Skip to content
Keemiyan II


اکائی 11

پی () بلاک عناصر

(The p-Block Elements)

مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

  • پی بلاک عناصر کے عام کیمیائی رجحانات  کی تائید کرسکیں؛
  • گروپ 13 اور 14 کے عناصر کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کے رجحانات کو بیان کرسکیں؛
  • بورون اور کاربن کا بے ربط طرزعمل واضع کرسکیں؛
  • کاربن کی بہروپی شکلیں بیان کرسکیں؛
  • بورون-کاربن اور سلیکان کے چند اہم مرکبات کی کیمیا کو جان سکیں؛
  • گروپ 13 اور 14 کے عناصر اور ان کے مرکبات کے اہم استعمال  کی فہرست تیار کرسکیں۔

  • "بھاری عناصر کے ایٹموں کی اندرونی کور (Inner Core) میں موجود ڈی (d) اور ایف ( f) الیکٹرانوں کے اثر سے پی (p) بلاک عناصر کی خصوصیات میں تبدیلی نے ان کی کیمیا کو دلچسپ بنا دیا ہے۔"


    -p بلاک عناصر میں آخری الیکٹران -p اربٹل (p-Orbital ) میں جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ -p اربٹل کی تعداد تین ہے اس لیے -p اربٹل میں زیادہ سے زیادہ چھ الیکٹران آسکتے ہیں۔ نتیجتاً دوری جدول میں -p بلاک چھ گروپوں پر مشتمل ہے جو کہ 13 سے 18 تک ہیں۔ ان گروپوں کے اوّل عناصر بورون، کاربن، نائٹروجن، آکسیجن، فلورین اور ہیلیم ہیں۔ ان کے گرفت خول کا الیکٹرانی تشکل (ہیلیم کو چھوڑ کر) ns2np1–6 ہے۔ الیکٹرانی تشکل کی اندرونی کور مختلف ہو سکتی ہے۔ اندرونی کور میں فرق کی وجہ سے عناصر کی طبیعی خصوصیات (جیسے ایٹمی اور آینی نصف قطر، آیونائزیشن اینتھالپی وغیرہ) اور کیمیائی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔ اس لیے پی بلاک عناصر کی خصوصیات میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ پی بلاک عنصر کی زیادہ سے زیادہ تکسیدی حالت گرفت الیکٹرانوں کی کل تعداد کے برابر ہوتی ہے (یعنی s اور p الیکٹرانوں کا مجموعہ) ظاہر ہے کہ ممکنہ تکسیدی حالت دوری جدول میں داہنی طرف بڑھتی ہے۔ گروپ تکسیدی حالت کے علاوہ -p بلاک عناصر دوسری ایسی تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں جو عام طور پر (لیکن ضروری نہیں) گرفت الیکٹرانوں کی تعداد سے دو اکائی کم ہوتی ہیں۔ پی بلاک عناصر کی اہم تکسیدی حالتیں جدول 11.1 میں دی گئی ہیں۔ بورون، کاربن اور نائٹروجن فیملی میں تکسیدی حالت، گروپ میں ہلکے عناصر کے لیے سب سے زیادہ مستحکم ہوتی ہے۔ گروپ کی تکسیدی حالت سے دو اکائی کم تکسیدی حالت ہر ایک گروپ کے بھاری عناصر میں بتدریج زیادہ 

    جدول 11.1 پی بلاک عناصر کا عمومی الیکٹرانی تشکل اور تکسیدی حالتیں


    گروپ 13 14 15 16 17 18
    عمومی الیکٹرانی تشکل ns²np¹ ns²np² ns²np³ ns²np4 ns²np5 ns²np5
    (ہیلیم کے لیے1s²)
    گروپ کا پہلا ممبر B C N O F He
    گروپ تکسیدی حالت 3+ 4+ 5+ 6+ 7+ 8+
    دیگر تکسیدی حالتیں 1+ 2+,4- 3+,3- 4+,2+,.2- 5+,3+,1- 6+.4+.2+

    مستحکم ہوجاتی ہے۔ گروپ کی تکسیدی حالت دو اکائی کم تکسیدی حالت کو ’جامدجفت اثر‘ (Inert Pair Effect) کہتے ہیں۔ ان دونوں تکسیدی حالتوں یعنی گروپ تکسیدی حالت اور گروپ تکسیدی حالت سے دو اکائی کم، کے نسبتی استحکام گروپ کے ساتھ تبدیلی ہوتے رہتے ہیں اور مناسب موقع پر ان کا تذکرہ کیا جائے گا۔ 
    دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے کہ غیردھات اور دھتونت (Metalloids) دوری جدول کے صرف -p بلاک میں ہوتے ہیں۔ گروپ میں نیچے جانے پر عناصر کی غیردھاتی خاصیت گھٹتی ہے۔ درحقیقت -p بلاک کے ہر ایک گروپ کا سب سے بھاری عنصر فطرتاً سب سے زیادہ دھاتی ہوتا ہے غیردھاتی خاصیت سے دھاتی خاصیت کی طرف تبدیلی گروپ کے ان عناصر کی کیمیا میں تنوع کا باعث ہوتی ہے جو اس گروپ میں پائی جاتی ہیں۔ 
    عموماً دھاتوں کے مقابلہ میں غیردھاتوں کی آیونائزیشن اینتھالپی اور برقی منفیت (Electronagativity) زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے دھاتوں کے برخلاف جو کہ آسانی سے کیٹ آین بناتی ہیں غیردھاتیں آسانی سے این آین بناتی ہیں۔ برقی منفیت میں بہت زیادہ فرق ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ متعامل غیردھاتیں بہت زیادہ متعامل دھاتوں سے مل کر آینی مرکبات (Ionic Compounds)  بناتے ہیں۔ دوسری طرف برقی منفیت میں کم فرق ہونے کی وجہ سے غیردھاتیں شریک گرفت (Covalent) مرکبات بناتی ہیں غیردھاتی خاصیت سے دھاتی خاصیت کی تبدیلی کو ان سے بننے والے آکسائڈوں کی فطرت کی مدد سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ غیردھاتی آکسائڈ تیزابی یا تعدیلی (Neutral) ہوتے ہیں جبکہ دھاتی آکسائڈ فطرتاً اساسی (Basic) ہوتے ہیں۔ 
    -p بلاک کا پہلا رکن اپنے نظیری گروپ ممبروں سے دو باتوں میں مختلف ہوتا ہے۔ پہلا جسامت ہے اور وہ تمام خصوصیات جو جسامت پر منحصر ہوتی ہیں۔ اس طرح -p بلاک کا سب سے ہلکا عنصر وہ تمام فرق ظاہر کرتا ہے جو -sبلاک کے سب سے ہلکے عناصر لیتھیم اور بیریلیم ظاہر کرتے ہیں۔ دوسرا اہم فرق جو صرف -p بلاک عناصر پر لاگو ہوتا ہے وہ بھاری عناصر کے گرفت خول کے dاربٹل (d-Orbitals) کا اثر ہے (جو تیسرے دور کے بعد سے شروع ہوتا ہے) اور دوسرے دور کے عناصر میں ان کی غیر موجودگی ہے۔ دوسرے دور کے عناصر بورون سے شروع ہوتے ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ گرفت چار (2s اور تین 2p اربٹل کا استعمال کرتے ہوئے)تک محدود ہے۔ اس کے برخلاف p گروپ کے تیسرے دور کے عناصر جن کا الیکٹرانی تشکل 3s23pn ہے ان میں 3d خالی اربٹل ہیں جو 3p اور 4s انرجی لیول کے درمیان ہیں۔ ان d اربٹل کا استعمال کرکے تیسرے دور کے عناصر اپنی شریک گرفت (Covalence) کو چار سے زیادہ بڑھا سکتے ہیں۔ مثلاً جبکہ بورون صرف [BF4]  بناتا ہے۔ ایلومینیم AIF4]3] آین دیتا ہے۔ ان d اربٹل کی موجودگی بھاری عناصر کی کیمیا پر کئی طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔ جسامت اور d اربٹل کی دستیابی کا مجموعی اثر ان عناصر میں پائی (p) بند بنانے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ گروپ کا پہلا ممبر بھاری ممبروں کے مقابلہ خود اپنے ساتھ (مثلاً N = N،  C = C، C = C) اور دیگر دوسری قطار کے عناصر کے ساتھ (مثلاً N = O، C = N، C = O)  – ) بند بنانے کی صلاحیت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ اس طرح کی p بندشیں بھاری p بلاک عناصر میں مضبوط نہیں ہوتیں۔ بھاری عناصر بھی p بند بناتے ہیں اور یہ d اربٹل کا استعمال کرتے ہیں ( یا )۔کیونکہ d اربٹل کی توانائی p اربٹل کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے اس لیے سالمات کا استحکام دوسری قطار کے عناصر (جن میں بند ہوتے ہیں) کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ تاہم بھاری عناصر کا کوآرڈی نیشن نمبر (Coordination Number) یکساں تکسیدی حالت میں اوّل عنصر کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ مثلاً تکسیدی حالت 5+ میں N اور P دونوں آکسو این آین  : NO3 (تین کو آرڈینیشن ہمراہ -π بانڈ جس میں نائٹروجن کا ایک p اربٹل شامل ہے ) اور PO3 (چار کو آرڈی نیشن بشمول s، p اور d اربٹل کے استعمال سے p بانڈ) بناتے ہیں۔ اس اکائی میں ہم دوری جدول کے گروپ 13 اور 14 کے عناصر کا مطالعہ کریں گے۔ 

    11.1گروپ 13 عناصر: بورون فیملی

     (Group 13 Elements: The Boron Family) 

    اس گروپ کے عناصر متنوع خصوصیات ظاہر کرتے ہیں۔ بورون ایک امتیازی (Typical) غیردھات ہے۔ ایلومینیم ایک دھات ہے لیکن کئی کیمیائی خصوصیات ایلومینیم اور بورون میں یکساں ہیں۔ گیلیم، انڈیم، تھیلیم اور نیہونیم تقریباً خالص دھاتی خصوصیات کے حامل ہیں۔ 
    بورون ایک بہت کم پایا جانے والا عنصر ہے۔ جو خاص طور سے آرتھوبورک ایسڈ (H3BO3)، بوریکس (Na2B4O7.10H2O) اور کرنائٹ (Na2B4O7.4H2O)  میں پایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں پوگا گھاٹی (لداخ) اور سانبھر جھیل (راجستھان) میں بوریکس ملتا ہے۔ کمیت کے اعتبار سے بورون قشرارض میں %0.0001 سے بھی کم ہے۔ بورون کے دو ہم جا
     11B (81%)اور10B(19%
      ہوتے ہیں۔ ایلومینیم سب سے زیادہ پائی جانے والی دھات ہے۔ دراصل قشرارض میں کمیت کے اعتبار سے آکسیجن (%45.5) اور سلیکان (%27.7) کے بعد تیسرا سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ایلومینیم (%8.3) ہے۔ باکسائٹ (Al2O3. 2H2O) اور کرائیولائٹ (Na3AlF6) ایلومینیم کے اہم معدنیات ہیں۔ ہندوستان میں ابرق (Mica) کی شکل میں یہ مدھیہ پردیش، کرناٹک، اڑیسہ اور جموں میں پایا جاتا ہے۔ گیلیم، انڈیم اور تھیلیم قدرتی ماحول میں کم پائے جانے والے عناصر ہیں۔ نیہو نیم ایک تالیفی تابکار عنصرہے۔
    نیہونیم کی علامت Nh،ایٹمی عدد 113، ایٹمی کمیت 286 اورالیکٹرانی تشکل[Rn]514,6d10,7s2,7p1] ہے۔ ابھی تک اسے کافی کم مقدار میں بنایاگیا ہے اوراس سے مستحکم ہم جاکی نصف عمر صرف 20سیکنڈ ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر اس کی خصوصیات ابھی تک واضح نہیں ہوپائی ہیں۔یہاں اس گروپ کے باقی عناصر کی ایٹمی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات ذیل میں بیان کی گئی ہیں۔ 

    11.1.1 الیکٹرانی تشکل (Electronic Configuration) 

    ان عناصر کا باہری الیکٹرانی تشکلns2np1 ہے۔ الیکٹرانی تشکل کا قریب سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بورون اور ایلومینیم کا قلب (Core) نوبل گیس جیسا ہے۔ گیلیم اور انڈیم کا کور نوبل گیس کے ساتھ ساتھ 10d الیکٹران اور تھیلیم کا کور نوبل گیس کے ساتھ ساتھ 14f الیکٹران اور 10d الیکٹران کور پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس طرح ان عناصر کی الیکٹرانی ساخت پہلے دو گروپوں کے عناصر (اکائی 10) سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ الیکٹرانی ساخت کے فرق کی وجہ سے اس گروپ کے عناصر کی خصوصیات اور نتیجتاً ان کی کیمیا متاثر ہوتی ہے۔ 

    11.1.2 ایٹمی نصف قطر (Atomic Radii) 

    گروپ میں نیچے جانے پر ہر ایک اگلے ممبر میں ایک الیکٹرانی خول بڑھ جاتا ہے اس لیے ایٹمی نصف قطر کے بڑھنے کی امید ہے۔ تاہم ایک انحراف دیکھا جاتا ہے۔ Ga کا نصف قطر Al سے کم ہے۔ اس کو اندرونی قلب (Inner Core) میں الیکٹرانی تشکل کے فرق سے سمجھا جاسکتا ہے۔ گیلیم میں زائد 10d الیکٹرانوں کی موجودگی باہری الیکٹرانوں کے لیے ایک کمزور اسکریننگ اثر (Poor Screening Effect) دیتا ہے جو نیوکلائی چارج کے بڑھنے سے ہوتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں گیلیم کا ایٹمی نصف قطر (135pm) ایلومینیم (143pm) سے کم ہوتا ہے۔ 

    11.1.3 آیونائزیشن اینتھالپی (Ionization Enthalpy) 

    عام رجحان کے مطابق گروپ میں نیچے جانے پر آیونائزیشن اینتھالپی یکساں طور پر جیسا کہ امید کی جاتی ہے نہیں گھٹتی۔ B سے Al کی طرف اینتھالپی میں کمی اس کے جسامت کے بڑھنے سے وابسطہ ہے۔ Al اور Ga کے درمیان اور In اور Tl کے درمیان آیونائزیشن اینتھالی کی قدر میں عدم تسلسل کا مشاہدہ ان میں d اور f الیکٹرانوں کی وجہ سے ہے کیونکہ ان کے کم اسکریننگ اثر (Poor Screening Effect) ان کے بڑھتے نیوکلیائی چارج کی تلافی (Compensate) نہیں کرپاتے۔ 
    جیسا کہ توقع کی جاتی ہے کہ آیونائزیشن اینتھالپی کی ترتیب ΔiH1iH2iH3. ہے۔ ہر ایک عنصر کی پہلی تین آیونائزیشن اینتھالپی کا مجموعہ بہت زیادہ ہے۔ اس کا اثر اس وقت معلوم ہوگا جب آپ ان کی کیمیائی خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔ 

    11.1.4 برقی منفیت (Electronegativity) 

    گروپ میں نیچے جانے پر برقی منفیت پہلے B سے Al تک گھٹتی ہے اس کے بعد معمولی طور پر بڑھتی ہے (جدول 11.2)۔ اس کی وجہ عناصر کی ایٹمی جسامت میں فرق ہے۔ 

    11.1.5 طبیعی خصوصیات (Physical Properties) 

    بورون فطرتاً غیردھاتی ہے۔ یہ بہت سخت کالے رنگ کا ٹھوس ہے۔ یہ بہت سی بہروپی شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ بہت مضبوط کرسٹل لیٹِس کی وجہ سے بورون کا نقطہ گداخت بہت زیادہ ہے۔ بقیہ ممبر ملائم دھاتیں ہیں جن کا نقطہ گداخت کم اور برقی موصلیت زیادہ ہوتی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ گیلیم جس کا نقطہ گداخت (303K) غیر معمولی طور پر کم ہے موسم گرما میں مائع حالت میں ہوسکتا ہے۔ زیادہ نقطہ جوش (2676K) ہونے کی وجہ سے اس

    جدول 11.2 گروپ 13 عناصر کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات


    خاصیت عنصر
    ایٹمی عدد بورن
    B
    5
    ایلومنیم
    AI
    13
    گیلیم
    Ga
    31
    انڈیم
    in
    49
    تھیلیم
    T1
    81
    g mol∼¹ایٹمی کمیت 10.18 26.98 69.72 114.82 204.38
    الیکٹرانی تشکل 〈He〉2s²2p¹ 〈Ne〉3s²3p¹ 〈Ar〉3d104s²4p¹ 〈kr〉144d105s²5p¹ (Xe)4f¹45d106s²4p¹
    ایٹمی نصف قطر/pmª
    (85) 143 135 167 170
    آینی نصف قطر*/pmM3
    (27) 53.5 62.0 80.0 88.5
    آینی نضف قطرM+/pm
    - - 120 140 150
    A¹H¹آیونائزیشن
    A¹H²اینتھالپی
    A¹H³(K.J mol‾¹)
    801
    2427
    3659
    577
    1816
    2744
    579
    1979
    2962
    558
    1820
    2704
    589
    1971
    2877

    Cالیکٹرانی منفیت

    2.0 1.5 1.6 1.7 1.8

    gcm³اور298kکثافت
    2.35 2.70 5.90 7.31 11.85
    نقطہ گداخت/K  2453 933 303 430 576
    نقطہ جوش/K
    3923 2740 2676 2353 1730
    (M³+⁄ Eθ⁄V
    - 1.66- 0.55- 0.34- 1.26+
    (M*/M) Eθ/V
    - 0.55+ -0.79(Acid)
    -1.39(ALKali)
    0.18- 0.34-

    a دھاتی نصف قطر،  6b۔ کو آرڈی نیشن،  c پالنگ پیمانہ 


    کا استعمال بہت اونچے درجہ حرارت کو ناپنے میں کرتے ہیں۔ گروپ میں نیچے جانے پر بورون سے تھیلیم تک عناصر کی کثافت بڑھتی جاتی ہے۔ 

    11.1.6 کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties) 

    تکسیدی حالت اور کیمیائی تعاملیت کے رجحانات 

    (Oxidation state and trends in chemical reactivity)

    چھوٹی جسامت ہونے کی وجہ سے بورون کی پہلی تین آیونائیزیشن کا مجموعہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ اس کو +3 آین بنانے سے باز رکھتا ہے اور صرف شریک گرفت مرکبات تشکیل دینے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ لیکن B سے Al کی طرف چلنے پر Al کی پہلی تین آیونائیزیشن اینتھالپی کا مجموعہ بہت کم ہوجاتا ہے اس لیے یہ +Al3 آین بناسکتا ہے۔ دراصل ایلومینیم ایک بہت زیادہ برقی مثبت (Electropositive) دھات ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر کمزوراسکریننگ اثر (Poor Shielding Effect) جو کہ اندرونی d اور f مدارچوں کی وجہ سے ہے بڑھا ہوا موثر نیوکلیائی چارج ns الیکٹرانوں کو مضبوطی سے جوڑے رکھتا ہے(بین جفتی اثر کے لیے ذمہ دار) جو کہ ان کو بندش (Bonding) میں حصہ لینے سے روکتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں صرف -p اربٹل کے الیکٹران ہی بندش میں استعمال ہوتے ہیں۔ دراصل Ga، In، اور Tl میں 1+ اور 3+ دونوں تکسیدی حالتیں پائی جاتی ہیں۔ 1+ تکسیدی حالت کا نسبتی استحکام (Relative Stability) بھاری عناصر میں بتدریج بڑھتا ہےAl < Ga < In < Tl۔ تھیلیم میں 1+ تکسیدی حالت متغلب ہے جبکہ 3+ تکسیدی حالت فطرتاً بہت زیادہ تکسیدی (Oxidising) ہے۔ 1+ تکسیدی حالت والے مرکبات 3+ تکسیدی حالت والے مرکبات سے زیادہ آینی (Ionic) ہوتے ہیں۔ 
    سہ گرفت (Trivalent) حالت میں ان عناصر کے سالمہ کے مرکزی ایٹم کے گرد (مثلاً BF3 میں بورون) صرف چھ الیکٹران ہوتے ہیں۔ اس قسم کے ناکافی الیکٹران والے (Electron Deficient) سالمات میں الیکٹران کا ایک جوڑا حاصل کرکے مستحکم الیکٹرانی تشکل حاصل کرنے کا رجحان ہوتا ہے اور اس طرح لوئس تیزاب جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ گروپ میں نیچے چلنے پر جسامت بڑھنے کی وجہ سے لوئس تیزاب جیسا طرزعمل کم ہو جاتا ہے۔ BCl3 آسانی سے امونیا سے الیکٹران کا ایک لون جوڑا (Lone Pair) لے کر BCl3.NH3 بناتا ہے۔ 
    5166_Keemiyan II_Ch11_344a
    AlCl3 ڈائمر (Dimer) کی تشکیل کے ذریعے استحکام حاصل کرلیتا ہے
    5166_Keemiyan II_Ch11_344b
    سہ گرفت حالت میں اکثر مرکبات شریک گرفت ہوتے ہیں اور پانی میں آب پاشیدہ (Hydrolyse) ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ٹرائی کلو رائڈ پانی میں آب پاشیدہ ہو کر ٹیٹراہیڈرل [M(OH)4] انواع بناتے ہیں۔ M عنصر کی مخلوط حالت (Hybridization State) sp3 ہے۔ ایلومینیم کلورائڈ تیزابی آبی محلول میں آکٹا ہیڈرل +3[Al(H2O)6] آین بناتا ہے۔ اس پیچیدہ آین میں ایلومینیم کے 3d اربٹل شامل ہوتے ہیں اور Al کی مخلوط حالت sp3d2 ہوتی ہے۔
     

    مسئلہ 11.1

    Al3+/Al اور Tl3+/Tl کے معیاری الیکٹروڈ مضمر EV بالترتیب – 1.66V– اور 1.26V+ ہیں۔ محلول میں +M3 آین بننے کے بارے میں پیشین گوئی کیجیے اور دونوں دھاتوں کے برق مثبت کردار کا موازنہ کیجیے۔ 

    حل

    دو نصف سیل (Half Cell) تعاملات کے معیاری الیکٹروڈ مضمر کی قدروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایلومینیم کا (Al3+(aq آین بنانے کا زیادہ رجحان ہے جب کہ +Tl3 نہ صرف محلول میں غیر مستحکم ہے بلکہ یہ ایک مضبوط تکسیدی ایجنٹ بھی ہے۔ اس طرح محلول میں +Tl3 کے مقابلے میں +Tl زیادہ مستحکم ہے۔ ایلومینیم چونکہ آسانی سے +3 آین بنا سکتا ہے اس لیے یہ تھیلیم کے مقابلے میں زیادہ برقی مثبت ہے۔ 

    (i) ہوا سے تعامل

     (Reactivity Towards Air) 

    قلمی شکل میں بورون غیر متعامل ہوتا ہے۔ ایلومینیم کی سطح پر ایک باریک آکسائڈ کی پرت بن جاتی ہے جو دھات کو مزید تعامل سے باز رکھتی ہے۔ غیر قلمی بورون اور ایلومینیم دھات ہوا میں گرم کرنے پر بالترتیب B2O3 اور Al2O3 بناتے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت پر ڈائی نائٹروجن سے مل کر نائٹرائڈ بناتے ہیں۔ 
    5166_Keemiyan II_Ch11_345a
    (E = عنصر)
    گروپ میں نیچے جانے پر ان آکسائڈوں کی فطرت تبدیل ہوتی جاتی ہے۔ بورون ٹرائی آکسائڈ تیزابی ہوتا ہے اور آساسی (دھاتی) آکسائڈ کے ساتھ مل کر دھاتی بوریٹ بناتا ہے۔ ایلومینیم اور گیلیم کے آکسائڈ ایمفوٹیرک (Amphoteric) ہوتے ہیں اور انڈیم اور تھیلیم کی آکسائڈ کی خصوصیات اساسی ہوتی ہیں۔ 

    (ii) تیزابوں اور القلی سے تعامل

    (Reactivity Towards Acids and Alkalies) 

    معتدل درجہ حرارت پر بورون تیزابوں اور القلیوں سے تعامل نہیں کرتا لیکن ایلومینیم معدنی تیزابوں اور آبی القلیوں میں گھل کر ایمفوٹیرک خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 
    ایلومینیم ڈائی لیوٹ HCl میں گھل کر ڈائی ہائڈروجن خارج کرتا ہے۔
     2AI(s)+6HCI(aq)↔2A³+(aq)+6CI‾(aq)+3H²(G)
    مرتکز نائٹرک ایسڈ ایلومینیم کی سطح پر آکسائڈ کی ایک حفاظتی پرت بنا کر اس کو غیر عامل بنا دیتا ہے۔ 
    ایلومینیم آبی القلی سے تعامل کر کے ڈائی ہائڈروجن خارج کرتا ہے۔ 

    2AI(s)+2NaOH(aq)+6H²O(1)

    2Na*〈AI(OH)4〉∼(aq) +3H²(g)
    سوڈیم ٹیٹرابائڈروکسو
    ایلیومینٹ (iii) آین

    (iii) ہیلوجنوں سے تعامل

    (Reactivity Towards Halogens) 

    یہ عناصر ہیلوجنوں سے تعامل کرکے ٹرائی ہیلائڈ (TlCl3 کو چھوڑ کر) بناتے ہیں۔ 
    2E (s)+3x²(g)↔2EX³(s)〈X= F.CI.Br.1)

    مسئلہ 11.2

    نابیدہ ایلومینیم کلورائڈ کی بوتل کے چاروں طرف سفید دھواں ظاہر ہوتا ہے۔ وجہ بتائیے۔ 

    حل

    نابیدہ ایلومینیم کلورائڈ فضا کی نمی سے جزوی طور پر آب پاشیدہ ہو کر HCl گیس خارج کرتا ہے مرطوب HCl سفید رنگ کا نظر آتا ہے۔ 

    11.2 بورون کی بے ربط خصوصیات اور اہم رجحانات (Important Trends and Anomalous Properties of Boron) 

    گروپ 13 عناصر کے کیمیائی طرزعمل میں کچھ اہم رجحانات پائے جاتے ہیں۔ سبھی عناصر کے ٹرائی ہیلائڈ فطرتاً شریک گرفت ہوتے ہیں اور پانی میں آب پاشیدہ ہو جاتے ہیں۔ بورون چھوڑ کر ٹیٹراہڈرل [M(OH)4] اور آکٹاہڈرل +M(H2O)6]3] جیسی انواع آبی وسیلہ میں پائے جاتے ہیں۔
    مونومر (Monomer) ٹرائی ہیلائڈ ناکافی الیکٹران ہونے کی وجہ سے قوی لوئس تیزاب ہوتے ہیں۔ بورون ٹرائی فلورائڈ آسانی سے لوئس اساس مثلاً NH3 سے تعامل کرکے بورون کے اطراف آکٹیٹ (Octet) مکمل کر لیتے ہیں۔ 
     F³+:NH³↔F³B↔NH³
    d اربٹل کی عدم موجودگی کی وجہ سے B کی زیادہ سے زیادہ شریک گرفت 4 ہے۔ چونکہ Al اور دوسرے عناصر میں d اربٹل موجود ہوتے ہیں اس لیے ان میں شریک گرفت کی 4 سے زیادہ امید ہے۔ اکثر دوسرے دھاتی ہیلائڈ (مثلاً AlCl3) ہیلوجن پُل (Halogen bridge) کے ذریعے ڈائی میرک (مثلاً Al2Cl6) بن جاتے ہیں۔ ان ہیلوجن پل والے سالموں میں دھاتی انواع، ہیلوجن سے الیکٹران لے کر اپنا آکٹیٹ مکمل کر لیتے ہیں۔ 

    مسئلہ 11.3 

    بورون BF3–6 آین نہیں بنا سکتا۔ سمجھائیے۔ 

    حل

    d اربٹل کی عدم موجودگی کی وجہ سے بورون اپنے آکٹیٹ کی توسیع نہیں کرسکتا اس لیے بورون میں شریک گرفت 4 سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ 

    11.3  بورون کے چند اہم مرکبات
     (Some Important Compounds of Boron) 

    بورون کے چند مفید مرکبات بوریکس آرتھوبورک ایسڈ اور ڈائی بورین ہیں۔ ہم ان کی کیمیا کا مطالعہ مختصر طور پر کریں گے۔ 

    11.3.1 بوریکس (Borax) 

    یہ بورون کا سب سے اہم مرکب ہے۔ یہ سفید قلمی ٹھوس ہے جس کا فارمولہ Na2B4O7.10H2O ہے۔ دراصل اس میں ٹیٹرا نیوکلیائی اکائی B4O5(OH)4]2]  ہوتی  ہے  اس  لیے  صحیح  فارمولہ Na2[B4O5(OH)4].8H2O  ہے۔ بوریکس پانی میں گھل کر ایک قلوی محلول دیتا ہے۔ 
    Na2B4O7 + H2O → 2NaOH + 4H3BO3
    آرتھوبورک ایسڈ 
    گرم کرنے پر بوریکس پہلے پانی کا سالمہ نکال دیتا ہے اور پھول جاتا ہے۔ مزید گرم کرنے پر یہ ایک شفاف مائع میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کہ شیشہ جیسی شے کی شکل میں منجمد ہوتا ہے جیسے بوریکس بیڈ کہتے ہیں۔ 

    2
    بورک این ہائڈرائڈ سوڈیم میٹابوریٹ 

    اکثر عبوری دھاتوں کے میٹابوریٹ مخصوص رنگ کے ہوتے ہیں اس لیے تجربہ گاہ میں ان کی شناخت کے لیے بوریکس بیڈٹیسٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب پلاٹینم تار کے حلقہ میں بنسن برنر کے شعلہ میں بوریکس کو CoO کے ساتھ گرم کرتے ہیں تو نیلے رنگ کی Co(BO2)2 بیڈ (Bead) بنتی ہے۔ 

    11.3.2 آرتھوبورک ایسڈ (Orthoboric Acid)

    آرتھوبورک ایسڈ H3BO3 ایک سفید قلمی ٹھوس ہے جس کا لمس صابن جیسا ہوتا ہے۔ یہ پانی میں بہت کم گھلتا ہے لیکن گرم پانی میں بہت زیادہ حل پذیر ہے۔ اسے بوریکس کے آبی محلول کو تیزابی کر کے تیار کرتے ہیں۔ 

    Na2B4O7 + 2HCl + 5H2O → 2NaCl + 4B(OH)3

    اسے بورون کے اکثر مرکبات (ہیلائڈ، ہائڈرائڈ وغیرہ) کی آب باشیدگی (پانی یا ڈائی لیوٹ تیزاب سے تعامل) سے بھی بناتے ہیں۔ اس کی ساخت پرت دار (Layer Structure) ہوتی ہے جس میں سطحی BO3 اکائیاں ہائڈروجن بند سے جڑی ہوتی ہیں جیسا کہ شکل 11.1 میں دکھایا گیا ہے۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_346a

    شکل 11.1 بورک ایسڈ کی ساخت : نقطہ دار خطوط ہائڈروجن بند کو ظاہر کرتے ہیں۔

    بورک ایسڈ ایک کمزور مونوبیسک تیزاب ہے۔ یہ پروٹونک تیزاب نہیں ہے بلکہ ہائڈوکسل آین سے الیکٹران لے کرلوئس تیزاب کی طرح کام کرتا ہے۔ 
    +B(OH)3 + 2HOH → [B(OH)4] + H3O

    آرتھوبورک ایسڈ کو 370K کے اوپر گرم کرنے پر میٹابورک ایسڈ HBO2 بنتا ہے۔ جو کہ مزید گرم کرنے پر بورک ایسڈ دیتا ہے۔ 
    5166_Keemiyan II_Ch11_346b

    مسئلہ 11.4

    بورک ایسڈ کو کمزور ایسڈ کیوں تصور کرتے ہیں؟

    حل

    کیونکہ یہ خود +H آین خارج کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ پانی کے سالمہ سے OH آین لے کر اپنا آکٹیٹ (Octet) مکمل کرتا ہے اور پھر +H آین نکالتا ہے۔ 

    11.3.3 ڈائی بورین، 5166_Keemiyan II_Ch11_347a (Diborane, B2H6)  

    سب سے سادہ بورون ہائڈرائڈ کوڈائی بورین کہتے ہیں۔ اسے بورون ٹرائی فلورائڈ اور ڈائی ایتھائل ایتھر میں LiAlH4 کے تعامل سے بناتے ہیں۔ 

    4BF3 + 3 LiAlH4 → 2B2H6 + 3LiF + 3AlF3

    تجربہ گاہ میں ڈائی بورین بنانے کا آسان طریقہ سوڈیم بوروہائڈرائڈ کی آیوڈین سے تکسید ہے۔ 

    2NaBH4l2 → B2H6 + Nal + H2  

    صنعتی پیمانہ پر ڈائی بورین کو BF3 اور سوڈیم ہائڈرائڈ کے تعامل سے بناتے ہیں۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_347b

    ڈائی بورین بغیر رنگ کی بہت زیادہ سمی (Toxic) گیس ہے اس کا نقطہ جوش 180K ہے۔ ہوا میں رکھنے پر یہ خودبخود آگ پکڑ لیتی ہے۔ آکسیجن میں جلنے پر یہ بہت زیادہ توانائی خارج کرتی ہے۔ 

    B²H6+3O²↔B²O³+3H²O:
    ∧çHø=-1976KJmol

    اکثر اونچے بورین بھی ہوا میں خودبخود جلتے ہیں۔ بورین پانی میں آب پاشیدہ ہو کر بورک ایسڈ دیتے ہیں۔ 

    B²H6(g)+6H²O(I)↔2B(OH)³(aq)+6H²(g)

    ڈائی بورین لوئس اساسوں (L) کے ساتھ شگافی (Cleavage) تعاملات کرکے بورین ایڈکٹ Adducts) BF3.L)  دیتے ہیں۔ 

    B²H6+2NMe³↔2BH³.NMe³
    B²H6+2CO↔2BH³.CO

    امونیا کا ڈائی بورین کے ساتھ تعامل پہلے B2H6.2NH3 دیتا ہے۔ جس کا ضابطہ [BH2(NH3)2]+[BH4] ہوتا ہے، مزید گرم کرنے پر بورازین B3N3H6 دیتا ہے جس کو اس کی حلقہ نما ساخت جس میں متبادل BH اور NH گروپ ہوتے ہیں، کی وجہ سے ’’غیر نامیاتی بینزین‘‘ کہتے ہیں۔ 
    3B²H6+NH³↔3(BH²(BH²(NH³)²〉BH4〉
    3


    ڈائی بورین کی ساخت شکل 11.2(a) میں دکھائی گئی ہے۔ کنارے کے چار ہائڈروجن ایٹم اور دو بورین کے ایٹم ایک ہی مستوی میں ہوتے ہیں۔ اس مستوی کے اوپر اور نیچے ہائڈروجن پل والے دو ایٹم ہوتے ہیں۔ کنارے کے چار B-H بند منظم دو مرکز دو الیکٹران بند ہوتے ہیں جبکہ دو پل (B-H-B) بند مختلف ہوتے ہیں۔ اور تین مرکز دو الیکٹران بند کی طرح سمجھے جاسکتے ہیں جیسا کہ شکل 11.2(b) میں دکھایا گیا ہے۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_347g

    شکل  11.2 (a) ڈائی بورین B2H6 کی ساخت 

    بورین بہت سے ہائڈرو بوریٹ بھی بناتا ہے جس میں سب سے اہم ٹیٹراہیڈرل [BH4] آین ہے۔ کئی دھاتوں کے ٹیٹراہائڈرائڈوبوریٹ معلوم ہیں۔ لیتھیم اور سوڈیم ٹٹرا ہائڈرو بوریٹ جن کو بورو ہائڈرائڈ بھی کہتے ہیں ڈائی ایتھائل ایتھر میں دھاتی ہائڈرائڈ کےB2H6 کے ساتھ تعامل سے تیار کرتے ہیں۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_347h

    شکل 11.2 (b) ڈائی بورین میں بندش۔ ہر ایک B ایٹم بندش کے لیے sp3 ہائبرڈ استعمال کرتا ہے۔ ہر ایک B ایٹم پر چار sp3 ہائبرڈ میں سے ایک بغیر الیکٹران کا ہے جسے ٹوٹی لائنوں سے ظاہر کیا گیا ہے۔ کنارے کے B-H بند نارمل 2 مرکز 2- الیکٹروں بند ہیں لیکن دو پل بند 3 مرکز 2- الیکٹروں بند 3 مرکز 2- الیکٹران پل بند کو کیلا بند (Banana Bonds) بھی کہتے ہیں۔ 

    LiBH4 اور NaBHدونوں نامیاتی تالیف میں تحویلی ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ دوسرے دھاتی بوروہائڈرائڈ بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ 

    11.4  بورون۔ ایلومینیم اور ان کے مرکبات کے استعمال
    (Uses of Boron and Aluminium and Their Compounds) 

    بورون جو کہ انتہائی سخت انعطاف پذیر اور زیادہ نقطہ گداخت کا ٹھوس ہے اور کم کثافت اور معمولی برقی موصلیت کا حامل ہے۔ یہ بہت کار آمد ہے۔ بورون کے ریشوں کا استعمال بلیٹ پروف جیکٹ اور ہوائی جہاز کے لیے ہلکے سامان بنانے میں ہوتا ہے۔ بورون 10B)10) ہم جا میں  نیوٹرانوں کو جذب کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت ہوتی ہے اس لیے دھاتی بورائڈوں کو نیوکلیائی صنعت میں حفاظتی ڈھال اور کنٹرول راڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بوریکس اور بورک ایسڈ کا خاص صنعتی استعمال حرارت مزاحم شیشوں (مثلاً پائی رکس)، گلاس اون (Glass Wool) اور فائبرگلاس (Fibre Glass) بنانے میں ہے۔ بوریکس کا استعمال دھاتوں کو جوڑنے میں بحیثیت فلکس، حرارت، خراش، داغ مزاحم گلینر شدہ استر بنانے میں اور ادویاتی صابن بنانے میں کرتے ہیں۔ آرتھو بورک آبی محلول عموماً ہلکے اینٹی سیپٹک (Antiseptic) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ 
    ایلومینیم چمکدار چاندی جیسی سفید دھات ہے۔ اس کی کھنچاؤ کی طاقت (Tensile Strength) برقی اور حرارتی موصلیت بہت زیادہ ہے۔ وزن کے لحاظ سے ایلومینیم کی برقی موصلیت تانبہ سے دوگنی ہے۔ ایلومینیم کا استعمال صنعتوں اور روزمرہ کی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ یہ Cu، Mn، Mg، Si اور Zn کے ساتھ بھرتیں (Alloys) بناتا ہے۔ ایلومینیم اور اس کی بھرتوں کو پائپ، ٹیوب، راڈ تار پلیٹ یا ورق کی شکل عطا کی جاسکتی ہے۔ اس لیے اس کا استعمال پیکنگ برتن بنانے تعمیری کاموں ہوائی جہاز اور نقل وحمل کی صنعتوں میں ہوتا ہے۔ ایلومینیم اور اس کے مرکبات کا استعمال گھریلو کاموں میں اس کی سمی اثر کی وجہ سے بہت کم ہو گیا ہے۔ 

    11.5 گروپ 14 عناصر : کاربن فیملی
    (Group 14 Elements : The Carbon Family)

    کاربن (C)، سلیکان (Si)، جرمینیم (Ge)، ٹن (Sn) ، سیسہ (لیڈ)(Pb) اورفلیووریم گروپ 14 کے ممبر ہیں۔ قشر ارض میں کمیت کے لحاظ سے کاربن سب سے زیادہ پایا جانے والا سترہواں عنصر ہے۔ دنیا میں یہ آزاد اور متحدہ دونوں حالتوں میں پایا جاتا ہے۔ عنصری حالت میں یہ کوئلہ (Coal)، گریفائٹ (Graphite) اور ہیرے (Diamond) کی شکل میں حاصل ہوتا ہے۔ متحدہ حالت میں یہ دھات کے کاربونیٹ، ہائڈرو کاربن اور ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ (%0.03) کی شکل میں ملتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کاربن ہمہ گیر فطرت کا حامل عنصر ہے۔ یہ ڈائی ہائڈروجن، ڈائی آکسیجن، کلورین اور سلفر جیسے دیگرعناصر سے مل کر حیاتیائی بافتوں سے لے کر دوائیں اورپلاسٹک جیسے مختلف مادّوں کی تشکیل کرتا ہے۔نامیاتی کیمیا کاربن کے مرکبات کی کیمیا ہے۔ یہ حیاتیاتی اشیا کا اہم جزو ہے۔ قدرتی کاربن کے دو مستحکم ہم جا 12C اور 13C ہیں۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا ہم جا 14C بھی ہوتا ہے۔ یہ ایک تابکار ہم جا ہے جس کی نصف عمر 5770 سال ہے اور ریڈیوکاربن ڈیٹنگ (Radio-carbon Dating) میں استعمال ہوتا ہے۔ قشر ارض میں دوسرا سب سے زیادہ (کمیت کے اعتبار سے %27.7) پایا جانے والا عنصر سلیکان ہے۔ یہ سلیکا اور سلیکیٹ کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ یہ ترابیات (Ceramics)، شیشہ اور سیمینٹ کا بہت اہم جز ہے۔ جرمینیم بہت قلیل مقدار میں ملتا ہے۔ ٹن خاص کر کیسیٹرائت SnO2 اور سیسہ گیلینا PbS کی شکل میں ملتا ہے۔ فلیووریم ایک تالیفی تابکار عنصرہے۔

    فلیووریم کی علامت Fl، ایٹمی عدد 114، ایٹمی کمیت 289 اور الیکٹرانی تشکل Rn]514,6d10,7s2,7p2] ہے ۔ ابھی تک اسے کافی کم مقدار میں بنایا گیا ہے۔ اس کی نصف عمرکافی کم ہے۔ اس کی خصوصیات ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہیں۔بہت خالص جرمینیم اور سلیکان کا استعمال ٹرانسٹر، اور نیم موصل آلات (Semiconductor Device) بنانے میں کرتے ہیں۔ گروپ 14 کے باقی عناصر کی اہم ایٹمی اور طبیعی خصوصیات اور ان کے الیکٹرانی تشکل جدول 11.2 میں دیے گئے ہیں۔ چند ایٹمی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کاتذکرہ ذیل میں کیا جارہا ہے۔ 

    11.5.1 الیکٹرانی تشکل (Electronic Configuration) 

    ان عناصر کے گرفت خول کا الیکٹرانی تشکل ns2np2 ہے۔ 

    11.5.2 شریک گرفت نصف قطر (Covalent Radius) 

    C سے Si تک شریک گرفت نصف قطر کافی تیزی سے بڑھتا ہے اس کے بعد Si سے Pb تک نصف قطر میں بہت تھوڑی بڑھوتری ہوتی ہے اس کی

    جدول 11.3 گروپ 14 عناصر کی ایٹمی اور طبیعی خصوصیات


    خصوصیت عنصر
    کاربن
    C
    سلیکشن
    Si
    جرمینیم
    Ce
    ٹن
    sn
    لیڈ
    pb
    ایٹمی عدد 6 14 32 50 82
    ایٹمی کمیت 12.01 28.09 72.60 118.71 207.2
    الیکٹرانی تشکل 〈He〉2s2p² 〈Ne〉3s²3p² 〈Ar〉3d10 4s²4p² 〈kr〉4d105s²5p² 〈Xe〉4f¹4 5d6s²6p²
    شریک گرفت نصف قطر
    ⁄pmà
    77 118 122 140 146
    آینی نصف قطر - 40 53 69 78
    آینی نصف قطر - - 73 118 119
    A,H¹ آیونائیزیشن
    ∧,H²
    اینتھالپی
    ∧،H³  〈K.Jmol∼¹〉
    ∧,H4
    1086
    2352
    4620
    6220
    786
    1577
    3228
    4354
    761
    1537
    3300
    4409
    708
    1411
    2942
    3929
    715
    1450
    3081
    4082
    برقی منفیتC 2.5 1.8 1.8 1.8 1.9
    g cm ∼³⁄dکثافت 3.51e 2.34f 5.32 7.26 11.34
    نقطہ گداخت⁄k 4373 1693 1218 505 600
    نقطہ جوش⁄k - 3550 3123 2896 2024
    برقی مزاحمت
    ohm cm⁄(293k)
    10 14-10 16 50 50 10‾5 2x10 5

    a تکسیدی حالت برائے 6b: MIV- کوآرڈینیشن،  c پالنگ پیمانہ،   293Kd e ہیرے کے لیے۔ گریفائٹ کے لیے، کثافت 2.22 ہے،   f b شکل (کمرہ کے درجہ حرارت پر مستحکم)

    وجہ بھاری ممبروں میں مکمل d اور f مدارچوں کی موجودگی ہے۔

    11.5.3 آیونائزیشن اینتھالپی (Ionisation Enthalpy) 

    گروپ 14 کے ممبروں کی آیونائزیشن اینتھالپی گروپ 13 کے نظیری ممبروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں پر بھی اندرون قلب الیکٹرانوں کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ عموماً گروپ میں نیچے جانے پر آیونائزیشن اینتھالپی گھٹتی ہے۔ Si سے Ge سے Sn کی ΔiH میں تھوڑی کمی اور Sn سے Pb میں ΔiH میں معمولی سا اضافہ درمیانی d اور f اربٹل کا کمزوراسکریننگ اثر اور ایٹم کی جسامت میں اضافہ کا نتیجہ ہے۔ 

    11.5.4 برقی منفیت (Electronegativity) 

    چھوٹی جسامت (Small Size) ہونے کی وجہ سے اس گروپ کے عناصر کی برقی منفیت گروپ 13 کے عناصر سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ Si سے Pb تک کے عناصر کی برقی منفیت تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ 

    11.5.5 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)

    گروپ 14 کے تمام ممبران ٹھوس ہوتے ہیں۔ کاربن اور سلیکان غیردھات ہیں جرمینیم دھتونت (Metalloid) ہے جب کہ ٹن اور سیسہ(Pb) کم نقطہ گداخت کی نرم دھاتیں ہیں۔ گروپ 14 عناصر کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش گروپ 13 کے نظیری عناصر سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ 

    11.5.6 کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties) 

    تکسیدی حالتیں اور کیمیائی تعاملیت کے رجحانات
    (Oxidation States and Trends in Chemical Reactivity)

    گروپ 14 عناصر کے سب سے باہری خول میں چار الیکٹران ہوتے ہیں یہ عناصر عام تکسیدی حالتیں 4+ اور 2+ ظاہر کرتے ہیں۔ چونکہ ابتدائی چار آیونائزیشن اینتھالپی کا مجموعہ بہت زیادہ ہے اس لیے 4+ تکسیدی حالت کے مرکبات عموماً فطرتاً شریک گرفت ہوتے ہیں۔ بھاری ممبروں میں 2+ تکسیدی حالت ظاہر کرنے کا رحجان Ge < Sn < Pb ترتیب میں بڑھتا ہے۔ ایسا گرفت خول (Valence Shell) کے ns2 الیکٹرانوں کے بندش میں حصہ نہ لینے کی صلاحیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر دونوں تکسیدی حالتوں کے نسبتی استحکام تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ کاربن اور سلیکان زیادہ تر 4+ تکسیدی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ Ge +4 حالت میں مستحکم مرکبات بناتا ہے اور 2+ حالت میں صرف چند مرکبات بناتا ہے۔ Sn دونوں تکسیدی حالت میں مرکبات بناتا ہے (2+ حالت میں Sn ایک تحویلی ایجنٹ (Reducing agent) ہے۔ سیسہ (Pb) کے مرکبات 2+ حالت میں مستحکم اور 4+ حالت میں قوی تکسیدی ایجنٹ ہیں۔ چہار گرفت (Tetravalent) حالت میں سالمہ کے مرکزی ایٹم (مثلاً CCl4 میں کاربن) کے چاروں طرف الیکٹرانوں کی تعداد آٹھ ہوتی ہے۔ الیکٹران پریسائز مالیکیول ہونے کی وجہ سے یہ نہ تو الیکٹران حصول کار (Acceptor) ہوتے ہیں اور نہ ہی الیکٹران معطی (Donor) اگرچہ کاربن اپنی شریک گرفت (Covalence) کو 4 سے زیادہ نہیں بڑھا سکتا گروپ کے دوسرے عناصر ایسا کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ ان میں d اربٹل کی موجودگی ہے۔ اس لیے ان کے ہیلائڈ آب پاشیدہ ہو جاتے ہیں اور الیکٹران معطی انواع سے الیکٹران کا جوڑا حاصل کر کے پیچیدہ مرکبات بنانے کا رجحان رکھتے ہیں۔ مثلاً
    〈Sn(OH)6〉²‾,〈GeCI6 〉²∼
     ،  وغیرہ، جہاں مرکزی ایٹم کی مخلوطیت (sp3d2 (Hybridisation  ہے۔ 

    (i) آکسیجن سے تعاملیت (Reactivity Towards Oxygen) 

    تمام ممبر آکسیجن میں گرم کرنے پر آکسائڈ بناتے ہیں۔ خاص طور سے دو طرح کے آکسائڈ یعنی مونو آکسائڈ اور ڈائی آکسائڈ بنتے ہیں جن کے ضابطے بالترتیب MO اور MO2 ہیں۔ SiO صرف اونچے درجہ حرارت پر قائم رہتا ہے۔ عناصر کی اونچی تکسیدی حالت کے آکسائڈ عموماً کم تکسیدی حالت کے آکسائڈ کے مقابلے زیادہ تیزابی ہوتے ہیں۔ ڈائی آکسائڈ جیسے CO2، SiO2 اور GeO2 تیزابی ہوتے ہیں جب کہ SnO2 اور PbO2 فطرتاً ایمفوٹیرک (Amphoteric) ہوتے ہیں مونوآکسائڈ میں CO تعدیلی ہے GeO مکمل تیزابی اور SnO اور PbO ایمفوٹیرک ہوتے ہیں۔ 

    مسئلہ 11.5

    بتائیے کہ گروپ 14 کے ممبر جو (i) سب سے زیادہ تیزابی ڈائی آکسائڈ بناتا ہے (ii) عموماً 2+ تکسیدی حالت میں پائے جاتے ہیں (iii) نیم موصل (Semiconductor) کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ 

    حل

    (i) کاربن (ii) سیسہ (iii) سلیکان اور جرمینیم 

    (ii) پانی سے تعامل (Reactivity Towards Water) 

    کاربن سلیکان اور جرمینیم پر پانی کا اثر نہیں ہوتا ہے۔ ٹن بھاپ کو تحلیل کرکے ڈائی آکسائڈ اور ڈائی ہائڈروجن گیس بناتا ہے۔

    5166_Keemiyan II_Ch11_350c

    سیسہ پر پانی کا اثر نہیں ہوتا جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اوپر حفاظتی آکسائڈ کی پرت بن جاتی ہے۔ 

    (iii) ہیلوجن سے تعامل (Reactivity Towards Halogen)

    یہ عناصر MX2 اور MX4 فارمولے والے ہیلائڈ (جہاں I, Br, Cl, F = X) بناسکتے ہیں۔ کاربن کو چھوڑ کر باقی تمام ممبر مناسب حالت میں براہ راست ہیلوجن سے تعامل کرکے ہیلائڈ بناتے ہیں۔ اکثر MX4 فطرتاً شریک گرفت ہوتے ہیں۔ ان ہیلائڈوں میں مرکزی دھاتی ایٹم کی sp3 مخلوطیت ہوتی ہے اور سالمہ کی شکل ٹیٹراہیڈرل (Tetrahedral) ہوتی ہے۔ SnF4 اور PbF4 مستثنیٰ ہیں جو فطرتاً آینی ہیں۔ PbI4 کا وجود نہیں ہے کیونکہ تعامل کے شروع میں بنے Pb-I بندش اتنی توانائی خارج نہیں کرپاتا کہ 6s2 الیکٹران غیر جفتی (Unpair) ہوسکیں اور ان میں سے ایک اونچے اربٹل میں جاکر سیسہ کے ایٹم کے چاروں طرف چار غیر جفتی الیکٹران دے سکیں۔ بھاری ممبر Ge سے Pb تک MX2 ضابطہ والے ہیلائڈ بنا سکتے ہیں ڈائی ہیلائڈ کا استحکام گروپ میں نیچے جانے پر بڑھتا ہے۔ حرارتی اور کیمیائی استحکام کے اعتبار سے GeX2 کے مقابلہ میں GeX4 زیادہ مستحکم ہے جبکہ PbX4 کے مقابلہ PbX2 زیادہ مستحکم ہے۔ CCl4 کے علاوہ دوسرے ٹیٹرا کلورائڈ پانی میں آسانی سے آب پاشیدہ ہو جاتے ہیں کیونکہ مرکزی ایٹم  d اربٹل میں پانی کے سالمہ کے آکسیجن ایٹم کے تنہا جوڑے (Lone Pair) کو Accomodate کر لیتا ہے۔ 
    SiCl4 کی مثال کے ذریعہ آب پاشیدگی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ SiClکی آب پاشیدگی پہلے پانی کے سالمہ کے الیکٹرانوں کے تنہا جوڑے کو Si کے d اربٹل میں حاصل کرکے اور آخر میں SiCl4 کی Si(OH)4 میں آب پاشیدگی ہوتی ہے جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

    5166_Keemiyan II_Ch11_351a

    مسئلہ 11.6 

    SiF6]2] معلوم ہے جبکہ SiCl6]2] نہیں۔ ممکنہ وجوہات بتلائیے۔

    حل

    اہم وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔ 
    (i) سیلکان ایٹم کی محدود جسامت کی وجہ سے چھ بڑے کلورین ایٹم اس کے گرد Accomodate نہیں ہوسکتے۔ 
    (ii) کلورین ایٹم کے تنہا جوڑے اور سلیکان ایٹم کے درمیان باہمی عمل بہت مضبوط نہیں ہے۔ 


    11.6 کاربن کے اہم رجحانات اور بے ربط طرز عمل
    (Important Trends and Anomalous Behaviour of Carbon) 

    دوسرے گروپوں کے پہلے ممبر کی طرح کاربن بھی بقیہ دوسرے ممبروں سے مختلف ہے۔ اس کی وجہ اس کی چھوٹی جسامت، زیادہ برقی منفیت، زیادہ آیونائزیشن اینتھالپی اور d اربٹل کی غیر موجودگی ہے۔
    کاربن میں بندش کے لیے صرف sاور p اربٹل ہوتے ہیں اس لیے یہ اپنے گرد صرف چار الیکٹران جوڑے رکھ سکتا ہے۔ اس وجہ سے زیادہ سے زیادہ شریک گرفت چار تک محدود ہے۔ جبکہ دوسرے ممبران d اربٹل کی موجودگی کی وجہ سے اپنی شریک گرفت کو بڑھا سکتے ہیں۔ 
    کاربن میں ایک یکتا صلاحیت یہ بھی ہے کہ یہ خود اپنے ساتھ اور کم جسامت نیز زیادہ برقی منفیت والے ایٹموں کے ساتھ –   کثیر بند بناتا ہے۔ کثیر بندشوں کی کچھ مثالیں ہیں
    C = C، C = C، C = O، C = S  اور C = N۔ بھاری عناصر  بند نہیں بناتے کیونکہ ان کے ایٹمی اربٹل بہت بڑے ہوتے ہیں اور مضبوط اوورلیپنگ (Overlapping) نہیں ہوتی۔ 
    کاربن ایٹم کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے سے شریک گرفت بند کے ذریعہ جڑ کر زنجیر (Chain) اور حلقہ (Ring) بناتا ہے۔ اس خاصیت کو کیٹی نیشن (Catenation) کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ C–C بند بہت مضبوط ہوتا ہے۔
    گروپ میں نیچے جانے پر جسامت بڑھتی ہے اور برقی منفیت گھٹتی ہے اس لیے کیٹی نیشن میں بھی کمی ظاہر ہوتی ہے۔ اسے بانڈ اینتھالپی کی قدروں سے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ کیٹی نیشن ترتیب اس طرح ہے ۔
     Sn ~~ Ge < Si << C ،سیسہ زنجیری ترتیب نہیں ظاہر کرتا۔ 

    بانڈ (Bond) بانڈ اینتھالپی (kJmol–1) (Bond Enthalpy)
    C-C
    Si- Si
    Ge-Ge
    Sn- Sn
    348
    297
    260
    240


    کیٹی نیشن کی خاصیت اور بانڈ بننے کی وجہ سے کاربن بہروپی شکلیں ظاہر کرتا ہے۔ 

    11.7 کاربن کے بہروپ
    (Allotropes of Carbon) 

    کاربن بہت سی بہروپی شکلیں قلمی اور غیر قلمی دونوں ظاہر کرتا ہے۔ ہیرا اور گیریفائٹ کاربن کی دو مشہور قلمی شکلیں ہیں۔ 1985 میں کاربن کی تیسری شکل جس کو فلیرین (Fullerenes) کہتے ہیں E. Smalley ،H.W. Kroto اور R.F. Curl نے دریافت کی تھی اس دریافت پر ان کو 1996 میں نوبل انعام دیا گیا۔ 

    11.7.1 ہیرا (Diamond) 

    یہ قلمی جالی (Crystalline Lattice) رکھتا ہے۔ ہیرے میں ہر ایک کاربن ایٹم میں sp3 مخلوطیت (Hybridisation) ہوتی ہے اور دیگر چار کاربن ایٹموں سے مخلوط شدہ اربٹل کے ذریعہ ٹیٹرا ہیڈرل (Tetrahedral)

    5166_Keemiyan II_Ch11_351b

    شکل 11.3 ہیرے کی ساخت 

     اندازسے جڑا رہتا ہے۔ C–C بانڈ کی لمبائی 154 pm ہے یہ ساخت اسپیس (Space) میں پھیلی رہتی ہے اور کاربن ایٹم کا ایک سخت سہ ابعادی جال تیار ہوتا ہے۔ اس ساخت (شکل 11.3) میں سمتی شریک گرفت بانڈ تمام جالی میں موجود رہتے ہیں۔ 
    توسیعی شریک گرفت بندش کو توڑنا بہت مشکل ہے اس لیے ہیرا دنیا میں سب سے سخت چیز ہے۔ اس کو سخت اوزاروں کے تیز کرنے کے لیے محترین (Abrasive) کے طور پر، ڈائی (Dyes) بنانے اور بجلی کے بلبوں میں ٹنگسٹن فلامنٹ بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ 

    مسئلہ 11.7 

    ہیرا شریک گرفت ہے پھر بھی اس کا نقطہ گداخت بہت زیادہ ہے کیوں؟

    حل:

    ہیرے میں سہ ابعادی نیٹ ورک (Three-dimensional Network) ہوتا ہے جوکہ مضبوط C—C بند پر مشتمل ہے جنھیں توڑنا بہت مشکل ہے۔ نتیجہ کے طور پر اس کا نقطہ گداخت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ 


    11.7.2 گریفائٹ (Graphite) 

    گریفائٹ کی ساخت پرتی (Layered) ہوتی ہے (شکل 11.4)۔ یہ پرتیں وانڈر وال قوتوں کے ذریعہ جڑی رہتی ہیں۔ دو پرتوں کے درمیان کا فاصلہ 340pm ہوتا ہے۔ ہر ایک پرت کاربن ایٹموں کے مسطح مسدسی حلقہ (Planer Hexagonal Ring) پر مشتمل ہوتی ہے۔ پرت کے اندر C–C بانڈ کا فاصلہ 141.5 pm ہے۔مسدسی حلقہ میں ہر ایک کاربن ایٹم sp2 مخلوطیت (Hybridisation) کے تحت اپنے قریبی کاربن ایٹموں سے تین سگما بند (Bonds) بناتا ہے۔ چوتھا الیکٹران پائی بانڈ (π Bond) بناتا ہے۔ الیکٹران پوری سطح پر Delocalised ہوتے ہیں۔ اس میں الیکٹران سیلان پذیر (Mobile) ہوتے ہیں اس لیے گریفائٹ برق کا ایصال کرتا ہے۔ پرتوں کے درمیان گریفائٹ آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے اس لیے یہ بہت نرم اور چکنا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کا استعمال اونچے درجہ حرارت پر چلنے والی مشینوں میں خشک مدھن (Dry Lubricant) کے طور پر کرتے ہیں جہاں تیل کو مدھن کے طور پر استعمال نہیں کیاجاسکتا۔

    5166_Keemiyan II_Ch11_353a

    شکل 11.4 گریفائٹ کی ساخت

    11.7.3  فلرین (Fullerenes) 

    غیر عامل گیس (Inert Gas) جیسے ہیلیم یا آرگن کی موجودگی میں گریفائٹ کو برقی قوس (Electric Arc) میں گرم کرکے فلرین (Fullerenes) بناتے ہیں۔ کاجلی مادہ (Sooty Material) تبخیرشدہ  Cn کے چھوٹے سالموں کی تکثیف (Condensation) سے بنتا ہے جس کا اہم جزو C60 ہے جس میں تھوڑی سی مقدار C70 اور بہت قلیل مقدار میں فلرین (Fullerens) ہوتے ہیں جن میں جفت عدد کاربن ایٹم 350 یا اس سے زیادہ تک ہوسکتے ہیں۔ فلیرینس کاربن کی صرف خالص شکل ہے کیونکہ ان کی ساخت ہموار ہوتی ہے اور ان میں جھولتے ہوئے (Dangling) بانڈ نہیں ہوتے ہیں۔ فلرینس قفس نما (Cage Like) سالمے ہوتے ہیں۔ C60 سالمہ کی شکل ساکر بال (Soccer Ball) کی طرح ہوتی ہے اور اسے بک منسٹر فلیرینس (Buckminster Fullerens) کہتے ہیں (شکل 11.5) ۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_353b

    شکل 11.5 بک منسٹر فلرینس C60  کی ساخت : نوٹ کیجئے کہ سالمہ کی شکل ساکر گیند (فٹبال) کی طرح ہے۔ 

    اس میں چھ ممبر والے بیس اور پانچ ممبر والے بارہ حلقے ہوتے ہیں۔ چھ ممبروں کا حلقہ چھ یا پانچ ممبروں کے حلقہ سے جڑا ہوتا ہے لیکن پانچ ممبروں کا حلقہ صرف چھ ممبروں کے حلقے سے ہی جڑ سکتا ہے۔ تمام کاربن ایٹم یکساں ہوتے ہیں اور ان میں sp2 مخلوطیت ہوتی ہے۔ ہر ایک کاربن ایٹم دیگر تین کاربن ایٹموں سے سگما بونڈ بناتے ہیں۔ ہر ایک کاربن ایٹم پر بقیہ الیکٹران مالیکیولر اربٹل میں Delocalised ہوتے ہیں۔ جو کہ سالمہ کو ایرومیٹک خاصیت (Aromatic Character) عطا کرتے ہیں۔ اس گنبد نما سالمہ میں 60 راس (Vertices) ہوتے ہیں اور ہر ایک پر ایک کاربن ایٹم ہوتا ہے اور یہ اکہرے اور دوہرے دونوں قسم کے بانڈ رکھتے ہیں جس میں C–C کا فاصلہ باالترتیب 143.5pm اور 138.3pm ہے۔ کروی (Spherial) فلرینس کو اختصار میں بکی بال (Bucky Balls) بھی کہتے ہیں۔ 
    یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ حرحرکیاتی اعتبار سے گریفائٹ کاربن کا سب سے زیادہ مستحکم بہروپ ہے۔ اس لیے گریفائٹ کا Δf Hθ صفر لیتے ہیں ہیرے کا Δf Hθ اور فلیرین C60 کا Δf Hθ بالترتیب 1.90 اور 38.1kJ mol–1 ہیں عنصر کاربن کی دوسری شکلیں جیسے کاربن بلیک (Carbon Black) کوک (Coke) اور چارکول (Charcoal) سب گریفائٹ یا فلرینس کی غیر خالص شکلیں ہیں۔ کاربن بلیک ہائڈرو کاربن کو محدود ہوا کی موجودگی میں جلا کر بناتے ہیں۔ چارکول اور کوک بالترتیب لکڑی یا کوئلہ کو ہوا کی غیر موجودگی میں زیادہ درجہ حرارت پر گرم کرکے بناتے ہیں۔ 

    11.7.4 کاربن کے استعمال (Uses of Carbon) 

    پلاسٹک مادہ پر جمے گریفائٹ کے ریشے بہت مضبوط اور ہلکے مرکب ہوتے ہیں۔ ان مرکبات کا استعمال ٹینس کے ریکٹ، مچھلی پکڑنے کی چھڑیں، ہوائی جہاز اور کشتیاں بنانے میں کرتے ہیں۔ اچھا موصل ہونے کی وجہ سے گریفائٹ کا استعمال بیٹریوں میں الیکٹروڈ بنانے اور صنعتی برق پاشیدگی میں کرتے ہیں۔ گریفائٹ سے بنی کٹھالیاں (Crucibles) ہلکے تیزاب اور القلی کے لیے غیر عامل ہوتی ہیں۔ بہت زیادہ مسامدار (Porous) ہونے کی وجہ سے ایکٹیویٹڈ چارکول کا استعمال زہریلی گیسوں کو اس کی سطح پر جذب (Adsorpton) کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال پانی کے فلٹر میں نامیاتی اشیا کو ہٹانے اور ایرکنڈیشنر میں بوکو کنٹرول کرنے میں کیا جاتا ہے۔ کاربن بلیک کا استعمال کالی روشنائی میں کالا رنگ لانے اور گاڑیوں کے ٹائروں میں فلر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کوک کو ایندھن کے طور پر اور فلز کاری (Metallurgy) میں بحیثیت تحویلی ایجنٹ (Reducing Agent) استعمال کرتے ہیں۔ ہیرا ایک قیمتی پتھر ہے اور زیورات میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کو کیرٹ (Carat) میں ناپتے ہیں (1کیرٹ 200 =  ملی گرام)۔

    11.8 کاربن اور سلیکان کے کچھ اہم مرکبات
    (Some Important Compounds of Carbon and Silicon) 

    کاربن کے آکسائڈ 

    کاربن کے دو اہم آکسائڈ، کاربن مونو آکسائڈ CO اور کاربن ڈائی آکسائڈ CO2 ہیں۔ 

    11.8.1 کاربن مونو آکسائڈ (Carbon Monoxide) 

    آکسیجن یا ہوا کی محدود مقدار میں کاربن کی براہ راست تکسید سے کاربن مونو آکسائڈ پیدا ہوتی ہے۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_354a

    چھوٹے پیمانہ پر خالص CO کی تالیف 373K پر مرتکز H2SO4 کے ساتھ فورمک ایسڈ کی نابیدگی (Dehydration) کے ذریعے کی جاتی ہے۔

    5166_Keemiyan II_Ch11_354b

    بڑے پیمانہ پر اس کو بنانے کے لیے پانی کی بھاپ کو گرم کوک پر گزارتے ہیں۔ اس طرح بننے والے CO اور H2 کے آمیزہ کو واٹر گیس (Water Gas) یا تالیفی گیس (Synthesis Gas) کہتے ہیں۔

    5166_Keemiyan II_Ch11_354c
    واٹر گیس 
    اگر بھاپ کی جگہ ہوا کا استعمال کریں تو CO اور N2 کا آمیزہ بنتا ہے جسے پروڈیوسر گیس (Producer Gas) کہتے ہیں۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_354d
    پروڈیوسر گیس 
    واٹر گیس اور پروڈیوسر گیس بہت اہم صنعتی ایندھن ہیں۔ واٹر گیس اور پروڈیوسر گیس کی کاربن مونو آکسائڈ کے مزید احتراق (Combustion) سے کاربن ڈائی آکسائڈ بنتی ہے اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک بے رنگ اور بغیر بو والی گیس ہے جو کہ پانی میں تقریباً حل پذیر ہے۔ یہ ایک قوی تحویلی ایجنٹ ہے جو تقریباً تمام دھاتی آکسائڈوں کی تحویل کرتا ہے۔ (قلوی، قلوی مٹی دھاتوں، ایلومینیم اور چند عبوری دھاتوں کو چھوڑ کر)CO کی اس خاصیت کا استعمال دھاتوں کو ان کی آکسائڈ کچ دھاتوں سے نکالنے میں کرتے ہیں۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_354e
    CO سالمہ میں کاربن اور آکسیجن کے درمیان ایک سگمااور دو π بانڈ 5166_Keemiyan II_Ch11_354f ہوتے ہیں۔ کاربن پر تنہا جوڑا (Lone Pair) ہونے کی وجہ سے CO سالمہ معطی کے طور پر کام کرتا ہے اور کچھ دھاتوں کے ساتھ گرم کرنے پر دھاتی کاربونائل (Metal Carbonyls) بناتا ہے۔ CO بہت زیادہ زہریلی گیس ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہیمو گلوبن کے ساتھ ایک پیچیدہ مرکب بناتا ہے جو کہ آکسیجن ہیمو گلوبن مرکب سے تقریباً 300 گنا زیادہ مستحکم ہے۔ یہ لال دموی خلیوں (Red Blood Corpuscles) کے ہیموگلوبن کو جسم کے اندر آکسیجن کو لے جانے سے روکتا ہے اور آخر میں موت واقع ہو جاتی ہے۔ 

    11.8.2 کاربن ڈائی آکسائڈ (Carbon Dioxide) 

    اس کو کاربن یا کاربن ایندھنوں کو آکسیجن کی وافر مقدار میں مکمل احتراق سے بناتے ہیں۔ 
    5166_Keemiyan II_Ch11_355a
    تجربہ گاہ میں اس کو بآسانی کیلشیم کاربونیٹ پر ڈائی لیوٹ HCl کے تعامل سے بناتے ہیں۔ 
    CaCO³(s)+2HCI(aq)↔CaCI²(aq)+CO²(g)+H²O(1)
    صنعتی پیمانہ پر اس کو چونا پتھر (Limestone) کو گرم کرکے تیار کرتے ہیں۔ 
    یہ ایک بے رنگ اور بغیر بو والی گیس ہے۔ پانی میں تھوڑی حل پذیری کی وجہ سے یہ حیاتیاتی کیمیائی اور ارضی کیمیائی اہمیت کی حامل ہے۔ پانی کے ساتھ یہ کاربونک تیزاب H2CO3 بناتی ہے جو ایک کمزور ڈائی بیسک ایسڈ (Dibasic Acid) ہے اور دو مراحل میں افتراق کرتا ہے۔ 
    H²CO³(aq)+H²O(1)⇔HCO∼³(aq)+H³O+(aq)
    HCO-³(aq)+H²O(1)⇔CO²3-(aq)+H³O+(aq)
    H2CO3/HCO3 حاجب نظام (Buffer System) خون کے pH کو 7.26 سے 7.42 کے درمیان رکھتا ہے۔ تیزابی ہونے کی وجہ سے القلیوں (Alkalies) سے مل کر دھاتی کاربونیٹ بناتا ہے۔ 
    کاربن ڈائی آکسائڈ جو کہ کرہ باد میں حجم کے اعتبار سے تقریباً %0.03 ہوتی ہے ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے ذریعہ ہٹائی جاتی ہے۔ اس عمل کے ذریعہ ہرے پودے فضا کی CO2 کو کاربوہائڈر یٹ جیسے گلوکوز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر کیمیائی تبدیلی مندرجہ ذیل ہے۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_355d

    اس طریقے سے پودے اپنے لیے اور جانوروں نیز انسانوں کے لیے غذا تیار کرتے ہیں۔ CO کے برخلاف یہ زہریلی نہیں ہے۔ لیکن فوسل ایندھنوں (Fossil Fuels) کے احتراق کی زیادتی اور سیمنٹ بنانے میں چونا پتھر (Limestone) کی تحلیل کی وجہ سے حالیہ برسوں میں فضا میں CO2 کی  مقدار بہت بڑھ گئی ہے۔ نتیجہ کے طور پر سبز گھر اثر (Green House Effect) میں اضافہ ہو جاتا ہے جو فضا کا درجہ حرارت بڑھاتا ہے جس کے بہت سے خطر ناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ 
    مائع شدہ COکو تیزی کے ساتھ پھیلانے سے وہ ٹھوس شکل میں آجاتی ہے جسے خشک برف (Dry Ice) کہتے ہیں۔ خشک برف کا استعمال آئس کریم اور کھانا ٹھنڈا کرنے میں بارد (Refrigerant) کے طور پر کرتے ہیں۔ گیسی CO2 کا استعمال سوفٹ ڈرنک کو کاربونیٹ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بھاری ہونے اور احتراق (Combustion) میں معاون نہ (Non-Supporter) ہونے کی وجہ سے اس سے آگ بجھانے کے لیے (Fire Extinguisher) استعمال کرتے ہیں۔ CO2 کا استعمال یوریا بنانے میں کرتے ہیں۔ 
    CO2 سالمہ میں کاربن ایٹم sp مخلوطیت (Hybridisation) سے گزرتا ہے کاربن ایٹم کے دو sp مخلوط شدہ اربٹل آکسیجن ایٹموں کے دو p اربٹل سے اوورلیپ (Overlap) کرکے دو سگما بانڈ بناتے ہیں جبکہ کاربن ایٹم کے دوسرے دو الیکٹران آکسیجن ایٹم میں pπ–pπ بندش میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس نتیجہ میں اس کی خطی شکل ہوتی ہے (دونوں C–O بانڈ برابر لمبائی (115pm) کے ہوتے ہیں اور ڈائی پول مومنٹ (Dipole Moment) نہیں ہوتا۔ اس کی گمک (Resonance) ساخت ذیل میں دکھائی گئی ہے۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_355e
    کاربن ڈائی آکسائڈ کی گمک (Resonance) ساخت

    11.8.3 سلیکان ڈائی آکسائڈ (Silicon Dioxide, SiO2)

    قشرارض (Earth Crust) کا %95 حصہ سلیکا اور سلیکیٹ سے مل کر بنا ہے۔ سلیکان ڈائی آکسائڈ جس کو عموماً سلیکا کہتے ہیں کئی قلمی شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ کوارٹز (Quartz)، کرسٹوبلائٹ (Cristobalite) اور ٹرائی ڈائمائٹ (Tridymite) سلیکا کی کچھ قلمی شکلیں ہیں جو مناسب درجہ حرارت پر باہم ایک دوسرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سلیکان ڈائی آکسائڈ  ایک شریک گرفت (Covalent) سہ ابعادی (Three Dimensional) نیٹ ورک پر مشتمل ٹھوس ہے جس میں ہر ایک سلیکان ایٹم شریک گرفت بندشوں سے چار آکسیجن ایٹم سے ٹیٹراہیڈرل (Tetrahedral) انداز میں جڑا رہتا ہے۔ پھر ہر ایک آکسیجن ایٹم شریک گرفت بند کے ذریعے سے دوسرے سلیکان ایٹم سے جڑا رہتا ہے جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ ہر ایک کونہ دوسرے ٹیٹراہیڈرن (Tetrahedron) کے ساتھ حصہ داری کرتا ہے مکمل قلم کو ایک ضخیم سالمہ تصور کیا جاسکتا ہے جس میں آٹھ ممبروں والے حلقے بنتے ہیں جن میں متبادل سلیکان اور آکسیجن ایٹم ہوتے ہیں (شکل11.6)۔

    5166_Keemiyan II_Ch11_356a
    شکل 11.6 SiO2 کی سہ ابعادی ساخت

    بہت زیادہ Si–O بانڈ اینتھالپی کی وجہ سے سلیکا اپنی عام حالت میں تقریباً غیر عامل ہوتا ہے۔ یہ ہیلوجنوں، ڈائی ہائڈروجن اور زیادہ تر تیزابوں اور دھاتوں کے تعامل (Attack) کو اونچے درجہ حرارت پر بھی روکتا ہے۔ تاہم یہ HF اور NaOH سے تعامل کرتا ہے۔ 

    SiO²+2NaOH↔Na²SiO³+H²O
    SiO²+4HF↔SiF4+2H²O

    کوارٹز (Quartz) ایک پیزوالیکٹرک مادہ(Piezoeletric Material) کے طور پر بہت استعمال ہوتا ہے۔ اس نے بہت صحیح گھڑیاں، جدید ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات اور موبائل ریڈیو ترسیل کو بہت ترقی دی ہے۔ سلیکا جیل (Gel) کا استعمال خشکندہ عامل (Drying Agent)، کرومیٹوگرافک مادہ (Chromatographic Material) کا معاون اور وسیط (Catalyst) کے طور پر کرتے ہیں۔ سلیکا کی ایک غیر قلمی (Amorphous) قسم کیسل گھر (Kieselghur) کا استعمال تقطیر پلانٹ میں کرتے ہیں۔ 

    11.8.4 سلیکانس (Silicons) 

    نامیاتی سلیکان پولیمر کا ایک گروپ ہے جس کی دوری اکائی (R2SiO–) (Repeating Unit–) ہوتی ہے۔ سلیکانس بنانے کے لیے آغازی مادہ الکائل یا ارائل متبادل سلیکان کلورائڈ R2SiCl2 ہے جہاں R الکائل یا ارائل گروپ ہے۔ جب متھائل کلورائڈ کاپر وسیط کی موجودگی میں 573K درجہ حرارت پر سلیکان سے تعامل کرتا ہے تو مختلف قسم کے متھائل متبادل کلورو سلین (جن کے ضابطے Me3SiCl، Me2SiCl2، MeSiCl3) اور تھوڑی مقدار میں Me4Si بنتے ہیں۔ ڈائی کلوروسلین CH3)2SiCl2) کی آب پاشیدگی سے سیدھی زنجیر والے پولیمر بنتے ہیں۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_357a

    پولیمر کی زنجیری لمبائی کو کنٹرول کرنے کے لیے CH3)3SiCl)  ملاتے ہیں جو پولیمر کے سروں کو بلاک (Block) کر دیتا ہے۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_357b

    سلیکانس غیر قطبی الکائل گروپوں سے گھرے ہونے کی وجہ سے پانی کو دفع (Repelling) کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر زیادہ حرارتی استحکام، زیادہ ڈائی الیکٹرک (Dielectric) طاقت اور تکسیدی اور کیمیائی مرکبات کے تئیں مزاحمت (Resistance) رکھتے ہیں۔ ان کے بہت زیادہ استعمال ہیں۔ انھیں جوڑنے (Sealant)، چکنانے (Greases)، بجلی کے حاجز (Insulator) اور ریشوں کو واٹر پروف (Water Proofing) بنانے میں کرتے ہیں۔ حیاتی موافف (Biocompatible) ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال سرجیکل (Surgical) اور کاسمیٹک (Cosmetic) پلانٹ میں کرتے ہیں۔ 

    مسئلہ 11.8

    سلیکانس کیا ہوتے ہیں؟

    حل:

    سادے سلیکانس 5166_Keemiyan II_Ch11_357c زنجیر پر مشتمل ہوتے ہیں 
    جس میں الکائل یا فنائل گروپ ہر ایک سلیکان کی بقیہ بونڈنگ پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ یہ فطرتاً آب گریز (Hydrophobic) ہوتے ہیں۔ 

    11.8.5 سلیکیٹس (Silicates) 

    قدرتی ماحول میں بہت زیادہ سلیکیٹ معدنیات پائے جاتے ہیں۔ ان کی کچھ مثالیں فلڈ اسپار (Feldspar)، زیولائٹ (Zeolites)، مائکا (Micas) اور اسبسطوس (Asbestos) ہیں۔ سلیکیٹ کی بنیادی ساختی اکائی 5166_Keemiyan II_Ch11_357d ہے (شکل 11.7) جس میں سلیکان ایٹم چار آکسیجن ایٹم سے ٹیٹراہیڈرن طرز پر بندھا رہتا ہے۔ سلیکیٹ میں یا تو مجرد اکائی موجود ہوتی ہے یا اس طرح کی بہت سی اکائیاں باہم کناروں پر حصہ داری کرکے جڑی رہتی ہیں جس میں 3,2,1 یا 4 آکسیجن ایٹم فی اکائی سلیکیٹ ہوتے ہیں۔ جب سلیکیٹ اکائیاں باہم جڑتی ہیں تو وہ زنجیر، حلقہ چادر یا سہ ابعادی (Three Dimensional) ساخت بناتی ہیں۔ سلیکٹ ساخت پر منفی چارج دھاتی آینوں کے مثبت چارج سے تعدیل (Neutralize) ہوجاتا ہے۔ اگر چاروں کونوں پر ٹیٹراہیڈرل اکائیاں حصہ داری کرتی ہیں تو سہ ابعادی جال (Network) بنتا ہے۔ 
    انسانوں کے بنائے دو اہم سلیکیٹ شیشہ (Glass) اور سیمنٹ (Cement) ہیں۔ 

    5166_Keemiyan II_Ch11_357e
    شکل 11.7 (a) مفنی چارج 5166_Keemiyan II_Ch11_357d کی ٹیٹراہیڈرل ساخت (b) اکائی 5166_Keemiyan II_Ch11_357d اکائیوں کا اظہار 

    11.8.6 زیولائٹ (Zeolites) 

    اگر سلیکان ڈائی آکسائڈ کے سہ ابعادی نیٹ ورک میں ایلومنیم ایٹم کچھ سلیکان ایٹم کی جگہ آجائیں تو یہ مجموعی ساخت ایلومینو سلیکٹ کہلاتی ہے اور اس پر منفی چارج ہوتا ہے۔ کیٹ آین جیسے +K+، Na یا +Ca2 اس منفی چارج کو متوازن (Balance)کرتے ہیں۔ اس کی مثالیں فلڈ اسپار اور زیولائٹ ہیں۔ زیولائٹ کا استعمال پٹرو کیمکل صنعتوں میں ہائڈروکاربنوں کی کریکنگ (Cracking) اور آئسومیرائزیشن (Isomerisation) میں وسیط (Catalyst) کے طور پر کرتے ہیں جیسے ZSM - 5 (ایک قسم کاربولائٹ) کا استعمال الکوحل کو براہ راست گیسولین (Gasoline) میں تبدیل کرنے میں کرتے ہیں۔ آبیدہ زیولائٹ کا استعمال سخت پانی کو نرم بنانے میں آین ایکسچینجر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ 

    خلاصہ 

    دوری جدول کا -p بلاک اس لحاظ سے یکتا ہے کہ اس میں ہر طرح کے عناصر دھات، غیردھات اور دھتونت موجود ہیں۔ دوری جدول کے -pبلاک عناصر کے چھ گروپ ہیں جو کہ 13 سے 18 تک ہیں۔ ان کے گرفت خول کی الیکٹرانی ساخت He کو چھوڑ کر ns2np1–6 ہے۔ اندرونی قلب (Inner Core) کی الیکٹرانی ساخت میں فرق ان کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے جس کے نتیجہ میں ان عناصر کی خصوصیات میں بہت زیادہ فرق نظر آتا ہے۔ گروپ تکسیدی حالت کے علاوہ یہ عناصر دوسری تکسیدی حالتیں ظاہر کرتے ہیں جو کہ گرفتی الیکٹرانوں کی کل تعداد سے دو کم ہوتی ہے۔ گروپ کے ہلکے عناصر کی گروپ تکسیدی حالت سب سے زیادہ مستحکم (Stable) ہوتی ہے جب کہ بھاری عناصر کی کم تکسیدی حالت بتدریج زیادہ مستحکم ہوتی ہیں۔ جسامت اور d اربٹل کی موجودگی مل کر ان عناصر کی p بونڈ بنانے کی اہلیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہلکے عناصر pπ – pπ بانڈ بناتے ہیں جبکہ بھاری عناصر یا بانڈ بناتے ہیں۔ دوسرے دور کے عنصر میں d اربٹل کی غیر موجودگی ان کی شریک گرفت کو زیادہ سے زیادہ 4 تک محدود رکھتی ہے۔ جبکہ بھاری عناصر میں اس حد سے تجاوز ہوسکتا ہے۔ 
    بورون ایک مخصوص غیردھات ہے اور دوسرے ممبر دھات ہیں۔ چار اربٹل 2py، 2px، 2s اور 2pz کو استعمال کرتے ہوئے شریک گرفت بانڈ بنانے کے لیے 3 گرفت الیکٹرانوں (2s22p1) کی موجودگی بورون مرکبات میں الیکٹران کی کمی (Electron Deficiency) پیدا کرتی ہے۔ یہ کمی ان کو اچھا الیکٹران حصول کار (Acceptor) بناتی ہے اور اس طرح بورون مرکبات لوئس تیزاب کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ ہائڈروجن کے ساتھ بورون شریک گرفت سالماتی مرکبات بورین (Boranes) بناتی ہے جس میں سب سے سادہ ڈائی بورین B2H6 کہے۔ ڈائی بورین میں دو بورون ایٹم کے درمیان دو Bridging ہائڈروجن ایٹم ہوتے ہیں۔ یہ Bridge Bonds تین مرکز دو الیکٹروں بونڈ ہوتے ہیں۔ آکسیجن کے ساتھ بورون کے اہم مرکبات بورک ایسڈ اور بوریکس ہیں۔ بورک ایسڈ B(OH)3 کمزور یک اساسی تیزاب ہے ایک سفید قلمی ٹھوس ہے جس کا ضابطہ Na2[B4O5(OH)].8H2O ہے۔ بوریکس بیڈ ٹیسٹ (Borax Bead Test) عبوری دھاتوں کو مخصوص رنگ عطا کرتا ہے۔ 
    ایلومینیم کی تکسیدی حالت 3+ ہے۔ گروپ میں نیچے جانے پر بھاری عناصر کی تکسیدی حالت +1 بتدریج مستحکم ہوتی جاتی ہے اس نتیجہ کو جامدجفت اثر (Inert Pair Effect) کہتے ہیں۔ 
    کاربن ایک مخصوص غیردھات ہے جو اپنے چار گرفت الیکٹرانوں (2s22p2) کو استعمال کرکے شریک گرفت بانڈ بناتا ہے۔ اس میں کیٹینیشن (Catenation) کی خصوصیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے زنجیریں اور حلقے نہ صرف C–C اکہرے بانڈ سے بلکہ متعدد (Multiple) بانڈ (C = C یا C = C) سے بھی بنتے ہیں۔ کیٹنیشن کا یہ رجحان اس طرح گھٹتا ہے Pb<Sn»Ge<Si<<C۔ کاربن بہروپیت (Allotropy) کی ایک بہت عمدہ مثال ہے۔ کاربن کے تین اہم بہروپ (Allotropes) ہیرا، گریفائف اور فلیرین (Fullerens) ہیں۔ کاربن فیملی کے ممبران عام طور سے 4+ اور 2+ تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں 4+ تکسیدی حالت والے مرکبات عموماً شریک گرفت ہوتے ہیں۔ بھاری عناصر میں تکسیدی حالت 2+ کا رجحان بڑھتا جاتا ہے۔ سیسہ 5166_Keemiyan II_Ch11_35a  تکسیدی حالت میں مستحکم (Stable) ہے اور4+ تکسیدی حالت میں ایک قوی تکسیدی ایجنٹ (Strong Oxidising Agent) ہے۔ کاربن بھی منفی تکسیدی حالتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ کاربن دو اہم آکسائڈ CO اورCO2  بناتا ہے۔ کاربن مونو آ کسائڈ تعدیلی (Neutral) اور CO2 کی فطرت تیزابی ہے۔ کاربن مونو آکسائڈ کے C پر الیکٹرانوں کا جوڑا ہونے کی وجہ سے (Lone Pair of Electrons) یہ دھاتی کاربونائل (Metal Carbonyls) بناتی ہے۔ یہ بہت زیادہ زہریلی ہوتی ہے کیونکہ اس کا ہیموگلوبن کامپلیکس آکسی ہیموگلوبن کامپلیکس کے مقابلے زیادہ مستحکم (Stable) ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ بذات خود زہریلی نہیں ہے تاہم رکازی ایندھنوں (Fossil Fuels) کے  احتراق (Combustion) اور چونا پتھر (Linestone)  کی تحلیل (Decomposition) کے نتیجے میں فضا میں CO2 کی زیادتی سے ’سبزگھر اثر ‘ (Green House Effect) کے بڑھ جانے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے فضا کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور خطرناک عارضے پیدا ہو سکتے ہیں۔ سلیکا، سلیکیٹ اور سلیکان اہم قسم کے مرکبات ہیں جن کا استعمال صنعت اور ٹیکنالوجی میں بہت ہے۔ 

    مشقیں

    11.1 (B(i  سے C (ii) Tl سے Pb میں تکسیدی حالتوں کے تغیر کے پیٹرن پر بحث کیجیے۔ 

    11.2 TlCl3 کے مقابلہ میں BCl3 کے زیادہ استحکام کو آپ کس طرح سمجھائیں گے؟

    11.3 بورون ٹرائی فلورائڈ لوئس تیزاب کی طرح کیوں برتاؤ کرتا ہے؟

    11.4 مرکبات BCl3 اور CCl4 پر غور کیجیے۔ یہ پانی کے ساتھ کس طرح کا طرز عمل ظاہر کریں گے؟ ثابت کیجیے۔

    11.5 کیا بورک ایسڈ پروٹک ایسڈ ہے؟ سمجھائیے۔

    11.6 سمجھائیے کیا ہوتا جب بورک ایسڈکو گرم کرتے ہیں۔

    11.7 BF3 اور BH-4 کی شکلیں (Shapes) بیان کیجیے۔ ان اشیا میں بورون کی مخلوطیت تفویض (Hybridisation) کیجیے۔ 

    11.8 ایلومینیم کی ایمفوٹیرک فطرت (Amphoteric Nature) کو تعاملات لکھ کر ثابت کیجیے۔ 

    11.9 الیکٹران کی کمی والے (Electron Deficient) مرکبات کیا ہیں؟ کیا BCl3 اور SiCl4 الیکٹران کی کمی والے مرکبات ہیں؟ سمجھائیے۔ 

    11.10 CO2-3 اور CO-3 کی گمک (Resonance) ساختیں لکھئیے۔

    11.11 کاربن کی مخلوطی حالت (b) CO2-3 (a) ہیرا (c) گریفائٹ میں کیا ہے۔ 

    11.12 ساخت کی بنیاد پر ہیرا اور گیریفائٹ کی خصوصیات میں فرق سمجھائیے۔ 

    11.13 ذیل میں دی گئی باتوں کو سمجھائیے اور کیمیائی تعاملات دیجیے۔ 
      • لیڈ (II) کلورائڈ، Cl2 سے تعامل کر کے PbCl4 دیتا ہے۔ 
      • لیڈ (IV) کلورائڈ حرارت میں بہت زیادہ غیر مستحکم (Unstable) ہے۔ 
      • لیڈ کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ آیوڈائڈ Pbl4 نہیں بناتا۔
    11.14 وجہ بتائیے کہ 130pm) BF3) اور 143pm) BF-4) میں B-F بندشی لمبائی مختلف کیو ںہے۔

    11.15 اگر B-Cl بانڈ میں ڈائی پول مومنٹ ہے تو BCl3 کا ڈائی پول مومنٹ صفر کیوں ہے۔ 

    11.16 ایلومینیم ٹرائی فلورائڈ نابیدہ HF میں نہیں گھلتا لیکن NaF ڈالنے سے گھل جاتا ہے۔ اگر محلول میں BF3 گیس گزاریں تو ایلومینیم ٹرائی فلورائڈ کا رسوب بن جاتا ہے۔ وجہ بتائیے۔ 

    11.17 وجہ بتائیے کہ CO زہریلی کیوں ہوتی ہے۔ 

    11.18 CO2 کی زیادتی کرہ ارض پر حرارت کی ذمہ دار کیوں ہے۔ 

    11.19 ڈائی بورین اور بورک ایسڈ کی ساختوں کو واضح کیجیے۔ 

    11.20 کیا ہوتا ہے جب 
    (a) بوریکس کو تیز گرم کرتے ہیں۔
    (b) بورک ایسڈ کو پانی میں ڈالتے ہیں۔ 
    (c) ایلومینیم ڈائی لیوٹ NaOH سے تعامل کرتا ہے 
    5166_Keemiyan II_Ch11_360a کا تعامل امونیا سے کرتے ہیں۔ 

    11.21 مندرجہ ذیل تعاملات کو سمجھائیے۔ 
    (a) تانبہ کی موجودگی میں سلیکان کو متھائل کلورائڈ کے ساتھ زیادہ درجہ حرارت پر گرم کرتے ہیں۔ 
    (b) سلیکان ڈائی آکسائڈ کا تعامل ہائڈروجن فلورائڈ سے کرتے ہیں۔ 
    5166_Keemiyan II_Ch11_360b کو ZnO کے ساتھ گرم کرتے ہیں۔ 
    (d) آبیدہ ایلومینا (Alumina) کا تعامل آبی NaOH کے محلول سے کرتے ہیں۔ 

    11.22 وجہ بتلائیے۔ 
    (i) مرتکز HNO3 کی نقل و حمل ایلومینیم کے برتن میں کی جاسکتی ہے۔ 
    (ii) ڈائی لیوٹ NaOH اور ایلومینیم کے ٹکڑوں کے آمیزہ کو نالی (Drain) کھولنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 
    (iii) گریفائٹ کو مدھن (Lubricant) کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 
    (iv) ہیرے کو مخرش (Abrasive) کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 
    (v) ایلومینیم کی بھرتیں ہوائی جہاز بنانے میں استعمال کی جاتی ہیں۔ 
    (vi) ایلومینیم کے برتنوں کو رات بھر پانی میں نہیں رکھنا چاہیے۔ 
    (vii) ایلومینیم کے تار کا استعمال ترسیل (Transmission) کے لیے کیبل بنانے میں کیا جاتا ہے۔ 

    11.23 سمجھائیے کہ کاربن سے سلیکان تک آیونائزیشن اینتھالپی کم کیوں ہوتی ہے۔

    11.24 آپ Al کے مقابلے میں Ga کے ایٹمی نصف قطر کی کمی کو کیسے سمجھائیں گے؟

    11.25 بہروپ (Allotropes) کیا ہیں؟ کاربن کے دو بہروپوں ہیرا اور گریفائٹ کی ساختیں بنائیے۔ ان دو بہروپوں کی ساخت کا طبیعی خصوصیات پر کیا اثر پڑتا ہے؟

    11.26 مندرجہ ذیل آکسائڈوں کو تعدیلی، تیزابی۔ اساسی یا ایمفوٹیرک زمروں میں رکھیے۔ 
    ۔T12O، PbO2 ، Al2O3 ، CO2، SiO2، B2O3، CO

    11.27 تھیلیم کچھ تعاملات میں ایلومینیم سے مطابقت رکھتا ہے۔ جبکہ کچھ میں وہ گروپ I کی دھاتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس بیان کی کچھ ثبوت دے کر تائید کیجیے۔ 

    11.28 جب دھات X کا سوڈیم ہائڈراکسائڈ سے تعامل کرتے ہیں تو ایک سفید رسوب (A) ملتا ہے جو زیادہ NaOH میں گھل کر ایک پیچیدہ مرکب (B) بناتا ہے۔ مرکب (A) ڈائی لیوٹ HCl میں گھل کر مرکب (C) بناتا ہے۔ مرکب (A) تیز گرم کرنے پر (D) دیتا ہے جس کا استعمال دھات کے استخراج (Extract) میں کرتے ہیں (X)، (A)، (B)، (C) اور (D) کی شناخت کیجیے۔ مناسب مساوات کے ذریعہ ان شناختوں کی تائید کیجیے۔ 

    11.29 مندرجہ ذیل سے آپ کیا سمجھتے ہیں۔ 
    (a) جامد جفتی اثر (Inert Pair Effect) 
    (b) بہروپیت (Allotropy) 
    (c) کیٹینشن (Catenation) 

    11.30 کوئی نمک X مندرجہ ذیل نتائج دیتا ہے۔ 
    (i) اس کا آبی محلول لٹمس کے تئیں قلوی ہے۔ 
    (ii) تیز گرم کرنے پر یہ پھول کر ایک شیشہ جیسا مادہ Glassy Material) Y) بن جاتا ہے۔ 
    (iii) جب X کے گرم محلول میں مرتکز H2SO4 ملاتے ہیں تو سفید قلمی تیزاب Z حاصل ہوتا ہے۔ اوپر کے تمام تعاملات کی مساوات 
    لکھیے اور X، Y اور Z کی شناخت کیجیے۔ 

    11.31 مندرجہ ذیل کے لیے متوازن مساوات لکھیے۔ 
    (i) BF3 + LiH→
    (ii) B2H6+H2O→
    (iii) NaH+B2H6
    (iv)
    (v) Al+NaOH→
    (iv) B2H6+NH3

    11.32 CO اورCO2  ہر ایک کو بنانے کا صنعتی اور تجربہ گاہ میں استعمال ہونے والا طریقہ دیجیے۔ 

    11.33 بوریکس کا آبی محلول ہے۔ 
    (a) تعدیلی (b)  ایمفوٹیرک (c)  اساسی  (d) تیزابی 

    11.34 بورک ایسڈ پالیمرک (Polymeric) ہے کیونکہ 
    (a) یہ فطرتاً تیزابی ہے (b)  اس میں ہائڈروجن بانڈ موجود ہیں  (c)  یہ مونوبیسک ہے۔
    (d) اپنی جیومیٹری (Geometry) کی وجہ سے۔ 

    11.35 ڈائی بورین میں بورون کی مخلوطیت کی قسم ہے۔ 
    dsp² (d)²  sp³ (c)  sp (b)   sp  (a)
    11.36 حرحرکیاتی لحاظ سے کاربن کی سب سے زیادہ مستحکم شکل ہے۔
    (a) ہیرا (b) گریفائٹ (c) فلرین (Fullrenes) (d) کوئلہ (Coal) 
    11.37 گروپ 14 کے عناصر 
    (a) صرف 4+ تکسیدی حالت ظاہر کرتے ہیں۔ 

     تکسیدی حالت ظاہر کرتے ہیں۔4
       
    5166_Keemiyan II_Ch11_360f اور +M2 آین بتاتے ہیں۔ 
    5166_Keemiyan II_Ch11_360g آین بناتے ہیں۔ 
    11.38 اگر سلیکونس (Silicones) بنانے کے لیے آغازی مادہ RSiCl3 ہے تو بننے والے ماحصل کی ساخت(Structure) لکھیے۔