اکائی 10
ایس (s)بلاک عناصر
(The s-Block Elements)
مقاصد
اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :
"قلوی اور قلوی مٹی دھاتوں کا پہلا عنصر کئی معاملوں میں اس گروپ کے دوسرے عناصر سے مختلف ہوتا ہے۔"
(رولڈ ہوف مان)
دوری جدول کے -s بلاک عناصر وہ ہیں جن میں آخری الیکٹران سب سے باہری -s اربٹل میں داخل ہوتا ہے۔ چونکہ s اربٹل میں دو الیکٹران رہ سکتے ہیں اس لیے صرف دو گروپ (1اور 2) دوری جدول کے sبلاک میں پائے جاتے ہیں۔ دوری جدول کے گروپ 1 میں لیتھیم، سوڈیم، پوٹاشیم، روبیڈیم، سیزیم اور فرانسیم عناصر ہوتے ہیں۔ ان کو قلوی دھاتیں کہتے ہیں۔ قلوی اس لیے کہلاتے ہیں کیونکہ یہ پانی سے تعامل کر کے ہائڈراکسائڈ بناتے ہیں جو کہ فطرتاً بہت زیادہ قلوی ہوتے ہیں۔ گروپ 2 میں بیریلیم، میگنیشیم، کیلشیم،اسٹرونشیم، بیریم اور ریڈیم عناصر ہوتے ہیں۔ ان عناصر (بیریلیم کو چھوڑ کر) کو عموماً قلوی مٹی دھاتیں کہتے ہیں۔ ان کو یہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ان کے آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ فطرتاً بہت زیادہ قلوی ہوتے ہیں اور یہ دھاتی آکسائڈ قشرارض *(Crust) میں پائے جاتے ہیں۔
قلوی دھاتوں میں سوڈیم اور پوٹاشیم زیادہ افراط میں اور لیتھیم، روبیڈیم اور سیزیم کم افراط میں پائے جاتے ہیں (جدول 10.1) فرانسیم تابکار ہے۔ اس کا طویل مدتی قدرتی ہم جا 223Fr ہے جس کی نصف عمر صرف 21 منٹ ہے۔ زمین کے قشر میں قلوی دھاتوں میں افراط کے لحاظ سے کیلشیم کا پانچواں اور میگنیشیم کا چھٹا نمبر ہے۔ اسٹرونشیم اور بیریم کی افراط بہت کم ہے۔ بیریلیم نادر ہے اور ریڈیم سب سے زیادہ نادر ہے جو کہ آتشی چٹانوں (Igneous Rocks)† کا صرف 10–10 فی صد ہے (جدول 10.1 صفحہ 330)۔
* زمین کی پتلی چٹانی باہری پرت قشر (Crust) ہے† ایک قسم کی چٹان جو میگما (Magma) یعنی پگھلی ہوئی چٹان کے ٹھنڈے ہوکر سخت ہو جانے سے بنتی ہے۔
sبلاک عناصر کا عمومی الیکٹرانی تشکل [نوبل گیس] ns1 برائے قلوی دھاتیں اور [نوبل گیس] ns2 برائے قلوی مٹی دھاتیں ہے۔
گروپ 1 اور گروپ 2 کے باالترتیب عناصر لیتھیم اور بیریلیم کی خصوصیات اپنے گروپ کے دوسرے ممبروں سے مختلف ہیں۔ اپنی بے ربط خصوصیات کے اعتبار سے یہ اگلے گروپ کے دوسرے عنصر سے میل کھاتے ہیں۔ اس طرح لیتھیم خصوصیات کے اعتبار سے میگنشیم اوربیریلیم خصوصیات کے اعتبار سے ایلومینیم سے یکسانیت رکھتا ہے۔ دوری جدول میں اس طرح کی وتری یکسانیت کو وتری تعلق (Diagonal Relationship) کہتے ہیں۔ یہ وتری تعلق عناصر کے آینوں کی جسامت اور /یا چارج/نصف قطر کی نسبت کی یکسانیت کی وجہ سے ہے۔ یک گرفتہ سوڈیم اور پوٹاشیم آین اور دو گرفتہ میگنیشیم اور کیلشیم آین حیاتیاتی سیالوں میں بہت مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ آین آینوں کا توازن اور اعصابی ترنگ کا ایصال (Nerve Impuls Conduction) جیسے اہم حیاتیاتی افعال انجام دیتے ہیں۔
10.1 گروپ 1 کے عناصر : قلوی دھاتیں
(Group 1 Elements: Alkali Metals)
ایٹمی عدد بڑھنے کے ساتھ قلوی دھاتیں اپنی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات میں باضابطہ رجحان کا اظہار کرتی ہیں۔ قلوی دھاتوں کی ایٹمی، طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کا تذکرہ ذیل میں ہے۔
10.1.1 الیکٹرانی تشکل
(Electronic Configuration)
تمام قلوی دھاتوں میں ایک گرفت الیکٹران ns1 (جدول 10.1) نوبل گیس کور (Noble Gas Core) کے باہر ہوتا ہے۔ ان عناصر کے سب سے باہری خول (Shell) میں s الیکٹران ڈھیلا جڑا ہوتا ہے جو آسانی سے الگ ہو کر ان عناصر کو بہت زیادہ برقی مثبت (Electropositive) دھات بناتا ہے اور یک گرفت (Monovalent) آین +M ملتا ہے۔ اس لیے یہ آزاد حالت میں کبھی نہیں پائی جاتیں۔
| عنصر | علامت | الیکٹرانک ساخت |
| لیتھیم سوڈیم پوٹاشیم روبیڈیم سیزیم فرانسیم |
L.i Na k Rb Cs Fr |
Is²2si Is²2s²p63s¹ 1s²2s²2p63s²3p6 4si 1s²2s²p6 3s²3p6 3 10 4s4p65s¹ 1s²2s²2p6 3 s²3p6 3d10 4s²4p64d10 〈xe〉6s¹یا5s²5p6 6s¹ 〈Rn〉7s¹ |
10.1.2 ایٹمی اور آینی نصف قطر
(Atomic & Ionic Radii)
دوری جدول کے کسی دور (Period) میں قلوی دھات کے ایٹم کی جسامت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایٹمی عدد بڑھنے سے ایٹم بھی بڑا ہوتا جاتا ہے۔ یک گرفت آین (+M) اپنے اصل ایٹم سے چھوٹا ہوتا ہے۔ گروپ میں نیچے جانے سے قلوی دھاتوں کے ایٹمی اور آینی نصف قطر بڑھتے ہیں یعنی Li سے Cs کی طرف چلنے پر ان کا سائز بڑھتا ہے۔
10.1.3 آیونائیزیشن اینتھالپی (Ionisation Enthalpy)
قلوی دھاتوں کی آیونائیزیشن اینتھالپی کافی کم ہوتی ہے اور گروپ میں Li سے Cs کی طرف چلنے پر گھٹتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت کی بڑھوتری نیوکلیائی چارج کی بڑھوتری کے اثر کو کم کردیتی ہے۔
10.1.4 ہائیڈریشن اینتھالپی (Hydration Enthalpy)
قلوی دھاتوں کے آینوں کی ہائیڈریشن اینتھالپی آینی جسامت بڑھنے پر گھٹتی ہے ۔
+Li+ > Na+ > K+ > Rb+ > Cs
+Li کی آبیدگی کا درجہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے لیتھیم کے نمک اکثر آبیدہ ہوتے ہیں جیسے۔
Licl.2H²O
10.1.5 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)
تمام قلوی دھاتیں چاندی کی طرح سفید، نرم اور ہلکی ہوتی ہیں۔ بڑی جسامت ہونے کی وجہ سے ان عناصر کی کثافت کم ہوتی ہے جو کہ گروپ میں نیچے کی طرف چلنے پر Li سے Cs تک بڑھتی ہے۔ پوٹاشیم حالانکہ سوڈیم سے ہلکا ہوتا ہے۔ قلوی دھاتوں کے کم نقطہ گداخت اور نقطہ جوش یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے صرف ایک گرفت الیکٹران کی وجہ سے ان میں دھاتی بندش کمزور ہوتی ہیں۔تکسیدی لو (Oxidizing Flame)میں قلوی دھاتیں اور ان کے نمک مخصوص رنگ دیتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ لو کی حرارت باہری اربٹل کے الیکٹران کو اونچی توانائی کی سطح پر لے جاتی ہے۔ جب مشتعل الیکٹران گراؤنڈ اسٹیٹ (Ground State) پر واپس آتا ہے تواسپیکٹرم کے مرئی خطہ (Visible Region) میں اشعاع (Radiation) کا اخراج ہوتا ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔
| دھات | Li |
Na | K | Rb |
Cs |
| رنگ | قرمزی سرخ | زرد | بنفشی | سرخ بنفشی | نیلا |
| 670.8 | 589.2 | 766.5 | 780.0 | 455.5 |
اس لیے قلوی دھاتوں کی شناخت متعلقہ فلیم ٹیسٹ کے ذریعے کی جاسکتی ہے اور ان کا تعین فلیم فوٹومیٹری (Flame Photometry) کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ ان عناصر پر جب روشنی کی اشعاع ریزی کی جاتی ہے تو نوری توانائی (Light Energy) کا انجذاب (Absorption) ایٹم سے الیکٹران نکالنے کے لیے کافی ہے۔ اس خاصیت کی وجہ سے سیزیم اور پوٹاشیم کو الیکٹروڈ کے طور پر ضیا برقی سیل (Photoelectric Cell) میں استعمال کرتے ہیں۔
10.1.6 کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)
اپنی بڑی جسامت اور کم آیونائیزیشن اینتھالپی کی وجہ سے قلوی دھاتیں بہت زیادہ متعامل (Reactive) ہوتی ہیں۔ ان دھاتوں کی تعاملیت گروپ میں نیچے جانے پر بڑھتی ہے۔
(i) ہوا سے متعاملیت: خشک ہوا میں آکسائڈ بننے کی وجہ سے قلوی دھاتیں میلی (Tarnish) ہو جاتی ہیں جو بعد میں نمی سے تعامل
جدول 10.1 قلوی دھاتوں کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات
| خصوصیات | لیتھم Li |
سوڈیم Na |
پوٹاشیم k |
روبیڈیم Rb |
سیزیم Cs |
فرانشیم |
| ایٹمی عدد ایٹمی کمیت g mo-¹ |
3 6-94 |
11 22-99 |
19 39-10 |
37 85-47 |
55 132-91 |
87 223 |
| الیکٹرانی تشکل | He 2s¹ | Ne 3s¹ | Ar 4 s¹ | Kr 5s¹ | xe 16¹ | Rn 7s¹ |
| آیونا ئیزیشن اینتھالپی /KJmol-¹ |
520 | 496 | 419 | 403 | 376 | 375- |
| ہائڈریشن اینتھالپی /KJmol-¹ |
506- | 406- | 330- | 310- | 270- | - |
| دھاتی نصف قطر /pm |
152 | 186 | 277 | 248 | 265 | - |
| آینی نصف قطر /M*/pm |
76 | 102 | 138 | 152 | 167 | 180 |
| نقطہ گداخت/k | 454 | 371 | 336 | 312 | 302 | - |
| نقطہ جوش/k | 1615 | 1156 | 1032 | 961 | 944 | - |
| کثافتgcm-³ | 0.53 | 0.97 | 0.86 | 1.53 | 1.90 | - |
| معیاری مضمر Eø/VبرائےM./M |
3.04- | 2.714 | 2.925- | 20930- | 2.927- | - |
| کرہ اوض میں وقوع | *18 | **2.27 | **1.84 | *78.12 | *2-6 | 16-18 |
* ppm (پارٹ پرملین) ؛ ** فیصد وزن ؛ †کرۂ ارض : زمین کی باہری پرت، قشر ارض اور بالائی غلاف کا حصہ
کرکے ہائڈراکسائڈ بناتی ہیں۔ آکسیجن میں یہ شدّت سے جل کر آکسائڈ بناتی ہیں۔ لیتھیم مونو آکسائڈبناتا ہے، سوڈیم، پر آکسائڈ بناتا ہے اور دوسری دھاتیں سپر آکسائڈبناتی ہیں ۔
4L.i + o²↔2Li²o(آکسائڈ)
2Na + o²↔Na²o²(پر آکسائڈ)
M +O²↔MO²(سپر آکسائڈ)
(M = K, Rb, Cs)
ان تمام آکسائڈوں میں قلوی دھات کی تکسیدی حالت +1 ہے۔ لیتھیم ہوا کی نائٹروجن سے براہ راست مل کر نائٹرائڈ (Li3N) بناتاہے جو کہ ایک استثنائی طرز عمل ہے ۔ کیوں کہ قلوی دھاتیں، ہوا اورپانی کے ساتھ بہت تیزی سے تعامل کرتی ہیں اس لیے ان کو عموماً مٹی کے تیل میں رکھتے ہیں۔
مسئلہ 10.1
KO2 میں K کی تکسیدی حالت کیا ہے؟
حل
سپرآکسائڈ انواع کو 2-O سے ظاہر کرتے ہیں چونکہ مرکب تعدیلی
(Neutral) ہے اس لیے پوٹاشیم کی تکسیدی حالت +1 ہے۔
(ii) پانی سے متعاملیت : قلوی دھاتیں پانی سے تعامل کرکے ہائڈراکسائڈ اور ڈائی ہائڈروجن بناتی ہیں۔
2M + H²O↔2M*+2OH-+H²
(قلوی دھات = M)
اگرچہ لیتھیم کی سب سے زیادہ منفی E° قدر ہے (جدول 10.1) اس کا پانی سے تعامل سوڈیم ،جس کی قلوی دھاتوں میں سب سے کم منفی E° قدر ہوتی ہے، کے مقابلے کم شدت ہوتا ہے۔ گروپ کی دوسری دھاتیں پانی کے ساتھ دھماکہ خیز تعامل کرتی ہیں۔
یہ پروٹان معطی (Proton Donors) جیسے الکوحل، گیسی امونیا اور الکائن (Alkynes) سے بھی تعامل کرتی ہیں۔
(iii) ڈائی ہائڈروجن سے متعاملیت: قلوی دھاتیں ڈائی ہائڈروجن سے تقریباً673K (لیتھیم1073Kپر) پر تعامل کر کے ہائڈرائڈ بناتی ہیں۔ تمام قلوی دھاتی ہائڈرائڈ اونچے نقطہ گداخت کے آینی ٹھوس ہوتے ہیں۔
2M+H²↔M*+-
(iv) ہیلوجن سے متعاملیت: قلوی دھاتیں ہیلوجن سے تیزی سے تعامل کرکے آینی ہیلائڈ –M+X بناتے ہیں۔ تاہم لیتھیم ہائڈرائڈ کچھ شریک گرفت ہوتے ہیں جس کی وجہ لیتھیم آئن کی زیادہ تقطیب (Polarization) کی صلاحیت ہے(کسی کیٹ آئن کے ذریعہ منفی آئن کے الیکٹرانی بادل کومسخ کرنا، تقطیب(Polarisation)کہلاتا ہے) ۔ +Li آین جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لیے اس میں منفی ہیلائڈآینوں کے الیکٹرانی بادل کی مسخ کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ بڑے جسامت کے منفی آین آسانی سے مسخ اختیار کر سکتا ہے اس لیے ہیلائڈوں میں دھاتی آیوڈائڈ فطرتاً سب سے زیادہ شریک گرفت ہوتا ہے۔
ٌ(v) تحویلی فطرت : قلوی دھاتیں قوی تحویلی ایجنٹ ہوتی ہیں جس میں لیتھیم سب سے زیادہ اور سوڈیم سب سے کم (جدول 10.1)۔ معیاری الیکٹروڈ مضمر (Standard Electrode Potential) (EV) جو کہ تحویلی صلاحیت کی پیمائش ہے، کل تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
(تصعید اینتھالپی) M(s) ↔M(g)
(آیونائزیشن اینتھالپی)M (g) ↔M*(g)+ e
(ہائیڈریشن اینتھالپی) M*(g)+H²O↔M*(aq)
اپنے آین کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے لیتھیم کی ہائیڈریشن اینتھالپی سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس کی زیادہ منفی E0 قدر اور زیادہ تحویلی صلاحیت ہے۔
مسئلہ 10.2
–Cl2/Cl کے لیے Eθ کی قدر 1.36+ ہے –I2/I کے لیے + 0.53، Ag+/Ag کے لیے 0.79+، Na+/Na کے -2.71 اور Li+/Li کے لیے 3.04– ہے۔ مندرجہ ذیل آینی انواع کو ان کی گھٹتی ہوئی تحویلی صلاحیت کی ترتیب میں لکھیے۔
I–, Ag, Cl–, Li, Na
حل
ترتیب یہ ہے –Li > Na > l– > Ag > Cl
(vi) مائع امونیا میں محلول: قلوی دھاتیں مائع امونیا میں گھل کر گہرے نیلے رنگ کے محلول بناتی ہیں جو کہ فطرتاً موصل ہیں۔
M + (X+Y)NH³↔(M(NH³)x〉* +〈eNH³) y)-
محلول کا نیلا رنگ امونیائی الیکٹران کی وجہ سے ہے جو کہ مرئی روشنی کے سرخ خطہ کی توانائی کو جذب کرکے محلول کو نیلا رنگ عطا کرتا ہے۔ محلول مقناطیس پسند (Paramagnetic) ہوتے ہیں اور رکھنے پر دھیرے دھیرے ہائڈروجن خارج کرتے ہیں نتیجہ کے طور پر امائڈ بنتا ہے۔
M* (am) +e‾+NH³(1)↔MNH²(am) +½H²(g)
(جہاں 'am' امونیا میں محلول کو ظاہر کرتا ہے)
مرتکز محلول میں نیلارنگ کانسی (Bronze) رنگ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ڈایا مقناطیسی (Diamagnetic) بن جاتا ہے۔
10.1.7 استعمال (Uses)
لیتھیم دھات کا استعمال کارآمد بھرتیں (Alloys) بنانے میں کیا جاتا ہے مثلاً سیسہ (Pb) کے ساتھ ’’سفید دھات‘‘ بنانے میں جو موٹر انجنوں کے بیرنگ (Bearings) بنانے میں کام آتی ہے۔ ایلومینیم (Al) کے ساتھ ہوائی جہاز کے پرزے (Parts) اور میگنیشیم (Mg) کے ساتھ زرہ بختر (Armour) کی پلیٹیں بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا استعمال حرارتی نیوکلیائی (Thermonuclear) تعاملات میں ہوتا ہے۔ لیتھیم کا الیکٹروکیمیکل سیل بنانے میں استعمال ہے۔ سوڈیم کا استعمال Na/Pb بھرت بنانے میں کرتے ہیں جو PbEt4 اور PbMe4 بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ پہلے ان نامیاتی-سیسہ کے مرکبات کا استعمال پٹرول میں اینٹی نوک ایڈیٹو (Antiknock Additives) کے طور پر ہوتا تھا لیکن سوڈیم کا یہ استعمال اب گاڑیوں میں لیڈفری (Lead Free) پٹرول کے استعمال کی وجہ سے کم ہوتا جارہا ہے۔ مائع سوڈیم دھات کا استعمال فاسٹ بریڈر نیوکلیائی ری ایکٹر (Fast Breeder Nuclear Reactors) میں بحیثیت کولنیٹ (Coolant) ہوتا ہے۔ پوٹاشیم حیاتیاتی نظام میں بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ پوٹا شیم کلورائڈ کھاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ نرم صابن(Soft soap) بنانے میں پوٹاشیم ہائڈراکسائڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا اچھا جاذب ہے۔ ضیا برقی سیل (Photoelectric Cells) بنانے میں سیزیم کا استعمال ہوتا ہے۔
10.2 قلوی دھاتوں کے مرکبات کی عام خصوصیات
(General Characteristics of the Compounds of the Alkali Metals)
قلوی دھاتوں کے عام مرکبات کی فطرت عموماً آینی ہوتی ہے۔ ذیل میں ان کے چند مرکبات کی خصوصیات کا تذکرہ ہے۔
10.2.1 آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ
(Oxides and Hydroxides)
زیادہ ہوا میں جلنے پر، لیتھیم خاص طور پر آکسائڈ، Li2O بناتا ہے (ساتھ میں کچھ پر آکسائڈ Li2O2 بھی) سوڈیم، پر آکسائڈ Na2O2 بناتا ہے (اور کچھ سپر آکسائڈ NaO2) جبکہ پوٹاشیم، روبیڈیم اور سیزیم سپر آکسائڈ MO2 بناتے ہیں۔ مناسب حالات میں خالص مرکبات M2O، M2O2 اور MO2 بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ دھاتی آئن کے سائز بڑھنے کے ساتھ ساتھ، پرآکسائڈ اورسپرآکسائڈ کے استحکام (Stability)بڑھتا ہے اس کی یہ وجہ ہے کہ کیٹس توانائی (Lattice energy)کے زیراثربڑے مثبت آئن ،بڑے منفی آئنوں کا استحکام کرتے ہیں۔دھات کے آین کی بڑھتی جسامت کے ساتھ پر آکسائڈ اور سپر آکسائڈ کے استحکام (Stability) کا اثر ہے۔ یہ آکسائڈ پانی کے ذریعے بہ آسانی آب پاشید(Hydrolyse) ہوکر ہائڈراکسائڈ بناتے ہیں۔
M²O +H²O↔2M*+2OH‾
M²O² +2H²O↔2M*+2OH ‾+H²O²
2MO²2H²↔2M* +2OH‾ + H²O²+O²
خالص حالت میں آکسائڈ اور پرآکسائڈ بے رنگ ہوتے ہیں لیکن سپر آکسائڈنارنجی یا پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ سپر آکسائڈ مقناطیس پسند (Paramagnate) بھی ہوتے ہیں۔ غیر نامیاتی کیمیا میں سوڈیم پرآکسائڈ کا استعمال بحیثیت تکسیدی ایجنٹ کے بہت ہوتا ہے۔
مسئلہ 10.3
KO2 مقناطیس پسند کیوں ہے؟
حل
سپر آکسائڈ KO2 مقناطیس پسند اس لیے ہے کیونکہ اس میں π*2p سالماتی اربٹل میں ایک بغیر جوڑے کا (Unpaired) الیکٹران موجود ہوتا ہے۔
آکسائڈ اور پانی کے درمیان ہونے والے تعامل کے نتیجے میں بننے والے ہائڈراکسائڈ سفید قلمی ٹھوس ہوتے ہیں۔ قلوی دھاتوں کے ہائڈراکسائڈ تمام اساسوں میں سب سے زیادہ قوی (Strong) ہوتے ہیں اور آزادی کے ساتھ پانی میں گھل کر زیادہ آبیدگی (Intense Hydration) کی وجہ سے بہت زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں۔
10.2.2 ہیلائڈس (Halide)
قلوی دھاتوں کے ہیلائڈ، MX (جہاںI.Br,CI,f=x) اونچے نقطہ گداخت والے بے رنگ قلمی ٹھوس ہوتے ہیں۔ وہ مناسب آکسائڈ، ہائڈراکسائڈ یا کاربونیٹ کے آبی ہائڈروہیلک ایسڈ (HX) کے تعامل سے بنائے جاسکتے ہیں۔ تمام ہیلائڈوں کی تشکیل کی اینتھالپی (Enthalpies of Formation) بہت زیادہ منفی ہوتی ہیں۔ جب ہم گروپ میں نیچے کی طرف جاتے ہیں تو فلورائڈوں کے لیے ΔfHθ کی قدر کم منفی ہوتی جاتی ہے۔ جبکہ کلورائڈوں، برومائڈوں اور آیوڈائڈوں کےΔf Hθ کے لیے اس کا معکوس درست ہے۔ کسی دھات کے لیے Δf Hθ کی قدر فلورائڈ سے آیوڈائڈ تک کم منفی ہوتی جاتی ہے۔
نقطہ گداخت اور نقطہ جوش ہمیشہ اس رجحان کا اتباع کرتے ہیں: فلورائڈ < کلورائڈ < برومائڈ < آیوڈائڈ۔ یہ تمام ہیلائڈ پانی میں حل پذیر ہیں۔ LiF کی پانی میں کم حل پذیری اس کی زیادہ لیٹس اینتھالپی (Lattice Enthalpy) کی وجہ سے ہے جب کہ Csl کی کم حل پذیری اس کے دونوں آینوں کی ہائیڈریشن اینتھالپی (Hydration Enthalpy) کم ہونے کی وجہ سے ہے۔ لیتھیم کے دوسرے ہیلائڈ ایتھنال، ایسی ٹون اور ایتھائل ایسی ٹیٹ میں حل پذیر ہیں LiCl پیریڈین (Pyridine) میں بھی حل پذیر ہے۔
10.2.3 آکسوایسڈ کے نمک (Salts of Oxo-acids)
آکسوایسڈ وہ ہوتے ہیں جن میں ایک ایسڈک پروٹان ہائڈروکسل گروپ پر ہوتا ہے اور ایک آکسوگروپ اسی ایٹم سے جڑا ہوتا ہے جیسے کاربونک ایسڈ
سلفیورک ایسڈ
۔ قلوی دھاتیں تمام آکسو ایسڈ سے تعامل کرتی ہیں۔ یہ عموماً پانی میں حل پذیر ہیں اور حرارتی طور پر مستحکم (Thermally Stable) ہوتے ہیں۔ ان کے کاربونیٹ (M2CO3) اور اکثر ہائڈروجن کاربونیٹ (MHCO3) بھی حرارت کے تئیں کافی مستحکم رہتے ہیں۔ جیسے جیسے برقی مثبت خصوصیت (Electropositive Character)گروپ میں نیچے کی طرف بڑھتی ہے کاربونیٹ اور ہائڈروجن کاربونیٹ کے استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیتھیم کاربونیٹ حرارت کے تئیں زیادہ مستحکم نہیں ہے لیتھیم بہت چھوٹی جسامت کا ہونے کی وجہ سے بڑے CO2-3 آینوں کی تقطیب کر دیتا ہے اور زیادہ مستحکم Li2O اور CO2 بناتا ہے۔ اس کا ہائڈروجن کاربونیٹ ٹھوس حالت میں نہیں رہتا۔
10.3 لیتھیم کی بے ربط خصوصیات
(Anomalous Properties of Lithium)
لیتھیم کا بے ربط طرز عمل مندرجہ ذیل وجوہات سے ہوتا ہے : (i) اس کے ایٹم اور آین (Li+) کی غیر معمولی چھوٹی جسامت (ii) زیادہ تقطیبی طاقت (Polarizing Power) (یعنی چارج/ نصف قطر تناسب)۔ ان کے نتیجے میں لیتھیم مرکبات کا شریک گرفت کردار بڑھ جاتا ہے جو ان مرکبات کے نامیاتی محلل میں حل پذیری کے لیے ذمہ دار ہے۔ مزید یہ کہ لیتھیم، میگنشیم سے وتری (Diagonal) تعلق رکھتا ہے جس کا تذکرہ آگے آئے گا۔
10.3.1 لیتھیم اور دوسری قلوی دھاتوں کے درمیان فرق
(Points of Difference Between Lithium and Other Alkali Metals)
(i) لیتھیم زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اس کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش دوسری قلوی دھاتوں سے کم ہوتے ہیں۔
(ii) قلوی دھاتوں میں لیتھیم سب سے کم تعامل پذیر ہے لیکن سب سے زیادہ تحویلی ایجنٹ ہے۔ دوسری قلوی دھاتوں کے برخلاف یہ ہوا میں جلنے پر مونوآکسائڈ Li2O اور نائٹرائڈ Li3N بناتا ہے۔
(iii)
نم گیرہوتا ہے اور ہائیڈریٹ LiCl.2H2O کی شکل میں کرسٹلائز ہو جاتا ہے۔ جبکہ دوسری قلوی دھاتوں کے کلورائڈ ہائڈریٹ نہیں بناتے۔
(iv) لیتھیم بائی کاربونیٹ ٹھوس شکل میں نہیں ملتا جب کہ دوسرے عناصر ٹھوس بائی کاربونیٹ بناتے ہیں۔
(v) دوسری قلوی دھاتوں کے برعکس لیتھیم ایتھائن سے تعامل کر کے ایتھائی نائڈ (Ethynide) نہیں بناتا۔
(vi) لیتھیم نائٹریٹ گرم کرنے پر لیتھیم آکسائڈ (Li2O) دیتا ہے جبکہ دوسری قلوی دھاتوں کے نائٹریٹ تحلیل ہوکر نظیری نائٹرائٹ دیتے ہیں۔
4L,iNO³↔2Li²o + 4NO²+O²
NaNO³↔2NaNO²+O²
(vii) LiFاور Li2O اپنے نظیری دیگر قلوی دھاتوں کے مرکبات کی بہ نسبت پانی میں کم حل پذیر ہیں۔
10.3.2 لیتھیم اور میگنیشیم میں مشابہت
(Points of Similarities Between Lithium and Magnesium)
لیتھیم اور میگنیشیم کے درمیان مشابہت ایک اہم توجہ کا مرکز ہے جس کی وجہ ان دونوں کی یکساں جسامت ہے:
160Pm=Mg :152pm=Liایٹمی نصف قطر
72pm= Mg²* :76pm=Liآینی نصف قطر
مشابہت کے خاص نقاط مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) لیتھیم اور میگنشییم دونوں اپنے متعلقہ گروپوں کے دوسرے عناصر کے مقابلے میں سخت اور ہلکے ہیں۔
(ii) لیتھیم اور میگنیشیم پانی سے بہت آہستہ تعامل کرتے ہیں۔ ان کے آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ بہت کم حل پذیر ہیں اور گرم کرنے پر ان کے ہائڈراکسائڈ تحلیل (Decompose) ہو جاتے ہیں۔ دونوں براہ راست نائٹروجن سے مل کر نائٹرائڈ Li3N اور Mg3N2 بناتے ہیں۔
(iii) آکسائڈ Li2O اور MgO زیادہ آکسیجن سے مل کر سپرآکسائڈ نہیں بناتے۔
(iv) گرم کرنے پر لیتھیم اور میگنیشیم کے کاربونیٹ آسانی سے تحلیل (Decompose) ہو کر آکسائڈ اور CO2 بناتے ہیں۔ لیتھیم اور میگنیشیم ٹھوس بائی کاربونیٹ نہیں بناتے ہیں۔
(v) Liclاور MgCl2 دونوں ایتھنال میں گھل جاتے ہیں۔
(vi)
اور MgCl2 دونوں نم گیر (Deliquescent) ہیں اور آبی محلول سے کرسٹلائز (Crystallise) ہو کر ہائڈریٹ LiCl.2H2O اور MgCl2 . 8H2O بناتے ہیں۔
10.4 سوڈیم کے چند اہم مرکبات (SomeImportantCompounds of Sodium)
صنعتی اعتبار سے سوڈیم کے چند اہم مرکبات سوڈیم کاربونیٹ سوڈیم ہائڈروکسائڈ، سوڈیم کلورائڈ اور سوڈیم بائی کاربونیٹ ہیں۔ ان مرکبات کو بڑے پیمانے پر بنانا اور ان کے استعمال کا بیان ذیل میں ہے۔
سوڈیم کاربونیٹ (واشنگ سوڈا) Na2CO3.10H2O
سوڈیم کاربونیٹ عموماً سالوے پراسس (Solvay Pracess) سے بناتے ہیں۔ اس میں سوڈیم بائی کاربونیٹ کی کم حل پذیری کا فائدہ اٹھا کر اس کو سوڈیم کلورائڈ اور امونیم بائی کاربونیٹ کے تعامل سے ترسیب کرتے ہیں۔ امونیم بائی کاربونیٹ کو امونیا سے سیرشدہ سوڈیم کلورائڈ میں CO2 گزار کر بناتے ہیں جہاں پہلے امونیم کاربونیٹ اور پھر امونیم بائی کاربونیٹ بنتے ہیں۔ مکمل طریقہ مندرجہ ذیل مساوات سے ظاہر کیا گیا ہے۔
2NH³ +H²O+CO²↔(NH4)²CO³
(NH4)²CO³+H²+CO²↔2NH4HCO³
NH4 HCO³+NaCL↔NH4CI+ Naco³
سوڈیم بائی کاربونیٹ کے قلم الگ ہو جاتے ہیں ان کو گرم کرکے سوڈیم کاربونیٹ حاصل کرتے ہیں۔
2NaHCO↔Na²CO³ +CO² +H²O
اس طریقہ میں NH3 کو پھر NH4Cl کا Ca(OH)2 سے تعامل کرکے حاصل کرتے ہیں۔ کیلشیم کلورائڈ ضمنی ماحصل کے طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔
2NH4CI +Ca(oh)²↔2NH³ +CaCI² +H²O
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ سالوے طریقہ سے پوٹاشیم کاربونیٹ نہیں بنا سکتے کیونکہ پوٹاشیم بائی کاربونیٹ بہت زیادہ حل پذیر ہے اس لیے پوٹاشیم کلورائڈ کے سیر شدہ محلول میں امونیم بائی کاربونیٹ سے اس کی ترسیب مشکل ہے۔
خصوصیات:
سوڈیم کاربونیٹ ایک سفید قلمی ٹھوس ہے جو کہ ڈیکاہائڈریٹ کی شکل Na2CO3 . 10H2O میں ہوتا ہے۔ اس کو واشنگ سوڈا بھی کہتے ہیں۔ یہ پانی میں فوراً گھل جاتا ہے۔ گرم کرنے پر ڈیکاہائڈریٹ قلمی پانی نکال کر مونوہائیڈریٹ بناتا ہے۔ 373 K کے اوپر مونوہائڈریٹ بالکل نابیدہ ہو کر ایک سفید سفوف میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کو سوڈا ایش کہتے ہیں۔
سوڈیم کاربونیٹ کا کاربونیٹ حصہ پانی میں آب پاشیدہ (Hydrolyse) ہو کر ایک قلوی محلول بناتا ہے۔
استعمال :
(i) اس کو پانی نرم کرنے، کپڑے دھونے اور صفائی کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔
(ii) اس کو شیشہ، صابن، بوریکس اور کاسٹک سوڈا بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔
(iii) اس کو کاغذ، پالش اور کپڑا بنانے کی صنعتوں میں استعمال کرتے ہیں۔
(iv) تجربہ گاہ میں کیفیتی (Qualitative) اور مقداری (Quantitative) تجزیہ میں ایک اہم لیباریٹری ریجنٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
سوڈیم کلورائڈ، NaCl
سوڈیم کلورائڈ کو سب سے زیادہ سمندر کے پانی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جس میں یہ کمیت کے اعتبار سے 2.7 سے %2.9 تک ہوتا ہے۔ ٹراپکی ممالک جیسے ہندوستان میں یہ نمک عموماً سمندر کے پانی کی تبخیر کرکے حاصل کرتے ہیں۔ سورج کے ذریعہ تبخیر سے تقریباً 50 لاکھ ٹن سالانہ نمک ہندوستان میں حاصل ہوتا ہے۔ خام سوڈیم کلورائڈ عموماً برائن محلول، جس میں سوڈیم سلفیٹ، کیلشیم سلفیٹ، کیلشیم کلورائڈ اور میگنشیم کلورائڈکی ملاوٹ ہوتی ہے، کو قلما کر حاصل کرتے ہیں۔ کیلشیم کلورائڈ (CaCl2) اور میگیشیم کلورائڈ (MgCl2) ملاوٹیں ہیں کیونکہ یہ نمگیر (ماحول سے بہ آسانی نمی کو جذب کرتے ہیں) ہوتے ہیں۔ خالص سوڈیم کلورائڈ کو حاصل کرنے کے لیے خام نمک کو پانی کی کم سے کم مقدار میں حل کرکے چھان لیتے ہیں جس سے غیر حل پذیر ملاوٹیں نکل جاتی ہیں۔ اس محلول کو ہائڈروجن کلورائڈ گیس سے سیرشدہ کرتے ہیں۔ خالص سوڈیم کلورائڈ کے قلم الگ ہوجاتے ہیں۔ کیلشیم اور میگنیشیم کے کلورائڈ سوڈیم کلورائڈ کی بہ نسبت زیادہ حل پذیر ہونے کی وجہ سے محلول میں رہ جاتے ہیں۔
سوڈیم کلورائڈ 1081K پر پگھلتا ہے۔ 273K پر اس کی حل پذیری 100 گرام پانی میں 36.0 گرام ہے۔ درجۂ حرارت بڑھانے سے اس حل پذیری میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوتا۔
استعمال:
(i) یہ گھروں میں عام نمک (Common Salt) یا دسترخوان پر نمک (Table Salt) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
(ii) اس کوNaoH,Na²o²اور Na2CO3 بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔
سوڈیم ہائڈراکسائڈ (کاسٹک سوڈا) NaOH
سوڈیم ہائڈراکسائڈ کو بڑے پیمانہ پر عموماً کاسٹز-کیلزسیل (Castner- kellner Cell) میں سوڈیم کلورائڈ کی برق پاشیدگی سے تیار کرتے ہیں۔ مرکری کیتھوڈ اور کاربن اینوڈ کے استعمال سے برائن محلول کی برق پاشیدگی کی جاتی ہے۔ سوڈیم دھات کیتھوڈ پر ڈسچارج ہو کر پارہ سے مل کر سوڈیم املگم (Amalgam) بناتا ہے اور کلورین گیس اینوڈ پر خارج ہو جاتی ہے۔
ci‾↔⁄2cl²+e∼ :Anode
املگم کا پانی سے تعامل کراتے ہیں جس سے سوڈیم ہائڈراکسائڈ اور ہائڈروجن گیس پیدا ہوتی ہے۔
2Na-ama lg am +2H²O↔2NaOH+2HG+ H²
سوڈیم ہائڈراکسائڈ ایک سفید نیم شفاف (Translucent) ٹھوس ہے۔ یہ 591K پر پگھلتا ہے۔ یہ پانی میں بہ آسانی گھل کر ایک قوی قلوی محلول دیتا ہے۔ سوڈیم ہائڈراکسائڈ کے قلم نمگیر ہوتے ہیں۔ سطح پر بنا سوڈیم ہائڈراکسائڈ کا محلول فضائی CO2 سے تعامل کرکے Na2CO3 کا قلم بناتا ہے۔
استعمال:
(i) اس کا استعمال صابن، کاغذ، مصنوعی ریشم اور بہت سے کیمیائی مرکبات بنانے میں ہوتا ہے۔
(ii) اس کو پٹرولیم کی ریفائننگ میں استعمال کرتے ہیں۔
(iii) یہ باکسائٹ (Bauxite) کی تخلیص میں استعمال ہوتا ہے۔
(iv) کپڑے بنانے کی ملوں میں اس کا استعمال سوتی دھاگوں کو رنگنے میں کرتے ہیں۔
(v) خالص چربیوں (Fats) اور روغنون (Oils) کی تیاری میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔
سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ (بیکنگ سوڈا) NaHCO3
سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ کو بیکنگ سوڈا کہتے ہیں کیونکہ گرم کرنے پر یہ تحلیل ہو کر CO2 کے بلبلے بناتا ہے (جو کہ کیک اور پیسٹری میں سوراخ کر دیتے ہیں جس سے وہ ہلکی اور روئیں دار ہو جاتی ہیں)۔
سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ کو سوڈیم کاربونیٹ کے محلول کو کاربن ڈائی آکسائڈ سے سیر کر کے بناتے ہیں۔ کم حل پذیر ہونے کی وجہ سے سوڈیم بائی کاربونیٹ کا سفید قلمی سفوف الگ ہو جاتا ہے۔
Na²co³ +H²O+CO²↔2NaHCO³
سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ جلد کے تعدیہ (Skin Infection) کے لیے ایک ہلکا اینٹی سیپٹک (Mild Antiseptic) ہے۔ اسے آگ بجھانے والے آلات (Fire Extinguisher) میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
10.5 سوڈیم اور پوٹاشیم کی حیاتیاتی اہمیت
(Biological Importance of Sodium and Potassium)
ایک 70kg وزن کے انسان میں تقریباً 90g سوڈیم (Na) اور 170g پوٹاشیم (K) ہوتا ہے جبکہ لوہا 5g اور تانبہ 0.06g ہوتا ہے۔
سوڈیم آین عموماً خلیوں کے باہر پائے جاتے ہیں۔ یہ خون کے پلازمہ اور اس بین خلوی سیّال میں پائے جاتے ہیں جو خلیوں کو گھیرے رہتے ہیں، یہ آین عصبی سگنلوں کی ترسیل، خلوی جھلیوں سے ہوکر پانی کے بہاؤ کو باضابطہ کرنے اور شکرنیز امینوایسڈوں کی خلیوں میں نقل و حمل جیسے کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ سوڈیم اور پوٹاشیم گرچہ کیمیائی طور پر کافی یکساں ہیں تاہم مقداری اعتبار سے ان کا خلیہ کی جھلیوں میں نفوذ ان کے نقل و حمل کا طریقہ کار اور ان کی انزائموں کو محرک بنانے کی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ خلیوں کے سیال میں، پوٹاشیم آین سب سے زیادہ پائے جانے والے کیٹ آین ہیں جہاں یہ بہت سے انزائموں کو محرک بناتے ہیں۔ گلوکوز کی تکسید سے ATP بننے میں حصہ لیتے ہیں اور سوڈیم کے ساتھ عصبی سگنلوں کی ترسیل کے لیے ذمہ دار ہیں۔
خلیہ کی جھلیوں کے دونوں اطراف میں سوڈیم اور پوٹاشیم کے ارتکاز میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر خون کے پلازمہ میں سوڈیم143m mol L¯1ہے جبکہ پوٹاشیم کی سطح صرف5 m mol L¯1 ہے۔ لال خونی خلیوں میں ارتکاز(Na*)10m mol L¯1اورK*105m mol L-1ہو جاتی ہے۔ یہ آینی اتار چڑھاؤ ایک امتیازی میکانزم کو ظاہر کرتے ہیں جس کو سوڈیم-پوٹاشیم پمپ کہتے ہیں جو کہ خلوی جھلیوں کے آر پار کام کرتی ہے۔ یہ ایک آرام کر رہے جانور (آرام کر رہے انسان میں ہر 24گھنٹوں میں 15kg) کے ذریعے استعمال ہونے والی ATP کا ایک تہائی سے بھی زیادہ حصہ خرچ کرلیتی ہے۔
10.6 گروپ 2 کے عناصر - مٹی قلوی دھاتیں (Group
2 Elements: Alkaline Earth Metals)
گروپ 2 کے عناصر میں بیریلیم، میگنیشیم، کیلشیم، اسٹرونیشیم، بیریم اور ریڈیم ہیں۔ یہ قلوی دھاتوں کے بعد آتے ہیں۔ انھیں (بیریلیم کو چھوڑ کر) قلوی مٹی دھاتیں کہتے ہیں۔پہلا عنصر بیریلیم دوسرے ممبروں سے مختلف ہے اور ایلومینیم سے وتری تعلق ظاہر کرتا ہے۔ قلوی مٹی دھاتوں کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات جدول 10.2 میں دی گئی ہیں۔
10.6.1 الیکٹرانی تشکل (Electronic Configuration)
ان عناصر کے گرفت خول کے s اربٹل میں دو الیکٹران ہوتے ہیں (جدول 10.2)۔ ان کا عمومی الیکٹرانی تشکل (نوبل گیس) ns2 سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ قلوی دھاتوں کی طرح ان کے مرکبات بھی اکثر آینی (Ionic) ہوتے ہیں۔
10.6.2 ایٹمی اور آینی نصف قطر
(Atomic and Ionic Radii)
یکساں دور میں قلوی مٹی دھاتوں کے ایٹمی اور آینی نصف قطر نظیری قلوی دھاتوں سے کم ہوتے ہیں۔ یہ ان عناصر کے نیوکلائی چارج کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یکساں گروپ میں ایٹمی اور آینی نصف قطر ایٹمی عدد کے ساتھ بڑھتے ہیں۔
| عنصر | علامت | الیکٹرانی تشکیل |
| بیریلیم میگنیشیم کیلشیم اسٹرونیشیم بیریم ریڈیم |
Be Mg ca sr Ba Ra |
1s²2s² 1s²2s²2p6 3s² 1s²2s²2p6 3s²3p6 4s² 1s²2s²2p6 3s³3d104s²4p6 56s² 1s²s2s²p6 3s²3p6 3d104s² 4p64d105s²5p6s²یاXe 6 s² |
10.6.3 آیونائزیشن اینتھالپی
(Ionization Enthalpies)
ایٹموں کی بڑی جسامت کی وجہ سے قلوی مٹی دھاتوں کی آیونائیزیشن اینتھالپی کم ہوتی ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر ایٹمی سائز بڑھتا ہے۔ اس لیے ان کی آیونائزیشن اینتھالپی گھٹتی ہے (جدول 10.2)۔ قلوی مٹی دھاتوں کی پہلی آیونائزیشن اینتھالپی ان کے نظیری گروپ I کی دھاتوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قلوی مٹی دھاتوں کی دوسری آیونائزیشن اینتھالپی اپنے نظیری قلوی دھاتوں سے کم ہوتی ہیں۔
10.6.4 ہائیڈریشن اینتھالپی (Hydration Enthalpies)
قلوی دھاتوں کے آینوں کی طرح گروپ میں نیچے جانے پر آینی جسامت بڑھنے کے ساتھ ہائیڈریشن اینتھالپی گھٹتی ہے۔
+Be2+ > Mg2+ > Ca2+ > Sr2+ > Ba2
قلوی دھاتوں کے آینوں کے مقابلہ میں قلوی مٹی دھاتوں کے آینوں کی ہائیڈریشن اینتھالپی زیادہ ہوتی ہیں۔ اس طرح قلوی دھاتوں کے مقابلہ میں قلوی مٹی دھاتوں کے مرکبات زیادہ آبیدہ ہوتے ہیں جیسے MgCl2 اور CaCl2 بالترتیب MgCl2.6H2O اور
جدول 10.2 مٹیا قلوی دھاتوں کو ایٹمی اور طبیعی خاصیت
| خاصیت | بیریلیمBe | میگنیشیمMg | کیلشیمca | اسٹرونشیمSr | بیریمBa | ریڈیمRa |
| ایٹمی عدد | 4 | 12 | 20 | 38 | 56 | 88 |
| ایٹمی کمیت g mol‾¹ |
9.01 | 24.31 | 40.08 | 87.62 | 137.33 | 226.03 |
| الیکٹرانی تشکل |
(He)2s² | (Ne)3s² | (Ar)4s² | (kr)5s² | (Xe)6s² | Rn 7 s² |
| آیونا ئیزیشن اینتھالپی k.j mol-¹ (1)
|
899 | 737 | 590 | 549 | 503 | 509 |
| آیونائیزیشن اینتھالپی kj mol-(ii)
|
1757 | 1450 | 1145 | 1064 | 965 | 979 |
| ہائیڈریشن اینتھالپی kj⁄mol
|
2494- | 1921- | 1577- | 1443- | 1305- | - |
| دھاتی نصف قطر pm |
112 | 160 | 197 | 215 | 222 | - |
| آینی نصف قطر M²*/pm
|
31 | 72 | 100 | 118 | 135 | 148 |
| نقطہ گداخت/k | 1560 | 924 | 1124 | 1062 | 1002 | 973 |
| نقطہ جوش/k | 2746 | 1363 | 1767 | 1655 | 2078 | 1973 |
| کثافت /gcm‾³ |
1.84 | 1.74 | 1.55 | 2.63 | 3.59 | 505 |
| معیاری مضمرv/برائے (m²*/M)
|
1.97- | 2.36- | 2.84- | 2.89- | 2.92- | 2.92- |
| کرہارض میں وقوع | 2. | ..2.76 | **4.6 | *384 | *390 | 10-6* |
ppm* (پارٹ پر ملین) ** وزن کے اعتبار سے فی صد
CaCl2.6H2O کی شکل میں پائے جاتے ہیں جبکہ NaCl اور KCl اس طرح کے ہائڈریٹ نہیں بناتے۔
10.6.5 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)
قلوی مٹی دھاتیں عموماً چاندی کی طرح سفید، چمکدار اور نسبتاً ملائم لیکن قلوی دھاتوں کے مقابلہ میں سخت ہوتی ہیں۔ بیریلیم اور میگنیشیم کچھ بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ چھوٹی جسامت ہونے کی وجہ سے ان کے نقطۂ گداخت نقطۂ اورجوش اپنے نظیری قلوی دھاتوں سے زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس رجحان میں کوئی تسلسل نہیں ہے۔ کم آیونائزیشن اینتھالپی کی وجہ سے یہ قدرتی طور پر کافی برقی مثبت ہوتے ہیں۔ برقی مثبت خصوصیت گروپ میں Be سے Ba کی طرف بڑھتی ہے۔ کیلشیم، اسٹرونشیم اور بیریم لو میں بالترتیب نمایاں خشتی سرخ (Brick Red)، قرمزی (Crimson) اور سیبی سبز (Apple Green) رنگ دیتے ہیں۔ لو میں الیکٹران توانائی کی اونچی سطح پر چلے جاتے ہیں جب وہ گراؤنڈ اسٹیٹ پر واپس آتے ہیں تو توانائی مرئی (Visible) روشنی کی شکل میں نکلتی ہے۔ بیریلیم اور میگنیشیم کے الیکٹران بہت مضبوطی سے بندھے ہوتے ہیں اس لیے لو میں توانائی کی اونچی سطح پر نہیں پہنچ پاتے۔ اس لیے یہ عناصر لو میں کوئی رنگ نہیں دیتے۔ Ca، Sr اور Ba کے لیے فلیم ٹیسٹ کیفیتی تجزیے میں ان کی شناخت کے لیے معاون ہے۔ قلوی مٹی دھاتوں کی برقی اور حرارتی موصلیت بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ دھاتوں کی اہم خصوصیت ہے۔
10.6.6 کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)
قلوی دھاتوں کے مقابلہ میں قلوی مٹی دھاتیں کم متعامل ہوتی ہیں۔ ان عناصر کی متعاملیت گروپ میں نیچے کی طرف بڑھتی ہے۔
(i) ہوا اور پانی سے تعامل : سطح پر آکسائڈ کی تہہ بن جانے کی وجہ سے بیریلیم اور میگنیشیم حرکی اعتبار سے آکسیجن اور پانی کے تئیں غیر عامل ہیں۔ تاہم بیریلیم سفوف جلانے پر چمکیلی روشنی سے جلتا ہے اور BeO نیز Be3N2 بنادیتا ہے۔ میگنیشیم زیادہ برقی مثبت ہے اور ہوا میں چکاچوندھ کرنے والی چمکدار روشنی کے ساتھ جل کر MgO اور Mg3N2 دیتا ہے۔ کیلشیم، اسٹرونشیم اور بیریم ہوا میں فوراً تعامل کر کے آکسائڈ اور نائٹرائڈ بناتے ہیں۔ یہ پانی سے بھی تعامل کرتے ہیں اور ٹھنڈے پانی میں بھی تعامل کر کے ہائڈراکسائڈ بناتے ہیں۔
(ii) ہیلوجن سے تعامل: تمام قلوی مٹی دھاتیں زیادہ درجہ ٔحرارت پر ہیلوجن سے تعامل سے کر کے ہیلائڈ بناتے ہیں۔
M +X²↔MX²(x=F,CI.Br.1)
BeF2 بنانے کا بہترین طریقہ
کی حرارتی تحلیل ہے اور BeCl2 کو آکسائڈ سے بآسانی بنایا جاسکتا ہے۔
(iii) ہائڈروجن سے تعامل: بیریلیم کے علاوہ باقی عناصر ہائڈروجن کے ساتھ گرم کرنے پر ہائڈرائڈ MH2 بناتے ہیں۔
BeH2 کو BeCl2 اور LiAlH4 کے تعامل سے بنا سکتے ہیں۔
2Becl² + LiAIH4↔2BeH² + Licl+ AICI
(iv) تیزابوں سے تعامل : قلوی مٹی دھاتیں تیزابوں کے ساتھ بآسانی تعامل کرکے ڈائی ہائڈروجن خارج کرتی ہیں۔
M+ 2HCI↔MCI+H²
(v) تحویلی فطرت (Reducing Nature): قلوی دھاتوں کی طرح قلوی مٹی دھاتیں بھی قوی تحویلی ایجنٹ ہیں۔ یہ ان کے زیادہ منفی تحویلی مضمر کی وجہ سے ہے (جدول 10.2)۔ تاہم ان کی تحویلی صلاحیت ان کی نظیری قلوی دھاتوں سے کم ہے۔ اگرچہ بیریلیم کی منفی قدر دوسری قلوی مٹی دھاتوں کے مقابلہ میں کم ہے۔ تاہم اس کی تحویلی فطرت +Be2آین کے چھوٹے سائز سے وابستہ زیادہ ہائڈریشن توانائی اور دھات کی ایٹومائزیشن اینتھالپی کی نسبتاً زیادہ قدر کی وجہ سے ہے۔ میگنیشیم کیٹ آین گروپ کے دیگر بھاری ممبران کے کیٹ آینوں کے مقابلہ میں آسانی سے تحویل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی چھوٹی جسامت کی وجہ سے اس کی ہائیڈریشن اینتھالپی کی قدر نسبتاًزیادہ منفی ہو جاتی ہے۔
(vi) مائع امونیا میں محلول: قلوی دھاتوں کی طرح قلوی مٹی دھاتیں بھی مائع امونیا میں گھل کر گہرے نیلے کالے رنگ کا محلول بناتی ہیں جوکہ امونیائی آینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
M+(x+y) NH³↔(M (NH³)〈²+ 2〈e(NH³) y)
ان محلول سے امونیئیٹ
کو حاصل کر سکتے ہیں۔
10.6.7 استعمال (Uses)
بیریلیم کو بھرتیں (Alloys) بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ تانبہ بیریلیم بھرت کا استعمال زیادہ مضبوط اسپرنگ بنانے میں کرتے ہیں۔ دھاتی بیریلیم کا استعمال ایکسرے ٹیوب کی کھڑکیاں بنانے میں کرتے ہیں۔ ایلومینیم، جستہ، مینگنیز اور ٹن کے ساتھ میگنیشیم بھرتیں بناتا ہے۔ میگنیشیم ایلومینیم بھرت ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوائی جہاز بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ میگنیشیم ا(پاؤڈر اور رِبن) کا استعمال چمکیلے سفوف، بلب، آتش انگیزبم اور سگنلوں میں کرتے ہیں۔ پانی میں میگنیشیم ہائڈراکسائڈ کا معلق (جسے ملک آف میگنیشیا کہتے ہیں) دواؤں میں بطور انیٹاسڈ استعمال ہوتا ہے۔ میگنیشیم کاربونیٹ ٹوتھ پیسٹ کا جزوترکیبی ہے۔ ان دھاتوں کے آکسائڈ سے دھات حاصل کرنے کے لیے کیلشیم کااستعمال کرتے ہیں جو کاربن سے تحویل نہیں ہوتے (اکائی 8)۔ زیادہ درجہ حرارت پر کیلشیم اور بیریم دھاتوں کی آکسیجن سے زیادہ تعامل کی وجہ سے ان کا استعمال اکثر وکیوم ٹیوب سے آکسیجن دور کرنے میں کرتے ہیں۔ ریڈیم کے نمکوں کا استعمال ریڈیوتھراپی یعنی کینسر کے علاج میں کرتے ہیں۔
10.7 قلوی مٹی دھاتوں کے مرکبات کی عام خصوصیات
(General Characteristics of Compounds of the Alkaline Earth Metals)
دو مثبت تکسیدی حالت (M2+) گروپ 2 کے عناصر کی خاص گرفت ہے۔ قلوی مٹی دھاتوں کے مرکبات اپنے نظیری قلوی دھاتوں کے مرکبات سے کم آینی ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ زیادہ نیو کلیائی چارج اور چھوٹی جسامت ہے۔ بیریلیم اور میگنیشیم کے آکسائڈ اور دوسرے مرکبات گروپ کے دوسرے عناصر مثلاً Ba, Sr, Ca جو کہ بھاری اور زیادہ جسامت کے ہیں، ان کے مقابلہ میں زیادہ شریک گرفت ہوتے ہیں۔ قلوی مٹی دھاتوں کے کچھ مرکبات کے خواص ذیل میں درج ہیں۔
(i) آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ: قلوی مٹی دھاتیں آکسیجن میں جل کر مونوآکسائڈ MO بناتی ہیں (BeO کو چھوڑ کر) جس کی ساخت چٹانی نمک (Rock-salt) جیسی ہوتی ہے۔ BeO عموماً شریک گرفت ہے۔ ان آکسائڈوں کی حرارت تکوین بہت زیادہ ہے جس کے نتیجہ میں وہ کافی حرارت پر بھی مستحکم رہتے ہے۔ BeO ایمفوٹیرک (Amphoteric) ہے جبکہ دوسرے عناصر کے آکسائڈ کی فطرت آینی ہے۔ BeO کو چھوڑ کر باقی تمام آکسائڈ کی فطرت اساسی ہے اور پانی سے تعامل کر کے کم حل پذیر ہائڈراکسائڈ بناتے ہیں۔
MO+H²O↔M(OH)²
ہائڈراکسائڈوں کی حل پذیری حرارتی استحکام اور اساسی خصوصیت ایٹمی عدد کے ساتھ Mg(OH)2 سے Ba(OH)2 تک بڑھتی ہے۔ قلوی مٹی دھاتوں کے آکسائڈ قلوی دھاتوں کے آکسائڈ کے مقابلہ میں کم اساسی اور کم مستحکم ہوتے ہیں۔ بیریلیم ہائڈراکسائڈ کی فطرت ایمفوٹیرک ہے کیونکہ یہ تیزاب اور القلی دونوں سے تعامل کرتا ہے۔
Be (OH)² 2Hcl↔〈Be(H²O)4〉CI
Be(oH²+2Hcl+o2H²O↔〈Be(OH)4IL²
(ii) ہیلائڈ: بیریلیم ہیلائڈ کو چھوڑ کر باقی سب قلوی مٹی دھاتوں کے ہیلائڈ کی فطرت آینی (Ionic) ہے۔ بیریلیم ہیلائڈ دراصل شریک گرفت ہوتے ہیں اور نامیاتی محلل میں حل پذیر ہیں۔ بیریلیم کلورائڈ کی ٹھوس حالت میں زنجیری ساخت ہوتی ہے۔
بخاراتی فیز میں BeCl2 کا رجحان ایک کلوروبرج ڈائمر (Dimer) بنانے کا ہوتا ہے جو اونچے درجہ حرارت تقریباً 1200K پر خطّی مونومر میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر ہیلائڈ ہائیڈریٹ بنانے کا رجحان آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتاہے (مثلاً MgCl2.8H2O، CaCl2.6H2O
، S6Cl2.6H2O اور BaCl2.2H2O)۔ زیادہ لیٹس توانائی ہونے کی وجہ سے فلورائڈ کلورائڈ کے مقابلہ میں کم حل پذیر ہوتے ہیں۔
(iii) آکسو ایسڈ کے نمک: قلوی مٹی دھاتیں آکسو ایسڈ کے نمک بھی بناتی ہیں ان میں کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔
کاربونیٹ: قلوی مٹی دھاتوں کے کاربونیٹ پانی میں نہیں گھلتے اور ان کی ترسیب ان دھاتوں کے حل پذیر نمکوں کے محلول میں سوڈیم یا امونیم کاربونیٹ کے محلول ملا کر کرتے ہیں۔ دھاتی آین کے ایٹمی عدد بڑھنے کے ساتھ کاربونیٹ کی حل پذیری گھٹتی ہے۔ گرم کرنے پر سب کاربونیٹ تحلیل ہوکر کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسائڈ بناتے ہیں۔ بیریلیم کاربونیٹ غیر مستحکم ہوتا ہے اور صرف CO2 کے ماحول میں ہی رکھا جاسکتا ہے۔ حرارتی استحکام مثبت آین کی جسامت کے ساتھ بڑھتا ہے۔
سلفیٹ : قلوی مٹی دھاتوں کے سب سلفیٹ سفید ٹھوس ہوتے ہیں اور گرم کرنے پر مستحکم رہتے ہیں۔ BeSO4 اور MgSO4 آسانی سے گھل جاتے ہیں اور حل پذیری CaSO4 سے BaSO4 کی طرف گھٹتی ہے۔ +Be2اور +Mg2 ہائڈریشن کی اینتھالپی کی زیادتی ان کی لیٹس اینتھالپی (Lattice Enthalpy) پر غالب آجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے سلفیٹ حل پذیر ہوتے ہیں۔
نائٹریٹ : ڈائی لیوٹ نائٹرک ایسڈ (HNO3) میں کاربونیٹ کو گھول کر نائٹریٹ بنائے جاتے ہیں۔ میگنیشیم نائٹریٹ پانی کے چھ سالموں کے ساتھ قلماتا ہے۔ بیریم نائٹریٹ نابیدہ نمک کی شکل میں قلماتا ہے۔ سبھی نائٹریٹ گرم کرنے پر لیتھیم نائٹریٹ کی طرح تحلیل ہوکر آکسائڈ بناتے ہیں۔
2M(NO³)²↔2MO+4NO²+o²
(M=Be. Mg.ca.sr. Ba)
مسئلہ 10.4
قلوی مٹی دھاتوں کے ہائڈراکسائڈوں کی حل پذیری گروپ میں نیچے کی طرف کیوں گھٹتی ہے؟
حل:
اگر این آین اور کیٹ آین کی جسامت تقریباً یکساں ہو اور این آین مشترک ہونے کی وجہ سے کیٹ آین کا نصف قطر لیٹس توانائی پر اثر انداز ہوگا۔ چونکہ آینی جسامت بڑھنے کے ساتھ ہائیڈریشن اینتھالپی کے مقابلہ میں لیٹس توانائی زیادہ گھٹتی ہے گروپ میں نیچے کی طرف حل پذیری میں اضافہ ہوگا۔ قلوی مٹی دھاتوں کے ہائڈراکسائڈوں میں یہی صورت ہے۔
مسئلہ 10.5
گروپ میں نیچے کی طرف قلوی مٹی دھاتوں کے کاربونیٹ اور سلفیٹ کی حل پذیری کیوں گھٹتی ہے؟
حل:
این آین کی جسامت کیٹ آین کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کسی بھی گروپ میں لیٹس اینتھالپی تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ چونکہ ہائیڈریشن اینتھالپی گروپ میں نیچے کی طرف گھٹتی ہے اس لیے حل پذیری بھی گھٹتی ہے جیسا کہ قلوی مٹی دھاتوں کے کاربونیٹ اور سلفیٹ میں ہوتاہے۔
10.8 بیریلیم کا بے ربط طرز عمل
(Anomalous Behaviour of Beryllium)
گروپ 2 دھاتوں کا پہلا رکن بیریلیم دوسرے ممبروں جیسے میگنیشیم وغیرہ سے مختلف طرز عمل کا اظہار کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ایلومینیم سے وتری تعلق ظاہر کرتاہے جسے ذیل میں بیان کیا جارہا ہے۔
(i) بیریلیم کی ایٹمی اور آینی جسامت غیر معمولی طور پر کم ہوتی ہے اس لیے اپنے گروپ کے دوسرے ممبروں سے مختلف ہے۔ زیادہ آیونائیزیشن اینتھالپی اور چھوٹی جسامت کی وجہ سے یہ ایسے مرکبات بناتا ہے جو زیادہ تر شریک گرفت ہوتے ہیں اور اس کے نمک آسانی سے آب پاشیدہ ہو جاتے ہیں۔
(ii) بیریلیم چار سے زیادہ کوآرڈی نیشن نمبر ظاہر نہیں کرتا کیونکہ اس کے گرفت خول میں صرف چار اربٹل ہیں۔ گروپ کے دوسرے ممبران d اربٹل کا استعمال کرکے چھ کوآرڈی نیشن نمبر رکھ سکتے ہیں۔
(iii) گروپ کے دوسرے عناصر کے برخلاف بیریلیم کے آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ کی فطرت ایمفوٹیرک (Amphoteric) ہوتی ہے۔
10.8.1 بیریلیم اور ایلومینیم کے مابین وتری تعلق (Diagonal
Relationship Between Beryllium and Aluminium)
+Be2کے آینی نصف قطر کا تخمینہ 31pm ہے۔ نصف قطر/ چارج (Charge/radius) تناسب تقریباً وہی ہے جو +Al3 آین کا ہے۔ اس لیے بیریلیم کچھ طریقوں میں ایلومینیم سے مطابقت رکھتا ہے۔ چند یکسانیت درج ذیل ہیں۔
(i) ایلومینیم کی طرح بیریلیم پر بھی تیزابوں کا اثر اس کی سطح پر آکسائڈ کی موجودگی کی وجہ سے کم ہوتا ہے۔
(ii) بیریلیم ہائڈراکسائڈ زیادہ القلی میں گھل کر بالکل اس طرح بیریلیٹ آین
(Beryllate Ion)دیتا ہے جس طرح ایلومینیم ہائڈراکسائڈ الیومینٹ آین –[Al(OH)4] دیتا ہے۔
(iii) ابخراتی فیز میں بیریلیم اور ایلومینیم دونوں برج شدہ کلورائڈ ساخت بناتے ہیں دونوں کلورائڈ نامیاتی محلّلوں میں گھل جاتے ہیں اور قوی لوئس ایسڈ ہیں۔ ان کا استعمال فریڈل کرافٹ وسیط کی طرح ہوتا ہے۔
(iv) بیریلیم اور ایلومینیم آین دونوں کی پیچیدہ مرکبات بنانے کی صفت ہوتی ہے، جیسے
۔
10.9 کیلشیم کے کچھ اہم مرکبات (Some Important Compounds of Calcium)
کیلشیم کے اہم مرکبات کیلشیم آکسائڈ، کیلشیم ہائڈروکسائڈ، کیلشیم سلفیٹ کیلشیم کاربونیٹ اور سیمنٹ ہیں۔ صنعتی اعتبار سے یہ مرکبات اہم ہیں ان مرکبات کی بڑے پیمانے پر تیاری اور استعمال ذیل میں دیے گئے ہیں۔
کیلشیم آکسائڈ یا کوئک لائم (CaO (Quick Lime
تجارتی پیمانے پر اس کو روٹری بھٹی میں چونا پتھر (CaCO3) کو 1270- 1070 K درجہ حرارت پر گرم کر کے بناتے ہیں۔
تعامل کو مکمل ہونے کے لیے کاربن ڈائی آکسائڈ کو بنتے ہی باہر نکال دیتے ہیں۔
کیلشیم آکسائڈ ایک غیر قلمی (Amorphous) سفید ٹھوس ہے۔ اس کا نقطہ گداخت 2870K ہے فضا میں رکھنے سے یہ نمی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرتا ہے۔
CaO + CO²↔CaCO³
CaO′P4O10↔2Ca³9PO+)²
محدود مقدار میں پانی چونے کے ڈھیلوں کو توڑدیتا ہے۔ اس طریقہ کو چونا بجھانا (Slaking of Lime) کہتے ہیں۔ کوئک لائم کو سوڈے سے بجھانے (Slaked) پر ٹھوس سوڈالائم حاصل ہوتا ہے۔ یہ اونچے درجہ حرارت پر تیزابی آکسائڈوں سے تعامل کر لیتا ہے۔
Cao+siO²↔CaSiO³
6CaO∼P4O10↔2Ca³(po+)²
استعمال:
(i) یہ ایک اہم بنیادی مرکب ہے اور القلی کی سب سے سستی قسم ہے۔
(ii) اس کا استعمال کاسٹک سوڈا سے سوڈیم کاربونیٹ بنانے میں کرتے ہیں۔
(iii) شکر کی تخلیص اور رنگ بنانے میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
کیلشیم ہائڈراکسائڈ (بجھا ہوا چونا) Ca(OH)2
کیلشیم ہائڈراکسائڈ کو کوئک لائم CaO میں پانی ڈال کر تیار کرتے ہیں۔
یہ ایک سفید غیر قلمی سفوف ہوتا ہے۔ یہ پانی میں بہت کم گھلتا ہے۔ پانی میں اس کا محلول چونے کا پانی (Lime Water) کہلاتا ہے اور بجھے چونے کا پانی میں معلق دوھیا چونا (Milk of Lime) کہلاتا ہے۔
جب چونے کے پانی میں کاربن ڈائی آکسائڈ گزارتے ہیں تو وہ دودھیا ہو جاتا ہے۔
ca(OH)²+CO²↔Caco³+H²O
زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ گزارنے سے رسوب گھل کر کیلشیم ہائڈروجن کاربونیٹ بن جاتا ہے۔
CaCO³+CO²↔H²O↔ca(HCO³)²
دودھیا چونا کلورین سے تعامل کر کے ہائپوکلورائٹ بناتا ہے جو کہ بلیچنگ پاوڈر کا ایک جزو ہے۔
2Ca(OH)²+2CI²↔CaCI²+Ca(OCI)²+2H²O
بلیچنگ پاوڈر
استعمال:
(i) اس سے مسالہ (Mortar) بناتے ہیں جو کہ تعمیری مادہ ہے۔
(ii) اسے مکانوں کی سفیدی کرنے میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک دافع تعدیہ (Disinfectant) ہے۔
(iii) اس کو شیشہ بنانے، چمڑے کے کارخانوں، بلیچنگ پاؤڈر بنانے اور شکر کی صفائی میں استعمال کرتے ہیں۔
کیلشیم کاربونیٹ CaCO3
کیلشیم کاربونیٹ قدرتی ماحول میں چونا پتھر، کھریا، سنگِ مرمر جیسی کئی شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کو بجھے چونے میں کاربن ڈائی آکسائڈ گزار کر یا سوڈیم کاربونیٹ کو کیلشیم کلورائڈ میں ملا کر حاصل کرتے ہیں۔
Ca(OH²)+CO²↔CaCO³+H²O
CaCI²+Na²CO³↔CaCO³+2NaCI
زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ نہیں گزارنا چاہیے ورنہ پانی میں حل پذیر کیلشیم ہائڈروجن کاربونیٹ بن جائے گا۔
کیلشیم کاربونیٹ ایک سفید روئیں دار سفوف ہوتا ہے یہ پانی میں تقریباً غیر حل پذیر ہے۔ K 1200 تک گرم کرنے پر یہ تحلیل ہوکرکاربن ڈائی آکسائڈ دیتا ہے۔
ڈائی لیوٹ تیزابوں سے تعامل کر کے یہ کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا کرتا ہے۔
CaCO³+2HCI↔CaCI²+H²O+CO
CaCO³+H²SO4↔CaSO4+H²O+CO²
استعمال :
سنگ مرمر کی شکل میں عمارتوں کی تعمیر اور کوئک لائم (Quick Lime) تیار کرنے میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ لوہا جیسی دھاتوں کے استخراج میں کیلشیم کاربونیٹ اور میگنیشیم کاربونیٹ کو ملا کر فلکس (Flux) کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مخصوص طور پر ترسیب کیے گئے CaCO3 کو اعلی قسم کے کاغذ بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کو انیٹاسڈ (Antacid) کے طور پر ٹوتھ پیسٹ دانتوں کے منجن میں ہلکا خراشی مسالہ، نیز چیونگ گم اور کاسمیٹک میں فِلر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
کیلشیم سلفیٹ (پلاسٹر آف پیرس) CaSO4.½ H2O
یہ کیلشیم سلفیٹ کا ہیمی ہائڈریٹ ہے۔ اسے جپسم CaSO4.2H2O کو K 393 پر گرم کرکے حاصل کرتے ہیں۔
2(CaSO4.2H²O)↔2(CaSO4).H²O+3H²O
393K کے اوپر قلمی پانی نہیں رہتا اور نابیدہ کیلشیم سلفیٹ CaSO4 بن جاتا ہے جو Dead Burnt Plaster کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں پانی ملانے پر یہ جم جاتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی ملانے سے یہ ایک پلاسٹک مادہ بناتا ہے جو کہ 5 سے 15 منٹ کے درمیان ایک سخت ٹھوس بن جاتا ہے۔
استعمال :
پلاسٹر آف پیرس کا سب سے زیادہ استعمال عمارتوں کی تعمیر اور پلاسٹر میں ہوتا ہے۔ جسم کی ہڈی ٹوٹنے یا موچ آجانے پر اس سے متعلقہ عضو کے ہلنے کو روکا جاسکتا ہے۔ اسے دانتوں کے علاج، زیورات بنانے اور مورتیوں کے سانچے بنانے میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
سیمنٹ :
سیمنٹ ایک اہم تعمیراتی شے ہے۔ اس کو سب سے پہلے 1824 میں انگلینڈ میں جوزف اسپڈن نے بنایا تھا۔ اس کو پورٹ لینڈ سیمنٹ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کی مشابہت بہت کچھ انگلینڈ کے جزیرہ پورٹ لینڈ کے قدرتی چونا پتھر سے ہے۔
سیمنٹ کو چونے سے بھر پور مادہ کو دیگر اشیا جیسے مٹی جس میں سلیکا، SiO2 کے ساتھ ساتھ ایلومنیم، آئرن اور میگنیشیم کے آکسائڈ ہوتے ہیں، کے ساتھ ملاکر بنایا جاتا ہے۔ پورٹ لینڈ سیمنٹ کی اوسط ترکیب اس طرح ہے۔
.Al²O³5-10%,SiO²20-25%,CaO 50-60%
-SO³1-2%,Fe²O³1-2%.MgO2-3%
اعلی قسم کے سیمنٹ میں سلیکا (SiO2) اور الیومنا (A1²O³) کا تناسب 2.5 اور 4 کے درمیان ہونا چاہیے اور چونے (CaO) کی سلیکن (SiO2) ایلومینم (Al2O3) اور آئرن (Fe2O3) کے آکسائڈوں سے نسبت جتنا ہو سکے 2 کے قریب ہونا چاہیے۔
سیمنٹ بنانے کے لیے کچا مال چونا پتھر اور مٹی ہیں۔ جب مٹی اور چونے کو ملا کر تیز گرم کرتے ہیں تو وہ پگھل جاتے ہیں اور تعامل کرکے سیمنٹ کلنکر (Cement Clinker) بناتے ہیں۔ اس کلنکر کو وزن کے اعتبار سے %2-3 جپسم [CaSO4.2H2O] میں ملاکرسیمنٹ بناتے ہیں۔ اس لیے پورٹ لینڈ سیمنٹ کے اہم اجزائے ترکیبی %26 ڈائی کیلشیم سلیکیٹ51%Ca²sio4
ٹرائی کیلشیم سلیکٹ [Ca3SiO5] اور %11 ٹرائی کیلشیم ایلیومینٹ [Ca3Al2O6] ہیں۔
سیمنٹ کا جمنا (Setting of Cement)
پانی ملانے سے سیمنٹ جم کر ایک سخت ٹھوس بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ سیمنٹ کے اجزا کے سالموں کی آبیدگی (Hydration) اور ان کی ازسرنو ترتیب (Rearrangement) ہے۔ جپسم ملانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جمنے کا عمل سست ہو جائے تاکہ سیمنٹ کافی سخت ہو جائے۔
استعمال:
کسی بھی ملک کے لیے لوہے اور اسٹیل کے بعد سیمنٹ ایک قومی ضرورت کی شے ہے۔ اسے کنکریٹ اور کنکریٹ کو مزید مضبوط بنانے، پلاسٹر، ڈیم اور عمارتوں کے بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔
10.10 میگنشیم اور کیلشیم کی حیاتیاتی اہمیت
(Biological Importance of Magnesium and Calcium)
ایک بالغ انسان کے جسم میں تقریباً 25 گرام میگنشیم اور 1200 گرام کیلشیم ہوتا ہے جبکہ لوہا 5 گرام اور تانبہ 0.06 گرام ہوتا ہے۔ انسانی جسم کو روزانہ تقریباً 200 – 300 ملی گرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تمام انزائم جو فاسفیٹ کی منتقلی میں ATP کا استعمال کرتے ہیں انھیں میگنیشیم بحیثیت کوفیکٹر (Cofactor) درکار ہوتا ہے۔ پودوں میں روشنی کو جذب کرنے کے لیے خاص پگمنٹ کلوروفل ہے جس میںمیگنشیم ہوتا ہے۔ جسم کے کیلشیم کا تقریباً %99 ہڈیوں اور دانتوں میں ہوتا ہے۔ یہ عصبی عضلاتی (Neuromuscular) فعل، اندرونیاعصابی ترسیل، خلوی جھلّی کی سالمیت اور خون کے جمنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے پلازمہ میں کیلشیم کا ارتکاز تقریباً
پر قائم رکھا جاتا ہے۔ اسے دو ہارمون کیلسیٹونن (Calcitonin) اور پیراتھائرائڈ (Parathyroid) کے ذریعہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں، ہڈی ایک بے عمل اور غیر متبادل شے نہیں ہے بلکہ یہ برابر گھلتی اور دوبارہ جمتی رہتی ہے جو کہ انسان میں تقریباً 400 ملی گرام یومیہ ہے؟ یہ تمام کیلشیم پلازمہ سے ہو کر گزرتا ہے۔
خلاصہ
دوری جدول کا -sبلاک گروپ 1 (قلوی دھاتیں) اور گروپ 2 (قلوی مٹی دھاتیں) پر مشتمل ہے۔ قلوی اس لیے کہلاتے ہیں کہ ان کے آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ کی فطرت قلوی ہوتی ہے۔ قلوی دھاتوں کی پہچان یہ ہے کہ ان کے ایٹموں کے گرفتی خول میں ایک -sالیکٹران اور قلوی مٹی دھاتوں کے ایٹموں کے گرفتی خول میں دو -sالیکٹران ہوتے ہیں یہ بہت زیادہ متعامل ہیں اور بالترتیب یک مثبت (+M) اور دو مثبت (+M2) آین بناتے ہیں۔
ایٹمی عدد بڑھنے کے ساتھ قلوی دھاتوں کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات بھی اسی طرح تبدیل ہوتی ہیں۔ گروپ میں نیچے جانے سے ایٹمی اور آینی جسامت بڑھتی ہے اور آیونائیزیشن اینتھالپی با ضابطہ گھٹتی ہے۔ تقریباً یہی رجحان قلوی مٹی دھاتوں میں ہے۔
ان گروپوں کا پہلا عنصر یعنی گروپ 1 میں لیتھیم اور گروپ 2 میں بیریلیم کی خصوصیات اگلے گروپ کے دوسرے ممبر کی خصوصیات سے میل کھاتی ہیں۔ اس یکسانیت کو دوری جدول میں وتری تعلق (Diagonal Relationship) کہتے ہیں۔ یہ عناصر اپنے گروپ کے دوسرے عناصر کے مقابلے مختلف طرز عمل کااظہار کرتے ہیں۔
قلوی دھاتیں سفید، چمکیلی، نرم اور کم نقطہ گداخت والی ہوتی ہیں۔ یہ بہت زیادہ متعامل ہیں۔ قلوی دھاتوں کے مرکبات اکثر آینی ہوتے ہیں۔ ان کے آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ پانی میں حل ہوکر قوی القلی بناتے ہیں۔ ان کے اہم مرکبات سوڈیم کاربونیٹ، سوڈیم کلورائڈ، سوڈیم ہائڈراکسائڈ اور سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ ہیں۔ سوڈیم ہائڈراکسائڈ کو کیسٹنرکیلنر (Castner Kellner) طریقہ سے اور سوڈیم کاربونیٹ کو سالوے (Solvay) کے طریقے سے تیار کرتے ہیں۔
قلوی مٹی دھاتوں کی کیمیا بہت کچھ قلوی دھاتوں سے ملتی ہے۔تاہم کچھ فرق قلوی مٹی دھاتوں کی کم ایٹمی اور آینی جسامت اورکیٹ آین چارج کی زیادتی کی وجہ سے ہے۔ ان کے آکسائڈ اور ہائڈراکسائڈ قلوی دھاتوں کے آکسائڈوں اور ہائڈروکسائڈوں کے مقابلہ میں کم اساسی ہوتے ہیں۔ صنعتی اعتبار سے کیلشیم کے اہم مرکبات کیلشیم آکسائڈ (چونا)، کیلشیم ہائڈراکسائڈ (بجھا چونا)، کیلشیم سلفیٹ (پلاسٹر آف پیرس)، کیلشیم کاربونیٹ (چونا پتھر) اور سیمنٹ ہیں۔ پورٹ لینڈ سیمنٹ ایک اہم تعمیری شے ہے۔ اس کو سفوف شدہ چونا پتھر اور مٹی کے آمیزہ کو روٹری بھٹی میں گرم کرکے تیار کرتے ہیں اس طرح حاصل شدہ کلنکر (Clinker) کو کچھ جپسم (%3-2 Gypsum) کے ساتھ ملا کر باریک سفوف حاصل کرتے ہیں۔ ان تمام اشیا کا استعمال مختلف طریقوں سے مختلف موقعوں پر ہوتا ہے۔
حیاتیاتی سیالوں میں یک گرفت سوڈیم اور پوٹاشیم آین اور دو گرفت میگنیشیم اور کیلشیم آین بڑے تناسب میں پائے جاتے ہیں۔ یہ آین بہت سے حیاتیاتی افعال جیسے آینوں کا توازن برقرار رکھنا اور عصبی ہیجان کے ایصال میں مدد کرتے ہیں۔
مشقیں
10.1 قلوی دھاتوں کی مشترک طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کیا ہیں؟
10.2 قلوی مٹی دھاتوں کی عام خصوصیات اور خصوصیات میں Gradation کو بیان کیجیے۔
10.3 قدرتی ماحول میں قلوی دھاتیں کیوں نہیں پائی جاتی ہیں؟
10.4 Na2O2 میں سوڈیم کی تکسیدی حالت معلوم کیجیے۔
10.5 سمجھائیے کہ سوڈیم پوٹاشیم سے کم تعامل پذیر کیوں ہے؟
10.6 (i) آیونائزیشن اینتھالپی (ii) آکسائڈوں کی اساسیت اور (iii) ہائڈروکسائڈوں کی حل پذیری کے لحاظ سے قلوی دھاتوں اور قلوی مٹی دھاتوں کا موازنہ کیجیے۔
10.7 کیمیائی طرزعمل کے لحاظ سے لیتھیم کن معاملوں میں میگنیشیم سے یکسانیت ظاہر کرتا ہے؟
10.8 سمجھائیے کہ قلوی اور قلوی مٹی دھاتیں کیمیائی تحویل کے ذریعہ کیوں حاصل نہیں کی جاسکتی ہیں؟
10.9 ضیابرقی سیل میں لیتھیم کے بجائے پوٹاشیم اور سیزیم کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟
10.10 جب قلوی دھات کو مائع امونیا میں حل کرتے ہیں تو محلول مختلف رنگ دیتا ہے۔ وجہ بتائیے کہ اس طرح رنگ کی تبدیلی کیوں ہوتی ہے؟
10.11 بیریلیم اور میگنیشیم لو میں رنگ نہیں دیتے جبکہ دوسری قلوی مٹی دھاتیں دیتی ہیں کیوں؟
10.12 سالوے (Solvay) طریقے میں ہونے والے مختلف تعاملات کو بیان کیجیے۔
10.13 پوٹاشیم کاربونیٹ سالوے (Solvay) طریقہ سے کیوں نہیں بنایا جاسکتا؟
10.14 Li2CO3 کم درجۂ حرارت پر کیوں تحلیل ہوجاتا ہے جبکہ Na2CO3 زیادہ درجہ حرارت پر تحلیل ہوتا ہے؟
10.15 قلوی دھاتوں اور قلوی مٹی دھاتوں کے مندرجہ ذیل مرکبات کی حل پذیری اور حرارتی استحکام کا موازنہ کیجیے (a) نائٹریٹ (b) کاربونیٹ (c) سلفیٹ
10.16 سوڈیم کلورائڈ سے آپ کس طرح حاصل کریں گے:
(i) سوڈیم دھات
(ii) سوڈیم ہائڈراکسائڈ
(iii) سوڈیم پرآکسائڈ
(iv) سوڈیم کاربونیٹ
10.17 کیا ہوتا ہے جب
(i) میگنیشیم کو ہوا میں جلاتے ہیں
(ii) کوئک لائم کو سلیکا کے ساتھ گرم کرتے ہیں
(iii) کلورین بجھے (Slaked) چونے سے تعامل کرتی ہے
(iv) کیلشیم نائٹریٹ کو گرم کرتے ہیں۔
10.18 مندرجہ ذیل میں ہر ایک کے دو اہم استعمال بتائیے:
(i) کاسٹک سوڈا
(ii) سوڈیم کاربونیٹ
(iii) کوئک لائم (Quick Lime)
10.19 ساخت بنائیے:(i) bec1² ابخرات (ii) Bec1² ٹھوس
10.20 سوڈیم اور پوٹاشیم کے ہائڈراکسائڈ اور کاربونیٹ پانی میں بآسانی گھل جاتے ہیں جبکہ میگنیشیم اور کیلشیم کے نظیری نمک پانی میں بہت کم گھلتے ہیں سمجھائیے۔
10.21 مندرجہ ذیل کی اہمیت بیان کیجیے ۔
(i) چونا پتھر (Limestone)
(ii) سیمنٹ
(iii) پلاسٹر آف پیرس
10.22 لیتھیم کے نمک عموماً آبیدہ (Hydrated) اور دوسرے القلی آین عموماً نابیدہ (Anhydrous) کیوں ہوتے ہیں؟
10.23 LiF پانی میں تقریباً غیر حل پذیر کیوں ہے جبکہ LiCl نہ صرف پانی میں بلکہ ایسی ٹون میں بھی حل پذیر ہے۔
10.24 حیاتیاتی سیّالوں میں سوڈیم، پوٹاشیم، میگنشیم اور کیلشیم کی اہمیت کو سمجھائیے۔
10.25 کیا ہوتا ہے جب
(i) سوڈیم دھات کو پانی میں ڈالتے ہیں۔
(ii) سوڈیم دھات کو کھلی ہوا میں گرم کرتے ہیں۔
(iii) سوڈیم پر آکسائڈ پانی میں گھلتا ہے۔
10.26 مندرجہ ذیل مشاہدات پر تبصرہ کیجیے:
(a) آبی محلول میں قلوی دھاتی آینوں کی حرکت
Li<Na*<k+<Rb+<Cs+ ( Mobilities)
(b) لیتھیم واحد قلوی دھات ہے جو براہ راست نائٹرائڈ بناتا ہے۔
M²*(aq)+2e∼↔M(s) (c)
کے لیے Eθ تقریباً مستقل رہتا ہےیہاں۔
Baیاsr,ca= M
10.27 بتلائیے کیا وجہ ہے کہ
(a) Na²co³ کا محلول قلوی ہوتا ہے۔
(b) قلوی دھاتوں کو ان کے پگھلے ہوئے کلورائڈوں کی برق پاشیدگی سے تیار کرتے ہیں۔
(c) پوٹاشیم کے مقابلہ میں سوڈیم زیادہ کارآمد ہے۔
10.28 مندرجہ ذیل تعاملات کے لیے متوازن مساوات لکھیے۔
(a) Na²o²اور پانی
(b)ko² اور پانی
(c) Na²oوار CO2
10.29 آپ کیسے سمجھائیں گے کہ
(i) Beoپانی میں غیر حل پذیر ہے لیکن BeSO4 پانی میں حل پذیر ہے۔
(ii) Bao پانی میں حل پذیر ہے اور BaSO4 غیر حل پذیر ہے۔
(iii) ایتھنال (C2H5OH) میں KI کے مقابلہ LiI زیادہ حل پذیر ہے۔
10.30 ذیل میں کس قلوی دھات کا سب سے کم نقطہ گداخت ہے۔
Cs (d) Rb) (c) k (b) Na (a)
10.31 ذیل میں کون سی قلوی دھات آبیدہ نمک بناتی ہے؟
cs (d) k (c) Na (b) Li (a)
10.32 حرارتی اعتبار سے سب سے زیادہ مستحکم قلوی مٹی دھات کا کا ربونیٹ ہے۔
Baco³ (d) srco³ (c) CaCO³ (b) MgCO³ (a)