اکائی 7
توازن
(Equilibrium)
مقاصد
اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :
• طبیعی اور کیمیائی اعمال میں شامل توازن کی حرکی فطرت کو پہچان سکیں؛
• توازن کے قانون کو بیان کر سکیں؛
• طبیعی اور کیمیائی اعمال میں شامل توازن کی خصوصیات کی وضاحت کر سکیں؛
• توازن مستقلہ کے اظہارکے لیے علامت لکھ سکیں؛
• l Kp اور Kc کے درمیان تعلق قائم کر سکیں؛
• کسی تعامل کی حالتِ توازن کو متاثر کرنے والے مختلف عوامل کی وضاحت کر سکیں؛
• اشیاء کو آرہینیس، برونسٹڈ لاری اور لیوئس تصورات کی بنیاد پر تیزاب اور اساس میں تقسیم کر سکیں؛
• آیونائزیشن مستقلوں کی اصطلاح میں تیزاب اور اساس کو قوی اور کمزور زمروں میں تقسیم کر سکیں؛
• عام آین اور الیکٹرولائٹ کے ارتکاز پر درجۂ آیونائیزیشن کے انحصار کی وضاحت کر سکیں؛
• ہائڈروجن آین کے ارتکاز کو ظاہر کرنے والے pHپیمانے کو بیان کر سکیں؛
• پانی کے آیونائزیشن اور تیزاب اور اساس کی شکل میں اس کے دوہرے کردار کی وضاحت کرسکیں؛
• پانی کے لیے آینی ماحصل (Kw)اور pKw کی وضاحت کر سکیں؛
• حاحب (Buffer) محلول کے استعمال کی قدر کر سکیں؛
• حل پذیری ماحصل مستقلہ (Solublity Product Constant) معلوم کر سکیں۔
کیمیائی توازن بے شمار حیاتیاتی اور ماحولیاتی اعمال کے لیے لازمی ہیں۔ مثال کے طور پر O2سالمات اور پروٹین ہیموگلوبن کا توازن ہمارے پھپھڑوں سے عضلات میں آکسیجن کے نقل وحمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح کے توازن جس میں COسالمے اور ہیموگلوبن شامل ہوتے ہیں COسمیت کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
جب کسی بند برتن میں رقیق کی تبخیر (Evaporation) ہوتی ہے تو نسبتاً زیادہ حرکی توانائی والے سالمے رقیق کی سطح سے نکل کر بخاراتی ہئیت میں داخل ہوجاتے ہیں اور بخاراتی ہیئت سے رقیق کے سالموں کی تعداد رقیق کی سطح سے ٹکراتی ہے اور وہ رقیق ہیئت میں ہی رہ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے بخاراتی دباؤ مستقل بنا رہتا ہے کیونکہ رقیق کو چھوڑنے والے سالمات کی تعداد اور بخارات میں سے رقیق میں واپس آنے والے سالموں کی تعداد مساوی ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان ایک توازن قائم ہو جاتا ہے۔ اس وقت ہم کہتے ہیں کہ نظام توازن کی حالت میں پہنچ گیا ہے۔ بہر حال یہ ایک سکونی توازن نہیں ہے نیز رقیق اور بخارات کی سطح کے درمیان بہت سی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ اس طرح توازن کی حالت میں تبخیر کی شرح تکثیف (Condensation) کی شرح کے برابر ہوتی ہے۔
طبیعی اعمال اور کیمیاوی تعاملات دونوں کے لیے ہی توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ متعامل کی ہیئت اور تجرباتی حالات کی بنیاد پر تعامل تیز یا سست ہو سکتے ہیں۔ ایک مخصوص درجہ حرارت پر کسی بند برتن میں جب متعاملات تعامل کر کے ماحصل بناتے ہیں تو کچھ وقت تک متعاملات کا ارتکاز لگاتار گھٹتا رہتا ہے اور ماحصل کا ارتکاز بڑھتا رہتا ہے کچھ دیر کے بعد متعاملات یا ماحصل کے ارتکاز میں کوئی تبدیلی نہیں آتی نظام کی یہ حالت حرکی توازن (Dynamic Equilibrium) کہلاتی ہے اور فارورڈ (Forward) نیز ریورس (Reverse) تعاملات کی شرح برابر ہو جاتی ہے۔ اسی حرکی توازن کی وجہ سے تعامل آمیزے میں مختلف انواع کے ارتکاز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ کسی کیمیائی تعامل کے جاری رہنے کی حد کی بنیاد پر کیمیائی توازن کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
(i) وہ تعاملات جو تقریباً اپنے اختتام تک پہنچ جاتے ہیں اور ان میں متعاملات کا ارتکاز برائے نام ہی باقی رہتا ہے۔ کچھ معاملات میں انہیں تجرباتی طور پربھی پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔
(ii) وہ تعاملات جن میں ما حصل کی بہت کم مقدار حاصل ہوتی ہے اور زیادہ تر متعامل توازن کی حالت میں غیر تبدیل شدہ ہی رہتے ہیں۔
(iii) وہ تعاملات جن میں متعامل اور ما حصل کے ارتکاز اس وقت قابل موازنہ ہوتے ہیں جب نظامِ توازن کی حالت میں ہوتا ہے۔
توازن کی حالت میں تعامل کی حد تجرباتی حالات جیسے کہ متعاملوں کے ارتکاز، درجہ حرارت وغیرہ کے اعتبار سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ صنعت اور تجربہ گاہوں میں عملیاتی حالات کی رجائیت نہایت اہم ہے تاکہ توازن مطلوبہ ما حصل کی جانب مائل ہو سکے۔ توازن کے چند اہم پہلو جن کا تعلق طبیعی اور کیمیائی اعمال سے ہے اور وہ توازن جوآبی محلول میں ہوتے ہیں اور آینی توازن (Ionic Equilibrium) کہلاتے ہیں، اس سیکشن میں زیر بحث رہیں گے۔
7.1 طبیعی اعمال میں توازن (Equilibrium In Physical Processes)
توازن کے وقت کسی نظام کی خصوصیات کو ہم بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اگر ہم کچھ طبیعی اعمال کا مشاہدہ کریں۔ سب سے زیادہ جانی پہچانی مثالیں ’’ہیئت تبدیلی کے اعمال‘‘ (Phase Transformation Process) کی ہیں مثلاً
ٹھوس
رقیق
رقیق
گیس
ٹھوس
گیس
7.1.1 ٹھوس۔رقیق توازن
(Solid-Liquid Equilibrium)
273K اور فضائی دباؤ (مواد اور اس کے ماحول کے درمیان حرارت کا تبادلہ نہیں ہے) پر ایک مکمل محجوز (Insulated)تھرمس فلاسک میں رکھا گیا پانی اور برف ایک متوازن حالت میں ہے اور یہ نظام کچھ دلچسپ خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ برف اور پانی کی کمیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور درجہ حرارت مستقل رہتا ہے۔ تاہم توازن ساکن نہیں ہوتا۔ پانی اور برف کی باؤنڈری پر شدید سرگرمی دیکھی جا سکتی ہے۔ رقیق پانی کے کچھ سالمات برف سے ٹکراتے ہیں اور وہیں چپک جاتے ہیں اور برف کے کچھ سالمات پانی میں چلے جاتے ہیں۔ پانی اور برف کی کمیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی کیونکہ سالموں کی برف سے پانی میں تبدیلی کی شرح اور واپس سالموں کی پانی سے برف میں منتقلی کی شرح فضائی دباؤ اور 273Kپربرابرہوتی ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ پانی اور برف ایک خاص درجہ حرارت اور دباؤ پر ہی توازن میں ہوتے ہیں۔ فضائی دباؤ پر کسی بھی خالص شے کا وہ درجہ حرارت جس پر ٹھوس اور رقیق حالت توازن میں ہوں اس شے کا عام نقطہ گداخت (Melting Point) یا نقطہ انجماد (Freezing Point) کہلاتا ہے۔‘‘ یہاں نظام حرکی توازن میں ہوتا ہے اور ہم مندرجہ ذیل نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔
(i) دونوں مخالف اعمال بیک وقت ہو رہے ہیں۔
(ii) دونوں اعمال کی شرح ایک ہی ہے تاکہ برف اور پانی کی مقدار مستقل رہے۔
7.1.2 رقیق بخارات توازن (Liquid-Vapour Equilibrium)
اس توازن کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال لے سکتے ہیں جس میں ایک شفاف باکس پار ے سے بھری ہوئی U-ٹیوب (مینومیٹر) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک خشک کنندہ عامل جیسے کہ نابیدہ کیلشیم کلورائڈ (یا فاسفورس پینٹاآکسائڈ) کو کچھ گھنٹوں کے لیے باکس میں رکھ دیا جاتا ہے۔ خشک کنندہ عامل کو باکس کو ایک سمت ترچھا کر کے نکال لینے کے فوراً بعد ایک واچ گلاس (یا پیٹری ڈش) پانی کے ساتھ باکس کے اندر تیزی سے رکھ دیا جاتا ہے ہم یہ دیکھیں گے کہ مینومیٹر کے دائیں بازو میں پارے کی سطح آہستہ آہستہ اوپر اٹھتی ہے اور آخیر میں ایک مقام پر مستقل ہو جاتی ہے، یعنی کہ باکس کے اندر دباؤ بڑھتا اور ایک مستقل قدر تک پہنچ جاتا ہے۔ واچ گلاس میں پانی کی سطح بھی کم ہوجاتی ہے(شکل 7.1 )۔ شروع میں باکس کے اندر بخارات نہیں تھے (یا بہت کم تھے)۔ پانی جیسے ہی تبخیر ہوا باکس کے اندر دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ باکس کے اندر پانی کے سالمات گیس ہیئت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تبخیر کی شرح مستقل ہو جاتی ہے۔ تاہم، دباؤ میں اضافہ کی شرح وقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ بخارات کی پانی میں تکثیف ہے۔ آخر میں ایک توازن کی حالت آجاتی ہے جہاں کسی قسم کی کوئی تبخیر نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ متوازن مقام پر پہنچنے تک گیسی حالت سے مائع (رقیق)حالت میں تبدیل ہونے واے پانی کے سالمات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی کہ؛
حالتِ توازن میں دیے گئے درجہ حرارت پر پانی کے سالمات کے ذریعہ ڈالا گیا دباؤ مستقل رہتا ہے اور یہ پانی کا متوازن ابخراتی دباؤ (یاصرف پانی کا ابخراتی دباؤ) کہلاتا ہے پانی کا ابخراتی دباؤ درجہ حرارت کے ساتھ بڑھتا ہے۔ اگر مندرجہ بالا تجربہ میتھائل الکوحل، ایسی ٹون اور ایتھر کے ساتھ دہرایا جائے تو یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی درجہ حرارت پر مختلف رقیق کے متوازن بخاراتی دباؤ مختلف ہوتے ہیں، اور وہ رقیق شے جس کا بخاراتی دباؤ زیادہ ہوتا ہے زیادہ طیران پذیر (Volatile) ہوتی ہے اور اس کا نقطہ جوش کم ہوتا ہے۔

پانی کی کوڈ نابیدہ کیلشیم کلورائڈ
شکل 7.1 مستقل درجہ حرارت پر پانی کے متوازن ابخرات دباؤ کی پیمائش
اگر ہم تین واچ گلاسوں میں علیحدہ علیحدہ 1mL ایسیٹون، ایتھائل الکوحل اور پانی لے کر ہوا میں کھلا رکھ دیں اور اس تجربہ کو رقیق کے مختلف حجم کے ساتھ نسبتاً گرم کمرے میں رکھ کر دہرائیں تو یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر حالت میں رقیق سے آخر کار غائب ہو گئی ہے اور مکمل تبخیر میں لگنے والے وقت کا انحصار (i) رقیق کی فطرت، (ii) رقیق کی مقدار اور (iii) درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ جب واچ گلاس فضا میں کھلی ہوئی رکھی ہے تو، تبخیر کی شرح مستقل رہتی ہے لیکن سالمات کمرے کے ایک بڑے حجم میں منتشر ہوجاتے ہیں نتیجے کے طور پر بخارات کی رقیق میں تکثیف کی شرح تبخیر کی شرح سے بہت کم ہوتی ہے۔ یہ کھلے ہوئے نظام ہیں اور کھلے ہوئے نظاموں میں توازن پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔
ایک بند برتن میں 100ºC اور فضائی دباؤ (1.013بار) پر پانی اور ابخرات متوازن حالت میں ہیں۔ پانی کا نقطہ جوش 1.013بار دباؤ پر 100ºCہے۔ کسی بھی خالص رقیق کے لیے فضائی دباؤ (1.013 بار) پر وہ درجہ حرارت جس پر رقیق اور بخارات متوازن ہوں اس رقیق کا نقطہ جوش کہلاتا ہے۔یہ فضائی دباؤ پر منحصر ہوتا ہے۔ رقیق کے نقطہ جوش مقام کی اونچائی پر منحصر ہوتے ہیں۔ بلند مقامات پر نقطہ جوش کم ہوجاتے ہیں۔
7.1.3 ٹھوس بخارات توازن (Solid – Vapour Equilibrium)
آیئے اب ہم ایسے نظام کا مطالعہ کریں جہاں ٹھوس اشیاکی بخارات میں تصعید ہو جاتی ہے۔ اگر ہم ٹھوس آیوڈین کو ایک بند برتن میں رکھ دیں، تو کچھ دیر بعد یہ برتن وائلٹ بخارات سے بھر جائے گا اور رنگ کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی واقع ہوگی۔ کچھ وقت کے بعد رنگ کی شدت مستقل ہوجائے گی اور اس وقت توازن قائم ہو جائے گا۔ لہٰذا ٹھوس آیوڈین کی تصعید سے آیوڈین کے بخارات حاصل ہوتے ہیں اور آیوڈین کے بخارات تکثیف کے بعد ٹھوس آیوڈین دیتے ہیں۔ اس توازن کو مندرجہ ذیل طریقہ سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
(ٹھوس) 12
(بخارات) I2
دوسری مثالیں جو اس طرح کا توازن دکھاتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(بخارات) کا فور
کا فور (ٹھوس)
(بخارات)
(ٹھوس) NH4C1
7.1.4 رقیق میں ٹھوس یا گیس کے افتراق کا توازن
(Equilibrium Involving Dissolution of Solid or Gases in Liquids)
رقیق میں ٹھوس (Solids in Liquids)
ہمارا اپنا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ ہم کمرے کے درجہ حرارت پر پانی کی دی ہوئی مقدار میں نمک یا چینی کی ایک محدود مقدار ہی گھول سکتے ہیں۔ اگر ہم زیادہ درجہ حرارت پر چینی گھول کر ایک گاڑھا گھول تیار کریں تو محلول کو کمرہ کے درجہ حرارت تک ٹھنڈا کرنے پر اس میں چینی کے قلم علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ ایک درجہ حرارت پر جب اور زیادہ منحل (Solute) حل نہیں ہو سکتا تو ہم اسے سیر شدہ محلول (Saturated Solution) کہتے ہیں۔ سیرشدہ محلول میں منحل کے ارتکاز کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ سیر شدہ محلول میں ٹھوس حالت میں منحل کے سالمات اور محلول کے درمیان ایک حرکی توازن ہوتا ہے۔
چینی (محلول)
چینی (ٹھوس)اور
چینی کے حل ہونے کی شرح = چینی کے قلماؤ کی شرح
دونوں شرحوں کی مساویت اور توازن کی حرکی فطرت کو تابکار چینی کی مدد سے ثابت کیا گیا ہے۔ اگر ہم غیر تابکار چینی کے محلول میں کچھ تابکار چینی ڈال دیں، تو کچھ دیر بعد محلول اور ٹھوس چینی میں تابکاری کا عمل دیکھنے میں آئے گا۔ ابتدا میں محلول میں تابکار چینی کے سالمے نہیں تھے لیکن توازن کی حرکی فطرت کی وجہ سے دونوں ہئیتوں میں تابکار اور غیر تابکار چینی کے سالموں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ محلول میں تابکار اور غیر تابکار سالموں کا تناسب اس وقت تک بڑھتا ہے جب تک کہ ایک مستقل مقدار حاصل نہ ہو جائے۔
رقیق میں گیسیں (Gases in Liquids)
جب سوڈا واٹر کی بوتل کھولی جاتی ہے تو اس میں گھلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کی کچھ مقدار تیزی سے باہر نکلتی ہے۔یہ عمل مختلف دباؤ پر کاربن ڈائی آکسائڈ کی حل پذیری میں فرق کی وجہ سے نظر آتا ہے۔ دباؤ کی حالت میں گیسی حالت میں سالمات اور محلول میں حل شدہ سالمات کے درمیان توازن پایا جاتا ہے؛یعنی؛
(محلول میں) CO2
(گیس)CO2
یہ توازن ہنری کے قانون کے تحت ہوتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کسی بھی درجہ حرارت پر ایک دی ہوئی مقدار کے محلل میں گھلی ہوئی گیس کی کمیت محلل کے اوپر گیس کے دباؤ کے تناسب میں ہوتی ہے۔ یہ مقدار درجہ حرارت بڑھنے پر گھٹتی ہے۔ سوڈا واٹر کی بوتل کو دباؤ کے تحت اس وقت سیل کیا جاتا ہے جب پانی میں اس کی حل پذیری زیادہ ہوتی ہے۔ جیسے ہی بوتل کو کھولا جاتا ہے۔ گھلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ گیس نکل کر ایک نئے توازن کی حالت کو پہنچتی ہے جو کم دباؤ یعنی اس کے فضا میں جزوی دباؤ کے لیے لازمی ہوتا ہے۔ اس لیے بوتل کے سوڈا واٹر کو جب ہوا میں کچھ دیر کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ بے لطف ہو جاتی ہے۔ یہ تعمیم کیا جاسکتا ہے کہ؛
(i) ٹھوس
رقیق توازن کے لیے 1 فضائی دباو (بار 1.013) پر صرف ایک ہی درجہ حرارت (نقطہ گداخت) ہوتا ہے جہاں دونوں ہیئت بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ اگر اطراف سے حرارت کا تبادلہ نہ ہو تو دونوں ہیئتوں کی کمیت مستقل رہتی ہے۔
(ii) رقیق
بخارات توازن میں، ایک دیے گئے درجہ حرارت پر بخارات کا دباؤمستقل رہتا ہے۔
(iii) ٹھوس کے رقیق میں تحلیل ہونے پر دیے گئے درجہ حرارت پر حل پذیری مستقل ہوتی ہے
(iv) رقیق میں گیسوں کے تحلیل ہونے کے لیے، رقیق میں گیس کا ارتکاز رقیق کے اوپر گیس کے دباؤ (ارتکاز) کے تناسب میں ہوتا ہے۔ ان مشاہدات کو جدول 7.1 میں دکھایا گیا ہے۔
جدول 7.1 طبیعی توازن کی کچھ اہم خصوصیات
| نتیجہ | عمل |
| دیے گئے درجہ حرارت پر مستقل ہوتا ہے PH2O | رقیق ⇔بخارات
H2O(1) ⇔ H2O (g)
|
| مستقل دباؤ پر نقطہ گداخت معین ہوتا ہے | ٹھوس ⇔ رقیق
H2O(1) ⇔ H2O (g)
|
| دیے گئے درجہ حرارت پر محلول میں منحل کا ارتکاز مستقل ہوتا ہے | منحل (ٹھوس)⇔ منحل (محلول)
چینی (محلل)⇔چینی (ٹھوس)
|
| دیے گئے درجہ حرارت پر محلول میں منحل کا ارتکاز مستقل ہوتا ہے | گیس (گیس)⇔گیس (آبی)
CO2 (گیس) ⇔ CO2(آبی)
|
7.1.5 طبیعی اعمال میں ہونے والے توازن کی عام خصوصیات (General Characteristics of Equilibria Involving Physical Processes)
ان طبیعی اعمال کے نظام میں جن پر اوپر بحث کی گئی ہے، توازن کے وقت مندرجہ ذیل عام خصوصیات ہوتی ہیں:
(i) ایک دیے گئے درجہ حرارت پر توازن صرف بند نظام میں ممکن ہے۔
(ii) دونوں متضاد اعمال یکساں شرح پر واقع ہوتے ہیں اور اس وقت ایک حرکی لیکن مستحکم حالت ہوتی ہے۔
(iii) نظام کی تمام قابل پیمائش خصوصیات مستقل رہتی ہیں۔
(iv) جب کسی طبیعی عمل میں توازن قائم ہو جاتا ہے، تو دیے گئے درجہ حرارت پر اس کے کسی ایک پیرا میٹر کی قدر مستقل ہوتی ہے۔ جدول 7.1 میں ایسی مقداروں کو دکھایا گیا ہے۔
(v) کس بھی مقام پر ایسی مقداروں کی وسعت اس حد کو ظاہر کرتی ہے جہاں تک وہ تعامل توازن تک پہنچنے سے پہلے جاتی ہے۔
7.2 کیمیائی اعمال میں توازن۔ حرکی توازن
(Equilibrium In Chemical Processes – Dynamic Equilibrium)
طبیعی نظام کے مماثل کیمیائی تعاملات بھی توازن کی حالت حاصل کرتے ہیں۔ یہ تعاملات بھی پیش رفت (Forward) اور پُشت رفت (Bakword) ہو سکتے ہیں۔ جب پیش رفت اور پشت رفت تعامل کی شرح برابر ہو جاتی ہے، تو متعامل اور ماحصل کی مقداریں مستقل رہتی ہیں۔ یہ کیمیاوی توازن کی حالت ہوتی ہے۔ اس توازن کی فطرت حرکی ہوتی ہے کیونکہ اس میں ایک پیش رفت تعامل ہوتا ہے جس میں متعامل ما حصل دیتا ہے اور ایک رجعتی (Reverse) تعامل ہوتا ہے جس میں ما حصل ابتدائی متعامل دیتا ہے۔
اس کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے آئیے ہم ایک رجعتی تعامل (Reversible Reaction) کی عام مثال لیتے ہیں۔
A + B
C + D
وقت گزرنے کے ساتھ ماحصل C اور D کی مقدارمیں اضافہ ہوتا ہے اور متعامل A اور B کی مقداروں میں کمی آتی ہے (شکل 7.2)۔ اس کی وجہ سے پیش رفت تعامل کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے اور پشت رفت تعامل کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
دو تعاملات ایک ہی شرح پر واقع ہوتے ہیں اور نظام توازن کی حالت کو پہنچ جاتا ہے۔
اس طرح، تعامل اس وقت بھی توازن کی حالت کو پہنچے گا جب ہم صرف C اور D سے تعامل کی شروعات کریں اور ابتدا میںA اور B موجود نہ ہوں، کیونکہ توازن کسی بھی سمت سے حاصل ہو سکتا ہے۔

شکل 7.2 کیمیائی توازن کا حصول
حرکی توازن- ایک طالب علم کی سرگرمی (Dynamic Equilibrium – A Student’s Activity)
توازن، خواہ وہ طبیعی نظام میں ہو جو یا کیمیائی نظام میں، فطرتاً ہمیشہ حرکی ہوتا ہے اس کو تابکار ہم جاکے استعمال کے ذریعہ دکھایا جا سکتا ہے۔ یہ اسکول کی تجربہ گاہ میں ممکن نہیں ہے۔ تاہم مندرجہ ذیل سرگرمی کے ذریعہ اسے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ سرگرمی 5 یا6 طالب علموں کی ایک جماعت کے ذریعہ کی جا سکتی ہے۔
100mL والے دو پیمائشی سلنڈر (ان پر 1 اور 2 لکھ دیجیے) اور 30cm لمبائی کی دو کانچ کی نلیاں لیجیے۔ دونوں نلیوں کا نصف قطر یا تو برابر ہو یا 3-5mmکے فرق سے ہو سکتا ہے۔ پیمائشی سلنڈر 1 کو رنگین پانی سے تقریباً آدھا بھردیجیے (اس کے لیے آپ پانی میں چند دانے پوٹاشیم پر میگنیٹ کے ڈال سکتے ہیں) اور دوسرے پیمائشی سلنڈر نمبر 2 کو خالی رکھیے۔
ایک نلی کو سلنڈر 1 میں اور دوسری کو سلنڈر 2 میں رکھیے۔ ایک ٹیوب کو سلنڈر 1 میں ڈبایئے انگلی سے اس کے اوپری سرے کو بند کیجیے اور اس میں بھری ہوئی رنگین رقیق شے کو سلنڈر 2 کے نچلے حصے میں منتقل کر دیجیے۔ سلنڈر 2 میں رکھی ہوئی نلی کا استعمال کرتے ہوئے سلنڈر 2 سے رنگین پانی اسی طرح سلنڈر 1 میں منتقل کیجیے۔ اس طریقے سے دونوں گلاس کی نلیوں کو استعمال کرتے ہوئے رنگین پانی کو سلنڈر 1 سے سلنڈر 2 اور سلنڈر 2 سے سلنڈر 1 میں منتقل کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ دیکھیں کہ دونوں سلنڈروں میں رنگین پانی کی سطح مستقل ہو گئی ہے۔
اگر آپ دونوں سلنڈروں کے رنگین پانی کو اسی طرح ادل بدل کرتے رہیں تو دونوں سلنڈروں میں رنگین پانی کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگر ہم رنگین پانی کی ’سطح‘ کو متعامل اور ماحصل کے ’ارتکاز ‘کے مماثل مان لیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ تبادلے کا عمل جو سطح کی استقامت کے بعد بھی جاری رہتا ہے عمل کی حرکی فطرت کا مظہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اس تجربہ کو دو مختلف قطر کی نلیوں کے ساتھ دہرائیں تو ہم دیکھیں گے کہ دونوں سلنڈروں میں توازن کے وقت رنگین پانی کی سطح مختلف ہے۔ دو سلنڈروں کی سطح میں فرق کے لیے قطر کس حد تک ذمہ دار ہوتے ہیں؟ خالی سلنڈر 2 اس بات کا مظہر ہے کہ ابتدا میں کوئی ما حصل نہیں تھا۔

شکل 7.3 توازن کی حرکی فطرت کا مظاہرہ (a) ابتدائی حالت (b) اختتامی حالت جب توازن حاصل ہو چکا ہے۔
کیمیائی توازن کی حرکی فطرت کو امونیا کی ہیبر پراسیس کے ذریعہ تالیف کی مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ تجربات کے ایک سلسلے میں ہیبر نے معلوم مقدار میں ڈائی نائٹروجن اور ڈائی ہائڈروجن کو بہت زیادہ درجہ حرارت اور دباؤ پر رکھ کر تجربات کی شروعات کی اور مقررہ وقفہ اوقات پرامونیا کی دستیاب مقدار معلوم کی۔ انہوں نے غیر تعامل شدہ ڈائی ہائڈروجن اور ڈائی نائٹروجن کی مقدار معلوم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ شکل 7.4 دکھاتی ہے کہ کچھ وقفہ کے بعد آمیزے کی ترکیب مستقل رہتی ہے حالانکہ کچھ متعامل ابھی بھی موجود ہیں۔
(متعامل )ڈائی ہائڈروجن
(متعامل) ڈائی نائٹروجن
(ماحصل) امونیا
وقت
مولر ارتکاز

شکل7.4تعامل
کے لیے توازن کا اظہار
ترکیب میں یہ استقامت ظاہر کرنی ہے کہ تعامل اپنے توازن پر پہنچ گیا ہے۔ تعامل کی حرکی فطرت کو سمجھنے کے لیے امونیا کی تالیف بالکل ایسے ہی حالات (جزوی دباؤ اور درجہ حرارت کے) سے شروع کی گئی لیکن H2کی جگہ D2 (ڈیوٹیریم) استعمال کی گئی۔ تعاملی آمیزہ H2 یاD2 سے شروع ہو کر اسی ترکیب کے ساتھ توازن کو پہنچتا ہے سوائے اس کے کہH2 اورNH3 کی جگہ D2 اور N پائے جاتے ہیں۔ توازن قائم ہونے کے بعد یہ دونوں آمیزے (H2، N2،NH3 اور ND2 ، N2، D2) ایک ساتھ ملا کر کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ بعد میں جب اس آمیزے کا تجزیہ کیا گیا تو یہ پایا کہ امونیا کی مقدار اتنی ہی ہے جتنی کہ پہلے تھی۔ تاہم جب اس آمیزے کا ماس اسپیکٹرو میٹر کے ذریعہ جائزہ لیا گیا تو دیکھا گیا کہ امونیا اور امونیا کی ڈیوٹیریم والی قسمیں (NHD2، NH2D، NH3 اورND2 ) اور ڈائی ہائڈروجن اور اس کی ڈیوٹریٹڈ (Deutrated) قسمیں (HD، H2 اور D2) موجو د ہیں۔ اس طرح کوئی بھی یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ سالمات میں H اور D کی کش مکش آمیزہ میں تعامل کے مسلسل پیش رفت اور پشت رفت تعاملات کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ اگر تعامل اسی وقت رک جاتا جب توازن قائم ہو چکا تھا تو اس طرح آئسوٹوپس کی آمیزش نہ ہوتی۔
امونیا کی تیاری میں آئسوٹوپس (ڈیوٹیریم) کا استعمال واضح طور پر بتاتا ہے کہ ’کیمیائی تعاملات ایک حرکی توازن کی حالت کو پہنچتے ہیں جس میں پیش رفت اور پُشت رفت تعاملات کی شرح برابر ہوتی ہے اور ترکیب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔‘
توازن دونوں سمتوں سے حاصل ہو سکتا ہے خواہ ہم H2گیس اور N2 گیس لے کر NH3 حاصل کریں یا NH3 گیس لے کر اس کو N2 گیس اور H2 گیس میں تحلیل کریں۔

اسی طرح آیئے ہم تعامل
پر غور کرتے ہیں۔ اگر ہم شروعات H2 اور I2 کی یکساں مقداروں سے کرتے ہیں تو تعامل آگے کی سمت چلے گا اور H2 اور I2 کی مقداریں کم ہوں گی جبکہ HI کی مقدار میں اضافہ ہوگا، جب تک کہ یہ سب توازن کے وقت مستقل نہ ہو جائیں (شکل 7.5)۔ اگر H اور I کی کل تعداد ایک دئیے ہوئے حجم میں برابر ہے تو بالکل ایسا ہی متوازن آمیزہ حاصل ہوگا خواہ ہم اسے خالص متعامل سے شروع کریں یا خالص ما حصل سے۔

شکل 7.5 تعامل
یں کیمیائی توازن دونوں سمتوں سے حاصل ہو سکتا ہے۔
7.3 کیمیائی توازن کا قانون اور توازن مستقلہ (Law Of Chemical Equilibrium And Equilibrium Constant)
توازن کی حالت میں متعامل اور ماحصل کا آمیزہ توازن آمیزہ (Equilibrium Mixture) کہلاتا ہے۔ اس حصہ میں ہم توازن آمیزہ کی ترکیب سے متعلق اہم سوالات کو موضوع بنائیں گے۔ توازن آمیزے میں متعامل اور ماحصل کے ارتکاز کے درمیان کیا تعلق ہے؟ ابتدائی ارتکاز سے ہم توازن ارتکاز کیسے معلوم کر سکتے ہیں؟ توازن آمیزے کی ترکیب کو بدلنے کے لیے ہم کون کون سے عوامل کو کام میں لا سکتے ہیں؟ آخری سوال خاص طور پر اس وقت اہم ہے کہ جب ہم صنعتی کیمیکل جیسے CaO، NH3، H2 وغیرہ کی تالیف کے لیے حالات کا انتخاب کرتے ہیں۔
ان سوالات کا جواب دینے کے لیے آیئے ہم ایک عمومی رجعتی تعامل پر غور کرتے ہیں۔
A + B
C + D
جہاں متوازن کیمیائی مساوات میں A اور B متعامل اور C اور D ماحصل ہیں۔ بہت سے رجعتی تعاملات پر کیے گئے تجرباتی مطالعہ کی بنیاد پر ناروے کے کیمیا داں کیٹو میکسی مِلن گلبرگ اور پیٹر واگ نے 1864 میں یہ تجویز پیش کی کہ ایک توازن آمیزے میں ارتکاز مندرجہ ذیل توازن مساوات کے مطابق تعلق رکھتے ہیں۔
![]()
جہاںKc ایک توازن مستقلہ ہے اور دائیں سمت کی علامات توازن مستقلہ علامات کہلاتی ہیں۔
توازن مساوات ’عمل کمیت کا کلیہ‘ (Law of Mass Action) بھی کہلاتی ہے کیونکہ علم کیمیا کے ابتدائی ایام میں ارتکاز ’’سرگرم کمیت‘‘ (Active Mass) کہلاتا تھا۔ ان کے کام کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم 731K پر ایک سیل بند برتن میں H2 اورI2 گیسوں کے درمیان تعامل کی مثا ل لیتے ہیں۔

تجربات کے چھ سیٹ متبدل ابتدائی حالات میں انجام دیے گئے پہلے چار تجربات (1، 2، 3) کی شروعات H2 اورI2 گیسوں کو سیل بند برتنوں میں لے کر اور باقی دو تجربات (5 اور 6)میں صرف HI لے کر کی گئی۔ تجربات 1 ، 2 ،3 ،4 میںH2اور / یا I2 کی مختلف مقداریں لی گئیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دیکھا گیا کہ کاسنی رنگ کی شدت قائم رہتی ہے اور توازن قائم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تجربات 5 اور 6 میں مختلف سمت سے توازن قائم ہوتا ہے۔
جدول 7.2 H2، I2 اور HI کی ابتدائی اور توازن مقداریں
| mol L-1توازن ارتکاز | ابتدائی ارتکاز / mol L-1 | تجر بہ نمبر | ||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| [ HI (g) ] | [ I2(g)] | [ H2 (g)] | [HI(g)] | [I2(g)] | [H2 (g)] | |||
| 2.52 * 10-2 | 0.12 * 10-2 | 1014 * 10-2 | 0 | 1038*10-2 | 2.4*10-2 | 1 | ||
| 2.96 * 10-2 | 0.92 * 10-2 | 0.92 * 10-2 | 0 | 1.68 * 10-2 | 2.4 * 10-2 | 2 | ||
| 3.34 * 10-2 | 0.31 * 10-2 | 0.77 * 10-2 | 0 | 1.98 * 10-2 | 2.44 * 10-2 | 3 | ||
| 3.08 * 10-2 | 0.22 * 10-2 | 0.92 * 10-2 | 0 | 1.76 * 10-2 | 2.46 * 10-2 | 4 | ||
| 2.35 * 10-2 | 0.345 * 10-2 | 0.345 * 10-2 | 3.04 * 10-2 |
0 | 0 | 5 | ||
| 5.86 * 10-2 | 0.86 * 10-2 | 0.86 * 10-2 | 7.58 * 10-2 | 0 | 0 | 6. | ||
تجربات کے ان چھ سیٹوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار جدول 7.2 میں دکھائے گئے ہیں۔
تجربات 1 ، 2 ،3 اور 4 سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ڈائی ہائڈروجن کے تعامل کرنے والے مولوںکی تعداد = آیوڈین کے تعامل کرنے والے مولوں کی تعداد ½ْٓ (HI مولوں کی تعداد) تجربات 5 اور 6 بھی دکھاتے ہیں کہ
![]()
مندرجہ بالا حقائق جانتے ہوئے متعامل اور ماحصل کے ارتکاز میں تعلق قائم کرنے کے لیے مختلف اتحاد (Combination) بنائے جا سکتے ہیں۔ آیئے ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔
![]()
جدول 7.3 سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اگر ہم متعامل اور ماحصل کے لیے توازن مستقلوں کی قیمت رکھ دیں تو مندرجہ بالا علامت مستقل سے بہت دور ہے۔ تاہم اگر ہم مندرجہ ذیل علامت دیکھیں تو
![]()
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ علامت تمام چھ سیٹوں میں مستقل قیمت دکھاتی ہے۔ (جیسا کہ جدول 7.3 میں دکھایا گیا ہے)۔
جدول 7.3تعامل
کے لیے متعامل کے توازن ارتکاز کو ظاہر کرنے والی علامت
| [ HI (g)]eq2 [ H2 (g)]eq [I2 (g)]eq |
[ HI(g)]eq [ H2 (g)eq [ I2 (g)]eq |
تجر بہ نمبر |
| 46.4 | 1840 | 1 |
| 47.6 | 1610 | 2 |
| 46.7 | 1400 | 3 |
| 46.9 | 1520 | 4 |
| 46.4 | 1970 | 5 |
| 46.4 | 790 | 6 |
یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس علامت میں متعامل اور ماحصل کی ارتکاز کی قوت دراصل کیمیائی تعامل کے لیے مساوات میں تناسب پیمائی کی شرح (Stoichiometric Coefficient) ہیں لہٰذا تعامل
کے لیے مساوات 7.1 کے مطابق توازن مستقلہ Kc اس طرح لکھا جا سکتا ہے۔
عام طور پر زیریں علامت 'eq' (توازن کے لیے استعمال ہوتی ہے) کو ارتکاز کی اصطلاح سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ یہ مان کر چلتے ہیں کہ علامت میں Kcکے لیے ارتکاز توازن قدریں ہیں۔ لہٰذا ہم لکھتے ہیں۔
![]()
زیریں علامت 'c' ظاہر کرتا ہے کہ Kcکوmol L-1 کے ارتکاز میں ظاہر کیا گیا ہے۔
’’کسی دیے ہوئے درجہ حرارت پر ایک متوازن کیمیائی مساوات میں تعامل کے ماحصل کے اپنے تناسب پیمائی ضربیہ تک اٹھائے گئے ارتکاز کے ماحصل کو اپنے متعلقہ تناسب پیمائی ضربیہ تک اٹھائے گئے متعامل کے ارتکاز کے ما حصل سے تقسیم کرنے پر ایک مستقل قدر حاصل ہوتی ہے یہ توازن کا قانون یا کیمیائی توازن کا قانون کہلاتا ہے۔
ایک عام تعامل
a A + b B
c C + d D
کے لیے توازن مستقلے کو اس طرح ظاہر کریں گے
![]()
جہاں [C] ، [B] ،[A] اور [D] متعامل اور ماحصل کے توازن ارتکاز ہیں مندرجہ ذیل تعامل
کے لیے توازن مستقلہ اس طرح لکھا جائے گا
![]()
مختلف اشیا کا مولر ارتکاز مربع بریکٹ میں بند کر کے ظاہر کیا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر دکھایا گیا ہے۔ توازن مستقلہ کے لیے جب ہم علامت لکھتے ہیں تو حالت کے لیے علامات (S. l. g) کو عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
آیئے ہم تعامل
![]()
کے لیے توازن مستقلہ ایسے لکھیں:
![]()
اسی درجہ حرارت پر رجعتی تعامل
کے لیے توازن مستقلہ
![]()
اس طرح
![]()
’’پشت رفت تعامل کے لیے توازن مستقلہ پیش رفت تعامل کے توازن مستقلے کے مقلوب تناسب میں ہوتا ہے۔
![]()
تو مندرجہ بالا تعامل کے لیے توازن مستقلہ اس طرح دیا جا سکتا ہے:

مساوات 7.5 کو n سے ضرب کرنے پر ہمیں :
![]()
حاصل ہوتی ہے۔
لہٰذا تعامل کے لیے توازن مستقلہ
کے برابر ہوگا۔ یہ نتائج جدول 7.4 میں دکھائے گئے ہیں۔
جدول 7.4 ایک عمومی تعامل کے لیے توازن مستقلوں اور اس کے اضعاف کے مابین تعلق
| کیمیائی مساوات | توازن مستقلے |
| a A + b B ⇔ c C + D | K |
| c C + d D ⇔a A + b B | K'c = (1/Kc) |
| na A + nb B ⇔ ncC + ndD | K''c = (Knc) |
یہ قابل غور ہے کہ توازن مستقلوں Kc اورK'c کی عددی قدریں مختلف ہیں۔ یہ اہم ہے کہ توازن مستقلے کی قیمت کے اظہار کے وقت متوازن کیمیائی مساوات کی شکل کو واضح کیا جائے۔
مسئلہ7.1
500K درجہ حرارت پر [N2]اور H2 سے [NH3] بننے میں توازن کے وقت مندرجہ ذیل ارتکاز حاصل ہوتے ہیں
اور
توازن مستقلہ کی قیمت معلوم کیجیے۔
حل
تعامل
کے لیے توازن مستقلہ اس طرح لکھا جا سکتا ہے۔

مسئلہ 7.2
تعامل
کے لیے ایک سیل بند برتن 800K پر توازن کے وقت ارتکاز
پائے گئے۔ تعامل کے لیے Kcکی قیمت کیا ہوگی؟
حل
تعامل کے لیے توازن مستقلہ Kcاس طرح لکھا جا سکتا ہے

7.4 متجانس توازن (Homogeneous Equilibria)
ایک متجانس نظام میں تمام متعال اور ماحصل ایک ہی ہیئت میں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک گیسی تعامل
میں متعامل اور ما حصل ایک متجانس ہیئت میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح تعاملات،

اور
کے لیے تمام متعامل اور ماحصل متجانس محلول ہیئت (Homogeneous Solution Phase) میں ہیں اب ہم کچھ متجانس ہیئت تعاملات کے لیے توازن مستقلے دیکھیں گے
7.4.1 گیسی نظام کے لیے توازن مستقلہ
(Equilibrium Constant in Gaseous Systems)
اب تک ہم نے تعاملات کے توازن مستقلے مولر ارتکاز کی اصطلاح میں ظاہر کیے ہیں اور اس کے لیے علامت Kcکا استعمال کیا ہے۔ ان تعاملات کی لیے جن میں عام طور پر گیسیں شامل ہوتی ہیں توازن مستقلہ کو جزوی دباؤ (Partial Pressure) کی اصطلاح میں ظاہر کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔
مثالی گیس مساوات اس طرح لکھی جاتی ہے

یہاں p دباؤ Pa میں ظاہر کیا گیا ہے، n گیس کے مولوں کی تعداد ہے حجم جو کہ m3 میں ظاہر کیا گیا ہے اور T درجہ حرارت کیلون میں ہے۔ لہٰذا،mol/m3 , n/V میں ظاہر کیا گیا ارتکاز ہے۔
اگر ارتکاز mol/L یا mol/dm3 میں اور p بار میں ہے تو
p = cRT
اسے ہم اس طرح بھی لکھ سکتے ہیں: p=[gas] RT
یہاں R= 0.0831 bar litre/mol Kہے۔
مستقل درجہ حرارت پر کسی گیس کا دباؤ اس کے ارتکاز کے تناسب میں ہوتا ہے، یعنی [p ∝ [gas
تعامل کے توازن پر ہونے پر
ہم لکھ سکتے ہیں:


مزید: چونکہ

لہٰذا

اس مثال میں Kp = Kc یعنی دونوں توازن مستقلے برابر ہیں تاہم ہمیشہ ہی ایسا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر تعامل

اسی طرح ایک عام تعامل (7.14)
کے لیے

جہاں ایک متوازن کیمیائی مساوات میںΔn= (گیسی ماحصلات کے مولوں کی تعداد)۔ (گیسی متعاملوں کے مولوں کی تعداد) (یہ ضروری ہے کہ جب Kpکی قیمت معلوم کریں تو دباؤ کا اظہار بار اکائی میں ہو کیونکہ معیاری حالت 1bar ہے)۔ باب 1 سے ہم جانتے ہیں کہ
1 پاسکل، 1Nm-2=Pa اور 1 بار = 105Pa
کچھ چنندہ تعاملات کے لیے مختلف درجہ حرارت پر Kpکی قیمتیں جدول 7.5 میں دکھائی گئی ہیں۔
جدول 7.5 کچھ چنندہ تعاملات کے لیے توازن مستقلے kp
| Kp | K/درجہ حرارت | تعامل |
6.8 * 105
41 3.6 * 10-2 4.0 * 1024 2.5 * 104 0.98 47.9 1700 |
298
400
500
298
500
700
298
400
500
|
N2(g) + 3H2(g) 2NH3
2SO2(g) + O2(g) 2SO3(g) N2O4(g) 2NO2(g) |
مسئلہ 7.3
500 K پر PC15,PC13 اور C12 توازن کی حالت میں ہیں اور ان کے ارتکاز 1.59M C12،1.59M PC13 اور 1.41M PC15 ہیں تعامل
کے لیے Kcکی قیمت معلوم کیجیے۔
حل
مندرجہ بالا تعامل کے لیے توازن مستقلہ Kc اس طرح لکھا جاسکتا ہے،

مسئلہ 7.4
مندرجہ ذیل تعامل
![]()
کے لیے 800K پر Kp = 4.24ہے۔ 800K پر CO، H2، CO2 اور H2O کے توازن ارتکاز معلوم کیجیے اگر شروع میں صرف CO اور H2O کے ارتکاز 0.10M ہوں۔
حل
تعامل
![]()
کے لیے ابتدائی ارتکاز ہیں۔
0.1M 0.1M 0 0
مان لیجیے کہ ہر ایک ماحصل کے X مول بن رہے ہیں۔
توازن کے وقت
![]()
جہاں X توازن کے وقت CO2 اور H2 کی مقداریں ہیں۔ لہٰذا توازن مستقلہ کو اس طرح لکھا جا سکتا ہے۔

دودرجی مساوات ax2 + bx + c = 0 کے لیے

قدر 0.194 کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ متعامل کے ارتکاز کو بتاتی ہے جو ابتدائی ارتکاز سے زیادہ ہے۔
لہٰذا توازنی ارتکاز مندرجہ ذیل ہوں گے:

مسئلہ7.5
توازن
کے لیے توازن Kc درجہ حرارت 1069K پر 3.75X10-6 ہے۔ اس درجہ حرارت پر تعامل کے لیے Kp معلوم کیجیے؟
حل
ہم جانتے ہیں کہ
![]()
مندرجہ بالا مساوات کے لیے

7.5 غیر متجانس توازن (Heterogeneous Equilibria)
ایک سے زیادہ ہیئت والے نظاموں کے توازن غیر متجانس توازن (Heterogeneous Equilibrium) کہلاتے ہیں۔ ایک بند برتن میں ابخرات اور پانی کے درمیان توازن، غیر متجانس توازن کی مثال ہے۔
اس مثال میں ایک گیس ہیئت ہے اور دوسری رقیق ہیئت ہے۔ اس طرح ایک ٹھوس اور اس کے سیر شدہ محلول کے درمیان توازن ایک غیرمتجانس توازن ہے۔
غیر متجانس توازن میں عام طور پر خالص ٹھوس یا رقیق شامل ہوتے ہیں۔ خالص رقیق یا خالص ٹھوس والے غیر متجانس توازن کے لیے ہم توازن کے اظہار کو آسان کر سکتے ہیں کیونکہ خالص ٹھوس یا رقیق کے مولر ارتکاز مستقل ہوتے ہیں۔ (یعنی مقدار سے مبرّا ہوتے ہیں)۔ دوسرے الفاظ میں اگر شے 'X' شامل ہے تو [X(s)]اور [X(l)] مستقل ہوں گے خواہ 'X' کی مقدار کچھ بھی ہو، اس کے بر عکس [X(g)] اور [X(aq)] میں فرق ہوگا کیونکہ ایک دیے ہوئے حجم میں X کی مقدار تبدیل ہوجاتی ہے۔ آیئے ہم کیلشیم کاربونیٹ کے حراری افتراق کو لیتے ہیں جو متجانس کیمیائی توازن کی ایک دلچسپ اور اہم مثال ہے۔
![]()
تناسب پیمائی مساوات کی بنیاد پر ہم لکھ سکتے ہیں۔

چونکہ [(CaO(s] اور [(CaCO3(s] دونوں مستقل ہیں، لہٰذا، کیلشیم کاربونیٹ کے حراری افتراق کے لیے تبدیل شدہ توازن مستقلہ اس طرح ہوگا۔
![]()
توازن مستقلہ کی اکائیاں
(Units of Equilibrium Constant)
توازن مستقلہ Kc کی قدر ارتکازی ارکان کو mol/L میں تبدیل کر کے معلوم کی جا سکتی ہے اور Kpکے لیے جزوی دباؤ کو bar، kPa، Pa یا atm میں تبدیل کر کے معلوم کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں توازن مستقلہ کی اکائیاں حاصل ہوتی ہیں جن کا انحصار مولاریت یا دباؤ پر ہوتا ہے جب تک کہ شمار کنندہ اور نسب نمادونوں کے قوت نما یکساں نہ ہوں۔
مندرجہ ذیل تعاملات
کے لیے اور Kpکی کوئی اکائی نہیں ہے۔
Kcکی اکائی mol/L اور Kp کی اکائی بار ہے۔
توازن مستقلوں کو بغیر جسامت کی مقداروں کی شکل میں بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے اگر متعامل اور ماحصل کی معیاری حالتیں بتائی گئی ہوں۔ ایک خالص گیس کے لیے معیاری حالت 1bar ہے۔ لہٰذا خالص حالت میں 4bar کو اس طرح ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ 4bar/1bar=4 جو ایک غیر جسامتی (Dimensionless) عدد ہے۔ ایک منحل کے لیے معیاری حالت
مولر محلول ہے اور تمام ارتکاز اسی حوالے سے ناپے جا سکتے ہیں۔ توازن مستقلہ کی عددی قیمت منتخب معیاری حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ لہٰذا اس نظام میں Kp اور Kc دونوں ہی بغیر جسامت کی مقداریں ہیں لیکن مختلف معیاری حالتوں کی وجہ سے ان کی عددی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک خاص درجہ حرارت پر CO2 کا مستقل ارتکاز یا دباؤ (CaO(s اور (CaCO3(s کے ساتھ توازن میں ہوتا ہے۔ تجربہ کے ذریعہ یہ پایا گیا کہ 1100K پر CO2 کا دباؤ جو (CaO(s اور( CaCO3(s) کے ساتھ توازن میں ہے 2.0X105Pa ہے۔ لہٰذا 1100K پر مندرجہ بالا تعامل کا توازن مستقلہ مندرجہ ذیل ہوگا:
اسی طرح نِکل، کاربن مونو آکسائڈ اور نِکل کاربونِل (نکل کی تخلیص میں استعمال کیا گیا) کے درمیان توازن میں،
![]()
توازن مستقلہ اس طرح لکھا جا سکتا ہے،

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غیر متجانس توازن میں توازن قائم کرنے کے لیے خالص ٹھوس یا رقیق موجود ہونا چاہیے (خواہ وہ کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں)، لیکن ان کے ارتکاز یا جزوی دباؤ توازن مستقلہ کی عبادت میں ظاہر نہیں ہوتے۔ مندرجہ ذیل تعامل میں:

مسئلہ 7.6
تعامل (CO2 (g) + C (s)
2CO (g کے لیے Kp کی قدر 1000 K پر 3.0 ہے۔ اگر شروع میں Pco2 = 0.48 bar اور Pco = 0 bar اور خالص گریفائٹ موجود ہو تو CO اور CO2 کے توازن جزوی دباؤ معلوم کیجیے۔
حل
تعامل کے لیے
مان لیجیے کہ CO2کی x مقدار نے تعامل کیا، تب
![]()
ابتدائی دباؤ 0 0.48bar
توازن کے وقت

(چونکہ x کی قیمت منفی نہیں ہو سکتی لہٰذا ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں)
توازن جزوی دباؤ مندرجہ ذیل ہوں گے۔

7.6 توازن مستقلوں کے استعمال
(Applications Of Equilibrium Constants)
توازن مستقلوں کے استعمال کو سمجھنے سے پہلے آیئے ہم توازن مستقلہ کی اہم خصوصیات کا خلاصہ کرتے ہیں:
1 ۔ توازن مستقلہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب متعامل اور ماحصل کے ارتکاز اپنی حالتِ توازن کو پہنچ جاتے ہیں۔
2۔ توازن مستقلہ کی قدر متعامل اور ماحصل کے ابتدائی ارتکاز سے آزاد ہوتی ہے۔
3 ۔ توازن مستقلہ درجہ حرارت پر منحصر ہوتا ہے۔ کسی خاص تعامل کے لیے جس کا اظہار دیے ہوئے درجہ حرارت پر متوازن مساوات کے ذریعہ کیا جاتا ہے، اس کی قدر ایک منفرد اور مخصوص ہوتی ہے۔
4 ۔ پشت رفت تعامل کے لیے توازن مستقلہ کی قدر پیش رفت تعامل کے توازن مستقلہ کے مقلوب کے برابر ہوتی ہے۔
5 ۔ کسی تعامل کے لیے توازن مستقلہ K اس نظیری تعامل کے توازن مستقلہ سے تعلق رکھتا ہے جس کی مساوات اصل تعامل کو کسی چھوٹے صحیح عدد سے ضرب یا تقسیم کر کے حاصل کی جاتی ہے۔
آیئے ہم مندرجہ ذیل کے لیے توازن مستقلہ کے استعمال پر غور کرتے ہیں:
• قدر کی بنیاد پر کسی تعامل کی حد کی پیشین گوئی کرنے میں،
• تعامل کی سمت کی پیشین گوئی کرنے میں اور
• توازن ارتکاز کی تحسیب میں۔
7.6.1 تعامل کی حد کی پیشین گوئی کرنا
(Predicting the Extent of a Reaction)
کسی تعامل کے توازن مستقلہ کی عددی قدر (Numerical Value) تعامل کی حد کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن یہ قابل غور ہے کہ توازن ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا جس سے یہ اندازہ ہو کہ تعامل کی شرح کیا ہے جس پر توازن پہنچا ہے۔ Kc یا Kpکی قدر ما حصل کے ارتکاز کے براہ راست تناسب میں (جیسا کہ توازن مستقلہ کی عبادت میں شمار کنندہ سے ظاہر ہوتی ہیں ) اور متعامل کے مقلوب تناسب میں (یہ نسب نما میں ظاہر ہوتی ہیں) ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہK کی بہت زیادہ قدر ماحصل کے بہت زیادہ ارتکاز کو ظاہر کرتی ہے اور اس کے بر عکس بھی۔
توازن آمیزے کی ترکیب سے متعلق ہم مندرجہ ذیل تعمیمات قائم کر سکتے ہیں۔
• اگر Kc >103 ہے تو ماحصل متعامل پر سبقت حاصل کرلیں گے، یعنی اگر Kc بہت زیادہ ہے تو تعامل تقریباً اختتام کو پہنچے گا۔ مندرجہ ذیل مثالوں کا مطالعہ کیجیے:
(500K (a پر H2کا O2 کے ساتھ تعامل ہونے پر توازن مستقلہ بہت زیادہ ہے: Kc = 2.4 × 1047
(300K (b پر تعامل
کے لیے
ہے۔
(300K (c پر تعامل
کے لیے
ہے۔
• اگر Kc < 10–3ہو تو متعامل ماحصل پر سبقت حاصل کرلیں گے: یعنی اگر Kc کی قیمت بہت کم ہے تو تعامل آگے بڑھے گا۔ مندرجہ ذیل مثالوں کا مطالعہ کیجیے:
(500K (a پر H2O کی H2 اور O2 میں تحلیل کے لیے توازن مستقلہ بہت کم ہے: ![]()
(b)
کے لیے 298K پر
ہے
• اگر 103Kcسے 3-10 کی رینج میں ہے تو متعامل اور ماحصل دونوں کی مقداریں موجود ہوں گی۔ مندرجہ ذیل مثالیں دیکھئے:
(HI (a بنانے کے لیے H2 اور I2 کا 700K پر تعامل Kc = 57.0
(N2O2 (b کی NO2 میں تحلیل گیس حالت کے تعامل کی دوسری مثال ہے جس میں 25ºC پر 3-10×Kc = 4.64 ہے جو نہ تو بہت زیادہ ہے اور نہ بہت کم۔اس لیے توازن آمیزے میں NO2اور NO2N2O2دونوں ہی پائے جاتے ہیں۔ یہ تعمیمات مندرجہ ذیل شکل 7.6 میں ظاہر کی گئی ہیں۔
بہت زیادہ قابل نظر انداز
تعامل تقریبا اختتام تک پہنچے گا
توازن حالت میں متعامل اور ماحصل دونوں موجود ہیں
تعامل بہ مشکل ہی آگے بڑھے گا

شکل 7.6 تعامل کی حد کا Kc پر انحصار
7.6.2 تعامل کی سمت کی پیشین گوئی کرنا (Predicting the Direction of the Reaction)
توازن مستقلہ کسی دیے ہوئے تعامل کی کسی بھی سطح پر جاری رہنے والی سمت کی پیشین گوئی کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے لیے ہم تعامل خارج قسمت Reaction Quotient) Q) معلوم کرتے ہیں تعامل خارج قسمت (Qc مولر ارتکاز کے ساتھ اور Qp جزوی دباؤ کے ساتھ ) کی تعریف اسی طرح بیان کی جاتی ہے جس طرح کے توازن مستقلہ K کی کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ Qcمیں ضروری نہیں ہے کہ ارتکاز توازن قیمتیں ہوں۔ ایک عام تعامل کے لیے:

اگر Qc > Kc تو تعامل متعامل کی سمت بڑھے گا (پشت رفت تعامل)۔
اگر Qc > Kc تو تعامل ما حصل کی سمت بڑھے گا (پیش رفت تعامل)۔
اگر Qc = Kc تو تعامل آمیزہ پہلے سے ہی توازن میں ہے۔
H2 کا I2 کے ساتھ گیسی تعامل پر غور کیجیے۔
(H2(g) + I2(g) 2HI(g ؛ 700K پر Kc = 57.0 ہے۔ مان لیجیے کہ ہمارے پاس مولر ارتکاز
اور
(زیریں علامت t جو ارتکاز کی علامات کے ساتھ ہے یہ بتاتی ہے کہ ارتکاز کسی من مانے (Arbitary) وقت پر لیا گیا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ توازن میں ہو)۔
لہٰذا، تعامل کی اس اسٹیج پر تعامل خارج قسمت کو اس طرح دیا جا سکتا ہے؛

اب، اس کیس میں (Kc (57.0)، Kc(8.0) کے برابر ہے، لہٰذا
اور (HI(g کا آمیزہ توازن میں نہیں ہے: یعنی مزید H2 گیس I2 گیس سے تعامل کر کے زیادہ HI تیار کرے گی Qc = Kc ہونے تک اور ان کے ارتکاز میں کمی واقع ہوگی۔
Qc اور Kc کی قدروں کا موازنہ کرتے ہوئے تعامل خارج قسمت Qc تعامل کی سمت کی پیشین گوئی کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لہٰذا تعامل کی سمت سے متعلق ہم مندرجہ ذیل تعمیمات قائم کر سکتے ہیں:
ماحصلات متعاملات
متعاملات اور ماحصلات توازن میں
ماحصل متعاملات

شکل 7.7 تعامل کی سمت کی پیشین گوئی کرنا
• اگر Qc < Kc تعامل بائیں سے دائیں سمت جائے گا۔
• اگر Qc > Kc تو تعامل دائیں سے بائیں سمت جائے گا۔
• اگر Qc = Kc تو کوئی نیٹ تعامل نہیں ہوگا۔
مسئلہ 7.7
تعامل 2A
B+Cکے لیے Kc کی قیمت 3-10 × 2 ہے۔ ایک دیے ہوئے وقت پر توازن آمیزے کی ترکیب
ہے۔ تعامل کس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
حل
تعامل کے لیے تعامل خارج قسمت Qc اس طرح دیا جا سکتا ہے۔![]()
چونکہ
![]()
چونکہ Qc > Kc ہے لہٰذا تعامل پشت رفت ہوگا۔
7.6.3 توازن ارتکاز کی تحسیب
(Calculating Equilibrium Concentrations)
ایسے کیس میں جہاں ہمیں ابتدائی ارتکاز معلوم ہوں لیکن ہم کسی بھی توازن ارتکاز کو نہیں جانتے تو ہمیں مندرجہ ذیل اقدامات کرنے ہوں گے۔
قدم 1۔ تعامل کے لیے متوازن مساوات لکھیے
قدم 2۔ متوازن مساوات کے نیچے ایک جدول بنائیے جس میں تعامل میں حصہ لینے والے مادّوں کے لیے فہرست بنائیں جس میں :
(a) ابتدائی ارتکاز لکھے جائیں،
(b) توازن کی سمت بڑھتے وقت ارتکاز میں تبدیل لکھی جائے اور
(c) توازن ارتکاز لکھے جائیں۔
جدول بناتے وقت توازن کی سمت بڑھتے ہوئے کسی ایک متعامل کے ارتکاز (mol/L) ( کو x سے ظاہر کیجیے، اس کے بعد تعامل کی تناسب پیمائی کا استعمال کرتے ہوئے دوسرے مادّوں کے ارتکاز x کے حوالے سے معلوم کیجیے۔
قدم 3 ۔ تعامل کی توازن مساوات میں توازن ارتکاز کی قیمت رکھ کر x کی قیمت معلوم کیجیے۔ اگر آپ ایک دو درجی مساوات حل کر رہے ہیں تو ایسے ریاضیاتی حل کا انتخاب کیجیے جس کا کوئی کیمیائی مطلب ہو۔
قدم 4 ۔ x کے لیے معلوم کی گئی قیمت کی مدد سے توازن ارتکاز معلوم کیجیے۔
قدم 5۔ اپنے جوابات کی جانچ توازن مساوات میں ان نکالی گئی قیمتوں کو رکھ کر کیجیے۔
مسئلہ 7.8
N2O4 13.8g کو 400K پر 1L والے تعاملی برتن میں رکھا گیا ہے اور توازن کی حالت کو پہنچنے دیا جاتا ہے۔
(N2O4 (g)
2NO2 (g
توازن کے وقت کل دباؤ 9.15bar پایا گیا۔ توازن کے وقت Kp،Kc اور جزوی دباؤ معلوم کیجیے۔
حل
ہم جانتے ہیں کہ pV = nRT
کل حجم V) = 1 L)
N2O4کی سالماتی کمیت 92g
مولوں کی تعداد
گیس (n)
گیس مستقلہ ![]()
درجہ حرارت (400K = (T

ابتدائی دباؤ 0 4.98bar
توازن کے وقت ![]()
لہٰذا
توازن کے وقت ![]()

توازن کے وقت جزوی دباؤ

مسئلہ7.9
3.0 مول PCL5 کو 300K پر 1L والے بند تعاملی برتن میں توازن قائم کرنے کے لیے چھوڑا گیا۔ توازن کے وقت آمیزے کی ترکیب کا حساب لگایئے۔ Kc = 1.80
حل
ابتدائی ارتکاز 0 0 3.0
مان لیجیےPCI5کے X مول کا افتراق ہوا
توازن کے وقت ![]()

7.7 توازن مستقلہ K، تعامل خارج قسمت Q اور گبس توانائی G میں تعلق
(Relationship Between Equilibrium Constant K, Reaction Quotient Q And Gibbs Energy G)
کسی تعامل کے لیے Kc کی قیمت اس کی تعامل کی شرح پر منحصر نہیں ہوتی۔ تاہم جیسا کہ آپ نے باب 6 میں پڑھا ہے یہ تعامل کی حر حرکیات پر، اور خاص طور پر گیس توانائی میں تبدیلی ΔG پر براہ راست منحصر ہوتی ہے اگر:
• ΔG منفی ہے، تو تعامل از خود ہوگا اور آگے کی سمت بڑھے گا۔
• ΔG مثبت ہے، تو تعامل ازخود نہیں ہوگا۔ بلکہ رجعت پذیر تعامل کے طور پر منفی ΔG ہوگی، پیش رفت تعامل کے ما حصل متعامل میں تبدیل ہو جائیں گے۔
• ΔG صفر ہے تو تعامل نے توازن حاصل کر لیا ہے: اس مقام پر کوئی آزاد تو انائی موجود نہیں ہے جو تعامل کو آگے بڑھا سکے۔
توازن کے اس حر حرکیاتی نظریے کے لیے ایک ریاضیاتی عبارت مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کی جا سکتی ہے:
جہاں Gθ معیار گبس توانائی ہے
توانائی کی حالت میں جب ΔG = 0 اور Q = Kc ہوگا تب مساوات 7.21 اس طرح ہوگی۔

دونوں جانب کااینٹی لوگارتم لینے کے بعد ہمیں حاصل ہوتا ہے،
![]()
لہٰذا مساوات (7.23)کا استعمال کرتے ہوئے، تعامل کی ازخود کاری کو ΔGθکی اصطلاح میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
• اگر ΔG0 < 0، تو ΔGθ/RT مثبت ہوگا اور
ہوگا جو K >1 بنائے گا۔ جس کا مطلب ہے کہ از خود تعامل یا وہ تعامل جو اس حد تک پیش رفت ہوگا کہ ما حصل کی مقدار کافی ہوگی۔
• اگر 0 < ΔGθ، تو
منفی ہوگا اور
یعنی K < 1جس کا مطلب ہے کہ غیر ازخود تعامل یا وہ تعامل جو آگے کی سمت ہوگا اتنا کم ہوگا کہ نہایت کم مقدار میں ماحصل تیار ہوگا۔
مسئلہ 7.10
گلائیکولسس (Glycolysis) میں گلوکوز کے فاسفوریلیشن (Phosphorylation) کے لیے ΔGθ کی قیمت 13.8kJ/mol ہے۔ 298K پر Kc کی قیمت معلوم کیجیے۔
حل
![]()
اور یہ بھی کہ![]()
تو پھر ![]()

مسئلہ 7.11
سوکروز کی آپ پاشیدگی (Hydrolysis) سے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
Sucrose + H2O
Glucose + Fructose
حل

7.8 توازن کو متاثر کرنے والے عوامل (Factors Affecting Equilibria)
کیمیائی تالیف کے اہم مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ متعامل زیادہ سے زیادہ مقدار میں ما حصل میں تبدیل ہوں جبکہ خرچ کی گئی توانائی کمترین ہو۔ اس کا مطلب معتدل درجہ حرارت اور دباؤ پر ما حصل کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو حاصل کرنا۔ اگر یہ نہیں ہوتا ہے تو تجرباتی حالات کو موافق بنانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، ہیبر عمل کے ذریعہ N2 اور H2سے NH3 کی تالیف کے لیے تجرباتی حالات کا انتخاب حقیقی معاشی اہمیت کا حاصل ہے۔ امونیا کی عالمی سالانہ پیداوار تقریباً ایک کروڑ ٹن ہے۔ کیمیائی کھاد کے بطور اس کا سب سے زیادہ استعمال ہے۔
توازن مستقلہ Kc، ابتدائی ارتکاز پرمنحصرنہیں ہے۔ لیکن اگر توازن کے وقت نظام میں کسی ایک یا زیادہ متعامل مادّے کے ارتکاز میں تبدیلی کر دی جائے تو نظام توازن میں قائم نہیں رہے گا، اور کل تعامل کسی بھی سمت میں اس وقت تک جائے گا جب تک کہ توازن دوبارہ قائم نہ ہو جائے۔ اسی طرح نظام کے درجہ حرارت یا دباؤ میں تبدیلی توازن کو بدل سکتی ہے۔ یہ طے کرنے کے لیے کہ تعامل کون سی راہ اختیار کرے گا یا ایک مقداری پیشین گوئی کے لیے کہ حالات میں تبدیلی کا توازن پر کیا اثر ہوگا، ہم لی-چیٹلیئر کے اصول کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ ’’کسی ایسے جُز میں تبدیلی جو کسی نظام کی توازن حالت طے کرتی ہو، نظام میں اس طرح کی تبدیلی پیدا کر دیتی کہ وہ اس جُز کے اثرات کو کم یا زائل کر دیتا ہے۔‘‘اس کا اطلاق تمام طبیعی اور کیمیائی توازن پر ہوتا ہے۔ اب ہم ان عوامل سے بحث کریں گے جو توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
7.8.1 ارتکاز میں تبدیلی کا اثر
(Effect of Concentration Change)
عام طور پر جب توازن میں کسی متعامل/ ماحصل کے اضافہ/ اخراج سے خلل پیدا ہوتا ہے، تو لی چیٹلیئر اصول پیشین گوئی کرتا ہے کہ۔
• داخل کیے گئے متعامل/ ماحصل کا ارتکازی دباؤ کل تعامل کی اس سمت سے راحت حاصل کرے گا جو داخل کیے گئے مادے کا اسراف کرتی ہے۔
• اخراج کیے گئے متعامل / ماحصل کا ارتکازی دباؤ کل تعامل کی اس سمت سے راحت حاصل کرے گا جو اخراج کیے گئے مادہ کو پُر کرتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں
’’جب کبھی کسی متعامل یا ما حصل کے ارتکاز کو تعامل کے توازن کے دوران تبدیل کیا جاتا ہے، تو توازن آمیزے کی ترکیب اس انداز میں تبدیل ہوتی ہے کہ ارتکاز کی تبدیلیوں کے اثرات کمترین ہو سکیں۔‘‘
آیئے ایک تعامل لیتے ہیں:
![]()
اگر توازن کے وقت تعامل آمیزے میں H2 کی مقدار بڑھائی جائے، تو تعامل کے توازن میں خلل پیدا ہوگا۔ اس کو قائم رکھنے کے لیے تعامل اس سمت میں بڑھے گا جہاں H2 استعمال ہو رہی ہے، یعنی زیادہ H2اور I2تعامل کر کے HI بنائیں گے اور آخر کار تعامل داہنی سمت(پیش رفت) میں بڑھے گا (شکل 7.8)۔ یہ لی چیٹلئیر کے اصول کے مطابق ہے جس کے مطابق کسی متعامل / ماحصل کے اضافہ کرنے پر ایک نیا توازن قائم ہوگا جس میں متعامل /ما حصل کا ارتکاز اس سے کم ہوگا جتنا کہ اضافہ کے بعد ہوا لیکن اس سے کم ہوگا جو ابتدائی آمیزے میں تھا۔
دوبارہقائم کیا گیا توازن
توازن
توازن میں نہیں ہے
شامل کی گئی H2
شکل 7.8 تعامل
میں H2 کے اضافہ کا متعامل اور ماحصل کے ارتکا پر اثر ![]()
توازن کے وقت ہائڈروجن کے اضافہ سے Qc کی قیمت Kc سے کم ہو جائے گی۔ لہٰذا توازن کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے تعامل آگے کی سمت بڑھے گا۔ اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ما حصل کا اخراج بھی پیش رفت تعامل کو بڑھائے گا اور ما حصل کی مقدار میں اضافہ ہوگا اور اس کا تجارتی استعمال ان تعاملات میں زیادہ ہے جہاں ماحصل گیس یا طیران پذیر مادّے ہوتے ہیں۔ امونیا کی صنعت میں بھی امونیا کو رقیق کیا جاتا ہے اورمسلسل تعامل آمیزے سے علیحدہ کیا جاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے تعامل آگے کی سمت جاری رہتا ہے۔ اس طرح CaO (عمارتی مادّے کی طرح استعمال ہونے والا اہم مادّہ) کی CaCO3 سے بڑے پیمانے پر تیاری میں بھٹی سے لگاتار CO2نکالنے سے اختتام کی سمت تعامل تیز ہوتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چایئے کہ ما حصل کا لگاتار اخراج Qc کی قیمت کو Kc سے کم قیمت پر برقرار رکھتا ہے اور تعامل پیش رفت سمت میں جاری رہتا ہے۔
ارتکاز کے اثرات۔ ایک تجربہ
(Effect of Concentration – An Experiment)
اس کو مندرجہ ذیل تعامل سے ظاہر کیا جا سکتا ہے:
گہرا سُرخ بے رنگ پیلا

آئرن (III) نائیٹریٹ محلول میں دو قطرے 0.002Mپوٹاشیم تھا ئیو سائینٹ محلول ڈالنے سے سرخ رنگ ظاہر ہوتا ہے جو
بننے کی وجہ سے ہے۔ سرخ رنگ کی شدت توازن قائم ہونے کے بعد برقرار رہتی ہے۔ اس توازن کو آگے یا پیچھے کی سمت تبدیل کرنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم متعامل یا ما حصل میں سے کسی کا اـضافہ کر رہے ہیں ایسے متعامل کا اضافہ کر کے جو +Fe3 یا SCNآین کو ہٹا سکیں۔ تعامل کو مخالف سمت میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آکزیلک ایسڈ +Fe3 آین سے تعامل کر کے ایک مستحکم پیچیدہ آین
بناتا ہے اس طرح آزاد +Fe3آین کا ارتکاز کم ہو جاتا ہے لی-چیٹلیئر اصول کے مطابق ہٹائے گئے +Fe3کے ارتکازی دباؤ کو
کے افتراق سے حاصل ہونے والے +Fe3 کے دوبارہ بننے سے راحت ملتی ہے۔ کیونکہ
کا ارتکاز کم ہو رہا ہے لہٰذا سرخ رنگ کی شدت میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔
HgCl2 ملانے سے بھی سرخ رنگ میں کمی آتی ہے کیونکہ Hg2+، SCN– آین سے تعامل کر کے مستحکم پیچیدہ آین [Hg(SCN)4]2– بناتا ہے۔ آزاد SCN– (aq) آین کا اخراج مساوات (7.24) میں توازن کو دائیں سے بائیں سمت شفٹ کرتا ہے کہ SCN– آین دوبارہ بن سکیں دوسری طرف پوٹاشیم تھائیوسائنائڈ ڈالنے سے محلول کے رنگ کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ وہ توازن کو داہنی سمت میں شفٹ کرتا ہے۔
7.8.2 دباؤ میں تبدیلی کے اثرات
(Effect of Pressure Change)
گیسی تعاملات میں حجم میں تبدیلی کرنے سے حاصل ہونے والی دباو کی تبدیلی ما حصل کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے جہاں گیسی متعاملوں کے مولوں کی تعداد گیسی ما حصل کے مولوں کی تعداد سے مختلف ہوتی ہے۔ غیر متجانس توازن کے لیے لی۔ چیٹلیئر اصول کا استعمال کرنے سے ٹھوس اور رقیق پر دباؤ کی تبدیلی کے اثرات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیونکہ محلول/ رقیق کا حجم (اور ارتکاز) دباؤ کے اثرات سے تقریباً آزاد ہے۔
مندرجہ ذیل تعامل دیکھیے
![]()
یہاں گیسی متعاملوں کے 4 مول (CO +3H2 ) گیسی ما حصل کے 2 مول (CH4 +H2O) میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ مان لیجیے کہ تعامل آمیزہ (مندرجہ بالا تعامل کے لیے) ایک سلنڈر میں رکھا گیا ہے جس میں مستقل درجہ حرارت پر ایک پسٹن لگا ہوا ہے۔ گیس کو اس کے ابتدائی حجم کے آدھے حصے تک دبایا گیا تو کل دباؤ دُگنا ہو جائے گا (pV = constant کے مطابق)۔ جزوی دباؤ، متعامل اور ما حصل کے ارتکاز تبدیل ہو جائیں گے اور آمیزہ اب توازن میں نہیں رہے گا۔ دوبارہ توازن قائم کرنے کے لیے تعامل کس سمت میں بڑھے گا اس کی پیشین گوئی لی چیٹلیئر اصول کے مطابق کی جا سکتی ہے۔ چونکہ دباؤ دگنا ہو گیا ہے لہٰذا اب توازن آگے کی سمت شفٹ ہوگا۔ ایک سمت جس میں گیس کے مولوں کی تعداد یا دباؤ گھٹتا ہے (ہم جانتے ہیں کہ دباؤ گیس کے مولوں کے تناسب میں ہوتا ہے)۔ اس کو تعامل خارج قسمت Qcاستعمال کر کے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ مان لیجیے [CH4]، [H2]، [CO] اور [H2O] میتھانیشن تعامل کے لیے توازن کے وقت مولر ارتکاز ہیں۔ جب تعامل آمیزے کا حجم آدھا ہو جاتا ہے تو جزوی دباؤ اور ارتکاز دگنے ہو جاتے ہیں۔ ہم ہر توازن ارتکاز کو اس کی قیمت کا دُگنا رکھ کر تعامل خارج قسمت حاصل کرتے ہیں۔

چونکہ Qc < Kc ہے تو تعامل آگے کی سمت بڑھے گا۔
7.8.3 غیر عامل گیس کی شمولیت کے اثرات
(Effect of Inert Gas Addition)
اگر حجم کو قائم رکھا جائے اور ایک غیر عامل گیس جیسے کہ آرگن کو جو تعامل میں حصہ نہیں لیتی، داخل کیا جائے تو توازن پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستقل حجم پر غیر عامل گیس کی شمولیت جزوی دباؤ یا تعامل میں حصہ لینے والی اشیا کے مولر ارتکاز کو تبدیل نہیں کرتی۔ تعامل خارج قسمت صرف اسی وقت تبدیل ہوگا جب داخل کی جانے والی گیس تعامل میں حصہ لینے والی متعامل یا ما حصل گیس ہو۔
7.8.4 درجہ حرارت میں تبدیلی کا اثر
(Effect of Temperature Change)
جب کبھی بھی توازن میں ارتکاز، دباؤ یا حجم کی تبدیلی سے خلل پیدا ہوتا ہے تو توازن آمیزے کی ترکیب بدل جاتی ہے کیونکہ تعامل خارج قسمت Qc توازن مستقلہKc کے برابر نہیں رہتا۔ تاہم جب درجہ حرارت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے تو توازن مستقلہ Kc تبدیل ہو جاتا ہے۔
عام طور پر توازن مستقلہ کا درجہ حرارت پر انحصار، تعامل کے لیے ΔHکے نشان پر منحصر ہوتا ہے۔
• حرارت زا تعامل (منفی ΔH) کے لیے درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ توازن مستقلہ میں کمی واقع ہوتی ہے۔
• حرارت خور تعامل (مثبت ΔH)کے لیے درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ توازن مستقلہ میں بھی اضافہ ہوتاہے۔
درجہ حرارت کی تبدیلی توازن مستقلہ اور تعاملات کی شرح کو متاثر کرتی ہے۔
![]()
مذکورہ بالا تعامل کے مطابق امونیا کی پیداوار ایک حرارت زا عمل ہے۔ لی چیٹلیئر کے اصول کے مطابق درجہ حرارت بڑھانے سے توازن بائیں سمت شفٹ ہو جاتا ہے اور امونیا کا توازن ارتکاز کم ہو جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں امونیا کی زیادہ پیداوار کے لیے کم درجہ حرارت موزوں ہے، لیکن عملی طور پر بہت کم درجہ حرارت تعامل کو دھیما کر دیتا ہے اور اس لیے ایک وسیط (Catalyst) استعمال کیا جاتا ہے۔
درجہ حرارت کا اثر-ایک تجربہ (Effect of Temperature – An Experiment)
توازن پر درجہ حرارت کا اثر دکھانے کے لیے NO2 گیس (بھورے رنگ کی گیس) کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے جو N2O2 (بے رنگ گیس) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
![]()
NO2 گیس، جس کی تیاری مرتکز HNO3 میں Cu کی چھیلن ڈال کر کی جاتی ہے، 5mL کی دو جانچ نلیوں میں اکٹھا کی جاتی ہے (ہر نلی میں گیس کے رنگ کی شدت ایک جیسی ہونی چاہیے) اور ڈھکن کو ایرلڈائٹ سے سیل کر دیا جاتا ہے۔ 250mL کے تین بیکر 1,2,3 جن میں بالترتیب انجمادی آمیزہ، کمرہ کے درجہ حرارت پر پانی اور گرم پانی (363K) لیے جاتے ہیں (شکل 7.9)۔ دونوں جانچ نلیوں کو 10-8 منٹ کے لیے بیکر نمبر2 میں رکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد ان میں سے ایک کو بیکر نمبر 1 اور دوسری کو بیکر نمبر 3 میں رکھتے ہیں۔ اس تجربہ میں درجہ حرارت کا تعامل کی سمت پر اثر بہت اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ بیکر 1 میں کم درجہ حرارت پر پیش رفت تعامل N2O4کو سبقت حاصل ہے، چونکہ تعامل حرارت زا ہے لہٰذا NO2 کی وجہ سے ہونے والے بھورے رنگ کی شدّت میں کمی آتی ہے۔ جبکہ بیکر 3 میں بہت زیادہ درجہ حرارت پر رجعتی تعامل کو سبقت حاصل ہوتی ہے اور NO2بنتا ہے۔ لہٰذا بھورے رنگ میں شدت آجاتی ہے۔
شکل 7.9 تعامل
ے لیے درجہ حرارت کا توازن پر اثر
حرارت خور تعامل میں بھی درجہ حرارت کا اثر دیکھا جا سکتا ہے
نیلا بے رنگ گلابی
کمرہ کے درجہ حرارت پر توازن آمیزہ کا رنگCoCl4]-2] کی وجہ سے نیلا ہے۔ جب اسے انجمادی آمیزے میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے تو آمیزے کا رنگ +CO(H2O)6]3] کی وجہ سے گلابی ہو جاتا ہے ۔
7.8.5 وسیط کا اثر(Effect of a Catalyst)
ایک وسیط (Catalyst) متعامل کے ما حصل میں تبدیل ہونے کے لیے ایک نیا اور کم توانائی والا راستہ فراہم کر کے کیمیائی تعامل کی شرح کو بڑھا دیتا ہے۔یہ پیش رفت اور پشت رفت تعاملوں کی شرح کو بڑھا دیتا ہے جو ایک ہی عبوری حالت سے گزرتے ہیں اور توازن پر اثر نہیں ڈالتا۔ وسیط پیش رفت اور پشت رفت دونوں کی ایکٹیویشن توانائی (Activation Energy) کو بالکل ایک جیسی مقدار میں کم کرتا ہے۔ وسیط تعامل آمیزے کی توازن ترکیب کو بالکل نہیں بدلتا۔یہ متوازن کیمیائی مساوات میں ظاہر نہیں ہوتا اور نہ ہی توازن مستقلہ کے علامت میں ظاہر ہوتا ہے۔ آیئے ہم ڈائی نائٹروجن اور ڈائی ہائڈروجن سے بننے والی امونیا کا مطالعہ کریں جو ایک زبردست حرارت زا تعامل ہے اور جو اس طرح آگے بڑھتا ہے کہ بننے والے مولوں کی کل تعداد میں متعامل کے مقابلے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ توازن مستقلہ گھٹتا ہے۔ کم درجہ حرارت پر تعامل کی شرح کم ہوتی ہے کیونکہ توازن تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے جبکہ بہت زیادہ درجہ حرارت زیادہ بہتر شرح لیکن کم پیداوار دیتا ہے۔
جرمن کیمیاداں فرٹز ہیبرنے دریافت کیا کہ ایک وسیط جس میں آئرن ہے مختلف درجہ حرارت پر تسلی بخش شرح کے لیے تعامل کو کیٹلائز کرتا ہے جہاں NH3 کے توازنی ارتکاز کافی حد تک مناسب ہوتے ہیں۔ چونکہ تعامل میں بننے والے مولوں کی تعداد متعاملوں کی تعداد سے کم ہوتی ہے NH3 کی پیداوار کو دباؤ بڑھا کر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
وسیط کا استعمال کرتے ہوئے NH3 کی تالیف میں درجہ حرارت اور دباؤ کی مناسب ترین حالت 500ºC اور 200atm کے قریب ہوتی ہے۔
اس طرح کانٹیکیٹ پر اسس کے ذریعہ سلفیورک ایسڈ کی بڑے پیمانے پر تیاری میں،
2SO2(g) + O2(g) 2SO3(g): Kc = 1.7 × 1026
حالانکہ Kcکی قدر محض مجوزہ قدر ہے لیکن عملی طور پر SO2 سے SO3 کی تکسید بہت دھیمی ہوتی ہے۔ لہٰذا پلیٹینم یا ڈائی وینیڈیم پینٹاآکسائڈ (V2O5) تعامل کی شرح بڑھانے کے لیے وسیط کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
نوٹ : اگر تعامل میں K کی قیمت بہت کم ہے تو وسیط زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔
7.9 محلول میں آینی توازن
(Ionic Equilibrium In Solution)
توازن کی سمت پر ارتکاز میں تبدیلی کے اثرات دیکھنے کے دوران آپ نے اتفاقاً مندرجہ ذیل توازن کو دیکھا ہے جس میں آین موجود ہیں:
ایسے بے شمار توازن ہیں جن میں صرف آین شامل ہوتے ہیں۔ یہ سبھی کو معلوم ہے کہ چینی کا آبی محلول برقی ایصال نہیں کرتا۔ لیکن جب پانی میں سادہ نمک (سوڈیم کلورائڈ) ملایا جاتا ہے تو برق کا ایصال ہوتا ہے مزید یہ بھی کہ سادہ نمک کی مقدار بڑھانے سے برقی ایصال بھی بڑھ جاتا ہے۔ مائیکل فیراڈے نے اشیا کو ان کی برقی ایصالیت کی بنیاد پر دو زمروں میں تقسیم کیا تھا۔ اشیا کا ایک زمرہ اپنے آبی محلول میں برق کا ایصال کرتا ہے اور الیکٹرولائٹ (Electrolyte) کہلاتا ہے۔ جبکہ وہ جو برق کا ایصال نہیں کرتے الیکٹرولائٹ نہیں ہیں۔ فیراڈے نے الیکٹرولائٹ کو مزید قوی اور کمزور الیکٹرولائٹ میں تقسیم کیا ہے۔ قوی الیکٹرولائٹ پانی میں گھلنے پر تقریباً پوری طرح آیونائز ہو جاتے ہیں جبکہ کمزور الیکٹرولائٹ کا افتراق جزوی طور پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سوڈیم کلورائڈ کے آبی محلول میں مکمل طور پر سوڈیم اور کلورائڈ آین ہی ہوتے ہیں جبکہ ایسیٹک ایسڈس غیر آئیونائیز ایسیٹک ایسڈ کے سالمات اور کچھ ایسیٹک آین اور پروٹان ہوتے ہیں یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ سوڈیم کلورائڈ میں %100 آیونائزیشن ہوتا ہے جبکہ ایسیٹک ایسڈ میں اس کے مقابلے میں %5سے بھی کم آیونائزیشن ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک کمزور الیکٹرولائٹ ہے۔ یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ کمزور الیکٹرولائٹ میں توازن آین اور غیر آیونائز سالموں کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ آبی محلول میں اس قسم کا توازن آینی توازن (Ionic Equilibrium) کہلاتا ہے۔ تیزاب، اساس اور نمک الیکٹرولائٹ کی اس جماعت میں آتے ہیں اور وہ قوی یا کمزور الیکٹرولائٹ کی طرح عمل کر سکتے ہیں۔
7.10 تیزاب اساس اور نمک (Acids, Bases And Salts)
تیزاب اساس اور نمک قدرتی ماحول میں بڑے پیمانے پر پائے جاتے ہیں ہائڈروکلورک ایسڈ جو کہ گیسٹرک رس (Gastric Juice) ہے میں موجود ہمارے معدہ کے استر کے ذریعہ روزانہ 1.5-2-1 لیٹر کے حساب سے افراز ہوتا ہے جو عمل ہضم کے لیے لازمی ہوتا ہے ایسیٹک ایسڈ سر کہ کا اہم جُز ہوتا ہے۔ نیبو اور سنترہ کے رس میں سٹرک ایسڈ (Citric Acid) اور اسکاربک ایسڈ (Ascorbic Acid) پائے جاتے ہیں، لفظ ایسڈ لاطینی لفظ ’ایسڈس‘ (Acidus) سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں کھٹّا۔ تیزاب نیلے لٹمس کا غذ کو لال رنگ میں تبدیل کرتے ہیں اور دھاتوں سے تعامل کرنے پر ہائڈروجن گیس دیتے ہیں اسی طرح اساس (Base) لال لٹمس کاغذ کو نیلے رنگ میں تبدیل کرتے ہیں، ان میں کڑواہٹ ہوتی ہے اور یہ صابن کی طرح چکنے ہوتے ہیں اساس کی ایک عام مثال کپڑے دھونے کا سوڈا ہے جو دھونے کے کام میں آتا ہے۔ جب تیزاب اور اساس صحیح تناسب میں ملائے جاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کر کے نمک بناتے ہیں۔ نمکوں کی کچھ عام مثالیںسوڈیم کلورائڈ، بیریم سلفیٹ، سوڈیم نائٹریٹ وغیرہ ہیں۔ سوڈیم کلورائڈ (عام نمک) ہماری غذا کا ایک اہم حصہ ہے اور ہائڈروکلورک ایسڈ اور سوڈیم ہائڈروآکسائڈ کے تعامل سے بنتا ہے۔ یہ ٹھوس حالت میں مثبت چارج والے سوڈیم آین اور منفی چارج والے کلورائڈ آین کے گچھے کی شکل میں پایا جاتا ہے جو مخالف چارج والی انواع کے درمیان کام کرنے والے برقی سکونی باہمی عمل کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں (شکل7.10)۔ چارجوں کے درمیان برق سکونی قوتیں میڈیم کے ڈائی الیکٹرک مستقلہ کے مقلوب تناسب میں ہوتی ہیں۔ پانی ایک آفاقی محلل ہے جس کا ڈائی الیکٹرک مستقلہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو کہ 80 ہے۔ اس طرح جب نمک پانی میں گھولا جاتا ہے برقی سکونی باہمی عمل 80 کے فیکٹر سے کم ہو جاتا ہے اور یہ آین کے محلول میں آزاد گھومنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پانی کے سالموں کے ساتھ ہائڈریشن کی وجہ سے بھی کافی علیحدہ رہتے ہیں۔

شکل 7.10 سوڈیم کلورائڈ کا پانی میں گھلنا۔ +Na اور -Cl پانی کے قطبی سالموں کے ساتھ ہائڈریشن کے سبب مستحکم ہوگئے ہیں۔
پانی میں ہائڈروکلورک ایسڈ اور ایسیٹک ایسڈ کے آیو نائزیشن کا مقابلہ کرنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر چہ دونوں ہی قطبی شریک گرفت سالمے ہیں لیکن پہلا والا اپنے ترکیبی آینوں میں پوری طرح آیونائز ہو جاتا ہے جبکہ بعد والا صرف جُزوی طور پر (% 5<) آیونائز ہوتا ہے۔ جس حد تک یہ آیونائز ہو سکتا ہے وہ بند کی قوت پر منحصر ہوتی ہے اور اس حد پر بھی جہاں تک حاصل شدہ آینو کی سولویشن ہو سکتی ہے۔ افتراق اور آیونائزیشن کی اصطلاحات کا استعمال مختلف معنی میں پہلے بھی کیا گیا ہے۔ افتراق پانی میں آینوں کی علیحدگی کے اس عمل کو بتاتا ہے جو پہلے سے ہی منحل کی ٹھوس حالت میں موجود ہوتے ہیں اس طرح جیسے کہ سوڈیم کلورائڈ میں پائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف آیونائزیشن وہ عمل ہے جس میں ایک تعدیلی سالمہ محلول میں چارج شدہ آینوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ یہاں ہم ان دونوں اصطلاحات میں فرق نہیں کریں گے اور دونوں کو ادل بدل کر استعمال کریں گے۔
فیراڈے کی پیدائش لندن کے قریب ایک گھرانے میں ہوئی جس کے پاس بہت کم اثاثہ تھا۔ 14 سال کی عمر میں انہوں نے ایک جلد ساز کے یہاں کام کرنا شروع کیا جس نے فیراڈے کو اجازت دی کہ وہ ان کتابوں کو پڑھ سکتا ہے جن کی وہ جلد سازی کرتا ہے۔ خوش قسمتی سے اسے ڈیوی کی تجربہ گاہ میں بطور اسسٹینٹ کام کرنے کا موقع ملا، اور 1813-14 میں وہ ان کے ساتھ کونٹینینٹ گیا۔ اس سفر کے دوران کئی نمایاں سائنس دانوں سے اس کا رابطہ قائم ہوا جس سے اس نے بہت کچھ سیکھا۔ 1825 میں اس نے ڈیوی کے بعد رائل انسٹی ٹیوٹ کی تجربہ گاہوں کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالا اور 1833 میں وہ کیمیا کا پہلا فُلیرین پروفیسر بنا۔ فیراڈے کا پہلا اہم کام تحلیلی کیمیا (Analytical Chemistry) پر تھا۔ 1821 کے بعد اس کا زیادہ تر کام برقیات، مقناطیسیت اور مختلف برقی مقناطیسی اعمال پر تھا۔ اس کے خیالات نے جدید فیلڈ تھیوری کی بنیاد ڈالی۔ 1834 میں اس نے اپنے الیکٹرولسس کے دو کُلّیہ دریافت کیے۔ فیراڈے بہت سادہ اور نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے اعزازات کو قبول کرنے سے انکار کیا اور کسی سائنسی تنازع سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھا۔ انہوں نے ہمیشہ اکیلے ہی کام کرنا پسند کیا اور کبھی اسسٹینٹ نہیں رکھا۔ انہوںنے سائنس کی اشاعت مختلف طریقوں سے کی جس میں ان کی جمعہ کی شام کا خطبہ بھی شامل تھا جو انہوں نے رائل انسٹی ٹیوٹ میں قائم کیا تھا۔ وہ اپنے کرسمس کے خطبہ’ شمع کی کیمیائی تاریخ (Chemical History of a Candle) کے لیے بہت مشہور ہیں۔ انہوں نے تقریباً 450 سائنسی مضامین شائع کیے۔
7.10.1 تیزاب اور اساس کا آرہینئس تصور
(Arrhenius Concept of Acids and Bases)
آرہینئس کے نظریہ کے مطابق تیزاب وہ مادّے ہوتے ہیں جو پانی میں ٹوٹ کر (H+(aq) ہائڈروجن آین دیتے ہیں اور اساس وہ مادّے ہوتے ہیں جو پانی میں ٹوٹ کر
(OH –(aq ہائڈرو کسل آین دیتے ہیں۔‘‘ ایک ایسڈ (HX (aq کا آیونائزیشن مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

ایک خالی پروٹان +H بت زیادہ تعامل پذیر ہوتا ہے اور آبی محلول میں آزاد نہیں رہ سکتا لہٰذا وہ محلل پانی کے سالمہ کے آکسیجن ایٹم کے ساتھ بند بنا کر ٹرائی گونل بائی پیرامڈل ہائڈرونیم آین +H3Hبناتا ہے
(دیکھئے باکس)۔
اسی طرح ایک اساس MOH آبی محلول میں مندرجہ ذیل مساوات کے مطابق آیونائز ہوتا ہے۔
ہائڈروکسل آین بھی آبی محلول میں آبیدہ شکل میں پایا جاتا ہے۔ تیزاب اور اسا س کے آرہینس کے تصور کی بہت سی حدود ہیں چونکہ یہ صرف آبی محلول کے لیے ہی کارگر ہے اور امونیا جیسے مادّوں کی اساسی نوعیت کی وضاحت نہیں کرتا جس میں ہائڈروکسل گروپ نہیں ہوتے۔
7.10.2 برونسٹڈ لاری تیزاب اور اساس (The Brönsted- Lowry Acids and Bases)
ڈنیش کیمیاداں، جونس برونسٹڈ اور انگریز کیمیا داں، تھامس ایم۔ لاری نے تیزاب اور اساس کی ایک زیادہ عمومی تعریف پیش کی۔ برونسٹڈ لاری نظریے کے مطابق ’’ایسڈ وہ اشیا ہوتی ہیں جو ایک ہائڈروجن +H عطیہ کر سکتی ہیں اور اساس وہ ہوتے ہیں جو ہائڈروجن آین قبول کرتے ہیں: مختصر طور پر تیزاب پروٹان معطی (Donar) اور اساس پروٹان قبول کار ہوتے ہیں۔
ہائڈرونیم اورہائڈروکسل آین (Hydronium and Hydroxyl Ions)
ہائڈروجن آین بذات خود صرف ایک پروٹان ہے جس کی جسامت بہت کم ہوتی ہے (1015~نصف قطر) اور برقی میدان بہت زیادہ۔ یہ اپنے آپ کو پانی کے سالمہ کے ساتھ دو لون پیئر میں سے ایک سے متحد ہوکر +H3O دیتا ہے۔ یہ نوع ٹھوس حالت میں بہت سے مرکبات میں پائی گئی ہے (مثلاً-H3O+Cl)۔ آبی محلول میں ہائڈرونیم آین مزید ہائڈریٹ ہو کر
جیسی انواع دیتا ہے۔ اسی طرح ہائڈروکِسل آین بھی آبیدہ ہو کر
اور
وغیرہ جیسی انواع دیتا ہے۔
مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ دکھائے گئے امونیا کے پانی میں افتراق کی مثال پر غور کیجیے:
پروٹان کا اضافہ ہوا
جفتی اساس جفتی تیزاب اساس تیزاب
ایک پروٹون ضائع ہوا

ہائڈروکسل آین کے سبب ایک اساسی محلول بنتا ہے۔ اس تعامل میں پانی کے سالمے پروٹان معطی کے طور پر کام کرتے ہیں اور امونیا کے سالمے پروٹان قبول کار کے طور پر۔ لہٰذایہ بالترتیب لاری۔ برونسٹڈ تیزاب اور اساس کہلاتے ہیں۔ پشت رفت تعامل میں +H آین NH+4 سے -OH کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں NH+4برونسٹڈ اساس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ تیزاب اساس کا جوڑا جس میں صرف ایک پروٹان کا فرق ہوتا ہے وہ جفتی تیزاب اساس جوڑا (Conjugate Acid- base Pair) کہلاتا ہے۔ لہٰذا -OHتیزاب H2Oکا جفتی اساس کہلائے گا اورNH+4 اساس NH3 کا جفتی تیزاب کہلاتا ہے۔ اگر برونسٹڈ تیزاب ایک قوی تیزاب ہے تو اس کا جفتی اساس کمزور اساس ہوگا اور اس کے بر خلاف بھی۔ یہ قابل غور ہے کہ جفتی تیزاب کے پاس ایک اضافی پروٹان ہوتا ہے اور ہر جفتی اساس کے پاس ایک پروٹان کم ہوتا ہے۔
ہائڈروکلورک ایسڈ کے پانی میں آیونائزیشن کی مثال لیجیے۔ (HCl(aq پانی کے سالمے کو ایک پروٹان دے کر ایک تیزاب کی طرح کام کرتا ہے جبکہ پانی ایک اساس ہوتا ہے

مندرجہ بالا مساوات میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی ایک اساس کی طرح کام کرتا ہے۔ نوع +H3O پیدا ہوتی ہے جب پانی ایک پروٹان HCl سے قبول کرتا ہے۔ لہٰذا -HC1، Cl کا جفتی اساس ہوتا ہے اور HCl اساس -Cl کا جفتی تیزاب ہوا۔ اسی طرح پانی +H3O تیزاب کا جفتی اساس اور +H3O اساس H2O کا جفتی تیزاب ہوتا ہے۔
یہاں یہ مشاہدہ دلچسپ ہے کہ پانی ایک تیزاب اور اساس کا دوہرا کردار نبھا رہا ہے۔ HCl کے ساتھ تعامل میں پانی ایک اساس کی طرح کام کرتا ہے جبکہ امونیا کے ساتھ تعامل میں وہ ایک پروٹان دے کر تیزاب کا کام کرتا ہے۔
مسئلہ 7.12
مندرجہ ذیل برونسٹڈ تیزابوں کے لیے جفتی اساس کیا ہوں گے: H2SO4، HF اور HCO-3؟
حل
جفتی اساس کے پاس ایک پروٹان کم ہونا چاہیے لہٰذا ان کے بالترتیب جفتی اساس ہوں گے:
۔

آرہینئیس سویڈن میں اپسالا کے پاس پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1884 میں اپسالا یونیورسٹی میں اپنا تحقیقی مقالہ الیکٹرولائٹ محلول کی ایصالیت‘‘ (Conductivities of Electrolyte Solution) پیش کیا۔ اگلے پانچ سالوں میں وسیع پیمانے پر سفر کیے اور یوروپ کے بت سے تحقیقی مراکز کا دورہ کیا۔ 1895 میں وہ یونیورسٹی آف اسٹاکہوم میں طبیعیات کے پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ جہاں 1897 سے 1902 تک آپ اس کے ریکٹر رہے۔ 1905 سے انتقال کے وقت تک نوبل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹاک ہوم میں فزیکل کیمسٹری کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا۔ کئی برسوں تک آپ برقی محلول پر کام کرتے رہے۔ 1899 میں آپ نے ایک مساوات کی بنیاد پر تعامل کی شرح پر درجہ حرارت کے انحصار پر بحث کی جو اب عام طور پر آرہینیس کی مساوات کہلاتی ہے۔
انہوں نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے اور امّیو نو کیمسٹری (Immunochemistry)، علم کائنات (Cosomolgy)، زندگی کی ابتدا (Origin of Life) اور دور برفانی (Ice Age) کی وجوہات وغیرہ میں ان کا اہم تعاون رہا ہے۔ وہ پہلے سائنسداں تھے جنھوں نے ’سبزگھر اثر پر اسی نام سے بحث کی۔ انھیں 1903 میں علم کیمیا میں برق پاشی افتراق (Electrolytic Dissociation) اور علم کیمیاکے ارتقاء میں اس کے استعمال پر نوبل پرائز ملاتھا۔
مسئلہ 7.13
مندرجہ ذیل برونسٹڈ اساسوں کے لیے جفتی تیزاب لکھئیے:
؟
حل
جفتی تیزاب کے پاس ہر ایک میں ایک پروٹان زائد ہونا چاہیے لہٰذا ان کے مطابق جفتی تیزاب بالترتیب
اور HCOOH ہیں۔
مسئلہ 7.14
انواع
برونسٹڈ تیزاب اور اساس دونوں طرح کام کر سکتی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے جفتی تیزاب اور جفتی اساس بتائیے
حل
جواب مندرجہ ذیل جدول میں دیاگیا ہے:
نوع جفتی تیزاب جفتی اساس

7.10.3 لیوئس تیزاب اور اساس (Lewis Acids and Bases)
جی۔ این لیوئس نے 1923 میں تیزاب کی تعریف بیان کرتے ہوے کہا تھا کہ یہ وہ نوع ہے جو الیکٹران کے جوڑے کو قبول کرے اور اساس وہ نوع ہے جو الیکٹران جوڑے کا عطیہ دے۔ جہاں تک اساس کا تعلق ہے برونسٹڈ لاری اور لیوئس کے تصورات میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ دونوں حالتوں میں اساس الیکٹران کا ایک تنہا جوڑا مہیا کرتے ہیں۔ تاہم لیوئس کے نظریہ میں بہت سے تیزابوں میں پروٹان نہیں ہوتے۔ ایک مخصوص مثال الیکٹران کی کمی والےBF3کا NH3 سے تعامل ہے۔
BF3 میں کوئی پروٹان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ تیزاب کی طرح کام کرتا ہے اور NH3 کے الیکٹران کا تنہا جوڑا قبول کر کے اس کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔ اس تعامل کو مندرجہ ذیل مساوات سے ظاہر کرتے ہیں ۔
![]()
الیکٹران کی کمی والی انواع جیسے Mg2+، Co3+، AICI3 وغیرہ لیوئس تیزاب کی طرح کام کرتی ہیں جبکہ OH-، NH3، O2H وغیرہ جو الیکٹران جوڑا دے سکتے ہیں لیوئس اساس کی طرح کام کرتے ہیں۔
مسئلہ 7.15
مندرجہ ذیل انواع کو لیوئس تیزاب اور لیوئس اساس کے طور پر تقسیم کیجیے اور بتایئے کہ یہ ایسے کس طرح کام کرتے ہیں:
![]()
حل
(a) ہائڈروکسل آین ایک لیوئس اساس ہے اور وہ ایک الیکٹران کا جوڑا دے سکتا ہے (-OH)۔
(b) فلورائڈ آین لیوئس اساس کی طرح کام کرتا ہے اور وہ اپنے چار الیکٹران تنہا جوڑوں میں سے ایک دے سکتا ہے۔
(c) ایک پروٹان لیوئس تیزاب ہے کیونکہ وہ اساس جیسے ہائڈروکسل آین اور فلورائڈ آین سے الیکٹران کے جوڑے کو قبول کر سکتا ہے۔
(BCl3 (b ایک لیوئس تیزاب کی طرح کام کرتا ہے اور وہ امونیا یا امین (Amine) جیسی انواع سے الیکٹران کا ایک تنہا جوڑا قبول کر سکتا ہے۔
7.11 تیزاب اور اساس کا آیونائزیشن
(Ionization Of Acids And Bases)
آرہینئیس کا تیزاب اور اساس کا تصور وہاں زیادہ فائدہ مند ہے جہاں تیزاب اور اساس کا آیونائزیشن ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر کیمیائی اور حیاتیاتی اعمال میں آیونائزیشن آبی وسیلے میں ہوتا ہے۔ قوی تیزاب جیسے پر کلورک ایسڈ(HCIO4)، ہائڈرو کلورک ایسڈ (HCI)، ہائڈرو برومک ایسڈ (HBr) ہائڈرو آیوڈک ایسڈ (HI) نائٹرک ایسڈ (HNO3) اور سلفیورک ایسڈ (H2SO4)قوی اس لیے کہلاتے ہیں کیونکہ یہ آبی محلول میں تقریباً پوری طرح اپنے ترکیبی آینوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں، اور اس طرح پروٹان (+H)معطی بن جاتے ہیں۔ اسی طرح قوی اساس جیسے لیتھیم ہائڈروآکسائڈ (LiOH) ، سوڈیم ہائڈرو آکسائڈ (NaOH) ، پوٹاشیم ہائڈروآکسائڈ (KOH) سیزیم ہائڈروآکسائڈ (CsOH) اور بیریم ہائڈروآکسائڈ Ba(OH)2 آبی محلول میں مکمل طور پر افتراق کرنے کے بعد -OH دیتے ہیں۔ آرہینیئس کے تصور کے مطابق یہ قوی تیزاب اور اساس ہیں اور یہ مکمل طور پر افتراق کر کے میڈیم میں بالترتیب +H3O اور -OH دیتے ہیں۔ بصورت دیگر کسی تیزاب یا اساس کی قوت برو نسٹڈ لاری تصور کی اصطلاح میں بھی ناپی جا سکتی ہے جہاں قوی تیزاب کا مطلب ہے ایک اچھا پروٹان معطی اور قوی اساس کا مطلب ہے ایک اچھا پروٹان قبول کار۔ ایک کمزور تیزاب HA میں تیزاب اساس افتراق توازن دیکھئے۔
(HA(aq) + H2O(l)
H3O+(aq) + A–(aq
جفتی اساس جفتی تیزاب اساس تیزاب
سیکشن 7.10.2 میں ہم نے دیکھا کہ تیزابی (یا اساسی) افتراق توازن حرکی نوعیت کا ہے جس میں پروٹان کی منتقلی پیش اور پشت سمت میں ہوتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر توازن حرکی ہے تو وقت گزرنے کے ساتھ کون سی سمت موافق ہوگی؟ اس کے پیچھے کون سی قوت کا ر فرما ہے؟ ان سوالات کا جواب دینے کے لیے افتراق توازن میں شامل دو تیزابوں (یا اساسوں) کی قوت کا مقابلہ کرنے کے سوال پر بحث کریں گے۔ مذکورہ بالا تیزابی افتراق توازن میں موجود دو تیزابوں HA اور +H3O اور محلول میں زیادہ تر -A اور +H3O آین ہوں گے۔ توازن کمزور تیزاب اور کمزور اساس کی تشکیل کی سمت آگے بڑھے گا۔ کیونکہ قوی تیزاب قوی اساس کو پروٹان دیتے ہیں۔
اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ قوی تیزاب کا پانی میں مکمل افتراق ہوتا ہے اور بننے والا اساس بہت کمزور ہوتا ہے یعنی، قوی تیزابوں کے جفتی اساس بہت کمزور ہوتے ہیں۔ قوی تیزاب جیسے پرکلورک ایسڈ (HCIO4)، ہائڈروکلورک ایسڈ (HCl) ہائڈرو برومک ایسڈ (HBr) ہائڈرو آیوڈک ایسڈ (HI)، نائٹرک ایسڈ (HNO3) اور سلفیورک ایسڈ (H2SO4) جفتی اساس آین
اور 4-HSO دیں گے جو پانی (H2O) کے مقابلے میں کمزور اساس ہیں۔ اسی طرح ایک بہت قوی اساس کمزور جفتی تیزاب دے گا۔ دوسری طرف ایک کمزور تیزاب مان لیجیے HA آبی وسیلے میں صرف جزوی طور پر افتراق کرتا ہے لہٰذا، محلول میں خاص کر غیر افتراق شدہ HA سالمے ہوں گے۔عام کمزور تیزاب نائٹرس ایسڈ (HNO2)ہائڈروفلورک ایسڈ (HF) اور ایسیٹک ایسڈ (CH3COOH) ہیں۔ یہ قابل غور ہے کہ کمزور تیزابوں کے بہت قوی جفتی اساس ہوتے ہیں مثال کے طور پر O-2، NH-2 اور -H بہت اچھے پروٹان قبول کار ہیں لہٰذا یہ H2O کے مقابلے میں زیادہ قوی اساس ہیں۔
پانی میں حل پذیر کچھ نامیاتی مرکبات جیسے فنا لفتھلین (Phenolphthalein) اور بروموتھائی مول بِلو (Bromothymol Blue) کمزور تیزاب کی طرح عمل کرتے ہیں اور اپنی تیزابی شکل (HIn) اور جفتی اساسی شکل (-In) میں مختلف رنگ ظاہر کرتے ہیں۔
رنگ B رنگA
ایسے مرکبات تیزاب۔ اساس ٹائٹریشن میں انڈیکیٹر کے طور پر مفید ہوتے ہیں۔
7.11.1 پانی اور اس کے آینی ماحصل کا آیونائزیشن مستقلہ
(The Ionization Constant of Water and its Ionic Product)
کچھ اشیا جیسے پانی میں مخصوص صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ تیزاب اور اساس دونوں کی طرح کام کرسکتی ہیں۔ یہ ہم سیکشن 7.10.2 میں پانی کے ساتھ دیکھ چکے ہیں۔ تیزاب HA کی موجودگی میں یہ پروٹان لیتا ہے اور ایک اساس کی طرح کام کرتا ہے، جبکہ اساس –B کی موجودگی میں یہ پروٹان دے کر تیزاب کی طرح کام کرتا ہے۔ شفاف پانی میں، ایکH2O سالمہ پروٹان دیتا ہے اور تیزاب کی طرح کام کرتا ہے جبکہ دوسرا سالمہ اسی وقت پروٹان قبول کر کے ایک اساس کی طرح کام کرتا ہے اور توازن قائم ہوتا ہے
(H2O(l) + H2O(l)
H3O+(aq) + OH–(aq
جفتی اساس جفتی تیزاب اساس تیزاب
افتراقی مستقلہ کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں۔
![]()
نسب نما میں سے پانی کے ارتکاز کو نکال دیتے ہیں کیونکہ پانی ایک خالص شے ہے اور اس کا ارتکاز مستقل رہتا ہے۔ [H2O]کو توازن مستقلہ میں شامل کر لیتے ہیں جو ایک نیا مستقلہ Kwدیتا ہے جو پانی کا آینی ما حصل (Ionic Product of Water) کہلاتا ہے۔
![]()
298K پر +H کا ارتکاز تجرباتی طور پر
پایا گیا ہے۔ اور چونکہ پانی کا افتراق +H اور –OH آینوں کی برابر مقدار فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا ہائڈروکسل آین [–OH] کا ارتکاز 1.0H+ = (OH-) x 10-7M ہوتا ہے لہٰذا 298K پر Kw کی قیمت،

Kw کی قیمت درجہ حرارت منحصر ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک توازن مستقلہ ہوتا ہے۔
خالص پانی کی کثافت 1000g/L ہوتی ہے اور اس کی مولر کمیت18.0g/ mol ہوتی ہے ۔ اس سے شفاف پانی کی مولارتی مندرجہ ذیل طریقہ سے دی جاسکتی ہے:
![]()
لہٰذا افتراق شدہ پانی کا غیر افتراق شدہ پانی سے تناسب اس طرح لکھا جاسکتا ہے۔
(لہٰذا توازن خاص طور پر غیر افتراق شدہ پانی کی سمت رہتا ہے)
ہم تیزابی، تعدیلی اور اساسی آبی محلولوں کو +H3O اور -OHکے ارتکاز کی نسبتی قدروں سے پہچان سکتے ہیں۔
تیزابی : ![]()
تعدیلی : ![]()
اساسی : ![]()
7.11.2 pH پیمانہ (The pH Scale)
مولاریت میں ہائڈرونیم آین کے ارتکاز کو زیادہ آسانی سے لوگارتم پیمانے پر ظاہر کیا جاتا ہے جسے pH پیمانہ کہتے ہیں۔ کسی محلول کی pH ہائڈروجن آین ایکٹیوٹی (+aH) کا 10 کے اساس پر منفی لوگارتم ہے۔ ڈائی لیوٹ محلول (0.01m>) میں ہائڈروجن آین [+H]کی ایکیوٹی کے ذریعہ ظاہر کی گئی مولاریت کی قدر کے برابر ہوتی ہے یہ نوٹ کیا جانا چایئے کہ عمل (ایکٹوٹی) کی کوئی اکائی نہیں ہوتی اور اس کی مندرجہ ذیل طریقہ سے تعریف کی جا سکتی ہے۔
![]()
pH کی تعریف سے مندرجہ ذیل لکھا جا سکتا ہے۔
{pH = – log aH+ = – log {[H+] / mol L–1
![]()
تیزابی محلول میں pH < 7
اساسی محلول میں pH > 10
تعدیلی محلول میں pH=7
اب دوبارہ مساوات (7.28) کو 298K پر دیکھئے
![]()
مساوات کی دونوں سمتوں کے منفی لوگارتم لینے پر، ہمیں ملے گا۔

غور کیجیے کہ اگر چہ Kw درجہ حرارت میں تبدیلی کے ساتھ بدل سکتا ہے درجہ حرارت کے ساتھ pH میں تبدیلی بہت معمولی ہوتی ہے اور ہم اسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔
آبی محلولوں کے لیے pKw بہت اہم مقدار ہے جو ہائڈروجن آین اور ہائڈرو کسل آین کے نسبتی ارتکاز کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ ان کا ما حصل مستقل ہوتا ہے۔ یہ نوٹ کیا جانا چاہیے کہ چونکہ pH پیمانہ لوگارتمی ہے، pH میں صرف ایک اکائی کی تبدیلی کامطلب یہ بھی ہے کہ+H فیکٹر 10 سے تبدیل ہوتا ہے تو pH کی قیمت دو اکائیوں سے تبدیل ہوتی ہے۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ درجہ حرارت کے ساتھ pH کی تبدیلی کو اکثر کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔
کسی محلول کی pH کی پیمائش لازمی ہے کیونکہ حیاتیاتی اور کاسمیٹک استعمال کے لیے اس کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ کسی محلول کی pH کا اندازہ ایک pH کاغذ کی مدد سے لگایا جاسکتا ہے جس کا رنگ مختلف pH کے محلولوں میں کاغذ مختلف ہوتا ہے۔ آج کل ایسے pH کاغذ دستیاب ہیں جن میں چار پٹّیاں ہوتی ہیں ایک ہی pH پر الگ الگ پٹّیوں کے رنگ الگ ہوتے ہیں (شکل 7.11)۔ pH کاغذ کا استعمال کرکے 1-14 کی رینج میں 0.5~ کی درستگی تک pH معلوم کی جاسکتی ہے۔

شکل 7.11 چار پٹّیوں کے ساتھ pH کاغذ جس میں یکساں pH پر مختلف رنگ ہو سکتے ہیں۔
زیادہ درستی (Accuracy) کے لیے pH میڑ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ pH میٹر ایک ایسا آلہ ہوتا ہے جس سے جانچ محلول کا pH پر منحصر برقی مضمر 0.001 درستگی صحت تک ناپا جا سکتا ہے۔ قلم کی جسامت کے pH پیمانے اب بازار میں دستیاب ہیں۔ کچھ عام اشیا کی pH جدول 7.5 میں دی گئی ہیں۔
جدول 7.5 کچھ عام اشیاء کی pH
| pH | سیال کا نام | pH | سیال کا نام |
5.0
~4.2
~3.0
~2.2
~1.2
~0
|
سیاہ کافی
ٹماٹر کا رس
سوفٹ ڈرنک اور سرکہ
نیبو کا رس گیسٹر ک جوس
HCl IM محلول
مرتکزHCI
|
~15
13
10.5
10
7.8
7.4
6.8
6.4
|
NaOH کا سیر شدہ محلول
0.1M ، NaOH محلول
چونے کا پانی
ملک آف میگنیشیا
انڈے کی سفیدی، سمندر کا پانی
انسانی خون دودھ
انسانی لعاب
|
مسئلہ 7.16
ایک سوفٹ ڈرنک کے نمونے میں ہائڈروجن آین کا ارتکاز
ہے۔ اس کیpH کیا ہوگی؟
حل

سوفٹ ڈرنککا 2.42pHہے اور یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ تیزابی ہے
مسئلہ 7.17
محلول کی pH معلوم کیجیے۔
حل

مان لیجیے H2O سے
کا ارتکاز پیدا ہوگا (i) گھلنے والے HCl کے آیونائزیشن سے یعنی:
![]()
اور (H2O (ii کے آیونائزیشن سے۔ بہت زیادہ ڈائی لیوٹ ان محلولوں میں +H3Oکے دونوں ذرائع پر غور کرنا چاہیے۔


لہٰذا pH=6.98 اور pOH=7.02
7.11.3 کمزور تیزابوں کے آیونائزیشن مستقلے
(Ionization Constants of Weak Acids)
ایک کمزور تیزاب کی مثال لیجیے جو آبی محلول میں جزوی طور پر آیونائز ہوتا ہے اس کا توازن اس طرح دکھایا جا سکتا ہے۔
![]()
ابتدائی ارتکاز (M)
c 0 0
مان لیجیے آیونائزیشن تبدیل کی (M) کی حد α ہے
توازنی ارتکاز (M)
ca ca c – ca
یہاں C= غیر افتراقی تیزاب HX کا ابتدائی ارتکاز ہے، جبکہ t =o ہے۔ α= وہ حد ہے جس حد تک HX اپنے آینوں میں آیونائز ہو سکتا ہے۔ ان تر سیموں کا استعمال کر کے ہم مذکورہ بالا تیزاب آیونائز توازن کے لیے توازن مستقلہ معلوم کرسکتے ہیں۔
![]()
HX Ka کا افتراقی یا آیونائزیشن مستقلہ کہلاتا ہے۔ یہ مولر ارتکاز میں اس طرح بھی واضح کیا جا سکتا ہے۔
![]()
’’دیے گئے درجہ حرارت T پر Ka تیزاب HX کی قوت کی پیمائش ہے یعنی جتنی زیادہ Ka کی قیمت ہوگی اتنا ہی قوی وہ تیزاب ہوگا۔ Ka غیر جسامتی مقدار ہے اس سمجھ کے ساتھ کہ تمام انواع کی معیاری ارتکاز کی حالت 1M ہوتی ہے۔‘‘
کچھ چنندہ کمزور تیزابوں کے آیونائزیشن مستقلے جدول 7.6 میں دیے گئے ہیں۔
ہائڈروجن آین ارتکاز کے لیے pH پیمانہ اتنا مفید ہے کہ pKw کے علاوہ اس کا استعمال دوسری انواع اور مقداروں کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمارے پاس ہے
![]()
اگر ہم کسی تیزاب کا آیونائزیشن مستقلہ Kaاور اس کا ابتدائی ارتکاز C جانتے ہیں تو ہم تمام انواع کے لیے توازن ارتکاز اور تیزاب کے آیونائزیشن کی ڈگری اور محلول کی pH معلوم کر سکتے ہیں۔
کمزور الیکٹرولائٹ کی pH کا اندازہ لگانے کے لیے ہم اقدامات کا ایک سلسلہ بروئے کار لاتے ہیں:
جدول 7.6 کچھ چنندہ کمزور تیزابوں کے برق پاش مستقلے (298Kپر)
| Ka آیونائزیشن مستقلے | (Acid) تیزاب |
3.5 *10-4
4.5 * 10-4
1.8 * 10-4
1.5 * 10-5
1.74 * 10-5
6.5 * 10-5
3.0 * 10-8
4.9 * 10-10
1.3 * 10-10
|
(HF) ہائڈرو فلورک ایسڈ
(HNO2)نائٹرس ایسڈ
فارمک اسیڈ(HCOOH)
(C5H4NCOOH)نیاسین
(CH3COOH)ایسٹیک ایسڈ
(C6H5COOH)بینزوئک ایسڈ
(HCIO)ہائپوکلورس ایسڈ
(HCN)ہائڈروسائنک ایسڈ
(C6H5OH)فینول
|
قدم1 افتراق سے پہلے موجود انواع کی برونسٹڈ۔ لاری تیزاب / اساس کے طور پر شناخت کیجیے۔
قدم 2 تمام ممکنہ تعاملات کے لیے متوازن مساوات لکھیے یعنی یہ انواع تیزاب اور اساس دونوں طرح سے حصہ لیتے ہوئے لکھے جائیں گے۔
قدم 3 وہ تعامل جس میں Ka کی قیمت سب سے زیادہ ہوگی وہ ابتدائی تعامل کے طور پر لیا جائے گا جبکہ دیگر ثانوی تعامل ہوگا۔
قدم 4 ابتدائی تعامل میں ہر ایک نوع کے لیے مندرجہ ذیل قدروں کو جدول کی شکل میں لکھئے۔
(a) ابتدائی ارتکاز C
(b) آیونائزیشن کی ڈگری α کی اصطلاح میں توازن کی سمت بڑھتے وقت ارتکاز میں تبدیلی
قدم 5 پرنسپل تعامل کے لیے توازن مستقلہ مساوات میں aکی قیمت نکالنے کے لیے توازن ارتکاز کی قیمت رکھیے۔
قدم6 پرنسپل تعامل میں انواع کے ارتکاز کی قیمت نکالیے۔
قدم 7
کی قیمت معلوم کیجیے۔
مذکورہ بالا طریقہ کی وضاحت مندرجہ ذیل مثالوں کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔
مسئلہ 7.18
HFکا آیونائزیشن مستقلہ 4-10×3.2 ہے۔ 0.02M محلول میں HF کی افتراق کی ڈگری معلوم کیجیے۔ محلول میں موجود تمام انواع ( -H3O+,F اور HF) کے ارتکاز اور اس کی pH معلوم کیجیے۔
حل
مندرجہ ذیل پروٹان منتقلی تعاملات ممکن ہیں۔
چونکہKa>> Kw لہٰذا تعامل (1) پرنسپل تعامل ہوگا۔
![]()
ابتدائی ارتکاز (M)
0 0 0.20
تبدیل شدہ (M)
0.02α +0.02α +0.02α-
توازن ارتکاز (M)
![]()
پرنسپل تعامل کے لیے تعامل میں توازن ارتکازکی قیمتیں رکھنے پر

اس سے ہمیں مندرجہ ذیل دو درجی مساوات حاصل ہوتی ہے۔
αمیں دودرجی مساوات کو حل کیا جاسکتا ہے اور جذر کی دو قدریں مندرجہ ذیل ہوں گی 0.12– اور α = +0.12
منفی جذر قابل قبول نہیں ہے لہٰذا،
اس کا مطلب ہے کہ آیونائزیشن کی ڈگری، α = 0.12 پھر دوسری انواع، جیسےF–HF اور H3O کے توازن ارتکاز دیے جاسکتے ہیں:


مسئلہ 7.19
0.1M مونوبیسک ایسڈ کا 4.50pH ہے۔ توازن کے وقت انواع +A–، H اور HA کے ارتکاز معلوم کیجیے۔ مونوبیسک ایسڈ کے لیے Ka اور pKa کی قیمت معلوم کیجیے۔
حل

متبادل طور پر ’’فی صدافتراق، کمزور تیزاب کی قوت ناپنے کا ایک دوسرا مفید طریقہ ہے اور اسے مندرجہ ذیل طریقہ سے دیا جاسکتاہے۔
![]()
مسئلہ 7.20
0.08M ہائپوکلورس ایسڈ، HOCl کی pH معلوم کیجیے۔ ایسڈ کاآیونائزیشن مستقلہ5-10×2.5 ہے۔ HOCl کا فیصدافتراق معلوم کیجیے۔
حل
![]()
ابتدائی ارتکاز
0 0 0.08
توازن ارتکاز پر پہنچنے پر تبدیلی (M)
x + x +x–
توازن ارتکاز (M)

![]()

فی صد افتراق

7.11.4 کمزور اساسوں کا آیونائزیشن (Ionization of Weak Bases)
ایک اساس MOH کا آیونائزیشن مندرجہ ذیل مساوات سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔
![]()
کمزور اساس میں MOH کا +M اور–OMمیں جزوی آیونائزیشن ہوتی ہے۔ یہ معاملہ تیزاب افتراق توازن کی طرح ہے۔ اساسی آیونائزیشن کے لیے توازن مستقلہ اساسی آیونائزیشن مستقلہ کہلاتا ہے اور اسے Kb سے ظاہر کرتے ہیں۔ اسے توازن کی حالت میں مختلف انواع کے ارتکاز کو مولاریت میں دکھاتے ہوئے مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کر سکتے ہیں۔
![]()
متبادل طور پر اگر C= اساس کا ابتدائی ارتکاز اور α= اساس کی آیونائزیشن کی ڈگری یعنی، جس حد تک اساس آیونائز ہوتا ہے۔ جب توازن قائم ہو جاتا ہے تو توازن مستقلہ کو اس طرح لکھ سکتے ہیں۔
![]()
کچھ چنندہ کمزور اساسوں کے آیونائزیشن مستقلوں Kb کی قیمتیں جدول 7.7 میں دی گئی ہیں
جدول 7.7 298K پر کچھ کمزور اساسوں کے آیونائزیشن مستقلوں کی قیمتیں
| Kb | اساس |
5.4 * 10-4
6.45 * 10-5
1.77 * 10-5
1.10 * 10-6
1.77 * 10-9
4.27 * 10-10
1.3 * 10-14
|
(CH3)2 NHڈائی میتھائل امین
(C2H5)3N ٹرائی ایتھائل امین
امونیاNH3یا NH4OH
کیونین (ایک نباتاتی ماحصل)
C5H5Nپائریڈین
C6H5NH2اینیلین
CO (NH2)2یوریا
|
بہت سے نامیاتی مرکبات جیسے کہ امین کمزور اساس ہوتے ہیں۔ امین، امونیا کے مشتق ہیں جن میں ایک یا زیادہ ہائڈروجن ایٹم کسی دوسرے گروپ سے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میتھائل امین، کوڈین، کیونین اور نکوٹین سب کمزور اساسوں کی طرح کام کرتے ہیں کیونکہ ان کے Kb بہت کم ہوتے ہیں۔ امونیا آبی محلول میں –OH دیتی ہے۔
![]()
ہائڈروجن آین ارتکاز کے لیے pH پیمانے کی توسیع کرکے مندرجہ ذیل کو حاصل کرسکتے ہیں۔
مسئلہ 7.21
0.004M ہائڈرا ذین محلول کی 9.7pH ہے۔ اس کے آیونائزیشن مستقلے Kb اور pKb معلوم کیجیے۔
حل
pH سے ہم ہائڈروجن آین ارتکاز نکال سکتے ہیں۔ ہائڈروجن آین ارتکاز اور پانی کے آینی ما حصل کو جانتے ہوئے ہم ہائڈروکسل آین کا ارتکاز معلوم کر سکتے ہیں لہٰذا ہمارے پاس ہے؛

متعلقہ ہائڈر ازنیم آین کا ارتکاز بھی وہی ہوگا جو کہ ہائڈر اکسل کا ہے۔ ان دونوں آینوں کے ارتکاز بہت کم ہیں۔ لہٰذا غیر افتراقی اساس کے ارتکاز 0.004M کے برابر لیے جاسکتے ہیں۔

مسئلہ 7.22
0.2M NH4C1 اور 0.1M NH3 کی آمیزش سے بننے والے محلول کی pH معلوم کیجیے امونیا محلول کی 4.75pOH ہے۔
![]()
NH3 کا آیونائزیشن مستقلہ
یعنی

ابتدائی ارتکاز
توازن پر پہنچنے کے لیے تبدیلی
x +x +x –
توازن کے وقت (M)

چونکہ Kb بہت کم ہے لہٰذا ہم 0.1M اور 0.2M کے مقابلے میں x کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔
اس طرح:
لہٰذا 
7.11.5 Ka اورKb میں تعلق (Relation between Ka and Kb)

کُل
جہاں Kaایک تیزاب کی حیثیت سے 4+NH کی قوت کو اور Kb ایک اساس کی حیثیت سے NH3 کی قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ایک تعمیم کے لیے اس کی توسیع کی جاسکتی ہے۔ دو (یا زیادہ) تعاملات کو جمع کرکے حاصل کیے گئے نیٹ تعامل کے لیے توازن مستقلہ انفرادی تعاملات کے توازن مستقلوں کے حاصل ضرب کے برابر ہوتا ہے۔‘‘
اسی طرح جفتی تیزاب اساس جوڑے میں
![]()
ایک کی قیمت معلوم ہونے پر دوسرے کی قیمت معلوم کی جا سکتی ہے۔ یہ قابل غور ہے کہ قوی تیزاب کے جفتی اساس کمزور ہوں گے اور قوی اساس کے جفتی تیزاب کمزور ہوں گے۔
دوسری طرف مندرجہ بالا علامت Kw= Ka× Kb کو اساس۔ افتراق توازن تعامل کی مدد سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔


Ka× Kb = Kw
یہ بھی غور کیا جا سکتا ہے کہ اگر ہم مساوات کی دونوں سمتوں کے منفی لوگارتم لیں، تو جفتی تیزاب اور اساس کی pK قدروں کا ایک دوسرے سے تعلق مندرجہ ذیل مساوات کے مطابق ہوگا۔
14 = pKa + pKb = pKw (پر 298K)
مسئلہ 7.23
0.05M امونیا محلول کی آیونائزیشن کی ڈگری اور pH معلوم کیجیے۔ امونیا کا آیونائزیشن مستقلہ جدول 7.7 سے لیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امونیا کے جفتی تیزاب کا آینی مستقلہ بھی معلوم کیجیے۔
حل
پانی میں امونیا کی آیونائزیشن کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
![]()
ہائڈرو کسل آین کا ارتکاز معلوم کرنے کے لیے ہم مساوات (7.33) کا استعمال کر سکتے ہیں

αکی قیمت کم ہے لہٰذا دو درجی مساوات کو مساوات کے داہنی سمت نسب نما میں 1 کے مقابلے αکو نظر انداز کر کے آسان بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح

اب جفتی تیزاب اساس جوڑے کے تعلق کو استعمال کرتے ہوئے
Ka × Kb = Kw
جدول 7.7 سے NH3 کے لیے Kb کی قیمت لیتے ہوئے ہم جفتی تیزاب 4+NH کا ارتکاز معلوم کر سکتے ہیں۔

7.11.6 ڈائی- اور کثیر اساسی تیزاب اور ڈائی۔ اور کثیر تیزابی اساس
(Di- and Polybasic Acids and Di- and Polyacidic Bases)
کچھ تیزاب جیسے کہ آکسائڈ ایسڈ، سلفیورک ایسڈ اور فاسفورک ایسڈ میں ایسڈ کے ہر ایک سالمے میں ایک سے زیادہ آیونائزیشن کے قابل پروٹان موجود ہوتے ہیں۔ ایسے تیزاب کثیر اساسی (Polybasic) یا کثیر پروٹک (Polyprotic) تیزاب کہلاتے ہیں مثال کے طور پر ایک ڈائی بیسک تیزابH2Xکے لیے آیونائزیشن تعامل کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

اور اسی کے مطابق توازن مستقلہ مندرجہ ذیل ہیں۔

یہاں Ka اور Ka2 تیزاب H2X کے بالترتیب پہلے اور دوسرے آیونائزیشن مستقلے ہیں۔ اسی طرح سہ اساسی تیزاب جیسے H3PO4 کے لیے ہمارے پاس تین آیونائزیشن مستقلے ہوں گے۔ کچھ چنندہ کثیر پروٹک تیزابوں کے لیے آیونائزیشن مستقلے جدول 7.8 میں دیے گئے ہیں۔
جدول 7.8 کچھ چنندہ کثیر پروٹک تیزابوں کے آیونائزیشن مستقلے(298K)
| Ka3 | Ka2 | Ka1 | تیزاب |
4.0 * 10-7
4.2 *10-13
|
6.4 *10-3
1.6 *10-12
6.7 *10-8
1.2 *10-12
5.6 *10-11
1.7 * 10-5
6.2 *10-8
|
5.9 * 10-2
7.4 *10-4 1.7 *10-2 بہت زیادہ 4.3 *10-7 7.4 * 10-4 7.5 *10-3 |
آکزیلک
ایسکوربک ایسڈ
سلفیورس ایسڈ
سلفیورک ایسڈ
کاربونک ایسڈ
سٹرک ایسڈ
|
یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کثیر پروٹک ایسڈ میں اعلی درجے کے آیونائزیشن مستقلے
نچلے درجے کے آیونائزیشن مستقلے Ka سے کم ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک منفی چارج شدہ آین سے مثبت چار والے پروٹان کو برقی سکونی قوت کی وجہ سے نکال پانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اسے منفی چارج شدہ 3-HCO کے مقابلے میں غیر چارج شدہ H2CO3 میں سے ایک پروٹان علیحدہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک دوہرے منفی چارج شدہ 4-HPO این آین میں سے پروٹان کو نکالنا
کی بہ نسبت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
کثیر پروٹک تیزابی محلول میں HA-، H2A کے آمیزے اور ڈائی پروٹک تیزاب میں –A2 ہوتے ہیں۔ H2A ایک قوی تیزاب ہونے کی وجہ سے اس کے ابتدائی تعامل میں H2A کا افتراق ہوتا ہے اور محلول میں +H3O خاص طور پر پہلے افتراقی مرحلے سے آتا ہے۔
7.11.7 تیزاب کی قوت کو متاثر کرنے والے عوامل
(Factors Affecting Acid Strength)
مقداری طور پر تیزاب اور اساس کی قوت پر بحث کرنے کے بعد ہم اس مقام پر آجاتے ہیں جہاں ہم ایک دیے ہوئے محلول کی pH نکال سکتے ہیں۔ لیکن ہم یہ جاننے کے لیے متجسس رہتے ہیں کہ کچھ تیزاب دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قوی کیوں ہوتے ہیں؟ وہ کون سے عوامل ہیں جو ان کو قوی بناتے ہیں؟ اس کا جواب ہے کہ یہ ایک بے حد پیچیدہ عمل ہے۔ وسیع طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تیزاب کے افتراق کی حد H–A بند کی قوت اور قطبیت پر منحصر ہوتی ہے۔
عام طور پر جب HA بند کی قوت کم ہوتی ہے، یعنی بند کو توڑنے کے لیے درکار توانائی کم ہوتی ہے۔ HA قوی تیزاب ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کہ جب H–A بند زیادہ قطبی ہوتا ہے، یعنی ایٹم H اور A کے درمیان برقی منفیت کا فرق بڑھتا ہے اور چارج کی علیحدگی واضح ہو تو بند کا ٹوٹنا آسان ہو جاتا ہے لہٰذا تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔
بڑھتی ہوئی جسامت

اسی طرح H2O، H2S کے مقابلے میں زیادہ قوی تیزاب ہے۔
لیکن جب ہم دوری جدول کی ایک ہی قطار کے عناصر پر بحث کرتے ہیں تو H–A بند قطبیت تیزابی قوت کو متعین کرنے والا عوامل بن جاتی ہے جیسے جیسے A کی برقی منقیت بڑھے گی، تیزاب کی قوت بھی بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر
بڑھتی ہوئی A کی الیکٹرونگیٹوٹی

7.11.8 تیزابوں اور اساسوں کے آیونائزیشن میں مشترک آین اثر
(Common Ion Effect in the Ionization of Acids and Bases)
مندرجہ ذیل ایسیٹک ایسڈ افتراق توازن کی مثال پر غور کیجیے:

ایسیٹک ایسڈ کے محلول میں ایسی ٹیٹ آین کے اضافہ سے ہائڈروجن آین[+H]کا ارتکاز کم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کہ اگر+H آین کسی خارجی ماخذ سے داخل کیے جائیں تو توازن غیر افتراق شدہ ایسیٹک ایسڈ کی سمت میں جائے گا، یعنی اس سمت میں جہاں ہائڈروجن آین کے ارتکاز میں کمی آئے۔ یہ عمل مشترک آین اثر (Common Ion Effect) کی ایک مثال ہے۔ اس کی تعریف توازن میں تبدیلی کی شکل میں کی جاتی ہے جو اس شے کے اضافے کے سبب ہوتی ہے جس سے افتراق توازن میں پہلے سے موجود آینی نوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مشترک آین اثر ایک ایسا عمل ہے جو سیکشن 7.8 میں زیر بحث لی چیٹلئر کے اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
0.05M ایسیٹک ایسڈ محلول میں 0.05M ایسی ٹیٹ آینوں کو داخل کرنے پر محلول کی pH میں ہونے والی تبدیلی کو جانچنے کے لیے ہم ایک بار پھر ایسیٹک ایسڈ کے افتراق توازن کا مطالعہ کریں گے۔
ابتدائی ارتکاز (M)
0.05 0 0.05
مان لیجیے ایسیٹک ایسڈ کے آیونائزیشن کی حد X ہے۔
ارتکاز میں تبدیلی
توازنی ارتکاز
![]()
لہٰذا ،
چونکہ بہت کمزور تیزاب کے لیے Ka بہت چھوٹا ہوتا ہےX<<0.05
اس طرح

مسئلہ7.24
0.10M امونیا محلول کی pH معلوم کیجیے۔ جب اس محلول کے 50.0mL کا تعامل 0.10MHCl کے 25mL محلول کے ساتھ کرایا جاتا ہے تو پھر pH کیا ہوگا۔امونیا کے لیے افترق مستقلہ 5-110×1.77=Kbہے
حل


اس طرح ![]()

0.1M امونیا محلول (یعنی 5m mol امونیا) کے 50mL میں 0.1M HCl محلول کے 25mL امونیا کا اضافہ کرنے کے بعد (یعنی HCl ہو 2.5m mol)، امونیا کے 2.5m mol سالمے تعدیل ہو جائیں گے۔ حاصل ہونے والے 75mL محلول میں باقی ماندہ امونیا سالموں کے 2.5m mol اور 4+NH کے 2.5m mol غیر تعدیل شدہ سالمے رہ جائیں گے۔

توازن کے وقت
2.5 2.5 0 0
حاصل شدہ 75mL محلول میں غیر تعدیل شدہ 4+NH آین کے 2.5m mol (یعنی 0.033M) اور NH3 سالموں کے 2.5m mol (یعنی 0.033M) ہوں گے۔ یہ NH3 مندرجہ ذیل توازن میں ہوگا۔

جہاں ![]()
تعدیل کے بعد اختتامی 75mL محلول میں پہلے سے ہی 2.5m mol
آین (0.033M) ہیں، لہٰذا
کا کل ارتکاز ایسے دیا جا سکتا ہے کہ :
![]()
چونکہ Y کی قیمت بہت کم ہے
اور ![]()
ہم جانتے ہیں کہ

اس طرح![]()
![]()
لہٰذا pH = 9.24
7.11.9 نمکوں کی آب پاشیدگی
(Hydrolysis of Salts and the pH of their Solutions)
تیزاب اور اساس کے درمیان ایک مستقل تناسب میں ہونے والے تعامل سے بننے والے نمکوں کی پانی میں آب پاشیدگی ہو جاتی ہے۔ نمکوں کی آب پاشیدگی سے بننے والے کیٹ آین / این آین آبی محلول میں یا تو آبیدہ آینوں کی طرح پائے جاتے ہیں یا پانی سے باہمی عمل کر کے نمکوں کی نوعیت کے مطابق تیزاب/اساس بناتے ہیں۔ نمکوں کے این آین کیٹ آین یا دونوں کا پانی کے ساتھ تعامل کرنے کا آخر الذکر عمل آب پاشیدگی کہلاتا ہے۔ اس باہمی عمل سے محلول کی pH متاثر ہوتی ہے۔ قوی اساسوں کے کیٹ آین (مثلاً
وغیرہ) اور قوی تیزابوں کے این آین (مثلاً
وغیرہ) صرف آبیدہ ہو جاتے ہیں لیکن ان کی آب پاشیدگی نہیں ہوتی۔ لہٰذا قوی تیزابوں اور اساسوں سے بننے والے نمکوں کے محلول تعدیلی ہوتے ہیں یعنی: pH 7 ہوتی ہے۔ دوسرے زمرے سے تعلق رکھنے والے نمک آب پاشیدہ ہوجاتے ہیں۔
اب ہم نمکوں کی مندرجہ ذیل اقسام کی آب پاشیدگی کا مطالعہ کریں گے۔
(i) کمزور تیزاب اور قوی اساس کے نمک مثلاً CH3COONa
(ii) قوی تیزاب اور کمزور اساس کے نمک مثلاً NH4Cl
(iii) کمزور تیزاب اور کمزور اساس کے نمک مثلاً CH3COONH4
![]()
![]()
ایسیٹک ایسڈ (CH3COONa) ایک کمزور تیزاب ہونے کی وجہ سے
محلول میں عام طور پر غیر آیونائز رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے محلول میں –OH کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے اور محلول اساسی ہوجاتا ہے۔ ایسے محلول کی 7pH سے زیادہ ہوتی ہے۔
![]()
بننے والے
پانی کے ساتھ آب پاشیدگی کے بعد NH4Cl اور +H آین دیتے ہیں
امونیم ہائڈراکسائڈ ایک کمزور اساس ہے (Kb = 1.77 × 10–5) اور اسی لیے پانی میں تقریباً غیر آیونائز ہی رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے محلول میں +H کا ارتکاز ہو جاتا ہے جو محلول کو تیزابی بناتا ہے۔ لہٰذا NH4Cl کے آبی محلول کی 7pH سے کم ہوتی ہے۔
کمزور تیزاب CH3COOH اور کمزور اساس سے بننے والے نمک CH3COONH4 کی مثال دیکھیے۔ بننے والے آینوں میں مندرجہ ذیل طریقے سے آب پاشیدگی ہوتی ہے:
![]()
CH3COOH اور NH4OH بھی جزوی افتراقی شکل میں پائے جاتے ہیں۔

تفصیلی تحسیب میں جائے بغیر ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آب پاشیدگی کی ڈگری محلول کے ارتکاز سے آزاد ہوتی ہے اور ایسے محلول کی pH ان کی pK قیمتوں کے ذریعے متعین کی جاتی ہے۔
![]()
اگر فرق مثبت ہے تو محلول کی pHسے زیادہ ہو سکتی ہے اور اگر فرق منفی ہے تو 7pH سے کم ہوگی۔
مسئلہ 7.25
ایسیٹک ایسڈ کی pKaاور امونیم ہائڈرو آکسائڈ کی pKb بالترتیب 4.76 اور 4.75 ہیں۔ امونیم ایسیٹیٹ محلول کی pH معلوم کیجیے:
حل

7.12 حاجب محلول (Buffer Solutions)
بہت سے جسمانی سیّالوں، جیسے خون اور پیشاب وغیرہ کی مخصوص pH ہوتی ہے اور ان کی pH میں کوئی تبدیلی جسم کی خراب کارکردگی کا مظہر ہوتی ہے۔ بہت سے کیمیائی اور حیاتیاتی کیمیائی اعمال میں pH پر قابو رکھنا بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ بہت سی میڈیکل اور کاسمیٹک مصنوعات کی تیاریوں میں بھی ایک مخصوص pH رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے محلول جو ڈائی لیوٹ کرنے یا تھوڑی سی مقدار میں تیزاب یا اساس ملانے پر pH میں تبدیلی کے تئیں مزاحمت رکھتے ہیں حاجب محلول (Buffer Solution) کہلاتے ہیں۔ معلوم شدہ pH کے حاجب محلول کی تیاری تیزاب کی pKaاور اساس کے pKbکے علم کی بنیاد پر اور نمک اور تیزاب یا نمک اور اساس کے تناسب کو کنٹرول کر کے کی جا سکتی ہے۔ ایسیٹک ایسڈ اور سوڈیم اسیٹیٹ کا آمیزہ pH 4.75 کے قریب ایک حاجب محلول کی طرح کام کرتا ہے اور امونیم کلورائڈ اور امونیم ہائڈروآکسائڈ کا آمیزہ pH 9.25 پر حاجب کی طرح کام کرتا ہے۔ اعلیٰ جماعتوں میں آپ حاجب محلولوں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کریں گے۔
7.12.1 بفر محلول تیار کرنا (Designingg Buffer Solution)
تیزابی بفر(حاجب) تیا ر کرنا
تیزابی pH کا بفر تیار کرنے کے لیے ہم کمزور تیزاب اور طاقت ور اساس سے تشکیل پائے ان کے نمک استعمال کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسی مسادات تیار کرتے ہیں جو اس کی pH، کمزور تیزاب کے توازن مستقلہ Ka اور کمزور تیزاب اور اس کے مزدوج اساس کے ارتکازات کی نسبت کے مابین رشتہ بتا سکے۔ عمومی صورت میں، جہاں کمزور تیزاب HA کی پانی میں رواں انگیزی ہوتی ہے،
–HA + H2O
H3O+ + A
اس کے لیے ہم لکھ سکتے ہیں،ریاضیاتی عبارت

اس عبارت کی باز ترتیب سے ہمیں حاصل ہوتا ہے

دونوں جانب لوگریتھم لیتے ہوئے اور ارکان کی دوبارہ ترتیب کرتے ہوئے

ریاضیاتی عبارت (7.40)،ہینڈرسن-ہیسل باخ مساوات (Henderson-Hasselbach equation)کہلاتی ہے۔ مقدار
، تیزاب کی مزدوج اساس (اینائن) کے ارتکاز کی آمیزہ میں پائے جانے والے تیزاب کے ارتکاز سے نسبت ہے۔
کیونکہ تیزاب ایک کمزور تیزاب ہے، یہ بہت کم رواں سازی کرتا ہے اور [HA] کے ارتکاز اور لفر سے لیے گئے تیزاب کے ارتکاز میں ناقابل لحاظ فرق ہوتا ہے۔مزید یہ کی مزدوج اساس، (-A) کا زیادہ تر حصہ تیزاب کی رواں سازی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے مزدوج اساس ارتکاز اور نمک کے ارتکاز میں ناقابلِ لحاظ فرق ہوگا ۔ اس لیے،مسادات 7.40 یہ شکل اختیار کر لیتی ہے:

مساوات (7.39)میں ،اگر [-A] کا ارتکاز [HA] کے ارتکاز کے مساوی ہے، تو pH=pKa، کیونکہ logI کی قدر صفر ہے۔ اس لیے اگر ہم تیزاب اور فک (مزدوج اساس) کے مولی ارتکاز یکساں رکھیں تو بغیر محلول کی pH ، تیزاب کی pka کے مساوی ہوگی ۔ اس لیے درکار pHکا بفر محلول تیار کرنے کے لیے ، ہم ایسا تیزاب منتخب کرتے ہیں جس کی pka درکار pH کے نزدیک ہو ۔ ایسی ٹِک ایسڈ کی pkaقدر 4.76 ہے۔ اس لیے ایسا بفر محلول جو مساوی مولی ارتکاز میں لیے گئے ایسی ٹِک ایسڈ اور سوڈیم ایسی ٹیٹ سے تشکیل دیا گیا ہو، اس کی 4.76pH کے آس پاس ہوگی۔

بغیر محلول کی pH،مسادات : pH+pDH=14 استعمال کرتے ہوئے تحسیب کی جا سکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ :
pH + pOH = pKw اور PKa+pKb= pKw
ان اقدار کو مسادات (A-3 )میں رکھنے پر ، (7.41) کی شکل ہو جاتی ہے۔

اگر اساس اور اس کے مزدوج تیزاب (کیسٹائن) کا مولی ارتکاز یکساں ہو تو بفر محلول کی pH،اساس کی PKa کی قدر کے یکساں ہو گی۔ امونیا کی pKa قدر 9.25 ہے۔ اس لیے 9.25کے قریب قریب قدر کا بفر، یکساں مولی ارتکاز کے امونیا محلول اور امونیم کلورائڈ محلول کو لے کر تیار کیا جا سکتا ہے۔ امونیم کلورائڈ اورامونیم ہائڈرو آکسائڈ سے بنے بفر محلول کے لیے مساوات (7.42) ہو جاتی ہے:

ہلکاؤ سے بفر محلول کی pH متاثرنہیں ہوتی ، کیونکہ لوگریتھم والے رکن کی نسبت تبدیل نہیں ہوتی ۔
7.13 معمولی حل پذیر نمکوں کے حل پذیری مستقلے (Solubility Equilibria Of Sparingly Soluble Salts)
ہم یہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ آینی ٹھوس کی پانی میں حل پذیری کافی حد تک تغیر پذیر ہے۔ ان میں سے کچھ (جیسے کیلشیم کلورائڈ) اتنے حل پذیر ہوتے ہیں کہ وہ فطرتاً ہائیگروسکوپک (Hygroscopic) ہوتے ہیں یہاں تک کہ فضا سے ابخرات جذب کر لیتے ہیں۔ دیگر (جیسے کہ لیتھیم فلورائڈ) کی حل پذیری اتنی کم ہوتی ہے کہ ان کو عام طور پر غیر حل پذیر کہا جاتا ہے حل پذیری بہت سے عوامل پر منحصر ہوتی ہے ان میں سے اہم نمک کی لیٹس اینتھالپی ا ور محلول میں آینوں کی سالویشن کی اینتھالپی ہوتی ہے۔ ایک نمک کو محلل میں حل ہونے کے لیے اس کے آینوں کے درمیان قوت کشش (لیٹس اینتھالپی) پر آین محلل باہمی عمل کا غالب آنا لازمی ہے آینوں کی سالویشن اینتھالپی کو ہمیشہ سالویشن اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے جو ہمیشہ منفی ہوتی ہے یعنی سالویشن انتھالپی کی مقدار ہمیشہ محلل کی فطرت پر منحصر ہوتی ہے۔ غیر قطبی (شریک گرفت) محلل میں سالیوشن اینتھالپی کم ہوتی ہے لہٰذا نمک کی لیٹس اینتھالپی کو مغلوب کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی نتیجتاً نمک غیر قطبی محلل میں حل نہیں ہوتے۔ ایک عمومی قاعدے کے طور پر کسی نمک کے کسی مخصوص محلل میں حل پذیر ہونے کے لیے اس کی سالیوشن اینتھالپی اس کی لیٹس اینتھالپی سے زیادہ ہونی چاہیے تاکہ آخر الذکر اوّل الذکر کے ذریعہ مغلوب کی جا سکے۔ ہر نمک کی اپنی مخصوص حل پذیری ہوتی ہے جس کا انحصار درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ ہم نمکیات کو ان کی حل پذیری کی بنیاد پر مندرجہ ذیل تین جماعتوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
| حل پذیری < 0.1M | حل پذیر | Iجماعت |
| <0.1Mحل پذیری < 0.01M | معمولی حل پذیر | IIجماعت |
| <0.01M حل پذیر | کم حل پذیر | IIIجماعت |
ْ اب ہم معمولی حل پذیر آینی نمک اور اس کے سیر شدہ آبی محلول کے درمیان توازن کا مطالعہ کریں گے۔
7.13.1 حل پذیری ما حصل مستقلہ (Solubility Product Constant)
آیے اب ہم ایک ٹھوس جیسے کہ بیریم سلفیٹ کا اس کے سیر شدہ آبی محلول سے تعلق کا مطالعہ کریں گے۔ غیر حل شدہ ٹھوس اور سیر شدہ محلول میں آین کے درمیان توازن کو مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جا سکتا ہے:
![]()
![]()
خالص ٹھوس مادوں کے لیے ارتکاز مستقل رہتے ہیں لہٰذا ہم لکھ سکتے ہیں۔
![]()
ہم Ksp کو حل پذیر ما حصل مستقلہ (Solublity Product Constant) یا صرف حل پذیری ماحصل (Solublity Product) کہتے ہیں۔ مندرجہ بالا مساوات میں 298 K پر Ksp کی تجرباتی قیمت
ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹھوس بیریم سلفیٹ کے لیے اپنے سیر شدہ محلول کے ساتھ توازن میں ہونے کے لیے بیریم اور سلفیٹ آینوں کے ارتکاز کے ما حصل اس کے حل پذیر ماحصل مستقلہ کے برابر ہوتے ہیں۔ دونوں آینوں کے ارتکازبیریم سلفیٹ کی مولر حل پذیری کے برابر ہوں گے۔ اگر مولر حل پذیری 'S' ہے تو

لہٰذا بیریم سلفیٹ کی مولر حل پذیری
کے برابر ہوگی۔
ایک نمک افتراق کے بعد دو یا دوسے زیادہ این آین اور کیٹ آین دے سکتا ہے جن کے چارج مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک نمک جیسے زر کو نیم فاسفیٹ پر غور کیجیے جس کا سالماتی ضابطہ
پر غور کیجیے۔ اس کا افتراق تین زرکونیم آینوں میں ہوتا ہے جن پر 4+ چارج ہے اور چار فاسفیٹ آین جن پر 3– چارج ہوتا ہے۔ اگر زرکونیم فاسفیٹ کی مولر حل پذیری S ہو تو مرکب کی تناسب پیمائی سے یہ دیکھا جا سکتا ہے
ہے کہ![]()
اور![]()
یا![]()
ایک ٹھوس نمک جس کا عام ضابطہ
اور مولر حل پذیری S ہے اپنے سیر شدہ محلول کے ساتھ توازن میں ہوتا ہے۔ اسے مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعہ ظاہر کیا جا سکتا ہے:

اور اس کا حل پذیری ما حصل مستقلہ اس طرح دیا جا سکتا ہے:

مساوات میں اصطلاح Ksp کو Qsp سے ظاہر کیا جاتا ہے (سیکشن 7.6.2) جب ایک یا دو انواع کا ارتکاز توازن کے دوران کا ارتکاز نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ توازن کی حالت میں Ksp = Qsp لیکن دوسری صورت میں یہ ترسیب (Precipitation) یا افتراق کے عمل کو سمت عطا کرتی ہے۔ بہت سے عام نمکوں کے حل پذیری ماحصل مستقلے 298K پر جدول 7.9 میں دیے گئے ہیں۔
مسئلہ 7.26
خالص پانی میں A2X3 کی حل پذیری معلوم کیجیے، یہ مانتے ہوئے کہ دونوں قسم کے آین پانی سے تعامل نہیں کرتے A2X3 کا حل پذیری مستقلہ
ہے۔
حل

اگر A2X3=Sکی حل پذیری ہو تو:
لہٰذا ![]()
اس طرح ![]()
![]()
مسئلہ 7.27
دو معمولی حل پذیر نمک
اور AgCN کی Ksp قدریں بالترتیب15-10 ×2.0 اور 17-10 ×6 ہیں۔ کون سا نمک زیادہ حل پذیر ہے۔
حل

مان لیجیے Ag+) = S1)
تو CN-) = S1)
مان لیجیے Ni2+) = S2)
تو OH-) = 2S2)

2(Ni (OH نمک AgCN کے مقابلے سے زیادہ حل پذیر ہے۔
| Ksp | ضابطہ | نمک کا نام |
13-10* 5.0
8.5 *10-12
1.1 * 10-12
1.8 * 10-10
8.3 * 10-17
1.4 * 10-5
1.3 * 10-33
1.2 * 10-10
1.0 * 10-6
1.1 * 10-10
2.8 * 10-9
5.3 * 10-9
5.5 * 10-6
4.0 * 10-9
9.1 * 10-6
2.5 * 10-14
8.0 * 10-27
6.3 * 10-31
5.3 * 10-9
1.4 * 10-10
1.7 * 10-6
2.2 * 10-20
1.1 * 10-12
6.3 * 10-36
3.2 * 10-11
8.0 * 10-16
1.0 * 10-38
6.3 * 10-18
5.6 * 10-23
1.3 * 10-18
4.5 * 10-29
7.4 * 10-7
4.0 * 10-53
3.5 * 10-8
6.5 * 10-9
1.8 * 10-11
7.0 * 10-7
1.0 * 10-11
2.5 * 10-13
2.0 * 10-15
4.7 * 10-5
4.0 * 10-5
7.4 * 10-14
1.6 * 10-5
7.7 * 10-8
1.2 * 10-15
7.1 * 10-9
1.6 * 10-8
8.0 * 10-28
1.4 * 10-28
1.0 * 10-25
1.1 * 10-10
2.5 * 10-9
3.2 * 10-7
3.4 * 10-6
1.7 * 10-4
6.5 * 10-8
1.4 * 10-11
1.0 * 10-15
1.6 * 10-24
|
AgBR
Ag2CO3
Ag2CrO2
AgC1
AgI
Ag2SO4
3(A1(OH
BaCrO4
BaF2
BaSO4
CaCO3
CaF2
2(Ca(OH
CaC2O4
CaSO4
2(Cd(OH
CdS
3(Cr(OH
CuBr
CuCO3
CuC1
2(Cu(OH
CuI
CuS
FeCO3
2(Fe(OH
3(Fe(OH
FeS
Hg2Br2
Hg2C12
Hg2I2
Hg2SO4
HgS
MgCO3
MgF2
2(Mg(OH
MgC2O4
MnCO3
MnS
2(Ni(OH
NiS
PbBr2
PbCO3
PbC13
PbF2
2(Pb(OH
PbI2
PbSO4
PbS
2(Sn(OH
SnS
SrCO3
SrF2
SrSO4
T1Br
T1C1
T1I
ZnCO3
2(Zn(OH
ZnS
|
Silver Bromide
Silver Carbonate
Silver Chromate
Silver Chloride
Silver odide
Silver Sulphate
Aluminium Hydroxide
Barium Chromate
Barium Fluoride
Barium Hydroxide
Calcium Carbonate
Calcium Fluoride
Calcium Hydroxide
Calcium Oxalate
Calcium Sulphate
Cadmium Hydroxide
Cadmium Sulphide
Chromic Hydroxide
Cuprous Bromide
Cupric Carbonate
Cuprous Chloride
Cupric Hydroxide
Cuprous Iodide
Cupric Sulphide
Ferrous Carbonate
Ferrous Hydroxide
Ferric Hydroxide
Ferrous Sulphide
Mercurous Bromide
Mercurous Chloride
Mercurous Iodide
Mercurous Sulphate
Mercuric Sulphide
Magnesium Carbonate
Magnesium Fluoride
Megnesium Hydroxide
Magnesium Oxalate
Manganese Carbonate
Manganese Sulphide
Nickel Hydroxide
Nickel Sulphide
Lead Bromide
Lead Carbonate
Lead Chloride
Lead Fluoride
Lead Hydroxide
Lead Iodide
Lead Sulphate
Lead Sulphide
Stannous Hydroxide
Stannous Sulphide
Strontium Carbonate
Strontium Fluoride
Strontium Sulphate
ThallousBromide
Thallous Chloride
Thallous Iodide
Zinc Carbonate
Zinc Hydroxide
Zinc Sulphide
|
7.13.2 آینی نمکوں کی حل پذیری پر مشترک آین اثر
(Common Ion Effect on Solubility of Ionic Salts)
لی چیٹلیئر کے اصول سے یہ متوقع ہے کہ اگر ہم کسی ایک آین کے ارتکاز کو بڑھا دیں تو اسے اپنے مخالف آین سے اتحاد کرنا چاہیے اور اس وقت تک کچھ نمک کا رسوب بنے گا جب تک کہ Ksp = Qsp نہیں ہو جاتا اس طرح اگر کسی آین کا ارتکاز کم ہوگا تو زیادہ نمک گھلے گا تاکہ دونوں آینوں کے ارتکاز بڑھ جائیں جب تک کہ دوبارہ Ksp = Qsp نہ ہو جائے۔ یہ حل پذیر نمکوں جیسے کہ سوڈیم کلورائڈ کے لیے بھی قابل عمل ہے سوائے اس کے کہ آینوں کے زیادہ ارتکاز کی وجہ سے ہمQsp کے اظہار کے لیے ان کی مولاریت کے بجائے ان کی ایکٹوٹی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح اگر ہم سوڈیم کلورائڈ کا سیر شدہ محلول لیںاور اس میں سے HCl گیس گزاریں، تو HCl کے افتراق سے دستیاب ہونے والے کلورائڈ آین کا ارتکاز (ایکٹویٹی) بڑھنے کی وجہ سے سوڈیم کلورائڈ کا رسوب ہوگا۔ اس طرح حاصل ہونے والا سوڈیم کلورائڈ بہت زیادہ خالص ہوگا اور ہمیں سوڈیم اور میگنشیم سلفیٹ جیسی ملاوٹوں سے نجات ملے گی۔ مشترک آین اثر کا استعمال کسی خاص آین کے تقریباً مکمل رسوب کے لیے اس کے معمولی حل پذیر نمک کی طرح، حل پذیری ما حصل کی بہت کم قدر کے ساتھ گریویمیٹرک تخمینہ (Gravimetric Estimation) کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ اس طرح ہم سلور آین کو سلورکلورائڈ کی طرح فیرک آین کو اس کے ہائڈرو آکسائڈ (اور آبیدہ فیرک آکسائڈ) کی طرح اور بیریم کو اس کے سلفیٹ کی طرح مقداری تخمینوں کے لیے رسوب کر سکتے ہیں۔
مسئلہ 7.28
0.10M NaOH میں Ni(OH)2 کی مولر حل پذیری معلوم کیجیے Ni(OH)2کا آینی ماحصل 15-10×2.0ہے۔
حل
مان لیجیے Ni(OH)2 کی حل پذیری S ہے Ni(OH)2 کے S mol/L کا افتراق +Ni2 کے S mol/L اور –OHکے 2Smol/L فراہم کرتا ہے، لیکن –OH کا کل ارتکاز 0.10mol/Lکیونکہ محلول میں پہلے سے ہی NaOH OH-0.10mol/L موجود ہے۔

چونکہKsp چھوٹا ہے 2S<<0.10
اس لیے،

کمزور تیزاب جیسے کہ فاسفیٹ کے نمکوں کی حل پذیری کم pH پر بڑھ جاتی ہے یہ اس لیے کہ کم pH پر این آین کا ارتکاز اس کے پروٹونیشن (Protonation) کے سبب کم ہو جاتا ہے۔ یہ بدلے میں نمک کی حل پذیری کو بڑھا دیتا ہے، اس طرح کہ Ksp = Qspہمیں ایک ساتھ دو توازنوں کو مطمئن کرنا پڑتا ہے۔ یعنی،

دونوں سمتوں کا مقلوب لیتے ہوئے اور 1 کا اضافہ کر کے ہمیں ملتا ہے:

پھر دوبارہ مقلوب لیتے ہوئے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
![]()
لہٰذا [+H]کے بڑھنے یا pH کے گھٹنے کے ساتھ حل پذیری S بڑھتی ہے۔
خلاصہ
کے لیے ایک معین درجہ حرارت پر توازن مستقلہ کی قیمت مستقل ہوتی ہے اور اس اسٹیج پر تمام میکرواسکوپک خصوصیات جیسے کہ ارتکاز، دباؤ وغیرہ مستقل ہوجاتی ہیں۔ گیس تعامل کے لیے توازن مستقلہ Kp سے ظاہر کیا جاتا ہے اور اسے لکھنے کے Kc میں ارتکاز کو جزوی دباؤ سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ تعامل کی سمت کی پیشین گوئی تعامل خارج قسمت Qc کے ذریعہ ظاہر کی جاتی ہے جو توازن کے وقت Kc کے برابر ہوتی ہے۔ لی چیٹلیئر اصول بتاتا ہے کہ کسی عوامل جیسے کہ درجہ حرارت، دباؤ، ارتکاز وغیرہ میں تبدیلی توازن کو اس سمت موڑ دے گی جدھر اس تبدیلی کے اثر کو کم یا معتدل کیا جا سکے۔ اسے مختلف عوامل جیسے کہ درجہ حرارت، ارتکاز، وسیط اور غیر عامل گیسوں کے توازن کی سمت پر اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ان عوامل پر قابو پاکر ماحصل کی پیداوار کو کنٹرول کیا جا سکے۔ وسیط کسی تعامل آمیزے کی توازنی ترکیب کو متاثر نہیں کرتا لیکن متعامل کی ماحصل میں تبدیلی کے لیے کم توانائی کے راستے فراہم کر کے تعامل کی شرح کو بڑھایا گھٹا سکتے ہیں۔
وہ تمام اشیا جو آبی محلول میں بجلی کا ایصال کرتی ہیں الیکٹرولائٹ کہلاتی ہیں تیزاب، اساس اور نمک الیکٹرولائٹ ہیں اور آبی محلول میں الیکٹرولائٹ کے افتراق یا آیونائیزیشن سے کیٹ آین اور این آین پیدا ہونے کی وجہ سے یہ اپنے آبی محلولوں میں بجلی کا ایصال کرتے ہیں۔ قوی الیکٹرولائٹ مکمل طور پر افتراق کرتے ہیں۔ کمزور الیکٹرولائٹ میں آینوں اور غیر آین شدہ الیکٹرولائٹ سالموں کے درمیان ایک توازن پایا جاتا ہے۔ آرہینیس کے مطابق تیزاب اپنے آبی محلول میں ہائڈروجن آین دیتے ہیں اور اساس ہائڈروکسل آین دیتے ہیں۔ دوسری طرف برونسٹڈلاری نے تیزاب کو پروٹان معطی (Donor) اور اساس کو پروٹان قبول کار (Accepter) بتایا ہے۔ جب برونسٹڈ لاری تیزاب کسی اساس سے تعامل کرتا ہے تو وہ اس کا جفتی تیزاب بناتا ہے اور تیزاب سے تعامل کر کے اس کا جفتی اساس بناتا ہے۔ اس طرح ایک تیزاب اساس کے جفتی جوڑے میں صرف ایک پروٹان کا فرق ہوتا ہے۔ لیوئس نے تیزاب کی تعریف کو مزید عمومی بناتے ہوئے اسے ایک الیکٹران کے جوڑے کو قبول کرنے والا اور اساس کو ایک الیکٹران جوڑا فراہم کرنے والا بتایا ہے۔ کمزور تیزابوں کے آیونائزیشن (توازن) مستقلے(Ka) اور کمزور اساس کے توازن مستقلہ (Kb) کی عبارت کو تیار کرنے کیے لیے آرہینیس کی تعریف استعمال کی گئی ہے۔ آیونائزیشن کی ڈگری اور ارتکاز پر اس کا انحصار اور مشترک آین پر بحث کی گئی ہے۔ ہائڈروجن آین کے ارتکاز (ایکٹویٹی) [+H] کے لیے pH پیمانے
کو متعارف کرایا گیا ہے اور پھر دوسری مقداروں،
اور
کے لیے اس کی توسیع کی گئی ہے۔ پانی کے آیونائزیشن پر غور کیا گیا اور ہم نے دیکھا کہ مساوات
ہمیشہ ہی مطمئن ہوتی ہے۔ قوی تیزاب اور کمزور اساس، کمزور تیزاب اور قوی اساس اور کمزور تیزاب اور کمزور اساس کے نمک پانی میں آب پاشیدگی کے بعد آبی محلول بناتے ہیں۔ حاجب محلول کی تعریف اور اس کی اہمیت پر مختصراً بحث کی گئی ہے۔ معمولی حل پذیر نمکوں کے حل پذیری توازن پر بحث ہوئی ہے اور توازن مستقلہ کو حل پذیری ما حصل مستقلہ (Ksp) کی طرح متعارف کیا گیا ہے۔ نمک کی حل پذیری سے اس کے تعلق کو قائم کیا گیا ہے۔ نمک کی ان کے محلولوں سے ترسیب کے حالات یا پانی میں ان کے افتراق پر بحث کی گئی ہے۔ مشترک آین کے کردار اور معمولی حل پذیر نمکوں کی حل پذیری پر بھی بحث ہوئی ہے۔
طلباء کے لیے اس باب سے متعلق چند مجوزہ سرگرمیاں
(pH (b کاغذ کا استعمال مختلف نمکوں کے محلولوں کی pH معلوم کرنے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے جس کی مدد سے وہ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا وہ قوی /کمزور تیزاب یا اساس ہیں۔
(c) طلبا سوڈیم ایسی ٹیٹ اور ایسٹیک ایسڈ کے محلولوں کو ملا کر حاجب محلول تیار کر سکتے ہیں پھر pH کاغذ کا استعمال کر کے اس کی pH معلوم کر سکتے ہیں۔
(d) انہیں کچھ اِنڈیکیٹر دیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ مختلف pH کے محلولوں میں ان کے رنگوں کا مشاہدہ کر سکیں۔
(e) طالب علم انڈیکیٹر کا استعمال کر کے کچھ تیزاب اساس ٹائٹریشن کر سکتے ہیں۔
(f) معمولی حل پذیر نمکوں کی حل پذیری پر مشترک آین اثر کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
(g) اگر اسکول میں pH میٹر دستیاب ہے تو وہ اس کی مدد سے محلول کی pH معلوم کر سکتے ہیں اور اس کا مقابلہ pH کاغذ کی مدد سے معلوم کی گئی pH سے کر سکتے ہیں۔
مشقیں
7.1 ایک مستقل درجہ حرارت پر سیل بند برتن میں ایک رقیق اپنے بخارات کے ساتھ توازن میں ہے برتن کا حجم اچانک بڑھ جاتا ہے۔
(a) بخاراتی دباؤ پر اس تبدیلی کا ابتدائی اثر کیا ہوگا؟
(b) ابتدا میں تبخیر اور تکثیف کی شرح میں کیا تبدیلی آئے گی؟
(c) آخر کار جب توازن قائم ہو جائے گا تو کیا ہوگا اور آخری بخاراتی دباؤ کیا ہوگا؟
7.2 مندرجہ ذیل توازن کے لیے Kc کیا ہوگا جبکہ ہر ایک شے کے توازن ارتکاز اس طرح ہیں:

7.3 ایک مخصوص درجہ حرارت اور 105Pa کے کل دباؤ پر آیوڈین کے بخارات حجم کے اعتبار سے 1 فضائی دباو کا %40 ہیں۔
![]()
توازن کے لیےKp کی قیمت معلوم کیجیے۔

7.5 Kp کی مدد سے مندرجہ ذیل ہر ایک توازن کے لیے Kc کی قیمت معلوم کیجیے۔

7.6 مندرجہ ذیل تعامل کے لیے 1000K پر
ہے
توازن میں پیش رفت اور پشت رفت دونوں تعاملات عنصری دو سالمی تعاملات ہیں۔ پشت رفت تعامل کے لیے Kcیا ہوگا۔
7.7 خالص ٹھوس اور رقیق کو توازن مستقلہ کی عبارت لکھتے وقت کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟
7.8 N2 اور O2 کے درمیان متعامل مندرجہ ذیل کے مطابق ہوتا ہے:
(2N2 (g) + O2 (g)
2N2O (g
اگر N2 کے 0.482 مول اور O2 کے 0.933 مولوں کا آمیزہ 10L کے تعاملی برتن میں رکھا جاتا ہے اور اس درجہ حرارت پر جہاں Kc = 2.0 × 10–37 ہے، N2O بننے دیا جاتا ہے تو توازن آمیزے کی ترکیب کا تعین کیجیے۔
7.9 مندرجہ ذیل تعامل کے مطابق نائٹرک آکسائڈ Br2 سے تعامل کر کے نائٹروسل برومائیڈ دیتا ہے۔
جب ایک مستقل درجہ حرارت پر بند برتن میں NO کے 0.087mol اور Br2 کے 0.0437mol ملائے جاتے ہیں تو NO Br کے 0.0518mol حاصل ہوتے ہیں۔ NO اور Br2کی توازنی مقداریں معلوم کیجیے
7.10 450K پر توازن کے وقت دیے گئے تعامل کا
ہے۔
اس درجہ حرارت پر Kc کیا ہوگا؟
7.11 0.2atm کے دباؤ پر ایک فلاسک میں(HI(g کا ایک نمونہ رکھا گیا ہے توازن کے وقت HI کا جزوی دباؤ 0.04atm ہے۔ دیے گئے توازن کے لیے Kp کیا ہوگا؟
![]()
7.12 500K پر 20L کے ایک تعاملی برتن میں N2 کے H2،1.57mol کے 1.92 مول اور NH3 کے 8.13mol آمیزے کو داخل کیا گیا۔ اس درجہ حرارت پر تعامل
ہے۔ کیا تعامل آمیزہ توازن میں ہے؟ اگر نہیں تو کل تعامل کی سمت کیا ہوگی؟
7.13 ایک گیس تعامل کے لیے توازن مستقلہ کی علامت اس طرح دی گئی ہے:

اس عبارت کے لیے متوازن کیمیاوی مساوات لکھئے
7.14 10 L کے ایک برتن میں H2O کا ایک مول اور ایک مول CO لیے گئے اور 725K تک گرم کیے گئے۔ توازن پر %40 پانی (کمیت کے اعتبار سے) CO سے مندرجہ ذیل مساوات کے مطابق تعامل کرتا ہے۔
تعامل کے لیے توازن مستقلہ معلوم کیجیے۔
7.15 700K پر تعامل
کے لیے توازن مستقلہ 54.8 ہے اگر 700K پر توازن کے وقت (HI(gکے 1-0.5molL موجود ہیں تو (H2(g اور (I2(g کے ارتکاز کیا ہوں گے؟ یہ مانتے ہوئے کہ ہم نے تعامل کی شروعات (HI(g سے کی ہے اور اسے 700K پر توازن پر پہنچنے دیا جاتا ہے۔
7.16 توازن
میں ہر ایک شے کے توازن ارتکاز کیا ہوں گے جبکہ ICl کا ابتدائی ارتکاز 0.78M تھا۔
![]()
7.18 ایتھنال اور ایسیٹک ایسڈ کے درمیان تعامل سے ایتھائل ایسی ٹیٹ بنتا ہے توازن کا اظہار مندرجہ ذیل مساوات سے ہوتا ہے۔
(i) اس تعامل کے لیے ارتکاز نسبت (تعامل خارج قسمت) Qc لکھئے (نوٹ: اس تعامل میں پانی نہ تو وافر مقدار میں ہے اور نہ ہی محلل ہے)۔
(293K (ii پر اگر کوئی 1.00 مول ایسیٹک ایسڈ اور 10.18mol ایتھنال سے شروعات کرتا ہے تو اختتامی توازن آمیزے میں 0.171mol ایتھائل ایسی ٹیٹ ہوتا ہے۔ توازن مستقلہ معلوم کیجیے۔
( 10.5mol (iii ایتھنال اور 1.0mol ایسٹیک ایسڈ سے شروعات کرتے ہوئے اور درجہ حرارت 293K پر مستقل رکھتے ہوئے کچھ دیر بعد 0.214 مول ایتھائل ایسٹیٹ پایا گیا۔ کیا توازن حاصل ہوگیا؟
7.19 473K پر ایک وکیوم شدہ برتن میں خالص PCI5 داخل کی گئی۔ جب توازن قائم ہو گیا تو PCI5 کا ارتکاز
پایا گیا۔ اگر Kc کی قیمت 3-10 × 8.3 ہے تو توازن کے وقت PCI3 اور CI2 کے ارتکاز کیا ہوں گے۔
![]()
ہے
اگر CO اور CO3 کے ابتدائی جزوی دباؤ
تو 1050K پر ان کے جزوی دباؤ کیا ہوں گے؟
7.21 تعامل
کے لیے 500K پر Kcکی قدر 0.061 ہے۔ ایک خاص وقت پر تجزیہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تعاملی آمیزے میں N2 کے
کے 1-0.5mol L کیا تعامل توازن میں ہے؟ اگر نہیں تو توازن پر پہنچنے کے لیے تعامل کس سمت بڑھے گا؟
7.22 برومین مونو کلورائڈ (BrCl) برومین اور کلورین میں تحلیل ہو کر توازن پر پہنچتی ہے۔
جس کے لیے 500K پر Kc کی قدر 32 ہے۔ اگر شروع میں خالص BrCl کا ارتکاز
ہے تو توازن کے وقت آمیزے میں اس کا مولر ارتکاز کتنا ہوگا؟
7.23 1127K اور 1atm پر CO اور CO2 کے گیسی آمیزے کے ٹھوس کاربن کے ساتھ توازن میں ـCO کمیت کے اعتبار سے %90.55 ہے۔
اوپر دیے گئے درجہ حرارت پر مندرجہ بالا تعامل کے لیے Kc کی قیمت معلوم کیجیے۔
7.24 298K پر NO اور N2 سے NO2 کے لیے
جہاں

7.25 مندرجہ ذیل توازنوں میں اگر حجم بڑھا کر دباؤ میں کمی کی جائے تو تعامل ماحصلات کے مولوں کی تعدا بڑھے گی، گھٹے گی، یا برقرار رہے گی؟

7.26 مندرجہ ذیل تعاملات میں سے کون سا تعامل دباو بڑھانے پر زیادہ متاثر ہوگا۔ مزید یہ بھی کہ آیا تبدیلی کی وجہ سے تعامل پیش رفت ہوگا یہ پشت رفت۔

7.27 مندرجہ ذیل تعامل کے لیے توازن مستقلہ 1024K پر 105× 1.6 ہے
![]()
تمام گیسوں کے لیے توازن دباؤ معلوم کیجیے اگر1024K پرHBr ,10.0Bar ایک سیل بند برتن میں داخل کی گئی ہے۔
7.28 مندرجہ ذیل حرارت خور تعامل کے مطابق قدرتی گیس سے بھاپ کے ساتھ جزوی تکسید کے ذریعے ڈائی ہائڈروجن گیس حاصل کی گئی ہے۔
![]()
(a) مندرجہ بالا تعامل کے لیے Kpکی علامت لکھئے۔
(i) دباؤ کا اضافہ۔
(ii) درجہ حرارت کا اضافہ۔
(iii) وسیط کا استعمال ۔
7.29 تعامل
کے توازن پر مندرجہ ذیل کے اثرات بیان کیجیے۔
(H2 (a کا اضافہ
(CH3OH (bکا اضافہ
(HO (cکا اخراج
(CH3OH (dکا اضافہ
7.30 473K پر فاسفورس پینٹا کلورائڈ PCI5 کی تحلیل کا توازن مستقلہ
ہے۔ اگر تحلیل کو مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جائے تو:
(a) تعامل کے لیے Kc کی عبارت لکھئے۔
(b) اسی درجہ حرارت پر رجعتی تعامل کے لیے Kc کی قیمت کیا ہوگی؟
(Kc (c پر کیا اثر ہوگا اگر (i) زیادہ PCI5 کا اضافہ کیا جائے
(i) دباو میں اضافہ کیا جائے۔
(ii) درجہ حرارت میں اضافہ کیا جائے۔
7.31 ہیبر پراسس میں استعمال کی جانے H2 گیس قدرتی گیس کی میتھین کے بہت زیادہ درجہ حرارت پر بھاپ سے تعامل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ دو اسٹیج تعامل کی پہلی اسٹیج میں CO اور H2 کی تشکیل ہوتی ہے۔ دوسری اسٹیج میں، پہلی اسٹیج میں بننے والی CO اور واٹرگیس شفٹ تعامل میں زیادہ بھاپ سے تعامل کرتی ہے۔
![]()
اگر 400ºC پر تعاملی برتن میں CO اور بھاپ کا مساوی مولر آمیزہ داخل کیا جائے، اس طرح کہ
تو توازن کے وقت H2 کا جزوی دباؤ کیا ہوگا ؟ 400ºC پر kp =10.1 ہے۔
7.32 مندرجہ ذیل تعاملات میں کس میں متعامل اور ما حصل ارتکاز کافی ہوں گے

7.33 تعامل
کے لیے 25ºC پر Kc کی قیمت 50-10 × 2.0 ہے۔ اگر 25ºC پر ہوا میں O2 کا توازن مستقلہ 2-10 × 1.6 ہو تو O3 کا ارتکاز کیا ہوگا؟
7.34 تعامل
کے ایک فلاسک میں 1300K پر توازن میں ہے۔ اس میں CO کے 0.30 مول، H2 کے 0.10 مول اور H2O کے 0.02 مول اور CH4 کی نامعلوم مقدار بھی ہے۔ CH4 کا آمیزے میںارتکاز معلوم کیجیے۔ دیے گئے درجہ حرارت پر تعامل کے لیے توازن مستقلہ 3.90 ہے۔
7.35 جفتی تیزاب اساس جوڑے سے کیا مراد ہے؟ مندرجہ ذیل انواع کے لیے جفتی تیزاب/ اساس معلوم کیجیے۔
![]()
7.36 مندرجہ ذیل میں سے کون لیوئس تیزاب ہے؟
7.37 برونسٹڈ تیزابوں:
کے لیے جفتی اساس کیا ہوں گے؟
7.38 مندرجہ ذیل برونسٹڈ اساسوں کے لیے جفتی تیزاب لکھئے۔
![]()
7.39 انواع
اور NH3 برونسٹڈ تیزاب اور اساس کی طرح کام کر سکتے ہیں۔ ہر ایک کے لیے اس کا جفتی تیزاب اور اساس دیجیے۔
7.40 مندرجہ ذیل انواع کی لیوئس تیزاب اور اساس کے تحت درجہ بندی کیجیے اور بتائیے کہ یہ کس طرح لیوئس تیزاب / اساس کی طرح کام کرتے ہیں۔
7.41 ایک سوفٹ ڈرنک میں ہائڈروجن آین کا ارتکاز
ہے۔ اس کی pH کتنی ہوگی؟
7.42 سر کہ کے ایک نمونہ کی pH قدر 3.76 ہے۔ اس میں ہائڈروجن آین کا ارتکاز معلوم کیجیے۔
7.43 298K پر HCOOH, HF اور HCN کے آیونائزیشن مستقلے بالترتیب
ہیں۔ ان کے جفتی اساسوں کے آیونائزیشن مستقلے معلوم کیجیے۔
7.44 فینول کا آیونائزیشن مستقلہ 10-10 × 1.0 ہے۔ 0.05M فینول کے محلول میں فینولیٹ آین کا ارتکاز کیا ہوگا؟ اس کے آیونائزیشن ڈگری کتنی ہوگی اگر محلول سوڈیم فینولیٹ میں بھی 0.01M ہے۔
7.45 H2S کا پہلا آیونائزیشن مستقلہ 8-10 × 9.1 ہے۔ اس کے 0.1M محلول میں -HS آین کا ارتکاز معلوم کیجیے۔ یہ ارتکاز کس طرح متاثر ہوگا اگر محلول HCl میں بھی 0.1M ہے۔ اگر H2S کے لیے دوسرا آیونائزیشن مستقلہ 13-10 × 1.2 ہے تو دونوں حالات میں -S2 کے ارتکاز معلوم کیجیے۔
7.46 ایسیٹک ایسڈ کا آیونائزیشن مستقلہ 5-10 × 1.74 ہے۔ اس کے 0.05M محلول میں ایسیٹک ایسڈ کے افتراق کی ڈگری معلوم کیجیے۔ محلول میں ایسیٹک آین کا ارتکاز اور pH معلوم کیجیے۔
7.47 ایک 0.01M نامیاتی تیزاب کی pH قدر 4.15 پائی گئی ہے۔ این آین کا ارتکاز تیزاب کے لیے آیونائزیشن مستقلہ اور اس کی pKa معلوم کیجیے۔
7.48 یہ مانتے ہوئے کہ افتراق مکمل ہے، مندرجہ ذیل محلولوں کی pH معلوم کیجیے۔
![]()
7.49 مندرجہ ذیل محلولوں کی pH معلوم کیجیے۔
(TlOH 2g (a پانی میں گھل کر محلول کے 2 لیٹر بناتا ہے۔
(NaOH 0.3g (b پانی میں گھل کر500 mL محلول دیتا ہے۔
(NaOH 0.3 g (c پانی میں گھل کر 200 mL محلول دیتا ہے۔
کے 1 mL کو پانی سے ڈائی لیوٹ کر کے محلول کا 1L حاصل کرتے ہیں۔
7.50 0.1M بروموایسیٹک ایسڈ کی آیونائزیشن کی ڈگری 0.132 ہے۔ محلول کی pH اور برومو ایسیٹک ایسڈ کا pKa معلوم کیجیے۔
7.51 0.005M کوڈین
محلول کی pH قدر 9.95 ہے۔ اس کا آیونائزیشن مستقلہ pKb معلوم کیجیے۔
7.52 0.001M اینیلین محلول کی pH کیا ہوگی؟ اینیلین کا آیونائزیشن مستقلہ جدول 7.7 سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ محلول میں اینیلین کی آیونائزیشن کی ڈگری معلوم کیجیے۔ اینیلین کے جفتی تیزاب کا آیونائزیشن مستقلہ بھی معلوم کیجیے۔
7.53 اگر 0.05M ایسیٹک ایسڈ کی pKa قیمت 7.74 ہے تو اس کی آیونائزیشن ڈگری معلوم کیجیے۔ ڈگری آف آیونائزیشن پر کیا اثر ہوگا اگر محلول میں مندرجہ ذیل بھی موجود ہیں۔
میں؟
7.54 ڈائی میتھائل امین کا آیونائزیشن مستقلہ 4-10 × 5.4 ہے۔ اس کے 0.02M محلول میں آیونائزیشن کی ڈگری معلوم کیجیے۔ کتنے فیصد ڈائی میتھال امین آیونائز ہوگا اگر محلول NaOH میں بھی 0.1M ہے؟
7.55 مندرجہ ذیل حیاتیاتی سیالوں میں جن کے pH دیے گئے ہیں، ہائڈروجن آین کے ارتکاز معلوم کیجیے۔
(a) انسانی عضلاتی۔ سیال 6.83
(b) انسانی معدہ کا سیال1.2
(c) انسانی خون7.38
(d) انسانی لعاب 6.4
7.56 دودھ، بلیک کافی، ٹماٹر جوس، نیبو کا رس اور انڈے کی سفیدی کی pH بالترتیب 6.8 ,5.0, 4.2, 2.2 اور 7.8 ہے۔ ہر ایک کے لیے ان کے ہائڈروجن ارتکاز معلوم کیجیے۔
7.57 اگر 298K پر0.561 گرام KOH پانی میں گھل کر 200mL محلول دیتا ہے تو پوٹاشیم، ہائڈروجن اور ہائیڈراکسل آین کا ارتکاز اور محلول کی pH معلوم کیجیے۔
7.58 298K پر(Sr (OH2 کی حل پذیری محلول کی 19.23g/L ہے اسٹرونیشیم اور ہائڈرکسل آینوں کے ارتکاز اور محلول کی pH معلوم کیجیے ۔
7.59 پروپینوئک ایسڈ کا آیونائزیشن مستقلہ 5-10 × 1.32 ہے۔ اس کے 0.05M محلول میں تیزاب کی ڈگری آف آیونائزیشن معلوم کیجیے اور اس کی pH بھی نکالیے۔ اگر محلول HCl میں بھی 0.0M ہے تو اس کی ڈگری آف آیونائزیشن کیا ہوگی؟
7.60 سیانک ایسڈ (HCNO) کے 0.1M محلول کی pH قدر 2.34 ہے تیزاب کا آیونائزیشن مستقلہ اور محلول میں اس کی ڈگری آف آیونائزیشن معلوم کیجیے۔
7.61 نائٹرس ایسڈ کا آیونائزیشن مستقلہ 4-10 × 4.5 ہے۔ 0.04M سوڈیم نائٹرائٹ محلول کی pH اور اس کی ڈگری آف ہائڈرولس معلوم کیجیے۔
7.62 پریڈ ینیم ہائڈرو کلورائڈ کے 0.02M محلول کی pH قدر 3.44 ہے۔ پریڈین کا آیونائزیشن مستقلہ معلوم کیجیے۔
7.63 بتائیے کہ مندرجہ ذیل محلول تیزابی، اساسی یا تعدیلی ہیں۔
7.64 کلوروایسیٹک ایسڈ کا آیونائزیشن مستقلہ 3-10 × 1.35 ہے۔ 0.1M تیزاب اور اس کے 0.1M سوڈیم نمک محلول کی pH کیا ہوگی۔
7.65 310 K پر پانی کا آینی ماحصل 14-10 × 2.7 ہے۔ اس درجہ حرارت پر تعدیل پانی کی pH کیا ہوگی؟

7.67 298K پر سلور کرومیٹ، بیریم کرومیٹ، فیرک ہائڈرو آکسائڈ لیڈ کلورائڈ اور مرکیورس آیوڈائڈ کی حل پذیری جدول 7.9 میں دیے گئے ان کے حل پذیری ما حصل مستقلوں کی قیمتوں کی مدد سے معلوم کیجیے۔ انفرادی آینوں کی مولاریت بھی معلوم کیجیے۔
7.68
اور AgBr کے حل پذیری ماحصل مستقلے بالترتیب 12-10 × 1.1 اور 13-10 × 5.0 ہیں۔ ان کے سیر شدہ محلولوں کی مولاریت کی نسبت معلوم کیجیے۔
7.69 0.002M سوڈیم آیوڈیٹ اور کیو پرک کلوریٹ محلولوں کے برابر حجم آپس میں ملائے گئے۔ کیا اس کے نتیجے میں کاپر آیوڈیٹ کی ترسیب ہوگی (کیوپرک آیوڈیٹ کے لیےKsp = 7.4 × 10–8)۔
7.70 بینزوئک ایسڈ کا آیونائزیشن مستقلہ 5-10 × 6.46 ہے۔ اور سلوربینزویٹ کے لیے 13-10 × 2.5 ہے۔ pH 3.19 والے حاجب میں سلور بینزویٹ خالص پانی میں اس کی حل پذیری کے مقابلے کتنے گنا زیادہ حل پذیر ہوگا۔
7.71 فیرس سلفیٹ اور سوڈیم سلفائڈ کے مساوی مولر محلول کا زیادہ سے زیادہ ارتکاز کیا ہوگا تاکہ جب دونوں کو برابر حجم میں ملایا جائے تو آئرن سلفائڈ کی ترسیب نہ ہو؟ (آئرن سلفائڈ کے لیے Ksp = 6.3 × 10–18)
7.72 298K پر 1g کیلشیم سلفیٹ کو حل کرنے کے لیے کم سے کم کتنے پانی کی ضرورت ہوگی (کیلیشیم سلفیٹ کے لیے Ksp = 9.1 × 10–6۔ہے)
7.73 ہائڈروجن سلفائڈ سے سیر شدہ 0.1M HC l میں سلفائڈ آین کا ارتکاز
ہے۔ اگر اس کے 10mL مندرجہ ذیل کے 0.04M کے 5mL میں ملا دیے جائیں تو اب محلولوں میں سے کس کی ترسیب ہوگی: