Skip to content
5165CH01

اکائی 5


مادّے کی حالتیں

(States of Matter)

مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

•  مادّہ کی مختلف حالتوں کے وجود کو ذرات کے درمیان بین سالماتی قوتوں اور حرارتی توانائی کے درمیان توازن کی اصطلاحات میں واضح کر سکیں۔

•   مثالی گیسوں کے طرز عمل کو معین کرنے والے قوانین کی وضاحت کر سکیں۔

گیسوں کے مختلف قوانین کو اصل زندگی میں مختلف حالات میں استعمال کر سکیں۔

  حقیقی گیسوں کے طرزِ عمل کی وضاحت کر سکیں۔

•    گیسوں کی اماعت (Liquification) کے لیے ضروری حالات کو بیان کر سکیں۔

•  یہ سمجھ سکیں کہ گیس اور رقیق حالت میں ایک تسلسل ہے۔

  گیسی حالت اور بخارات میں فرق کر سکیں۔

بین سالمی قوتِ کشش کی اصطلاح میں رقیق کی خصوصیات کی وضاحت کر سکیں۔

برف کا گالا زمین پر گرتا ہے۔ پھر بھی زیادہ دیر نہیں رکتا۔

مادرِ گیتی پر اس کی ہلکی سی پکڑ ہے

قبل اس کے کہ سورج اسے واپس بادل میں بدل دیتا ہے کہ جہاں سے وہ آیا ہے یا پھر پانی میں سنگلاخ ڈھلان سے نیچے لڑھک جاتا ہے“

روڈ ۔ او۔ کوئنر

تعارف

گزشتہ اکائیوں میں ہم نے مادہ کے واحد ذرّہ سے متعلق خصوصیات کے بارے میں پڑھا تھا۔ جیسے کہ ایٹمی سائز، آیونائزیشن اینتھالپی، الیکٹرانی چارج کثافت، سالمی ساخت اور قطبیت وغیرہ وغیرہ۔ کیمیائی نظام کی زیادہ تر قابلِ مشاہدہ خصوصیات جن سے ہم واقف ہیں وہ مادّہ کی جسیم خصوصیات کو ظاہر کرتی ہیں۔ جیسا کہ وہ خصوصیات جو مادّہ کے ایٹم، آین یا سالمات کی کثیر تعداد سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر کی رقیق کے ایک ذرّہ میں ابال نہیں آتا جبکہ کثیر تعداد میں ذرات اُبلتے ہیں۔ پانی کے ذرات کا مجموعہ گیلا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ اکیلا سالمہ گیلا نہیں کرتا۔ پانی برف کی شکل میں پایا جاتا ہے، جوکہ ایک ٹھوس حالت ہے؛ وہ رقیق کی حالت میں پایا جا سکتا ہے؛ یا وہ گیس کی حالت میں پانی کے بخارات یا بھاپ کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ برف، پانی اور بھاپ کی طبیعی خصوصیات بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ ان تینوں حالتوں میں پانی کی کیمیائی ترکیب یکساں رہتی ہے، یعنی H2O۔ پانی کی تینوں حالتوں کی خصوصیات سالمات کی توانائی اور پانی کے سالمات کے اکٹھا ہونے پر منحصر ہوتی ہیں۔ یہی دوسری اشیا کے لیے بھی صحیح ہے۔ 

اشیاء کی کیمیائی خصوصیات ان کی طبیعی حالت کی تبدیلی کے ساتھ نہیں بدلتی ہیں، کیمیائی تعامل کی شرح ضرور ان کی طبیعی حالت پرمنحصر ہوتی ہے۔ تجربات کے ذریعہ حاصل کیے گئے اعداد و شمار کی تحسیب میں اکثر ہمیں مادّہ کی حالت کی جانکاری کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا ایک کیمیاں داں کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اسے ان طبیعی قوانین کا علم ہو جو مختلف حالتوں میں مادہ کے طرز عمل کو معین کرتے ہوں۔ اس اکائی میں ہم مادہ کی ان تین طبیعی حالتوں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کریں گے خاص طور پر رقیق اور گیسی حالت کی خصوصیات۔ ابتدا میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم بین سالمی قوتوں کی فطرت، سالماتی باہم دیگرعمل اور ذرات کی حرکت پر حرارتی توانائی کے اثرات کوسمجھیں کیونکہ ان کے درمیان توازن مادّہ کی حالت کو متعین کرتا ہے 

5.1 بین سالماتی قوتیں (Intermolecular Forces)

بین سالماتی قوتیں تعامل کرنے والے ذرات (ایٹم اور سالمات) کے درمیان قوتِ کشش اور قوت دافعہ ہوتی ہیں۔ اس اصطلاح میں برتی سکونی قوت شامل نہیں ہے جو جو مختلف چار ج والے دو آینوں کے درمیان پائی جاتی ہے اور وہ قوت جو سالمات کے ایٹموں کو ایک ساتھ باندھے رکھتی ہے یعنی شریک گرفت بندش۔

بین سالماتی قوتیں ڈچ سائنس داں جوہن وَن ڈر والز (123-1837) کے اعزازمیں وَن ڈر والزقوتیں کہلاتی ہیں جنہوں نے حقیقی گیسوں کے مثالی طرز عمل سے انحراف کو ان قوتوں کی بنیاد پر واضح کیا تھا۔ اس کے بارے میں ہم اس اکائی میں آگے پڑھیں گے۔ وَن ڈر والز قوتیں وسعت میں بہت مختلف ہوتی ہیں اور اس میں قوت انتشار یا لندن قوتیں،ڈائپول۔ ڈائپول قوتیں، اور ڈائپول۔امالی ڈائپول قوتیں شامل ہیں۔ ڈائپول تعامل کی ایک مخصوص قوی شکل ہائڈروجن بندش ہے۔ ہائڈروجن بندش میں صرف عناصر ہی حصہ لیتے ہیں لہٰذا اس کو ایک علیحدہ زمرے میں شامل کرتے ہیں۔ اس تعامل کے بارے میں ہم اکائی 4 میں پڑھ چکے ہیں۔

اس مقام پر یہ جاننا اہم ہے کہ ایک آین اور ایک ڈائپول کے درمیان قوت کشش، آین ڈائپول قوت کہلاتی ہے اور یہ دَن ڈر والز قوت نہیں ہوتی۔ اب ہم وَن ڈر والز قوتوں کی مختلف اقسام کے بارے میں پڑھیں گے۔

5.1.1 انتشاری قوتیں یا لندن قوتیں

(Dispersion Forces or London Forces)

ایٹم اورغیر قطبی سالمے برقی طور پر متشاکل ہوتے ہیں اور ان میں ڈائپول مومنٹ نہیں ہوتا کیونکہ ان کے برقی چارج بادل متشاکلی بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے ایٹموں اور سالموں میں بھی وقتی ڈائپول پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کو مندرجہ ذیل طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ مان لیجیے کہ ہمارے پاس دو ایٹم A اور B ہیں جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں [شکل15.1 (a)] یہ ہو سکتا ہے کہ ایک ایٹم مان لیجیے A پر برقی چارج بٹاؤ وقتی طور پر غیر متشاکل ہو جائے۔ یعنی، چارج بادل ایک سمت زیادہ ہو جائے (شکل 15.1 (b) اور (c)) اس کی وجہ سے بہت کم وقت کے لیے ایٹم A پر ایک دم ہی ڈائپول ہو جائے گا۔ یہ اچانک یا عارضی ڈائپول ایٹم B کی الیکٹران کثافت کو مسخ کرے گا جو کہ اس کے قریب ہی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایٹم B پر بھی ڈائپول کی امالیت (Induced) ہو جائے گی۔

500

شکل 5.1  ایٹموں کے درمیان انتشاری قوتیں یا لندن قوتیں

ایٹم A اور B کے عارضی ڈائپول ایک دوسرے کو اپنی سمت کھینچیں گے۔ اسی طرح عارضی ڈائپول سالموں میں بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح قوت کشش پہلی مرتبہ جرمن طیعیات دان فرٹز لندن نے تجویز کی تھی اور اسی وجہ سے وقتی ڈائپول کے درمیان قوت کشش کو لندن قوت (London Force) کہتے ہیں۔ اس قوت کے لیے دوسرا نام انتشاری قوت (Dispersion Force) ہے۔ یہ قوتیں ہمیشہ کشش کی ہوتی ہیں اور باہم دگر عمل کی توانائی دو باہمی عمل کرنے والے ذرات کے درمیان کے فاصلے کی چھٹی قوت کےمقلوب تناسب میں ہوتی ہیں (یعنی5004جہاں r دو ذرات کے درمیان کے فاصلے کو ظاہر کرتا ہے)۔ یہ قوتیں بہت کم فاصلے (500pm~ )کے لیے ہی اہم ہوتی ہیں اور ان کی وسعت ذرات کے درمیان و قطبیت کی صلاحیت پرمنحصر ہوتی ہے۔

5.1.2 ڈائپول۔ ڈائپول قوتیں (Dipole-Dipole Forces)

ڈائپول۔ ڈائپول قوتیں ان سالموں کے درمیان کام کرتی ہیں جن میں مستقل ڈائپول ہوتے ہیں۔ ڈائپول کے سرے جزوی چارج رکھتے ہیں اور ان چارجوں کو یونانی حرف ڈیلٹا (δ) سے ظاہر کرتے ہیں۔ جزوی چارج ہمیشہ ہی اکائی برقی چارج 5001  سے کم ہوتا ہے۔ قطبی سالمے پڑوسی سالموں کے ساتھ باہمی عمل کرتے ہیں۔ شکل 5.2(a) ہائڈروجن ڈائپول میں الیکٹرانی بادل کی تقسیم کو دکھاتی ہے اور شکل 5.2(b) دو HCl سالموں کے درمیان ڈائپول۔ ڈائپول ب اہمی عمل کو دکھاتی ہے۔ یہ باہمی عمل لندن قوت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے لیکن آین۔ آین باہمی عمل سے کمزور ہوتا ہے کیونکہ اس میں صرف جزوی چارج حصہ لیتے ہیں۔ ڈائپول کے درمیان فاصلہ بڑھنے سے قوتِ کشش کم ہو جاتی ہے۔ مندرجہ بالا مثال میں بھی، باہمی عمل کی توانائی قطبی سالموں کے درمیان فاصلوں کے مقلوب تناسب میں ہوتی ہے۔ سکونی قطبی سالموں (جیسا کہ ٹھوس اشیا میں) کے درمیان 5002کے تناسب میں ہوتی ہے اور گردشی قطبی سالموں کے درمیان 5003کے تناسب میں ہوتی ہے، جہاں r قطبی سالموں کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈائپول۔ ڈائپول باہمی عمل کے علاوہ قطبی سالموں میں لندن قوتوں کے ذریعہ بھی باہمی عمل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کل اثر یہ ہے کہ قطبی سالموں میں کُل بین سالماتی قوتیں بڑھتی ہیں۔

5.1.3 ڈائی پول - امالی ڈائی پول قوتیں

(Dipole- Induced Dipole Forces)

اس طرح کی قوت کشش مستقل ڈائپول والے قطبی سالموں اور مستقل ڈائپول کی کمی والے سالموں کے درمیان کام کرتی ہے۔ قطبی سالموں کے مستقل ڈائپول برقی طور پر تعدیل سالموں کے الیکٹرانی بادلوں کو مسخ کرکے ان میں ڈائپول کی امالیت کرتے ہیں (شکل 5.3)۔ اس طرح دوسرے سالمے میں امالی ڈائپول پیدا ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں بھی باہمی عمل کی توانائی 5004کے تناسب میں ہوتی ہے جہاں r دو سالموں کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ امالی ڈائپول مومنٹ کا انحصار مستقل ڈائپول میں موجود ڈائپول مومنٹ اور برقی طور پر تعدیل سالمے کی قطبیت کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ ہم اکائی 4 میں پڑھ چکے ہیں کہ بڑی جسامت کے سالمات آسانی سے قطبی بنائے جاسکتے ہیں۔ قطبیت کی اعلیٰ صلاحیت باہمی عمل کی کشش کو بڑھاتی ہے۔

اس معاملے میں بھی انتشاری قوتوں اور ڈائپول۔ امالی ڈائپول باہمی عمل کا اجتماعی اثر پایا جاتا ہے۔

5005

کلورین کی سمت زیادہ چارج کثافت

شکل 5.2  a) HCl) ۔ ایک قطبی سالمہ میں الیکٹرانی بادل کا بٹاؤ (b) دو HCl سالموں میں ڈائپول۔ ڈائپول باہمی عمل۔

5.3

غیر  قطبی سالمہ                     مستقل ڈائپول (ایک قبطی سالمہ)

  غیر قطبی سامہ میں امالی ڈائپول                 مستقل ڈائپول  (ایک قطبی سالمہ)

شکل 5.3 مستقل ڈائپول اور امالی ڈائپول کے درمیان ڈائپول۔ امالی ڈائپول باہمی عمل

  5.1.4  ہائڈروجن بند (Hydrogen Bond)

جیسا کہ 5.1 میں پہلے ہی ذکر کیا جا چکا ہے یہ ایک ڈائپول۔ڈائپول باہمی عمل کی مخصوص قسم ہے۔ اس کے بارے میں ہم اکائی 4 میں پہلے پڑھ چکے ہیں۔ یہ ان سالموں میں پایا جاتا ہے جن میں اعلیٰ قطبی بند N—H, O—H اور H—F  موجود ہوتے ہیں۔ اگر چہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائڈروجن بند محض N,O اور F  تک ہی محدود ہوتا ہے لیکن Cl  جیسی قسمیں بھی ہائڈروجن بند بنانے میں حصہ لیتی ہیں۔ ہائڈروجن بند کی توانائی 10 سے 100kJ mol—1 تک بڑھتی ہے۔ یہ توانائی کی ایک اہم مقدار ہوتی ہے؛ لہٰذا، ہائڈروجن بند بہت سے مرکبات، مثلاً پروٹین اور نیوکلک ایسڈ کی ساخت اور خصوصیات معلوم کرنے میں بہت مضبوط قوت ہوتی ہے۔ ہائڈروجن بند کی قوت ایک سالمہ کے برقی منفی ایٹم کے الیکٹرانوں کے تنہا جوڑے اور دوسرے سالمے کے ہائڈروجن ایٹم کے درمیان کولمب باہمی عمل کے ذریعہ معلوم کی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل ڈائیگرام ہائڈروجن بند کی تشکیل کو ظاہر کرتا ہے۔

5007

اب تک زیر بحث تمام بین سالمی قوتیں کشش کی قوتیں تھیں دوسری طرف سالموں میں بھی دافع قوت ہوتی ہے جب دو سالمے ایک دوسرے کے قریب لائے جاتے ہیں تو دونو سالموں کے الیکٹران بادلوں اور نیوکلیس کے درمیان قوت دافعہ پیدا ہوتی ہے۔ قوت دافعہ کی باہمی عمل اس وقت تیزی سے بڑھتی ہے جب دونوں سالموں کو علیحدہ کرنے والا فاصلہ کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رقیق اور ٹھوس کو دبانا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی حالتوں میں سالمات پہلے سے ہی بہت نزدیک ہوتے ہیں لہٰذا مزید دباؤ کی وہ مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے پر ان کے درمیان دافع باہمی عمل بڑھ جاتا ہے۔

5.2 حرارتی توانائی (Thermal Energy)

کسی شے کے ایٹموں یا سالموں کی حرکت سے پیدا ہونے والی توانائی حرارتی توانائی ہوتی ہے۔ یہ شے کے درجہ حرارت کے براہ راست تناسب ہی ہوتی ہیں۔ یہ مادّے کے ذرات کی اوسط حرکی توانائی کی پیمائش ہوتی ہے اور اس طرح یہ ذرات کی حرکت کے لیے ذمہ دار ہوتی ہے۔ ذرات کی اس حرکت کو حرارتی حرکت کہتے ہیں۔

5.3 بین سالمی قوتیں بمقابلہ حرارتی باہمی عمل (Intermolecular forces vs Thermal Interaction) 

ہم یہ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ بین سالمی قوتیں سالموں کی یکجا رکھنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن سالموں کی حرارتی توانائی ان کو علیحدہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ سالموں میں بین سالمی قوتوں اور حرارتی توانائی کے درمیان توازن کے نتیجہ میں مادّے کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

جب سالمی باہمی عمل کمزور ہوتا ہے، تو سالمے ٹھوس یا رقیق بنانے کے لیے ایک دوسرے سے چمٹے نہیں رہتے جب تک کہ درجہ حرارت کو کم کرکے حرارتی توانائی کو کم نہ کیا جائے۔ گیس صرف دبانے سے رقیق میں تبدیل نہیں ہوتی، حالانکہ سالمے ایک دوسرے کے بے حد نزدیک ہوتے ہیں اور بین سالمی قوتیں اپنی انتہا پر کام کرتی ہیں بہرحال جب درجہ حرارت کم کر کے سالموں کی حرارتی توانائی کم کی جاتی ہے تو گیسوں کو آسانی سے رقیق میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حرارتی توانائی کی بالا دستی اور مادّے کی تینوں حالتوں میں سالمی باہمی عمل توانائی کو مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔

ٹھوس             رقیق            گیس

ٹھوس             رقیق            گیس

5008
بین سالمی باہمی عمل کی بالادستی
حرارتی تونائی کی بالادستی

ہم مادّے کی تین حالتوں کے وجود کی وجوہات کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں اب ہم گیس اور رقیق حالتوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں گے اور ان قوانین کے بارے میں پڑھیں گے جو مادّے کی ان حالتوں کے طرز عمل کومتعین کرتے ہیں۔ ٹھوس حالت کے بارے میں ہم بارہویں جماعت میں پڑھیں گے۔

5.4 گیسی حالت(Gaseous State) 

یہ مادہ کی سب سے سادہ حالت ہے۔ تمام عمر ہم ہوا کے سمندر میں غرق رہتے ہیں جو گیسوں کا آمیزہ ہے۔ ہم اپنی زندگی کرہ باد کی سب سے نچلی سطح میں گزارتے ہیں جو ٹروپو اسفیئر کہلاتی ہے یہ سطح زمین پر کشش ثقل کی وجہ سے قائم رہتی ہے۔ کرہّ باد کی پتلی سی تہہ ہماری زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ ہمیں نقصان دہ اشعاع سے بچاتی ہے اور ڈائی آکسیجن، ڈائی نائٹروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی کے بخارات وغیرہ جیسی اشیا پرمشتمل ہوتی ہے۔

آئیے اب ہم ان اشیا کے طرز عمل کی ۔سمت اپنی توجہ مرکوز کریں جو عام درجہ حرارت اور دباؤ پر گیسی حالت میں پائی جاتی ہیں۔ دوری جدول پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں صرف گیارہ عناصر ہی گیسی حالت میں پائے جاتے ہیں (شکل 5.4)۔

5009

شکل 5.4 گیارہ عناصر جو صرف گیسی حالت میں پائے جاتے ہیں

گیسی حالت کی مندرجہ ذیل طبیعی خصوصیات ہوتی ہیں۔

گیسیں بہت زیادہ دبائے جانے کے لائق ہوتی ہیں۔

گیسیں سبھی سمتوں میں یکساں دباؤ ڈالتی ہیں۔

• گیسوں کی کثافت ٹھوس اور رقیق سے بہت کم ہوتی ہے۔

• گیسوں کی شکل اور حجم متعین نہیں ہوتے۔ یہ برتن کی شکل اور حجم اختیار کر لیتی ہیں۔

گیسیں بغیر کسی میکانیکی مدد کے ہر تناسب میں یکساں طور پر مل سکتی ہیں۔

گیسوں کی سادگی اس وجہ سے ہے کہ ان کے سالموں کے درمیان باہمی عملی قوتیں برائے نام ہی ہوتی ہیں۔ ان کے طرز عمل ان ہی عام قوانین کے مطابق ہوتے ہیں جن کی دریافت ان کے تجرباتی مطالعے سے حاصل ہوئی تھی۔ یہ قوانین گیسوں کی قابل پیمائش خصوصیات میں تعلقات سے وابستہ ہیں۔ ان میں سے کچھ خصوصیات جیسے دباؤ حجم، درجہ حرارت اور کمیت نہایت اہم ہیں کیونکہ ان متغیرات میں تعلقات گیس کی حالت کو بیان کرتا ہے۔ ان متغیرات کے باہمی انحصار سے گیس کے قوانین وضع ہوتے ہیں۔ اگلے سیکشن میں ہم گیس کے ان قوانین کے بارے میں پڑھیں گے۔

5.5 گیس کے قوانین (The Gas Laws)

گیس کے قوانین جن کا مطالعہ ہم اب کریں گے وہ گیسوں کی طبیعی خصوصیات کے متعلق کی جانے والی کئی صدیوں کی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ گیسوں کی خصوصیات پر پہلی معتبر پیمائش اینگلو آئرش سائنسداں رابرٹ بائل نے 1662 میں کی تھی۔ جو قانون وضع کیا گیا اسے بائل کا قانون کہتے ہیں۔ بعد میں گرم ہوا کے غباروں کی مدد سے ہوا میں اڑنے کی کوشش نے جیکوئس چارلس اور جوزف لیوئس گے لیوسک میں مزید گیس کے قوانین دریافت کرنے کی تحریک پیدا کی۔ آؤگاڈرو اور دیگر سائنسدانوں نے گیسوں سے متعلق کافی معلومات فراہم کیں۔

5.5.1 بائل کا قانون (دباؤ۔ حجم تعلق)

Pressure-Volume Relationship) Boyle's Law)

اپنے تجربات کی بنیاد پر رابرٹ بائل اس نتیجہ پر پہنچا کہ ایک مستقل درجہ حرارت پر گیس کی ایک متعین مقدار (یعنی nمول کی تعداد) کا دباؤ اس کے حجم کے معکوس تناسب میں ہوتا ہے۔ اس کو بائل کا قانون (Boyle's Law) کہتے ہیں۔ ریاضیاتی طریقہ پر اس کا اظہار مندرجہ طریقہ سے کیا جاسکتا ہے۔

510     (مستقل T  اور n پر )         (5.1) 

511  (5.2) 

جہاں k1 تناسبیت کا مستقلہ ہے۔ k1 کی قیمت گیس کی مقدار، گیس کے درجہ حرارت اور p نیز V کی اکائیوں پر منحصر ہوتی ہے۔

مساوات (5.2) کو دوبارہ لکھنے پر ہمیں مندرجہ ذیل ہے۔

512   

اس کا مطلب ہے کہ ایک مستقل درجہ حرارت پر ایک مقدار کی گیس کے دباؤ اور حجم کا حاصل ضرب مستقل ہوتا ہے۔

مستقل درجہ حرارت پر اگر متعینہ مقدار کی ایک گیس جس کا pدباؤ پر V1 حجم ہے، میں پھیلاؤ اس طرح ہوتا ہے کہp2  دباؤ پر حجم V2 ہو جاتا ہے تو با ئل کے قانون کے مطابق 

مستقل 513

515

شکل 5.5 (a) مختلف درجہ حرارت پر ایک گیس کے دباؤ p پر حجم V 

514

  شکل 5.5 (b) کسی گیس کے دباؤ p کا I/V کے ساتھ گراف

شکل 5.5 میں بائل کے قانون کو گراف کے ذریعہ ظاہر کرنے کے دو روایتی طریقے دکھائے گئے ہیں۔ شکل 5.5(a) مختلف درجہ حرارت پرمساوات (5.3) کا گراف ہے۔ ہر ایک منحنی کے لیے k1 کی قدر مختلف ہے، کیونکہ کسی گیس کی دی گئی مقدار کے لیے یہ درجہ حرارت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔ ہر ایک منحنی مختلف مستقل درجہ حرارت کو دکھاتا ہے اور یہ آئیسو تھرم (Isotherm) (مستقل درجہ حرارت کا پلاٹ) کہلاتا ہے۔ اونچے منحنی زیادہ درجہ حرارت کو دکھاتے ہیں۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ جب دباؤ آدھا ہو جاتا ہے تو حجم دوگنا ہو جاتا ہے۔ جدول 5.1 میں 300 K  پر 0.09 مول CO2 کے حجم  پر دباؤ کا اثر دکھایا گیا ہے۔

شکل 5.5(p  (b اور I/V کے درمیان گراف کو دکھاتی ہے۔ یہ ایک سیدھی لائن ہے جو مبدا سے گزرتی ہے۔ تاہم زیادہ دباؤ پر گیس بائل کے قانون سے انحراف کرتی ہیں اور ایسی حالت میں گراف میں سیدھی لائن حاصل نہیں ہوتی۔

جدول 5.1  300K پر 0.09 مول CO2 کے حجم پر دباؤ کے اثرات 

pV/102 Pa m3 (1/V )/m–3 حجم 10–3 m3/  دبائو 104 Pa/
22.40
22.30
22.47
22.50
22.44
22.48
22.40
8.90
11.2
15.6
17.7
26.7
35.6
44.6
112.0
89.2
64.2
56.3
37.4
28.1
22.4
2.0
20.5
3.5
4.0
6.0
8.0
10.0


بائل کے تجربات، مقداری طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ گیس کافی حد تک دبائی جا سکتی ہیں کیونکہ جب ایک دی ہوئی کمیت کی گیس کو دبایا جاتا ہے تو سالموں کی وہی تعداد چھوٹی جگہ کو گھیرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اونچے دباؤ پر گیسیں زیادہ کثیف ہو جاتی ہیں۔ بائل کا قانون استعمال کرتے ہوئے گیس کے دباؤ اور اس کی کثافت میں تعلق معلوم کیا جا سکتا ہے۔

تعریف کے مطابق کثافت d کا کمیت m اور حجمV  سے تعلق مساوات  517 کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر ہم اس مساوات میں بائل کے قانون کی مساوات سے V کی قیمت رکھ دیں تو ہمیں مندرجہ ذیل تعلق حاصل ہوگا:

518

یہ ظاہر کرتی ہے کہ مستقل درجہ حرارت پر ایک متعین مقدار کی گیس کا دباؤ اس کی کثافت کے براہ راست تناسب میں ہوتا ہے۔

مسئلہ 5.1 

کمرہ کے درجہ حرارت پر ایک غبارے میں ہائڈروجن گیس بھری گئی ہے۔ اگر دباؤ 0.2 بار سے زیادہ ہو جائے تو غبارہ پھٹ جائے گا۔ اگر 1 بار دباؤ پر گیس 2.27L حجم گھیرتی ہے تو کس حجم تک غبارہ پھیل سکتا ہے؟

حل

بائل کے قانون کے مطابق 

p1 V1 = p2 V2 

اگر p1 V کی قدر 1 بار ہے توV1کی قدر  2.27L  ہوگی

اگر p2 کی قدر 0.2 بار ہے تو 

519

چونکہ غبارہ 0.2 بار پر پھٹ جاتا ہے لہٰذا غبارہ کا حجم 11.35L سے کم ہونا چاہئے۔

5.5.2 چارلس کا قانون (درجہ حرارت– حجم تعلق)

((Charles' Law (Temperature-Volume Relationship)

چارلس اور گے لیوسک نے گرم ہوا غبارہ ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے گیسوں پر انفرادی طور پرمختلف تجربات کیے۔ ان کی تلاش نے دکھایا کہ مستقل دباؤ پر ایک مستقل مقدار کی گیس کے حجم میں درجہ حرارت بڑھانے پر اضافہ ہوتا ہے اور ٹھنڈا کرنے سے کم ہوتا ہے۔ انھوں نے پایا کہ گیس کا حجم ہر ایک ڈگری درجہ حرارت بڑھانے پر 0ºC پر گیس کے ابتدائی حجم کا 

 520  حصہ بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی گیس کے حجم 0ºC  اور t°C 
پر بالترتیب V0اور Vt ہیں تو:
521

اس مقام پر ہم درجہ حرارت کے ایک نئے پیمانے کی تعریف بیان کرسکتے ہیں کہ اس نئے پیمانہ پر t°C کو T = 273.15 + t کی طرح دیا جاسکتا ہے اور 0ºC کو T0 = 273.15دکھائیں گے۔ درجہ حرارت کا یہ نیا پیمانہ کیلون درجہ حرارت پیمانہ (Kelvin Temperature Scale) یا مطلق درجہ حرارت پیمانہ (Absolute Temperature Scale) کہلاتا ہے۔

اس طرح سیلسیس پیمانے پر 0ºCمطلق پیمانے کے 273.15ºK  کے برابر ہوتا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ درجہ حرارت کو مطلق پیمانے پر دکھاتے وقت ڈگری کے نشان کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ درجہ حرارت کا کیلون پیمانہ درجہ حرارت کا تھر موڈائنمک اسکیل بھی کہلاتا ہے اور تمام سائنسی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 

لہٰذا درجہ حرارت کو کیلون پیمانے پر حاصل کرنے کے لیے ہم سیلسیس درجہ حرارت میں 273 (273.15 زیادہ صحیح طور پر) جمع کر دیتے ہیں۔ 

اگر مساوات 5.6 میں Tt = 273.15 + t اور 273.15 لکھیں تو ہمیں مندرجہ ذیل تعلق حاصل ہوگا۔ 

522

اس طرح ہم ایک عام مساوات مندرجہ ذیل طریقے سے لکھ سکتے ہیں۔ 

523

اس طرح 524

مستقلہ k2 کی قیمت، گیس کے دباؤ، اس کی مقدار اور اس اکائی جس میں اس کے حجم کا اظہار کیا گیا ہے، کے ذریعہ معلوم کی جاسکتی ہے۔

مساوات (5.10) چارلس کے قانون کا ریاضیاتی اظہار ہے جو یہ بتاتا ہے کہ مستقل دباؤ پر ایک متعینہ مقدار کی گیس کا حجم اس کے مطلق درجہ حرارت کے براہ راست تناسب میں ہوتا ہے۔ چارلس نے یہ دیکھا کہ تمام گیسوں کے لیے کسی بھی دباؤ پر حجم۔ درجہ حرارت (سیلسیس پیمانے پر) گراف ایک سیدھی لائن ہوتا ہے اور اگر اسے صفر حجم تک بڑھایا جائے تو ہر لائن درجہ حرارت کے محور کو 273.15ºC پر قطع کرتی ہے۔ مختلف دباؤ پر حاصل ہونے والی لائنوں کے ڈھلان مختلف ہوں گے لیکن صفر حجم پر تمام لائنیں درجہ حرارت محور پر 273.15ºC- پر ملتی ہیں (شکل5.6)

525
شکل 5.6 حجم اور درجہ حرارت (ºC) گراف 

حجم بمقابلہ درجہ حرارت گراف کی ہر ایک لائن آئسوبار (Isobar) کہلاتی ہے۔

اگر ہم مساوات 5.6 میں t کی قیمت  273.15ºC– رکھ دیں تو چارلس کے مشاہدات کی ترجمانی کی جاسکتی ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ 273.15ºC–  پر گیس کا حجم صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ گیس کا وجود نہیں ہوگا۔ در حقیقت تمام گیسیں اس درجہ حرارت تک پہنچنے سے پہلے ہی رقیق میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ کمترین مفروضی یا خیالی درجہ حرارت جس پر گیسوں کا حجم صفر مانا جاتا ہے، مطلق صفر (Absolute Zero) کہلاتا ہے۔ 

تمام گیسیں بہت کم دباؤ اور اونچے درجہ حرارت پر چارلس کے قانون  کا اتباع کرتی ہیں۔ 

مسئلہ 5.2 

بحرالکاہل میں ایک جہاز تیر رہا ہے جہاں درجہ حرارت 23.4ºC ہے۔ ایک غبارے میں 2L ہوا بھری گئی۔ جب یہ جہاز بحر ہند پہنچے گا جہاں درجہ حرارت 26.1ºCہے تو غبارے کا حجم کیا ہوگا؟

حل:

V1 = 2 L T2  = 26.1 + 273

T1 = (23.4 + 273) K  = 299.1 K

      296.4K =

چالیس کے قانونو کے مطابق

picture 1

2L*1.009=

2.018L=

5.5.3 گے لُساک کا قانون (دباؤ درجہ حرارت تعلق) [Gay Lussac’s Law (Pressure- Temperature Relationship)]

گاڑیوں کے پہیوں میں بھری ہوئی ہوا کا دباؤ تقریباً مستقل ہوتا ہے۔ لیکن گرمی کے دنوں میں یہ بڑھ جاتا ہے اور اگر دباؤ کو قابو میں نہیں کیا گیا تو ٹائر پھٹ سکتا ہے۔سردی کے وسم میں کسی ٹھنڈی صبح کے وقت آپ کو گاڑی کے ٹائروں میں ہوا کا دباؤ کم محسوس ہوگا۔ دباؤ اور درجہ حرارت میں ریاضیاتی تعلق جوزف گے لُساک نے دیا تھا جسے گے لُساک کا قانون بھی کہتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق مستقل حجم پر کسی دی گئی مقدار کی گیس کا دباؤ درجہ حرارت کے براہ راست تناسب میں تبدیل ہوتا ہے۔ ریاضیاتی طور پر 

=  p

 K3=   مستقلہ   527

اس تعلق کو بائل اور چارلس کے قوانین سے بھی اخذ کیا جاسکتا ہے۔ شکل 5.7 میں دباؤ۔درجہ حرارت (کیلون) گراف مستقل مولر حجم پر دکھایا گیا ہے۔ اس گراف کی ہر ایک لائن آئسو کور (Isochore) کہلاتی ہے۔ 

528

شکل 5.7 ایک گیس کا دباؤ۔درجہ حرارت (k) گراف 

5.5.4  ایووگاڈرو کا قانون (حجم۔مقدار تعلق)

((Avogadro Law (Volume - Amount Relationship)

1811 میں اٹلی کے سائنسداں ایمیڈو آووگاڈرو نے ڈالٹن کے ایٹمی نظریے کے نتائج اور گیلیوسک کے اتحادی حجم کے قانون (اکائی 1) کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی جو آج آووگاڈرو کا قانون کہلاتی ہے۔ اس قانون کے مطابق تمام گیسوں کے مساوی حجم میں درجہ حرارت اور دباؤ کی یکساں حالتوں میں سالموں کی تعداد مساوی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک درجہ حرارت اور دباؤ مستقل رہیں گے گیس کا حجم اس کے سالموں کی تعداد پر منحصر ہوگا یا دوسرے الفاظ میں گیس کی مقدار پر منحصر ہوگا۔ ریاضیاتی طور پر ہم لکھ سکتے ہیں کہ 

V ∝ n جہاں n گیس کے مولوں کی تعداد ہے۔ 

529

ایک مول گیس میں سالمات کی تعداد 1023 ×6.022 معلوم کی گئی ہے اور اسے ایووگاڈرو کا مستقلہ کہتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ وہی عدد ہے جسے ہم نے مول (اکائی1 )کی تعریف پر بحث کے دوران پایا تھا۔ 

چونکہ کسی گیس کا حجم مولوں کی تعداد کے براہ راست تناسب میں ہوتا ہے، معیاری درجہ حرارت اور دباو (STP) * پر ہر ایک گیس کا حجم یکساں ہوگا۔ معیاری درجہ حرارت اور دباؤ کا مطلب ہے 530  (0°C) درجہ حرارت اور 1 بار (یعنی قطعی 105 پاسکل) دباؤ۔ یہ قدریں سمندر کی سطح پر پانی کے نقطہ انجماد (تقریبی) اور فضائی دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔ STP پر ایک آئیڈیل گیس یا آئیڈیل گیسوں کے مجموعے کا مولر حجم  531  ہوتا ہے۔

* پچھلا معیار ابھی تک اکثر استعمال کیا جاتا ہے اور دس سال سے پرانے تمام کیمیائی آنکڑوں میں استعمال کیا جاتا ہے اس تعریف میں ایس ٹی پی وہی درجہ حرارت ظاہر کرتا ہے یعنی 533 لیکن دباؤ 1atm سے کچھ زیادہ ہے ( 101.325K Pa ) کسی بھی گیس یا گیسوں کے اتحاد (Combination) کا ایک مول ایس ٹی پی پر 22.413996L حجم گھیرے گا۔ 

معیاری محصور درجہ حرارت اور دباؤ (SATP) حالات بھی کچھ سائنسی کاموں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ایس اے ٹی پی حالات کا مطلب ہے 298.15k اور 1bar یعنی قطعی 105 پاسکل)۔ ایس اے ٹی پی پر (1 بار اور 298.15k ) آئیڈیل گیس کا مولر حجم 24.789L mol–1 ہوتا ہے۔

جدول 5.2 میں کچھ گیسوں کے مولر حجم دیے گئے ہیں۔ 

کسی گیس کے مولوں کی تعداد کو مندرجہ ذیل طریقہ سے معلوم کر سکتے ہیں

n=m

M

جدول 5.2 273.15k  اور 1 بار (ایس ٹی پی) پر کچھ گیسوں کے لیٹر فی مول میں دیے گئے مولر حجم

22.37
22.54
22.69
22.69
22.72
22.71
آرگن
کاربن ڈائی آکسائڈ
ڈائی نائٹروجن
ڈائی آکسیجن 
ڈائی ہائڈروجن
آئیڈیل گیس

جہاں = m متعلقہ گیس کی کمیت اور M، مولر کمیت 

اس طرح 

534

مساوات (5.13) کی ترتیب بدل کر اس طرح لکھ سکتے ہیں۔ 

535

یہاں 'd' گیس کی کثافت ہے۔ (5.14) سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ کسی گیس کی کثافت اس کی مولر کمیت کے براہ راست تناسب میں ہوتی ہے۔ 

وہ گیس جو بائل کے قانون، چارلس کے قانون اور آووگاڈرو کے قانون کو پابندی سے مانتی ہے ایک آیڈیل گیس (Ideal Gas) کہلاتی ہے۔ ایسی گیس فرضی ہوتی ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کے آئیڈیل گیس کے سالموں کے درمیان بین سالمی قوتیں موجود نہیں ہوتی ہیں۔ اصل گیسیں ان قوانین کی صرف خاص حالات میں پابندی کرتی ہیں کہ جب باہمی عمل کی قوتیں برائے نام ہی موجود ہوں۔ باقی تمام حالات میں یہ آئیڈیل طرز عمل سے انحراف کرتی ہیں۔ اس انحراف کے بارے میں آپ اس باب میں آگے پڑھیں گے۔ 

5.6  آئیڈیل گیس مساوات (Ideal Gas Equation)

یہ تینوں قوانین جن کے بارے میں ہم نے اب تک پڑھا ہے ایک مساوات میں یکجا کئے جاسکتے ہیں جس کو ہم آئیڈیل گیس مساوات کہتے ہیں ۔

مستقل T اور n پر 536   بائل کا قانون 

مستقل p اور n پر    V ∝ T   چارلس کا قانون 

مستقل p اور T پر V ∝ n ایووگاڈرو کا قانون 

اس طرح 

537

جہاں R تناسب کا مستقلہ ہے۔ 5.16 کی ترتیب بدلنے سے ہمیں ملتا ہے

538

R کو گیس مستقلہ کہتے ہیں اور یہ تمام گیسوں کے لیے یکساں رہتا ہے۔ لہٰذا اس کو آفاقی گیس مستقلہ (Universal Gas Constant)بھی کہتے ہیں۔ مساوات 5.17 آئیڈیل گیس مساوات کہلاتی ہے۔ 

مساوات 5.18بتاتی ہے کہ R کی قیمت ان اکائیوں پر منحصر ہے جس میں p, V اور T کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اس مساوات میں اگر تین متغیروں کی قیمت معلوم ہو تو چوتھے کی معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس مساوات سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مستقل درجہ حرارت اور دباؤ پر کسی بھی گیس کے n مول کا حجم یکساں ہوگا کیونکہ 539اور T,R,n اور p مستقل ہیں۔

یہ مساوات کسی بھی گیس کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے ان حالات میں جب گیس کا طرز عمل آئیڈیل طرزعمل کی سمت ہوتا ہے۔ 1 مول آئیڈیل گیس کا حجم ایس ٹی پی حالات میں (273.15k اور 1بار دباو)  540 ہوتا ہے۔ ان حالات میں 1 مول آئیڈیل گیس کے لیے، R کی قیمت مندرجہ ذیل طریقے سے نکالی جاسکتی ہے۔ 

541

پہلے استعمال کیے گئے ایس ٹی پی حالات (0ºC اور 1 فضائی دباو) میں R کی قدر 542ہوتی ہے۔ 

آئیڈیل گیس مساوات چار متغیروں کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور یہ کسی بھی گیس کی حالت کا بیان کرتی ہے، لہٰذا، اسے حالت کی مساوات (Equation of State) بھی کہتے ہیں۔ 

آئیے اب آئیڈیل گیس مساوات کی طرف واپس چلتے ہیں۔ یہ متغیروں میں ایک ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کا تعلق ہے۔ اگر کسی گیس کی متعین مقدار کے درجہ حرارت، حجم اور دباو V1، T1 اور p1 سے T2، V2 اور p2 میں تبدیل ہورہے ہیں تو ہم لکھ سکتے ہیں۔

543

مساوات (5.19) بہت مفید مساوات ہے۔ اگر چھ متغیروں میں سے کسی پانچ کی قیمت معلوم ہو تو چھٹے نا معلوم متغیرہ کی قیمت مساوات 5.19 سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس مساوات کو متحدہ گیس قانون (Combined Gas Law) بھی کہتے ہیں۔ 

مسئلہ 5.3 

25°C اور 760mm پارہ کے دباؤ پر ایک گیس 600mL حجم گھیرتی ہے۔ اس اونچائی پر اس کا دباؤ کیا ہوگا جہاں درجہ حرارت 10ºC اور حجم 640mL ہے؟ 

حل 

p1 = 760 mm Hg, V1 =600 mL

T1 = 25+273 = 298 K

V2 = 640 mL and T2 = 10+273 = 283 K

متحدہ گیس قانون کے مطابق 
545

5.6.1 گیسی اشیا کی کثافت اور مولر کمیت (Density and Molar Mass of a Gaseous Substance)

آئیڈیل گیس مساوات کو مندرجہ ذیل طریقہ سے دوبارہ ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ 

546

nکو  547 سے تبدیل کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے

548

549 جہاں d کثافت ہے۔ (5.21)

مساوات (5.21) کی ترتیب بدلنے سے بھی کسی گیس کی مولر کمیت معلوم کرنے کے لیے ایک تعلق حاصل ہوجاتا ہے۔ 

550

5.6.2 جزوی دباؤ کا ڈالٹن کا قانون

(Dalton's Law of Partial Pressures)

جان ڈالٹن نے 1801 میں یہ قانون وضع کیا تھا۔ اس کے مطابق غیرتعاملی گیسوں کے آمیزے کے ذریعہ ڈالا گیا کل دباؤ انفرادی گیسوں کے جزوی دباؤ کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ دباؤ جو یہ گیس اسی حجم کے برتن میں علیحدہ علیحدہ یکساں درجہ حرارت پر ڈالیں۔ گیسوں کے آمیزے میں ایک منفرد گیس کے ذریعہ ڈالا گیا دباؤ جزوی دباؤ کہلاتا ہے۔ ریاضیاتی طور پر 

(مستقل T، Vپر) 551

جہاں total گیسوں کے آمیزے کے ذریعہ ڈالا گیا کل دباؤ ہے اور p3، p2، p1 وغیرہ گیسوں کے جزوی دباو ہیں۔ 

گیسیں عام طور پر پانی کے اوپر جمع کی جاتی ہیں۔ لہٰذا وہ مرطوب ہوتی ہیں۔ خشک گیس کا دباؤ مرطوب گیس کے کل دباؤ میں سے جس میں بخارات بھی شامل ہوں گے پانی کے بخارات کو گھٹاکر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سیر شدہ ابخرات کے ذریعہ ڈالا گیا دباو آبی تناؤ (Aqueous Tension)کہلاتا ہے۔ مختلف درجہ حرارت پر پانی کا آبی تناؤ جدول 5.3 میں دیا گیا ہے۔

آبی تناؤ۔ کل p = خشک گیس      P                552

جدول 5.3 پانی کا آبی تناؤ (ابخارات کا دباؤ) درجہ حرارت کے تفاعل کے طور پر 

دباو/بار درجہ حرارت /k دباو/بار درجہ حرارت/k
0.0260 295.15 0.0060 273.15
0.0295 297.15 0.0121 283.15
0.0331 299.15 0.0168 288.15
0.0372 301.15 0.0204 291.15
0.0418 303.15 0.0230 293.15

مول کسر کی اصطلاح میں جزوی دباؤ

مان لیجیے درجہ حرارت T پر تین گیسیں جو حجم V میں مقید ہیں بالترتیب جزوی دباؤ p2،  p1اور p3 ڈالتی ہیں، تو 

553

جہاں n2 ، n1 اور n3 ان گیسوں کے مولوں کی تعداد ہے اس طرح کل دباؤ کے لیے علامت ہوگی 

p1 + p2 + p3 =  کل p
554

p1 کو کل p سے تقسیم کرنے پر ہمیں حاصل ہوگا۔ 

555

جہاں   556

x1،پہلی گیس کا مول کسر کہلاتا ہے۔ 

اس طرح کل p1 = x1 p

اسی طرح باقی دو گیسوں کے لیے بھی ہم لکھ سکتے ہیں۔ 

کل    p3 = x3   اور کل  p2 = x2p

لہٰذا ایک عام مساوات اس طرح لکھ سکتے ہیں: کل  p1 = x1p 5.29

جہاں pi اور xi بالترتیب گیس کے جزوی دباؤ اور مول کسر ہیں۔ اگر گیسوں کے آمیزے کا کل دباؤ معلوم ہوتو منفرد گیسوں کے ذریعہ ڈالے گئے دباؤ کو مساوات 5.29 کی مدد سے نکالا جاسکتا ہے۔ 

مسئلہ 5.4

نیون اور ڈائی آکسیجن کے ایک آمیزے میں 70.6g ڈائی آکسیجن اور 167.5g نیون ہے۔ اگر سلینڈر میں گیسوں کے آمیزے کا دباؤ 25 بار ہے اس آمیزے میں ڈائی آکسیجن اور نیون کا جزوی دباؤ کیا ہوگا؟ 

حل 

ڈائی آکسیجن کے مولوں کی تعداد 557

= 2.21 مول 

نیون کے مولوں کی تعداد  558

= 8.375 مول 

ڈائی آکسیجن کا مول کسر 559

نیون کا مول کسر  560

= 0.79

دوسرے طریقے سے 

نیون کا مول کسر =     0.21 -1

    =  0.79

گیس کا جزوی دباو =  مول کسر × کل دباو 

آکسیجن کا جزوی دباو  =    0.21  25bar)  X) 

=  5.25bar  

نیون کا جزوی دباو   =   0.79  25bar)  X) 

=  19.75bar 

5.7 حرکی توانائی اور سالماتی چالیں

(Kinetic Energy and Moleeular Speeds)

گیسوں کے سالمے لگاتار حرکت میں رہتے ہیں۔ حرکت کرتے ہوئے وہ ایک دوسر ے سے اور برتن کی دیواروں سے تصادم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی رفتار میں تبدیلی آتی رہتی ہے اور توانائی کی باز تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح کسی گیس کے تمام سالموں کی رفتار اور توانائی ،کسی بھی دیے ہوئے لمحہ وقت پر یکساں نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ، ہم سالموں کی اوسط چال کی قدر ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر کسی نمونے میں سالموں کی تعداد nہے اور ان کی انفرادی چالیں: u1,u2,u3,…….un, تو سالموں کی اوسط چال ’uav‘ مندرجہ ذیل طور پر تحسیب کی جاسکتی ہے:

561

میکسویل اور بولٹر مین نے ثابت کیاکہ سالماتی چالوں کی اصل تقسیم گیس کے درجہ حرارت اور سالماتی کمیت کے تابع ہے۔ میکسویل نے کسی مخصوص چال سے حرکت کر رہے سالموں کی تعداد کی تحسیب کرنے کے لیے ایک فارمولا پیش کیا ۔ شکل (A(1 میں سالموں کی تعدادبہ مقابلہ سالماتی چال کا منظم خاکہ، دو مختلف درجات حرارت T1 اورT1 , T2) ،T2 سے مقابلتاً زیادہ ہے) پر پیش کیا گیا ہے۔ اس خاکہ میں دکھائی گئی چالوں کی تقسیم ، میکسویل-بولٹر مین چالوں کی تقسیم کہلاتی ہے۔

اوسط چال 

جذراوسط مربع چال

اعظم احتمالی چال 

562
شکل 5.8  میکسویل -بولڈ زمن چالوں کا بکھراؤ

اس گراف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت زیادہ اور بہت کم چال سے حرکت کر رہے سالموں کی تعداد بہت کم ہے۔منحنی کا اعظم ، سالموں کی اعظم تعداد کی چال کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس چال کو اعظم احتمالی چال ،(ump (Most Profable Speed  کہتے ہیں۔یہ سالموں کی اوسط چال کے بہت قریب ہوتی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ کرنے سے اعظم احتمالی چال میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔منحنی کا چوڑا ہونا مقابلتاً زیادہ چال سے حرکت کر رہے سالموں کی تعداد میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ چال تقسیم سالموں کی کمیت کے بھی تابع ہے۔ یکساں درجہ حرارت پر ، مقابلتاً زیادہ کمیت والے گیس سالموں کی چال مقابلتاً ہلکے گیس سالموں کی چال سے کم ہوتی ہے۔ مثلاً یکساں درجہ حرارت پر ،مقابلتاً ہلکی نائٹروجن گیس کے سالمے مقابلتاً بھاری کلورین سالموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ اس لیے ،کسی بھی دیے ہوئے درجہ حرارت پر ، نائٹروجن سالموں کی اعظم احتمالی چال،  کلورین سالموں کی اعظم احتمالی چال سے زیادہ ہوگی۔شکل (A (2میں دیے گئے ،کلورین اور نائٹروجن کے سالماتی چال تقسیم منحنی کو ملاحظہ کیجیے۔ حالانکہ کسی خاص درجہ حرارت پر، سالموں کی انفرادی چال تبدیل ہوتی رہتی ہے،چالوں کی تقسیم یکساں رہتی ہے۔

کلورین کے لیے 

نائٹروجن کے لیے 

سالماتی چال

سالموں کی تعداد


563

شکل 5.9  300K پر کلورین اور نائٹروجن کے لیے سالماتی چالوں کی تقسیم 

ہم جانتے ہیں کہ کسی ذرہ کی حرکی توانائی مندرجہ ذیل ریاضیاتی عبارت سے ظاہر کی جاتی ہے:

564  حرکی توانائی

اس لیے اگر ہم گیس کے کسی ذرے کی خطِ مستقیم میں حرکت کرنے کی اوسط افقی حرکی توانائی معلوم کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں تمام سالموں کی چالوں کے مربعوں کے اوسط کی قدر ،U2 چاہیے ہوگی ۔ اسے مندرجہ ذیل طور پر ظاہر کر سکتے ہیں۔

565

اوسط مربع چال ،گیس کے سالموں کی اوسط حرکی توانائی کا براہِ راست ناپ ہے۔ اگر ہم چالوں کے مربعوں کے اوسط کا جذر حاصل کر لیں تو ہمیں چال کی ایک اور قدرحاصل ہوتی ہے جواعظم احتمال چال اور اوسط چال سے مختلف ہے۔ اس چال کو کو جذر اوسط مربع چال (Root Mean Square Speed) کہتے ہیں اور اس کی ریاضیاتی عبارت ہے 

566

جذر اوسط مربع چال، اوسط چال اور اعظم احتمالی چال میں مندرجہ ذیل رشتہ ہے:

567

ان تینوں چالوں کی آپسی نسبت ہے 

568

5.8 گیسوں کا حرکی سالمی نظریہ

(Kinetic Molecular Theory of Gases)

اب تک ہم نے ان قوانین (مثلاً بائل کا قانون، چارلس کا قانون وغیرہ) کے بارے میں پڑھا ہے جو سائنسدانوں کے ذریعہ تجربہ گاہوں میں تحقیق کی بنیاد پر حاصل کیے گئے مشاہدات کے مختصر بیانات تھے۔ احتیاط کے ساتھ تجربہ کرنا سائنسی طریقہ کا ایک اہم پہلو ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کوئی ایک خاص نظام مختلف حالات میں کس قسم کے طرز عمل کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم ایک مرتبہ جب تجرباتی حقائق قائم ہو جاتے ہیں تو سائنسداں کو یہ تجسس رہتا ہے کہ نظام ایک مخصوص طرز عمل کا اظہار کیوں کرتا ہے۔ مثال کے طور گیس کے قوانین یہ پیشین گوئی کرنے میں مدد کرتے ہیں کہ جب ہم گیسوں کو دباتے ہیں تو ان کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ جب کسی گیس کو دبایا جاتا ہے تو سالمی سطح پر کیا ہوتا ہے؟ اپنے سوالات کے جواب دینے کے لیے ایک نظریہ کی تشکیل کی گئی ہے۔ تھیوری ایک ماڈل ہوتی ہے (یعنی ایک ذہنی/تصویر) جو ہمیں ہمارے مشاہدات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ وہ نظریہ جو گیسوں کے طرز عمل کی تشریح کی کوشش کرتا ہے حرکی سالمی نظریہ (Kinetic Molecular Theory of Gases) کہلاتا ہے۔

گیسوں کے حرکی سالمی نظریے کے مفروضات مندرجہ ذیل ہیں۔یہ مفروضات ایٹم اورسالموں سے متعلق ہیں جو دیکھے نہیں جاسکتے، لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ گیسوں کے خوردبینی ماڈل کی تصویر پیش کرتا ہے۔ 

•  گیس مماثل ذرات (ایٹم یا سالمات) کی ایک کثیر تعداد پر مشتمل ہوتی ہیں جو اتنے چھوٹے اور ایک دوسرے سے اتنے دور ہوتے ہیں کہ سالموں کا اصل حجم ان کے درمیان کی خالی جگہ کے حجم کے مقابلہ میں قابل نظر انداز ہوتا ہے۔ انہیں نقطہ کمیت سمجھا جاتا ہے۔ یہ مفروضہ گیسوں کی بہت زیادہ دبائے جاسکنے کی صلاحیت کی وضاحت کرتا ہے۔

•  ایک عام درجہ حرارت اور دباو پر گیس کے ذرات کے درمیان کوئی قوتِ کشش نہیں ہوتی۔ اس مفروضہ کو اس حقیقت کی حمایت حاصل ہے کہ گیسیں پھیلتی ہیں اور اس تمام جگہ کو گھیرلتی ہیں جو انہیں دستیاب ہوتی ہے۔ 

•  گیس کے ذارت ہمیشہ ایک مستقل اور بے ترتیبی سے گردش میں رہتے ہیں۔ اگر ذرات سکون کی حالت میں ہوتے اور مخصوص جگہ گھیرتے تو گیس کی ایک مستقل شکل ہوتی جو نہیں پائی گئی ہے۔ 

•  گیس کے ذرات ایک سیدھی لائن میں ہر ممکن سمت میں حرکت کرتے ہیں۔ وہ آپس میں اور برتن کی دیوار سے ٹکراتے ہیں۔ برتن کی دیوار سے ذرات کے ٹکرانے کے نتیجہ میں ہی گیس کے ذریعہ دباؤ پڑتا ہے۔ 

•  گیس کے ذرات کی کا ٹکراؤ مکمل طور پر الاسٹک (Ilastic) ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹکرانے سے پہلے اور ٹکرانے کے بعد ذرات کی کل توانائی یکساں رہتی ہے۔ ٹکرانے والے ذرات کے درمیان توانائی کا تبادلہ ہوسکتا ہے۔ ان کی انفرادی توانائی تبدیل ہوسکتی ہے لیکن ان کی کل توانائی یکساں رہتی ہے۔ اگر حرکی توانائی میں کمی ہوتی تو سالموں کی حرکت رک جاتی اور گیسیں بیٹھ جاتیں۔ یہ اس کے بر خلاف ہے جو کہ مشاہدہ میں آتا ہے۔ 

•  کسی ایک خاص وقت پر گیس کے مختلف ذرات کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی حرکی توانائی مختلف ہوتی ہے۔ یہ مفروضہ معقول ہے کیونکہ جیسے جیسے ذرات ٹکراتے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ان کی رفتار بدل جائے گی۔ ابتدا میں اگرچہ تمام ذرات کی رفتار یکساں بھی ہوتی تو سالماتی تصادم اس یکسانیت کو ختم کر دیتا نتیجتاً ذرات کی رفتار مختلف ہوتی ہے جو مستقل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ دکھانا ممکن ہے اگرچہ انفرادی رفتار تبدیل ہو رہی ہے پھر بھی ایک خاص درجہ حرارت پر رفتار کی تقسیم مستقل ہے۔ 

•  اگر ایک سالمہ کی رفتار تغیر پذیر ہے، تو اس کی حرکی توانائی بھی تغیر پذیر ہوگی۔ ان حالات میں ہم صرف اوسط حرکی توانائی کی ہی بات کرسکتے ہیں۔ حرکی نظریہ میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ گیس کے سالموں کی اوسط حرکی توانائی مطلق درجہ حرارت کے براہ راست تناسب میں ہوتی ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ مستقل حجم پر گیس کو گرم کرنے پر اس کا دباو بڑھ جاتا ہے۔ گرم کرنے پر گیس کے ذرات کی حرکی توانائی بڑھ جاتی ہے اور یہ برتن کی دیوار پر زیادہ اور تیزی سے ٹکراتے ہیں جس سے دباو زیادہ پڑتا ہے۔ 

گیسوں کا حرکی نظریہ ہمیں پچھلے سیکشنوں میں مطالعہ کیے گئے گیسوں کے تمام قوانین کو نظریاتی طور پر حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ گیسوں کے حرکی نظریہ کی بنیاد پر کی گئی تمام تحسیبات اور پیشین گوئیاں تجرباتی مشاہدات کے ساتھ متفق پائی گئی ہیں اور اس طرح اس ماڈل کی درستگی کو قائم کرتی ہیں۔

5.9 حقیقی گیسوں کا طرز عمل ۔ آئیڈیل گیس طرز عمل سے انحراف

(Behaviour of Real Gases: Deviation from Ideal Gas Behaviour)

ہمارا گیسوں کا نظریاتی ماڈل تجرباتی مشاہدات سے بہت اچھی طرح میل کھاتا ہے۔ دشواری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم یہ جانچ کرتے ہیں کہ کس حد تک pV = nRT تعلق گیسوں کے حقیقی دباو۔ حجم، درجہ حرارت کے تعلق کو دہراتا ہے۔ اس نقطہ کی جانچ کے لیے ہم گیسوں کا pV ۔ pگراف تیار کرتے ہیں، کیونکہ مستقل درجہ حرارت پر pV مستقل ہوجائے گا۔ (بائل کا قانون) اور تمام گیسوں کے لیے pV بمقابلہ p گراف x محور کے متوازی سیدھی لائن ہوگی۔ شکل 5.10  273k پر مختلف گیسوں کے لیے حقیقی اعداد و شمار کی مدد سے تیار کیے گئے پلاٹ کو دکھاتی ہے۔ 

569

شکل 5.10 حقیقی اور آئیڈیل گیسوں کے لیے pV بمقابلہ p گراف 

یہ بہت آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ مستقل درجہ حرارت پرحقیقی گیسوں کے لیے pV بمقابلہ p گراف ایک سیدھی لائن نہیں ہے۔ آئیڈیل گیسوں سے انحراف اہم ہے۔ دو طرح کے منحنی نظر آرہے ہیں۔ ڈائی ہائڈروجن اور ہیلیم کے لیے جیسے جیسے p بڑھتا ہے pV کی قدر بھی بڑھتی ہے۔ دوسری گیسوں جیسے کاربن مونو آکسائڈ اور میتھین کے معاملے میں دوسری قسم کا گراف دیکھا گیا ہے۔ ان گرافوں میں پہلے آئیڈیل گیس سے منفی انحراف ہے۔ دباؤ بڑھنے کے ساتھ pV کی قدر گھٹتی ہے اور کمترین پر پہنچ جاتی ہے جو کسی گیس کی مخصوص قدر ہے اس کے بعد pV کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کےبعدمنحنی آئیڈیل گیس کی لائن کو پار کرتا ہے اور اس کے بعدمسلسل مثبت انحراف دکھاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی گیسیں تمام حالات میں آئیڈیل گیس کے طرز عمل کا اتباع نہیں کرتی ہیں۔

آئیڈیل طرز عمل سے انحراف اس وقت بھی نظر آتا ہے جب دباو بمقابلہ حجم کا گراف بنایا جاتا ہے۔ تجربہ کی بنیاد پر حاصل کیے گئے اعدادوشمار (حقیقی گیس کے) کے دباو۔حجم گراف کو بائل قانون کے ذریعہ (آئیڈیل گیس کے) نظریاتی اعداد و شمار کے گراف پر منطبق (Coincide) ہونا چاہیے۔ شکل 5.11 میں یہ گراف دکھائے گئے ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ بہت زیادہ دباؤ پر پیمائش کیا گیا حجم حساب لگائے گئے حجم سے زیادہ ہے۔ کم دباؤ پر پیمائش کیے گئے اور حساب لگائے گئے حجم ایک دوسرے کے نزدیک پائے گئے۔ 

570

شکل 5.11 حقیقی اور آئیڈیل گیس کے لیے دباو ۔حجم گراف 

یہ دیکھا گیا ہے کہ حقیقی گیسیں سبھی حالات میں بائل کےقانون چارلس کے قانون اور آوگاڈرو کے قانون کا مکمل طور پر اتباع نہیں کرتیں، اب دوسوال پیدا ہوتے ہیں۔ 

(i)  گیسوں کا آئیڈیل طرز عمل سے انحراف کیوں ہے؟ 

(ii)  وہ کون سے حالات ہیں جب گیسیں آئیڈیل طرز عمل سے انحراف کرتی ہیں۔ 

پہلے سوال کا جواب ہمیں مل جائے گا اگر ہم حرکی نظریے کے مفروضات پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔ ہم دیکھیں گے کہ حرکی نظریے کے دو مفروضات ٹھیک نہیں ہیں۔ 

(a)  گیس کے سالموں کے درمیان کوئی قوتِ کشش نہیں ہے۔ 

(b)  گیس کے سالموں کا حجم ان کے ذریعہ گھیری گئی جگہ کے مقابلہ میں قابل نظر انداز ہوتا ہے۔ 

اگر مفروضہ (a) صحیح ہے تو گیس بھی رقیق نہیں ہوگی۔ بہر حال ہم جانتے ہیں کہ گیس ٹھنڈا ہونے اور دبائے جانے پر رقیق میں تبدیل ہوتی ہیں اور یہ بھی کہ اس طرح بنی ہوتی رقیق کو دبانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دافع قوتیں اتنی قوی ہیں کہ وہ تھوڑے سے حجم میں سالموں کو مزید بھینچنے سے روکتی ہیں۔ اگر مفروضہ (b) صحیح ہے تو تجرباتی اعداد و شمار (حقیقی گیس) اور بائل قانون (Ideal Gas) کے ذریعہ حساب لگائے گئے اعداد و شمار کے دباو بمقابلہ حجم گراف میں انطباق ہونا چاہیے۔ 

حقیقی گیسیں آئیڈیل گیس قوانین سے انحراف کرتی ہیں کیونکہ ان کے سالمہ ایک دوسرے سے باہم دگر عمل کرتے ہیں۔ زیادہ دباو پر گیسوں کے سالمے ایک دوسرے کے بہت نزدیک ہوتے ہیں۔ سالماتی باہم دگر عمل شروع ہوجاتا ہے۔ زیادہ دباو پر سالمے برتن کی دیواروں سے پوری قوت سے نہیں ٹکراتے کیونکہ وہ سالمی قوت کشش کی وجہ سے دوسرے سالموں کے ذریعہ واپس کھینچ لیے جاتے ہیں۔ یہ سالموں کے ذریعہ برتن کی دیوار پر ڈالے گئے دباؤ کو متاثر کرتا ہے۔ لہٰذا آئیڈیل گیس کے مقابلے میں حقیقی گیس کے ذریعہ ڈالا گیا دباو کم ہوتا ہے۔ 

571 (5.30)

تصحیح رکن +    مشاہداتی دباو

یہاں a ایک مستقلہ ہے۔ 

دافع قوتیں بھی اہم ہو جاتی ہیں۔ دافع باہم دگر عمل کم فاصلاتی باہم دگر عمل ہوتے ہیں اور یہ اس وقت اہم ہوتے ہیں جب سالمے تقریباً ایک دوسرے کے لمس میں ہوں۔ یہ حالت زیادہ دباو میں ہوتی ہے۔ دافع قوتیں سالموں کو چھوٹے لیکن ناقابل دخول پذیر کرھوں کی طرح برتاؤ کرنے کی وجہ بنتی ہیں۔ سالموں کے ذریعہ گھیرا گیا حجم بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ حجم V میں حرکت کرنے کے بجائے اب وہ (V-nb) حجم میں محدود ہوگئے ہیں، جہاں nb خود سالموں کے ذریعہ گھیرا گیا تقریباً کل حجم ہے۔ یہاں b ایک مستقلہ ہے۔ دباؤ اور حجم کے لیے ارکان کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ہم مساوات 5.17 کو اس طرح لکھ سکتے ہیں۔ 

572

مساوات 5.31 ون ڈروالس مساوات (Vander Waals Equation) کہلاتی ہے۔ اس مساوات میں n،گیس کے مولوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ مستقلہ a اور b ون ڈروالز مستقلے کہلاتے ہیں ان کی قیمت گیس کی خصوصیات پر منحصر ہوتی ہے۔ a کی قیمت گیس کے اندر بین سالمی قوتِ کشش کی وسعت کی پیمائش ہوتی ہے اور یہ درجہ حرارت اور دباو پر منحصر نہیں ہوتی۔

بہت کم دباو پر بھی بین سالمی قوتیں اہم ہو جاتی ہیں۔ جب سالمے بہت ہی کم اوسط رفتار سے حرکت کرتے ہیں لہٰذا یہ قوت کشش کی بدولت ایک دوسرے کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ حقیقی گیسیں آئیڈیل طرز عمل اس وقت ظاہر کرتی ہیں جب درجہ حرارت اور دباو کے حالات ایسے ہوں کہ بین سالمی قوت برائے نام ہی ہوں۔ حقیقی گیسیں آئیڈیل طرز عمل اس وقت ظاہر کرتی ہیں جب دباو صفر کی سمت جاتا ہے۔

آئیڈیل طرز عمل سے انحراف کی پیمائش کمپریسیبلٹی فیکٹر(Z (Compressibility Factor کی اصطلاح میں کی جاتی ہے جو ماحصل pV اور nRT کے کی نسبت کی شکل میں ہوتا ہے۔ ریاضیاتی طور پر۔ 

573

آئیڈیل گیس کے لیے تمام درجہ حرارت اور دباو کے لیے Z = 1 ہوتا ہے کیونکہ p = nRT  Z کا p کے ساتھ گراف ایک سیدھی لائن میں ہوگا جو کہ دباو محور کے متوازی ہوگی (شکل 5.12)۔ان گیسوں کے لیے جو آئیڈیل طرز عمل سے انحراف کرتی ہیں۔ Z کی قیمت اکائی  سے انحراف کرے گی۔ 

574

شکل 5.12 کچھ گیسوں کے لیے کمپریسیبیلٹی فیکٹر میں تغیر 

بہت کم دباو پر تمام گیسیں جو دکھائی گئی ہیں ان کا Z ˜1 ہے اور وہ آئیڈیل گیس کی طرح طرز عمل کرتی ہیں۔ زیادہ دباو پر تمام گیسوں کے لیے Z > 1 ہے۔ ان کو دبانا زیادہ مشکل ہے۔ درمیانی دباو پر زیادہ تر گیسوں کے لیے Z < 1 ہوتا ہے۔ لہٰذا گیسیں آئیڈیل طرز عمل اس وقت ظاہر کرتی ہیں جب ان کے ذریعہ گھیرا گیا حجم اتنا زیادہ ہو کہ اس کے مقابلے میں سالموں کے لیے حجم کو نظر انداز کیا جاسکے۔ باالفاظ دیگر گیسوں کا طرز عمل اس وقت آئیڈیل ہو جاتا ہے جب دباو بہت کم ہوتا ہے۔ کوئی گیس کس حد تک آئیڈیل گیس قانون کا اتباع کرتی ہے اس کا انحصار گیس کی ماہیت اور درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ وہ درجہ حرارت پر جس پر کوئی حقیقی گیس کسی دباو کی قابل قبول وسعت تک آئیڈیل گیس قانون کا اتباع کرتی ہے بائل درجہ حرارت یا بائل پوائنٹ (Boile Point) کہلاتا ہے۔ کسی گیس کا بائل پوائنٹ اس کی فطرت پر منحصر ہوتا ہے۔ اپنے بائل پوائنٹ سے اوپر حقیقی گیسیں آئڈیل طرز عمل سے مثبت انحراف دکھاتی ہیں اور Z کی قیمت ایک سے زیادہ ہوتی ہے۔ سالموں کے درمیان قوت کشش بہت کمزور ہوتی ہے۔ بائل پوائنٹ سے نیچے حقیقی گیسیں پہلے دباو میں اضافے کے ساتھ Z کی قیمت میں کمی دکھاتی ہیں جو ایک کمترین قیمت تک پہنچ جاتا ہے۔ دباو مزید بڑھانے سے Z کی قیمت مسلسل بڑھتی ہے۔ مندرجہ بالا وضاحت یہ دکھاتی ہے کہ کم دباو اور زیادہ درجہ حرارت پر گیسیں مثالی (آئیڈیل) طرز عمل کا اظہار کرتی ہیں۔ یہ حالات مختلف گیسوں کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ 

اگر ہم مندرجہ ذیل استخراج (Derivation) کو دیکھیں تو Z کی اہمیت میں زیادہ بصیرت حاصل ہوگی۔ 

575

اگر گیس مثالی طرز عمل ظاہر کرتی ہے تو  576مساوات (5.33) میں  577 کی قیمت رکھنے پر۔ 

578

مساوات 5.34 سے دیکھ سکتے ہیں کہ کمپریسیبلٹی فیکٹر کسی گیس کے حقیقی مولر حجم اور اس کے اس مولر حجم کی نسبت ہوتا ہے جب وہ گیس اس درجہ حرارت اور دباو پر مثالی ہو۔ 

مندرجہ ذیل سیکشن میں ہم دیکھیں گے کہ گیسی حالت اور رقیق حالت میں فرق کرنا ممکن نہیں ہے اور رقیق کو ہم بہت کم حجم اور بہت زیادہ سالماتی کشش والے خطے میں گیسی حالت کا تسلسل ہی سمجھ سکتے ہیں ہم یہ دیکھیں گے کہ کس طرح گیسوں کے آئسوتھرم کے استعمال سے گیسوں کے حالات کی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ 

5.10 گیسوں کی اماعت (Liquifaction of Gases)

کسی شے کے دباو۔حجم ۔درجہ حرارت تعلق سے متعلق مکمل اعداد و شمار گیس اور رقیق حالت کے لیے رقیق حالت میں سب سے پہلے تھامس اینڈ ریوز نے کاربن ڈائی آکسائڈ کے لیے حاصل کیے تھے۔ اس نے مختلف درجہ حرارت پر کاربن ڈائی آکسائڈ کے آئسوتھرم پلاٹ کیے (شکل 5.13)۔ بعد میں یہ پایا گیا کہ حقیقی گیسیں بالکل اسی طرح کا طرز عمل کرتی ہیں جیسے کہ کاربن ڈائی آکسائڈ۔ اینڈ ریوز نے دیکھا کہ اونچے درجہ حرارت پر آئیسوتھرم مثالی گیس کی طرح ہوتے ہیں اور بہت زیادہ دباؤ پر بھی بہت گیس کی اماعت نہیں کی جاسکتی۔ جیسے جیسے درجہ حرارت کم ہوتا ہے منحنی کی شکل بدلتی ہے اور اعداد و شمار مثالی طرز عمل سے کافی انحراف دکھاتے ہیں۔ 30.98ºC پر کاربن ڈائی آکسائڈ 73 فضائی دباو تک گیس ہی رہتی ہے (شکل 5.11 میں نقطہ E)۔

579
شکل 5.13 مختلف درجہ حرارت پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے آئسوتھرم 

73 فضائی دباو پر پہلی مرتبہ رقیق کاربن ڈائی آکسائڈ نظر آتی ہے۔ درجہ حرارت 30.98ºC کاربن ڈائی آکسائڈ کا فاصل درجہ حرارت TC Critical Temperature کہلاتا ہے۔ یہ وہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ہے جس پر رقیق کاربن ڈائی آکسائڈ نظر آتی ہے۔ اس درجہ حرارت سے اوپر یہ گیس ہوتی ہے۔ فاصل درجہ حرارت پر کسی گیس کے ایک مول کا حجم فاصل حجم (VC) اور اس درجہ حرارت پر دباؤ فاصل دباؤ (PC) کہلاتا ہے۔ فاصل درجہ حرارت، دباو اور حجم فاصل مستقلے کہلاتے ہیں۔ دباو میں مزید اضافہ رقیق کاربن ڈائی آکسائڈ کو مزید دباتا ہے اور منحنی رقیق کی دبنے (پچکنے) کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈھلان رقیق کے آئیسو تھرم کو ظاہر کرتا ہے۔ ہلکے سے پچکاو کے نتیجے میں دباؤ میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو رقیق کی پچکنے کی بہت کم صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 30.98°C سے نیچے پچکنے پر گیس کا طرز عمل مختلف ہوتا ہے 21.5ºC پر کاربن ڈائی آکسائڈ نقطہ Bتک ہی گیس رہتی ہے۔ نقطہ B پر ایک خاص حجم کی رقیق ظاہر ہوتی ہے۔ مزید پچکاو سے دباؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ گیس اور رقیق کاربن ڈائی آکسائڈ ایک ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ دباو کے مزید استعمال کے نتیجہ میں زیادہ گیس تکثیف ہوتی ہے یہاں تک کہ نقطہ C تک پہنچ جاتی ہے۔ نقطہ C پر تمام گیس کی تکثیف ہو جاتی ہے اور دباو کا مزید استعمال رقیق کو محض دباتا ہے جیسا کہ ڈھلان سے ظاہر ہے۔ حجم V2 سے V3 کے معمولی پچکاو سے دباو میں p2 سے p3 تک تیزی سے اضافہ ہوتا ہے (شکل 5.11)۔ 30.98ºC (فاصل درجہ حرارت) سے نیچے ہر ایک منحنی یہی رجحان دکھاتا ہے۔ کم درجہ حرارت پر صرف افقی لائن کی لمبائی ہی بڑھتی ہے۔ فاصل نقطہ پر آئسوتھرم کا افقی حصہ ایک نقطہ میں صنم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ شکل 5.11 میں ایک نقطہ جیسے کہ A گیسی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک نقطہ جیسا کہ D رقیق حالت کو ظاہر کرتا ہے اور ایک نقطہ جو گنبد کی شکل کے علاقہ کے اندر ہوتا ہے کاربن ڈائی آکسائڈ کی رقیق اور گیسی حالت میں توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ تمام گیسیں مستقل درجہ حرارت پر دبائے جانے پر (Isothermal Compression) ایسا ہی طرز عمل ظاہر کرتی ہیں جیسا کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا بحث یہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اماعت کے لیے گیسوں کو ان کے فاصل درجہ حرارت سے نیچے تک ٹھنڈا کرنا چاہیے۔ فاصل درجہ حرارت کسی گیس کا وہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ہوتا ہے جس پر گیس کی اماعت پہلے ہوتی ہے۔ مستقل کہلائی جانے والی ایسی گیسوں (یعنی وہ گیسیں جو Z قیمت میں مسلسل مثبت انحراف دکھاتی ہیں) کی اماعت کے لیے ٹھنڈا کرنے اور پچکانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پچکانے سے سالمے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور ٹھنڈا کرنے سے ان کی حرکت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ لہٰذا بین سالمی باہم دگر عمل قریبی اور سست رو سالموں کو ایک جگہ باندھے رکھ سکتے ہیں اور گیس رقیق میں تبدیل ہوتی ہے۔ 

یہ ممکن ہے کہ گیس کو رقیق یا رقیق کوگیس میں ایک ایسے عمل کے ذریعہ تبدیل کرنا ممکن ہے جس میں ہمیشہ ہی ایک فیز (Phase) موجود ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر شکل 5.11 میں ہم درجہ حرارت میں اضافہ کرکے نقطہ A سے F تک عمودی طور پر جاسکتے ہیں، پھر مستقل درجہ حرارت پر گیس کو دبا کر اس آئیسو تھرم کے ذریعہ (آئیسوتھرم 31.1ºC ) نقطہ G تک پہنچ سکتے ہیں۔ دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ اب ہم عمودی طور پر نیچے کی سمت D کی طرف درجہ حرارت کو کم کرتے ہوئے حرکت کرسکتے ہیں۔ جیسے ہی ہم فاصل آئیسو تھرم پر نقطہ H سے گزریں گے ہمیں رقیق حاصل ہوگا۔ ہمارا عمل رقیق پر مکمل ہوگا لیکن تبدیلیوں کے اس سلسلے میں ہم کسی بھی دو فیز والے مقام سے نہیں گزریں گے۔ اگر یہ عمل فاصل درجہ حرارت پر کیا جائے تو شے ہمیشہ ہی ایک فیز (Phase) میں رہتی ہے۔

اس طرح گیسی اور رقیق حالت میں ایک تسلسل ہوتا ہے۔ اس تسلسل کی پہچان کے لیے رقیق یا گیس کے لیے اصطلاح سیال (Fluid) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح رقیق کو ایک بہت کثیف گیس کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ رقیق اور گیس میں صرف اس وقت ہی فرق کیا جاسکتا ہے جب سیال اپنے فاصل درجہ حرارت سے نیچے ہو اور اس کا دباؤ اور حجم گنبد کے اندر واقع ہو، کیونکہ اس حالت میں رقیق اور گیس ایک توازن میں ہوں گے اور دو فیز کو علیحدہ کرنے والی سطح بھی نظر آئے گی۔ اس سطح کی غیر موجودگی میں دونوں حالتوں میں فرق کرنے کی کوئی بنیادی تدبیر نہیں ہے۔ فاصل درجہ حرارت پر رقیق، گیسی حالت میں بتدریج آہستہ آہستہ اور مسلسل سرایت کرتی ہے۔ دونوں فیز کو علیحدہ کرنے والی سطح معدوم ہو جاتی ہے (سیکشن5.10.1)۔ دباؤ ڈال کر ایک گیس کی فاصل درجہ حرارت سے نیچے اماعت کی جاسکتی ہے اور یہ اس شے کے بخارات کہلاتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس اپنے فاصل درجہ حرارت سے نیچے کاربن ڈائی آکسائڈ بخارات کہلاتی ہے۔ کچھ عام اشیا کے فاصل مستقلے جدول 5.4 دئیے گئے ہیں۔ 


جدول 5.4 کچھ اشیا کے فاصل مستقلے
Vc/dm3 mol-1 pc/bar Tc/K شے
0.0650 12.97 33.2 H2
0.0577 2.29 5.3 He
0.0900 33.9 126.0 N2
0.0744 50.4 154.0 O2
0.0956 73.9 304.10 CO2
0.0450 220.6 647.1 H2O
0.0723 113.0 405.5 NH3


مسئلہ 5.5

گیس کے مخصوص فاصل درجہ حرارت ہوتے ہیں جن کا انحصار گیس کے ذرات کے درمیان بین سالمی قوت کی وسعت پر ہوتا ہے۔ امونیا اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے فاصل درجہ حرارت بالترتیب 405.5k اور 304.10k ہیں۔ ان میں سے کون سی گیس پہلے رقیق بنے گی جب آپ انہیں 500k سے ان کے فاصل درجہ حرارت تک ٹھنڈا کرنا شروع کریں گے؟

حل 

امونیا کی اماعت پہلے ہوگی کیونکہ اس کا فاصل درجہ حرارت پہلے پہنچے گا۔ CO2کی اماعت میں زیادہ ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ 

5.11  رقیق حالت(Liquid State)

گیسی حالت کے مقابلے میں رقیق حالت میں بین سالمی قوتیں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ رقیق اشیا میں سالمات اتنے قریب ہوتے ہیں کہ ان کے درمیان جگہ بہت کم ہوتی ہے اور عام حالات میں رقیق اشیا گیسوں کے مقابلہ زیادہ کثیف ہوتی ہیں۔

رقیق اشیا کے سالمات آپس میں بین سالمی قوت کشش کے ذریعہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ رقیق کا حجم متعین ہوتا ہے کیونکہ سالمے ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ بہر حال، رقیق اشیا کے سالمے ایک دوسرے کے پاس سے آسانی سے گزرسکتے ہیں۔ اسی لیے رقیق اشیا بہہ سکتی ہیں۔ انڈیلی جاسکتی ہیں اور اس برتن کی شکل اختیار کرسکتی ہیں جس میں انہیں رکھا جاتا ہے۔ 

مندرجہ ذیل سیکشن میں ہم رقیق اشیا کی چند طبیعی خصوصیات جیسے بخاراتی دباؤ، سطحی تناؤ اور لزوجیت کے بارے میں پڑھیں گے۔ 

5.11.1  بخاراتی دباؤ (Vapour Pressure) 

اگر ایک خالی کیے گئے برتن کو کسی رقیق سے جزوی طور پر بھر دیا جائے تو رقیق کا کچھ حصہ بخارات میں تبدیل ہو کر برتن کے باقی حجم کو بھردے گا۔ پہلے تو رقیق کی تبخیر ہوگی اور بخارات کے ذریعہ دیواروں پر ڈالا گیا دباو (بخاراتی دباؤ) بڑھ جائے گا۔ کچھ دیر کے بعد وہ مستقل ہوجائے گا۔ رقیق فیز اور گیس فیز کے درمیان ایک توازن قائم ہوجائے گا۔ اس مقام پر بخاراتی دباو متوازن بخاراتی دباو (Equilibrium Vapour Pressure) یا سیرشدہ بخاراتی دباو (Saturated Vapour Pressure)کہلاتا ہے۔ چونکہ تبخیر کا عمل درجہ حرارت پر منحصر ہوتا ہے۔ لہٰذا کسی رقیق کے بخاراتی دباؤ کا ذکر کرتے وقت درجہ حرارت کا حوالہ دینا ضروری ہے۔

جب کسی رقیق شے کو کسی کھلے ہوئے برتن میں گرم کیا جاتا ہے تو رقیق کی تبخیر سطح سے ہوتی ہے۔ اس درجہ حرارت پر جب رقیق کا بخاراتی دباو بیرونی دباو کے برابر ہو جاتا ہے تو تبخیر رقیق میں ہر طرف ہوسکتی ہے اور بخارات آزادی کے ساتھ آس پاس پھیل سکتے ہیں۔ پوری رقیق کے اندر تبخیر کا عمل جوش کہلاتا ہے۔ وہ درجہ حرارت جب رقیق کا بخاراتی دباو بیرونی دباؤ کے برابر ہو جاتا ہے تو وہ اس دباو پر جوش کا درجہ حرارت (Boiling Temperature) کہلاتا ہے۔ شکل 5.14 میں کچھ رقیق اشیا کے بخاراتی دباو مختلف درجہ حرارت پر دئیے گئے ہیں 1 ایٹمو سفیر دباو پر ابال کا درجہ حرارت عام نقطہ جوش کہلاتا ہے اگر دباو 1 بارہے تو یہ رقیق کا معیاری نقطہ جوش کہلائے گا۔ کسی رقیق کا معیاری نقطہ جوش اس کے عام نقطہ جوش سے کچھ کم ہوتا ہے کیونکہ 1 بار دباو 1 ایٹمو سفیئر دباو سے کچھ کم ہوتا ہے۔ پانی کا عام نقطہ جوش 373k) 100°C) ہوتا ہے۔ اس کا معیاری نقطہ جوش 372.6k) 99.6°C) ہوتا ہے۔ 

زیادہ اونچائی پر فضائی کا دباو کم ہوتا ہے۔ اسی لیے زیادہ اونچائی پر سطح سمندر کے مقابلے میں رقیق اشیا کم درجہ حرارت پر ابلتی ہیں۔ چونکہ پہاڑوں پر پانی کم درجہ حرارت پر ابلتا ہے لہٰذا وہاں کھانا پکانے کے لیے پریشر کوکرکا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں سرجیکل آلات کو جراثیم سے پاک کرکے (Sterilization) خود کار بھٹی میں ابالا جاتا ہے جہاں سوراخ پروزن رکھ کر دباو کو فضائی دباو سے اوپر بڑھا کر پانی کے نقطہ جوش کو بڑھایا جاتا ہے۔ 

جب رقیق کو بند برتن میں گرم کیا جاتا ہے تو اس میں جوش نہیں آتا۔ مسلسل گرم کرنے سے بخاراتی دباؤ بڑھتا ہے شروع میں رقیق اور بخاراتی فیز کے درمیان صاف حد نظر آتی ہے کیونکہ رقیق بخارات سے زیادہ کثیف ہوتی ہے۔ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے زیادہ سے زیادہ سالمات بخاراتی فیز میں چلے جاتے ہیں اور بخارات کی کثافت بڑھ جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ رقیق کی کثافت گھٹ جاتی ہے۔ وہ پھیلتی ہے کیونکہ سالمات ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں۔ جب رقیق اور بخارات کی کثافت ایک جیسی ہوجاتی ہے، رقیق اور بخارات کے درمیان واضح حد ختم ہوجاتی ہے۔ یہ درجہ حرارت فاصل درجہ حرارت (Critical Temperature) کہلاتا ہے جس کے بارے میں ہم پہلے ہی سیکشن 5.9 میں پڑھ چکے ہیں۔ 

581

شکل 5.15 کچھ عام رقیق مادوں کا بخاراتی دباو بمقابلہ درجہ حرارت منحنی 

5.11.2 سطحی تناؤ (Surface Tension) 

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ رقیق اشیا برتن کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ پارے کی چھوٹی بوندیں سطح پر پھیلنے کے بجائے گول موتیوں کی شکل اختیار کرلیتی ہیں؟ دریا کی تہہ میں مٹی کے ذرات علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں لیکن باہر نکالے جانے پر ایک دوسرے سے کیوں چپک جاتے ہیں؟ ایک پتلی اور باریک شعری(Capillary) نلی میں رقیق کی سطح کیوں بڑھ جاتی (یا گر جاتی) ہے جیسے ہی یہ شعری نلی رقیق کی سطح کو چھوتی ہے؟ یہ تمام عمل رقیق مادے کی ایک اہم خاصیت کی وجہ سے ہوتے ہیں جسے سطحی تناو (Surface Tension) کہتے ہیں۔ رقیق کے ڈھیرمیں ایک سالمہ ہر ایک سمت سے بین سالمی قوتوں کو محسوس کرتا ہے۔ سالمہ، اسی وجہ سے کوئی نیٹ قوت محسوس نہیں کرتا۔ لیکن ان سالموں کے لیے جو رقیق کی سطح پر ہوتے ہیں کل قوت کشش رقیق کے اندرون کی سمت ہوتی ہے (شکل 5.15) جوکہ ان سالمات کی وجہ سے ہوتی جو اس کے نیچے ہوتے ہیں۔ چونکہ اس کے اوپر سالمات نہیں ہوتے۔ 

سطح کے سالمے

رقیق کی سمت نیٹ کشش


اندرونی سالمے

ہر سمت قوت کشش

582

شکل 5.13 رقیق کی سطح اور اندر سالمات پر لگنے والی قوت 

رقیق مادے اپنی سطح کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سطح پر موجود سالمے نیچے کی سمت نیٹ قوت محسوس کرتے ہیں اور ان سالموں کے مقابلے میں زیادہ توانائی رکھتے ہیں جو رقیق کے اندر ہوتے ہیں اور کوئی نیٹ قوت محسوس نہیں کرتے۔ لہٰذا رقیق مادوں کی کوشش ہوتی ہے کہ سطح پر کم سے کم سالمے ہوں۔ اگر رقیق کی سطح کو ڈھیر میں سے سالمے کھینچ کر بڑھایا جائے تو قوت کشش پر قابو پانا ہوگا۔ اس میں توانائی خرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ کسی رقیق کی سطح کا رقبہ ایک اکائی تک بڑھانے میں صرف ہونے والی توانائی سطحی توانائی کہلاتی ہے۔ اس کی جسامت Jm-2 ہے۔ سطحی تناؤ کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ یہ فی اکائی لمبائی پر لگنے والی قوت ہے جو رقیق کی سطح پر کھینچی گئی لائن کے عمودی ہوتی ہے۔ اس کو یونانی (Greek) حرف Υ (گاما) سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی جسامت (kg s-2 (Dimensions ہے اور SIاکائی میں اسے Nm-1سے ظاہر کرتے ہیں۔ رقیق کی کمترین توانائی حالت اس وقت ہوگی جب اس کی سطح کا رقبہ کم سے کم ہوگا۔ کروی شکل اس حالت کو مطمئن کرتی ہے، اسی وجہ سے پارے کی بوندیں کروی شکل میں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیشے کے تیز کناروں کو گرم کرکے ہموار بنایا جاتا ہے۔ گرم کرنے پر شیشہ پگھلتا ہے اور رقیق کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ گولائی میں شکل اختیار کرے جو کناروں کو ہموار بناتا ہے۔ اس کو شیشے کی آتشی پالشنگ (Fire Polishing) کہتے ہیں۔ 

کیپلری کے اندر رقیق کی سطح میں اتارچڑھاو سطحی تناؤ کی وجہ سے آتے ہیں۔ رقیق مادّے چیزوں کو نم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنی سطح پر ایک پتلی پرت کی شکل میں پھیل جاتے ہیں۔ گیلی مٹی کے ذرات زیادہ تر اس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ پانی کی پتلی پرت کی سطح کا رقبہ کم ہوجاتا ہے۔ یہ سطحی تناؤ ہے جو رقیق کی سطح کو کھینچنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ہموار سطح پر بوندیں کچھ پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ایسا ثقل کے اثر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن ثقل آزاد ماحول میں بوندیں مکمل گولائی میں ہوتی ہیں۔ 

رقیق میں سطحی تناؤ کی قدر (Magnitude) کا انحصار سالموں کے درمیان قوتِ کشش پر ہوتا ہے۔ جب قوت کشش زیادہ ہوتی ہے تو سطحی تناؤ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ سالموں کی حرکی توانائی کو بڑھاتا ہے۔ اور بین سالمی قوت کشش کم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا درجہ حرارت بڑھنے سے سطحی تناؤ کم ہو جاتا ہے۔ 

5.11.3 لزوجیت (Viscosity) 

یہ رقیق کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ لزوجیت بہاو میں مزاحمت کی پیمائش ہے جو سیال کی پرتوں کے درمیان اندرونی رگڑ سے اس وقت پیدا ہوتی ہے جب رقیق کے بہنے پر پرتیں ایک دوسرے پر پھسلتی ہیں۔ سالموں کے درمیان قوی بین سالمی قوتیں انہیں ایک دوسرے سے باندھے رکھتی ہیں اور پرتوں کی ایک دوسرے پر حرکت کی مزاحمت کرتی ہیں۔ 

جب کوئی رقیق شے کسی متعین سطح پر بہتی ہے تو وہ سالمات جو سطح کے براہ راست لمس میں ہوتے ہیں وہ سکونی ہوتے ہیں۔ متعین سطح سے جیسے جیسے اوپری پرتوں کا فاصلہ بڑھتا ہے ویسے ویسے ان کی رفتار بڑھتی ہے۔ اس قسم کا بہاؤ جہاں ایک پرت سے دوسری پرت کے بہاؤ کی رفتار میں لگاتار اضافہ ہوتا ہے۔ ورقی بہاو (Laminar Flow) کہلاتا ہے۔ اگر ہم بہتی ہوئی رقیق شے کی کوئی بھی پرت منتخب کریں (شکل 5.16) تو اس کے اوپرکی پرت اس کے بہاو کو تیز کرے گی اور اس کے نیچے کی پرت بہاو کو کم کرے گی۔ 

583

شکل 5.16 ورقی بہاؤ میں رفتار کی تبدیلی

اگر ایک پرت کی رفتار dz فاصلہ پر du قدر سے تبدیل کر دی جائے 

تو ڈھلان رفتار کو  584کی قدر سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ پرتوں کے بہاو کو 

قائم رکھنے کے لیے ایک قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قوت پرتوں کے رقبہ لمس اور ڈھلان رفتار کے تناسب میں ہوگی۔ یعنی 

A) F ∝A رقبہ لمس ہے) 

  584 ∝ F (جہاں رفتار584 ڈھلان ہے ، فاصلہ کے ساتھ رفتار میں تبدیلی)
584 ∝ F
584 F=η⇒

ηتناسبیت کا مستقلہ ہے اور یہ لزوجیت کا ضربیہ (Coefficient of Viscosity) کہلاتا ہے۔ لزوجیت کا ضریبہ ایک قوت ہے جب رفتار ڈھلان اکائی اور رقبہ لمس اکائی رقبہ ہو۔ لہٰذا ηلزوجیت کی پیمائش ہے۔ لزوجیت ضریبہ کی ایس آئی اکائی 1 نیوٹن سیکنڈ فی مربع میٹر (Nsm-2)= پاسکل سیکنڈ585  ہوتی ہے۔ سی جی ایس نظام میں لزوجیت ضریبہ کی اکائی پوائز (Poise) (عظیم سائنسدان جین لوئس پوائز یولی کے نام پر) ہے۔ 

586

جتنی زیادہ لزوجیت ہوگی رقیق کا بہاو اتنا ہی آہستہ ہوگا۔ ہائڈروجن بندش اور ون ڈر والز قوتیں اتنی قوی ہوتی ہیں کہ وہ بہت زیادہ لزوجیت پیدا کرسکیں۔ شیشہ ایک انتہائی لزوجی رقیق مادّہ ہے۔ یہ اتنا زیادہ لزوجی ہے کہ اس کی بہت سی خصوصیات ٹھوس سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ تاہم شیشہ کی بہاو کی صلاحیت کو پرانی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشوں کی موٹائی سے ناپا جاسکتا ہے۔ یہ اوپری حصے کی بہ نسبت تہہ میں موٹے ہوجاتے ہیں رقیق مادّوں کی لزوجیت میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ کمی واقع ہوتی ہے کیونکہ بہت زیادہ درجہ حرارت پر سالموں میں حرکی توانائی بہت زیادہ ہوتی ہے اور وہ بین سالمی قوتوں پر قابو پالیتے ہیں اور پرتوں کے درمیان ایک دوسرے پر پھیل سکتے ہیں۔ 

خلاصہ

مادّے کے ذرّات کے درمیان بین سالمی قوتیں کام کرتی ہیں۔ یہ قوتیں ان برقی سکونی قوتوں سے مختلف ہوتی ہیں جو دو مختلف چارج والے آینوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ان میں وہ قوتیں بھی شامل نہیں ہوتیں جو کسی شریک گرفت سالمے میں ایٹموں کو شریک گرفت بندش کے ذریعہ باندھے رکھتی ہیں۔ حرکی توانائی اور بین سالمی باہمی عمل کے درمیان مقابلہ مادّے کی حالت تجویز کرتا ہے۔ مادّے کی کثیر تعداد (Bulk) کی خصوصیات جیسے گیسوں کا طرز عمل۔ ٹھوس اور رقیق کی خصوصیات۔ حالت میں تبدیلی وغیرہ اجزائے ترکیبی ذرات کی توانائی اور ان کے درمیان باہمی عمل کی قسم پر منحصر ہوتی ہیں۔ کسی شے کی حالت میں تبدیلی کے ساتھ اس کی کیمیائی خصوصیات میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ بلکہ تعاملیت اس کی طبیعی حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ 

گیس کے ذرات کے درمیان باہمی عمل کی قوت برائے نام ہوتی ہے اور ان کی کیمیائی فطرت سے تقریباً مبرا ہوتی ہیں۔ قابل مشاہدہ خصوصیات جیسے دباؤ، حجم، درجہ حرارت اور کمیت کا ایک دوسرے پر انحصار گیس کے مختلف قوانین کی سمت لے جاتا ہے جو گیسوں کے تجرباتی مطالعے سے حاصل ہوتے ہیں۔ بائل کا قانون بتاتا ہے کہ آئسوتھرمل حالات (یعنی مستقل درجہ حرارت پر) پر ایک متعین مقدار کی گیس کا دباو اس کے حجم کے معکوس تناسب میں ہوگا۔ چارلس کا قانون آئیسو بارک (مستقل دباو پر) حالات میں حجم اور مطلق درجہ حرارت کا تعلق ہے۔ اس قانون کے مطابق ایک معین مقدار کی گیس کا حجم اس کے مطلق درجہ حرارت کے سیدھے تناسب میں ہوتا ہے (V ∝ T)اگر کسی گیس کی حالت کو  p1,v1  اور T1سے ظاہر کیا جائے اور وہp2,v2 اور T2کی حالت میں تبدیل ہو جائے تو ان دونوں حالتوں کے تعلق کو متحد گیس کے قانون کے ذریعہ ظاہر کیا جاسکتا ہے جس کے مطابق  587   ان میں سے کسی ایک نا معلوم متغیر کی قیمت معلوم کی جاسکتی ہے اگر باقی پانچوں کی قیمت معلوم ہو۔ آوگاڈرو کے قانون کے مطابق کہ تمام گیسوں کے یکساں حجم میں درجہ حرارت اور دباو کی یکساں حالت میں سالموں کی تعداد برابر ہوگی۔ ڈالٹن کے جزوی دباو کے قانون کے مطابق کہ غیر متعامل گیسوں کے آمیزے کا کل دباؤ ان گیسوں کے جزوی دباو کے حاصل جمع کے برابر ہوتا ہے اس طرح 588  کے گیس کے دباو حجم، درجہ حرارت اور مولوں کی تعداد کے درمیان تعلق اس کی حالت کو بیان کرتے ہیں اور یہ گیس کی حالت کی مساوات کہلاتی ہے۔ مثالی گیس (Ideal Gas) کے لیے گیس کی حالت کی مساوات pV = nRT ہوتی ہے جہاں R ایک گیس مستقلہ ہے اور اس کی قیمت کا انحصار دباؤ، حجم اور درجہ حرارت کی اکائیوں پر ہوتا ہے۔ 

بہت زیادہ دباو اور کم درجہ حرارت پر گیس کے سالموں کے درمیان بین سالمی قوتیں قوی طور پر کام کرنا شروع کر دیتی ہیں اور وہ ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں۔ مناسب درجہ حرارت اور دباو کی حالت میں گیسوں کو رقیق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ گیسوں کو کم حجم اور بہت قوی بین سالمی کشش کے علاقے میں گیس فیز کا تسلسل سمجھا جاسکتا ہے۔ رقیق کی کچھ خصوصیات، مثال کے طور پر سطحی تناو اور لزوجیت قوی بین سالمی قوت کشش کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ 

مشقیں

5.1   30°C پر 500dm3 ہوا کو 1 بار دباو پر 200dm3 تک کمپریس کرنے کے لیے کم سے کم کتنے دباو کی ضرورت ہوگی؟ 

5.2   120mL کے ایک برتن میں 35ºC  اور 1.2 بار پر کسی گیس کی کچھ مقدار ہے گیس کو دوسرے برتن میں منتقل کیا گیا جس کا حجم 35ºC پر 180mL ہے۔ اس کا دباو کیا ہوگا؟ 

5.3  حالت کی مساوات pV = nRT کا استعمال کرتے ہوئے دکھائیے کہ ایک دیے گئے درجہ حرارت پر کسی گیس کی کثافت گیس کے دباو p کے تناسب میں ہوتی ہے۔ 

5.4   0°C پر کسی گیس کے آکسائڈ کی کثافت 2 بار دباو پر اتنی ہی ہے جتنی کہ ڈائی نائٹروجن کی 5 بار پر ہوتی ہے۔ اس آکسائڈ کی سالماتی کمیت کتنی ہے؟ 

5.5    ایک گرام مثالی گیس A کا دباو 27ºC پر 2 بار پایا گیا ہے اسی درجہ حرارت پر جب 2 گرام دوسری مثالی گیس B اسی جار میں داخل کی جاتی ہے تو دباو 3 بار ہو جاتا ہے۔ ان گیسوں کی سالمی کمیتوں میں تعلق معلوم کیجیے۔ 

5.6   ایک نالی صاف کرنے والے ڈرینکس میں کچھ ذرات ایلومینیم کے ہیں جو کاسٹک سوڈا سے تعامل کرکے ڈائی ہائڈروجن گیس بناتے ہیں ایک بار اور 20ºC پر کتنی ہائڈروجن پیدا ہوگی جب 0.15g ایلومینیم تعامل کرے گا؟

5.7   3.2g میتھین اور 4.4g کاربن ڈائی آکسائڈ کا آمیزہ کتنا دباو ڈالے گا جب انھیں 27°C پر 9dm3 کے فلاسک میں رکھا جائے گا؟

5.8   0.8 بار پر H2 0.5L اور 0.7 بار پر 2.0L ڈائی آکسیجن کے آمیزے کو جب 27ºC پر 1L کے برتن میں رکھا جائے گا تو اس گیسی آمیزے کا دباو کتنا ہوگا؟ 

5.9    ایک گیسی کثافت 2 بار دباو اور 27ºC پر 5.46g/dm3 پائی گئی ہے ایس ٹی پی پر اس کی کثافت کتنی ہوگی۔ 

5.10 0.1 بار اور 546ºC پر 34.05mL فاسفورس کے بخارت کا وزن 0.0625g پایا گیا ہے۔ فاسفورس کی سالمی کمیت کیا ہے؟ 

5.11 ایک طالب علم ایک گول پیندے والے فلاسک میں 27ºC پر تعاملی آمیزہ ڈالنا بھول گیا/گئی لیکن اس نے خالی فلاسک فلیم پر رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے پائرومیٹر کی مدد سے فلاسک کا درجہ حرارت معلوم کیا جو کہ477ºC تھا۔ کتنا حصہ ہوا کا خارج ہو چکا ہے؟ 

5.12    4.0 مول گیس کا درجہ حرارت معلوم کیجیے۔ جو 3.32 بار پر 5dm3 جگہ گھیرتی ہے۔ 

589

5.13 1.4g ڈائی نائٹروجن گیس میں موجود الیکٹرانوں کی تعداد معلوم کیجیے۔ 

5.14     ایک گووگاڈرو عدد گیہوں کے دانے تقسیم کرنے میں کتنا وقت لگے گا اگر ایک سیکنڈ میں1010 دانے تقسیم کیے جاتے ہیں؟ 

5.15     8g ڈائی آکسیجن اور 4g ڈائی ہائڈروجن کو اگر 27ºC پر 1dm3 کے برتن میں رکھا جائے تو اس آمیزے کا کل دباو کتنا ہوگا؟

590

5.16   پے لوڈ کی تعریف ہٹائی گئی ہوا کی کمیت اور غبارے کی کمیت کے فرق کے طور پر کی جاتی ہے۔ ایک غبارہ جس کا نصف قطر 10m کمیت 100kg ہے 27ºC اور 1.66 بار پر ہیلیم گیس سے بھرا گیاہے پے لوڈ معلوم کیجیے۔ (ہوا کی کثافت591اور 592 

5.17    31.1°C اور 1 بار دباو پر CO2  8.8gکا حجم معلوم کیجیے۔ 593

5.18     95°C پر 2.9g کوئی گیس یکساں دباؤ پر اتنا ہی حجم گھیرتی ہے جتنا کہ 17ºC پر 0.184g ڈائی ہائڈروجن اس دباو پر گھیرتی ہے۔ گیس کی مولر کمیت کیا ہے؟ 

5.19    1 بار دباو پر ڈائی ہائڈروجن اور ڈائی آکسیجن کے آمیزے میں وزن کے اعتبار سے %20 ڈائی ہائڈروجن ہے۔ ڈائی ہائڈروجن کا جزوی دباؤ معلوم کیجیے۔ 

5.20     مقدار  594کے لیے ایس آئی اکائی کیا ہوگی؟ 

5.21     چارلس کے قانون کی اصطلاح میں واضح کیجیے کہ – 273ºC کمترین ممکنہ درجہ حرارت کیوں ہے؟ 

5.22    کاربن ڈائی آکسائڈ اور میتھین کے لیے فاصل درجہ حرارت 31.1ºC اور –81.9ºC ہیں۔ ان میں سے کس میں بین سالمی قوتیں زیادہ مضبوط ہوں گی اور کیوں؟

5.23    ون ڈر والز پیرا میٹر کی طبیعی اہمیت کی وضاحت کیجیے۔