1
CCTکی دنیا سے روبرو
مقاصد
اس باب کو مکمل کرنے کے بعد طلبا :
· کمپیوٹر اور مواصلاتی ٹیکنالوجی (CCT)کی بنیادی نوعیت کی شناخت کرسکیں گے۔
· CCT کی خصوصیات کی وضاحت کرسکیں گے ۔
· گھروں پر ، تعلیم میں اور دیگر شعبوں میں CCT کا استعمال بتاسکیں گے ۔
· عام زندگی میں CCTکی اہمیت سمجھ سکیں گے ۔
· CCTکی وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیوں سے واقف ہو سکیں گے ۔
· ڈیجیٹل تفریق (Digital divide) کے مسائل پر غور کر سکیں گے، اور
· ہندوستان میں CCTکے فروغ میں اہم قومی تنظیموں کے تعاون کی شناخت کرسکیں گے ۔
’’ٹیکنالوجی وجود میں آجاتی ہے ،یہ نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری ۔ یہ بس واقع ہوجاتی ہے۔‘‘
اینڈر یو گرو و
انٹل کارپوریشن کے شریک بانی
تعارف
عموماً الیکٹرونک آلات کی افراط اور خاص طور سے کمپیوٹر معاون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور مواصلاتی نیٹ ورک تک آسان رسائی کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ آج دنیا e حرف سے شروع ہوتی ہے ۔ جیسے e-mail، e-learning ، e-business، e-content اور یہاں تک کہ e-wasteبھی۔ مختصراً کہا جائے تو یہ برقی دنیا ) (e-world ہے ! الیکٹرونکس ہمارے زمانے کی غالب ٹیکنالوجی ہے ۔
صبح سویرے جگانے والے الارم سے لے کر ان متعدد آلات کے جن کا ہم دن بھر استعمال کرتے ہیں وہ تمام مشینیں پروگرام شدہ (Programmed)ہوتی ہیں ۔ کمپیوٹر ایک قابل پروگرام مشین ہے یہ ہماری زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کرتی ہے ۔ کمپیوٹرذات ، عقائد ، زبان اور ثقافت کی تفریق کیے بغیر پوری دنیا کے لوگوںکو ایک دوسرے سے جوڑ تا ہے اور مواصلاتی نیٹ ورک میں معاونت کرتا ہے جو پہلے نا قابل ِتصور تھا ۔
1.1 CCT کے ساتھ ساتھ دنیا بدل رہی ہے
پوری دنیا معلومات پر مبنی معاشرے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے ۔ لہٰذا یہ امر انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ تمام لوگ CCT کی بنیادی نوعیت اور مجموعی صلاحیتوں کو سمجھیں اور ان کی قدر کریں کیونکہ کمپیوٹر معلومات کو مرتب کرنے کے اوزار ہیں اور مواصلاتی ٹیکنالوجی انفارمیشن کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔یہ دونوں مل کر ہم سب کو متاثر کرتے ہیں ۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم ٹیکنالوجی آلات کو اپنے کاموں میں استعمال کرنے کے اہل ہیں ،ہمارے کام کا میدان خواہ کچھ بھی ہو۔
یہ ٹیکنالوجی ہم سب کی زندگیوں کو مندرجہ ذیل طریقوں سے متاثر کرتی ہے:
· تعلیمی ، اپنی ذاتی دلچسپیوں کے مطابق اپنے طریقۂ تعلیم اور نصاب تعلیم کی تشکیل میں۔
· تکنیکی، معلومات کی تشکیل ، اشاعت اور تقسیم کے سلسلے میں ۔
· سماجی ، ہمارے رہن سہن ، کام کرنے اور ترقی کرنے نیز عالمی پس منظر میںاپنے بارے میں غور وفکر کرنے میں۔
آج کمپیوٹر ذاتی استعمال کا سامان ہے جو بہت مؤثر ہے،چلانے میں آسان ہے اور کہیں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ کسی بھی جگہ کام کرسکتے ہیں اور کسی بھی وقت کسی کے بھی ساتھ ہمیں جوڑسکتے ہیں (شکل1.1)۔ یہ انسانی ہاتھ اور دماغ کی توسیع نظر آتے ہیں اور کام کے ہر شعبے کے لیے بہت ضروری ہیں ۔
1.1.1 گھروں میں CCT
کمپیوٹر اور کمپیوٹر ایپلی کیشن کی تین مختلف قسمیں ہیں جن سے روز مرہ کی زندگی میں ہمارا سابقہ پڑتا ہے ۔ ایک تو وہ مشینیں ہیں جو مخصوص کاموں کو ہی انجام دیتی ہیں ۔

واشنگ مشین یا مائکرو ویواوون جیسے جانے پہچانے گھریلو سازو سامان ان کے اندرلگے الیکٹرونک آلات کی مدد سے کام کرتے ہیں۔دوسری وہ مشینیں جو مخصوص اور محدود سرگرمیاں انجام دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جیسے گیمز کھیلنا اور تفریح کی دیگر شکلیں ۔ تیسرے زمرے میں ہمہ گیر نوعیت کی مشینیں شامل ہیں جو بہت سارے کاموں کو انجام دینے کی اہل ہوتی ہیں جن میں انٹر نیٹ کی سرفنگ (Internet Surfing)بھی شامل ہے ۔
ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں متعدد برقی اور الیکٹرونک آلات استعمال کرتے ہیں جیسے کمپیوٹر ، ڈیجٹل گھڑیاں ، آڈیو سسٹم ، سی ڈی اور ڈی وی ڈی پلیئر ، واشنگ مشین وغیرہ ۔
گھر کے باہر ہم لفٹ ، میٹرو ریل ، عوامی ٹیلی فون بوتھ میں سکے ڈالنے والی مشین، کافی اور چائے فروش مشینوں وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر آلات کمپیوٹر منضبط ہوتے ہیں ۔ ہمیں باہر سے کمپیوٹر نظر نہیں آتے کیوں کہ یہ اندر نصب ہوتے ہیں ۔
کمپیوٹروں کی وجہ سے فن اور موسیقی ، فوٹو گرافی اور اینیمیشن (Animation)، تدوین اور طباعت میں تبدیلی آگئی ہے۔ ڈیجٹل ہوم تھیئٹر سسٹم ، ڈی وی ڈی پلیئر، ڈیجٹل آلات ِ موسیقی جن میں کمپیوٹر ایک لازمی جز کی حیثیت رکھتا ہے ، تفریح کو کفایتی اور اعلیٰ معیار کا بنا دیتے ہیں۔ انٹر نیٹ عالمی مواصلات (Global Communication)اطلاعات کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور خدمات کے آسان ذریعے کے طور پر اُبھرا ہے۔ ای میل ، چیٹ(Chat)،سرفنگ انفارمیشن ، بینک ، ریزرویشن وغیرہ انٹرنیٹ کے استعمال کے عام ترین طریقے ہیں ۔لاکھوں کمپیوٹر نیٹ ورک کا وسیع تر نظام ، انٹر نیٹ کی تشکیل کرتا ہے ۔یہ نیٹ ورک ٹیلی فون ، زیر آب کیبل اور مصنوعی سیاروں (Satellites)کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں ۔
1.1.2 تعلیم کے میدان میں CCT
اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیو ں میں بڑے پیمانے پر کمپیوٹراستعمال کیے جاتے ہیں ۔ ان کا استعمال کمپیوٹر کی مدد سے آموزش (Computer Aided Learning) ، فاصلاتی تعلیم اور انتظامی امور میں کیا جاتا ہے ۔ ای لرننگ(e-learning) ، تربیتی پروگرام اور تحقیق ،تعلیمی میدان کے وہ شعبے ہیں جہاں کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں ۔
اگر کوئی طبیعات کا استاد لہر کی حرکت کے دوران ذرے کے مختلف مقامات کو دکھانا چاہتا ہے ، کوئی کیمیا کا استاد سالماتی تصادم کو دکھانا چاہتا ہے ، کوئی حیاتیات کا استاد دھڑکتا ہوا دل دکھانا چا ہتا ہے ، ریاضی کا استاد یہ دکھانا چاہتا ہے کہ جب اضلاع کی تعداد لامحدود ہوتو کس طرح ایک منظم کثیر ضلعی دائرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے یا ایک ماہر معاشیات نمو پذیر بازارکودکھانا چاہتا ہے تو کمپیوٹر ان تمام مظاہر کو مؤثر طور پر دکھا سکتا ہے ۔
روایتی کتب خانوں کو لائبریری مینجمینٹ سافٹ ویئر کی مدد سے کمپیوٹر سے آراستہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعہ کتابوں کا ڈیٹا بیس (معلومات)تیار کرنے ، کتاب کواندراج نمبر (Accession Number) دینے میں مدد ملتی ہے ۔ یہ سافٹ ویئر مواد اور مصنف دونوں اعتبار سے کتاب کو تلاش کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اسٹاک کی جانچ کرتا ہے اور نوٹس جاری کرتا ہے ۔آپ ڈیجٹل لائبریری میں بھی جا سکتے ہیں جہاں کتابیں الیکٹرونک فارمیٹ میں موجود ہوتی ہیں جنھیں ای بک (e-book) کہا جاتا ہے ۔ تجربہ گاہوں میں ڈیٹا کو ریکارڈ کرنے ، اس کا تجزیہ کرنے اور بصری نمائش کے لیے انھیں ترتیب دینے جیسے کئی کاموں میں کمپیوٹر کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
داخلہ سے لے کر امتحان تک ، تنظیم عملہ(Staff Management) سے لے کر والدین کے ساتھ تبادلۂ خیال تک ،طلبا کے بارے میں معلومات سے لے کر عوامی لین دین تک کمپیوٹر تعلیمی اداروں کے خود کار انتظام و انصرام کو ممکن بنا تا ہے ۔ ان کا استعمال طلبا کے داخلے کا اندر اج کرنے ، فیس وصول کرنے ، طلبا اور عملے کی حاضری لگانے ، امتحانات کا انتظام کرنے اور نتیجوں کا اعلان کرنے میں کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ کسی تنظیم سے متعلق تمام معلومات نیٹ پر دستیاب ہوتی ہیں تاکہ اس معلومات کو کسی بھی جگہ سے حاصل کیا جا سکے ۔
کمپیوٹر فاصلاتی آموزشی نصاب کے عمل کو ممکن بناتا ہے جسے عام طور سے ای لرننگ) (e-learningکہتے ہیں۔کمپیوٹر پروگرام یا ویب ٹول مرحلہ وار آموزش فراہم کرتے ہیں ۔ طالب علم اپنے لیے آموزش کی رفتار کا تعین خود کرسکتا ہے۔ ای لرننگ ایک لچکدار اور آسان طریقہ ہے ۔ایک طالب علم ای کلاس میں شامل ہوسکتا ہے ۔ استاد ای کلاس کی مدد سے طلبا میں خود آموزی کی ترغیب دے کر کلاس روم کی تدریس میں بہتر ی لا سکتا ہے ۔ معیاری تعلیمی مواد مثلاً آن لائن ای بکس، آن لائن ویڈیو آڈیو لکچر، مستقبل سازی کی رہنمائی کئی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی ویب سائٹوں پر دستیاب ہیں ۔
نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ(NCERT)، اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکو لنگ(NIOS)اور سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE)جیسے اداروں کی اپنی ویب سائٹ ہیں ۔ روزانہ ہزاروں لوگ ان ویب سائٹ سے استفادہ کرتے ہیں ۔

نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ(NCERT)
این سی ای آر ٹی کی اپنی ویب سائٹ ہے (شکل 1.2)۔اس ویب سائٹ پراین سی ای آرٹی ، اس کے پروگراموں اور سرگرمیوں ، اسکولی درسیات اور نصاب ، روز مرہ کی سرگرمیوں کی معلومات دستیاب ہیں ۔این سی ای آر ٹی کی تمام درسی کتب جس میں یہ کتاب[ کمپیوٹر اور مواصلاتی ٹیکنالوجی یعنی CCT ،گیارھویں جماعت کی درسی کتاب بھی ]شامل ہے ، حوالہ جاتی مقاصد کے لیے آن لائن دستیاب ہیں ۔ مذکورہ ای بکس تک کسی کی بھی رسائی ممکن ہے اور انھیں www.ncert.nic.in یا www.ncert.gov.in سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔
اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU)

IGNOUآرٹس،سائنس،کامرس،
سوشل سائنس اورانفارمیشن ٹیکنالوجی میں فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ ڈگری پروگرام پیش کرتی ہے ۔ اس نے اعلیٰ تعلیم کو علم کے شائقین کے دروازوں تک پہنچاکر اسے جمہوری بنادیا ہے ۔یہ یونیورسٹی ضرورت پر مبنی علمی پروگرام کے تحت باروز گار لوگوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرتی ہے ۔اس کے تمام دستیاب نصابات ماہرانہ اور پیشہ وارانہ نوعیت کے ہیں۔ ان سب باتوں کے علاوہ IGNOU ملک بھر میں فاصلاتی تعلیم کے معیار کا تعین کرنے اور انھیں برقرار رکھنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے (شکل 1.3)۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (NIOS)
این آئی او ایس پائیدار اور طالب علم پر مرکوز تعلیم فراہم کرتا ہے ۔ اسے قومی تعلیمی پالیسی کی تعمیل میں ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل ،حکومت ہندنے قائم کیا تھا ۔ عمومی اور اکیڈمک کورس کے ساتھ ساتھ این آئی او ایس NIOS) (کئی روزگاری اور معاشرہ اساس نصابات بھی چلاتا ہے ۔ اس کی ویب سائٹ کے لیے آپ www.nios.ac.in اور www.nios.org دیکھ سکتے ہیں (شکل 1.4)۔

سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE)
CBSEکی اپنی ویب سائٹ www.cbse.nic.in ہے (شکل 1.5)۔یہ ویب سائٹ داخلہ ، نصاب،درسیات، امتحان کے نتائج وغیرہ سے متعلق اطلاعات فراہم کرتی ہے ۔ داخلہ ، نمبرات کی دوبارہ جانچ اور دیگر مقاصد کے لیے ضروری فارم اس ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں۔ آپ ا ن فارموں کو آن لائن بھر کر جمع بھی کرسکتے ہیں۔اس سے طلبا اور ان کے والدین کے وقت کی بچت ہوتی ہے۔
وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے ایک ایجوکیشن پورٹل ڈیزائن کیا ہے جس کا نام ہےSAKSHAT : One‘‘ ’’ Stop Solution to Education(شکل 1.6)۔ یہ پورٹل ابتدائی جماعت کے طلبا سے لے کر ریسرچ اسکالر ، اساتذہ اور تا عمر مطالعہ کرنے والے لوگوں کی تعلیم سے متعلق ضروریات کی تکمیل کرتا ہے ۔ اس پورٹل کے لیے آپ www.sakshat.ac.inپر لاگ آن کرسکتے ہیں ۔
زیادہ تر یونیورسٹیاں اور اسکول بورڈ کچھ آن لائن امتحانات لیتے ہیں ۔جدید ترین شماریاتی طریقوں کا استعمال کرکے اور متعددمعیاروں کے مطابق صحیح ترین تجزیے کی سہولت پیدا کرکے نتائج کی تدوین کو کمپیوٹر آراستہ کر دیا گیا ہے ۔امیدواروں کی کمپیوٹر آراستہ فہرست میں کمپیوٹر کے لیے طلبا کی تصویر یں اور انگلیوں کے نشانات کی شناختیں موجود ہوتی ہیں اس سے غلط امیدوار اور دیگر بد عنوانیوں کا پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔

1.1.3 عام زندگی میں CCT
حکومت کے کام کاج کو شفاف اور لوگوں کے تئیں جوابدہ (Answerable)بنانے کے لیے CCT ایک طاقتور ذریعہ فراہم کرتی ہے ۔اسی طرح تجارتی اور کا روباری سر گرمیوں میں زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
حقِ معلومات کا قانون (RTI Bill)جیسے جمہوریت کو تقویت پہنچانے والے دیگر عوامل کے ساتھ جب CCT کا م کرتی ہے تو ہم عام شہریوں کے زیادہ سے زیادہ خود مختار ہونے کی امید کرسکتے ہیں ۔CCTکی بدولت بچولیوں کا عمل دخل ختم ہو سکتا ہے جو اطلاعات کو پوشیدہ رکھ کریا ان خاص لوگوں کو بتا کر فائدہ اٹھاتے ہیں جو پھر ان اطلاعات کو حسب منشا استعمال کرتے ہیں ۔ بالآخر ، ضروری معلومات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے جو لوگ مرکزی دھارے سے دور ہیں ان تک CCT کی رسائی کے ذریعے ہمارے سماج میں بہت زیادہ سماجی ، معاشی نا برابری کو متوازن کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
1.2 CCTاور ڈیجٹل تفریق
اب تک سست روی سے تبدیل ہونے والا کثیر طبقاتی ہندوستانی سماج جس میں طرح طرح کی ناہمواریاں پائی جاتی تھیں اب ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے ۔ ایسے وقت میں سماج پر متجانس سماج بننے کے لیے بہت دباؤ پڑ رہا ہے۔ یہ دباؤ اس وقت اور واضح ہوجاتا ہے جب سماج کے مختلف طبقات کے درمیان عدم مساوات بہت زیادہ ہو۔
اس قسم کی ایک عدم مساوات ڈیجٹل تفریق (Digital divide) ہے ، جو ڈیجٹل دنیا (کمپیوٹر اور متعلقہ ٹیکنالوجی ) تک رسائی رکھنے والے لوگوں کو ان لوگوں سے علاحدہ کرتی ہے جن کی رسائی اس ڈیجٹل دنیا تک نہیں ہے ۔ نوجوانوں کا ایک طبقہCCTسے گھر پر ، اسکول میں اور اپنے موبائل فون پر فائدہ اٹھا سکتاہے جب کہ زیادہ تر لوگوں کا CCT سے سابقہ اتفاق سے ہی پڑتا ہے ۔ ظاہر ہے ایک طبقہ تو ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بہتر بنالے گا جب کہ دوسرا طبقہ اطلاعات تک رسائی کے معاملے میں مزید پچھڑ جائے گا ۔
یہ تفریق سماج میں تناؤ اور یہا ںتک کہ تنازعات کا سبب بن سکتی ہے ۔ حالاں کہ اس تناؤ کو مندرجہ ذیل طریقے سے کم کیا جاسکتا ہے :
· اگر ہر ایک کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ CCT سے کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں ،
· اگر ہم CCT تک رسائی کی لاگت کو کم کر سکیں ،
· اگر عوامی انٹر نیٹ کی بھر پور سہولیات فراہم ہو جائیں ،اور
· اگر ہندوستانی زبانوں میں بہت سی ویب سائٹیں کھل جائیں ۔
ہم خود اپنی زندگی کے دوران ہی علم کاصحیح انقلاب دیکھ سکتے ہیں ۔ خاص طور پر عالمی نیٹ ورک تک رسائی اور مواصلاتی نیٹ ورک سے واقفیت ہمیں ایک نئی قسم کی آزادی سے روشناس کروا سکتی ہے ۔ مثلاً آزادانہ طور پر سوچنے ، عمومی مسائل کے حل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ،اپنی ضرورتوں کا ادراک نیز ایسی بھی چیزیں جن کی سود مند ی کا ہمیں آج تک خیال بھی نہیں آیا تھا ۔
1.3 CCTاور ای کا مرس (CCT and E-commerce)
ای کامرس کے تحت بازار یابی، گاہک سے ملاقات ، پروڈکٹ براؤزنگ ، شاپنگ باسکیٹ چیک آؤٹ ، ٹیکس اور خریداری، وصولیابی اور پراسس آرڈرجیسے کامرس کے مختلف شعبوں میں کمپیوٹر کا استعمال ہوتا ہے ۔ ای بزنس (e-business)کے تحت مختلف خدمات جیسے لین دین کی پروسیسنگ ، دستاویزسازی ، پیش کش ، مالی تجزیہ ، Home based service ، مال نامہ کی ترتیب اور تیار مال (Product)کے بارے میں اطلاعات جمع کرنے میں CCT کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
سبھی بڑے بینک جن میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا بھی شامل ہے ، انٹر نیٹ بینکنگ کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں (شکل 1.7)۔ اس سہولت کے ذریعے کہیں سے بھی اکاؤنٹ بیلنس چیک کر سکتے ہیں اور بینک کے لین دین (Bank transaction) انجام دے سکتے ہیں ۔ہم آن لائن اکاؤنٹ کی تفصیلات دیکھ سکتے ہیں ، بل اداکرسکتے ہیں اور کھاتے کی تفصیل چھاپ سکتے ہیں ۔ بینک SMS الرٹ کی خدمت بھی فراہم کرتا ہے تاکہ جب کبھی بھی بینک کے ساتھ لین دین ہو تو بینک ہمارے موبائل فون پر SMSبھیج دے ۔

CCTکے ڈیجٹل نوعیت کا ارتکازی نتیجہ
متن ، تصویریں، شماریاتی جدولیں ، نقشے ، موسیقی ، فلمیں وغیرہ سبھی کو ڈیجٹل طور پر تیار کیا جاتا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ انھیں صفر (0) اور ایک(1)کی شکل میں کوڈ کیا جاتا ہے ۔ ایسا کرنے سے یہ سب مشترکہ پلیٹ فارموں پر یکجا ہوجاتی ہیں۔ انھیں ایک دوسرے میں بدلا جا سکتا ہے اور ڈیجٹل شکل میں ان کی اشاعت کی جا سکتی ہے ۔
1.4 CCTکے میدان میں کام کرنے والی اہم قومی تنظیمیں
1.4.1 نیشل انفارمیٹکس سینٹر (NIC)
ڈپارٹمنٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نیشل انفارمیٹکس سینٹر (شکل 1.8) ہندوستان کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں نیز مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ضلعی و دیگر حکومتی اداروں کو ای گورنینس (e-governance)اور نیٹ ورک کی سہولتیں فراہم کرتا ہے ۔ غیر مرکوزی منصوبہ بندی ، حکومتی خدمات میں سدھار نیز قومی اور مقامی حکومتوں کے کام میں شفافیت کے لیے یہ متعدد ICTخدمات فراہم کرتا ہے جس میں قومی سطح کا مواصلاتی نیٹ ورک بھی شامل ہے ۔ NICانفارمیشن ٹیکنالوجی پروجیکٹ کے نفاذ میں معاونت کرتا ہے ۔یہ ہندوستانی لوگوں کی زندگیوں میں کمپیوٹر کے نظام کو داخل کرنے کے لیے بھی ذمے دار ہے۔

1.4.2 نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروسز کمپنیز (NASSCOM)
نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروسز کمپنیز (NASSCOM) (شکل 1.9)ممتاز تجارتی ادارہ اور ہندوستان میں IT-BPOصنعت کا چیمبر آف کامرس ہے ۔ یہ عالمی تجارتی ادارہ ہے جس کے 1200سے زیادہ ممبران ہیں جو زیادہ تر خدمات، مصنوعات سازی ، IT انفرااسٹرکچرمینجمنٹ ، R&D خدمات، ای کامرس اور ویب خدمات ، انجینئرنگ خدمات ، آف شورنگ (Offshoring) ، اینیمیشن اور گیمنگ کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں ۔

1.4.3 محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی
محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی (شکل 1.10) حکومتِ ہند کی وزارت برائے مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے تحت آتا ہے ۔ اس محکمہ کا اہم مقصد ہندوستان کو عالمی اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی عظیم ترین طاقت بنانا اور اطلاعاتی انقلاب کے دور میں اسے سب سے آگے رہنے والا ملک بنانا ہے ،تاکہ زندگی کا ہر ایک شعبہ الیکٹرونکس سے استفادہ کرسکے اور ہندوستانی الیکٹرونک صنعت کو عالمی سطح کی صنعت کی شکل میں فروغ دیا جاسکے ۔اس کی ویب سائٹ کا پورٹل یعنی دی انڈین پورٹل (www.india.gov.in)بہت اہم ہے ۔یہ صارفین کی خدمات کے لیے ایک سنگل ونڈو ایکسس ہے جس کے ذریعہ سرکاری سیکٹر کے تمام اداروں اور تنظیموں کی جملہ جانکاری الیکٹرونک شکل میں دستیاب ہے ۔ یہ کثیر لسانی مواد فراہم کرتا ہے اور اسے 2006میں ٹیکنالوجی کے قومی سطح کے بہترین ای گورنینس (e-governance)ایوارڈ سے نوازا گیا ۔اس ایوارڈ کا اعلان کمپیوٹر سوسائٹی آف انڈیا (CSI)کرتی ہے ۔

خلاصہ
· طاقتور ٹیکنالوجی اب ہماری دسترس میں ہے ۔
· اس نے وقت ، فاصلہ اور مالی حدود پر غلبہ پا لیا ہے ۔
· CCTلوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے ، ان کے درمیان کتنا بھی فاصلہ کیوں نہ ہو ۔
· CCTنے ہماری طرز زندگی کو بدل دیا ہے۔
· کمپیوٹر گھر میں آلات کی طرح ، تفریح /کھیل اور انٹر نیٹ پر سرفنگ کے لیے مفید ہے ۔
· CCTتعلیم ، کاروبار ، ای گورنینس وغیرہ میں مدد گار ہے ۔
· CCTتک آسان رسائی سے ڈیجٹل تفریق کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
مشقیں
1۔ گھر میں کمپیوٹر کے استعمال کے کچھ ایسے طریقوں کی فہرست بنائیے جن کا ذکر اس باب میں نہیں کیا گیا ہے ۔
2۔ تجارتی کمپنیاں کمپیوٹر کی مدد سے جو سرگرمیاں انجام دیتی ہیں ان کی فہرست بنائیے ۔
3۔ کسی نزدیکی صنعت کا دورہ کیجیے اور وہاں کمپیوٹر کے استعمال کی فہرست تیار کیجیے ۔
4۔ صنعت میں کمپیوٹر کو استعمال کرنے کے فائدے بتا ئیے ۔
5۔ تجارت میں کمپیوٹر وں کے فوائد لکھیے۔
6۔ اپنے اسکول کو بغور دیکھیے اور ان شعبوں کی فہرست بنائیے جہاں کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں اور وہ مقاصد بھی بتائیے جن کے لیے وہ استعمال کیے جاتے ہیں۔
7۔ ڈیجٹل کتب خانے کے فوائد کی فہرست بنائیے ۔
8۔ معلوم کیجیے کہ آپ کے اسکول میں کون سا لائبریری مینجمینٹ سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے ۔
9۔ ای – لرننگ (e-learning) کی خوبیاں اور خامیاں بتائیے ۔
10۔ ڈیزائن اور ڈرائنگ میں کمپیوٹر استعمال کرنے کے فائدے بیان کیجیے ؟
حوالے
ویب سائٹ (Websites)
1۔ www.mit.gov.in
2۔ www.home.nic.in
3۔ www.wikipedia.org
4۔ www.encyclopedia.com
5۔ www.onelook.com
تعلیم (Education)
1۔ www.ncert.nic.in اور www.ncert.gov.in
2۔ www.sakshat.ac.in
3۔ www.ignou.ac.in
4۔ www.cbse.nic.in
5۔ www.nios.ac.in
6۔ www.education.nic.in
انٹر نیٹ بینکنگ (Internet Banking)
1۔ www.onlinesbi.com
سفر کی منصوبہ بندی (Travel Planning)
1۔ www.indianrailways.gov.in
2۔ www.india-airlines.nic.in
3۔ www.yatra.com
4۔ www.makemytrip.com