Skip to content
5165CH01


کیمیائی بندش اور سالماتی ساخت

(Chemical Bonding and Molecular Structure)

مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

• کیمیائی بندش کے کوسِل-لیوس نظریے کو سمجھ سکیں ؛

آکٹیٹ قاعدے (Octate) کی وضاحت کر سکیں اور اس کی حدود بیان کر سکیں۔ سادہ سالموں کے لیے لیوس ساخت بنا سکیں؛

• مختلف قسم کے بند کی تشکیل کے عمل کو سمجھا سکیں ؛

• وی ایس ای پی آر (VSEPR) نظریے کو بیان کرسکیں اور سادہ سالموں کی جیومیٹری کی پیشین گوئی کر سکیں ؛

شریک گرفت بندش کے لیے ویلنس بانڈ طریقہ کار کی وضاحت کر سکیں ؛

• شریک گرفت بندش کی سمتی خصوصیات کی پیشین گوئی کرسکیں ؛

• -s، -p اور -d اربٹل کی شمولیت سے ہائبرایڈائزیشن (Hybridisation) کی مختلف اقسام کی وضاحت کرسکیں اور سادہ شریک گرفت سالموں کی شکل بنا سکیں ؛

ائسونیوکلیر دو ایٹمی سالموں کے سالماتی اربٹل نظریہ (Molecular Orbital Theory) کو بیان کرسکیں؛

•    ہائڈروجن بند کے تصور کی وضاحت کر سکیں ۔

سائنسداں مسلسل نئے مرکبات دریافت کر رہے ہیں، ان سے متعلق حقائق کو سلسلے وار ترتیب دے رہے ہیں، موجودہ علم کی بنیاد پر وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا ابتدائی نظریات کو بہتر طور پر مرتب کر رہے ہیں یا مشاہدہ کیے گئے نئے حقائق کی وضاحت کے لیے نظریات کی تشکیل کر رہے ہیں۔

مادہ ایک یا مختلف قسم کے عناصر سے مل کر بنتا ہے۔ عام حالات میں نوبل گیسوں کے علاوہ اور کوئی عنصر قدرت میں آزاد حالت میں نہیں پایا جاتا ہے۔ تاہم ایٹموں کا ایک مجموعہ ایک نوع کی قسم میں نمایاں خاصیتوں کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ ’’ایٹموں کے ایسے گروپ کو سالمہ (Molecular) کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک سالمے میں ایٹموں کو باندھنے کے لیے کوئی قوت درکار ہوگی وہ قوتِ کشش جو مختلف اجزا (ایٹم، آین وغیرہ) کو مختلف کیمیائی انواع میں ایک ساتھ باندھے رکھتی ہے، کیمیائی بند کہلاتا ہے۔‘‘ چونکہ ایک کیمیائی مرکب کی تشکیل مختلف عناصر کے علیحدہ علیحدہ طریقوں سے ملنے کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ ایٹم کیوں متحد ہوتے ہیں؟ کچھ مخصوص اتحاد ہی کیوں ممکن ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ کچھ ایٹم متحد ہوتے ہیں اور کچھ نہیں؟ سالمات کی مخصوص ساخت کیوں ہوتی ہے؟ ان سوالات کا جواب دینے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف تصورات اور نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کوسِل-لیوس اپروچ، ویلنس شیل الیکٹران پیئر رپلثرن تھیوری (VSEPR)، ویلنس بونڈ (VB) تھیوری اور مولیکولر آربِٹل (MO) تھیوری ہیں۔ بندش کے مختلف نظریات کا ارتقاء اور کیمیائی بندش کی نوعیت کی وضاحت کا قریبی تعلق ایٹم کی ساخت، عناصر کا الیکٹرانی تشکل اور دوری جدول کی سمجھ پیدا کرنے کی کوششوں سے ہے۔ ہر نظام کی کوشش زیادہ مستحکم رہنے کی ہوتی ہے اور بندش نظام کو استحکام فراہم کرنے کے لیے توانائی کو کم کرنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔

4.1 کیمیائی بندش کے لیے کوسیل-لیوس کا طریقۂ کار

(Kossel-Lewis Approach to Chemical Bonding)

الیکٹران کی اصطلاح میں کیمیائی بندش کی تشکیل کی وضاحت کے لیے متعدد کوششیں کی گئی ہیں لیکن یہ صرف 1916 میں ممکن ہوا جب 392 اور لیوس نے آزادانہ طور پر ایک تسلّی بخش وضاحت پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے نوبل گیسوں کی غیر عاملیت کی بنیاد پر بندش کی منطقی وضاحت پیش کی۔
لیوس نے ایٹم کی تصویر پیش کی جس کے مطابق مثبت چارج شدہ 'Kernel' (نیوکلیس اور اندرونی الیکٹران) ہوتا ہے اور بیرونی شیل میں زیادہ سے زیادہ آٹھ الیکٹران سما سکتے ہیں۔ اس نے مزید یہ تصور کیا کہ یہ آٹھ الیکٹران مکعب کے آٹھ کونوں کو گھیرتے ہیں جو 'Kernel' کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس طرح سوڈیم کا باہری خول کا واحد الیکٹران مکعب کے ایک کونے کو گھیرے گا، جبکہ گیس میں آٹھوں کونے گھِرے ہوئے ہوں گے۔ الیکٹرانوں کا یہ آکٹیٹ (Octet) ایک مخصوص مستحکم الیکٹرانی تشکل کو ظاہر کرتا ہے۔ ’’لیوس نے مزید یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایٹم اس وقت مستحکم آکٹیٹ حاصل کرلیتے ہیں جب وہ کیمیائی بند کے ذریعے جُڑے ہوئے ہوتے ہیں۔‘‘ سوڈیم اور کلورین کے معاملے میں یہ ایک الیکٹران کی منتقلی کی شکل میں ہوسکتا ہے جب سوڈیم کا ایک الیکٹران کلورین پر منتقل ہو جاتا ہے اور Na+ اور Cl– آین بنتے ہیں۔ دوسرے سالموں جیسے Cl2، H2، F2 وغیرہ میں دو ایٹموں کے درمیان ایک الیکٹران کے جوڑے کے اشتراک سے بند بنتا ہے۔ اس عمل میں ہر ایٹم الیکٹرانوں کے باہری مستحکم آکٹیٹ حاصل کر لیتا ہے۔
لِیوس علامتیں: سالمہ کے بننے کے دوران کیمیائی اتحاد میں صرف باہری الیکٹران ہی حصّہ لیتے ہیں اور وہ گرفتی الیکٹران (Valence Eletron) کہلاتے ہیں۔ اندرونی الیکٹران کافی محفوظ ہوتے ہیں اور عام طور پر اتحادی عمل میں حصّہ نہیں لیتے۔ جی۔این۔ لیوس، امریکی کیمیاداں نے ایٹم میں گرفتی الیکٹرانوں کو ظاہر کرنے کا آسان طریقہ بتایا۔ یہ اظہار لیوس علامتیں کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر دوسرے دور کے عناصر کی لیوس علامتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
393
لیوس علامات کی اہمیت:  علامت کے اردگرد نقطوں کی تعداد ویلنس الیکٹرانوں کی تعداد کو ظاہر کرتی ہے۔ ویلنس الیکٹرانوں کا یہ عدد عناصر کی عام یا گروپ ویلنس معلوم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ عناصر کا گروپ ویلنس عام طور پر لیوس علامت میں نقطوں کی تعداد کے برابر یا آٹھ میں سے نقطوں یا ویلنس الیکٹرانوں کی تعداد گھٹانے پر حاصل شدہ عدد کے برابر ہوتا ہے۔
کیمیائی بندش سے متعلق 394 نے مندرجہ ذیل حقائق کی سمت توجہ دلائی:
دوری جدول میں بہت زیادہ برقی منفی ہیلوجن اور بہت زیادہ برقی مثبت قلوی دھاتیں نوبل گیسوں کے ذریعہ جُدا کی گئی ہیں۔
•  ہیلوجن ایٹم سے منفی آین کے بننے اور قلوی دھات سے ایک مثبت آین بننے کا تعلق متعلقہ ایٹموں کے ذریعہ الیکٹران حاصل کرنے یا گنوانے سے ہے۔
•  اس طرح بننے والے منفی اور مثبت آین مستحکم نوبل گیسوں کا الیکٹرانی تشکل حاصل کر لیتے ہیں۔نوبل گیسوں میں (ہیلیم کے علاوہ جس میں صرف دو الیکٹران ہوتے ہیں) خاص طور پر آٹھ الیکٹرانوں (Octet) کا مستحکم تشکل پایا جاتا ہے۔ -ns2np6
• منفی اور مثبت آین برقی سکونی کشش (Electrostatic Attraction) کے ذریعہ قائم رہتے ہیں۔
مثال کے طور پر مندرجہ بالا اسکیم کے تحت سوڈیم اور کلورین سے سوڈیم کلورائڈ کا بننا اس طرح واضح کیا جاسکتا ہے:
395
اسی طرح CaF2 کا بننا بھی مندرجہ ذیل طریقے سے دکھایا جاسکتاہے:
396
’’مثبت اور منفی آین کے درمیان برقی سکونی کشش کے نتیجے میں بننے والا بند برقی گرفت بند (Electrovalent Bond) کہلاتا ہے۔ اس طرح برقی گرفت (Electro Valence) آین پر اکائی چارج کی تعداد کے برابر ہوتی ہے۔‘‘ اس طرح کیلشیم کو مثبت الیکٹرو ویلنس دو اور کلورین کو منفی الیکٹرو ویلنس دیا جاتا ہے۔
397 کے اصول مسلمہ (Poslutates) الیکٹران کی منتقلی کے ذریعہ آین بنے اور آینی قلمی مرکبات بننے سے متعلق جدید تصورات کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ آینی مرکبات کو سمجھنے اور انہیں منظم کرنے میں اس کے خیالات بہت اہم ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ مرکبات کی ایک بڑی تعداد ان تصورات میں فِٹ نہیں ہوتی۔

4.1.1 آکٹیٹ کا قاعدہ (Octet Rule)

1916 میں 397اور لیوس نے ایٹموں کے درمیان کیمیائی اتحاد کا ایک اہم نظریہ پیش کیا ہے جیسے کیمیائی بندش کا الیکٹرانی نظریہ کہتے ہیں۔ اس کے مطابق ایک ایٹم دوسرے ایٹم کو گرفتی الیکٹران (Valence Electron) منتقل کر کے (حاصل کر کے یا گنواکر) اتحاد کر سکتے ہیں یا گرفتی الیکٹرانوں کا ساجھا کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے گرفتی خول میں آکٹیٹ قائم کر سکیں۔ یہ آکٹیٹ قاعدہ کہلاتا ہے۔

4.1.2 شریک بندش بند (Covalent Bond)

لینگمویئر (1919) نے لیوس کے اصول مسلّمہ کو بہتر بنانے کے لیے آکٹیٹ کے ساکن مکعبی ترتیب کے تصور کو رد کر کے شریک گرفت بند (Covalent Bond) کی اصطلاح پیش کی۔ لیوس-لینگموئیر نظریے کو کلورین کے سالمہ Cl2 کے بننے کے عمل کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔ Cl ایٹم جس کا الیکٹرانی تشکل [Ne]3s23p5 ہے آرگن (Ar) کے الیکٹرانی تشکل سے ایک الیکٹران کم ہے۔ کلورین (Cl2) سالمہ کے بننے کے عمل کو اس طرح سمجھاجاسکتا ہے کہ دو کلورین ایٹم ایک الیکٹران کے جوڑے کا ساجھا کر لیتے ہیں، ہر کلورین ایٹم اس جوڑے کو اپنا ایک الیکٹران دے رہا ہے۔ نتیجہ کے طور پر دونوں کلورین ایٹم اپنے نزدیک ترین نوبل گیس (یعنی آرگن) بیرونی شیل آکٹیٹ حاصل کرلیتے ہیں۔
398
دو کلورین ایٹموں کے درمیان شریک گرفت بند
’’یہ نقطے الیکٹران کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح کی ساخت کو لیوئس ڈاٹ ساخت کہا جاتا ہے۔‘‘
لیوس ڈاٹ ساخت دوسرے سالموں کے لیے بھی لکھے جاسکتے ہیں جن میں متحد ہونے والے ایٹم مماثل یا مختلف ہو سکتے ہیں۔ ضروری حالات یہ ہیں کہ:
•  ہر ایک بند ایٹموں کے درمیان الیکٹران کے جوڑے میں ساجھے کے نتیجے میں بنتا ہے۔
•  متحد ہونے والا ہر ایک ایٹم اس ساجھے کے جوڑے میں کم از کم ایک الیکٹران کی حصہ داری کرتا ہے۔
•   الیکٹران کی شرکت کے نتیجے میں متحد ہونے والے ایٹم نوبل گیس کے بیرونی شیل کا تشکل حاصل کر لیتے ہیں۔
•  اس طرح پانی اور کاربن ٹیٹرا کلورائیڈ میں شریک گرفت بند کی تشکیل کو مندرجہ ذیل طریقے سے دکھایا جاسکتا ہے۔
399
چار C1ایٹم میں سے ہر ایکC1 اورC ایٹم الیکٹران کا آکٹیٹ اختیار کرتے ہیں                          H ایٹم الیکٹران کس ڈپلیٹ اورO آکٹیٹ اختیار کرتے ہیں

’’اس طرح جب دو ایٹم اپنے درمیان الیکٹران کے ایک جوڑے میں شرکت کرتے ہیں تو وہ واحد شریک گرفت بند کے ذریعہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔‘‘ بہت سے مرکبات میں ایٹموں کے درمیان کثیر بند ہوتے ہیں۔ دو ایٹموں کے درمیان ایک الیکٹران جوڑے سے زیادہ کی شرکت سے کثیر بند بنتے ہیں۔ ’اگر دو ایٹموں کے درمیان دو الیکٹران جوڑے مشترک ہیں تو ان کے درمیان شریک گرفت بند دوہرا بند (Double Bond) کہلائے گا۔‘ مثال کے طور پر کاربن ڈائی آکسائڈ کے سالمے میں ہمارے پاس کاربن اور آکسیجن کے درمیان دوہرے بند ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایتھیٖن کے سالمے میں دو کاربن ایٹم دوہرے بند کے ذریعہ بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔
400
جب ساجھا کرنے والے ایٹم تین الیکٹران جوڑوں میں شرکت کرتے ہیں جیسا کہ دو نائٹروجن ایٹم ایک نائٹروجن سالمے میں یا دو کاربن ایٹم ایک ایتھائین کے سالمے میں تو ایک تہرا بند (Triple Bond) بنتا ہے۔
401

4.1.3 سادہ سالموں کا لیوس اظہار (لیوس ساخت) 

[Lewis Representation of Simple Molecules (the Lewis Structures)]

لیوس ڈاٹ ساخت سالموں اور آینوں میں مشترک الیکٹران جوڑوں اور آکٹیٹ قاعدے کی اصطلاح میں بندش کی تصویر مہیا کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ شکل سالمے کی بندش اور خصوصیات کو مکمل طور پر واضح نہ کر سکتی ہو پھر بھی یہ کسی حد تک سالمے کے بننے اور اس کی خصوصیات کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ لہٰذا سالمے کا لیوس ڈاٹ ساخت لکھنا بہت فائدے مند ہوتاہے۔ مندرجہ ذیل اقدامات کی مدد سے لیوس ڈاٹ ساخت لکھی جاسکتی ہیں۔
•  ساخت لکھنے کے لیے درکار الیکٹرانوں کی کل تعداد کو اتحادی ایٹموں کے گرفتی الیکٹرانوں کو جمع کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر CH4 سالمے میں بندش کے لیے 8 گرفتی الیکٹران دستیاب ہیں (چار کاربن سے اور 4 ہائڈروجن کے چار ایٹموں سے)۔
•  این آین کے لیے ہر ایک منفی چارج کا مطلب ہے ایک الیکٹران کا داخل ہونا۔ کیٹ آین کے لیے ہر مثبت چارج کے لیے گرفتی الیکٹرانوں کی کل تعداد میں سے ایک الیکٹران گھٹایا جائے گا۔ مثال کے طور پر 402 آین کے لیے دو منفی چارج کا مطلب ہے تعدیلی ایٹموں کے ذریعے مہیّا کیے گئے الیکٹرانوں کے علاوہ دو الیکٹران زائد ہیں۔ 403 آین کے لیے ایک مثبت چارج کا مطلب ہے کہ تعدیلی ایٹموں کے گروپ میں سے ایک الیکٹران کم ہو گیا۔
•   متحد ہونے والے ایٹموں کی کیمیائی علامتیں جانتے ہوئے اور مرکب کے ساختی ڈھانچہ کا علم رکھتے ہوئے (جانتے ہوئے یا اندازہ کرتے ہوئے) الیکٹران کی کل تعداد کو ایٹموں کے درمیان کل بند کے تناسب میں مشترک گرفتی جوڑوں کو تقسیم کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
عام طور پر کسی سالمے/آین میں برقی منفی ایٹم مرکزی مقام پر رہتا ہے۔ مثال کے طور پر NF3 اور 404میں نائٹروجن اور کاربن مرکزی ایٹم ہیں جبکہ کلورین اور آکسیجن کا مقام سروں پر ہے۔
اکہرے بند میں مشترک الیکٹران جوڑوں کی تقسیم کے بعد باقی ماندہ الیکٹرانوں کے جوڑے کثیر بندش میں استعمال ہو جاتے ہیں یا تنہا جوڑے (Lone Pair) کی حیثیت سے باقی رہتے ہیں بنیادی ضرورت تو یہ ہے کہ ہر بندشی ایٹم کے پاس آٹھ الیکٹران ہوں۔
جدول 4.1 میں کچھ سالموں/آینوں کے لیوس نمونے پیش کیے گئے ہیں۔

جدول 4.1 کچھ سالموں کے لیوس نمونے


سالمے/آین لیوس اظہار
H2
O2

O3

NF3


CO32-


HNO3
H : H*



picture 2

H - H



picture 1


*  ہائڈروجن کاہر ایک ایٹم، ہیلیم کا تشکل اختیار کرتا ہے۔ (الیکٹرانوں کا ڈپلیٹ)

مسئلہ 4.1

CO کے لیے لیوس ڈاٹ ساخت لکھیے

حل

قدم 1: کاربن اور آکسیجن ایٹموں کے کُل گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد معلوم کیجیے۔ کاربن اور آکسیجن کے باہری (گرفتی) خول تشکل بالترتیب اس طرح ہیں 2s2 2p2 اور 2s2 2p4۔ دستیاب گرفتی الیکٹران ہیں 4 + 6 = 10۔
قدم 2: CO کا ساختی ڈھانچہ اس طرح لکھا جائے گا: C  O
قدم 3: C اور O کے درمیان اکہری بندش (ایک مشترک الیکٹرانوں کا جوڑا) بنائیے اور O پر آکٹیٹ مکمل کیجیے۔ باقی ماندہ دو الیکٹران C پر تنہا جوڑا ہے۔
406
یہ کاربن کے آکٹیٹ کو مکمل نہیں کرتی لہٰذا ہمیں C اور O کے درمیان کثیر بندش کی ضرورت ہوتی ہے (اس معاملے میں ایک تہری بندش) یہ دونوں ایٹموں کے لیے آکٹیٹ قاعدے کے اصول کو پورا کر تا ہے۔
407

مسئلہ 4.2

نائٹرائٹ آین کے لیے لیوئس ساخت بنائیے۔

حل

قدم 1: نائٹروجن ایٹم، آکسیجن ایٹم اور مزید ایک منفی چارج کے لیے کل گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد شمار کیجیے۔
N(2s2 2p3), O (2s2 2p4)
408
قدم 2: 409ا ساختی ڈھانچہ اس طرح لکھا جائے گا:
 O N O
قدم 3: نائٹروجن اور ہر ایک آکسیجن کے درمیان اکہرا بند (ایک مشترک الیکٹران جوڑا) بنائیے کہ آکسیجن ایٹم کا آکٹیٹ مکمل ہو جائے۔ یہ پھر بھی نائٹروجن کے آکٹیٹ کو مکمل نہیں کرے گا اگر باقی دو الیکٹران اس پر تنہا جوڑے کی شکل میں ہوں گے۔
410
لہٰذا ہمیں نائٹروجن اور ایک آکسیجن کے درمیان کثیر بندش بنانی ہوگی (یہاں دوہری بندش) اس طرح مندرجہ ذیل لیوس ڈاٹ ساخت حاصل ہوگی۔
411

4.1.4 فارمل چارج (Formal Charge)

لیوس ڈاٹ ساخت عام طور پر سالموں کی اصل شکل کو ظاہر نہیں کرتے۔ کثیر ایٹمی آینوں میں چارج کُل آین پر ہوتا ہے نہ کہ کسی ایک ایٹم پر۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ ہر ایک ایٹم کو ایک فارمَل چارج دیا جائے۔ ایک کثیر ایٹمی سالمے یا آین میں کسی ایٹم کا فارمَل چارج تنہا یا آزاد حالت میں اس ایٹم کے گرفتی الیکٹرانوں اور لیوس ساخت میں اس کو دیے گئے الیکٹرانوں کے فرق کے برابر ہوتا ہے۔ اسے اس طرح ظاہر کرتے ہیں:

لیو ساخت میں سکی ایٹم پر فارمل چارج


[آزاد ایٹم پر گرفتی الیکٹرانوں کی کل تعداد] - [غیر بندشی (تنہا جوڑے)کے الیکٹرانوں کی کل تعداد]
                                         
                                          (1/2)  - [بندشی الیکٹرانوں (مشترک) کی کل تعداد]

یہ شمار اس مفروضے پر کیا جاتا ہے کہ سالمے میں ایٹم ہر ایک مشترک جوڑے میں سے ایک الیکٹران اور تنہا جوڑے کے دونوں الیکٹرانوں کا مالک ہے۔
آئیے اوزون سالمے کو دیکھتے ہیں۔ O3 کی لیوس ساخت اس طرح لکھی جاسکتی ہے۔
413
ایٹموں کو 1، 2 اور 3 عدد دیے گئے ہیں۔
درمیانی O ایٹم کو 1 عدد دیا گیا ہے
414
سِرے پر O جسے 2 نشان دیا گیا ہے
415
سرے پر O جسے 3 نشان دیا گیا ہے
416
لہٰذا ہم O3 کو اس کے فارمل چارج کے ساتھ اس طرح ظاہر کرتے ہیں:
417
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ فارمل چارج سالمے کے اندر چارج کی علیحدگی کو ظاہر نہیں کرتے۔ لیوس ساخت میں چارج ظاہر کرنے سے صرف سالمے کے اندر ویلنس الیکٹرانوں کا مقام معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ فارمل چارج کسی نوع کی ممکنہ مختلف لیوس ساختوں میں سے سب سے کم توانائی والی ساخت کو چُننے میں مدد کرتا ہے ’’عام طور پر سب سے کم توانائی والی ساخت وہ ہوتی ہے جس میں ایٹم کے اوپر سب سے چھوٹے (کم) فارمل چارج ہوں۔ فارمل چارج ایک ایسا عامل ہے جس کی بنیاد بندش کے خالص تصور پر ہوتی ہے جہاں الیکٹران کے جوڑے کا اشتراک آس پاس کے ایٹموں کے مابین مساوی طور پر ہوتا ہے۔

4.1.5 آکٹیٹ قاعدے کی حدود

(Limitation of the Octet Rule)

آکٹیٹ قاعدہ اگرچہ مفید ہے پھر بھی آفاقی نہیں ہے۔ زیادہ تر نامیاتی مرکبات کی ساختیں سمجھنے میں یہ کافی مفید ہے اور یہ زیادہ تر دوری جدول کے دوسرے دور کے لیے خاص طور پر استعمال ہوتا ہے۔ آکٹیٹ کلیہ کے تین قسم کے استثنیٰ ہیں۔

مرکزی ایٹم کا نا مکمل آکٹیٹ (The Incomplete Octet of The Central Atom)

کچھ مرکبات میں مرکزی ایٹم کے گرد الیکٹرانوں کی تعداد آٹھ سے کم ہوتی ہے۔ یہ خاص طور پر ان عناصر کے ساتھ ہوتا ہے جن میں ویلنس الیکٹران کی تعداد چار سے کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر LiCl، BeH2 اور BC13 وغیرہ۔
418
Li، Be اور B کے پاس بالترتیب 1، 2 اور 3 گرفتی الیکٹران ہوتے ہیں۔ اس قسم کے کچھ اورمرکبات AlCl3 اور BF3 ہیں۔

طاق الیکٹران سالمے (Odd-electron Molecules)

وہ سالمے جن میں الیکٹران کی تعداد طاق ہوتی ہے جیسا کہ نائٹرک آکسائڈ NO اور نائٹروجن ڈائی آکسائڈ NO2 میں آکٹیٹ قاعدہ تمام ایٹموں کے لیے اطمینان بخش نہیں ہے۔
419

توسیعی آکٹیٹ (The Expanded Octet)

دوری جدول میں تیسرے دور اور اس کے بعد کے عناصر میں –3s اور –3p اربٹل کے علاوہ بندش کے لیے 3d اربٹل بھی دستیاب ہیں۔ ان عناصر کے بہت سے مرکبات میں مرکزی عنصر کے پاس 8 سے زیادہ گرفتی الیکٹران ہوتے ہیں۔ اسے توسیعی آکٹیٹ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان مثالوں میں آکٹیٹ قاعدہ استعمال نہیں ہوتا۔
ایسے مرکبات کی چند مثالیں PF5، SF6، H2SO4 اور بہت سے ہم ربط مرکبات  (Coordination Compund) ہیں۔
420

دلچسپ بات یہ ہے کہ، سلفر ایسے بہت سے مرکبات بناتا ہے جن میں آکٹیٹ قاعدہ کا استعمال ہوتا ہے۔ سلفر ڈائی کلورائڈ میں سلفر کے گرد الیکٹرانوں کا آکٹیٹ ہوتا ہے۔
421

آکٹیٹ نظریے کی دیگر خامیاں

(Other Drawbacks of the Octet Theory)

•  یہ واضح ہے کہ آکٹیٹ قاعدہ کی بنیاد نوبل گیسوں کی غیر عاملیت ہے۔ تاہم کچھ نوبل گیسیں (مثلاً زینان اور کرپٹان) بھی آکسیجن اور فلورین کے ساتھ مل کر بہت سے مرکبات جیسے XeF2، KrF2، XeOF2 وغیرہ بناتی ہیں۔
•  یہ نظریہ سالمے کی ساخت کی وضاحت نہیں کرتا۔
•  یہ سالموں کے اضافی استحکام کی وضاحت نہیں کرتا اور سالموں کی توانائی کے بارے میں خاموش ہے۔

4.2  آینی یا برق گرفتی بند

(Ionic or Electrovalent Bond)

آینی بند بننے کے سلسلے میں 422اور لیوئس ٹریٹمنٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر آینی مرکبات بننے کا انحصار مندرجہ ذیل پر ہوگا۔
• تعدیل ایٹموں سے ان کے مثبت اور منفی آین بننے میں آسانی؛
• ٹھوس میں مثبت اور منفی آین کی ترتیب، یعنی قلمی مرکبات کی لیٹس (Lattice)۔
  مثبت آین کے بننے میں آئیونائزیشن شامل ہوتا ہے یعنی ایک تعدیلی ایٹم سے الیکٹران کا خارج ہونا     اور منفی آین کے لیے تعدیلی ایٹم میں الیکٹران کا شامل ہونا۔
آئیونائزیشن اینتھلپی
الیکٹران گیس اینتھالپی
423

الیکٹران گین اینتھالپی، DegH اینتھالپی کی وہ تبدیلی (اکائی 3) ہوتی ہے کہ جب گیسی حالت میں ایٹم اپنی گراؤنڈ اسٹیٹ میں ایک الیکٹران حاصل کرتا ہے۔ الیکٹران گین کا عمل حرارت زا Exothermic ہوسکتا ہے۔ آئینونائزیشن، دوسری طرف، صرف حرارت خور Endothermic ہوتا ہے۔ الیکٹران ایفینٹی الیکٹران گین کے ساتھ شامل منفی توانائی تبدیل ہوتی ہے۔
’’ظاہر ہے کہ آینی بندش ان عناصر میں زیادہ آسانی سے ہوگی جن کی آئیونائزیشن اینتھالپی نسبتاً کم ہوگی اور وہ عناصر جن کی الیکٹران گین اینتھالپی کی منفی قدر نسبتاًزیادہ ہوگی۔ 
زیادہ تر آینی مرکبات میں مثبت آین دھاتی عناصر سے اور منفی آین غیر دھاتی عناصر سے حاصل ہوتے ہیں۔ امونیم آین (دو غیر دھاتی عناصر سے مل کر بنتا ہے) ایک استثنیٰ ہے۔ یہ بہت سے آینی مرکبات کے کیٹ آین بناتا ہے۔
قلمی حالت میں آینی مرکبات میں کیٹ آین اور این آین آپس میں کولمبی باہمی عمل توانائیوں (Coulombic Interation Energies) کے ذریعہ جُڑ کر سہ ابعادی ترتیب میں پائے جاتے ہیں۔ یہ مرکبات مختلف قلمی ساختوں میں کرسٹلائز ہوتے ہیں جس کا انحصار آین کے سائز، پیکنگ کی ترتیب اور دوسرے عوامل پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر NaCl، سوڈیم کلورائڈ کا قلمی ڈھانچہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
424
آینی ٹھوس میں الیکٹران گین اینتھالپی اور آئیونائزیشن اینتھالپی کی کُل مقدار مثبت ہو سکتی ہے لیکن قلمی ساخت کرسٹل لیٹس بننے کے دوران خارج ہونے والی توانائی کی وجہ سے ہی مستحکم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر Na(g) سے Na+(g) بننے کے دوران آئیونائزیشن اینتھالپی 495.8 kJ mol–1 ہوتی ہے؛ جبکہ Cl (g) + e– ® Cl–(g) تبدیلی کے لیے الیکٹران گین اینتھالپی صرف –348.7 kJ mol–1 ہی ہے۔ دونوں کی کُل توانائی 147.1 kJ mol–1، NaCl(s) کی لیٹس تشکیل کی اینتھالپی (–788 kJ mol–1) سے کہیں زیادہ ہے۔ لہٰذا اس عمل میں خارج ہونے والی توانائی جذب ہونے والی توانائی سے زیادہ ہے۔ لہٰذا ایک آینی مرکب لیٹس استحکام کے لیے کیفیتی پیمائش اس کی لیٹس تشکیل کی اینتھالپی کے ذریعہ فراہم کیے جاتے ہیں نہ کہ صرف گیسی حالت میں آینی انواع کے گرد الیکٹرانوں کے آکٹیٹ حاصل کرکے۔
چونکہ لیٹس اینتھالپی آینی مرکبات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، یہ ضروری ہے کہ ہم اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔

4.2.1 لیٹس اینتھالپی (Lattice Enthalpy)

کسی آینی ٹھوس کی لیٹس اینتھالپی کی تعریف اس توانائی کی شکل میں کی جاتی ہے جو ایک مول ٹھوس آینی مرکب کو اس کے گیسی آینوں میں مکمل طور پر علیحدہ کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر NaCl کی لیٹس اینتھالپی 788 kJ mol–1 ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک مول ٹھوس NaCl کو ایک مول Na+(g) اور ایک مول Cl–(g) کو لامتناہی فاصلے تک علیحدہ کرنے کے لیے 788 kJ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس عمل میں مخالف چارج والے آین کے درمیان قوت کشش اور یکساں چارج والے آینوں کے درمیان دافع قوت شامل ہوتی ہے۔ چونکہ ٹھوس قلم سہ ابعادی ہوتے ہیں اس لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ لیٹس کی اینتھالپی براہ راست قوتِ کشش اور دافع قوت کے باہمی عمل سے معلوم کی جاسکے۔ کرسٹل جیومیٹری سے تعلق رکھنے والے عوامل کو بھی اس میں شامل کرنا پڑے گا۔

4.3 بندشی پیرامیٹر (Bond Parameters)

4.3.1 بندشی لمبائی (Bond Length)

ایک سالمے میں بندھے ہوئے دو ایٹموں کے مرکزوں کے درمیان توازنی فاصلہ بندشی لمبائی کہلاتا ہے۔ بندشی لمبائی کی پیمائش اسپیکٹرواسکوپی، ایکسرے ڈیفریکشن اور الیکٹران ڈیفریکشن کے طریقوں سے کی جاتی ہے جس کے بارے میں آپ اعلیٰ جماعتوں میں پڑھیں گے۔ بندشی جوڑے کا ہر ایک ایٹم بندشی لمبائی میں شریک ہوتا ہے (شکل 4.1)۔ شریک گرفت  بندش میں ہر ایک ایٹم کا تعاون اس ایٹم کا شریک گرفت نصف قطر (Covalent Radius) کہلاتا ہے۔
شریک گرفت نصف قطر کی پیمائش اندازاً ایک ایٹم کے مرکز کا نصف قطر ہوتی ہے جو بندشی حالت میں برابر والے ایٹم کے مرکز کے تعلق میں ہوتا ہے۔ شریک گرفت نصف قطر ایک ہی سالمے میں شریک گرفت بند سے بندھے ہوئے دو یکساں ایٹموں کے درمیانی فاصلے کا نصف حصّہ ہوتا ہے۔
425
شکل 4.1 شریک گرفت سالمے AB میں بندشی لمبائی 
R = rA + rB (R بندشی لمبائی ہے اور rA اور rB ایٹم A اور B کے شریک بندش نصف قطر ہیں)
وَن ڈر والز نصف قطر ایٹم کے پورے سائز کو ظاہر کرتا ہے جس میں غیربندشی حالت میں ان کا گرفتی خول شامل ہوتا ہے۔ مزید، وَن ڈر والز نصف قطر اس فاصلے کا آدھا حصّہ ہوتا ہے جو ایک ٹھوس کے علیحدہ سالموں میں یکساں ایٹموں کے درمیان ہوتا ہے۔ شکل 4.2 میں کلورین کے شریک گرفت اور وَن ڈر والز نصف قطر دکھائے گئے ہیں۔
426
شکل 4.2 کلورین سالمے میں شریک گرفت اور وَن ڈر والز نصف قطر اندرونی دائرے کلورین ایٹم کے سائز کے مطابق ہیں (rvdwاور rc بالترتیب وَنڈروالز اور شریک گرفت نصف قطر ہیں)
جدول 4.2 میں کچھ عام اکہرے، دوہرے اور تہرے بند کی اوسط بندشی لمبائیاں دکھائی گئی ہیں۔ کچھ عام سالموں کی بندشی لمبائیاں جدول 4.3 میں دکھائی گئی ہیں۔ جدول 4.4 میں کچھ عام عناصر کے شریک گرفت نصف قطر دکھائے گئے ہیں۔

4.3.2 بندشی زاویہ (Bond Angle)

اس کی تعریف اس زاویہ کی طرح کی جاتی ہے جو کسی سالمے/پیچیدہ آین کے مرکزی ایٹم اور بندشی الیکٹران کا جوڑا رکھنے والے اربٹل کے درمیان ہوتا ہے۔ بندشی زاویے کو ڈگری میں ظاہر کرتے ہیں جو اسپیکٹرواسکوپک طریقوں سے تجرباتی طور پر معلوم کیے جاسکتے ہیں۔یہ ہمیں کسی سالمے/پیچیدہ آین میں مرکزی ایٹم کے گرد اربٹل کی تقسیم کا اندازہ فراہم کرتے ہیں جس کی مدد سے ہمیں اس کی ساخت کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر پانی میں H – O – H میں بندشی زاویہ کو مندرجہ ذیل طریقہ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
427

جدول 4.2 کچھ اکہرے ،دوہرےاور تہرے بند کی اوسط بندشی لمبائیاں

بند کی قسم  (pm)شریک بندش بندشی لمبائی
O-H
C-H
N-O
C-O
C-N
C-C
C=O
N=O
C=C
C=N
C=N
C=C
96
107
136
143
154
121
122
133
138
116
120

جدول 4.3 عام سالموں میں بندشی لمبائی
سالمہ  (pm)بندشی لمبائی 
H2 (H – H)
F2 (F – F)
Cl2 (Cl – Cl)
r2 (Br – Br)
2 (I – I)
N2 (N º N)
O2 (O º O)
HF (H – F)
HCl (H – Cl)
HBr (H – Br)
HI (H – I)
74
144
199
228
267
109
121
92
127
141
160

جدول 4.4 شریک بندش نصف قطر(pm) /

rcov

429
*قیمتیں اکہرے بند کے لیے دی گئی ہیں، سوائے ان کے جہاں قوسین میں قیمت دی گئی ہے۔ (دوری رجحان کے لیے اکائی 3 بھی دیکھیے)

4.3.3  بانڈ اینتھالپی (Bond Enthalpy)

اس کی تعریف اس توانائی کی مقدار کی شکل میں کی جاتی ہے جو گیسی حالت میں دو ایٹموں کے درمیان ایک مخصوص قسم کے 1 مول کو توڑنے میں خرچ ہوتی ہے۔ بانڈ اینتھالپی کی اکائی kJ mol–1 ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہائڈروجن سالمے میں H - H بانڈ اینتھالپی 435.8 kJ mol–1 ہوتی ہے۔ H2(g) ® H(g) + H(g); DaHV = 435.8 kJ mol–1
اسی طرح ان سالموں میں جن میں کثیر بند ہوتے ہیں مثلاً O2 اور N2، میں بانڈ اینتھالپی اس طرح ہوگی:
430
یہ بات اہم ہے کہ بندشی افتراق اینتھالپی (Bond Dissociation Anthalpy) جتنی زیادہ ہوگی، اتنا ہی مضبوط بند سالمے میں ہوگا۔ ایک ہیٹرو نیوکلیرڈائی اٹامِک مالیکیول (Heteronuclear Diatomic Molecule)جیسے HCl کے لیے 431
کثیر ایٹمی سالموں میں بندشی توانائی کی پیمائش زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر H2O سالمے میں دو O – H بند کو توڑنے میں یکساں توانائی کی ضرورت نہیںہوتی۔
432
434 کی قیمتوں کا فرق بتاتا ہے کہ دوسرے O – H بند میں کیمیائی ماحول تبدیل ہونے کی وجہ سے کچھ تبدیلی آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سالموں جیسے C2H5OH (Ethanol) اور پانی کے سالموں میں یکساں O – H بند کے لیے توانائی میں فرق پایا جاتا ہے۔ لہٰذا کثیر ایٹمی سالموں میں اوسط بانڈ اینتھالپی (Average Bond Enthalpy) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے کل بندشی افتراق اینتھالپی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے کل بندشی افتراق انتھالپی کو ٹوٹنے والے بند کی تعداد سے تقسیم کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ پانی کے سالمے کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ میں سمجھایا گیا ہے۔

433

4.3.4 بانڈ آرڈر (Bond Order)

شریک گرفت بند کے لیوئس کے بیان میں بانڈ آرڈر ایک سالمہ میں دو ایٹموں کے درمیان بند کی تعداد کی شکل میں دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر H2 (جس میں مشترک الیکٹران جوڑا ایک ہے)، O2 میں (جس میں مشترک الیکٹران جوڑے دو ہیں) اور N2 میں (جس میں مشترک الیکٹران جوڑے تین ہیں) بانڈ آرڈر بالترتیب 1، 2 اور 3 ہوگا۔ اسی طرح CO میں (C اور O کے درمیان مشترک الیکٹران کے تین جوڑے) میں بانڈ آرڈر 3 ہوگا۔ N2 کے لیے بانڈ آرڈر 3 ہوگا اور اس کی435، 946 kJ mol–1 ہے جو ایک دو ایٹمی سالمہ کے لیے سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
آئسو الیکٹرانی سالموں اور آین میں بانڈ آرڈر مماثل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر F2 اور 436کے بانڈ آرڈر 1 ہیں اور437 کے بانڈ آرڈر 3 ہوتے ہیں۔
’’سالموں کے استحکام کو سمجھنے کے لیے ایک عام ربط یہ ہے کہ : بانڈ آرڈر بڑھنے کے ساتھ بندشی اینتھالپی بڑھتی ہے اور بندشی لمبائی گھٹتی ہے۔‘‘ 

4.3.5 گمک ساختیں (Resonance Structures)

کبھی کبھی یہ دیکھا گیا ہے کہ واحد لیوئس ساخت کسی سالمے کے اظہار میں اس کے تجرباتی طور پر متعین کیے گئے پیرامیٹر سے مطابقت رکھنے میں ناکافی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اوزون، O3 سالمے کو ساخت I اور ساخت II دونوں طرح سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔
دونوں ساختوں میں ایک O – O اکہرا بند اور ایک O = O دوہرا بند ہے۔ عام طور پر O–O اور O=O بندشی لمبائیاں بالترتیب 148 pm اور 121 pm ہوتی ہیں۔ تجرباتی طور پر معلوم کی گئی O – O بندشی لمبائیاں O3 میں برابر ہوتی ہیں (128 pm)۔ لہٰذا O3 سالمے میں O–O بند اکہرے اور دوہرے بند کے درمیان ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں مندرجہ بالا دونوں لیوئس ساختوں میں سے کسی کے ذریعہ نہیں دکھایا جاسکتا۔
438
(ساخت I اور ساخت II مستند (Cononical) اشکال کا اظہار کرتی ہیں اور ساخت III اس کی گمک مخلوط ہے)
O3جیسے سالموں کی صحیح ساخت کے اظہار میں آنے والی دشواریوں سے نپٹنے کے لیے ہی گمک کا تصور پیش کیا گیا ہے ’’گمک کے تصور کے مطابق جب کبھی بھی کوئی ایک لیوئس ساخت کسی سالمے کی ساخت کو صحیح طور پر ظاہر نہیں کر سکے گی تو بہت سی ساختیں جو توانائی، مرکزوں کے مقام، الیکٹرانوں کے بندشی اور غیر بندشی جوڑے میں یکساں ہوں گی تو انہیں مخلوط کی مستند ساختوں کے طور پر لیا جائے گا جو سالمے کی ساخت کو بالکل صحیح طور پر ظاہر کریں گی‘‘۔ لہٰذا O3 کے لیے مندرجہ بالا دو ساختیں مستند یا گمک ساختیں بناتی ہیں اور ان کا مخلوط یعنی III ساخت O3 کی ساخت کو زیادہ صحیح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ اس کو ’گمک مخلوط‘ (Resonance Hybrid) بھی کہتے ہیں۔ گمک کو دو سروں والے تیر سے ظاہر کرتے ہیں۔
کاربونیٹ آین اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے سالمے گمک ساختوں کی کچھ اور مثالیں ہیں۔

مسئلہ 4.3

گمک کی اصطلاح میں439 آین کی وضاحت کیجیے۔

حل

کاربن اور آکسیجن کے درمیان دو اکہرے بند اور ایک دوہرے بند پر منحصر واحد لیوئس ساخت سالمے کو ظاہر کرنے کے لیے ناکافی ہے کیونکہ وہ غیر مساوی بندش کو ظاہر کرتا ہے۔ تجربات کی بنیاد پر نتائج کے مطابق 440 کے تمام بند مساوی ہیں۔ لہٰذا کاربونیٹ آین کو مستند اشکال I، II اور III کے گمک مخلوط کی شکل میں مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

کو مستند اشکال    اور    کے گمک مخلوط کی شکل میں مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
picture 1
شکل4.4  CO32 میں گمکI,II اورIIIتین مستند اشکال دکھاتے ہیں۔

مسئلہ 4.4
CO2 سالمے کی ساخت کی وضاحت کیجیے۔

حل 

CO2 میں کاربن اور آکسیجن کے درمیان بندشی لمبائی تجرباتی طور پر 115 pm معلوم کی گئی ہے۔ کاربن اور آکسیجن کے درمیان دوہرابند (C = O) اور کاربن اور آکسیجن کے درمیان تہرے بند (C º O) کی لمبائی عام طور پر بالترتیب 121 pm اور 110 pm ہوتی ہے۔ CO2 میں کاربن اور آکسیجن کے درمیان بندشی لمبائی 115 pm، C = O اور C º O کی قیمتوں کے درمیان ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک واحد لیوئس ساخت اس صورت حال کو ظاہر نہیں کر سکتا اور یہ لازمی ہو جاتا ہے کہ ایک سے زیادہ لیوئس ساختیں لکھی جائیں اور یہ خیال کیا جائے کہ CO2 کی ساخت، مستند یا گمک اشکال I، II اور III کے مخلوط کی شکل میں زیادہ صحیح طور پر دکھائی جاسکتی ہے۔
442
شکل 4.5 CO2 سالمے میں گمک I، II اور III مستند اشکال دکھاتی ہیں
عمومی طور پر کہا جاسکتا ہے 
l گمک سالمے کو مستحکم کر دیتا ہے کیونکہ گمک مخلوط کی توانائی کسی بھی ایک مستند ساخت سے کم ہوتی ہے؛ اور
•  گمک بندش کی خصوصیات بحیثیت کل اوسط کر دیتا ہے۔
لہٰذا O3 مخلوط گمک کی توانائی اس کی دو مستند اشکال I اور II (شکل4.3) سے کم ہوتی ہے۔

گمک سے متعلق کچھ غلط فہمیاں ہیں جن کو دور کرنا لازمی ہے۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ:
•  مستند اشکال کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
کوئی سالمہ ایک لمحہ کے لیے ایک مستند شکل اور دوسرے لمحے میں دوسری مستند شکل میں نہیں پایا جاتا۔
•  مستند اشکال کے درمیان ایسا کوئی توازن نہیں ہوتا جیسے کہ ٹوٹومیرزم میں ٹوٹومیرک (کیٹو اور اینول) شکلوں میں دیکھتے ہیں۔
سالمے کی ایک ہی ساخت ہوتی ہے جو مستند اشکال کی گمک مخلوط ہوتی ہے اور جسے ایک لیوئس ساخت سے ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔

4.3.6 بند کی قطبیت (Polarity of Bonds)

سوفیصد آینی یا شریک گرفت بندش کا وجود ایک مثالی صورت حال ہے۔ حقیقت میں کوئی بھی بندش پوری طرح سے آینی یا شریک بندش نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ ہائڈروجن کے دو ایٹموں کے درمیان شریک گرفت بندش میں کچھ آینی خصوصیت بھی ہوتی ہے۔
جب دو یکساں ایٹموں مثال کے طور پر H2، O2، C12، N2 یا F2 کے درمیان شریک گرفت بندش ہوتی ہے۔ تو مشترک الیکٹرانوں کے جوڑے پر دونوں ایٹموں کے ذریعہ برابر کی کشش ہوتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر الیکٹران جوڑا مماثل مرکزوں کے عین درمیان ہوتا ہے۔ اس طرح سے بننے والا بند غیر قطبی شریک گرفت بند کہلاتی ہے۔ اس کے برخلاف غیر متجانس مرکزی سالموں (Heteronuclear Molecule) جیسے HF میں دو ایٹموں کے درمیان مشترک الیکٹرانوں کا جوڑا فلورین کی سمت جھک جاتا ہے کیونکہ فلورین کی الیکٹران منفیت ہائڈروجن کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے (اکائی 3)۔ حاصل شدہ شریک گرفت بند قطبی شریک گرفت بند ہے۔
قطبیت کی وجہ سے سالموں میں ڈائپول مومنٹ (Dipole Moment) ہوتا ہے (جیسا کہ ذیل میں ظاہر کیا گیا ہے) جس کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ مثبت اور منفی چارج کے مرکز کے درمیانی فاصلے اور چارج کی قدر کے حاصل ضرب کے برابر ہوتا ہے۔ اس کو یونانی حرف 'µ' (میؤ) سے ظاہر کرتے ہیں۔ ریاضیاتی طور پر اسے مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کرتے ہیں۔
چارج (Q)   ×علیحدگی کا فاصلہ 444 ڈائپول مومنٹ 
ڈائپول مومنٹ کو عام طور پر ڈِبائی اکائی (D) سے ظاہر کرتے ہیں۔ کنورژن فیکٹر مندرجہ ذیل ہے: 
1 D = 3.33564 × 10–30 C m
جہاں C کو لمب اور m میٹر ہے۔
مزید یہ کہ ڈائپو ل مومنٹ ایک ویکٹر ہے اور اسے ایک چھوٹے سے تیر کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں جس کی دُم منفی مرکز کی طرف اور سَر مثبت مرکز کی طرف ہوتا ہے۔لیکن کیمیا میں ڈائپول مومنٹ کی موجودگی کو صلیبی تیر445کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے جو سالمے کی لیوئس ساخت کے اوپر ہوتا ہے۔اس کا صلیب مثبت جانب جب کے سر منفی جانب ہوتا ہے۔مثال کے طور پر HF کے ڈائپول مومنٹ کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں:
446
یہ تیر سالمے میں الیکٹران کی کثافت میں تبدیلی کی سمت کو ظاہر کرتا ہے ۔نوٹ کیجیے کہ صلیبی تیر کی سمت ڈائپول مومنٹ کی روایتی سمت کے مخالف ہے۔
کثیر ایٹمی سالموں میں ڈائپول مومنٹ نہ صرف بندشوں کے منفرد ڈائپول مومنٹ، جس کو بانڈ ڈائپول (Bond Dipole) بھی کہتے ہیں، پر منحصر ہوتا ہے بلکہ سالمے میں مختلف بندشوں کے مکانی تنظیم پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں سالمے کے ڈائپول مومنٹ مختلف بند کے ڈائپول مومنٹ کاویکٹر حاصل جمع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر H2O کا سالمہ جس کی ساخت خمیدہ ہوتی ہے O – H کے دو بندوں کے درمیان° 104.5 کا زاویہ ہوتاہے 448 447 بند کے ڈائپول مومنٹ کا حاصل ہوتا ہے۔
پیٹرڈِبائی، ڈچ کیمیاداں جسے 1936 میں ایکسرے ڈیفریکشن اور ڈائی پول مومنٹ میں اپنے کام پر نوبل انعام ملا تھا۔ ان کے اعزاز میں ڈائپول مومنٹ کی مقدار ڈبائی اکائی میں ظاہر کی جاتی ہے۔
449

451
(b)                                (a)
حاصل بند ڈائپول                بند ڈائپول

کل ڈائپول مومنٹ 452

453
BeF2 میں ڈائپول مومنٹ صفر کے برابر ہوتا ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ دو مساوی بند ڈائپول نقطے مخالف سمت میں ہوتے ہیں ایک دوسے کے اثر کو ختم کر دیتے ہیں۔
454
BeF2 میں کل ڈائپول مونٹ                           
BeF2 میں ڈائپول مونٹ
ٹیٹرا ایٹمی سالموں جیسے BF3 میں، ڈائپول مومنٹ صفر ہوتا ہے حالانکہ B – F بند ایک دوسرے سے 120° پر ہوتے ہیں۔ تین بانڈ مومنٹ کا کل مجموعہ صفر ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی دو حاصل کا تیسرے کے مخالف اور مساوی ہوتا ہے۔
455
BF3 سالمہ: (a) ڈائپول مومنٹ، (b) کل ڈائپول مومنٹ کو ظاہر کرتے ہوئے
آئیے ہم NH2 اور NF3 کے دلچسپ کیس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ دونوں سالموں کی شکل پائیرامڈل ہے جس میں نائٹروجن ایٹم کے اوپر ایک الیکٹران کا تنہا جوڑا ہے۔ حالانکہ کلورین، نائٹروجن سے زیادہ الیکٹرونگیٹو ہے NH3 کا حاصل ڈائپول مومنٹ456سے زیادہ ہے 457۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ NH3 میں تنہا جوڑے کی وجہ سے اربٹل ڈائپول اسی سمت میں ہے جس سمت میں N – H بانڈ کا حاصل ڈائپول مومنٹ ہے، جبکہ NF3 میں اربٹل ڈائپول N – F3 بانڈ کے حاصل ڈائپول مومنٹ کی مخالف سمت میں ہے۔ تنہا جوڑے کی وجہ سے ڈائپول مومنٹ N – F کے حاصل مومنٹ کے اثر کو زائل کر دیتا ہے جس کی وجہ NF3 کا ڈائپول مومنٹ کم ہوتا ہے۔ جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
کچھ سالموں کے ڈائپول مومنٹ جدول 4.5 میں دکھائے گئے ہیں۔
458
NF3میں حاصل ڈائپو مومنٹ 
0.80*10-30  cm=                  
NH3 میں حاصل ڈائپو مومنٹ
cm=10-30*4.90

جیسا کہ تمام شریک گرفت بند میں جزوی آینی خصوصیت ہوتی ہے۔ آینی بند میں بھی جزوی شریک گرفت خصوصیت ہوتی ہے۔ آینی بند کی جزوی شریک گرفت خصوصیت کو فاجان نے مندرجہ ذیل اصول کی شکل میں بیان کیا ہے۔ 

•  کیٹ آین کا سائز جتنا چھوٹا اور این آین کا سائز جتنا بڑا ہوگا آینی بند کا شریک گرفتی کردار اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
•  کیٹ آین پر جتنا زیادہ چارج ہوگا۔ آینی بند کی شریک گرفت خصوصیت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

•  یکساں سائز اور چارج والے کیٹ آین میں جس کا الیکٹرانی تشکل عام عبوری دھات کی طرح 459ہوگا اس سے وہ زیادہ قطبی ہوگا جس کا الیکٹرانی تشکل نوبل گیس 460خاص قلوی اور قلوی ارضی دھاتوں کے دھاتی کیٹ آین کی طرح ہوگا۔

کیٹ آین الیکٹرانی چارج کو اپنی سمت کھینچ کر این آین کی تقطیب کرتا ہے اور اس طرح دونوں کے درمیان الیکٹرانی چارج بڑھ جاتا ہے۔ بالکل یہی شریک گرفت بند میں ہوتا ہے۔ یعنی نیوکلیس کے درمیان الیکٹرانی چارج کثافت بڑھ جاتی ہے۔ کیٹ آین کی تقطیب کی صلاحیت، این آین کی تقطیب کی صلاحیت اور این آین کے مسخ آین سازی ہونے کی حد وہ عوامل ہیں جو آینی بند کی فی صد شریک گرفت خصوصیت کا تعین کرتے ہیں۔

4.4  ویلنس شیل الیکٹران پیئر ریپلژن تھیوری (VSEPR) 

جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے، لیوئس کا نظریہ سالموں کی ساخت کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ نظریہ شریک گرفت سالموں کی شکل کی پیشین گوئی کا آسان طریقہ فراہم کرتا ہے۔ سِڈوک اور پاول نے 1940 میں ایٹم کے گرفتی خول میں الیکٹران جوڑوں کے درمیان دافع باہمی عمل کی بنیاد پر سادہ نظریہ پیش کیا۔ اس کو نیہوم اور گلسپی نے 1957 میں مزید آگے بڑھایا اور دوبارہ تعریف بیان کی۔

جدول 4.5 کچھ چنندہ سالمات کے ڈائپول مومنٹ
جیومیٹری ڈائپول مومنٹ  مثال سالمے کی قسم

(Linear)خطّی
(Linear)خطّی
(Linear)خطّی
(Linear)خطّی
(Linear)خطّی
1.78
1.07
0.79
0.38
0
HF
HCI
HBr
HI
H2
(AB) سالمہ
(Benth)خمیدہ
(Benth)خمیدہ
(Linear)خطّی
1.85
0.95
0
H2O
H2s
CO2
(AB2)  سالمہ

(Trigonal-Pyramidal)ٹرائی گونل بائیپر امڈل
(Trigonal-Pyramidal)ٹرائی گونل بائیپر امڈل
(Trigonal-Planar)ٹرائی گونل پلیز
1.47
0.23
0
NH3
NF3
BF3
(AB3) سالمہ

(Tetrahedral)ٹیٹرا ہیڈرل
(Tetrahedral)ٹیٹرا ہیڈرل
(Tetrahedral)ٹیٹرا ہیڈرل
0
1.04
0
CH4
CHCI3
CCI4
(Ab4)سالمہ


VSEPR نظریہ کے اہم مفروضات مندرجہ ذیل ہیں:
•  سالمے کی شکل کا انحصار مرکزی ایٹم کے گرد گرفتی خول کے الیکٹران جوڑوں (بندشی یا غیر بندشی) کی تعداد پر ہوتا ہے۔
•  گرفتی خول میں الیکٹران کے جوڑے ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں کیونکہ ان الیکٹران بادلوں پر منفی چارج ہوتا ہے۔
•  الیکٹرانوں کے یہ جوڑے اسپیس میں ایسا مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں قوت دافعہ کم سے کم ہو لہٰذا ان کے درمیان فاصلہ زیادہ سے زیادہ ہوگا۔
•  گرفتی خول کو ایک کرّہ (Sphere) کی طرح مانا جاتا ہے جہاں الیکٹران اس کی کرّوی سطح پر ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے۔
•  کثیر بند کو ایک واحد الیکٹران جوڑے کی طرح سمجھا جاتا ہے اور کثیر بند کے دو یا تین الیکٹران جوڑوں کو واحد عظیم جوڑا سمجھتے ہیں۔
•  VSEPR ماڈل ان ساختوں میں استعمال ہو سکتا ہے جہاں دو یا دو سے زیادہ گمک ساختیں ایک سالمے کو ظاہر کرتی ہیں۔

الیکٹران جوڑوں کا دافع باہمی عمل مندرجہ ذیل ترتیب میں گھٹتا ہے:

>(bp) بندشی جوڑا – (lp) تنہا جوڑا > (lp) تنہا جوڑا – (lp) تنہا جوڑا (lp) – بندشی جوڑا – بندشی جوڑا (bp)
(lp – lp > lp – bp > bp – bp)
نیوہوم اور گلسپی (1957) نے VSEPR ماڈل کو الیکٹرانوں کے تنہا جوڑے اور بندشی جوڑے کے درمیان اہم فرق کو سمجھا کر بہتر بنانے کی کوشش کی۔ الیکٹرانوں کا تنہا جوڑا مرکزی ایٹم پر ہی قائم رہتا ہے جبکہ ہر گرفتی جوڑا دو ایٹموں کے درمیان مشترک ہوتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر سالمے میں تنہا الیکٹرانوں کا جوڑا الیکٹرانوں کے گرفتی جوڑے کے مقابلے میں زیادہ جگہ گھیرتا ہے۔ اسی لیے لون پیئر- لون پیئر میں ہٹاؤ زیادہ ہوتا ہے بہ نسبت لون پیرء - بانڈ پیئر اور بانڈ پیئر- بانڈپیئر کے اسی ہٹاؤ کی وجہ سے سالموں کے بندشی زاویوں میں تبدیلی اور ان کی مثالی شکلوں میں فرق پائے جاتے ہیں۔
’’VSEPR نظریے کے مطابق سالموں کی جیومیٹریائی اشکال کی پیشین گوئی کے لیے سالموں کو دو جماعتوں میں تقسیم کرنا آسان ہوتا ہے جیسے (i) ایسے سالمے جن کے مرکزی ایٹم پر الیکٹرانوں کا تنہا جوڑا نہ ہو اور (ii) ایسے سالمے جن کے مرکزی ایٹم پر ایک یا ایک سے زیادہ الیکٹرانوں کے تنہا جوڑے ہوں۔‘‘
جدول 4.6 میں AB قسم کے کچھ سالموں/آینوں کی جیومیٹری اور مرکزی ایٹم A پر (بغیر تنہا الیکٹران کے جوڑے کے) الیکٹران کے جوڑوں کی ترتیب کو دکھایا گیا ہے۔ جدول 4.7 میں کچھ سادہ سالموں اور آینوں کی اشکال کو دکھایا گیا ہے جن میں مرکزی ایٹم پر ایک یا دو لون پیئر ہیں۔
جدول 4.8 ان وجوہات کی وضاحت کرتی ہے جو سالموں کی جیومیٹری مسخ ہونے کے لیے ذمہ دار ہیں۔
جیسا کہ جدول 4.6 میں دکھایا گیا ہے، AB2، AB3، AB4، AB5 اور AB6 مرکبات میں مرکزی ایٹم A کے گرد الیکٹران جوڑوں اور B ایٹموں کی ترتیب خطی (Linear)، ٹرائی گونل پلینر ٹیٹراہیڈرل، ٹرائی گونل بائی پرامڈل اور آکٹاہیڈرل ہے۔ اس طرح کی ترتیب BF3 (AB3) (AB4) PCl4 اور (AB5) PCl5 جیسے سالموں میں دیکھنے کو ملتی ہے اور انہیں نیچے گیند اور چھڑ ماڈل کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔
501
شکل 4.6 ان سالمات کی شکل جن کے مرکزی ایٹم پر تنہا جوڑا نہیں ہے
VSEPR نظریہ سالموں کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر پی-بلاک کے عناصر کی جیومیٹری کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔ یہ اس وقت بھی سالمے کی جیومیٹری کو بہت حد تک بالکل صحیح صحیح بتانے میں کامیاب ہوتا ہے جب ممکنہ اشکال کے درمیان توانائی کے فرق بہت کم ہوں۔ VSEPR نظریہ کی سالموں کی اشکال پر الیکٹران جوڑوں کے دفاعی عمل سے متعلق اثرات کی نظریاتی بنیاد بہت زیادہ مضبوط نہیں ہے اور یہ شبہات اور بحث کا موزوں بنا ہوا ہے۔

4.5گرفت بند نظریہ (Valence Bond Theory)

ہم جانتے ہیں کہ لیوئس کا نظریہ سالموں کی ساخت لکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے لیکن یہ کیمیائی بند کے بننے کی وجوہات کی وضاحت کرنے میں ناکام ہے۔ یہ H2 اور F2 جیسے سالموں میں بند افتراق اینتھالپی اور بندشی لمبائی (H2 کے لیے 435.8 kJ mol–1، 74 pm اور F2 کے لیے 150.6 kJ mol–1، 42 pm کے فرق کی وجوہات کی بھی وضاحت نہیں کرتا حالانکہ دونوں میں اپنے اپنے ایٹموں کے درمیان ایک الیکٹران جوڑے کے اشتراک سے تنہا شریک بندش بند بنتا ہے۔ یہ کثیر ایٹمی سالموں کی شکل کے بارے میں بھی کوئی تصور پیش نہیں کرتا۔
 اسی طرح VSEPR کا نظریہ سادہ سالموں کی جیومیٹری بتاتا ہے لیکن نظریاتی طور پر یہ ان کی وضاحت نہیں کرتا اور اس کے محدود استعمال ہیں۔ ان حدود کو پار کرنے کے لیے کوانٹم میکانیکی اصولوں کی بنیاد پر دو اہم نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ ویلنس بانڈ نظریہ اور مولیکیولر آربٹل نظریات ہیں۔
ویلنس بانڈ تھیوری ہیٹلر اور لنڈن نے 1927 میں پیش کی اور پالنگ اور دیگر سائنسدانوں نے اسے مزید آگے بڑھایا۔ ویلنس بانڈ تھیوری پر بحث عناصر کے الیکٹرانی تشکل (اکائی 2)، ایٹمی اربٹل کا اوورلیپنگ کرائٹیریا ایٹمی اربٹل کی ہائبریڈائزیشن تغیر اور انطباق کے اصولوں کے علم پر مبنی ہے۔ ان پہلوؤں کے مطابق ویلنس بانڈ تھیوری پر تفصیلی بحث اس کتاب کے احاطہ سے باہر ہے۔ لہٰذا آسانی کے لیے ویلنس بانڈ تھیوری پر بحث کیفیتی اور غیر ریاضیاتی طرز عمل کی اصطلاح میں ہی کی گئی ہے۔ ابتدا میں آئیے ہائڈروجن سالمے کے بننے کے عمل کو دیکھتے ہیں جو تمام سالموں میں سب سے سادہ ہے۔

جدول 4.6 سالموں کی جیومیٹری جن کے مرکزی ایٹم پرلون پیئر الیکٹرسن نہیں ہوتے
مثالیں سالمے کی جیومیٹری الیکٹران جوڑوں کی ترتیب الیکٹران جوڑوں کی تعداد
BeC12,  HgC12 B-A-B
خطّی
picture 3
خطّی
2
BF3
picture 8
ٹرائی گونل پلیز
picture 4
ٹرائی گونل پلیز
3
CH4, NH4+
picture 9
ٹیٹرا ہیڈرل
picture 5
ٹیٹرا ہیڈرل
4
PC15
picture 10
ٹرائی گونل بائی پیرامڈل
picture 6
ٹرائی گونل بائی پیرامڈل
5
SF6
picture 11
آکٹا ہیڈرل
picture 7
آکٹا ہیڈرل
6

جدول 4.7 کچھ سادہ سالموں /آئنوں کی شکل(جیومیٹری)جن کے مرکزی ایٹم پر ایک یا ایک سے زیادہ تنہاں الیکٹرانوں کا جوڑا ہے۔
مثال جیومیٹری الیکٹران جوڑوں کی ترتیب تنہاں جوڑوں کی تعداد بندشی جوڑوں کی تعداد سالموں کی قسم
SO2, O3 خمیدہ
picture 12
ٹرائی گونل سطحی
1 2 AB2E
NH3 ٹرائی گونل پیرامڈ
picture 13
ٹیٹرا ہیڈرل
1 3 AB3E
H2O خمیدہ
picture 14
سہ گوشی دوہری
2 2 AB2E2
SF4 سی سا
picture 15
سہ گوشی ہرمی
1 4 AB4E
C1F3 شکل
picture 16
ٹرائی گونل بائی پیرامڈل
2 3 AB3E2
BrF5 مربع پیرامڈ
picture 17
آکٹا ہیڈرل
1 5 AB5E
XeF4 مربع سطحی
picture 18
آکٹا ہیڈرل
2 4 AB4E2


جدول 4.8 بونڈ پیئر اور لون پیئر رکھنے والے سالموں کی اشکال

حاصل شدہ شکل کی وجوہات شکل الیکٹرانوں کی ترتیب
تنہا جوڑوں کی تعداد بندشی جوڑوں کی تعداد سالمے کی قسم
نظریاتی طور پر اس کی شکل ٹرائی انگیولر سطحی ہونی چاہیے لیکن اس کی شکل خمیدہ ہوتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے اس میں لون پیئر -بونڈ پیئر قوت دافعہ زیادہ ہے بہ نسبت بونڈ پیئر قوت دافعہ
ہے لہذا زاویہ  120 سے گھٹ کر 119.5 رہ گیا۔
خمیدہ picture 20 1 4 AB2E
اگر یہاں   کی جگہ  ہوتا تو اس کی شکل ٹیٹرا ہیڈرل ہوتی لیکن ایک تنہا جوڑا موجود ہے 
 (لہذا   -  قوت دافعہ سے(جو    وقت دافعہ سے زیادہ ہے
کی وجہ سے گرفتی جوڑوں کے درمیان زاویہ109.5 سے گھٹ کر107 ہو گیا ہے
ٹرائی گونل بائی پیرامڈ picture 21 1 3 AB3E
یہ سکل ٹیٹرا ہیڈرل ہوتی اگر یہاں چاروں بونڈ پیئر    ہوتے لیکن دو لون پیئر   موجود ہیں 
جس کی وجہ سے شکل مسخ شدہ ٹیٹرا ہیڈرل یا خمیدہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ    
 وقت دافعہ    قوت دافعی سے زیادہ ہے  جو      سے زیادہ ہے لہذا زاویہ 109.5 سے گھٹ کر 104.5 رہ گیا۔ 
خمیدہ picture 22
2 2 AB2E2
(a)
 میں IP محوری مقام پر موجود ہے لہذا 90 پر تین  1p-bp  قوت دافعہ ہیں   میں   خط استوائی مقام پر ہے
اور دو  1p-bp   قوت دافعہ ہیں لہذا   کی تنظیم زیادہ مستحکم ہے۔  میں ظاہر کی گئی شکل مسخ شدہ ٹیٹرا ہیڈرن ،تہہ دار مربع یا سی سا کہلاتی ہے۔
سی-سا
picture 23
زیادہ مستحکم
1 4 AB4E


حاصل شدہ جوڑوں کی وجوہات شکل الیکٹرانوں کی ترتیب تنہا جوڑوں کی تر تیب بندشی جوڑوں کی تعداد سالمے کی قسم
(a) میں lp استوائی مقام پر ہیں لہٰذا lp-bp قوت دافعہ کم ہوگی بہ نسبت دوسروں کے جن میں lp محوری مقام پر ہیں لہٰذا (a) کی شکل زیادہ مستحکم ہوگی۔ (-T شکل) شکل -T picture 24 2 3 AB2E2
picture 25
picture 26


مان لیجیے ہائڈروجن کے دو ایٹم A اور B جن کے مرکز NA اور NB ہیں، ایک دوسرے کی سمت آرہے ہیں۔ ان میں موجود الیکٹرانوں کو CA اور CB سے دکھایا گیا ہے۔ جب یہ دونوں ایٹم ایک دوسرے سے زیادہ فاصلے پر ہیں تو ان کے درمیان کوئی کشش نہیں ہوتی۔ جیسے جیسے یہ ایک دوسرے کے نزدیک آتے ہیں، نئی قوتِ کشش اور دافع قوتِ عمل پیرا ہیں۔ 
قوت کشش پیدا ہوتی ہے:
(i)  ایک ایٹم کے مرکز اور اس کے ہی الیکٹران کے درمیان یعنی507 508
(ii)  ایک ایٹم کے نیوکلیس اور دوسرے ایٹم کے الیکٹران کے درمیان یعنی 509
اسی طرح دافع قوتِ پیدا ہوگی:
(i)  دونوں ایٹموں کے الیکٹرانوں کے درمیان یعنی 510
(ii)  دونوں ایٹموں کے نیوکلیس کے درمیان یعنی 511
قوت کشش دونوں ایٹموں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے کی کوشش کرے گی جبکہ قوتِ دافعہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کرے گی (شکل 4.7)۔
پرانی قوتیں---------
نئی قوتیں--------
قوت کشش
وقت دافعہ
506
شکل 4.7 H2 ساملے کی تشکیل کے دوران کشش اور دافع قوتیں

تجرباتی طور پر یہ پایا گیا ہے کہ نئی قوتِ کشش کی قدر نئی دافع قوتِ سے زیادہ ہوتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر دونوں ایٹم ایک دوسرے کے نزدیک آتے ہیں اور ان کی مضمر توانائی (Potential Energy) کم ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک مقام وہ آتا ہے جہاں کل قوتِ کشش اور دافع قوتِ میں توازن پیدا ہو جاتا ہے اور نظام کمترین توانائی حاصل کرتا ہے۔ اس مقام پر دونوں ہائڈروجن ایٹم بندھ جاتے ہیں اور ایک مستحکم سالمہ بناتے ہیں جس کی بندشی لمبائی 74 pm ہوتی ہے۔
چونکہ توانائی کا اخراج ہوتا ہے جب ہائڈروجن کے دو ایٹموں کے درمیان بند بنتا ہے، لہٰذا ہائڈروجن کا سالمہ تنہا ہائڈروجن ایٹموں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ اس میں جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ بانڈاینتھالپی کہلاتی ہے جو شکل 4.8 میں دکھائے گئے منحنی کی سب سے نچلی سطح کے مطابق ہے۔ اس کے برعکس ایک مول ہائڈروجن کے سالموں کو جُدا کرنے میں 435.8 kJ mol–1 توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
H2(g) + 435.8 kJ mol–1 → H(g) + H(g)
علیحدگی کا فاصلہ
بانڈ تونائی
بین مرکزی قوتیں
بندشی لمبائی تونائی
512
شکل 4.8 H2 سالمہ کی تشکیل کا مضمر توانائی منحنی H2 ایٹموں کے بین مرکزی فاصلوں کے فنکشن کی حیثیت سے۔ خم کا کمترین حصّہ H2 سالمہ کی سب سے زیادہ مستحکم حالت کو ظاہر کرتا ہے۔

4.5.1 اربِٹل اوور لیپ کا تصور

 (Orbital Overlap Concept)

ہائڈروجن سالمے کی تشکیل میں کمترین توانائی کا ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں ہائڈروجن کے دو ایٹم اتنے نزدیک ہوتے ہیں کہ ان کے ایٹمی اربٹل کے مابین جُزوی دخل اندازی ہوتی ہے۔ ایٹمی اربٹل کی یہ جُزوی دخل اندازی ایٹمی اربٹل کی اوورلیپنگ کہلاتی ہے جس کے نتیجہ میں الیکٹرانوں کے جوڑے بنتے ہیں۔ اوورلیپ کی مقدار شریک گرفت بند کی توانائی کو طے کرتی ہے۔ عام طور پر جتنی اوورلیپنگ ہوگی دو ایٹموں کے درمیان بننے والا بند اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ لہٰذا اربِٹل اوورلیپ کے تصور کے مطابق دو ایٹموں کے درمیان شریک گرفت بند کی تشکیل بندش خول میں موجود متضاد اسپِن والے الیکٹرانوں کے جوڑے بننے کے نتیجے میں ہوتی ہے۔

4.5.2 بندشوں کی سمتی خصوصیات

(Directional Properties of Bonds)

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ شریک گرفت بند کی تشکیل ایٹموں کے اربٹل کی اوورلیپنگ کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ ہائڈروجن کا سالمہ دو H ایٹموں کے 1s اربٹل کی اوورلیپنگ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
کثیر ایٹمی سالموں جیسے CH4، NH3 اور H20 میں بند کی تشکیل کے علاوہ ان کی جیومیٹری بھی اہم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسا کیوں ہے کہ CH4 سالمہ کی شکل ٹیٹراہیڈرل اور بندشی زاویہ HCH، 109.5° ہے؟ NH3 سالمہ کی شکل پیرامڈل کیوں ہوتی ہے؟
ویلنس بانڈ تھیوری CH4، NH3 اور H2O جیسے کثیر ایٹمی سالموں میں بند کی شکل ،ان کے بننے کے عمل اور سمتی خصوصیات کی وضاحت ایٹمی اربٹل کی اوورلیپنگ اور ہائبریڈائزیشن کی اصطلاح میں کرتی ہے۔

4.5.3 ایٹمی اربٹل کی اوورلیپنگ

(Overlapping of Atomic Orbitals)

جب اربٹل دو ایٹم بند تشکیل دینے کے لیے قریب آتے ہیں تو ان کا یہ اوورلیپ مثبت، منفی یا صفر ہو سکتا ہے اس کا انحصارنشان (ہیئت)اور جگہ میںمداری لہر کے فنکشن کی وسعت اور اس کی تشریق کی سمت پر ہوتا ہے (شکل4.9)سرحدی سطح ڈائگرام میں دیے گیے مثبت اور منفی نشانات مداری لہر کا نشان (ہیئت)ظاہر ہوتے ہیں ۔ان کا چارج سے تعلق نہیں ہوتا ہے ۔بند بنانے کے لیے اربٹل کے نشان (ہیئت)اور سمت یکساں ہونے چاہئیں ۔اسے مثبت اوورلیپ کہتے ہیں۔ s اور p اربٹل کے متعدد اوورلیپوں کو شکل 4.9 میں ظاہر کیا گیا ہے۔
شریک گرفت بندش کی تشکیل کے خاص عوامل کے طور پر اوورلیپ کے معیار کا اطلاق ہومونیوکلیر/ ہیٹرونیوکلیر دو ایٹمی سالموں اور کثیر ایٹمی سالموں پر یکساں طور سے ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ CH4، NH3 اور H2O سالموں کی اشکال بالترتیب ٹیٹراہیڈرل، پیرامڈل اور خمیدہ ہوتی ہیں۔ یہ ایک دلچسپ بات ہوگی اگر ہم VBتھیوری کا استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کریں کہ کیا ان جیومیٹریکل اشکال کو اربٹل اوورلیپ کی اصطلاح میں واضح کیا جاسکتا ہے؟
منفی(یا ہیئت کے اندر)اوورلیپ     مثبت(یا ہیئت کے باہر)اوور لیپ
513
شکل 4.9 s، p اربٹل کی مثبت، منفی اور صفر اوورلیپ
آئیے ہم پہلے CH4 (میتھین) سالمہ کو لیتے ہیں گراؤنڈ اسٹیٹ پر کاربن کا الیکٹرانی تشکل [He] 2S2 2p2 ہے جو کہ مشتعل حالت (Excited State) میں514ہو جاتی ہے۔ مشتعل ہونے کے لیے دستیاب توانائی، کاربن اور ہائڈروجن کے اربٹل کے درمیان اوورلیپ کے دوران خارج ہونے والی توانائی سے فراہم ہوتی ہے۔ کاربن کے چار اربٹل جن میں سے ہر ایک میں ایک تنہا بغیر جوڑے کا الیکٹران ہوتا ہے چار ہائڈروجن کے 1s اربٹل جن میں خود بھی ایک ہی الیکٹران ہوتا ہے، سے اوورلیپ کر سکتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر چار C-H بند بنتے ہیں۔ تاہم یہ دیکھا جائے گا کہ جبکہ کاربن کے تین p اربٹل ایک دوسرے سے °90 پر ہوتے ہیں ان کے لیے HCH زاویہ بھی °90 ہوگا۔ اس طرح تین C-H بند ایک دوسرے سے °90 پر ہوں گے۔ کاربن کا 2s اربٹل اور ہائڈروجن کا 1s اربٹل کرّوی متشاکل ہوتے ہیں اور کسی سمت بھی اوورلیپ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا چوتھے C-H بند کی سمت واضح نہیں کی جاسکتی۔ یہ بیان HCH ٹیٹراہیڈرل زاویہ °109.5 سے مطابقت نہیں رکھتا۔ صاف ظاہر ہے کہ صرف ایٹمی اربٹل کی اوورلیپ CH4 سالمے کے بند کی سمتی خصوصیات کے لیے ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔ اسی طریقہ اور بحث کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ NH3 اور H2O سالموں میں HNH اور HOH بندشی زاویہ °90 کا ہونا چاہیے۔ یہ بیان NH3 اور H2O سالموں میں حقیقی بندشی زاویوں °107 اور °104.5 سے مطابقت نہیں رکھتا۔

4.5.4 اوورلیپنگ کی قسمیں اور شریک گرفت بند کی فطرت 

(Types of Overlapping and Nature of Covalent Bonds)

اوورلیپنگ کی بنیاد پر شریک گرفت بند دو زمروں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔
(i) سِگما 515 بند اور (ii) پائی 516بند 
(i) سگما (s) بند: اس قسم کا شریک گرفت بند بندشی اربٹل کے سروں سے سروں کی اوورلیپنگ کے نتیجہ میں بنتے ہیں جو بین مرکزی محور کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس کو ہیڈ آن (Head On) یا محوری اوورلیپ بھی کہتے ہیں۔ یہ ایٹمی اربٹل کے مندرجہ ذیل کسی بھی ایک اتحادی عمل سے بن سکتے ہیں۔
s-s اوورلیپنگ: اس حالت میں دو آدھے بھرے ہوئے -sاربٹل کی بین مرکزی محور کے ساتھ اوورلیپنگ ہوتی ہے جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
517
s-pاوورلیپنگ: اس طرح کی اوورلیپنگ ایک ایٹم کے نصف بھرے ہوئے s− اربٹل اور دوسرے ایٹم کے نصف بھرے ہوئے p اربٹل کے درمیان ہوتی ہے۔
519
p-p اوورلیپنگ: اس طرح کی اوورلیپنگ نزدیک آنے والے دو ایٹموں کے نصف بھرے ہوئے -p اربٹل کے درمیان ہوتی ہے۔
520
(ii) پائی521بندبنانے میں ایٹمی اربٹل کی اوورلیپنگ اس طرح ہوتی ہے کہ ان کے محور ایک دوسرے کے متوازی اور بین مرکزی محور کے عمودی ہوتے ہیں اس طرح جانبی اوورلیپنگ سے بننے والے اربٹل حصہ لینے والے ایٹموں کی سطح کے اوپر اور نیچے تشتری کی شکل کے دو الیکٹران بادلوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
522

4.5.5 سگما اور پائی بند کی قوت

(Strength of Sigma and pi Bonds)

بنیادی طور پر کسی بند کی طاقت اس کی اوورلیپنگ کی حد پر منحصر ہوتی ہے۔ سگما (s) بند میں اربٹل کی اوورلیپنگ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ پائی (523) بانڈ سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیںجہاں اوورلیپنگ کی حد کم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ p بند دو ایٹموں کے درمیان سگما بند کے علاوہ ہوتا ہے۔ یہ ان سالموں میں ہمیشہ موجود ہوتا ہے جہاں کثیر بند (دوہرے یا تہرے) پائے جاتے ہیں۔

4.6  مخلوطیت (Hybridisation)

CH3´ NH4 اور H2O جیسے کثیر ایٹمی سالموں کی جیومیٹریائی شکل کی خصوصیات کی وضاحت کرنے کے لیے پالِنگ نے مخلوطیت کا تصور پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق ایٹمی اربٹل آپس میں مل کر نئے قسم کے یکساں اربٹل بناتے ہیں جو مخلوط اربٹل کہلاتے ہیں۔ خالص اربٹل کے برعکس مخلوط اربٹل بند بنانے میں استعمال ہوتے ہیں اس عمل کو مخلوطیت (Hybridisation) کہتے ہیںجس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ توانائی میں ہلکے سے فرق والے اربٹل کی ملاوٹ کا عمل ہے تاکہ ان کی توانائی کو دوبارہ تقسیم کیا جاسکے اور وہ یکساں توانائی اور یکساں شکل والے اربٹل کے نئے گروپ کی شکل میں حاصل ہو سکیں۔ مثال کے طور پر جب کاربن کے ایک 2s2 اور تین 2p2 اربٹل کا اخلاط ہوتا ہے تو چار نئے مخلوط اربٹل sp3 حاصل ہوتے ہیں۔
مخلوطیت کی نمایاں خصوصیات : مخلوطیت کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔  مخلوط اربٹل کی تعداد ان ایٹمی اربٹل کے برابر ہوتی ہے جن میں مخلوطیت ہوتی ہے۔
2۔  مخلوط اربٹل توانائی اور شکل کے اعتبار سے ہمیشہ یکساں ہوتے ہیں۔
3۔  مستحکم بند بنانے میں خالص ایٹمی اربٹل کے مقابلے میں مخلوط اربٹل زیادہ اثر دار ہوتے ہیں۔
یہ مخلوط اربٹل اسپیس میں ایسی سمت کی طرف رخ کرتے ہیں جہاں الیکٹران جوڑوں کے درمیان قوت دافعہ کمترین ہو اور اس طرح ان کی ترتیب مستحکم ہوتی ہے۔ لہٰذا مخلوطیت کی قسم کے سالمے کی جیومیٹری کو ظاہر کرتی ہے۔

مخلوطیت کے لیے اہم شرائط 

(i)  ایٹم کے گرفت خول میں موجود اربٹل ہی اخلاط کرتے ہیں۔
(ii)  جن اربٹل میں مخلوطیت ہورہی ہے ان کی توانائی تقریباً برابر ہونی چاہیے۔
(iii)  یہ ضروری نہیں ہے کہ مخلوطیت میں صرف نصف بھرے ہوئے اربٹل ہی حصّہ لیں گے۔ کچھ جگہوں پر گرفتی خول کے بھرے ہوئے اربٹل بھی مخلوطیت میں حصّہ لیتے ہیں۔

4.6.1 مخلوطیت کی قسمیں (Types of Hybridisation)

مخلوطیت کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں جن میں s، p اور d اربٹل شامل ہوتے ہیں۔ مخلوطیت کی مختلف اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) sp-مخلوطیت: مخلوطیت کی اس قسم میں ایک s اور ایک p اربٹل کی آمیزش شامل ہوتی ہے جس کے نتیجے میں دو یکساں مخلوط sp اربٹل حاصل ہوتے ہیں۔ sp مخلوطیت کے لیے مناسب اربٹل s اور pz ہوتے ہیں، اگر مخلوط اربٹل کو -zمحور پر ہونا ہے۔ ہر ایک spمخلوط اربٹل میں S 50% اور p 50% کردار ہوتا ہے۔ ایسے سالمے جن کے مرکزی ایٹم میں s-p مخلوطیت ہے اور وہ براہِ راست دوسرے مرکزی ایٹموں سے جُڑے ہوئے ہوں تو ان کی جیومیٹری خطّی ہوتی ہے۔ اس طرح کی مخلوطیت وتری مخلوطیت (Diagonal Hybridisation) بھی کہلاتی ہے۔
دو sp مخلوط -zمحور پر مخالف سمت میں ہوتے ہیں جن کے مثبت لوب اُبھرے ہوئے ہوتے ہیں اور منفی لوب بہت چھوٹے اور دبے ہوئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اوورلیپنگ مؤثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مضبوط بند بنتے ہیں۔

sp- مخلوطیت والے سالمات کی مثالیں

Be:BeCl2 کا گراؤنڈ اسٹیٹ میں الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 ہوتا ہے۔ مشتعل حالت میں ایک 2s الیکٹران خالی 2p اربٹل میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے بندش دو ہوتی ہے ایک 2s اور ایک 2p اربٹل مخلوط ہوجاتے ہیں اور دو sp مخلوط اربٹل بناتے ہیں یہ دو مخلوط اربٹل مخالف سمت میں ہوتے ہیں اور °180 کا زاویہ بناتے ہیں۔ ہر ایک sp مخلوط اربٹل کلورین کے 2p اربٹل سے محوری اوورلیپ کرتا ہے اور دو BaCl سگما بانڈ بنتے ہیں۔ یہ شکل 4.10 میں دکھایا گیا ہے۔
524
شکل 4.10 (a) اور p اربٹل سے sp مخلوط کا بننا (b) خطّی BeCl2 سالمے کا بننا
525 مخلوطیت: اس قسم کی مخلوطیت میں ایک sاور 2p اربٹل شامل ہوتے ہیں جو تین معادل مخلوط sp2 اربٹل بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر BeCl3 سالمے میں مرکزی ایٹم بورون کا گراؤنڈ اسٹیٹ میں الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 p1 ہوتا ہے۔ مشتعل حالت میں 2s کا ایک الیکٹران خالی 2p اربٹل میں چلا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بورون کے پاس تین غیر جفتی الیکٹران ہو جاتے ہیں۔ یہ تین اربٹل (ایک 2s اور دو 2p) مل کر تین sp2 مخلوط اربٹل بناتے ہیں۔ اس طرح بننے والے تین مخلوط اربٹل ٹرائی گونل پلینر ترتیب میں آجاتے ہیں اور کلورین کے 2p اربٹل سے مل کر تین B-Cl بند بناتے ہیں۔ لہٰذا BCl3 کی جیومیٹری ٹرائی گونل پلینر ہوتی ہے اور Cl B Cl بند زاویہ 120° ہوتا ہے (شکل 4.11)۔
526
شکل 4.11 sp3 مخلوط اربٹل اور BCl3 سالمے کا بننا
527مخلوطیت: اس طرح کی مخلوطیت کی وضاحت کے لیے CH4 کی مثال لی جاسکتی ہے جس میں ایک sاور تین -p اربٹل کی آمیزش سے چار sp3 مخلوط اربٹل بنتے ہیں جن کی توانائی اور شکل یکساں ہوتی ہے۔ ہر ایک sp3 اربٹل میں s 25% اور p 75% کردار شامل ہوتا ہے۔ اس طرح بننے والے چار sp3 اربٹل چوسطحی شکل کے چاروں کونوں کی سمت ہوتے ہیں sp3 مخلوط اربٹل کے درمیان °109.5 ہوتا ہے جیسا کہ شکل 4.12 میں دکھایا گیا ہے۔
NH3 اور H2O سالموں کی اشکال بھی sp3 مخلوطیت کی مدد سے واضح کی جاسکتی ہیں۔ NH3 سالمے میں نائٹروجن کا گراؤنڈ اسٹیٹ پر الیکٹرانی تشکل 528ہوتا ہے۔ جس میں سے تین sp3 مخلوط اربٹل میں غیر جفتی الیکٹران ہوتے ہیں اور چوتھے میں ایک الیکٹرانوں کا تنہا جوڑا ہوتا ہے۔ یہ تین مخلوط اربٹل ہائڈروجن کے 1s اربٹل سے اوورلیپ کرکے تین N-H سگما بند بناتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تنہا جوڑے اور بندشی جوڑے کے درمیان قوت دافعہ الیکٹران کے دو بندشی جوڑوں کے درمیان قوت دافعہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح سالمہ کی شکل مسخ ہو جاتی ہے اور بند زاویہ 109.5° سے گھٹ کر °107 ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے سالموں کی جیومیٹری پیرامڈل ہوتی ہے جیسا کہ شکل 4.13 میں دکھایا گیا ہے۔
529
شکل 4.12 کاربن کے s، px، py اور pz اربٹل کے اتحاد سے بننے والے sp3 مخلوط اربٹل اور CH4 کا بننا 
530
شکل 4.13 NH3 سالمہ کا بننا
H2O سالمہ میں آکسیجن کے چار اربٹل (ایک 2s اور تین 2p) میں sp3 مخلوطیت ہوتی ہے اور چار sp3 اربٹل بنتے ہیں جن میں سے دو اربٹل میں سے ہر ایک میں ایک الیکٹران ہوتا ہے اور باقی دو میں ایک ایک جوڑا الیکٹرانوں کا ہوتا ہے۔ یہ چار sp3 مخلوط اربٹل چہار سطحی جیومیٹری حاصل کرتے ہیں۔ جس کے دو کونوں میں دو ہائڈروجن کے ایٹم ہوتے ہیں اور باقی دو کونوں میں غیر بندشی جوڑے ہوتے ہیں۔ اس میں بندشی زاویہ 109.5° سے گھٹ کر 104.5° ہو جاتا ہے (شکل 4.14) اور سالمہ -Vشکل یا خمیدہ شکل اختیار کرتا ہے۔
531
شکل 4.14 H2O سالمہ کا بننا

4.6.2  sp3، sp2 اور sp مخلوطیت کی کچھ اور مثالیں

C2H6 سالمے میں sp3 مخلوطیت: ایتھین کے سالمے میں دونوں کاربن ایٹموں میں sp3 مخلوط حالت ہوتی ہے۔ کاربن ایٹم کے چار sp3 مخلوط اربٹل میں سے ایک محوری طور پر دوسرے کاربن کے ایسے ہی اربٹل کے ساتھ اوورلیپ کرتا ہے اور ایک sp3-sp3 سگما بند بناتا ہے جبکہ ہر ایک کاربن کے تین مخلوط اربٹل ہائڈروجن ایٹم کے ساتھ sp3-s سگما بند بناتے ہیں جیسا کہ 4.6.1 (iii) میں دکھایا گیا ہے۔ لہٰذا ایتھین میں C-C بندشی لمبائی 154 pm ہوتی ہے اور C-H بندشی لمبائی 109 pm ہوتی ہے۔
C2H4 میں sp2 مخلوطیت: ایتھیٖن سالمہ کے بننے میں ایک کاربن ایٹم کا ایک sp2 مخلوط اربٹل دوسرے ایٹم کے sp2 مخلوط اربٹل کے ساتھ محوری طور پر اوورلیپ کر کے C-C سگما بند بناتا ہے۔ جبکہ ہر ایک کاربن کے باقی دو sp2 مخلوط اربٹل دو ہائڈروجن ایٹموں کے ساتھ sp2-s سگما بند بناتے ہیں جبکہ ہر ایک کاربن کے باقی دو sp2 مخلوط اربٹل دو ہائڈروجن ایٹموں کے ساتھ sp2-s سگما بند بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ایک کاربن ایٹم کا غیر مخلوط اربٹل (2py یا 2px) دوسرے کاربن ایٹم کے مماثل اربٹل کے ساتھ پہلوی اوورلیپ کر کے ایک کمزور 532 بند بناتا ہے جو کاربن اور ہائڈروجن کی سطح کے اوپر اور نیچے دو مساوی الیکٹران بادلوں کی شکل میں رہتا ہے۔
اس طرح ایتھیٖن سالمے میں کاربن-کاربن بانڈ میں ایک sp2-sp2 سگما بند ایک p بند ہوتا ہے جو p اربٹل کے درمیان ہوتا ہے جو مخلوطیت میں حصّہ نہیں لیتے اور سالمہ کی سطح کے عمودی ہوتے ہیں؛ بندشی لمبائی 134 pm ہوتی ہے۔ C-H بند sp2-s ہوتاہے جس کی بندشی لمبائی 108 pm ہوتی ہے H-C-H بندشی زاویہ 117.6° جبکہ H-C-C بندشی زاویہ 121° ہوتا ہے۔ ایتھیٖن میں سگما اور پائی بند کا بننا شکل 4.15 میں دکھایا گیا ہے۔
533
C2H2 میں sp مخلوطیت: ایتھائن کے سالمے کی تشکیل میں دونوں کاربن ایٹموں میں sp مخلوطیت ہوتی ہے اور دو غیر مخلوط اربٹل، یعنی 2py اور 2px ہوتے ہیں۔
ایک کاربن ایٹم کا sp مخلوط اربٹل دوسرے کاربن ایٹم کے sp مخلوط اربٹل کے ساتھ محوری اوورلیپ کر کے C-C سگما بند بناتے ہیں جبکہ ہر ایک کاربن کا دوسرا مخلوط اربٹل محوری سطح پر ہائڈروجن ایٹم کے نصف بھرے ہوئے s اربٹل پر اوورلیپ کر کے s بند بناتا ہے۔ دونوں کاربن ایٹموں کے دو غیر مخلوط p اربٹل جانبی اوورلیپ کرکے کاربن ایٹموں کے درمیان دو p بند بناتے ہیں۔ اس طرح دو کاربن ایٹموں کے درمیان تہرے بند میں ایک سگما اور دوپائی بند ہوتے ہیں جیسا کہ شکل 4.16 میں دکھایا گیا ہے۔
534

4.6.3 -d اربٹل والے عناصر میں مخلوطیت 

(Hybridisation of Elements Involving d Orbitals)

تیسرے دور میں پائے جانے والے عناصر میں -s اور -pکے علاوہ -dاربٹل ہوتے ہیں 3d اربٹل کی توانائی کا موازنہ 3s اور 3p اربٹل سے کیا جاسکتا ہے۔-3d اربٹل کی توانائی کا موازنہ 4s اور 4p سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر3s، 3p اور 3d یا 3d، 4s اور 4p کے درمیان مخلوطیت ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم چونکہ 3p اور 4s اربٹل کے درمیان توانائی کا فرق بامعنی ہوتا ہے، لہٰذا 3p، 3d اور 4s اربٹل کے ساتھ مخلوطیت ممکن نہیں ہوتی۔
s، p اور-d اربٹل کے ساتھ مخلوطیت کی اسکیم کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

سالموں/آینوں کی شکل مخلوطیت کی قسم ایٹمی اربٹل مثالیں
مربع سطحی(Square Planar) dsp2 d+s+p(2)
[Ni(CN)4]2–,
[Pt(Cl)4]2–
ٹرائی گونل بائی پیرامڈل
(Trigonal Bipyramidal)
sp3d s+p(3)+d PF5, PCl5
اسکوائر پیرامڈل 
(Suqare Pyramidal)
dsp3 d+s+p(3) BrF5, XeOF4
آکٹا ہیڈرل 
sp3d2
d2sp3
s+p(3)+d(2)
d(2)+s+p(3)
SF6, [CrF6]3–
[Co(NH3)6]3+

(i) PCl5 کا بننا (sp3d مخلوطیت): فاسفورس کی گراؤنڈ اسٹیٹ اور مشتعل حالت کا بیرونی الیکٹرانی تشکل (Z = 15) مندرجہ ذیل ہے۔
4.17
اب پانچ اربٹل (یعنی ایک s، تین p اور ایک d اربٹل) مخلوطیت کے لیے دستیاب ہیں جو sp3d مخلوط اربٹل کو بنائیں گے جو کہ ٹرائی گونل بائی پیرامڈل کے پانچ کونوں کی سمت میں ہوں گے جیسا کہ شکل 4.17 میں دکھایا گیا ہے۔
یہ دیکھنا چاہیے کہ ٹرائی گونل بائی پیرامڈل جیومیٹری میں تمام زاویے برابر نہیں ہوتے۔ PCl5 میں فاسفورس کے پانچ sp3d مخلوط اربٹل کلورین ایٹم کے p اربٹل، جس میں صرف ایک الیکٹران ہوتا ہے سے اوورلیپ کرکے پانچ P-Cl سگما بند بناتے ہیں۔ تین P-Cl بند ایک ہی سطح پر ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے °120 کا زاویہ بناتے ہیں۔ ان بند کو استوائی بند (Equatorial Bond) کہتے ہیں۔ باقی کے دو P-Cl بند استوائی سطح کے اوپر اور نیچے سطح کے ساتھ 90° کا زاویہ بناتے ہوئے ہوتے ہیں۔ انھیں محوری بند کہتے ہیں۔ چونکہ محوری بند کے جوڑے استوائی بند کے جوڑوں کی طرف سے زیادہ دافع قوت برداشت کرتے ہیں۔ لہٰذا محوری بند، اسطوانی بند کے مقابلے میں تھوڑے سے لمبے اور کمزور پائے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے PCl5 زیادہ متعامل ہوتا ہے۔
(ii) SF6 کا بننا (sp3 d2 مخلوطیت): SF6 میں مرکزی ایٹم سلفر کا گراؤنڈ اسٹیٹ میں الیکٹرانی تشکل 3s2 3p4 ہے۔ مشتعل حالت میں دستیاب چھ اربٹل یعنی، ایک s، تین -p اور دو -d اربٹل میں ایک ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ یہ اربٹل مخلوطیت کے بعد چھ نئے sp3 d2 مخلوط اربٹل بناتے ہیں جو SF6 میں باقاعدہ آکٹاہیڈرن کے چھ کونوں کی سمت ہوتے ہیں۔ یہ چھ sp3d3 ہے۔ مخلوط اربٹل فلورین ایٹم کے ایک الیکٹران سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں اربٹل پر اوورلیپ کرکے چھ S-F سگما بند بناتے ہیں۔ اس طرح SF6 سالمے کی ایک باقاعدہ آکٹاہیڈرن شکل ہوتی ہے جیسا کہ شکل 4.18 میں دکھائی گئی ہے۔
4.18

4.7 مولیکیولر اربٹل تھیوری

 (Molecular Orbital Theory)

مولیکولر اربٹل نظریہ 1932 میں ایف۔ہُنڈ اور آر۔ایس۔ مُلیکن نے تیار کیا تھا۔ اس نظریہ کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(i) ایک سالمہ میں الیکٹران مختلف مالیکیولر اربٹل میں پائے جاتے ہیں اسی طرح جیسے ایک ایٹم میں الیکٹران ایٹمی اربٹل میں پائے جاتے ہیں۔
(ii) قابل موازنہ توانائی اور مناسب تشاکل کے ایٹمی اربٹل آپس میں مل کر مولیکیولر اربٹل بناتے ہیں۔
(iii) ایک ایٹمی اربٹل میں الیکٹران ایک نیوکلیس کے زیر اثر ہے، جبکہ مالیکیولر اربٹل میں وہ دو یا دو سے زیادہ نیوکلیس اثر میں رہتا ہے اس کا انحصار سالمے میں موجود ایٹموں کی تعداد پر ہوتا ہے۔ لہٰذا ایٹمی اربٹل اکائی مرکزی ہوتا ہے جبکہ مالیکیولر اربٹل کثیر مرکزی ہوتا ہے۔
(iv) بننے والے مولیکیولر اربٹل کی تعداد متحد ہونے والے ایٹمی اربٹل کی تعداد کے برابر ہوتی ہے۔ جب دو ایٹمی اربٹل متحد ہوتے ہیں تو دو مولیکیوکر اربٹل بنتے ہیں۔ ایک بونڈنگ مولیکولر اربٹل اور دوسرا اینٹی بونڈنگ اربٹل کہلاتا ہے۔
(v) بندشی مولیکولر اربٹل کی توانائی کم ہوتی ہے لہٰذا متعلقہ اینٹی بونڈنگ مولیکولر اور بٹل سے اس کا استحکام زیادہ ہوتا ہے۔
(vi) جس طرح ایک ایٹم میں مرکز کے گرد الیکٹرانوں کا احتمالی بٹاؤ ایک ایٹمی اربٹل سے ظاہر کیا جاتا ہے اسی طرح ایک سالمہ میں مرکزوں کے گروہ کے گرد الیکٹرانوں کا احتمالی بٹاؤ مولیکیولر اور بٹل کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔
(viii) ایٹمی اربٹل کی طرح مولیکیولر اربٹل بھی پالی کے اصول اخراج اور ہُنڈ کے قانون کا اتباع کرتے ہوئے آف باؤ کے اصول کے مطابق ہی بھرے جاتے ہیں۔

4.7.1 مولیکیولرآربٹل کا بننا ایٹمی اربٹل کا خطّی اتحاد 

(Formation of Molecular Orbitals Linear Combination of Atomic Orbitals (LCAO)

لہرمیکانیات (Wave Mechanics) کے مطابق ایٹمی اربٹل کو لہر تفاعل (y) سے ظاہر کرتے ہیں جو الیکٹران لہروں کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہیں شروڈنجر کی لہر مساوات کے حل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم، چونکہ یہ کسی ایسے نظام کے لیے حل نہیں کی جاسکتی جس میں ایک سے زیادہ الیکٹران ہوں، مولیکیولر اوربٹل جو سالموں کے لیے ایک الیکٹران لہرفنکشن ہوتے ہیں انہیں براہِ راست شروڈنجر کی لہر مساوات کے حل سے حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے ایک تقریبی طریقہ استعمال کیا گیا جو ایٹمی اربٹل کا خطی اتحاد (Linear Combination of Atomic Orbital) کہلاتا ہے۔
آئیے اس طریقہ کو ہومونیوکلیر دو ایٹمی ہائڈروجن سالمے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مان لیجیے ہائڈروجن سالمہ دو ایٹم A اور B سے مل کر بنا ہے۔ ہر ایک ہائڈروجن ایٹم اپنی گراؤنڈ اسٹیٹ میں 1s اربٹل میں ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ ان ایٹموں کے ایٹمی اربٹل لہر فنکشن 539سے ظاہر کیے جاسکتے ہیں۔ ریاضیاتی طور پر مالیکیولر اربٹل مالیکیولر اربٹل کا بننا ایٹمی اربٹل کے خطّی اتحاد سے ظاہر کیا جاسکتا ہے جو منفرد ایٹمی اربٹل کے لہر فنکشن کے جمع اور گھٹا کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
542
لہٰذا s اور s* دو مالیکیولر اربٹل اس طرح بنیں گے۔
541 س
الماتی اربٹل s جو ایٹمی اربٹل کے جمع کرنے سے بنا ہے وہ بندشی مالیکیولر اربٹل (Bonding Molecular Orbital) کہلاتا ہے جبکہ سالماتی اربٹل s* جو ایٹمی اربٹل کی تفریق سے بنتا ہے وہ اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کہلاتا ہے۔ جیسا کہ شکل 4.19 میں دکھایا گیا ہے۔

اینٹی بانڈنگ اربٹل ایٹمی
اربٹل سے زیادہ تونائی
ایٹمی اربل            سالماتی اربٹل                ایٹمی اربٹل
ایٹمی اربٹل سے کم تونائی
بڑھتی ہوئی تونائی
543
شکل 4.19 دو ایٹم  Aاور B کے مرکز پر ایٹمی اربٹل A اور B کے خطّی اتحاد سے بننے والے بانڈنگ (*σ) اور ایٹنی بانڈنگ (σ) مولیکیولر اربٹل کا بننا

کیفیتی طور پر، سالماتی اربٹل کا بننا اتحادی ایٹموں کی الیکٹرانی لہروں کی تعمیری اور تخریبی تداخل (Constructive and Distructive Interference) کی اصطلاحات میں سمجھا جاسکتا ہے۔ بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کے بننے میں بندشی ایٹموں کی دو الیکٹران لہریں ایک دوسرے کو تعمیری تداخل کے سبب تقویت پہنچاتی ہیں جبکہ اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کے بنے میں الیکٹران لہریں تخریبی تداخل کی وجہ سے ایک دوسرے کو رَد کر دیتی ہیں۔ نتیجہ کے طور پر بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کی الیکٹران کثافت اتحادی ایٹموں کے مرکزوں کے درمیان قائم رہتی ہے جس کی وجہ سے نیوکلیس کے درمیان دفع بہت کم ہوتا ہے جبکہ اینٹی بانڈنگ مولیکیولر اربٹل میں زیادہ تر الیکٹران کثافت کے درمیان کی جگہ سے دور ہوتے ہیں۔ دراصل مرکزوں کے درمیان ایک نوڈل مستوی ہوتا ہے (جس پر الیکٹران کثافت صفر ہوتی ہے) جس کی وجہ سے نیوکلیس کے درمیان قوت دافعہ زیادہ ہوتی ہے۔ گرفتی مالیکیولر اربٹل میں موجود الیکٹران مرکزوں کو ایک ساتھ تھامے رہتے ہیں جس کی وجہ سے سالمہ مستحکم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ایک گرفتی مالیکیولر اربٹل میں ہمیشہ ان دونوں ایٹمی اربٹل سے کم توانائی ہوتی ہے جن سے مل کر وہ بنتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ الیکٹران جو انٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں ہوتے ہیں وہ سالمہ کو غیر مستحکم کرتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس اربٹل میں الیکٹرانوں کی آپسی قوت دافعہ الیکٹرانوں اور نیوکلیس کے درمیان کشش سے زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کل توانائی میں اضافہ ہوتاہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ اینٹی بانڈنگ اربٹل کی توانائی ان ایٹمی اربٹل سے اوپر اٹھ جاتی ہے جن اربٹل سے مل کر وہ بنتے ہیں جبکہ بندشی اربٹل کی توانائی ان سے نیچے گر جاتی ہے جو ان کے بنانے والے ہیں۔ تاہم، دونوں مالیکیولر اربٹل کی کُل توانائی اتنی ہی رہتی ہے جتنی کہ ابتدائی دو ایٹمی اربٹل کی ہوتی ہے۔

4.7.2 ایٹمی اربٹل کے اتحاد کی شرائط 

(Conditions for the Combination of Atomic Orbitals)

مالیکیولر اربٹل بنانے کے لیے ایٹمی اربٹل کا خطّی اتحاد اسی وقت ممکن ہے جبکہ مندرجہ ذیل شرائط پوری ہو سکیں۔
1۔ اتحادی ایٹمی اربٹل کی توانائی تقریباً یکساں ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1s اربٹل 1s اربٹل کے ساتھ ہی اتحاد کر سکتا ہے لیکن 2s کے ساتھ نہیں کیونکہ -2s اربٹل کی توانائی -1s اربٹل سے خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اس وقت درست نہیں ہوگا جب ایٹم بہت مختلف ہوں گے۔
2۔ متحد ہونے والے ایٹمی اربٹل کا تشاکل سالمی محور کے برابر ہونا چاہیے۔ روایت کے مطابق -zمحور کو سالماتی محور کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ برابر اور تقریباً برابر توانائی والے ایٹمی اربٹل بھی اتحاد نہیں کرتے ہیں اگر ان کا تشاکل برابر نہ ہو۔ مثال کے طور پر کسی ایٹم کے 2pz اربٹل دوسرے ایٹم کے 2pz اربٹل کے ساتھ ہی اتحاد کریں گے نہ کہ 2px یا 2py سے کیونکہ ان کا تشاکل مختلف ہے۔
3۔ متحد ہونے والے ایٹمی اربٹل کا اوورلیپ زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے۔ جتنا زیادہ اوورلیپ ہوگا مالیکیولر اربٹل کے مرکزوں کے درمیان اتنی ہی زیادہ الیکٹران کثافت ہوگی۔

4.7.3 مالیکیولر اربٹل کی قسمیں

(Types of Molecular Orbitals)

دوایٹمی سالمات کے مالیکیولر اربٹل کو 544 (سگما) 545(پائی) اور 546(ڈیلٹا) سے ظاہر کرتے ہیں۔ 
اس تسمیہ میں ’سگما (544) مالیکیولر اربٹل بند-محور کے گرد تشاکلی ہوتے ہیں جبکہ پائی (547) مالیکیولر اربٹل تشاکلی نہیں ہوتے۔‘ مثال کے طور پر -1s اربٹل کا خطّی اتحاد جو دو مرکزوں کے گرد ہوتا ہے اور دو مالیکیولر اربٹل بناتا ہے جو بند-محور کے گرد تشاکلی ہوتے ہیں۔ ایسے مالیکیولر اربٹل548 قسم کے ہوتے ہیں اور ان کو549سے ظاہر کرتے ہیں (شکل 560اگر بین مرکزی محور -zسمت میں لیا جائے تو یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ دو ایٹموں کے 2pz اربٹل کا خطّی اتحادبھی دو سگما مالیکیولر اربٹل بناتا ہے جن کو 550سے ظاہر کرتے ہیں (شکل)  551
2px اور 2py سے حاصل ہونے والے مالیکیولر اربٹل بانڈ-محور کے گرد تشاکلی نہیں ہوتے کیونکہ سالماتی سطح کے اوپر مثبت لوب اور نیچے منفی لوب ہوتا ہے۔ ایسے مالیکیولر اربٹل کو 552 سے ظاہر کرتے ہیں (شکل) 553بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں بین مرکزی محور کے اوپر اور نیچے الیکٹران- کثافت زیادہ ہوتی ہے۔ 554 اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں مرکزوں کے درمیان نوڈ ہوتی ہے۔

4.7.4 مالیکیولر اربٹل کے انرجی لیول ڈائیگرام 

(Energy Level Diagram for Molecular Orbitals)

ہم نے دیکھا کہ دو ایٹموں کے 1s ایٹموں اربٹل دو مالیکیولر اربٹل 556 اور555بناتے ہیں۔ اسی طرح 2s اور 2p ایٹمی اربٹل (دوایٹموں پر آٹھ ایٹمی اربٹل) مل کر مندرجہ ذیل آٹھ مالیکیولر اربٹل دیتے ہیں۔
557 اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل 
558 بانڈنگ مولیکیولر اربٹل 
ان مالیکیولر اربٹل کے انرجی لیول دوری جدول کی دوسری قطار کے عناصر کے متجانس دو ایٹمی سالموں کے تجرباتی طور پر حاصل شدہ اسپیکٹرواسکوپِک اعداد و شمار کی مدد سے معلوم کیے گئے ہیں۔ O2 اور F2 کے مختلف مالیکیولر اربٹل کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ترتیب مندرجہ ذیل ہے:
559
تاہم مالیکیولر اربٹل کی توانائی کے درجات کی یہ ترتیب باقی سالموں، 5561کے لیے صحیح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر تجرباتی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ 562وغیرہ جیسے سالمات کے لیے مختلف مالیکیولر اربٹل کے لیے توانائی کی بڑھتی ہوئی ترتیب مندرجہ ذیل ہے۔
563
اس ترتیب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ s2pz < مالیکیولر اربٹل کی توانائی564مالیکیولر اربٹل سے زیادہ ہے۔ 

4.7.5 الیکٹرانی تشکل اور سالماتی طرز عمل

(Electronic Configuration and Molecular Behaviour)

مختلف مالیکیولر اربٹل میں الیکٹرانوں کا بٹاؤ سالمے کا الیکٹرانی تشکل کہلاتا ہے۔ سالمے کے الیکٹرانی تشکل سے یہ ممکن ہے کہ سالمے سے متعلق اہم معلومات حاصل کی جاسکیں جیسا کہ نیچے بیان کیا گیا ہے۔
سالموں کا استحکام: اگر بانڈنگ اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد Nb ہے اور اینٹی بانڈنگ اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد Na ہے تو: 
(i) اگر Nb، Na سے زیادہ ہے تو سالمہ مستحکم ہوگا 
(ii) سالمہ غیر مستحکم ہوگا اگر Nb، Na سے کم ہے۔

(i) میں زیادہ بانڈنگ اربٹل بھرے ہوئے ہیں لہٰذا بانڈنگ کا اثر زیادہ ہوگا اور سالمہ مستحکم ہوگا۔ (ii) اینٹی بانڈنگ اربٹل کا اثر زیادہ ہے لہٰذا سالمہ غیر مستحکم ہوگا۔

بانڈ آرڈر (Bond Order)

بونڈ آرڈر (BO) کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ بانڈنگ اور اینٹی بانڈنگ اربٹل میں موجود الیکٹرانوں کی تعداد میں فرق کے آدھے کی برابر ہوتا ہے۔ یعنی 
566
(BO) = ½(Nb – Na)
سالموں کی استحکام سے متعلق اوپر بیان کیے گئے اصولوں کو بانڈ آرڈر کی اصطلاحات میں مندرجہ ذیل طریقہ سے دوبارہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ ایک مثبت بانڈآرڈر (یعنی Nb > Na) یا صفر (یعنی Na = Nb) کا مطلب ہے غیر مستحکم سالمہ۔
بند کی فطرت (Nature of the Bond)
بانڈ آرڈر کی تکملی قیمتیں 1، 2 یا 3 اکہرے، دوہرے یا تہرے بند کو ظاہر کرتی ہیں جیسا کہ ہم نے کلاسیکی تصور میں پڑھا تھا۔
بندشی لمبائی (Bond-length)
ایک سالمہ میں دو ایٹموں کے درمیان بانڈ آرڈر کو بندشی لمبائی کی قریبی پیمائش کے طور پر لیا جاسکتا ہے جب بانڈ آرڈر بڑھتا ہے تو بندشی لمبائی کم ہوتی ہے۔
مقناطیسی فطرت (Magnetic Nature)
اگر کسی سالمے میں تمام مالیکیولر آربٹل دوہرے (یا دو الیکٹرانوں سے) گھرے ہوئے ہیں تو وہ شے ڈایا مقناطیسی (Diamagnetic) ہوگی (مقناطیسی میدان سے مدافعت کرے گی)۔ بہر حال اگر ایک یا زیادہ مالیکیولر آربٹل میں اکہرے الیکٹران ہیں تو وہ پیرامیگنیٹک (Paramagnetic) ہوگی (مقناطیسی میدان کے تئیں کشش رکھے گی)۔ مثال کے طور پر O2 کا سالمہ۔

4.8ہم نیوکلیائی دو ایٹمی سالموں میں بندش

(Bonding in Some Homonuclear Diatomic Molecules)
اس سیکشن میں ہم کچھ ہم نیوکلیائی دوایٹمی سالموں میں بندش پر بحث کریں گے۔
ہائڈروجن سالمہ (H2): یہ دو ہائڈروجن ایٹموں کے ملنے سے بنتا ہے۔ ہر ایک ہائڈروجن ایٹم کے 1s اربٹل میں ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ لہٰذا، ہائڈروجن کے سالمہ میں کُل دو الیکٹران ہوتے ہیں جو s1s مالیکیولر آربٹل میں موجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہائڈروجن سالمے کا الیکٹرانی تشکل ہوتا ہے:
H2 : [s1s]2 
ہائڈروجن سالمے H2 کا بانڈ آرڈر مندرجہ ذیل طریقے سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
567بانڈ آرڈر 
اس کا مطلب ہے کہ ہائڈروجن کے دو ایٹم آپس میں اکہرے بند سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہائڈروجن سالمے کی بند افتراق توانائی 438 kJ mol–1 معلوم کی گئی ہے اور بندشی لمبائی 74 pm ہے۔ چونکہ ہائڈروجن کے سالمے میں کوئی بھی بغیر جوڑے والا الیکٹران نہیں ہے لہٰذا یہ ڈایا مقناطیسی ہوتا ہے۔
ہیلیم سالمہ  (He): ہیلیم ایٹم کا الیکٹرانی تشکل 1s2 ہے۔ ہیلیم کے ہر ایک ایٹم میں دو الیکٹران ہوتے ہیں لہٰذا ہیلیم کے سالمہ میں چار (4) الیکٹران ہوں گے۔ یہ الیکٹران s1s اور *s1s مالیکیولر آربٹل میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے الیکٹرانی تشکل مندرجہ ذیل ہوتا ہے۔
He2 : (s1s)2 (s*1s)2 
ہیلیم کا بانڈ آرڈر ہوگا 568
He2 سالمہ لہٰذا غیر مستحکم ہے اور پایا نہیں جاتا۔
اسی طرح یہ بھی دکھایا جاسکتا ہے کہ  569 570بھی نہیں پایا جاتا۔
لیتھیم سالمہ (Li2): لیتھیم کا الیکٹرانی تشکل 571میں چھ الیکٹران ہیں۔ لہٰذا Li2 سالمہ کا الیکٹرانی تشکل،572573ہوگا۔ 
مندرجہ بالا تشکل کو اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں KK[s2s]2، جہاں KK بند K شیل 574 کو ظاہر کرتے ہیں۔
Li2 کے الیکٹرانی تشکل سے یہ بات ظاہر ہے کہ بانڈنگ مالیکیولر آربٹل میں چار الیکٹران موجود ہیں اور دو الیکٹران اینٹی بانڈنگ مالیکیولر آربٹل میں موجود ہیں۔ لہٰذا اس کا بانڈ آرڈر، 575 ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ Li2 سالمہ مستحکم ہے اور چونکہ اس کے پاس غیرجوڑے کے الیکٹران نہیں ہیں لہٰذا یہ ڈایا مقناطیسی ہوگا۔ درحقیقت ڈایا مقناطیسی Li2 سالمے بخارات کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔
کاربن سالمہ (C2): کاربن کا الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 2p2 ہے۔ C2 میں بارہ الیکٹران ہوتے ہیں۔ لہٰذا، C2 سالمہ کا الیکٹرانی تشکل:
576
577
کاربن کا بانڈ آرڈر578 ڈایا مقناطیسی ہونا چاہیے۔ حقیقت میں بخارات کی شکل میں C2 سالمے پائے گئے ہیں۔ یہ بات نوٹ کرنے لائق ہے کہ C2 میں دوہرا بند دونوں پائی بند پر مشتمل ہوتا ہے کیونکہ دو پائی مالیکیولر اربٹل میں چار الیکٹران موجود ہوتے ہیں۔ دوسرے زیادہ تر سالموں کے دوہرے بند میں ایک سگما اور دوسرا پائی بند ہوتا ہے۔ اسی طریقے سے N2 سالمے میں بندش پر بحث کی جاسکتی ہے۔
آکسیجن سالمہ (O2) : آکسیجن ایٹم کا الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 2p4 ہے۔ ہر ایک آکسیجن ایٹم کے پاس 8 الیکٹران ہیں لہٰذا O2 سالمہ میں 16 الیکٹران ہوں گے۔ O2 سالمہ کا الیکٹرانی تشکل اس طرح 
579
581 ہوگا۔
O2 سالمے کے الیکٹرانی تشکل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں 10 (دس) الیکٹران موجود ہیں اور 6 الیکٹران اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں موجود ہیں۔ لہٰذا اس کا 
580 بونڈ آرڈر 
لہٰذا آکسیجن کے سالمے میں ایٹم دوہرے بند سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس کے پاس دو بغیر جوڑے کے الیکٹران582 مالیکیولر اربٹل میں موجود ہیں۔ لہٰذا O2 سالمہ، ایک پیرا مقناطیسی سالمہ ہونا چاہیے۔ ایک اندازہ جس کی تصدیق تجرباتی مشاہدہ سے ہوتی ہے۔ اس طرح یہ نظریہ آکسیجن کی پیرا مقناطیسی فطرت کی کامیابی کے ساتھ وضاحت کرتا ہے۔
583
اسی طرح دوری جدول کے دوسرے دور کے عناصر کے دوسرے ہم نیوکلیائی دو ایٹمی سالموں کے الیکٹرانی تشکل بھی لکھے جاسکتے ہیں۔ شکل 4.21 میں B2 سے Ne2 تک عناصر کی سالمی خصوصیات اور مالیکیولر اربٹل کا بھراؤ دیا گیا ہے۔ مالیکیولر اربٹل کی ترتیب اور ان کے الیکٹرانوں کی تعداد دکھائی گئی ہے۔ بندشی توانائی، بندشی لمبائی، بانڈآرڈر، مقناطیسی خصوصیات اور بندش الیکٹران تشکل آربٹل ڈائیگرام کے نیچے دکھائے گئے ہیں۔

4.9 ہائڈروجن بندش (Hydrogen Bonding)

نائٹروجن، آکسیجن اور فلورین انتہائی الیکٹران منفی عناصر ہیں۔ جب یہ شریک گرفت بند بنانے کے لیے ہائڈروجن کے ساتھ جڑتے ہیں تو شریک بندش بند کے الیکٹران زیادہ الیکٹران منفی عنصر کی سمت کھِسک جاتے ہیں۔ یہ جُزوی مثبت چارج والے ہائڈروجن دوسرے زیادہ الیکٹرونگیٹو ایٹم کے ساتھ ایک بند بناتے ہیں۔ اس بند کو ہائڈروجن بند کہتے ہیں اور یہ شریک گرفت بند سے کمزور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر HF سالمے میں ایک سالمے کے ہائڈروجن ایٹم اور دوسرے سالمے کے فلورین ایٹم کے درمیان ہائڈروجن بند ہوتا ہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
584
یہاں ہائڈروجن بند ایک پُل کی طرح کام کرتا ہے جو ایک ایٹم کو شریک گرفت بونڈ کے ذریعہ اور دوسرے ایٹم کو ہائڈروجن بند کے ذریعہ باندھے رکھتا ہے۔
ہائڈروجن بند کو ٹوٹی ہوئی لائن (– – –) سے ظاہر کرتے ہیں جبکہ ایک ٹھوس لائن شریک بندش بند کو ظاہر کرتی ہے۔ لہٰذا ہائڈروجن بند کی تعریف ہم اس طرح کر سکتے ہیں کہ یہ وہ قوت کشش ہے جو ایک سالمے کے ہائڈروجن ایٹم کو دوسرے سالمے کے برقی منفی ایٹم (N یا O، F) سے باندھتی ہے۔

4.9.1 ہائڈروجن بند بننے کی وجوہات

(Cause of Formation of Hydrogen Bond)

جب ہائڈروجن ایک بہت زیادہ برقی منفی عنصر X کے ساتھ جڑتا ہے تو دونوں ایٹموں کے درمیان مشترک الیکٹرانوں کا جوڑا ہائڈروجن سے دور ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ہائڈروجن دوسرے عنصر X کے مقابلے میں بہت زیادہ برقی مثبت ہو جاتا ہے۔ چونکہ الیکٹران X کی سمت کھسک جاتے ہیں لہٰذا ہائڈروجن پر ایک جزوی مثبت چارج آجاتا ہے (d+) جبکہ X پر جزوی منفی چارج (d–) آجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قطبی سالمہ بنتا ہے جس میں برقی سکونی قوتِ کشش ہوتی ہے اور جسے مندرجہ ذیل طریقہ سے ظاہر کرتے ہیں۔
586
ہائڈروجن بند کی قدر مرکب کی طبیعی حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ ٹھوس حالت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے اور گیسی حالت میں سب سے کم۔ اس طرح ہائڈروجن بند مرکب کی ساخت اور اس کی خصوصیات پر بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے۔

4.9.2 H- بند کی قسمیں (Types of H-Bonds)

H- بند  دو قسم کے ہوتے ہیں
(i) بین سالمی ہائڈروجن بند (Intermolecular Hydrogen Bond)
(ii) درون سالمی ہائڈروجن بند (Intramolecular Hydrogen Bond)
(I) بین سالمی ہائڈروجن بند: یہ کسی ایک یا مختلف مرکب کے دو مختلف سالموں کے درمیان بنتے ہیں: مثال کے طور پر HF سالمے، الکوحل  یا H2O وغیرہ کے سالموں میں H بند۔
(II) درون سالمی ہائڈروجن بند: یہ اس وقت بنتے ہیں جب ہائڈروجن دو بہت زیادہ برقی منفی (F, O, N) ایٹموں کے درمیان ہو جو ایک ہی سالمے کے اندر ہوں۔ مثال کے طور پر -Oنائٹرو فینول میں ہائڈروجن، دو آکسیجن کے ایٹموں کے درمیان ہوتی ہے (شکل 4.20)۔
587
شکل 4.20 -Oنائٹروفینول سالمے میں درون سالمی ہائڈروجن بندش


خلاصہ 

برقی مثبت اور برقی منفی آینوں کے بننے کے عمل میں کوسیل کی پہلی بصیرت کا تعلق آینوں کے ذریعہ نوبل گیس تشکل حاصل کرنے کے عمل سے تعلق رکھتا ہے۔ آینوں کے درمیان برقی سکونی کشش ان کے استحکام کا سبب ہوتی ہے۔ اس نے برقی گرفت کے تصور کو پیدا کیا۔
شریک گرفت بندش کا پہلا بیان لیوئس نے دو ایٹموں کے درمیان الیکٹران جوڑے کی شرکت کی اصطلاح میں دیا تھا اور اس نے الیکٹرانوں کے اشتراک کے نتیجے میں متعامل ایٹموں کے نوبل گیس تشکل حاصل کرنے کے عمل کے درمیان تعلق بتایا ہے۔ لیوئس کی نقطہ علامات (Lewis Dot Symbol) ایک دیے ہوئے عنصر کے گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں اور لیوئس نقطہ ساختیں سالموں میں بندش کا تصویری اظہار ہیں۔
ایک آینی مرکب کی شکل مثبت اور آینوں کے ایک باترتیب سہ ابعادی مجموعہ کی شکل میں ہوتی ہے جسے کرسٹل لیٹس (Crystal Latice) کہتے ہیں۔ قلمی ٹھوس میں مثبت اور منفی آینوں کے درمیان ایک چارج کا توازن ہوتا ہے۔ قلمی جالی لیٹس تشکیل کی اینتھالیپی کے ذریعہ مستحکم ہوتی ہے۔
ایک اکہرا شریک گرفت بند دو ایٹموں کے درمیان ایک الیکٹران جوڑے کے اشتراک سے بنتا ہے، کثیر بند الیکٹرانوں کے دو یا تین جوڑوں کے اشتراک سے بنتے ہیں کچھ عناصر میں الیکٹرانوں کے اضافی جوڑے ہوتے ہیں جو بندش میں حصّہ نہیں لیتے۔ ان کو الیکٹرانوں کے تنہا جوڑے کہتے ہیں۔ لیوئس ڈاٹ ساخت سالموں کے ہر ایک ایٹم کے گرد بندشی  جوڑے اور تنہا جوڑے کی ترتیب کو دکھاتی ہے۔ کیمیائی بندش سے تعلق رکھنے والے اہم پیرامیٹر جیسے: بندشی لمبائی، بندشی زاویہ ، بند اینتھالپی، بانڈ آرڈر اور بند قطبیت مرکبات کی خصوصیات پر بامعنی اثرات رکھتے ہیں۔
سالمات اور کثیر ایٹمی آینوں کی ایک بڑی تعداد ایک لیوئس ساخت سے ظاہر نہیں کی جاسکتی اور یکساں ساختی ڈھانچہ کی بنیاد پر کئی تفصیلات لکھی جاتی ہیں اور یہ سب مل کر سالمہ یا آین کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم اور انتہائی مفید تصور ہے جو گمک (Resonance) کہلاتا ہے۔ یہ اشتراکی ساختیں یا مستند شکلیں ایک ساتھ مل کر گمک مخلوط بناتی ہیں جو سالمہ یا آین کو ظاہر کرتی ہے۔
وی ایس ای پی آر (VSEPR) ماڈل کا استعمال سالموں کی جیومیٹریائی اشکال کی پیشین گوئی کے لیے کیا جاتا ہے جس کی بنیاد وہ مفروضہ ہے کہ الیکٹران کے جوڑے ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ فاصلے پر رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس ماڈل کے مطابق ’’سالمی جیومیٹری لون پیئر-لون پیئر، لون پیئر-بونڈنگ پیئر اور بونڈنگ پیئر-بونڈنگ پیئر کے درمیان دفع کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے‘‘ ان دافع قوتوں کی ترتیب کا تسلسل اس طرح ہوتی ہے؛ lp-lp > lp-bp > bp-bp
شریک گرفت بندش کے لیے گرفت بند طرز رسائی (Valence Bond Approach) کا بنیادی تعلق دراصل شریک گرفت بند بننے کے لیے درکار توانائیوں سے ہے جس کے متعلق لیوئس اور ویسپار ماڈل خاموش ہیں۔ بنیادی طور پر وی بی نظریہ بند بننے کے عمل پر اربٹل کے انطباق (Overlap) کی اصطلاح میں بحث کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دو H ایٹم سے H2 سالمے کی تشکیل میں دونوں H ایٹم کے 1s اربٹل کے انطباق شامل ہیں جن میں ایک ایک الیکٹران موجود ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے جیسے دونوں ہائڈروجن ایٹم ایک دوسے کے نزدیک آتے ہیں تو اس نظام کی مضمر توانائی کم ہوجاتی ہے۔ بین مرکزی متوازن فاصلے بندشی فاصلے پر یہ توانائی کم سے کم ہو جاتی ہے۔ ان نیوکلیس کو مزید قریب لانے کی کوشش توانائی میں فوری اضافہ کردے گی اور سالمہ کو غیر مستحکم بنادے گی۔ انطباق کی وجہ سے نیوکلیس کے درمیان الیکٹران کی کثافت بڑھ جاتی ہے جو دونوں مرکزوں کو نزدیک لانے میں مدد کرتی ہے۔ تاہم یہ دیکھا گیا ہے کہ اصل بانڈ اینتھالپی اور بندشی لمبائی کی قدریں محض انطباق سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ دوسرے متغیروں کو بھی اس میں شامل کرنا لازمی ہے۔
کثیر ایٹمی سالموں کی مخصوص شکل کی وضاحت کے لیے پالنگ نے ایٹمی اربٹل کی مخلوطیت کا تصور پیش کیا تھا BeCl2،BCl3، CH4،NH3 اور H2O جیسے سالموں کی جیومیٹریائی اشکال کی وضاحت کے لیے Be، B، C، N اور O کے ایٹمی اربٹل کی sp، sp2 اور sp2 مخلوطیت کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ C2H4 اور C2H2 جیسے سالموں میں کثیر بند کے بننے کی بھی وضاحت کرتے ہیں۔
مالیکیولر اربٹل کا نظریہ (Molecular Orbital Theroy, MO) ایٹمی اربٹل کی ترتیب اور اتحاد کی اصطلاح میں مالیکیولر اربٹل کے بننے کی وضاحت کرتا ہے جو کسی سالمے سے مکمل طور پر وابستہ ہوتے ہیں۔ مالیکیولر اربٹل کی تعداد ہمیشہ ان ایٹمی اربٹل کے برابر ہوتی ہے جن سے مل کر وہ بنتے ہیں۔ بانڈنگ مالیکیولر اربٹل نیوکلیس کے درمیان الیکٹران کثافت کو بڑھاتے ہیں اور ان کی توانائی انفرادی ایٹمی اربٹل سے کم ہوتی ہے۔ اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں نیوکلیس کے درمیان صفر الیکٹران کثافت کا علاقہ ہوتا ہے اور ان کی توانائی انفرادی ایٹمی اربٹل سے زیادہ ہوتی ہے۔
سالموں کا الیکٹرانی تشکل مالیکیولر اربٹل میں ان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ترتیب میں الیکٹرانوں کو بھرتے ہوئے لکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایٹموں میں ہوتا ہے، مالیکیولر اربٹل میں بھی الیکٹرانوں کو بھرنے کے لیے پالی کا اصول اخراج (Paulis Exclusion Principle) اور ہُنڈ کا قانون استعمال ہوتا ہے۔ سالمے اس وقت مستحکم کہے جاسکتے ہیں جب گرفتی مالیکیولر اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔
ہائڈروجن بند اس وقت بنتا ہے جب ہائڈروجن اپنے آپ کو دو بہت زیادہ برقی منفی ایٹم، جیسے F، O اور N کے درمیان پاتی ہے۔ یہ بین سالمی (ایک ہی یا مختلف اشیاء کے دو یا دو سے زیادہ سالموں کے درمیان موجود رہتی ہے) یا درون سالمی (ایک ہی سالمے میں موجود ہوتی ہے) ہو سکتی ہے۔ ہائڈروجن بونڈ بہت سے مرکبات کی اشکال اور خصوصیات پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔


مشقیں

4.1 کیمیائی بندش کی تشکیل کی وضاحت کیجیے۔
4.2 مندرجہ ذیل عناصر کے ایٹموں کے لیے لیوس ڈاٹ علامات لکھیے:
Mg, Na, B, O, N, Br
4.3 مندرجہ ذیل ایٹموں اور آینوں کے لیے لیوئس علامات لکھیے:
S اور S2–؛ A1 اور A13+؛ H اور H
4.4 مندرجہ ذیل سالموں اور آینوں کے لیے لیوئس اشکال بنائیے:
H2S، SiCl4، BeF2، H2S، HCOOH۔
4.5 آکٹیٹ قاعدے کی تعریف بیان کیجیے۔ اس کی اہمیت اور حدود لکھیے۔
4.6 آینی بندش بننے کے لیے موافق عوامل لکھیے۔
4.7 VSEPR ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل سالموں کی اشکال پر بحث کیجیے:
BeCl2، BCl3، SiCl4، AsF5، H2S، PH2
4.8 اگرچہ NH3 اور H2O سالموں کی جیومیٹری مسخ شدہ ٹیٹراہیڈرل ہے پانی میں بندشی زاویہ NH3 سے کم ہے۔ بحث کیجیے۔
4.9 بانڈ آرڈر کی اصطلاح میں آپ بندشی لمبائی کو کیسے ظاہر کریں گے۔
4.10 بندشی لمبائی کی تعریف بیان کیجیے۔
4.11 -CO32
 آین کے حوالے سے گمک کے اہم پہلوئوں کی وضاحت کیجیے۔
4.12 H3PO3 کی مندرجہ ذیل اشکال 1 اور 2 سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ کیا ان دونوں شکلوں کو H3PO3 ظاہر کرنے والی گمک مخلوط کی معیاری اشکال مان سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو اس کے لیے وجہ بتائیں۔
picture 27
4.13 SO3، NO2 اورNO3کے لیے گمک ساختیں بنائیے۔
4.14 مندرجہ ذیل ایٹموں میں کیٹائن اور اینائن بنانے کے لیے الیکٹرانوں کی منتقلی کو دکھانے کے لیے لیوئس علامات کا استعمال کیجیے:
(a) K اور S (b) Ca اور O (c) A1 اور N
4.15 اگرچہ CO2 اور H2O سالمے کی شکل خمیدہ اور CO2 کی خطّی ہے۔ ڈائپول مومنٹ کی بنیاد پر وضاحت کیجیے۔
4.16 ڈائپول مومنٹ کی اہمیت/استعمال لکھیے۔
4.17 برقی منفیت کی تعریف بیان کیجیے۔ یہ الیکٹران گین اینتھالپی (Electron Gain Enthalpy) سے کس طرح مختلف ہوتی ہے۔
4.18 قطبی شریک گرفت بندش کی وضاحت مناسب مثالوں کے ذریعہ کیجیے۔
4.19 مندرجہ ذیل سالمات میں بند کو ان کے بڑھتے ہوئے آینی کردار کی ترتیب میں لکھیے LiF، K2O، N2، SO2 اور ClF3 
4.20 CH3COOH کی نیچے دی گئی ڈھانچہ ساخت صحیح ہے، لیکن کچھ بند غلط جگہوں پر دکھائے گئے ہیں ایسیٹک ایسڈ کے لیے صحیح لیوئس ساخت لکھیے۔
picture 28
4.2ٹیٹراہیڈرل جیومیٹری کے علاوہ CH4 کی دوسری ممکنہ جیومیٹری مربع سطحی (Square Planer) شکل بھی ہے جس میں مربع کے چار کونوں میں چار ہائڈروجن اور کاربن مرکز میں ہو سکتا ہے۔ CH4 مربع سطحی کیوں نہیں ہے؟ وضاحت کیجیے۔
4.22 BeH2 کا ڈائپول مومنٹ صفر کیوں ہے جبکہ Be–H بند قطبی ہوتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
4.23 NH3 اور NF3 میں سے کس کا ڈائپول مومنٹ زیادہ ہوگا اور کیوں؟
4.24 ایٹمی اربٹل کی مخلوطیت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ sp، sp2 اور sp3 مخلوط اربٹل کی شکل بیان کیجیے۔
4.25 مندرجہ ذیل تعامل میں A1 ایٹم کی مخلوطیت میں تبدیلی (اگر کوئی ہے تو) بتائیے۔
-A1C13 + C1-   A1C14
4.26 مندرجہ ذیل تعامل کے نتیجے میں کیا B اور N ایٹموں کی مخلوطیت میں کوئی تبدیلی ہے؟
BF3 + NH3  F3B.NH3
4.27 تصویر کی مدد C2H2 اور C2H4 سالموں میں دوہرے اور تہرے بند بنتے ہوئے دکھائیے۔
4.28 مندرجہ ذیل سالموں میں کل سگما اور پائی بند کی تعداد بتائیے۔
(a) C2H2 (b) C2H4
4.29 -Xمحور کو بین مرکزی محور سمجھتے ہوئے بتائیے کہ مندرجہ ذیل میں سے کون سگما بند نہیں بنائے گا اور کیوں؟
(a) 1s اور 1s (b) 1s اور 2p (c) 2py اور 2py (d) 1s اور 2s 
4.30 مندرجہ ذیل سالموں میں کاربن ایٹم کے ذریعہ کون سے مخلوط اربٹل استعمال کیے گئے ہیں؟
(a) CH3 – CH3 (b) CH3 – CH = CH2 (c) CH3 – CH2 – OH (d) CH3 – CHO
(e) CH3 COOH
4.31 بونڈ پیئر الیکٹران اور لون پیئر الیکٹران سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ ہر ایک کی ایک ایک مثال دے کر سمجھائیے۔
4.32 سگما اور پائی بانڈ میں فرق بتائیے۔
4.33 ویلنس بانڈ تھیوری کی بنیاد پر H3 سالمے کی بننے کی وضاحت کیجیے۔
4.34 مالیکیولر اربٹل بنانے کے لیے ایٹمی اربٹل کے خطّی اتحاد کے لیے لازمی حالات لکھیے۔
4.35 مالیکیولر آربٹل تھیوری کی بنیاد پر واضح کیجیے کہ Be2 سالمہ کیوں نہیں پایا جاتا؟
4.36 مندرجہ ذیل نسبتی استحکام کا مقابلہ کیجیے اور ان کی مقناطیسی خصوصیات ظاہر کیجیے۔
O2+ , O2+ , O2 (سُپر آکسائڈ)، -O22(پرآکسائڈ)
4.37 اربٹل کے اظہار میں منفی اور مثبت اشاروں کی اہمیت بتائیے۔
4.38 PCl5 میں مخلوطیت کو بیان کیجیے۔ استوائی بانڈ کے مقابلے میں محوری بانڈ کیوں لمبے ہوتے ہیں۔ 
4.39     ہائڈروجن بانڈ کی تعریف بیان کیجیے۔ یہ ون ڈر والز قوتوں کے مقابلے زیادہ قوی ہوتا ہے یا کمزور؟
4.40 اصطلاح بانڈ آرڈر سے کیا مراد ہے؟O2+ , O2 , N2 ,  اور O2 کا بانڈ آرڈر معلوم کیجیے۔