Skip to content
Keemiyan II

اکائی 13

ہائڈروکاربن

(Hydrocarbons)

مقاصد

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :

  • ہائڈروکاربن کو IUPAC نظامِ تسمیہ کے مطابق نام دے سکیں؛
  • الکین، الکیٖن الکائن اور ایرومیٹک ہائڈروکاربن کے آئسومرس کو پہچان سکیں اور ان کی ساخت لکھ سکیں؛
  • ہائڈروکاربن کو تیار کرنے کے مختلف طریقوں کو سیکھ سکیں؛
  • الکین، الکیٖن، الکائن اور ایرومیٹک ہائڈروکاربن میں ان کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کی بنیاد پر تفریق کرسکیں؛
  • ایتھین(Ethane) کی مختلف شکلوں کے درمیان فرق کر سکیں اور ان کی شکلیں بنا سکیں ؛
  • دیگر صنعتی استعمال کے لیے ہائڈروکاربن کے کردار کی توضیح کرسکیں؛
  • الیکٹرانی میکانزم کی بنیاد پر غیر متشاکل الکیٖن اور الکائن کے جمعی ماحصل بننے کی پیشین گوئی کر سکیں؛
  • بینزین کی ساخت سمجھ سکیں ایرومیٹسٹی کی وضاحت کر سکیں اور بینزین کے الیکٹرفِلک بدل تعاملات کے میکانزم کو سمجھ سکیں ؛
  • اکائی بدل بینزین رِنگ میں بدل کے سمتی اثرات بتا سکیں؛
  • سمیت اور کارسِنوجینیسٹی کے بارے میں سیکھ سکیں۔

"ہائڈرو کاربن توانائی کے اہم ماخذ ہیں۔"
’ہائڈرو کاربن‘ کی اصطلاح خود وضاحتی ہے جس کا مطلب ہے صرف کاربن اور ہائڈروجن کے مرکبات، ہائڈروکاربن ہماری روز مرہ کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی ایل پی جی اور سی این جی سے بخوبی واقف ہیں۔ LPG در اصل Liquified Petroleum Gas کا مخفف ہے جبکہ CNG کا مطلب ہے Compressed Natural Gas ۔ ایک دوسری اصطلاح LNG یعنی (Liquified Natural Gas) بھی آج کل استعمال ہورہی ہے۔ یہ بھی ایک ایندھن ہے اور نیچرل گیس کو رقیق بنا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کا تیل قشر ارض کے نیچے پائے جانے والے پیٹرولیم کی کسری کشید سے حاصل ہوتے ہیں۔ کوئلے کی تخریبی کشید (Destructive distillation) سے کول گیس حاصل ہوتی ہے۔ تیل کے کنوئیں کو برماتے وقت اوپری سطح سے قدرتی گیس حاصل ہوتی ہے۔ دبائے جانے کے بعد یہ گیس کمپریسڈ نیچرل گیس کہلاتی ہے۔ ایل پی جی گھریلو ایندھن کی طرح استعمال ہوتی ہے جس میں آلودگی سب سے کم ہوتی ہے۔ مٹی کا تیل بھی گھریلو ایندھن کی طرح استعمال ہوتا ہے لیکن اس سے کچھ آلودگی بھی پیدا ہوتی ہے موٹر گاڑیوں میں پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی جیسے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیٹرول اور سی این جی سے چلنے والی موٹر گاڑیوں سے آلودگی کم ہوتی ہے۔ ان تمام ایندھنوں میں ہائڈروکاربن کے آمیزے ہوتے ہیں جو توانائی کے ماخذ ہیں۔ ہائڈروکاربن کا استعمال پالیتھیٖن، پالیپروپیٖن، پالیسٹریٖن جیسے پالیمر بنانے میں ہوتا ہے۔ اعلیٰ ہائڈروکاربن روغنوں کے لیے محلل کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال بہت سے رنگ اور دوائیوں کی تیاری میں ابتدائی مادے کی طرح ہوتا ہے۔ اس طرح آپ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ہائڈرو کاربن کے استعمال کو بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے۔ اس اکائی میں آپ ہائڈرو کاربن کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں گے۔

13.1 درجہ بندی (Classification)

ہائڈرو کاربن مختلف قسم کے ہوتے ہیں کاربن- کاربن بند کی قسم کی بنیاد پر ان کی تین خاص زمروں میں درجہ بندی کی گئی ہے۔ — (i) سیر شدہ (ii) غیر سیر شدہ (iii) ایرومیٹک ہائڈروکاربن۔ سیرشدہ ہائڈرو کاربن میں کاربن-کاربن اور کاربن-ہائڈروجن کے درمیان اکہرا بند ہوتا ہے۔ اگر مختلف کاربن ایٹم ایک دوسرے سے مل کر اکہرے بند پر مشتمل کاربن ایٹموں کی کھلی زنجیر بناتے ہیں تو وہ الکین کہلاتے ہیں جیسا کہ آپ اکائی 12 میں پڑھ چکے ہیں۔ دوسری طرف اگر کاربن ایٹم بند زنجیر یا حلقہ بناتے ہیں تو وہ سائیکلو الکین (Cycloalkane) کہلاتے ہیں۔ غیرسیرشدہ ہائڈروکاربن میں کاربن-کاربن کثیر بند پر مشتمل ہوتے ہیں یعنی— دوہرے بند، تہرے بند یا دونوں۔ ایرومیٹک ہائڈروکاربن سائکلِک مرکبات کی ایک مخصوص قسم ہے۔ آپ ان دونوں قسموں (کھلی زنجیر اور بند زنجیر) کے سالموں کے ماڈل ایک بڑی تعداد میں تیار کر سکتے ہیں اگر ذہن میں یہ رکھیں کہ کاربن چہار گرفتی اور ہائڈروجن یک گرفتی ہوتا ہے۔ الکین کے ماڈل بنانے کے لیے آپ بند کے لیے خلال کی تیلی اور کاربن کے لیے پلاسٹک کی گیند کا استعمال کر سکتے ہیں۔ الکیٖن، الکائن اور ایرومیٹک (Aromatic) ہائڈروکاربن کے لیے اسپرنگ ماڈل بنائے جاسکتے ہیں۔

13.2 الکینس (Alkanes)

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے، الکین سیرشدہ کھلی زنجیر والے ہائڈروکاربن ہوتے ہیں جن میں کاربن-کاربن کے درمیان اکہرا بند ہے۔ اس خاندان کا پہلا ممبر میتھین (Methane CH4) ہے۔ میتھین گیس کوئلہ کی کانوں اور دلدلی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر آپ میتھین کی ایک ہائڈروجن کو کاربن سے بدل دیں اور دوسرے کاربن ایٹم کی چار گرفتی حالت کو مطمئن کرنے کے لیے مطلوبہ ہائڈروجن ایٹم بھی شامل کرلیں تو آپ کو کیا حاصل ہوگا؟ آپ کو C2H6 حاصل ہوگا۔ یہ ہائڈروکاربن جس کا ضابطہ سے C2H6 ہے ایتھین (Ethane) کہلاتا ہے۔ اس طرح آپ سمجھ سکتے ہیں کہ CH4 میں ایک H کو –CH3 سے تبدیل کرنے سے C2H6 حاصل ہوتا ہے۔ اس نظریاتی مشق کے ذریعہ آپ الکین بناتے جائیے۔ یعنی H کو –CH3 گروپ سے تبدیل کرتے جائیے۔ اگلا سالمہ C4H10 C3H8… ہوگا۔

5166_Keemiyan II_Ch13_407a

عام حالات میں یہ ہائڈروکاربن غیر عامل ہوتے ہیں کیونکہ یہ تیزاب، اساس یا دیگر ریجنٹ سے تعامل نہیں کرتے۔ اس لیے پہلے انہیں پیرافین (لاطینی زبان میں Parum کا مطلب ہے Little اور Affines کا مطلب ہے Affinity) کے نام سے جاناجاتا تھا۔ کیا آپ الکین خاندان یا ہم وصف سلسلے کے لیے عمومی ضابطہ سوچ سکتے ہیں؟ اگرالکین (Alkane) کے مختلف فارمولوں پر غورکیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ الکین کے لیے عمومی ضابطہ CnH2n+2 ہوتا ہے'n' کی کوئی بھی قدر لی جائے تو یہ مخصوص ہم وصف کوظاہرکرے گا۔ کیا آپ میتھین کی ساخت کو یاد کر سکتے ہیں؟VSEPR نظریہ کے مطابق (اکائی 4) میتھین کی ساخت ٹیٹراہیڈرل (شکل13.1) ہوتی ہے جو ایک کثیر سطحی ہے، جس میں کاربن ایٹم وسط میں ہوتا ہے اور چار ہائڈروجن ٹیٹراہیڈرَن کے چاروں کونوں میں ہوتے ہیں۔ تمام H– C – H بندشی زاویے °109.5 کے ہوتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_407b
شکل 13.1 میتھین کی ساخت

الکین میں ٹیٹراہیڈرا ایک ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں جن میں C–C اور C – H بندشی لمبائیاں بالترتیب 154 pm اور 112 pm ہوتی ہیں (اکائی 12)۔ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ C – C اور C–H سگما بانڈ کاربن ایٹم کے sp3 اربٹل اور ہائڈروجن کے 1s اربٹل کے ہیڈآن اوورلیپنگ سے بنتے ہیں۔

13.2.1 تسمیہ اور آئسومیرزم

 (Nomenclature and Isomerism)

اکائی 12 میں آپ نامیاتی مرکبات کی مختلف جماعتوں کے تسمیہ کے متعلق پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ الکین میں تسمیہ اور آئسومیرزم کو کچھ اور مثالوں کی مدد سے مزید سمجھا جاسکتا ہے۔ عام نام قوسین میں دیے گئے ہیں۔ پہلے تین الکین-میتھین، ایتھین اور پروپین کی صرف ایک ہی ساخت ہوتی ہے۔ لیکن بڑے الکین میں ایک سے زیادہ ساختیں ہو سکتی ہیں۔ آئیے ہم C4H10 کی ساخت لکھیں۔ C4H10 کے چار کاربن ایٹم ایک مسلسل زنجیر یا شاخدار زنجیر کے ذریعہ مندرجہ ذیل دو طریقوں سے جڑے ہوئے ہو سکتے ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch13_407c
بیوٹین (n-butane)، (نقطہ جوش 273K)

5166_Keemiyan II_Ch13_408b
2-میتھائل پروپین (Isobutane) (نطقۂ جوش 261K)

آپ C5H12 کے پانچ کاربن اور بارہ ہائڈروجن ایٹموں کو کتنے طریقوں سے جوڑ سکتے ہیں۔ ان کو تین طریقوں سے ترتیب دی جاسکتی ہے جیسا کہ ساخت III-V میں دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_408c
پینٹین (n-Pentane) (نقطہ جوش 309K)

5166_Keemiyan II_Ch13_408d
2-میتھائل بیوٹین (Isopentane) (نقطۂ جوش 301K)

5166_Keemiyan II_Ch13_408e
2,2 ڈائی- میتھائل پروپین (Neopentane) (نقطۂ جوش 282.5 K)

ساخت I اور II کے سالماتی ضابطے یکساں ہیں لیکن ان کے نقطۂ جوش اور دیگر خصوصیات میں فرق ہے۔ اسی طرح ساخت III، IV اور V کے سالماتی ضابطے یکساں ہیں لیکن خصوصیات مختلف ہیں۔ ساخت I اور II بیوٹین کے آئسومر ہیں جبکہ ساختیں III، IV اور V (Pentane) کی آئسومر ہیں۔ ان کی خصوصیات میں فرق چونکہ ساخت کی فرق کی وجہ سے ہوتا ہے لہٰذا یہ ساختی آئسومر (Structural Isomer) کہلاتے ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ ساخت I اور III میں کاربن کی زنجیر مسلسل ہے جبکہ ساخت II، IV اور V میں زنجیر شاخ دار ہیں۔ ایسے ساختی آئسومر جن میں کاربن ایٹموں کی زنجیر میں فرق ہو زنجیری آئسومر (Chain Isomer) کہلاتے ہیں۔ اس طرح آپ نے دیکھا کہ C4H10 اور C5H12 کے بالترتیب دو اور تین زنجیری آئسومر ہیں۔

مسئلہ 13.1

سالماتی ضابطہ C6H14 کے نظیری الکین کی مختلف زنجیری آئسومر ساختیں لکھیے ان کے IUPAC نام بھی لکھیے۔

حل

(I) CH3-CH2-CH2-CH2-CH2-CH3
                                           (in-Hexane)
(ii) CH3 -CH-CH2-CH2-CH3
                   ι
                  CH3
                                     (2-Methylpentane)
(iii) CH3-CH2-CH -CH2-CH3
                            ι
                            CH3
(iv)  CH3-CH- CH-CH3
                   ι               ι
                   CH3   CH3
                                      (2.3dimethylbutane)
                   CH3
                    ι
(v) CH3- C -CH2-CH3
                ι
                CH3
                                                 (2.Dimethylbutane

ایک کاربن ایٹم سے منسلک کاربن ایٹم کی تعداد کی بنیاد پر کاربن ایٹم ابتدائی (°1)، ثانوی (°2)، ثلاثی (°3) یا اربعی (°4) کہلاتے ہیں۔ کاربن ایٹم جو کسی دوسرے کاربن ایٹم سے منسلک نہیں ہوتا جیسے کہ میتھین (Methane) میں یا صرف ایک کاربن سے منسلک ہوتا ہے جیسے کہ ایتھین (Ethane) میں وہ ابتدائی کاربن ایٹم کہلاتا ہے۔ ٹرمنل کاربن ایٹم ہمیشہ ابتدائی ہوتے ہیں۔ وہ کاربن ایٹم جو دوکاربن ایٹموں سے منسلک ہوتے ہیں ثانوی کہلاتے ہیں۔ ثلاثی کاربن تین کاربن ایٹموں کے ساتھ اور نیو (neo) یا اربعی کاربن ایٹم چارکاربن ایٹموں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ کیا آپ I سے V تک ساختوں میں °1، °2، °3 یا °4 کاربن ایٹموں کی شناخت کر سکتے ہیں؟ جیسے جیسے آپ بڑے الکین (Alkane) کی ساختیں بناتے جائیں گے آپ کو آئسومر کی تعداد میں اضافہ ملے گا۔ C6H14 کے پانچ آئسومر ہیں، C7H16 کے 9 آئسومر ہیں۔ C10H22 کے 75 تک آئسومر ممکن ہیں۔
ساخت II، IV اور V میں آپ نے دیکھا کہ CH3– گروپ کاربن ایٹم نمبر 2 سے منسلک ہے۔ آپ کو ایسے گروپ جیسے CH3، –C3H7– وغیرہ

مسئلہ 13.2

C5H11 سالماتی ضابطہ والے مرکب کے مختلف آئسومیرک الکائل گروپ کی ساختیں لکھیے۔ زنجیر کے مختلف کاربن ایٹم کے ساتھ -OH گروپ منسلک کرکے حاصل ہونے والے الکوحل کے IUPAC نام لکھیے:

حل نظیری الکوحل c5h11 گروپ کی ساختیں
pentan-1-01 CH3-CH2-CH2-CH2-CH2-OH
pentan-2o1 CH3-CH-CH2-CH2-CH3
1
OH
(i) CH3-CH2-CH2-CH2-CH2-
pentan-3-o1 CH3-CH2-CH-CH2-CH3OH (ii) CH3- CH-CH2-CH2-CH3
1
3-Methylbuan-1o1 CH3
1
CH3-CH-CH2-CH2-OH
(iii) CH3-CH2-CH-CH2-CH3
1
2-Methylbuan-1o1 CH3
1
CH3-CH2-CH-CH2-OH
CH3
1
(iv) CH3-CH-CH2-CH2-
2Methylbuan-2-2o1 CH3
1
CH3-C CH2- CH3
1
OH
CH3
1
(v) CH3-CH2-CH-CH2-
2-Methylbuan-2-2o1 CH3
1
CH3-C-CH2-CH3
           1
           OH
CH3
1
(vi)CH3-C -CH2-CH3
1
2,2-Dimethylbutan-1-o1 CH3
1
CH3-C - CH2- OH
1
CH3
CH3
1
(vii) CH3-C-CH-
C
CH3
3-Methylbuan-2-o1 CH3  OH
1     1
CH3-CH -CH-CH3
CH3
1
(viii) CH3-CH-CH-CH3

ملیں گے جو الکین یا مرکبات کی دوسری اقسام میں کاربن ایٹم سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ گروپ Substituent الکائل گروپ کہلاتے ہیں کیونکہ یہ الکین (Alkane) سے ایک ہائڈروجن کے خارج ہونے سے بنتے ہیں۔ الکائل گروپ کے لیے عمومی ضابطہ CnH2n+1 (اکائی 12) ہوتا ہے۔
آئیے تسمیہ کے ان چند عام اصولوں کو دوبارہ یاد کریں۔ جن پر ہم اکائی 12 میں بحث کر چکے ہیں۔ بدل شدہ (Substituted) الکینوں کا تسمیہ مندرجہ ذیل مسئلہ کو حل کرکے بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہیں۔

مسئلہ 13.3

مندرجہ ذیل مرکبات کے IUPAC نام لکھیے:
(CH3)3 C CH2C(CH3)3 (i)
(CH3)2 C (C2H5)2 (ii)
tetra – tert-butylmethane (iii)

حل

2, 2, 4, 4-Tetramethylpentane (i)
3, 3-Dimethylpentane (ii)
3,3-Di-tert-butyl-2, 2, 4, 4 - tetramethylpentane (iii)

اگر کسی دی ہوئی ساخت کے لیے صحیح IUPAC نام رکھنا ضروری ہے تو اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ دیے گئے IUPAC ناموں کے لیے صحیح ساخت بنائی جائے۔ ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے کاربن ایٹم کی سب سے لمبی زنجیر کے مطابق اصل الکین لکھا جاتا ہے۔ پھر اس کو عدد دینے کے بعد صحیح کاربن ایٹم سے بدل منسلک کردیے جاتے ہیں اور آخر میں ہر ایک کاربن ایٹم کی گرفت مطمئن کرنے کے لیے ہائڈروجن ایٹموں کی صحیح تعداد لکھی جاتی ہے۔
جدول 1۔13 چند نامیاتی مرکبات کے تسمے

ساخت اور IUPACنام ریمارک
CH3     CH2 - CH3
                                                 (a)
1CH3-2CH-3CH-4CH-4CH2 - 6CH3
(4-Ethyl-2-methylhexane)
                                   CH2-CH3
                                                                 (b)
8CH-7CH2-6CH2-5CH-4CH- 3C -2CH2-1CH3
CH  CH3  CH2- CH3
CH3 CH3
(3.3-Diethyl-5isopropy1-4-methyloctane)
CH(CH3)2
(c)
1CH3-2CH2-3CH2-4CH-5CH-6CH2-7CH28CH2-9CH2-10CH3
                                                1
H3C-CH-CH2-CH3
5.sec- Butyl-4-isopropyldeane
1CH-2CH2-3CH2-4CH2-5CH-6CH2-7CH2-8CH2-9CH2     (d)
1
CH²
1
CH³-²C-CH³
³CH³
5-(2,2-Dimethylpropl)nonane
¹CH³-²CH²-³CH-4CH²-5CH-6CH²-7CH³  (e)
1          1
CH²-CH³ CH³
3-Ethyl-5-methylheptane
کمترین حاصل جمع اور حروف تہجی ترتیب


کمترین حاصل جمع اور حروف تہجی کی ترتیب



Secکو حرف تہجی ترتیب کے وقت ملحوظ نہیں رکھا جا تا ہے:
آئسو پروپائل کو ایک تصور کیا جا تا ہے-
جانبی زنجیر کے بدل کو مزید عدددیے گئے ہیں



حروف تہجی کی تر جیحی ترتیب


اسے مندرجہ ذیل اقدام میں 3-ethyl-2, 2–dimethylpentane کی ساخت لکھ کر واضح کیا جاسکتا ہے۔
(i) پانچ کاربن ایٹموں کی زنجیر بنائیے : C – C – C – C – C
(ii) کاربن ایٹم کو عدد دیجیے :C1 – C2 – C3 – C4 – C5
(iii) کاربن نمبر 3 سے ایتھائل گروپ اور کاربن نمبر 2 سے دو میتھائل گروپ منسلک کیجئے۔

CH³
ι
C¹∼²C‾³C-4C-5C
ι      ι
CH³ C²H5

(iv) ہر ایک کاربن ایٹم کی گرفت کو مطمئن کرنے کے لیے اس کے ساتھ مطلوبہ H ایٹم منسلک کیجیے:

CH³
CH³ - C-CH -CH² - CH³
ι     ι
CH³    C²H5

اس طرح ہمیں ایک صحیح ساخت حاصل ہوتی ہے۔ اگر آپ دیے گئے نام سے ساخت بنانے کے عمل کو سمجھ گئے ہیں تو مندرجہ ذیل مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کیجیے۔

مسئلہ 13.4

مندرجہ ذیل مرکبات کے ساختی ضابطے لکھیے:
3, 4, 4, 5–Tetramethylheptane (i)
2,5-Dimethylhexane (ii)

حل

CH³
ι
(i)   CH³-CH²-CH-C - CH-CH-CH³
ι     ι     ι
CH³  CH³  CH³
CH³            CH³
ι               
(ii)  CH³ -CH -CH² -CH²-CH -CH³

مسئلہ 13.5

مندرجہ ذیل ہر ایک مرکب کے لیے ساختیں لکھیے۔ ان کو دیے گئے نام کیوں غلط ہیں؟ صحیح IUPACنام لکھیے۔
2-Ethylpentane (i)
5-Ethyl – 3-methylheptane (ii)

حل

(i) CH³ - CH - CH²-CH² -CH³
ι
C²H5
سب سے لمبی زنجیرمیں 6 کاربن ایٹم ہیں، پانچ نہیں ہیں لہٰذا صحیح نام ہوگا 3- Methylhexane

7           6         5     4       3    2   1   
(ii) CH³ - CH² -CH-CH² -CH -CH²- CH³
                        ι                ι
CH³         C²H6

نمبر شماری اس سرے سے شروع ہوگی جو ایتھائل گروپ کو سب سے کم عدد دے گا، لہٰذا صحیح نام ہوگا5-Ethyl-
methylheptane3

13.2.2 تیّاری (Preparation)

الکین کے اہم ماخذ اگرچہ پیٹرولیم اور قدرتی گیس ہیں؛ تاہم الکین کو مندرجہ ذیل طریقوں سے بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔

غیر سیر شدہ ہائڈروکاربن سے

(From Unsaturated Hydrocarbons)

الکیٖن اور الکائن میں پلاٹینم، پیلیڈیم یا نکل کے پائوڈر کی موجودگی میں ڈائی ہائڈروجن ملانے سے الکین حاصل ہوتے ہیں۔ اس عمل کو ہائڈروجنیشن (Hydrogenation) کہتے ہیں۔ یہ دھاتیں ہائڈروجن گیس کو اپنی سطح پر جذب کرلیتی ہیں اور ہائڈروجن-ہائڈروجن بانڈ کو ایکٹیویٹ کر دیتی ہیں پلاٹینم اورپیلیڈیم کمرہ کے درجہ حرارت پر تعامل کے لیے وسیط کا کام کرتے ہیں لیکن نِکل وسیط کے لیے نسبتاً اعلیٰ درجۂ حرارت اور دبائو کی ضرورت ہوتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_411d
5166_Keemiyan II_Ch13_411e

الکائل، ہیلائڈ سے (From Alkyl Halides)

(i) الکائڈ ہیلائڈ (سوائے فلورائڈ کے) زِنک اور ہلکے ہائڈروکلورک ایسڈ کے ساتھ تحویل ہو کر الکین دیتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_411f

(ii) الکائل ہیلائڈ خشک ایتھیریل (نمی سے آزاد) محلول میں سوڈیم کے ساتھ تعامل کر کے بڑے الکین دیتے ہیں۔ اس تعامل کو وُرٹز تعامل (Wurtz Reaction) کہتے ہیں اور اسے کاربن کے جُفت عدد والے بڑے الکین کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_411g
اگر دو مختلف الکائل ہیلائڈ لیے جائیں تو کیا ہوگا؟

3۔ کاربوکِزلِک ایسڈ سے (From Carboxylic Acids)


(i) کاربوکزلِک ایسڈ کے سوڈیم نمک سوڈالائم (سوڈیم ہائڈراکسائڈ اور کیلشیم آکسائڈ کا آمیزہ) کے ساتھ گرم کرنے پر الکین دیتے ہیں جن میں کاربن ایٹم کی تعداد کاربوکزلِک ایسڈ کے کاربن ایٹموں سے ایک کم ہوتی ہے۔ کاربوکزلِک ایسڈ سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کے اس عمل کو ڈی کاربوکزیلیشن (Decarboxylation) کہتے ہیں۔
5166_Keemiyan II_Ch13_411h
Sodium Ethanoate

مسئلہ 13.6

پروپین کی تیاری کے لیے کون سے تیزاب کے سوڈیم نمک کی ضرورت ہوگی؟ کیمیائی تعاملات کے لیے مساوات لکھیے۔
حل
Butanoic Acid،
5166_Keemiyan II_Ch13_412b5166_Keemiyan II_Ch13_412a

(ii) کولبے کا برق پاشیدگی کا طریقہ (Kolbe’s electrolytic method) کاربوکزلِک ایسڈ کے سوڈیم یا پوٹاشیم کے آبی محلول برق پاشی کے بعد اینوڈ پر الکین دیتے ہیں جن میں کاربن ایٹموں کی تعداد جُفت ہوتی ہے۔
2CH3COO-Na++ 2H2O
سوڈیم اسٹیٹ
↓برقی پاشیدگی
CH3-CH3+2CH2+H2+2NaOH   (13.9)
یہ تعامل مندرجہ ذیل راستہ اختیر کرتا ہے
O
II
2CH3COO-Na+⇔2CH3-CO+2Na+ (I)
اینوڈ پر(ii)
18
Acetate ion     Acetate      Methyl free
                        free  radical  radical
19
کیتھوڈپر(iv)
20
اس طریقہ سے میتھین (CH4) نہیں بنائی جاسکتی۔ کیوں؟

13.2.3 خصوصیات (Properties)

طبیعی خصوصیات (Physical Properties)

الکین تقریباً غیر قطبی سالمے ہوتے ہیں کیونکہ C – C اور C – H بند کی فطرت شریک گرفت ہوتی ہے اور کاربن اور ہائڈروجن کی برقی منفیت میں بہت کم فرق ہوتا ہے۔ ان میں کمزور ون ڈر والز قوتیں ہوتی ہیں۔ ان کمزور قوتوں کی بدولت شروع کے چار ممبر C1 سے C4 تک گیسیں ہوتی ہیں، C5 سے C17 تکرقیق ہوتے ہیں اور وہ جن میں کاربن ایٹموں کی تعداد 18 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے 298K پر ٹھوس ہوتے ہیں۔ یہ بے رنگ اور بغیر بُو والے ہوتے ہیں۔ آپ کے خیال میں الکین کی غیر قطبی فطرت کے اعتبار سے پانی میں ان کی حل پذیری کیا ہوگی؟ پیٹرول ہائڈروکاربن کا آمیزہ ہوتا ہے اور موٹر گاڑیوں میں ایندھن کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ پیٹرول اور پیٹرولیم کے زیریں کسریں مادّے کپڑوں سے چکنائی کے دھبّے ہٹانے کے لیے ڈرائی کلیننگ میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان مشاہدات کی بنیاد پر آپ کا چکنے مادّوں کی فطرت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صحیح ہیں اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ چکنائی (Grease) (بڑے الکین کا آمیزہ) غیر قطبی ہے، لہٰذا، فطرتاً آب گریز ہوتے ہیں۔ محلل میں اشیا کی حل پذیری سے متعلق یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ قطبی اشیا قطبی محلل میں حل پذیر ہوتی ہیں جبکہ غیر قطبی اشیاء غیر قطبی محلل میں حل پذیر ہوتی ہیں یعنی ’ایک شے اسی جیسی شے کو حل کرتی ہے۔
جدول 13.2 میں مختلف الکین کے نقطۂ جوش دیے گئے ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ سالماتی کمیت میں اضافے کے ساتھ نقطۂ جوش میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سالماتی سائز یا سالموں کی سطح کے رقبہ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ بین سالماتی وَن ڈر والز قوتیں بھی بڑھتی ہیں۔
آپ پینٹن کے تین آئسومر (پنٹین، 2- میتھائل بیوٹین اور 2،2-ڈائی میتھائل پروپین) کے نقطۂ جوش پر ایک نظر ڈال کر ایک دلچسپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ پنٹین کا جس میں پانچ کاربن ایٹموں کی مسلسل زنجیر ہے نقطۂ جوش سب سے زیادہ (309.1K) ہے جبکہ 2،2-ڈائی میتھائل پروپین 282.5K پر اُبلتی ہے۔ دو شاخدار زنجیروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ، سالمہ ایک کرہ کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں رابطہ کا رقبہ کم ہوجاتا ہے لہٰذا گول سالموں کے درمیان بین سالماتی قوتوں پر نسبتاً کم درجۂ حرارت پر قابو پالیا جاتا ہے۔

کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)

جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے الکین عام طور پر تیزاب، اساس، تکسیدی اور تحویلی ایجنٹ کے تئیں غیر عامل ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ حالات میں یہ مندرجہ ذیل تعامل دکھاتے ہیں۔

بدل تعامل (Substitution Reactions)

الکین کے ایک یا ایک سے زیادہ ہائڈروجن ایٹم، ہیلوجن، نائٹروگروپ اور سلفونِک ایسڈ گروپ سے بدلے جاسکتے ہیں۔ ہیلوجینیشن یا تو اونچے درجۂ حرارت (573-773K) یا نفوذشدہ سورج کی روشنی یا UV روشنی میں ہوتا ہے۔ چھوٹے الکین میں نائٹریشن اور سلفونیشن تعاملات نہیں ہوتے۔ وہ تعاملات جن میں الکین کے ہائڈروجن ایٹم بدل دیے جاتے ہیں بدل تعاملات (Substitution Reaction)کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میتھین کا کلورنیشن ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

ہیلوجنیشن (Halogenation)

21

(Chloromethane)         (13.10)
22
(Dichloromethane)       (13.11)
23
(Trichloromethane)      (13.12)
24
(Trichloromethane)     (13.13)
25
(Chloroethane)     (13.14)
ہیلوجن سے الکین کے تعامل کی شرح F2 > Cl2 > Br2 > I2 پائی گئی ہے۔ الکین کے ہائڈروجن کی تبدیلی کی شرح °3 > °2 > °1 ہے۔ فلورینیشن اتنا شدید ہوتا ہے کہ اسے قابو میں کرنا دشوار ہوتا ہے۔ آیوڈینیشن بہت سُست اور رجعتی ہوتا ہے۔ یہ HIO3 یا HNO3 جیسے تکسیدی ایجنٹ کی موجودگی میں کیا جاسکتا ہے۔
CH4 +½⇔CH3+HI
         HIO3 + 5HI↔3O2O

جدول 13.2 الکین کے نقطۂ گداخت اور نقطہ جوش میں

(m.p./(K نقطۂ جوش(K) سالماتی کمیت /u نام سالماتی فارمولہ
90.5 111.0 16 Methane CH4
101.0 184.4 30 Ethane C2H6
85.3 230.9 44 Propane C3H8
134.6 272.4 58 Butane C4H10
114.7 261.0 58 2-Methylpropan C4H10
143.3 309.1 72 Pentane C5H12
113.1 300.9 72 2-Methylbutane C5H12
256.4 282.5 72 2,2-Dimethylpropane C5H12
178.5 341.9 86 Hexane C6H14
182.4 371.4 100 Heptane C7H16
216.2 398.7 114 Octane C8H18
222.0 423.8 128 Nonane C9H20
243.3 447.1 142 Decane C10H22
236.2 615.0 282 Eicosane C20H42

ہیلوجنیشن آزاد ریڈیکل زنجیری میکانزم کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے جس میں تین اقدامات شامل ہوتے ہیں؛ آغاز، اشاعت اور اختتام، جیسا کہ ذیل میں دیا گیا ہے۔

میکانزم (Mechanism)

(i) آغاز (Initiation) : تعامل کا آغاز سورج یا حرارت کی توانائی کی موجودگی میں کلورین کے سالمے کی ہومولِسس سے ہوتا ہے۔ Cl – Cl بانڈ C – C اور C – H بانڈ سے کمزور ہوتا ہے لہٰذا ٹوٹنا آسان ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_413c
کلورین آزاد ریڈیکل

(ii) اشاعت (Propagation) : کلورین کے آزاد ریڈیکل میتھین کے سالمہ پر حملہ کرتے ہیں اور C – H بانڈ کو توڑتے ہوئے تعامل کو آگے بڑھاتے ہیں اور میتھائل کے آزاد ریڈیکل حاصل ہوتے ہیں اور H – Cl بنتا ہے۔

(a) 5166_Keemiyan II_Ch13_413d
اس طرح حاصل ہونے والا میتھائل ریڈیکل کلورین کے دوسرے سالمہ پر حملہ کرتا ہے اور CH3 – Cl بناتا ہے۔ اس کے ساتھ کلورین کے سالمے کی ہومولسس سے ایک اور کلورین کا آزاد ریڈیکل حاصل ہوتا ہے۔

(b) 5166_Keemiyan II_Ch13_413e
کلورین آزاد ریڈیکل

مندرجہ بالا اقدام میں تیار ہونے والے کلورین اور میتھین کے آزاد ریڈیکل قدم (a) اور (b) کو بالترتیب دہراتے ہیں اور اس طرح تعامل کی ایک زنجیر قائم ہو جاتی ہے۔ قدم (a) اور (b) اشاعت کے وہ اقدامات ہیں جو براہِ راست اصل ماحصلات دیتے ہیں، لیکن بہت سے دوسرے اقدام بھی ممکن ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ ایسے ہی دو اقدامات مندرجہ ذیل ہیں جو بہت زیادہ ہیلوجن شدہ ماحصل کی وضاحت کرتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_413g

(iii) اختتام (Termination) : کچھ دیر بعد تعامل رک جاتا ہے کیونکہ یا تو متعامل استعمال ہو چکے ہوتے ہیں یا مندرجہ ذیل جانبی تعاملات جاری رہتے ہیں:
زنجیر کے ممکنہ اختتامی اقدامات اس طرح ہوتے ہیں:
(a) 5166_Keemiyan II_Ch13_413f
(b) 5166_Keemiyan II_Ch13_413h
(c) 5166_Keemiyan II_Ch13_413i
قدم (c) میں اگرچہ ایک ماحصل CH3Cl بنتا ہے لیکن آزاد ریڈیکل استعمال ہو جاتے ہیں اور تعامل اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔ مندرجہ بالا طریقہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ میتھین کے کلورینیشن میں ضمنی ماحصل کے طور پر ایتھین (Ethane)کے اضافی ماحصل بننے کی وجوہات کیا ہیں۔

احتراق (Combustion)

ہوا یا ڈائی آکسیجن کی موجودگی میں گرم کرنے پر الکین مکمل طور پر تکسید ہوکر کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کے ساتھ بہت بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔
CH4(g) +2O2↔CO2(g) + 2H2O(1):
AcHø=-890 KJmol-1
(13.17)
C4H10(g) + 13/ 2 O2 (g) ↔4CO2 (g) +5H2O(l):
AcHø = - 2875.84 kjmol-1
(13. 18)

کسی بھی الکین کے لیے ایک عام احتراقی مساوات اس طرح ہوگی:
5166_Keemiyan II_Ch13_415c
(13.19)

احتراق کے دوران بہت زیادہ مقدار میں حرارتی توانائی کے اخراج کی وجہ سے الکین ایندھن کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
ناکافی مقدار میں ہوا یا ڈائی آکسیجن کی موجودگی میں الکین کے نامکمل احتراق سے کاربن بلیک حاصل ہوتا ہے جو روشنائی، پرنٹر کی روشنائی، سیاہ پِگمنٹ اور فِلٹر کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_415d
(13.20)

اختیاری تکسید (Controlled Oxidation)

الکین کو جب مناسب وسیط کی موجودگی میں بہت زیادہ دباؤ پر ڈائی آکسیجن یا ہوا کی منظّم مقدار میں گرم کیا جاتا ہے تو مختلف قسم کے تکسیدی ماحصل پیدا ہوتے ہیں۔
26
Methanol   (13.21)
27
Methanal       (13.22)
28
Ethanoic Acid
+2H2O
(13.23)
(iv) عام الکین (Alkane) تکسید کی مزاحمت کرتے ہیں لیکن وہ الکین جن میں ثلاثی (Tertiary) ہائڈروجن ایٹم (°3) ہوتے ہیں پوٹاشیم پر مینگنیٹ کے ذریعہ تکسید ہو کر نظیری الکوحل بناتے ہیں۔
5166_Keemiyan II_Ch13_415f
2-Methylpropane 2-Methylpropan-2-ol
(13.24)

آئسومیرائزیشن (Isomerisation)

n-الکین نابیدہ ایلومنیم کلورائڈ اور ہائڈروجن کلورائڈ گیس کی موجودگی میں گرم ہو کر آئسومیرائز (Isomerise) ہوجاتے ہیں اور زنجیری الکین دیتے ہیں۔ بڑے ماحصل مندرجہ ذیل ہیں۔ کچھ چھوٹے ماحصل بھی ممکن ہیں جن کے بارے میں آپ سوچ سکتے ہیں۔ چھوٹے ماحصل عام طور پر نامیاتی تعاملات میں دکھائے نہیں جاتے۔
CH3(CH2)4 CH3 ↔Anihy. AlC3/HCI
n-Hexane
CH3CH-(CH2)2-CH3+CH3CH2-CH2-CH3
           1                                                1
         CH³                                          CH³
2- Methylpentane                   3- Methylpentane
(13.25)

ایرومیٹائزیشن (Aromatisation)

n-الکین جن میں چھ یا زیادہ کاربن ایٹم ہوتے ہیں 10-20 فضائی دباؤ پر، وینیڈیم، مولبڈینم یا کرومیم کے آکسائڈ کی موجودگی میں الیومینا کی مدد سے 773K درجۂ حرارت پر گرم کرنے پر ڈی ہائڈروجینیٹڈ (Dehydrogenated) ہوجاتے ہیں اور بینزین اور اس کے ہم وصف کی دائری شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس عمل کو ایرومیٹائزیشن یا بازتشکیل (Reforming) کہتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_415h
ٹولوئین (C7H8) بینزین کا میتھائل مشتق ہے۔ ٹولوئین کے تیاری کے لیے آپ کون سے الکین کے استعمال کا مشورہ دیں گے۔

بھاپ کے ساتھ تعامل (Reaction With Steam)

نکل وسیط کی موجودگی میں میتھین بھاپ کے ساتھ 1273K پر تعامل کرتی ہے اور کاربن مونوآکسائڈ اور ڈائی ہائڈروجن بناتی ہے۔ ڈائی ہائڈروجن گیس کی صنعتی تیاری کے لیے اس طریقے کا استعمال کیا جاتا ہے۔

(13.27) 5166_Keemiyan II_Ch13_416a

پائرولسس (Pyrolysis)
بڑے الکین بہت زیادہ درجۂ حرارت پر گرم کرنے پر چھوٹے الکین (Alkane) اور الکین (Alkene) میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ ایسا تحلیلی تعامل جس میں مرکب حرارت کے استعمال سے چھوٹے حصوں میں تحلیل ہو جائے پائرولسس یا کریکنگ کہلاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_416b
(13.28)
الکین کی پائرولسس ایک آزاد ریڈیکل تعامل سمجھی جاتی ہے۔ مٹی کا تیل یا پیٹرول سے آئل گیس یا پیٹرول گیس کی تیاری میں پائرولسس کا اصول بروئے کار لایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ڈوڈیکین (Dodecane)، مٹی کے تیل کا ایک جُز پلاٹینم، پلاڈیم یا نکل کی موجودگی میں 973K تک گرم ہونے پر Heptane اور Pentene کا آمیزہ دیتا ہے۔

دیگر ماحصل5166_Keemiyan II_Ch13_416c
Dodecane Heptane Pentene (13.29)

13.2.4 ساختی ڈھانچہ (Conformation)

الکین میں C – C سگما (σ) بانڈ ہوتے ہیں۔ سگما سالماتی اربٹل کا الیکٹران بٹاؤ C – C بانڈ کے مرکزی محور کے گرد متشاکلی ہوتا ہے جس میں محور کے گرد گھماؤ سے خلل نہیں پڑتا۔ اس وجہ سے C – C اکہرے بانڈ میں آزادانہ گھماؤ ممکن ہو جاتا ہے۔ اس گھماؤ کے نتیجے میں اسپیس میں ایٹموں کی مختلف مکانی ترتیب مہیّا ہوتی ہے جو ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایٹموں کی ایسی مکانی ترتیب جو C – C اکہرے بند کے گھماؤ سے ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکے ساختی ڈھانچے (Conformation) یا ڈھانچے (Conformers) یا گھومنے والے (Rotamers) کہلاتے ہیں۔ اس طرح الکین میں C – C اکہرے بند کے گرد گھماؤ سے لاتعداد ساختی ڈھانچے بن سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ C – C بانڈ کے گرد گھماؤ مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔ اس میں متصّل بند کے درمیان 1–20 kJmol–1 کی کمزور دافع قوت کم توانائی والے بیریر سے رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ اس قسم کے دافع باہمی عمل مروڑی دباؤ (Torsional Strain) کہلاتے ہیں۔
ایتھین کے ساختی ڈھانچے : ایتھین کے سالمے میں ایک C–C اکہرا بند ہوتا ہے اور ہر کاربن کے ساتھ تین ہائڈروجن ایٹم منسلک ہوتے ہیں۔ ایتھین کے گیند اور چھڑی ماڈل کو لیتے ہوئے ایک کاربن ایٹم کو ساکن رکھ کر C – C محور کے گرد دوسرے کاربن ایٹم کو گھمائیے۔ اس گھماؤ کے نتیجے میں ایک کاربن ایٹم سے منسلک ہائڈروجن ایٹموں کے دوسرے کاربن ایٹم سے منسلک ہائڈروجن ایٹموں کے مقابلے میں لاتعداد مکانی ترتیبیں دستیاب ہوں گی۔یہ ساختی آئسومر(Conformers) کہلاتی ہیں۔ اس طرح ایتھین کی لاتعداد ساختی ترکیبیں ہوتی ہیں۔ تاہم دو انتہائی مثالیں ہیں۔ ایک ایسا ساختی ڈھانچہ جس میں دو کاربن ایٹموں سے منسلک ہائڈروجن ایٹم ہر ممکنہ حد تک قریب ترین ہوں گرہن شدہ (Eclipsed) کہلاتا ہے جبکہ دوسرا جس میں ہائڈروجن ایٹم ہر ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ فاصلے پر ہوں اسٹیگرڈ (Staggered) ساختی ڈھانچے کہلاتے ہیں۔ ان کے درمیانی ڈھانچے اِسکیو (Skew) ڈھانچے کہلاتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تمام ڈھانچوں میں بندشی زاویے اور بندشی لمبائیاں برابر ہوتی ہیں۔ ایکلپسڈ اور اسٹیگرڈ ڈھانچے ساہورس (Sawhorse) اور نیومین پروجیکشن (Newman Projections) سے ظاہر کیے جاسکتے ہیں۔

ساہورس پروجیکشن (Sawhorse Projections)

اس پروجیکشن میں سالمے کو سالماتی محور کے ذریعہ دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے کاغذ پر ڈرائنگ کے ذریعہ پروجیکٹ کیا جاتا ہے جس میں C–C مرکزی بانڈ کو لمبے سیدھے خط کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں۔ خط کا اوپری سِرا دائیں یا بائیں سمت جھکا ہوا ہوتا ہے سامنے کا کاربن لائن کی نچلی سطح پر ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ پچھلا کاربن خط کے اوپری سرے پر ہوتا ہے۔ ہر ایک کاربن سے تین خط منسلک ہوتے ہیں جن کا تعلق تین ہائڈروجن ایٹموں سے ہوتا ہے۔ یہ خط آپس میں °120 کے زاویے پر ہوتے ہیں۔ ایتھین کے گرہن شدہ اور اسٹیگرڈ ڈھانچوں کے ساہورس پروجیکشن شکل 13.2 میں دکھائے گئے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_417a

شکل 13.2 ایتھین کے ساہورْس پروجیکشن

نیومین پروجیکشن (Newman Projections)

اس پروجیکشن میں سالمے کو بالکل سیدھ میں سروں سے دیکھا جاتا ہے۔ کاربن ایٹم جو آنکھ کے نزدیک ہوتا ہے ایک نقطہ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ تین ہائڈروجن ایٹم جو اگلے کاربن سے منسلک ہوتے ہیں تین خطوط کے ذریعہ ظاہر کیے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے °120 کے زاویے پر ہوتے ہیں۔ پچھلا کاربن ایٹم (جو آنکھ سے دور ہوتا ہے) ایک دائرے کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے اور تین ہائڈروجن ایٹم جو اس سے منسلک ہوتے ہیں چھوٹی لائنوں سے ظاہر کیے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے °120 پر ہوتے ہیں۔ نیومین پروجیکشن شکل 13.3 کے ذریعہ دکھائے گئے ہیں۔
زاویہ گھماو یا مروڑیا
ڈائی ہیڈرل زاویہ
5166_Keemiyan II_Ch13_417b
(i) Eclipsed           (ii) Staggered
شکل 3۔13 ایتھن کے نیومین پروجیکشن
ساختی ڈھانچوں کے اضافی استحکام : جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے، ایتھین کے اسٹیگرڈ قسم میں کاربن-ہائڈروجن بانڈ کے الیکٹران بادل ممکنہ حد تک دور ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہاں دافع قوتیں کمترین ہوتی ہیں اور سالمہ کا استحکام زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف جب اسٹیگرڈ قسم ایکلپسڈ شکل میں تبدیل ہوتی ہے تو C – H کے درمیان الیکٹران بادل قریب آجاتے ہیں جس کی وجہ سے الیکٹران بادلوں کے درمیان دفع زیادہ ہوتی ہے۔ بڑھی ہوئی دافع قوت پر قابو رکھنے کے لیے سالمہ کو زیادہ توانائی رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح استحکام کم ہوتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔ الیکٹران بادلوں کے درمیان دافع قوت جو ساختی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے مروڑی تناؤ (Torsional Strain) کہلاتی ہے۔ مروڑی تناؤ کی وسعت کا انحصار C – C بانڈ کے گرد گھماؤ کے زاویہ پر ہوتا ہے۔ اس زاویہ کو بھی ڈائی ہیڈرل زاویہ یا مروڑی زاویہ کہتے ہیں۔ ایتھین کے تمام ساختی ڈھانچوں میں سے اسٹیگرڈ قسم میں سب سے کم مروڑی تناؤ ہوتا ہے اور گرہن شدہ قسم میں سب سے زیادہ مروڑی تناؤ ہوتا ہے۔اس لیے اسٹیگرڈساختی ڈھانچے،گرہن شدہ (Eclipsed) ساختی ڈھانچوں سے زیادہ مستحکم ہوتے ہیں۔اسی لیے سالمہ زیادہ تر اسٹیگرڈساخت میںپایا جاتا ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ترجیحی ساختی ڈھانچہ ہے۔اس سے یہ قیاس لگایا جاسکتا ہے کہ ایتھین میں C–Cبندکےگرد گردش مکمل طورپر آزاد نہیں ہے۔ دونوں انتہائی قسموں کے درمیان توانائی کا فرق5166_Keemiyan II_Ch13_417cہوتا ہے، جو کہ بہت کم ہے۔ عام درجۂ حرارت پر بھی ایتھین کے سالمے اتنی حرارتی توانائی حاصل کرلیتے ہیں کہ وہ بین سالماتی ٹکراؤ کے ذریعہ توانائی کی اس روک پر قابو پاسکیں۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایتھین میں C – C بانڈ کے گرد گھماؤ، تمام عملی کاموں کے لیے تقریباً آزاد ہوتا ہے۔ ایتھین کے مختلف ساختی ڈھانچوں کو علیحدہ اور تنہا کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔

13.3 الکیٖن (Alkenes)

الکیٖن غیر سیر شدہ ہائڈروکاربن ہوتے ہیں جن میں کم سے کم ایک دوہرا بند ہوتا ہے۔ الکیٖن کا عام ضابطہ کیا ہونا چاہیے؟ اگر الکیٖن کے دو کاربن ایٹموں کے درمیان ایک دوہرا بند ہے تو اس میں الکین کے مقابلے میں دو ہائڈروجن ایٹم کم ہونے چاہئیں۔ لہٰذا الکیٖن کا عمومی ضابطہ CnH2n ہوگا۔ الکیٖن کو اولیفنس (Olefins) (تیل بنانے والے) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ پہلا ممبر ایتھائیلین یا ایتھیٖن (C2H4) کلورین کے ساتھ تعامل کرکے ایک چکنا رقیق بناتا ہے۔

13.3.1 دوہرے بند کی ساخت

(Structure of Double Bond)

الکیٖن میں C – C دوہرے بند میں سے ایک مضبوط سگما بانڈ (بانڈ اینتھالپی تقریباً5166_Keemiyan II_Ch13_417dہوتا ہے جو sp2 مخلوط اربٹل کے سروں کے ساتھ انطباق (Overlaping) کی وجہ سے ہوتا ہے، اور ایک کمزور پائی (π) بانڈ (بانڈ اینتھالپی تقریباً5166_Keemiyan II_Ch13_418aدوکاربن ایٹموں کے 2p اربٹل کے جانبی انطباق سے حاصل ہوتا ہے۔ دوہرا بانڈ بندشی لمبائی کے حساب سے C – C اکہرے بانڈ (154pm) کے مقابلے میں کم ہوتا ہے (134pm)۔ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ π بانڈ 2p اربٹل کے جانبی انطباق کے سبب کمزور ہوتے ہیں۔ لہٰذا π (پائی) بانڈ کی موجودگی الکیٖن کو ڈھیلے ڈھالے متحرک الیکٹرانوں کے ماخذ کی حیثیت عطا کرتی ہے۔ لہٰذا الکیٖن پر ان ریجنٹ یا مرکبات کے ذریعہ آسانی سے حملہ ہوتا ہے جن کو الیکٹرانوں کی تلاش رہتی ہے۔ ایسے ریجنٹ الیکٹروفِلِک ریجنٹ کہلاتے ہیں۔ کمزور π- بانڈ کی موجودگی الکین کو غیر سیرشدہ بنادیتی ہے اور پھر الکیٖن الیکٹروفِلک ریجنٹ سے ملنے کے بعد اکہرے بند کے مرکبات میں تبدیل کیے جاسکتےہیں۔ دوہرے بند کی قوت (بانڈ اینتھالپی68l kj mol-1ایتھین کے اکہرے C – C بانڈ کی توانائی (بانڈ اینتھالپی348 kj mol-1سے زیادہ ہوتی ہے۔ شکل 13.4 اور 13.5 میں ایتھین سالمے کی اربٹل شکل دکھائی گئی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_418d

شکل 13.4 صرف 6 بانڈ کو ظاہر کرنے والی ایتھین کی اربٹل تصویر


5166_Keemiyan II_Ch13_418g

شکل 13.5 ایتھیٖن کی اربٹل تصویرn(a)-بانڈn  b-بادل اورcبندشی زاویے نیز بندشی لمبائیاں دکھاتے ہوئے

13.3.2 تسمیہ (Nomenclature)

IUPAC نظام میں الکین کو نام دینے کے لیے دوہرے بند کی شمولیت والے کاربن ایٹموں کی سب سے لمبی زنجیر منتخب کی جاتی ہے۔ کاربن ایٹم کے اعداد کا شمار اس سرے سے کیا جاتا ہے جس طرف سے دوہرا بند قریب ہو۔ لاحقہ ایٖن (ene) الکین کے این (ane) کو بدل دیتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ الکیٖن کا پہلاممبر CnH2n) CH2 میں n کو 1 سے تبدیل کرنے کے بعد) میتھیٖن (Methane) کہلاتا ہے لیکن اس کا وقفہ حیات بہت کم ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے الکیٖن سلسلے کا پہلا مستحکم ممبر C2H4 ہے جو ایتھائیلیٖن (عام) یا ایتھیٖن (IUPAC) کہلاتا ہے۔ کچھ Alkenes کے IUPAC نام مندرجہ ذیل ہیں۔


Structure IUPAC نام
CH3 - CH= CH2 (propene)
CH3- CH2- CH= CH2 (But-l - ene)
CH3 - CH= CH- CH3 (But-2 - ene) 
CH2 = CH -CH=CH2 (Buta - 1.3 - diene) 
CH2=C-CH3
        1
CH
CH2 = C - CH3
CH2=CH-CH-CH3
            1
              CH3
(3 -Methylbut - 1 ene)

مسئلہ 13.7

مندرجہ ذیل مرکبات کے IUPAC نام لکھیے:

(i) (CH3)2 CH - CH= CH- CH2 -CH
                                                       ιι
                                     CH3 - CH- CH  
                                                   Ι
                                                 CH2H5
29
(iii) CH2=C (CH2CH2CH3)2
(iv) CH3CH2CH2CH2    CH2CH3
                                  1
                        CH3-CHCH=C-CH2-CHCH3
                                                               1
                                                             CH3

حل

(i) 2,8-Dimethyl-3, 6-decadiene;
(ii) 1,3,5,7 Octatetraene;
(iii) 2-n-propyl pent-1-ene;
(iv) 4-Ethyl-2,6-dimethy l-dec-4-ene.

مسئلہ 1.8

مندرجہ بالا i-iv ساختوں میں سگما (s) اور پائی (p) بانڈ کی تعداد شمار کیجیے۔
(i) s bonds : 33, p bonds : 2
(ii) s bonds : 16, p bonds : 4
(iii) s bonds : 23, p bond : 1
(iv) s bonds : 41, p bond : 1

13.3.3 آئسومیرزم (Isomerism)

الکیٖن ساختی اور جیومیٹریائی دونوں قسم کی آئسومیرزم کو دکھاتے ہیں۔
ساختی آئسومیرزم (Structural Isomerism) : جیسا کہ الکین میں ہوتا ہے، ایتھیٖن (C2H4) اور پروپیٖن (C3H6) کی صرف ایک ہی ساخت ہوسکتی ہے۔ لیکن پروپیٖن سے بڑے الکیٖن کی مختلف ساختیں ہوتی ہیں۔ الکیٖن جس کا سالماتی ضابطہ C4H8 ہے مندرجہ ذیل تین طریقوں سے لکھا جاسکتا ہے۔
1 2 3 4
I. CH2 = CH – CH2 – CH3
But-1-ene
(C4H8)
1 2 3 4
II. CH3 – CH = CH – CH3
But-2-ene
(C4H8)
1 2 3
III. CH2 = C – CH3
|
CH3
2-Methyprop-1-ene
(C4H8)
ساختیں I اور III، اور II اور III زنجیری آئسومر کی مثالیں ہیں جبکہ ساختیں I اور II پوزیشن آئسومر ہیں۔

مسئلہ 13.9

C5H10 کے نظیری الکیٖن کے مختلف ساختی آئسومر کے IUPAC نام اور ساختیں لکھیے۔

حل

(a) CH2=CH-CH2-CH2-CH3
                       Pent-1ene
(b)  CH3-CH=CH - CH2-CH3
                        Pent-2-ene
(c)  CH3-C=CH -CH3
                  1
                 CH3
  2-Methylbut-2-ene
(d) CH3-CH -CH=CH2
                 1
                CH3
                3-Methylbut-1-ene
(e)  CH2=C-CH2-CH3
                  1
                 CH3
              2-Methylbut-1-ene

جیومیٹریائی آئسومیرزم (Geometrical Isomerism): دوہرے بند سے بندھے ہوئے کاربن ایٹموں کو باقی دو گرفت کو دو ایٹموں یا گروپ سے منسلک ہو کر مطمئن کرنا ہوتا ہے۔ اگر ہر ایک کاربن ایٹم سے منسلک ہونے والے دو ایٹم یا گروپ مختلف ہیں تو ان کو YX C = C XY جیسی ساختوں سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ YX C = C XY کو اسپیس میں مندرجہ ذیل طریقوں سے ظاہر کیا جاسکتا ہے:

5166_Keemiyan II_Ch13_419b

(a) میں دو مماثل ایٹم یعنی دونوں X یا دونوں Y دوہرے بند کے ایک ہی طرف ہیں جبکہ (b) میں دو X یا دو Y دوہرے بند کے آر پار یا مخالف سمت میں ہیں۔ اس کے نتیجے میں (a) اور (b) کی جیومیٹری مختلف ہو جاتی ہے یعنی دونوں ترتیبوں میں دونوں گروپوں یا ایٹموں کا مکانی میلان مختلف ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ اسٹیریوآئسومر (Steroisomers) ہیں۔ اگر ایٹموں یا گروپوں کو C = C بانڈ کے گرد گھمایا جاسکے تو ان کی جیومیٹری ایک سی ہوگی لیکن C = C بانڈ کے گرد گھماؤ آزاد نہیں ہے۔ بلکہ اس میں کچھ پابندی ہے۔ اس نظریے کو سمجھنے کے لیے سخت کارڈبورڈ کے دو ٹکڑے لیجیے اور ان کو دو کیلوں کی مدد سے جوڑ دیجیے۔ ایک ٹکڑے کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیجیے اور دوسرے کو گھمانے کی کوشش کیجیے۔ کیا آپ واقعی دوسرے کارڈبورڈ کو گھما سکتے ہیں؟ جواب ہے، نہیں۔ اس گھماؤ میں رکاوٹ ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ دوہرے بند سے بندھے ہوئے کاربن ایٹموں کے گرد ایٹموں یا گروپوں کا محدود گھماؤ اس طرح کے مرکبات کو مختلف جیومیٹری عطا کرتا ہے۔ اس طرح کے اسٹیریوآئسومر جیومیٹریائی آئسومر کہلاتے ہیں۔ قسم (a) کے آئسومر جہاں دو مماثل ایٹم یا گروپ دوہرے بند کی ایک ہی سمت ہوتے ہیں Cis- آئسومر کہلاتے ہیں اور دوسرے قسم (b) کے آئسومر جہاں مماثل ایٹم یا گروپ دوہرے بند کی مخالف سمت میں ہوتے ہیں ٹرانس-آئسومر کہلاتے ہیں۔ اس طرح سِس (Cis) اور ٹرانس (Trans) آئسومر کی ساخت ایک سی ہوتی ہے لیکن ان کا تشکّل (ایٹم اور گروپ کی مکانی ترتیب) مختلف ہوتا ہے۔ ان ایٹموں یا گروپوں کی مکانی ترتیب میں فرق کی وجہ سے آئسومر اپنی خصوصیات جیسے نقطۂ گداخت، نقطۂ جوش، ڈائی پول مومنٹ، حل پذیری وغیرہ میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ but-2-ene کے جیومیٹریائی یا cis-trans آئسومر نیچے دکھائے گئے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_420a

الکیٖن کی سِس قسم، ٹرانس سے زیادہ قطبی ہے۔ مثال کے طور پر cis-but-2-ene کا ڈائی پول مومنٹ 0.33 Debye ہے جبکہ ٹرانس کا ڈائی پول مومنٹ تقریباً صفر ہے یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ trans-but-2ene غیر قطبی ہے۔ اسے دونوں قسموں کی جیومیٹری بناکر، سمجھا جاسکتا ہے، جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے، جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ trans-but-2-ene میں دونوں میتھائل گروپ مخالف سمت میں ہیں۔ لہٰذا C – CH3 کے ڈائی پول مومنٹ ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتے ہیں اور trans قسم کو غیر قطبی بناتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_420b

ٹھوس اشیا کے معاملے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ trans آئسومر کا نقطۂ گداخت cis آئسومر سے زیادہ ہوتا ہے۔
جیومیٹریائی یا cis-trans آئسومیرزم دو قسموں کے Alkenes XYC = CXZ اور XYC = CZW کے ذریعے بھی ظاہر کی جاتی ہے۔

مسئلہ 13.10

مندرجہ ذیل مرکبات کے لیے cis اور trans آئسومر بنائیے ان کے IUPAC نام بھی لکھیے:
(i) CHCl = CHCl
(ii) C2H5CCH5 = CCH3C2H5

حل

30
cis -1. 2- Dichloroethene   trans-1.2-Dichloroethene
31
cis-3.4 Dimethylhex-3-ene   trans-3.4 Dimethylhex.3ene

مسئلہ 13.11

مندرجہ ذیل میں سے کون سا مرکب cis-trans آئسومیرزم کو ظاہر کرے گا:
(i) (CH3)2C = CH – C2H5
(ii) CH2 = CBr2
(iii) C6H5CH = CH – CH3
(iv) CH3CH = CCl CH3

حل

(iii) اور (iv)، ساخت (i) اور (ii) میں دو مماثل گروپ دوہرے بند والے کاربن ایٹم میں سے ایک کاربن سے منسلک ہیں۔

13.3.4 تیاری (Preparation)

الکائن سے(From Alkynes) : الکائن پیلاڈائزڈ (Palladised) چارکول کی موجودگی میں جو زہریلے مادّوں، جیسے گندھک کے مرکبات یا کیونولین(Quinoline) سے جزوی طور پر ڈی-ایکٹویٹڈ ہوتا ہے، ڈائی ہائڈروجن کی تحسیب شدہ مقدار کے ساتھ جزوی تحویل ہوکر الکین دیتے ہیں۔ جزوی طور پر ڈی ایکٹیویٹڈ پیلا ڈائزڈچارکول لِنڈلار کا وسیط (Lindlar's Catalyst) کہلاتا ہے۔ اس طرح سے حاصل ہونے والے الکیٖن cis جیومیٹری والے ہوتے ہیں۔ تاہم رقیق امونیا میں سوڈیم کے ساتھ تحویل ہو کر الکائن trans الکیٖن دیتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_421a
5166_Keemiyan II_Ch13_421b

اس طرح حاصل ہونے والے پروپیٖن کیا جیومیٹریائی آئسومیرزم دکھائیں گے؟ اپنے جواب کی حمایت میں دلائل سوچیے۔

الکائل ہیلائڈ سے (From Alkyl Halides) : الکائل ہیلائڈ (R-X) کو الکوحلی پوٹاش (الکوحل جیسے ایتھنول، میں حل شدہ پوٹاشیم ہائڈرآکسائڈ) کے ساتھ گرم کرنے پر الکیٖن اور ہیلوجن ایسڈ کا ایک سالمہ خارج ہوتاہے۔اس تعامل کو ڈی ہائڈروہیلوجنیشن (Dehydrohalogenation) کہتے ہیں یعنی ہیلوجن ایسڈ کو نکالنا۔ یہ β- اخراجی تعامل (β-Elimination reaction ) کی ایک مثال ہے، کیونکہ ہائڈروجن ایٹم β- کاربن (وہ کاربن ایٹم جو اس کاربن ایٹم کے برابرمیں ہوتا ہے جس سے ہیلوجن منسلک ہے) سے خارج ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_421c
(13.34)

ہیلوجن ایٹم کی فطرت اور الکائل گروپ تعامل کی شرح کا تعین کرتے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ہیلوجن کے لیے شرح: آیوڈین < برومین < کلورین ہے، جبکہ الکائل گروپ کے لیے یہ ثلاثی < ثانوی < ابتدائی ہوتی ہے۔

نواحی ڈائی ہیلائڈ سے (From Vicinal Dihalides): ایسے ڈائی ہیلائڈ جن میں دو ہیلوجن ایٹم دو متصل کاربن ایٹموں سے منسلک ہوتے ہیں نواحی ڈائی ہیلائڈ کہلاتے ہیں۔ نواحی ڈائی ہیلائڈ زِنک دھات کے ساتھ تعامل کر کے ZnX2 کا ایک سالمہ گنوادیتے ہیں اور الکیٖن بناتے ہیں۔ اس تعامل کو ڈی ہیلوجنیشن کہتے ہیں۔

CH2Br-CH2Br+zn↔CH2=CH2+ZnBr2
(13.35)
CH3CHBr-CH2Br+Zn↔CH3CH =CH2
                                                     +ZnBr2
(13.36)
تیزابی نابیدگی کے ذریعہ الکوحل سے (From Alcohols By Acidic Dehydration): اکائی 12 میں مختلف ہم وصف سلسلوں کے تسمیہ کے دوران آپ پڑھ چکے ہیں کہ الکوحل،الکین کے ہائڈروکسی مشتق (Derivatives) ہوتے ہیں۔ ان کو R–OH سے ظاہر کیا جاتا ہے جہاں R CnH2n+1 ہوتا ہے۔ الکوحل کو مرتکز سلفیورک تیزاب کی موجودگی میں گرم کرنے پر Alkene بنتا ہے اور پانی کا ایک سالمہ خارج ہوتا ہے لہٰذا یہ تعامل الکوحل کی تیزابی نابیدگی کہلاتا ہے۔ یہ تعامل بھی β- اخراجی تعامل کی ایک مثال ہے کیونکہ OH گروپ β- کاربن ایٹم سے ایک ہائڈروجن نکال لیتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_422a
(13.37)

13.3.5 خصوصیات (Properties)

طبیعی خصوصیات (Physical Properties)
الکیٖن (Alkenes)، ایک جماعت کی حیثیت سے الکین (Alkane) سے آئسومیرزم کی قسم اور قطبی ماہیت میں فرق کے علاوہ طبیعی خصوصیات یکساں ہوتی ہیں، پہلے تین ممبر گیسیں ہوتی ہیں، اگلے چودہ ممبر رقیق ہیں اور بڑے ممبران ٹھوس ہوتے ہیں۔ ایتھیٖن ایک بے رنگ ہلکی بھینی خوشبووالی گیس ہوتی ہے۔ باقی تمام الکیٖن بے رنگ اور بغیر بُو والے ہوتے ہیں، پانی میں حل پذیر نہیں ہوتے لیکن غیر قطبی محلل جیسے بینزین، پیٹرولیم اور ایتھر وغیرہ میں حل پذیر ہوتے ہیں۔ یہ بڑھتے ہوئے سائز کے ساتھ نقطۂ جوش میں اضافہ دکھاتے ہیں۔ یعنی ہر ایک –CH2 کے اضافے کے ساتھ K 20 – 30 درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ الکین کے طرح سیدھی زنجیر والے الکیٖنوں کے نقطۂ جوش شاخدار آئسومر مرکبات سے زیادہ ہوتے ہیں۔

کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)

الکیٖن ڈھیلے ڈھالے طور پر بندھے ہوئے p الیکٹرانوں کے ماخذ ہیں جس کی وجہ سے وہ جمعی تعاملات دکھاتے ہیں جس میں الیکٹروفائل کاربن- کاربن دوہرے بند میں شامل ہو کر جمعی ماحصل بناتے ہیں۔ کچھ ریجنٹ آزاد ریڈیکل میکانزم سے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایسے بھی معاملات ہیں جب الکیٖن بھی مخصوص حالات میں آزاد ریڈیکل بدل تعاملات دکھاتے ہیں۔ تکسید اور اوزونولِسس (Ozonolysis) تعاملات بھی الکیٖن میں کافی نمایاں ہوتے ہیں۔ الکیٖن کے مختلف تعاملات کا مختصر بیان مندرجہ ذیل ہے۔

ڈائی ہائڈروجن کا اضافہ (Additon of Dihy- drogen): الکیٖن نکل کے باریک پاؤڈر، پلیڈیم یا پلاٹینم کی موجودگیمیں ڈائی ہائڈروجن گیس کے ایک سالمے کے اضافے کے بعد الکین (Alkane) بناتے ہیں (سیکشن 13.2.2)۔

ہیلوجن کا اضافہ (Addition of Halogens): ہیلوجن، جیسے کہ برومین یا کلورین الکین میں جمع ہو کر نواحی ہیلائڈ بناتی ہیں۔ تاہم، آیوڈین عام حالات میں اضافی تعاملات نہیں دکھاتی۔ کاربن ٹیٹرا کلورائڈ میں برومین محلول کا سرخی مائل نارنجی رنگ ظاہر ہوتا ہے جب برومین غیر سیرشدہ مقام پر داخل ہوتی ہے۔ اس تعامل کو غیر سیرشدگی کی جانچ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ الکیٖن میں ہیلوجن کا اضافہ الیکٹروفِلک جمعی تعاملات کی ایک مثال ہے جس میں سائیکلک ہیلونیم آین بنتا ہے جس کے بارے میں آپ اعلیٰ درجات میں پڑھیں گے۔
32
Ethene                    1               1
1.2 Dibromoethane
                       (13.39)
(ii)  CH3-CH=CH2+CL-CI↔CH3-CH-CH2
                                                             Ι      Ι
                                                            Br    Br
          propene                     1.2-DICHLOROPROPANE
                                                                            (13.39)
ہائڈروجن ہیلائڈ کا اضافہ (Addition of Hydrogen Halides) : ہائڈروجن ہیلائڈ (HCl، HBr، HI) الکیٖن میں جمع ہو کر الکائل ہیلائڈ بناتے ہیں۔ ہائڈروجن ہیلائڈ کی تعاملیت کی ترتیب HCl < HBr < HI ہے۔ الکیٖن میں ہیلوجن کے اضافے کی طرح ہائڈروجن ہیلائڈ کا اضافہ بھی الیکٹروفِلِک جمعی تعامل کی مثال ہے۔ آئیے اس کی وضاحت متشاکل اور غیر متشاکل الکیٖن میں HBr کے اضافے کی مثال کے ذریعے کریں۔

متشاکل الکیٖن میں HBr کا جمعی تعامل (Addition Reaction Of HBr To Symmetrical Alkenes)

متشاکل الکیٖن میں HBr کے جمعی تعامل (یکساں گروپ دوہرے بند سے منسلک ہوتے ہیں) الیکٹروفلِک جمعی میکانزم کے ذریعہ ہوتے ہیں۔
(i)  CH2=CH2+H-Br↔CH3-CH2-Br   (13.40)
CH3-CH=CH-CH3-+HBr↔CH3-CH2-CHCH3
                                                                   Ι
                                                                  Br
                                                                      (13.41)

غیر متشاکل الکیٖن میں HBr کا جمعی تعامل (مارکونیکوف کا قاعدہ)

پروپیٖن میں HBr کیسے شامل ہوگا؟ دو ممکنہ ماحصل I اور II ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_423b

ایک روسی کیمیاداں، مارکونیکوف نے اس طرح کے تعاملات کے تفصیلی مطالعے کے بعد 1869 میں ایک کُلیّہ قائم کیا۔ ان کُلیّات سے مارکونیکوف نے ایک قاعدہ بنایا جو مارکونیکوف (Markovnikov Rule) کا قاعدہ کہلاتا ہے۔ قاعدہ بتاتا ہے کہ جمع ہونے والے سالمے(Addendum) کا منفی حصّہ اس کاربن ایٹم سے منسلک ہوگا جس کے پاس ہائڈروجن ایٹم کی تعداد کم ہوگی۔ لہٰذا، اس اصول کے مطابق ماحصل I یعنی 2-بروموپروپین بننے کے امکانات ہیں۔ حقیقت میں تعامل کا قاعدے ماحصل یہی ہے۔ مارکونیکوف قاعدے کے اس کُلیّہ کو تعامل کے میکانزم کے ذریعہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

میکانزم (Mechanism)

ہائڈروجن برومائڈ ایک الیکٹروفائل، H+، مہیّا کرتا ہے، جودوہرے بند پر حملہ کرکے کاربوکیٹ آین بناتا ہے، جیسا کہ دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_423c
(b) زیادہ مستحکم (a) کم مستحکم
ثانوی کاربوکیٹ آین ابتدائی کاربوکیٹ آین

(i) کاربوکیٹ آین (b) ابتدائی کاربوکیٹ آین (a) سے زیادہ مستحکم ہے، پہلا سبقت حاصل کرے گا کیونکہ یہ زیادہ تیزی سے بنا ہے۔
(ii) کاربوکیٹ آین (b) پر Br– حملہ کرے گا اور مندرجہ ذیل ماحصل بنائے گا۔

5166_Keemiyan II_Ch13_423d

ضِد مارکو نیکوف جمع یا پَرآکسائڈ اثر یا خراش اثر

(Anti Markovnikov addition or peroxide effect or Kharash effect)

پَرآکسائڈ کی موجودگی میں غیر متشاکل الکیٖن، جیسے پروپیٖن میں HBr کا اضافہ مار کونیکوف کے اصول کے خلاف ہوتا ہے۔ یہ صرف HBr کے ساتھ ہوتا ہے لیکن HCl یا HI کے ساتھ نہیں ہوتا۔ یہ جمعی تعامل یونیورسٹی آف شکاگو میں 1933 میں ایم۔ ایس خراش اور ایف۔ آر۔ مایو نے دیکھا تھا۔ یہ تعامل خراش یا پَرآکسائڈ اثر مارکونیکوف قاعدے کے خلاف جمعی تعامل کہلاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_423e

میکانزم: پر آکسائڈ اثر آزاد ریڈیکل زنجیری میکانزم کے ذریعہ آگے بڑھتا ہے جیسے کے نیچے دکھایا گیا ہے۔
5166_Keemiyan II_Ch13_423f
5166_Keemiyan II_Ch13_424a

سیکنڈری آزاد ریڈیکل جو مندرجہ بالا میکانزم (قدم (iii)) میں حاصل ہوا ہے وہ ابتدائی ریڈیکل سے زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ یہ-1بروموپروپین کی اہم ماحصل کی شکل میں تیاری کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ HI اور HCl کو داخل کرنے سے (جمعکرنے سے) پر آکسائڈ کا اثر نہیں دیکھا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ بانڈH-Br430.5KJ mol-1بانڈmol-1363.7kjکے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے لہٰذا وہ آزاد ریڈیکل کے ذریعہ توڑا نہیں جاسکتا، جبکہ HI بانڈ کمزور ہوتا ہے (296.8kJ mol–1) اور آیوڈین آزاد ریڈیکل آپس میں اتحاد کرکے آیوڈین سالمہ بناتے ہیں بجائے اس کے کہ دہرے بند میں منسلک ہوں۔

مسئلہ 13.12

Hex-1-ene میں H – Br کے جمعی تعامل سے حاصل ہونے والے ماحصلات کے IUPAC نام لکھیے۔
(i) پَرآکسائڈ کی غیر موجودگی میں اور
(ii) پَرآکسائڈ کی موجودگی میں۔

حل

(i) CH2=CH-CH2-CH2-CH2-CH3-+H-Br
     Hex-1-ene                  ↓No peroxide
                       CH3-CH-CH2-CH2-CH2-CH3
                                  Ι
                               Br
                                  2-Bromohexane
(ii) CH2=CH-CH2-CH2-CH2-CH3+H-Br
                                  ↓Peroxide
           CH2-CH2-CH2-CH2-CH2-CH3
             Ι
           Br
           1-Bromohexane



سلفیورک ایسڈ کا اضافہ (Addition of Sulphuric Acid) : ٹھنڈا مرتکز سلفیورک ایسڈ مارکونیکوف اصول کے مطابق الکیٖن میں جمع ہو کر الیکٹروفِلِک جمعی تعامل کے ذریعہ الکائل ہائڈروجن سلفیٹ بناتا ہے۔

33
CH3-CH2-O SO2-OH or C2 H5HSO4
Ethyl hydrogen sulphate
     CH3-CH = CH2+ HOSO2OH
                                ↓
                         CH3-CH-CH3
                                     Ι
                                  OSO2OH
               Propyl hydrogen  sulphate
                                                             (13.45)
پانی کا اضافہ (Addition of Water) : مرتکز سلفیورک ایسڈ کے چند قطروں کی موجودگی میں الکیٖن پانی سے تعامل کرکے مارکونیکوف اصول کے مطابق الکوحل بناتے ہیں۔

34
2- Methylpropene           2- Methylpropan-2-o1
(13.46)
تکسیدa :oxidation الکیٖن (Alkene)، پوٹاشیم پرمینگنیٹ کے ٹھنڈے، ڈائی لیوٹ اور آبی محلول (Baeyer's Reagent) کے ساتھ تعامل کرکے وِسِنل گلائکول بناتے ہیں۔ KMnO4 کے محلول کے رنگ کا اڑنا غیر سیرشدگی کی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
5166_Keemiyan II_Ch13_425c
(13.47)

5166_Keemiyan II_Ch13_425d
(13.48)

(b) تیزابی پوٹاشیم پرمینگنیٹ یا تیزابی پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ الکیٖن کو کیٖٹون اور /یا ایسڈ میں تبدیل کردیتے ہیں، اس کا انحصار الکیٖن کی فطرت اور تجربہ کے حالات پر ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_425e
(13.50)

اوزونولِسس (Ozonolysis): الکیٖن کی اوزونولِسس میں، الکین میں اوزون کے ایک سالمے کا اضافہ ہو کر اوزونائڈ (Ozonide) بنتا ہے اور پھرZn – H2O سے اوزونائڈ چھوٹے سالموں میں بکھر جاتا ہے۔ یہ تعامل الکین یا دوسرے غیر سیر شدہ مرکبات میں دوہرے بند کے مقام کا پتہ لگانے میں بہت مفید ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_425f
(13.51)

5166_Keemiyan II_Ch13_425g
(13.52)

پالیمر سازی (Polymerisation): آپ پالیتھین لفافوں اور پالیتھین شیٹ سے بخوبی واقف ہیں۔ پالیتھین بہت زیادہ درجۂ حرارت، دباؤ اور وسیط کی موجودگی میں بڑی تعداد میں اتیھین سالموں کے ملنے سے بنتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والے بڑے سالمے پالیمر کہلاتے ہیں۔ یہ تعامل پالیمر سازی کہلاتا ہے۔ سادے مرکبات جن سے مل کر پالیمر بنتے ہیں وہ مونومر (Monomer) کہلاتے ہیں۔ دوسرے الکیٖنوں میں بھی پالیمر سازی ہوتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_425i
(13.53)

5166_Keemiyan II_Ch13_425j
(13.54)

پالیمر کا استعمال پلاسٹک کے تھیلے، بوتل، ریفریجریٹر کی ڈشیں، کھلونے، پائپ ریڈیو اور ٹی-وی کی کیبنٹ وغیرہ بنانے میں ہوتا ہے۔ پالیپروپین کا استعمال دودھ کی کریٹ، پلاسٹک کی بالٹی اور دوسرے ڈھلے ہوئے برتنوں کے بنانے میں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ اشیا آج کل بہت عام ہیں لیکن پالیتھین اور پالیپروپین کا استعمال ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

13.4 الکائن (Alkynes)

الکیٖن کی طرح الکائن بھی غیر سیرشدہ ہائڈروکاربن ہوتے ہیں۔ ان میں دو کاربن ایٹموں کے درمیان کم از کم ایک تہرا بانڈ ہوتا ہے۔ الکین اور الکیٖن کے مقابلے میں ہائڈروجن ایٹموں کی تعداد مزید کم ہوتی ہے۔ ان کا عمومی ضابطہ CnH2n–2 ہوتا ہے۔
الکائن کا پہلا رُکن ایتھائن ہوتا ہے جو عام طور پر ایسیٹیلیٖن (Acetylene) کہلاتا ہے۔ ایسیٹلیٖن کا استعمال ویلڈنگ میں آکسی ایسٹیلیٖن لو کی شکل میں ہوتا ہے جسے آکسیجن اور ایسٹلیٖن کو ملاکر حاصل کیا جاتا ہے۔ نامیاتی مرکبات کی ایک بڑی تعداد کے لیے الکائن ابتدائی مادّے ہوتے ہیں اس لیے نامیاتی مرکبات کی اس جماعت کا مطالعہ دلچسپ ہے۔

13.4.1 تسمیہ اور آئسومیرزم

(Nomenclature and Isomerism)

عام نظام میں الکائن کو ایسٹیلیٖن کے مشتق (Derivatives) آئسومیرزم کی طرح نام دیا جاتا ہے۔ IUPAC نظام میں انہیں ان کے نظیری الکین کے مشتق کی حیثیت سے نام دیا جاتا ہے جہاں 'ane' (این) کو لاحقہ yne سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ تہرے بند کے مقام کو پہلے تہری بانڈ والے کاربن سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ الکائن سلسلے کے ارکان کے کچھ عام اور IUPAC نام جدول 13.2 میں دیے گئے ہیں۔
آپ کو پہلے ہی معلوم ہے کے Ethyne اور Propyne کی صرف ایک ہی ساخت ہوتی ہے لیکن Butyne کی دو ممکنہ ساختیں5166_Keemiyan II_Ch13_426aہوتی ہیں۔ چونکہ یہ دونوں مرکبات تہرے بند کے مقام کی بنیاد پر اپنی ساختوں میں مختلف ہوتے ہیں لہٰذا یہ پوزیشن آئسومر (Position Isomers) کہلاتے ہیں۔ اگلے ہم وصف، یعنی اگلا الکائن جس کا ضابط C5H8 ہے، کے لیے آپ کتنے طریقوں سے ان کی ساختیں بناسکتے ہیں؟ آئیے پانچ کاربن ایٹموں کو ایک مسلسل زنجیر اور شاخدار زنجیر کے ساتھ ترتیب دینے کی کوشش کریں۔ مندرجہ ذیل ممکنہ ساختیں ہوں گی:

ساخت IUPAC نام
1      2    3       4       5
CH=C-CH2-CH2-CH3 ,1
Pent-1yne
     1    2   3     4       5
H3C -C=C-CH2 -CH3 .II
pent-2yne
     4     3    2   1
H3C-CH-C=CH  .III
            1
            CH3
Methylbut-1-yne

ساختیں I اور II پوزیشن آئسومر اور ساخت I اور III یا II اور III زنجیری آئسومر ہیں۔

مسئلہ 13.13

الکائن سلسلہ کے پانچویں رُکن کے لیے مختلف آئسومر کی ساختیں لکھیے۔ سبھی آئسومر کے IUPAC نام بھی لکھیے۔ آئسومر کے مختلف جوڑوں کے ذریعہ کس قسم کی آئسومیرزم کا اظہار ہوتا ہے؟

حل

الکائن سلسلے کے پانچویں رکن کا سالماتی ضابطہ C6H10 ہے۔ ممکنہ آئسومر اس طرح ہیں۔
(a) HC=C-CH2 -CH2-CH2-CH3
              Hex-1-yne
(b) CH3-C=C-CH2-CH2-CH3
              Hex-21-yne
(c) CH3-CH2-C=C-CH2-CH3
              Hex-3-yne
(d) CH=C-CH-CH2-CH3
                    1
             Methylpent-1-yne
(e) HC=C-CH2-CH-CH3
                            1
                            CH3
             4-Methylpent-1yne
(f)  CH3-C=C-CH-CH3
                          1
                         CH3
               4-Methylpent-2yne

مختلف جوڑوں کے ذریعہ پوزیشن اور زنجیری آئسومیرزم دکھائی جاتی ہے۔

جدول 13.2 الکائن (CnH2n–2) کے عام اور IUPAC نام

nکی قیمت ضابطہ ساخت عام نام آیو پیک نام
2 C2H2 H-C=CH ایسٹیلینAcetylene Ethyne
3 C3H4 CH3C=CH میتھائل ایسٹیلین
Methylacetylene
Propyne
4 C4H6 CH3CH2C=CH ایتھائل ایسٹیلین
Eethylacetylene
But-1-yne
4 C4H6 CH3-C=C-CH3 ڈائی میتھائل ایسٹیلین
Dimethylacetylene
But-2yne

13.4.2 تہرے بند کی ساخت

(Structure of Triple Bond)

ایتھائن، الکائن سلسلہ کا سب سے سادہ سالمہ ہے۔ ایتھائن کی ساخت شکل 13.6 میں دکھائی گئی ہے۔
ایتھائن کے ہر ایک کاربن ایٹم کے پاس دو sp مخلوط اربٹل ہوتے ہیں۔ کاربن- کاربن سگما بانڈ دو کاربن ایٹموں کے sp مخلوط اربٹل کے سروں کے انطباق سے حاصل ہوتے ہیں۔ باقی ہر ایک کاربن کے دو sp مخلوط اربٹل دوہائڈروجن ایٹموں کے 1s اربٹل سے بین مرکزی محور کی سمت انطباق کرکے دو C – H سگما بانڈ بناتے ہیں۔ H – C – C بندشی زاویہ °180 ہوتا ہے۔ ہر ایک کاربن کے پاس دو غیر مخلوط شدہ p اربٹل ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اور C – C سگما بانڈ کے مستوی کے عمودی ہوتے ہیں۔ ایک کاربن کے 2p اربٹل دوسرے کاربن ایٹم کے 2p اربٹل کے متوازی ہوتے ہیں جو جانبی انطباق کرکے دوکاربن ایٹموں کے درمیانπبانڈ بناتے ہیں۔ اس طرح ایتھائن سالمے میں ایک C –C سگما بانڈ، دو σ C – H بانڈ اور دوπC – C بانڈ ہوتے ہیں۔ C = C کیبندشیتوانائی(بانڈاینتھالپی823 kj mol-1 C = C بانڈ (بانڈ اینتھالپی68 1kjmol-1سے زیادہ ہوتی ہے۔
C = C کی بندشی لمبائی133pm c=c120pmاور154 pm c-c-cسے کم ہوتی ہے۔ دو کاربن ایٹموں کے درمیان الیکٹران بادل بین مرکزی محور کے گرد اسطوانی متشاکل ہوتے ہیں لہٰذا ایتھائن ایک خطّی سالمہ ہوتا ہے۔

13.4.3 تیاری (Preparation)

کیلشیم کاربائڈ سے: صنعتی طور پر ایتھائن کی تیاری کیلشیم کاربائڈ کو پانی کے ساتھ ملا کر کی جاتی ہے۔ کیلشیم کاربائڈ کو بغیر بجھے چونے (Quick Lime) کو کوئلے کے ساتھ گرم کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ کوئک لائم کو لائم اسٹون گرم کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔تعامل مندرجہ ذیل ہے:

(13.55) 5166_Keemiyan II_Ch13_427e

5166_Keemiyan II_Ch13_427f
کاغذ کے مستوی کے نیچے،  کاغذ کے مستوی میں
کاغذ کے مستوی میں۔ کاغذ کے مستوی کے اوپر

شکل 13.6 ایتھائن کی اربٹل شکل (a) سگما انطباق اور
5166_Keemiyan II_Ch13_427gانطباق دکھاتے ہوئے

CaO+3C ↔Cac2+co
(13.56) کیلشیم کاربائڈ

Cac2+H2o Ca(OH)2+C2H2                        (13.57)
وِسِنل ڈائی ہیلائڈ سے: وِسِنل ڈائی ہیلائڈ الکوحلی پوٹاشیم ہائڈرآکسائڈ سے تعامل کرکے ڈی ہائڈرو ہیلوجنیشن کرتے ہیں۔ ہائڈروجن ہیلائڈ کا ایک سالمہ برطرف کر دیا جاتا ہے اور الکنائل ہیلائڈ (Alkenyl Halide) بنتا ہے جو سوڈامائڈ (Sodamide) سے تعامل کرکے الکائن دیتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_428c
(13.58)

13.4.4 خصوصیات (Properties)

طبیعی خصوصیات (Physical Properties)
الکائن کی طبیعی خصوصیات کا رجحان بھی الکیٖن اور الکین کی طرح ہوتا ہے۔ پہلے تین رکن گیسیں ہوتی ہیں۔ اگلے آٹھ رقیق ہوتے ہیں اور بڑے ممبران ٹھوس ہوتے ہیں۔ تمام الکائن بے رنگ ہوتے ہیں۔ ایتھائن کی مخصوص بُو ہوتی ہے، باقی تمام بغیر بو والے ہوتے ہیں۔ الکائن فطرتاً قطبی ہوتے ہیں۔ یہ پانی سے ہلکے ہوتے ہیں اور پانی میں حل پذیر نہیں ہوتے لیکن نامیاتی محلل، جیسے کہ ایتھر، کاربن ٹیٹراکلورائڈ اور بینزین وغیرہ میں حل پذیر ہوتے ہیں۔ ان کے نقطۂ جوش اور کثافت میں مولر کمیت کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔

کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)

الکائن کی تیزابی فطرت: سوڈیم دھات اور سوڈامائڈ قوی اساس ہوتے ہیں یہ ایتھائن سے تعامل کر کے سوڈیم ایسیٹیلائڈ (Sodium Acetylide) بناتے ہیں اور ڈائی ہائڈروجن گیس نکلتی ہے۔ یہ تعاملات Ethane اور Ethene میں نہیں پائے جاتے جو یہ بتاتے ہیں کہ Ethane اور Ethene کے مقابلے میں ایتھائن فطرتاً تیزابی ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا اس کا تعلق اس کی ساخت اور مخلوطیت سے ہے؟ آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایتھائن میں ہائڈروجن ایٹم sp مخلوط کاربن سے منسلک ہے جبکہ Ethene میں sp2 مخلوط شدہ کاربن اور ایتھین میں sp3 مخلوط کاربن سے منسلک ہوتے ہیں۔ چونکہ کاربن ایٹم کے sp مخلوط اربٹل میں s کردار سب سے زیادہ (%50) ہوتا ہے لہٰذا ان میں برقی منفیت سب سے زیادہ ہوتی ہے: لہٰذا یہ ایتھائن کے C – H بانڈ کے مشترک الیکٹران جوڑے کو Ethene میں کاربن کے sp2 مخلوط اربٹل اور ایتھین میں کاربن کے sp3 مخلوط اربٹل کے مقابلے میں زیادہ کھینچتے ہیں۔ لہٰذا ہائڈروجن ایٹم Ethane اور Ethene کے مقابلے زیادہ آسانی سے پروٹان کی شکل میں آزاد ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ایتھائن کے C = C تہرے بند سے منسلک ہائڈروجن ایٹم فطرتاً زیادہ تیزابی ہوتے ہیں۔ آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کاربن کے تہرے بند سے منسلک ہائڈروجن ایٹم زیادہ تیزابی ہوتے ہیں جبکہ ایتھائن کے تمام ہائڈروجن ایسے نہیں ہوتے۔

HC=CH+Na ↔HC=CNa++½H2
Monosodium
(Ethynide (13.59

HC=C-Na++Na↔Na+C-=C-Na++½H2
(Disodium Ethynide (13.60

CH3-C =C -H  + Na+NH2
                   ↓
CH3 - C=C-Na+  +NH3
Sodium  propynide

(13.61)
Alkane اور Alkene اس قسم کے تعاملات نہیں دکھاتے لہٰذا یہ الکائن، Alkene میں فرق کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مندرجہ بالا کا But-1-yne اور But-2-yne کے ساتھ تعاملات سے متعلق کیا خیال ہے؟ Alkene، Alkane اور الکائن اپنے تیزابی طرز عمل میں مندرجہ ذیل رجحان کا اظہار کرتے ہیں۔
(i)  HC=CH>H2C=CH2>CH3-CH3
(ii) HC=CH>CH3-C=CH>>CH3-C=C-CH3

B۔ جمعی تعاملات: الکائن میں ایک تہرا بند ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ڈائی ہائڈروجن، ہیلوجن، ہائڈروجن ہیلائڈ کے دو سالموں تک کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ جمعی ماحصل کی تشکیل مندرجہ ذیل اقدامات کے مطابق ہوتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_429a

بننے والے جمعی ماحصل کا انحصار ونائلک کیٹ آین (Vinylic Cation) کے استحکام پر ہوتا ہے۔ غیر متشاکل الکائن میں اضافہ مارکونیکوف قاعدے کے مطابق ہوتا ہے۔ الکائن کے زیادہ تر تعاملات الیکٹروفلک جمعی تعاملات کی مثالیں ہیں۔ چند جمعی تعاملات مندرجہ ذیل ہیں:

(i) ڈائی ہائڈروجن کا اضافہ


(13.62) 5166_Keemiyan II_Ch13_429b

(13.63) 5166_Keemiyan II_Ch13_429c

(ii) ہیلوجن کا اضافہ

CH3-C=CH+Br-Br↔(CH3CBr= CHBr)
                                  1.2-Dibromopropene
                                                  ↓Br2
                                                 Br    Br
                                                   Ι       Ι
                                          CH3- C -CH
                                                     Ι     Ι
                                                    Br   Br
                                       1.1.2,2-Tetrabromopropane
(13.64)

کاربن ٹیٹراکلورائڈ میں برومین کے محلول کا سرخی مائل نارنجی رنگ غائب ہو جاتا ہے۔ اسے غیر سیرشدگی کی جانچ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

(iii) ہائڈروجن ہیلائڈ کا اضافہ

ہائڈروجن ہیلائڈ (HCl، HBr، HI) کے دو سالمے الکائن میں جمع ہوکر ’جیم‘ (Gem) ڈائی ہیلائڈ (جن میں دو ہیلوجن ایٹم ایک ہی کاربن ایٹم سے منسلک ہوتے ہیں) بناتے ہیں۔
H-C=C-H+H-Br↔(CH2=CH-Br)↔CHBr2
                                 Bromoethene          Ι
                                                                 CH3
                                               1.1-Dibromoethane
                                                                      (13.65)
CH3-C=CH+H-Br↔(CH3-C=CH2)
                                               Ι
                                              Br
                                       2-Bromopropene
                                                   ↓
                                                  Br
                                                    Ι
                                       CH3- C - CH3
                                                  Ι
                                                  Br
                                 2.2.Dibromopropane
(13.66)

(iv) پانی کا اضافہ

Alkane اور Alkene کی طرح الکائن بھی غیر حل پذیر ہیں اور پانیسے تعامل نہیں کرتے۔ تاہم، 333K ر مرکیورک سلفیٹ اور ڈائی لیوٹ سلفیورک ایسڈ کے ساتھ گرم کرنے پر الکائن میں پانی کے ایک سالمہ کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
5166_Keemiyan II_Ch13_429g
(13.67)

5166_Keemiyan II_Ch13_429i
(13.68)

(v) پالیمر سازی (Polymerisation)

(a) خطّی پالیمر سازی (Linear Polymerisation): عام حالات میں، ایتھائن میں خطّی پالیمر سازی ہوتی ہے اور پالی ایسٹائلیٖن (Polyacetylene) یا پالی ایتھائین (Polyethyne) بنتا ہے جو ایک بہت زیادہ سالماتی وزن والا پالی این (Polyene) ہوتا ہے جس میں (CH = CH – CH = CH) کی مکرّر اکائیاں ہوتی ہیں اور اسCH=CH-CH=CHNnسے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ خاص حالات میں، یہ پالیمر برق کاموصل ہوتا ہے۔ پالی ایسٹائلین کی پتلی پرت کا استعمال بیڑیوں میں الیکٹروڈ کی طرح ہوتا ہے۔ یہ پرتیں اچھی موصل ہیں، ہلکی ہیں اور دھاتی موصلوں سے سستی ہوتی ہیں۔

(b) سائکلک پالیمر سازی(Cyclic Polymerisation): ایتھائن کو 873K پر سُرخ گرم لوہے کی ٹیوب میں سے گزارنے پر اس کی سائکلک پالیمر سازی ہوتی ہے۔ تین سالمات کی پالیمر سازی کے نتیجے میں بینزین حاصل ہوتی ہے جو بینزین کے مشتق، رنگوں، دواؤں اور نامیاتی مرکبات کی ایک بڑی تعداد کی تیاری کے لیے ابتدائی سالمہ ہوتا ہے۔ یہ ایلیفیٹک مرکبات (Aliphatic Compound) سے ایرومیٹک مرکبات (Aromatic Compound) میں داخل ہونے کا سب سے بہتر راستہ ہے۔ جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_430B
(13.69)

مسئلہ 13.14

آپ ایتھانوئک ایسڈ کو بینزین میں کیسے تبدیل کریں گے؟

حل

5166_Keemiyan II_Ch13_430C

13.5 ایرومیٹک ہائڈرو کاربن

(Aromatic Hydrocarbon)


یہ ہائڈروجن کاربن ایریٖن (Arenes) بھی کہلاتے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے زیادہ تر میں بھینی بھینی مہک ہوتی ہے (گریک؛ ایروما یعنی اچھی مہک والے)، اس جماعت کے مرکبات کو ایرومیٹک مرکبات‘ (Aromatic Compounds) کہتے ہیں۔ ایسے زیادہ تر مرکبات میں بینزین رِنگ موجود ہوتا ہے۔ بینزین رنگ بہت زیادہ غیر سیر شدہ ہوتا ہے، لیکن ایرومیٹک مرکبات کے زیادہ تر تعاملات میں بینزین رِنگ کی غیر سیرشدگی قائم رہتی ہے۔ تاہم، ایسے ایرومیٹک ہائڈروکاربن کی مثالیں بھی ہیں جن میں بینزین رِنگ نہیں ہوتے بلکہ ان کی جگہ دوسرے انتہائی غیرسیرشدہ رِنگ ہوتے ہیں۔ ایسے ایرومیٹک مرکبات جن میں بینزین رِنگ ہوتے ہیں بینزوائڈ (Benzoides) کہلاتے ہیں اور جن میں بینزین رِنگ نہیں ہوتے وہ غیربینزوائڈ (Non-benzoides) کہلاتے ہیں۔ ایریٖن کی کچھ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_430D

13.5.1 تسمیہ اور آئسومیرزم

(Nomenclature and Isomerism)

ایرومیٹک ہائڈرو کاربن کے تسمیہ اور آئسومیرزم اکائی 12 میں پہلے ہی زیرِبحث رہے ہیں۔ بینزین کے تمام چھ ہائڈروجن یکساں ہوتے ہیں؛ لہٰذا یہ ایک اور صرف ایک ہی قسم کے اکائی بدل ماحصل بناتے ہیں۔ بینزین کے دو ہائڈروجن ایٹم جب دویکساں یا مختلف یک گرفتی ایٹموں یا گروپ سے تبدیل ہوتے ہیں تو تین مختلف پوزیشن آئسومر ممکن ہوتے ہیں۔ 1، 2 یا 1، 6 آرتھو (ortho, –o) کہلاتے ہیں۔ 1، 3 یا 1، 5 میٹا (–meta, m) اور 1، 4 پیراDisubstituted.paraمرکبات کہلاتے ہیں۔ بینزین کے مشتقوں کی کچھ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
35
Methylbenzene         1.2- Dimethylbenzene
(Tolucne)                     (o-Xylene)

36
1.3 D imethylbenzene          1.4 Dimethylbenzene
(m-Xylene)                    (p- Xylene)

13.5.2 بینزیٖن کی ساخت(Structure of Benzene)

1825 میں مائکل فیراڈ لے نے بینزیٖن کو علیحدہ کیا تھا۔ بینزین کا سالماتی ضابطہ C6H6 اعلیٰ درجہ کی غیرسیرشدگی ظاہر کرتا ہے۔ یہ سالماتی ضابطہ اس کی الکین، الکیٖن اور الکائن سے اس کے تعلقات کو واضح نہیں کرتا جو ہم اس اکائی کے شروع کے سیکشنوں میں پڑھ چکے ہیں۔ آپ کا اس کی ممکنہ ساخت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس کی منفرد خصوصیات اور غیر معمولی استحکام کی وجہ سے اسے ساخت فراہم کرنے میں کئی برس لگ گئے۔ بینزین کو ایک مستحکم سالمہ پایا گیا ہے اور یہ پایا گیا ہے کہ وہ ٹرائی اوزونائڈ بناتا ہے جو تین دوہرے بند کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید یہ پایا گیا کہ بینزین ایک اور صرف ایک Monosubstituted مشتق بناتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بینزین کے تمام چھ کاربن اور چھ ہائڈروجن یکساں ہیں۔ اس مشاہدے کی بنیاد پر 1865 میں آگسٹ کیکولے نے بینزیٖن کے لیے مندرجہ ذیل ساخت تجویز کی جس میں چھ کاربن ایٹم سائکلک ترتیب میں ہوتے ہیں اور متبادل طور پر اکہرے اور دوہرے بند ہیں اور ہر ایک کاربن ایٹم کے ساتھ ایک ہائڈروجن منسلک ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_431c

فریڈرک آگسٹ کیکیولے، ایک جرمن کیمیاداں، 1829 میں جرمنی کے ڈارمسٹ (Darmsdt) میں پیدا ہوئے۔ 1856 میںوہ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1875 میں رائل سوسائٹی کے فیلو مقرر ہوئے۔ ان کا ساختی نامیاتی کیمیا میں بہت اہم تعاون رہا ہے۔ 1858 میں یہ تجویز کر کے کہ کاربن ایٹم ایک دوسرے سے جُڑ کر لمبی زنجیریں بناسکتے ہیں بعد میں 1865 میں انہوں نے بینزین کی ساخت کے مسئلہ کی چنوتی کا جواب اس تجویز کے ساتھ دیا کہ یہ زنجیریں بند ہو کر حلقہ بناتی ہیں۔ انہوں نے بینزین کے لیے ایک مؤثر ساختی ضابطہ دیا جو اس کی جدید الیکٹرانی ساخت کی بنیاد بنا۔ انہوں نے بعد میں بینزین کی ساخت کی دریافت ان الفاظ میں کی:
’’میں بیٹھا ہوا اپنی نصابی کتاب لکھ رہا تھا، لیکن کام آگے نہیں بڑھ رہا تھا: ذہن کہیں اور تھا۔ میں نے اپنی کرسی آتش دان کی سمت گھمائی اور سوگیا۔ دوبارہ ایٹم میری نظروں کے سامنے اچھلنے کودنے لگے۔ اس مرتبہ چھوٹے گروپ منکسرانہ انداز میں پسِ منظر رہے۔ میری ذہنی آنکھ جو اس قسم کے مکرّر نقش نگاری کے تئیں بہت حسّاس ہو چکی ہے، اب کئی بڑی ساختوں میں تفریق کرسکتی تھی: لمبی قطاریں؛ کبھی کبھی بہت قریب سے جڑی ہوئی؛ سب لہراتی ہوئی اور سانپ کی طرح حرکت کرتی ہوئی۔ لیکن دیکھو! وہ کیا ہے؟ ایک سانپ نے اپنی ہی دُم کو پکڑ لیا؛ اور میری نظروں کے سامنے وہ شکل گھومنے لگی۔ جیسے بجلی کی چمک کی طرح اچانک میری آنکھ کھل گئی… باقی تمام رات میں نے اس مفروضے کے نتائج پر غور کرتے ہوئے گزاری۔ آئیے ہم خواب دیکھیں، ساتھیوں اور پھر شاید ہم سچائی کو جان سکیں لیکن خبردار ہمیں اپنے خوابوں کو عوامی نہیں بنانا چاہیے جب تک کہ ہمارا جاگتا ہوا ذہن اس کی تصدیق نہ کردے۔‘‘ (1890) ۔
ایک سوسال بعد، کیکیولے کے صدسالہ جشن کے موقع پر مرکبات کی ایک جماعت جس کی ساخت پالی بینزوآئڈ (Polybenzoid) ہے کیکیولینس (Kekulenes) کا نام دیا گیا۔



5166_Keemiyan II_Ch13_432a

کیکیولے ساخت دو آئسومیرک ساختوں Dibromob- enzenes 1.2 کے امکان کو ظاہر کرتی ہے۔ ان میں سے ایک آئسومر میں برومین ایٹم دوہرے بند والے کاربن ایٹم سے منسلک ہوتا ہے جبکہ دوسرے میں وہ اکہرے بند والے کاربن ایٹم سے منسلک ہوتاہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_432b

تاہم بینزین میں صرف ایک ہی آرتھو Disubstituted ماحصل پایا گیا ہے۔ اس مسئلہ کو کیکیولے نے حل کیا اور بینزین میں دوہرے بند کی اہتزازی فطرت (Oscillating Nature) کا تصور پیش کیا جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_432c

اس تبدیلی کے باوجود کیکیولے کی بینزین ساخت اس کے غیر معمولی استحکام اور جمعی تعاملات کی بجائے بدل تعاملات کی ترجیح کو واضح کرنے میں ناکام ہے جس کو بعد میں گمک کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے۔

گمک اور بینزین کا استحکام

(Resonance and Stability of Benzene)

ویلنس بانڈ تھیوری کے مطابق، بینزین میں اہتزازی دوہرے بند کے تصور کو اب گمک کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے۔ بینزین مختلف گمک ساختوں کا مخلوط ہے۔ کیکیولے کے ذریعے دی گئی دو ساختیں (A) اور (B) خاص Contributing ساختیں ہیں۔ مخلوط شکل کا اظہار مسدّس (Hexagon) ساخت کے اندر ایک حلقہ یا نقط دار حلقہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے جیسا کہ (C) میں دکھایا گیا ہے۔ حلقہ چھ الیکٹرانوں کو ظاہر کرتا ہے جو بینزین حلقہ کے چھ کاربن ایٹموں کے درمیان Delocalised ہوتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_432d

(A) (B) (C)
بینزین کی ساخت کے لیے اربٹل کا انطباق زیادہ واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ بینزین کے تمام چھ کاربن ایٹم sp2 مخلوط شدہ ہوتے ہیں۔ ہر ایک کاربن ایٹم کے دو sp2 مخلوط اربٹل اپنے ہم سائے کاربن کے sp2 اربٹل سے انطباق کرتے ہیں اور چھ سگما (σ) بانڈ C – C بناتے ہیں جو مسدسی مستوی میں ہوتے ہیں۔ ہر ایک کاربن ایٹم کے باقی sp2 اربٹل ہائڈروجن ایٹم کے σ اربٹل سے انطباق کرکے چھ C – H سگما بانڈ بناتے ہیں۔ اب ہر ایک کاربن ایٹم کے پاس غیر مخلوط p اربٹل باقی رہ جاتا ہے جو حلقہ کے مستوی کے عمودی ہوتا ہے، جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_432e

کاربن ایٹم کے غیر مخلوط شدہ -p اربٹل اتنے نزدیک ہوتے ہیں کہ وہ پہلوی انطباق کے ذریعہπبانڈ بنالیتے ہیں۔ p اربٹل کے ذریعہ تین پائی (π) بانڈ بنانے کے دو یکساں امکانات ہیں۔ C1 – C2، C3 – C4، C5 – C6 یا C2 – C3، C4 – C5، C6 – C1 جیسا کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_432f

13.7 (a)شکل

5166_Keemiyan II_Ch13_433a

13.8 (b) شکل

ساختیں  13.7 (a) اور5166_Keemiyan II_Ch13_433bπLocalised بانڈ کے ساتھ کیکیولے کی دوساختوں کے مشابہہ ہیں۔ حلقہ میں تمام کاربن ایٹموں کے درمیان ایکسرے (X-ray) انصراف کے لیے معلوم کیا گیا بین مرکزی فاصلہ یکساں پایا گیا ہے۔ مستوی کاربن ایٹم کے p-اربٹل کی اپنے پڑوسی کاربن ایٹم کے p-اربٹل سے انطباق کے یکساں امکانات ہیں،5166_Keemiyan II_Ch13_433cایک مسدسی حلقہ کے مستوی کے اوپر اور ایک حلقہ کے مستوی کے نیچے۔ جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_433d

شکل 13.7 (d) شکل 13.7 (c)

اس طرح چھ π الیکٹران Delocalised ہوتے ہیں اور کسی دو کاربن ایٹم کے مرکزوں کے بجائے چھ کاربن ایٹموں کے درمیانآسانیسےآزادانہ طور پر گھومتے ہیں جیسا کہ شکل5166_Keemiyan II_Ch13_433eمیں دکھایا گیا ہے۔ π Delocalised الیکٹران بادل دو کاربن ایٹموں کے درمیان Localised الیکٹران بادلوں کی بہ نسبت کاربن ایٹموں کے مراکز کے لیے زیادہ پُرکشش ہوتے ہیں۔ لہٰذا بینزین میں π الیکٹرانوں کی موجودگی اُسے تصوراتی سائیکلوہیکساٹرائین (Cyclohexatriene) کی بہ نسبت زیادہ مستحکم بناتی ہے۔
ایکسرے انصراف (Diffraction) سے حاصل شدہ آنکڑے بتاتے ہیں کہ بینزین ایک مسطح سالمہ ہے۔ اگر مندرجہ ذیل بالا بینزین کی ساختوں (A) اور (B) میں سے کوئی ایک صحیح ہے تو دو قسم کی C – C بندشی لمبائیاں متوقع ہوتیں۔ بہرحال ایکسرے آنکڑےبتاتےہیں کہ تمام  چھ C – C بندشی لمبائیاں برابر ہیں (139pm) جو کہ C – C اکہرے بند (154pm) اور دوہرے بند (133pm) کی درمیانی قدر ہے۔ اس طرح بینزین میں خالص دوہرے بند کی غیرموجودگی عام حالات میں بینزین کے ذریعہ جمعی تعاملات سے تذبذب کو ظاہر کرتی ہے، اس طرح بینزین کے غیرمعمولی برتاؤ کی وضاحت کرتا ہے۔

13.5.3 ایرومیٹی سٹی (Aromaticity)

بینزین ایرومیٹک مرکبات میں مورث (Parent) مانا جاتا ہے۔ اب یہ نام تمام حلقہ نظام کے مرکبات کے لیے استعمال ہوتا ہے خواہ وہ بینزین حلقہ رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں اور مندرجہ ذیل خاصیتیں رکھتے ہوں:
(i) مسطح خاصیت (Planrity)
(ii) حلقہ کے اندر π الیکٹرانوں کا مکمل Delocalisation ہو۔
(iii) حلقہ کے اندر5166_Keemiyan II_Ch13_433fالیکٹران ہوں جہاں n ایک صحیح عدد (...,n = 0, 1, 2 ) ہو۔
اس کو عام طور پر ہکل قاعدہ (Hückel Rule) کہتے ہیں۔
ایرومیٹک مرکبات کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_433g


5166_Keemiyan II_Ch13_434a

13.5.4 بینزین کی تیاری (Preparation of Benzene)

تجارتی طور پر بینزیٖن کو کول تار (Coal Tar) سے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ تاہم تجربہ گاہوں میں اسے مندرجہ ذیل طریقوں سے تیار کرسکتے ہیں۔
(i) ایتھائن کی سائیکلک پالیمر سازی سے (سیکشن 13.4.4)۔
(ii) ایرومیٹک ایسڈ کے ڈی کاربوکسیلیشن سے: بینزوئک ایسڈ کے سوڈیم نمک سوڈالائم کے ساتھ گرم ہونے پر بینزیٖن دیتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_434b
(13.70)

(iii) فینول کی تحویل سے: فینول کے بخارات کو گرم زنک پاؤڈر کے اوپر سے گزارنے پر اس کی تحویل بینزین میں ہو جاتی ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_434c
(13.71)

13.5.5 خصوصیات (Properties)

طبیعی خصوصیات (Physical Properties)
ایرومیٹک ہائڈروکاربن غیر قطبی سالمے ہوتے ہیں اور عام طور پر بغیر رنگ والے رقیق یا ٹھوس ہوتے ہیں جن کی ایک مخصوص بُو ہوتی ہے۔ آپ نیفتھالین کی گولیوں سے تو واقف ہوں گے جو ٹوائلٹ میں اور کپڑوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں کیونکہ مرکب کی مخصوص بُو ہوتی ہے اور کیڑے (Moth) بھگانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ایرومیٹک ہائڈروکاربن پانی میں غیر حل پذیر ہوتے ہیں لیکن نامیاتی محلل میں بہت جلد حل ہو جاتے ہیں یہ دھویں اور لَو کے ساتھ جلتے ہیں۔

کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties)

الیکٹروفِلک بدل تعاملات ایریٖن کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ تاہم مخصوص حالات میں ان میں جمعی تعاملات اور تکسید بھی ہوتی ہے۔

الیکٹروفِلک بدل تعاملات

(Electrophilic Substitution Reactions)

ایریٖن کے عام الیکٹروفِلک بدل تعاملات نائٹریشن، ہیلوجنیشن، سلفونیشن، فریڈل کرافٹ کے الکائلیشن اور اسائلیشن تعاملات ہیں جن میں حملہ آور ریجنٹ الیکٹروفائل (+E) ہوتا ہے۔

(i) نائٹریشن: جب بینزیٖن کو مرتکز نائٹرک ایسڈ اور مرتکز سلفیورک ایسڈ (نائٹریٹنگ آمیزے) کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے تو بینزین حلقہ میں ایک نائٹروگروپ داخل ہوجاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_434d
(13.72)

(ii) ہیلوجنیشن(Halogenation) : نابیدہ FeBr3، FeCl3 یا AlCl3 جیسے لیوئس ایسڈ کی موجودگی میں ایریٖن (Arenes) ہیلوجن کے ساتھ تعامل کرکے ہیلوایریٖن بناتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_435a

(iii) سلفونیشن (Sulphonation) : حلقہ میں سلفونِک ایسڈ گروپ کے ذریعہ ہائڈروجن کا ہٹایا جانا سلفونیشن کہلاتا ہے۔ یہ بینزین کو دخانی (Fuming) سلفیورک ایسڈ (Oleum) کے ساتھ گرم کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_435b
(13.74)

(iv) فریڈل-کرافٹ الکائلیشن تعاملFriedal Crafts Alkylation Reaction : جب نابیدہ ایلومینیم کلورائڈ کی موجودگی میں بینزین کا تعامل الکائل ہیلائڈ کے ساتھ ہوتا ہے تو الکائل بینزین بنتا ہے۔

40
(13.75)

5166_Keemiyan II_Ch13_435d
(13.76)

بینزین کو 1-Chloropropane کے ساتھ گرم کرنے پر ہمیں n-propyl benzene کی بجائے Isopropyl benzene کیوں حاصل ہوتا ہے؟

(v) فریڈل- کرافٹ اسائلیشن تعامل (Friedel-Craft Acylation Reaction) : لیوس ایسڈ (AlCl3) کی موجودگی میں بینزین کے اسائل ہیلائڈ یا ایسڈ اینہائڈرائڈ سے تعامل کرنے پر اسائل بینزین حاصل ہوتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_435e
(13.77)

5166_Keemiyan II_Ch13_435f
(13.78)

اگر الیکٹروفِلک ریجنٹ کا زیادہ استعمال کیا جائے، تو مزید بدل تعاملات ہو سکتے ہیں جس میں بینزیٖن حلقہ کے مزید ہائڈروجن ایٹم یکے بعد دیگر الیکٹروفائل سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر نابیدہ AlCl3 کی موجودگی میں اندھیرے میں بینزین زیادہ کلورین کے ساتھ تعامل کرکے ہیکسا کلوروبینزین (C6Cl6) بناتا ہے۔
5166_Keemiyan II_Ch13_435g
(13.79)

الیکٹروفِلِک بدل تعاملات کا میکانزم (Mechanism of Electrophilic Substitution Reactions)
تجرباتی ثبوتوں کے مطابق (SE (S = Substitution; E = Electrophilic تعاملات مندرجہ ذیل تین اقدام کے ذریعہ آگے بڑھتے ہیں۔

(a) الیکٹروفائل کی تخلیق
(b) کاربوکیٹ آین انٹرمیڈیئٹ کا بننا
(c) کاربوکیٹ آین انٹرمیڈئیٹ سے پروٹان کا نکلنا۔

(a) الیکٹروفائل کی تخلیقE: بینزین کے کلورینیشن، الکائلیشن اور اسائلیشن کے دوران، نابیدہ AlCl3، ایک لیوس ایسڈ ہونے کی وجہ سے حملہ آور ریجنٹ سے متحد ہو کر الیکٹروفائل بالتریب RCO، R، CA . 5166_Keemiyan II_Ch13_436aکی تخلیق میں مدد کرتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_436b

نائٹریشن میں الیکٹروفائل، نائٹرونیم، آین،5166_Keemiyan II_Ch13_436cایک پروٹان کے (سلفیورک ایسڈ سے) نائٹرک ایسڈ کی طرف منتقل ہونے سے مندرجہ ذیل طریقہ سے بنتا ہے۔

قدم I

5166_Keemiyan II_Ch13_436d

قدم II

5166_Keemiyan II_Ch13_436e
Protonatednitric acid Nitronium ion

یہ دلچسپ بات ہے کہ نائٹرونیم آین کی تخلیق میں سلفیورک ایسڈ ایک ایسڈ کی طرح اور نائٹرک ایسڈ ایک اساس کی طرح کام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک سادہ تیزاب- اساس توازن ہے۔

(b) کاربوکیٹ آین (Arenium Ion) کا بننا : الیکٹروفائل کے حملے کے نتیجے میں σ- کمپلیکس یا آرینیم آین بنتا ہے جس میں ایک کاربن sp3 مخلوط شدہ ہوتاہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_436f
آرینیم آین گمک کے ذریعہ مستحکم ہو جاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_436g

سگما کمپلیکس یا آرینیم آین اپنی ایرومیٹک خصوصیات کھو دیتاہے کیونکہ sp3- مخلوط شدہ کاربن الیکٹرانوں کی منتقلی رک جاتی ہے۔

(c) پروٹان کا اخراج : ایرومیٹک خصوصیات کو قائم رکھنے کے لیے σ- کمپلیکس [AlCl4] (ہیلوجنیشن، الکائلیشن اور اسائلیشن وغیرہ میں) اور [HSO4]– (نائٹریشن میں) کے ذریعے حملہ کرنے پر sp3- مخلوط شدہ کاربن سے پروٹان کا اخراج کرتے ہیں۔

5166_Keemiyan II_Ch13_436h

جمعی تعاملات (Addition Reactions)

مختلف حالات میں یعنی بہت زیادہ درجۂ حرارت اور دباؤ پر نِکل وسیط کی موجودگی میں بینزیٖن کے ہائڈروجنیشن سے ، سائیکلو ہیکسین بنتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_436i
Cyclohexane
(13.80)

UV روشنی کی موجودگی میں تین کلورین سالمات بینزین میں جمع ہو کر بینزین ہیکسا کلورائڈ C6H6Cl6 بناتے ہیں جو گیمیکسین (Gammaxane) بھی کہلاتا ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_436j
(13.81)

احتراق (Combustion)

ہوا میں گرم کرنے پر بینزین دھوئیں دار لو کے ساتھ جل کر CO2 اور H2O دیتی ہے۔

(13.82) 5166_Keemiyan II_Ch13_437a

کسی بھی ہائڈروکاربن کے لیے عمومی احتراق تعامل مندرجہ ذیل کیمیائی مساوات کے ذریعہ دیا جاسکتا ہے۔

(13.83) 5166_Keemiyan II_Ch13_437b

13.5.6 اکائی بدل بینزیٖن میں تفاعلی گروپ کے سِمتی اثرات

(Directive Influence of a Functional Group In Monosubstituted Benzene)

جب اکائی بدل بینزیٖن میں مزید بدل تعامل ہوتاہے تو تین ممکنہ دو بدل ماحصل برابر مقدار میں حاصل نہیں ہوتے۔ دو قسم کے طرز عمل دیکھے گئے ہیں۔ یا تو آرتھو (Ortho) اور پیرا (Para) ماحصل یا میٹا (Meta) ماحصل زیادہ تر بنتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس طرز عمل کا انحصار بینزین حلقہ میں پہلے سے موجود بدل کی فطرت پر زیادہ ہوتا ہے جبکہ داخل ہونے والے بدل کی فطرت پر نہیں ہوتا۔ یہ بدل کے سمتی اثرات کہلاتے ہیں۔ آرتھو/پیرا یا میٹا گروپ کی سِمتی فطرت پر ذیل میں بحث کی گئی ہے۔
آرتھو اور پیرا سمتی گروپ : وہ گروپ جو داخل ہونے والے گروپ کو آرتھو یا پیرا سمت کی طرف بھیجتے ہیں آرتھو اور پیرا سمتی گروپ کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم فینولِک گروپ (OH–) کے سمتی اثرات پر بحث کریں گے۔ فینول مندرجہ ذیل ساختوں کی گمک مخلوط ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_437c

مندرجہ بالا گمک ساختوں سے یہ ظاہر ہے کہ o–اور p– مقامات پر الیکٹران کثافت زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا عام طور پر یہ تبدیلی ان ہی مقامات پر ہوتی ہے۔ تاہم یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ OH– گروپ کا –I اثر (1- effect) بھی کام کرتا ہے جس کی وجہ سے بینزیٖن حلقہ کے آرتھو اور پیرا مقامات پر الیکٹران کثافت قدرے کم ہو جاتی ہے۔ لیکن گمک کی وجہ سے حلقہ کے ان مقامات پر کل الیکٹران کثافت بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا، OH– گروپ الیکٹروفائل کے حملے کے لیے بینزیٖن حلقہ کو عامل بناتا ہے۔ عامل بنانے والے کچھ دوسرے گروپ کی مثالیں,-NHR,-NH2
وغیرہ ہیں۔-C2H5-,.CH3,-OCH3,-NHCOCH3
ایرائل ہیلائڈ میں، ہیلوجن مناسب حد میں غیر عاملانہ ہیں۔ ان کے قوی I– اثر(1- effect) کی وجہ سے بینزیٖن حلقہ میں کُل الیکٹران کثافت گھٹ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے مزید بدل تعامل دشوار ہو جاتا ہے۔ پھر بھی، گمک کی وجہ سے m–مقام کی بہ نسبت o– اور p– مقامات پر الیکٹران کثافت زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ بھی o– اور p– سمتی گروپ ہوتے ہیں۔کلوربینزبین کی گمک ساختیں مندرجہ ذیل ہیں:

5166_Keemiyan II_Ch13_437f

میٹا سمتی گروپ : وہ گروپ جو داخل ہونے والے گروپ کو میٹا (–m) سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں میٹا سمتی گروپ کہلاتے ہیں۔ میٹا سمتیگروپ کی چند مثالیں
وغیرہ ہیں۔,-COOH,-COR,-CHO,-CN,-NO2-SO3H,-COOR COR,-CHO,-CN,-NO2-SO3H,-COOR
آئیے ہم نائٹروگروپ کی مثال لیتے ہیں۔ نائٹروگروپ اپنے قوی –Iاثر کی وجہ سے بینزین حلقہ میں الیکٹران کثافت کو کم کردیتا ہے۔ نائٹروبینزین مندرجہ ذیل ساختوں کی مخلوط گمک ہے۔

5166_Keemiyan II_Ch13_437i

اس حالت میں بینزیٖن کے اوپر کُل الیکٹران کثافت کم ہو جاتی ہے جو مزید بدل کو دشوار بناتی ہے، لہٰذا یہ گروپ غیر عاملانہ گروپ کہلاتے ہیں۔ –m مقام کے مقابلے o– اور p– مقامات پر الیکٹران کثافت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ لہٰذا، الیکٹروفائل نسبتاً زیادہ الیکٹران والے m– مقام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور نتیجہ میں میٹا بدل حاصل ہوتے ہیں۔

13.6 کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت اور سمیت

(Carcinogenicity and Toxicity)

بینزین اور کثیر نیوکلیائی ہائڈروکاربن جن میں دو سے زیادہ بینزین حلقے ہوتے ہیں آپس میں مدغم (Fused) ہوکر زہریلے ہو جاتے ہیں اور کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت (Carcinogenic) رکھتے ہیں۔ اس قسم کے کثیر نیوکلیائی ہائڈروکاربن، تمباکو، کوئلہ اور پیٹرولیم جیسے مادوں کے نا مکمل احتراق سے بنتے ہیں۔ یہ انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں اور مختلف حیاتیاتی کیمیائی تعاملات کرتے ہوئے آخر کار DNA کو تباہ کرکے کینسر پیدا کرتے ہیں۔ کچھ کارسینو جینک ہائڈروکاربن نیچے دیے گئے ہیں (دیکھیے باکس)۔

5166_Keemiyan II_Ch13_437j

خلاصہ

ہائڈروکاربن صرف کاربن اور ہائڈروجن کے مرکبات ہوتے ہیں۔ ہائڈروکابرن زیادہ تر کوئلہ اور پیٹرولیم سے حاصل ہوتے ہیں جو کہ توانائی کے اہم ماخذ ہیں۔ پیٹروکیمیکل اہم ابتدائی مادے ہیں جوکہ بڑی تعداد میں تجارتی مادّوں کی تیاری میں اہم ابتدائی مادّے کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔Liquefied petroleumاورCompressed Natural Gas CNGجو گھریلو ایندھن اور آٹوموبائل صنعت میں توانائی کے اہم ماخذ ہیں، پیٹرولیم سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ہائڈروکاربنوں کی سیرشدہ کھلی زنجیر (الکین) اور غیر سیر شدہ (الکین اور الکائن) سائیکلک (ایلی سائکلِک) اور ایرومیٹک جماعتوں کے تحت درجہ بندی کی جاتی ہے۔
الکین کے اہم تعاملات آزاد ریڈیکل بدل، احتراق، تکسید اور ایرومیٹائزیشن ہوتے ہیں۔ الکیٖن (Alkene) اور الکائن میں جمعی تعاملات ہوتے ہیں جو عام طور پر الیکٹروفلِک جمعی ہوتے ہیں۔ ایرومیٹک ہائڈروکاربن غیر سیر شدہ ہونے کے باوجود عام طور رپ الیکٹروفِلک بدل تعاملات انجام دیتے ہیں۔ ان میں مخصوص حالات میں ہی جمعی تعاملات ہوتے ہیں۔
الکین C – C سگما بانڈ کے اطراف آزادانہ گھماؤ کی وجہ سے ساختی آئسومیرزم دکھاتے ہیں۔ ایتھین کے اسٹیگرڈ اور گرہن شدہ ڈھانچوں میں سے اسٹیگرڈ زیادہ مستحکم ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہائڈروجن سب سے زیادہ فاصلہ پر ہوتے ہیں۔ الکیٖن میں جیومیٹریائی (trans-cis) آئسومیرزم ہوتی ہے جس کی وجہ کاربن- کاربن کے درمیان دوہرے بند کے گرد گھماؤ میں پابندی ہوتی ہے۔
بینزیٖن اور بینزونائڈ مرکبات ایرومیٹک خصوصیات ظاہر کرتے ہیں۔ ایرومیٹی سٹی، ایرومیٹک ہونے کی خصوصیت ان مرکبات میں ہوتی ہے جن کی مخصوص الیکٹرانی ساخت ہکل5166_Keemiyan II_Ch13_439aالیکٹران قاعدے، کے مطابق ہوتی ہے بینزیٖن رِنگ سے منسلک گروپ یا بدل کی فطرت بینزین رِنگ کے مزید الیکٹروفِلک بدل تعاملات کے لیے عاملیت یا غیر عاملیت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی داخل ہونے والے گروپ کی سِمتی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ کچھ کثیر نیوکلیائی ہائڈروکاربن جن میں بینزین رِنگ سسٹم کا گداخت (Fused) ہوتا ہے، ان کی خصوصیات کارسنوِجینِک ہوتی ہیں۔

مشقیں

13.1 میتھین کے کلورینیشن کے دوران ایتھین کے بننے کا آپ کیا جواز پیش کریں گے؟

13.2 مندرجہ ذیل مرکبات کے IUPAC نام لکھیے۔
(a) CH3CH = C(CH3)2 (b) CH2 = CH – C = C – CH3
(c) 5166_Keemiyan II_Ch13_439c (d) CH2 – CH2 – CH = CH25166_Keemiyan II_Ch13_439b
5166_Keemiyan II_Ch13_439e (e) 5166_Keemiyan II_Ch13_439d (f)
(g) CH3 – CH = CH – CH2 – CH = CH – CH – CH2 – CH = CH2
|
C2H5

13.3 مندرجہ ذیل مرکبات میں تمام ممکنہ آئسومر کے ساختی ضابطے اور IUPAC نام لکھیے جن میں دوہرے یا تہرے بند ظاہر کیے گئے ہیں:
(a) C4H8 (ایک دوہرا بند)
(b) C5H8 (ایک تہرا بند)

13.4 مندرجہ ذیل مرکبات کی اوزونولِسس (Ozonolysis) ماحصلات کے IUPAC نام لکھیے:
(i) Pent-2-ene (ii) 3,4-Dimethylhept-3-ene
(iii) 2-Ethylbut-1-ene (iv) 1-Phenylbut-1-ene

13.5 ایک الکیٖن A اوزونولسِس کے بعد ایتھنل اور Pentan-3-one کا آمیزہ دیتا ہے 'A' کی ساخت اور IUPAC نام لکھیے۔

13.6 ایک الکیٖن A میں تین C – C، آٹھ C – H سگما بانڈ اور ایک π C – C بانڈ ہے۔ Aاوزونولسِس کے بعد 44 u مولر کمیت کے دو مول ایلڈیہائڈ دیتا ہے۔ A کا IUPAC نام لکھیے۔

13.7 Propanal اور Pentan-3-one ایک الکیٖن (Alkene) کے اوزونولسِس ماحصل ہیں۔ الکیٖن کا ساختی ضابطہ کیا ہوگا؟

13.8 مندرجہ ذیل ہائڈروکاربن کے احتراقی تعامل کے لیے کیمیائی مساوات لکھیے:
(i) Butane (ii) Pentene
(iii) Hexyne (iv) Toluene

13.9 Hex-2-ene کی –cis اور trans اشکال بنائیے۔ کون سے آئسومر کا نقطۂ جوش زیادہ ہوگا اور کیوں؟

13.10 بینزیٖن غیر معمولی طور پر مستحکم کیوں ہے حالانکہ اس میں تین دوہرے بند ہوتے ہیں؟

13.11 کسی بھی نظام کے ایرومیٹک ہونے کے لیے کون سے حالات لازمی ہیں؟

13.12 مندرجہ ذیل نظام کیوں ایرومیٹک نہیں ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
5166_Keemiyan II_Ch13_439f

13.13 بینزیٖن کو مندرجہ ذیل میں کس طرح تبدیل کریں گے؟
(i) p-Nitrobromobenzene (ii) m-Nitrochlorobenzene
(iii) p-Nitrotoluene (iv) Acetophenone

13.14 الکین5166_Keemiyan II_Ch13_439gکاربن ایٹم کی شناخت کیجئے اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ منسلک ہائڈروجن ایٹم کی تعداد بتائیے۔

13.15 الکین زنجیر کی شاخیں بننے پر اس کے نقطۂ جوش پر کیا اثرات ہوں گے؟

13.16 پروپیٖن (Propene) میں HBr کی جمع سے 2-bromopropane بنتا ہے، جبکہ بینزوئل پر آکسائڈ (Benzoyl Peroxide) کی موجودگی میں یہی تعامل 1-bromopropane دیتا ہے۔ وضاحت کیجیے اور میکانزم بیان کیجئے۔

13.17 1.2-dimethylbenzene o-xyleneکی اوزونولسِس سے حاصل شدہ ماحصل لکھئے۔ یہ نتائج بینزین کے لیے کیکیولے ساختوں کو کس طرح سہارا دیتے ہیں؟

13.18 بینزین، n-hexane اور ایتھائین کو ان ک ے تیزابی طرز عمل کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں لکھیے۔ اس طرز عمل کے لیے وجہ بھی بتائیے۔

13.19 بینزین میں الیکٹروفلِک بدل تعاملات آسانی سے اور نیوکلیوفِلک بدل تعاملات مشکل سے کیوں ہوتے ہیں؟

13.20 مندرجہ ذیل مرکبات کو آپ بینزین میں کس طرح تبدیل کریں گے:
(i) ایتھائن (ii) ایتھیٖن (Ethene) (iii) ہیکسین

13.21 ان تمام الکیٖنوں (Alkenes) کی ساختیں دیجیے جو ہائڈروجنشین کے بعد 2-methylbutane دیتے ہیں۔

13.22 الیکٹروفائل E کے ساتھ گھٹتی ہوئی اضافی تعاملیت کے رجحان کے لحاظ سے مندرجہ ذیل مرکبات کو ترتیب دیجیے۔
(a) Chlorobenzene، 2,4-dinitrochlorobenzene، p-nitrochlorobenzene
(b) Toulene، p-O2N – C6H4 – NO2،p-H3C – C6H4 – NO2

13.23 بینزیٖن، dinitrobenzene-m اور ٹولوئین میں سے کون سب سے آسانی سے نائٹریشن کرے گا اور کیوں؟

13.24 نابیدہ ایلیومینیم کلورائڈ کے علاوہ کسی لیوس ایسڈ کا نام بتائیے جسے بینزین کے ایتھائلیشن کے دوران استعمال کیا جاسکے؟

13.25 طاق عدد میں کاربن ایٹم رکھنے والے الکین کی تیاری میں ورٹز تعامل کو ترجیح کیوں نہیں دی جاتی؟ ایک مثال لیتے ہوئے اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔