Skip to content
Keemiyan II

اکائی 12

نامیاتی کیمیا – کچھ بنیادی اصول اور تکنیکیں

(Organic Chemistry–Some Basic Principles and Techniques)


مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

  • کاربن کی چہار گرفت اور نامیاتی سالمات کی شکلوں کے پیچھے کارفرما اسباب سمجھ سکیں؛
  • مختلف طریقوں سے نامیاتی سالمات کی ساخت لکھ سکیں؛
  • نامیاتی مرکبات کی درجہ بندی کر سکیں؛
  • IUPAC تسمیہ نظام کے مطابق مرکبات کے نام بتاسکیں اور دیے ہوئے ناموں سے ان کی ساخت اخذ کر سکیں؛
  • نامیاتی تعامل کی میکانیت کے تصور کو سمجھ سکیں؛
  • نامیاتی مرکبات کی ساخت اور تعاملیت پر الیکٹرانی ہٹاؤ کے اثر کی وضاحت کر سکیں؛
  • نامیاتی مرکبات کو خالص بنانے کی تکنیکیں سیکھ سکیں؛
  • نامیاتی مرکبات کے کیفیتی تجزیہ میں شامل کیمیائی تعاملات لکھ سکیں؛
  • نامیاتی مرکبات کے مقداری تجزیہ میں شامل اصول سمجھ سکیں؛

پچھلی اکائی میں آپ سیکھ چکے ہیں کہ عنصر کاربن کی ایک یکتا خاصیت ہے جو کہ کیٹی نیشن (Catenation) کہلاتی ہے اور جس کی وجہ سے ایک کاربن ایٹم دیگر کاربن ایٹموں کے ساتھ شریک گرفت بند تشکیل دیتا ہے۔ کاربن ایٹم دوسرے عناصر، جیسے ہائڈروجن، آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، فاسفورس اور ہیلوجنوں کے ایٹموں کے ساتھ بھی شریک گرفت بند تشکیل دیتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والے مرکبات کا مطالعہ کیمسٹری کی ایک علیحدہ شاخ کے تحت کیا جاتا ہے، جو نامیاتی کیمیا (Organic Chemistry) کہلاتی ہے۔ اس اکائی میں نامیاتی مرکبات کی تشکیل اور ان کی خاصیتوں کو سمجھنے کے لیے درکار کچھ بنیادی اصول اور تجزیہ کی تکنیکیں، شامل ہیں۔

12.1  عمومی تعارف (General Introduction)

نامیاتی مرکبات کرہ ارض پر زندگی کی بقا کے لیے اہم ہیں۔ نامیاتی مرکبات میں تولیدی معلومات سے پُر ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ یعنی (Deoxyribonucleic Acid) اور پروٹین جو ہمارے خون، عضلات اور جلد کے ضروری مرکبات کا حصّہ ہیں، جیسے پیچیدہ سالمات بھی شامل ہیں۔ کپڑوں، ایندھنوں، پالیمر، رنگ اور دواؤں وغیرہ میں نامیاتی کیمیائی اشیا شامل ہوتی ہیں۔ یہ ان مرکبات کے استعمال کے کچھ اہم شعبے ہیں۔

نامیاتی کیمسٹری کی سائنس تقریباً 200 برس پرانی ہے۔ 1780 کے آس پاس کیمیادانوں نے پودوں اور جانوروں سے حاصل کیے گئے نامیاتی مرکبات اور معدنی ذرائع سے تیار کیے گئے غیر نامیاتی مرکبات 5166_Keemiyan II_Ch11_361a (Inorganic Compounds) میں فرق کرنا شروع کردیا۔ برزیلیس (Berzilius)، ایک سویڈش کیمیاداں تھے انھوں  نے تجویز کیا کہ نامیاتی مرکبات کی تشکیل کے لیے ایک ’’حیاتیاتی قوت‘‘ (Vital Force) ذمہ دار ہے۔ لیکن یہ تصور 1828 میں اس وقت رد کر دیا گیا جب ایف-ووہلر (F. Wohler) نے ایک نامیاتی مرکب ’’یوریا‘‘ (Urea) کی ایک غیر نامیاتی مرکب امونیم سائینیٹ (Ammonium Cyanate) سے تالیف کی۔

5166_Keemiyan II_Ch11_362a
یوریا            امونیم سائینیٹ

کولبے (Kolbe) (1845) کے ذریعے کی گئی ایسیٹِک ایسڈ (Acetic Acid) اور برتھ  لوٹ (Berthelot) (1856) کے ذریعے کی گئی میتھین (Methane) کی رہنمایانہ تالیفوں نے حتمی طور پر ظاہر کر دیا کہ نامیاتی مرکبات کی، غیر نامیاتی ماخذوں سے تجربہ گاہ میں تالیف کی جاسکتی ہے۔
شریک گرفت بندش کے الیکٹرانی نظریہ کے ارتقا نے نامیاتی کیمسٹری کی اس کی جدید شکل کی طرف رہنمائی کی۔

12.2 کاربن کی چہار گرفت : نامیاتی مرکبات کی شکلیں 

(Tetravalence of Carbon: Shapes of Organic Compounds)

12.2.1 کاربن مرکبات کی شکلیں

 (The Shapes of  Carbon  Compounds)

سالماتی ساخت کے بنیادی تصورات کی معلومات نے نامیاتی مرکبات کی خاصیتوں کو سمجھنے اور ان کی پیشین گوئی کرنے میں مدد کی ہے۔ آپ اکائی 4 میں پہلے ہی گرفت اور سالماتی ساخت کے نظریات سیکھ چکے ہیں۔ مزید آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ کاربن کی چہارگرفت اور اس کے ذریعے کی گئی شریک گرفت بند کی تشکیل کی وضاحت اس کے الیکٹرانی تشکّل اور s اور p اربٹل کی مخلوطیت (Hybridization) کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی یاد کریں کہ میتھین (CH4)، ایتھین (C2H4)، ایتھائن (C2H2) جیسے سالمات کی شکلوں کی وضاحت، کاربن ایٹم میں sp²، sp³ اور sp مخلوط اربٹل کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔
مرکبات میں مخلوطیت، بندشی لمبائی اور بانڈ اینتھالپی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ sp مخلوط اربٹل میں sکردار (Character) زیادہ ہوتا ہے اور اس لیے یہ sp3 مخلوط اربٹل کے مقابلے میں نیوکلیس سے قریب ہوتا ہے اور مقابلتاً چھوٹے اور زیادہ قوی بند تشکیل دیتا ہے۔ sp2 مخلوط اربٹل ، sp اور sp3 مخلوط اربٹل اور زیادہ قوی بند تشکیل دیتا ہے۔ sp2 مخلوط اربٹل sp اور sp3 مخلوط اربٹل کے s کردار کے لحاظ سے درمیان میں ہوتا ہے اور اس لیے اس کے ذریعے تشکیل کیے گئے بند کی لمبائی اور اینتھالپی بھی sp اور sp3 مخلوط اربٹل کے ذریعے تشکیل کیے گئے بند کی لمبائی اور اینتھالپی کے درمیان ہوتی ہے۔ مخلوط اربٹل کا s کردار جتنا زیادہ ہوگا ان کی برقی منفیت (Electronegativity) بھی اتنی زیادہ ہوگی۔ اس لیے ایک کاربن ایٹم جس میں ایک sp مخلوط اربٹل  ہے، جس کا s کردار %50 ہے ان کاربن ایٹموں کے مقابلے میں زیادہ برقی منفی ہوگا جن میں sp2 اور sp3 مخلوط شدہ اربٹل ہیں۔ یہ اضافی برقی منفیت متعلقہ سالمات کی کئی طبعی اور کیمیائی خاصیتوں سے منعکس ہوتی ہے، جس کے بارے میں آپ آئندہ اکائیوں میں سیکھیں گے۔

12.2.2 π بند کی کچھ امتیازی خاصیتیں

 (Some Characteristic Features of π Bonds)

ایک n (پائی Pi) بند کی تشکیل میں دو متصل (Adjacent) ایٹموں پر دو p اربٹل کی متوازی تشریق (Parallel Orientation)، مناسب جانبی انطباق (Sideways Overlap) کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے H2C = CH2 سالمات میں تمام ایٹموں کا ایک ہی مستوی میں ہونا لازمی ہے۔ p اربٹل باہم متوازی ہوتے ہیں اور دونوں p اربٹل سالمات مستوی پر عمود ہوتے ہیں۔ ایک CH2 جز کی دوسرے کی مناسبت سے گردش، p اربٹل کے ازحد انطباق میں خلل پیدا کرتی ہے اس لیے کاربن کاربن دوہرے بند (C = C) کے لیے ایسی گردش محدود ہے۔ الیکٹران چارج بادل (Electron Charge Cloud) بندشی ایٹموں کے مستوی کے اوپر اور نیچے واقع ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں الیکٹران، تعامل کر رہے متعاملوں کو بہ آسانی فراہم ہوجاتے ہیں۔ عمومی طور پر π بند کثیر بند والے سالمات میں زیادہ تعامل پذیر مراکز فراہم کرتے ہیں۔

مسئلہ 12.1

مندرجہ ذیل ہر ایک سالمہ میں کتنے σ اور π بند ہیں؟
(a)  HC=CCH=CHCH3 (b)  CH2=C=CHCH3 

حل

5166_Keemiyan II_Ch11_362b

مسئلہ 12.2

مندرجہ ذیل ہر ایک مرکبات میں کاربن کی مخلوطیت کی قسم کیا ہے؟
(a) CH³CI. (b) (CH³)²CO. (c) CH³CN.
(d) HCONH².(e) CH³CH = CHCN

حل

(a) sp³. (b) sp³.sp².(c)sp³.sp.
(d) sp³. (e) sp³. sp².sp².sp

مسئلہ 12.3

مندرجہ ذیل مرکبات میں کاربن کی مخلوطیت کی حالت اور ہر ایک سالمہ کی شکل لکھیے۔
(a) H²C=o. (b) CH³F. (c) HC = N.

حل

SP³ (a( مخلوط شدہ کاربن، ٹرائیگونل پلینر (Trigonal Planar) ؛ 
sp³(b)مخلوط شدہ کاربن، ٹیٹراہیڈرل (Tetrahedral)؛
sp (c) مخلوط شدہ کاربن، خطّی (Linear)

12.3  نامیاتی مرکبات کا ساختی اظہار 

(Structural Representations of Organic Compounds)

12.3.1 مکمل، تکثیف شدہ اور بانڈ لائن ساختی فارمولے 

(Complete, Condensed and Bond-line Structural Formulas)

نامیاتی مرکبات کی ساخت مختلف طریقوں سے ظاہر کی جاتی ہے۔ لیوئس ساخت (Lewis Structure) یا نقطہ ساخت، ڈیش (Dash) ساخت، تکثیف شدہ (Condensed Structure) اور بانڈ لائن (Bond Line) ساختی ضابطے اس کی کچھ مخصوص مثالیں ہیں۔ لیوئس ساختوں کو دو-الیکٹران شریک گرفت بند کو ایک (—) سے ظاہر کرکے سادہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایسا ساختی فارمولہ بند کی تشکیل میں شامل الیکٹرانوں پر مرکوز ہوتا ہے۔ ایک واحد ڈیش واحد بند کو ظاہر کرتا ہے، دو ڈیش (=) دوہرے بند کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور تین ڈیش (º) تہرے بند کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہیٹروایٹموں (Heteroatoms) (جیسے آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، ہیلوجن وغیرہ) پر الیکٹرانوں کے اکیلے جوڑے ظاہر کیے بھی جاسکتے ہیں اور نہیں بھی۔ اس لیے ایتھین (Ethane C2 H6)، ایتھائن (Ethyne, C2H2) اور میتھانول (Methanol, CH3OH) کو مندرجہ ذیل ساختی فارمولوں کے ذریعے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ ایسا ساختی اظہار مکمل ساختی فارمولہ (Complete Structural Formula) کہلاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch11_364g

شریک گرفت بند کو ظاہر کرنے والے کچھ یا تمام ڈیش کو نظر انداز کرکے اور ایک ایٹم سے منسلک متماثل (Identical) گروپوں کی تعداد کی ایک زیریں علامات (Subscript) سے ظاہر کرکے ان ساختی فارمولوں کو مزید مختصر کیا جاسکتاہے۔ اس طرح حاصل ہونے والا مرکب کا اظہار، اختصار شدہ فارمولہ(Condensed Structural Formula) کہلاتا ہے۔ اس لیے ایتھین(Ethane)، ایتھیٖن(Ethene)، ایتھائن (Ethyne) اور میتھانول کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے:

CH³OH   HC=CH    H²c=cH²    CH³CH³
(Methanol)  (Ethyne)  (Ethene)   (Ethane)

اسی طرح، CH3CH2CH2CH2CH2CH2CH2CH3  کو مزید مختصر شکل میں CH3(CH2)6CH3 لکھا جاسکتا ہے۔ مزید سادہ بنانے کے لیے، نامیاتی کیمیاداں ساختوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک اور طریقہ استعمال کرتے ہیں، جس میں صرف لائنیں (Lines) استعمال کی جاتی ہیں۔ نامیاتی مرکبات کے اس بانڈلائن ساختی فارمولے میں کاربن اور ہائڈروجن ایٹموں کو نہیں دکھایا جاتا اور کاربن- کاربن بند کو ظاہر کرنے والے خطوط کو ٹیڑھی، ترچھی (Zig-zag) شکل میں کھینچا جاتا ہے۔ خاص طور پر لکھے جانے والے ایٹم صرف آکسیجن، کلورین، نائٹروجن وغیرہ ہیں۔ سِرے (Terminals) میتھائل گروپ (–CH3) کو ظاہر کرتے ہیں (جب تک کہ کسی اور تفاعلی گروپ سے نہ ظاہر کیے گئے ہوں)، جبکہ لائن جنکشن (Line Junction) ان کاربن ایٹموں کی نشاندہی کرتے ہیں جو ہائڈروجن ایٹموں کی اس تعداد سے بندھے ہوتے ہیں جو کاربن ایٹموں کی گرفت کو مطمئن کرنے کے لیے درکار ہے۔ اس کی کچھ مثالیں ذیل میں ظاہر کی گئی ہیں: 

3- Methyloctane(i) 
کو مختلف شکلوں میں ایسے ظاہر کیا جا سکتا ہے
(a) ch³CH²CHCH²CH²CH²CH²
Ι
CH³
5
6
سرمے میتھائل گروپ کو ظاہر کرتے ہیں
(ii) 2- bromobutane کو ظاہر کرنے کے مختلف طریقے ہیں

7

سائیکلک (Cyclic) مرکبات میں، بانڈ لائن فارمولوں کو ایسے لکھا جاسکتا ہے:
8
cyelopropane سائیکلو پروپین
9
chlopentane سا ئیکلو پینٹین
10
chlorocyclohexane کلو رو سا ئیکلو ہیکسین

مسئلہ 12.4

مندرجہ ذیل مختصر ضابطوں کی ان کے مکمل ساختی فارمولوں کی شکل میں توسیع کیجیے۔
(a) CH3CH2COCH2CH3
(b) CH3CH = CH(CH2)3CH3

حل

5166_Keemiyan II_Ch11_365c

مثال 12.5

مندرجہ ذیل مرکبات میں ہر ایک کے لیے اختصار شدہ فارمولہ اور بانڈ لائن فارمولہ لکھیے۔

(a) HOCH²CH²CH²CH(CH³CH(CH³)CH³
N=C-CH-C=N
              Ι
(b)                                     OH 

حل

اختصار شدہ فارمولہ

(a)   HO(CH²)³CH(CH³)CH(CH³)²
(b)   HOCH(CN)²
بانڈ لائن فارمولہ
11

مسئلہ 12.6

مندرجہ ذیل بانڈ لائن فارمولوں کی اس طرح توسیع کیجیے کہ بہ شمول کاربن اور ہائڈروجن تمام ایٹم دکھائے جاسکیں:

5166_Keemiyan II_Ch11_366b

حل

5166_Keemiyan II_Ch11_366c
5166_Keemiyan II_Ch11_366d

12.3.2 نامیاتی سالمات کا سہ ابعادی اظہار 

(Three- Dimensional Representation of Organic Molecules)

نامیاتی سالمات کی ساخت کا کاغذ پر سہ ابعادی اظہار، کچھ قراردادوں کے استعمال کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر 5166_Keemiyan II_Ch11_366e اور ڈیش 5166_Keemiyan II_Ch11_366f پچّر (Wedge) فارمولے کے ذریعے ایک سالمہ کا سہ ابعادی عکس، دوابعادی تصویر کے ذریعے تصور کیا جاسکتا ہے۔ ان فارمولوں میں مسلسل پچر (Solid Wedge) کا استعمال، کاغذ سے مشاہد کی سمت میں باہر نکلتے ہوئے بند کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی پچر (Dashed Wedge) کا استعمال کاغذ کے مستوی سے مشاہد کی مخالف سمت میں باہر نکلتے ہوئے بند کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پچروں کو اس طرح دکھایا جاتا ہے کہ ان کا موٹا کنارہ مشاہد کی طرف ہو۔ کاغذ کے مستوی میں آرہے بند کو عام خط (—) کے استعمال کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔ کاغد پر میتھین (Methane) سالمہ کا سہ ابعادی اظہار شکل 12.1 میں دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch11_366g

شکل 12.1 CH4 کا پچر اور ڈیش اظہار
سالماتی ماڈل
سالماتی ماڈل وہ طبیعی آلات ہیں جو نامیاتی مرکبات کی سہ ابعادی شکلوں کے بہتر ذہنی تصور اور ادراک کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ لکڑی، پلاسٹک یا دھات کے بنے ہوتے ہیں اور بازار میں دستیاب ہیں۔ عام طور سے تین قسم کے سالماتی ماڈل استعمال ہوتے ہیں: (1) فریم ورک ماڈل (Framework Model) (2) گیند اور چھڑی ماڈل (Ball and Stick Model) (3) جگہ پر کرنے والے ماڈل (Space-filling Model)۔ فریم ورک ماڈل میں صرف ایک سالمہ کے ایٹموں کو آپس میں جوڑنے والے بند کو دکھایا جاتا ہے، خود ایٹموں کو نہیں۔ یہ ماڈل ایک سالمہ کے بند کے نمونے (Pattern) پر زور دیتا ہے، جبکہ ایٹموں کے سائز کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ گیند اور چھڑ ماڈل میں ایٹم اور بند دونوں دکھائے جاتے ہیں۔ گیندیں ایٹموں کو اور چھڑیں بند کو ظاہر کرتی ہیں۔ C = C پر مشتمل مرکبات (جیسے ایتھیٖن)، چھڑوں کی جگہ اسپرنگ استعمال کر کے بہتر طریقے سے ظاہر کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ماڈل، گیند اور اسپرنگ ماڈل کہلاتے ہیں۔ جگہ پر کرنے والا ماڈل ہر ایک ایٹم کے اس نسبتی سائز پر زور دیتا ہے جو کہ اس کے ونڈروال نصف قطر پر مبنی ہوتا ہے۔ اس ماڈل میں بند کو نہیں دکھایا جاتا۔ یہ ہر ایک ایٹم کے ذریعے سالمات میں گھیرے گئے حجم کو بتاتا ہے۔ ان ماڈلوں کے علاوہ سالماتی ماڈل بنانے میں کمپیوٹر گرافکس کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

12
گیند اور چھڑ ماڈل                    فریم ورک ماڈل
13
جگر پر کرنے والا ماڈل
شکل 12.2

12.4 نامیاتی مرکبات کی درجہ بندی (Classification of Organic Compounds)

نامیاتی مرکبات کی موجودہ بہت بڑی تعداد اور اس میں ہونے والے مستقل اضافے نے ان مرکبات کی ان کی ساخت کی بنیاد پر درجہ بندی کرنے کو ضروری بنادیا ہے۔ نامیاتی مرکبات کی موٹے طور پر درجہ بندی مندرجہ ذیل طریقے سے کی جاتی ہے:
 غیر سائیکلک یا کھلی زنجیروالے
مرکبات(1)
نامیاتی مرکبات
سائیکلک یا بند زنجیر یا حلقہ دار مرکبات (11)
ایرو میٹک مرکبات                      ایلی سائیکلک مرکبات
ہیٹرو سائیکلک                            ہومو سائیکلک مرکبات
مرکبات                                  مرکبات
(غیر ایرومیٹک  Non-asomatic
ہیٹرو سائیکلک       غیربنزو وائڈ مرکبات    بنزوائڈ مرکبات

5166_Keemiyan II_Ch11_367b

غیر سائیکلک یا کھلی زنجیر والے مرکبات (Acyclic or Open Chain Compounds)
یہ مرکبات ایلیفیٹک (Aliphatic) مرکبات بھی کہلاتے ہیں اور مستقیم یا شاخدار زنجیری مرکبات پر مشتمل ہیں۔ مثلاً

5166_Keemiyan II_Ch11_367c

II۔ سائیکلک یا بند زنجیر یا حلقہ دار مرکبات (Cyclic or Closed Chain or Ring Compounds)
(a) ایلی سائیکلک مرکبات(Alicyclic Compunds)
ایلی سائیکلک (ایلیفیٹک سائیکلک) مرکبات میں کاربن ایٹم ایک حلقہ کی شکل میں جڑے ہوتے ہیں [ہوموسائیکلک (Homocyclc)]۔

14
سائیکلو ہیکسن                  سائیکلو ہیکسن          سائیکلوپروپین
(Cyclopropane)   (Cyclohexane)              (Cyclohexxane)

 کبھی کبھی کاربن کے علاوہ دوسرے ایٹم بھی حلقہ میں پائے جاتے ہیں (Heterocyclic)۔ ٹیڑا ہائڈروفیوران مرکب کی مثال درج ذیل ہے:

5166_Keemiyan II_Ch11_368b
ٹیٹرا ہائڈرو فیوران

ان کی کچھ خاصیتیں ایلیفیٹک (Aliphatic) مرکبات جیسی ہوتی ہیں۔
 
 (b) ایرومیٹک مرکبات (Aromatic Compounds)
ایرومیٹک مرکبات خاص قسم کے مرکبات ہیں۔ آپ ان مرکبات کے بارے میں تفصیل سے اکائی 13 میں سیکھیں گے۔ ان میں بینزیٖن (Benzene) اور دیگر متعلقہ حلقہ دار مرکبات (بینزنیوئڈ (Benzenoid) شامل ہیں۔ ایلی سائیکلک مرکبات کی طرح ایرومیٹک مرکبات میں بھی حلقہ میںہیٹرو ایٹم (Heteroatomic)ہو سکتے ہیں۔ ایسے مرکبات ہیٹروسائیکلک ایرومیٹک مرکبات (Heterocyclic Aromatic Compund) کہلاتے ہیں۔ ایرومیٹک مرکبات کی مختلف قسموں کی کچھ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
بینزنیوئڈ ایرومیٹک مرکبات

5166_Keemiyan II_Ch11_368c
پینتھلین   انیلین         بینزبین

غیر بینزینوئڈ مرکب (Non-benzenoid Compound)

5166_Keemiyan II_Ch11_368d
ٹروپولون

ہیٹروسائیکلک ایرومیٹک مرکبات (Heterocyclic Aromatic Compounds)


5166_Keemiyan II_Ch11_368e
یلیریڈین    تھایوفین      فیوران

نامیاتی مرکبات کو تفاعلی گروپ (Functional Group) کی بنیاد پر، فیملی (Families) اور ہم وصف سلسلے (Homologous Series) میں بھی درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔ 

 12.4.1تفاعلی گروپ (Functional Group)

تفاعلی گروپ ایٹم یا ایٹموں کا ایسا گروپ ہے جوکاربن زنجیرسے جڑا ہوتا ہے اور نامیاتی مرکبات کی امتیازی کیمیائی خاصیتوں کے لیے ذمہ دار ہے۔ مثالیں ہیں: ہائڈروکسِل گروپ (Hydroxyl Group, –OH)، ایلڈی ہائڈ گروپ (Aldehyde Group, –CHO)  اور کاربوکسلک ایسڈ گروپ (Carboxylic Acid Group, –COOH) وغیرہ۔

12.4.2 ہم وصف سلسلہ (Homologous Series)

نامیاتی مرکبات کا ایک ایسا گروپ یا سلسلہ، جس میں ہر ایک مرکب میں ایک خصوصی تفاعلی گروپ ہو، ایک ہم وصف سلسلہ کی تشکیل کرتا ہے اور سلسلہ کے ارکان ہم وصف (Homologues) کہلاتے ہیں۔ ایک ہم وصفی سلسلے کے ارکان کو ایک عمومی سالماتی فارمولے کی مدد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ سالماتی فارمولے میں دو متواتر ممبران کے درمیان ایک –CH2 اکائی کا فرق ہوتا ہے۔ نامیاتی مرکبات کے ہم وصف سلسلوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے کچھ اس طرح ہیں: الکین (Alkanes)، الکیٖن (Alkenes)، الکائن (Alkynes)، ہیلوالکین (Haloalkanes)، الکینول (Alkanols)، الکینال (Alkanals)، الکینون (Alkanones)، الکینوئک ایسڈ (Alkanoic Acid) اور امائن (Amines) وغیرہ۔
یہ ممکن ہے کہ ایک مرکب میں دویا دوسے زیادہ متماثل (Identical) اورمختلف (Different) تفاعلی گروپ موجود ہوں۔اس سے کثیرتفاعلی گروپ (Polytunctional Group) کی تشکیل ہوتی ہے۔

12.5 نامیاتی مرکبات کا تسمیہ (Nomenclature of Organic Compounds)

نامیاتی کیمیا میں لاکھوں مرکبات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان کو بہ خوبی شناخت کرنے کے لیے ان کے نام رکھنے کا ایک منظم طریقہ بنایا گیا ہے جو تسمیہ کا 5166_Keemiyan II_Ch11_369a  (International Union of pure and Applied Chemistry) نظام کہلاتا ہے۔ اس منظم تسمیہ میں ناموں کو ساخت کے ساتھ اس طرح مربوط (Correlate) کیا جاتا ہے کہ سننے والا نام سے ساخت اخذ کرسکتا ہے۔
IUPAC نظام تسمیہ سے پہلے نامیاتی مرکبات کے نام ان کے مآخذ (Origin) یا ان کی کچھ خاصیتوں کی بنیاد پر رکھے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر سٹرک ایسڈ (Citric Acid) کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ یہ سٹِرک (کھٹّے) پھلوں میں پایا جاتا ہے اسی طرح لال چیونٹی (Red Ant) میں پائے جانے والے تیزاب کو فارمک ایسڈ (Formic Acid) کا نام دیا گیا، کیونکہ لاطینی زبان میں چیونٹی کو فارمیکا (Formica) کہتے ہیں۔ یہ روایتی نام ہیں انہیں غیر اہم یا عام نام سمجھا جاتا ہے۔ کچھ عام نام اب بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر بک منسٹر فلرین ایک عام نام ہے (Buckminsterfullerene) جو حال ہی میں دریافت شدہ C60 گچّھے (Cluster) کو دیا گیا ہے کیونکہ اس کی ساخت ان ارضیہ گنبدوں (Geodesic Domes) سے ملتی جلی ہے جنہیں مشہور ماہر فن تعمیر (Architect) آر-بک منسٹر فُلّر (R.Buckminster Fuller) نے مقبول کرایا تھا۔ عام نام بھی کارآمد ہیں اور کئی صورتوں میں ناگزیر ہیں، خاص طور پر اگر متبادل منظم نام لمبے اور پیچیدہ ہوں۔ کچھ نامیاتی مرکبات کے عام نام جدول 12.1 میں دیے گئے ہیں۔

12.5.1 تسمیہ کا IUPAC  نظام (The IUPAC System of Nomenclature)

ایک نامیاتی مرکب کا منظم نام عام طور سے اس سے منسلک مورثِ (Parent) ہائڈروکاربن اور تفاعلی گروپ کی شناخت کرکے اخذ کیا جاتا ہے۔ نیچے دی ہوئی مثال دیکھیے:

جدول 12.1 : کچھ نامیاتی مرکبات کے عام نام


عام نام مرکب
میتھینMehane
این-بیوٹن n-Butane
آیسوبیوٹینsobutane
نیوپین ٹین Neopentane
این پروپائل الکوحل  n- Propyl Acohal
فارمل ڈی ہائڈ  Formaldehyde
ایسی ٹون    Acetone
کلوروفورم    Chloroform
ایسی ٹک ایسڈ  Acetc  Acid
بینزین   Benzene
اینی سول  Anesole
اینیلین   Aniline
ایسٹیو فینون   Aectophenone
ایتھائل میتھائل ایتھر
Ethyl Methy  Ether
CH4
H³CCH²CH²CH³
(H³C)³CHCH³
(H³C)4 C
H³CCH²CH²OH
HCHO
(H³C)²CO
CHCI³
CH³COOH
C6H6
C6H5OCH³
C6H5NH²
C6H5COCH³
CH³OCH²CH³
تفاعلی گروپ
OH
CH³-CH-CH²-CH-CH-CH³
H³C           Br
مورث زنجیر۔     تفاعلی گروپ۔         شاح
پھر سابقوں اور لاحقوں (Prefixes & Suffixes) کے مزید استعمال کے لیے موروثی نام کو سدھار کر اصل نام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ وہ مرکبات جو صرف کاربن اور ہائڈروجن پر مشتمل ہوتے ہیں ہائڈروکاربن کہلاتے ہیں۔ ایک ہائڈروکاربن کو سیرشدہ (Saturated) کہا جاتا ہے اگر اس میں کاربن- کاربن بند صرف اکہرے ہوں۔ ایسے مرکبات کے ہم وصف سلسلے کا IUPAC نام الکین (Alkane) ہے۔ پیرافن (Paraffin) (لاطینی : بہت کم رغبت)، ان مرکبات کو پہلے دیا گیا نام تھا۔ غیر سیر شدہ (Unsaturated) ہائڈروکاربن وہ ہیں جن میں کم از کم ایک کاربن- کاربن بند دوہرا یا تہرا ہوتا ہے۔

12.5.2 الکینوں کا IPUAC نظام تسمیہ

 (IUPAC Nomenclature of  Alkanes)

مستقیم زنجیر ہائڈروکاربن (Straight Chain Hydrocarbons) : ایسے مرکبات کے نام ان کی زنجیری ساخت پر مبنی ہیں اور لاحقہ (Suffix) این ('–ane') پر ختم ہوتے ہیں اور ان ناموں میں ایک سابقہ شامل ہوتا ہے جو زنجیر میں پائے جانے والے کاربن ایٹموں کی تعداد کی نشاندہی کرتا ہے(سوائے CH4 سے لے کر C4H10 تک، جہاں سابقے عام ناموں سے اخذ کیے جاتے ہیں)۔ کچھ مستقیم زنجیر سیرشدہ ہائڈروکاربنوں کے IUPAC نام جدول 12.2 میں دیے گئے ہیں۔ جدول 12.2 میں دیے ہوئے الکین (Alkanes)، ایک دوسرے سے صرف زنجیر میں –CH2 گروپوں کی تعداد کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ یہ سب الکین سلسلہ کے ہم وصف ہیں۔ 

جدول 12.2: کچھ غیر شاخ دار، سیر شدہ ہائڈروکاربنوں کے IUPAC نام


نام سالماتی فارمولہ نام سالماتی فارمولہ
میتھینMethane
ایتھینEthane
پروپینPropane
بیوٹین Bulatane
پینٹین Pentane
ہیکسینHexane

CH4
C²H6
C³H6
C4H10
C5H12
C6H14

ہیپٹینHeptane
آکٹینOctane
نونینNonane
ڈےکینDecane
آئ کوسینIcosane
ٹرائیا کون ٹین
Triaconane
C7H16
C5H18
C9H20
C10H22
C20H42
C30H62


شاخ دار زنجیر والے ہائڈروکاربن (Branched Chain Hydrocarbons): ایک شاخ دار زنجیر والے مرکب میں کچھ کاربن ایٹموں کی چھوٹی زنجیریں، موروثی زنجیر کے ایک یا ایک سے زیادہ کاربن ایٹموں سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ چھوٹی کاربن زنجیریں (شاخیں) الکائل گروپ (Alkyl Groups) کہلاتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
CH³-CH-CH²-CH³   CH3-CH-CH3-CH-CH³
         Ι                                 Ι               Ι
CH³                                    CH²CH³    CH³
(a)                                          (b)

ایسے مرکبات کے نام رکھنے کے لیے الکائل گروپ (alkyl Groups) کے نام، موروثی الکین (Alkane) کے نام سے پہلے بہ طور سابقہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک سیرشدہ ہائڈروکاربن میں کاربن سے ایک ایٹم ہٹا کر ایک الکائل گروپ اخذ کیا جاتا ہے۔ اس طرح CH4، –CH3 ہو جاتا ہے اور میتھائل گروپ (Methyl Group) کہلاتا ہے۔ الکائل گروپ کا نام نظیری الکین میں  ane کی جگہ yl  رکھ کر حاصل کیا جاتا ہے۔ جدول 12.3 میں کچھ الکائل (Alkyl) گروپوں کی فہرست دی گئی ہے۔

جدول 12.3 کچھ الکائل گروپ


(Alkyle Groupالکائل گروپ (Alkane)الکین
سالماتی فارمولہ الکین کا نام ساختی فارمولہ الکائل گروپ کا نام
H4

C²H6
 

C³H8


C4H10

C10H22
میتھین
Methane
ایتھین
Ethane
پروپین
Propane
بیوٹین
Butane
ڈے کین
Decane
-CH3

-CH2CH3

-CH2CH2CH3


-CH2CH2CH2CH3
-CH2(CH2)CH3

میتھائل
Methyl
ایتھائل
Ethyl
پروپائل
 Propayl
بیوٹائل

Butayl
ڈی کائل
Decyl

کچھ الکائل (Alkyl) گروپوں کے لیے مخفف (Abbreviations) استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً، میتھائل (Methyl) کی مخفف شکل Me، ایتھائل (Ethyl) کی Et، پروپائل (Propyl) کی Pr اور بیوٹائل (Butyl) کی Bu ہے۔ الکائل گروپ (Alkyl Groups) شاخ دار بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پروپائل اور بیوٹائل گروپوں کی ساخت شاخ دار بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

CH3 - CH-  CH3- CH2- CH-  CH3-CH-CH2-
          Ι                             Ι                       ι
CH3                               CH3                CH3
Isopropyi-                    sec-Buth1-        isobuty1-
CH3                                CH3
ι                                           ι
CH3-C-                      CH3-C-CH2-
          ι                                   ι
        CH3                            CH3
tert-butyl-                           Neopentyl-
عام شاخ دار گروپوں کے مخصوص معمولی نام ہوتے ہیں۔ مثلاً، پروپائل (Propyl) گروپ یا تو این- پروپائل (n-propyl) گروپ ہو سکتے ہیں یا آئسو پروپائل (Isopropyl) گروپ۔ شاخ دار بیوٹائل (Butyl) گروپ، سیک- بیوٹائل (sec-butyl)، آئسو بیوٹائل (Isobutyl) اور ٹرٹ بیوٹائل (tert-butyl) گروپ کہلاتے ہیں۔ ہمارا واسطہ ساختی اکائی –CH2C(CH3)3 سے بھی پڑتا ہے، جو نیوپینٹائل (Neopentyl) گروپ کہلاتا ہے۔
شاخ دار الکین (Alkanes) کا تسمیہ: ہمارے سامنے بہت سے شاخ دار الکین (Alkane) آتے ہیں۔ ان کو نام دینے کے قاعدے مندرجہ ذیل ہیں: 
سب سے پہلے سالمہ میں سب سے لمبی کاربن زنجیر کی شناخت کی جاتی ہے۔ نیچے دی ہوئی مثال (I) میں سب سے لمبی زنجیر میں 9 کاربن ہیں اور اسے موروثی یا بنیادی زنجیر سمجھا جاتا ہے۔ (II) میں دکھایا گیا موروثی زنجیر کا انتخاب درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں صرف 8 کاربن ہیں۔

1           2     3       4          5       6       7       8         9
CH3- CH- CH2- CH2 - CH2-CH-CH2-CH2-CH3
           ι                                        ι
        CH³                                   CH2-CH³
                                           ι
1        2       3       4           5      6      
CH3-CH-  CH2- CH2- CH2- CH-CH2- CH2- CH3
            ι                                       ι
           CH³                                  CH2-CH3
                                                      7         8
                                         II

موروثی الکین کی شناخت کرنے کے لیے اور ان کاربن ایٹموں کے مقام کا پتہ لگانے کے لیے جن سے شاخیں نکل رہی ہیں، (کیونکہ ہائڈروجن ایٹم کی جگہ الکائل گروپ لے رہا ہے) مورثوثی زنجیر کے کاربن ایٹموں پر نمبر ڈال دیے جاتے ہیں۔ یہ نمبر اس طرح ڈالے جاتے ہیں کہ شاخ دار کاربن ایٹموں پر ممکنہ کم ترین نمبر آئے۔ اس لیے مندرجہ بالا مثال میں نمبر بائیں سے دائیں (شاخ دار ایٹم 2 اور 6) ہوں گے، دائیں سے بائیں نہیں (کیونکہ ان کاربن ایٹموں کے نمبر جن سے شاخیں نکل رہی ہیں، اس صورت میں، 4 اور 8 ہوں گے)۔
1  2    3  4  5  6  7 8  9
C-C-C-C-C-C-C-C-C-
     ι                ι
     C              C-C
9    8 7  6  5  4  3  2  1
C-C-C-C-C-C-C-C-  C
     ι                ι
     C             C-C

ایک شاخ کے طور پر جڑے ہوئے الکائل (Alkyl) گروپ کے نام پھر موروثی الکین کے نام کے ساتھ بطور سابقہ (Prefix) لگائے جاتے ہیں اور ہائڈروجن ایٹم کی جگہ لینے والوں کے مقام کی مناسب اعداد سے نشاندہی کی جاتی ہے۔ اگر مختلف الکائل (Alkyl) گروپ موجود ہوں تو انہیں حروفِ تہجی (Alphabetical) کی ترتیب میں لکھا جاتا ہے۔ اس لیے اوپر دکھائے گئے مرکب کا نام ہے: 6-ایتھائل -2-میتھائل نونین (6-ethyl-2-methyl nonane) [نوٹ: نمبروں اور گروپ کے درمیان علامت - استعمال کی جاتی ہے اور میتھائل اور نونین کو ایک ساتھ لکھا جاتا ہے۔]

اگر 2 یا اس سے زیادہ متماثل قائم مقام (Substituent) گروپ موجود ہوں تو نمبروں کے درمیان کو ما (،) لگایا جاتا ہے۔ متماثل قائم مقام گروپ کے نام دہرائے نہیں جاتے۔ اس کے بجائے سابقے جیسے ڈائی (di) (دو کے لیے)، ٹرائی (tri) (3 کے لیے)، ٹیٹرا (tetra) (4 کے لیے)، پینٹا (penta) (5 کے لیے)، ہیکسا (Hixa) (6 کے لیے) وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ قائم مقام گروپوں کے نام حروفِ تہجّی کی ترتیب میں لکھتے وقت ان سابقوں کو نہیں لکھا جاتا ہے۔ اس لیے مندرجہ ذیل مرکبات کے نام ہیں:

CH3        CH3      CH3          CH3
ι                ι               ι                ι
CH3-CH-CH2CH-CH3  CH3-C-CH2-CH-CH3
1         2     3      4      5      1       2 Ι    3     4      5
                                                       CH³
2.4-Dimethylpentane  2,2,4- Trimethylpentane
H3C H3C           CH3
               ι             ι
CH3-CH2- CH-C-CH2-CH2-CH3
1         2           3      ι 4      5      6    7
                                    CH3
3-Ethyl-4,4-dimethyleheptane

اگر دو قائم مقام گروپ مساوی مقام پر پائے جائیں، تو حروفِ تہجی کے اعتبار سے جو گروپ پہلے آتا ہے اسے چھوٹا عدد دیا جاتا ہے۔ اس لیے مندرجہ ذیل مرکب 3-ethyl-6- methyloctane ہے اور 6-ethyl-3- methyloctane. نہیں۔
1           2      3     4      5     6       7        8        
CH3- CH2-CH-CH2-CH2-CH-CH2-CH3
                        Ι                     Ι
                      CH2CH3         CH3

شاخ دار الکائل گروپ کو بھی مندرجہ بالا طریقہ استعمال کرتے ہوئے نام دیے جاسکتے ہیں۔ لیکن شاخ کا وہ کاربن ایٹم جو موروثی الکین سے منسلک ہوتا ہے اسے 1 نمبر دیا جاتا ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل مثال سے ظاہر ہوتا ہے:
4          3      2        1
CH3- CH - CH2 - CH-
            Ι                    Ι
           CH3              CH3

مرکب کا نام لکھتے وقت، ایسے شاخ دار زنجیر الکائل (Alkyl) گروپ کا نانم قوسین (Paranthesis) میں لکھا جاتا ہے۔ قائم مقام گروپوں کے معمولی نام حروفِ تہجی کی ترتیب میں لکھتے وقت سابقے آئسو (Iso) اور نیو (Neo) الکائل گروپ کے بنیادی نام کے اجزا تصور کیے جاتے ہیں۔ سابقے سیک- (sec-) اور ٹرٹ (tert-) بنیادی نام کے اجزا نہیں مانے جاتے ہیں۔ آئسو- (Iso-) اور اس سے متعلق عام سابقوں الکائل گروپ کا نام لکھنے کے لیے IUPAC تسمیہ کے استعمال کی اجازت ہے جب تک کہ ان میں مزید قائم مقام گروپ نہ ہوں۔ کثیر قائم مقام گروپ والے مرکبات کے لیے مندرجہ ذیل قاعدے یاد رکھنے چاہئیں:
  • اگر برابر سائز کی دو زنجیریں ہوں تو اس زنجیر کو منتخب کرنا ہوگا جس میں جانبی زنجیروں کی تعداد زیادہ ہے۔
  • زنجیر کے انتخاب کے بعد نمبر اس کنارے سے دیے جائیں گے جو قائم مقام گروپ کے نزدیک ہے۔ 
10         9        8        7        6  515
CH2- CH2- CH2-CH2-CH   CH
                                                 41
                                                  CH2
                                                  3
                                        CH3-C-CH
                                            ι
                                         CH2CH3
                                             2      1
5-(2-Ethylbutyl)-3.3-dimethyldecane(and)not
5-(2-2-Dimethylbutyl  -3 ethyldecane
                           CH(CH3)2
1           2         3      4     5     6         7       8        9    10
CH3- CH2- CH2-CH-CH-CH2-CH2-CH2- CH2-CH3 
                                       Ι
                               CH3-CH-CH2-CH3 
5-sec-Butyl-4-isopropyldecane
1           2       3        4      5    6        7       8       9   
CH3-CH2-CH2-CH2-CH-CH2-CH2-CH2-CH3
16
5-(2,2-Dimethylpropyl)nonane
سائیکلک مرکبات (Cyclic Compounds): ایک سیرشدہ یک سائیکلک (Saturated Monocyclic) مرکب کا نام اس کے نظیری مستقیم زنجیر والے الکین (Alkane) سے پہلے سابقہ سائیکلو (Cyclo) لگا کر لکھا جاتاہے۔ اگر جانبی زنجیریں (Side Chains) بھی ہوں تو اوپر دیے ہوئے قاعدوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ کچھ سائیکلک مرکبات کے نام ذیل میں دیے گئے ہیں۔
Alphabetical order
ofmmbering
17
3-Ethyl-1-1 dimethylcyclohexane
نہیں )1-ethyl-3.3 dimethylcyclohexane)

مسئلہ 12.7

کچھ ہائڈروکاربنوں کے IUPAC نام اور ساخت ذیل میں دیے گئے ہیں۔ وضاحت کیجیے کہ قوسین میں دیے ہوئے نام کیوں درست نہیں ہیں؟

(a) CH3-CH-CH2-CH2-CH2-CH-CH-CH2-CH2
                   Ι                                Ι          Ι
                  CH3                          CH3     CH3
2.5.6-Trimethyloctane
نہیں3.4.7 Trimethyloctane
(b)  CH3-CH2-CH-CH2-CH-CH2-CH3
                           Ι                 Ι
                            CH2CH3  CH3
3-Ethyl-5-methyleptane
نہیں5 - Ethyl-3methyeptane

حل

(a) مقام کی نشاندہی کرنے والے کم ترین عدد 2، 5، 6 اعداد 3، 5، 7 سے کم ہیں۔ (b) قائم مقام گروپ مساوی مقام پر ہیں مقابلتاً چھوٹا عدد اس کو دیا جائے گا جو انگریزی حروفِ تہجی کے حساب سے پہلے آتا ہے۔


12.5.3 ان نامیاتی مرکبات کا تسمیہ جن میں تفاعلی گروپ شامل ہیں 

(Nomenclature of Organic Compounds having Functional Group(s)]


ایک تفاعلی گروپ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، ایک ایٹم یا یکتا طور پر آپس میں بندھے ہوئے ایٹموں کا گروپ ہے جو ایک نامیاتی سالمہ میں عام طور سے کیمیائی تعاملیت کا مقام ہوتا ہے۔ وہ مرکبات جن میں یکساں تفاعلی گروپ ہوتے ہیں، ان کے تعاملات بھی یکساں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر CH3OH، CH3CH2OH اور – CH2)2CHOH) ان سب میں تفاعلی گروپ OH ہے اور یہ تینوں سوڈیم دھات سے تعامل کر کے ہائڈروجن خارج کرتے ہیں۔ تفاعلی گروپوں کی موجودگی ہمیں نامیاتی مرکبات کو مختلف درجات (Classes) میں منظم کرنے کا اہل بناتی ہے۔ ان کے سابقوں اور لاحقوں کے ساتھ، کچھ تفاعلی گروپوں کی مثالیں، ان نامیاتی مرکبات کی مثالوں کے ساتھ جن میں وہ تفاعلی گروپ پائے جاتے ہیں، جدول 12.4 میں دی گئی ہیں۔
سب سے پہلے سالمہ میں پائے جانے والے تفاعلی گروپ کی شناخت کی جاتی یہ جو مناسب سابقہ کا انتخاب متعین کرتی ہے۔ کاربن ایٹموں کی اس سب سے لمبی زنجیر پر جس میں تفاعلی گروپ شامل ہوتا ہے، اس طرح نمبر ڈالے جاتے ہیں کہ تفاعلی گروپ جس کاربن ایٹم سے منسلک ہو، اس پر ممکنہ کم ترین عدد آئے۔ جدول 12.4 میں دیے گئے لاحقوں کا استعمال کر کے مرکب کا نام حاصل کیا جاتا ہے۔
کثیر تفاعلی مرکبات میں، ایک تفاعلی گروپ کو بطور اصل تفاعلی گروپ (Prinicipal Functional Group) منتخب کیا جاتا ہے اور پھر اس بنیاد پر مرکب کا نام دیا جاتا ہے۔ باقی ماندہ تفاعلی گروپوں کو، جو ماتحت تفاعلی گروپ ہیں، مناسب سابقوں کا استعمال کرکے بطور قائم مقام، نام دے جاتے ہیں۔ پرنسپل تفاعلی گروپ کا انتخاب ترجیح کی ترتیب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ کچھ تفاعلی گروپوں کی ترجیح کی نزولی ترتیب ہے:
COCI,-COOR (R=ارتکال گروپ),-SO3H,- COOH
>C=<,-NH,-OH,>C=O,-HC=O,-CN,-COVH
                                                      -C=C-
〈-OR〉الکوسی,-NO2,(F, CI, Br, 1
 وغیرہ ہمیشہ سابقہ قائم مقام ہیں۔ اس لیے ایک مرکب جس میں الکوحل (alcohol) اور کیٖٹو (Keto) دونوں گروپ شامل ہوں، اس کا نام Hydroxyalkanone ہوگا، کیونکہ کیٖٹو گروپ (Keto Group) کو ہائڈروکسل (Hydroxyl) گروپ پر ترجیح دی جائے گی۔
مثال کے طور پر HOCH2(CH2)3CH2COCH3 کا نام 7-hydroxyheptan-2-one 7 ہوگا،oxoheptan-7-o1 نہیں۔ اسی طرح BrCH2CH = CH2 کا نام1-ene3-bromobropہوگا1-bromoprop     نہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے ایک سے زیادہ تفاعلی گروپ موجود ہوں تو ان کی تعداد کی نشاندہی کلاس لاحقہ (Class Suffix) سے پہلے ڈائی (di)، ٹرائی (tri)، وغیرہ لگا کر کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں کلاس لاحقہ سے پہلے موروثی الکین (Alkane) کا پورا نام لکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر CH2(OH)CH2(OH) کا نام ethane–1, 2–diol ہوگا۔ لیکن وہ مرکبات جن میں ایک سے زیادہ دوہرے یا تہرے بند ہوتے ہیں، موروثی الکین (Alkane) میں آخری ’’حروف 'ne' نہیں لکھے جاتے۔ مثلاً CH2=CH-CH=CH2کانام
buta-1,3-diene ہوگا۔

مسئلہ 12.8

مرکبات (i) تا (iv) کے نام ان کی دی ہوئی ساخت کی بنیاد پر لکھیے۔

        1        2       3      4        5      6        7      8      
(i)  CH3-CH2-CH- CH2- CH2-CH- CH2-CH3
                          Ι                           Ι
                         OH                       CH3

حل

کیونکہ پایا جانے والا تفاعلی گروپ الکوحل (Alcohol, OH) ہے، اس لیے لاحقہ '–ol' ہے۔ 
اس سب سے لمبی کاربن زنجیر میں، جس میں OH شامل ہے، 8 کاربن ایٹم ہیں۔ اس لیے اس کے مطابق سیر شدہ ہائڈروکاربن، آکٹین (Octane) ہے۔
–OH کاربن ایٹم 3 پر ہے۔ اس کے علاوہ ایک میتھائل (Methyl) گروپ 6th کاربن سے جڑا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch11_374b

حل

موجود تفاعلی گروپ کیٹون (C = O<) ہے، اس لیے لاحقہ '–one' ہے۔ دو کیٹو (Keto) گروپوں کی موجودگی کو di سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا لاحقہ dione ہو جائے گا دو کیٹوگروپ کاربن 2 اور 4 پر ہیں۔ سب سے لمبی زنجیر میں 6 کاربن ایٹم ہیں، اس لیے منظم نام Hexane-2, 4-dione ہے۔
5166_Keemiyan II_Ch11_374d

حل

یہاں دو تفاعلی گروپ، موجود ہیں جن کے نام ہیں، کیٹون (Ketone) اور کاربوکسی لِک (Carboxylic) ایسڈ گروپ۔ اس لیے موروثی زنجیر کا لاحقہ 'oic' acid ہوگا۔ زنجیر کے نمبر –COOH تفاعلی گروپ کے کاربن سے شروع ہوں گے۔ زنجیر میں کاربن 5 پر کیٹوگروپ کی نشاندہی 'oxo' کے ذریعے کی جائے گی۔ اس طرح سب سے لمبی زنجیر جس میں پرنسپل تفاعلی گروپ شامل ہے، 6 کاربن ایٹم پر مشتمل ہے۔ اس لیے موروثی ہائڈروکاربن ہیکسین (Hexane) ہے۔ اس لیے مرکب کا نام Hexa-1.3-die-5yne ہے۔ 
(i)      CH=C -CH=CH-CH=CH2
            6     5     4      3     2      1

حل

دو C = C تفاعلی گروپ کاربن ایٹم 1 اور 3 پر موجود ہیں جبکہ C = C تفاعلی گروپ کاربن 5 پر ہے۔ یہ گروپ بالترتیب 'diene' اور 'yne' لاحقوں سے ظاہر کیے جاتے ہیں۔ تفاعلی گروپوں پر مشتمل، کاربن ایٹموں کی سب سے لمبی زنجیر میں 6 کاربن ایٹم ہیں، اس لیے موروثی ہائڈروکاربن ہیکسین 'hexane' ہے۔ اس لیے مرکب کا نام Hexa–1, 3-diene-5-yne ہے۔

مسئلہ 12.9

(i) 2-Chlorohexane,
(ii) Pent-4-en-2-ol,
(iii) 3-Nitrocyclohexene,
(iv) Cyclohex-2-en-1-ol,
(v) 6-Hydroxy-heptanal.
کی ساخت اخذ کیجیے۔

حل

Hexane(i) زنجیر میں 6 کاربن ایٹموں کو ظاہر کرتا ہے۔ تفاعلی گروپ Chloro کاربن 2 پر موجود ہے۔ اس لیے مرکب کی ساخت ہے: CH3 CH2 CH2CH2 CH (Cl)CH3۔
5166_Keemiyan II_Ch12_374h pentنشاندہی کرتا ہے کہ موروثی ہائڈروکاربن میں زنجیر میں 5 کاربن ایٹم ہیں۔ 'en' اور 'ol' تفاعلی گروپوں C=C اور OH– سے مطابقت رکھتے ہیں جو بالترتیب کاربن ایٹم 4 اور 2 پر ہیں۔ اس لیے ساخت ہے:
 CH2 = CHCH2CH(OH)CH3 



جدول4۔12: نامیاتی مرکبات کےکچھ تفاعلی کروپ اور کلاس

مثال IUPAC
گروپ لاحقہ
IUPAC
گروپ سابقہ
تفاعلی گروپ
ساخت
مرکباتکا
کلاس
Butane.
CH3(CH2)2CH3
But-1-ene,
CH2=CHCH2CH3
But-1-yne.
CH=CCH2CH3
Benzene.18
1-Bromobutane.
CH3(CH2)2Br
Butane-2-o1.
CH3CH2CHOCH3
Butanal,
CH3(CH2)CHO
Butan-2-one.
CH3CH2COCH3
Pentanenitrile.
CH3CH2CH2CH2CN
Ethoxyethane,
CH3CH2OCH2CH3
Butanoic acid,
CH3(CH2)2CO2H
Sodium butanoate,
CH3(CH2)2CO-2Na+
Metthyl propanoate.
CH3CH2COOCH3
Butanoyl chloride.
CH3(CH2)2COCI
Butan-2-amine.
CH3CHNH2CH2CH3
Butanamide.
CH3(CH2)2CONH2
1-Nitrobutane.
CH3(CH2)3NO2
ane-

ene-
yne-
-

o1-
al-

one-

nitrile
-
oic acid-
oate-
oate-
oyl halide-



amine-









amide
-
-
-
-


halo

hydroxy
formyl
or oxo

oxo-

cyano

alkoxy
carboxy

-
alkoxycarbony1
halocarbony1

amino
carbamoy1

nitro
-
>c=c<

-c=c-
.
-

-x
(X=F,CI,Br,1
-OH
-CHO

>C=O

-C=N
-R-O-R-
-COOH

-COO-
-COOR

-COX
(X=F,CI,Br,1)
iNH.>N-
-CONH2.
-CONHR.
-CONR2
-NO2
ALkanes
Alkenes
Alkynes

Arenes


Halides

Alcohols
Aldehydes

ketones

Nitriles

Ethers

carboxylic acids
Carboxylate ions
Esters

Acyl halides

Amines

Amides

Nitros


5166_Keemiyan II_Ch12_376a 6ممبران پر مشتمل حلقہ، جس میں ایک کاربن- کاربن دہرابند شامل ہوتا ہے، Cyclohexane کی نمائندگی کرتا ہے اور جس پر نمبر (I) میں دکھائے گئے طریقے سے ڈالے جاتے ہیں۔ سابقہ 3-nitro کا مطلب ہے کہ ایک نائٹرو گروپ C–3 سے منسلک ہے۔ اس لیے مرکب کا مکمل ساختی فارمولہ (II) ہے۔ دہرابند لاحقہ تفاعلی گروپ ہے جبکہ NO2 سابقہ تفاعلی گروپ ہے۔ اس لیے دہرے بند کو NO2 گروپ پر فوقیت دی جاتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_376b


5166_Keemiyan II_Ch12_376c کا مطلب ہے کہ C – 1 پر ایک OH– گروپ موجود ہے۔ OH– لاحقہ تفاعلی گروپ ہے اور اسے C = C پر فوقیت حاصل ہے۔ اس لیے ساخت II میں دکھائی گئی ہے:

5166_Keemiyan II_Ch12_376d

Heptanal v ظاہر کرتا ہے کہ مرکب ایک ایلڈی ہائڈ (Aldehyde) ہے، جس کی موروثی زنجیر میں 7 کاربن ایٹم ہیں۔ 6-hydroxy نشاندہی کرتا ہے کہ OH– گروپ کاربن 6 سے منسلک ہے، مرکب کا ساختی فارمولہ ہے: CH3CH(OH)CH2CH2CH2CH2CHO کاربن زنجیر پر نمبر ڈالتے وقت CHO– گروپ کا کاربن ایٹم بھی شامل کیا جاتا ہے۔

12.5.4 قائم مقام بینزین مرکبات کا تسمیہ

(Nomenclature of Substituted Benzene Compounds)

ایسے بینزیٖن مرکبات کے IUPAC تسمیہ کے لیے جن میں قائم مقام گروپ شامل ہیں، قائم مقام گروپ کو لفظ بینزیٖن کے سابقہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل مثال میں دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ کئی قائم مقام گروپوں والے بینزیٖن مرکبات کے عام نام بھی (جنھیںذیل میں بریکٹ میں لکھا گیا ہے) آفاقی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

19
Methylbenzene      Methoxybenzene        Aminobenzene
(Toluene)                    (Anisole)                    (Aniline)
20
Nitrobenzene             Bromobenzene

اگر بینزین حلقہ میں دو قائم مقام گروپ شامل ہوں تو قائم مقام گروپوں کا مقام حلقہ کے کاربن ایٹموں کے نمبر سے معرف کیا جاتاہے اور یہ نمبر اس طرح دیے جاتے ہیں کہ قائم مقام گروپ کم ترین ممکنہ نمبر سے منسلک ہوں۔ مثال کے طور پر مرکب (b) کا نام 1,3-dibromobenzene ہے، 1,5-dibromobenzene نہیں۔

21
(a)                    (b)                        (c)
1-2- Dibromo-  1.2-Dibromo-    1.4-Dibromo-
benzene                 benxene            benzene

تسمیہ کے عام نظام میں نسبتی مقامات 1. 2 ؛ 1.3 اور 1.4 کی نشاندہی کرنے کے لیے اصطلاحات آرتھو (Ortho, o)، میٹا (Meta, m) اور پیرا (Para, p)، بالترتیب استعمال کی جاتی ہیں۔ اس لیے (b) 1.3-dibromobenzene کا عام نام m-dibromobenzene ہے (meta کا مخفف m) اور Dibromobenzene کے دیگر آئسومر1.2 a. isomers  اور 5166_Keemiyan II_Ch12_376h کے نام بالترتیب آرتھو (یا صرف o-) اور پیرا یا صرف pDibromobenzene ہیں۔
tri یا اس سے زیادہ قائم مقام گروپوں والے بینزین مشتقوں (Derivatives) میں یہ سابقے استعمال نہیں کیے جاسکتے اور مرکبات کے نام حلقہ پر قائم مقام گروپوں کے مقام کی مناسبت سے لکھے جاتے ہیں جس کے لیے کم ترین مقام کا قاعدہ استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ صورتوں میں بینزین مشتقوں کے عام نام بطور بنیادی مرکب استعمال کیے جاتے ہیں۔
بنیادی مرکب کے قائم مقام کو نمبر 1 تفویض کیا جاتا ہے اور پھر نمبر اس سمت میں ڈالے جاتے ہیں کہ دوسرے قائم مقام گروپ کو کم ترین عدد ملے۔ نام میں یہ قائم مقام گروپ انگریزی کے حروفِ تہجی کی ترتیب میں لکھے جاتے ہیں۔ کچھ مثالیں نیچے دی گئی ہیں:

22
1-chloro-2,4 ddinitrobenzene
(not 4-chloro.1.3-dinitrobenzene)
23
2-chloro-1methyl-4 nitrobenzene
(not 4 methyl-5 chloro- nitro-nitrobenezene)
24
2-chloro-4 methylanisole  4 Ethyl- 2 methylaniline
25
3.4-Dimethylphenol

جب ایک بینزیٖن حلقہ ایک تفاعلی گروپ کے ساتھ الکین (Alkane) سے منسلک ہوتا ہے تو اسے مورث کے بجائے قائم مقام مانا جاتا ہے۔ بطور قائم مقام بینزین کا نام Phenyl ہے (C6H5، جس کا مخفف Ph ہے)۔

مسئلہ 12.10

مندرجہ ذیل کے ساختی فارمولے لکھیے:
(a) o-Ethylanisole, 
(b) p-Nitroaniline, 
(c) 2,3 - Dibromo -1 - phenylpentane,
(d) 4-Ethyl-1-fluoro-2-nitrobenzene

حل

5166_Keemiyan II_Ch12_377b

12.6  آئسومیرزم (Isomerism)

جب دو یا دو سے زیادہ ایسے مرکبات جن کا سالماتی فارمولہ یکساں ہو لیکن خاصیتیں مختلف ہوں تو یہ مظہر آئسومیرزم (Isomerism) کہلاتا ہے۔ ایسے مرکبات آئسومرس (Isomers) کہلاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل فلو چارٹ مختلف قسم کی آئسومیرزم دکھاتا ہے۔

12.6.1 ساختی آئسومیرزم (Structural Isomerism)

ایسے مرکبات جن کا سالماتی فارمولا یکساں ہوتا ہے لیکن ساخت (جس انداز میں ایٹم دوسرے سے منسلک ہیں) مختلف ہوتی ہیں انہیں ساختی آئسومر کے تحت درجہ بند کیا جاتا ہے۔ مختلف قسم کی آئسومیرزم کی کچھ مخصوص مثالیں ذیل میں دی گئی ہیں۔

(i) زنجیری آئسومیرزم : جب دو یا دو سے زیادہ مرکبات کا یکساں سالماتی فارمولا ہوتا ہے لیکن کاربن ڈھانچے (Skeletons) مختلف ہوتے ہیں تو انہیں زنجیری آئسومر کہتے ہیں اور اس مظہر کو زنجیری آئسومیرزم کہا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر C5H12 تین مرکبات کو ظاہر کرتا ہے:

CH3
ι
CH3CH2CH2CH2CH3      CH3-CHCH2CH3
     Pentane                          Isopentane
                                              (2-Methylbutane)
CH3
ι
CH3-C-CH3
ι
CH3
Neopentane
(2.2-Dimethylpropane)

(ii) پوزیشن آئسومیرزم : جب دو یا دو سے زیادہ مرکبات کاربن ڈھانچے پر قائم مقام ایٹم یا تفاعلی گروپ کے مقام کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں تو انہیں پوزیشن آئسومر کہتے ہیں اور اس مظہر کو پوزیشن آئسومیرزم کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سالماتی فارمولا C3H8O دو الکوحل کو ظاہر کرتا ہے:

OH
|
     CH3CH2CH2OH CH3–CH–CH3    
Propan-1-ol Propan-2-ol

(iii) تفاعلی گروپ آئسومیرزم (Functional Group Isomerism) : دو یا دو سے زیادہ ایسے مرکبات جن کے سالماتی فارمولے یکساں ہوں لیکن تفاعلی گروپ مختلف ہوں، تفاعلی آئسومر کہلاتے ہیں اور یہ مظہر تفاعلی گروپ آئسومیرزم کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر سالماتی فارمولا C3H6O ایک ایلڈی ہائڈ اور ایک کیٹون کو ظاہر کرتا ہے۔ 

O H
 ||
     CH3 – C – CH3 CH3 – CH2 – C = O    
Propanone Propanal

(iv) میٹامیرزم (Metamerism): یہ سالمہ میں تفاعلی گروپ کی دونوں سمتوں میں مختلف الکائل زنجیروں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر C4H10O، Methoxypropane  یعنی CH3OC3H7 اور Ethoxyethane  یعنی C2H5OC2H5 کو ظاہر کرتا ہے۔

12.6.2 مکانی آئسومیرزم (Stereoisomerism)

ایسے مرکبات جن کی ترکیب (Constitution) یکساں ہوتی ہے اور شریک گرفت بند کا تسلسل (Sequence) بھی یکساں ہوتا ہے لیکن وہ اسپیس میں اپنے ایٹموں یا گروپوں کے نسبتی مقام کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، اسٹیریوآئسومر کہلاتے ہیں۔ آئسومیرزم کی یہ مخصوص قسم اسٹیریو آئسومیرزم کہلاتی ہے، جسے جیومیٹریکل اور آپٹکل آئسومیرزم میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔ 

12.7  نامیاتی تعامل کے میکانزم کے بنیادی تصورات (Fundamental Concepts In Organic Reaction Mechanism)

ایک نامیاتی تعامل میں، نامیاتی سالمہ (جسے Substrate بھی کہتے ہیں) ایک مناسب حملہ آور ریجنٹ (Reagent) سے تعامل کرتا ہے اور ایک یا ایک سے زیادہ ضمنی اور حتمی ماحصلات تشکیل دیتا ہے۔
عمومی تعامل مندرجہ ذیل شکل میں دکھایا جاسکتا ہے۔
ائسومیرزم
مکانی آئسومیرزم                ساختی آئسومیرزم
آپٹیکل آئسومیرزم     جیومیٹریکل آئسومیرزم    مینا میرزم   تفاعلی گروپ آئسومیرزم  پوزیشن آئسومیرزم   زنجیری ائسومیرزم
ماحصل↔(انٹرمیڈیٹ)   حملہ آور بجٹ نامیاتی سالمہ
                   ضمنی ماحصل          Substrate

5166_Keemiyan II_Ch12_378d

5166_Keemiyan II_Ch12_379a

Substrate وہ متعامل (Reactant) ہے جو نئے بند کو کاربن مہیا کرتا ہے اور دوسرے متعامل کو ریجنٹ کہتے ہیں۔ اگر دونوں متعاملات کاربن مہیا کرتے ہیں تو انتخاب بے قاعدہ (Arbitrary) ہے اور اس صورت میں جس سالمہ پر ہماری توجہ مرکوز ہے وہ Substrate کہلاتا ہے۔
ایسے تعامل میں، دو کاربن ایٹموں کے درمیان یا ایک کاربن اور کسی اور ایٹم کا درمیانی، شریک گرفت بند ٹوٹتا ہے اور نیا بند تشکیل پاتا ہے۔ ہر ایک قدم کا سلسلہ وار بیان، جن میں الیکٹران کی حرکت، بند شکستگی (Bond Clevage) اور بند کی تشکیل (Bond Formation) کے دوران توانیات (Energetics) اور متعاملات کے ماحصلات میں تبدیل ہونے کی شرح (Kinetics) کی تفصیل شامل ہو تعامل میکانزم (Reaction Mechanism) کہلاتا ہے۔ تعامل میکانزم کی معلومات، نامیاتی مرکبات کی متعاملیت کو سمجھنے اور ان کی تالیف کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔
مندرجہ ذیل سیکشنوں میں ہم کچھ ایسے اصول سیکھیں گے جو یہ وضاحت کرتے ہیں کہ یہ تعامل کیسے ہوتے ہیں۔

12.7.1 شریک گرفت بند کا انشقاق 

( Fission of a Covalent Bond)

ایک شریک گرفت بند شکستہ ہوسکتا ہے یا تو (i) ہیٹرولائٹک شکستگی کے ذریعے یا (ii) ہومولائٹک شکستگی کے ذریعے۔
ہیٹرولائٹک شکستگی (Heterolytic Cleavage) میں، بند اس طرح ٹوٹتا ہے کہ الیکٹرانوں کا ساجھے کا (Shared) جوڑا ایک ہی جز (Fragment) کے ساتھ رہتا ہے۔
ہیٹرولسس (Heterolysis) کے بعد ایک ایٹم کی Sextet الیکٹرانی ساخت ہوتی ہے اور اس پر مثبت برقی چارج ہوتا ہے۔ جبکہ دوسرا گرفت آکٹیٹ (Valence Octet) ہوتا ہے اور اس میں کم از کم ایک اکیلا جوڑا اور منفی برقی چارج ہوتا ہے۔ اس لیے Bromomethane کی ہیٹرولائٹک شکستگی سے 5166_Keemiyan II_Ch12_379bحاصل ہوں گے، جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے:

5166_Keemiyan II_Ch12_379c

ایک نوع (Species) جس میں ایک کاربن ایٹم الیکٹران کا Sextet رکھتا ہے اور اس پر مثبت چارج ہوتا ہے، کاربوکیٹ آین (Carbocation) کہلاتا ہے، جسے پہلے کاربونیم آین (Carbonium Ion) کہا جاتا تھا۔ 5166_Keemiyan II_Ch12_379d، میتھائل کیٹ آین (Methyl Cation) یا میتھائل کاربونیم آین (Methyl Carbonium Ion) کہلاتا ہے۔ کاربوکیٹ آینوں کی درجہ بندی ابتدائی(Primary)، ثانوی (Secondary) اور ثلاثی (Tertiary) کے تحت کی جاتی ہے جو اس بات پر منحصر ہے کہ مثبت چارج شدہ کاربن سے براہِ راست منسلک کاربن 1، 2 یا 3 ہیں۔ کاربوکیٹ آینوں کی کچھ اور مثالیں ہیں: 5166_Keemiyan II_Ch12_379e (Ethyl Cation، ایک ابتدائی کاربوکیٹ آین)، 5166_Keemiyan II_Ch12_379f (Isopropyl Cation، ایک ثانوی کاربوکیٹ آین) اور 5166_Keemiyan II_Ch12_379g(Tertbutyl Cation ایک ثلاثی کاربوکیٹ آین)۔ کاربوکیٹ آین بہت زیادہ غیر مستحکم ہوتے ہیں اور تعامل پذیر انواع ہیں۔ مثبت چارج والے کاربن سے براہ راست منسلک الکائل گروپ کاربوکیٹ آینوں کو استحکام دیتے ہیں۔ اس کی وجہ امالی (Inductive) اور بیش جفتگی (Hyperconjugation) اثرات ہیں، جو آپ سیکشن 12.7.5 اور 12.7.9 میں پڑھیں گے۔ کاربوکیٹ آینوں کے استحکام کی مشاہدہ کی گئی ترتیب ہے:
5166_Keemiyan II_Ch12_379h ان کاربوکیٹ آینوں کی شکل ٹرائی گونل پلینر ہوتی ہے اور مثبت چارج شدہ کاربن sp2 مخلوط شدہ ہوتا ہے۔ اس لیے CH3  کی شکل کو سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ تین مساوی (C (sp2 مخلوط شدہ اربٹل کے ہائڈروجن ایٹموں میں سے ہر ایک کے 1s اربٹل کے ساتھ منطبق (Overlap) ہونے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی شکل ہے۔ ہر ایک بند کوC〉sp²〈His 5166_Keemiyan II_Ch12_379i سگما بانڈ کے طور پر

5166_Keemiyan II_Ch12_379j

 ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ باقی بچا ہوا کاربن اربٹل سالماتی مستوی پر عمود ہوتا ہے اور اس میں کوئی الیکٹران نہیں ہوتا شکلa 12.3
ہیٹرولائٹک شکستگی سے ایک ایسی نوع بھی حاصل ہوسکتی ہے، جس میں کارب کو الیکٹرونوں کا ساجھے کا جوڑا ملتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کاربن سے منسلک گروپ Z الیکٹران جوڑے کے بغیر الگ ہوتا ہے، تو میتھائل این آین (Methylanion H3C) تشکیل پاتا ہے:

5166_Keemiyan II_Ch12_380b

ایسی کاربن انواع، جن کے کاربن ایٹم پر منفی چارج ہوتا ہے، کارب این آین (Carbanions) کہلاتی ہیں۔کارب این آئن میںکاربن کی مخلوطیت Sp3 ہوتی ہے اوراس کی شکل مسخ ٹیٹراہیڈرون جیسی ہوتی ہے جیسا کہ شکل12.3(b)  میں دکھائی گئی ہے۔

26
شکل (b) 3۔12 میتھائل کارب این آئی کی شکل

 کارب این آین بھی غیر مستحکم اور تعامل پذیر انواع ہیں۔ ایسے نامیاتی تعاملات ہیٹرولائٹک بند شکستگی کے ذریعے انجام پاتے ہیں، آینی (Ionic) یا ہیٹروپولر (Heteropolar) یا صرف قطبی (Polar) تعاملات کہلاتے ہیں۔
ہومولائٹک شکستگی(Homlytic cleavage) میں شریک گرفت بند میں ساجھے کے جوڑے کا ایک ایک الیکٹران ہر ایک بندش شدہ ایٹم پر جاتا ہے۔ اس لیے ہومولائٹک شکستگی میں الیکٹرون جوڑے کے بجائے واحد الیکٹران حرکت کرتا ہے۔ واحد الیکٹران کی حرکت ’’آدھے سر والے خمیدہ تیر) (مچھلی کا کانٹا 5166_Keemiyan II_Ch12_380f) کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے۔ ایسی شکستگی کے نتیجے میں تعدیلی  انواع تشکیل پاتی ہیں (ایٹم یا گروپ) جن میں ایک بغیر جوڑے کا الیکٹران ہوتا ہے۔ یہ انواع آزاد ریڈیکل (Free Radical) کہلاتی ہیں۔ کاربوکیٹ آینوں اور کاربواین آینوں کی طرح آزاد ریڈیکل بھی بہت زیادہ تعامل پذیر ہوتے ہیں۔ ایک ہومولائٹک شکستگی کو مندرجہ ذیل طریقے سے دکھایا جاسکتا ہے:
حرارت یا روشنی
الکائل آزادریڈیکل

5166_Keemiyan II_Ch12_380e

الکائل ریڈیکل کی درجہ بندی ابتدائی، ثانوی اور ثلاثی ریڈیکل کے تحت جاتی ہے۔ الکائل ریڈیکل کا استحکام، جیسے جیسے ہم ابتدائی سے ثلاثہ کی طرف جاتے ہیں، بڑھتا جاتا ہے۔

CH3 <CH2CH3<CH(CH3 <CH3 )3
ٹرٹ -بیو ٹائل    آئسوپروپائل     ایتھائل      میتھائل
آزاد                  آزاد              آزاد      آزاد
ریڈیکل             ریڈیکل         ریڈیکل     ریڈیکل

ایسے نامیاتی تعاملات جو ہومولائٹک انشقاق کے ذریعے ہوتے ہیں، آزاد ریڈیکل یا ہم قطبی یا غیر قطبی تعاملات کہلاتے ہیں۔

12.7.2 سبسٹریٹ (Substrate) اورریجینٹ (Reagent)

نامیاتی مرکبات کے تعامل کے دوران ،عام طورپر، آئن نہیں بنتے: سالمات خود تعامل میں شرکت کرتے ہیں۔ آسانی کے لیے ایک متعامل کو(Substrate) اوردوسرے کو(Reagent) کانام دیا ہے۔ عام طورپر جس سالمے کا کاربن نئی بندش (Bond) بنانے میں شامل ہوگا وہ Substrate کہلاتا ہے اوردوسرا Reagent جب کابن ۔کاربن بند (Carbon-carbon bond) بنتا ہے تو متعاملوں میں صوابدیدی (Arbitrary) کے تحت Substrate اور Reagent کانام دیا جاتا ہے اوریہ اس پرمنحصر ہے کہ کس سالمے کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔مثال:

CH2=CH2  +Br↔ CH2=Br-CH2Br
(Substrate)    (Reagent)         ماحصل(product)
27
نیوکلیوفائل اور الیکٹروفائل
(Nucleophiles and Electrophiles)

Reagent،Substrate کی عمل دار جگہ پر حملہ کرتا ہے۔ عمل دار جگہ (Reactive site) سالمے کی الیکٹران کی کمی والا حصہ ہوسکتا ہے(مثبت عمل دار جگہ) مثلاً ایٹم کی نامکمل الیکٹرانی مدار یا سالمے کے ڈائی پول کا مثبت سرا۔ اگر حملہ ور اسپیشی میں الیکٹران بہت زیادہ ہوں تو وہ ان جگہوں پرحملہ کرتے ہیں۔اگر حملہ ور اسپیشی میں الیکٹران کم ہوں تو Substrate سالمے کا وہ حصہ جو الیکٹران فراہم کرسکتاہو،عمل دار جگہ کہلائے گا مثلاً دوہرے بند(Double bond) کے پائی(N) الیکٹران۔
وہ  ریجنٹ (Reagent) جو ایک الیکٹران جوڑاعمل دارجگہ پر فراہم کرتا ہے، نیوکلیوفائل (Nucleophile, Nü) یعنی کہ نیوکلیس مائل (Nucleus Seeking) کہلاتا ہے اور ایسا تعامل نیوکلیوفِلِک (Nucleophilic) کہلاتا ہے۔ وہ ریجنٹ (Reagant) جو ایک الیکٹران جوڑاعمل دار جگہ لے جاتا ہے الیکٹروفائل (+Electrophile, E) یعنی کہ الیکٹران مائل (Electron Seeking) کہلاتا ہے یہ تعامل الیکٹروفِلِک (Electrophilic) کہلاتا ہے۔
ایک قطبی نامیاتی تعامل کے دوران، ایک نیوکلیوفائل، Substrate کے الیکٹروفِلِک مرکز پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اسی طرح الیکٹروفائل، نیوکلیوفِلِک مرکز پر حملہ کرتے ہیں، جو کہ الیکٹرانوں کی فراوانی والے Substrate کا مرکز ہے۔ اس طرح، الیکٹروفائل Substrate سے، اس وقت الیکٹران حاصل کرتے ہیں۔ جب دونوں میں بندشی باہمی عمل ہوتا ہے۔Substate سے الیکٹروفائل پر ایک الیکٹران جوڑے کی حرکت دکھانے کے لیے خمیدہ تیر کی علامت استعمال کی جاتی ہے۔ نیوکلیوفائل کی کچھ مثالیں منفی چارج شدہ وہ آین ہیں جن میں الیکٹرانوں کا واحد جوڑا ہوتا ہے، جیسے ہائڈروآکسائڈ (HO)، سائنائڈ (NC) آین اور کارب این آین (:R3C) تعدیلی سالمات جیسے،5166_Keemiyan II_Ch12_380i وغیرہ میں بھی کیونکہ الیکٹرانوں کا واحد جوڑا ہوتا ہے، اس لیے یہ بھی نیوکلیوفائل کی طرح عمل کرسکتے ہیں۔ الیکٹروفائل کی مثالوں میں کاربوکیٹ آین 5166_Keemiyan II_Ch12_380j اور ایسے تعدیلی سالمات شامل ہیں جن میں کاربونائل گروپ (C = O<) یا الکائل ہیلائڈ (R3 C – X، جہاں X ایک ہیلوجن ایٹم ہے) جیسے تفاعلی گروپ ہوتے ہیں۔ کاربوکیٹ آینوں میں کاربن ایٹم کا ششتیہ تشکّل (Sextet Configuration) ہوتا ہے، اس لیے اس میں الیکٹرانوں کی کمی ہوتی ہے اور یہ نیوکلیوفائل سے الیکٹرانوں کا ایک جوڑا حاصل کرسکتا ہے۔ تعدیلی سالمات جیسے الکائل ہیلائڈ، میں C – X بند کی قطبیت کی وجہ سے کاربن ایٹم پر ایک جزوی مثبت چارج (Partial Positive Charge) پیدا ہو جاتا ہے اور اس لیے کاربن ایٹم ایک ایسا الیکٹروفِلِک مرکز بن جاتا ہے، جس پر نیوکلیوفائل حملہ کرسکتا ہے۔

مسئلہ 12.11

خمیدہ تیر کے نشان کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے متعامل انٹرمیڈیئٹ کی تشکیل کو دکھائیے جب مندرجہ ذیل شریک گرفت بند کی ہیٹرولائٹک شکستگی ہوتی ہے۔ 

(a) CH3–SCH3, (b) CH3–CN, (c) CH3–Cu

حل

5166_Keemiyan II_Ch12_381a

مسئلہ 12.12

دلائل پیش کرتے ہوئے، مندرجہ ذیل سالمات/ آینوں کی نیوکلیوفائل یا الیکٹروفائل کے تحت درجہ بندی کیجیے۔
HS, BF3, C2H5O, (CH3)3 N:, 
5166_Keemiyan II_Ch12_381b

حل

 :HS, C2H5O, (CH3)3 N:H2N نیوکلیوفائل
ان انواع میں الیکٹرانوں کا بغیر ساجھے کا جوڑا ہوتا ہے جو ایک الیکٹروفائل کو دیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ اس جوڑے میں شرکت کی جاسکتی ہے۔
:BE3.CI.CH3-C=O,NO2 الیکٹروفائل
تعامل پذیر مقامات(Reactive site) پر صرف چھ گرفت الیکٹران ہوتے ہیں اور یہ نیوکلیوفائل سے ایک الیکٹران کا جوڑا لے سکتے ہیں۔ 

مسئلہ 12.13

مندرجہ ذیل میں الیکٹروفِلِک مرکز کی شناخت کیجیے:
 CH3I، CH3CN، CH3CH = O

حل

5166_Keemiyan II_Ch12_381e میں ساجھے کا کاربن ایٹم، الیکٹروفِلِک مراکز ہیں کیونکہ ان پر بند کی قطبیت کی وجہ سے جزوی مثبت چارج ہوگا۔

12.7.3 نامیاتی تعاملات میں الیکٹران حرکت (Electron Movement in Organic Reactions)

نامیاتی تعاملات میں الیکٹرانوں کی حرکت خمیدہ- تیر کے نشان سے دکھائی جاسکتی ہے۔ یہ نشان دکھاتا ہے کہ تعامل کے دوران الیکٹرانوں کی دوبارہ تقسیم سے بند میں کیسے تبدیلی ہوتی ہے۔ الیکٹرانوں کے ایک جوڑے کے مقام کی تبدیلی دکھانے کے خمیدہ تیر اس نقطہ سے شروع ہوتا ہے جہاں سے ایک الیکٹران جوڑے کی منتقلی ہوتی ہے اور اس کا سرا اس مقام پر ہوتا ہے جہاں تک الیکٹران جوڑا حرکت کرسکتا ہے۔
الیکٹران کے جوڑے کی منتقلی کو ذیل میں دکھایا گیا ہے۔ 
nبندش سےمتصل ایٹم تک 1
nبندسے متصل بندشی مقام تک-y-↔-2
ایٹم سے متصل بندشی مقام تک=y-↔3
اکیلے الیکٹران کی حرکت آدھے سر والے خمیدہ تیروں سے دکھائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہائڈروآکسائڈ آین کی منتقلی میں ایتھانول حاصل ہوتا ہے اور کلورومیتھین کے افتراق میں خمیدہ تیر استعمال کرتے ہوئے الیکٹران کی حرکت مندرجہ ذیل طریقے سے دکھائی جاسکتی ہے:

5166_Keemiyan II_Ch12_382b

12.7.4 شریک گرفت بند میں الیکٹران ہٹاؤ اثرات (Electron Displacement Effects in Covalent Bonds)

ایک نامیاتی سالمہ میں الیکٹران کا ہٹاؤ یا تو گراؤنڈ اسٹیٹ (Ground State) میں ایک ایٹم یا ایک قائم مقام گروپ کے زیر اثر یا ایک مناسب حملہ آور ریجنٹ کی موجودگی کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ سالمہ میں موجود ایٹم یا قائم مقام گروپ کے زیر اثر ہونے والے الیکٹران کا ہٹاؤ بند میں مستقل قطبیت پیدا کر سکتا ہے۔ امالی اثر اور گمک اثر اس قسم کے الیکٹران ہٹاؤ کی مثالیں ہیں۔ عارضی الیکٹران ہٹاؤ اثر کسی سالمہ میں اس وقت دکھائی دیتے ہیں جب ایک ریجنٹ اس پر حملہ کرنے کے نزدیک ہوتا ہے۔ اس قسم کا الیکٹران ہٹاؤ، الیکٹرومیرک (Electromeric) اثر یا تقطیب پذیری (Polarisability) اثر کہلاتا ہے۔ مندرجہ ذیل سیکشنوں میں ہم الیکٹرانی ہٹاؤ کی ان قسموں کے بارے میں سیکھیں گے۔

12.7.5 امالی اثر (Inductive Effect)

جب مختلف برقی منفیت (Electronegativity) والے ایٹموں کے مابین شریک گرفت بند تشکیل پاتا ہے تو الیکٹران کثافت (Electron Density) بند کے زیادہ برقی منفی ایٹم کی طرف زیادہ ہوتی ہے۔ الیکٹران کثافت کی اس منتقلی سے ایک قطبی شریک گرفت بند بنتا ہے۔ بند قطبیت کی وجہ سے نامیاتی مرکبات میں کئی مختلف الیکٹرانی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
آئیے CH3CH2Cl) Cholorethane) کو دیکھیں، جس میں C – Cl بند ایک قطبی شریک گرفت بند ہے۔ اس کی تقطیب اس طرح ہوتی ہے کہ کاربن -1 کچھ مثبت چارج (+δ) حاصل کر لیتا ہے اور کلورین کچھ منفی چارج (δ)۔ ایک قطبی شریک گرفت بند میں دو ایٹموں پر کسری (Fractional) الیکٹرانی چارجوں کو علامت کو δ (ڈیلٹا) سے ظاہر کیا جاتا ہے اور الیکٹران کثافت کی منتقلی کو ایک تیر کے ذریعے جو قطبی بند کے +δ سرے سے δ سرے کی سمت میں ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_382c

اس کے بعد، کاربن-1، جس پر جزوی مثبت چارج (+δ) پیدا ہو گیا ہے، متصل C – C بند سے کچھ الیکٹران کثافت اپنی طرف کھینچتا ہے۔ نتیجتاً کاربن 2 پر بھی کچھ مثبت چارج (+δδ) پیدا ہو جاتا ہے۔ جہاں +δδ علامت ظاہر کرتی ہے کہ کاربن -1 کے مقابلے میں یہ چارج نسبتاً چھوٹا مثبت چارج ہے۔ دوسرے الفاظ میں قطبی C – Cl بند متصل بند میں قطبیت کی امالیت کرتا ہے۔ σ بند کی ایسی تقطیب (Polarisation) جو متصل σ بند کی تقطیب کی وجہ سے ہوتی ہے، امالی اثر کہلاتی ہے۔ یہ اثر اس کے بعد کے بند تک بھی پہنچتا ہے، لیکن جیسے جیسے درمیانی بند کی تعداد بڑھتی جاتی ہے یہ تیزی سے کم ہوتا جاتا ہے اور تین بند کے بعد ناقابلِ لحاظ حد تک کم ہو جاتا ہے۔ امالی اثر قائم مقام (ایٹم/ گروپ/ گروپوں) کی منسلک کاربن ایٹم سے الیکٹران ہٹانے یا اسے الیکٹران دینے کی صلاحیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کے مطابق، قائم مقام (ایٹم / گروپ) کی درجہ بندی ہائڈروجن کی مناسبت سے الیکٹران نکالنے والے یا الیکٹران معطی گروپ کے طور پر کی جاسکتی ہے۔ ہیلوجن اور بہت سے دوسرے گروپ، جیسے نائٹرو (NO2)، سائنو (CN)، کاربوکسی (COOH)، ایسٹر (COOR)، ایری لوکسی  (Aryloxy –OAr، مثلاً OC6H5) وغیرہ الیکٹران نکالنے والے گروپ ہیں۔ دوسری طرف الکائل (Alkyl) گروپ، جیسے میتھائل (Methyl, –CH3) اور ایتھائل (Ethyl, –CH2–CH3) کو عام طور سے الیکٹران معطی گروپ سمجھا جاتا ہے۔

مسئلہ 12.14

مندرجہ ذیل سالمات کے جوڑوں میں کون سا بند زیادہ قطبی ہے:
(a) H3C–H, H3C–Br 
(b) H3C–NH2, H3C–OH
(c) H3C–OH, H3C–SH 

حل

(a) C–Br، کیونکہ Br کی برقی منفیت H کے مقابلے زیادہ ہے۔
(b) C – O، (c)  C – O

مسئلہ 12.15

CH3CH2CH2Br کے کس C – C بند میں امالی اثر کے سب سے کم ہونے کی امید ہے؟

حل

امالی اثر کی عددی قدر درمیانی بند کی تعداد کے بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ اس لیے یہ اثر کاربن -3 اور ہائڈروجن کے درمیان کے بند میں سب سے کم ہوگا۔

12.7.6 گمک ساخت (Resonance Structure)

کئی ایسے نامیاتی سالمات ہیں جن کی ساخت کی وضاحت واحد لیوس ساخت (Lewis Structure) کے ذریعے نہیں کی جاسکتی۔ اس کی ایک مثال بینزیٖن ہے۔ اس کی سائیکلک ساخت جس میں متبادل، C – C اکہرے اور C = C دوہرے بند ہوتے ہیں (جیسا کہ دکھایا گیا ہے)، اس کی مخصوص خاصیتوں کی وضاحت کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_383a
Benzene
اوپر دیے ہوئے اظہار کے مطابق، بینزیٖن میں دو مختلف بندشی لمبائیاں ہونی چاہئیں، ایک C – C اکہرے بند کی وجہ سے اور ایک C = C دوہرے بند کی وجہ سے لیکن جیسا کہ تجربے سے معلوم ہوا ہے بینزیٖن میں یکساں C – C بندشی فاصلے ،pm 139  ، ہوتے ہیں جو کہ C – C اکہرے بند (154 pm) اور C = C دوہرے بند (134 pm) کی درمیانی قدر ہے۔ اس لیے بینزیٖن کی ساخت مندرجہ بالا ساخت کے ذریعے مناسب طور پر نہیں دکھائی جاسکتی۔ مزید، بینزین کو توانائی کے اعتبار سے متماثل ساختوں I اور II کے ذریعے مساوی طور پر بخوبی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_383b

اس لیے گمک نظریہ کے مطابق (اکائی 4)، بینزیٖن کی حقیقی ساخت ان میں سے کسی بھی ساخت کے ذریعے مکمل طور پر ظاہر نہیں کی جاسکتی، کیونکہ اصل ساخت ان دونوں ساختوں (I اور II) کی مخلوط شدہ ساخت ہے جو گمک ساخت کہلاتی ہے۔ گمک ساختیں مستند ساختیں (Canonical Structures) یا ممد ساختیں (Contributing) معروضی (Hypothetical) ہیں اور انفرادی طور پر کسی حقیقی سالمہ کو ظاہر نہیں کرتیں۔ یہ اپنے استحکام کے تناسب (Proportion) کے لحاظ سے حقیقی ساخت میں حصّہ لیتی ہیں۔
گمک کی دوسری مثال نائٹرومیتھین (Nitromethane, CH3NO2) مہیا کرتا ہے، جسے دو لیوئس ساختوں (I اور II) کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ان ساختوں میں N – O بند کی دو قسمیں ہوتی ہیں: 

5166_Keemiyan II_Ch12_383c

لیکن یہ معلوم ہے کہ Nitromathane کے دونوں N – O بند یکساں لمبائی کے ہوتے ہیں (جو N – O اکہرے بند کی لمبائی اور N = O دوہرے بند کی لمبائی کی درمیانی لمبائی ہوتی ہے)۔ اس لیے Nitromethane کی حقیقی ساخت، دونوں مستند ساختوں I اور II کی گمک مخلوط ہے۔ 
سالمہ کی حقیقی ساخت کی توانائی (گمک مخلوط) دونوں میں سے کسی بھی مستند ساخت کی توانائی سے کم ہوتی ہے۔ حقیقی ساخت کی توانائی اور کم ترین توانائی گمک ساخت کی توانائی میں فرق، گمک استحکام توانائی (Resonance Stabilisation Energy) یا صرف گمک توانائی کہلاتا ہے۔ حصّہ لینے والی اہم ساختوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی، گمک توانائی بھی اتنی زیادہ ہوگی۔ گمک خاص طور پر اس وقت اہم ہو جاتی ہے، جب حصّہ لینے والی ساختیں توانائی کے اعتبار سے مساوی ہوتی ہیں۔
گمک ساختوں کو لکھتے وقت مندرجہ ذیل قاعدوں کا اطلاق ہوتا ہے:
گمک ساختوں میں (i) نیوکلیس کے مقام یکساں ہوتے ہیں (ii) بغیر جوڑے کے الیکٹرانوں کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ گمک ساختوں میں سے وہ ساخت زیادہ مستحکم ہوتی ہے جس میں شریک گرفت بند کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، سبھی ایٹموں میں الیکٹرانوں کا آکٹیٹ (Octet) ہوتا ہے (سوائے ہائڈروجن کے جس میں ڈپلیٹ ہوتا ہے) مخالف چارجوں (زیادہ برقی منفی ایٹم پر منفی چارج اگر کوئی ہے اور زیادہ برقی مثبت ایٹم پر مثبت چارج اگر کوئی ہے) کا فاصلہ کم ہوتا ہے اور جس میں چارج کا انتشار (Dispersal) زیادہ ہوتا ہے۔

مسئلہ 12.16

CH3COO کی گمک ساخت لکھیے اور تیر کے ذریعے الیکٹرانوں کی حرکت دکھائیے۔

حل

سب سے پہلے، ساخت لکھیے اور مناسب ایٹموں پر بغیر ساجھے کے گرفت الیکٹرانوں کے جوڑے دکھائیے۔ پھر ایک وقت میں ایک الیکٹران کی حرکت دکھانے کے لیے تیر کھینچئے، جس سے آپ کو دوسری ساختیں حاصل ہوں گی۔

5166_Keemiyan II_Ch12_384a

مسئلہ 12.17

CH2 = CH – CHO کی گمک ساختیں لکھیے۔ حصّے لینے والی ساختوں کے نسبتی استحکام کی نشاندہی کیجیے۔

حل

5166_Keemiyan II_Ch12_384b

[I: سب سے زیادہ مستحکم، شریک گرفت بند کی زیادہ تعداد، ہر ایک کاربن اور آکسیجن ایٹم میں ایک آکٹیٹ ہے اور مخالف چارجوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں۔ II: زیادہ برقی منفی ایٹم پر منفی چارج اور زیادہ برقی مثبت ایٹم پر مثبت چارج III: حصّہ نہیں لیتا، کیونکہ آکسیجن پر مثبت چارج ہے اور کاربن پر منفی چارج ہے۔ اس لیے سب سے کم مستحکم ہے۔

مسئلہ 12.18

وضاحت کیجیے کہ مندرجہ ذیل دونوں ساختیں، I اور II کیوں CH3COOCH3 کی حقیقی ساخت میں اہم حصّہ لینے والی ساختیں نہیں ہو سکتیں: 

5166_Keemiyan II_Ch12_384c

حل

دونوں ساختیں کم اہم ہیں، کیونکہ ان میں چارجوں کے درمیان فاصلہ شامل ہے۔ مزید یہ کہ ساخت I میں ایک کاربن ایٹم ایسا ہے جس کا آکٹیٹ غیر مکمل ہے۔

12.7.7 گمک اثر (Resonance Effect)

گمک اثر کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ وہ قطبیت ہے جو سالمہ میں دو p-بند کے باہم عمل یا ایک p-بند اور متصل ایٹم میں موجود الیکٹرانوں کے واحد جوڑے کے مابین باہم عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ اثر کی ترسیل زنجیر کے ذریعے ہوتی ہے۔ دو قسم کی گمک یا میزومیرک اثرات ہیں جنہیں R یا M اثر سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
(i) مثبت گمک اثر (R+ اثر) [(Positive Resonance Effect (+R effect)]
اس اثر میں الیکٹرانوں کی منتقلی ایک ایٹم یا جفتی نظام سے منسلک قائم مقام گروپ سے دور ہوتی ہے۔ اس الیکٹران ہٹاؤ سے سالمہ میں کچھ خاص مقامات زیادہ الیکٹران کثافت والے مقامات ہو جاتے ہیں۔ اینیلین میں اس اثر کو ایسے دکھایا جاسکتا ہے:

5166_Keemiyan II_Ch12_384d

(ii) منفی گمک اثر (–R اثر) [(Negative Resonance Effect (- R effect]

یہ اثر اس وقت نظر آتا ہے جب الیکٹرانوں کی منتقلی ایک ایٹم یا جفتی نظام سے منسلک قائم مقام گروپ کی طرف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر نائٹروبینزیٖن میں یہ الیکٹران ہٹاؤ ایسے دکھایا جاسکتا ہے:

5166_Keemiyan II_Ch12_384e

وہ ایٹم اور قائم مقام گروپ جو +R اور –R الیکٹران ہٹاؤ اثرات دکھاتے ہیں، مندرجہ ذیل ہیں:
R+:اثر:ہیلوجن،NHR,-NH2,-OCOR,-OR,-OH
NHCOR,-NR2
R-اثر:NO2,-CN,>C=O,-CHO,-COOH
ایک کھلی زنجیر یا سائیکلک نظام میں متبادل اکہرے اور دہرے بند کی موجودگی جفتی نظام کہلاتی ہے۔ یہ نظام اکثر غیر طبیعی (Abnormal) اثرات ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی مثالیں ہیں: 1,3- Butadiene، Aniline اور نائٹروبینزیٖن وغیرہ۔ ان نظاموں میں n-الیکٹران کا مقام بدل جاتا ہے اور نظام میں قطبیت پیدا ہو جاتی ہے۔

12.7.8 الیکٹرومیرک اثر (E اثر)

[(Electromeric Effect (E effect]

یہ ایک عارضی اثر ہے۔ جن نامیاتی مرکبات میں کثیر بند ہوتے ہیں (دہرا یا تہرا بند) وہ ایک حملہ آور ریجنٹ کی موجودگی میں ہی اثر ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ ایک حملہ آور ریجنٹ کی مانگ پر  π- الیکٹرانوں کے ساجھے کے جوڑے کی کثیر بند سے جڑے ہوئے ایٹموں میں سے کسی ایک پر مکمل منتقلی ہے۔ حملہ آور ریجنٹ کو تعامل کے علاقے سے ہٹاتے ہی یہ اثر زائل ہو جاتا ہے۔ اسے E سے ظاہر کیا جاتا ہے اور الیکٹرانوں کی منتقلی ایک تیر 5166_Keemiyan II_Ch12_384g سے دکھائی جاتی ہے۔ الیکٹرومیرک اثر کی دو واضح قسمیں ہیں:

(i) مثبت الیکٹرومیرک اثر (E+ اثر): اس اثر میں کثیر بند کے π- الیکٹران اس ایٹم پر منتقل ہوتے ہیں جس سے ریجنٹ منسلک ہو جاتا ہے۔ مثلاً

5166_Keemiyan II_Ch12_384h

(ii) منفی الیکٹرومیرک اثر (E– اثر): اس اثر میں کثیر بند کے π- الیکٹران اس ایٹم پر منتقل ہوتے ہیں، جس سے ریجنٹ منسلک نہیں ہوتا۔ مثلاً

5166_Keemiyan II_Ch12_384i

جب امالی اور الیکٹرومیرک اثرات مخالف سمتوں میں کام کرتے ہیں، تو الیکٹرومیرک اثر کوفوقیت حاصل ہوتی ہے۔

12.7.9 بیش جفتگی (Hyperconjugation)

بیش جفتگی ایک عمومی مستحکم کرنے والا باہمی عمل ہے۔ اس میں ایک غیر سیرشدہ نظام کے ایٹم سے یا بغیر ساجھے کے p اربٹل والے ایٹم سے براہِ راست منسلک ایک الکائل گروپ کے C – H بند کے σ الیکٹرانوں کا تبدیلی مقام (Delocalisation) شامل ہے۔ الکائل گروپ کے C – H بند کے s الیکٹران، غیر سیرشدہ نظام یا بغیر ساجھے کے p اربٹل کے ساتھ جزوی جفتگی میں شامل ہوتے ہیں۔ بیش جفتگی ایک مستقل اثر ہے۔
بیش جفتگی کو سمجھنے کے لیے ہم 5166_Keemiyan II_Ch12_385a (ایتھائل کیٹ آین) کی مثال لیتے ہیں، جس میں مثبت چارج شدہ کاربن میں ایک خالی p- اربٹل ہوتا ہے۔ متیھائل گروپ کے C – H بند میں سے ایک بند خود کو اس خالی p اربٹل کے مستوی کی سیدھ میں لاسکتا ہے اور پھر C – H بند تشکیل دینے والے ان الیکٹران کو جو اس p- اربٹل کے ساتھ مستوی میں ہیں، خالی p- اربٹل میں ان کے مقام کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ شکل 12.4 (a) میں دکھایا گیا ہے۔
بیش جفتگی

5166_Keemiyan II_Ch12_385c
کاربن کا خالی2pاربٹل
شکل 4۔120(a) ایتھائل کیٹ آین میں بیش جفتگی کو ظاہر کرنے والا اربٹل ڈایگرام

اس قسم کا انطباق (Overlap) کاربوکیٹ آینوں کو استحکام عطا کرتا ہے کیونکہ متصل s-بند کی الیکٹران کثافت، مثبت چارج کو منتشر کرنے میں مدد کرتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_385e

عمومی طور پر مثبت چارج شدہ کاربن ایٹم سے منسلک الکائل گروپ کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی کیٹ آین کا بیش جفتگی باہمی عمل اور استحکام اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اس طرح سے ہمیں کاربوکیٹ آینوں کا یہ نسبتی استحکام حاصل ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_385f

بیش جفتگی Alkenes اور Alkylarenes میں بھی ممکن ہے Alkene کی صورت میں بیش جفتگی کے ذریعے الیکٹرانوں کا اپنے مقام سے ہٹایا جانا 12.4 (b) کے ذریعے دکھایا جاسکتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_385g
شکل (a) 12۔4 propeneکی بیش جفتگی کو ظاہر کرنے والا اربٹل ڈایگرام

بیش جفتگی کے اثر کو سمجھنے کے مختلف طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھاجائے کہ گمک کی وجہ سے C – H بند میں جزوی آینی صفت ہوتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_385d

مسئلہ 12.19

وضاحت کیجیے کہ 5166_Keemiyan II_Ch12_386a سے زیادہ مستحکم کیوں ہے اور 5166_Keemiyan II_Ch12_387a سب سے کم مستحکم کیٹ آین کیوں ہے؟

حل

5166_Keemiyan II_Ch12_387b میں پیش جفتگی باہمی عمل 5166_Keemiyan II_Ch12_387c کے مقابلے زیادہ ہے کیونکہ 5166_Keemiyan II_Ch12_387d میں خالی p اربٹل اس مستوی پر عمود ہے، جس میں C – H بند ہوتے ہیں، اس لیے اس کے ساتھ منطبق نہیں ہو سکتے۔ اس لیے 5166_Keemiyan II_Ch12_387e میں پیش جفتگی استحکام نہیں ہوتا۔

12.7.10 نامیاتی تعاملات کی قسمیں اور میکانزم

(Types of Organic Reactions and Mechanisms)

نامیاتی تعاملات کی مندرجہ ذیل درجہ بندی کی جاسکتی ہے:
(i) بدل تعاملات (Substitution Reactions)
(ii) جمع تعاملات (Addition Reactions)
(iii) خروج تعاملات (Elimination Reactions)
(iv) باز ترتیب تعاملات (Rearrangement Reactions)
آپ ان تعاملات کو باب 13 میں اور پھر درجہ XII میں پڑھیں گے۔

12.8   نامیاتی مرکبات کی تخلیص کے طریقے

(Methods of Purification of Organic Compounds)

جب قدرتی وسیلے سے کسی نامیاتی مرکب کا استخراج کرلیا جاتا ہے یا تجربہ گاہ میں اس کی تالیف کرلی جاتی ہے تو اسے خالص بنانا ضروری ہو جاتا ہے۔ نامیاتی مرکبات کو خالص بنانے کے مختلف طریقوں کا انحصار مرکب کی فطرت اور اس میں موجود ملاوٹ (Impurity) پر ہوتا ہے۔
خالص بنانے کے لیے استعمال ہونے والی عام تکنیکیں ہیں:

(i) تصعید (Sublimation)
(ii) قلماؤ (Crystallisation)
(iii) کشید (Distillation)
(iv) تفرقی استخراج (Differential Extraction) اور 
(v) کرومیٹوگرافی (Chromatography)

آخر میں ایک مرکب کی خاصیت اس کے نقطہ گداخت اور نقطہ جوش کو معلوم کرکے متعین کی جاتی ہے۔ زیادہ تر خالص مرکبات کے متعین نقطہ گداخت اور نقطہ جوش ہوتے ہیں۔ ایک نامیاتی مرکب کے خالص پن کو جانچنے کے نئے طریقے مختلف قسم کے کرومیٹو گرافک (Chromatographic) اور اسپیکٹرواسکوپک (Spectroscopic) تکنیکوں پر مبنی ہیں۔

12.8.1 تصعید (Sublimation) 

آپ پہلے ہی سیکھ چکے ہیں کہ کچھ ٹھوس اشیا گرم کرنے پر ٹھوس حالت سے رقیق حالت میں تبدیل ہوئے بغیر براہِ راست ابخراتی حالت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ مندرجہ بالا اصول پر مبنی خالص بنانے کی تکنیک، تصعید کہلاتی ہے اور قابلِ تصعید مرکب کو ناقابلِ تصعید ملاوٹوں سے علیحدہ کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔

12.8.2 قلماؤ (Crystallisation)

یہ ٹھوس نامیاتی مرکبات کو خالص بنانے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی تکنیکوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک مناسب محلل (Solvent) میں مرکب اور ملاوٹوں کی حل پذیری کے فرق پر مبنی ہے۔ غیرخالص مرکب کو ایک ایسے محلل میں حل کیا جاتا ہے جس میں کمرہ کے درجہ حرارت پر وہ بہت کم حل پذیر ہے اور زیادہ درجہ حرارت پر قابلِ لحاظ حد تک حل پذیر ہے۔ محلول کو مرتکز کیا جاتا ہے یہاں تک کہ تقریباً سیرشدہ محلول حاصل ہو جاتا ہے۔ محلول کو ٹھنڈا کرنے پر خالص مرکب کی قلم سازی ہوجاتی ہے، جسے تقطیر (Filtration) کے ذریعے علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔ اگر مرکب ایک محلل میں بہت زیادہ حل پذیر ہے اور دوسرے محلل میں بہت کم حل پذیر ہے تو اس کا قلماؤ ان دونوں محللوں کے آمیزے میں کیا جاتا ہے۔ ملاوٹیں، جو محلول کو رنگین بنا دیتی ہیں، انھیں ایکٹیویٹڈ چارکول (Activated Charcoal) پر سطحی جاذبیت (Adsorption) کے ذریعے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ وہ مرکبات جن میں شامل ملاوٹوں کی حل پذیری میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، ان کو خالص بنانے کے لیے قلماؤ کے عمل کو بار بار دہرانا ضروری ہوتا ہے۔

12.8.3 کشیٖد (Distillation)

یہ اہم طریقہ استعمال اس وقت کیا جاتا ہے، جب (i) طیران پذیر (Volatile) رقیق اشیا کو غیر طیران پذیر (Non Volatile) ملاوٹوں سے علیحدہ کرنا ہو (ii) ان رقیق اشیا کو جن کے نقطہ جوش میں کافی فرق ہے۔ جن رقیق اشیا کے نقطہ جوش مختلف ہوتے ہیں، وہ مختلف درجہ حرارت پر ابخرات میں تبدیل ہوتی ہیں۔ ابخرات کو ٹھنڈا کرلیا جاتا ہے اور اس طرح حاصل ہونے والی رقیق اشیا کو الگ الگ جمع کرلیا جاتا ہے۔ کلوروفارم (نقطہ جوش : 334 K) اور اینیلین (نقطہ جوش : 457 K) کو کشیدکی تکنیک سے بآسانی علیحدہ کیا جاسکتا ہے (شکل 12.5)۔ رقیق آمیزے کو ایک گول پیندے والے فلاسک (Flask) میں لیا جاتا ہے اور احتیاط کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے۔ ابلنے پر مقابلتاً کم نقطہ جوش والے جزو (Component) کے ابخرات پہلے تشکیل پاتے ہیں۔ ابخرات کو ایک کنڈینسر (Condenser) میں جمع کر لیا جاتا ہے۔ مقابلتاً زیادہ نقطہ جوش والے جز کے ابخرات بعد میں تشکیل پاتے ہیں اور رقیق کو علیحدہ جمع کیا جاسکتا ہے۔
تھرما میٹر۔ پانی نکلنے کا راستہ۔ کنڈینسر۔ پانی داخل۔ ہونے کا راستہ۔رقیق شے۔ گول پیندے والا فلاسک۔

4
شکل 5-12: سادہ کشید شے کے تشکیل شدہ ابخرات کی تکثیف کی جا تی ہے اور رقیق کو ایک مخروطی
فلاسک میں جمع کر لیا جاتا ہے۔
کسری کشید (Fractional Distillation): اگر دونوں رقیق اشیا کے نقطہ جوش میں زیادہ فرق نہ ہو تو انہیں علیحدہ کرنے کے لیے سادہ کشید نہیں استعمال کی جاسکتی۔ ایسی رقیق اشیا کے ابخرات یکساں درجہ حرارت کی رینج میں تشکیل پاتے ہیں اور بہ یک وقت ان کی تکثیف ہوتی ہے ایسی صورت میں کسری کشید کی تکنیک استعمال ہوتی ہے۔ اس تکنیک میں رقیق آمیزہ کے ابخرات کو تکثیف سے پہلے ایک کسری کالم (Fractional Column) سے گزارا جاتا ہے۔ کسری کالم کو گول پیندے والے فلاسک کے منہ پر لگایا جاتا ہے (شکل 12.6)۔
اس رقیق کے ابخرات کی تکثیف پہلے ہوتی ہے جس کا نقطہ جوش مقابلتاً زیادہ ہوتا ہے اور اس رقیق کی ابخرات کی تکثیف اس کے بعد ہوتی ہے جس کا نقطہ جوش مقابلتاً کم ہوتا ہے۔ کسری کالم میں اوپر اٹھتے ہوئے ابخرات میں طیران پذیر جز کی مقدار زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ جس وقت تک ابخرات کسری کالم کے اوپری سرے تک پہنچتے ہیں تو ان میں طیران پذیر اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ کسری کالم مختلف سائزوں اور ڈیزائنوں میں دستیاب ہیں جیسا کہ شکل 12.7 میں دکھایا گیا ہے۔ ایک کسری کالم اوپر اٹھتے ہوئے ابخرات اور نیچے بیٹھتے ہوئے مکتثف رقیق کے درمیان، حرارت کے تبدالوں کے لیے کئی سطحیں مہیا کرتا ہے۔ مکتثف رقیق کی کچھ مقدار، کسری کالم میں اوپر اٹھتے ہوئے ابخرات سے حرارت حاصل کرکے دوبارہ ابخرات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس طرح سے ابخرات مقابلتاً کم درجہ حرارت کے اوپری سرے کی طرف جانے لگتے ہیں۔ کم درجہ حرارت پر ابلنے والے جز کے ابخرات کالم کے اوپری سرے کی طرف جانے لگتے ہیں۔ وہ جب اوپری سرے تک پہنچتے ہیں تو ان میں کم درجہ حرارت پر ابلنے والے جز کے خالص ابخرات ہوتے ہیں اور پھر انہیں ایک کنڈینسر سے گزارا جاتا ہے اور خالص رقیق کو ایک ریسیور (Receiver) میں جمع کر لیا جاتا ہے۔ لگاتار کشید کے ایک سلسلے کے بعد کشیدی فلاسک میں باقی بچے رقیق میں مقابلتاً زیادہ نقطہ جوش والے جز کا اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ کسری کالم کی ہر ایک متواتر تکثیف اور تبخیری اکائی ایک ’’تھیوریٹیکل پلیٹ‘‘ (Theoretical Plate) کہلاتی ہے۔ بازار میں کئی سو پلیٹوں والے کالم دستیاب ہیں۔
کسری کشید کا ایک تکنیکی استعمال، پیٹرولیم صنعت میں خام تیل (Crude Oil) کی مختلف کسروں کو علیحدہ کرنے میں کیا جاتا ہے۔
تخفیف شدہ دباؤ کے ساتھ کشید (Distillation Under Reduced Pressure): یہ طریقہ ان رقیق اشیا کو خالص بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے جن کے نقطہ جوش بہت زیادہ ہوتے ہیں اور وہ رقیق
7
سنک کو۔ کنڈیسنر۔ قفلی۔ پانی اندر جانے کا راستہ۔ کشید شدہ رقیق۔تیل جنتر۔ تھرما میٹر
پیکنگ کے ساتھ پیکنگ کے ساتھ کسری کا عالم
وہ ریق جسکی کشید کی جانی ہے
شکل 6۔12 کسری کشید مقابلتا کم نقطہ جوش والے جز کے ابخرات کالم کے اوپری سرے تک پھلے
پہنچتے ہیں اور ان کے بعد مقابلتا زیدہ نقطہ جوش والے جز کے ابخرات پہنچتے ہیں


6
بلبلہ پلیٹ کا عالم   سادہ پیک کیا ہوا عالم
(Simple packed column)   (Bubble  plate clumn
شکل 7۔12 کسری کالموں کی مختلف قسمیں

 جو اپنے نقطہ جوش یا اس سے پہلے ہی تحلیل (Decomposition) ہوجاتے ہیں۔ ایسی رقیق اشیا کو ان کی سطح پر دباؤ کو کم کرکے انہیں ان کے معیاری نقطہ جوش (Normal Boiling Point) سے کم درجہ حرارت پر ابالا جاتا ہے۔ ایک رقیق اس درجۂ حرارت پر ابلتا ہے جس پر اس کا ابخرات دباؤ (Vapour Pressure) فضائی دباؤ کے مساوی ہوجاتا ہے۔ دباؤ کو پانی کے پمپ یا وکیوم پمپ (Vacuum Pump) کی مدد سے کم کیا جاتا ہے (شکل 12.8)۔ صابن کی صنعت میں گلسرال (Glycerol) کو اسپینٹ لائی (Spent-lye) سے اس تکنیک کا استعمال کرکے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ 
بھاپ کشید (Steam Distillation) : یہ تکنیک ان اشیا کو علیحدہ کرنے میں استعمال ہوتی ہے جو بھاپ طیران پذیر (Steam Volatile) ہوتے ہیں اور پانی میں ان کی آمیزش نہیں (Immiscible) ہوپاتی ہے۔ بھاپ کشید میں بھاپ جنریٹر کے ذریعے بھاپ کو اس گرم کیے ہوئے فلاسک سے گزارا جاتا ہے، جس میں کشید کیا جانے والا رقیق رکھا ہوتا ہے۔ بھاپ اور طیران پذیر نامیاتی مرکب کے آمیزہ کی تکثیف کی جاتی ہے اور اسے جمع کر لیا جاتا ہے۔ بعد میں ایک فارقی قیف کا استعمال

8
مینو میٹر۔ پانی باہر نکلنے کا راستہ۔ ویکیوم پمپ۔ کشید شدہ رقم۔ پانی اندر آنے کا راستہ۔ اسٹاپ کاک
ہوا کو کنٹرول کرنے والی کیپلری
شکل 8۔12  تخفیف شدہ دباو کے ساتھ کشید دباو کو کم کرکے ایک رقیق اپنے ابخراتے دباو کے سا پر نقطہ جوش سے کم درجہ حرارت پر ابلتا ہے
9
پانی داخل ہونے کا راستہ۔تکثیف شدہ رقیق۔ پانی باہر نکلنے کا راستہ مرکب جسکی تکثیف ہونی ہے۔
حفاظتی نلی تکثیف شدہ پانی کے ابخرات پانی
شکل 9۔12 بھاپ کشید: بھاپ طیران پذیر جز کی تبخیر ہوتی ہے، ابخرات کی کنڈینسر میں تکثیف
ہوتی ہے اور مخروطی فلاےک میں رقیق جمع ہوتا ہے
 کر کے پانی سے مرکب کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔ بھاپ کشید میں رقیق اس وقت ابلتا ہے، جب نامیاتی رقیق کی وجہ سے ابخراتی دباؤ (p1) اور پانی کی وجہ سے ابخراتی دباؤ (p2) کا حاصل جمع کرہ ہوا کے دباؤ (Atmosphereric Pressure) (p) کے مساوی ہو جاتا ہے۔ یعنی کہ p = p1 + p2 کیونکہ p1، p سے کم ہے، نامیاتی رقیق کی تبخیر اس کے نقطہ جوش سے کم درجہ حرارت پر ہوتی ہے۔اس لیے، اگر آمیزہ میں شامل ایک شے پانی ہے اور دوسری پانی میں غیرحل پذیر شے ہے تو آمیزہ 373K کے قریب لیکن اس سے کم درجہ حرارت پر ابلے گا۔ پانی اور شے کا ایک آمیزہ حاصل کیا جاتا ہے جسے ایک فارقی قیف کے ذریعے علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ اینیلین پانی (Aniline – Water) کے آمیزہ میں سے اینیلین اس تکنیک کی مدد سے علیحدہ کی جاتی ہے (شکل 12.9)۔

12.8.4 تفرقی استخراج (Differential Extraction)

جب ایک نامیاتی مرکب ایک آبی میڈیم (Aquous Medium) میں پایا جاتا ہے تو اسے علیحدہ کرنے کے لیے ایک نامیاتی محلل میں ملا کر ہلایا جاتا ہے، جس میں وہ پانی کے مقابلے میں زیادہ حل پذیر ہے۔ نامیاتی محلل اور آبی محلول کی ایک دوسرے میں آمیزش نہیں ہونی چاہیے تاکہ وہ دو واضح پرتیں تشکیل دے سکیں جنھیں فارقی قیف کے ذریعے علیحدہ کیا جاسکے۔ بعد میں نامیاتی محلل کو کشید کے ذریعے یا تبخیر کے ذریعے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور مرکب حاصل کرلیا جاتا ہے۔ تفرقی استخراج کا عمل ایک فارقی قیف میں کیا جاتا ہے جیسا کہ شکل 12.10 میں دکھایا گیا ہے۔
محلل تہ میں نامیاتی مرکب، آبی تہ۔ استخراج کے بعد
محلل کی تہ ۔ آبی تہ میں نامیاتی مرکب۔ استخراج سے پہلے

5166_Keemiyan II_Ch12_391a

شکل 12.10 تفرقی استخراج: مرکب کا استخراج حل پذیری میں فرق کی بنا پر ہوتا ہے۔

اگرنامیاتی مرکب، نامیاتی محلل میں پانی سے کم حل پذیر ہے تو مرکب کی بہت کم مقدار کا استخراج کرنے کے لیے بھی محلل کی بہت زیادہ مقدار درکار ہوگی۔ ایسی صورتوں میں مسلسل استخراج کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔ اس تکنیک میں اسی محلل کو مرکب کے  استخراج کے لیے بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔

12.8.5 کرومیٹوگرافی (Chromatography)

کرومیٹوگرافی ایک اہم تکنیک ہے جس کا وسیع استعمال آمیزوں کے اجزا علیحدہ کرنے میں کیا جاتا ہے،  مرکبات کو خالص بنانے میں اور مرکبات کے خالص پن کی جانچ کرنے میں بھی کیا جاتا ہے۔ نام Chromatograph یونانی لفظ کروما (Chroma) پر مبنی ہے۔ جس کے معنی ہیں رنگ (Colour) کیونکہ یہ طریقہ سب سے پہلے پودوں میں پائی جانے والی رنگین اشیا کو علیحدہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اس تکنیک میں اشیا کے آمیزہ کو ایک ساکن ہیئت (Stationary Phase) پر لگایا جاتا ہے، جو ٹھوس یا رقیق ہو سکتی ہے۔ ایک خالص محلل، محلل کا آمیزہ یا گیس کو ساکن ہیئت کے اوپر آہستہ آہستہ حرکت کرنے دیا جاتا ہے۔ آمیزہ کے اجزا ایک دوسرے سے بتدریج علیحدہ ہوتے جاتے ہیں۔ حرکت کرتی ہوئی ہیئت کو متحرک ہیئت کہا جاتا ہے۔
شامل اصول کی بنا پر کرومیٹوگرافی کی مختلف درجات میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ان میں سے دو مندرجہ ذیل ہیں: 

(a) سطحی جاذبیت کرومیٹوگرافی 
(b) تقسیم کرومیٹوگرافی 

(a) سطحی جاذبیت کرومیٹوگرافی (Adsorption Chromatography) : سطحی جاذبیت کرومیٹوگرافی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ مختلف مرکبات، ایک سطحی جاذب (Adsorbent) پر مختلف ڈگری میں جذب ہوتے ہیں۔ عام طور سے استعمال ہونے والے سطحی جاذب ہیں۔ سلیکا جیل (Silica Gel) اور ایلومنا(Alumina)۔ جب ایک متحرک ہیئت کو ایک ساکن ہیئت جاذب پر حرکت کرنے دی جاتی ہے تو آمیزہ کے اجزا ساکن ہیئت پر مختلف فاصلوں تک حرکت کرتے ہیں۔ کرومیٹوگرافی کی تکنیکوں کی مندرجہ ذیل دو خاص قسمیں ہیں جو تفرقی سطحی جاذبیت (Differential Adsorption) کے اصول پر مبنی ہیں۔

(a) کالمی کرومیٹوگرافی (Column Chromatography)
(b) پتلی پرت کرومیٹوگرافی (Thin Layer Chromatography)

کالمی کرومیٹوگرافی (Column Chromatography) : کالمی کرومیٹوگرافی میں ایک شیشہ کی ٹیوب میں پیک کیے ہوئے (Paked) جاذب (اسٹیشنری فیز) کے کالم پر ایک آمیزہ کا علیحدہ کیا جانا شامل ہے۔ کالم کے نچلے کنارے پر ایک اسٹاپ کاک (Stop Cock) لگی ہوتی ہے (شکل 12.11)۔ جاذب کی سطح پر جذب ہوئے آمیزہ کو شیشے کی ٹیوب میں بھرے جاذب کالم کے اوپری کنارے پر رکھا جاتا ہے۔ ایک مناسب نتھار کار (Eluant) کو جو عام طور سے ایک رقیق یا رقیق اشیا کا آمیزہ ہوتا ہے، آہستہ آہستہ کالم سے نیچے کی طرف بہنے دیا جاتا ہے۔ اس درجہ پر مبنی جس تک مرکبات کی سطح جاذبیت ہوتی ہے مکمل علیحدگی ہو جاتی ہے۔ سب سے جلدی سطح پر جذب ہونے والی اشیاء اوپری سرے کے نزدیک جذب ہوتی ہیں، جبکہ دوسری اشیاء کالم میں مختلف فاصلوں تک نیچے آتی ہیں (شکل 12.11)۔

5166_Keemiyan II_Ch12_391b
شکل 11۔12 کالمی کرومینو گرافی- ایک آمیزہ کے اجزا کی علیحدگی کے مختلف مراحل

پتلی پرت کرومیٹوگرافی(Thin Layer Chromatography): پتلی پرت کرومیٹوگرافی Thin Layer Chromatography, TLC)، سطحی جاذبیت کرومیٹوگرافی کی ایک اور قسم ہے، جس میں شیشے کی پلیٹ پر تہہ جمائی ہوئی ایک جاذب کی پتلی پرت پر ایک آمیزہ کی اشیا کی علیحدگی شامل ہے۔ ایک سطحی جاذب (Absorbent) (سلیکا جیل یا ایلومینا) کی پتلی پرت (تقریباً 0.22 mm موٹی) کو ایک مناسب ناپ کی شیشے کی پلیٹ پر پھیلا دیا جاتا ہے۔ اس پلیٹ کو پتلی پرت کرومیٹوگرافی پلیٹ (Thin Layer Chromatography Plate) یا کروما پلیٹ (Chroma Plate) کہتے ہیں۔ جس آمیزہ کے اجزا کو علیحدہ کیا جاتا ہے، اس کے محلول کو ایک چھوٹے حصّے (Spot) کی شکل میں کروما پلیٹ پر اس کے ایک سرے سے تقریباً 2 cm کے فاصلے پر لگادیا جاتا ہے۔ پھر اس شیشے کی پلیٹ کو ایک بند جار میں رکھ دیا جاتا ہے۔ جار میں نتھار کار (Eluent) پہلے ہی رکھا ہوتا ہے (شکل 12.12(a))۔ جیسے ہی نتھار کار (Eluent) پلیٹ پر اوپر چڑھتا ہے آمیزہ کے اجزا بھی نتھارکار کے ساتھ پلیٹ پر مختلف فاصلوں تک حرکت کرتے ہیں۔ کون سا جز کتنا فاصلہ طے کرے گا یہ اس کی سطحی جاذبیت کے درجہ پر منحصر ہے۔ اس طرح آمیزہ کے اجزا ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ آمیزہ کے ہر ایک جز کی نسبتی سطحی جاذبیت

10
جار۔ شیشہ کی پلیٹ۔ پرلیپ کیا ہوا جاذب۔ سیمپل دھبہ۔ محلل۔ بنیادی خط
شکل (a) 12۔12 پتلی پرت کرومینو گرافی: کرومینو گرام تیار کیا جارہا ہے
11
محلل کا سامنے والا رخ۔ دھبہ۔ بنیادی خط
شکل (b) 12۔12 تیار شدہ کرومینو گرام

 (Relative Absorption) کو اس کے ابطاجز (Retardation Factor) یعنی کہ Rf قدر کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے، (شکل 12.12b)۔

شے کے ذریعے بنیادی خط سے طے کیا گیا فاصلہ (x)
محلل کے ذریعے بنیادی خط سے طے کیا گیا فاصلہ (y)

رنگین مرکبات کے دھبّے اپنے اصل رنگ کی وجہ سے TLC پلیٹ پر نظر آجاتے ہیں۔ لیکن ایسے بے رنگ مرکبات کے دھبّے، جو انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی، لیکن وہ فلوریت دار (Fluorescent) ہیں، انھیں UV روشنی (Ultraviolet Light) میں رکھ کر شناخت کیا جاسکتا ہے۔ شناخت کرنے کی ایک دوسری تکنیک یہ ہے کہ پلیٹ کو ایک ایسے ڈھکے ہوئے جار میں رکھا جائے، جس میں آیوڈین کے چند قلم (Crystals) رکھے ہوئے ہوں۔ ان مرکبات کے دھبّے جو آیوڈین کو سطح پر جذب کرلیتے ہیں، کتھی دھبوں کی شکل میں نظر آجاتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک مناسب ریجنٹ (Reagent) کو بھی پلیٹ پر چھڑکا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر پلیٹ پر نِن ہائڈرِن (Ninhydrin) محلول چھڑک کر امینوایسڈوں (Aminoacids) کی شناخت کی جاسکتی ہے۔
تقسیم کرومیٹوگرافی (Partition Chromatography): تقسیم کرومیٹوگرافی ، ایک آمیزہ کے اجزا کی ساکن اور متحرک ہیئتوں میں مسلسل تفرقی تقسیم (Continuous Differential Partitioning) پر مبنی ہے۔ پیپر کرومیٹو گرافی (Papar Chromatography) تقسیم کرومیٹوگرافی (Partition Chromatography) کی ایک قسم ہے۔ پیپر کرومیٹوگرافی میں ایک نمایاں خصوصیت والا کاغذ کرومیٹوگرافی پیپر کہلاتا ہے، استعمال کیا جاتا ہے۔ کرومیٹوگرافی پیپر میں پانی کے سالمات پہلے سے پھنسے ہوتے ہیں اور یہ پانی ساکن ہیئت کے طور پر کام کرتا ہے۔
کرومیٹوگرافی پیپر کی ایک پٹّی کو جس کی بنیاد (Base) پر آمیزہ کے محلول کے دھبّے لگے ہوتے ہیں، ایک مناسب محلل یا محللوں کے آمیزے میں لٹکایا جاتا ہے (شکل 12.13)۔ یہ محلل کیپلری ایکشن (Capillary Action) کے ذریعے کاغذ پر اوپر کی جانب چڑھتا ہے اور دھبّے کے اوپر سے ہوکر بہتا ہے۔ کاغذ مختلف اجزا کو منتخب کرکے جذب کرتا جاتا ہے، جس کا انحصار ان کی دونوں ہیئتوں میں مختلف تقسیم پر ہوتا ہے۔ اس طرح تیار کی گئی کاغذ کی پٹّی کرومیٹوگرام (Chromatogram) کہلاتی ہے۔ الگ ہوئے رنگین مرکب کے دھبّے کرومیٹوگرام پر آغازی دھبّے کے مقام سے مختلف اونچائیوں پر نظر آتے ہیں۔ الگ کیے گئے بے رنگ مرکبات کے دھبّے یا تو UV روشنی کے ذریعے یا مناسب ریجنٹ کا چھڑکاؤ کرکے دیکھے جاسکتے ہیں جیسا کہ پرت کرومیٹو گرافی میں بیان کیا جاچکا ہے۔
گتا، کرومینو گرافی کاغذ، جار، دھبہ، محلل، بنیادی خط، 
کتا، کرومینو گرافی کاغذ ،جار، دھبہ، بنیادی خط، محلل

5166_Keemiyan II_Ch12_393b
شکل 12.13 پیپر کرومیٹوگرافی ۔ دو مختلف شکلوں کا کرومیٹوگرافک پیپر

12.9  نامیاتی مرکبات کا کیفیتی تجزیہ (Qualitative Analysis  of Organic Compounds)

نامیاتی مرکبات میں پائے جانے والے عناصر، کاربن اور ہائڈروجن ہیں۔ ان کے علاوہ نامیاتی مرکبات میں آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، ہیلوجن (Halogens) اور فاسفورس بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

12.9.1 کاربن ا ور ہائڈروجن کی شناخت (Detection of Carbon and Hydrogen)

کاربن اور ہائڈروجن کی شناخت، مرکب کو 'Copper (II) Oxide' کے ساتھ گرم کرکے کی جاتی ہے۔ مرکب میں موجود کاربن کی تکسید کاربن ڈائی آکسائڈ میں ہوجاتی ہے [جس کی جانچ چونے کے پانی کے ذریعے کی جاتی ہے، جس میں تلاطم (Turbidity) پیدا ہو جاتا ہے] اور ہائڈروجن کی تکسید پانی میں ہو جاتی ہے۔ [جس کی جانچ نابیدہ کاپرسلفیٹ (Anhydrous Copper Sulphate) سے کی جاتی ہے، جو نیلا ہو جاتا ہے]۔

12
CO2+Ca(OH)2↔CaCO3↓+H2O
5H2O + CuSO4 ↔CuSO45H2O
نیلا                            سفید              

12.9.2 دوسرے عناصر کی شناخت (Detection of Other Elements)

کسی نامیاتی مرکب میں پائے جانے والے دوسرے عناصر: نائٹروجن، سلفر، ہیلوجن اور فاسفورس کی شناخت "Lassaigne's Test" کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرکب میں پائے جانے والے عناصر کو شریک گرفت شکل سے آینی شکل (Ionic from) میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے مرکب کو سوڈیم دھات کے ساتھ گداخت (Fuse) کیا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل تعاملات ہوتے ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch12_394b

S، N، C اور X نامیاتی مرکبات سے آتے ہیں۔
سوڈیم کے ساتھ گداخت سے اس طرح تشکیل پانے والے سوڈیم کے سائنائڈ، سلفائڈ اور ہیلائڈ کو گداخت شدہ کمیت سے کشیدہ پانی (Distilled Water) کے ساتھ ابال کر علیحدہ کرلیا جاتا ہے۔ اس ملخّص (Extract) کو سوڈیم گداخت ملخّص کہتے ہیں۔

(A) نائٹروجن کے لیے جانچ (Test for Nitrogen)
سوڈیم گداخت ملخّصکو Iron (II) Sulphate کے ساتھ ابالا جاتا ہے اور پھر اسے مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ساتھ تیزابی بنایا جاتا ہے۔ پرشین بلو رنگ کی تشکیل نائٹروجن کی موجودگی کو ثابت کردیتی ہے۔ سوڈیم سائنائڈ پہلے Iron (II) Sulphate کے ساتھ تعامل کرتا ہے اور Sodium Hexacyanoferate (II) بناتا ہے۔ مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ساتھ گرم کرنے پر کچھ Iron (II) آین کی تکسید Iron (III) میں ہو جاتی ہے جو سوڈیم ہیکساسائنوفیریٹ (II) سے تعامل کر کے آئرن (III) ہیکسا سائنوفیریٹ (فیری فیرو سائنائڈ) بناتا ہے جس کا رنگ پرشین بلو ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_394c

(B) سلفر کے لیے جانچ (Test for Sulphur)
(a) سوڈیم گداخت ملخّص کو ایسیٹک ایسڈ کے ساتھ تیزابی بنایا جاتا ہے اور اس میں لیڈ ایسی ٹیٹ (Lead Acetate) شامل کیا جاتا ہے۔ لیڈسلفائڈ کا کالا رسوب (Precipitate) سلفر کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

S2– + Pb2+  −→  PbS 
(کالا)

(b) سوڈیم گداخت ملخّص کا سوڈیم نائٹروپروسائڈ سے تعامل کرانے پر بینگنی رنگ کا ظاہر ہونا سلفر کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

S2– + [Fe(CN)5NO]2–  −→  [Fe(CN)5NOS]4
بینگنی

اگر ایک نامیاتی مرکب میں نائٹروجن اور آکسیجن دونوں پائی جاتی ہوں تو ایسی صورت میں سوڈیم تھایوسائنیٹ بنتا ہے۔ یہ خون جیسا لال رنگ دیتا ہے اور کوئی پرشین بلو رنگ نہیں دکھائی دیتا کیونکہ کوئی آزاد سائنائڈ آین نہیں ہوتے۔

Na + C + N + S −→ NaSCN
+Fe3+ + SCN–  −→ [Fe(SCN)]2
خون جیسا لال

اگر سوڈیم گداخت، سوڈیم کی وافر مقدار کے ساتھ کرایا جائے تو تھایوسائنیٹ تحلیل ہو کر سائنائڈ اور سلفائڈ دیتا ہے۔ یہ آین اپنے عام ٹیسٹ کے ذریعے سے شناخت کیے جاتے ہیں۔

NaSCN + 2Na   −→ NaCN+Na2S

(C) ہیلوجنوں کے لیے جانچ (Test for Halogens)
سوڈیم گداخت ملحض کو نائٹرک ایسڈ کے ذریعے تیزابی بنایا جاتا ہے اور پھر اس کا تعامل سلورنائٹریٹ سے کرایا جاتا ہے۔ امونیم ہائڈروآکسائڈ میں حل پذیر، سفید رسوب، کلورین کی نشاندہی کرتا ہے، امونیم ہائڈروآکسائڈ میں بہت کم حل پذیر زردی مائل رسوب، برومین کی نشاندہی کرتا ہے اور امونیم ہائڈرواکسائڈ میں غیر حل پذیر پیلا رسوب آیوڈین کی موجودگی ظاہر کرتا ہے۔

X– + Ag+   −→   AgX

X ایک ہیلوجن کو ظاہر کرتا ہے –  Br، CI اور I
اگر مرکب میں نائٹروجن اور سلفر بھی پائی جاتی ہوں تو سوڈیم گداخت ملحض کو پہلے مرتکز نائٹرک ایسڈ کے ساتھ ابالا جاتا ہے تاکہ Lassaigne's Test کے دوران بننے والے سوڈیم کے سائنائڈ اور سلفائڈ تحلیل ہو جائیں۔ نہیں تو یہ آین، ہیلوجن کے سلورنائٹریٹ جانچ میں مداخلت کریں گے۔

(D) فاسفورس کے لیے جانچ (Test for Phosphorus)

مرکب کو تکسیدی ایجنٹ (سوڈیم پر آکسائڈ)کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے ۔ مرکب میں پائے جانے والے فاسفورس کی تکسید ہو جاتی ہے اور فاسفیٹ بنتا ہے۔ محلول کو نائٹرک ایسڈ کے ساتھ ابالا جاتا ہے اور پھر اس کا تعامل امونیم مولبڈیٹ (Ammonium Molybdate) کے ساتھ کرایا جاتا ہے۔ ایک پیلارسوب فاسفورس کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

Na3PO4 + 3HNO3  −→  H3PO4 + 3NaNO3
→H3PO4  +  12(NH4)2 MoO4 + 21HNO3 −           
(امونیم مالبڈیٹ)
NH4)3PO4.12MoO3 + 21NH4NO3 + 12H2O)
(امونیم فاسفومالبڈیٹ)

12.10 مقداری تجزیہ

(Quantitative Analysis)

نامیاتی کیمیا میں مرکبات کی مقداری تجزیہ کی بہت اہمیت ہے۔ یہ مرکبات میں موجود عناصر کی کمیت فی صد کوتعین کرنے کے لیے سائنس دانوں کی مدد کرتا ہے۔ آپ نے اکائی۔1میںسیکھا ہے کہ تجرباتی اورسالماتی فارمولے کے تعین کے لیے کمیت فی صد کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی نامیاتی مرکب میں پائے جانے والے عناصر کی فی صد کیمیائی ترکیب (Percentage Composition of Elements) مندرجہ ذیل  طریقوں سے معلوم کی جاتی ہے۔

12.10.1 کاربن اور ہائڈروجن

(Carbon and Hydrogen)

کاربن اور ہائڈروجن دونوں کا تخمینہ ایک ہی تجربے کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔ ایک نامیاتی مرکب کی معلوم کمیت کو زیادہ آکسیجن اور کاپر (II) آکسائڈ کی موجودگی میں جلایا جاتا ہے۔ مرکب میں موجود کاربن اور ہائڈروجن تکسید ہو کر بالترتیب کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی بناتے ہیں۔

CxHy + (x  +  y/4) O2 −→ x CO2 + (y/2) H2O

اس طرح بنے ہوئے پانی کی کمیت، آمیزہ کو ایک وزن کی ہوئی ایسی ٹیوب میں سے گزار کر معلوم کی جاتی ہے، جس میں نابیدہ کیلشیم کلورائڈ رکھا ہوتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کو ایک دوسری ایسی U ٹیوب میں جذب کیا جاتا ہے، جس میں پوٹاشیم ہائڈروآکسائڈ کا مرتکز محلول ہوتا ہے۔ ان ٹیوبوں کو سلسلہ وار منسلک کیا جاتا ہے (شکل 12.14)۔

13
شکل 14۔12 کاربن اور ہائڈروجن کا تخمینہ- شے کی تکسید سے تشکیل پانے والے کاربن اور ہائڈروجن U - یوٹوپ میں رکھے ہوئے نابیدہ کیلشیم کلو رائڈ اور پٹا شیم ھائڈرواکسائڈ محلوں میں بالترتیب بذب ہوتے ہیں-

کیلشیم کلورائڈ اور پوٹاشیم ہائڈروآکسائڈ کی کمیتوں میں اضافہ پانی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار دیتا ہے، جس سے کاربن اور ہائڈروجن کی فی صدی کا حساب لگایا جاتا ہے۔
فرض کیجیے کہ نامیاتی مرکب کی کمیت m gm ہے، تشکیل پانے والے پانی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی کمیت، بالترتیب m1 اور m2 گرام ہے:

5166_Keemiyan II_Ch12_396a

مسئلہ 12.20

مکمل احتراق کے بعد، ایک نامیاتی مرکب کے 0.246g سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے 0.198g اور پانی کے 0.1014g حاصل ہوتے ہیں۔ مرکب میں کاربن اور ہائڈروجن کی فی صد ترکیب معلوم کیجیے۔

حل

5166_Keemiyan II_Ch12_396b
5166_Keemiyan II_Ch12_396c

12.10.2  نائٹروجن (Nitrogen)

نائٹروجن کا تخمینہ دو طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ (i) ڈیوماس کا طریقہ (Duma's Method) اور (ii) جل ڈاھل کا طریقہ (Kjeldahl's Method)۔

(i) ڈیوماس طریقہ (Duma's Method): وہ نامیاتی مرکب جس میں نائٹروجن شامل ہوتی ہے، کاربن ڈائی آکسائڈ کی فضا (Atmosphere) میں کاپر آکسائڈ کے ساتھ گرم کیے جانے پر کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کے علاوہ آزاد نائٹروجن دیتا ہے۔

CxHyNz + (2x + y/2) CuO  −→ x CO2 + y/2 H2O +  z/2 N2 + (2x + y/2) Cu

اگر کچھ نائٹروجن آکسائڈ کاشائبہ (Traces) تشکیل پاتا ہے تو گیسی آمیزہ کو گرم کی ہوئی کا پر جالی (Copper Gauze) سے گزارنے پر نائٹروجن میں تحویل ہو جاتا ہے۔ اس طرح بننے والے گیسوں کے آمیزہ کو

14
شکل 15۔12 دیو ماس طریقہ: نامیتی مرکبCO2گیس کی موجودگی میں کاپر(11) اکسائڈ کے ساتھ
گرم کیے جانے پرنائٹروجن گیس دیتا ہے- گیسوں کے آمیزہ کو پوٹاشیم ھائڈرواکسائڈ محلول پر جمع کیا تا ہے، جس میںCO2جذب ہو جاتی ہے اور نائٹروجن گیس کا حجم معلوم کرلیا جا تا ہے-

 پوٹاشیم ہائڈروآکسائڈ کے آبی محلول پر اکٹھا کرلیا جاتا ہے، جو کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کر لیتا ہے۔ نائٹروجن کو نشان بند نلی کے اوپری حصّے میں اکٹّھا کرلیا جاتا ہے (شکل 12.15)۔
فرض کیجیے
m g   =   نامیاتی مرکب کی کمیت
V1 mL    =    جمع کی گئی نائٹروجن کا حجم
T1 K   =     کمرہ کا درجہ حرارت
5166_Keemiyan II_Ch12_397a پر نائٹروجن کا حجم
(فرض کیجیے یہ V mL ہے)

جہاں p1 اور V1 نائٹروجن کا دباؤ اور حجم ہیں، p1 اس فضائی دباؤ سے مختلف ہے، جس پر نائٹروجن جمع کی گئی ہے۔ p1 کی قدر مندرجہ ذیل رشتے سے معلوم کی جاتی ہے:
فضائی دباؤ –آبی تناؤ = p1 
STP پر 22400 mL نائٹروجن کا وزن 28 گرام ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_397B پر V mL نائٹروجن کا وزن 

مسئلہ 12.21

نائٹروجن کے تخمینے کے لیے ڈیو ماس طریقے میں 0.3 g نامیاتی مرکب سے  50mL نائٹروجن حاصل ہوتی ہے، جسے 300K درجہ حرارت اور 715mm دباؤ پر جمع کیا جاتا ہے۔ مرکب میں نائٹروجن کی فی صد ترکیب معلوم کیجیے۔ (300K = 15 mm پر آبی تناؤ)۔

حل

300K اور 715mm دباؤ پر جمع کی گئی نائٹروجن کا حجم ہے، 50mL 

=715- 15=700mmاصل دباو
15پر نائٹروجن کا حجم
                                     =41.9ml
16



17
شکل 16۔12: جل ڈھال کا طریقہ: جس مرکب میں نائٹروجن شامل ہوتی ہے،امونیم سلفیٹ حاصل
کرنے کے لیے اس کا تعامل H2SO4کرایا جاتا ہے-جس میں امو نیکا نکلتی ہےNaOHسے تعامل
کرانے پر معیاری تیزاب کے معلوم حجم میں امونیا جذب ہو جاتی ہے-

(ii) جل ڈاھل کا طریقہ (Kjeldahl’s Method): جس مرکب میں نائٹروجن شامل ہوتی ہے اسے مرتکز سلفیورک ایسڈ کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے۔ مرکب کی نائٹروجن، امونیم سلفیٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے (شکل 12.16)۔ اس طرح حاصل ہونے والے تیزابی آمیزہ کو زیادہ سوڈیم ہائڈروآکسائڈ کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے اور نکلنے والی امونیا گیس کو سلفیورک ایسڈ کے معیاری محلول (زیادہ مقدار) میں جذب ہو جاتی ہے۔ بنی ہوئی امونیا کی مقدار،تعامل میں خرچ ہونے والے سلفیورک ایسڈ کی مقدار کا تخمینہ لگاکر، معلوم کی جاتی ہے۔ اس کے لیے امونیا جذب ہونے کے بعد غیر تعامل پذیر سلفیورک ایسڈ کا تخمینہ اس کا معیاری قلوی محلول (Standard Alkali Solution) کے ساتھ ٹائٹریشن (Titration) کرکے لگایا جاتا ہے۔ ابتدا میں لیے گئے تیزاب کی مقدار اور تعامل کے بعد باقی بچے تیزاب کی مقدار کا فرق امونیا کے ساتھ تعامل پذیر تیزاب کی مقدار دیتا ہے۔

H2SO4  −→  (NH4)2SO4 + نامیاتی مرکب 
5166_Keemiyan II_Ch12_398a
2NH3 + H2SO4 ↔(NH4)2SO4
فرض کیجیے
            'g'm   =   نامیاتی مرکب کی لی ہوئی کمیت
            V mL =  مولاریت M کے لیے ہوئے H2SO4 کا حجم
          V1 mL =  باقی بچے H2SO4 کی ٹائٹریشن کے لیے استعمال ہوئے 
M مولاریت کے NaOH کا حجم
M مولاریت کے H2SO4 کے 5166_Keemiyan II_Ch12_398b = M مولاریت کے NaOH کے V1 mL
5166_Keemiyan II_Ch12_398c مولاریت M کے غیر استعمال شدہ H2SO4 کا حجم
مولاریت M کے NH3 محلول کے 5166_Keemiyan II_Ch12_398d مولاریت M کے H2SO4 کے 5166_Keemiyan II_Ch12_398e
N 14 g یا NH3 17 g = 1 M NH3 محلول کے 1000mL میں شامل ہے
مولاریت کے NH3 کے 5166_Keemiyan II_Ch12_398f ملی لیٹر میں شامل ہے۔ 

5166_Keemiyan II_Ch12_399a

جل ڈاھل کا طریقہ ان مرکبات کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، جن میں نائٹروجن، نائٹرو اور ایزو (Azo) گروپوں میں پائی جاتی ہے یا نائٹروجن حلقوں (Rings) میں ہوتی ہے، (مثلاً Pyridine) کیونکہ ایسے مرکبات کی نائٹروجن، ان حالات سے امونیم سلفیٹ میں تبدیل نہیں ہوتی۔

مسئلہ 12.22

جل ڈاھل کے طریقے کے ذریعے ایک نامیاتی مرکب میں پائی جانے والی نائٹروجن کے تخمینہ کے دوران مرکب کے 0.5 g سے نکلی ہوئی امونیا نے 1M 
H2SO4 کے 10mL کو تعدیل کردیا۔ مرکب میں نائٹروجن کی فی صد معلوم کیجیے۔

حل

1Mکا10ml H2SO4=1Mکا20mL NH3
نائٹروجن کے1M= 14g امونیا کے 1000mL میں شامل ہیں
نائٹروجن کے 5166_Keemiyan II_Ch12_399d امونیا کے 20mL میں شامل ہیں
5166_Keemiyan II_Ch12_399e نائٹروجن کی فی صد

12.10.3  ہیلوجن (Halogens)

کیریس طریقہ (Carius Method) : نامیاتی مرکب کی ایک معلوم کمیت کو ایک سخت شیشے کی ٹیوب میں جسے کیریس ٹیوب کہتے ہیں، سلورنائٹریٹ کی موجودگی میں دخان خیز(Fuming) نائٹرک ایسڈ کے ساتھ ایک بھٹّی میں گرم کیا جاتا ہے (شکل 12.17)۔ مرکب میں موجود کاربن اور ہائڈروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی میں تکسید ہو جاتی ہیں۔ مرکب میں پائے جانے والے ہیلوجن، نظیری سلور ہیلائڈ تشکیل دیتے ہیں (AgX)۔ اسے چھانا جاتا ہے، دھویا اور سکھایا جاتا ہے اور اس کا وزن کیا جاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch12_400a

شکل 12.17 : کیریس طریقہ جس نامیاتی مرکب میں ہیلوجن شام ہیں اسے سلورنائٹریٹ کی
موجودگی میں دخان خیز نائٹرک ایسڈ کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے۔
فرض کیجیے
m g = لیے ہوئے نامیاتی مرکب کی کمیت
m1 g = تشکیل پانے والے AgX کی کمیت
AgX کے ایک مول میں، X کا ایک مول ہے
AgX کے m1g میں ہیلوجن کی کمیت
5166_Keemiyan II_Ch12_400b

مسئلہ 12.23

ہیلوجن کی تخمینہ کے کیریس طریقے میں ایک 0.15g نامیاتی مرکب سے، AgBr کے 0.12g حاصل ہوتے ہیں۔ مرکب میں برومین کی فی صد معلوم کیجیے۔

حل

108 + 80 =  AgBr کی مولر کمیت
=188 g mol-1
5166_Keemiyan II_Ch12_400c

12.10.4  سلفر (Sulphur)

ایک نامیاتی مرکب کی معلوم کمیت کو کیریس ٹیوب میں سوڈیم پر آکسائڈ یا دخان خیز (Fuming) نائٹرک ایسڈ کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے۔ مرکب میں موجود سلفر کی تکسیدسلفیورِک ایسڈ میں ہو جاتی ہے۔ بیریم کلورائڈ کا پانی میں تیار محلول، زیادہ مقدار میں ملانے سے یہ بیریم سلفیٹ کی شکل میں رسوب ہوجاتا ہے۔ رسوب کو چھانا جاتا ہے، دھویا اور سکھایا جاتا ہے اور اس کا وزن کر لیا جاتاہے۔ بیریم سلفیٹ کی کمیت سے سلفر کی فی صد کا حساب لگایا جاسکتا ہے۔
m g = فرض کیجیے کہ نامیاتی مرکب لی گئی کمیت
m1 g = تشکیل پانے والے بیریم سلفیٹ کی کمیت
سلفرBaCO4=233=gBaSO4=32g  کا ایک مول
                   سلفر5166_Keemiyan II_Ch12_400e BaSO4 میں ہے
5166_Keemiyan II_Ch12_400f سلفر کی فی صد

مسئلہ 12.24

0.157g نامیاتی مرکب، سلفر کے تخمینہ میں 0.4813g بیریم سلفیٹ دیتا ہے۔ مرکب میں سلفر کی فی صد کیا ہے؟

حل

5166_Keemiyan II_Ch12_400g = 64 + 32 + 137 = BaSO4 کی سالماتی کمیت
 5166_Keemiyan II_Ch12_400g ،  BaSO4 میں سلفر 32 گرام ہوتاہے۔
BaSO40.4183 g میں سلفر، 5166_Keemiyan II_Ch12_400h ہے
5166_Keemiyan II_Ch12_400i سلفر کی فی صد
 

12.10.5 فاسفورس (Phosphorus)

نامیاتی مرکب کی ایک معلوم کمیت کو دخان خیز نائٹرک ایسڈ کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے، جس سے مرکب میں موجود فاسفورس کی تکسید ہوتی ہے اور وہ فاسفورِک ایسڈ بن جاتا ہے۔ اس میں امونیا اور امونیم مولبڈیٹ شامل کرنے سے امونیم فاسفومولبڈیٹ  (NH4)3 PO4.12 MoO3) کے رسوب حاصل ہوتے ہیں۔ متبادل طور پر فاسفورک ایسڈ میں میگنیشیا آمیزہ ملا کر MgNH4PO4 کے رسوب بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں جو جلائے جانے پر Mg2P2O7 دیتے ہیں۔
فرض کیجیے
'm'g = نامیاتی مرکب کی لی گئی کمیت
m1 g = امونیم فاسفومولبڈیٹ کی کمیت
1877g  = NH4)3PO4.12MoO3) کی مولر کمیت
5166_Keemiyan II_Ch12_400k فاسفورس کی فی صد
اگر فاسفورس کا تخمینہ Mg2P2O7 کے طور پر لگایا جائے
5166_Keemiyan II_Ch12_400L فاسفورس کی فی صد
جہاں 5166_Keemiyan II_Ch12_400M Mg2P2O7 کی مولر کمیت ہے، m نامیاتی مرکب کی لی گئی کمیت ہے، m1 تشکیل پانے والے Mg2P2O7 کی کمیت ہے اور 62، Mg2P2O7 مرکب میں موجود فاسفورس کے دو ایٹموں کی ایٹمی کمیت ہے۔

12.10.6 آکسیجن (Oxygen)

ایک نامیاتی مرکب میں عام طور سے آکسیجن کی فی صد، کل فی صد ترکیب اور باقی تمام عناصر کی فی صد کے حاصِل جمع کے مابین فرق سے معلوم کی جاتی ہے۔ لیکن آکسیجن کا تخمینہ براہِ راست بھی مندرجہ ذیل طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔
ایک نامیاتی مرکب کی ایک متعین کمیت کو نائٹروجن گیس کی دھار (Stream) میں گرم کرکے تحلیل کیا جاتا ہے۔ گیسی ماحصلات کے آمیزہ کو جس میں آکسیجن شامل ہوتی ہے، سرخ- گرم (Red-hot) کوک سے گزاراجاتا ہے، جس سے تمام آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ آمیزہ گرم  آیوڈین پنیٹا آکسائڈ  (I2O5) سے گزارا جاتا ہے، جس سے کاربن مونو آکسائڈ کی تکسید کاربن ڈائی آکسائڈ میں ہوتی ہے اور آیوڈین بنتی ہے۔
5166_Keemiyan II_Ch12_400n
مساوات (A) میں CO کا بننا اورمساوات (B) میں استعمال ہونے کوبرابرکرنے کے لیے مساوات(A)اور(B) کوبالترتیب 5 اور2 سے ضرب کیا جاتاہے۔ ہم نے دیکھا کہ آکسیجن کا ایک مول کاربن مونوآکسائڈکے دو مول بناتاہے اس لیے 32 گرام O2 کے اخراج سے 88 گرام آکسیجن حاصل ہوگی۔
فرض کیجیے
m g = نامیاتی مرکب کی لی گئی کمیت
m1 g = کاربن ڈائی آکسائڈ کی کمیت
 88g، کاربن ڈائی آکسائڈمیں آکسیجن 32g ہوتی ہے۔
5166_Keemiyan II_Ch12_400o = m1 g، کاربن ڈائی آکسائڈ میں ہے
5166_Keemiyan II_Ch12_400p آکسیجن کی فی صد
آکسیجن کی فی صد، اس طرح بننے والی آیوڈین کی مقدار سے اخذ کی جاسکتی ہے۔
آج کل ایک نامیاتی مرکب کے اجزا کے تخمینہ کے لیے اشیا کی مائیکرومقداریں اور خودکار (Automatic) تجرباتی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک مرکب میں شامل عناصر: کاربن، نائٹروجن اور ہائڈروجن کا تخمینہ ایک آلے کے ذریعے کیا جاتاہے جس کا نام CHN عنصری تجزیہ کار (CHN Elemental Analyser) ہے۔ تجزیہ کار کو اشیا کی بہت قلیل مقدار درکار ہوتی ہے (3 – 1 mg) اور یہ مختصر وقت میں قدروں کو ایک پردے پر ظاہر کردیتا ہے۔ ان طریقوں سے تفصیلی بحث اس کتاب کے دائرہ کار سے باہر ہے۔


خلاصہ 

اس اکائی میں ہم نے شریک گرفت بندش کی وجہ سے تشکیل پانے والے نامیاتی مرکبات کی ساخت اور متعاملیت کے کچھ بنیادی تصورات سیکھے ہیں۔ نامیاتی مرکبات میں شریک گرفت بندش کی فطرت اربٹل کی مخلوطیت (Orbitals Hybridisation) کے تصور کی شکل میں بیان کی جاسکتی ہے۔ sp3، sp2 اور sp مخلوط اربٹل ہو سکتے ہیں۔ sp3، sp2 اور sp مخلوط کاربن بالترتیب Methane، Ethene اور Ethyne جیسے مرکبات میں پائے جاتے ہیں۔ Methane کی ٹیٹراہیڈرل شکل، Ethene کی مسطح (Planar) شکل اور Ethyne کی خطّی(Linear) شکل کو اس تصور کی بنیاد پر سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک sp3 مخلوط اربٹل، ہائڈروجن کے 1s اربٹل پر منطبق ہو سکتا ہے اور ایک کاربن- ہائڈروجن (C–H) واحد بند (سگما s، بند) بناسکتا ہے۔ ایک کاربن کے sp2 اربٹل کا دوسرے کاربن کے sp2 اربٹل کے ساتھ انطباق کے نتیجے میں، ایک کاربن- کاربن، σ بند کی تشکیل ہوتی ہے۔ دو متصل کاربن ایٹموں کے غیر مخلوط p اربٹل میں پہلوی (Lateral) (پہلو بہ پہلو) انطباق ہو سکتا ہے۔ جس سے پائی بند (π) حاصل ہوتا ہے۔ نامیاتی مرکبات کو مختلف ساختی فارمولوں کے ذریعے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ نامیاتی مرکبات کا سہ ابعادی اظہار، کاغذ پر پچّر اور ڈیش (Wedge and Dash) فارمولے کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ 
نامیاتی مرکبات کی درجہ بندی، ان کی ساخت، یا ان میں شامل تفاعلی گروپ کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ ایک تفاعلی گروپ وہ ایٹم یا ایک یکتا طور پر آپس میں بندھے ہوئے ایٹموں کا وہ گروپ ہے جو مرکبات کی طبعی اور کیمیائی خاصیتیں متعین کرتا ہے۔ نامیاتی مرکبات کے نام، انٹر نیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائڈ کیمسٹری (IUPAC) کے وضع کیے ہوئے قاعدوں کے سیٹ کے مطابق رکھّے جاتے ہیں۔ IUPAC تسمیہ میں، ناموں کو ساخت کے ساتھ اس طرح مربوط کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والا نام سے ساخت اخذ کر سکے۔
نامیاتی تعامل کے میکانزم کے تصورات، Substrate کے سالمہ کی ساخت، ایک شریک گرفت بند کا انشقاق، حملہ آور ریجنٹ، الیکٹران ہٹاؤ اثرات اور تعامل کی شرائط پر مبنی ہیں۔ ان نامیاتی تعاملات میں شریک گرفت بند کا ٹوٹنا اور بننا شامل ہوتا ہے۔ ایک شریک گرفت بند کو ہیٹرولائٹک یا ہومولائٹک طور پر شکستہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک ہیٹرولائٹک شکستگی سے متعامل انٹرمیڈئیٹ کی شکل میں متعامل کاربوکیٹ آین یا کارب منفی آین ملتے ہیں، جب کہ ہومولائٹک شکستگی سے آزاد ریڈیکل حاصل ہوتے ہیں۔ ہیٹرولائٹک شکستگی کے ذریعے ہونے والے تعاملات میں متعامل انواع کے امدادی جوڑے شامل ہوتے ہیں۔ یہ ایک الیکٹران جوڑا معطّی (Donor) ہیں جو نیوکلیوفائل کہلاتے ہیں اور ایک الیکٹران جوڑا قبول کرنے والے ہیں جو الیکٹروفائل کہلاتے ہیں۔ امالی، گمک، الیکٹرومیرزم اور بیش جفتگی اثرات، ایک بند کی تقطیب میں مدد کرسکتے ہیں اور اس طرح کاربن ایٹم یا دوسرے ایٹموں کے کچھ مقامات کو کم یا زیادہ الیکٹران کثافت کے مقامات بناسکتے ہیں۔
نامیاتی مرکبات کی موٹے طور پر مندرجہ ذیل قسموں میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے: بدل، جمع، خروج اور باز ترتیب تعاملات۔
نامیاتی مرکبات کی ساخت معلوم کرنے کے لیے ان کو خالص بنانے کا عمل اور ان کا کیفیتی اور مقداری تجزیہ کیا جاتا ہے۔ خالص بنانے کے طریقے جن کے نام ہیں: تصعید، کشید اور تفرقی تلخیص، ایک یا اس سے زائد طبعی خاصیتوں کے فرق پر مبنی ہیں۔ کرومیٹوگرافی مرکبات کو علیحدہ کرنے، شناخت کرنے اور خالص بنانے کی ایک کارآمد تکنیک ہے۔ اس کی دو درجوں میں درجہ بندی کی جاتی ہے: سطحی جاذبیت اور تقسیم کرومیٹوگرافی۔ سطحی جاذبیت کرومیٹوگرافی ، جاذب پرآمیزے کے مختلف اجزا کی تفرقی جاذبیت پر مبنی ہے۔ تقسیم کرومیٹو گرافی ایک آمیزہ کے مختلف اجزاء کی ساکت اور متحرک ہئیتوں میں لگاتار تقسیم شامل ہے۔ ایک مرکب کو خالص شکل میں حاصل کرنے کے بعد اس میں موجود عناصر کی شناخت کے لیے اس کا کیفیتی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ نائٹروجن، سلفر، ہیلوجن اور فاسفورس Lassagne's کی جانچ کے ذریعے شناخت کیے جاتے ہیں۔ کاربن اور ہائڈروجن کا تخمینہ، ان سے بنی کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کی مقدار معلوم کرکے، کیا جاتا ہے نائٹروجن کا تخمینہ، Duma's یا Kjeldahl کے طریقے سے اور ہیلوجنوں کا Carius کے طریقے سے لگایا جاتا ہے۔ سلفر اور فاسفورس کا تخمینہ لگانے کے لیے ان کی تکسید، بالترتیب سلفیورک اور فاسفورک ایسڈ میں کی جاتی ہے۔ آکسیجن کی فی صد عام طور سے کل فی صد (100) میں سے باقی تمام عناصر کی فی صد کے مجموعے کو نفی کرکے معلوم کی جاتی ہے۔

مشقیں

12.1 مندرجہ ذیل مرکبات میں ہر ایک کاربن ایٹم کی مخلوط حالتیں کون سی ہیں؟
CH2 = C = O, CH3CH = CH2, (CH3)2CO, CH2 = CHCN, C6H6

12.2 مندرجہ ذیل سالمات میں σ اور π بند کی نشاندہی کیجیے:
C6H6, C6H12, CH2Cl2, CH2 = C = CH2, CH3NO2, HCONHCH3

12.3 مندرجہ ذیل کے لیے بانڈ لائن فارمولا لکھیے:
Isopropyl alcohol, 2,3-Dimethyl butanal, Heptan-4-one.

12.4 مندرجہ ذیل مرکبات کے IUPAC نام لکھیے:

5166_Keemiyan II_Ch12_402a

12.5 مندرجہ ذیل میں سے متعلقہ مرکب کے لیے کون سا درست IUPAC نام ہے؟
(a) 2,2-Dimethylpentane یا 2-Dimethylpentane (b) 2,4,7-Trimethyloctane یا 2,5,7-Trimethyloctane 
(c) 2-Chloro-4-methylpentane یا 4-Chloro-2-methylpentane  But-3-yn-1-ol یا (d) But-4-ol-1-yne۔

12.6 مندرجہ ذیل مرکبات سے شروع ہونے والے ہر ایک ہم وصف سلسلے کے پہلے پانچ ارکان کے فارمولے لکھئے:
(a) H–COOH (b) CH3COCH3 (c) H–CH = CH2

12.7 مندرجہ ذیل کے اختصار شدہ (Condensed) اور بانڈ لائن فارمولے لکھیے اور اگر ان میں کوئی تفاعلی گروپ ہے/ ہیں تو انہیں پہچانئے۔
(a) 2,2,4-Trimethylpentane
(b) 2-Hydroxy-1,2,3-propanetricarboxylic acid
(c) Hexanedial

12.8 مندرجہ ذیل مرکبات میں تفاعلی گروپ کی شناخت کیجیے:

5166_Keemiyan II_Ch12_402b

12.9 ان دونوں O2NCH2CH2O یا CH3CH2O میں سے کس کی زیادہ مستحکم ہونے کی امید کی جاسکتی ہے اور کیوں؟

12.10 وضاحت کیجیے کہ جب Alkyl گروپ کسی π نظام سے منسلک ہوتے ہیں تو بطور الیکٹران معطّی کیوں کام کرتے ہیں؟

12.11 مندرجہ ذیل مرکبات کے لیے گمک ساخت بنائیے۔ خمیدہ تیر کے نشان کا استعمال کرتے ہوئے الیکٹران منتقلی کو دکھائیے:
(a) C6H5OH (b) C6H5NO2 (c) CH3CH=CHCHO
(d) C6H5–CHO (e) 5166_Keemiyan II_Ch12_402c (f) 5166_Keemiyan II_Ch12_402d

12.12 الیکٹروفائل اور نیوکلیوفائل کیا ہیں؟ مثالوں کے ذریعے وضاحت کیجیے۔

12.13 مندرجہ ذیل مساوات میں جلی حروف میں لکھے ہوئے کیمیائی ریجنٹ کی شناخت بطور نیوکلیوفائل یا الیکٹروفائل کیجیے:
(a) CH3COOH + HO∼↔CH3COO∼+H2O
         (b)  CH3COCH3 + CN↔(CH3)2C(CN)(OH)
         (C)  C6H6 + CH3 CO↔C6H6COCH3

12.14 مندرجہ ذیل تعاملات کی درجہ بندی، اس اکائی میں مطالعہ کی کئی تعاملات کی اقسام کے تحت کیجیے:
(a) CH3CH2Br +HS∼↔CH3CH2SH +Hr
        (b) (CH3)2 C = CH2 +HCI↔(CH3)2 CIC-CH3
        (c) CH3CH2Br+HO↔CH2=CH2+H2O+Br
         (d) (CH3)C-CH2OH+HBR↔(CH3)2CBrCH2CH3+H20

12.15 مندرجہ ذیل ساختوں کے جوڑوں کے ارکان کے درمیان کیا رشتہ ہے؟ کیا وہ ساختی یا جیومیٹریکل آئسومر ہیں یا گمک میں حصّہ لینے والے ہیں؟
5166_Keemiyan II_Ch12_402g

12.16 مندرجہ ذیل بند شکستگیوں کے لیے الیکٹران بہاؤ دکھانے کے لیے خمیدہ تیر کا استعمال کیجیے اور ہر ایک کی بطور ہومولسس یا ہیٹرولسس درجہ بندی کیجیے:
5166_Keemiyan II_Ch12_402h

12.17 اصطلاحات امالی اثر اور ’’الیکٹرومیرک اثر‘‘ کی وضاحت کیجیے۔ Carboxylic Acid کی تیزابیت کی مندرجہ ذیل درست ترتیب کی کون سا الیکٹران ہٹاؤ اثر وضاحت کرتا ہے؟
(a) Cl3CCOOH > Cl2CHCOOH > ClCH2COOH
(b) CH3CH2COOH > (CH3)2CHCOOH > (CH3)3C.COOH

12.18 مندرجہ ذیل تکنیکوں کے اصول مختصراً بیان کیجیے۔ ہر ایک کی ایک مثال کی مدد سے وضاحت کیجیے:
(a) قلماؤ (b) کشید (c) کرومیٹوگرافی 

12.19 ایک محلل S میں مختلف حل پذیری کے دو مرکبات کو علیحدہ کرنے میں استعمال ہونے والا طریقہ بیان کیجیے۔

12.20 کشید، تخفیف شدہ دباؤ کے ساتھ کشید اور بھاپ کشید کے مابین کیا فرق ہے؟

12.21 Lassaigne's Test کی کیمسٹری سے بحث کیجیے۔

12.22 ایک نامیاتی مرکب میں نائٹروجن کے تخمینہ کے لیے استعمال ہونے والے (i) ڈیوماس طریقہ اورKJeldahl  کا طریقہ کے اصولوں کے مابین فرق کیجیے۔

12.23 ایک نامیاتی مرکب میں پائے جانے والے ہیلوجن، سلفر اور فاسفورس کے تخمینہ کے اصول سے بحث کیجیے۔

12.24 پیپر کرومیٹوگرافی کے اصول کی وضاحت کیجیے۔

12.25 ہیلوجن کی جانچ کرنے کے لیے سوڈیم ملخص میں سلورنائٹریٹ ڈالنے سے پہلے نائٹرک ایسڈ کیوں ملایا جاتا ہے؟

12.26 نائٹروجن، سلفر اور ہیلوجنوں کی جانچ کرنے کے لیے ایک نامیاتی مرکب کے دھاتی سوڈیم کے ساتھ گداخت کرانے کی کیا وجہ ہے وضاحت کیجیے۔

12.27 کیلشیم سلفیٹ اور کافور (Camphor) کے آمیزے میں سے اجزا کو الگ کرنے کے لیے ایک مناسب تکنیک کا نام بتائیے۔

12.28 وضاحت کیجیے کہ ایک نامیاتی مرکب کی اپنی بھاپ کشید کے دوران اپنے نقطۂ جوش سے کم درجہ حرارت پر کیوں تبخیر ہو جاتی ہے؟

12.29 کیا CCl4، سلور نائٹریٹ کے ساتھ گرم کیے جانے پر AgCl کا سفید رسوب دے گا؟ اپنے جواب کی حمایت میں دلائل دیجیے۔

12.30 ایک نامیاتی مرکب میں موجود کاربن کی تخمینہ کے دوران، باہر نکل رہی کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرنے کے لیے پوٹاشیم ہائڈروآکسائڈ کا محلول کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟

12.31 لیڈ ایسی ٹیٹ یٹسٹ کے ذریعے سلفر کی جانچ کرنے کے لیے سوڈیم ملحض کو تیزابی بنانے کے لیے سلفیورک ایسڈ نہیں بلکہ ایسی ٹِک بیسڈ استعمال کرنا کیوں ضروری ہے؟

12.32 ایک نامیاتی مرکب میں %69 کاربن اور %4.8 ہائڈروجن ہے اور باقی آکسیجن ہے۔ اگر اس شے کے 0.2g کا مکمل احتراق کرایا جائے تو بننے والی کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کی کمیتوں کا حساب لگائیے۔

12.33 ایک نامیاتی مرکب کے 0.50g کے نمونہ کا Kajeldahl کے طریقے کے مطابق تعامل کرایا گیا۔ بننے والی امونیا کو 0.5MH2SO4 کے 50mL میں جذب کیا گیا۔ باقی بچے تیزاب کو تعدیل کرنے کے لیے NaOH کے 0.5M محلول کے 60mL درکار ہیں۔ مرکب میں نائٹروجن کی فی صد ترکیب معلوم کیجیے۔

12.34 کیریس تخمینہ میں ایک نامیاتی کلورومرکب کے 0.3780g، سلورکلورائڈ کے 0.5740g دیتے ہیں۔ مرکب میں موجود کلورین کی فی صد کا حساب لگائیے۔

12.35 کیریس طریقے کے ذریعے سلفر کے تخمینہ میں ایک نامیاتی سلفر مرکب کے 0.468g، بیریم سلفیٹ کے 0.668g مہیا کراتے ہیں۔ دیے ہوئے مرکب میں سلفر کی فی صد معلوم کیجیے۔

12.36 نامیاتی مرکب CH2 = CH – CH2 – CH2 – C = CH، میں C2 – C3 بند کی تشکیل میں مخلوط اربٹل کا شامل جوڑا ہے:
(a) spsp2 (b) spsp3 (c) sp2sp3 (d) sp3sp3

12.37 ایک نامیاتی مرکب میں نائٹروجن کی جانچ کے لیے کیے گئے Lassaigne کے ٹیسٹ میں پرشین  بلو رنگ حاصل ہونے کی وجہ ذیل میں سے کس کی تشکیل ہے؟
(a) Na4[Fe(CN)6] (b) Fe4[Fe(CN)6]3 (c) Fe2[Fe(CN)6] (d) Fe3[Fe(CN)6]4

12.38 مندرجہ ذیل میں کون سا کاربوکیٹ آین سب سے زیادہ مستحکم ہے:
5166_Keemiyan II_Ch12_405a

12.39 ایک نامیاتی مرکب کی تغرید (Isolation)، خالص بنانے اور علیحدہ کرنے کی سب سے بہتر اور جدید ترین تکنیک ہے:
(a) قلماؤ (b) کشید (c) تصعید (d) کرومیٹوگرافی 

12.40 تعامل:CH3CH2OH+KOH(aq)↔CH3CH2OH+kl  کی درجہ بندی کی جاتی ہے بطور
(a) الیکٹروفِلِک عمل بدل تعامل (b) نیوکلیوفِلِک تعامل (c) اخراج (d) جمع