اکائی 14
ماحولیاتی کیمیا
(Environmental Chemistry)
مقاصد
اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ اس لائق ہو جائیں گے کہ :
- ماحولیاتی کیمیا کا مطلب سمجھ سکیں؛
- فضائی آلودگی کی تعریف بیان کرسکیں، گلوبل وارمنگ، سبزگھراثر اور تیزابی بارش کی وجوہات بیان کرسکیں؛
- اوزون پرت کے پتلا ہونے کی وجوہات اور اس کے اثرات پہچان سکیں؛
- آبی آلودگی کی وجوہات بتاسکیں اور پینے کے پانی کے عالمی معیار جان سکیں؛
- مٹی کی آلودگی کی وجوہات بیان کرسکیں؛
- ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی ترکیبیں تجویز کر سکیں اور انھیں استعمال کرسکیں؛
- روز مرہ کی زندگی میں سبز کیمیا کی اہمیت کو گردان سکیں؛
"دنیا نے عقل و حکمت کے بغیر ذکاوت، ضمیر کے بغیر اقتدار حاصل کیا ہے۔ ہماری دنیا ایک عظیم الشان نیوکلیائی قوت لیکن اخلاقی طور پر نوزائیدہ دنیا ہے۔"
پچھلی جماعتوں میں آپ ماحولیات کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ ماحولیاتی مطالعہ ہمارے گردوپیش کے سماجی، معاشی، حیاتیاتی، طبیعی اور کیمیائی باہمی تعلقات کا مطالعہ ہے۔ اس باب میں ہم ماحولیاتی کیمیا پر مرکوز رہیں گے۔ ماحولیاتی کیمیا ہمارے ماحول پر کیمیائی انواع کی ابتدا، نقل و حمل، تعاملات، اثرات اور انجام سے متعلق مطالعہ ہے۔ آئیے ماحولیاتی کیمیا کے چند اہم پہلوؤں پر بحث کریں۔
14.1 ماحولیاتی آلودگی (Environmental Pollution)
ہمارے گردوپیش پر ان ناپسندیدہ تبدیلیوں کے اثرات جو پودوں، جانوروں اور انسانوں کے لیے مضر ہوتے ہیں ماحولیاتی آلودگی ہے۔ ایک شے جو آلودگی پیدا کرتی ہے آلودگر (Pollutant) کہلاتی ہے۔ آلودگر(Pollutant) ٹھوس، رقیق اور گیسی اشیا ہو سکتیں ہیں جو اپنی قدرتی مقدار سے زیادہ ارتکاز میں ہوتی ہیں اور وہ انسانی سرگرمیوں یا قدرتی واقعات سے پیدا ہوتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ عام انسان کو کھانے کے مقابلے میں 12-15 گنا زیادہ ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ہوا میں آلودگر کی معمولی سی مقدار غذا میں موجود آلودگر کی اتنی ہی مقدار کے مقابلے زیادہ مضر ثابت ہوسکتی ہے۔ آلودگر تنزل پذیر ہوسکتی ہیں جیسے کہ بے کار سبزیاں جو کہ قدرتی اعمال کے ذریعہ جلد ہی تنزل پذیر ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف وہ آلودگر جو آہستہ آہستہ تنزل پذیر ہوتے ہیں اور کئی دہائیوں تک ماحول میں غیر تبدیل شدہ رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈائی کلوروڈائی فینائل ٹرائی کلوروایتھین (DDT) ، پلاسٹک کی چیزیں، بھاری دھاتیں (Heavy Metals) بہت سے کیمیا، نیوکلیائی کچرا وغیرہ ایک مرتبہ
ماحول میں داخل ہوجائیں تو انھیں نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ آلودگر قدرتی طریقوں سے تنزل پذیر نہیں کیے جاسکتے اور جاندار عضویوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی میں یہ آلودگر ایک ذریعہ سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان کے ذریعہ ہوا یا پانی یا مٹی میں پہنچ جاتے ہیں۔
14.2 فضائی آلودگی (Atmospheric Pollution)
فضا، جو زمین کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے مختلف اونچائیوں پر یکساں موٹائی کی نہیں ہوتی۔ ہوا میں ہم مرکز پرتیں یا خطہ ہوتے ہیں اور ہر ایک پرت کی کثافت مختلف ہوتی ہے۔ فضا کا سب سے نچلا خطہ جس میں انسان اور دوسرے جاندار رہتے ہیں ٹروپوسفیئر (Troposphere) کہلاتا ہے۔ یہ سطحِ سمندر سے تقریباً 10 کلومیٹر اونچائی تک پائی جاتی ہے۔ ٹروپوسفیئر کے اوپر سطحِ سمندر سے 10 سے 50 کلومیٹر اونچائی کے درمیان اسٹریٹوسفیئر (Stratosphere) ہوتی ہے۔ ٹروپوسفیئر تندو تیز ہوا کی ایک گرد آلود تہہ ہوتی ہے جس میں ہوا، بہت سے ابخرات اور بادل ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ قوی ہواؤں کی حرکت اور بادلوں کے بننے کا علاقہ ہے۔ دوسری طرف اسٹریٹوسفیئر میں ڈائی نائٹروجن، ڈائی آکسیجن، اوزون اور تھوڑے سے ابخرات ہوتے ہیں۔
فضائی آلودگی کا مطالعہ، عام طور پر ٹروپوسفیئر اور اسٹریٹوسفیئر کی آلودگی کا مطالعہ ہے۔ اسٹریٹوسفیئر میں اوزون کی موجودگی سورج کی تقریباً 99.5 فی صد نقصان دہ بالا بنفشی شعاعوں کو سطح زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے اور اس طرح انسانوں اور دوسرے جانداروں کو اس کے اثرات سے بچاتی ہے۔
14.2.1 ٹروپو اسفیئرک آلودگی
(Tropospheric Pollution)
ہوا میں ناپسندیدہ ٹھوس یا گیسوں کے ذرات کی موجودگی ٹروپواسفیرمیں آلودگی کا سبب ہوتی ہے۔ ٹروپواسفیئر میں مندرجہ ذیل خاص گیسی اور ذراتی آلودگیاں موجود ہوتی ہیں۔
1۔ ہوا میں گیسی آلودگیاں: یہ سلفر، نائٹروجن اور کاربن کے آکسائڈ، ہائڈروجن سلفائڈ،ہائڈروکاربن، اوزون اور دوسرے تکسید کار ہوتے ہیں۔
2۔ ذرّاتی آلودگی : دھول، دھند، بخارات، دھواں، اسموگ وغیرہ۔
1۔ ہوا کے گیسی آلودگر
(Gaseous Air Pollutants)
(a) سلفر کے آکسائڈ : جب سلفر پر مشتمل رکازی ایندھن جلایا جاتا ہے تو سلفر کے آکسائڈ پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے عام نوع، سلفرڈائی آکسائڈ، ایک گیس ہوتی ہے جو جانوروں اور پودوں، دونوں کے لیے زہریلی ہوتی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ سلفرڈائی آکسائڈ کی تھوڑی سی مقدار بھی انسانوں میں تنفسی بیماریاں، جیسے دمہ، برو نکائٹس، ایمفیسیما (Emphysema) پیدا کردیتی ہے۔ سلفر ڈائی آکسائڈ آنکھوں میں جلن پیدا کرتی ہے جس سے آنسو اور آنکھ میں سُرخی پیدا ہوتی ہے۔ SO2 کی زیادہ مقدار کلیوں میں سختی پیدا کردیتی ہے اور آخر کار وہ پیڑ سے جھڑ جاتی ہیں۔ سلفر ڈائی آکسائڈ کی غیر وسیط تکسید آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔ تاہم آلودہ ہوا میں ذرات کی موجودگی سلفرڈائی آکسائڈ کی تکسید سلفرٹرائی آکسائڈ میں کردیتی ہے۔
2SO2(g)+O2(g)↔2SO3(g)
یہ تعامل اوزون اور ہائڈروجن پَرآکسائڈ کے ذریعہ بھی بڑھایا جاتا ہے۔
SO2(g)+O3(g)↔SO3(g)+O2(g)
SO2 (g)+ H2O2(i)↔H2SO4(aq)
(b) نائٹروجن کے آکسائڈ: ڈائی نائٹروجن اورڈائی آکسیجن ہوا کے اہم اجزا ہیں۔ یہ گیسیں عام درجۂ حرارت پر آپس میں تعامل نہیں کرتی ہیں۔ جب بہت زیادہ اونچائی پر بجلی چمکتی ہے تو یہ آپس میں مل کر ٹائٹروجن کے آکسائڈ بناتی ہیں۔ NO2،
آین میں تکسید ہو جاتی ہے جو بارش کے ساتھ مٹی میں چلی جاتی ہے جہاں وہ ایک کیمیائی کھاد کا کام کرتی ہے۔ موٹر گاڑیوں کے انجن میں (اونچے درجۂ حرارت پر) جب رکازی ایندھن جلتا ہے، ڈائی نائٹروجن اور ڈائی آکسیجن آپس میں مل کر کافی مقدار میں نائٹرک آکسائڈ (NO) اور نائٹروجن ڈائی آکسائڈ) NO2 (بناتی ہیں جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔
NO فوراً آکسیجن سے تعامل کر کے NO2 بناتی ہے۔
NO2 بننے کی شرح اس وقت تیز ہوجاتی ہے جب نائٹرک آکسائڈ اسٹریٹواسفیئر میں اوزون سے تعامل کرتی ہے۔
NO(g)+O3(g) ↔NO2(g)+O2(g)
ٹریفک اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر سرخی مائل ہیجان (تکلیف دہ) دھند نائٹروجن کے آکسائڈ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ NO2 کی زیادہ مقدار پودوں کی پتیوں کو تباہ کردیتی ہے اور ضیائی تالیف (Photosynthesis) کی شرح کو کم کردیتی ہے۔ نائٹروجن ڈائی آکسائڈ پھیپھڑوں کو بھی متاثر کرتی ہے اور بچوں میں شدید تنفسی بیماریاں پیدا کرتی ہے۔ یہ زندہ بافتوں کے لیے زہریلی ہوتی ہے۔ نائٹروجن ڈائی آکسائڈ بہت سے کپڑوں اور دھاتوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔
(c) ہائڈروکاربن : ہائڈروکاربن صرف کاربن اور ہائڈروجن کے مرکبات ہوتے ہیں اور موٹرگاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھنوں کے نامکمل احتراق سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہائڈروکاربن کینسر پیدا کرنے والے (Carcinogenic) ہوتے ہیں۔ یہ پودوں کو بوڑھا کرکے، بافتوں کو ختم کرکے، پتیوں، پھولوں اور شاخوں کو گراکر، انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔
(d) کاربن کے آکسائڈ
(i) کاربن مونو آکسائڈ: کاربن مونوآکسائڈ (CO) نہایت اہم ہوائی آلودگر میں سے ایک ہے۔ یہ ایک بے رنگ اور بغیر بووالی گیس ہوتی ہے جانداروں کے لیے نہایت زہریلی ہوتی ہے کیونکہ یہ اعضا اور بافتوں کو آکسیجن کی فراہمی کا راستہ روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کاربن کے نامکمل احتراق سے پیدا ہوتی ہے۔ کاربن مونوآکسائڈ ہوا میں زیادہ تر موٹر گاڑیوں کے اخراج سے داخل ہوتی ہے۔ لکڑی، کوئلہ اور پیٹرول کا نامکمل احراق CO کی پیداوار کے دیگر ذرائع ہیں۔ پوری دنیا میں موٹر گاڑیوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ بہت سی گاڑیوں کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں ہوپاتی ہے اور بہت سی گاڑیوں میں آلودگی کو قابو میں رکھنے کے آلات ناکافی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کاربن مونوآکسائڈ اور آلودگی پیدا کرنے والی دیگر گیسوں کا اخراج زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کاربن مونو آکسائڈ زہریلی کیوں ہے؟ یہ ہیموگلوبن سے بندھ کر کاربوکسی ہیموگلوبن بناتی ہے جو آکسیجن ہیموگلوبن کامپلکس سے 300 گنا زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ خون میں جب کاربوکسی ہیموگلوبن کی مقدار 4-3 فی صد ہو جاتی ہے تو خون میں آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ آکسیجن کی یہ کمی سردرد، کمزور بینائی، بے چینی اور قلبی وعائی عارضے پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی نہ کریں۔ حاملہ عورتیں جو سگریٹ (بیڑی) کی عادی ہوتی ہیں ان کے خون میں CO کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے قبل ازوقت زچگی، حمل کا ضائع ہونا یاعضلاتی معذور بچوں کی پیدائش ہو سکتی ہے۔
(ii) کاربن ڈائی آکسائڈ: کاربن ڈائی آکسائڈ فضا میں سانس چھوڑنے، توانائی حاصل کرنے کے لیے رکازی ایندھن کے جلانے اور سیمنٹ کی تیاری کے دوران چونا پتھر کے تنزل ہونے سے داخل ہوتی ہے۔ یہ آتش فشانی کے دوران بھی نکلتی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس صرف ٹروپواسفیئر تک ہی محدود رہتی ہے۔ عام طور پر یہ فضا میں حجم کے اعتبار سے، صرف 0.03 فی صد ہوتی ہے۔ رکازی ایندھن کے زیادہ استعمال سے فضا میں چھوڑی جانے والی کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہوا میں CO2 کی زائد مقدار سبز پودوں کے ذریعہ علیحدہ کردی جاتی ہے اس کی وجہ سے فضا میں CO2 کی مناسب سطح برقرار رہتی ہے۔ سبز پودوں کو ضیائی تالیف کے لیے CO2 کی ضرورت ہوتی ہے، بدلے میں وہ آکسیجن خارج کرتے ہیں، اس طرح یہ نازک تناسب قائم رہتا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں جنگلات کی کٹائی اور رکازی ایندھن کے جلانے سے CO2 کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور فضا میں اس کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔ ہوا میں بڑھی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار ہی دراصل گلوبل وارمنگ کے لیے ذمہ دار ہوتی ہے۔
گلوبل وامنگ اور سبزگھر اثر (Global Warming and Greenhouse Effect)
زمین کی سطح تک پہنچنے والی شمسی توانائی کا تقریباً 75% حصّہ زمین کے ذریعہ جذب کر لیا جاتا ہے، جو اس کے درجۂ حرارت کو بڑھاتا ہے۔ باقی حرارت فضا میں واپس چلی جاتی ہے۔ کچھ حرارت فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ، میتھین، اوزون، کلوروفلوروکاربن مرکبات (CFCs) اور ابخرات کے ذریعہ روک لی جاتی ہے۔ اس طرح وہ فضا کی تپش میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ٹھنڈے مقامات پر پھول، سبزیاں اور پھل شیشے سے گھِرے ہوئے علاقہ میں پیدا کیے جاتے ہیں جنھیں سبزگھر کہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم انسان بھی سبزگھر میں رہتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ہم شیشے کے ذریعہ گھرے ہوئے نہیں ہیں لیکن ایک ہوا کی چادر سے ڈھکے ہوئے ہیں جو کرہ باد (Atmosphere) کہلاتی ہے جس نے صدیوں سے زمین پر درجۂ حرارت کو قائم رکھا ہے۔ لیکن اب اس میں تبدیلی آرہی ہے۔ اگرچہ بہت آہستہ آہستہ سبزگھر میں جس طرح شیشہ سورج کی حرارت کو اندر قائم رکھتا ہے، کرہ باد سورج کی گرمی کو سطح زمین کے قریب رکھتی ہے اور اسے گرم رکھتی ہے۔ یہ قدرتی سبزگھر اثر کہلاتا ہے۔ کیونکہ یہ درجۂ حرارت کو قائم رکھتا ہے اور زمین کو زندگی کے لیے بالکل مناسب بناتا ہے۔ سبزگھر میں مرئی روشنی شفاف شیشے سے گزرتی ہے اور مٹی اور پودوں کو گرم رکھتی ہے۔ گرم مِٹّی اور پودے انفراریڈ اشعاع خارج کرتے ہیں۔ چونکہ شیشہ انفراریڈ اشعاع (حرارت) کے لیے غیرشفاف ہوتاہے، یہ ان اشعاع میں سے کچھ کو منعکس اور کچھ کو جذب کرلیتا ہے۔ یہ عمل سورج کی توانائی کو سبزگھر میں روک لیتا ہے۔ اسی طرح کاربن ڈائی آکسائڈ کے سالمے بھی حرارت کو روک لیتے ہیں کیونکہ یہ سورج کی روشنی کے لیے شفاف ہوتے ہیں لیکن حرارتی اشعاع کے لیے شفاف نہیں ہوتے۔ اگر کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار، نازک تناسب 0.03 فی صد سے پار ہو جاتی ہے، تو قدرتی سبزگھر کا تناسب بگڑ سکتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کی گلوبل وارمنگ میں اہم حصّہ داری ہے۔
کاربن ڈائی آکسائڈ کے علاوہ دوسری سبزگھر گیسیں میتھین، ابخرات، نائٹرس آکسائڈ، CFCs اور اوزون ہیں۔ میتھین قدرتی طور پر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آکسیجن کی غیر موجودگی میں گھاس پھوس گلایا یا سڑایا جاتا ہے۔ میتھین کی ایک بڑی مقدار دھان کے کھیتوں، کوئلے کی کانوں، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے سڑنے اور رکازی ایندھن سے خارج ہوتی ہے۔ کلوروفلور کاربن CFC انسان کے ذریعہ بنائے گئے صنعتی کیمیائی مادّے ہوتے ہیں جن کا استعمال ایئرکنڈیشننگ وغیرہ میں ہوتا ہے۔ CFC بھی اوزون پرت کو تباہ کرتے ہیں (سیکشن 14.2.2)۔ نائٹرکس آکسائڈ فضا میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں اس کی مقدار کیمیائی کھاد کے زیادہ استعمال اور رکازی ایندھن جلانے کی وجہ سے کافی حد تک بڑھ گئی ہے۔ اگر یہ رُخ جاری رہے تو اوسط عالمی درجۂ حرارت اس حد تک بڑھ جائے گا کہ قطبین کی برف پگھل سکتی ہے اور سطح زمین کے تمام نچلے علاقوں میں سیلاب آسکتے ہیں۔ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے سے بہت سی بیماریوں جیسے ڈینگو، ملیریا، یلوفیور اور سلیپنگ سکینس وغیرہ کے پنپنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔

شکل1۔14 تیزابی جماو
سلفیورک ایسڈ H2SOٹائٹرک ایسڈ HNOS, تیزاب برف،تیزابی بارش،پانی کے ابخرات،(بادل) تیزابی دھند،سلفر ڈائ آکسائڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کا اخراج نباتات کا نقصان آبی زندگی کے لیے خطرہ
ذرا سوچیے
گلوبل وارمنگ کی شرح کو روکنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟
اگر رکازی ایندھن جلانے، پیڑوں اور جنگلات کو کاٹنے سے فضا میں سبزگھر گیسوں کا اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں ایسے راستے ڈھونڈنے ہوں گے جہاں ہم ان کا استعمال کارگزار اور مدبّرانہ طریقے سے کر سکیں۔ گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کے لیے ایک سادہ اور آسان کام ہم یہ کر سکتے ہیں کہ موٹر گاڑیوں کا استعمال کم کردیں۔ حالات کے مطابق ہم سائیکل، پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم یا پھر کارپول کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمیں زیادہ پیڑ لگانے چاہئیں تاکہ سبز کور مہیّا کیا جاسکے۔ سوکھی پتّیوں اور لکڑیوں کو جلانے سے پرہیز کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ عوامی مقامات پر سگریٹ پینا قانونی جرم ہے کیونکہ یہ نہ صرف ان کے لیے نقصان دہ ہے جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ہے لہٰذا ہمیں اسے ترک کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ سبزگھر اثر اور گلوبل وارمنگ کو نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی معلومات کی ساجھے داری سے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔
تیزابی بارش (Acid Rain)
ہم جانتے ہیں کہ عام طور پر بارش کے پانی کی pH فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ سے پانی کے تعامل کی وجہ سے بننے والے +H آین کی موجودگی کے سبب 5.6 ہوتی ہے۔
H2O(I)+CO2(g) ⇔H2CO3(aq)
H2CO3(g)⇔H+(aq)+HCO-3(aq)
جب بارش کے پانی کی 5.6 ، pH سے نیچے چلی جاتی ہے تو وہ تیزابی بارش کہلاتی ہے۔ تیزابی بارش ان طریقوں کی سمت اشارہ کرتی ہے جس میں فضا سے تیزاب زمین کی سطح پر جمع ہوتا ہے۔ نائٹروجن اور سلفر کے آکسائڈ جو فطرتاً تیزابی ہوتے ہیں ہوا کے ذریعہ فضا میں موجود ٹھوس ذرات کے ساتھ اُڑ کر یا تو زمین پر خشک جماؤ کی شکل میں یا پانی، کہرے اور برف کی شکل میں نم حالت میں تہہ نشین ہوجاتے ہیں (شکل 14.1)۔
تیزابی بارش انسان کی اُن مختلف سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں وہ فضا میں سلفر اور نائٹروجن کے آکسائڈ چھوڑتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے۔ رکازی ایندھن (جس میں سلفر اور نائٹروجنی مادے ہوتے ہیں) جیسے پاوَر اسٹیشنوں اور بھٹّیوں میں کوئلہ اور تیل، موٹر گاڑیوں کے انجنوں میں پیٹرول اور ڈیزل جلانے سے سلفر ڈائی آکسائڈ اور نائٹروجن آکسائڈ پیدا ہوتے ہیں۔ SO2 اور NO2 کی تکسید اور پانی کے ساتھ تعامل کے بعد تیزابی بارش میں تعاون کرتے ہیں، کیونکہ آلودہ ہوا میں عام طور پر ذرّاتی مادّے ہوتے ہیں جو تکسید میں وسیط کا کام کرتے ہیں۔
2SO2(g)+O2(g)+2H2O(I) ↔2H2SO4(aq)
4NO2(g)+O2(g)+2H2O(1) ↔4HNO3(aq)
امونیم نمک بھی بنتے ہیں اور فضائی دھند (باریک ذرّات کے ایروسول) کی طرح دیکھے جاسکتے ہیں۔ بارش کی بوندوں میں آکسائڈ کے ایروسول ذرات یا بارش کی بوندوں میں امونیم نمک کی موجودگی کی وجہ سے نم جماؤ ہوتا ہے۔ SO2 بھی ٹھوس یا رقیق زمینی سطحوں پر براہِ راست جذب ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ خشک تہہ کی طرح جم جاتی ہے۔
تیزابی بارش زراعت، درختوں اور پودوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ وہ نشوونما کے لیے لازمی غذائی اجزا کو حل کرلیتی ہے اور بہا لے جاتی ہے۔ یہ انسانوں اور جانوروں میں سانس کی بیماری پیدا کرتی ہے جب تیزابی بارش ہوتی ہے اور زمینی پانی کی طرح بہہ کر دریاؤں اور جھیلوں میں پہنچتی ہے تو وہ آبی ماحولیاتی نظام کے جانوروں اور پودوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ پانی کے پائپ کو زنگ آلود کرتی ہے جس کی وجہ سے آئرن، لیڈ اور کاپر جیسی بھاری دھاتیں پینے کے پانی میں گھل جاتی ہیں۔ تیزابی بارش پتھر یا دھات سے بنی ہوئی عمارتوں اور دیگر ساختوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ہندوستان میں تاج محل تیزابی بارش سے متاثر ہوا ہے۔
سرگرمی -1
آپ اپنے آس پاس کے مقامات سے پانی کے نمونے جمع کرکے ان کی pH معلوم کرسکتے ہیں۔ اپنے نتائج پر جماعت میں بحث کیجیے۔ آئیے دیکھیں کہ ہم تیزابی بارش کی تشکیل میں کمی لانے کے لیے کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔
یہ فضا میں سلفرڈائی آکسائڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو کم کرکے کیاجاسکتا ہے۔ ہم ایسی موٹر گاڑیوں کا استعمال کم کر سکتے ہیں جس میں رکازی ایندھن استعمال ہوتا ہے ہم پاور پلانٹ اور صنعتوں میں کم سلفر والا ایندھن استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم قدرتی گیس کا استعمال کر سکتے ہیں جو کوئلے سے بہتر ایندھن ہے یا اس کوئلے کا استعمال کر سکتے ہیں جس میں سلفر کی مقدار کم ہو۔ کاروں سے نکلنے والے دھوئیں کے ماحول پر اثرات کو کم کرنے کے لیے کاروں میں کیٹالِٹک کنورٹر ضرور لگوانے چاہئیں۔ کنورٹر کا اہم جُز، قیمتی دھاتوں، Pd، Pt اور Rh کی تہہ چڑھا ہوا چھتّہ کی شکل کا سیریمک حصّہ ہوتا ہے۔ اخراجی گیسیں جس میں ایندھن کی بنا جلی ہوئی CO اور NOx ہوتی ہیں، جب 573K پر کنورٹر سے گزرتی ہیں تو CO2 اور N2 میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ مِٹی کی تیزابیت کو ہم چونا پتھر کا پاؤڈر ملاکر تعدیل کرسکتے ہیں۔ بہت سے لوگ تیزابی بارش اور اس کے نقصان دہ اثرات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ہم ان تک معلومات کو پہنچا کر قدرتی ماحول کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
تاج محل اور تیزابی بارش
آگرہ شہر کے اطراف کی ہوا میں جہاں تاج محل واقع ہے، سلفر اور نائٹروجن کے آکسائڈ کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اس کی وجہ اطراف میں بڑی تعداد میں صنعتیں اور پاور پلانٹ کی موجودگی ہے۔ گھریلو کاموں کے لیے خراب کوالٹی کا کوئلہ، مٹی کا تیل اور ایندھن کے لیے لکڑیوں کا استعمال اس مسئلہ میں اور اضافہ کردیتا ہے۔ نتیجہ میں ہونے والی تیزابی بارش تاج محل کے سنگ مرمر (CaCO3) سے تعامل کرتی ہے،
CaCO3 + H2SO4 → CaSO4 + H2O + CO2
جس کی وجہ سے اس لاجواب قدیم عمارت کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیّاح آتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں عمارت آہستہ آہستہ خراب ہو رہی ہے، بدرنگ اور بدنما ہوتی جارہی ہے۔ اس تاریخی عمارت کو بد شکل ہونے سے روکنے کے لیے حکومت ہند نے 1995 میں ایک ایکشن پلان تیار کیا تھا۔ متھرا ریفائنری نے پہلے ہی زہریلی گیسوں کے اخراج کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔
اس پلان کا مقصد ’تاج ٹریپیزیم‘— (ایک علاقہ جس میں آگرہ، فیض آباد، متھرا اور بھرت پور کے ٹاؤن شامل ہیں) کی ہوا کو صاف کرنا ہے۔ اس پلان کے تحت، ٹریپیزیم کے اندر آنے والی دو ہزار (2000) آلودگی پھیلانے والی صنعتیں کوئلے یا تیل کی جگہ قدرتی گیس یا رقیق پیٹرولیم گیس (LPG) استعمال کریں گی قدرتی گیس کی ایک نئی پائپ لائن اس علاقے میں روزانہ پانچ لاکھ کیوبک میٹر قدرتی گیس پہنچائے گی۔ اس علاقے کے رہنے والے لوگوں کو بھی ایندھن میں کوئلے، مٹی کا تیل یا لکڑی کی جگہ رقیق پیٹرولیم گیس استعمال کرنے کے لیے ترغیب دی جائے گی۔ تاج محل کے آس پاس ہائی وے پر چلنے والی گاڑیوں کو کم سلفر کی مقدار والے ڈیزل کا استعمال کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے گا۔
2۔ ذرّاتی آلودگر(Particulate Pollutants)
ہوا میں مہین ٹھوس ذرات یا پانی کے بخارات ذراتی پالیوٹینٹ ہوتے ہیں۔ یہ موٹر گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، آگ کے دھوئیں کے ذرات، دھول کے ذرات اور صنعتوں سے نکلنے والی راکھ میں موجود ہوتے ہیں۔ ذرات فضا میں قابلِ حیات (Viable) اور غیر قابل حیات (Non Viable) ہوسکتے ہیں۔ قابلِ حیات ذرات مثلاً بیکٹیریا، مولڈ، پھپھوند، اَلگی وغیرہ ہوتے ہیں جو کہ بہت چھوٹے جاندار عضویے ہیں اور فضا میں بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہوا میں پائے جانے والی کچھ پھپھوند سے انسان کو الرجی ہوتی ہے۔ یہ پودوں میں بھی بیماریاں پیدا کر سکتے ہیں۔
غیر قابلِ حیات ذرات کی درجہ بندی فطرت اور جسامت کے اعتبار سے کی جاسکتی ہے۔
(a) دھوئیں کے ذرات ٹھوس یا ٹھوس اور رقیق ذرات کے آمیزے پر مشتمل ہوتے ہیں جو نامیاتی مادّوں کے جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی مثالیں، سگریٹ کا دھواں، رکازی ایندھن، کوڑا کرکٹ اور خشک پتیاں جلنے سے پیدا ہونے والا دھواں، تیل کا دھواں وغیرہ شامل ہیں۔
(b) دھول میں بہت باریک ٹھوس ذرات (تقریباً 1µm قطر والے) جو ٹھوس اشیا توڑنے، پیسنے اور ٹھوس کی تعلیق کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ چٹانوں یا ٹیلوں کو بارود کے ذریعہ اُڑانے سے پیدا ہونے والی ریت، لکڑی کے کام سے پیدا ہونے والا بُرادہ، کوئلے کا سفوف، سیمنٹ فیکٹریوں سے نکلنے والی فلائی ایش، دھول بھری آندھی وغیرہ اس ذرّاتی اخراج کی مثالیں ہیں۔
(c) ہوا میں بخارات کی تکثیف اور رقیق کے چھڑکاؤ سے پیدا ہونے والے ذرات، کہرا بناتے ہیں۔ اس کی مثالیں سلفیورک ایسڈ کی دھند اور وہ نباتات کش اور جراثیم کش دوائیں ہیں جو اپنے ہدف سے انحراف کر کے فضا میں بکھر جاتے ہیں اور کہرا بناتے ہیں۔
(d) دخان (بُو دار دھواں) عام طور پر تصعید، کشید، ابال اور دوسرے کیمیائی تعاملات کے دوران پیدا ہونے والے بخارات کی تکثیف سے حاصل ہوتا ہے۔ عام طور پر نامیاتی محلل، دھاتیں اور دھاتی آکسائڈ دخانی (فیوم) ذرات بناتے ہیں۔
ذراتی آلودگیوں کے اثرات کا انحصار ان کی ذراتی جسامت پر ہوتا ہے۔ ہوا میں پائے جانے والے ذرات جیسے کہ دھول، دخان، کُہر وغیرہ انسانی صحت کے لیے مُضر ہیں۔ 5 مائیکرون سے بڑی جسامت والے ذرات ناک کے راستہ میں رک جاتے ہیں جبکہ 10 مائیکرون والے ذرات آسانی سے پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
لیْڈ (سیسہ) موٹرگاڑیوں سے خارج ہونے والا خاص فضائی پالیوٹینٹ ہے۔ ہندوستان کے شہروں میں لیڈ آمیز پیٹرول کا استعمال فضا میں لیڈ کے اخراج کا اہم ماخذ ہوا کرتا تھا۔ ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں اب بغیر لیڈ کا پیٹرول استعمال کرکے اس مسئلہ پر قابو پالیا گیاہے۔ لیڈ خون کے سُرخ خلیوں کی نشوونما اور پختگی کو متاثر کرتا ہے۔
اسموگ (Smog)
لفظ اسموگ دو الفاظ اسموک (دھواں) اور فوگ (دھند) سے مل کر بنا ہے۔ پوری دنیا کے زیادہ تر شہروں میں فضائی آلودگی کی یہ سب سے عام مثال ہے۔ اسموگ دو قسم کا ہوتا ہے۔
(a) کلاسیکل اسموگ سرد ونم آب و ہوا میں ہوتا ہے۔ یہ دھویں، کہر اور سلفرڈائی آکسائڈ کا آمیزہ ہوتا ہے۔ کیمیائی طور پر ایک تحویلی آمیزہ ہے اسی لیے یہ تحویلی اسموگ کہلاتا ہے۔
(b) ضیا کیمیائی اسموگ (Photochemical Smog) گرم، خشک اور روشن آب و ہوا میں پایا جاتا ہے۔ ضیا کیمیائی اسموگ کے اہم اجزا موٹرگاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے نائٹروجن آکسائڈ اور غیر سیرشدہ ہائڈروکاربن پر سورج کی شعاعوں کے عمل کے نتیجے میں حاصل ہوتے ہیں۔ ضیا کیمیائی اسموگ میں تکسیدی ایجنٹ کا ارتکاز زیادہ ہوتا ہے لہٰذا یہ تکسیدی اسموگ کہلاتے ہیں۔
ضیا کیمیائی اسموگ کا بننا
(Formation of Photochemical Smog)
جب رکازی ایندھن جلتے ہیں تو متعدد پالیوٹینٹ زمین کی ٹروپواسفیئر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جو پالیوٹینٹ خارج ہوتے ہیں ان میں سے ایک تو ہائڈروکاربن (بغیر جلا ہوا ایندھن) ہیں اور دوسرے نائٹرک آکسائڈ ہوتے ہیں۔ جب یہ پالیوٹینٹ مناسب اونچی سطح تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کی سورج کی روشنی کے ساتھ تعامل کی وجہ سے ایک زنجیری تعامل شروع ہو جاتا ہے جس میں NO، نائٹروجن آکسائڈ (NO2) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ NO2 بدلے میں پھر سورج کی روشنی سے توانائی جذب کرتی ہے اور نائٹرک آکسائڈ (NO) میں ٹوٹ جاتی ہے اور ایک آزاد آکسیجن کا ایٹم خارج کرتی ہے (شکل14.2)۔
(i) 
آکسیجن کے ایٹم بہت زیادہ تعامل پذیر ہوتے ہیں اور ہوا کی O2 سے تعامل کرکے اوزون (O3) بناتے ہیں۔
(ii) 
مندرجہ بالا تعامل (ii) میں بنی ہوئی اوزون تعامل (i) میں بنی ہوئی NO کے ساتھ تیزی سے تعامل کرکے NO2 بناتی ہے۔ NO2 بھورے رنگ کی ہوتی ہے اور ایک مناسب اونچی سطح تک پہنچنے پر دھند میں شریک ہوجاتی ہے۔
NO(g)+O3(g)↔NO2(g)+o2(g) (iii)
اوزون ایک زہریلی گیس ہوتی ہے اور NO2 اور O3 دونوں ہی قوی تکسیدی ایجنٹ ہیں اور آلودہ ہوا میں موجود غیر جلے ہوئے ہائڈروکاربن کے ساتھ تعامل کر کے فارمل ڈی ہائڈ، ایکرولین اور پرآکسی ایسی ٹائل نائٹریٹ (PAN) (Peroxyacetyl Nitrate) بناتے ہیں۔
3CH4 +203 ↔3CH2 = O + 3H2O
Formaldehyde
CH2=CHCH=O CH3COONO2
ΙΙ
O
Acrolein peroxyacetyl nitrate (PAN)
ضیا کیمیائی اسموگ کے اثرات (Effect of Photochemical Smog)
ضیا کیمیائی اسموگ کے عام اجزا اوزون، نائٹرک آکسائڈ، ایکرولین، فارمل ڈیہائڈ اور پَرآکسی ایسیٹائل نائٹریٹ (PAN) ہوتے ہیں۔ ضیاکیمیائی اسموگ صحت کے لیے بہت سنجیدہ مسئلے پیدا کرتا ہے۔ اوزون اور PAN دونوں ہی آنکھوں میں جلن پیدا کرنے والے قوی مادّے ہیں۔ اوزون اور نائٹرک آکسائڈ ناک اور گلے میں جلن پیدا کرتے ہیں اور ان کی زیادہ مقدار سے سر میں درد، سینے میں درد، حلق کی خشکی، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ ضیا کیمیائی اسموگ سے ربر کریک (پھٹ) ہوجاتی ہے اور پودوں کی زندگی کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی وجہ سے دھاتوں، پتھروں، عمارتی سامان، ربر اور روغن کی گئی سطحوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

شکل 2۔14 جب سورج کی روشنی موٹر گاڑیوں کی آلودگی پر عمل کرتی ہے تو ضیا کیمیائی اسموک بنتا ہے
ضیا کیمیائی اسموگ پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے؟
ضیا کیمیائی اسموگ کے بننے پر قابو پانے یا کم کرنے کے لیے بہت سے طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ اگر ہم ضیا کیمیائی اسموگ کی ابتدائی نشانیوں مثلاً NO2 اور ہائڈروکاربن، اور ثانوی نشانیوں جیسے کہ اوزون اور PAN پر قابو رکھیں تو ضیا کیمیائی اسموگ خود بخود کم ہو جائے گا۔ موٹر گاڑیوں میں عام طور پر کیٹالِٹک کنورٹر استعمال کیے جاتے ہیں جو فضا میں نائٹروجن آکسائڈ اور ہائڈروکاربن کے اخراج کو روکتے ہیں۔ کچھ پودے مثلاً؛ پائنس (Pinus)، جیونیپیرس (Juniparus)، کویرکس (Quercus)، پائرس (Pirus) اور وِٹِس (Vitis) نائٹروجن آکسائڈ کا تحول کرتے ہیں، لہٰذا ان پودوں کو اُگانے سے اس سلسلے میں کچھ مدد مل سکتی ہے۔
14.2.2 اسٹریٹواسفیئر کی آلودگی
(Stratospheric Pollution)
اوزون کا بننا اور ٹوٹنا
اسٹریٹو اسفیئر کی اوپری سطح میں اوزون کافی مقدار میں ہوتی ہے جو سورج سے آنے والی بالائے بنفشی شعاعوں (l255 nm) کے نقصانات سے ہماری حفاظت کرتی ہے۔ یہ شعاعیں انسانوں میں جِلد کا کینسر (Melanoma) پیدا کرتی ہیں لہٰذا اس اوزون پرت کا قائم رہنا ضروری ہے۔
اسٹریٹواسفیئر میں اوزون UV اشعاع کے O2 سالموں پر تعامل کا ماحصل ہے۔ UV اشعاع آکسیجن سالمے کو آکسیجن ایٹم (O) میں توڑ دیتا ہے۔ یہ آکسیجن ایٹم آکسیجن کے سالمے سے مل کر اوزون بناتے ہیں۔
اوزون حرحرکیاتی طور پر غیر مستحکم ہوتی ہے اور سالماتی آکسیجن میں تحلیل ہوجاتی ہے۔ اس طرح اوزون سالمے کی پیداوار اور تحویل میں ایک حرکی توازن قائم رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اسٹریٹواسفیئر میں کچھ کیمیائی مرکبات کی موجودگی کی وجہ سے اس حفاظتی اوزون پرت کے پتلا ہونے کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔ اوزون پرت کے پتلا ہونے کی اہم وجوہات کلوروفلورو کاربن (CFC) کا اخراج ہے، جو فریؤن (Freon) بھی کہلاتی ہے۔ یہ مرکبات غیر متعامل، غیر احتراق پذیر غیر سمی نامیاتی مرکبات ہوتے ہیں اور اسی لیے ان کا استعمال ریفریجریٹر، ایئرکنڈیشنر، پلاسٹک فوم بنانے اور کمپیوٹر کے پرزوں کو صاف کرنے کے لیے الیکٹرانِک صنعت میں ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ CFC فضا میں داخل ہونے کے بعد عام فضائی گیسوں سے تعامل کرتے ہیں اور آخر کار اسٹریٹواسفیئر میں پہنچ جاتے ہیں۔ اسٹریٹوسفیئر میں وہ قوی UV اشعاع کے ذریعہ ٹوٹ جاتے ہیں اور آزاد کلورین ریڈیکل خارج کرتے ہیں۔
(i) 
کلورین ریڈیکل
پھرا سٹریٹوسفیر کی اوزون سے تعامل کرکے کلورین مونوآکسائڈ ریڈیکل اور سالماتی آکسیجن بنا دیتا ہے۔
CI(g) +O3(g) ↔ CIO (g) +O2(g) (ii)
کلورین مونو آکسائڈ ریڈیکل کے ایٹمی آکسیجن سے تعامل کے نتیجے میں اور زیادہ کلورین ریڈیکل پیدا ہوتے ہیں۔
CIO (g) +O (g) ↔ CI (g) +O2 (g) (iii)
کلورین ریڈیکل مسلسل بنتے رہتے ہیں اور اوزون کو توڑتے رہتے ہیں۔ اس طرح CFC اسٹریٹواسفئیر میں کلورین ریڈیکل کی مسلسل پیداوار کے لیے نقل و حمل کے ایجنٹ ہوتے ہیں اور اوزون کی پرت کو تباہ کرتے ہیں۔
اوزون سوراخ (Ozone Hole)
1980 کی دہائی میں انٹارکٹکا میں کام کرنے والے فضائی سائنسدانوں نے اوزورن پرت کے پتلے ہونے کی اطلاع دی تھی جو عام طور پر جنوبی قطب کے اوپر اوزون سوراخ کی طرح جانا جاتا ہے۔ یہ دیکھا گیا تھا کہ اوزون سوراخ کے لیے حالات کا ایک منفرد سیٹ ذمہ دار ہے۔ گرمی کے موسم میں نائٹروجن ڈائی آکسائڈ اور میتھین، کلورین مونوآکسائڈ (تعامل iv) اور کلورین ایٹم (تعامل v) کے ساتھ تعامل کرکے کلورین سِنک (Sink) بناتی ہیں جو اوزون کی مزید تباہی کو روکتا ہے۔ جبکہ سردیوں کے موسم میں انٹارکٹکا کے اوپر خاص قسم کے بادل چھا جاتے ہیں جو قطبی اسٹریٹو اسفیئرک بادل کہلاتے ہیں۔ یہ قطبی اسٹریٹو سفیرک بادل ایک سطح مہیا کرتے ہیں جس پر بنا ہوا کلورین نائٹریٹ (تعامل iv) آبیدہ ہو کر ہائپوکلورس ایسڈ بنادیتا ہے( تعامل (vi))۔ یہ تعامل (v) کے مطابق ہائڈروجن کلورائڈ سے بھی تعامل کرکے سالماتی کلورین دیتا ہے۔
CIO (g) +NO2 (g) ↔ CION2 (g) (iv)
CI (g) CH4 (g) ↔ CH3 (g) + HCI (g) (vi)
CIONO2 (g) + H2O (g) ↔HOCI (g) +HNO3 (g) (vi)
CIONO2 (g) +HCI (g) ↔CI2 (g)+HNO3 (g) (vii)
بہار کے موسم میں جب سورج کی روشنی انٹارکٹکا پر واپس آتی ہے تو، سورج کی گرمی بادلوں کو پھاڑ دیتی ہے اور HOCl اور Cl2 سورج کی روشنی سے فوٹولائز ہو جاتے ہیں، جیسا کہ تعامل (viii) اور (ix) میں دکھایا گیا ہے۔
(viii) 
(ix) 
اس طرح بننے والے کلورین ریڈیکل اوزون کی پرت کو پتلا کرنے کے لیے اس زنجیری تعامل کو شروع کر دیتے ہیں جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔
اوزون پرت کے ہلکے پن کے اثرات(Effects of Depletion of the Ozone Layer)
اوزون پرت کے پتلا ہونے کی وجہ سے زیادہ الٹراوائیلیٹ (UV) اشعاع ٹروپوسفیئر میں داخل ہوںگی۔ UV اشعاع جِلد کا بوڑھا ہونا، موتیا بند، دھوپ سے جھلسنا، جِلد کا کینسر، کثیر تعداد میں فائٹوپلانکٹن کا ختم ہونا، مچھلی کی پیداوار کو نقصان پہنچنا وغیرہ کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نباتاتی پروٹین UV اشعاع سے متاثر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے خلیوں میں نقصان دہ تغیّرات ہوتے ہیں۔ یہ پتّیوں کے اسٹومیٹا کے ذریعہ سطح کے پانی کی تبخیر کو بڑھادیتی ہیں اور مٹی میں نمی کی مقدار کو گھٹا دیتی ہیں۔ UV اشعاع میں اضافہ رنگ و روغن اور ریشوں کو تباہ کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ جلدی ہی پھیکے پڑجاتے ہیں۔
14.3 آبی آلودگی (Water Pollution)
پانی زندگی کے لیے لازمی ہے۔ پانی کے بغیر کوئی زندگی نہیں ہوگی۔ عام طور پر ہم پانی کو شفاف ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمیں پانی کی کوالٹی کو یقینی بنانا چاہیے۔ پانی کی آلودگی انسانی سرگرمیوں سے شروع ہوتی ہے۔ مختلف راستوں سے آلودگی سطحی یا زیرِزمین پانی تک پہنچتی ہے۔ آسانی سے پہچانے جانے والے ماخذ یا آلودگی کے مقامات نقطہ مآخذ (Point Source) کہلاتے ہیں مثال کے طور پر میونسپل یا صنعتی اخراجی پائپ جہاں پالیوٹینٹ آبی ذرائع میں داخل ہوجاتے ہیں۔ آلودگی کے غیر نقطہ ماخذ وہ مقامات ہیں جو آسانی سے نہیں پہچانے جاتے۔ مثال کے طور پر کھیتوں کے بہاؤ (فارم، جانور اور کھیت)، تیزابی بارش، طوفانی، پانی کے نالے (گلیوں، پارکنگ کے مقامات اور لان سے آنے والے) وغیرہ وغیرہ۔ جدول 14.1 میں اہم آبی پالیوٹینٹ اور ان کے ماخذ دکھائے گئے ہیں۔
جدول 14.1 اہم آبی آلودگیاں
| ماخذ | پالیوٹینٹ |
| گھریلو گندگی | خوردعضویے |
| گھریلو گندگی، جانوروں کا فضلہ اور گندگی، سڑتے ہوئے پودے اور جانور، غذائی اشیا تیار کرنے والی فیکٹریوں کے اخراج | نامیاتی فضلہ |
| کیمیائی کھاد | نباتاتی تغذیات |
| صنعتیں اور کیمیائی فیکٹریاں | زہریلی بھاری دھاتیں |
| زراعت اور کان کنی کے ذریعہ زمین کی کا کٹاؤ | تلچھٹ |
| حشرات، پھپھوند اورویڈ کو ختم کرنے والے کیمیائی مادے | گھن مار |
| یورینیم کی معدنیات کی کان کنی صنعتوں میں ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا پانی |
تاباکار مادّے حرارت |
14.3.1 آبی آلودگی کی وجوہات (Causes of Water Pollution)
(i) مرض آفریں عضویے: آبی آلودگی میں سب سے زیادہ تشویشناک پالیوٹینٹ بیماری پھیلانے والے ایجنٹ ہوتے ہیں جنھیں مرض آفریں عضویے کہتے ہیں۔ ان عضویوں میں بیکٹیریا اور دوسرے عضویے شامل ہوتے ہیں جو گھریلو گندگی اور جانوروں کے اخراجی مادّوں سے پانی میں داخل ہوتے ہیں۔ انسانی فضلے میں ایسکیریشیا کولائی (Escherichia Coli) اور اسٹریپٹوکوکس فیکیلس (Streptococus Feacalis) جیسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جس سے گیسٹروانٹیسٹائنل (آنتوں) بیماریاں ہوجاتی ہیں۔
(ii) نامیاتی فضلہ (Organic Wastes): آبی آلودگی کا دوسرا بڑا ماخذ نامیاتی مادے، جیسے کہ پتیاں، گھاس پھوس، کوڑاکرکٹ وغیرہ ہیں۔ یہ بہاؤ میں شامل ہو کر پانی کو آلودہ کرتے ہیں۔ پانی کے اندر کثیر تعداد میں فائٹو پلانکٹن کی پیداوار بھی آبی آلودگی کی وجہ ہے۔ یہ فضلات حیاتیاتی تنزل پذیر ہوتے ہیں۔
پانی میں موجود نامیاتی مادوں کو بیکٹریا کی کثیر آبادی تحلیل کر دیتی ہے۔ یہ پانی میں گھُلی ہوئی آکسیجن کو استعمال کر لیتے ہیں۔ پانی، محلول میں آکسیجن کی محدود مقدار کو ہی قائم رکھ سکتا ہے۔ ٹھنڈے پانی میں حل شدہ آکسیجن 10 ppm کی مقدار تک ہی پہنچ سکتی ہے، جبکہ ہوا میں آکسیجن کی مقدار 200, 000 ppm ہے۔ اسی لیے نامیاتی مادّے کی تھوڑی سی مقدار بھی جو پانی میں تحلیل ہوتی ہے پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن کو کم کر دیتی ہے۔ آبی زندگی کے لیے پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن بہت اہم ہوتی ہے۔ اگر پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن کی مقدار 6 ppm سے کم ہو جائے تو مچھلیوں کی پیداوار کم ہو جائے گی۔ پانی میں آکسیجن یا تو فضا کے ذریعہ پہنچتی ہے یا پھر دن کے وقت بہت سے آبی پودوں کے ذریعے کی گئی ضیائی تالیف کے ذریعہ پہنچتی ہے۔ بہر حال، رات کے وقت ضیائی تالیف کا عمل رُک جاتا ہے لیکن پودے سانس لینا جاری رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے گھلی ہوئی آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔ گھلی ہوئی آکسیجن خورد عضویوں کے ذریعہ مادّوں کی تکسید کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔
اگر پانی میں بہت زیادہ نامیاتی مادّے داخل کر دیے جائیں تو تمام دستیاب آکسیجن استعمال ہو جائے گی۔ اس کی وجہ سے آکسیجن پر منحصر آبی زندگی ختم ہو جائے گی۔ غیر ہوا باش بیکٹریا (جن کو آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی) نامیاتی فضلہ کو توڑنا شروع کر دیتے ہیں اور کیمیائی مادّے بناتے ہیں جو بدبودار ہوتے ہیں اور وہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ہواباش بیکٹیریا (جن آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے) ان نامیاتی مادّوں کو ختم کرتے ہیں اور پانی کو حل شدہ آکسیجن سے محروم رکھتے ہیں۔
اس طرح ایک خاص حجم کے پانی کے نمونے میں موجود نامیاتی مادّوں کو توڑنے کے لیے بیکٹیریا کو جتنی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے وہ بایوکیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) کہلاتی ہے۔ پانی میں BOD کی مقدار پانی میں موجود مادّوں کا پیمانہ ہوتی ہے کہ اسے حیاتیاتی طریقہ سے توڑنے میں کتنی آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔ صاف پانی کی BOD کی قدر 5ppm ہوگی جبکہ بہت زیادہ آلودہ پانی کی BOD کی قدر 17 ppm یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
(iii) کیمیائی پالیوٹینٹ (Chemical Pollutants): جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی ایک بہت عمدہ محلل ہے، پانی میں حل پذیر غیرنامیاتی کیمیائی مادّے جس میں بھاری دھاتیں، جیسے کیڈمیم، پارہ، نِکل وغیرہ شامل ہیں، پالیوٹینٹ کا ایک اہم گروپ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ تمام دھاتیں انسانوں کے لیے خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ ہمارا جسم ان کا اخراج نہیں کر سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ برداشت کی حد پار کر جاتے ہیں۔ پھر یہ دھاتیں ہمارے گردوں، مرکزی عصبی نظام، جگر وغیرہ کو تباہ کر سکتی ہیں۔ کانوں سے خارج ہونے والے تیزاب (جیسے سلفیورک ایسڈ) اور مختلف ذرائع سے نکلنے والے نمک جس میں ٹھنڈی آب و ہوا میں برف یا برف کے گالوں کو پگھلانے میں استعمال ہونے والا سادہ نمک (سوڈیم اور کیلشیم کلورائڈ) بھی شامل ہے پانی میں حل پذیر کیمیائی پالیوٹینٹ ہیں۔
نامیاتی کیمیائی مادے ، آلودہ پانی میں پائی جانے والی اشیا کا ایک اور گروپ ہیں۔ پیٹرولیم کے ماحصل بہت سے آبی ذائع کو آلودہ کرتے ہیں۔ مثلاً سمندر میں تیل کا بہہ جانا وغیرہ۔ دوسرے نامیاتی مرکبات جن کے تشویشناک اثرات ہوتے ہیں، گھن مار دوائیں ہیں جو چھڑکاؤ یا زمین پر بہاؤ کے ذریعہ بکھر جاتی ہیں۔ مختلف صنعتی کیمیا جیسے کہ پولی کلورینیٹڈ بائی فِنائل (PCBs) ، جن کا استعمال صفائی کرنے والے محلول کی طرح ہوتاہے، صابن اور کیمیائی کھاد آبی پالیوٹینٹ کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ PCBs کارسینو جینک (کینسر پیدا کرنے والے) ہوتے ہیں۔ آج کل بہت سے دستیاب ڈٹرجنٹ حیاتیاتی تنزل پذیر ہوتے ہیں۔ بہرحال ان کا استعمال دوسری دشواریاں پیدا کر سکتا ہے۔ بیکٹیریا جو حیاتیاتی تنزل پذیر مادّوں کی تحلیل کرتے ہیں وہ ان کو کھاتے ہیں اور تیزی سے بڑھتے ہیں۔ بڑھتے وقت وہ تمام آکسیجن کو، جو پانی میں گھلی ہوئی ہے، استعمال کر سکتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی، آبی زندگی کی دوسری قسموں مثلاً مچھلیوں اور پودوں کو ختم کر دیتی ہے۔ کیمیائی کھاد میں فاسفیٹ ہوتے ہیں۔ پانی میں فاسفیٹ کا اضافہ الگی کے اضافے کا باعث ہوتا ہے۔ الگی کی یہ بڑھی ہوئی تعداد پانی کی سطح کو ڈھک دیتی ہے اور پانی میں آکسیجن کی مقدار گھٹ جاتی ہے۔ یہ ضرر پذیر سڑن اور مردہ جانوروں کے ساتھ عام طور پر غیر ہوا باش حالات پیدا کردیتی ہے۔ اس طرح ان پھلتے پھولتے پودوں سے بھرا ہوا پانی، پانی میں رہنے والے دوسرے جاندار عضویوں کی افزائش کو روک دیتا ہے۔ یہ عمل جو غذایت سے بھرپور پانی کے ذرائع میں پودوں کی گھنی آبادی کو بڑھاوا دیتا ہے، جو آبی جانوروں کی زندگی کو آکسیجن سے محروم کرکے ختم کر دیتا ہے اور اس طرح متنوع جاندار دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے یوٹروفکیشن (Eutrophication) کہلاتا ہے۔
14.3.2 پینے کے پانی کے بین الاقوامی معیار
(International Standards for Drinking Water)
پینے کے پانی کے لیے بین الاقوامی معیار مندرجہ ذیل ہیں جن پر عمل کرنا لازمی ہے۔
فلورائڈ (Fluoride) : پینے کے پانی میں فلورائڈ آین کے ارتکاز کی جانچ کرنی چاہیے۔ پینے کے پانی میں اس کی کمی انسان کے لیے نقصان دہ ہے اور وہ دانتوں کی سڑن جیسی بیماریاں پیدا کرتی ہے۔ پینے کے پانی میں اکثر حل پذیر فلورائڈ شامل ہوجاتے ہیں جو پانی میں اس کے ارتکاز کو 1ppm یا 1 mg dm3 تک بڑھادیتے ہیں۔ –F آین دانتوں کے اینمل (Enamel) ہائڈروکسی ایپٹائٹ (Hydroxyapatite)، [3(Ca3(PO4)2 . Ca(OH)2] کو جو دانت کی سطح پر ہوتا ہے زیادہ سخت فلور ایپٹائٹ [3(Ca3(PO4)2Caf2] میں تبدیل کر دانتوں کے اینمل کو زیادہ سخت بنا دیتے ہیں۔
تاہم، 2 ppm سے اوپر –F آین ارتکاز دانتوں پر بھوری پرت کے لیے ذرمہ دار ہوتا ہے۔ اسی وقت فلورائڈ کی زیادہ مقدار (10 ppm سے اوپر) دانتوں اور ہڈیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ جیسا کہ راجستھان کے کچھ علاقوں میں دیکھا گیا ہے۔
سیسہ (Lead): جب سیسے کے پائپ کا استعمال پانی کو لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے تو وہ پینے کے پانی کو لیڈ سے آلودہ کر دیتاہے۔ پینے کے پانی میں لیڈ کے ارتکاز کی بالائی حد تقریباً 50 ppb ہوتی ہے۔ لیڈ، گردوں، جگر اور تولیدی نظام کو تباہ کرسکتا ہے۔
سلفیٹ (Sulphate): پینے کے پانی میں سلفیٹ کی زیادہ مقدار (500ppm <) سُستی کے اثرات پیدا کرتی ہے حالانکہ معتدل سطح پر یہ بے ضرر ہوتی ہے۔
نائٹریٹ (Nitrate): پینے کے پانی میں نائٹریٹ کی زیادہ سے زیادہ سطح 50 ppm ہونی چاہیے۔ پینے کے پانی میں زیادہ مقدار میتھاموگلوبینیمیا (Methemoglubinimia) 'Blue Baby, Syndrom جیسی بیماری پیدا کرتی ہے۔
دیگر دھاتیں (Other Metals): جدول 14.2 میں پینے کے پانی میں کچھ عام دھاتوں کے انتہائی ارتکاز دکھائے گئے ہیں۔
جدول 14.2 پینے کے پانی میں دھاتوں کے مجوزہ انتہائی ارتکاز
| زیادہ سے زیادہ ارتکاز ppm or mg dm3 | دھات |
| 0.2 | fe |
| 0.05 | Mn |
| 0.2 | Al |
| 3.0 | Cu |
| 5.0 | Zn |
| 0.005 | Cd |
سرگرمی-2
آپ مقامی پانی کے ماخذ کو دیکھنے کے لیے جائیے اور پانی کو دیکھتے ہوئے یا پانی کی pH چیک کر کے مشاھدہ کیجیے کہ ردیا/ جھیل / ٹینک / تالاب وغیرہ غیر آلودہ / مناسب آلودہ یا بہت زیادہ آلودہ ہیں
۔ندی کا نام لکھیے اور ان شہری یا صنعتی مقامات کی نشان دہی کیجیے جہاں سے آلودہ پیدا ہورہی ہے۔
اس کے متعلق حکومت کے ذریعہ آلودگی کی سطح کی پیمائش کرنے کے لیے بنائے گئے آلودگی کنٹرول
بورڈ کے آفس کو مطلع کیجیے۔ مناسب عمل درآمد کو یقینی بنائیے۔اپ احبارات میں بھی لکھ سکتے ہیں۔گھریلو یا صنعتی نالوں میں ایسا کوڑا کرکٹ مت پھینکیے جو براہ راست پانی کے ذرائع ندی،تالاب،نہر یا جھیل میں گرتا ہوا۔بپنے باغیچے(لائن) میں کھاد کے بجائے کمپوسٹ استعمال کیجیے۔گھروں میںDDTیاMalathionوغیرہ جیسے جراثیم کش مادوں کا استعمال سے پرہیز کیجیے۔کیڑے مکوڑوں کو دور رکھنے کےلیے نیم کی سوکھی پتیوں کا استعمال کیجیے۔ اپنے گھرکے پانی کے ٹینک میں کچھ دانے پوٹا شیم پر میگنیٹ(KMno4) یا بیلچنگ پاوڈر کے ڈالیے۔
14.4 مٹی کی آلودگی (Soil Pollution)
ہندوستان کی معیشت زراعت پر منحصر ہونے کی وجہ سے یہ زراعت، مچھلی پالن اور جانوروں کی پیداوار کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ پیداوار کو سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ کم پیداوار کے موسموں کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کے دوران غذا کا ضائع ہونا بھی مخصوص توجہ کا طالب ہے۔ کیا آپ نے کیڑے مکوڑوں، چوہوں، گھاس پھوس اور فصلی بیماریوں سے فصلوں یا غذائی سامان کو برباد ہوتے ہوئے دیکھا ہے؟ ان کی حفاظت ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ ہماری فصلوں کو بچانے والی کچھ کیڑے مار اور جراثیم کش دواؤں سے آپ واقف ہوں گے۔ تاہم یہ حشرہ کش، گھن مار اور نباتات کش دوائیں مٹی کی آلودگی پیدا کرتی ہیں۔ لہٰذا ان کے منصفانہ استعمال کی ضرورت ہے۔
14.4.1 گھن مار (Pesticides)
دوسری جنگِ عظیم سے پہلے بہت سے قدرتی طور پر پائے جانے والی کیمیائی اشیا جیسے کہ نِکوٹین ( فصل کے کھیتوں میں تمباکو کے پودے لگانا) کا استعمال ذراعتی کاموں میں بڑی فصلوں کو گھنوں سے بچانے کے لیے کیا جاتا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران ملیریا اور دیگر کیڑے مکوڑے سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام میں DDT کا استعمال بہت مؤثر پایا گیا۔ لہٰذا جنگ کے بعد DDT کو زراعت میں کیڑے مکوڑوں، چوہوں، گھاس پھوس اور دوسری فصلی بیماریوں سے ہونے والے نقصانات پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ تاہم اس کے منفی اثرات کی وجہ سے ہندوستان میں اس کے استعمال پر پابندی لگادی گئی۔
گھن مار، درصل تالیفی زہریلے کیمیائی مادّے ہوتے ہیں جن سے ماحولیاتی اثرات وابستہ ہوتے ہیں۔ ایک ہی یا ملتے جلتے پیسٹی سائڈ کا مسلسل استعمال ایسے گھنوں کو پیدا کرتا ہے جو اس گروپ کے گھن مار کے تئیں مزاحمت پیدا کرلیتے ہیں اور اس طرح اس گھن مار کو بے اثر کر دیتے ہیں۔ لہٰذا جیسے جیسے کیڑوں میں DDT کے لیے مزاحمت بڑھتی ہے، گھن مار صنعت کے ذریعہ بازار میں ایلڈرین اور ڈائی ایلڈرین جیسے دوسرے نامیاتی زہریلے مرکبات داخل کر دیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر نامیاتی زہر پانی میں حل پذیر نہیں ہوتے اور غیر حیاتیاتی تنزل پذیر ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ بہت زیادہ مستقل مزاج زہر غذائی زنجیر کے ذریعہ کمترین ٹروفِک لیول سے اعلیٰ ٹروفک لیول تک منتقل ہوجاتے ہیں (شکل 14.3)۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑے جانوروں میں زہر کی سطح اس مقام تک پہنچ جاتی ہے جہاں تشویشناک استحالی (میٹابولک) اور عضویاتی بد نظمی پیدا ہوجاتی ہے۔

انسان،سب سے بڑی مچھلیاں،مزید بڑی مچھلیاں،بڑی مچھلیاں چھٹی مچھلیاں،آبی پودے،سالماتی سطح
شکل 14.2 ہر ایک ٹروفک سطح پر آلودگیوں کا ارتکاز 10 گنا بڑھتا ہے
کلورین والے نامیاتی زہر کے قائم رہنے کی بہت زیادہ صلاحیت کے جواب میں کم استقلالی یا حیاتیاتی تنزل پذیر مادے، جو آرگینوفاسفیٹ اور کاربامیٹ (Carbamate) کہلاتے ہیں بازار میں دستیاب ہیں۔ لیکن یہ کیمیائی مرکبات شدید عصبی زہر ہوتے ہیں لہٰذا یہ انسانوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر کھیتوں میں کام کرنے والوں کی ان گھن مار کی وجہ سے ہونے والی اموات کی اطلاعات ملی ہیں۔ کچھ کیڑے مکوڑوں میں بھی ان حشرہ کش کے تئیں مزاحمت پیدا ہو گئی ہے۔ حشرہ کش صنعت حشرات کش دواؤں کی کچھ نئی جماعتوں کو تیار کرنے میں مصروف ہے۔ لیکن ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا کیڑوں پر قابو پانے کا صرف یہی ایک حل ہے؟
آج کل گھن مار صنعت نے اپنی توجہ نباتات کش (Herbicides) کی طرف مبذول کرلی ہے جیسے کہ سوڈیم کلوریٹ (NaClO3)، سوڈیم آرسینیٹ (Na3AsO3) اور دوسرے کئی مرکبات وغیرہ۔
کئی مرکبات پچھلی صدی کے ابتدائی نصف برسوں میں ویڈ پر قابو پانے کے میکانیکی طریقوں سے کیمیائی طریقوں پر منتقلی نے صنعت کو ایک پھلتا پھولتا معاشی بازار فراہم کیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ماحول کا دوست نہیں ہیں۔
زیادہ تر نباتات کش پستانیوں کے لیے زہریلے ہوتے ہیں لیکن یہ زیادہ عرصے تک قائم رہنے والے نہیں ہوتے جیسے کہ آرگینو-کلورائڈ ہوتے ہیں۔ یہ کیمیائی مادّے چند مہینوں میں ہی تحلیل ہو جاتے ہیں۔ آرگینو-کلورائڈ کی طرح یہ بھی غذائی جال میں مرتکز ہو جاتے ہیں۔ کچھ نباتات کش پیدائشی نقص پیدا کرتے ہیں۔ تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ مکّا کے کھیت میں ہاتھ سے ویڈکو صاف کرنے کے بجائے نباتات کش کا چھڑکاؤ کرنے سے کیڑوں کے حملے اور پودوں کی بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں۔
گھن مار اور نباتات کش بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی کیمیائی آلودگی کے ایک بہت چھوٹے سے حصّہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دوسرے مرکبات کی ایک بڑی تعداد جو کہ کیمیائی اور صنعتی عمل میں پیداوار کی مختلف سرگرمیوں میں مسلسل استعمال ہوتے ہیں آخر کار کسی نہ کسی شکل میں فضا میں چھوڑدیے جاتے ہیں۔
14.5 صنعتی فضلہ (Industrial Waste)
صنعتوں سے نکلنے والے ٹھوس فضلاتی مادّوں کو حیاتیاتی تنزل پذیر (Biodegradable) اور غیر تنزل پذیر مادّوں میں چھانٹ لیا جاتا ہے۔ حیاتیاتی تنزل پذیر (Non-biodegradable) فضلاتی مادّے سُوت کی مل، غذائی اشیا تیار کرنے والی اکائیوں، کاغذ کی مِل اور کپڑوں کی فیکٹریوں سے پیدا ہوتے ہیں۔
غیر حیاتیاتی تنزل پذیر مادّے، تھرمل پاور پلانٹ جو فلائی ایش پیدا کرتے ہیں، لوہے اور اسٹیل کے پلانٹ جو بلاسٹ فرنیس سلیگ اور اسٹیل میلٹنگ سلیگ پیدا کرتے ہیں وغیرہ سے خارج ہوتے ہیں۔ جو صنعتیں ایلومینیم، زِنک اور کاپر بناتی ہیں وہ کیچڑ اور ٹیلنگ پیدا کرتی ہیں۔ کیمیائی کھاد کی صنعت جپسم پیدا کرتی ہے۔ وہ انڈسٹریز جو دھاتیں، کیمیائی مرکبات، دوائیں، طبّی فارماسیوٹیکل، رنگ، گھن مار، ربر کا سامان وغیرہ بنانے میں شامل ہیں وہ خطرناک فضلے جیسے آتش گیر مادّے، دھماکہ خیز اشیا یا بہت زیادہ تعامل پذیر مادّے پیدا کرتی ہیں۔
غیر تنزل پذیر صنعتی ٹھوس فضلوں کا تصفیہ اگر ٹھیک اور مناسب طریقوں سے نہیں کیا جائے تو وہ ماحولیات کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ نئی کھوجوں نے فاضل مادّوں کے استعمال کے لیے نئے طریقے وضع کیے ہیں۔ آج کل فلائی ایش اور اسٹیل انڈسٹری سے خارج کی گئی سلیگ کا استعمال سیمنٹ انڈسٹری کر رہی ہے۔ زہریلے فاضل مادّوں کی بڑی مقدار کو عام طور پرباقاعدہ جلا کر تباہ کیا جاتا ہے، جبکہ تھوڑی مقدار کو فیکٹری کے دوسرے کچرے کے ساتھ کھُلے ہوئے ڈبّوں میں جلایا جاتا ہے۔ بہر حال اگر ٹھوس فضلاتی مادّوں کا بہتر طریقے سے انتظام نہیں کیا گیا تو وہ ماحول کے اجزا کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کیا آپ فضلات کی ریسائیکلنگ (Recycling)
کے بارے میں جانتے ہیں؟
• ایندھن، جو پلاسٹک کے کچرے سے تیار کیا جاتا ہے اس میں بہت زیادہ اوکٹین (Octane) ہوتی ہے۔ اس میں سیسہ نہیں ہوتا اور یہ سبز ایندھن کہلاتا ہے۔
• کیمیائی اور کپڑے کی صنعتوں میں حال ہی میں ہونے والی ترقی کی وجہ سے اب کپڑے بھی تیار ہوں گے۔ جلد ہی یہ عالمی کپڑا بازار میں دستیاب ہوگا۔
• ہندوستان میں ہمارے شہر اور قصبات غیر متعینہ مدت کے لیے بجلی کی کٹوتی کا سامنا کرتے ہیں۔ ہم سڑتے ہوئے کوڑے کے ڈھیر بھی جگہ جگہ دیکھتے ہیں۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ہم ان دونوں مشکلات سے بیک وقت چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ اب ٹیکنالوجی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہم کوڑے کرکٹ سے بجلی تیار کر سکتے ہیں۔ ایک تجرباتی پلانٹ تیار کیا گیا ہے جس میں پہلے مقناطیسی دھاتیں، پلاسٹک، شیشہ، کاغذ وغیرہ کو کوڑ کے ڈھیر سے علیحدہ کیا جاتا ہے، پھر اس میں پانی ملایا جاتا ہے، پھر اسے بیکٹیریا کی مدد سے کلچر کیا جاتا ہے جس سے میتھین گیس بنتی ہے جسے عام طور پر بایوگیس کہتے ہیں۔ بچے ہوئے ماحصل کو کھاد کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور گیس کو بجلی تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
14.6 ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے طریقے
(Strategies To Control Environmental Pollution)
اس باب میں ہوا، پانی، مٹی اور صنعتی فضلات کی آلودگی کے بارے میں پڑھنے کے بعد اب آپ ضرور یہ خواہش کرنے لگے ہوں گے کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے اطراف کی حفاظت آپ کیسے کر سکتے ہیں؟ ان اقدامات/ اعمال کے بارے میں سوچیے جو آپ اپنے گردوپیش میں ہوا، پانی، مٹی اور صنعتی اطراف کی آلودگی کو قابو میں کرنے کے لیے اٹھائیں گے۔ یہاں فضلات کے انتظام کی حکمت عملی کا ایک تصور پیش کیا گیا ہے۔
14.6.1 فضلاتی مادّوں کا انتظام (Waste Management)
صرف ٹھوس فضلہ ہی وہ فضلہ نہیں ہے جو آپ اپنے گھر کے کوڑے دان میں دیکھتے ہیں۔ گھر کی بے کار چیزوں کے علاوہ اس میں طبّی، ذراعتی، صنعتی اور کانوں سے متعلق فضلات ہوتے ہیں۔ فضلات کا غیر مناسب تصفیہ ماحولیاتی تنزلی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ لہٰذا فضلات کا انتظام سب سے اہم ہے۔
آپ نے سوچھ بھارت ابھیان (Clean India Movement)
کے بارے میں سناہوگا جس کا آغاز ہندوستانی حکومت نے کیا تھا۔ سوچھ بھارت ابھیان کے علامت میں گاندھی جی کا چشمہ اورنعرہ’ایک قدم سوچھتا کی جانب‘لیاگیا ہے۔

سوچھ بھارت ابھیان کے تحت دوپروگرام چلائے جارہے ہیں۔ سوچھ بھارت مہم۔شہری (Swachh bharat Mission (SBM–U) اورسوچھ بھارت مہم-دیہی Swachh Bharat Mission Gramin (SBM–G) سوچھ بھارت مہم۔شہری کا بنیادی مقصد ہندوستان کو کھلی جگہ میں فضلہ سے آزاد کرانا اور ٹھوس کچرے کا %100 سائنسی بندوبست کرنا ہے۔ سوچھ بھارت فہم۔دیہی کاخاص مقصد دیہی علاقوں میں عام زندگی کے طورطریقوں میںسدھار کرنا، صفائی، حفظان صحت کو بڑھاوا دے کرکھلے میں فضلہ سے نجات اور دیہی ہندوستان میں صفائی کوفروغ دینا جس سے سوچھ ہندوستان کے مقصد کو 2 اکتوبر،2019 تک حاصل کیا جاسکے جوبابائے قوم مہاگاندھی کا 150 واں یومِ پیدائش بھی ہے۔اگر آپ نے سوچھ بھارت ابھیان کے کسی پروگرام میں حصہ لیا ہے تو اپنے ذاتی تجربات بیان کیجیے۔
جمع کرنا اور تصفیہ (Collection and Disposal)
گھریلو کوڑا کرکٹ چھوٹے ڈبّوں میں جمع کیا جاتاہے جو پھر پیرائیویٹ یا میونسپل کارندوں کے ذریعہ کمیونٹی کوڑا گھر میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ان محلّوں کے کوڑے دانوں سے اسے تصفیہ کے مقامات پر لے جایا جاتا ہے۔ ان مقامات پر کوڑے کو حیاتیاتی تنزل پذیر اور غیر حیاتیاتی تنزل پذیر کوڑوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ غیر حیاتیاتی تنزل پدیر اشیا جیسے کہ پلاسٹک، شیشہ اور دھاتوں کے ٹکڑے وغیرہ ری سائیکل کے لیے بھیج دیے جاتے ہیں۔ حیاتیاتی تنزل پذیر مادّے بھراؤ کے مقامات (Land fills) پر پہنچادیے جاتے ہیں اور کھاد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
کوڑا کرکٹ اگر کوڑے دان میں جمع نہیں کیا جائے تو وہ نالوں میں اپنا راستہ بنالیتاہے۔ اس میں سے کچھ جانوروں کے ذریعہ کھالیا جاتا ہے۔ غیر حیاتیاتی تنزل پذیر مادّے جیسے کہ پولیتھین بیگ، دھاتوں کے ٹکڑے وغیر سیورلائن کو بند کر دیتے ہیں اور دشواریاں کھڑی کرتے ہیں۔ پولیتھین اگر جانور نگل لیں تو ان کی جان بھی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ایک عام عادت کی طرح تمام گھریلو کوڑا کرکٹ مناسب طریقے سے جمع کرنا چاہیے اور اس کا تصفیہ کرنا چاہیے۔ خراب انتظام صحت سے متعلق دشواریاں پیدا کرتا ہے اور زیرِزمین پانی کے آلودہ ہونے سے وبائی بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے زیادہ تباہ کن ہے جن کا کوڑے سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے جیسے کوڑا بیننے والے، فضلہ کے تصفیہ سے متعلق افراد جو زیادہ تر غیر حفاظتی چیزوں مثلاً دستانے یا واٹرپروف جوتے اور گیس ماسک کے بغیر ہی کوڑا کرکٹ اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں؟
14.7 سبزکیمیا (Green Chemistry)
14.7.1 تعارف (Introduction)
یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ ہندوستان غذا کے معاملے میں بیسویں صدی کے اواخر میں، ہی خود کفیل ہوا ہے جو کہ بہتر کیمیائی کھاد اور گھن مار کے استعمال، کھیتی کے بہتر طریقوں کی کھوج، بہتر بیج اور آب پاشی کے ذرائع کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔ لیکن مٹی کے سود مند استعمال اور کیمیائی کھاد اور گھن مار کے بہت زیادہ استعمال سے مٹی، پانی اور ہوا میں خرابی پیدا ہوئی ہے۔
نوبل انعام سبز کیمیا دانوں کو جاتا ہے
رچرڈ آر شروک رابرٹ- ایچ- گربس یس چووِن
یَس چووِن، Institut Français du Pétrole, Rueil-Malmaison France، رابرٹ ایچ گربس کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی (Caltech)، پاساڈینا، سی اے، یو ایس اے اور رچرڈ آر-شروک میساچوسیٹ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کیمبرج، ایم اے، یو ایس اے نے 2005 کا نوبل انعام علم کیمیا میں نئے کیمیکل تیار کرنے میں خطرناک فضلہ کو کم کرنے کے لیے کیے گئے کام پر حاصل کیا۔ ان تینوں نے یہ انعام نامیاتی تالیف میں میٹاتھیسس (Metathesis) طریقہ کار پیش کرنے کے لیے حاصل کیا۔ ایک طریقہ جس میں سالمے کے اندر ہی ایٹموں کے گروپ کو دوبارہ ترتیب دیا جاتا ہے جس کو رائیل سویڈش اکاڈمی آف سائنسز کے اس ڈانس کے مشابہہ پایا جس میں ڈانس کے دوران ساتھی بدل جاتے ہیں۔ دواؤں، بایوٹکنالوجی اور غذائی اشیا تیار کرنے والی صنعتوں میں میٹاتھیسس تکنیک کی زبردست اقتصادی افادیت ہے۔ اس کا استعمال انقلابی ماحول- دوست پالیمر کی تیاری میں بھی کیا جاتا ہے۔
جدید اور بہتر پیداوار کے ذریعہ خطرناک فضلات کو کم کرکے، سبز کیمیا کے لیے یہ ایک زبردست پیش قدمی کو ظاہر کرتاہے ایٹم بدل ایک مثال ہے کہ کس طرح بنیادی سائنس انسان، سماج اور ماحول کے لیے اہم ہے۔
اس مسئلہ کا حل اس میں نہیں ہے کہ ترقی کے اس عمل کو روک دیا جائے جو شروع ہو چکا ہے: بلکہ نئے طریقوں کی تلاش کرنا ہے، جو ماحولیات کی تنزلی کو کم کرنے میں مدد کر سکے۔ سبز کیمیا فکر کا ایک طریقہ ہے اور موجودہ علم علم کیمیا ودیگر علوم کے اصولوں کے استعمال کے متعلق ہے تاکہ ماحول پر خراب اثرات کو کم کیا جاسکے۔ سبز کیمیا پروڈکشن کا عمل ہے جو کم سے کم آلودگی یا ماحول میں بگاڑ لا سکتا ہے۔ کسی عمل کے دوران پیدا ہونے والی ضمنی پیداوار اگر سود مند طریقے سے استعمال نہ کی جائے تو ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی ہے۔ ایسے اعمال نہ تو ماحول دوست ہیں اور نہ ہی لاگت کے اعتبار سے کفایتی ہیں۔ فضلاتی مادّوں کی پیداوار اور اس کا تصفیہ دونوں ہی معاشی طور پر ناقص ہیں۔ کیمیائی خطرات کم کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کو جاری رکھنے میں موجودہ علم کا استعمال سبز کیمیا کی بنیاد ہے۔‘‘ کیا آپ نے سبز کیمیا کا تصور کیا ہے؟ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ نامیاتی محلل جیسے بینزین، ٹولوئین، کاربن ٹیٹرا کلورائڈ وغیرہ بے حد زہریلے ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال کرتے وقت بہت احتیاط برتنی چاہیے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کہ کسی کیمیائی تعامل میں متعامل ہوتے ہیں، حملہ آور ریجنٹ اور وہ میڈیم ہوتا ہے جس میں تعامل واقع ہوتا ہے۔ کسی بھی تعامل کی حد طبعی پیرامیٹر جیسے درجۂ حرارت دباؤ اور وسیط کے استعمال پر منحصر ہوتی ہے، اگر ماحولیاتی دوست وسیلے کا استعمال کرتے ہوئے متعامل پوری طرح سود مند ماحولیاتی دوست ماحصلات میں تبدیل ہو جائیں تو پھر ماحول میں کوئی بھی کیمیائی آلودگی داخل نہیں ہو سکے گی۔
تالیف کے دوران ابتدائی مادّوں کا انتخاب کرنے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جو ماحصلات کی تقریباً سوفی صد پیداوار میں تبدیل ہو سکے۔ اس کو تالیف کی مناسب ترین حالت پر پہنچ کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی سودمند ہو سکتا ہے کہ تالیفی تعاملات آبی وسیلے میں کیے جائیں چونکہ پانی کی نوعی حرارت (Specific Heat) زیادہ اور طیران پذیری (Volatility) کم ہوتی ہے۔ پانی کفایتی غیراشتعال پذیر اور کارسینوجینک اثرات سے بری ہوتا ہے۔
14.7.2 سبز کیمیا روز مرہ کی زندگی میں
(Green Chemistry in day-to-day Life)
(i) کپڑوں کی ڈرائی کلینگ
(Dry Cleaning of Clothes)
ٹیٹراکلوروایتھیٖن (Cl2 C = Cl2) پہلے ایک محلل کی طرح ڈرائی کلیننگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ مرکب زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرتا ہے اور اس کے کارسنو جینک ہونے پر بھی شبہ ہے۔ اس کو استعمال کرنے والا عمل اب ایک دوسرے عمل سے تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں رقیق کاربن ڈائی آکسائڈ ایک مناسب ڈِٹرجینٹ کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے۔ ہیلوجنیٹڈ محلل کی رقیق CO2 سے تبدیلی زیر زمین پانی کو کم نقصان پہنچائے گی۔
آج کل کپڑوں کی دھلائی کے دوران کپڑوں کو بلیچ کرنے کے لیے ہائڈروجن پرآکسائڈ (H2O2) کا استعمال ہوتا ہے جو بہتر نتائج دیتی ہے اور کم پانی کا استعمال ہوتا ہے۔
(ii) کاغذ کی بلیچنگ (Bleaching of Paper)
کاغذ کی بلیچنگ کے لیے پہلے کلورین کا استعمال ہوتا تھا۔ آج کل مناسب وسیط کے ساتھ، جو ہائڈروجن پرآکسائڈ کے عمل کو بڑھاتا ہے، ہائڈروجن پرآکسائڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(iii) کیمیائی مرکبات کی تالیف (Synthesis of Chemicals)
کمرشیل طریقے پر اب ایتھنل (CH3CHO) آبی وسیلے میں آینی وسیط کی موجودگی میں ایک ہی مرحلے میں تکسید سے تیار کیا جاتا ہے جس میں پیداوار %90 ہوتی ہے۔
گدلاپانی (Turbid water) کوصاف کرنے کا’’سبزحل‘‘اِملی کے بیج کے دانے کا پاؤڈر گھریلو اورصنعتی خراب پانی کو صاف کرنے کے لیے ایک اثرانداز شے ہے۔ یہ ایک غیرزہریلا،حیاتیاتی تنزل پذیر اورقیمت وصول شے ہے۔ یہ پاؤڈر زراعتی فضلے کے طورپر نکال دیا جاتا ہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ ایلم پانی میں زہریلے آئن کا اضافہ کرتا ہے جوبیماریوں کا باعث ہوسکتا ہے۔
سبز کیمیا، مختصر طور پر لاگت کے اعتبار سے ایک کارگر طریقہ ہے جس میں اشیا، توانائی کی کھپت اور فضلاتی مادّوں کے بننے میں کمی واقع ہوتی ہے۔
ذرا سوچیے
ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ماحول کی حفاظت کے لیے ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ کچھ تصورات، اگر منفرد انسانوں کے ذریعہ اپنائے جائیں تو انسانی زندگی اور بہترماحول کی سمت مدد کر سکتے ہیں۔ اپنے گھر یا لان میں ہمیشہ ایک کمپوسٹ باکس رکھیے جس میں اپنی کیاریوں اور پودوں کے لیے کھاد بنائیے تاکہ کیمیائی کھاد کا استعمال کم ہوسکے۔ جب آپ بازار سے گھر کا سامان، سبزیاں یا کچھ اور خریدنے جائیں تو اپنے ساتھ کپڑے کا تھیلا رکھیے اور دکاندار سے پلاسٹک کا تھیلا مت لیجیے۔ یہ دیکھیے کہ آپ کے علاقے میں اخبار، شیشے، ایلیومینیم اور دوسری چیزیں ریسائکل کے لیے جاتی ہیں۔ ہمیں ان ڈیلروں کو تلاش کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہماری ہر مشکل کے لیے حل موجود نہیں ہوتے لیکن ہم ان معاملات پر مرکوز ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں ہم سنجیدگی سے سوچتے ہیں اور اس کے بارے میں ہم کچھ کر سکتے ہیں۔ جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ ہمیشہ یاد رکھیے کہ ماحول کا تحفظ ہم سے ہی شروع ہوتا ہے۔
خلاصہ
ماحولیاتی کیمیا ماحول میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کیمیائی انواع جو ماحول میں پائی جاتی ہیں وہ یا تو قدرتی طور پر پائی جاتی ہیں یا انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی ہمارے اطراف میں ناپسندیدہ تبدیلیوں کے اثرات سے ہوتی ہے جن کے پودوں، جانوروں اور انسانوں پر مضر اثرات ہوتے ہیں۔ پالیوٹینٹ مادّے کی تینوں حالتوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہم نے صرف ان پالیوٹینٹ پر بحث کی ہے جو انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ فضائی آلودگی کا مطالعہ عام طور پر ٹروپواسفیئرک اور اسٹریٹوسفیئرک آلودگی کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ٹروپواسفیئر کرّہ باد کا سب سے نچلا حصّہ ہوتا ہے (10km~) جس میں انسان، دوسرے جانداروں اور پیڑ پودے پائے جاتے ہیں۔ اسٹریٹواسفیئر سطح سمندر سے تقریباً 50 km اونچائی تک پایا جاتا ہے۔ اسٹریٹواسفیئر کی اہم جُز اوزون پرت ہوتی ہے۔ ٹروپوسفیئرکی آلودگی بنیادی طور پر سلفر، نائٹروجن، کاربن، ہیلوجن کے مختلف آکسائڈ اور دوسرے ذرّاتی پالیوٹینٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ گیسی آلودگیاں زمین پر تیزابی بارش کی شکل میں ہوتی ہیں۔ زمین کی سطح تک پہنچنے والی شمسی توانائی کا %75 زمین جذب کرتی ہے اور باقی توانائی فضا میں واپس چلی جاتی ہے۔ یہ گیسیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے حرارت کو روک لیتی ہیں جس کی وجہ سے گلوبل وارمنگ بڑھتی ہے۔ یہ احساس بھی ضروری ہے کہ یہی گیسیں زمین پر زندگی کے لیے بھی ذمہ دار ہوتی ہیں کیونکہ وہ زندگی کی بقا کے لیے ضروری مقدار میں شمسی توانائی کو بھی روکتی ہیں۔ سبزگھر گیسوں میں اضافہ زمین کی فضا کے درجۂ حرارت کو بھی بڑھارہا ہے۔ اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو اس کے نتیجے میں آخر کار قطبین کی برف پگھل جائے گی جس کے نتیجے میں سمندر کے ساحلی علاقے غرق ہو جائیں گے۔ بہت سی انسانی سرگرمیاں کیمیائی مرکبات پیدا کرتی ہیں جو اسٹریٹواسفیئر میں اوزون پرت کے پتلا ہونے کے لیے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے اوزون سوراخ پیدا ہو گیاہے۔ اوزون کے ذریعہ، UV اشعاع زمین کی فضا میں داخل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے جنین میں خرابیاں (تبدیلیاں) پیدا ہو سکتی ہیں۔ پانی، زندگی کے لیے آبِ حیات ہے، لیکن یہی پانی، جب مرض آفریں خوردعضویوں، نامیاتی آلودگی، زہریلی بھاری دھاتیں، پیسٹی سائڈز وغیرہ سے آلودہ ہو جاتا ہے تو زہر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں پینے کے پانی کی صفائی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی معیار پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعتی فضلات اور گھن مار کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں زمین اور آبی ذرائع کی آلودگی بڑھتی ہے۔ ذراعتی کاموں کے لیے کیمیائی مادّوں کا منصفانہ استعمال قائم رہنے والی ترقی کی سمت لے جاتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی پر قابو رکھنے کی حکمت عملیاں اس طرح ہو سکتی ہیں (i) فضلہ کا انتظام: یعنی فضلاتی مادہ کو کم کرنااور اس کا مناسب تصفیہ کرنا، اشیا اور توانائی کی ری سائکلنگ (Recycling) (ii) روز مرّہ کی زندگی میں ایسے طریقوں کا استعمال جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہو۔ دوسرا طریقہ علمِ کیمیا کی ایک نئی شاخ ہے جو ابھی اپنے ابتدائی دور (طفلی عہد) میں ہے اور یہ سبز کیمیا (Green Chemistry) کہلاتی ہے۔ یہ موجودہ علم اور روایات کو اس طرح استعمال کرتی ہے کہ پالیوٹینٹ کی پیداوار میں کمی واقع ہوسکے۔
مشقیں
14.1 ماحولیاتی کیمیا کی تعریف بیان کیجیے۔
14.2 100 الفاظ میں ٹروپو اسفیر کی آلودگی کی وضاحت کیجیے۔
14.3 کاربن مونوآکسائڈ گیس، کاربن ڈائی آکسائڈ گیس سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ کیوں؟
14.4 ان گیسوں کی فہرست بنائیے جو سبزگھر اثرا کے لیے ذمہ دار ہیں۔
14.5 ہندوستان میں مجسمے اور تاریخی عمارتیں تیزابی بارش سے متاثر ہوتی ہیں۔ کیسے؟
14.6 اسموگ کیا ہے؟ ایک عام اسموگ ضیا کیمیائی اسموگ سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟
14.7 ضیا کیمیائی اسموگ بننے میں ہونے والے تعاملات لکھیے۔
14.8 ضیا کیمیائی اسموگ کے نقصان دہ اثرات کیا ہیں اور ان پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے؟
14.9 اسٹریٹواسفیئر میں اوزون پرت کے پتلا ہونے میں شامل تعاملات کیا ہیں؟
14.10 اوزون سوراخ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اس کے نتائج کیا ہیں؟
14.11 آبی آلودگی کی خاص وجوہات کیا ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
14.12 کیا آپ نے اپنے گردوپیش میں آبی آلودگی دیکھی ہے؟ اسے قابو میں کرنے کے لیے آپ کون سے اقدامات تجویز کریں گے؟
14.13 بایوکیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ (BOD) سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
14.14 کیا آپ نے اپنے پڑوس میں مٹی کی آلودگی دیکھی ہے؟ آپ مٹی (زمین) کی آلودگی کو روکنے کے لیے کیا کوشش کریں گے؟
14.15 گھن مار اور نباتات کش کیا ہیں؟ مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
14.16 سبز کیمیا سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں کس طرح مدد کرتی ہے؟
14.17 کیا ہوسکتا تھا اگر سبزگھر گیسیں زمین کے کرّہ ہوا (فضا) سے مکمل غائب رہتیں؟
14.18 بحث کیجیے کہ ایک جھیل میں مچھلیوں کی ایک بڑی تعداد مردہ تیرتی ہوئی پائی گئی۔ زہریلے مادّوں کو اس میں پھینکے جانے کا کوئی ثبوت آپ کو نہیں ملتا لیکن آپ کو فائٹوپلانکٹن کی فراوانی ملتی ہے۔ مچھلیوں کے خاتمے کی وجوہات تجویز کیجیے۔
14.19 گھریلو فضلہ استعمال کھاد کی شکل میں کس طرح کیا جاسکتا ہے؟
14.20 اپنے کھیت یا باغ کے لیے آپ نے ایک کمپوسٹ تیار کرنے والا گڑھا بنایا ہے۔ ایک اچھی پیداوار کے لیے فضلاتی مادوں کی ریسائکلنگ، بدبو اور مکھیّوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اس عمل کی وضاحت کیجیے۔