Skip to content
5165CH01

اکائی 3


عناصر کی درجہ بندی اور خصوصیات میں دوریت

Classification of Elements and Periodicity in Properties


مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

سمجھ سکیں گے کہ کس طرح عناصر کی ان کی خصوصیات کی بنیاد پر درجہ بندی نے دوری جدول بنانے میں مدد کی؛

• دوری کلیہ کو سمجھ سکیں؛

• دوری درجہ بندی کی بنیاد فراہم کرنے میں ایٹمی عدد اور الیکٹرانی تشکل کی اہمیت کو سمجھ سکیں گے۔

• l IUPAC تسمیہ کے مطابق  Z > 100 عناصر کے نام بتاسکیں ؛

• عناصر کو f، d، p، s بلاک میں تقسیم کرسکیں گے اور ان کی اہم خصوصیات یاد رکھ سکیں ۔

• عناصر کی طبعی اور کیمیائی خصوصیات میں دوری رجحان کو پہچان سکیں؛

عناصر کی تعاملیت کا موازنہ کر سکیں گے اور اسے قدرتی ماحول میں ان کے وقوع سے ہم آہنگ کرسکیں؛

• آیونائزیشن اینتھالپی اور دھاتی خصوصیات میں تعلق کی وضاحت کرسکیں ؛

• ایٹموں کی اہم خصوصیات مثلاً ایٹمی/ آینی نصف قطر، آیونائزیشن اینتھالپی۔ الیکٹران گین اینتھالپی برقی منفیت۔ عناصر کی گرفت وغیرہ سے تعلق رکھنے والے تصورات کے اظہار کے لیے سائنسی زبان کا استعمال کرسکیں۔

دوری جدول اصول اور عمل کے لحاظ سے بلاشبہ علم کیمیا میں ایک اہم تصور ہے۔ طلبا کے لیے یہ روز مرہ کا معاون ہے ماہرین کے لیے تحقیق کے نئے مواقع تجویز کرتا ہے، اور کل علم کیمیا کے لیے مختصر اور جامع تنظیم مہیا کرتا ہے۔ یہ اس امر کا قابل تعریف اظہار ہے کہ کیمیاوی عناصر اکائیوں کا بے ترتیب مجموعہ نہیں ہے بلکہ ایک عام رجحان کا اظہار کرتے ہیں اور ایک ساتھ جماعتوں میں رہتے ہیں۔ دوری جدول سے واقفیت ہر اس شخص کے لیے لازمی ہے جو اس دنیا کو سلجھانا چاہتا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ علم کیمیا کے بنیادی بلڈنگ بلاک کیمیاوی عناصر سے مل کر کس طرح بنی ہے۔ 

(گلن۔ (ٹی۔ سیبرگ)

اس باب میں ہم دوری جدول (جیسی کہ یہ آج ہے) کے تاریخی ارتقا اور جدید دوری کلیہ کا مطالعہ کریں گے۔ ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ دوری درجہ بندی کس طرح ایٹموں کے الیکٹرانی تشکل کے منطقی نتیجہ کو اختیار کرتی ہے۔ آخر میں ہم عناصر کی طبعی اور کیمیاوی خصوصیات میں دوری رجحان کا جائزہ بھی لیں گے۔ 

جدول 3.1 ڈوبرنیئر کے ٹرائیڈز


عناصر ایٹمی وزن عناصر ایٹمی وزن عناصر ایٹمی وزن
Li
Na
K
7
23
39
Ca
Sr
Ba
40
88
137
CI
Br
I
35.5
80
127

اب ہم جان چکے ہیں کہ عناصر ہر قسم کے مادے کی بنیادی اکائیاں ہوتی ہیں۔ 1800 عیسوی میں کل 31 عناصر کے بارے میں معلومات تھیں۔ 1865 تک دریافت شدہ عناصر کی تعداد دو گنی ہو کر 63 تک پہنچ گئی۔ آج تک 114 عناصر معلوم کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے حال ہی میں دریافت کیے گئے عناصر انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ نئے عناصر کے تالیف کی کوششیںجاری ہیں۔ عناصر کی اتنی بڑی تعداد کے ساتھ یہ بہت مشکل ہے کہ ہر عنصر اور اس کے لاتعداد مرکبات کی کیمیاوی خصوصیات کا مطالعہ انفرادی طور پر کیا جاسکے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سائنسدانوں کے عناصر کی درجہ بندی کرکے ان کے متعلق معلومات کو منظم کرنے کا طریقہ تلاش کر لیا۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ عناصر سے متعلق معلوم شدہ حقائق کو استدلال فراہم کیا جاسکے گا بلکہ آئندہ مطالعے کے لیے نئے حقائق کی پیشین گوئی بھی کی جاسکے گی۔

3.2 دوری درجہ بندی کی ابتدا (Genesis of Periodic Classification) 

عناصر کی مختلف درجات میں درجہ بندی اور دوری کلیہ نیز دوری جدول کا ارتقا سائنسدانوں کے اپنے مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر حاصل کی گئی معلومات کو اصول کے مطابق ترتیب دینے کا نتیجہ ہے۔ 1800 کے ابتدائی برسوں میں جرمن کیمیا داں جون ڈوبرنیر (John Dobereiner) پہلا سائنسداں تھا جس نے عناصر کی خصوصیات میں ایک رجحان کے تصور پر غور کیا۔ 1829 تک اس نے تین عناصر (Triods) کے مختلف گروہوں کی طبعی اور کیمیائی خصوصیات میں یکسانیت کو نوٹ کیا۔ ہر گروہ میں اس نے دیکھا کہ ہر ٹرائڈ کے درمیانی عنصر کا ایٹمی وزن  باقی دو عناصر کے ایٹمی وزن کے مجموعہ کا آدھا ہے (جدول3.1)۔ اس کے علاوہ درمیانی عنصر کی خصوصیات بھی باقی دو عناصر کی خصوصیات کے درمیان ہیں۔ چونکہ ڈوبیرینر کا یہ تعلق جسے ٹرائڈ کا کلیہ (Law of Trids) کہتے ہیں صرف چند عناصر کے لیے ہی کارگر ثابت ہوتا ہے اس کو اتفاقی کہہ کر رد کر دیا گیا عناصر کو تقسیم کرنے کی اگلی کوشش فرانسیسی ارضیات داں اے ای بی ڈی چانکر ٹوائس نے 1862 میں کی۔ انہوں نے اس وقت تک دریافت شدہ عناصر کو ان کے ایٹمی وزن کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھا اور عناصر کا ایک اسطوانی جدول بنایا جس میں ان کی خصوصیات کے دوری تواتر کو دکھایا گیا۔ اس نے بھی زیادہ توجہ حاصل نہیں کی۔ انگریز کیمیاداں جان الیکسزینڈر نیولینڈ نے 1865 میں آکٹیو کلیہ (Law of Octaves) دیا۔ اس نے عناصر کو ان کے بڑھتے ہوئے ایٹمی وزن کے ساتھ ترتیب دیا اور دیکھا کہ ہر آٹھویں عنصر کی خصوصیات پہلے عنصر کی خصوصیات سے مشابہہ ہیں (جدول 3.2)۔ یہ تعلق بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ موسیقی کے آٹھ سروں میں ہوتا ہے جہاں ہر آٹھواں سر پہلے کے مشابہہ ہوتا ہے۔ نیولینڈ کا آکٹیو کلیہ صرف کیلشیم تک کے عناصر تک صحیح ہے۔ اگر چہ اس خیال کو اس زمانے میں بہت زیادہ مقبولیت نہیں ملی پھر بھی 1887 میں لندن کی رائل سوسائٹی نے ان کے کام کے لیے انہیں ڈیوی میڈل سے نوازا۔ 

جدول 3.2 نیولینڈ کے آکٹیو 


F O N C B Be Li عناصر
19 16 14 12 11 9 7 ایٹمی وزن
C1 S P Si A1 Mg Na عناصر
35.5 32 31 29 27 24 23 ایٹمی وزن
Ca K عناصر
40 39 ایٹمی وزن
دوری کلیہ جیسا کہ آج ہم اسے جانتے ہیں اس کا سہرا روسی کیمیاداں، دمتری مینڈلیف (1907-1834) اور جرمن کیمیاداں لوتھرمیئر (1895-1830) کے سر ہے دونوں کیمیادانوں نے انفرادی طور پر کام کرتے ہوئے 1869 میں یہ تجویز رکھی کہ عناصر کو ان کے بڑھتے ہوئے ایٹمی وزن کی ترتیب میں رکھے جانے پر ایک باقاعدہ وقفہ کے بعد ان کی طبعی اور کیمیاوی خصوصیات میں یکسانیت ظاہر ہوتی ہے۔ لوتھر میئر نے طبعی خصوصیات جیسے کہ حجم نقطہ گداخت اور نقطہ جوش کو ایٹمی وزن کے مطابق ترتیب دیا تو دیکھا کہ ایک دوری بالتواتر نقشہ ابھر کر آتا ہے۔ نیولینڈ کے برخلاف لوتھر میئر نے اس دوہراتے ہوئے نقشہ کی لمبائی تبدیلی نوٹ کی۔ 1868 تک لوتھرمیئر نے ایک جدول تیار کی جو جدید دوری جدول سے مشابہہ تھی۔ 

بہر حال اس کاکام اس وقت تک شائع نہیں ہوا جب تک کہ سائنسداں دمتری مینڈ لیف کا کام شائع نہیں ہوا، جسے جدید دوری جدول کے ارتقا سے شہرت ملی۔ جبکہ ڈوبیرنیئر نے دوری تعلقات کا مشاہدہ کیا تھا، یہ مینڈ لیف ہی تھا جس نے پہلی مرتبہ دوری کلیہ کو شائع کیا۔ اس کا بیان اس طرح ہے کہ:

’’عناصر کی خصوصیات ان کے ایٹمی وزن کا دوری تفاعل ہوتی ہیں‘‘

مینڈ لیف نے عناصر کو ان کے بڑھتے ہوئے ایٹمی وزن کے اعتبار سے ایک جدول میں افقی قطاروں اور عمودی کالموں میں اس طرح ترتیب دیا کہ یکساں خصوصیات والے عناصر ایک ہی عمودی کالم یا گروپ میں ہوں۔ عناصر کی درجہ بندی کا مینڈلیف کا طریقہ لوتھر میئر کے طریقہ سے زیادہ واضح تھا۔ انہوں نے دوریت کی اہمیت کو پوری طرح پہچانا اور عناصر کی تقسیم میں ان کی طبعی اور کیمیاوی خصوصیات کے وسیع دائرے کو استعمال کیا۔ مینڈلیف نے خاص طور پر امپیریکل فارمولوں میں یکسانیت اور عناصر کے مرکبات کی خصوصیات پر بھروسہ کیا۔ اس نے یہ محسوس کیا کہ اگر ایٹمی وزن کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے تو کچھ عناصر درجہ بندی کی اس اسکیم میں فٹ نہیں ہوتے۔ اس نے ایٹمی وزن کو یہ سوچتے ہوئے نظر انداز کردیا کہ ہوسکتا ہے کہ ایٹمی پیمائش صحیح نہ ہو اور یکساں خصوصیات والے عناصر کو ایک ساتھ رکھ دیا۔ مثال کے طور پر آیو ڈین جس کا ایٹمی وزن ٹیلوریم (گروپ VI) سے کم ہے اسے گروپ VII میں فلورین کلورین اور برومین کے ساتھ رکھ دیا کیونکہ ان کی خصوصیات یکساں تھیں (شکل3.1)۔ اسی وقت یکساں خصوصیات والے عناصر کو ایک ہی گروپ میں ترتیب دینے کے اپنے بنیادی مقصد کے تحت اس نے تجویز کیا کہ کچھ عناصر دریافت ہونا باقی ہیں اور اسی لیے اس نے جدول میں بہت سے خالی مقامات چھوڑ دیے۔ مثال کے طور پر گیلیم اور جرمینیم دونوں عناصر ہی اس وقت دریافت نہیں ہوئے تھے جب مینڈلیف نے دوری جدول کو شائع کیا تھا۔ اس نے ایک ایلومینیم کے نیچے اور ایک سلیکان کے نیچے خالی مقام چھوڑ دیا اور ان عناصر کو ایکاالمونیم اور ایکاسلیکان کہا۔ مینڈلیف نے نہ صرف گیلیم اور جرمینیم کی موجودگی کی پیشین گوئی کی بلکہ ان کی کچھ عام طبعی خصوصیات بھی بیان کیں۔ ان عناصر کی دریافت بعد میں ہوئی ان عناصر کی کچھ خصوصیات جن کی پیشین گوئی مینڈلیف نے کی تھی اور جو تجربہ کی بنیاد پر پائی گئیں وہ جدول 3.3 میں دکھائی گئی ہیں۔

مینڈلیف کی جرأت مندانہ طریقہ سے کی گئی مقداری پیشین گوئیاں اور آخر کار ان کی کامیابی نے اسے اور اس کی دوری جدول کو شہرت بخشی۔ 1905 میں شائع ہوئی مینڈلیف کی دوری جدول کو شکل 3.1 میں دکھایا گیا ہے۔ 

جدول 3.3 ایکاالمونیم (گیلیم) اور ایکاسلیکان (جرمینیم) کے لیے مینڈلیف کی پیشین گوئیاں


جرمینیم
دریافت
ایکا سلیکان
پیشن گوئی
گیلیم
(دریافت)
ایکا ایلومینیم
(پیشن گوئی)
خصوصیات
72.6 72 70 68 ایٹمی وشن
5.36 5.5 5.94 5.9 (g/cm3)کثافت
1231 زیادہ 29.78 کم (K)نقطہ گداخت
GeO2 EO3 Ga2O3 E2O2 آکسائڈ کا ضابطہ
GeC14 EC13 GaC13 ECI3 کلورائڈ کا ضابطہ


301

3.3  جدید دوری کلیہ اور دوری جدول کی موجودہ شکل  (Modern Periodic Law and The Present Form of The Periodic Table)

ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب مینڈلیف نے اپنی دوری جدول (Periodic Table) تیار کی تھی تو اس وقت کیمیادانوں کو ایٹم کی اندرونی ساخت کا کوئی علم نہ تھا۔ بہرحال بیسویں صدی کی ابتدا ذیلی ایٹمی ذرات سے متعلق نظریات کے عمیق ارتقا کی شاہد ہے۔ 1913 میں انگریز ماہر طبیعیات ہیزی موسلے (Henry Mosely) نے عناصر کے مخصوص ایکسرے اسپیکٹرم (X-Ray Spectrum) میں باقاعدگی دیکھی۔ ایک302 کا پلاٹ (جہاں v خارج کی گئی ایکسرے کی فریکوئنسی ایٹمی عدد (Z) کے ساتھ ایک سیدھی لائن دیتا ہے جبکہ  302کا پلاٹ ایٹمی کمیت کے ساتھ سیدھی لائن نہیں دیتا۔ اس طرح اس نے یہ دکھایا کہ کسی عنصر کا ایٹمی عدد اس کی ایٹمی کمیت کے مقابلے میں زیادہ بنیادی خصوصیت ہے۔ مینڈلیف کا دوری کلیہ پھر اسی اعتبار سے تبدیل کیا گیا۔ یہ جدید دوری کلیہ کہلاتا ہے اور اسے اس طرح بیان کرسکتے ہیں کہ:

’’عناصر کی طبعی اور کیمیائی خاصیتیں ان کے ایٹمی اعداد کا دوری تفاعل ہوتی ہیں‘‘۔

دوری کلیہ نے قدرتی طور پر پائے جانے والے 94 عناصر میں اہم مشابہت کا انکشاف کیا (نیپچونیم اور پلوٹونیم بھی ایکٹینیم اور پروٹوایکٹینیم کی طرح یورینیم کی ایک کچ دھات پچ بلینڈ میں پائے جاتے ہیں)۔ اس نے غیر نامیاتی کیمیا (Inorganic Chemistry) میں نئے سرے سے دلچسپی کی تحریک پیدا کی جو ابھی بھی مختصر وقفہ حیات والے مصنوعی طریقے سے پیدا کیے جانے والے عناصر کے تیار کرنے میں جاری ہے۔ 

آپ کو یاد ہوگا کہ ایٹمی عدد نیوکلیائی چارج (یعنی پروٹان کی تعداد) کے برابر ہوتا ہے یا پھر برقی لحاظ سے تعدیل ایٹم کے الیکٹرانوں کی تعداد کے برابر ہوتا ہے اس طرح عناصر کی دوریت میں کوانٹم نمبر اور الیکٹرانی تشکل کی اہمیت کا تصور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ درحقیقت اب یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ دوری کلیہ الیکٹرانی تشکل میں دوری تبدیلیوں کا لازمی نتیجہ ہے جو دراصل عناصر اور ان کے مرکبات کی طبعی اور کیمیائی خاصیتوں کا تعین کرتا ہے۔ 

وقتاً فوقتاً دوری جدول کی کئی شکلیں وجود میں آئیں کچھ شکلوں نے کیمیائی تعامل اور گرفت پر زور دیا جبکہ کچھ دوسری شکلوں نے عناصر کے الیکٹرانی تشکل پر زور دیا۔ ایک جدید شکل جو عناصر کے دوری جدول کی لمبی شکل کہلاتی ہے (شکل 3.2) بہت آسان اور زیادہ استعمال کی جانے والی شکل ہے۔ افقی قطاریں (جنھیں مینڈلیف نے سلسلہ کہا تھا) دور (Period) کہلاتی ہیں اور عمودی کالم گروپ کہلاتے ہیں۔ وہ عناصر جن کے باہری الیکٹرانی تشکل یکساں ہوتے ہیں انہیں عمودی کالم میں رکھا گیا ہے جنھیں گروپ یا خاندان کہا جاتا ہے انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائڈ کیمسٹری (IUPAC) کی سفارشات کے مطابق گروپوں کو 1 سے 18 تک نمبر دیئے گئے ہیں جس سے گروپوں کی پرانی شناخت 

VII A..............IA، VIII, VII B.........IB اور O ختم ہو گئی۔ 

اس میں کل ملا کر سات پیریڈ ہیں۔ دوری عدد اس دور کے عناصر کے اعلیٰ ترین پرنسپل کوانٹم نمبر (n) کے مطابق ہوتا ہے۔ پہلے دور میں 2 عناصر ہیں۔ اس کے بعد کے ادوار میں بالترتیب 8، 8، 18، اور 32 عناصر ہوتے ہیں۔ ساتواں دور نامکمل ہے اور چھٹے دور کی طرح اس میں بھی نظریاتی طور پر (کوانٹم نمبر کی بنیاد پر) 32 عناصر ہوں گے۔ دوری جدول کی اس شکل میں چھٹے اور ساتویں دور کے 14 عناصر (بالترتیب لینتھائڈ اور ایکٹینائڈ) علاحدہ قطاروں میں سب سے نیچے رکھے گئے ہیں۔*

* 20 ویں صدی کے وسط میں گلن ٹی۔ سیبرگ کا کام 1940 میں پلوٹونیم کی دریافت سے شروع ہوا، اس کے بعد 94 سے 104 تک تمام ورائے یورنیم عناصر کی دریافت نے دوری جدول کی دوبارہ تشکیل کی جس میں ایکٹینائڈ کو لینتھنائڈ کے نیچے رکھا گیا۔ 1951 میں سیبرگ کو علم کیمیامیں اپنے کام کے لیے نوبل انعام دیا گیا۔ عنصر 106 کو ان کے اعزاز میں سیبورگیم (Sg) کا نام دیا گیا۔ 

303

3.4 100 سے بڑے ایٹمی اعداد والے عناصر کا نظام تسمیہ

(Nomenclature of Elements With Atomic Numbers > 100)

پہلے نئے عناصر کے نام رکھنے کی ذمے داری روایتی طور پر ان کے دریافت کرنے والے (یا والوں) پر چھوڑ دی جاتی جاتی تھی اور تجویز کیے گئے نام کی تصدیق IUPAC کرتی تھی۔ حالیہ برسوں میں اس سے کچھ تنازعے پیدا ہوئے ہیں۔ بہت زیادہ ایٹمی اعداد والے نئے عناصر اتنے غیر مستقل ہوتے ہیں کہ ان کی بہت کم مقدار یا پھر کبھی کبھی چند ایٹم ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ان کی تالیف اور وصف نگاری کے لیے نہایت مخصوص اور قیمتی آلات نیز تجربہ گاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح کا کام دنیا کی صرف چند ہی تجربہ گاہوں میں مقابلہ جاتی جوش کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی سائنسداں نئے عنصر سے متعلق معتبر اعداد و شمار جمع کرنے سے پہلے ہی اپنی دریافت پر حق جتانے کے لیے جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی اور روسی دونوں سائنسدانوں نے عنصر 104 کی دریافت کے لیے شہرت کا دلی مطالبہ کیا۔ امریکیوں نے اسے روتھر فورڈیم (Rutherfordium)کا نام دیا جبکہ روسیوں نے کرچاٹوویم (Kurchatovium) کا نام دیا۔ اس طرح کے تنازعے سے بچنے کے لیے IUPAC نے تجویز رکھی کہ جب تک کہ نئے عنصر کی دریافت ثابت نہیں ہو جاتی اور اس کے نام کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ایک نظام بنایا جائے جو براہ راست عنصر کے ایٹمی عدد سے نکالا جائے جس میں 0 اور 1-9 تک کے اعداد کے لیے اعدادی اساس کا استعمال کیا جائے۔ یہ جدول 3.4 میں دکھائے گئے ہیں۔ اساس (Root) اکھٹا کرکے ہندسوں کی ترتیب میں دیے گئے ہیں جو ایٹمی عدد کو پورا کرتی ہیں اور آخر میں اییم (IUM) کا اضـافہ کیا گیا ہے 100 سے زیادہ ایٹمی عدد (Z) والے عناصر کے IUPAC نام جدول 3.5 میں دکھائے گئے ہیں۔

جدول 3.4 عناصر کے IUPAC تسمیہ کے لیے اظہار

مخفف
 (Abbreviation)
نام
 (Name)
ہندسہ 
(Digit)
n
u
b
t
q
p
h
s
o
e
nil
un
bi
tri
quard
pent
hex
sept
oct
enn
0
1
2
3
4
5
6
7
8
9


جدول 3.5 100 سے زیادہ ایٹمی عدد والے عناصر کا تسمیہ

علامتIUPAC
(IUPAC Symbol)
نام IUPAC
(IUPAC Offical Name)
علامت
(Symbol)
نام
(Name)
ایٹمی عدد
(Atomic Number)
Md
No
Lr
Rf
Db
Sg
Bh
Hs
Mt
Ds
Rg
Cn
Nh
f1
MC
Lv
Ts
Og
Mendelevium
Nobelium
Lawrencium
Rutherfordium
Dubnium
Seaborgium
Bohrium
Hassnium
Meitnerium
Darmstadtium
Rontgenium*
Copernicium
Nihonium
Flerovium
Moscovium
Livermorium
Tennessine
Oganesson
Unu
Unb
Unt
Unq
Unp
Unh
Uns
Uno
Une
Uun
Uuu
Uub
Uut
Uuq
Uup
Uuh
Uns
Uuo
Unnilunium
Unnibium
Uniltrium
Unnilquadium
Unnilpentium
Unnilhexium
Unnilseptium
Unniloctium
Unnilennium
Unnnillium
Unununnium
Ununbium
Ununtrium
Ununquadium
Ununpentium
Ununhexium
Ununseptium
Ununoctium
101
102
103
104
105
106
107
108
109
111
112
113
114
115
116
117
118

اس طرح نئے عنصر کو پہلے ایک عارضی نام ملے گا جس کی علامت میں تین حروف ہوں گے۔ بعد میں ہر ملک سے IUPAC کے نمائندوں کے ووٹ کے ذریعہ اسے مستقل نام اور علامت دی جائے گی۔ مستقل نام میں ملک (یا ملک کی ریاست) کے نام اظہار ہوسکتا ہے جہاں اس کی دریافت ہوئی یا کسی نامور سائنسداں کے لیے خراج عقیدت ہوسکتا ہے۔ اب تک 118، ایٹمی عدد والے عناصر دریافت ہو چکے ہیں اور IUPAC کے ذریعے تمام عناصر کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ 

مسئلہ 3.1

اس عنصر کا IUPAC نام اور علامت کیا ہوگی جس کا ایٹمی عدد 120 ہے؟

حل:

جدول 3.4 سے 1، 2 اور 0 کے لیے روٹ بالترتیب bi، un اور nil ہیں۔ لہٰذا علامت اور نام بالترتیب Ubn اور (Unbinilium) ہوگا۔

3.5 عناصر کا الیکٹرانی تشکل اور دوری جدول

(Electronic Configuration of Elements and the Periodic Table)

اس سے پہلے باب میں ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ایٹم میں موجود الیکٹران کو چار کوانٹم اعداد کے سیٹ سے مخصوص کیا جاتا ہے، اور پرنسپل کوانٹم نمبر('n') اصل توانائی سطح کو بیان کرتا ہے۔ جسے شیل کہتے ہیں۔ ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ ایٹم میں الیکٹران مختلف ذیلی شیل جنھیں اربٹل (Orbital) (f، d، p، s) بھی کہتے ہیں، کو بھرنا شروع کرتے ہیں۔ اربٹل میں کسی ایٹم کے الیکٹرانوں کی تقسیم الیکٹرانی تشکل کہلاتی ہے۔ دوری جدول میں کسی عنصر کا مقام آخری بھرے ہوئے اربٹل کے کوانٹم نمبر کو ظاہر کرتا ہے۔ اس حصے میں ہم عناصر کے الیکٹرانی تشکل اور دوری جدول کی لمبی شکل کے درمیان براہ راست تعلق کا مطالعہ کریں گے۔ 

(a) ادوار میں الیکٹرانی تشکل (Electronic Configration in Periods)

دور سب سے باہری یا گرفت خول کے لیے n کی قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں دوری جدول میں بعد میں آنے والا ہر ایک دور اگلی پرنسپل توانائی سطح (n = 1, n = 2)کو بھرنے سے وابستہ ہے۔ یہ آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ ہر ایک دور میں عناصر کی تعداد بھری جانے والی توانائی کی سطح میں دستیاب اربٹل کی تعداد کے دو گنے کے برابر ہے۔ پہلا دور (n = 1) سب سے نچلی سطح (-1s) کے بھرنے سے شروع ہوتا ہے لہٰذا اس میں دو عناصر ہائڈروجن(1S1)اور ہیلیم (1S2)ہوتے ہیں جب پہلا خول (K) مکمل ہو جاتا ہے دوسرا خول (n = 2) لیتھیم سے شروع ہوتا ہے اور تیسرا الیکٹران 2s اربٹل میں داخل ہوتا ہے۔ اگلے عنصر بیریلیم میں 4 الیکٹران ہیں اور الیکٹرانی تشکل (1S22p2)ہے۔ اگلے عنصر بورون سے شروع ہو کر 2p اربٹل بھرنے شروع ہوتے ہیں جب L خول نی آن پر مکمل ہوتا ہے (1S22p6)۔ لہٰذا دوسرے دور میں 8 عنصر ہوتے ہیں۔ تیسرا دور (n = 3) سوڈیم سے شروع ہوتا ہے اور آنے والا الیکٹران 3s اربٹل میں داخل ہوتا ہے۔ 3s اور 3p اربٹل کی بھرائی سوڈیم سے آرگن تک 8 عناصر کے تیسرے دور کو جنم دیتی ہے۔ چوتھا دور (n = 4) پوٹاشیم سے شروع ہوتا ہے اور اگلے الیکٹران 4s اربٹل بھر دیتے ہیں۔ اب آپ نوٹ کرسکتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ 4p اربٹل بھرا جائے 3d اربٹل کا بھرنا توانائی کے موافق ہوتا ہے اور ہمارا واسطہ 3d عبوری سلسلہ کہلائے جانے والے عناصر سے ہوتا ہے۔ یہ اسکینڈیم (Z = 21) سے شروع ہوتا ہے جس کا الیکٹرانی تشکل (3d14s2) ہوتا ہے 3-d اربٹل زنک (Z = 30) پر بھر جاتے ہیں جس کا الیکٹرانی تشکل  (3d104s2) ہوتا ہے۔ چوتھا دور کرپٹان پر ختم ہوتا ہے جب 4p اربٹل بھر جاتے ہیں کل ملا کر چوتھے دور میں ہمارے پاس 18 عناصر ہوتے ہیں۔ پانچواں دور (n = 5) روبیڈیم سے شروع ہوتا ہے جو چوتھے دور کی طرح ہی ہوتا ہے جس میں 4-d۔ عبوری سلسلہ ہوتا ہے جو ایٹریم (Z = 39) سے شروع ہوتا ہے۔ یہ دور 5p اربٹل کی بھرائی کے ساتھ زینان پر ختم ہوتا ہے۔ چھٹے دور (n = 6) میں 32 عناصر ہیں اور ایک کے بعد ایک الیکٹران بالترتیب 6p، 5d، 6s اربٹل میں داخل ہوتے ہیں۔ 4f اربٹل کی بھرائی سیریم (Z = 58) سے شروع ہوتی ہے اور لیوٹیٹیم (Z = 71) پر ختم ہوتی ہے جو ہمیں 4f اندرونی عبوری سلسلہ دیتی ہے جسے لینتھنائڈ سلسلہ کہتے ہیں۔ ساتواں دور (n =7) چھٹے دور کی طرح ہی ہوتا ہے جس میں متواتر 6d، 5f، 7s، اور 7p، اربٹل کا بھراؤ ہوتا ہے اور اس میں زیادہ تر انسانوں کے بنائے ہوئے تابکار عناصر ہیں۔ یہ دور ایٹمی عدد 118 والے عنصر پر ختم ہوگاجس کا تعلق نوبل گیس والے خاندان سے ہوگا۔ ایکٹینیم (Z = 89) کے بعد 5f اربٹل کا بھرنا 5f اندرونی عبوری سلسلہ دیتا ہے جو کہ ایکٹینائڈ سلسلہ کہلاتا ہے۔ دوری جدول میں 4f اور 5f اندرونی عبوری سلسلے کے عناصر کو جدول کی ساخت بنائے رکھنے اور ایک جیسی خاصیت رکھنے کے حامل عناصر کو ایک کالم میں رکھنے کے درجہ بندی کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے جدول میں علیحدہ رکھا گیا ہے۔ 

مسئلہ 3.2

دوری جدول کے پانچویں دور میں 18 عناصر کی موجودگی کو آپ کس طرح صحیح ثا بت کریں گے؟

حل:

جب n = 5 ہے تو l = 0, 2, 3 ہوگا۔ وہ ترتیب جس میں دستیاب اربٹل 5s، 4d اور 5p کی توانائی بڑھتی ہے وہ 5s < 4d < 5p ہے۔ کل دستیاب اربٹل کی تعداد 9 ہے۔ الیکٹرانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد جس کی گنجائش ہوسکتی ہے وہ 18 ہے: لہٰذا 5 ویں دور میں 18 عناصر ہیں۔

(b) گروپ کے لحاظ سے الیکٹرانی تشکل (Groupwise Electronic Configuration) 

ایک ہی عمودی کالم یا گروپ میں سب سے باہری خول کا الیکٹرانی تشکل یکساں ہوگا، باہری اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد برابر ہوگی اور یکساں خصوصیات ہوں گی۔ مثال کے طور پر گروپ 1 کے سب عناصر (قلوی دھاتیں) میں ns1 الیکٹرانی تشکل ہوگا جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔ 

لہٰذا یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کسی عنصر کی خاصیتوں کا دوری انحصار اس کے ایٹمی عدد پر ہوتا ہے نہ کہ اس کی نسبتی ایٹمی کمیت پر۔

3.6  الیکٹرانی تشکل اور عناصر کی قسمیںs-، p-، d-،- f، بلاک

(Electronic Configration and Types of Elements s-, p-, d-, f-, Blocks)

آف باؤ (تعمیر کا) کا اصول اور ایٹموں کا الیکٹرانی تشکل دوری درجہ بندی کے لیے ایک نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ دوری جدول کی عمودی قطار میں عناصر ایک گروپ یا حاندان بناتے ہیں اور ایک جیسے کیمیائی طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ یکسانیت اس وجہ سے ہے کہ ان کے سب سے باہری اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد اور تقسیم ایک جیسی ہے۔ عناصر کو ہم 4 بلاک میں درجہ بند کرتے ہیں۔ -sبلاک -pبلاک -dبلاک اور -fبلاک اس کا انحصار ایٹمی اربٹل کی قسم پر ہوتا ہے جس میں الیکٹران بھرے جاتے ہیں۔ یہ شکل 3.3 میں دکھائی گئی ہیں۔ اس درجہ بندی میں ہم دو استثنیٰ دیکھتے ہیں۔ صحیح معنوں میں ہیلم کا تعلق -s بلاک سے ہے لیکن اس کا مقام -p بلاک کے دوسرے گروپ 18 کے عناصر کے ساتھ ہونے کا جوازیہ ہے کہ یہ گرفت خول (Valance Shell) کو مکمل طور پر(1s2)ھر چکا ہے اور نتیجہ کے طور پر نوبل گیسوں کی خاصیتوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ دوسرا استثنیٰ ہائڈروجن ہے۔ اس کے پاس واحد -s الیکٹران ہے لہٰذا اسے گروپ I(قلوی دھاتوں) کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔ یہ 1 الیکٹران حاصل کرکے نوبل گیس کا تشکل حاصل کرسکتی ہے اور اس طرح یہ گروپ 17 (ہیلوجن) کے عناصر کی طرح برتاؤ کرسکتی ہے۔ چونکہ یہ ایک خاص صورت حال ہے لہٰذا ہم اسے دوری جدول میں سب سے الگ اور سب سے اوپر رکھتے ہیں جیسا کہ شکل 3.2 اور 3.3 میں دکھایا گیا ہے ہم دوری جدول میں نشاندہ چار قسم کے عناصر کی نمایاں کیفیت کے بارے میں مختصر طور پر بحث کریں گے ان عناصر کے بارے میں تفصیلی بحث بعد میں ہوگی۔ ان کی خصوصیات کے بیان میں کچھ اصطلاحات کا استعمال کیا گیا ہے جن کو سیکشن 3.7 میں درجہ بند کیا گیا ہے۔

 

ایٹمی عدد علامت الیکٹرانی تشکل
3
11
19
37
55
87
Li
Na
K
Rb
Cs
Fr
1s22s1  (He)2s1
1s22s22p63s1  (Ne)3s1
1s22s22p63s23p64s1 (Ar)4s1
1s22s22p63s23p63d104s24p65s1  (Kr)5s1
1s22s22p63s23p63d104d24p64d105d25p66s1 (Xe)6s1
(Rn)7s1

3.6.1 -sبلاک عناصر (s-Block Elements) 

گروپ I (قلوی دھاتیں) اور گروپ II (قلوی مٹی دھاتیں) کے عناصر جن کے سب سے باہری الیکٹرانی تشکل ns1 اورns2 ہیں s- بلاک عناصر سے تعلق رکھتے ہیں یہ تمام تعاملی دھاتیں ہیں جن کی آیونائزیشن اینتھالپی (Iionization Enthalpies) کم ہوتی ہے۔ یہ سب سے باہر کا (کے) الیکٹران آسانی سے نکال دیتے ہیں اور +1 (قلوی دھاتوں میں) اور +2 (قلوی مٹی دھاتوں میں) آین بناتے ہیں گروپ میں ہم جیسے جیسے نیچے کی سمت چلتے ہیں تو دھاتی تعاملیت بڑھتی جاتی ہے۔ s- بلاک کے عناصر کے مرکبات سوائے لیتھیم اور بیریلیم کے زیادہ تر آینی ہوتے ہیں۔ 

3.6.2 -p بلاک عناصر (-p Block Element)

-pبلاک کے عناصر گروپ 13 سے لے کر 18 تک کے عناصر پر مشتمل ہے اور s- بلاک عناصر کے ساتھ مل کر نمائندہ عناصر یا اصل گروپ عناصر کہلاتے ہیں۔ ہر ایک دور میں بیرونی الیکٹرانی تشکل ns2np1 سے ns2np6 تک بدلتا ہے۔ ہردور کا اختتام نوبل گیس عنصر پر ہوتا ہے جس کا مکمل خول  ns2np5 تشکل پر ختم ہوتا ہے۔ نوبل گیس کے گرفت خول کے تمام اربٹل مکمل طور پر الیکٹرانوں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ بہت مشکل ہے کہ اس مستحکم نظام کو الیکٹرانوں کے اضافے یا اخراج سے تبدیل کیا جاسکے۔ اسی لیے نوبل گیسیں بہت کم درجے کے تعامل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ نوبل گیسوں کے گروپ سے پہلے غیر دھاتوں کے کیمیائی اعتبار سے اہم دو گروپ ہیں۔ یہ ہیلوجن گروپ (گروپ 17) اور چالکوجین (Chalcogens) گروپ (گروپ 16) ہیں۔ ان دونوں گروپوں کے عناصر بہت اونچے درجہ کی منفی الیکٹران گین اینتھالپی رکھتے ہیں اور اور مستحکم والی نوبل گیس کا تشکل اختیار کرنے کے لیے آسانی کے ساتھ ایک یا دو الیکٹرانوں کا اضافہ کرلیتے ہیں۔ ایک دور میں بائیں سے دائیں سمت چلنے پر غیر دھاتی خاصیت میں اضافہ ہوتا ہے اور گروپ میں اوپر سے نیچے کی سمت دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

3.6.3- dبلاک عناصر (عبوری عناصر ) 

(The d-Block Elements:Transition Elements)

یہ دوری جدول کے درمیانی گروپ 3 سے گروپ 12 تک کے عناصر ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں الیکٹران اندرونی -dاربٹل میں بھرے جاتے ہیں اسی لیے انہیں -d بلاک عناصر کہا جاتا ہے۔ ان عناصر کی باہری الیکٹرانی تشکل  305 ہوتی ہے۔ یہ تمام عناصر دھاتیں ہیں۔ یہ عام طور پر رنگین آین بناتے ہیں اور تغیر پذیر گرفت (تکسیدی حالت) مقناطیس پسند خصوصیت کا اظہار کرتے ہیں اور اکثر وسیط (Catalyst) کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن Ca، Zn اور Hg جن کا الیکٹرانی تشکل 306  ہوتا ہے وہ عبوری عناصر کی زیادہ تر خصوصیات کو نہیں دکھاتے ہیں۔ ایک طریقے سے عبوری دھاتیں -sبلاک کے کیمیائی متعامل عناصر اور گروپ 13 اور 14 کی کم متعامل دھاتوں کے درمیان ایک پل بناتی ہیں اسی لیے ان کا نام ’’عبوری عناصر‘‘ پڑ گیا۔ 

3.6.4 -f  بلاک عناصر (اندرونی عبوری عناصر)  (The f- Block Elements (Inner-Transition Elements) 

دوری جدول کے سب سے نیچے عناصر کی جو لینتھائڈ Cs (Z = 58) سے (Lu (Z = 71 تک اور ایکٹینائڈ (Th (Z = 90 سے (Lr (Z = 103 تک کہلاتی ہیں ان کا باہری الیکٹرانی تشکل 307  ہوتا ہے۔ ہر عنصر میں جڑنے والا آخری الیکٹران -fاربٹل کو بھرتا ہے۔ اسی لیے عناصر کے یہ دونوں سلسلے اندرونی عبوری عناصر (-fبلاک عناصر) کہلاتے ہیں۔ یہ سب دھاتیں ہیں۔ ہر سلسلے کے اندر عناصر کی خصوصیات تقریباً یکساں ہوتی ہیں۔ ایکٹینائڈ سلسلے کے ابتدائی عناصر کی خصوصیات لینتھینائڈ سلسلے کے ابتدائی عناصر کے مقابلے میں کافی پیچیدہ ہوتی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ایکٹینائڈ عناصر میں بڑی تعداد میں تکسیدی حالتیں ممکن ہیں۔ ایکٹینائڈ عناصر تابکار ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ایکٹینائڈ عناصر نیوکلیائی تعاملات کے ذریعے صرف نیوگرام یا اس سے بھی کم مقدار میں تیار کیے جاتے ہیں نیزان کا کیمیائی مطالعہ بھی ممکن طور پر نہیں کیا گیا۔ جو عناصر یورنیم کے بعد آتے ہیں وہ ورائے یورنیم عناصر (ٹرانس یورنیم عناصر) کہلاتے ہیں۔ 

308
مسئلہ 3.3

عناصرZ = 117 اور Z - 120 ابھی دریافت نہیں ہوئے ہیں۔ آپ انہیں کس گروپ میں رکھیں گے نیزان میں سے ہر ایک کی الیکٹرانی تشکل بھی لکھیے۔

حل:

شکل 3.2 سے ہم دیکھتے ہیں کہ Z = 117 ہیلوجن خاندان (گروپ 17) سے تعلق رکھے گا۔ اس کا الیکٹرانی تشکل309  ہوگا۔ عنصر Z = 120 گروپ 2 (قلوی مٹی دھاتوں) میں رکھا جائے گا۔ اور اس کا الیکٹرانی تشکل310ہوگا۔ 

3.6.5 دھات، غیر دھات اور دھتونت

(Metals, Non-metals and Metalloids)

عناصر کی -d، -p، -s اور -f بلاک میں درجہ بندی کے علاوہ شکل 3.3 ان ہی پر منحصر ایک اور وسیع درجہ بندی کو ظاہر کرتی ہے ۔ ان عناصر کو دھات (Metals) اور غیر دھات (Non Metals) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ دھاتیں تمام معلوم عناصر کا %78 حصہ بناتی ہیں اور دوری جدول میں بائیں سمت لکھی جاتی ہیں۔ دھاتیں عام طور پر کمرہ کے درجہ حرارت پر ٹھوس ہوتی ہیں پارہ ایک استثنیٰ ہے: گیلیم اور سیزیم کا درجہ حرارت بھی بھی بہت کم ہوتا ہے۔ (بالترتیب 303Kاور 302K)۔ دھاتوں کا نقطہ جوش اور نقطہ گداخت عام طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ یہ حرارت اور برق کے اچھے موصل ہوتے ہیں۔ یہ ورق پذیر (کوٹ کرچادر بنائی جاسکتی ہے) اور تار پذیر (کھینچ کرتار بنائے جاسکتے)۔ ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں غیردھاتیں دوری جدول میں اوپر دائیں سمت ہوتی ہیں جن کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش کم ہوتے ہیں (بورون اور کاربن استثنیٰ ہیں۔ یہ حرارت اور برق کی خراب موصل ہوتی ہیں۔ زیادہ ترغیر دھات بھربھرے ٹھوس ہوتے ہیں اور یہ نہ تو ورق پذیر ہوتے ہیں اور نہ ہی تار پذیر۔ جیسے جیسے ہم کسی گروپ میں نیچے کی سمت جاتے ہیں یہ زیادہ دھاتی ہوتے جاتے ہیں اور جیسے جیسے ہم دوری جدول میں بائیں سے دائیں سمت جاتے ہیں غیر دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ دھات سے غیر دھات میں یہ تبدیلی اچانک ہی نہیں ہوتی جیسا کہ شکل 3.3 میں ایک موٹی ترچھی لکیر سے  دکھایا گیا ہے۔ وہ عناصر (مثال کے طور پر سلیکان جرمینیم آرسنیک اینٹی منی اور ٹیلوریم) جو اس لائن کے کنارے ہیں اور دوری جدول میں وتر کی شکل میں دکھائی دے رہے ہیں ایسی خصوصیات دکھاتے ہیں جن کا اظہار دھات اور غیر دھات دونوں کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کو نیم دھات یا دھتونت (Metalloids) کہتے ہیں۔ 

مسئلہ 3.4 

مندرجہ ذیل عناصر کے ایٹمی عدد اور دوری جدول میں مقام کو دیکھتے ہوئے ان کی دھاتی خصوصیت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھیے۔ P، Na، Mg، Be، Si۔

حل:

جب گروپ میں اوپر سے نیچے کی سمت آتے ہیں تو دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہوتا ہے اور جب بائیں سے دائیں طرف جاتے ہیں تو دھاتی خصوصیت میں کمی آتی ہے۔ لہٰذا دھاتی خصوصیت کی بڑھتی ہوئی ترتیب کا نظم اس طرح ہےP < Si < Be < Mg < Na.

3.7 عناصر کی خصوصیات میں دوری رجحان

(Periodic Trends in Properties of Elements)

جب دوری جدول کے گروپ میں اوپر سے نیچے اور دور کے آر پار جاتے ہیں تو عناصر کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات میں باقاعدہ نظم دیکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک دور میں گروپ 1 میں دھاتوں میں تعاملیت بہت زیادہ ہوتی ہے درمیانی دھاتوں میں کم ہو جاتی ہے اور گروپ 17 کی غیر دھاتوں میں بڑھتی ہوئی سب سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح نمائندہ دھاتوں (مثلاً قلوی دھاتوں)کے ایک ہی گروپ میں اوپر سے نیچے کی سمت جاتے ہوئے تعاملیت بڑھتی ہے جبکہ غیر دھاتوں (مثلاً ہیلوجن) کے گروپ میں اوپر سے نیچے کی سمت تعاملیت گھٹتی ہے۔ لیکن عناصر کی خاصیتیں اس رجحان پر کیوں چلتی ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں ایٹمی ساخت کے نظریات اور ایٹم کی خصوصیات کا مطالعہ کرنا ہوگا اس حصہ میں ہم چند طبیعی اور کیمیائی خواص کے دوری رجحان پر بحث کریں گے انہیں الیکٹران کی تعداد اور توانائی کی سطح کی اصطلاحات میں واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ 

3.7.1  طبعی خصوصیات میں رجحان

(Trends in Physical Properties)

عناصر کی متعدد طبعی خصوصیات ہوتی ہیں۔جیسے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش، گداخت اور تبخیر کی حرارت، ایٹمی تحلیل کی توانائی وغیرہ جو دوری تبدیلیاں دکھاتی ہیں۔ بحرحال ہم ایٹمی اور آینی نصف قطر، آیونائزیشن اینتھالپی، الیکٹران گین اینتھالپی اور برقی منفیت کے حوالے سے دوری رجحان پر بحث کریں گے۔

(a)  ایٹمی نصف قطر (Atomic Radius) 

آپ بہت اچھی طرح تصور کرسکتے ہیں کہ ایک گیند کے نصف قطر کی پیمائش کے مقابلے میں ایک ایٹم کا نصف قطر معلوم کرنا بہت زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ آپ جانتے ہیں کیوں؟ پہلے تو یہ کہ ایٹم کا سائز (°1.2A~ یعنی 311  کا نصف قطر) بہت چھوٹا ہوتا ہے دوسرے یہ کہ الیکٹران کا بادل جو ایٹم کو گھیرے رہتا ہے اس کی حدود واضح نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ایٹم کا سائز پوری درستگی سے نہیں معلوم کیا جاسکتا۔ دوسرے الفاظ میں ایسا کوئی عملی طریقہ نہیں ہے جس سے کہ کسی منفرد ایٹم کا سائز معلوم کیا جاسکے۔ تاہم متحدہ حالت میں ایٹموں کے درمیان کا فاصلہ معلوم ہونے سے ایٹمی سائز کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کسی غیر دھاتی عنصر کے ایٹم کے سائز کا اندازہ کرنے کا ایک عملی طریقہ یہ ہے کہ شریک گرفت سالمے میں جب وہ اکہری بندش سے جڑے ہوں، دو ایٹموں کے درمیان کا فاصلہ ناپا جائے اور پھر اس سے عنصر کا شریک گرفت نصف قطر (Covalent Radius) معلوم کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کلورین سالمے (C12)میں بندشی فاصلہ 198 پیکو میٹر (pm) ہے اور اس فاصلے کے نصف (99pm) کو کلورین کا نصف قطر مانا جاتا ہے۔ دھاتوں کے لیے ہم اس اصطلاح کو دھاتی نصف قطر فاصلہ کہتے ہیں اس کو ہم دھاتی کرسٹل میں دھات کے آینوں کو الگ کرنے والی بین نیوکلیائی فاصلہ (Inter Nuclear Distance) کا نصف لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹھوس تانبے کے متصل ایٹموں کے درمیان کا فاصلہ 256 پیکومیٹر ہے اس لیے تانبہ کے ایٹم کے دھاتی نصف قطر کی قدر 128 پیکومیٹر لی گئی ہے۔ آسانی کے لیے ہم اس کتاب میں گرفت یا دھاتی نصف قطر دونوں کے لیے ایٹمی نصف قطر (Atomic Radius) کی اصطلاح استعمال کریں گے، اس پر انحصار کرتے ہوئے کہ عنصر غیر دھات ہے یا دھات۔ ایٹمی نصف قطر X۔ شعاعوں یا دوسرے اسپیکٹر واسکوپک طریقوں سے ناپے جاتے ہیں جدول 3.6 میں کچھ عناصر کے نصف قطر دیئے گئے ہیں۔ دو رجحانات بہت واضح ہیں ان رجحانات کو ہم نیوکلیائی چارج اور انرجی لیول کی اصطلاحات کے حوالے سے واضح کرسکتے ہیں۔ ایٹمی سائز عام طور پر ایک دور میں بائیں سے دائیں گھٹتا ہے جیسا کہ شکلa) 3.4) میں دوسرے دور کے عناصر کے لیے دکھایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دور میں باہری الیکٹران ایک ہی گرفت خول میں ہوتے ہیں اور جیسے جیسے ایٹمی عدد بڑھتا ہے ویسے ویسے موثر نیوکلیائی چارج بڑھتا ہے جس کے سبب الیکٹران اور نیوکلیس کے درمیان کشش بڑھتی ہے۔ دوری جدول کے ایک ہی خاندان یا عمودی کالم میں ایٹمی عدد کے ساتھ ایٹمی نصف قطر بتدریج بڑھتا ہے جیسا کہ شکل b)  3.4) میں دکھایا گیا ہے۔ قلوی دھاتوں اور ہیلو جن کے لیے جیسے جیسے ہم گروپ میں نیچے کی سمت چلتے ہیں پرنسپل کوانٹم نمبر (n) بڑھتا ہے اور گرفت الیکٹران نیوکلیس سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اندرونی انرجی لیول الیکٹران سے بھر جاتی ہیں جو باہری الیکٹران کو نیوکلیس کی کشش سے بچاتی ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ایٹم کا سائز بڑھتا ہے جیسا کہ ایٹمی نصف قطر سے ظاہر ہے۔

جدول 3.6 (a) ایٹمی نصف قطر / پیکومیٹر دور کے آر پار

F o N C B Be Li
ایٹم
(IIدور)
64 66 74 77 88 111 152 ایٹمی نصف قطر
C1 S o Si A1 Mg Na
ایٹم 
(IIIدور)
99 104 110 117 143 160 186 ایٹمی نصف قطر



جدول 3.6 (b) ایٹمی نصف قطر / پیکومیٹر گروپ میں نیچے کی سمت


ایٹم
 (I گروپ )
ایٹمی
نصف قطرہ
ایٹم
(گروپ 17)
ایٹمی
نصف قطرہ
64 F 152 Li
99 C1 186 Na
114 Br 231 K
133 I 244 Rb
140 At 262 Cs

نوٹ کیجیے کہ یہاں نوبل گیسوں کے ایٹمی نصف قطر پر غور نہیں کیا گیا ہے۔ یک ایٹمی ہونے کی وجہ سے ان کی (غیر بندشی نصف قطر) قدریں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ در اصل نوبل گیسوں کے نصف قطر کا موازنہ دیگر عناصر کے شریک گرفت نصف قطر سے نہیں بلکہ وانڈر وال نصف قطر سے کرنا چاہیے۔ 

(b) آینی نصف قطر (Ionic Radius) 

کسی ایٹم میں سے ایک الیکٹران نکالنے سے ایک کیٹ آین بنتا ہے جبکہ ایک الیکٹران کے داخل ہونے سے این آین بنتا ہے۔ کسی آینی قلم میں مثبت اور منفی آینوں کے درمیان فاصلے کی پیمائش کرکے آینی نصف قطر معلوم کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر عناصر کے آینی نصف قطر اسی رجحان کا مظاہرہ کرتے ہیں جن کا مظاہرہ ایٹمی نصف قطر کرتے ہیں۔ ایک مثبت آین اپنے متعلقہ ایٹم سے جسامت میں کم ہوتا ہے کیونکہ اس میں الیکٹرانوں کی تعداد میں کمی ہو جاتی ہے جبکہ مرکز میں نیوکلیائی چارج یکساں رہتا ہے۔ منفی آین کا سائز اپنے متعلقہ ایٹم سے جسامت میں نسبتاً بڑا ہوتا ہے کیونکہ اس میں ایک اور الیکٹران کا اضافہ ہوتا ہے جس سے الیکٹرانوں کے درمیان دفع (Repulsion) بڑھ جاتا ہے اور مؤثر نیوکلیائی جارج گھٹ جاتا ہے مثال کے طور پر فلورائڈ آئن (˜F) کا آینی نصف قطر 136 پیکومیٹر ہوتا ہے جبکہ فلورین کا ایٹمی نصف قطر صرف 72 پیکو میٹر ہی ہوتا ہے۔ دوسری طرف سوڈیم کا ایٹمی نصف قطر 186 پیکومیٹر ہوتا ہے اس کے مقابلے میں (+Na) کا آینی نصف قطر 95 پیکومیٹر ہوتا ہے۔ 

315

شکل 3.4(a)  دوسرے دور کے آر پار ایٹمی عدد کے ساتھ ایٹمی نصف قطر میں تغیر۔

316

شکلb3.4

قلوی دھاتوں اور ہیلوجنوں کے لیے ایٹمی عدد کے ساتھ ایٹمی نصف قطر میں تغیر۔

فٹ نوٹ:  آئیسو الیکٹرانک انواع : دو یا دو سے زیادہ انواع جن میں عناصر کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو لیکن ایٹموں اور گرفت الیکٹرانوں کی تعدادمساوی ہو اور ساخت بھی ایک سی ہو۔

جب ہمیں کچھ ایسے ایٹم اور آین ملتے ہیں جن کے الیکٹرانوں کی تعداد برابر ہوتی ہے تو ہم انہیں آئیسو الیکٹرانک انواع کہتے ہیں۔  مثال کے طور پر314 اور +Mg2 میں الیکٹرانوں کی تعداد برابر (10) ہوتی ہے ان کے نصف قطر مختلف ہوں گے کیونکہ ان کے چارج مختلف ہیں۔ مثبت آین میں زیادہ مثبت چارج ہونے کی وجہ سے نصف قطر نسبتاً چھوٹا ہوگا کیونکہ نیوکلیس کی سمت الیکٹرانوں کی کشش مقابلتاً زیادہ ہوگی۔ منفی آین کا نصف قطر زیادہ ہوگا کیونکہ اس میں زیادہ چارج ہے۔ اس صورت میں الیکٹرانوں کی مؤثر قوت دافعہ نیوکلیر چارج کو بے اثر کردے گی اور ایٹم کا سائز بڑھ جائے گا۔ 

مسئلہ 3.5 

مندرجہ ذیل انواع میں سے کس کا سائز سب سے بڑا اور کس کا سب سے چھوٹا ہوگا؟ 317  ۔

حل:

ایک دور کے آر پار ایٹمی نصف قطر گھٹتے ہیں۔ کیٹ آین اپنے متعلقہ ایٹم سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ آئسو الیکٹرانی آینوں میں جس کا مثبت نیوکلیائی چارج زیادہ ہوگا اس کا نصف قطر چھوٹا ہوگا۔ لہٰذا سب سے بڑی نوع Mg ہے اور سب سے چھوٹی +A13 کی ہوگی۔

(c) آیونائزیشن اینتھالپی (Ionization Enthalpy) 

کسی عنصر کے الیکٹران کو خارج کرنے کے رجحان کی مقداری پیمائش اس آینو نائزیشن اینتھالپی (Ionization Enthalpy) سے دی جاتی ہے۔ یہ کسی تنہا گیسی ایٹم (X) سے اس کیگراؤنڈ اسٹیٹ سے ایک الیکٹران ہٹانے کی مطلوب توانائی کا اظہار ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک عنصر (X) کے لیے پہلی آیونائزیشن اینتھالپی، مساوات 3.1 میں دکھائے گئے تعامل کے لیے مطلوب توانائی تبدیلی Δ,Hہے۔ 

318 (3.1)

آیونائزیشن اینتھالپی کلو جول فی مول 319 اکائی میں ظاہر کی جاتی ہے۔ ہم دوسری آیونائزیشن اینتھالپی کی تعریف بہت ڈھیلے ڈھالے بندھے ہوئے دوسرے الیکٹران کو ہٹانے کے لیے درکار توانائی کے طور پر کرسکتے ہیں۔ یہ توانائی مساوات 3.2 میں دکھائے گئے کیمیائی تعامل کے واقع ہونے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

320 (3.2)

کسی ایٹم سے الیکٹران نکالنے کے لیے ہمیشہ ہی توانائی درکار ہوتی ہے لہٰذا آیونائزیشن اینتھالپی ہمیشہ مثبت ہوتی ہیں۔ دوسری آیونائزیشن اینتھالپی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی سے زیادہ ہوگی کیونکہ مثبت چارج شدہ آین سے الیکٹران نکالنا ایک تعدیلی ایٹم سے ایک الیکٹران نکالنے کی بہ نسبت زیادہ مشکل ہوتا ہے اسی طرح تیسری آیونائزیشن اینتھالپی دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ہوگی اور اسی طرح آگے یہ سلسلہ چلے گا۔ اگر آیونائزیشن اینتھالپی کی نوعیت نہیں دی گئی ہے۔ (یعنی پہلی دوسری یا تیسری) تو اس سے مراد پہلی آیونائزیشن اینتھالپی ہی ہوتی ہے۔ 

321

شکل 3.5 عناصر 1 = Z سے 60 کے ایٹمی اعداد کے ساتھ پہلی آیونائزیشن اینتھالپی کا تغیر

شکل 3.5 میں 60 تک ایٹمی اعداد والے عناصر کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی کا گراف کھینچا گیا ہے۔ گراف کی دوریت قابل توجہ ہے۔ آپ اعظم (Maxima) نوبل گیسوں پر دیکھیں گے جن کے الیکٹران شیل بند ہیں اور جن کے الیکٹرانی تشکلات بہت مستحکم ہیں۔ دوسری طرف اقل (Minima) قلوی دھاتوں پر واقع ہوتے ہیں اور جن کی کم آیونائزیشن اینتھالپی کو ان کی اعلیٰ تعاملیت سے مربوط کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ دو رجحان اور دیکھیں گے کہ پہلی آیونائزیشن اینتھالپی عام طور پر اس وقت بڑھتی ہے جب ہم دور میں بائیں سے دائیں سمت حرکت کرتے ہیں اور گھٹتی ہے جب ہم کسی گروپ میں اوپر سے نیچے کی سمت حرکت کرتے ہیں۔ یہ رجحان شکل 3.6(a) اور 3.6(b) میں دوری جدول کے دوسرے دور اور پہلے گروپ کے عناصر کے لیے دکھایا گیا ہے۔ آپ اس بات کو سراہیں گے کہ آیونائزیشن اینتھالپی اور ایٹمی نصف قطر ایسی خصوصیات ہیں جن کا ایک دوسرے سے نزدیکی رشتہ ہے۔ ان رجحانات کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو باتوں کا خیال رکھنا ہوگا: (i) الیکٹرانوں کی نیوکلیس کی سمت کشش (ii) الیکٹرانوں کے درمیان ہٹاؤ (دفع) کی قوت۔ کسی ایٹم میں گرفت الیکٹران جس مؤثر نیوکلیائی چارج کو محسوس کرے گا وہ نیوکلیس پر اصل چارج سے کم ہوگا کیوں کہ نیوکلیس اور اس کے درمیان آنے والے خاص الیکٹران ’ڈھال‘ یا ’حجاب‘ کا کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لیتھیم کے 2s الیکٹران اور نیوکلیس کے درمیان 1s الیکٹران ڈھال بنے ہوئے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر گرفت الیکٹران نیٹ مثبت چارج محسوس کرے گا۔ جو کہ اصل چارج +3 سے کم ہوگا۔ عام طور پر جب اندرونی خول کے اربٹل مکمل طور پر بھرے ہوئے ہوتے ہیں تو شیلڈنگ مؤثر ہوتی ہے۔ یہ صورت حال قلوی دھاتوں کے ساتھ ہوتی ہے جس کے پاس ایک تنہا ns الیکٹران ہوتا ہے جس سے پہلے نوبل گیس الیکٹرانی تشکل ہوتا ہے۔ 322

شکل 3.6(a) : دوسرے دور کے عناصر کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی (Δ1 H) ایٹمی عدد (Z) کے تفاعل کے طور پر۔ شکل 3.6 (b) : قلوی دھاتوں کی (Δ1 H) ایٹمی عدد (Z) کے تفاعل کے طور پر۔

جب ہم دوسرے دور میں لیتھیم سے فلورین کی سمت چلتے ہیں تو ایک ہی پرنسپل کوانٹم سطح میں اربٹل میں ایک کے بعد ایک الیکٹران کا اضافہ ہوتا ہے اور نیوکلیائی چارج کے گرد اندرونی الیکٹرانوں کا حصہ اتنی ڈھال نہیں بنتا کہ نیوکلیس کی سمت الیکٹرانوں کی بڑھتی ہوئی کشش کا مقابلہ کرسکے۔لہٰذا کسی دور کے آر پار بڑھتا ہوا نیوکلیائی چارج ڈھال کو بے اثر کردیتا ہے۔ 

نتیجہ کے طور پر سب سے باہری الیکٹران زیادہ سے زیادہ مضبوطی سے روکے ہوئے ہوتے ہیں اور دور کے آر پار آینونائزیشن اینتھالپی بڑھتی ہے۔ جیسے جیسے ہم گروپ میں اوپر سے نیچے کی سمت جاتے ہیں سب سے باہر کے الیکٹران نیوکلیس سے لگاتار دور ہوتے جاتے ہیں اور اندرونی سطح کے الیکٹرانوں سے نیوکلیائی چارج کی ڈھال بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس صورت میں ڈھال میں بڑھوتری بڑھتے ہوئے نیوکلیائی چارج کو بے اثر کردیتی ہے اور باہری الیکٹران کو ہٹانے میں گروپ میں نیچے کی سمت کم توانائی درکار ہوتی ہے۔ 

شکل 3.6(a) سے آپ یہ بات نوٹ کریں گے کہ بورون (Z = 5) کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی، بیریلیم (Z = 4) کی آیونائزیشن اینتھالپی سے معمولی سی کم ہے جبکہ پہلے والے کا نیوکلیائی چارج زیادہ ہے۔ جب ہم ایک ہی پرنسپل کوانٹم لیول کولیں تو ایک -sالیکٹران ایک -pالیکٹران کے مقابلے میں نیوکلیس کی طرف زیادہ قوت سے کھنچتا ہے۔ بیریلیم میں آیونائزیشن کے دوران جو الیکٹران ہٹایا جاتا ہے وہ -sالیکٹران ہے جبکہ بورون میں آیونائزیشن کے دوران ہٹایا جانے والا الیکٹران -pالیکٹران ہے۔ نیوکلیس میں -2sالیکٹران کا نفوذ -2pالیکٹران کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے لہٰذا بیریلیم کے -2sالیکٹران کے مقابلے میں بورون کے -2pالیکٹران نیوکلیس کے اثر سے اندرونی الیکٹرانوں کے سبب زیادہ بچاؤ میں ہے۔ اس لیے بیریلیم کے -2sالیکٹران کو ہٹانے کے مقابلے میں بورون کا -2pالیکٹران ہٹانا زیادہ آسان ہے۔ لہٰذا بورون کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی بیریلیم کے مقابلے میں کم ہے۔ ایک دوسرا تضاد نائٹروجن کے مقابلے آکسیجن کی پہلی آیونائزیشن اینیتھالپی کا کم ہونا ہے۔ یہ تضاد اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ نائٹروجن کے ایٹم میں تین -2pالیکٹران الگ الگ اربٹل میں ہیں (ہنڈ کے ضابطہ کے مطابق) جبکہ آکسیجن ایٹم میں 4، -2pالیکٹرانوں میں سے 2 کو ایک ہی -2pمیں رہنا ہے اس کے نتیجہ میں الیکٹران دفع بڑھتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر آکسیجن سے -2pالیکٹران ہٹانا نائٹروجن کے تین -2pالیکٹرانوں میں سے ایک الیکٹران ہٹانے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتا ہے۔ 

مسئلہ 3.6 

تیسرے دور کے عناصر Mg، Na اور Si کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی بالترتیب 496، 737 اور 786 کلو جول فی مول ہے۔ اندازہ لگائیے کہ ایلومینیم (Al) کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی (Δ1 H) کس کے زیادہ قریب ہوگی 575 یا 760 کلو جول فی مول؟ اپنے جواب کے لیے جواز پیش کیجیے۔

حل:

یہ 575 کلو جول فی مول کے زیادہ قریب ہوگی۔ ایلومینیم کے لیے قیمت Mg سے کم ہونی چاہیے کیونکہ 3s- الیکٹران کے ذریعے نیوکلیس سے 3p- الیکٹرانوں کی ڈھال مؤثر ہے۔ 

(d) الیکٹران گین اینتھالپی (Electron Gain Enthalpy) 

جب کسی تعدیل شدہ گیسی ایٹم (X) کو منفی آین میں تبدیل کرنے کے لیے ایک الیکٹران دیا جاتا ہے تو اس عمل سے وابستہ اینتھالپی کی تبدیلی کو الیکٹران گین اینتھالپی 323 کہتے ہیں الیکٹران گین اینتھالپی اس آسانی کی پیمائش فراہم کرتی ہے جس سے ایک ایٹم ایک الیکٹران حاصل کرکے ایک این آین بناتا ہے جیسے کہ نیچے مساوات میں دکھایا گیا ہے۔ 

324 (3.3)

ایٹم کے ذریعے ایک الیکٹران کے حصول کا عمل حرارت زا (Exothermic) ہوگا یا حرارت خور(Endothermic)۔ اس کا انحصار اس عنصر پر ہوتا ہے جس میں الیکٹران داخل ہو رہا ہے۔ بعض عناصر میں ایٹم میں الیکٹران کا اضافہ ہونے پر توانائی خارج ہوتی ہے اور الیکٹران گین اینتھالپی منفی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر گروپ 17 کے عناصر (ہیلوجن) کی الیکٹران گین اینتھالپی بہت زیادہ منفی ہوتی ہیں کیونکہ وہ ایک الیکٹران حاصل کرکے نوبل گیس کا الیکٹرانی تشکل اختیار کرلیتے ہیں۔ دوسری طرف نوبل گیسوں کی الیکٹران گین اینتھالپی بہت زیادہ مثبت ہوتی ہیں کیونکہ الیکٹران اگلے پرنسپل کوانٹم سطح میں داخل ہوتا ہے جو ایک نہایت غیر مستحکم الیکٹرانی تشکل بناتا ہے۔ یہ نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ دوری جدول کے دائیں جانب اوپر کی طرف نوبل گیسوں سے پہلے الیکٹران گین اینتھالپی کی قیمت بہت زیادہ منفی ہوتی ہے۔ 

آیونائزیشن اینتھالپی کے مقابلے میں الیکٹران گین اینتھالپی کی تبدیلی میں کم باقاعدگی ہے۔ عموماً ایک دور میں ایٹمی عدد بڑھنے سے الیکٹران گین اینتھالپی زیادہ منفی ہوتی ہے۔ جب ہم دور میں بائیں سے دائیں کی سمت حرکت کرتے ہیں تو مؤثر مرکزی چارج بڑھتا ہے اور نتیجہ کے طور پر ایک چھوٹے ایٹم میں الیکٹران کا داخلہ آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اضافی الیکٹران اوسطاً مثبت چارج مرکزے کے زیادہ قریب ہوگا۔ جب ہم ایک گروپ میں نیچے کی طرف جاتے ہیں تو ہمیں الیکٹران گیس اینتھالپی کے کم منفی ہونے کی امید رکھنی چاہیے کیونکہ ایٹم کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے اور اضافہ شدہ الیکٹران نیوکلیس سے زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے۔ یہ ایک عام صورت حال ہے (جدول 3.7)۔ تاہم O یا F کی الیکٹران گین اینتھالپی ان کے بعد میں آنے والے عناصر سے کم ہوتی ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ جب O یا F میں ایک الیکٹران کا اضافہ ہوتا ہے تو اضافی الیکٹران زیادہ چھوٹی کوانٹم سطح n = 2 کی طرف جاتا ہے اور اس سطح میں موجود الیکٹرانوں کے ذریعہ کافی قوت سے دھکیلا جاتا ہے۔ کوانٹم سطح n =3 کے لیے (S یا Cl) اضافی الیکٹران خالی جگہ کا بڑا حصہ گھیرتا ہے اور اس طرح الیکٹران۔ الیکٹران دفع بہت کم ہوتا ہے۔ 

جدول 3.7 : اصل گروپ کے کچھ عناصر کی الیکٹران گین اینتھالپی* kJ mol–1

Group 1 H Group 16 H Group 17 H Group 0 H
H -73


He +48
Li -60 O -141 F -328 Ne +116
Na -53 S -200 C1 -349 Ar +96
K -48 Se -195 Br -325 Kr +96
Rb -47 Te -190 I -295 Xe +77
Cs -46 Po -174 At -270 Rn +68


* بہت سی کتابوں میں مساوات 3.3 میں دکھائے گئے عمل کی اینتھالپی تبدیلی کی نفی کو زیر غور ایٹم کی الیکٹران ایفینٹی (Ac) کے طور پر متعارف کیا گیا ہے اگر ایٹم میں الیکٹران کے اضافے پر توانائی خارج ہوتی ہ تو الیکٹران ایفینٹی مثبت لی جاتی ہے جو کہ تھرموڈائنمک کنونشن کے خلاف ہے۔ اگر ایک ایٹم میں ایک الیکٹران کے اضافے پر توانائی درکار ہوتی ہے تو الیکٹران ایفنیٹی کی علامت منفی لی جاتی ہے تاہم الیکٹران ایفینٹی کی تعریف مطلق صفر کے طور پر کی جاتی ہے اور اس لیے کسی اور درجہ حرارت پر متعاملات اور ماحصلات کی حرارتی گنجائش 326 میں شمار کی جاتی ہیں۔ 

مسئلہ 3.7 

مندرجہ ذیل میں سے کس کی الیکٹران گین اینتھالپی سب سے زیادہ منفی ہوتی ہے اور کس کی سب سے کم؟

P، S، C1، F۔  اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔ 

حل:

الیکٹران گین اینتھالپی عام طور پر منفی ہوتی ہے جب ہم کسی دور میں بائیں سے دائیں سمت حرکت کرتے ہیں۔ گروپ میں اوپر سے نیچے جانے پر الیکٹران گین اینتھالپی کم ہوتی جاتی ہے۔ لیکن -2pاربٹل میں ایک الیکٹران کا اضافہ ہونے سے زیادہ ہٹاؤ ہوتا ہے بہ نسبت بڑے -3pاربٹل  میں ایک الیکٹران کا اضافہ ہونے کے۔ لہٰذا وہ عنصر جس کی سب سے زیادہ منفی الیکٹران گین اینتھالپی ہوگی وہ Cl ہے اور جس کی سب سے کم منفی الیکٹران گین اینتھالپی ہوگی وہ فاسفورس ہے۔ 

(e) برقی منفیت (Electronegativity) 

ایک کیمیائی مرکب میں کسی ایٹم کے ساجھے کے الیکٹرانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کیفیتی پیمائش برقی منفیت (Electronagtivity) کہلاتی ہے۔ آیونائزیشن گین اینتھالپی کے برخلاف یہ ایک قابل پیمائش مقدار نہیں ہے۔ تاہم عناصر کی برقی منفیت کے عددی پیمانے مثلاً پالنگ (Pauling) پیمانہ ملکن۔ جفے (Mullikan Jaffe) پیمانہ، آلرڈ۔ روشو پیمانے بنائے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پیمانہ پالنگ پیمانہ ہے۔ امریکی سائنسداں لائنس پالنگ نے 1922 میں فلورین کو ایک اختیاری قیمت 4.0 دی تھی، اس عنصر میں الیکٹران کو اپنی سمت کھینچنے کی سب سے زیادہ قوت تھی جدول 3.8(a) میں عناصر کی الیکٹران منفیت کی تقریبی قیمتیں دکھائی گئی ہیں۔ 

کسی دیئے ہوئے عنصر کی برقی منفیت مستقل نہیں ہوتی ہے: اس کا انحصار اس عنصر پر ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا ہوتا ہے۔ اگر چہ یہ ایک قابل پیمائش مقدار نہیں ہوتی تاہم یہ اس قوت کی پیشین گوئی کرنے کا ذریعہ فراہم کرتی ہے جو ایٹموں کو باندھے رکھتی ہیں،  ایک ایسا تعلق جس کے بارے میں آپ بعد میں تحقیق کریں گے۔ 

دوری جدول میں برقی منفیت عام طور پر ایک دور میں بائیں سے دائیں بڑھتی ہے۔ (مثلاً لیتھیم سے فلورین تک)  اور گروپ میں اوپر سے نیچے کم ہوتی ہے (فلورین سے ایسٹیٹائین تک)۔ ان رجحانات کی وضاحت کس طرح کی جاسکتی ہے؟ کیا الیکٹران منفیت کا تعلق ایٹمی نصف قطر سے ہوسکتا ہے جو ایک دور میں بائیں سے دائیں سمت گھٹتا ہے لیکن ایک گروپ میں اوپر سے نیچے جانے میں بڑھتا ہے؟ ایک دور میں جیسے جیسے نصف قطر گھٹتا ہے تو سب سے باہری الیکٹرانوں اور نیوکلیس کے درمیان کشش بڑھتی ہے۔ برقی منفیت بھی بڑھتی ہے۔ اسی حساب سے اوپر سے نیچے ایٹمی نصف قطر بڑھتا ہے اور اس کے ساتھ برقی منفیت کی قیمت گھٹتی ہے۔ ایسا ہی رجحان آیونائزیشن اینتھالپی کے لیے ہے۔ 


جدول 3.8 (a) : دور کے آر پار برقی منفیت کی قیمت (پالنگ پیمانے پر)

F O N C B Be Li
ایٹم
( IIدور )
4.0 3.5 3.0 2.5 2.0 1.5 1.0 برقی منفیت
C1 S P Si A1 Mg Na
ایٹم 
( IIIدور)
3.0 2.5 2.1 1.8 1.5 1.2 0.9 برقی منفیت


جدول 3.8 (b)گروپ میں نیچے کی طرف الیکٹران منفیت کی قیمت (پالنگ پیمانے پر)

الیکٹران منفیت ایٹم
( 17 گروپ)
برقی منفیت
ایٹم
( I گروپ)
4.0 F 1.0 Li
3.0 C1 0.9 Na
2.8 Br 0.8 K
2.5 I 0.8 Rb
2.2 At 07 Cs

برقی منفیت اور ایٹمی نصف قطر کے تعلق کو جانتے ہوئے کیا آپ الیکٹران منفیت اور غیر دھاتی خصوصیات میں تعلق قائم کرسکتے ہیں؟ غیردھاتی عناصر میں الیکٹران حاصل کرنے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے۔ لہٰذا برقی منفیت کا تعلق عناصر کی غیر دھاتی خصوصیات سے براہ راست ہوتا ہے۔ اسی بات کو ٓاگے بڑھاتے ہوئے اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ برقی منفیت عناصر کی دھاتی خصوصیات سے مقلوب تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا ایک دور میں عناصر کی بڑھتی ہوئی غیر دھاتی خصوصیات کے ساتھ (گھٹتی ہوئی دھاتی خصوصیات) برقی منفیت بڑھتی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک گروپ میں عناصر کی گھٹتی ہوئی غیر دھاتی خصوصیات (بڑھتی ہوئی دھاتی خصوصیات) کے ساتھ برقی منفیت گھٹتی جاتی ہے۔ 

ان تمام دوری رجحانات کا خلاصہ شکل 3.7 میں کیا گیا ہے۔ 

329

شکل 3.7 دوری جدول میں عناصر کے دوری رجحانات۔

3.7.2  کیمیائی خصوصیات میں دوری رجحانات

(Periodic Trends in Chemical Properties)

عناصر کی کیمیائی خصوصیات کے زیادہ تر رجحانات جیسے کہ وتری تعلقات،  جامد جفتہ اثرات (Inert Pair Effect)، لینتھنائڈ کے سکڑنے کے اثرات وغیرہ پر ہر ایک گروپ کے لیے بعد کی یونٹ میں بحث ہوگی۔ اس حصہ میں ہم عناصر کے ذریعے دکھائی جانے والی گرفت حالت میں دوریت اور دوسرے دور (لیتھیم سے فلورین تک) کے عناصرکی خصوصیات میں بے قاعدگی کا مطالعہ کریں گے۔ 

(a)  گرفت یا تکسیدی حالتوں میں دوریت

(Periodicty of Valence or Oxidation States)

گرفت عناصر کی بہت اہم خاصیت ہوتی ہے اور ہم اسے ان کے الیکٹرانی تشکل کے حوالے سے سمجھ سکتے ہیں۔ نمائندہ عناصر کی گرفت عام طور پر (اگر چہ لازمی نہیں ہے) ان کے سب سے باہر کے اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد اور/ یا 8 میں سے باہری الیکٹرانوں کی تعداد گھٹانے پر حاصل ہونے والے عدد کے برابر ہوتی ہے۔ جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔ 

آج کل گرفت کی جگہ تکسیدی حالت کا استعمال عام طور پر کیا جاتا ہے۔ آکسیجن پر مشتمل دو مرکبات : OF2 اور Na2Oکو دیکھئے ۔ ان مرکبات میں شامل تین عناصر کی الیکٹران منفیت کا رجحان F > O > Naہے۔ فلورین کا ہر ایک ایٹم جس کا باہری الیکٹرانی تشکل 2S22P5 ہے OF2 میں آکسیجن کے ایک الیکٹران سے ساجھا کرتا ہے۔ سب سے زیادہ الیکٹران منفی ہونے کی وجہ سے فلورین کو 1- کی آکسیڈیشن حالت (Oxidation State) دی گئی ہے۔ چونکہ اس مرکب میں فلورین کے دو ایٹم ہیں، آکسیجن اپنے الیکٹرانی تشکل 2S22P4 کے ساتھ اپنے دو الیکٹران فلورین کے ایٹموں کے ساتھ ساجھا کرتا ہے لہٰذا یہ آکسیڈیشن حالت 2+ ظاہر کرتا ہے۔ Na2Oمیں آکسیجن زیادہ الیکٹران منفیت ہونے کی وجہ سے سوڈیم کے ہر ایک ایٹم سے ایک ایک الیکٹران لیتا ہے، اور اس طرح آکسیڈیشن حالت 2- ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف سوڈیم جس کا الیکٹرانی تشکل 3S1 ہے ایک الیکٹران آکسیجن کو دے دیتا ہے اور 1+ آکسیڈیشن حالت حاصل کرتا ہے۔ کسی مرکب میں ایک عنصر کی آکسیڈیشن حالت کو اس کے ایٹم کے ذریعے حاصل کیے گئے چارج کی طرح بیان کیا جاتا ہے جو اس نے سالمہ کے دوسرے ایٹموں کی الیکٹران منفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حاصل کیا ہے۔ 


18              17                  16                 15              14                        13                                 2                            1 گروپ
8                  7                    6                   5                  4                       3                                 2                              1   گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد
0.8                7.5                  2.6                  3.5             4                       3                                  2                             1 گرفت

مسئلہ 3.8

دوری جدول کا استعمال کرتے ہوئے ان مرکبات کے فارمولوں کی پیشین گوئی کیجیے جو عناصر کے مندرجہ ذیل جوڑوں سے بن سکتے ہیں۔ 

(a) سلیکان اور برومین 

(b) ایلومینیم اور سلفر 

حل:

(a) سلیکان، گروپ 14 کا عنصر ہے جس کی گرفت 4 ہے برومین کا تعلق ہیلوجن سے ہے جن کی گرفت 1 ہے لہٰذا جو مرکب بنے گا اس کا ضابطہSiBr4 ہوگا۔ 

(b) ایلومینیم کا تعلق گروپ 13 سے ہے اور اس کی گرفت 3 ہے سلفر، گروپ 16 کے عناصر سے تعلق رکھتا ہے جس کی گرفت 2 ہے۔ لہٰذا مرکب کا ضابطہ A12S2 ہوگا۔ 

جدول 3.9: عناصر کی گرفت میں ایٹمی رجحان جیسا کہ ان کے مرکبات کے ضابطوں سے ظاہر ہے۔

17 16 15 14 13 2 1 گروپ
HF
HCI
HBr
HI
H2 O
H2 S
H2 Se
H2 Te
NH3
PH3
AsH3
SbH3
CH4
SiH4
GeH4
SnH3
B2H6

A1H3
CaH2
LiH
NaH
KH
ہائڈرائڈ کا ضابطہ
-
C12 O7
SO3
SeO3
TeO3
--
N2 O3 , N2 O5
P4 O6 , P4 O10
As2 O3 , As4 O5
Sb2 O3 , Sb2 O5
Bi2 O3  -
CO2
SiO2
GeO2
SnO2
PbO2
B2O3
A12 O3
Ga2 O3
In2 O3
MgO
CaO
SrO
BaO
Li2 O
Na2 O
K2 O
آکسائڈ کا ضابطہ


عنصر خصوصیات
B
88
A1
143
Be
111
Mg
160
Li
152
Na
186
 M/pm دھاتی نصف قطر
Be
31
Mg
72
Li
76
Na
102
M+/pm آینی نصف قطر 


کچھ دوری رجحانات جو عناصر کی گرفت میں دیکھے گئے ہیں (ہائڈرائڈ اور آکسائڈ) وہ جدول 3.9 میں دکھائے گئے ہیں۔ ایسے دوسرے دوری رجحانات جو عناصر کے کیمیائی طرزعمل میں واقع ہوتے ہیں ان سے اس کتاب میں کہیں اور بحث کی گئی ہے۔ ایسے بہت سے عناصر ہیں جو تغیر پذیر گرفت دکھاتے ہیں۔ یہ خاص طور پر عبوری عناصر اور ایکٹینائڈ کی خصوصیات ہوتی ہیں جن کو ہم بعد میں پڑھیں گے۔ 

(b) دوسرے دور کے عناصر کی بے ربط خصوصیات

(Anomalous Properties of Second Period Elements)

گروپ 1 (لیتھیم) اور 2 (بیریلیم) اور گروپ 13 سے 17 (بورون سے فلورین) تک، ان میں سے ہر ایک گروپ کا پہلا عنصر اپنے متعلقہ گروپ کے دوسرے ممبران سے کئی معاملوں میں مختلف ہوتا ہیں مثال کے طور پر لیتھیم دوسری قلوی دھاتوں کے برعکس اور بیریلیم دوسری قلوی مٹی دھاتوں کے برعکس واضح شریک گرفت خصوصیت والے مرکبات بناتے ہیں : ان کے گروپوں کے دوسرے ممبران زیادہ تر آینی مرکبات بناتے ہیں۔ در حقیقت لیتھیم اور بیریلیم کا طرزعمل اگلے گروپ کے دوسرے عنصر کے زیادہ مشابہ ہوتا ہے یعنی میگنیشیم اور ایلومینیم سے اس قسم کی یکسانیت کو عام طور پر دوری خصوصیات میں وتری تعلقات (Diogonal Relationship) کہتے ہیں۔ 

s- اور p-بلاک کے عناصر کے گروپ میں پہلے ممبر کی کیمیائی خاصیتیں اسی گروپ کے باقی عناصر کے مقابلے میں مختلف ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ اس بے ربط طرزعمل کی وجہ ان کا چھوٹے سائز، بڑے چارج / نصف قطر تناسب اور عناصر کی بہت زیادہ الیکٹران منفیت مانی جاتی ہے اس کے علاوہ گروپ کے پہلے ممبر کے پاس بندش کے لیے صرف 4 گرفٹ اربٹل ( -2s اور 2p) موجود ہوتے ہیں جبکہ گروپ کے دوسرے ممبر کے پاس 9 ویلنس آربٹل (3s، 3p، 3d) موجود ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہر گروپ کے پہلے ممبر کی زیادہ سے زیادہ گرفت 4 ہوتی ہے(مثال کے طور پر بورون صرف BF4 ہی بنا سکتا ہے) جبکہ گروپ کے دوسرے عناصر اپنی گرفت خول کو الیکٹرانوں کے چار جوڑوں سے زیادہ کی جگہ بنانے کے لیے پھیلا سکتے ہیں مثال کے طور پر ایلومینیم333 ۔ اس کے علاوہ -pبلاک عناصر کا پہلا ممبر اسی گروپ کے باقی عناصر کے مقابلے میں اپنے آپ سے (مثلاً   334    ) اور دوسرے دور کے دیگر عناصر کے ساتھ (مثلاً 335 ) 336  کثیر بند بنانے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ 

مسئلہ 3.9

کیا  337 میں A1 کی آکسیڈیشن حالت اور گرفت برابر ہے؟ 

حل:

نہیں: ایلومینیم کی آکسیڈیشن حالت 3+ ہے اور گرفت 6 ہے۔

3.7.3 کیمیائی تعاملیت اور دوری رجحان

(Periodic Trends and Chemical Reactivity)

ہم نے کچھ بنیادی خصوصیات جیسے ایٹمی اور آینی نصف قطر آیونائزیشن اینتھالپی، الیکٹران گین اینتھالپی اورگرفت وغیرہ میں دوری رجحانات کا مشاہدہ کیا ہے۔ اب ہم جان گئے ہیں کہ دوریت کا تعلق الیکٹرانی تشکل سے ہوتا ہے یعنی عناصر کی تمام کیمیائی اورطبعی خصوصیات ان کے الیکٹرانی تشکل کا اظہار ہوتی ہیں۔ اب ہم عناصر کی ان بنیادی خصوصیات کا ان کی کیمیائی تعاملیت سے رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ 

ایٹمی اور آینی نصف قطر، جیسا کہ ہم جانتے ہیں ایک دور میں بائیں سے دائیں طرف گھٹتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر آیونائزیشن اینتھالپی ایک دور کے آر پار بڑھتی ہیں (سیکشن 3.7.1 (a)  میں دکھائے گئے کچھ استثنیٰ) جبکہ الیکٹران گین اینتھالپی زیادہ منفی ہوتی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایک دور میں بائیں جانب سب سے آخیر میں عناصر کی آیونائزیشن اینتھالپی سب سے کم ہوتی ہے اور دائیں سرے کے آخر میں عناصر کی الیکٹران گین اینتھالپی سب سے زیادہ منفی ہوتی ہیں (نوٹ : نوبل گیسیں جن کے خول پوری طرح بھرے ہوئے ہوتے ہیں ان کی الیکٹران گین اینتھالپی کی قدر مثبت ہوتی ہے)۔ اس کی وجہ سے دور کے دونوں سروں پر عناصر کی کیمیائی تعاملیت بہت زیادہ ہوتی ہے اور درمیان میں سب سے کم ہوتی ہے۔ لہٰذا بائیں سرے کے عناصر (دھاتی عناصر میں) میں بہت زیادہ کیمیائی تعاملیت کا اظہار ایک الیکٹران دے کر مثبت آین بنانے کی شکل میں ہوتا ہے اور دائیں سرے (ہیلوجن میں) پر اس کا اظہار ایک الیکٹران حاصل کرکے منفی آین بنانے کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس خاصیت کو عناصر کے تحویلی اور تکسیدی طرزعمل سے جوڑا جاسکتا ہے جس کے بارے میں آپ بعد میں پڑھیں گے۔ تاہم یہاں اسے عناصر کے دھاتی اور غیر دھاتی طرزعمل سے براہ راست جوڑا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ایک دور میں بائیں سے دائیں طرف جانے میں عنصر کی دھاتی خصوصیت جو بائیں سرے پر سب سے زیادہ ہے، گھٹتی ہے اور غیر دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کسی عنصر کی کیمیائی تعاملیت اس کے آکسیجن اور ہیلوجن کے ساتھ تعامل کے ذریعہ سب سے بہتر طریقے سے دکھائی جاسکتی ہے۔ یہاں ہم عناصر کے صرف آکسیجن کے ساتھ تعامل کو دیکھیں گے۔ ایک دور کے دونوں سرے پر پائے جانے والے عناصر بہت آسانی کے ساتھ آکسیجن سے تعامل کرکے آکسائڈ بناتے ہیں۔ آخری بائیں سرے پر پائے جانے والے عناصر کے ذریعے بنائے گئے آکسائڈ عام طور پر سب سے زیادہ قلوی ہوتے ہیں (مثال کے طور پر Na2O) جبکہ سب سے دائیں سرے پر پائے جانے والے عناصر کے ذریعے بننے والے آکسائڈ سب سے زیادہ تیزابی ہوتے ہیں (مثلاً C12O7)۔ درمیان میں پائے جانے والے عناصر کے آکسائڈ ایمفوٹیرک (Ambhoteric) ہوتے ہیں (مثال کے طور پرAs2O3. A12O3) یا تعدیلی ہوتے ہیں (مثلاً NO2,CO، NO )۔  ایمفوٹیرک آکسائڈ اساس کے ساتھ تیزاب کی طرح برتاؤ کرتے ہیں اور تیزاب کے ساتھ اساس جیسا برتاؤ کرتے ہیں، جبکہ تعدیلی آکسائڈ کا طرز عمل نہ تو تیزابی ہوتا ہے اور نہ ہی اساسی۔ 

مسئلہ 3.10 

پانی کے ساتھ تعامل کرکے دکھائیے کہ Na2O اساسی آکسائڈ ہے اور C12O7 ایک تیزابی آکسائڈ ہے۔

حل:

Na2O پانی کے ساتھ قوی اساس بناتا ہے اور C12O7 قوی تیزاب بناتا ہے۔ 

338

اساسی اور تیزابی خاصیت یقینی طور پر لٹمس پیپر کے ذریعے جانچی جاسکتی ہے۔

ایک دور میں نمائندہ عناصر کے مقابلے میں عبوری دھاتوں (3d-سیریز) کے ایٹمی نصف قطر میں تبدیلی بہت کم ہوتی ہے۔ ایٹمی نصف قطر میں تبدیلی اندرونی عبوری عناصر (-4f سیریز) میں اور زیادہ کم ہوتی ہے۔ آیونائزیشن اینتھالپی s- اور p- بلاک کے انٹرمیڈئیٹ ہوتی ہیں۔ نتیجہ کے طور پر یہ گروپ 1 اور گروپ 2 کی دھاتوں کے مقابلے کم برقی مثبت ہوتے ہیں۔ 

ایک گروپ میں گروپ کے خاص عناصر (تین گروپ عناصر) میں بڑھتے ہوئے ایٹمی عدد کے ساتھ ایٹمی اور آینی نصف قطر میں اضافے کے نتیجہ میں عام طور پر آیونائزیشن اینتھالپی میں بتدریج کمی (سیکشن3.7.1 (d)میں دکھائے گئے تیسرے دور کے کچھ عناصر کے علاوہ) اور الیکٹران گین اینتھالپی میں باقاعدہ کمی واقع ہوتی ہے۔ اس طرح ایک گروپ میں اوپر سے نیچے کی طرف جاتے ہوئے دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہوتا ہے اور غیر دھاتی خصوصیت میں کمی آتی ہے۔ اس رجحان کا تعلق ان کے تحویلی اور تکسیدی خصوصیات سے ہوسکتا ہے جس کے بارے میں آپ بعد میں پڑھیں گے۔ عبوری عناصر کے معاملے میں اگر چہ اس کے برخلاف رجحان دیکھا گیا ہے اس کو ایٹمی سائز اور آیونائزیشن اینتھالپی کی اصطلاح میں واضح کیا جاسکتا ہے۔ 

خلاصہ 

 اس باب میں آپ نے دوری کلیہ اور دوری جدول کے ارتقا کے بارے میں پڑھا ہے۔ مینڈلیف کی دوری جدول کی بنیاد ایٹمی کمیتوں پر تھی۔ جدید دوری جدول نے عناصر کو ان کے بڑھتے ہوئے ایٹمی اعداد کی بنیاد پر سات افقی قطاروں (ادوار) اور 18 عمودی کالم (گروپ یا خاندان) میں ترتیب دیا ہے۔ ایک دور میں ایٹمی عدد متواتر ہوتے ہیں، جب کہ ایک گروپ میں ایک ترتیب کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ ایک ہی گروپ کے عناصر کے یکساں گرفت خول الیکٹرانی تشکل ہوتے ہیں لہٰذا وہ یکساں کیمیائی خصوصیات دکھاتے ہیں۔ بہر حال، ایک ہی دور کے عناصر میں بائیں سے دائیں جانب الیکٹرانوں کی تعداد بڑھتی ہے، لہٰذا ان کی گرفت مختلف ہوتی ہے۔ الیکٹرانی تشکل کی بنیاد پر دوری جدول میں چار قسم کے عناصر کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ یہ -sبلاک -pبلاک -dبلاک اور -fبلاک عناصر ہیں۔ ہائڈروجن جس کے 1s اربٹل میں ایک ہی الیکٹران ہے، دوری جدول میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ دھاتیں معلوم عناصر کا 78 فیصدسے زیادہ حصہ بناتی ہیں۔ غیر دھاتیں جو دوری جدول میں اوپر کی سمت میں پائی جاتی ہیں ان کی تعداد بیس سے کم ہے۔ وہ عناصر جو دھات اور غیر دھات مثلاً Si، Ge، As کے درمیان ہیں، دھتونت یا نیم دھاتیں کہلاتے ہیں۔ ایک گروپ میں بڑھتے ہوئے ایٹمی عدد کے ساتھ دھاتی خصوصیت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ایک دور میں بائیں سے دائیں جانب اس میں کمی آتی ہے۔ عناصر کی طبعی اور کیمیائی خصوصیات ان کے ایٹمی اعداد کے ساتھ دوریت کے اعتبار سے تبدیل ہوتی ہیں۔ 

ایٹمی سائز، آیونائزیشن اینتھالپی، الیکٹران گین اینتھالپی، الیکٹران منفیت اور گرفت میں دوری رجحانات پائے جاتے ہیں ایٹمی نصف قطر ایک دور میں بائیں سے دائیں سمت جانے میں گھٹتے ہیں اور ایک گروپ میں ایٹمی عدد کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ آیونائزیشن اینتھالپی عام طور پر ایک دور میں بڑھتی ہیں اور گروپ میں نیچے کی سمت گھٹتی ہیں۔ الیکٹران منفیت بھی ایسا ہی رجحان دکھاتی ہے۔ الیکٹران گین اینتھالپی عام طور پر ایک دور کے آر پار زیادہ منفی ہوتی ہیں اور ایک گروپ میں اوپر سے نیچے کی سمت کم منفی ہوتی ہیں۔ گرفت (Valency) میں بھی کچھ دوریت ہوتی ہے، مثال کے طور پر نمائندہ عناصر میں گرفت سب سے باہری اربٹل میں پائے جانے والے الیکٹرانوں کے برابر ہوتی ہے یا آٹھ میں سے اس تعداد کو گھٹانے پر حاصل ہونے والے عدد کے برابر ہوتی ہے۔ کیمیائی تعاملیت دور کے دونوں سروں پر سب سے زیادہ ہوتی ہے اور درمیان میں سب سے کم۔ دور کے سب سے بائیں سرے پر تعاملیت کی وجہ الیکٹران دینے کی آسانی ہے (یا کم آیونائزیشن اینتھالپی)۔ بہت زیادہ متعامل عناصر قدرت میں آزاد حالت میں نہیں پائے جاتے۔ یہ عام طور پر متحد شکل میں پائے جاتے ہیں۔ بائیں سمت کے عناصر کے ساتھ بننے والے آکسائڈ اساسی ہوتے ہیں اور دائیں سمت کے عناصر کے آکسائڈ تیزابی ہوتے ہیں۔ درمیانی عناصر کے آکسائڈ ایمفوٹیرک یا تعدیلی ہوتے ہیں۔  

مشقیں

3.1  دوری جدول کی تنظیم میں بنیادی تصور کیا ہے۔ 

3.2  مینڈ لیف نے اپنی دوری جدول میں عناصر کی تقسیم کے لیے کون سی اہم خصوصیت کا استعمال کیا تھا اور کیا وہ اس پر قائم رہا؟

3.3 مینڈ لیف کے دوری کلیہ اور جدید دوری کلیہ کے نظریے میں بنیادی فرق بتائیے۔ 

3.4 کوانٹم نمبر کی بنیاد پر جواز پیش کرتے ہوئے بتائیے کہ دوری جدول کے چھٹے دور میں 32 عناصر ہونے چاہئیں۔ 

3.5 گروپ اور دور کے اعتبار سے آپ Z = 14 والے عنصر کہاں رکھیں گے:

3.6 دوری جدول کے تیسرے دور اور سترھویں گروپ میں پائے جانے والے عنصر کا ایٹمی عدد لکھئے۔ 

3.7 آپ کے خیال میں:

(i) لارنیس بر کلے تجربہ گاہ اور

              (ii)  سیبرگ کے گروپ نے

کس عنصر کا نام دیا گیا تھا؟

3.8  ایک ہی گروپ کے عناصر کی طبعی اور کیمیائی خصوصیات یکساں کیوں ہوتی ہیں؟

3.9 ایٹمی نصف قطر اور آینی نصف قطر سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

3.10 ایٹمی صنف قطر ایک دور میں اور ایک گروپ میں کس طرح تبدیل ہوتا ہے؟ آپ اس تبدیلی کی وضاحت کس طرح کریں گے؟

3.11 ہم الیکٹرانی نوع (Isoelectronic Species) سے آپ کیا سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی اسپشیز کا نام بتائیے جو مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک ایٹم یا آین کے ساتھ آئسوالیکٹرانک ہو۔

339

3.12 مندرجہ ذیل انواع پر غور کیجئے 340

(a) ان میں مشترک کیا ہے؟

(b) ان کو بڑھتے ہوئے آینی نصف قطر میں ترتیب دیجیے۔

3.13 اپنے اصل ایٹم کے مقابلے میں این آین کے نصف قطر بڑے اور کیٹ آین کے نصف قطر چھوٹے کیوں ہوتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔

3.14  آیونائزیشن اینتھالپی اور الیکٹران گین اینتھالپی کی تعریف بیان کرتے وقت اصطلاحات منفرد گیسی ایٹم اور گراؤنڈ اسٹیٹ کی کیا اہمیت ہے؟ 

اشارہ  : موازنہ کرنے کے لیے 

3.15 ہائڈروجن ایٹم کے ایک الیکٹران کی گراؤنڈ اسٹیٹ میں توانائی341  ہے۔ J mol–1میں ایٹمی ہائڈروجن کی آیونائزیشن اینتھالپی معلوم کیجیے۔ 

 اشارہ : جواب حاصل کرنے کے لیے مول کے تصور کا استعمال کیجیے۔ 

3.16 دوسرے دور کے عناصر کے درمیان اصل آیونائزیشن اینتھالپی کا رجحان 

Li < B < Be < C < O < N < F < Ne ہے۔ وضاحت کیجیے کہ 

(Bo  (i کی B,  Δ1H   سے زیادہ ہے؟

  (O   (iiکی  N,  Δ1H ، N اور F سے کم ہے؟

3.17 اس حقیقت کو آپ کیسے سمجھائیں گے کہ Na کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی میگنیشیم سے کم ہے لیکن اس کی دوسری آیونائزیشن اینتھالپی میگنیشیم سے زیادہ ہے؟

3.18 وہ کون سے مختلف عوامل ہیں جن کی وجہ سے خاص گروپ عناصر کی آیونائزیشن اینتھالپی ایک گروپ میں نیچے کی طرف گھٹتی ہے؟ 

3.19 گروپ 13 کے عناصر کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی کی قیمتیں 342  میں مندرجہ ذیل ہیں۔ 

mashk

آپ عام رجحان سے اس انحراف کو کس طرح واضح کریں گے؟

3.20 مندرجہ ذیل عناصر کے جوڑوں میں سے کس کی الیکٹران گین اینتھالپی زیادہ منفی ہوگی؟

(O (i یا F (ii) F یا Cl

3.21 آپ کیا سمجھتے ہیں کہ O کی دوسری الیکٹران گین اینتھالپی پہلی کے مقابلے میں مثبت ہوگی، زیادہ منفی ہوگی یا کم ہوگی؟ اپنے جواب کا جواز پیش کیجیے۔

3.22 الیکٹران گین اینتھالپی اور الیکٹران منفیت اصطلاحات میں بنیادی فرق کیا ہے؟

3.23 آپ کا رد عمل اس بیان پر کیا ہوگا کہ N کی الیکٹران منفیت نائٹروجن کے تمام مرکبات میں پالنگ پیمانے پر 3.0 ہے؟

3.24 ایٹم کے نصف قطر سے متعلق نظریے کو بیان کیجیے جب وہ:

    (a) الیکٹران حاصل کرتا ہے۔

   (b)  الیکٹران کھو دیتا ہے۔

3.25 آپ کے خیال میں ایک ہی عنصر کے دو ہم جا (Isotopes) کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی یکساں ہوں گی یا مختلف ؟ اپنے جواب کا جواز پیش کیجیے۔

3.26 دھاتوں اور غیر دھاتوں میں اہم فرق بیان کیجیے؟

3.27 مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دینے کے لیے دوری جدول کا استعمال کیجیے۔

(a) ایک عنصر کو پہچانیے جس کے بیرونی ذیلی شیل میں 5 الیکٹران ہوں۔ 

(b) ایک عنصر کو پہچانیے جو دو الیکٹران کھو سکتا ہے۔

(c) ایک عنصر کو پہچانیے جو دو الیکٹران حاصل کرسکتا ہے۔

(d) ایک ایسے گروپ کو پہچانیے جس میں دھات، غیر دھات، رقیق اور گیس کمرہ درجہ حرارت پر پائی جاتی ہو۔

3.28   گروپ 1 کے عناصر میں بڑھتی ہوئی تعاملیت Li < Na < K < Rb < Cs ہے۔ جب کہ گروپ 17 کے عناصر میں F > Cl > Br > I۔  وضاحت کیجیے۔ 

3.29 d،  -p،  -s  اور  -f بلاک کے عناصر کا عمومی بیرونی الیکٹرانی تشکل لکھیے۔ 

3.30 مندرجہ ذیل الیکٹرانی تشکل رکھنے والے عناصر کو دوری جدول میں مقام فراہم کیجیے۔ 

(n = 3   (i کے لیے 343  کے لیے 344  اور 

   (n = 6    (ii کے لیے 345  ۔

3.31 مندرجہ ذیل کچھ عناصر کے لیے پہلی (Δ1H1)  اور دوسری (Δ1H2) آیونائزیشن اینتھالپی (kJ mol-1 میں) اور الیکٹران گین اینتھالپی 346 میں دی گئی ہیں۔

                               

eg H H2 H1 عناصر
-60 7300 520 I
-48 3051 419 I
-328 3374 1681 III
-295 1846 1008 IV
+48 5251 2372 V
-40 1451 738 VI


مندرجہ بالا عناصر میں سے کون سا عنصر:

(a) سب سے کم تعامل پذیر  عنصر

    (b)  سب سے زیادہ متعامل دھات ہوگی۔

            (c)  سب سے زیادہ متعامل غیر دھات ہوگی۔

            (d) سب سے کم متعامل غیر دھات ہوگی۔

(e) وہ دھات جو ایک مستحکم بائنری ہیلائڈ بناسکتی ہے جس کا ضابطہ348 (= X ہیلوجن)  ہے۔

(f) وہ دھات جو زیادہ تر مستحکم شریک گرفت ہیلائڈ بنا سکتی ہے جس کا ضابطہ X )  MX= ہیلوجن) ہے؟

3.32   مندرجہ ذیل عناصر کے جوڑوں سے بننے والے مستحکم بائنری مرکبات کے ضابطوں کو پیشین گوئی کیجیے۔

(a) لیتھیم اور آکسیجن (b) میگنیشیم اور نائٹروجن 

(c) ایلومینیم اور آیوڈین (d) سلیکان اور آکسیجن 

(e) فاسفورس اور فلورین (f) عنصر 71 اور فلورین 

3.33 جدید دوری جدول میں ایک دور مندرجہ ذیل میں سے کس کی قدر کو ظاہر کرتا ہے:

(a) ایٹمی عدد کی (b) ایٹمی کمیت کی 

(c) پرنسپل کوانٹم نمبر (d) سمت راس کوانٹم نمبر کی 

3.34 جدید دوری جدول سے تعلق رکھنے والے مندرجہ ذیل بیانات میں کون سے غلط ہیں؟

(p (a- بلاک میں 6 کالم ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ 6 الیکٹران p- خول کے اربٹل کو بھر سکتے ہیں۔ 

 (d   (b بلاک میں 8 کالم ہوتے ہیں کیونکہ d- ذیلی شیل کے اربٹل میں زیادہ سے زیادہ 8 الیکٹران جگہ گھیر سکتے ہیں۔ 

(c) ہر ایک بلاک میں کالم کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ اس کے اربٹل میں بھرے جانے والے الیکٹرانوں کی۔

(d) ایک بلاک اس آخری ذیلی شیل کے لیے سمت راس کوانٹم نمبر (l) کی قدر کو ظاہر کرتا ہے جو الیکٹرانی تشکل کی تشکیل کے لیے الیکٹرانوں کو حاصل کرتا ہے۔ 

3.35 جو چیز گرفتی الیکٹرانوں کو متاثر کرے گی وہ عنصر کی کیمیا کو متاثر کرے گی۔ مندرجہ ذیل میں سے کون سے عوامل گرفتی الیکٹرانوں کو مثاثر نہیں کریں گے؟

(a) ویلنس پرنسپل کوانٹم نمبر (b) (n) نیوکلیر چارج (z)

(c) نیوکلیائی کمیت (d) کور الیکٹرانوں کی تعداد 

3.36      ہم الیکٹرانی انواع Ne، F اور Na کا سائز متاثر ہوتا ہے۔

(a) نیوکلیر چارج سے (Z)

(b) ویلنس پرنسپل کوانٹم نمبر 

(c) باہری اربٹل میں الیکٹران۔ الیکٹران باہمی گر عمل سے ہے۔

(d) ان میں سے کوئی عوامل نہیں کیونکہ ان کی جسامت برابر ہے۔ 

3.37   آیونائزیشن اینتھالپی کے اعتبار سے مندرجہ ذیل بیانات میں سے کون سا بیان غلط ہے۔ 

(a)  ہر آنے والے الیکٹران کے لیے آیونائزیشن اینتھالپی بڑھتی ہے۔

(b)  نوبل گیس کے الیکٹرانی تشکل سے ایک الیکٹران نکالنے میں اینتھالپی میں سب سے زیادہ بڑھوتری ہوتی ہے۔ 

(c) آخری ویلنس الیکٹران کی وجہ سے آیونائزیشن اینتھالپی میں زبردست اچھال آتا ہے۔ 

(n (d کی زیادہ قدر والے اربٹل کے مقابلے n کی کم قدر والے اربٹل میں سے الیکٹران کو نکالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

3.38 M،  Al،  B  اور  K عناصر کے لیے ان کی دھاتی خصوصیت کی صحیح ترتیب مندرجہ بذیل میں سے کیا ہوگی؟ 

349

3.39 F،  N،  C،  B  اور Si  عناصر کے لیے ان کی غیر دھاتی خصوصیت کی صحیح ترتیب مندرجہ ذیل میں سے کیا ہوگی؟

350

3.40 O،  Cl،  F  اور  N  عناصر کے لیے تکسیدی خصوصیت کی اصطلاح میں ان کی کیمیائی تعاملیت کی صحیح ترتیب مندرجہ ذیل میں سے کیا ہوگی؟

351