4.5.4 اوورلیپنگ کی قسمیں اور شریک گرفت بند کی فطرت
(Types of Overlapping and Nature of Covalent Bonds)
اوورلیپنگ کی بنیاد پر شریک گرفت بند دو زمروں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔
(i)
سِگما

بند اور (ii) پائی

بند
(i) سگما (s) بند: اس قسم کا شریک گرفت بند بندشی اربٹل کے سروں سے سروں کی اوورلیپنگ کے نتیجہ میں بنتے ہیں جو بین مرکزی محور کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس کو ہیڈ آن (Head On) یا محوری اوورلیپ بھی کہتے ہیں۔ یہ ایٹمی اربٹل کے مندرجہ ذیل کسی بھی ایک اتحادی عمل سے بن سکتے ہیں۔
• s-s اوورلیپنگ: اس حالت میں دو آدھے بھرے ہوئے -sاربٹل کی بین مرکزی محور کے ساتھ اوورلیپنگ ہوتی ہے جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
• s-pاوورلیپنگ: اس طرح کی اوورلیپنگ ایک ایٹم کے نصف بھرے ہوئے s− اربٹل اور دوسرے ایٹم کے نصف بھرے ہوئے p اربٹل کے درمیان ہوتی ہے۔
• p-p اوورلیپنگ: اس طرح کی اوورلیپنگ نزدیک آنے والے دو ایٹموں کے نصف بھرے ہوئے -p اربٹل کے درمیان ہوتی ہے۔
(ii)
پائی

بندبنانے میں ایٹمی اربٹل کی اوورلیپنگ اس طرح ہوتی ہے کہ ان کے محور ایک دوسرے کے متوازی اور بین مرکزی محور کے عمودی ہوتے ہیں اس طرح جانبی اوورلیپنگ سے بننے والے اربٹل حصہ لینے والے ایٹموں کی سطح کے اوپر اور نیچے تشتری کی شکل کے دو الیکٹران بادلوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
4.5.5 سگما اور پائی بند کی قوت
(Strength of Sigma and pi Bonds)
بنیادی طور پر کسی بند کی طاقت اس کی اوورلیپنگ کی حد پر منحصر ہوتی ہے۔ سگما (s) بند میں اربٹل کی اوورلیپنگ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ پائی (

) بانڈ سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیںجہاں اوورلیپنگ کی حد کم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ p بند دو ایٹموں کے درمیان سگما بند کے علاوہ ہوتا ہے۔ یہ ان سالموں میں ہمیشہ موجود ہوتا ہے جہاں کثیر بند (دوہرے یا تہرے) پائے جاتے ہیں۔
4.6 مخلوطیت (Hybridisation)
CH3´ NH4 اور H2O جیسے کثیر ایٹمی سالموں کی جیومیٹریائی شکل کی خصوصیات کی وضاحت کرنے کے لیے پالِنگ نے مخلوطیت کا تصور پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق ایٹمی اربٹل آپس میں مل کر نئے قسم کے یکساں اربٹل بناتے ہیں جو مخلوط اربٹل کہلاتے ہیں۔ خالص اربٹل کے برعکس مخلوط اربٹل بند بنانے میں استعمال ہوتے ہیں اس عمل کو مخلوطیت (Hybridisation) کہتے ہیںجس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ یہ توانائی میں ہلکے سے فرق والے اربٹل کی ملاوٹ کا عمل ہے تاکہ ان کی توانائی کو دوبارہ تقسیم کیا جاسکے اور وہ یکساں توانائی اور یکساں شکل والے اربٹل کے نئے گروپ کی شکل میں حاصل ہو سکیں۔ مثال کے طور پر جب کاربن کے ایک 2s2 اور تین 2p2 اربٹل کا اخلاط ہوتا ہے تو چار نئے مخلوط اربٹل sp3 حاصل ہوتے ہیں۔
مخلوطیت کی نمایاں خصوصیات : مخلوطیت کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ مخلوط اربٹل کی تعداد ان ایٹمی اربٹل کے برابر ہوتی ہے جن میں مخلوطیت ہوتی ہے۔
2۔ مخلوط اربٹل توانائی اور شکل کے اعتبار سے ہمیشہ یکساں ہوتے ہیں۔
3۔ مستحکم بند بنانے میں خالص ایٹمی اربٹل کے مقابلے میں مخلوط اربٹل زیادہ اثر دار ہوتے ہیں۔
4۔ یہ مخلوط اربٹل اسپیس میں ایسی سمت کی طرف رخ کرتے ہیں جہاں الیکٹران جوڑوں کے درمیان قوت دافعہ کمترین ہو اور اس طرح ان کی ترتیب مستحکم ہوتی ہے۔ لہٰذا مخلوطیت کی قسم کے سالمے کی جیومیٹری کو ظاہر کرتی ہے۔
مخلوطیت کے لیے اہم شرائط
(i) ایٹم کے گرفت خول میں موجود اربٹل ہی اخلاط کرتے ہیں۔
(ii) جن اربٹل میں مخلوطیت ہورہی ہے ان کی توانائی تقریباً برابر ہونی چاہیے۔
(iii) یہ ضروری نہیں ہے کہ مخلوطیت میں صرف نصف بھرے ہوئے اربٹل ہی حصّہ لیں گے۔ کچھ جگہوں پر گرفتی خول کے بھرے ہوئے اربٹل بھی مخلوطیت میں حصّہ لیتے ہیں۔
4.6.1 مخلوطیت کی قسمیں (Types of Hybridisation)
مخلوطیت کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں جن میں s، p اور d اربٹل شامل ہوتے ہیں۔ مخلوطیت کی مختلف اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) sp-مخلوطیت: مخلوطیت کی اس قسم میں ایک s اور ایک p اربٹل کی آمیزش شامل ہوتی ہے جس کے نتیجے میں دو یکساں مخلوط sp اربٹل حاصل ہوتے ہیں۔ sp مخلوطیت کے لیے مناسب اربٹل s اور pz ہوتے ہیں، اگر مخلوط اربٹل کو -zمحور پر ہونا ہے۔ ہر ایک spمخلوط اربٹل میں S 50% اور p 50% کردار ہوتا ہے۔ ایسے سالمے جن کے مرکزی ایٹم میں s-p مخلوطیت ہے اور وہ براہِ راست دوسرے مرکزی ایٹموں سے جُڑے ہوئے ہوں تو ان کی جیومیٹری خطّی ہوتی ہے۔ اس طرح کی مخلوطیت وتری مخلوطیت (Diagonal Hybridisation) بھی کہلاتی ہے۔
دو sp مخلوط -zمحور پر مخالف سمت میں ہوتے ہیں جن کے مثبت لوب اُبھرے ہوئے ہوتے ہیں اور منفی لوب بہت چھوٹے اور دبے ہوئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اوورلیپنگ مؤثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مضبوط بند بنتے ہیں۔
sp- مخلوطیت والے سالمات کی مثالیں
Be:BeCl2 کا گراؤنڈ اسٹیٹ میں الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 ہوتا ہے۔ مشتعل حالت میں ایک 2s الیکٹران خالی 2p اربٹل میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے بندش دو ہوتی ہے ایک 2s اور ایک 2p اربٹل مخلوط ہوجاتے ہیں اور دو sp مخلوط اربٹل بناتے ہیں یہ دو مخلوط اربٹل مخالف سمت میں ہوتے ہیں اور °180 کا زاویہ بناتے ہیں۔ ہر ایک sp مخلوط اربٹل کلورین کے 2p اربٹل سے محوری اوورلیپ کرتا ہے اور دو BaCl سگما بانڈ بنتے ہیں۔ یہ شکل 4.10 میں دکھایا گیا ہے۔
شکل 4.10 (a) اور p اربٹل سے sp مخلوط کا بننا (b) خطّی BeCl2 سالمے کا بننا

مخلوطیت: اس قسم کی مخلوطیت میں ایک sاور 2p اربٹل شامل ہوتے ہیں جو تین معادل مخلوط sp2 اربٹل بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر BeCl3 سالمے میں مرکزی ایٹم بورون کا گراؤنڈ اسٹیٹ میں الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 p1 ہوتا ہے۔ مشتعل حالت میں 2s کا ایک الیکٹران خالی 2p اربٹل میں چلا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بورون کے پاس تین غیر جفتی الیکٹران ہو جاتے ہیں۔ یہ تین اربٹل (ایک 2s اور دو 2p) مل کر تین sp2 مخلوط اربٹل بناتے ہیں۔ اس طرح بننے والے تین مخلوط اربٹل ٹرائی گونل پلینر ترتیب میں آجاتے ہیں اور کلورین کے 2p اربٹل سے مل کر تین B-Cl بند بناتے ہیں۔ لہٰذا BCl3 کی جیومیٹری ٹرائی گونل پلینر ہوتی ہے اور Cl B Cl بند زاویہ 120° ہوتا ہے (شکل 4.11)۔
شکل 4.11 sp3 مخلوط اربٹل اور BCl3 سالمے کا بننا

مخلوطیت: اس طرح کی مخلوطیت کی وضاحت کے لیے CH
4 کی مثال لی جاسکتی ہے جس میں ایک sاور تین -p اربٹل کی آمیزش سے چار sp
3 مخلوط اربٹل بنتے ہیں جن کی توانائی اور شکل یکساں ہوتی ہے۔ ہر ایک sp
3 اربٹل میں s 25% اور p 75% کردار شامل ہوتا ہے۔ اس طرح بننے والے چار sp
3 اربٹل چوسطحی شکل کے چاروں کونوں کی سمت ہوتے ہیں sp3 مخلوط اربٹل کے درمیان °109.5 ہوتا ہے جیسا کہ شکل 4.12 میں دکھایا گیا ہے۔
NH
3 اور H
2O سالموں کی اشکال بھی sp
3 مخلوطیت کی مدد سے واضح کی جاسکتی ہیں۔ NH
3 سالمے میں نائٹروجن کا گراؤنڈ اسٹیٹ پر الیکٹرانی تشکل

ہوتا ہے۔ جس میں سے تین sp3 مخلوط اربٹل میں غیر جفتی الیکٹران ہوتے ہیں اور چوتھے میں ایک الیکٹرانوں کا تنہا جوڑا ہوتا ہے۔ یہ تین مخلوط اربٹل ہائڈروجن کے 1s اربٹل سے اوورلیپ کرکے تین N-H سگما بند بناتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تنہا جوڑے اور بندشی جوڑے کے درمیان قوت دافعہ الیکٹران کے دو بندشی جوڑوں کے درمیان قوت دافعہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح سالمہ کی شکل مسخ ہو جاتی ہے اور بند زاویہ 109.5° سے گھٹ کر °107 ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے سالموں کی جیومیٹری پیرامڈل ہوتی ہے جیسا کہ شکل 4.13 میں دکھایا گیا ہے۔
شکل 4.12 کاربن کے s، px، py اور pz اربٹل کے اتحاد سے بننے والے sp3 مخلوط اربٹل اور CH4 کا بننا
شکل 4.13 NH3 سالمہ کا بننا
H2O سالمہ میں آکسیجن کے چار اربٹل (ایک 2s اور تین 2p) میں sp3 مخلوطیت ہوتی ہے اور چار sp3 اربٹل بنتے ہیں جن میں سے دو اربٹل میں سے ہر ایک میں ایک الیکٹران ہوتا ہے اور باقی دو میں ایک ایک جوڑا الیکٹرانوں کا ہوتا ہے۔ یہ چار sp3 مخلوط اربٹل چہار سطحی جیومیٹری حاصل کرتے ہیں۔ جس کے دو کونوں میں دو ہائڈروجن کے ایٹم ہوتے ہیں اور باقی دو کونوں میں غیر بندشی جوڑے ہوتے ہیں۔ اس میں بندشی زاویہ 109.5° سے گھٹ کر 104.5° ہو جاتا ہے (شکل 4.14) اور سالمہ -Vشکل یا خمیدہ شکل اختیار کرتا ہے۔
شکل 4.14 H2O سالمہ کا بننا
4.6.2 sp3، sp2 اور sp مخلوطیت کی کچھ اور مثالیں
C2H6 سالمے میں sp3 مخلوطیت: ایتھین کے سالمے میں دونوں کاربن ایٹموں میں sp3 مخلوط حالت ہوتی ہے۔ کاربن ایٹم کے چار sp3 مخلوط اربٹل میں سے ایک محوری طور پر دوسرے کاربن کے ایسے ہی اربٹل کے ساتھ اوورلیپ کرتا ہے اور ایک sp3-sp3 سگما بند بناتا ہے جبکہ ہر ایک کاربن کے تین مخلوط اربٹل ہائڈروجن ایٹم کے ساتھ sp3-s سگما بند بناتے ہیں جیسا کہ 4.6.1 (iii) میں دکھایا گیا ہے۔ لہٰذا ایتھین میں C-C بندشی لمبائی 154 pm ہوتی ہے اور C-H بندشی لمبائی 109 pm ہوتی ہے۔
C2H4 میں sp2 مخلوطیت: ایتھیٖن سالمہ کے بننے میں ایک کاربن ایٹم کا ایک
sp2 مخلوط اربٹل دوسرے ایٹم کے sp
2 مخلوط اربٹل کے ساتھ محوری طور پر اوورلیپ کر کے C-C سگما بند بناتا ہے۔ جبکہ ہر ایک کاربن کے باقی دو sp
2 مخلوط اربٹل دو ہائڈروجن ایٹموں کے ساتھ sp
2-s سگما بند بناتے ہیں جبکہ ہر ایک کاربن کے باقی دو sp
2 مخلوط اربٹل دو ہائڈروجن ایٹموں کے ساتھ sp
2-s سگما بند بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ایک کاربن ایٹم کا غیر مخلوط اربٹل (2p
y یا 2p
x) دوسرے کاربن ایٹم کے مماثل اربٹل کے ساتھ پہلوی اوورلیپ کر کے ایک کمزور

بند بناتا ہے جو کاربن اور ہائڈروجن کی سطح کے اوپر اور نیچے دو مساوی الیکٹران بادلوں کی شکل میں رہتا ہے۔
اس طرح ایتھیٖن سالمے میں کاربن-کاربن بانڈ میں ایک sp2-sp2 سگما بند ایک p بند ہوتا ہے جو p اربٹل کے درمیان ہوتا ہے جو مخلوطیت میں حصّہ نہیں لیتے اور سالمہ کی سطح کے عمودی ہوتے ہیں؛ بندشی لمبائی 134 pm ہوتی ہے۔ C-H بند sp2-s ہوتاہے جس کی بندشی لمبائی 108 pm ہوتی ہے H-C-H بندشی زاویہ 117.6° جبکہ H-C-C بندشی زاویہ 121° ہوتا ہے۔ ایتھیٖن میں سگما اور پائی بند کا بننا شکل 4.15 میں دکھایا گیا ہے۔
C2H2 میں sp مخلوطیت: ایتھائن کے سالمے کی تشکیل میں دونوں کاربن ایٹموں میں sp مخلوطیت ہوتی ہے اور دو غیر مخلوط اربٹل، یعنی 2py اور 2px ہوتے ہیں۔
ایک کاربن ایٹم کا sp مخلوط اربٹل دوسرے کاربن ایٹم کے sp مخلوط اربٹل کے ساتھ محوری اوورلیپ کر کے C-C سگما بند بناتے ہیں جبکہ ہر ایک کاربن کا دوسرا مخلوط اربٹل محوری سطح پر ہائڈروجن ایٹم کے نصف بھرے ہوئے s اربٹل پر اوورلیپ کر کے s بند بناتا ہے۔ دونوں کاربن ایٹموں کے دو غیر مخلوط p اربٹل جانبی اوورلیپ کرکے کاربن ایٹموں کے درمیان دو p بند بناتے ہیں۔ اس طرح دو کاربن ایٹموں کے درمیان تہرے بند میں ایک سگما اور دوپائی بند ہوتے ہیں جیسا کہ شکل 4.16 میں دکھایا گیا ہے۔
4.6.3 -d اربٹل والے عناصر میں مخلوطیت
(Hybridisation of Elements Involving d Orbitals)
تیسرے دور میں پائے جانے والے عناصر میں -s اور -pکے علاوہ -dاربٹل ہوتے ہیں 3d اربٹل کی توانائی کا موازنہ 3s اور 3p اربٹل سے کیا جاسکتا ہے۔-3d اربٹل کی توانائی کا موازنہ 4s اور 4p سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر3s، 3p اور 3d یا 3d، 4s اور 4p کے درمیان مخلوطیت ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم چونکہ 3p اور 4s اربٹل کے درمیان توانائی کا فرق بامعنی ہوتا ہے، لہٰذا 3p، 3d اور 4s اربٹل کے ساتھ مخلوطیت ممکن نہیں ہوتی۔
s، p اور-d اربٹل کے ساتھ مخلوطیت کی اسکیم کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:
| سالموں/آینوں کی شکل |
مخلوطیت کی قسم |
ایٹمی اربٹل |
مثالیں |
| مربع سطحی(Square Planar) |
dsp2 |
d+s+p(2) |
[Ni(CN)4]2–,
[Pt(Cl)4]2–
|
ٹرائی گونل بائی پیرامڈل
(Trigonal Bipyramidal)
|
sp3d |
s+p(3)+d |
PF5, PCl5 |
اسکوائر پیرامڈل
(Suqare Pyramidal)
|
dsp3 |
d+s+p(3) |
BrF5, XeOF4 |
آکٹا ہیڈرل
|
sp3d2
d2sp3
|
s+p(3)+d(2)
d(2)+s+p(3)
|
SF6, [CrF6]3–
[Co(NH3)6]3+
|
(i) PCl5 کا بننا (sp3d مخلوطیت): فاسفورس کی گراؤنڈ اسٹیٹ اور مشتعل حالت کا بیرونی الیکٹرانی تشکل (Z = 15) مندرجہ ذیل ہے۔
اب پانچ اربٹل (یعنی ایک s، تین p اور ایک d اربٹل) مخلوطیت کے لیے دستیاب ہیں جو sp3d مخلوط اربٹل کو بنائیں گے جو کہ ٹرائی گونل بائی پیرامڈل کے پانچ کونوں کی سمت میں ہوں گے جیسا کہ شکل 4.17 میں دکھایا گیا ہے۔
یہ دیکھنا چاہیے کہ ٹرائی گونل بائی پیرامڈل جیومیٹری میں تمام زاویے برابر نہیں ہوتے۔ PCl5 میں فاسفورس کے پانچ sp3d مخلوط اربٹل کلورین ایٹم کے p اربٹل، جس میں صرف ایک الیکٹران ہوتا ہے سے اوورلیپ کرکے پانچ P-Cl سگما بند بناتے ہیں۔ تین P-Cl بند ایک ہی سطح پر ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے °120 کا زاویہ بناتے ہیں۔ ان بند کو استوائی بند (Equatorial Bond) کہتے ہیں۔ باقی کے دو P-Cl بند استوائی سطح کے اوپر اور نیچے سطح کے ساتھ 90° کا زاویہ بناتے ہوئے ہوتے ہیں۔ انھیں محوری بند کہتے ہیں۔ چونکہ محوری بند کے جوڑے استوائی بند کے جوڑوں کی طرف سے زیادہ دافع قوت برداشت کرتے ہیں۔ لہٰذا محوری بند، اسطوانی بند کے مقابلے میں تھوڑے سے لمبے اور کمزور پائے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے PCl5 زیادہ متعامل ہوتا ہے۔
(ii) SF6 کا بننا (sp3 d2 مخلوطیت): SF6 میں مرکزی ایٹم سلفر کا گراؤنڈ اسٹیٹ میں الیکٹرانی تشکل 3s2 3p4 ہے۔ مشتعل حالت میں دستیاب چھ اربٹل یعنی، ایک s، تین -p اور دو -d اربٹل میں ایک ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ یہ اربٹل مخلوطیت کے بعد چھ نئے sp3 d2 مخلوط اربٹل بناتے ہیں جو SF6 میں باقاعدہ آکٹاہیڈرن کے چھ کونوں کی سمت ہوتے ہیں۔ یہ چھ sp3d3 ہے۔ مخلوط اربٹل فلورین ایٹم کے ایک الیکٹران سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں اربٹل پر اوورلیپ کرکے چھ S-F سگما بند بناتے ہیں۔ اس طرح SF6 سالمے کی ایک باقاعدہ آکٹاہیڈرن شکل ہوتی ہے جیسا کہ شکل 4.18 میں دکھائی گئی ہے۔
4.7 مولیکیولر اربٹل تھیوری
(Molecular Orbital Theory)
مولیکولر اربٹل نظریہ 1932 میں ایف۔ہُنڈ اور آر۔ایس۔ مُلیکن نے تیار کیا تھا۔ اس نظریہ کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(i) ایک سالمہ میں الیکٹران مختلف مالیکیولر اربٹل میں پائے جاتے ہیں اسی طرح جیسے ایک ایٹم میں الیکٹران ایٹمی اربٹل میں پائے جاتے ہیں۔
(ii) قابل موازنہ توانائی اور مناسب تشاکل کے ایٹمی اربٹل آپس میں مل کر مولیکیولر اربٹل بناتے ہیں۔
(iii) ایک ایٹمی اربٹل میں الیکٹران ایک نیوکلیس کے زیر اثر ہے، جبکہ مالیکیولر اربٹل میں وہ دو یا دو سے زیادہ نیوکلیس اثر میں رہتا ہے اس کا انحصار سالمے میں موجود ایٹموں کی تعداد پر ہوتا ہے۔ لہٰذا ایٹمی اربٹل اکائی مرکزی ہوتا ہے جبکہ مالیکیولر اربٹل کثیر مرکزی ہوتا ہے۔
(iv) بننے والے مولیکیولر اربٹل کی تعداد متحد ہونے والے ایٹمی اربٹل کی تعداد کے برابر ہوتی ہے۔ جب دو ایٹمی اربٹل متحد ہوتے ہیں تو دو مولیکیوکر اربٹل بنتے ہیں۔ ایک بونڈنگ مولیکولر اربٹل اور دوسرا اینٹی بونڈنگ اربٹل کہلاتا ہے۔
(v) بندشی مولیکولر اربٹل کی توانائی کم ہوتی ہے لہٰذا متعلقہ اینٹی بونڈنگ مولیکولر اور بٹل سے اس کا استحکام زیادہ ہوتا ہے۔
(vi) جس طرح ایک ایٹم میں مرکز کے گرد الیکٹرانوں کا احتمالی بٹاؤ ایک ایٹمی اربٹل سے ظاہر کیا جاتا ہے اسی طرح ایک سالمہ میں مرکزوں کے گروہ کے گرد الیکٹرانوں کا احتمالی بٹاؤ مولیکیولر اور بٹل کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔
(viii) ایٹمی اربٹل کی طرح مولیکیولر اربٹل بھی پالی کے اصول اخراج اور ہُنڈ کے قانون کا اتباع کرتے ہوئے آف باؤ کے اصول کے مطابق ہی بھرے جاتے ہیں۔
4.7.1 مولیکیولرآربٹل کا بننا ایٹمی اربٹل کا خطّی اتحاد
(Formation of Molecular Orbitals Linear Combination of Atomic Orbitals (LCAO)
لہرمیکانیات (Wave Mechanics) کے مطابق ایٹمی اربٹل کو لہر تفاعل (y) سے ظاہر کرتے ہیں جو الیکٹران لہروں کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہیں شروڈنجر کی لہر مساوات کے حل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم، چونکہ یہ کسی ایسے نظام کے لیے حل نہیں کی جاسکتی جس میں ایک سے زیادہ الیکٹران ہوں، مولیکیولر اوربٹل جو سالموں کے لیے ایک الیکٹران لہرفنکشن ہوتے ہیں انہیں براہِ راست شروڈنجر کی لہر مساوات کے حل سے حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے ایک تقریبی طریقہ استعمال کیا گیا جو ایٹمی اربٹل کا خطی اتحاد (Linear Combination of Atomic Orbital) کہلاتا ہے۔
آئیے اس طریقہ کو ہومونیوکلیر دو ایٹمی ہائڈروجن سالمے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مان لیجیے ہائڈروجن سالمہ دو ایٹم A اور B سے مل کر بنا ہے۔ ہر ایک ہائڈروجن ایٹم اپنی گراؤنڈ اسٹیٹ میں 1s اربٹل میں ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ ان ایٹموں کے ایٹمی اربٹل لہر فنکشن

سے ظاہر کیے جاسکتے ہیں۔ ریاضیاتی طور پر مالیکیولر اربٹل مالیکیولر اربٹل کا بننا ایٹمی اربٹل کے خطّی اتحاد سے ظاہر کیا جاسکتا ہے جو منفرد ایٹمی اربٹل کے لہر فنکشن کے جمع اور گھٹا کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا s اور s* دو مالیکیولر اربٹل اس طرح بنیں گے۔
س
الماتی اربٹل s جو ایٹمی اربٹل کے جمع کرنے سے بنا ہے وہ بندشی مالیکیولر اربٹل (Bonding Molecular Orbital) کہلاتا ہے جبکہ سالماتی اربٹل s* جو ایٹمی اربٹل کی تفریق سے بنتا ہے وہ اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کہلاتا ہے۔ جیسا کہ شکل 4.19 میں دکھایا گیا ہے۔
اینٹی بانڈنگ اربٹل ایٹمی
اربٹل سے زیادہ تونائی
ایٹمی اربل سالماتی اربٹل ایٹمی اربٹل
ایٹمی اربٹل سے کم تونائی
بڑھتی ہوئی تونائی
شکل 4.19 دو ایٹم Aاور B کے مرکز پر ایٹمی اربٹل A اور B کے خطّی اتحاد سے بننے والے بانڈنگ (*σ) اور ایٹنی بانڈنگ (σ) مولیکیولر اربٹل کا بننا
کیفیتی طور پر، سالماتی اربٹل کا بننا اتحادی ایٹموں کی الیکٹرانی لہروں کی تعمیری اور تخریبی تداخل (Constructive and Distructive Interference) کی اصطلاحات میں سمجھا جاسکتا ہے۔ بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کے بننے میں بندشی ایٹموں کی دو الیکٹران لہریں ایک دوسرے کو تعمیری تداخل کے سبب تقویت پہنچاتی ہیں جبکہ اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کے بنے میں الیکٹران لہریں تخریبی تداخل کی وجہ سے ایک دوسرے کو رَد کر دیتی ہیں۔ نتیجہ کے طور پر بانڈنگ مالیکیولر اربٹل کی الیکٹران کثافت اتحادی ایٹموں کے مرکزوں کے درمیان قائم رہتی ہے جس کی وجہ سے نیوکلیس کے درمیان دفع بہت کم ہوتا ہے جبکہ اینٹی بانڈنگ مولیکیولر اربٹل میں زیادہ تر الیکٹران کثافت کے درمیان کی جگہ سے دور ہوتے ہیں۔ دراصل مرکزوں کے درمیان ایک نوڈل مستوی ہوتا ہے (جس پر الیکٹران کثافت صفر ہوتی ہے) جس کی وجہ سے نیوکلیس کے درمیان قوت دافعہ زیادہ ہوتی ہے۔ گرفتی مالیکیولر اربٹل میں موجود الیکٹران مرکزوں کو ایک ساتھ تھامے رہتے ہیں جس کی وجہ سے سالمہ مستحکم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ایک گرفتی مالیکیولر اربٹل میں ہمیشہ ان دونوں ایٹمی اربٹل سے کم توانائی ہوتی ہے جن سے مل کر وہ بنتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ الیکٹران جو انٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں ہوتے ہیں وہ سالمہ کو غیر مستحکم کرتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس اربٹل میں الیکٹرانوں کی آپسی قوت دافعہ الیکٹرانوں اور نیوکلیس کے درمیان کشش سے زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کل توانائی میں اضافہ ہوتاہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ اینٹی بانڈنگ اربٹل کی توانائی ان ایٹمی اربٹل سے اوپر اٹھ جاتی ہے جن اربٹل سے مل کر وہ بنتے ہیں جبکہ بندشی اربٹل کی توانائی ان سے نیچے گر جاتی ہے جو ان کے بنانے والے ہیں۔ تاہم، دونوں مالیکیولر اربٹل کی کُل توانائی اتنی ہی رہتی ہے جتنی کہ ابتدائی دو ایٹمی اربٹل کی ہوتی ہے۔
4.7.2 ایٹمی اربٹل کے اتحاد کی شرائط
(Conditions for the Combination of Atomic Orbitals)
مالیکیولر اربٹل بنانے کے لیے ایٹمی اربٹل کا خطّی اتحاد اسی وقت ممکن ہے جبکہ مندرجہ ذیل شرائط پوری ہو سکیں۔
1۔ اتحادی ایٹمی اربٹل کی توانائی تقریباً یکساں ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1s اربٹل 1s اربٹل کے ساتھ ہی اتحاد کر سکتا ہے لیکن 2s کے ساتھ نہیں کیونکہ -2s اربٹل کی توانائی -1s اربٹل سے خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اس وقت درست نہیں ہوگا جب ایٹم بہت مختلف ہوں گے۔
2۔ متحد ہونے والے ایٹمی اربٹل کا تشاکل سالمی محور کے برابر ہونا چاہیے۔ روایت کے مطابق -zمحور کو سالماتی محور کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ برابر اور تقریباً برابر توانائی والے ایٹمی اربٹل بھی اتحاد نہیں کرتے ہیں اگر ان کا تشاکل برابر نہ ہو۔ مثال کے طور پر کسی ایٹم کے 2pz اربٹل دوسرے ایٹم کے 2pz اربٹل کے ساتھ ہی اتحاد کریں گے نہ کہ 2px یا 2py سے کیونکہ ان کا تشاکل مختلف ہے۔
3۔ متحد ہونے والے ایٹمی اربٹل کا اوورلیپ زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے۔ جتنا زیادہ اوورلیپ ہوگا مالیکیولر اربٹل کے مرکزوں کے درمیان اتنی ہی زیادہ الیکٹران کثافت ہوگی۔
4.7.3 مالیکیولر اربٹل کی قسمیں
(Types of Molecular Orbitals)
دوایٹمی سالمات کے مالیکیولر اربٹل کو

(سگما)

(پائی) اور

(ڈیلٹا) سے ظاہر کرتے ہیں۔
اس تسمیہ میں ’سگما (

) مالیکیولر اربٹل بند-محور کے گرد تشاکلی ہوتے ہیں جبکہ پائی (

) مالیکیولر اربٹل تشاکلی نہیں ہوتے۔‘ مثال کے طور پر -1s اربٹل کا خطّی اتحاد جو دو مرکزوں کے گرد ہوتا ہے اور دو مالیکیولر اربٹل بناتا ہے جو بند-محور کے گرد تشاکلی ہوتے ہیں۔ ایسے مالیکیولر اربٹل

قسم کے ہوتے ہیں اور ان کو

سے ظاہر کرتے ہیں (شکل

اگر بین مرکزی محور -zسمت میں لیا جائے تو یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ دو ایٹموں کے 2pz اربٹل کا خطّی اتحادبھی دو سگما مالیکیولر اربٹل بناتا ہے جن کو

سے ظاہر کرتے ہیں (شکل)

2p
x اور 2p
y سے حاصل ہونے والے مالیکیولر اربٹل بانڈ-محور کے گرد تشاکلی نہیں ہوتے کیونکہ سالماتی سطح کے اوپر مثبت لوب اور نیچے منفی لوب ہوتا ہے۔ ایسے مالیکیولر اربٹل کو

سے ظاہر کرتے ہیں (شکل)

بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں بین مرکزی محور کے اوپر اور نیچے الیکٹران- کثافت زیادہ ہوتی ہے۔

اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں مرکزوں کے درمیان نوڈ ہوتی ہے۔
4.7.4 مالیکیولر اربٹل کے انرجی لیول ڈائیگرام
(Energy Level Diagram for Molecular Orbitals)
ہم نے دیکھا کہ دو ایٹموں کے 1s ایٹموں اربٹل دو مالیکیولر اربٹل

اور

بناتے ہیں۔ اسی طرح 2s اور 2p ایٹمی اربٹل (دوایٹموں پر آٹھ ایٹمی اربٹل) مل کر مندرجہ ذیل آٹھ مالیکیولر اربٹل دیتے ہیں۔
اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل
بانڈنگ مولیکیولر اربٹل
ان مالیکیولر اربٹل کے انرجی لیول دوری جدول کی دوسری قطار کے عناصر کے متجانس دو ایٹمی سالموں کے تجرباتی طور پر حاصل شدہ اسپیکٹرواسکوپِک اعداد و شمار کی مدد سے معلوم کیے گئے ہیں۔ O2 اور F2 کے مختلف مالیکیولر اربٹل کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ترتیب مندرجہ ذیل ہے:
تاہم مالیکیولر اربٹل کی توانائی کے درجات کی یہ ترتیب باقی سالموں،

کے لیے صحیح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر تجرباتی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ

وغیرہ جیسے سالمات کے لیے مختلف مالیکیولر اربٹل کے لیے توانائی کی بڑھتی ہوئی ترتیب مندرجہ ذیل ہے۔
اس ترتیب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ s2p
z < مالیکیولر اربٹل کی توانائی

مالیکیولر اربٹل سے زیادہ ہے۔
4.7.5 الیکٹرانی تشکل اور سالماتی طرز عمل
(Electronic Configuration and Molecular Behaviour)
مختلف مالیکیولر اربٹل میں الیکٹرانوں کا بٹاؤ سالمے کا الیکٹرانی تشکل کہلاتا ہے۔ سالمے کے الیکٹرانی تشکل سے یہ ممکن ہے کہ سالمے سے متعلق اہم معلومات حاصل کی جاسکیں جیسا کہ نیچے بیان کیا گیا ہے۔
سالموں کا استحکام: اگر بانڈنگ اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد Nb ہے اور اینٹی بانڈنگ اربٹل میں الیکٹرانوں کی تعداد Na ہے تو:
(i) اگر Nb، Na سے زیادہ ہے تو سالمہ مستحکم ہوگا
(ii) سالمہ غیر مستحکم ہوگا اگر Nb، Na سے کم ہے۔
(i) میں زیادہ بانڈنگ اربٹل بھرے ہوئے ہیں لہٰذا بانڈنگ کا اثر زیادہ ہوگا اور سالمہ مستحکم ہوگا۔ (ii) اینٹی بانڈنگ اربٹل کا اثر زیادہ ہے لہٰذا سالمہ غیر مستحکم ہوگا۔
بانڈ آرڈر (Bond Order)
بونڈ آرڈر (BO) کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ بانڈنگ اور اینٹی بانڈنگ اربٹل میں موجود الیکٹرانوں کی تعداد میں فرق کے آدھے کی برابر ہوتا ہے۔ یعنی
(BO) = ½(Nb – Na)
سالموں کی استحکام سے متعلق اوپر بیان کیے گئے اصولوں کو بانڈ آرڈر کی اصطلاحات میں مندرجہ ذیل طریقہ سے دوبارہ بیان کیا جاسکتا ہے۔ ایک مثبت بانڈآرڈر (یعنی Nb > Na) یا صفر (یعنی Na = Nb) کا مطلب ہے غیر مستحکم سالمہ۔
بند کی فطرت (Nature of the Bond)
بانڈ آرڈر کی تکملی قیمتیں 1، 2 یا 3 اکہرے، دوہرے یا تہرے بند کو ظاہر کرتی ہیں جیسا کہ ہم نے کلاسیکی تصور میں پڑھا تھا۔
بندشی لمبائی (Bond-length)
ایک سالمہ میں دو ایٹموں کے درمیان بانڈ آرڈر کو بندشی لمبائی کی قریبی پیمائش کے طور پر لیا جاسکتا ہے جب بانڈ آرڈر بڑھتا ہے تو بندشی لمبائی کم ہوتی ہے۔
مقناطیسی فطرت (Magnetic Nature)
اگر کسی سالمے میں تمام مالیکیولر آربٹل دوہرے (یا دو الیکٹرانوں سے) گھرے ہوئے ہیں تو وہ شے ڈایا مقناطیسی (Diamagnetic) ہوگی (مقناطیسی میدان سے مدافعت کرے گی)۔ بہر حال اگر ایک یا زیادہ مالیکیولر آربٹل میں اکہرے الیکٹران ہیں تو وہ پیرامیگنیٹک (Paramagnetic) ہوگی (مقناطیسی میدان کے تئیں کشش رکھے گی)۔ مثال کے طور پر O2 کا سالمہ۔
4.8ہم نیوکلیائی دو ایٹمی سالموں میں بندش
(Bonding in Some Homonuclear Diatomic Molecules)
اس سیکشن میں ہم کچھ ہم نیوکلیائی دوایٹمی سالموں میں بندش پر بحث کریں گے۔
1۔ ہائڈروجن سالمہ (H2): یہ دو ہائڈروجن ایٹموں کے ملنے سے بنتا ہے۔ ہر ایک ہائڈروجن ایٹم کے 1s اربٹل میں ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ لہٰذا، ہائڈروجن کے سالمہ میں کُل دو الیکٹران ہوتے ہیں جو s1s مالیکیولر آربٹل میں موجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہائڈروجن سالمے کا الیکٹرانی تشکل ہوتا ہے:
H2 : [s1s]2
ہائڈروجن سالمے H2 کا بانڈ آرڈر مندرجہ ذیل طریقے سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

بانڈ آرڈر
اس کا مطلب ہے کہ ہائڈروجن کے دو ایٹم آپس میں اکہرے بند سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہائڈروجن سالمے کی بند افتراق توانائی 438 kJ mol–1 معلوم کی گئی ہے اور بندشی لمبائی 74 pm ہے۔ چونکہ ہائڈروجن کے سالمے میں کوئی بھی بغیر جوڑے والا الیکٹران نہیں ہے لہٰذا یہ ڈایا مقناطیسی ہوتا ہے۔
2۔ ہیلیم سالمہ (He): ہیلیم ایٹم کا الیکٹرانی تشکل 1s2 ہے۔ ہیلیم کے ہر ایک ایٹم میں دو الیکٹران ہوتے ہیں لہٰذا ہیلیم کے سالمہ میں چار (4) الیکٹران ہوں گے۔ یہ الیکٹران s1s اور *s1s مالیکیولر آربٹل میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے الیکٹرانی تشکل مندرجہ ذیل ہوتا ہے۔
He2 : (s1s)2 (s*1s)2
ہیلیم کا بانڈ آرڈر ہوگا

He2 سالمہ لہٰذا غیر مستحکم ہے اور پایا نہیں جاتا۔
اسی طرح یہ بھی دکھایا جاسکتا ہے کہ

بھی نہیں پایا جاتا۔
3۔ لیتھیم سالمہ (Li2): لیتھیم کا الیکٹرانی تشکل

میں چھ الیکٹران ہیں۔ لہٰذا Li2 سالمہ کا الیکٹرانی تشکل،


ہوگا۔
مندرجہ بالا تشکل کو اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں KK[s2s]
2، جہاں KK بند K شیل

کو ظاہر کرتے ہیں۔
Li
2 کے الیکٹرانی تشکل سے یہ بات ظاہر ہے کہ بانڈنگ مالیکیولر آربٹل میں چار الیکٹران موجود ہیں اور دو الیکٹران اینٹی بانڈنگ مالیکیولر آربٹل میں موجود ہیں۔ لہٰذا اس کا بانڈ آرڈر،

ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ Li
2 سالمہ مستحکم ہے اور چونکہ اس کے پاس غیرجوڑے کے الیکٹران نہیں ہیں لہٰذا یہ ڈایا مقناطیسی ہوگا۔ درحقیقت ڈایا مقناطیسی Li
2 سالمے بخارات کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔
4۔ کاربن سالمہ (C2): کاربن کا الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 2p2 ہے۔ C2 میں بارہ الیکٹران ہوتے ہیں۔ لہٰذا، C2 سالمہ کا الیکٹرانی تشکل:
کاربن کا بانڈ آرڈر

ڈایا مقناطیسی ہونا چاہیے۔ حقیقت میں بخارات کی شکل میں C
2 سالمے پائے گئے ہیں۔ یہ بات نوٹ کرنے لائق ہے کہ C
2 میں دوہرا بند دونوں پائی بند پر مشتمل ہوتا ہے کیونکہ دو پائی مالیکیولر اربٹل میں چار الیکٹران موجود ہوتے ہیں۔ دوسرے زیادہ تر سالموں کے دوہرے بند میں ایک سگما اور دوسرا پائی بند ہوتا ہے۔ اسی طریقے سے N
2 سالمے میں بندش پر بحث کی جاسکتی ہے۔
5۔ آکسیجن سالمہ (O2) : آکسیجن ایٹم کا الیکٹرانی تشکل 1s2 2s2 2p4 ہے۔ ہر ایک آکسیجن ایٹم کے پاس 8 الیکٹران ہیں لہٰذا O2 سالمہ میں 16 الیکٹران ہوں گے۔ O2 سالمہ کا الیکٹرانی تشکل اس طرح

ہوگا۔
O2 سالمے کے الیکٹرانی تشکل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں 10 (دس) الیکٹران موجود ہیں اور 6 الیکٹران اینٹی بانڈنگ مالیکیولر اربٹل میں موجود ہیں۔ لہٰذا اس کا

بونڈ آرڈر
لہٰذا آکسیجن کے سالمے میں ایٹم دوہرے بند سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس کے پاس دو بغیر جوڑے کے الیکٹران

مالیکیولر اربٹل میں موجود ہیں۔ لہٰذا O
2 سالمہ، ایک پیرا مقناطیسی سالمہ ہونا چاہیے۔ ایک اندازہ جس کی تصدیق تجرباتی مشاہدہ سے ہوتی ہے۔ اس طرح یہ نظریہ آکسیجن کی پیرا مقناطیسی فطرت کی کامیابی کے ساتھ وضاحت کرتا ہے۔
اسی طرح دوری جدول کے دوسرے دور کے عناصر کے دوسرے ہم نیوکلیائی دو ایٹمی سالموں کے الیکٹرانی تشکل بھی لکھے جاسکتے ہیں۔ شکل 4.21 میں B2 سے Ne2 تک عناصر کی سالمی خصوصیات اور مالیکیولر اربٹل کا بھراؤ دیا گیا ہے۔ مالیکیولر اربٹل کی ترتیب اور ان کے الیکٹرانوں کی تعداد دکھائی گئی ہے۔ بندشی توانائی، بندشی لمبائی، بانڈآرڈر، مقناطیسی خصوصیات اور بندش الیکٹران تشکل آربٹل ڈائیگرام کے نیچے دکھائے گئے ہیں۔
4.9 ہائڈروجن بندش (Hydrogen Bonding)
نائٹروجن، آکسیجن اور فلورین انتہائی الیکٹران منفی عناصر ہیں۔ جب یہ شریک گرفت بند بنانے کے لیے ہائڈروجن کے ساتھ جڑتے ہیں تو شریک بندش بند کے الیکٹران زیادہ الیکٹران منفی عنصر کی سمت کھِسک جاتے ہیں۔ یہ جُزوی مثبت چارج والے ہائڈروجن دوسرے زیادہ الیکٹرونگیٹو ایٹم کے ساتھ ایک بند بناتے ہیں۔ اس بند کو ہائڈروجن بند کہتے ہیں اور یہ شریک گرفت بند سے کمزور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر HF سالمے میں ایک سالمے کے ہائڈروجن ایٹم اور دوسرے سالمے کے فلورین ایٹم کے درمیان ہائڈروجن بند ہوتا ہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔
یہاں ہائڈروجن بند ایک پُل کی طرح کام کرتا ہے جو ایک ایٹم کو شریک گرفت بونڈ کے ذریعہ اور دوسرے ایٹم کو ہائڈروجن بند کے ذریعہ باندھے رکھتا ہے۔
ہائڈروجن بند کو ٹوٹی ہوئی لائن (– – –) سے ظاہر کرتے ہیں جبکہ ایک ٹھوس لائن شریک بندش بند کو ظاہر کرتی ہے۔ لہٰذا ہائڈروجن بند کی تعریف ہم اس طرح کر سکتے ہیں کہ یہ وہ قوت کشش ہے جو ایک سالمے کے ہائڈروجن ایٹم کو دوسرے سالمے کے برقی منفی ایٹم (N یا O، F) سے باندھتی ہے۔
4.9.1 ہائڈروجن بند بننے کی وجوہات
(Cause of Formation of Hydrogen Bond)
جب ہائڈروجن ایک بہت زیادہ برقی منفی عنصر X کے ساتھ جڑتا ہے تو دونوں ایٹموں کے درمیان مشترک الیکٹرانوں کا جوڑا ہائڈروجن سے دور ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ہائڈروجن دوسرے عنصر X کے مقابلے میں بہت زیادہ برقی مثبت ہو جاتا ہے۔ چونکہ الیکٹران X کی سمت کھسک جاتے ہیں لہٰذا ہائڈروجن پر ایک جزوی مثبت چارج آجاتا ہے (d+) جبکہ X پر جزوی منفی چارج (d–) آجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قطبی سالمہ بنتا ہے جس میں برقی سکونی قوتِ کشش ہوتی ہے اور جسے مندرجہ ذیل طریقہ سے ظاہر کرتے ہیں۔
ہائڈروجن بند کی قدر مرکب کی طبیعی حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ ٹھوس حالت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے اور گیسی حالت میں سب سے کم۔ اس طرح ہائڈروجن بند مرکب کی ساخت اور اس کی خصوصیات پر بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے۔
4.9.2 H- بند کی قسمیں (Types of H-Bonds)
H- بند دو قسم کے ہوتے ہیں
(i) بین سالمی ہائڈروجن بند (Intermolecular Hydrogen Bond)
(ii) درون سالمی ہائڈروجن بند (Intramolecular Hydrogen Bond)
(I) بین سالمی ہائڈروجن بند: یہ کسی ایک یا مختلف مرکب کے دو مختلف سالموں کے درمیان بنتے ہیں: مثال کے طور پر HF سالمے، الکوحل یا H2O وغیرہ کے سالموں میں H بند۔
(II) درون سالمی ہائڈروجن بند: یہ اس وقت بنتے ہیں جب ہائڈروجن دو بہت زیادہ برقی منفی (F, O, N) ایٹموں کے درمیان ہو جو ایک ہی سالمے کے اندر ہوں۔ مثال کے طور پر -Oنائٹرو فینول میں ہائڈروجن، دو آکسیجن کے ایٹموں کے درمیان ہوتی ہے (شکل 4.20)۔
شکل 4.20 -Oنائٹروفینول سالمے میں درون سالمی ہائڈروجن بندش