ معلوم ہوا ہے کہ ان الیکٹرانی تشکل سے مزید استحکام وابستہ ہے۔

مکمل بھرے ہوئے اور نصف بھرے ہوئے ذیلی شیل کے استحکام کی وجوہات 

مکمل بھرے ہوئے اور نصف بھرے ہوئے ذیلی شیل، مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر مستحکم ہوتے ہیں:

الیکٹرانوں کی متشاکل تقسیم: یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ تشاکل، استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔ نصف بھرے ہوئے اور مکمل بھرے ہوئے ذیلی شیل میں الیکٹرانوں کی متشاکل تقسیم پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ زیادہ مستحکم ہیں۔ یکساں ذیلی شیل (یہاں 3d) میں الیکٹرانوں کی توانائی مساوی ہوتی ہے اور مکانی تقسیم (Saptial Distribution) مختلف ہوتی ہے، نتیجتاً ایک دوسرے کے لیے ان کی شیلڈنگ مقابلتاً کم ہوتی ہے اور الیکٹران نیوکلیس کی طرف زیادہ قوت سے کشش کا اظہار کرتے ہیں۔

مبادلہ توانائی: جب بھی دو یا دو سے زیادہ یکساں اسپن والے الیکٹران، ایک ذیلی شیل کے فاسد اربٹل میں موجود ہوتے ہیں تو استحکامی اثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ الیکٹران اپنا مقام آپس میں تبدیل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اس مبادلے کی وجہ سے خارج ہونے والی توانائی مبادلہ توانائی (Exchange Energy) کہلاتی ہے۔ ممکنہ مبادلوں کی تعداد اس وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے، جب کہ ذیلی شیل نصف بھرا ہو یا مکمل بھرا ہو (شکل 2.18)۔ اس کے نتیجے میں مبادلہ توانائی سب سے زیادہ ہوتی ہے اور اس لیے استحکام بھی۔

آپ نوٹ کرسکتے ہیں کہ مبادلہ توانائی ہی ہنڈ قاعدے کی بنیاد ہے، جس کے مطابق وہ الیکٹران جو مساوی توانائی کے اربٹل میں داخل ہوتے ہیں، جہاں تک ممکن ہو، ان کی اسپن متوازی ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، مکمل بھرے ہوئے اور نصف بھرے ہوئے ذیلی شیل کی مزید استحکام کی وجوہات ہیں: (i) مقابلتاً کم شیلڈنگ (ii) مقابلتاً کم کو لمب دافع توانائی (iii) مقابلتاً زیادہ مبادلہ توانائی۔ مبادلہ توانائی کے بارے میں تفصیلات آپ آئندہ درجات میں پڑھیں گے۔
الیکٹران 4 کے ذریعے 1 مبادلہ
الیکٹران 3 کے ذریعے دو مبادلہ
الیکٹران 2 کے ذریعے تین مبادلہ
الیکٹران 1 کے ذریعے چار مبادلہ

158
شکل 2.18 d5 تشکل کے لیے ممکنہ مبادلہ

جدول 2.6 عناصر کے الیکٹرانی تشکل

159
160
*   استثنائی الیکٹرانی شکل والے عناصر

161
162
** ایٹمی عدد 112اور اس سے زیادہ ایٹمی عدد والے عناصر کے بارے میں رپورٹیں تو حاصل ہوئی ہیں لیکن ابھی ان کی نہ تو تصدیق ہوسکی ہے اور نہ ہی انھیں نام دیے گئے ہیں۔

خلاصہ

ایٹم عناصر کے بلڈنگ بلاک ہیں۔ یہ عنصر کے وہ سب سے چھوٹے اجزا ہیں جو کیمیائی طور پر تعامل کرتے ہیں۔ 1808 میں ڈالٹن کے ذریعے تجویز کیے گئے پہلے ایٹمی نظریہ کے مطابق ایٹم کو مادہ کا بنیادی ناقابلِ تقسیم ذرہ مانا گیا۔ انیسویں صدی کے اختتام کے قریب، تجربات سے یہ ثابت ہوا کہ ایٹم قابلِ تقسیم ہیں اور تین بنیادی ذرات الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران پر مشتمل ہیں: ذیلی ایٹمی ذرات کی دریافت نے، ایٹم کی ساخت کی وضاحت کرنے کے لیے مختلف ایٹمی ماڈلوں کی تجاویز پیش کرنے کی راہ دکھائی۔

تھامسن نے 1898میں تجویز پیش کی کہ ایٹم مثبت برق کے یکساں کرہ پر مشتمل ہے، جس میں الیکٹران پیوست ہوتے ہیں۔ اس ماڈل کو جس میں سمجھا جاتاہے کہ ایٹم کی کمیت پورے ایٹم میں یکساں طور پر پھیلی ہوئی ہے، 1909 میں ردرفورڈ کے الفا ذرہ انتشار تجربہ نے غلط ثابت کردیا۔ ردرفورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایٹم میں اس کے مرکز پر ایک بہت چھوٹا مثبت چارج شدہ نیوکلیس ہے، جس کے ارد گرد الیکٹران مدور اربٹ میں گھوم رہے ہیں۔ ردرفورڈ کا ماڈل، جو شمسی نظام سے مشابہت رکھتا ہے، یقینا تھامسن ماڈل سے بہتر تھا لیکن یہ ایٹم کے استحکام کی وضاحت نہیں کرسکا، یعنی کہ، الیکٹران نیوکلیس میں گرکیوں نہیں جاتے۔ اس کے علاوہ یہ ایٹم کی الیکٹرانی ساخت کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتا سکا، یعنی کہ الیکٹران نیوکلیس کے ارد گرد کس طرح تقسیم ہوتے ہیں اور ان کی کیا توانائیاں ہوتی ہیں۔ ردرفورڈ ماڈل کی ان خامیوں کو 1913میں، نیلس بوہر نے اپنے ہائڈروجن ماڈل کو پیش کرکے دور کیا۔ بوہر ماڈل کا بنیادی مفروضہ تھا کہ الیکٹران نیوکلیس کے گرد مدوراربٹ میں گھومتے ہیں۔ کچھ خاص اربٹ ہی پائے جاتے ہیں اور ہر ایک اربٹ ایک مخصوص توانائی سے مطابقت رکھتا ہے۔ بوہر نے مختلف اربٹ میں الیکٹران کی توانائی کا حساب لگایا اور ہر اربٹ کے لیے الیکٹرانی اور نیوکلیس کے درمیانی فاصلے کی پیشین گوئی کی۔ حالانکہ بوہر ماڈل ہائڈروجن ایٹم کے طیف کی اطمینان بخش وضاحت کرسکا لیکن کثیر الیکٹران ایٹموں کے طیف کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا۔ اس کی وجہ جلد ہی دریافت ہوگئی۔ بوہر ماڈل میں الیکٹران کو ایک چارج شدہ ذرہ مانا جاتا ہے، جو نیوکلیس کے گرد، بہ خوبی معروف مدور اربٹ میں حرکت کررہا ہے۔ بوہر کے نظریہ میں الیکٹران کی لہر فطرت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ایک اربٹ ایک واضح طور پر معروف راستہ ہے اور اس راستہ کی مکمل تعریف صرف اسی وقت کی جاسکتی ہے جب ایک الیکٹران کی رفتار اور اس کا مقام بالکل ہمہ وقت معلوم ہو۔ یہ ہائزنبرگ عدم یقینی اصول کے مطابق ممکن نہیں ہے۔ اس لیے بوہر کا ہائڈروجن ایٹم کا ماڈل نہ صرف الیکٹران کی دوہری فطرت کو نظرانداز کرتا ہے بلکہ ہائزنبرگ عدم یقینی اصول کی بھی تردید کرتا ہے۔

ارون شروڈنگر نے 1926میں، اسپیس (Space) میں الیکٹرانوں کی تقسیم اور ایٹم میں منظور شدہ انرجی لیول (Allowed Energy Levels) بیان کرنے کے لیے ایک مساوات تجویز کی جو شروڈونگر مساوات کہلاتی ہے۔ یہ مساوات ڈی براگلی کے لہر۔ دہری فطرت کے تصور کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ہائزنبرگ عدم یقینی اصول سے بھی ہم آہنگ (consistent)ہے۔ جب، ہائڈروجن ایٹم میں الیکٹران کے لیے شروڈنگر مساوات  حل کی جاتی ہے تو ہمیں وہ ممکنہ توانائی حالتیں حاصل ہوتی ہیں، جن میں الیکٹران رہ سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان توانائی حالتوں سے مطابقت رکھنے والے لہر تفاعلات y بھی حاصل ہوتے ہیں۔ (جو دراصل ریاضیاتی تفاعلات ہیں)

ہمیں دراصل ہر الیکٹران کے لیے ہر ایک توانائی حالت سے منسلک لہر تفاعلات حاصل ہوتے ہیں۔ یہ کوانٹمی توانائی حالتیں اور ان سے مطابقت رکھنے والے موج۔ تفاعلات، جن کی خاصیتیں تین کوانٹمی اعداد (پرنسپل کوانٹم نمبر n،  سمت راس کوانٹمی عدد lاور مقناطیسی کوانٹمی عدد (ml)سے ظاہر کی جاتی ہیں، شروڈنگر مساوات کے حل کے قدرتی نتائج کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ ان تین کوانٹمی اعداد کی قدروں پر لگنے والی پابندیاں بھی اسی حل کا قدرتی نتیجہ ہیں۔ ہائڈروجن ایٹم کا کوانٹم میکانیکی ماڈل ہائڈروجن ایٹم طیف کے تمام پہلوؤں کی کامیابی کے ساتھ پیشین گوئی کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسے مظاہر کی وضاحت بھی کرتا ہے، جن کی وضاحت بوہر ماڈل نہیں کرسکا تھا۔

ایٹم کے کوانٹم میکانیکی ماڈل کے مطابق، وہ ایٹم جس میں الیکٹرانوں کی ایک تعداد ہو، الیکٹرانوں کی تقسیم اس طرح ہوتی ہے کہ الیکٹران شیل میں بٹے ہوتے ہیں، یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ شیل خود، ایک یا اس سے زیادہ ذیلی شیل پر مشتمل ہوتے ہیں اور ہر ایک ذیلی شیل، ایک یا اس سے زیادہ اربٹل پر مشتمل ہوتا ہے اور ان اربٹل میں الیکٹران پائے جاتے ہیں۔ جبکہ ہائڈروجن یا ہائڈروجن جیسے نظاموں میں (مثلاً +Li2+، He وغیرہ) ایک دیے ہوئے شیل کے تمام اربٹل کی توانائی یکساں ہوتی ہے، ایک کثیر الیکٹرانی ایٹم میں اربٹل کی توانائی n اور lکی قدروں پر منحصر ہے۔ ایک اربٹل کے لیے (n + l) کی اگر مقابلتاً کم ہوگی تو اس کی توانائی بھی مقابلتاً کم ہوگی۔ اگر دو اربٹل کی (n + l)قدر یکساں ہے، تو جس اربٹل کیnقدر مقابلتاً کم ہوگی، اس کی توانائی بھی کم ہوگی۔ ایک ایٹم میں ایسے کئی اربٹل ممکن ہیں اور ان اربٹل میں الیکٹران، توانائی کی بڑھتی ہوئی ترتیب کے ساتھ، پالی کے اصول استثنیٰ (ایک ایٹم میں کن ہی دو الیکٹرانوں کا چاروں کوانٹمی اعداد کا سیٹ یکساں نہیں ہوسکتا) اور ہنڈ کے ازحد تضاعف کے قاعدے (یکساں ذیلی شیل سے تعلق رکھنے والے اربٹل میں الیکٹرانوں کے جوڑے اس وقت تک نہیں بنتے جب تک کہ اس ذیلی شیل سے تعلق رکھنے والے ہر ایک اربٹل میں ایک ایک الیکٹران نہ آجائے) کے مطابق بھرے جاتے ہیں۔یہ ایٹم کی الیکٹرانی ساخت کی بنیاد تشکیل دیتا ہے۔

مشقیں

2.1
(i) کتنے الیکٹرانوں کا مجموعی وزن 1کلو گرام ہوگا؟ حساب لگائیے۔  

الیکٹرانوں کے 1مول کی کمیت اور ان کے برقی چارج کا حساب لگائیے۔ (ii)

2.2

میتھین کے 1مول میں پائے جانے والے الیکٹرانوں کی تعداد کا حساب لگائیے۔ (i)

163کے 7mgمیں نیوٹرانوں (a)کی کل تعداد (b) کل کمیت معلوم کیجیے۔(فرض کیجیے 164  ایک نیوٹران کی کمیت۔  (ii)

معلوم کیجیے: STP پر NH3 کے 34ملی گرام میں (a) پروٹانوں کی کل تعداد (b)پروٹانوں کی کل کمیت۔ کیا درجہ حرارت اور دباؤ کو تبدیل کرنے سے جواب تبدیل ہوجائے گا؟  (iii).

2.3

مندرجہ ذیل نیوکلیس میں کتنے نیوٹران اور کتنے پروٹان ہوں گے:

165
2.4

دیے ہوئے ایٹمی عدد (Z)اور ایٹمی کمیت (A) کے لیے ایٹم کی مکمل علامت لکھئے:

(i) Z = 17،   A = 35

(ii) Z = 92،   A = 233

(iii) Z =  4،   A =  9

166

2.5

سوڈیم لیمپ سے خارج ہورہی پیلی روشنی کاطولِ موج (580nM (λ ہے۔ اس پیلی روشنی کی فریکوئنسی ( V¯ ) معلوم کیجیے۔

2.6

اس ہر ایک فوٹون کی توانائی معلوم کیجیے جو

(i)

167  فریکوئنسی کی روشنی سے مطابقت رکھتا ہے۔ 

(ii)

 جس کا طولِ موج 0.50Å ہے۔

2.7

اس روشنی کی موج کی فریکوئنسی، طولِ موج اور موج عدد معلوم کیجیے، جس کا دوری وقت168ہے۔

2.8

اس روشنی کے فوٹانوں کی تعداد کیا ہوگی، جس کا طولِ موج 4000pm ہے اور جو 1Jتوانائی مہیا کرتی ہے۔

2.9 4X10-7m طولِ موج کا ایک فوٹان دھاتی سطح سے ٹکراتا ہے۔ دھات کا کام تفاعل 2.13ev ہے۔ 

 حساب لگائیے: (i) فوٹان کی توانائی 169 اخراج کی حرکی توانائی (iii) فوٹو الیکٹران کی رفتار170 

2.10 242nm  طولِ موج کا برق مقناطیسی اشعاع، سوڈیم ایٹم کی آین کاری کے لیے کافی ہے۔ سوڈیم کی آین کاری توانائی کا حساب لگائیے۔

2.11 ایک 25واٹ کا بلب 0.57Im  کے طولِ موج کی یک رنگ پیلی روشنی خارج کرتا ہے۔ کوانٹا فی سیکنڈ کے اخراج کی شرح کا حساب لگائیے۔

2.12 جب ایک دھاتی سطح پر 6800Å طولِ موج کا اشعاع پڑتا ہے تو دھاتی سطح سے صفر رفتار کے الیکٹران خارج ہوتے ہیں۔ دھات کی دہلیز فریکوئنسی (vº) اور کام تفاعل (Wº)کا حساب لگائیے۔

2.13 خارج ہونے والی اس روشنی کا طولِ موج کیا ہوگا جسے ہائڈروجن ایٹم میں ایک الیکٹران، انرجی لیول n = 4سے انرجی لیول n = 2 کے عبور (Transition) کرنے کے دوران خارج کرتا ہے۔

2.14 ایک Hایٹم کی آین کاری کے لیے کتنی توانائی درکار ہے، اگر الیکٹران n = 5اربٹ میں ہے۔ اپنے جواب کا مقابلہ Hایٹم کی آیونائزیشن اینتھالپی سے کیجیے۔ (n = 1مدار سے الیکٹران خارج کرنے کے لیے درکار توانائی)

2.15 اخراجی خطوط(Emission Lines)کی زیادہ سے زیادہ تعداد کیا ہوگی، جبکہ ایک H ایٹم کا مشتعل الیکٹران n = 6سے گراؤنڈ اسٹیٹ میں آتا ہے۔

2.16 (i) ہائڈروجن ایٹم میں پہلے اربٹ سے منسلک توانائی 171ہے۔ پانچویں اربٹ سے منسلک توانائی کیا ہوگی؟

(ii) ہائڈروجن ایٹم کے لیے بوہر کے پانچویں اربٹ کے نصف قطر کا حساب لگائیے۔

2.17 ایٹمی ہائڈروجن کے بالمر سلسلے میں سب سے زیادہ طولِ موج والے ٹرانزیشن کے موج عدد کا حساب لگائیے۔

2.18 ہائڈروجن کے الیکٹران کو پہلے بوہر اربٹ سے پانچویں بوہر اربٹ میں منتقل کرنے کے لیے درکار توانائی، جول میں، کیا ہوگی؟ اور جب الیکٹران گراؤنڈ اسٹیٹ میں واپس آتاہے تو خارج ہونے والی روشنی کا طولِ موج کیا ہوگا؟ گراؤنڈ اسٹیٹ الیکٹران توانائی  172 ہے۔

2.19 ہائڈروجن ایٹم میں الیکٹران توانائی ۔173  سے ظاہر کی جاتی ہے۔ ایک الیکٹران کو n=2 اربٹ سے مکمل طور پر خارج کرنے کے لیے درکار توانائی کا حساب لگائیے۔ اس ٹرانزیشن کو عمل میں لانے کے لیے روشنی کا طولِ موج، سینٹی میٹرمیں، زیادہ سے زیادہ کتنا ہوسکتا ہے؟

2.20 اس الیکٹران کے طولِ موج کا حساب لگائیے جو 174  کی رفتار سے حرکت کررہاہے۔

2.21 ایک الیکٹران کی کمیت 175  ہے۔ اگر اس کی حرکی توانائی 176  ہے تو اس کے طولِ موج کا حساب لگائیے۔

2.22 مندرجہ ذیل میں کون سی انواع، ہم الیکٹرانی (Isoelectronic) ہیں (یعنی جن میں الیکٹرانوں کی تعداد یکساں ہے)؟

177

2.23 (i) مندرجہ ذیل آینوں کا الیکٹرانی تشکل لکھیے:178

(ii) ان عناصرکے ایٹمی اعداد کیا ہیں جن کے سب سے باہری الیکٹران ظاہر کیے جاتے ہیں: 179

(iii) مندرجہ ذیل تشکل سے کون سے ایٹم ظاہر کیے جاتے ہیں:180

2.24 nکی وہ کم ترین قدر کیا ہے جس کے لیے g اربٹل پایا جاتاہے۔

2.25 ایک الیکٹران 3d کے کسی ایک اربٹل میں ہے۔ اس الیکٹران کے لیے l,n اور mlکی ممکنہ قدریں بتائیے۔

2.26 کسی عنصر کے ایک ایٹم میں 29الیکٹران اور 35نیوٹران ہیں، معلوم کیجیے (i)پروٹانوں کی تعداد (ii) عنصر کا الیکٹران تشکل 

2.27 انواع: 181میں الیکٹرانوں کی تعداد بتائیے۔

2.28 (i) ایک ایٹمی اربٹل کے لیے :n = 3ہے۔ lاور mlکی ممکنہ قدریں کیا ہیں۔ 

 (3d     (ii اربٹل کے الیکٹران کے لیے کوانٹمی اعداد (lاور ml) کی فہرست تیار کیجیے۔

(iii) مندرجہ ذیل میں سے کون سے اربٹل ممکن ہیں: 2p،  2s،  1p اور 3f

2.29 d، p، s ترسیم کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل کوانٹمی اعداد والے اربٹل بیان کیجیے:

(a) n = 1, l = 0؛  (b) n = 3  l=1؛ (c) n = 4 l =2؛  (d) n = 4  l =3

182

2.30 وجہ بتاتے ہوئے وضاحت کیجیے کہ مندرجہ ذیل میں سے کوانٹمی اعداد کے کون سے سیٹ ممکن نہیں ہیں۔

(a) n = 0, l = 0, ml  =   0, ms = + ½ 

(b) n = 1, l = 0, ml  =   0, ms = – ½

(c) n = 1, l = 1, ml  =   0, ms = + ½

(d) n = 2, l = 1, ml  =   0, ms = – ½

(e) n = 3, l = 3, ml  = –3, ms = + ½

(f) n = 3, l = 1, ml  = 0, ms = + ½


183

2.31 کسی ایٹم میں کتنے الیکٹرانوں کے مندرجہ ذیل کوانٹمی اعداد ہوسکتے ہیں: 

a) n = 4, ms = – ½ (b)  n = 3, l = 0)

2.32 دکھائیے کہ ہائڈروجن ایٹم کے لیے بوہر اربٹ کا محیط (Circumfrance)، اربٹ میں گھومتے ہوئے الیکٹران سے منسلک ڈی براگلی طولِ موج کا ایک صحیح عددی ضعف (Integral Multiple) ہے۔

2.33 ہائڈروجن طیف میں کس ٹرانزیشن کا طولِ موج184  طیف کے n = 4 سے n = 2 تک بالمر ٹرانزیشن کے طولِ موج کے مساوی ہوگا۔

2.34   عمل: 185کے لیے درکار توانائی کا حساب لگائیے۔ گراؤنڈ اسٹیٹ میں ہائڈروجن ایٹم کے لیے آین کاری توانائی 186 ہے۔

2.35 اگر کاربن ایٹم کا قطر 0.15nm ہے، تو ان کاربن ایٹموں کی تعداد معلوم کیجیے جو 20cmلمبائی کے اسکیل کے ساتھ ایک سیدھے خط میں ایک ایک کرکے رکھے جاسکتے ہیں۔

2.36 کاربن کے 2X108 ایٹم پہلو بہ پہلو ترتیب دیے گئے ہیں۔ اگر پوری ترتیب کی لمبائی 2.4c mہے تو کاربن ایٹم کا نصف قطر معلوم کیجیے۔

2.37 زنک ایٹم کا قطر 2.6Å ہے۔ حساب لگائیے (pm (a میں زنک ایٹم کا نصف قطر (b) اگر زنک ایٹموں کو ایک ایک کرکے لمبائی میں ترتیب دیا جائے تو 1.6cm لمبائی میں پائے جانے والے زنک ایٹموں کی تعداد۔

2.38 کسی ذرہ کا ساکن برقی چارج  187 ہے۔ اس میں موجود الیکٹرانوں کی تعداد معلوم کیجیے۔

2.39 ملیکن کے تجربے میں، تیل کے قطروں پر موجود ساکن برقی چارج‘ -xشعاعوں کو چمکا کر حاصل کیا گیا ہے۔ اگر تیل کے قطروں پر ساکن برقی چارج  188  ہے تو اس میں موجود الیکٹرانوں کی تعداد کا حساب لگائیے۔

2.40 ردرفورڈ کے تجربے میں عام طور سے -µذرات کی بمباری کے لیے، سونا، پلیٹینم وغیرہ جیسے بھاری ایٹموں کے پتلے ورق استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر ایلومنیم وغیرہ جیسے ہلکے ایٹموں کے پتلے ورق استعمال کیے جائیں تو نتیجوں میں کیا فرق دیکھنے میں آئے گا؟

2.41 علامتیں 189  اور   190لکھی جاسکتی ہیں جبکہ علامتیں 191  قابل قبول نہیں ہیں۔ مختصراً جواب دیجیے۔

2.42 ایک عنصر کا کمیتی عدد 81ہے،اس میں پروٹانوں کے مقابلے میں %31.7 زیادہ نیوٹران ہیں۔ اسے ایٹمی علامت عطا کیجئے۔

2.43 ایک آین، جس کا کمیتی عدد 37ہے، اس میں ایک اکائی چارج ہے۔ اگر آین میں الیکٹرانوں کے مقابلے میں %11.1زیادہ نیوٹران ہیں تو آین کی علامت معلوم کیجئے۔

2.44 کمیتی عدد 56والے ایک آین، پر 3اکائی مثبت چارج پایا جاتا ہے اور اس میں الیکٹرانوں کے مقابلے میں نیوٹرانوں کی تعداد %30.4 زیادہ ہے۔ اس آین کی علامت بتائیے۔

2.45 مندرجہ ذیل قسم کے اشعاع کو فریکوئنسی کی صعودی ترتیب (Increasing order) میں لکھیے: (a)مائیکروویو اوون سے خارج ہورہا اشعاع (b)ٹریفک سگنل کی عنبر روشنی192  ریڈیو کا اشعاع (d) بیرونی اسپیس سے آنے والی کاسمک شعاعیں  193 شعاعیں۔

2.46 ناٹروجن لیزر 337.1 nm طولِ موج کا اشعاع پیدا کرتا ہے۔ اگر خارج ہونے والے فوٹانوں کی تعداد  194 ہے تو اس لیزر کی پاور کا حساب لگائیے۔

2.47 سائن بورڈوں میں عام طور سے نیون گیس استعمال کی جاتی ہے۔ اگر یہ 616nm پر تیزی سے اخراج کرتی ہے تو حساب لگائیے: (a)اخراج کی فریکوئنسی (b)اس اشعاع کے ذریعے 30sمیں طے کیا گیا فاصلہ (c)کوانٹم کی توانائی (d)موجود کوانٹموں کی تعداد جبکہ یہ 2J توانائی پیدا کرتی ہے۔ 

2.48 فلکیاتی مشاہدوں میں بہت دور کے ستاروں سے آنے والے سگنل عام طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ اگر ایک فوٹان شناس، 600nm کے اشعاع سے کل  195توانائی موصول کرتا ہے تو شناس کے ذریعے موصول کیے جانے والے فوٹانوں کی تعداد کا حساب لگا ہے۔ 

2.49 جو سالمات اشتعالی حالت میں ہوتے ہیں، ان کے دور حیات، اکثر پلس شدہ اشعاع ماخذ کو، جن کا وقفہ نینو سیکنڈ کی رینج میں ہوتا ہے، استعمال کرکے معلوم کیے جاتے ہیں۔ اگر اشعاع ماخذ کا وقفہ 2ns ہے اور اس وقفہ میں پلس ماخذ سے خارج ہونے والے فوٹانوں کی تعداد   196 ، تو ماخذ کی توانائی کا حساب لگائیے۔

2.50 سب سے زیادہ لمبی طولِ موج کا ڈبلیٹ انجذابی ٹرانزیشن 589 اور 589.6 نینو میٹر پر دیکھا گیا ہے۔ ایک ٹرانزیشن کی فریکوئنسی اور دونوں مشتعل حالتوں کے درمیان توانائی فرق کے حساب لگائیے۔

2.51 سیزیم ایٹم کا کام تفاعل 1.9evہے۔ حساب لگائیے (a)دہلیز طولِ موج (b) اشعاع کی دہلیز فریکوئنسی اگر سیزیم ایٹم پر 500nm طولِ موج کی اشعاع ریزی کی جائے تو خارج ہونے والے فوٹو الیکٹران کی حرکی توانائی اور رفتار کا حساب لگائیے۔

2.52 سوڈیم دھات پر مختلف طولِ موج کی اشعاع ریزی کی جاتی ہے تو مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں: حساب لگائیے (a) دہلیز طولِ موج اور (b) پلانک مستقلہ
197

2.53 چاندی دھات سے، ضیا برقی برقی اثر تجربے کے دوران، فوٹو الیکٹرانوں کا اخراج 0.35v کا وولٹیج لگا کر روکا جاسکتا ہے۔ جب کہ استعمال کیے جانے والے اشعاع کا طولِ موج 256.7nm ہے۔ چاندی دھات کے لیے کام تفاعل کا حساب لگائیے۔

2.54 اگر 150 pmطولِ موج کا ایک فوٹان ایک ایٹم سے ٹکراتا ہے اور اس ایٹم کا ایک اندرونی بندھا ہوا الیکٹران 198  کی رفتار سے خارج ہوتا ہے، تو اس توانائی کاحساب لگائیے، جس سے وہ الیکٹران نیوکلیس سے بندھا ہوا تھا۔

2.55 پاسچن سلسلہ میں اخراج عبور اربٹ n=3 پر رک جاتے ہیں اور اربٹ nسے شروع ہوتے ہیں اور انھیں ظاہر کیا جاسکتا ہے: 199 

اگر عبور 1285nmپر دیکھنے میں آتا ہے تو nکی قدر کا حساب لگائیے۔ طیف کا خطّہ معلوم کیجیے۔

2.56 اس اخراجی ٹرانزیشن کا طولِ موج معلوم کیجیے جواس اربٹ سے شروع ہوتا ہے، جس کا نصف قطر 1.3225nmہے اور 211.6pm نصف قطر والے اربٹ پر پر ختم ہوتا ہے۔ اس سلسلے کا نام بتائیے، جس سے یہ ٹرانزیشن تعلق رکھتا ہے اور طیف کا خطّہ بتائیے۔

2.57 ڈی بگراگلی کے ذریعے تجویز کئے گئے مادہ کے دہرے برتاؤ نے الیکٹران مائیکروسکوپ کی دریافت کی راہ دکھائی۔ یہ مائیکروسکوپ اکثر حیاتیاتی سالمات اور دوسرے قسم کے مادوں کے بہت زیادہ تکبیر شدہ عکس حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر اس مائیکروسکوپ میں الیکٹران کی رفتار 200  ہے، تو اس الیکٹران سے منسلک ڈی براگلی طولِ موج کا حساب لگائیے۔

2.58 الیکٹران انصراف مائیکروسکوپ کی طرح نیوٹران انصراف مائیکروسکوپ کا استعمال بھی سالمات کی ساخت معلوم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اگر یہاں استعمال ہونے والی طولِ موج 800pmہے تو نیوٹران سے منسلک مخصوص رفتار کا حساب لگائیے۔

2.59 اگر بوہر کے پہلے اربٹ میں الیکٹران کی رفتار 201  ہے تو اس سے منسلک ڈی براگلی طولِ موج کا حساب لگائیے۔

2.60 1000V  کے برقی مضمر فرق میں حرکت کرتے ہوئے پروٹان سے منسلک رفتار202  ہے۔ اگر 0.1kg کمیت کی ہاکی کی گیند اسی رفتار سے حرکت کر رہی ہو تو اس رفتار سے منسلک طولِ موج کا حساب لگائیے۔

2.61 اگر ایک الیکٹران کا مقام 0.002nm± کی درستگی صحت کے ساتھ ناپا جاتا ہے تو الیکٹران کے معیار حرکت میں عدم یقینی کا حساب لگائیے۔ فرض کیجیے الیکٹران کا معیار حرکت  204 ہے۔ اس قدر کی تعریف کرنے میں کیا کوئی مسئلہ ہے؟

2.62 چھ الیکٹرانوں کے کوانٹم نمبر ذیل میں دیے گئے ہیں۔ انھیں بڑھتی ہوئی توانائی کی ترتیب میں رکھئے۔ کیا ان میں سے کسی مجموعے (مجموعوں) کی توانائی یکساں ہے۔ 

1. n = 4, l = 2, ml = –2 , ms = –1/2

2. n = 3, l = 2, ml = 1 , ms = +1/2

3. n = 4, l = 1, ml = 0 , ms = +1/2

4. n = 3, l = 2, ml = –2 , ms = –1/2

5. n = 3, l = 1, ml = –1 , ms = +1/2

6. n = 4, l = 1, ml = 0 , ms = +1/2

2.63 برومین ایٹم میں 35الیکٹران ہوتے ہیں۔ اس میں سے 6‘ الیکٹران 2p اربٹل میں، 6 الیکٹران 3p اربٹل میں اور 5 الیکٹران 4p اربٹل میں ہوتے ہیں۔ان میں سے کون سے الیکٹران سب سے کم موثر نیوکلیائی چارج محسوس کرتے ہیں۔

2.64 مندرجہ ذیل اربٹل کے جوڑوں میں کون سا اربٹل مقابلتاً زیادہ نیوکلیائی چارج محسوس کرے گا؟

(i) 2s اور 3s،    (ii) 4dاور 4f،   (iii) 3dاور 3p

206

2.65   Al اور Siمیں غیر جفتی الیکٹران 3p اربٹل میں ہوتے ہیں۔ کون سے الیکٹران نیوکلیس سے مقابلتاً زیادہ موثر نیوکلیائی چارج محسوس کریں گے۔

2.66 مندرجہ ذیل میں غیر جفتی الیکٹرانوں کی نشاندہی کیجئے:

(a)p (b)si (c) Cr (d) Fe (e) Kr)

2.67 (n = 4 (a سے کتنے ذیلی شیل منسلک ہیں۔ (n = 4 (b کے لیے ان ذیلی شیل میں کتنے الیکٹران ہوں گے، جن کی msقدر (½-) ہے۔