Skip to content
Keemiyan II

اکائی 8

تحویل– تکسید تعاملات

(Redox Reactions)

مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

  • تحویل- تکسید (Redox) تعاملات کی شناخت  تعاملات کے اس درجہ کے طورپر کرسکیں جن میں تکسید اور تحویل تعاملات بہ یک وقت ہوتے ہیں؛
  • تکسید، تحویل، تکسید کار (Oxidant)، تحویل کار (Reductant) جیسی اصطلاحات کی تعریف کرسکیں؛
  • الیکٹران منتقلی کے عمل کے ذریعہ تحویل-تکسید تعاملات کے میکینزم کی وضاحت کر سکیں؛
  • کسی تعامل میں تکسید کار اور تحویل کار کی شناخت کے لیے تکسیدی عدد کے تصور کا استعمال کرسکیں؛
  • تحویل-تکسید تعاملات کی درجہ بندی، اتحادی (Combination)، تالیف (Synthesis)، تحلیل (Decomposition)، ہٹاؤ (Displacement)، غیر تناسب کاری (Disproportionation) تعامل میں کر سکیں؛
  • مختلف تحویل کاروں اور تکسید کاروں کے درمیان تقابلی درجہ تجویز کرسکیں؛
  • (i) تکسیدی عدد اور (ii) نصف تعامل طریقے کا استعمال کرتے ہوئے کیمیائی مساوات کو متوازن کر سکیں؛
  • الیکٹروڈ عمل (Electrode Process) کی شکل میں تحویل تکسید تعاملات کا تصور سیکھ سکیں؛

"جہاں تکسیدی عمل ہوتا ہے، وہاں ہمیشہ تحویل بھی ہوتی ہے۔ کیمسٹری بنیادی طور پر تحویلی-تکسیدی نظاموں کا مطالعہ ہے"۔

کیمسٹری میں مختلف قسم کے مادّوں اور ایک قسم کے مادّے کی دوسری میں تبدیلی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔مادّے کی ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیلی مختلف قسم کے تعاملات کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس قسم کے تعاملات کا ایک اہم زمرہ تحویل- تکسید (Redox) تعاملات ہے۔ طبیعیاتی اور حیاتیاتی مظاہر کی ایک بڑی تعداد تحویل-تکسید تعاملات سے متعلق ہیں۔ یہ تعاملات ادویاتی، حیاتیاتی، صنعتی، فلزکاری (Metallurgical) اور زراعتی میدانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان تعاملات کی اہمیت اس حقیقت سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ گھریلو، نقل و حمل اور دیگر تجارتی مقاصد کے لیے توانائی حاصل کرنے کی غرض سے مختلف قسم کے ایندھنوں کااستعمال، بہت زیادہ متعامل دھاتوں اور غیردھاتوں کے استخراج کے برقی کیمیائی طریقے، کا سٹک سوڈا جیسے کیمیائی مرکبات کی تیاری، خشک اور گیلی بیٹریوں کے کام کرنے کا عمل اور دھاتوں کا تاکل(Corrosion)، تحویل- تکسید عملوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ حال ہی میں، ماحولیاتی امور، جیسے ہائڈروجن معیشت (Hydrogen Economy) (رقیق ہائڈروجن کا ایندھن کے طور پر استعمال)اور اوزون سوراخ (Ozone Hole) کا بننا بھی تحویل- تکسید مظاہر کے تحت آنے لگے ہیں۔

8.1 تحویل -تکسید تعاملات کا کلاسیکی نظریہ- تکسید اور تحویل تعاملات 

(Classical Idea of Redox Reactions –  Oxidation And Reduction Reactions)

ابتدا میں ’’تکسید‘‘ (Oxidation) کی اصطلاح کسی عنصر یا مرکب میں آکسیجن کے اضافے کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ کرہ باد (Atmosphere) میں ڈائی آکسیجن کی موجودگی (20%~) کی وجہ سے کئی عناصر اس کے ساتھ متحد ہو جاتے ہیں، اور یہی اصل وجہ ہے کہ وہ زمین پر عام طور سے اپنے آکسائڈ کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ تکسید کی محدود تعریف کے مطابق مندرجہ ذیل تعاملات تکسید کے عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔

2Mg (s) + o²(g)↔2Mgo (s)    (8-1)

S (s) + O² (g)↔ SO²   (8-2)


تعاملات (8.1) اور(8.2) میں عناصر میگنیشیم اور سلفر کی تکسید ہوئی ہے کیونکہ ان میں آکسیجن شامل ہوئی ہے۔ اسی طرح میتھین (Methane) کی تکسید ہوئی ہے کیونکہ اس میں بھی آکسیجن شامل ہوئی ہے۔

CH4 (g)+20²(g)↔co²(g)+2H²O (I)   (8.3)

تعامل (8.3) میں ہائڈروجن کی جگہ آکسیجن نے لے لی ہے، کے بغور تجزیے نے کیمیا دانوں کو ترغیب دی کہ تکسید کی تعریف اس طرح بھی کی جا سکتی ہے کہ یہ ہائڈروجن کا ’’ہٹایا جانا‘‘ ہے اور اس طرح اصطلاح ’’تکسید‘‘ کا دائرہ کار اور وسیع ہو گیا اور کسی شے سے ہائڈروجن کا ہٹایا جانا بھی شامل کرلیا گیا۔ مندرجہ ذیل تعامل ایک ایسی ہی مثال ہے جس میں ہائڈروجن کے ہٹائے جانے کو تکسیدی تعامل کہا جا سکتا ہے۔

2 H² S (g) + O² (g)↔2S (s) + 2 H² O (I)(8.4)

جیسے جیسے کیمیا دانوں کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہا، 8.1 تا 8.4 جیسے تعاملات کے لیے اصطلاح تکسید میں توسیع فطری بات تھی، ایسے تعاملات جن میں آکسیجن نہیں، بلکہ دوسرے برقی منفی عناصر شامل ہوتے ہیں۔ میگنیشیم کی فلورین، کلورین، اور سلفر وغیرہ کے ساتھ تکسید مندرجہ ذیل تعاملات کے مطابق ہوتی ہے:

Mg (s) + F² (g) ↔MgF² (s)      (8-5)

Mg (S) + CI² (g) ↔ MgCI² (s)   (8-6)

Mg (S)  + S (s) ↔MgS (s)     (8-7)

تعاملات (8.5) تا (8.7) کی  تکسید کے زمرے میں شمولیت نے کیمیا دانوں کو حوصلہ دیا کہ وہ صرف ہائڈروجن کے ہٹائے جانے کوہی نہیں بلکہ برقی مثبت عناصر کے ہٹائے جانے کو بھی تکسید مانیں۔ اس لیے تعامل:

2k 〈Fe〈CN〉6I (aq) * H² (àIFe (CN)6 I aq)

+2 KOH ( aq)

کو بھی تکسید مانا جا سکتا ہے کیونکہ پوٹاشیم فیری سائنائڈ میں تبدیل ہونے سے پہلے پوٹاشیم فیروسائنائڈ میں سے برقی مثبت عنصر پوٹاشیم کو خارج کیا گیا ہے۔ خلاصے کے طور پر اصطلاح ’’تکسید‘‘ کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ کسی شے میں آکسیجن/برقی منفی عنصر کی شمولیت یا کسی شے سے ہائڈروجن /برقی مثبت عنصر کا اخراج تکسید ہے۔‘‘

ابتدا میں تحویل کو کسی مرکب سے آکسیجن کا ہٹایا جانا سمجھا گیا۔ حالانکہ اب اصطلاح تحویل (Reduction) کی توسیع کر دی گئی ہے اور کسی شے سے آکسیجن/برقی منفی عنصر کا اخراج یاکسی شے میں ہائڈروجن/برقی مثبت عنصر کی شمولیت تحویل کہلاتی ہے۔

مندرجہ بالا تعریف کے مطابق عمل تحویل کی مثالیں  مندرجہ ذیل ہیں:

2Hgo (S) ↔2 Hg (i) + O² (g)   (8-8)

(مرکیورک آکسائڈ (mercuric oxide) سے آکسیجن کا اخراج)

2 Fec1³ (aq) + (g) ↔Fec1² (aq) + 2 HC1 (aq)

(8-9)

(فیرک کلورائڈ (Ferric Chloride) سے برقی منفی عنصر، کلورین کا اخراج)

CH² = CH² (g) + H² (g) ↔CH² (g) (8-10)

(ہائڈروجن کی شمولیت)

2Hgcl² ( aq) + snc1² (aq) ↔Hgcl² (s) + sncl4 (aq) 

(مرکیورک کلورائڈ میں مرکری کی شمولیت)

تعامل (8.11) میں اسٹینس کلورائڈ (Stannous Chloride) کی اسٹینک کلورائڈ (Stannic Chloride) میں تکسید بھی ہو رہی ہے کیونکہ اس میں برقی منفی عنصر کلورین کی شمولیت ہو رہی ہے۔ جلہ ہی یہ معلوم ہو گیا کہ تکسید اور تحویل کے عمل ہمیشہ بہ یک وقت ہوتے ہیں (جیسا کہ اوپر دی ہوئی تمام مساوات کی دوبارہ جانچ کرنے سے ظاہر ہو جاتا ہے)۔ اس لیے کیمیائی تعاملات کی اس قسم کے لیے لفظ ’’تحویل تکسید‘‘ (Redox) وضع کیا گیا۔

مسئلہ 8.1 

نیچے دیے ہوئے تعاملات میں ان کیمیاوی اشیا کی شناخت کیجیے جن کی تکسید اور تحویل ہو رہی ہے۔

(i) H²S (g) + ci² (g) ↔2 HCI (g) + S (S)

(II) 3Fe³o 4 (s) +8 AL (s) ↔ 9Fe (s)

+ 4AL² O³ (s)

(iii) 2Na (s) + H² (g) ↔2NaH (s)

حل

H² S (I)

 کی تکسید ہو رہی ہے کیونکہ سلفر کے مقابلے میں ایک زیادہ برقی منفی عنصر کلورین، ہائڈروجن میں شامل ہوا ہے (یا ایک زیادہ برقی مثبت عنصریعنی ہائڈروجن، S سے خارج ہوا ہے)۔ کلورین کی تحویل ہوئی ہے، کیونکہ ہائڈروجن اس میں شامل ہوئی ہے۔

(ii)  ایلومینیم کی تکسید ہوئی ہے کیونکہ آکسیجن اس میں شامل ہوئی ہے۔ اور فیرسو فیرک آکسائڈ (Fe3O4) کی تحویل ہوئی ہے کیونکہ آکسیجن اس سے خارج ہوئی ہے۔

(iii)  صرف برقی منفیت (Electronegativity) کے تصور کے اطلاق سے ہی ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سوڈیم کی تکسید ہوئی ہے اور ہائڈروجن کی تحویل۔

منتخب کیا گیا تعامل (iii) ہمیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ ہم تحویل تکسید تعاملات کی تعریف کرنے کا کوئی اور طریقہ سوچیں

8.2 الیکٹران منتقلی تعاملات کی شکل میں تحویل تکسید تعاملات 

(Redox Reactions in Terms of Electron  Transfer Reactions)

ہم پہلے ہی سیکھ چکے ہیں کہ تعاملات :

2Na (s) + cl²(g)↔2Nacl (s)   (8-12)

2Na (s) + O² (g)↔ Na² O (s)  (8-13)

2Na(s) + S(s) ↔Na²S(s)   (8-14)

تحویل تکسید تعاملات ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک تعامل میں سوڈیم میں یا تو آکسیجن یا زیادہ برقی منفی عنصر کے شامل ہونے کی وجہ سے سوڈیم کی تکسید ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کلورین، آکسیجن اور سلفر کی تحویل ہوئی ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں برقی مثبت عنصر سوڈیم شامل ہو گیا ہے۔ ہم کیمیائی بندش (Chemical Bonding) کی اپنی معلومات کی بنا پر یہ بھی جانتے ہیں کہ سوڈیم کلورائڈ، سوڈیم آکسائڈ اور سوڈیم سلفائڈ، آینی مرکبات (Ionic Compounds) ہیں اور شاید انھیں بہتر طریقے سے اس طرح لکھا جا سکتا ہے:

〈Na〉² S² (s)  اور 〈Na〉² O² (s) Na Cl (s)

 ماحصل انواع پر برقی چارج کا پیدا ہونا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تعاملات (8.12 تا 8.14) کو ہم دوبارہ مندرجہ ذیل طریقے سے لکھ سکتے ہیں۔

2e کا زیاں

2Na(s) +cl²(g)↔2Na+cl (s)

2e کا حصول

2Na(s) + o² (g) ↔(Na+)² o²(s)

2e کا حصول


2e کا زیاں

2Na(s) + S (s)↔(Na+)² S² (S)

آسانی کے لیے مندرجہ بالا عملوں میں سے ہر ایک کو دو علیحدہ اقدامات سمجھا جا سکتا ہے، ایک وہ جس میں الیکٹرانوں کا زیاں شامل ہے اور دوسرا وہ جس میں الیکٹرانوں کا حصول۔ مثال کے لیے ہم ان میں سے ایک عمل، سوڈیم کلورائڈ کی تشکیل کی مزید وضاحت کرسکتے ہیں:

2 Na〈s)↔2Na+ (g) + 2e

Cl〈g) + 2e ↔2Cl 〈g)

مندرجہ بالا میں ہر ایک قدم، نصف تعامل (Half Reaction) کہلاتا ہے، جو الیکٹرانوں کی شمولیت کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ نصف تعاملات کا حاصل جمع، مجموعی تعامل دیتا ہے:

2Na 〈s)+ Cl² 〈g) ↔2Na+ Cl 〈s) or 2 Nacl 〈s〉

تعاملات 8.12 تا 8.14 تجویز کرتے ہیں کہ وہ نصف تعاملات، جن میں الیکٹرانوں کا زیاں شامل ہوتا ہے، تکسیدی تعاملات کہلاتے ہیں۔ اسی طرح وہ نصف تعاملات جن میں الیکٹرانوں کا حصول شامل ہوتا ہے تحویلی تعاملات کہلاتے ہیں۔ یہ ذکر بھی بے جانہ ہوگا کہ تکسید اور تحویل کی تعریف کرنے کا نیا طریقہ اسی وقت حاصل ہو سکا جب انواع کے طرزعمل کے کلاسیکی نظریے اور الیکٹران منتقلی تبدیلی میں ان کے رول کے درمیان ہم رشتگی قائم ہوسکی۔ تعاملات (8.12 تا 8.14) میں سوڈیم، جس کی تکسید ہوئی ہے، بہ طور تحویلی ایجنٹ (Reducing Agent) کام کر رہا ہے کیونکہ یہ ہر اس عنصر کو الیکٹران عطا کرتا ہے جو اس سے تعامل کرتا ہے اور اس طرح ان کی تحویل میں مدد کرتا ہے۔ کلورین، آکسیجن اور سلفر کی تحویل ہوئی ہے اور یہ بہ طور تکسیدی ایجنٹ کام کرتے ہیں کیونکہ یہ سوڈیم سے الیکٹران حاصل کرتے ہیں۔ خلاصہ کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں:

تکسید : کسی بھی نوع سے الیکٹران (الیکٹرانوں) کا زیاں

تحویل: کسی بھی نوع کے ذریعے الیکٹران (الیکٹرانوں) کا حصول

تکسیدی ایجنٹ: الیکٹران(الیکٹرانوں)کا حصول کار (Acceptor) 

تحویل ایجنٹ : الیکٹران (الیکٹرانوں) کا معطی (Donor) 

مسئلہ8.2  

جواز پیش کیجیے کہ تعامل:

2Na(s) + H²〈g〉↔2NaH 〈s)

 ایک تحویل تکسید تبدیلی ہے۔

حل 

کیونکہ مندرجہ بالا تعامل میں تشکیل پانے والا مرکب ایک آئینی مرکب ہے، جسے 5166_Keemiyan II_Ch08_284b کے طور پر ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اس عمل میں ایک نصف تعامل مندرجہ ذیل ہے:

2Na(s)↔Na (g) + 2e

اور دوسرا نصف تعامل ہے:

H²〈g〉+2e↔2H 〈g〉 

اس لیے دیے ہوئے تعامل کو دو نصف تعاملات میں توڑنے سے اپنے آپ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہاں سوڈیم کی تکسید ہوئی ہے اور ہائڈروجن کی تحویل- اس لیے مکمل تعامل ایک تحویل-تکسید تبدیلی ہے۔

8.2.1 مسابقتی الیکٹران منتقلی تعاملات

(Competitive Electron Transfer Reactions)

جیسا کہ شکل 8.1 میں دکھایا گیا ہے کہ کاپر نائٹریٹ (Copper Nitrate) کے آبی محلول میں دھاتی زنک کی ایک چھڑ تقریباً ایک گھنٹے تک رکھیے۔ آپ دیکھیں گے کہ چھڑوں پر سرخی مائل دھاتی کاپر کی تہہ چڑھ جاتی ہے اور محلول کا رنگ غائب ہو جاتا ہے۔ جب محلول کا نیلا رنگ، جو کہ5166_Keemiyan II_Ch08_284e  کی وجہ سے تھا، غائب ہو جاتا ہے تو ما حصلات میں 5166_Keemiyan II_Ch08_284f آینوں کی تشکیل کی جانچ بہ آسانی کی جا سکتی ہے۔ اگر5166_Keemiyan II_Ch08_284f آئین پر مشتمل اس بے رنگ محلول میں سے H2S گیس گزاری جائے اور محلول کو امونیا کے ساتھ قلوی (Alkaline) کرنے پر سفید زنک سلفائڈ، ZnS کا بننا دیکھا جا سکتا ہے۔

دھاتی زنک اور کاپر نائٹریٹ (Copper Nitrate) کے آبی محلول کے درمیان ہونے والا تعامل ہے:

Zn 〈s〉+cu²+〈aq〉↔ZN2+〈aq〉+cu〈s〉 〈8-15〉

تعامل (8.15) میں، 5166_Keemiyan II_Ch08_284f بننے کے لیے زنک الیکٹرانوں کا زیاں ہوا ہے، اس لیے Zn کی تکسید ہوئی ہے۔ اور اب اگر الیکٹران خارج کر کے زنک کی تکسید ہوئی ہے، تو زنک کے ذریعے خارج کیے گئے الیکٹرانوں کو قبول کر کے کسی شے کی تحویل ہونا بھی لازمی ہے۔ زنک سے الیکٹران حاصل کر کے کاپرآین کی تحویل ہوجاتی ہے۔

تعامل (8.15) کو ایسے لکھا جا سکتا ہے:

2e کا اخراج

Zn(s) + cu²+(aq)↔Zn²(aq) +cu (s)

2e کا حصول

zn پرcuجمع ہو جا تا ہے اختتامی حالت7آخرمیںcu cuکی شکل میں جمع ہو جاتا ہے

درمیانی حالت 8 نیلے رنگ کی شددت کم ہو جا تی ہے

ابتدائی حالت 9 کاپرنائٹریٹ محلول میں ڈالی گئی znچھڑ

شکل 1-8 ایک پیکر میں زنک اور کاپرنائٹریٹ کے آبی ماحول کے درمیان تحویل تکسید تعامل

اب ہم مساوات (8.15) سے ظاہر کیے گئے تعامل کی حالت توازن کی جانچ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے آئیے ایک زنک سلفیٹ (Zinc Sulphate) کے محلول میں دھاتی کاپر کی چھڑ ڈالتے ہیں۔ کوئی تعامل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا اور محلول میں سے H2S گیس گزار کر کیوپرک سلفائڈ (CuS) کا سیاہ رنگ پیدا کر کے 5166_Keemiyan II_Ch08_284e آینوں کی موجودگی کا پتہ لگانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوپرک سلفائڈ کی حل پذیری اتنی کم ہے کہ یہ ایک بہت ہی حسّاس ٹیسٹ ہے، پھر بھی 5166_Keemiyan II_Ch08_284e  کی تشکیل کی شناس نہیں ہو پاتی۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تعامل (8.15) کے لیے حالت توازن، ماحصلات کے مقابلے میں متعاملات کے زیادہ موافق ہے۔

آئیے اب الیکٹران منتقلی تعامل کی توسیع کریں: کاپر دھات اور پانی میں بنائے گئے سلورنائٹریٹ (Silver Nitrate) محلول کا تعامل دیکھنے کے لیے شکل 8.2 کے مطابق سامان ترتیب دیجیے۔ محلول میں مندرجہ ذیل تعامل کے ذریعے 5166_Keemiyan II_Ch08_284e  آینوں کی تشکیل کی وجہ سے نیلا رنگ پیدا ہوجاتا ہے۔ 

2eکا اخراج

cu(s) + 2 Ag (aq) ↔cu²(aq) + 2A(s)

2e کا حصول

(16-8)

یہاں cu(s)کی cu²(aq) میں تکسید ہوئی ہے اورAg (aq) کی (Ag )s میں تحویل ہوتی ہے۔ توازن ماحصلات cu²(aq) اور Ag s کے زیادہ موافق ہے۔ 

آئیے، دھاتی کو بالٹ کو نکل سلفیٹ محلول میں رکھنے پر ہونے والے تعامل کا موازنہ کریں۔ یہاں جو تعامل ہوتا ہے وہ مندجہ ذیل ہے:

2eکا اخراج

co (s) + Ni²(aq)↔co²(aq) + Ni(s)

2e کا حصول

(8.17)

حالت توازن میں، کیمیائی ٹیسٹ سے پتہ چلتا ہے کہNi²(aq)  اور co²(aq) دونوں معتدل ارتکاز کے ساتھ موجود ہیں۔ اس صورت میں توازن نہ تو متعاملاتand Ni²(aq)  co (s)اور نہ ہی ماحصلاتco²(aq) and Ni (s) کے موافق ہے۔

الیکٹران خارج کرنے کا یہ مقابلہ ہمیں تیزابوں میں پروٹان خارج کرنے کے مقابلے کی یاد دلاتا ہے۔ دونوں کی یکسانیت تجویز کرتی ہے کہ ہم ایک ایسا جدول تیار کر سکتے ہیں جس میں دھاتیں اور ان کے آینوں کی فہرست ان کے الیکٹران خارج کرنے کے رجحان کی بنیاد پر تیار کی جائے جیسا کہ ہم تیزابوں کی طاقت (Strength) کی نشاندہی کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ دراصل ہم پہلے ہی کچھ مقابلے کرچکے ہیں۔ مقابلے کے ذریعے ہمیں معلوم ہے کہ زنک، کاپر کے لیے الیکٹران خارج کرتا ہے اور کاپر، سلور کو الیکٹران دیتا ہے، اس لیے ان دھاتوں کے الیکٹران خارج کرنے کے رجحان کی ترتیب اس طرح ہے : Zn > Cu > Ag۔ ہم یقینا اپنی فہرست کو زیادہ جامع بنانا چاہیں گے اور ایک دھات سرگرمی سلسلہ (Metal Activity Series) یا برقی کیمیائی سلسلہ (Electrochemical Series) ترتیب دینا چاہیں گے۔ مختلف دھاتوں کے درمیان الیکٹرانوں کے لیے مسابقت، ایک خاص قسم کے سیل (Cell) تیار کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے جو گیلوینک سیل (Galvenic Cells) کہلاتے ہیں اور جن میں کیمیائی تعاملات، برقی توانائی کا ماخذ ہوتے ہیں۔ آپ درجہ XII میں ان سیلوں کا مزید مطالعہ کریں گے۔

چھڑ پرسلورجمع ہوتی ہے 10نیلے رنگ کی شدت میں اضافہ ہو تا ہ

اختتامی مرحلہ

نیلا رنگ بننا شروع ہو تا ہے 11

درمیانی مرحلہ

سلور نائٹریٹ محلول میں ڈوبی ہوئی کاپر کی چھڑ12

ابتدائی مرحلہ

شکل 2-8  ایک پیکر میں زنک اور کاپرنائٹریٹ کے آبی محلول کے درمیان تحویل تکسید تعامل

8.3 تکسیدی عدد (Oxidation Number) 

ہائڈروجن کا آکسیجن کے ساتھ اتحاد کر کے پانی کی تشکیل الیکٹران منتقلی کی ایک کم واضح مثال ہے۔ تعامل مندرجہ ذیل ہے: 

2H²(g) + O² (g) ↔ 2H²o (l)  (8.18)

حالانکہ طریقہ کار سادہ نہیں ہے، پھر بھی ہم تصور کر سکتے ہیں کہ جیسے جیسے H2 میں H ایٹم ایک تعدیلی (صفر) حالت سے H2O میں ایک مثبت حالت کی طرف جا رہا ہے، اور O ایٹم، O2 میں ایک صفر حالت سے  H2O میں ایک ڈائی منفی حالت کی طرف جا رہا ہے۔ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ H سے O پر ایک الیکٹران منتقل ہوتا ہے اور نتیجتاً H2 کی تکسید ہوتی ہے اور O2 کی تحویل ہوتی ہے۔ لیکن، جیسا کہ ہم بعد میں دیکھیں گے، چارج کی منتقلی صرف جزوی ہے اور اسے زیادہ بہتر طورپر بیان کرنے کے لیے ہم اسے H کے ذریعے الیکٹران کے مکمل اخراج اور O کے ذریعے الیکٹران کے مکمل حصول کے بجائے، الیکٹران شفٹ (Electron Shift) کہہ سکتے ہیں۔ یہاں مساوات (8.18) کے لیے جو کچھ کہا گیا ہے وہ بہت سے ان دوسرے تعاملات پر بھی صادق آسکتا ہے، جن میں شریک گرفت مرکبات شامل ہوتے ہیں۔

تعاملات کی اس قسم کی دو مثالیں ہیں:

H²(g) + 4cl²(g)↔ 2Hcl  (g)   (8.19)

اور

CH4 (g) + 4cl²(g)↔ccl4 (l) + 4HCl (g)  (8-20)

وہ کیمیائی تعاملات جن میں شریک گرفت مرکبات کی تشکیل شامل ہوتی ہے ان میں الیکٹران شفٹ کی معلومات رکھنے کے لیے، ایک زیادہ عملی طریقہ، بنایا گیا ہے جس میں تکسیدی عدد (Oxidation Number) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں، ہمیشہ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ ایک کم برقی منفی ایٹم سے زیادہ برقی منفی ایٹم کو الیکٹران کی مکمل منتقلی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم مساوات (8.18 تا 8.20) کو دوبارہ لکھ کر تعامل میں حصہ لینے والے ہر ایک ایٹم کا چارج ظاہر کرتے ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch08_286d

یہ وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ الیکٹران منتقلی کا مفروضہ صرف حساب رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس اکائی کے بعد کے مرحلوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ مفروضہ، تکسید تحویل تعاملات کے سادہ بیان کی طرف رہ نمائی کرتا ہے۔

تکسیدی عدد (Oxidation Number) کسی عنصر کی ایک مرکب میں تکسیدی حالت (Oxidation State) کو ظاہر کرتا ہے جو کہ ان قاعدوں کے ایک سیٹ کے مطابق طے ہوتی ہے جو اس بنیاد پر تشکیل دیے گئے ہیں کہ ایک شریک گرفت بند میں الیکٹران، مکمل طور پر زیادہ برقی منفی عنصر سے تعلق رکھتا ہے۔ 

یہ یاد رکھنا یا یہ پہچان پانا، ہمیشہ ہی ممکن نہیں ہے کہ کسی مرکب/آین میں کون سا عنصر دوسرے کے مقابلے میں زیادہ برقی منفی ہے۔ لہٰذا کسی عنصر کا تکسیدی عدد معلوم کرنے کے لیے قاعدوں کا ایک سیٹ تشکیل دیا گیا ہے۔ اگر ایک عنصر کے دو یادو سے زائد ایٹم ایک سالمہ/ آین میں پائے جاتے ہیں، جیسے Na²s²⁄cr²o27وغیرہ میں، تو اس عنصر کے ایٹم کا تکسیدی عدد، اس عنصر کے تمام ایٹموں کے تکسیدی اعداد کا اوسط ہوگا۔ اب ہم تکسیدی عدد کا حساب لگانے کے لیے قاعدے بیان کرتے ہیں۔ یہ قاعدے ہیں۔

عناصر میں، آزاد یا غیر متحد حالت میں ہر ایک ایٹم کا تکسیدی عدد صفر ہوتا ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ Al.Mg.Na.s8.p4.o³.cl².o³ میں ہر ایک ایٹم کا تکسیدی عدد صفر ہے۔

صرف ایک ایٹم پر مشتمل آنیوں میں تکسیدی عدد، آین کے چارج کے مسادی ہے۔ اس لیے +Na آین کا تکسیدی عدد 1+ ہے، +Mg2 آین کا 2+ ہے،+Fe3 آین کا Cl،+3  آین کا  1–، O2  آین کا 2– وغیرہ۔ اپنے مرکبات میں تمام قلوی دھاتوں (Alkali Metals) کا تکسیدی عدد 1+ ہے اور تمام قلوی مٹی دھاتوں (Alkaline Earth Metals) کا تکسیدی عدد 2+ ہے۔ ایلومینیم کا اپنے تمام مرکبات میں تکسیدی عدد 3+ ہے۔

زیادہ تر مرکبات میں آکسیجن کا تکسیدی عدد 2– ہے۔ لیکن یہاں پر دو قسم کی استثنائی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی صورت پرآکسائڈ (Peroxides) اور سوپر آکسائڈ(Super Oxides) میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ مرکبات ہیں جن میں آکسیجن کے ایٹم ایک دوسرے سے براہِ راست منسلک رہتے ہیں۔ جبکہ پرآکسائڈ (مثلاً Na2O ، H2O2 وغیرہ) میں آکسیجن ایٹم کو تکسیدی عدد–1 تفویض کیا جاتا ہے، سپر آکسائڈ مثلاً (KO2، RbO2) میں ہر ایک آکسیجن ایٹم کو تکسیدی عدد –(½) تفویض کیا جاتا ہے۔ دوسری استثنائی صورت بہت کم پیش آتی ہے یعنی کہ جب آکسیجن کی بندش فلورین سے ہوتی ہے۔ ایسے مرکبات میں، مثلاً آکسیجن ڈائی فلورائڈ (OF2) اور ڈائی آکسیجن ڈائی فلورائڈ (O2F2)، میں آکسیجن کو تکسیدی عدد، بالترتیب، 2+ اور 1+ تفویض کیا جاتا ہے۔ آکسیجن کو تفویض کیا گیا عدد آکسیجن کی بندشی حالت پر منحصر ہوگا لیکن یہ عدد اب صرف مثبت عدد ہی ہوگا۔

ہائڈروجن کا تکسیدی عدد 1+ ہے سوائے اس کے کہ جب یہ بائنری مرکبات (یعنی وہ مرکبات جن میں دو عناصر ہوتے ہیں) میں دھاتوں سے بندھی ہو ۔ مثلاً NaH,LiH اور CaH2 میں اس کا تکسیدی عدد (1–) ہے۔

اپنے تمام مرکبات میں، فلورین کا تکسیدی عدد (1–) ہے۔ دوسرے ہیلوجن (Br, Cl اور I) کا تکسیدی عدد بھی جب وہ اپنے مرکبات میں بطور ہیلائڈ آین (Halide Ions) پائے جاتے ہیں، 1– ہوتا ہے۔ کلورین، برومین اور آیوڈین جب آکسیجن سے متحد ہوتے ہیں، مثلاً آکسو ایسڈ (Oxoacids) اور آکسو این آین (Oxoanions)، تو ان کے تکسیدی اعداد مثبت ہوتے ہیں۔

ایک مرکب میں تمام عناصر کے تکسیدی اعداد کا الجبری حاصل جمع صفر ہونا لازمی ہے۔ کثیر ایٹمی آین میں آین کے تمام ایٹموں کے تکسیدی اعداد کا الجبری حاصل جمع، آین کے برقی چارج کے مساوی ہونا لازمی ہے۔ اس لیے کاربونیٹ آین CO3)2)  میں، تین آکسیجن ایٹموں اور ایک کاربن ایٹم کے تکسیدی اعداد کا حاصل جمع (2–) کے مساوی ہونا لازمی ہے۔

مندرجہ بالا قاعدوں کو استعمال کرکے کسی بھی سالمہ یا آین میں، جس عنصر کا بھی تکسیدی عدد درکار ہو، معلوم کر سکتے ہیں، یہ واضح ہے کہ دھاتی عناصر کا تکسیدی عدد مثبت ہوتا ہے اور غیردھاتی عناصر کا تکسیدی عدد مثبت یا منفی ہوتا ہے۔ عبوری عناصر (Transition Elements) کے ایٹم عام طور سے کئی مثبت تکسیدی حالتیں ظاہر کرتے ہیں۔ ایک نمائندہ عنصر کا اعظم تکسیدی عدد، پہلے دو گروپوں کے لیے گروپ نمبر اور باقی گروپوں کے لیے گروپ نمبر نفی 10 ہے۔ (دوری جددل کی لمبی شکل کے مطابق) اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک عنصر کے ایک ایٹم کے ذریعے ظاہر کی گئی تکسیدی عدد کی اعظم قدر عام طور سے دوری جدول کے ایک دور میں بڑھتی جاتی ہے۔ تیسرے دور میں، تکسیدی عدد، کی اعظم قدر1 سے لے کر 7 تک تبدیل ہوتی ہے، جیسا کہ نیچے عناصر کے مرکبات میں ظاہر کیا گیا ہے۔

ایک اصطلاح جو اکثر تکسیدی عدد کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاتی ہے، وہ ہے ’’تکسیدی حالت‘‘ (Oxidation State)۔ اس لیے CO2 میں کاربن کی تکسیدی حالت 4+ ہے اور یہی اس کا تکسیدی عدد ہے اور اسی طرح آکسیجن کا تکسیدی عدد نیز تکسیدی حالت 2– ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تکسیدی عدد، کسی مرکب میں ایک عنصر کی تکسیدی حالت کی نشاندہی کرتا ہے۔


گروپ 1 2 13 14 15 16 17
عنصر Na Mg Al Al p S Cl
مرکب Nacl Mgso4 AlF³ SICI4 P4O10 SF6 HCI4
گروپ عنصر کی اعظم تکسیدی عدد حالت +1 +2 +3 +4 +5 +6 +7


کسی مرکب میں ایک دھات کی تکسیدی عدد حالت کا اظہار بعض اوقات جرمن کیمیاداں الفریڈ اسٹاک کے کے ذریعے دی گئی ترسیم کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یہ اسٹاک ترسیم (Stock Notation) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے مطابق تکسیدی عدد کا اظہار ایک رومن ہند سہ کے ذریعے کیا جاتا ہے، جسے سالماتی فارمولے میں، دھات کی علامت کے بعد قوسین میں لکھا جاتا ہے۔ اس لیے آرس کلورائڈ(Aurous Chloride) اور آرک کلورائڈ (Auric Chloride) کو Au(I) Cl اور Au(III) Cl3 لکھا جائے گا۔ اسی طرح اسٹینس کلورائڈ اور اسٹینک کلورائڈ کو : Sn(II)Cl2 اور Sn(IV)Cl4  لکھا جائے گا۔ تکسیدی عدد میں اس تبدیلی کا مطلب ہے تکسیدی حالت میں تبدیلی جو یہ شناخت کرنے میں مدد کرتی ہے کہ نوع تکسید شدہ شکل میں پائی جاتی ہے یا تحویل شدہ شکل میں۔ اس طرح Hg2(II)Cl2 ، Hg(I)Cl2 کی تحویل شدہ شکل ہے۔

مسئلہ 8.3 

اسٹاک ترسیم کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل مرکبات کو ظاہر کیجیے:

Mno.cuo.cui.Feo.Feo.Tl²o.HAucl¹ اور MnO2۔

حل

کسی مرکب میں مطلوبہ عنصر کے تکسیدی عدد کا حساب لگانے کے مختلف قاعدوں کا استعمال کرتے ہوئے، ہر ایک دھاتی عنصر کا اپنے مرکب میں تکسیدی عدد مندرجہ ذیل ہے:

Au کا تکسیدی عدد 3 HAuCl4

Tl کا تکسیدی عدد 1 Tl2O

Fe کا تکسیدی عدد 2 FeO

Fe کا تکسیدی عدد 3 Fe2O3

Cu کا تکسیدی عدد 1 Cul

Cu کا تکسیدی عدد 2 CuO

Mn کا تکسیدی عدد 2 MnO

Mn کا تکسیدی عدد 4 MnO2

اس لیے، ان مرکبات کو ایسے ظاہر کیا جا سکتا ہے:

Mn(lv)o².Mn(ll)o,cu(ll), cu(ll),Fe²(lll)o³FE(ll)o,T²(l)o,HAu (lll)cl4

تکسیدی عدد کا تصور، تکسید، تحویل، تکسیدی ایجنٹ، تحویلی ایجنٹ اور تحویل تکسید تعامل کی تعریف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ خلاصہ کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں:

تکسید : دی ہوئی شے میں عنصر کے تکسیدی عدد میں اضافہ

تحویل: دی ہوئی شے میں عنصر کے تکسیدی عدد میں کمی

تکسیدی ایجنٹ: وہ ریجنٹ (Reagent) جو دی ہوئی شے میں ایک عنصر کے تکسیدی عدد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ ریجنٹ، تکسید کار (Oxidants) بھی کہلاتے ہیں۔

تحویلی ایجنٹ: وہ ریجنٹ جو دی ہوئی شے میں ایک عنصر کے تکسیدی عدد کو کم کر دیتا ہے۔ یہ ریجنٹ تحویل کار (Reductants) بھی کہلاتے ہیں۔

تحویل تکسید تعاملات: وہ تعاملات جن میں باہم عمل کرنے والی انواع کے تکسیدی عدد کی تبدیلی شامل ہوتی ہے۔

مسئلہ 8.4 

دلیل پیش کیجیے کہ تعامل: 

2cu²o(s) + cu²S(s) ↔6cu(s) +so² (g)

ایک تحویل تکسید تعامل ہے۔ اس نوع کو شناخت کیجیے جو تکسید/ تحویل ہوئی ہے، جو تکسید کار کے طور پر کام کر رہی ہے اور جو تحویل کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔

حل

آیئے اس تعامل میں شامل ہر ایک نوع کو پہلے تکسیدی عدد تفویض کریں۔

5166_Keemiyan II_Ch08_288f

اس لیے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس تعامل میں کاپر 1+ حالت سے صفر تکسیدی حالت میں تحویل ہوتا ہے اور سلفر کی 2– حالت سے 4+  حالت میں تکسید ہوتی ہے۔ اس لیے مندرجہ بالا تعامل تحویل تکسید تعامل ہے۔

مزید Cu2S ،Cu2O میں سلفر کی اس کے تکسیدی عدد میں اضافہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس لیے (Cu(I ایک تکسید کار ہے۔ اور Cu2S میں سلفر، Cu2S اور Cu2O دونوں میں ـCu کے تکسیدی عدد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس لیے Cu2S  میں سلفر تحویل کار ہے۔

8.3.1 تحویل تکسید تعاملات کی اقسام

(Types of Redox Reactions)

اتحادی تعاملات (Combination reactions) 

ایک اتحادی تعامل کو مندرجہ ذیل شکل میں ظاہر کیا جا سکتا ہے: 

A + B → C

اس قسم کے تعامل کو تحویل تکسید تعامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ A اور B دونوں یا ان میں سے کوئی ایک، عنصری شکل میںہو۔ تمام احتراقی تعاملات(Combustion Reaction)، جو کہ عنصری ڈائی آکسیجن کا استعمال کرتے ہیں، یا دوسرے تعاملات جن میں ڈائی آکسیجن کے بجائے دوسرے عناصر، شامل ہوتے ہیں، تحویل تکسید تعاملات ہیں۔ اس زمرہ کی کچھ اہم مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch08_289a

تحلیلی تعاملات(Decomposition Reactions)

تحلیلی تعاملات اتحادی تعاملات کے برعکس ہوتے ہیں تحلیلی تعامل کے دوران ایک مرکب دو یا دو سے زیادہ اجزا میں ٹوٹتا ہے، جن میں سے کم از کم کوئی ایک عنصری حالت میں ہونا لازمی ہے۔ اس قسم کے تعاملات کی مثالیں ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch08_289b

یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ اتحادی تعاملات کے تحت میتھین میں شامل ہائڈروجن کے تکسیدی عدد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور اسی طرح تعامل (8.28) میں پوٹاشیم کلوریٹ میں شامل پوٹاشیم کے تکسیدی عدد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ یہاں یہ بھی نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ ہر ایک تحلیلی تعامل تحویل تکسید تعامل نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر کیلشیم کاربونیٹ کی تحلیل، تحویل تکسید تعامل نہیں ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_289c

ہٹاؤ تعاملات (Displacement reactions)

ہٹاؤ تعامل (Displacement Reaction) کے تحت کسی مرکب میں ایک آین (یا ایک ایٹم)کی جگہ دوسرے عنصر کا ایک آین (یا ایک ایٹم) لے لیتا ہے۔ اس کو ایسے ظاہر کیا جا سکتا ہے:

X  + YZ  →  XZ  + Y

ہٹاؤ تعاملات دو قسم کے ہوتے ہیں: دھاتی ہٹاؤ تعامل اور غیردھاتی ہٹاؤ تعامل۔

(a) دھاتی ہٹاؤ تعامل: کسی مرکب میں ایک دھات کی جگہ وہ دوسری دھات لے سکتی ہے جو غیر متحد حالت میں ہے۔ ہم تعاملات کے اس زمرہ سے حصہ 8.2.1 کے تحت پہلے ہی بحث کر چکے ہیں۔ دھاتی ہٹاؤ تعامل کے فلز کاری میں بہت سے استعمال ہیں، جہاں کچھ دھاتوں میں ان کے مرکبات سے خالص دھات حاصل کی جاتی ہے۔ ایسی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch08_289d

ان تمام صورتوں میں، تحویل کرنے والی دھات، اس دھات کے مقابلے میں جس کی تحویل ہو رہی ہے، بہتر تحویلی ایجنٹ ہے جو تحویل ہونے والی دھات کے مقابلے میں الیکٹران خارج کرنے کی بہتر صلاحیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔

(b) غیر دھاتی ہٹاؤ تعامل: غیر دھاتی ہٹاؤ تحویل تکسید تعاملات میں ہائڈروجن ہٹاؤ تعامل اور ایک بہت کمی سے ہونے والا آکسیجن ہٹاؤ تعامل شامل ہے۔

تمام قلوی دھاتیں (Alkali Metals) اور کچھ قلوی مٹی دھاتیں Alkaline earth metals)، .sr.ca اور Ba) جو بہت اچھے تحویل کار ہیں، ٹھنڈے پانی سے ہائڈروجن کو ہٹا دیں گے: 

5166_Keemiyan II_Ch08_290a

کم تعامل پذیر دھاتیں جیسے میگنیشم اور لوہا بھاپ سے تعامل کر کے ڈائی ہائڈروجن گیس پیدا کرتی ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch08_290b

بہت سی دھاتیں، جن میں وہ دھاتیں بھی شامل ہیں جو ٹھنڈے پانی کے ساتھ تعامل نہیں کرتیں، تیزابوں سے ہائڈروجن کو ہٹانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تیزابوں سے ایسی دھاتوں کے ذریعے بھی ڈائی ہائڈروجن پیدا کی جا سکتی ہے جو بھاپ سے بھی تعامل نہیں کرتیں۔ کیڈمیم اور ٹن ایسی ہی دھاتوں کی مثالیں ہیں۔ تیزابوں سے ہائڈروجن کے ہٹائے جانے کی کچھ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch08_290c

تعاملات (8.37 تا 8.39) تجربہ گاہ میں ڈائی ہائڈروجن گیس تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہاں، دھاتوں کی متعاملیت (Reactivity) ہائڈروجن گیس کے بننے کی شرح سے منعکس ہوتی ہے،جو کہ سب سے کم تعامل پذیر دھات Fe کے لیے سب سے آہستہ اور سب سے زیادہ تعامل پذیر دھات Mg کے لیے سب سے تیز ہوتی ہے۔ بہت کم تعامل پذیر دھاتیں، جو اپنی قدرتی حالت میں پائی جاتی ہیں، جیسے چاندی (Ag) اور سونا (Au)، ہائڈروکلورک ایسڈ سے بھی تعامل نہیں کرتیں۔

سیکشن 8.2.1 میں ہم پہلے ہی بحث کر چکے ہیں کہ زنک (Zn)، کاپر (Cu) اور سلور(Ag)، جیسی دھاتیں الیکٹران خارج کرنے کے اپنے رجحان کے ذریعے اپنی تحویلی سر گرمی، اس ترتیب، میں ظاہر کرتی ہیں: Zn>Cu>Ag۔ دھاتوں کی طرح ہیلوجن کے لیے بھی ایکٹیوٹی سیریز (Activity series) پائی جاتی ہے۔ جیسے جیسے ہم دوری جدول کے گروپ 17 میں فلورین سے نیچے کی طر آیوڈین تک جاتے ہیں، تو تکسیدی ایجنٹ کے طور پر ان عناصر کی قوت کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فلورین اتنی متعامل ہے کہ یہ محلول میں کلورائڈ، برومائڈ اور آیوڈائڈ آینوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ دراصل، فلورین اتنی متعامل ہے کہ یہ پانی پر بھی حملہ آور ہوتی ہے اور پانی کی آکسیجن ہٹا دیتی ہے:

5166_Keemiyan II_Ch08_290d

یہی وجہ ہے کہ فلورین کا استعمال کرتے ہوئے، کلورین، برومین اور آیوڈین کے ہٹاؤ تعاملات عام طور سے آبی محلول میں نہیں کیے جاتے۔ دوسری طرف ایک آبی محلول میں برومائڈ اور آیوڈائڈ آینوں کو کلورین ہٹاسکتی ہے، جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے:

5166_Keemiyan II_Ch08_290e

کیونکہ Br2 اور ½ رنگین ہوتی ہیں اور CCl4 میں گھل جاتی ہیں، اس لیے محلول کے رنگ سے بہ آسانی پہچانی جاتی ہیں۔ مندرجہ بالا تعاملات کو آینی شکل میں ایسے لکھا جا سکتا ہے:

5166_Keemiyan II_Ch08_290f

تعاملات (8.41)اور (8.42) لیئرٹیسٹ (Layer Test) کے نام سے مشہور ایک ٹیسٹ کے ذریعے تجربہ گاہ میں Br اور I کی شناخت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی غیر مناسب نہیں ہوگا کہ، اسی طرح، محلول میں آیوڈائڈ آین کو برومین ہٹا سکتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_290g

صنعتوں میں ہیلوجن ہٹاؤ تعاملات کا براہ راست استعمال ہوتا ہے۔ ہیلوجن کو ان کے ہیلائڈ سے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک تکسیدی عمل درکار ہوتا ہے جسے ذیل میں ظاہر کیا گیا ہے۔

2X ↔X² +2e       (8-44)

یہاں X ہیلوجن عنصر کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ cl–،Br– اور I– کی تکسید کرنے کے کیمیائی طریقے دستیاب ہیں، لیکن فلورین چونکہ سب سے طاقتور تکسیدی ایجنٹ ہے، اس لیے F– آینوں کو F² میں تبدیل کرنے کا کوئی کیمیائی ذریعہ نہیں ہے۔  F– سے F² حاصل کرنے کا واحد طریقہ برق پاشیدگی کے ذریعے تکسید کرنا ہے، جس کی تفصیلات آپ آئندہ پڑھیں گے۔

غیر تناسب کاری تعاملات
(Disproportionation Reactions) 

غیر تناسب کاری تعاملات، تحویل تکسید تعاملات کی ایک خاص قسم ہے ایک غیر تناسب کاری تعامل میں، ایک تکسید حالت میں کوئی عنصر بہ یک وقت تکسید اور تحویل ہوتا ہے۔ غیر تناسب کاری تعامل میں متعاملات میں ہمیشہ ایک عنصر ایسا شامل ہوتا ہے، جو کم سے کم تین تکسیدی حالتوں میں پایا جاسکتا ہے۔ یہ عنصر متعاملات میں اپنی انٹرمیڈئیٹ تکسیدی حالت میں پایا جاتا ہے۔ اس عنصر کی بالائی اور زیریں دونوں تکسیدی حالتیں تعامل میں تشکیل پاتی ہیں۔ ہائڈروجن پر آکسائڈ کی تحلیل اس قسم کے تعامل کی جانی پہچانی مثال ہے، جس میں آکسیجن کی غیر تناسب کاری ہوتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_291a

یہاں پر آکسائڈ کی آکسیجن جو 1– حالت میں پائی جاتی ہے، O2 میں صفر تکسیدی حالت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور H2O میں اس کی تکسیدی حالت کم ہو کر2–  ہو جاتی ہے۔

فاسفورس، سلفر اور کلورین کی قلوی میڈیم (Alkaline Medium) میں غیر تناسب کاری ہو تی ہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_291b

تعامل (8.48) گھر میں استعمال ہونے والے بلیچنگ ایجنٹ (Bleaching agent) کی تشکیل بیان کرتا ہے۔ تعامل میں بننے والا ہائپو کلورائٹ آین (ClO)، اشیا کے رنگ دار دھبوں کی تکسید کر کے انہیں بے رنگ مرکبات میں بدل دیتا ہے۔

یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی کا باعث ہوگا کہ برومین اور آیوڈین بھی وہی رخ اختیار کرتی ہیں جو تعامل (8.48) میں کلورین کا ہے لیکن فلورین جب القلی (Alkali) سے تعامل کرتی ہے تو اس طرزعمل سے انحراف کرتی ہے۔ فلورین کے ساتھ جو تعامل ہوتا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہے:

2Fe(g) + 2OH (aq)↔2 F (aq)+of² (g) +H²o(l)

(8-49)

(یہ بات بھی نوٹ کرنی چاہیے کہ تعامل (8.49) میں فلورین یقینا پانی پر بھی حملہ آور ہوگی اور کچھ آکسیجن بھی بنے گی) فلورین کے ذریعے ظاہر کیا گیا یہ انحراف ہمارے لیے کچھ خاص حیرت انگیز نہیں ہے کیونکہ ہم فلورین کی حدود جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ برقی منفی عنصر ہونے کی وجہ سے یہ کوئی مثبت تکسیدی حالت نہیں ظاہر کر سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہیلوجن میں فلورین، غیر تناسب کاری کا رجحان نہیں ظاہر کرتی۔

مسئلہ 8.5 

مندرجہ ذیل انواع میں سے کون غیر تناسب کاری تعامل نہیں ظاہر کرتی اور کیوں؟

clo4اور cio³clo².clo

ان میں سے ہر ایک نوع کے لیے تعامل بھی لکھیے جو غیر تناسب کاری تعامل کرتی ہے۔ 

حل

کلورین کے مندرجہ بالا آکسواین آین (Oxoanions) میں سے 4-ClO، غیر تناسب کاری تعامل نہیں کرتا کیونکہ اس آکسو این آین میں کلورین اپنی اعظم تکسیدی حالت میں پائی جاتی ہے جو کہ7 +ہے۔ کلورین کے باقی تین آکسو این آینوں کے لیے غیر تناسب کاری تعامل مندرجہ ذیل ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch08_291e


مسئلہ 8.6

مندرجہ ذیل تحویل تکسید تعاملات کے لیے درجہ بندی کی اسکیم تجویز کیجیے۔

(a) N2 (g) + O2 (g)  → 2NO (g)

(b) 2Pb(NO3)2(s)  → 2PbO(s) + 2NO2 (g) + ½ O2 (g)

(c) NaH(s) + H2O(l) → NaOH(aq) + H2 (g)

+(d) 2NO2(g) + 2OH–(aq) →  NO2(aq)  

(NO3 (aq) + H2O(l)


حل

تعامل(a) میں مرکب نائٹرک آکسائڈ، عنصری اشیا نائٹروجن اور آکسیجن کے اتحاد سے تشکیل پاتا ہے، اس لیے یہ اتحادی تحویل تکسید تعامل کی مثال ہے۔ تعامل (b) میں لیڈ نائٹریٹ کا تین اجزا میں ٹوٹنا شامل ہے، اس لیے اسے تحلیلی تحویل تکسید تعامل کے تحت درجہ بند کیا جاتا ہے۔ تعامل (c) میں پانی کی ہائڈروجن، ہائڈرائڈ آین کے ذریعے ہٹا کر ڈائی ہائڈروجن گیس میں تبدیل کی گئی ہے۔ اسے ہٹاؤ تحویل تکسید تعامل کہا جا سکتا ہے۔ تعامل (d) میں no²(4+حالت)کیNo²+3حالت اورNo³  (حالت 5+) میں غیر تناسب کاری شامل ہے۔ اس لیے تعامل (d) غیر تناسب کاری تحویل تکسید تعامل کی شکل ہے۔


کسری تکسیدی عدد کا متناقض (The Paradox of Fractional Oxidation Number)

کبھی کبھی کچھ ایسے مرکبات ہمارے سامنے آتے ہیں، جن میں موجود کسی ایک خاص عنصر کا تکسیدی عدد کسر میں ہوتا ہے۔ مثالیں ہیں:

C3O2 [جہاں کاربن کا تکسیدی عدد (4/3) ہے]

Br3O8 [جہاں برومین کا تکسیدی عدد (16/3)]

Na2S4O6 [جہاں سلفر کا تکسیدی عدد (2.5) ہے]

ہم جانتے ہیں کہ کسری تکسیدی عدد کا تصور کچھ قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ الیکٹرانوں کی کبھی بھی کسر میں نہ تو حصہ داری ہوتی ہے اور نہ منتقلی۔ دراصل یہ کسری تکسیدی حالت اس عنصر کی اوسط تکسیدی حالت ہے اور ساختی پیرامیٹر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ عنصر جس کے لیے کسری تکسیدی حالت پائی جاتی ہے، مختلف تکسیدی حالتوں میں موجود ہے۔ C³o²Br³o8اورs4o26 انواع کی ساخت مندرجہ ذیل بندشی صورتیں ظاہر کرتی ہے:

+2 0 +2
o= c = c*=c=o
کی ساختc³ o²
(کاربن سب اکسائڈ)

13

s4 o26 کی ساخت (ٹیٹراتھا یونٹ آین)       Br³ o8 کی ساخت (ٹرائی برومو آکٹا آکسائڈ)

ہر وہ نوع جس میں عنصر پر* بنایا گیا ہے، وہ اس نوع میں اسی عنصر کے باقی ایٹموں سے مختلف تکسیدی حالت (تکسیدی عدد) ظاہر کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ C3O2 میں دو کاربن ایٹم میں سے ہر ایک 2+ تکسیدی حالت میں ہے جبکہ تیسرا صفر تکسیدی حالت میں ہے اور اوسط 4/3 ہے۔ حالانکہ حقیقی تصویر یہ ہے کہ 2+ دو کناروں کے کاربن ایٹموں کے لیے اور صفر درمیانی کاربن ایٹم کے لیے ہے۔ اسی طرح Br3O8 میں کنارے کے دونوں برومین ایٹموں میں سے ہر ایک ایٹم 6+ تکسیدی حالت میں موجود ہے جبکہ درمیانی برومین ایٹم 4+ تکسیدی حالت میں ہے ایک بار پھر اوسط جو حقیقت سے مختلف ہے،16/3  ہے۔ اسی طرح، نوع 5166_Keemiyan II_Ch08_292e کے چار تکسیدی اعداد کا اوسط 2.5 ہے، جبکہ حقیقت میں ہر ایک سلفر ایٹم کا تکسیدی عدد بالترتیب 5+، 0 ، 0 اور 5+ ہے۔ 

اس لیے ہم یہ عمومی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ کسری تکسیدی حالت کے تصور کو سوچ سمجھ کر قبول کرنا چاہیے اور حقیقت صرف ساخت سے ہی ظاہر ہوتی ہے۔ مزید، جب بھی کسی نوع میں کسی خاص عنصر کی کسری تکسیدی حالت ہمارے سامنے آئے تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ صرف اوسط تکسیدی عدد ہے۔ حقیقت میں (جو صرف ساخت سے سامنے آتی ہے) اس مخصوص نوع میں وہ عنصر ایک سے زیادہ مکمل عدد تکسیدی حالتوں میں پایا جاتا ہے۔pb³o4Fe³o4   کچھ ایسے مرکبات کی اور مثالیں ہیں، جو آمیزشی آکسائڈ ہیں اور جن میں دھاتی ایٹم کی کسری تکسیدی حالت سامنے آتی ہے۔ بہرحال، تکسیدی حالتیں کسر میں ہو سکتی ہیں جیسے 2+O اور 2-O میں، جہاں یہ بالترتیب +½ اور–½ ہیں۔


مسئلہ 8.7 

مندرجہ ذیل تعاملات مختلف کیوں ہیں؟

pb³o4 +8HCl↔3pbcl² + cl² +4 H²o

اور

pb³o4 + 4HNO³↔2PB(NO³)² +PBO² +² 2H²O

حل

Pb3O4 دراصل، PbO کے 2 مول اور PbO2 کے ایک مول کا تناسب پیمائی آمیزہ (Stoichiometric Mixture) ہے۔ PbO2 میں لیڈ 5166_Keemiyan II_Ch08_293e تکسیدی حالت میں ہوتا ہے جبکہ PbO میں لیڈ کی مستحکم تکسیدی حالت 2+ ہے۔ اس لیے PbO2  ایک تکسید کار کے طور پر کام کر سکتا ہے اور HCl کے Cl آین کی تکسید کلورین میں کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ PbO ایک اساسی آکسائڈ ہے۔ اس لیے تعامل:

Pb3O4 + 8HCl → 3PbCl2 + Cl2 + 4H2O

کو دو تعاملات میں توڑا جا سکتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:

PbO+ 4HCl → 2PbCl2 + 2H2O

(تیزاب-اساس تعامل)

5166_Keemiyan II_Ch08_293f

(تحویل تکسید تعامل) 

کیونکہ HNO3 ایک تکسیدی ایجنٹ ہے اس لیے اس کی امید کم ہے کہ PbO2 اور HNO3 کے مابین تعامل ہو لیکن پھر بھی PbO اور  HNO3  کے درمیان تیزاب اساس تعامل ہوتا ہے:

2PbO + 4HNO3 → 2Pb(NO3)2 + 2H2O

یہ  PbO2 کی HNO3 کے مقابل منفعل (Passive) فطرت ہے جو اس تعامل کو HCl کے ساتھ ہونے والے تعامل سے مختلف بناتی ہے۔

8.3.2 تحویل تکسید تعاملات کو متوازن کرنا (Balancing of Redox Reactions)

تحویل تکسید عملوں کی کیمیائی مساواتوں کو متوازن کرنے کے لیے دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ تحویلی ایجنٹ اور تکسیدی ایجنٹ کے تکسیدی عدد میں تبدیلی پر مبنی ہے اور دوسرا طریقہ تحویل تکسید تعامل کو دو نصف تعاملات میں علیحدہ کرنے پر مبنی ہے ایک وہ جس میں تکسید شامل ہو اور دوسرا جس میں تحویل۔ یہ دونوں طریقے رائج ہیں اور اب یہ استعمال کرنے والے کی انفرادی پسند ہے کہ وہ ان میں سے کون سا طریقہ استعمال کرے۔

(a) تکسیدی عدد طریقہ Oxidation Number) Method): 

تکسید تحویل تعاملات کے لیے مساوات لکھتے وقت، دوسرے تعاملات کی طرح ہی متعامل اشیا اور ما حصل اشیا کی ترکیب (Compositions) اور فارمولے معلوم ہونا چاہئیں۔ تکسیدی عدد طریقہ کی وضاحت مندرجہ ذیل اقدامات کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔

قدم1 : ہر ایک متعامل اور ماحصل کے لیے درست فارمولا لکھئے۔

قدم 2 : تعامل میں شامل تمام عناصر کو تکسیدی عدد تفویض کر کے ان ایٹموں کو شناخت کیجیے جن کے تکسیدی عدد تعامل میں تبدیل ہوئے ہیں۔

قدم3 : فی ایٹم اور اس مکمل سالمہ آین کے لیے جس میں یہ تبدیلی ہوئی ہے، تکسیدی عدد میں اضافہ یا کمی کا حساب لگایئے۔ اگر یہ مسادی نہیں ہیں تو مناسب ضریبوں سے ضرب کیجیے تاکہ یہ مساوی ہو جائیں۔ اگر آپ کو محسوس ہو کہ دو اشیا تحویل ہوئی ہیں اور کسی شے کی تکسید نہیں ہوئی ہے، یا اس کے بر خلاف، تو ضرور کہیں غلطی ہے۔ یا تو متعاملات اور ماحصلات کے فارمولے غلط ہیں یا تکسیدی اعداد درست تفویض نہیں کیے گئے ہیں۔

قدم 4 : آینوں کی شمولیت متعین کیجیے۔ اگر تعامل پانی میں ہو رہا ہے تو عبارت میں مناسب سمت میں +H یا OH آینوں کا اضافہ کیجیے تاکہ متعاملات اور ماحصلات کا کل آینی چارج مساوی ہو۔ اگر تعامل تیزابی محلول میں ہو رہا ہے تو مساوات میں +H آین استعمال کیجیے اور اگر اساسی محلول میں ہو رہا ہے تو OH آین استعمال کیجیے۔

قدم 5 : عبارت کے دونوں طرف ہائڈروجن ایٹموں کی تعداد کو مساوی کیجیے۔ اس کے لیے متعاملات اور ماحصلات میں پانی (H2O) کے سالمات شامل کیجیے۔ اب آکسیجن کے ایٹموں کی تعداد کی بھی جانچ کیجئے۔ اگر متعامل اور ماحصلات میں آکسیجن ایٹموں کی تعداد یکساں ہے، تو مساوات ایک متوازن تحویل تکسید تعامل کو ظاہر کرتی ہے۔

آیئے اس طریقہ میں شامل اقدامات کی وضاحت ہم درج ذیل مسئلوں کی مدد سے کرتے ہیں۔

مسئلہ 8.8 

پوٹاشیم ڈائی کرومیٹK²cr²o7vi  کے سوڈیم سلفائٹ Na2SO3 کے ساتھ تیزابی محلول میں تعامل سے کرومیم (III) آین اور سلفیٹ آین بنانے کے لیے نیٹ آینی مساوات لکھیے۔

حل

قدم 1 : آینی مساوات کا خاکہ مندرجہ ذیل ہے

5166_Keemiyan II_Ch08_294c5166_Keemiyan II_Ch08_294b

قدم 2 : Cr اور S کو تکسیدی اعداد تفویض کیجیے

 5166_Keemiyan II_Ch08_294d

یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈائی کردمیٹ آین تکسید کار ہے اور سلفائٹ آین تحویل کار ہے۔

قدم 3 : تکسیدی عدد میں اضافے اور کمی کا حساب لگائیے اور انھیں مساوی بنائیے:قدم 2 سے ہم یہ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کرومیم اورسلفر کی تکسیدی حالت میں تبدیلی آرہی ہے۔ کرومیم کی تکسیدی حالت 6+ سے3+ میں تبدیلی ہوگئی۔ RHS میں کرومیم کی تکسیدی حالت میں 3+ کی کمی آئی۔ سلفر کی تکسیدی حالت 4+ سے 2+ کااضافہ ہوا۔ تکسیدی حالتوں میں کمی اوراضافہ کی تبدیلی کومساوی بنانے کے لیے دائیں جانب (RHS) پرکرومیم سے پہلے 2 لکھیں اور سلفرسے پہلے 3 لکھیں اور پھردونوں جانب ایٹموں کومتوازن کریں۔اس سے ہمیں حاصل ہوگا کہ

5166_Keemiyan II_Ch08_294f5166_Keemiyan II_Ch08_294e

قدم 4 : کیونکہ تعامل تیزابی میڈیم میں ہوتا ہے اور مزید یہ کہ دونوں طرف آینی چارج مساوی نہیں ہیں، اس لیے آینی چارج مساوی کرنے کے لیے بائیں طرف +8H جمع کیجیے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_294g5166_Keemiyan II_Ch08_294h

قدم 5 : آخر میں،ہا ئڈروجن ایٹم شمار کیجیے اور دائیں طرف پانی کے سالمات کی مناسب تعداد (یعنی 4H2O) جمع کرکے متوازن تحویل تکسید تبدیلی حاصل کیجیے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_294i5166_Keemiyan II_Ch08_294j

مسئلہ 8.9 

پر مینگنیٹ آین، اساسی میڈیم میں، برومائڈ آین سے تعامل کر کے مینگنیز ڈائی آکسائڈ اور برومیٹ آین دیتا ہے۔ اس تعامل کے لیے متوازن آینی مساوات لکھیے۔

حل

قدم 1 : آینی مساوات کا خاکہ مندرجہ ذیل ہے:

Mno4 (aq) + Br (aq)↔Mno²(s) + Bro³ (aq)

قدم 2 : Mn اور Br کے لیے تکسیدی اعداد تفویض کیجیے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_294l

یہ ظاہر کرتا ہے کہ پر مینگنیٹ آین تکسید کار ہے اور بر ومائڈ آین تحویل کار ہے۔ 

قدم 3 : تکسیدی عدد میں اضافے اور کمی کا حساب لگایئے اور اضافے کو کمی کے مساوی کیجیے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_294m

قدم 4 : کیونکہ تعامل اساسی میڈیم میں ہوتا ہے اور دونوں طرف آینی چارج مساوی نہیں ہیں اس لیے دائیں طرف 2OH آین جمع کر کے آینی چارج مساوی کیجیے۔ 

2Mno-4 (aq) +Br-(aq)↔ 2Mno²(s)+

Bro-³(aq) + 2oH-(aq)

قدم 5 : اب ہائڈروجن ایٹم شمار کیجیے اور پانی کے سالمات کی مناسب تعداد (یعنی کہ ایک H2O سالمہ)، بائیں طرف جمع کرکے متوازن تحویل تکسید تبدیلی حاصل کیجیے:

2Mno-4(aq) + Br- (aq) +H²O (L)↔ 2Mno²(s)

+ Bro-³(aq) + 2oH- (AQ)

(b) نصف تعامل طریقہ (Half Reaction Method): اس طریقے میں، دو نصف مساواتوں کو الگ الگ متوازن کیا جاتا ہے اور پھر انہیں جوڑ کر متوازن مساوات حاصل کی جاتی ہے۔ 

فرض کیجیے ہمیں +Fe2 آینوں کی ڈائی کرومیٹ آینوں (Cr2O7)2– کے ذریعے، تیزابی میڈیم میں +Fe3 آینوں میں تکسید دکھانے والی مساوات کو متوازن کرنا ہے۔ اس تعامل میں 5166_Keemiyan II_Ch08_295a آین، +Cr آینوں میں تحویل ہوجاتے ہیں۔ اس عمل میں مندرجہ ذیل اقدامات شامل ہیں: 

قدم 1 : تعامل کے لیے آینی شکل میں غیر متوازن مساوات لکھیے:

5166_Keemiyan II_Ch08_295b

قدم 2 : اس مساوات کو نصف تعاملات میں علیحدہ کیجیے:

(8-51) تکسید نصف 14

(8-52) تحویل نصف 15


قدم 3 : O اور H کے علاوہ تمام ایٹموں کو ہر ایک نصف تعامل میں انفرادی طور پر متوازن کیجیے۔ یہاں تکسید نصف تعامل پہلے ہی Fe ایٹموں کے لیے متوازن ہے۔ تحویل نصف تعامل کے لیے، ہم Cr ایٹموں کو متوازن کرنے کے لیے +Cr3 کو 2 سے ضرب کرتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch08_295d

قدم 4 : تیزابی میڈیم میں ہونے والے تعاملات کے لیے O ایٹموں کو متوازن کرنے کے لیے H2O جمع کیجیے اور H ایٹموں کو متوازن کرنے کے لیے +H جمع کیجئے۔ اس طرح ہمیں حاصل ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_295e

قدم5 : نصف تعامل کے ایک طرف الیکٹران جمع کرکے چارج کو متوازن کیجیے۔ اگر ضرورت ہو تو کسی ایک یا دونوں نصف تعاملات کو کسی مناسب ضریب سے ضرب کرکے دونوں نصف تعاملات میں الیکٹرانوں کی تعداد مساوی کیجیے۔

اس طرح چارج کو متوازن کرنے کے لیے تکسید نصف تعامل کو دوبارہ یوں لکھا جاتا ہے: 

Fe²+ (aq)↔ Fe3+ (aq) 6+ e        (8-55)

اب تحویل نصف تعامل میں بائیں طرف کل 12 مثبت چارج ہیں جبکہ دائیں طرف کل 6 مثبت چارج ہیں۔ اس لیے ہم بائیں طرف 6 الیکٹران جوڑ دیتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch08_295g

دونوں نصف تعاملات میں، الیکٹرانوں کی تعداد مساوی کرنے کے لیے، ہم تکسیدی نصف تعامل کو 6 سے ضرب کر کے دوبارہ لکھتے ہیں:

6Fe²+(aq)↔6Fe³+(aq) + 6e       (8-57)

قدم 6 : پورا تعامل حاصل کرنے کے لیے ہم دونوں نصف تعاملات کو جمع کر دیتے ہیں اور دونوں طرف الیکٹرانوں کی تنسیخ کر دیتے ہیں۔ اس سے ہمیں نیٹ آینی مساوات حاصل ہوجاتی ہے: 

6Fe²+(aq)+cr²o2-3(aq)+ 14H+ (aq)↔6 Fe³+(aq)+

2cr³+(aq)+7H² O(1)

(8.58)S

قدم 7 : تصدیق کیجیے کہ مساوات میں دونوں طرف ایٹموں کی یکساں قسم اور یکساں تعداد ہے اور یکساں چارج ہیں۔ یہ آخری تصدیق ظاہر کرتی ہے کہ مساوات ایٹموں کی تعداد اور چارجوں کے لحاظ سے مکمل طور پر متوازن ہے۔

ایک اساسی میڈیم میں تعامل کے لیے، پہلے جیسا کہ تیزابی میڈیم میں کیا تھا، ایٹمو ں کو متوازن کیجیے۔ پھر ہر ایک +H آین کے لیے مساوات میں دونوں طرف OH آینوں کی مساوی تعداد جمع کیجیے۔ جہاں +H اور OH  مساوات کے ایک ہی جانب نظر آتے ہیں انہیں متحد کر کے H2O لکھئے۔

مسئلہ 8.10 

پرمینگنیٹ (VII) آین (MnO4) اساسی محلول میں آیوڈائڈ آین I کی تکسید کر کے سالماتی آیوڈین (I2) اور مینگنیز (IV) آکسائڈ (MnO2) بناتا ہے۔ اس تحویل تکسید تعامل کو ظاہر کرنے کے لیے متوازن آینی مساوات لکھیے۔

حل

قدم 1 : پہلے ہم آینی مساوات کا خاکہ لکھتے ہیں، جو اس طرح ہے:

Mno4 (aq) + 1- (aq)↔Mno²(s) +1²(s)

قدم 2 : دو نصف تعاملات ہیں:

تکسید نصف: 5166_Keemiyan II_Ch08_295n 

 تحویل نصف: 5166_Keemiyan II_Ch08_296a

قدم3 : تکسید نصف تعامل میں I ایٹموں کو متوازن کرنے کے لیے، ہم اسے دوبارہ لکھتے ہیں:

21-(aq)↔1²(s)

قدم 4 : تحویل نصف تعامل میں O ایٹموں کو متوازن کرنے کے لیے، ہم دائیں طرف دو پانی کے سالمات جمع کرتے ہیں:

Mno-4(aq)↔Mno²(s) + 2 H² O(1)

H ایٹموں کو متوازن کرنے کے لیے ہم بائیں طرف چار +H آین جمع کرتے ہیں۔

Mno-4(aq) +4H+ (aq)↔Mno²(s) + 2H² O (1)

کیونکہ تعامل ایک اساسی محلول میں ہوتا ہے، چار +H آینوں کے لیے ہم مساوات میں دونوں طرف چار OH آین جمع کرتے ہیں:

mNO-4 (aq) + 4H + (aq)+ 4OH-(aq)↔

Mno²(s) + 2 H² O (1) +4OH-(aq)

 +H اور OH آینوں کی جگہ پانی (H2O) لکھنے پر:

Mno-4 (aq) +2H²O (1) ↔ MnO²(s) + 4 OH- (aq)

قدم5 : اس قدم میں ہم دونوں نصف تعاملات کے چارج کو متوازن کرتے ہیں:

2l (aq)↔1²(s) +2e

MnO-4 (aq) +2H²O(l) + 3e-↔MnO²(S)

+ 4OH-(aq)

اب الیکٹرانوں کی تعدا کو مساوی کرنے کے لیے ہم تکسید نصف تعامل کو 3 سے اور تحویل نصف تعامل کو 2 سے ضرب کرتے ہیں:

61-(aq)↔31² (s) + 6e-

2MnO-4 (aq) +4H²O(1) +6e ↔2MnO-(s)

+ 8OH- (aq)

قدم6 : دونوں نصف تعاملات کو جمع کیجیے اور دونوں طرف الیکٹرانوں کی تنسیخ کر کے نیٹ تعامل حاصل کیجیے۔ 

61-(aq) +2MnO-4 (aq) +4H² O(1)↔31²(S) +

2MnO²(s) +8 OH- (aq)

قدم 7 : آخری تصدیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ مساوات دونوں طرف ایٹموں کی تعداد اور برقی چارج کے لحاظ سے متوازن ہے۔

8.3.3 تحویل تکسید تعاملات ٹائٹریشن کی بنیاد کے طور پر

(Redox Reactions as the Basis for Titrations)

تیزاب-اساس نظاموں میں ہمارا واسطہ ٹائٹریشن کے طریقے سے پڑتا ہے جس میں ایک محلول کی طاقت (Strength) دوسرے محلول کی طاقت کے مقابلے میں، ایک pH حساس انڈیکیٹر (Indicator) استعمال کرتے ہوئے، معلوم کی جاتی ہے۔ اسی طرح تحویل تکسید نظاموں میں، تحویل تکسید حساس انڈیکیٹر استعمال کرتے ہوئے، ایک تحویل کار/تکسید کار کی طاقت معلوم کرنے کے لیے بھی ٹائٹریشن کا طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحویل تکسید ٹائٹریشن میں انڈیکیٹر کے استعمال کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔

(i) ایک صورت میں ریجنٹ (Reagent) خود شدید رنگین ہوتا ہے، مثلاً، پر مینگنیٹ آین(Permanganate Ion)، 5166_Keemiyan II_Ch08_296o یہاں 5166_Keemiyan II_Ch08_296o ازخود انڈیکیٹر (Self indicator) کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس صورت میں نظر آنے والا آخری نقطہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب تحویل کار کے بالکل آخری حصہ(+Fe2 یا 5166_Keemiyan II_Ch08_296p) کی بھی تکسید ہو جاتی ہے اور گلابی رنگ کی پہلی جھلک نظر آتی ہے، جبکہ 5166_Keemiyan II_Ch08_296o کا ارتکاز  5166_Keemiyan II_Ch08_296q 5166_Keemiyan II_Ch08_296r جتنا کم ہوتا ہے۔ اس طرح معادل نقطہ سے بس کم ترین زائد ہونے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ معادل نقطہ وہ ہے، جہاں پر تحویل کار اور تکسید کار مول تناسب پیمائی کے لحاظ سے مساوی ہوتے ہیں۔ 

(ii) اگر کوئی ڈرامائی ازخود۔ رنگ تبدیلی نہیں ہوتی (جیسا کہ 5166_Keemiyan II_Ch08_296o ٹائٹریشن میں ہوئی تھی) تو ایسے انڈیکٹر بھی ہیں جو متعامل کے آخری جز کے ختم ہوتے ہی فوراً تکسید  ہو جاتے ہیں اور ایک ڈرامائی انداز میں رنگ کی تبدیلی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے عمدہ مثال 5166_Keemiyan II_Ch08_296s ہے، جو خود انڈیکٹر تو نہیں ہے لیکن انڈیکٹر ڈائی فینائل امین (Diphenylamine) کی معادل نقطہ کے فوراً بعد تکسید کر کے ایک گہرا نیلا رنگ دیتا ہے، اور اس طرح آخری نقطہ کی نشاندہی کرتا ہے۔

(iii) ایک اور دلچسپ اور عام طریقہ بھی ہے۔ اس کا استعما ل ان متعاملات تک محدود ہے جو I آینوں کی تکسید کرنے کے اہل ہیں، جیسے (ll) cu

2cu²+(aq) +4l - (aq)↔cu²l²(s) + 1²(aq) (8.59)

یہ طریقہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ آیوڈین بذاتِ خود اسٹارچ (Starch) کے ساتھ گہرا نیلا رنگ دیتی ہے اور تھایو سلفیٹ آینوں 5166_Keemiyan II_Ch08_297c (Thiosulphate Ions) کے ساتھ اس کا ایک مخصوص تعامل ہے جو ایک تحویل تکسید تعامل ہے:

1²(aq)+2s²o-2 .3(aq)↔2l(aq) + s4o-2-6(aq) (8.60)

I2، حالانکہ پانی میں حل پذیر نہیں ہے، البتہ اس محلول میں جس میں KI ہوتا ہے، KI3 کی شکل میں  باقی رہتی ہے۔

+Cu2 آینوں کے آیوڈائڈ آینوں سے تعامل کے ذریعے آیوڈین کے نکلنے کے بعد اسٹارچ ڈالنے پر، ایک گہرا نیلا رنگ دکھائی دیتا ہے۔ یہ رنگ، تھایوسلفیٹ آینوں کے ذریعے آیوڈین کو جذب کرتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔ اس طرح آخری نقطہ کا با آسانی پتہ لگایا جا سکتا ہے اور صرف تناسب پیمائی کی تحسیب باقی رہ جاتی ہے۔

8.3.4 تکسیدی عدد کے تصور کی حدود

 (Limitations of Concept of Oxidation Number)

جیسا کہ آپ مندرجہ بالا بحث میں دیکھ چکے ہیں، تحویل تکسید کے تصور کا ارتقاء وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ہے۔ ارتقاء کا یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔ دراصل، ماضی قریب میں عمل تکسید کو تعامل میں شامل ایٹموں کے گرد، الیکٹران کثافت میں کمی اور عمل تحویل کو الیکٹران کثافت میں اضافہ کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

8.4 تحویل تکسید تعاملات اور الیکٹروڈ عمل

(Redox Reactions and Electrode Processes)

تعامل (8.15) کے نظیری تجربات کا مشاہدہ زنک چھڑ کو کاپر سلفیٹ محلول میں ڈبا کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ تحویل تکسید تعامل ہوتا ہے اور تعامل کے دوران، زنک کی تکسید ہو کر زنک آین بنتے ہیں اور کاپر آین تحویل ہو کر دھاتی کاپر دیتے ہیں، یہ عمل زنک سے کاپر آین پر براہِ راست الیکٹرانوں کی منتقلی کے باعث ہوتا ہے۔ اس تعامل کے دوران حرارت بھی نکلتی ہے۔ اب ہم تجربے میں اس طرح ترمیم کرتے ہیں کہ اس تحویل تکسید تعامل کے لیے الیکٹرانوں کی منتقلی بالواسطہ ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ زنک دھات کو کاپر سلفیٹ محلول سے علیحدہ کیا جائے۔ ہم ایک بیکر میں کاپر سلفیٹ محلول لیتے ہیں اور اس میں ایک کاپر کی پتی یا چھڑ رکھتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے بیکر میں زنک سلفیٹ محلول لیتے ہیں اور اس کے اندر ایک زنک کی پتی یا چھڑ رکھ دیتے ہیں۔ اب دونوں میں سے کسی ایک بیکر میں تعامل ہوتا ہے اور ہر ایک بیکر میں دھات اور اس کے نمک محلول کے انٹرفیس پر یکساں نوع کی تکسیدشدہ اور تحویل شدہ شکلیں موجود ہیں۔ یہ تکسید اور تحویل نصف تعاملات میں انواع کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ایک تکسید تحویل جفتہ (Redox Couple) کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ اس میں ایک تکسید یا تحویل نصف تعامل میں حصہ لے رہی شے کی تکسید شدہ اور تحویل شدہ دونوں شکلیں ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔

اسے ظاہر کرنے کے لیے تکسید شدہ شکل کو تحویل شدہ شکل سے ایک کھڑی لا ئن یا ترچھی لائن سے علیحدہ کیا جاتا ہے (مثلاً ٹھوس/ محلول)۔ مثال کے طور پر اس تجربے میں دو تحویل تکسید جفتہ اس طرح ظاہر کیے جاتے ہیں: Zn2+/Zn اور Cu2+/Cu دونوں صورتوں میں تکسید شدہ شکل کو تحویل شدہ شکل سے پہلے (بائیں طرف) لکھا جاتا ہے۔اب ہم

سوئچ، ارقی رو کا بہاو، الیکٹرون کا بہاو، کیتھوڈ+ اینوڈ، سالٹ برج، تحویل تکسید

5166_Keemiyan II_Ch08_297d

شکل 8.3 ڈینیل سیل کاسیٹ۔ اپ۔ Zn کی تکسید سے اینوڈ پر پیدا ہوئے الیکٹران، باہری سرکٹ کے ذریعے کیتھوڈ پر پہنچتے ہیں، جہاں وہ کاپر آینوں کی تحویل کرتے ہیں۔ سیل کے اندر سرکٹ، سالٹ برج سے ہوتے ہوئے آینوں کی منتقلی کے ذریعے مکمل ہوتا ہے۔ یہ نوٹ کیا جا سکتا ہے کہ کرنٹ کی سمت الیکٹرانوں کے بہاؤ کی سمت کے مخالف ہے۔

جدول 8.1 : 298K پر معیاری الیکٹروڈمضمر

آین آبی انواع اور H2O مائع کے طور پر موجود ہیں۔ گیسوں اور ٹھوسوں کو بالترتیب g اور S سے ظاہر کیا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch08_298a

منفی Eθ کا مطلب ہے کہ تحویل تکسید جفتہ، H+/H2 جفتہ  کے مقابلے میں زیادہ طاقتور تحویلی ایجنٹ ہے۔

مثبت Eθ  کا مطلب ہے کہ تحویل تکسید جفتہ H+/H2 جفتہ کے مقابلے میں کمزور تحویلی ایجنٹ ہے۔


 جس بیکر میں کاپر سلفیٹ محلول ہے اور جس بیکر میں زنک سلفیٹ محلول ہے، ان دونوں کو پاس پاس رکھ دیتے ہیں (شکل 8.3)۔ ہم دونوں بیکر کے محلول میں سالٹ برج (یہ ایک U ٹیوب ہوتی ہے، جس میں پوٹاشیم کلورائڈ یا امونیم نائٹریٹ کا محلول ہوتا ہے۔ اس محلول کو عام طور سے اگر-اگر (Agar-agar) کے ساتھ ابال کر ٹھنڈا کر کے جما لیا جاتا ہے، جس سے ایک جیلی (Jelly) جیسی شے مل جاتی ہے)،کے ذریعے منسلک کردیتے ہیں۔ اس طرح سے دونوں محلول کے درمیان ان کی بغیر آمیزش کے ہی ایک برقی تماس قائم ہو جاتا ہے۔ زنک اور کاپر کی چھڑوں کو ایک دھات کے تار سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس میں ایک ایم میٹر اور سوئچ لگانے کی سہولت بھی ہوتی ہے۔ اس سامان کی جو ترتیب شکل 8.3 میں دکھائی گئی ہے، اسے ڈینیل سیل کہتے ہیں۔ جب سوئچ آف حالت میں ہوتا ہے تو کسی بھی بیکر میں کوئی تعامل نہیں ہوتا۔ اور دھاتی تار میں سے کوئی کرنٹ نہیں بہتا۔ جیسے ہی سوئچ کو آن حالت میں لایا جاتا ہے تو مندرجہ ذیل مشاہدات کیے جاسکتے ہیں۔

  1. اب الیکٹرانوں کی منتقلی Zn سے +Cuپر، براہِ راست نہیں ہوتی بلکہ دونوں چھڑوں کو جوڑنے والے تار کے ذریعے ہوتی ہے، جیسا کہ تیر کے نشان سے ظاہر ہے، جو کرنٹ بہنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
  2. ایک بیکر کے محلول سے دوسرے بیکر کے محلول میں برق کا بہاؤ سالٹ برج سے آینوں کی منتقلی کے ذریعے ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کرنٹ کا بہاؤ اسی وقت ممکن ہے جب کاپر اور زنک چھڑوں جو کہ الیکٹروڈ (Electrodes) کہلاتے ہیں، کے درمیان، مضمر فرق (Potential difference) ہو۔

ہر ایک الیکٹروڈ سے وابسطہ مضمر، الیکٹروڈ مضمر (Electrode Potential) کہلاتا ہے۔ اگر الیکٹروڈ تعامل میں حصہ لے رہی ہر نوع کا ارتکاز اکائی ہو (اگر الیکٹروڈ تعامل میں کوئی گیس شامل ہوتی ہے تو اس کا دباؤ 1 فضائی دباؤ رکھا جاتا ہے) اور مزید یہ کہ تعامل 298K پر کیا جا رہا ہو تو ہر ایک الیکٹروڈ کا مضمر، ’’معیاری الیکٹروڈ مضمر‘‘ (Standard Electrode Potential) کہلاتا ہے۔ قرارداد کے مطابق، ہائڈروجن الیکٹروڈ کا معیاری الیکٹروڈمضمر (E0) 0.00وولٹ ہے۔ ہر ایک الیکٹروڈ عمل کے لیے الیکٹروڈمضمر قدر، عمل میں شامل فعال نوع کی تکسید شدہ/ تحویل شدہ شکل میں باقی رہنے کے اضافی رجحان کی پیمائش ہے۔ ایک منفی Eθ کا مطلب ہے کہ تحویل تکسید جفتہ (Redox Couple) H+/H2 جفتہ کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور تحویل کار ہے۔ ایک مثبت Eθ کا مطلب ہے کہ تحویل تکسید جفتہ، H+/H2  جفتہ کے مقابلے میں کمزور تحویل کار ہے۔ معیاری الیکٹروڈمضمر قدریں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور ہم ان سے بہت سی کار آمد معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ کچھ منتخب الیکٹروڈ عملوں (تحویل تعاملات) کے لیے معیاری الیکٹروڈمضمر قدریں جدول 8.1 (صفحہ 298 )میں دی گئی ہیں۔ آپ درجہ XII میں الیکٹروڈ تعاملات اور سیل کے بارے میں مزید سیکھیں گے۔


خلاصہ 

تحویل تکسید تعاملات، تعاملات کی ایک اہم قسم ہیں، جن میں تحویل اور تکسید بہ یک وقت ہوتی ہے۔ تین سطحی تصور، یعنی کہ کلاسیکی، الیکٹرانی اور تکسیدی عدد، جو عام طور سے درس میں دستیاب ہے، تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ تکسید، تحویل، تکسیدی ایجنٹ (تکسید کار) اور تحویلی ایجنٹ (تحویل کار) کو ہر ایک نظریہ کے مطابق دیکھا گیا ہے۔ تکسیدی اعداد، قاعدوں کے ہم آہنگ سیٹ (Consistent Set of Rules) کے مطابق تفویض کیے گئے ہیں۔ تکسیدی عدد اور آین۔ الیکٹران طریقہ دونوں تحویل تکسید تعاملات کی مساواتیں لکھنے کے کار آمد طریقے ہیں۔ تحویل تکسید تعاملات کی چار زمروں میں درجہ بندی کی گئی ہے: اتحادی، تحلیلی، ہٹاؤ اور غیر تناسب کاری تعاملات۔ تحویل تکسید جفتہ اور الیکٹروڈ عمل کے تصور کو یہاں متعارف کرایا گیا ہے۔ تحویل تکسید تعاملات کے الیکٹروڈ عمل اور سیلوں کے مطالعے میں اہم استعمال ہیں۔

مشقیں

8.1 مندرجہ ذیل انواع میں خط کشیدہ عناصر کو تکسیدی عدد تفویض کیجیے۔
(a) NaH2PO4 (b) NaHSO4 (c) H4P2O7 (d) K2MnO4
(e) CaO2 (f) NaBH4 (g) H2S2O7 (h) KAl(SO4)2.12 H2O

8.2 مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک کے خط کشیدہ عنصر کا تکسیدی عدد کیا ہے اور آپ اپنے نتیجے کی کیا تو جیہہ پیش کرتے ہیں؟
(a) KI3 (b) H2S4O6 (c) Fe3O4 (d) CH3CH2OH (e) CH3COOH

8.3  دلیل پیش کیجیے کہ مندرجہ ذیل تعاملات، تحویل تکسید تعاملات ہیں:
(a) CuO(s) + H2(g) → Cu(s) + H2O(g) (b) Fe2O3(s)  + 3CO(g)  → 2Fe(s)  + 3CO2(g) (c) 4BCl3(g)  +  3LiAlH4(s) → 2B2H6(g) + 3LiCl(s) + 3 AlCl3(s) (d) 2K(s)  +  F2(g)  →  2K+F (s)
(e)  4 NH3(g) + 5 O2(g) → 4NO(g) + 6H2O(g)

8.4 فلورین برف سے تعامل کرتی ہے اور نتیجے میں ہونے والی تبدیلی مندرجہ ذیل ہے:
H2O(s) + F2(g) →  HF(g) + HOF(g)
دلیل پیش کیجیے کہ یہ تعامل، تحویل تکسید تعامل ہے۔

8.5  H2SO5، 5166_Keemiyan II_Ch08_300a اور –NO3 میں سلفر، کرومیم اور نائٹروجن کے تکسیدی عدد کا حساب لگایئے۔ ان مرکبات کی ساخت (Structure) تجویز کیجیے۔ ابہام(Fallacy) کا خیال رکھیے۔

8.6 مندرجہ ذیل مرکبات کے فارمولے لکھیے۔
(a) مرکری (II) کلورائڈ (b) نکل (II) سلفیٹ
(c) ٹن (IV) آکسائڈ (d) تھیلیم (I) سلفیٹ 
(e) آئرن (III) سلفیٹ (f) کرومیم (III) آکسائڈ

8.7  ایسی اشیا کی فہرست تجویز کیجیے، جن میں کاربن 4– سے 4+ تک اور نائٹروجن 3– سے 5+ تک تکسیدی حالتیں ظاہر کرتے ہیں۔

8.8  سلفر ڈائی آکسائڈ اور ہائڈروجن پر آکسائڈ اپنے تعاملات میں تحویلی ایجنٹ اور ساتھ ہی ساتھ تکسیدی ایجنٹ کے طور پر حصہ لیتے ہیں، جبکہ اوزون اور نائٹرک ایسڈ صرف تکسید کار کے طور پر حصہ لیتے ہیں۔ کیوں؟

8.9  مندرجہ ذیل تعاملات ملاحظہ کیجیے:
(a) 6 CO2(g)  + 6H2O(l)  →  C6 H12 O6(aq)  + 6O2(g)
(b)  O3(g)  + H2O2(l) → H2O(l) + 2O2(g)
ان تعاملات کو مندرجہ ذیل شکل میں لکھنا کیوں زیادہ مناسب ہے
(a) 6CO2(g) + 12H2O(l)  →  C6 H12 O6(aq)  + 6H2O(l) + 6O2(g)
(b) O2(g)  +  H2O2 (l)  →  H2O(l) + O2(g) + O2(g)
مندرجہ بالا (a) اور (b) تعاملات کے راستے کی تفتیش کر نے کی تکنیک بھی تجویز کیجیے۔

8.10 مرکب AgF2 ایک غیر مستحکم مرکب ہے۔ لیکن اگر تشکیل پاتا ہے تو یہ مرکب بہت طاقتور تکسیدی ایجنٹ کے طورپر کام کرتا ہے۔ کیوں؟

8.11  جب بھی ایک تکسیدی ایجنٹ اور تحویلی ایجنٹ کے درمیان تعامل کرایا جاتا ہے تو ایک زیریں تکسیدی حالت کا مرکب تشکیل پاتاہے، اگر تحویلی ایجنٹ کی مقدار زیادہ ہو تو، اور اگر تکسیدی ایجنٹ کی مقدار زیادہ ہو تو ایک بالائی تکسیدی حالت کا مرکب تشکیل پاتا ہے۔ تین مثالوں کی مدد سے مندرجہ بالا بیان کو ثابت کیجیے۔

8.12 آپ مندرجہ ذیل مشاہدات کی کیسے وضاحت کریں گے؟
(a)   حالانکہ قلوی پوٹاشیم پرمینگنیٹ اور تیزابی پوٹاشیم پرمینگنیٹ دونوں تکسید کار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، پھر بھی، ٹولوین (Toluene) سے بینزوئک ایسڈ(Benzoic Acid) تیار کرنے میں ہم تکسید کار کے طور پر قلوی پوٹاشیم پرمینگنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس تعامل کے لیے متوازن تحویل تکسید مساوات لکھئے۔
(b)   جب مرتکز سلفیورک ایسڈ کو ایسے غیر نامیاتی آمیزہ (Inorganic mixture) میں ڈالا جاتا ہے جس میں کلورائڈ شامل ہو تو بے رنگ، تیز بو والی گیس HCl حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر آمیزے میں برومائڈ شامل ہو تو برومین کے لال ابخرات حاصل ہوتے ہیں۔ کیوں؟

8.13  مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک تعامل میں، تحویل شدہ شے، تکسید شدہ شے، تحویلی ایجنٹ اور تکسیدی ایجنٹ، کی شناخت کیجیے۔
(a) 2AgBr (s) + C6H6O2(aq) → 2Ag(s) + 2HBr (aq) + C6H4O2(aq)
(b) HCHO(l) + 2[Ag (NH3)2]+(aq) + 3OH(aq) → 2Ag(s) +  HCOO(aq) + 4NH3(aq) 
        + 2H2O(l)
(c)  HCHO (l) + 2 Cu2+(aq) + 5 OH–(aq) → Cu2O(s) + HCOO–(aq) + 3H2O(l) 
(d)  N2H4(l) + 2H2O2(l) → N2(g) + 4H2O(l)
(e)  Pb(s) + PbO2(s) + 2H2SO4(aq) → 2PbSO4(s) + 2H2O(l)

8.14 مندرجہ ذیل تعاملات ملاحظہ کیجیے:
5166_Keemiyan II_Ch08_301a

ایک ہی تحویل کار یعنی تھایو سلفیٹ (Thiosulphate) آیوڈین اور برومین سے مختلف انداز میں کیوں تعامل کرتا ہے؟

8.15 تعاملات لکھتے ہوئے، دلائل پیش کیجیے کہ ہیلوجن (Halogens) میں فلورین سب سے بہتر تکسید کار ہے اور ہائڈروہیلک (Hydrohalic) مرکبات میں، ہائڈرو آیوڈک ایسڈ سب سے بہتر تحویل کار ہے۔ 
8.16 مندرجہ ذیل تعامل کیوں ہوتا ہے؟
5166_Keemiyan II_Ch08_301b
اس تعامل سے مرکب Na4XeO6 (5166_Keemiyan II_Ch08_301c جس کا حصہ ہے) کے بارے میں کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ 

8.17 مندرجہ ذیل تعاملات ملاحظہ کیجیے:
(a) H3PO2(aq) + 4 AgNO3(aq) + 2 H2O(l) → H3PO4(aq) + 4Ag(s) + 4HNO3(aq)
(b) H3PO2(aq) + 2CuSO4(aq) + 2 H2O(l) →  H3PO4(aq) + 2Cu(s) + H3SO4(aq)
 +(c) C6H5CHO(l) + 2[Ag (NH3)2]+(aq) + 3OH(aq) → C6H5COO–(aq) + 2Ag(s) 
4NH³ (aq) +2 H² O(l)

(d) کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی
C6H5CHO(l) + 2Cu2+(aq) + 5OH–(aq 
ان تعاملات سے آپ +Ag اور +Cu2 کے طرزعمل کے بارے میں کیا نتائج اخذ کرتے ہیں۔

8.18 مندرجہ ذیل تحویل تکسید تعاملات کو آین۔الیکٹران طریقے سے متوازن کیجیے:
 Mno4 (aq) +1 (aq)↔Mno² (s) +1²(s) (a)  (اساسی میڈیم میں)
  MNO-4 (aq) + so² (g)↔ Mn²+ (aq) +SO-4(aq)   (b)  (تیزابی محلول میں)
H²O²(aq) +6 Fe²+ (aq) +H²O (1)   (C)  (تیزابی محلول میں)
Cr²2-7 +so²(g)↔cr³+ (aq) +so2-4  (d)  (تیزابی محلول میں)
8.19 مندرجہ ذیل مساوات کو اساسی میڈیم میں آین۔الیکٹران طریقے اور تکسیدی عدد طریقے سے متوازن کیجیے۔ تکسیدی ایجنٹ اور تحویلی ایجنٹ کی شناخت کیجیے۔
p4 (s) +OH-(aq)↔PH³(g) + HPO-² (aq)  (a)
N²H4 (1) + CLO-³(aq)↔NO(g) + cl-(g)   (b)
cl²o7 (g) +H²O²(aq)↔clo²(aq) + o²(g) +h+H+  (C)
8.20 مندرجہ ذیل تعامل سے آپ کس قسم کی معلومات اخذ کر سکتے ہیں؟ 
(cn)²(g)+20H-(aq)↔CN-(aq) + CN-(aq) +H²O(l)

8.21 +Mn3 آین محلول میں غیر مستحکم ہے اور غیر تناسب کاری کے تحت 5166_Keemiyan II_Ch08_302i آین دیتا ہے۔ اس تعامل کے لیے متوازن آینی مساوات لکھیے۔

8.22 عناصر، I، Ne، Cs اور  F ملا حظہ کیجیے۔
(a)  اس عنصر کی شناخت کیجیے جو صرف منفی تکسیدی حالت ظاہر کرتا ہے۔
(b)  اس عنصر کی شناخت کیجیے جو صرف مثبت تکسیدی حالت ظاہر کرتا ہے۔
(c)  اس عنصر کی شناخت کیجیے جو مثبت اور منفی دونوں تکسیدی حالتیں ظاہر کرتا ہے۔
(d)  اس عنصر کی شناخت کیجیے جو نہ تو مثبت اور نہ ہی منفی تکسیدی حالت ظاہر کرتا ہے۔

8.23 پینے کے پانی کو خالص بنانے (صاف کرنے) میں کلورین استعمال ہوتی ہے۔ کلورین کی زیادتی نقصان دہ ہے۔ کلورین کی زیادتی کو ختم کرنے کے لیے اس کا سلفر ڈائی آکسائڈ کے ساتھ تعامل کرایا جاتا ہے۔ پانی میں ہو رہی اس تحویل تکسید تبدیلی کے لیے متوازن مساوات لکھئے۔

8.24 اپنی کتاب میں دی ہوئی دوری جدول کو دیکھئے اور مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے:
(a)  ان ممکنہ غیر دھاتوں کو منتخب کیجیے جو غیر تناسب کاری تعاملات ظاہر کر سکتی ہیں۔
(b) تین دھاتوں کو منتخب کیجیے جو غیر تناسب کاری تعامل ظاہر کر سکتی ہیں۔

8.25 بڑے پیمانے پر نائٹرک ایسڈ تیار کرنے کے اوسٹوالڈ (Ostwald's) طریقے کے پہلے مرحلے میں آکسیجن گیس کے ذریعے امونیا گیس کی تکسید ہوتی ہے اور نائٹرک آکسائڈ گیس اور بھاپ حاصل ہوتی ہے۔ صرف 10.00g امونیا اور 20.00g آکسیجن سے شروع کر کے نائٹرک آکسائڈ کا زیادہ سے زیادہ کتنا وزن حاصل کیا جا سکتا ہے؟

8.26 جدول 8.1 میں دیے ہوئے معیاری الیکٹروڈ مضمر کا استعمال کرتے ہوئے پیشین گوئی کیجیے کہ مندرجہ ذیل میں تعامل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ 
5166_Keemiyan II_Ch08_303a

8.27 مندرجہ ذیل میں سے ہر ایک کے الیکٹرولسس کے ماحصل کی پیشین گوئی کیجیے۔
(I) 5166_Keemiyan II_Ch08_303b کا آبی محلول ، چاندی کے الیکٹروڈ کے ساتھ
(ii)  5166_Keemiyan II_Ch08_303b کا آبی محلول، پلاٹینم کے الیکٹروڈ کے ساتھ
(iii) 5166_Keemiyan II_Ch08_303d کا ڈائی لیوٹ محلول، پلاٹینم کے الیکٹروڈ کے ساتھ
(iv)5166_Keemiyan II_Ch08_303e کا آبی محلول، پلاٹینم کے الیکٹروڈ کے ساتھ

8.28 مندرجہ ذیل دھاتوں کو اس ترتیب میں رکھیے، جس میں وہ ایک دوسرے کو اپنے نمکوں کے محلول سے ہٹاتی ہیں:
Al، Cu، Fe، Mg، Zn
8.29 معیاری الیکٹروڈمضمر قدریں مندرجہ ذیل ہیں:
Ag+/Ag = 0.80V ،K+/K = –2.93V ، 
Hg2+/Hg = 0.79V
Mg2+/Mg = –2.37V. Cr3+/Cr = –0.74V
ان دھاتوں کو ان کی تحویلی قوت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھیے۔

8.30 اس گیلوینک سیل کو دکھائیے جس میں مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے:5166_Keemiyan II_Ch08_303g
مزید یہ بھی دکھائیے کہ 
(i)  کون سا الیکٹروڈ منفی چارج شدہ ہے
(ii)  سیل میں برقی روکے حمال کون ہیں۔
(iii)  ہر ایک الیکٹروڈ پر ہونے والا انفرادی تعامل۔