Skip to content
Keemiyan II

اکائی 9

ہائڈروجن

(Hydrogen)

مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

  • دوری جدول میں ہائڈروجن کے مقام کے بارے میں رائے پیش کر سکیں؛
  • ہائڈروجن کے طرز وقوع چھوٹے اور تجارتی پیمانوں پر ڈائی ہائڈروجن بنانے کے طریقوں کا بیان کرسکیں؛
  • واضح کرسکیں کہ کس طرح مختلف عناصر ہائڈروجن کے ساتھ مل کر آینی، سالماتی اور غیر تناسب پیمائی مرکبات بناتے ہیں۔
  • یہ بیان کرسکیں کہ اس کی خصوصیات کی جانکاری کا استعمال کس طرح مفید اشیا کی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی میں کیا جاسکتا ہے۔
  • پانی کی ساخت کو سمجھ سکیں اور اس جانکاری کا استعمال طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کی وضاحت کے لیے کرسکیں۔
  • وضاحت کرسکیں کہ ماحولیاتی پانی کی کوالٹی اس میں گھلی ہوئی اشیا کی قسم پر کس طرح منحصر ہے، سخت اور نرم پانی کے درمیان فرق کرسکیں اور پانی کو نرم بنانے کا طریقہ سیکھ سکیں۔
  • بھاری پانی (Heavy Water) اور اس کی اہمیت کی معلومات حاصل کرسکیں۔
  • ہائڈروجن پر آکسائڈ کی ساخت کو سمجھ سکیں، اسے تیار کرنے کے طریقے اور خصوصیات کو سیکھ سکیں تاکہ مفید کیمیائی اشیا تیار کی جاسکیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھا جاسکے۔
  • چند مخصوص اصطلاحات کو سمجھ سکیں مثلاً الیکٹران ڈیفیشیئنٹ، الیکٹران پریسائز، الیکٹران رچ، ہائڈروجن معیشت ، ہائڈروجنیشن وغیرہ۔



  • "ہائڈروجن کائنات میں سب سے زیادہ افراط اور کرۂ ارض پر تیسرا سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر، مستقبل میں توانائی کا بڑا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے"۔
    (رولڈ ہوف مان)

    ہمارے گردوپیش قدرتی ماحول میں پائے جانے والے تمام عناصر میں ہائڈروجن کی ایٹمی ساخت سب سے سادہ ہے۔ اس کے ایٹم میں صرف ایک پروٹان اور ایک الیکٹران ہے۔ عنصری حالت میں یہ دوایٹمی (H2) سالمہ کے طور پر ہوتا ہے جس کو ڈائی ہائڈروجن کہتے ہیں۔ یہ تمام عناصر کے مقابلہ میں زیادہ مرکبات بناتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کرۂ ارض پر توانائی کے مسئلہ کا حل ہائڈروجن سے توانائی حاصل کر کے کیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت ہائڈروجن کی صنعتی اہمیت بہت ہے جس کو آپ اس اکائی میں پڑھیں گے۔

    9.1 دوری جدول میں ہائڈروجن کا مقام

    (Position of Hydrogen in the Periodic Table)

    دوری جدول میں ہائڈروجن پہلا عنصر ہے۔ تاہم ماضی میں اس کا مقام دوری جدول میں موضوع بحث رہا ے۔ اب آپ جانتے ہیں کہ دوری جدول میں عناصر کو ان کے الیکٹرانی تشکل کے حساب سے رکھا گیا ہے۔
    ہائڈروجن کا الیکٹرانی تشکل 1s1 ہے۔ ایک طرف اس کا الیکٹرانی تشکل قلوی دھاتوں کے باہری الیکٹرانی تشکل (ns1) کی طرح ہے جن کا تعلق دوری جدول کے پہلے گروپ سے ہے تو دوسری طرف ہیلوجنوں کی طرح (جن کا تشکل ns2np5 ہے جو دوری جدول کے سترھویں گروپ میں آتے ہیں)۔ ان میں نظیری نوبل گیس ہیلیم (1s2) کے تشکل سے ایک الیکٹران کم ہے۔ ہائڈروجن ان قلوی دھاتوں سے مشابہت رکھتی ہے جو ایک الیکٹران کھوکر یک مثبت آین (Unipositive Ion) بناتے ہیں اور اسی طرح ہیلوجن سے بھی مشابہت رکھتا ہے جو ایک الیکٹران لے کر یک منفی آین (Uninegative Ions) بناتے ہیں۔
    ہائڈروجن قلوی دھاتوں کی طرح آکسائڈ، ہیلائڈ اور سلفائڈ بناتا ہے۔ قلوی دھاتوں کے برخلاف اس کی آیونائیزیشن اینتھالپی (Ionization Enthalpy) بہت زیادہ ہے اور عام حالات میں یہ دھاتی خصوصیات کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ درحقیقت آیونائیزیشن اینتھالپی کے لحاظ سے ہائڈروجن ہیلوجنوں سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ Li، F اور H2 کی ΔiH باالترتیب 520 kJ mol–1، 1680 kJ mol–1 اور 1312 kJ mol–1 ہیں۔ ہیلوجنوں کی طرح یہ دو ایٹمی سالمہ بناتی ہے عناصر سے مل کر ہائڈرائڈ اور بہت سے شریک گرفت (Covalent) مرکبات بناتی ہے یہ ہیلوجنوں کے مقابلہ میں بہت کم تعامل پذیر ہے۔
    اس حقیقت کے باوجود کہ ہائڈروجن کسی درجہ قلوی دھاتوں اور ہیلوجنوں سے مشابہت رکھتی ہے یہ ان سے مختلف بھی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس کو دوری جدول میں کس جگہ رکھا جائے۔ ہائڈروجن سے الیکٹران نکلنے کے بعد اس کے نیوکلیس کا سائز1,5x10³pmرہ جاتا ہے۔ یہ سائز دوسرے عام ایٹمی اور آینی (Ionic) سائزpm50 سے200pm کے مقابلہ میں بہت کم ہے جس کے نتیجہ میں +H آزاد حالت میں نہیں پایا جاتا بلکہ دوسرے ایٹموں یا سالموں کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ایک نمایاں طرز عمل کو ظاہر کرتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اس کو دوری جدول میں الگ مقام دیا جائے (اکائی 3)۔

    9.2 ڈائی ہائڈروجن،
    (Dihydrogen, H2) H2

    9.2.1 وقوع (Occurrence)

    ڈائی ہائڈروجن کائنات میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے (کائنات کی کل کمیت کا %70) اور شمسی کرہ باد کا خاص عنصر ہے۔ مشتری (Jupiter) اور زحل (Saturn) جیسے بڑے سیاروں میں ہائڈروجن کثرت کے ساتھ موجود ہے۔ اپنی ہلکی خصوصیت کی وجہ سے کرۂ ارض پر کم(کمیت %0.15) ہے۔ دراصل متحدہ حالت میں یہ قشرارض (Earth Crust) اور سمندر کے %15.4 حصہ کی تشکیل کرتی ہے۔ متحدہ حالت (مرکبات) میں یہ پانی کے علاوہ پودوں، جانوروں کے بافتوں (Animal Tissues)، کاربوہائڈریٹ، پروٹین، ہائڈرائڈ بشمول ہائڈروکاربن اور دوسرے مرکبات میں پائی جاتی ہے۔

    9.2.2 ہائڈروجن کے ہم جا (Isotopes of Hydrogen)

    ہائڈروجن کے تین ہم جا ہیں۔ پروٹیم11H، ڈیوٹیریم 21H یا D اور ٹرائیٹیم 31H یا T۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ ہم جا آپس میں کس طرح مختلف ہیں؟ یہ ہم جا ایک دوسرے سے نیوٹرانوں کی موجودگی کی وجہ سے مختلف ہیں۔ عام ہائڈروجن، پروٹیم میں نیوٹران نہیں ہوتا۔ ڈیوٹیریم (جو بھاری ہائڈروجن بھی کہلاتا ہے) کے نیوکلیس میں ایک اور ٹرائیٹیم کے نیوکلیس میں 2 نیوٹران ہوتے ہیں۔ امریکی سائنسداں Harold C. Urey نے کمیتی عدد 2 والے ہائڈروجن ہم جا کو طبیعی طریقوں سے الگ کرنے پر 1934 میں نوبل انعام حاصل کیا۔
    ہائڈروجن کی سب سے عام قسم پروٹیم ہے۔ ارضی (Terrestrial) ہائڈروجن میں %0.0156 ڈیوٹیریم اکثر HD کی شکل میںہوتا ہے۔ ان آئسوٹوپ میں صرف ٹرائیٹیم تابکار (Radio Active) ہے اور کم توانائی کے β– ذرات (t1/2 = 12.33 Years) خارج کرتا ہے۔
    ان ہم جا کا الیکٹرانی تشکل یکساں ہے اس لیے ان کی کیمیائی خصوصیات بھی ایک جیسی ہیں۔ صرف ان کے تعاملات کی شرح (Rate) مختلف ہیں جو کہ ان کے بانڈ افتراق کی اینتھالپی (Enthalpy of Bond Dissociaton) میں فرق کی وجہ سے ہے (جدول 9.1)۔ تاہم ان کی کمیت میں فرق کی وجہ سے ان ہم جا کی طبیعی خصوصیات میں بہت فرق ہے۔ ہائڈروجن، دیوٹیریم اور ٹرائیٹیم کی چند اہم طبیعی خصوصیات جدول 9.1 میں دی گئی ہیں۔

    9.3 ڈائی ہائڈروجن (H2) تیار کرنا

    (Preparation of Dihydrogen, H2)

    دھاتوں اور دھات ہائڈرائڈوں سے ڈائی ہائڈروجن بنانے کے بہت سے طریقے ہیں۔

    9.3.1 تجربہ گاہ میں ڈائی ہائڈروجن بنانا (Laboratory

    Preparation of Dihydrogen)

    (i) یہ عموماً دانہ دار (Granulated)، جستہ اور ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ کے تعامل سے تیار کی جاتی ہے۔
    Zn + 2H+ → Zn2+ + H2

    جدول 9.1 ہائڈروجن کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات

    خصوصیات ہائڈروجن ڈیوٹیریم ٹرائیٹیم
    نسبتی کثرت (%)  (Relative Abundance)
    99-985 0-0156 10
    نسبتی ایٹمی کمیت
     (g mol–1)(RelativeAtomic Mass)
    1-008 2-014 3-016
    نقطۂ گداخت
     (K) (Melting Point)
    13-96 18-73 20-62
    نقطۂ جوش
     (K) (Boiling Point)
    20-39 23-67 25-00
    کثافت (g L–1) (Density) 0-09 0-18 -
    گداخت کی اینتھالپی
     (kJ mol–1) (Enthalpy of Fusion)
    0-117 0-197 -
    تبخیر کی اینتھالپی
     (Enthalpy of Vaporization (kJ mol–1)
    0-904 1-226 -
    بندش کی افتراق اینتھالپی
     /(kJ mol–1)  298.2 K (Enthalpy of Bond Dissociation)
    435-88 443-35 -
    بین نیوکلیائی فاصلہ
     /pm (Internuclear Distance)
    74-14 74-14 -
    آیونائیزیشن اینتھالپی
     /kJ mol–1 (Ionization Enthalpy)
    1312 - -
    الیکٹران گین انتھالپی
      /(kJ mol–1) (Electron Gain Enthalpy)
    -73 - -
    شریک گرفت نصف قطر /
    pm (Covalent radius)
    37 - -
    آینی نصف قطر /
    H– (pm)  (Ionic Radius)
    208 - -

    (ii) یہ جستہ اور آبی القلی کے تعامل سے بھی تیار کی جاسکتی ہے۔
    Zn + 2NaOH → Na2ZnO2 + H2

    9.3.2 تجارتی پیمانہ پر ڈائی ہائڈروجن تیار کرنا

    (Commercial Production of Dihydrogen)

    عام طور پر استعمال کیے جانے والے طریقے مندرجہ ذیل ہیں:
    (i) پلیٹنم الکٹروڈ کا استعمال کر کے تیزابی پانی کی برق پاشیدگی (Electrolysis) سے ہائڈروجن حاصل ہوتی ہے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_306b
    (ii) بہت زیادہ خالص (Purity >99.95%) ڈائی ہائڈروجن کو نیم گرم آبی بیریم ہائڈروکسائڈ کی نکل الیکٹروڈوں کے درمیان برق پاشیدگی کر کے حاصل کرتے ہیں۔
    (iii) یہ برائن محلول کی برق پاشیدگی سے سوڈیم ہائڈروکسائڈ اور کلورین کی تیاری میں ضمنی پیداوار (By-product) کی شکل میں حاصل ہوتی ہے۔متعلقہ تعاملات درج ذیل ہیں۔
    اینوڈ پر :2Cl(aq) → Cl2(g) + 2e
    کیتھوڈ :
    2H2O (l) + 2e–® H2(g) + 2OH–(aq)
    مکمل تعامل مندرجہ ذیل ہے۔
    2Na+ (aq) + 2Cl–(aq) + 2H2O(l) ¯ Cl2(g) + H2(g) + 2Na+ (aq) + 2OH–(aq)
    (iv) وسیط (Catalyst) کی موجودگی میں اونچے درجۂ حرارت پر بھاپ اور ہائڈروکاربن یا کوک کے تعامل سے ہائڈروجن پیدا ہوتی ہے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_306e
    مثلاً
    5166_Keemiyan II_Ch09_306f
    CO اور H2 کا آمیزہ واٹرگیس (Water Gas) کہلاتا ہے۔ کیونکہ CO اور H2 کا یہ آمیزہ میتھنال اور متعدد ہائڈروکاربن کی تالیف میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے تالیفی گیس یا سنگیس (Syngas) کہتے ہے۔ آج کل سنگیس، سیوج، لکڑی کا برادہ، لکڑی کی چھیلن، اخبار وغیرہ سے پیدا ہوتی ہے کوئلہ سے سنگیس بنانے کے طریقہ کو کول گیسی فکیشن (Coal Gasification) کہتے ہیں۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_307a
    آئرن کرومیٹ وسیط کی موجودگی میں سنگیس آمیزہ کی کاربن مونوآکسائڈ اور بھاپ کے تعامل سے ہائڈروجن کی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_307b
    اس کو واٹر گیس شفٹ تعامل (Water-gas Shift Reaction) کہتے ہیں۔ سوڈیم آرسنائٹ محلول سے گزارکر کاربن ڈائی آکسائڈ دور کی جاتی ہے۔
    موجودہ دور میں %77 صنعتی ہائڈروجن پٹروکمیکل سے، %18 کوئلہ سے، %4 آبی محلولوں کی برق پاشیدگی سے اور %1 دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔

    9.4 ڈائی ہائڈروجن کی خصوصیات (Properties of Dihydrogen)

    9.4.1 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)

    ڈائی ہائڈروجن ایک بے رنگ، بے بو، بے مزہ اور احتراق پذیر (Com- bustible) گیس ہے۔ یہ ہوا سے ہلکی ہے اور پانی میں غیر حل پذیر ہے۔ دوسری طبیعی خصوصیات ڈیوٹیریم کے ساتھ جدول 9.1 میں دی گئی ہیں۔

    9.4.2 کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)

    ڈائی ہائڈروجن کے کیمیائی طرز عمل کا تعین (اور اس بابت کوئی سالمہ) اکثر اس کی بندشی افتراقی اینتھالپی (Bond Dissociation Enthalpy) سے کیا جاتا ہے۔
    کسی بھی عنصر کے دو ایٹموں کے درمیان واحد بند کے لیے H - H کی بندشی افتراقی اینتھالپی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ اس وجہ سے ڈائی ہائڈروجن کا اس کے ایٹموں میں افتراق 2000K پر صرف%0.081ہوتا ہے جو 5000 K پر بڑھ کر %95.5 ہو جاتا ہے۔ H - H کی بانڈ اینتھالپی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ کمرہ کے درجۂ حرارت پر نسبتاً غیر عامل ہوتی (Inert) ہے۔ اسی لیے ایٹمی ہائڈروجن اونچے درجۂ حرارت پر برقی قوس (Electric Arc) یا بالائے بنفشی اشعاع (Ultraviolet Radiations) کے اثر سے پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اس کا اربٹل جس کا الیکٹرانی تشکل 1s1 ہے نا مکمل ہے یہ تقریباً تمام عناصر کے ساتھ مرکب بناتی ہے۔ یہ : (i) ایک الیکٹران نکال کر +H کی تشکیل کرکے (ii) ایک الیکٹران لے کر اور H کی تشکیل کرکے اور (iii) الیکٹرانوں کا ساجھا کرکے شریک گرفت بند (Covalent Bond) بنا کر تعامل کرتی ہے۔
    ڈائی ہائڈروجن کی کیمیا مندرجہ ذیل تعاملات سے سمجھی جاسکتی ہے۔
    ہیلوجنوں سے تعاملات: یہ ہیلوجنوں X2 سے تعامل کرکے ہائڈروجن ہیلائڈ HX بناتی ہے۔
    H² (g)+X² (g)↔2HK (g) (X=F,Cl,Br,l)
    اگرچہ فلورین سے تعامل اندھیرے میں بھی ہو جاتا ہے، آیوڈین سے تعامل کے لیے وسیط کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ڈائی آکسیجن سے تعامل : ڈائی آکسیجن سے تعامل کر کے یہ پانی بناتی ہے۔ یہ تعامل بہت زیادہ حرارت زا (Exothermic) ہے۔
    H2O(l); وسط یا گرم کرنے پر↔2H2(g) + O2 (g
    DH0 = –285.9 kJ mol–1
    ڈائی نائٹروجن سے تعامل: ڈائی نائٹروجن کے ساتھ یہ امونیا بناتی ہے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_307f5166_Keemiyan II_Ch09_307g
    یہ ہیبر پراسس (Haber Process) کے ذریعے امونیا کو بڑے پیمانے پر بنانے کا طریقہ ہے۔
    دھاتوں کے ساتھ تعامل: اونچے درجہ حرارت پر بہت سی دھاتوں سے مل کر یہ نظیری ہائڈرائڈ بناتی ہے (سیکشن 9.5)۔
    جہاں M ایک قلوی دھات ہے
    H2(g) +2M(g) ® 2MH(s)
    دھاتی آینوں اور دھاتی آکسائڈوں سے تعامل: آبی محلول میں یہ کچھ دھاتی آینوں اور دھاتی آکسائڈوں (جو لوہے سے کم تعامل پذیرہیں) کی ان کی نظیری دھاتوں میں تحویل (Reduce) کرتی ہے۔
    H²(g)+pd²+ (aq)↔pd(s)+2H+(aq)
    yH²(g)+ M+OY (S) ↔xM(s)+ yH²O (l)
    نامیاتی مرکبات سے تعامل: یہ وسیط کی موجودگی میں متعدد نامیاتی مرکبات سے تعامل کرکے مفید ہائڈروجنی اشیا دیتی ہے جن کی صنعتی اہمیت بہت زیادہہے ۔ مثلاً
    (i) نکل وسیط کا استعمال کرکے، خوردنی تیلوں کے ہائڈروجینیشن سے خوردنی چربی (مارگرین اور بناسپتی گھی) حاصل ہوتی ہے۔
    (ii) اولیفنس(Olefins)کے ہائڈروفارمیلشن (Hydroformylation) سے ایلڈیہائڈ حاصل ہوتے ہیں جو مزید تحویل ہو کر الکوحل دیتا ہے۔
    H²+CO+RCH=CH²↔RCH²CH²CHO
    H²+RCH²CH²CHO↔RCH²CH²CH²OH

    مسئلہ 9.1

    ڈائی ہائڈروجن کے (i) کلورین (ii) سوڈیم اور (iii) کاپر (II) آکسائڈ سے تعاملات پر تبصرہ کیجیے۔

    حل

    (i) ڈائی ہائڈروجن، کلورین کی کلورائڈ (Cl) میں تحویل کرتی ہے اور خود کلورین کے ذریعے +H میں تکسید ہو کر ہائڈروجن کلورائڈ بناتی ہے۔ H اور Cl کے درمیان ایک الیکٹرون کے جوڑے کی شرکت سے شریک گرفت سالمہ بنتا ہے۔
    (ii) سوڈیم سے تحویل ہو کر ڈائی ہائڈروجن NaH بناتی ہے۔ سوڈیم سے ایک الیکٹران ہائڈروجن پر منتقل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایک آینی مرکب Na+ H– بنتا ہے۔
    (iii) ہائڈروجن، کا پر (II) آکسائڈ کو صفرتکسیدی حالت میں کاپر میں تحویل کردیتی ہے اور خود تکسید ہو کر H2O بناتی ہے جو کہ ایک شریک گرفت سالمہ ہے۔

    9.4.3 ڈائی ہائڈروجن کے استعمال

    (Uses of Dihydrogen)

  • ڈائی ہائڈروجن کا سب سے زیادہ استعمال امونیا بنانے میں کیا جاتا ہے جو نائٹرک ایسڈ اور نائٹروجنی فرٹیلائزر تیار کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔
  • ڈائی ہائڈروجن کا استعمال کثیر غیرسیرشدہ خوردنی تیلوں جیسے سویابین، بنولہ وغیرہ کے ہائڈروجینیشن کے ذریعہ بناسپتی گھی تیار کرنے میں کیا جاتا ہے۔
  • بڑی مقدار میں نامیاتی کیمیائی مرکبات خصوصاً میتھتال (Methanol) کی تالیف میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
  • 5166_Keemiyan II_Ch09_308c
  • دھاتوں کے ہائڈرائڈ بنانے میں اس کا بہت استعمال ہوتا ہے (سیکشن 9.5)۔
  • اس کا استعمال بہت ہی کارآمد کیمیکل ہائڈروجن کلورائڈ کے بنانے میں ہوتا ہے۔
  • اس کا استعمال فلزکاری عملوں میں بھاری دھاتوں کے آکسائڈوں کی دھاتوں میں تحویل کے لیے ہوتا ہے۔
  • ایٹمی ہائڈروجن اور آکسی ہائڈروجن ٹارچ کا استعمال کاٹنے اور ویلڈ کرنے میں کیا جاتا ہے۔ ایٹمی ہائڈروجن کے ایٹم (برقی قوس کی مدد سے ڈائی ہائڈروجن کے افراق کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں) ویلڈ کی جانے والی سطح پر دوبارہ متحد ہوتے ہیں جس سے 4000K درجۂ حرارت پیدا ہوتا ہے۔
  • خلائی تحقیق (Space Research) میں اس کا استعمال راکٹ ایندھن کے طور پر ہوتا ہے۔
  • ایندھن سیل (Fuel Cell) میں اس کا استعمال برقی توانائی پیدا کرنے میں ہوتا ہے۔ عام حیا تیاتی ایندھنوں اور برقی پاور کے مقابلہ میں اس کے زیادہ فوائد ہیں۔ اس سے آلودگی (Pollution) نہیں ہوتی اور گیسولین و دیگر ایندھنوں کے مقابلہ میں فی اکائی کمیت زیادہ توانائی پیدا ہوتی ہے۔
  • 9.5 ہائڈرائڈس (Hydrides)

    ڈائی ہائڈروجن مخصوص حالات میں نوبل گیسوں کو چھوڑ کر تقریباً سبھی عناصر سے اتحاد کر کے بائنری مرکبات بناتی ہے جو ہائڈرائڈ کہلاتے ہیں۔ اگر کسی عنصر کی علامت E ہو تو ہائڈرائڈ کو EHX (جیسے MgH2) یا EmHn (جیسے B2H6) سے ظاہر کرتے ہیں۔
    ہائڈرائڈ کی تین طریقہ سے درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔
    (i) آینی یا کھاری یا نمکین ہائڈرائڈ
    (ii) شریک گرفت یا سالماتی ہائڈرائڈ
    (iii) دھاتی یا غیر تناسب پیما ہائڈرائڈ

    9.5.1 آینی یا نمکین ہائڈرائڈس

     (Ionic or Saline Hydrides)

    یہ ڈائی ہائڈروجن کے تناسب پیمائی مرکبات ہیں جو کہ بہت زیادہ برقی مثبت خصوصیات کے حامل -s بلاک(s-Block)عناصرسےبنتے ہیں۔ تاہم ہلکے دھاتی ہائڈرائڈ میں بہت زیادہ شریک گرفت خصوصیت پائی جاتی ہے جیسے BeH2 ،LiH اور MgH2 دراصل BeH2 اور MgH2 کی ساخت کے پالیمرک (Polymeric) ہوتی ہے۔ ٹھوس حالت میں آینی ہائڈرائڈ قلمی (Crystalline) ،غیر طیران پذیر (Non-volatile) اور غیر موصل (Non-Conduting) ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے گداخت (Melts) برق کے موصل ہیں اور برق پاشیدگی کرنے پر اینوڈ (Anode) پر ڈائی ہائڈروجن گیس خارج کرتے ہیں جو H آینوں کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_309a
    نمکین ہائڈرائڈ تیزی سے پانی کے ساتھ تعامل کر کے ڈائی ہائڈروجن گیس پیدا کرتے ہیں۔
    NaH(s) + H²O (aq)↔2LiAIH4 +6LiCI
    معتدل درجہ حرارت پر لیتھیم ہائڈرائڈ O2 یا Cl2 کے ساتھ تعامل نہیں کرتا۔ اس لیے اس کا استعمال دوسرے کارآمد ہائڈرائڈوں کے بنانے میں کیا جاتا ہے جیسے
    8LiH + Al2Cl6 → 2LiAlH4 + 6LiCl
    2LiH + B2H6 → 2LiBH4

    9.5.2  شریک گرفت یا سالماتی ہائڈرائڈ

     (Covalent or Molecular Hydride)

    ڈائی ہائڈروجن p بلاک کے اکثر عناصر کے ساتھ سالماتی مرکبات بناتا ہے۔ معروف مثالیں H2O، NH3 ، CH4 اور HF ہیں۔ آسانی کے لحاظ سے غیر دھاتوں کے ہائڈروجن مرکبات کو بھی ہائڈرائڈ ہی تصور کرتے ہیں۔ شریک گرفت ہونے کی وجہ سے یہ طیران پذیر (Volatile) مرکبات ہیں۔
    سالماتی ہائڈرائڈوں کی مزید درجہ بندی ان کی لوئس ساخت میں الیکٹرانوں اور بند کی نسبتی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
    (Electron-defecient) (i)
    ا(Electron-precise) (ii)اور
    (Electron-rich) (iii)
    جیسا کہ نام سے ظاہر ہے Electron-defecient کی روایتی لوئس ساخت لکھنے کے لیے بہت کم الیکٹران ہوتے ہیں۔ اس کی مثال ڈائی بورین (B2H6) ہے۔ درحقیقت گروپ 13 کے تمام عناصر Electron-defecient مرکبات بناتے ہیں۔ آپ ان کے کس طرح کے طرزِ عمل کا تصور کرتے ہیں؟ یہ لوئس تیزاب کی طرح کام کرتے ہیں یعنی الیکٹران کے حصول کار (Electron Acceptor)۔
    Electron-presise مرکبات کی روایتی لوئس ساخت لکھنے کے لیے الیکٹرانوں کی مطلوبہ تعداد ہوتی ہے۔ گروپ 14 کے تمام عناصر ایسے مرکبات بناتے ہیں (جیسے CH4) جس کی جیومیٹری ٹیٹراہیڈرل (Tetrahedral) ہوتی ہے۔
    Electron-rich ہائڈرائڈوں میں الیکٹران زیادہ ہوتے ہیں جو کہ تنہا جوڑے (Lone Pairs) کی شکل میں ہوتے ہیں۔ گروپ 15-17 کے عناصر اسی طرح کے مرکب بناتے ہیں۔ (NH3 میں ایک Lone Pair ہوتا ہے۔ H2O میں دو اور HF میں تین Lone Pair ہوتے ہیں) آپ اس طرح کے مرکبات کی کیا خصوصیات سوچتے ہیں؟ یہ لوئس اساس جیسا طرز عمل ظاہر کریں گے۔ یعنی الیکٹران معطی (Electron Donors)۔ O، N اور F جیسے بہت زیادہ برقی منفی ایٹموں کے ہائڈرائڈوں میں Lone Pair کی موجودگی سالمات کے درمیان ہائڈروجن بند بننے کا سبب ہے۔ اس سے سالموں کا اتحاد (Association) ہوتا ہے۔

    مسئلہ 9.2

    کیا آپ امید کرتے ہیں کہ O، N اور F کے ہائڈرائڈ کے نقطۂ جوش ان کے بعد والے گروپ کے ممبروں کے ہائڈرائڈ سے کم ہوں گے؟ وجوہات بتائیے۔

    حل

    H2O ،NH3 اور HF کی سالماتی کمیت کی بنیاد پر ان کے نقطہ جوش بعد والے گروپ کے ممبروں کے ہائڈرائڈ سے کم ہونے کی امید ہے۔ تاہم O، N اور F کی برقی منفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہائڈرائڈ میں ہائڈروجن بند کافی ہوں گے اس لیے H2O ،NH3 اور HF کے نقطہ جوش بعد والے گروپ کے ممبروں کے ہائڈرائڈ سے اونچے ہوں گے۔

    9.5.3 دھاتی یا غیر تناسب پیما (یاانٹراسٹیشیل) ہائڈرائڈس

    [Metallic or Non-stoichiometric (or Interstitial) Hydrides)

    یہ اکثر α اور f بلاک کے عناصر سے بنتے ہیں۔ گروپ 7، 8 اور 9 کے عناصر ہائڈرائڈنہیں بناتے۔ یہاں تک کہ گروپ 6 میں بھی صرف کرومیم ہی CrH بناتا ہے۔ یہ ہائڈرائڈ حرارت اور برق کے موصل ہیں لیکن اصل دھات کے مقابلہ میں کم موصل ہیں۔ نمکیاتی ہائڈرائڈ کے برخلاف یہ غیر تناسب پیما ہوتے ہیں اور ان میں ہائڈروجن کی کمی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر5166_Keemiyan II_Ch09_310a5166_Keemiyan II_Ch09_310bوغیرہ۔ان مرکبات میں متعین ترکیب کا قانون لاگونہیں ہوتا۔
    ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ ان ہائڈرائڈ میں ہائڈروجن، دھات کی لٹیس (Lattice) کے درمیان کی جگہوں میں ہوتی ہے جس سے وہ پھیل جاتی ہے لیکن اس کی قسم برقرار رہتی ہے اس لیے ان کو انٹراسٹیشیل (Interstitial) ہائڈرائڈ کہتے تھے۔ لیکن موجودہ مطالعوں سے ظاہر ہوا کہ Ce، Pd، Ni اور Ac کے ہائڈرائڈوں کو چھوڑ کر اس قسم کے دوسرے ہائڈرائڈوں کی لٹیس ان کی اصل دھاتوں سے مختلف ہوتی ہے۔ عبوری (Transition) دھاتوں پر ہائڈروجن کے انجذاب (Absorption) کی خصوصیات کی وجہ سے اس کا استعمال عمل انگیز تحویل اور ہائڈروجینیشن (Hydrogenation) کے ذریعہ بہت سے مرکبات بنانے میں کرتے ہیں۔ چند دھاتیں (جیسے Pt، Pd) ہائڈروجن کا بہت زیادہ حجم سمو لیتی ہیں اور اس طرح اس کو ہائڈروجن کے ذخیرہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ خصوصیت ہائڈروجن کے ذخیرہ کے لیے اور توانائی کے ذریعے کے طور پر بہت زیادہ صلاحیت کی ضامن ہے۔

    مسئلہ 9.3

    کیا فاسفورس جس کا باہری الیکٹرانی تشکل 3s23p3 ہے PH5 بناسکتا ہے؟

    حل

    اگرچہ فارسفورس کی تکسیدی حالات 3+ اور 5+ ہے یہ PH5 نہیں بنا سکتا۔ کچھ دوسری وجوہات جیسے ڈائی ہائڈروجن کی ΔaH اور ΔegH زیادہ قدریں PH5 میں P کی زیادہ تکسیدی حالت ظاہر کرنے کے لیے موافق نہیں ہیں۔


    9.6 پانی

    جاندار عضویوں کا بیشتر حصہ پانی سے بنا ہے۔ انسان کے جسم کا %65 اور کچھ پودوں کا %95 پانی ہے۔ یہ زندگی کی سبھی شکلوں کی بقا کے لیے ایک اہم مرکب ہے۔ یہ ایک اہم محلل ہے۔ زمین کی سطح پر پانی کی تقسیم یکساں نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل جدول میں پانی کی سپلائی کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

    جدول 9.2 دنیا کے پانی کی سپلائی کا تخمینہ


    ذریعہ کل ٪
    سمندر (بحر) 97-33
    نمکین جھیلیں اور زمینی سمند 0-008
    قطبی برف اور گلیشیر 2-04
    زمینی پانی 0-61
    جھیلیں 0-009
    مٹی کی نمی 0-005
    کرہ باد میں آبی ابخرات 0-001
    دریا 0-0001

    9.6.1 پانی کی طبیعی خصوصیات (Physical Properties of Water)

    یہ ایک بے رنگ اور بے ذائقہ رقیق ہے۔ جدول 9.3 میں اس کی اور بھاری پانی کی طبیعی خصوصیات دی گئی ہیں۔

    جدول 9.3 H2O اور D2O کی طبیعی خصوصیات


    خصوصیت H²O D²O
    سالماتی کمیت/(gmol) 18.0151
    20.0276
    نقطہ گداخت/k 273.0 276.8
    نقطہ جوش/k 373.0 374.4
    تکوین کی اینتھا لپیKJ moL-¹ –285.9 –294.6
    ابخرات کی اینتھا لپی KJmol-¹373k 40.66 41.61
    گداخت کی اینتھا لپی/ kj MOl-¹ 6.01 -
    اعظم کثافت کا درجہ حرارت/k 276.98 284-2
    کثافتg cm-³/298k 1-0000 1-1059
    لزوجت (Viscosity)/ سینٹی پائز (Centipoise) 0-8903 1-107
    ڈائی الیکٹرک مستقلہ
     (Dielectric Constant)/) (C2/N.m2
    78-93 78-06
    برقی موصلیت
     Electrical Conductivity 293 K) / ohm–1 cm–1
    5.7 × 10–8 -

    پانی کی غیر معمولی خصوصیات اس کی تکثیف شدہ ہیئت (رقیق اور ٹھوس حالتیں) میں پانی کے سالمات میں موجود ہائڈروجن بندش (Hydrogen Bonding) کی وجہ سے ہے۔ اس کی وجہ سے H2S اور H2Se مقابلہ میں اس کا نقطہ گداخت، نقطہ جوش، تبخیر کی حرارت اور گداخت کی حرارت زیادہ ہیں۔ دیگر رقیق اشیا کے مقابلہ میں اس کی نوعی حرارت، حرارتی موصلیت، سطحی تناؤ، ڈائی پول مومنٹ (Dipole Moment) اور ڈائی الیکٹرک مستقلہ (Dielectric Constant) وغیرہ زیادہ ہیں۔ ان خصوصیات کی وجہ سے پانی حیاتی کرّہ (Biosphare) میں ایک کلیدی رول ادا کرتا ہے۔
    زیادہ تبخیری حرارت اور حرارتی گنجائش (Heat Capacity) آب و ہوا اور حیوانات کے جسم کے درجہ حرارت کو معتدل بنائے رکھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ نباتاتی اور حیواناتی تحول (Metabolism) میں آینوں اور سالموں کے نقل و حمل کے لیے یہ بہترین محلل ہے۔ قطبی سالمات کے ساتھ ہائڈروجن بندش بنانے کی وجہ سے شریک گرفت مرکبات جیسے الکوحل اور کاربوہائڈریٹ پانی میں گھل جاتے ہیں۔

    9.6.2 پانی کی ساخت (Structure of Water)

    گیسی حالت میں پانی ایک خمیدہ (Bent) سالمہ ہے جس کا بندشی زاویہ 104.5° اور بندشی فاصلہ 95.7 pm ہے جیسا کہ شکل9.1(a) میں

    5166_Keemiyan II_Ch09_311B
    H²O سالمہ
    شکل 9.1 (a) پانی کی خمیدہ ساخت (b) دو قطب (Dipole) کی طرح پانی کا سالمہ اور (c) پانی کے سالمہ کے اربٹل اوورلیپ (Orbital Overlap) تصویر

    دکھایا گیا ہے۔ یہ بہت زیادہ قطبی سالمہ ہے (شکل 9.1 (b))۔ اس کی اربٹل اوورلیپ (Orbital Overlap) شکل 9.1 (c) میں دکھائی گئی ہے۔ رقیق حالت میں پانی کے سالمات ایک دوسرے سے ہائڈروجن بندش کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں۔
    پانی کی قلمی شکل برف ہے۔ فضائی دباؤ پر قلمی برف مسدسی (Hexagonal) شکل میں ہوتی ہے لیکن بہت کم درجۂ حرارت پر اس کی تکثیف کعبی (Cubic) شکل میں ہو جاتی ہے۔ برف کی کثافت پانی سے کم ہوتی ہے اسی وجہ سے برف کا ٹکڑا پانی پر تیرتا ہے۔ موسم سرما میں جھیل کی سطح پر برف بننے سے حرارتی حجز (Insulation) پیدا ہو جاتا ہے جو آبی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ اس حقیقت کی ماحولیاتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

    9.6.3 برف کی ساخت (Structure of Ice)

    یہ بہت زیادہ مرتب سہ ابعادی (Three Dimensional) ہائڈروجن بند پر مشتمل ساخت ہے۔ جیسا کہ شکل 9.2 میں دکھایا گیا ہے۔ برف کے کرسٹلوں کی ایکسرے جانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ایک آکسیجن ایٹم دیگر چار آکسیجن ایٹموں سے گھرا ہوا ہے ان ایٹموں کے درمیان کا فاصلہ276PM ہے۔
    ہائڈروجن بندش کی وجہ سے برف کی ساخت کھلی قسم کی ہوتی ہے جس میں چوڑے سوراخ (Wide Holes) ہوتے ہیں۔ یہ سوراخ کچھ دوسرے مناسب جسامت کے سالمات کو اپنے اندر (Interstitally) لے سکتے ہیں۔

    5166_Keemiyan II_Ch09_311c

    شکل 9.2 برف کی ساخت

    9.6.4 پانی کی کیمیائی خصوصیات

    (Chemical Properties of Water)

    پانی متعدد اشیا کے ساتھ تعامل کر لیتا ہے۔ کچھ اہم تعاملات ذیل میں دیے گئے ہیں :
    (1) ایمفوٹیرک فطرت (Amphoteric Nature): اس میں تیزاب اور اساس دونوں اہلیتیں ہیں یعنی یہ ایک ایمفوٹیرک شے ہے۔ برونسٹڈ کے مطابق سے یہ NH3 کے ساتھ تیزاب کے طور پر اور H2S کے ساتھ اساس کے طور پر کام کرتا ہے۔
    H²(1)+NH³(aq)⇔OH-(aq)+NH+4 (aq)
    H²O (1) +H² S (aq)⇔H³O+ (aq)+ HS- (aq)

    پانی کی آٹوپروٹولسس (از خود آین سازی) مندرجہ ذیل طریقہ سے ہوتی ہے۔

    H²O(1)+H²O(1)⇔H³O+(aq)+OH-(aq)
    اساس 1- ایسڈ2- اساس 2- ایسڈ 1-
    (زوجی اساس) (زوجی تیزاب) (اساس) (تیزاب)
    (2) تحویلی تعامل (Reduction Reaction): بہت زیادہ برقی مثبت دھاتوں کے ذریعے پانی کو بہ آسانی ڈائی ہائڈروجن میں تحویل کر سکتے ہیں۔
    2H²O (1)+2Na (s)↔2NaOH(aq)+H² (H)
    اس لیے یہ ڈائی ہائڈروجن کا بڑا ذریعہ ہے۔
    ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے دوران H2O کی تکسید O2 میں ہو جاتی ہے۔
    6C (g) +12H²O(1)↔c6H12O6(aq)+6H²O(1)
    +6o²(g)
    فلورین کے ساتھ بھی اس کی O2 میں تکسید ہو جاتی ہے۔
    2F²(g)+2H²O(aq)↔4H+(aq)+4F-(aq)+o²(g)
    (3) آب پاشیدگی تعامل (Hydrolysis Reaction): ڈائی الیکٹرک مستقلہ (Dielectric Constant) زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی آبیدگی (Hydrating) صفت بہت زیادہ ہے۔ یہ بہت سے آینی مرکبات کو حل کر لیتا ہے تاہم چند شریک گرفت اور آینی مرکبات پانی میں آب پاشیدہ (Hydrolyse) ہو جاتے ہیں۔
    p4o10(s)+6H²O(1)↔4H³PO4(aq)
    SiCI4(1)+ 2H²O(1)↔SiO²(S)+4HCl(aq)
    N³-(S) +3H²O(1)↔ NH³(g) + 3ohH-(aq)

    (4) ہائڈریٹ (Hydrates) کا بننا: آبی محلولوں سے بہت سے نمکوں کی ہائڈریٹڈ نمک کی شکل میں قلم سازی کی جاسکتی ہے۔ پانی کا اس طرح کا اتحاد مختلف اقسام کا ہوتا ہے یعنی
    (i) مربوط (Coordinated) پانی مثلاً5166_Keemiyan II_Ch09_313b
    (ii) انٹراسٹیشیل (Interstitial) پانی مثلاً BaCl2.2H2O
    (iii) ہائڈروجن بند پر مشتمل پانی مثلاً .CuSO4.5H2O میں
    5166_Keemiyan II_Ch09_313c۔

    مسئلہ 9.4

    .CuSO4.5H2O
     میں ہائڈروجن بند پر مشتمل پانی کے کتنے سالمات ہیں؟

    حل

    پانی کا سالمہ صرف ایک ہائڈروجن بندپر مشتمل ہے۔ پانی کے دیگر چار سالمات کوآرڈینیٹڈ ہیں۔

    9.6.5 سخت اور نرم پانی

     (Hard and Soft Water)

    بارش کا پانی تقریباً خالص ہوتا ہے (فضا کی کچھ گیسیں گھلی ہو سکتی ہیں) اچھا محلل ہونے کی وجہ سے جب یہ زمین کی سطح پر بہتا ہے تو بہت سے نمکوں کو گھول لیتا ہے۔ پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم نمکوں کی ہائڈروجن کاربونیٹ، کلورائڈ اور سلفیٹ کی شکل میں موجودگی پانی کو ’’سخت‘‘ بنا دیتی ہے۔ سخت پانی (Hard Water) صابن کے ساتھ جھاگ نہیں دیتا۔ کیلشیم اور میگنیشیم کے حل پذیر نمکوں سے آزاد پانی کو نرم پانی (Soft Water)کہتے ہیں۔ یہ صابن کے ساتھ بہ آسانی جھاگ دیتا ہے۔
    سخت پانی صابن کے ساتھ گاد (Scum)/ رسوب (Precipitate) بناتا ہے سوڈیم اسٹریٹ (C17H35COONa) پر مشتمل صابن سخت پانی سے تعامل کرکے Ca/Mg کے اسٹریٹ کی ترسیب کرتا ہے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_313d
    Ca/Mg، M کوظاہر کرتاہے۔
    اس لیے یہ کپڑوں کی دھلائی (لانڈری) کے لیے موزوں نہیں ہے۔ یہ بائلروں (Boilers) کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے نمک پپڑی کی شکل میں جمع ہو جاتے ہیں اس سے بوائلر کی استعداد کم ہو جاتی ہے۔ پانی کی سختی دو طرح کی ہوتی ہے: (i) عارضی سختی اور (ii) مستقل سختی۔

    9.6.6 عارضی سختی (Temporary Hardness)

    عارضی سختی میگنیشیم اور کیلشیم کے ہائڈروجن کاربونیٹ کی موجودگی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ مندرجہ ذیل طریقوں سے دور کی جاسکتی ہے۔
    (i) اُبال کر (Boiling): ابالنے سے Mg(HCO3)2 اور Ca(HCO3)2 کے حل پذیر نمک غیر حل پذیر میگنیشیم اور کیلشیم کے بالترتیب ہائڈروکسائڈ اور اور کاربونیٹ میں تبدیل ہو جاتے ہیں کیونکہ MgCO3 کے مقابلہ میں Mg(OH2) کا حل پذیری حاصل ضرب (Solubility Product) زیادہ ہوتا ہے اس لیے Mg(OH2) کی ترسیب ہو جاتی ہے۔ یہ رسوب چھان کر الگ کیے جاسکتے ہیں۔ چھاننے کے بعد حاصل ہونے والا پانی نرم پانی ہوگا۔

    5166_Keemiyan II_Ch09_313f
    (ii) کلارک کا طریقہ : اس طریقہ میں چونے (Lime) کی تحسیب شدہ مقدار (Calculated Amount) کو سخت پانی میں ملاتے ہیں۔ یہ کیلشیم کاربونیٹ کا رسوب دیتا ہے جس کو چھان لیتے ہیں۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_313g

    9.6.7 مستقل سختی (Permanent Hardness)

    یہ کلورائڈ اور سلفیٹ کی شکل میں میگنیشیم اور کیلشیم کے حل پذیر نمکوں کی موجودگی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ابالنے سے دور نہیں ہوتی۔ اس کو مندرجہ ذیل طریقوں سے دور کر سکتے ہیں۔
    (i) واشنگ سوڈا (سوڈیم کاربونیٹ) سے عمل : دھونے کا سوڈا سخت پانی میں حل پذیر کیلشیم اور میگنیشیم کے کلورائڈ اور سلفیٹوں سے تعامل کر کے غیر حل پذیر کاربونیٹ بناتا ہے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_314a
    (ii) کالگن (Colgon) کا طریقہ: سوڈیم ہیکسا میٹافاسفیٹ (Na6P6O18) کا تجارتی نام کالگن ہے۔ جب اس کو سخت پانی میں ملاتے ہیں تو مندرجہ ذیل تعاملات ہوتے ہیں۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_314b
    کمپلیکس این آین5166_Keemiyan II_Ch09_314b_iآینوں کی محلول میں بنائے رکھتے ہیں۔
    (iii) آین ایکسچینج کا (Ion-Exchange) طریقہ: اس طریقہ کو زیولائٹ /پر میوٹٹ طریقہ بھی کہتے ہیں۔ آبیدہ سوڈیم ایلیومینیم سلیکیٹ زیولائٹ / پرمیوٹٹ ہے۔ آسانی کے لیے سوڈیم ایلیومینیم سلیکیٹ (NaAISiO4) کو NaZ لکھ سکتے ہیں۔ جب اس کو سخت پانی میں ملاتے ہیں تو ایکسچینج تعاملات ہوتے ہیں۔
    2NaZ(s)+M²+(aq)↔MZ²(s)+2Na+(aq)
    〈M=Mg.Ca〉
    جب تمام سوڈیم استعمال ہو جاتا ہے تو پرمیوٹٹ/زیولائٹ کی کارکردگی ختم ہو جاتی ہے اس کی آبی سوڈیم کلورائڈ کے محلول سے تعامل کرکے دوبارہ حاصل (Regenerate) کر لیتے ہیں۔
    MZ²(s) + 2NaCl(aq)↔2NaZ(s)+MC1² (aq)
    (iv) تالیفی ریزن کا (Synthetic Resins) طریقہ: آج کل تالیفی کیٹ آین ایکسچینج (Synthetic Cation Exchangers) کا استعمال کرکے سخت پانی کو نرم کیا جاتا ہے۔ زیولائٹ طریقہ کے مقابلہ میں یہ طریقہ زیادہ مؤثر ہے۔ کیٹ آین ایکسچینج ریزن SO3H - گروپ والے بڑے سالمات پر مشتمل ہوتےہیں۔ آین ایکسچینج ریزن
    RSO³HNaClکے ساتھ تعامل کرکے RNaمیں تبدیل ہو جاتا ہے۔
    RNa سخت پانی میں موجود کیلشیم/ میگنیشیم کے دھاتی آین سے تعامل کرکے پانی کو نرم بنا دیتا ہے۔ یہاں
     R ایک ریزن این آین ہے۔
    2RNa(s)+M²+(aq)↔R²M(s) +2Na+(aq)
    NaCl کا آبی محلول ملانے سے یہ ریزن (Resin) پھر سے حاصل ہو جاتا ہے۔
    خالص غیر معدنی (De-ionized) پانی جو کہ تمام حل پذیر معدنیات سے مبرا ہو، اسے پانی بتدریج کیٹ آین ایکسچینج(+H کی شکل میں) اور این آین ایکسچینج (OH کی شکل میں) میں گزار کر حاصل کرتے ہیں۔
    2RH(s) + M²+ (aq)⇔MR²(s)+2H(aq)
    اس کیٹ آین ایکسچینج عمل میں، پانی میں موجود Na+، Ca2+، Mg2+ اور دیگر کیٹ آین کی H+ سے تبدیلی ہوتی ہے۔ یہ عمل پروٹان خارج کرکے پانی کو تیزابی بنا دیتا ہے۔ این آین ایکچینج عمل میں 
    RNH²(s)+H²o(1)⇔RNH+3.OH-(s)
    RNH+3OH-(s)X-(aq)⇔RNH+3.X-(s)+OH-(s)
    پانی میں موجود این آین جیسے5166_Keemiyan II_Ch09_314kوغیرہ کا تبادلہ -OH سے ہوتا ہے۔ اس طرح خارج ہونے والے -OH آین پہلی تبدیلی میں حاصل ہونے والے +OH آینوں کو تعدیل کردیتے ہیں۔
    H+(aq)+ OH-(aq)↔H²o(1)
    استعمال شدہ کیٹ آین اور این آین ایکسچینج کی پرتیں (Beds) باالترتیب ڈائی لیوٹ ایسڈ اور NaOH کے محلول کے تعامل سے دوبارہ کارآمد بنالی جاتی ہیں۔

    9.7 ہائڈروجن پر آکسائڈ

    (Hydrogen Peroxide, H2O2)

    گھریلو اور صنعتوں سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابوپانے اور اس کے تصفیہ کے لیے ہائڈروجن پر آکسائڈ ایک اہم کیمیائی شے ہے۔

    9.7.1 تیار کرنا (Preparation)

    اس کو مندرجہ ذیل طریقوں سے بنا سکتے ہیں۔
    (i) بیریم پر آکسائڈ کو تیزابی کر کے زائد پانی کی کم دباؤ پر تبخیر کر کے
    Bao².8H²o(S)+H²SO4(aq)↔BaSO4(s)+
    H²O²(aq)+ 8H²O(1)
    (ii) بہت زیادہ کرنٹ کثافت پر تیزابی سلفیٹ کی الیکٹرولائٹک تکسید سے حاصل ہونے والے پر آکسوڈائی سلفیٹ کی آب پاشیدگی کے ذریعے۔
    5166_Keemiyan II_Ch09_315a
    اب اس طریقہ کا استعمال تجربہ گاہ میں D2O2 بنانے میں کیا جاتا ہے۔
    K²S²O8(s) +2D²O(1)↔2KDSO4 (aq)+D²O²(1)
    (iii) صنعتی پیمانے پر اس کو -2الکائل اینتھرا کیونول کے آٹوآکسڈیشن کے ذریعہ بناتے ہیں
    5166_Keemiyan II_Ch09_315c
    2-enthylanthraquinol
    اس حالت میں %1 H2O2 بنتا ہے۔ اس کو پانی کے ذریعہ نکال کر کم دباؤ پر کشید کرکے %30 (کمیت کے اعتبار سے) تک مرتکز کر لیتے ہیں۔ کم دباؤ پر احتیاط سے کشید کرکے اس کو مزید %85 تک مرتکز کر سکتے ہیں۔ بقیہ پانی کو منجمد کرکے خالص H2O2 حاصل کر لیتے ہیں۔

    9.7.2 H2O2 کی طبیعی خصوصیات

    (Physical Properties of H2O2)

    خالص حالت میں H2O2 تقریباً بے رنگ (بہت ہلکا نیلا) رقیق ہے۔ اس کی اہم طبعی خصوصیات جدول 9.4 میں دی گئی ہیں۔ H2O2 پانی میں ہر ایک تناسب میں حل پذیر ہے اور ایک آبیدہ H2O2.H2O (نقطہ گداخت 221 K) بناتا ہے۔ H2O2 کا %30 محلول بازار میں ’100 حجم‘ ہائڈروجن پر آکسائڈ کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ H2O2 30% کا ایک ملی لیٹر STP پر 100 حجم آکسیجن دے گا۔ تجارتی طور پر یہ 10 حجم کے طور پر فروخت کیاجاتاہے۔ جس کے معنی ہیں کہ اس میں5166_Keemiyan II_Ch09_315gموجود ہے۔

    مسئلہ 9.4

    ہائڈروجن پر آکسائڈ کے 10 حجم محلول کی طاقت کا حساب لگائیے۔

    حل

    10 حجم H2O2 محلول کے معنی ہیں کہ اس H2O2 کا 1 L STP پر 10 L آکسیجن فراہم کرے گا۔
    2H²O² (1)↔O²(g)+H²O (1)
    2X34g          22.4L at STP
    68  g
    68 گرام H2O2 سے STP پر 22.4 L آکسیجن حاصل ہوتی ہے اس لیے STP پر 10 L آکسیجن حاصل کرنے کے لیے H2O2 کی مقدار
    5166_Keemiyan II_Ch09_315e
    اس لیے 10 حجم میں H2O2 کا ارتکاز = 30 گرام فی لیٹر = H2O23% محلول

    9.7.3 H2O2 کی ساخت (Structure of H2O2)

    اس کی ساخت غیر سطحی (Non-planar) ہوتی ہے۔ گیس اور ٹھوس حالت میں سالماتی ابعاد شکل 9.3 میں دیے گئے ہیں۔

    5166_Keemiyan II_Ch09_315f
    aگیس فینر             B ٹھوس فینر

    شکل 9.3 (a) گیس فیز میںH2O2 کی ساخت، ڈائی ہیڈرل زاویہ °111.5 ہے (b) ٹھوس فیز میں H2O2 کی ساخت 110 K پر ڈائی ہیڈرل زاویہ °90.2 ہے

    جدول 9.4 ہائڈروجن پر آکسائڈ کی طبیعی خصوصیات


    نقطہ گداخت /K 272.4 کثافت (298 K پر مائع)
     / gcm
    1.44
    نقطہ جوش /K 423 لزوجت (290K)/سنٹی پوائز 1-25
    بخاراتی دبائو
     (298K)/ mm Hg
    1-9 ڈائی الیکٹرک مستقلہ
    Nm2/C2/(298K)
    70-7
    کثافت
     (268.5K پر ٹھوس)/ gcm–
    1-64 برقی موصلیت
    cm–1 W–1/ (298K)
    5-1x10-8

    9.7.4 H2O2 کی کیمیائی خصوصیات

    (Chemical Properties of H2O2)

    یہ تیزابی اور قلوی دونوں وصیلوں (Media) میں تکسیدی اور تحویلی ایجنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ سادہ تعاملات ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
    (i) تیزابی میڈیم میں تکسیدی عمل
    2Fe²+ (aq) +2H+ (aq)+H²O²(aq)↔ 2Fe³+ (aq) +2H²O (1) PbS (s) +4 H²O² (aq)↔ pbSO4 (s) +4H²O (1)
     

    (ii) تیزابی میڈیم میں تحویلی عمل
    2Mno-4 +6H++5H²O²↔2M2++8H²O+50²
    HOCl + H²O²↔H³O++CL+O³
    (iii) اساسی میڈیم میں تکسیدی عمل
    2Fe²*+²O²↔2Fe³*+2OH-
    Mn²*+ H²O²↔mN4++ 2OH
    (iv) اساسی میڈیم میں تحویلی عمل
    5166_Keemiyan II_Ch09_316d

    9.7.5 ذخیرہ اندوزی (Storage)

    روشنی میں H2O2 آہستہ آہستہ تحلیل (Decompose) ہونے لگتا ہے۔
    2H²O²(1) ↔2H²+O²(g(
    دھاتی سطحوں یا معمولی القلی (شیشہ کے برتن میں موجود) کی موجودگی مندرجہ بالا تعامل کی عمل انگیزی ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس کو موم جامی شیشہ یا پلاسٹک کے برتن میں اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ اس کی پائداری کے لیے یوریا ملا سکتے ہیں۔ اس کو گرد سے دور رکھتے ہیں کیونکہ گرد مرکب میں دھماکہ خیز تحلیل کی امالیت کر سکتا ہے۔

    9.7.6 استعمال (Uses)

    بڑے پیمانے پر استعمال کی وجہ سے صنعتی طور پر اس کی پیداوار بہت بڑھ گئی ہے۔ کچھ استعمال مندرجہ ذیل ہیں:
    (i) روزمرہ کی زندگی میں اس کا استعمال بالوں کا رنگ اڑانے اور ہلکا دافع تعدیہ (Disinfectant) کے طور پر ہوتا ہے۔ بازار میں پرہائڈرول کے نام سے بطور اینٹی سیپٹک (Antiseptic) فروخت کی جاتی ہے۔
    (ii) اس کا استعمال بہت سے کیمیائی مرکبات جیسے سوڈیم پر بوریٹ اور پر کاربونیٹ بنانے میں کرتے ہیں جن کا استعمال اچھی قسم کے ڈٹرجنٹ (Detergents) بنانے میں کیا جاتا ہے۔
    (iii) اس کا استعمال ہائڈروکیونون، ٹارٹرک ایسڈ اور کچھ غذائی اشیا اور فارماسیوٹیکل (Cephalosporin) وغیرہ کی تالیف میں کرتے ہیں۔
    (iv) یہ کپڑوں، کاغذ، چمڑا، تیل، چربی وغیرہ کے کارخانوں میں بلیچنگ ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
    (v) آج کل اس کا استعمال ماحولیاتی (سبز) کیمیا میں بھی ہوتا ہے۔ مثلاً گھریلو اور صنعتی سطح پر پیدا شدہ آلودگی کو روکنے، سائنائڈ کی تکسید، سیوج فضلات (Sewage Wastes) کی ہواباش (Aerobic) حالت کی بحالی۔

    9.8 بھاری پانی D2O (Heavy Water)

    اس کا زیادہ تر استعمال نیوکلیائی ری ایکٹر (Nuclear Reactor) میں موڈریٹر (Moderator) کے طور پر اور ایکسچینج تعاملات میں تعامل کے میکانزم کا مطالعہ کرنے میں کیا جاتا ہے۔ اس کو پانی کی جامع برق پاشیدگی (Exhaustive Electrolysis) سے تیار کرتے ہیں یا یہ کھاد کی صنعت میں ضمنی ماحصل (By-product) کے طور پر حاصل ہوتی ہے۔ اس کی طبیعی خصوصیات جدول 9.3 میں دی گئی ہیں۔ اس کا استعمال ڈیوٹیریم کے دیگر مرکبات بنانے میں کرتے ہیں۔ مثلاً
    Cac² +2D²O↔C²D²+Ca (oD)²
    SO³ +D²O↔D²sO4
    A14C³+12D²O↔3CD4+4AI(OD)

    9.9 ڈائی ہائڈروجن بحیثیت ایک ایندھن

    (Dihydrogen as a Fuel)

    ڈائی ہائڈروجن کے احتراق کے نتیجے میں بہت زیادہ مقدار میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔ مول، کمیت اور حجم کے اعتبار سے ڈائی ہائڈروجن، میتھین، LPG کے احتراق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی توانائی کو جدول 9.5 میں دکھایا گیا ہے۔
    اس جدول سے ظاہر ہے کہ کمیت برائے کمیت کی بنیاد پر ڈائی ہائڈروجن پٹرول سے زیادہ (تقریباً تین گنا) توانائی پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈائی ہائڈروجن کے احتراق سے پیٹرول کے مقابلہ میں آلودگی بھی کم ہوتی ہے۔ واحد پالیوینٹ ڈائی نائٹروجن کے آکسائڈ ہوسکتے ہیں (جو کہ ڈائی ہائڈروجن میں ڈائی نائٹروجن کی موجودگی کی وجہ سے ہوتی ہے)۔ سلنڈر میں تھوڑی مقدار میں پانی ڈال کر درجۂ حرارت کم کر دیتے ہیں جس سے ڈائی نائٹروجن اور ڈائی آکسیجن میں تعامل نہ ہو سکے۔ اس طرح آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم جس برتن میں ڈائی ہائڈروجن رکھی ہو اس کی کمیت کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔ کمپریسڈ (Compressed) ڈائی ہائڈروجن کے سلنڈر کا وزن ایک پٹرول کے ٹینک جو کہ برابر مقدار کی توانائی دے، تقریباً 30 گنا ہوتا ہے۔ ڈائی ہائڈروجن گیس کو 20 K تک ٹھنڈا کرے مائع حالت میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے قیمتی حاجز (Insulated) ٹینک درکار ہوں گے۔ تھوڑی مقدار میں ڈائی ہائڈروجن کا ذخیرہ کرنے کے لیےدھاتی بھرت (Alloy) جیسے5166_Keemiyan II_Ch09_317aکے ٹینک استعمال ہوتے ہیں۔ان حدود کی وجہ سے ریسرچ کرنے والوں نے متبادل تکنیکوں کو ڈائی ہائڈروجن کے مؤثر استعمال کے لیے تلاش کیا ہے۔
    اس لحاظ سے ہائڈروجن معیشت (Hydrogen Economy) ایک متبادل ہے۔ ہائڈروجن معیشت کا بنیادی اصول گیس یا رقیق ڈائی ہائڈروجن کی شکل میں توانائی کا ذخیرہ اور نقل و حمل ہے۔ ہائڈروجن معیشت کا یہ فائدہ ہے کہ توانائی کی ترسیل برقی پاور کے بجائے ڈائی ہائڈروجن کی شکل میں ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار اکتوبر 2005ء میں ایک پائلٹ پروجکٹ شروع ہوا جس کے تحت آٹو موبائل کو چلانے کے لیے ڈائی ہائڈروجن گیس کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ابتدا میں 5% ڈائی ہائڈروجن کو CNG میں ملا کر چار پہیوں کی گاڑیوں میں استعمال کیا گیا۔ ڈائی ہائڈروجن کی فیصد مقدار بتدریج بڑھا کر صحیح سطح پر لائی جائیگی۔
    آج کل برقی پاور پیدا کرنے کے لیے اس کا استعمال ایندھن سیل (Fuel Cells) میں کیا جاتا ہے امید ہے۔ کہ آئندہ سالوں میں ڈائی ہائڈروجن کو اپنے استعمال میں بحیثیت عام توانائی کے ایک اقتصادی، مضبوط اور محفوظ ذریعہ جانا جائے گا۔

    جدول 9.5 مول، کمیت اور حجم کے اعتبار سے مختلف ایندھنوں کے احتراق سے حاصل ہونے والی توانائی


    آکٹین
    (OCTANE)
    رقیق حالت میں
    CH4 گیس  LPG ڈائی ہائڈرو جن
    (رقیق حالت میں)
    ڈائی ہائیڈرو جن
    (گیسی حالت میں)
    احتراق کے نتیجے میں
    پیدا ہونے والی توانائی
     (KJمیں)
    551 880 2220 285 286 فی مول
    47 53 50 142 143 فی گرام
    34005 35 25590 9968 12 فی لیٹر



    خلاصہ

    ہائڈروجن سب سے ہلکا ایٹم ہے جس میں صرف ایک الیکٹران ہوتا ہے۔ اس الیکٹران کے نکل جانے سے ایک بنیادی ذرہ پروٹان بنتا ہے۔ اس طرح اس کا یکتا مزاج ہے۔ اس کے تین ہم جا پروٹیم (11H ڈیوٹیریم (D یا 21H) اور ٹرائیٹیم (T یا 31H) ہوتے ہیں۔ ان تین میں سے صرف ٹرائیٹیم تابکار ہے۔ قلوی دھاتوں اور ہیلوجنوں سے مشابہت کے باوجود اپنی یکتا خصوصیات کی وجہ سے دوری جدول میں اس کا مقام الگ ہے۔
    ہائڈروجن کائنات میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے۔ کرۂ ارض پر یہ آزاد حالت میں تقریباً نہیں پایا جاتا ہے۔ اجتماعی حالت میں یہ سطح ارض پر تیسرا سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے۔
    صنعتی پیمانے پر ڈائی ہائڈروجن کو پٹروکمیکلس سے واٹر گیس شفٹ تعامل کے ذریعے تیار کرتے ہیں۔ برائن (Brine) کی برق پاشیدگی میں یہ ضمنی ماحصل (By-product) کے طور پر حاصل ہوتا ہے۔
    کسی بھی عنصر کے مقابلے کے دو ایٹموں کے درمیان واحد بند کے لیے ڈائی ہائڈروجن کی H – H بند افتراق اینتھالپی سب سےزیادہ5166_Keemiyan II_Ch09_318aہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے اس کا استعمال ایٹمی ہائڈروجن ٹارچ میں کرتے ہیں جس سے درجہ حرارت 4000 K پیدا ہوتا ہے جو اونچے گداخت کی دھاتوں کو جوڑنے (Welding) میں بہت مناسب ہے۔
    اگرچہ زیادہ منفی افتراق اینتھالپی کی وجہ سے ڈائی ہائڈروجن کمرہ کے درجۂ حرارت پر غیر عامل ہوتا ہے پھر بھی یہ تمام عناصر سے مناسب حالات میں مل کر ہائڈرائڈ بناتی ہے۔ تمام ہائڈرائڈوں کی درجہ بندی تین زمروں میں کر سکتے ہیں۔ آینی یا نمکین ہائڈرائڈ، شریک گرفت یا سالماتی ہائڈرائڈ اور دھاتی یا غیر تناسب پیمائی ہائڈرائڈ۔ قلوی دھاتوں کے ہائڈرائڈ دوسرے ہائڈرائڈ مرکبات بنانے کے لیے اچھے ریجنٹ ہوتے ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں سالماتی ہائڈرائڈ5166_Keemiyan II_Ch09_318bبہت اہم ہیں۔ ڈائی ہائڈروجن کی ماورائی تخلیص (Ultrapurification) اور ڈائی ہائڈروجن کے ذخیرہ کے ذریعے (Stroage Media) کے طور پر دھاتی ہائڈرائڈ بہت کارآمد ہیں۔
    ڈائی ہائڈروجن کے دیگر تعاملات میں تحویلی تعاملات کے ذریعہ ہائڈروجن ہیلائڈ، پانی، امونیا، میتھنال، بناسپتی گھی وغیرہ بنانا بہت اہم ہیں۔ فلز کاری (Metallurgical) عملوں میں اس کا استعمال دھاتوں کے آکسائڈوں کی تحویل میں کیا جاتا ہے۔ خلائی پروگراموں میں اس کا استعمال راکٹ ایندھن کے طور پر کرتے ہیں۔ مستقبل قریب میں اس کا استعمال ایک غیر آلودہ ایندھن کے طور پر متوقع ہے (ہائڈروجن معیشت )۔
    پانی سب سے زیادہ عام اور افراط میں ملنے والی شے ہے۔ اس کی کیمیائی اور حیاتیاتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جس آسانی سے پانی مائع سے ٹھوس اور گیس حالتوں میں تبدیل ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے کرۂ حیات (Biosphere) میں اس کا اہم کردار ہے۔ اپنی خمیدہ ساخت کی وجہ سے پانی کا سالمہ کافی قطبی (Polar) ہوتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے اس میں ہائڈروجن بند ہوتے ہیں جو برف میں سب سے زیادہ اور پانی کی بھاپ میں بہت کم ہوتے ہیں۔ قطبی فطرت ہونے کی وجہ سے یہ (a) آینی اور جزوی آینی مرکبات کے لیے بہترین محلل ہے۔ (b) ایمفوٹیرک شے کی طرح کام کرتا ہے اور (c) مختلف قسم کے ہائڈرائڈ بناتا ہے۔ بہت سے نمکوں کو زیادہ مقدار میں اپنے اندر حل کر لینے کی وجہ سے یہ سخت اور صنعتی استعمال میں خطرناک ہو جاتا ہے۔ عارضی اور مستقل دونوں طرح کی سختیوں کو زیولائٹ استعمال کر کے اور تالیفی آین ایکسچینجز (Exchangers) کے ذریعہ دور کر سکتے ہیں۔
    بھاری پانی D2O دوسرا اہم مرکب ہے جو عام پانی کی الیکٹرولائٹک افزونی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کا استعمال زیادہ تر نیوکلیائی ری ایکٹر (Nuclear Recactors) میں موڈریٹر کے طور پر کرتے ہیں۔
    ہائڈروجن پر آکسائڈ کی ایک دلچسپ غیر قطبی ساخت ہوتی ہے اور اس کو اکثر صنعتوں میں رنگ اڑانے، ادویات میں، گھریلو اور کارخانوں سے پیدا ہوئی آلودگی کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    مشقیں

    9.1 الیکٹرانی تشکل کی بنا پر دوری جدول میں ہائڈروجن کے مقام کو بجا ثابت کیجیے۔
    9.2 ہائڈروجن کے ہم جاؤں کے نام لکھیے۔ ان ہم جاؤں کا کمیتی تناسب کیا ہے؟
    9.3 عام حالات میں ہائڈروجن یک ایٹمی شکل کے بجائے دو ایٹمی شکل میں کیوں پائی جاتی ہے؟
    9.4 ’کول گیسی فکیشن کے ذریعہ حاصل ہونے والی ڈائی ہائڈروجن کی پیداوار کیسے بڑھائی جاسکتی ہے؟
    9.5 برق پاشیدگی کے ذریعہ زیادہ مقدار میں ہائڈروجن بنانے کے طریقہ کو بیان کیجیے۔ اس عمل میں الیکٹرولائٹ (Electrolyte) کا کیا کام ہے؟
    9.6 مندرجہ ذیل مساوات کو مکمل کیجیے:
    5166_Keemiyan II_Ch09_319a

    9.7 H-H بانڈ کی زیادہ اینتھالپی کے نتائج پر ڈائی ہائڈروجن کی کیمیائی تعاملیت کے تعلق سے بحث کیجیے۔

    9.8 (i) الیکٹران ڈیفیشئنٹ (ii) الیکٹران پریسائز اور (iii) الیکٹران رچ ہائڈروجن کے مرکبات سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ مناسب مثالوں سے واضح کیجیے۔

    9.9 الیکٹران کی کمی والے ہائڈرائڈ کی ان کی ساخت اور کیمیائی تعامل کے لحاظ سے کس طرح کی خصوصیات کی امید ہے؟

    9.10 (CnH2n+2) قسم کے کاربن ہائڈرائڈ کے ’لوئس‘ ایسڈ یا اساس کی طرح کام کرنے کے بارے میں کیا امید کرتے ہیں؟ اپنے جواب کو ثابت کیجیے۔

    9.11 آپ غیر تناسب پیمائی (Non-Stoichiometric) ہائڈرائڈوں سے کیا سمجھتے ہیں؟ کیا آپ امید کرتے ہیں کہ اس طرح کے ہائڈرائڈ قلمی دھاتوں سے بنتے ہیں؟ اپنے جواب کو ثابت کیجیے۔

    9.12 آپ ہائڈروجن کے ذخیرہ کے لیے دھاتی ہائڈرائڈوں کے استعمال کے بارے میں کیا امید رکھتے ہیں؟ واضح کیجیے۔

    9.13 کاٹنے یا ویلڈنگ میں ایٹمی ہائڈروجن یا آکسی ہائڈروجن ٹارچ کس طرح کام کرتا ہے؟ سمجھائیے۔

    9.14 5166_Keemiyan II_Ch09_319bمیں سے کس میں آپ سب سے زیادہ ہائڈروجن بندشوں کی امید کرتے ہیں اور کیوں؟

    9.15 نمکین (Saline) ہائڈرائڈ پانی سے شدت کے ساتھ تعامل کرکے آگ پیدا کرتے ہیں۔ کیا CO2 جو کہ آگ بجھانے کے لیے مشہور ہے اس میں استعمال کر سکتے ہیں؟ سمجھائیے۔

    9.16 مندرجہ ذیل کو ترتیب دیجیے:
    Beh².caH² (I)
    کو بڑھتی ہوئی برقی ایصالیت (Conductance) کے لحاظ سے
     CshاورNaH.lIH(ii)
    کو بڑھتی ہوئی آینی خصوصیت (Ionic Charecter) کے لحاظ سے
    F Fاور D-D,H,H(iii)
    کو بڑھتی ہوئی بانڈ افتراق حرارت نوعی کے لحاظ سے
    H² اور MgH²,NaH(iv)
    کو ان کی تحویلی (Reducing) خصوصیت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں
    9.17 H2O اور H2O2 کی ساختوں کا موازنہ کیجیے۔

    9.18 آپ H2O کے آٹوپروٹولسس (Auto-protolysis) سے کیا سمجھتے ہیں؟ اس کی کیا اہمیت ہے؟
    9.19 پانی کا F2 کے ساتھ تعامل دیکھیے اور بتلائیے کہ تکسید اور تحویل کے اعتبار سے کس کی تکسید اور کس کی تحویل ہوتی ہے؟

    9.20 مندرجہ ذیل تعاملات کو مکمل کیجیے۔
    (i) pbS(s) +H²(aq)↔
    (ii) Mno-(aq) +H²O²(aq)↔
    (iii) Cao (s) + H²O (G)↔
    (IV) AICI³ (g) +H²O (1)↔
    (V) ca³N² (s) +H²O (1)↔
    مندرجہ بالا کی درجہ بندی (a) آب پاشیدگی (Hydrolysis) (b) تکسیدی-تحویلی (Redox) اور (c) آبیدگی (Hydration) تعاملات کے تحت کیجیے۔

    9.21 برف کی عام شکل کی ساخت بیان کیجیے۔

    9.22 پانی کی عارضی اور مستقل سختیوں کی کیا وجہ ہے؟

    9.23 سخت پانی کو نرم کرنے کے لیے تالیفی آین ایکسچینج ریزن کا اصول اور طریقہ سمجھائیے۔

    9.24 پانی کی ایمفوٹیرک فطرت کو ظاہر کرنے کے لیے کیمیائی تعاملات لکھیے۔

    9.25 کیمیائی تعاملات لکھ کر واضح کیجیے کہ ہائڈروجن پر آکسائڈ تکسیدی ایجنٹ اور تحویلی ایجنٹ دونوں طرح سے کام کر سکتا ہے۔

    9.26 غیرمعدنی (Demineralized) پانی کا کیا مطلب ہے اور اس کو کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے؟

    9.27 کیا غیرمعدنی یا کشیدہ (Distilled) پانی پینے کے لیے کارآمد ہے؟ اگر نہیں تو اس کو کیسے کارآمد بنایا جاسکتا ہے؟

    9.28 کرۂ حیات اور حیاتیاتی طریقوں میں پانی کی افادیت کا تذکرہ کیجیے۔

    9.29 پانی کی کون سی خصوصیات اس کو محلل کی طرح مفید بناتی ہیں؟ کس طرح کے مرکبات کو یہ (i) حل کرتا ہے (ii) آب پاشیدہ کرتا ہے۔

    9.30 H2O اور D2O کے کی خصوصیات کو جان کر کیا آپ سوچتے ہیں کہ D2O پینے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؟

    9.31 آب پاشیدگی (Hydrolysis) اور آبیدگی (Hydration) میں کیا فرق ہے؟

    9.32 نمکین (Saline) ہائڈرائڈ نامیاتی مرکبات سے پانی کے شائبہ (Traces) کو کس طرح ہٹاتے ہیں؟

    9.33 ایٹمی اعداد 15، 19، 23 اور 44 کے عناصر کے ڈائی ہائڈروجن سے بنے ہائڈرائڈوں کی فطرت (Nature) کے بارے میں آپ کیا امید کرتے ہیں؟ پانی کے ساتھ ان کے طرزعمل کا موازنہ کیجیے۔

    9.34 کیا آپ محلول میں مختلف مصنوعات کی امید کرتے ہیں جب المونیم (III) کلورائڈ اور پوٹاشیم کلورائڈ الگ الگ (i) عام پانی (ii) تیزابی پانی اور (iii) قلوی پانی کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔

    9.35 H2O2 بلیچنگ ایجنٹ (Bleaching Agent) کے طور پرکس طرح کام کرتا ہے۔

    9.36 مندرجہ ذیل اصطلاحات سے آپ سمجھتے ہیں:
    (I) ہائڈرو جن معیشت  (ii) ہائڈروجن جینیشن Hydrogenation   
    (iii) سنگیس Syngas
    (iv) واٹر گیس شفٹ  Water gas shift تعامل v  ایندھن سیل   Fuel cell