Skip to content


2

CCTکے اجزا


مقاصد

اس باب کومکمل کرنے کے بعد طلبا :

· کمپیوٹر کے ارتقا کا پتہ لگاسکیں گے،
· کمپیوٹر اور اس کے آلات کوبیان کرسکیں گے،
· کمپیوٹر نظام کے اجزا کی فہرست تیار کرسکیں گے،
· مختلف اِن پٹ اور آؤٹ پٹ آلات کا موازنہ کرسکیں گے،
· مختلف پورٹس (Ports) کی  زمرہ بندی کرسکیں گے،
· اسٹوریج کے مختلف آلات کو سمجھ سکیں گے،
· مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ارتقا کو دوہراسکیں گے،
· کمپیو ٹر کی زبان (Computer Language) اور اس کے فروغ کی وضاحت کرسکیںگے،
· مختلف قسم کے سافٹ ویئر کا موازنہ کرسکیں گے، اور
· پروگرامنگ سے وابستہ مراحل کی ترجمانی کرسکیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا درست ہے کہ پرسنل کمپیوٹر انسان کا بنایا ہوا  سب سے زیادہ قوت بخش اوزار ہے۔ یہ ترسیل کے اوزار ہیں، یہ تخلیقیت کے اوزار ہیں اور ان کا  استعمال کنندہ ا نھیں کوئی نئی شکل دے سکتا ہے ۔

بل گیٹس

تعارف

پہلے باب میں ہمارا تعارف ایک ایسے آلے سے کرایا گیاجس نے ہمارے کام کرنے، زندگی گزارنے اور کھیلنے کے طریقے کو بدل دیا۔ زندگی میں اتفاق سے ہی کوئی ایسی نئی ایجاد ہوتی ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ کمپیوٹر ایک ایسی ہی حیرت ناک ایجاد ہے۔
الیکٹرونک کمپیوٹر تقریباً نصف صدی پرانا ہے لیکن اس کی ابتدا تقریباً 2000برس  پہلے ہو چکی تھی۔ تاہم صرف گذشتہ 40 برسوں میں ہی اس نے سماج میں تبدیلی برپاکردی۔ ابتدائی لکڑی کے ایباکس  (Abacus) سے لے کر جدید ہائی اسپیڈ مائکروپروسیسر تک کمپیوٹر نے ہماری زندگی کے ہر پہلو میں بہتری لانے کے لیے اسے بدل کر رکھ دیا ہے۔

2.1 کمپیوٹر پر نظر ڈالنے کا طریقہ

آئیے ہم اپنے اسکول کی کمپیوٹر لیب کا دورہ کریں۔ شاید ہم اس طرح کا سازوسامان دیکھیں جیسا کہ شکل 2.1 میں دکھایا گیاہے۔ لیکن ہم نے لیپ ٹاپ بھی تو دیکھے ہیں ۔ہم نے کیا فرق محسوس کیاہے؟آئیے ان آلات کے بارے میں معلومات جمع کریں جو ان سے مختلف نظر آتے ہیں لیکن وہ بھی کمپیوٹر ہیں۔
11
    کمپیوٹر کا نام درحقیقت ا س کے اہم فعل شمار کرنے یعنی 'compute'سے اخذکیاگیاہے۔ عام معنوں میں اگر دیکھیں تو کسی بھی شمار کاری میں پرائمری ڈیٹا اور ان کے درمیان انجام دیے گئے اعمال ضروری ہیں۔ اس کا مطلب ہے ڈیٹا حاصل کرنا،  انھیں مرتب کرنا، عمل کے مختلف مراحل پر ڈیٹا کو حافظے میں رکھنا،تمام اعمال کے لیے ضروری ڈیٹا کے مجموعے کو حاصل کرنا اور اعمال کے نتائج فراہم کرنا ہے۔ اس طرح، لازمی طور پر کمپیوٹر کا مطلب ہے اجزا کا ایسا نظام جس میں(i)ڈیٹا داخل کرنا اورماحصل کو ظاہرکرنا یعنی اِن پٹ اور آؤٹ پٹ کے آلات ، (ii) پروسیسنگ یونٹ جسے سینٹرل پروسیسنگ یونٹ(CPU) کہتے ہیں، اور(iii)  میموری اسپیس یعنی ROM  (Read Only Memory) یا RAM (Random Access Memory)  واضح رہے کہ کمپیوٹر کو اس کی ظاہری شکل وصورت سے نہیں بلکہ اس کے افعال اور کارکردگی سے ہی سمجھا جاسکتاہے۔
دراصل میموری (گنجائش یعنی جگہ کی اصطلاح میں) اور رفتار نیز CPUکی پروسیسنگ کیپسیٹی( وہ رفتار جس سے یہ ترتیب انجام دیتاہے) کمپیوٹر کی نمایاں خصوصیات اور ان خصوصیات کی بنا پر کمپیوٹروں کے درمیان فرق کیاجاتا ہے۔ مزید یہ کہ جس طریقے سے کمپیوٹر ڈیٹا کو پیش کرتے ہیں اس بنیاد پر کمپیوٹروں کی زمرہ بندی اینا لاگ(Analogue) اور ڈیجٹل(Digital)کمپیوٹروں میں کی جاتی ہے۔

2.1.1کمپیوٹروں کی زمرہ بندی

ڈیٹا استعمال کرنے(Handling Data)کے طریقے کی بنیاد پر کمپیوٹروں کی زمرہ بندی دو بڑی اقسام میں کی جا سکتی ہے۔

.1 اینالاگ کمپیوٹر (Analogue Computers) : یہ کمپیوٹرمسلسل متغیرات مثلاً سگنل کی لہریں، ان کی وسعت (Amplitude)  وغیرہ کے مطابق کام کرتے ہیں۔
.2 ڈیجٹل کمپیوٹر (Digital Computers)  :  یہ کمپیوٹر بائنری ڈیجٹ (Binary digit) یعنی 0 اور 1 کے اصول  کے تحت کام کرتے ہیں۔ کسی بھی قدر (Value) یا علامت کو بائنری قدر کے ذریعے ظاہر کیاجاتا ہے۔

ہائبرڈ کمپیوٹر: یہ اینا لاگ اور ڈیجٹل کمپیوٹروں کے عمدہ خواص کے ا متزاج سے بنتے ہیں۔ڈیجٹل کاؤنٹر پارٹ اینا لاگ سگنلوں کو تبدیل کردیتے ہیں تاکہ روبوٹکس(Robotics)  اور دیگر پراسس کنٹرول کو انجام دیا جاسکے۔ ہائبرڈ کمپیوٹر کا استعمال ایئر ٹریفک اور نیشنل ڈیفنس کے رڈار(Radar) کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا جاتاہے ۔


کمپیوٹروں کی درجہ بندی ان کی طبعی ساخت (size) اور ان کے استعمال کے مقصد کی بنیاد پر بھی کی جاتی ہے ۔ کیپسٹی (گنجائش)، رفتار اور کارکردگی(Reliability)کی بنیاد پر کمپوٹروں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

.I   مائکرو کمپیوٹر  (Micro computer) :  مائکروکمپیوٹر اصطلاح کو اس وقت متعارف کرایا گیا تھا جب سنگل چپ (single chip) لارج اسکیل انٹی گریٹیڈ سرکٹ  LSIC)  (Large scale integrated-circuit کمپیوٹر پروسیسر  وجود میں آئے۔ یہ سب سے چھوٹا سنگل یوزر کمپیوٹر ہے اور اس کا CPU مائکرو پروسیسر ہے۔یہ اُسی طرح کے اعمال انجام دے سکتاہے ، اسی طرح کے ہدایات استعمال کر سکتا ہے جو دوسرے کمپیوٹر کرتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ استعمال میں آنے والے کمپیوٹر ہیں جنھیں عام طور پر’’پرسنل کمپیوٹر ‘‘(Personal Computer)کہا جاتا ہے۔

پرسنل کمپیوٹر کی اقسام

ہمارے روزمرہ کے استعمال میں ’’کمپیوٹر ‘‘اصطلاح سے مراد ڈیجٹل کمپیوٹر ہیں۔ پرسنل کمپیوٹر (PC)اس کی ایک مخصوص مثال ہے۔ ان کی درجہ بندی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر (Desktop Computers)، لیپ ٹاپ کمپیوٹر (Laptop Computers)، پام ٹاپ کمپیوٹر(Palmtop Computers)، پرسنل ڈیجٹل اسسٹنٹ(PDA)، ٹیبلیٹ PC وغیرہ کے طور پر کی جاسکتی ہے۔
12

ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر 

ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر نسبتاً بڑے ہوتے ہیں اور یہ قابل منتقلی نہیں ہیں۔ یہ عموماً کسی ڈیسک یا میز کے اوپر ایک جگہ رکھے رہتے ہیں اور ان کا تار دیوار میں لگے کسی پاور آؤٹ لیٹ میں لگایا جاتاہے۔ کمپیوٹرکے کیس (chasis) میں CPU لگا رہتا ہے۔ جب یہ کیس میز پر چپٹا رکھاجاتاہے تو اسے ڈیسک ٹاپ ماڈل کہا جاتا ہے (شکل  2.2) اور جب یہ کیس میز پر عمودی شکل میں رکھا جاتا ہے تو اسے ٹاور ماڈل کہا جاتا ہے (شکل 2.3)۔کمپیوٹر میں مانیٹر علاحدہ ہوتا ہے۔ کی بورڈ اور ماؤس بھی الگ سے لگائے جاتے ہیں تاکہ استعمال کرنے والا ڈیٹا اور کمانڈ کمپیوٹر میں ان پٹ کرسکے۔ ٹاور ماڈل کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے جگہ کی بچت ہوجاتی ہے جو دیگر اسٹوریج ڈیوائسز کو کمپیوٹر سے منسلک کرنے میں آسانی پیدا کرتاہے۔
13

لیپ ٹاپ

یہ ایک چھوٹا اور قابل منتقلی کمپیوٹر ہے (شکل 2.4)۔ یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ اسے گود میں رکھ سکتے ہیں۔ آج کل لیپ ٹاپ کمپیوٹر کو نوٹ بک کمپیوٹر بھی کہاجاتا ہے۔
14

 دستی کمپیوٹر/پام ٹاپ   

یہ کمپیوٹر لیپ ٹاپ سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ہتھیلی میں سماجاتے ہیں اسی لیے انھیںپام ٹاپ کہا جاتا ہے (شکل 2.5)۔ سائز چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان میں ڈسک ڈرائیو نہیں ہوتے۔ فل سائز کمپیوٹر کے مقابلے  میں ان کی کارکردگی بہت محدود ہوتی ہے لیکن یہ فون بک اور کلینڈر جیسے مخصوص کاموں کے لیے بہت موزوں ہے۔ بعض اوقات انھیں جیبی کمپیوٹر بھی کہاجاتا ہے۔
15

پرسنل ڈیجٹل کمپیوٹر/اسسٹنٹ

وہ پام ٹاپ جن میں کی بورڈ کی جگہ قلم کا استعمال کیا جاتا ہے عام طور سے  PDAsکہلاتے ہیں  (شکل 2.6)۔ یہ ایک ہاتھ میں لے کر استعمال کیاجانے والا دستی آلہ ہے۔ اس میں شمار کاری، ٹیلی فون فیکس او رنیٹ ورکنگ کی سہولت مشترک طور پرموجود ہوتی ہے۔ PDA کا استعمال موبائل فون، فیکس بھیجنے اور پرسنل آرگنائزر کے طور پر کیا جاسکتاہے۔ PDA کو سب سے پہلے Appleکمپنی نے بنایا جس نے 1993میں نیوٹن میسج پیڈ (Newton Message Pad) کو متعارف کرایا تھا۔
16

ٹکیانما یا ٹیبلیٹ پی سی

یہ ایک نوٹ بک سلیٹ کی شکل کا موبائل کمپیوٹر ہے (شکل 2.7)۔ اس میں ٹچ اسکرین (Touch screen) یا گرافک ٹیبل ہوتا ہے جس کے ذریعہ اسے استعمال کرنے والا شخص کمپیوٹر کو ڈیجٹل پین یا اسٹائلس (Stylus) یا انگلی کے سرے سے کمپیوٹر کو چلا سکتا ہے۔ بہت زیادہ ٹیکسٹ ان پٹ کے لیے وائرلیس کی بورڈ بھی اس سے منسلک کیا جاسکتاہے۔ ٹیبلیٹ PC کے دیگر ماڈل قابل تبدیل یا کنورٹیبل ماڈل (اسکرین کو کی بورڈ کے اوپر گھمایا جاسکتا ہے)اور مخلوط یا ہائبرڈ ماڈل ہیں۔ ہائبرڈ ماڈل میں اسکرین کی بورڈ کے اوپر ایک جگہ مستقل نصب رہتا ہے۔
17

ورک اسٹیشن 

یہ ایک طاقت ور سنگل یوزر کمپیوٹر ہے۔ ورک اسٹیشن ایک پرسنل کمپیوٹر کی طرح ہوتا ہے لیکن اس میں بہت زیادہ مؤثر مائکرو پروسیسر لگا ہوتا ہے اور عام طور سے ایک اعلیٰ معیار کا مانیٹر ہوتا ہے۔ ایسے کمپیوٹر کا استعمال CAD  (Computer Aided Design)میں اور دیگر ایپلی کیشن میں کیا جاتا ہے جہاں بڑے مقاصد کی تکمیل مقصود ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر مہنگے ہوتے ہیں اور ان میں شمار کاری اور گرافکس کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔

سروَر  (Server)

اصطلاح سرور(server)کا استعمال در حقیقت کمپیوٹر کے کام کے لیے کیا جاتا ہے نہ کہ کسی مخصوص قسم کے کمپیوٹر کے لیے۔ سرور کمپیوٹروں کے کسی نیٹ ورک کو چلاتا ہے۔ یہ پرنٹر جیسے آلات کے اشتراک عمل کو اورنیٹ ورک پر کمپیوٹروں کے درمیان ترسیل کے کام انجام دیتا ہے۔ اس قسم کے کام کے لیے کمپیوٹر کو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے مقابلے میں زیادہ با صلاحیت ہونا چاہیے۔اس کے لیے اس میں مندرجہ ذیل امور کی ضرورت ہوگی:

 ·  زیادہ قوت

·  طویل حافظہ

·  اسٹوریج کی طویل ترگنجائش

·  ترسیلی کارکردگی کی اونچی رفتار

II .  منی کمپیوٹر  (Mini Computer):   یہ ایک ملٹی یوزر کمپیوٹر ہے جس پر سو افراد بہ یک وقت کام کرسکتے ہیں۔یہ خود کمپیوٹروں کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔منی کمپیوٹروں کو اوسط وسعت کا کمپیوٹر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کی قیمت اور شمار کاری کی قوت مائیکرو کمپیوٹروں اور مین فریم (Mainframe) کمپیوٹروں کے درمیان رہتی ہے۔ منی کمپیوٹر کا استعمال ملٹی یوزر اور مکالماتی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔

.III  مین فریم کمپیوٹر  (Mainframe Computer)  :  یہ ایک طاقت ور ملٹی یوزر کمپیوٹر ہے۔مین فریم کمپیوٹر  پربہ یک وقت  سیکٹروں یا ہزاروں افراد کام کر سکتے ہیں۔ ان کی ترتیب کاری بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے اور ان معلومات کو محفوظ رکھنے کی وسیع گنجائش ہوتی ہے۔ ان کا استعمال تحقیقی اداروں، بڑی صنعتوں، بڑ ی تجارتوں اور سرکاری اداروں، بینکوں اور ایئر لائن ریزرویشن میں کیا جاتا ہے جہاں بہت بڑے ڈیٹا بیس کی ضرورت ہوتی ہے۔

سُپر کمپیوٹر(Super Computer)  

کمپیوٹروں کا ایک اورزمرہ ہے جسے سپر کمپیوٹر کہتے ہیں جو کسی حد تک مین فریم کمپیوٹر کے مشابہ ہوتاہے۔ یہ بہت بڑے ، سب سے زیادہ تیز اور سب سے مہنگے کمپیوٹر ہیں۔ ان کا استعمال بہت بڑے ڈیٹا کی ترتیب کاری اور پیچیدہ مسئلوں (Problems) کو حل کرنے جیسے موسم کی پیشین گوئی، جنگی سازوسامان تیار کرنے کے لیے کی جانی والی ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ، راکٹنگ، ایٹمی، نیوکلیائی اور پلازمہ فزکس میں کیا جاتا ہے۔ سپر کمپیوٹر کی پروسیسنگ کی رفتار  400 تا 10000  ملین انسٹرکشنس فی سیکنڈ(MIPS) کے درمیان ہوتی ہے۔ سپر کمپیوٹرکی مثالیں ہیں:Eka جسے ٹاٹا گروپ ،پونا (ہندوستان )نے نومبر 2007 میں پونا میں تیار کیا۔یہ جون 2008تک ایشیا کا پہلا سپر کمپیوٹر رہا ہے اور دنیا کا 8واں سب سے تیز سپر کمپیوٹر ہے [شکل 2.8(a)]۔ PARAM [شکل 2.8(b)] جسے پونا (ہندوستان)میں CDAC نے تیار کیا تھا، CRAY3 (کنٹرول ڈیٹا کارپوریشن، جاپان نے تیار کیاہے)، SX-3R (25.6 GIGA Flops)  جو NEC نے تیارکیا۔ HITAC S-300 (32 GIGAFLOPS) جو HITACH نے تیار کیا۔ HITAC S-300جدید ترین اورتیز ترین سپر کمپیوٹر ہے۔

18

2.1.2کمپیوٹروں کا ارتقا

جدول2.1   :  کمپیوٹروں کا ارتقا

برقی الیکٹرونک اجزا                                           اہم خصوصیات                                                                        سافٹ ویئر                                                                                     میموری اور I/0 آلات                                                               کمپیوٹر کی قسم
ویکیوم ٹیوب                                                  لمبا چوڑا ، سست رفتار، ناقابل اعتماد، جگہ اور پاور کا زیادہ خرچ                    مشین لنگویج اور اسمبلی لنگویج                                                                    محدود کور میموری، پنچ کارڈ کے ذریعہ ان پٹ                                           اینا لاگ
ٹرانسسٹر                                                        پاور کا کم خرچ ،چھوٹا سائز                                                        ہائی لیول لنگویج(HLLS)جیسے FORTRAN، Pascal،  COBOL   وغیرہ         مقناطیسی کور میموری بطور مین میموری، مقناطیسی ٹیپ اور ڈسک
اینا لاگ
ICs  (انٹی گریٹیڈ سرکٹ
(Integrated circuits)                                  زیادہ میموری کی گنجائش، جسامت اور وزن بہت کم                     عمومی مقاصد   HLL، ہم نقاطی  پروگرامنگ                 
                                             
  سیمی کنڈکٹرمیموری بطور مین میموری، ہارڈ ڈسک بطور سیکنڈری میموری                      ڈیجٹل
وی ایل ایس آئی
(VLSI)
     (Very Large Scale Integration)                        مائکروپروسیسر، بہت تیز رفتار اور قابل اعتماد                       ویب پر مبنی ٹیکنالوجی، بہت زیادہ یوزر فرینڈلی اورنازک، مصنوعی ذہانت والا سافٹ ویئر                آپٹکل ڈسک، وی سی ڈی، ڈی وی ڈی، بلیو رے ڈسک اور ہائی کیپسٹی ہارڈ ڈسک                    ڈیجٹل
یو ایل ایس آئی (ULSI)
Ultra-Large Scale integration                               بہت تیز رفتار اور  طاقتور                                           تیاری کے مراحل میں             تیاری کے مراحل میں                              ڈیجٹل

19
20
جدول 2.1  میں کمپیوٹروں کے ارتقا کی ایک جھلک د ی گئی ہے۔
کمپیوٹر انڈسٹری اور اس کی ٹیکنالوجی کا مستقبل امید افزا ہے۔ آنے والے برسوں میں ہر سال پروسیسر کی اسپیڈ دوگنی ہونے کی امید ہے۔ جیسے جیسے کمپیوٹر بنانے کی تکنیک میں اصلاح ہوگی کمپیوٹرسسٹم کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ کا امکان ہے۔تاہم، جب تک مائکروپروسیسر ٹیکنالوجی میں ترقی ہوتی رہے گی اس کی اونچی قیمت کی وجہ سے پرانے پروسیسر کی قیمت کم ہوجائے گی ۔باالفاظ دیگر ے نئے کمپیوٹر کی قیمت سال در سال وہی رہے گی مگر ٹیکنالوجی کی کیپسیٹی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

2.1.3  آئیے کمپیوٹر کے بارے میںجانیں

 کمپیوٹر بنیادی طور پر ایک ایسا آلہ ہے جو ہدایات کے مخصوص مجموعے کو واضح انداز میں جواب دے سکے، پہلے سے ریکارڈ شدہ ہدایات کی فہرست (پروگرام) پر عمل پیرا (Execute) ہو سکے اور ڈیٹا کی ایک بہت بڑی مقدار کو تیزی کے ساتھ اسٹورکر سکے اور اس کی بازیافت کرسکے۔ لہذاکمپیوٹر کو اس کی ظاہری بناوٹ کے مقابلے میں اس  کے ذریعے اسے بہتر طور پر سمجھا سکتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ اس کا ہر حصہ کس طرح کام کرتا ہے۔

2.1.4کمپیوٹر سسٹم کی تنظیم

کمپیوٹر سسٹم (شکل 2.9 ) کی تعریف عام طور پر ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے امتزاج کے طور پر کی جاتی ہے۔ کمپیوٹر ہارڈ ویئر طبعی آلہ ہے اور سافٹ ویئر پروگراموں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ہارڈ ویئر کے کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔
ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے ہرایک جز میں اصلاح اور بہتری آئی ہے جس کا انحصار ان کے استعمال کنندگان (Users) کو پیش آنے والی اس کی کارکردگی کی خامیوں پر ہے۔ کوشش کرنے والوں نے نئی ضروریات اور مسائل کے نظر ان خامیوںپر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ آئیے کمپیوٹر کو دو پہلوؤں سے سمجھنے کی کوشش کریں یعنی ایک تواس کے اجزا کے عمومی افعال اور دوسرے ان اجزا کا ارتقا۔
21

2.2   ہارڈویئر  (Hardware)

کسی مخصوص کام کو پورا کرنے کے لیے کمپیوٹر کئی قسم کے کاموں کا ایک سلسلہ انجام دیتا ہے جیسے ان پٹ،اسٹوریج ، پروسیسنگ اور آؤٹ پٹ جو اسے بہت ہی مخصوص انداز میں انجام دیتے ہیں جیسا کہ نیچے بتایا گیا ہے:
· یہ استعمال کنندہ سے ڈیٹا (ان پٹ) حاصل کرتا ہے ۔
· کمپیوٹر میں میموری چِپ ہوتی ہیںجو اس ڈھنگ سے بنائی جاتی ہیں کہ ڈیٹا کو ضرورت کے مطابق سنبھال کر رکھیں۔
· یہ اس ڈیٹا کو مرتب کرکے معلومات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ کمپیوٹر میں ایک الیکٹرونک دماغ ہوتا ہے جسے سینٹرل پروسیسنگ یونٹ کہتے ہیں جو تمام ڈیٹا کی ترتیب کاری کے  ذریعے اطلاعات میں تبدیل کر نے کا ذمہ دار ہے۔ یہ پروسیسنگ کمپیوٹر کو دی جانے والی ہدایات کے مطابق ہوتی ہے۔
· اس کے بعد یہ پراسیس شدہ انفارمیشن (آؤٹ پٹ)  استعمال کنندہ کو فراہم کردیتا ہے۔
مذکورہ بالا ہر کام کو پورا کرنے کے لیے ہر کمپیوٹر میں ان پٹ ڈیوائس، اسٹوریج ڈیوائس، سینٹرل پروسیسنگ یونٹ اور آؤٹ پٹ ڈیوائس کے لیے مخصوص پرزے/اجزا ہوتے ہیں۔

2.2.1  اِن پٹ ڈیوائس  (Input Devices)

عمومی افعال

یہ ڈیٹا اور پروگرام کو حاصل کرکے (یا پڑھ کر) مشین کو اس کے بیرونی ماحول کے ساتھ مواصلات کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
.1 یہ ان پٹ انٹرفیس کے ذریعہ پروگرام پر مبنی ڈیٹا کو کمپیوٹر کے لیے قابل قبول شکل میں تبدیل کردیتا ہے۔
.2 یہ تبدیل شدہ ہدایات اور ڈیٹا کو کمپیوٹر سسٹم کو فراہم کرتا ہے تاکہ اس کی مزید ترتیب کاری ہوسکے۔
کمپیوٹر میں ان پٹ کیے جانے والے ڈیٹا کی شکل اور قسم کی کوئی حد نہیں ہے یہ بات کمپیوٹر کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ کبھی کبھی ان پٹ عام زبان میں متن کی شکل میں ہوتا ہے کبھی کبھی یہ تصاویر کی شکل میں اور بعض اوقات یہ آواز جیسے کسی گیت کی شکل میں ہوتا ہے۔ کسی مناسب ان پٹ ڈیوائس کا انتخاب کارکردگی میں بہتری لاتا ہے اور انسانی باہمی تعامل کو کم سے کم کردیتا ہے۔

ان پٹ آلات کی اقسام

آن لائن یا ڈائریکٹ ڈیٹا انٹری آلات:  یہ آلات CPU کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور CPUسے براہ راست رابطہ رکھتے ہیں اسی لیے یہ کیبل کے ذریعہ CPUسے منسلک رہتے ہیں۔ ڈیٹا انٹری کے اس طریقے میں وقت بھی زیادہ لگ سکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس میں غلطیاں بھی ہوںلیکن ان ڈیوائسز کا استعمال کرنے سے ہمیں ڈیٹا کو کاغذ سے نہیں لینا پڑے گا۔ ان ڈیوائسزکو مکالماتی ان پٹ آلات (Interactive Input Devices)  بھی کہتے ہیں ۔ان کی تقسیم حسب ذیل ہے۔
(a) کی بورڈ
(b) لوکیٹر ڈیوائسس
(c) انٹر فیس یا پک ڈیوائسس

(a) کی بورڈ(Keyboard)

سب سے زیادہ عام ان پٹ ڈیوائس کی بورڈ ہے(شکل 2.10)۔ جدید کی بورڈ میں عام طور سے 104بٹن (Keys) ہوتے ہیں۔اسے QWERTY کی بورڈ کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ  کی بورڈ کی بالائی قطار میں Keys کا سلسلہ اسی انداز میں ہوتا ہے جو معیاری ٹائپ رائٹر کے مشابہ ہے۔ کی بورڈ متعدد قسم کے کام انجام دے سکتاہے ۔یہ ڈیٹا داخل کرنے کی صلاحیت کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے ۔ یہ ڈیٹااصل کاغذی دستاویز (مثلاً کسی فارم کے اوپر لکھے ہوئے نام اور پتہ وغیرہ) سے نقل کیا جاتا ہے۔
22
کی بورڈ کا استعمال خطوط، میمو (Memos) ،رپورٹ اور دیگر دستاویز ٹائپ کرنے میں بھی کیا جاتا ہے۔اس کے لیے ورڈ پروسیسنگ سافٹ ویئر استعمال کیا جاتا ہے۔

 (b)  لوکیٹر ڈیوائسس(Locator devises)

لوکیٹر ڈیوائسز کا استعمال اسکرین پر کرسر (Cursor)  کے مقام یا لوکیشن کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ ضروری ان پٹ کو فراہم کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ لوکیٹرڈیوائسز عام طور پر Gross movement کے لیے بہتر سمجھے جاتے ہیں لیکن زیادہ درستگی والے کاموں کے لیے نہیں۔ جدول 2.2 میں مختلف قسم کے لوکیٹر ڈیوائسز سے بحث کی گئی ہے۔

(c)  انٹرفیس/ پک ڈیوائس   (Interface/Pick Device) 

پک ڈیوائس کا استعمال اسکرین پر آبجیکٹ کو منتخب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ آبجیکٹ متن بھی ہوسکتا ہے یا پھر کوئی گرافک۔ لائٹ پین اور ٹچ اسکرین ،پک ڈیوائسز کی مثالیں ہیں۔

جدول  2.2  :  مختلف لوکیٹر ڈیوائسز

ڈیوائس کا نام                                                   تفصیل                                تصویر /خاکہ       
 (Mouse)                                             یہ ایک مختصر دستی آلہ ہے۔اسے ماؤس پیڈ /یا کسی چپٹی سطح پر گھماکر کمپیوٹر کے ڈسپلے اسکرین پر مقام اور حرکت کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماؤس کئی قسم کے ہوتے ہیں جیسے فزیکل، آپٹیکل اور لیزر ماؤس۔ فزیکل ماؤس گیند کی حرکت کے اصول پر کام کرتے ہیں جب کہ آپٹیکل اور لیزر ماؤس روشنی کے سگنلوں پر کام کرتے ہیں یعنی ان کے اندر کوئی میکانیکی حرکت نہیں ہوتی ۔
23
ٹریک بال

(Trackball)                                 یہ ایک قابل حرکت گیند ہوتی ہے جو ایک ساکت اساس کے اوپر لگی ہوتی ہے جسے انگلیوں کا استعمال کرکے گھمایا جاسکتا ہے۔ اس میں ماؤس کی طرح دوبٹن بھی ہوتے ہیں جو ماؤس کی طرح ہی کام کرتے ہیں۔ سہ ابعادی ٹریک بال دستیاب ہیں جو نہ صرف بائیں/دائیں اور آگے /پیچھے جیسی عام حرکات کو انجام دیتے ہیں بلکہ اوپر اور نیچے ہونے والی حرکات کو بھی انجام دیتے ہیں۔

24

لمس حساس پٹی

(Touch pad)

یہ ایک چپٹی لمسی طور پر حساس مستطیل نما سطح ہوتی ہے جو بالکل وہی کام انجام دیتی ہے جو ماؤس یا ایک ٹریک بال انجام دیتے ہیں۔

25

 ڈیجیٹائزنگ  ٹیبلیٹ 

(Digitising Tablet)

  ڈیجیٹائزنگ ٹیبلیٹ ایک الیکٹرونک پلاسٹک بورڈ ہوتا ہے جس پر کسی مقام (Location)کی نشاندہی کمپیوٹر اسکرین کے مقام سے مطابقت رکھتی ہے۔ اسے مطلق لوکیٹر تصور کیاجاتا ہے کیوں کہ یہ پوری طرح درست ہوتا ہے اور جب اسٹائلَس (pen)کوکسی مخصوص مقام پر رکھا جاتا ہے تو ہر بار ایک جیسے اشارے پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں اور دیگر لوکیٹر ڈیوائس میں یہی فرق ہے۔ ڈیجیٹائزر کا استعمال آرکیٹیکٹس اور انجینئر  CADیعنی Computer Aided Designing میں عمارتوں ، کاروں، میکانیکی حصوں، روبوٹ وغیرہ کو ڈیزائن کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم میں ان کا استعمال نقشوں کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ 

26

 جوائے اسٹک

(Joy stick)

جوائے اسٹک تار دار یا بے تار (wireless) کنٹرول ڈیوائس ہے جس کا استعمال عام طور پر ویڈیو گیم کھیلنے کے لیے کیاجاتا ہے۔ یہ تناسبی لوکیٹر ہیں جن میں دبائے جانے کی سمت پوزیشن کی تبدیلی کا تعین کرتی ہے اور انحراف کی مقدار رفتار کی تبدیلی کو متعین کرتی ہے  ( تصویر دیکھیے)۔

جوائے اسٹک گیند کو گردشی حرکت دینے سے نہ صرف دو ابعادی پوزیشن کو ہی ظاہر کرتی ہے بلکہ سہ ابعادی پوزیشن کو بھی ظاہر کرتی ہے جہاں تیسرا بعد سلاخ کی گردش کے ذریعہ ظاہر کیاجاتا ہے۔ گیمس سافٹ ویئر، فلائٹ سیمو لیٹر (Flight Simulator) وغیرہ میںجوائے اسٹک کا استعمال ان پٹ ڈیوائس کے طور پر کیا جاتا ہے۔

27

جدول  2.2  :  مختلف لوکیٹر ڈیوائسز


28

29

 روشنی حساس قلم   (Light Pens)

 لائٹ پین ایک قلم جیسی روشنی حساس ڈیوائس ہے جو اسکرین کی طرف نیروالیکٹر یکل پلس بھیجتی ہے۔یہ پلس کسی پوائنٹنگ ڈیوائس سے پیدا ہوتی ہے۔ اسے تار کے ذریعے کمپیوٹر ٹرمنل سے جوڑ دیا جاتا ہے جو اسکرین سے اشاروں کی شناخت  (Detects) کرلیتا ہے۔ لائٹ پین کا استعمال ماؤس یا کی بورڈ کی جگہ کیا جاسکتاہے۔ خاص طور سے مینو اساس (Menu Based) ایپلیکیشن میںجہاں کسی آپشن کے اوپر پوائنٹ کرکے اسے منتخب کیا جاتا ہے۔ ان کا استعمال CAD اور ڈرائنگ کے مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر چہ لائٹ پین کی مدد سے انجینئر، آرکیٹیکٹ یا فیشن ڈیزائنر براہ راست اسکرین پر ڈیزائن تیار کرسکتے ہیں یا انھیں ایڈٹ کرتے وقت رنگوں کا انتخاب کرنے، مختلف موٹائی کی لائنوں کو چھوٹا بڑا کرنے کے لیے ایک ڈرائنگ کی بورڈ کا استعمال کیا جاسکتاہے۔ ان کا استعمال بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور میں سامان پر لگے ہوئے بار کوڈ (Bar Codes) کو پڑھنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

ٹچ اسکرین (Touch Screen)

ٹچ اسکرین ایسے مانیٹر ہیں جن پر بیرونی لوکیٹر ڈیوائس کی مدد سے لوکیشن تک کرسر کو گھمانے کی بجائے یوزر اسکرین کو چھوکر آبجیکٹ کو منتخب کرتا ہے ۔

ٹچ اسکرین کا استعمال عام طور سے اس صورت حال میں کیا جاتا ہے جب یوزر کمپیوٹر کی بورڈ کا استعمال اچھی طرح نہیں کرسکتا ۔ ٹچ اسکرین کا استعمال ریستوران، بلڈنگ سوسائٹی اور ٹریول انفارمیشن سسٹم میں کیا جاتا ہے۔

سورس ڈیٹا انٹری ڈیوائس  (Source Data Entry Devices)   :  ہم نے دیکھا ہے کہ کرِانے کی دوکانوں پر کلرک پروڈکٹ کو لیزر اسکینر (Laser Scanner) /بار کوڈ ریڈر کے سامنے سے گزارتا ہے جس سے پروڈکٹ کا کوڈ خودبخود انٹر ہوجاتا ہے اور پھر پروڈکٹ کی قیمت خود بخود درج ہوجاتی ہے۔ پہلے اس کام کو یعنی پروڈکٹ کا کوڈ اور نام انٹر کرنے کے لیے کی بورڈ کا استعمال کیا جاتا تھا جس میں بہت وقت لگتاتھا۔ لیزر اسکینر/بارکوڈ ریڈر جو سورس ڈیٹا انٹری ڈیوائس کے زمرے میں آتے ہیں، یوزر کی کارکردگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ڈیوائسز ڈیٹا کو سورس (Source)سے براہ راست انٹر کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں جس میں انسانی عمل دخل نہیں ہوتا۔

اس زمرے میں استعمال ہونے والے ڈیوائس مندرجہ ذیل ہیں:

(a) ویڈیو ڈیجیٹائزر

(b) ڈیجٹل کیمرہ

(c) اسکیننگ ڈیوائس

(d) وائس ان پٹ

(e) ریموٹ کنٹرول

(f) میگنیٹک اسٹرپ ریڈر

(g) ساؤنڈ سینسر – مائکروفون

(h) MIDI آلہ


سورس ڈیٹا انٹری ڈیوائس

(a)  ویڈیو ڈیجیٹائزر  (Video Digitiser)

ویڈیو ڈیجیٹائزر ٹیلی ویژن سیٹ، ویڈیو کیمرہ یا ویڈیو ریکارڈر جیسے ڈیوائسز سے ٹیلی ویژن تصاویر کو قید کرلیتا ہے اور انھیں ڈیجٹل فارمیٹ میں تبدیل کردیتا ہے جسے کمپیوٹر ڈسپلے کرنے ، اسٹوریج اور ردوبدل کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ویڈیوڈیجیٹائزر روزمرہ کی زندگی سے متعلق تصاویر کو مقید کرکے کمپیوٹر ورک میں شامل کرنے کے لیے بہترین آلہ ہے۔ اس کا استعمال ساکن یا متحرک تصاویرکو ڈیجٹل فارمیٹ میں تبدیل کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے جب کمپیوٹر کے ذریعہ پیش کرنے کی ضرورت ہو۔ ویڈیوفائل سے تصاویر یا فریم حاصل کرنا ’’فریم گریبنگ‘‘(Frame Grabbing) کہلاتا ہے۔

ویڈیوڈیجیٹائزر کا استعمال ویڈیو کانفرسنگ کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ (اگر یہاں ڈیجٹل کیمرہ کا استعمال کیاجا تاہے تو ویڈیو ڈیجیٹائزر کی ضرورت نہیں ہوگی)۔ اس کا استعمال ٹیلی ویژن اشتہارات ، پاپ ویڈیو وغیرہ بنانے میں بھی کیا جاتا ہے۔

خوبیاں

· ویڈیو ڈیجیٹائزر سے ہم روز مرہ کی زندگی سے وابستہ تصاویر لے سکتے ہیں جو ڈرائنگ کے · ویڈیو ڈیجیٹائزر سے ہم روز مرہ کی زندگی سے وابستہ تصاویر لے سکتے ہیں جو ڈرائنگ کے مقابلے میں زیادہ  واضح ہوتی ہیں۔
· اس طرح لی گئی شبیہہ کو کاغذ پر بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔

خامیاں

· اس کے لیے بہت زیادہ میموری والا کمپیوٹر درکار ہوتاہے کیوں کہ اس میں ڈیٹا کی مقدار بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔
(b)   ڈیجٹل کیمرہ
ایک ڈیجٹل کیمرہ(شکل 2.11) شبیہہ (ڈیجٹل پکچر) کو حافظے میں محفوظ کرلیتا ہے اور اس میں سیلیولائڈفلم کا استعمال نہیں ہوتا جیساکہ عام کیمروں میں ہوتا ہے۔ ہر ڈیجٹل تصویر ہزاروں چھوٹے چھوٹے نقطوں (Dots) سے بنی ہوتی ہے جنھیں پکسل (pixels) یعنی عناصر تصویر( پکچر ایلیمنٹ) کہاجاتا ہے ۔ کیمرہ ہر نقطے کے رنگ سے متعلق ڈیٹا کو اسٹور کرلیتا ہے۔ تصویر کے معیار کا تعین ایک مخصوص تصویر کو ظاہر کرنے والے نقطوں کی تعداد کے ذریعے کیاجاتا ہے۔ شبیہہ کا ریزولیوشن(Resolution) فی اِنچ نقطوںیعنی DPIمیں ظاہر کیاجاتا ہے۔ جتنا زیادہ DPI  ہوگا ریزولیوشن بھی اتنا ہی اچھاہوگا۔زیادہ تر کیمروں میں یوزر تصویر کے لیے درکار ریزولیوشن کا انتخاب کرسکتا ہے۔ جب فوٹو گراف کیمرے میںمحفوظ ہوجاتا ہے تو اسے کمپیوٹر میں منتقل کیا جاسکتا ہے جہاں اس میں ایڈیٹنگ ،پرنٹنگ یا مستقل طور پر اسٹور کیا جاسکتاہے۔ کچھ کیمروں میں شبیہہ کو فلاپی ڈسک (Floppy disk) یا میموری کارڈ میں اسٹور کیا جاتا ہے تاکہ انھیں آسانی سے منتقل کیا جاسکے۔ دوسرے کیمروں کو کمپیوٹر کے ساتھ کیبل کے ذریعہ جوڑا جاتا ہے اور ایک مخصوص سافٹ ویئر کا استعمال کرکے شبیہہ کو منتقل کیا جاتا ہے۔
30

خوبیاں

· تصویر کو ڈیولپ کرنے میں کوئی خرچ نہیں آتا اور نہ ہی اس میں فلم لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم تصویر کو کمپیوٹر پر دستاویز (Document)میں براہ راست داخل کر سکتے ہیں۔
· آپ شبیہوں کو ایڈٹ کرسکتے ہیں، بڑا کرسکتے ہیں اوراس میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
· امیج کو متعدد شاٹس کے ساتھ محفوظ کیا جاسکتا ہے اور ان میں سے جو سب سے اچھا ہے اسے محفوظ کرسکتے ہیں یعنی عام کیمروں کی طرح شاٹ کے خراب ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔

خامیاں

· ڈیجٹل کیمرے عام کیمروں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔
· جب ان کا حافظہ بھر جاتا ہے تو انھیں دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے کمپیوٹر سے منسلک کرنا پڑتا ہے تاکہ اس میں جمع تصاویر کو کمپیوٹر میں ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے۔ (یا تصاویر کو میموری سے ختم کرنا (Delete) پڑتا ہے۔ یہ فلم تبدیل کرنے کے مقابلے میں آسان نہیں ہے۔

(کچھ ڈیجٹل کیمروں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فلاپی ڈسک یا دوسرے اسٹوریج ڈیوائس کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ تصاویر کو منتقل کرنے سے پہلے اسٹور کیا جاسکے لیکن فلاپی ڈسک میں زیادہ تصاویر نہیں سما سکتیں اور دیگر ڈیوائسز مہنگے ہوتے ہیں)


(c)   اسکیننگ ڈیوائسز(Scanning devices)

(i)  اسکینر
اسکینر ایک ایسا ڈیوائس ہے جو ساکن (غیر متحرک) تصاویر یا متن کو مقید کرسکتا ہے جنھیں کمپیوٹر میں محفوظ کیا جاسکتا ہے اور استعمال کیا جاسکتاہے۔ اسکینر روشنی کی شعاع (Beam) کو کاغذپر ڈالتا ہے اور کاغذکے ہر حصے سے منعکس ہونے والی روشنی کی مقدار کی پیمائش کرتا ہے۔ ڈیجٹل کیمرے کی طرح صفحے کو چھوٹے چھوٹے عناصر تصویر(Dots)میں تقسیم کرلیا جاتا ہے اور ہر نقطے کے رنگ کو ظاہر کرنے والا عدد کمپیوٹر کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اسکینر سافٹ ویئر کی مدد سے یوزر ہائی ریزولیوشن اور   لو ریزولیوشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتا ہے۔ بہت زیادہ معیاری تصاویر کے لیے بہت زیادہ حافظے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
31
       زیادہ تر اسکینروں میں کاغذ کو شیشے کی پلیٹ پر رکھا جاتا ہے جو فوٹو کاپی کی مشین کی طرح ہوتا ہے۔ انھیں فلیٹ بیڈ اسکینر (Flat bed scanner) کہاجاتا ہے (شکل 2.12) اور ان میں عام طور سے CCD (Charged Coupled Device) کا استعمال بطور شبیہہ شناس آلے (امیج سینسر) کے کیا جاتا ہے۔ یہ عام طور سے A4 سائز میں آتے ہیں یابڑے (جیسے کہ A3) بھی ہوتے ہیں لیکن کچھ چھوٹے اسکینر بھی ہوتے ہیں جو مختصر دستی شکل کے ہوتے ہیں جو اکثر متن مثلاً بارکوڈ کو پڑھنے میں استعمال ہوتے ہیں۔
ایک دوسری قسم کے اسکینر کا استعمال کسی امیج سے بہت زیادہ ریزولیوشن حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جسے ڈرم اسکینر کہتے ہیں (شکل2.14) ۔ یہ اسکینر فلم کو ڈرم کے چاروں طرف گھماتے ہیں جب کہ ایک مستقل لیزر یا روشنی دوسری شعاع ڈرم کے گھومنے کے دوران اس کے آرٹ کو دیکھتی رہتی ہے۔ اس شعاع کو بہت زیادہ حساس ویکیوم ٹیوب کے ذریعہ پکڑلیا جاتا ہے  جسے فوٹوملٹی پلائر ٹیوب (PMT) کہتے ہیں۔ یہ بڑی، واحد اورمستقل ٹیوب CCD پر موجود کسی بھی چھوٹے پکسل کے مقابلے میں روشنی کے تئیںبہت زیادہ حساس ہوتی ہے ۔ اسی لیے یہ سفید سے سیاہ تک روشنی کی ایک وسیع سلسلے کو دیکھ سکتا ہے۔ ڈرم اسکینر اچھے ہوتے ہیںکیوں کہ ان میںبہت زیادہ حساس PMT کے ذریعہ امیج حاصل کیا جاتا ہے۔
32

خوبیاں

· کسی بھی امیج کو کاغذ سے ڈیجٹل فارمیٹ میں تبدیل کیا جاسکتاہے اور بعد میں  اس میں اضافہ کرکے اسے دیگر کمپیوٹری دستاویزوں میں استعمال کیاجاتا ہے۔

خامیاں

· شبیہیں بہت زیادہ حافظہ گھیرتی ہیں، لیکن ریزولیوشن کو کم کرکے (یعنی فی انچ نقطوں کی تعداد کو کم کرکے) یا ڈیٹا اسٹور کرنے کے دوسرے طریقوں مثلاً مختلف فائل فارمیٹ کو استعمال کر کے ڈیٹا فائل کا سائز کم کیا جاسکتا ہے۔
 اسکیننگ کے مقصد کے لحاظ سے فلیٹ بیڈ اسکینر یا ڈرم اسکینر کا انتخاب کر سکتے ہیں۔جدول 2.3 میں فلیٹ بیڈ اور ڈرم اسکینر کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔

جدول 2.3  :  فلیٹ بیڈ اسکینر مقابل ڈرم اسکینر

33

دستی ڈیجٹل کیمرے اور کیمکورڈر  (camcorders)  فیلڈ اسکینر ہیں کیوں کہ وہ ایک ہی مرتبہ میں دو ابعادی فیلڈ کو اسکین کرتے ہیں۔

(ii)  آپٹکل مارک ریڈرس  (OMR)

آپٹکل مارک ریڈر میں کاغذ پر لگے ہوئے نشان کا سراغ لگانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ پہلے سے پرنٹ کیے گئے دستاویز کو یوزر کے لیے اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ کسی مخصوص حصہ کو لائن یا نشان لگاکر منتخب کرسکتاہے۔ اس قسم کے دستاویز کو منعکس روشنی کا استعمال کرتے ہوئے اسکین کیا جاتا ہے تاکہ گہرے سایوں کا پتہ لگایا جا سکے۔
 یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے عام طور سے پہلے سے پرنٹ کیے گئے داخلہ فارم استعمال کرتے ہیں جس میں طلبا کو میڈیم یا ہلکی پنسل کی مدد سے نشان لگانا ہوتاہے۔ داخلہ کے لیے ہونے والے امتحانات میں کثیر متبادل جواب والے سوالات کے پرچہ میں امید وار کو جواب ظاہر کرنے کے لیے نشان لگانا پڑتا ہے ۔طالب علم اپنی پسند کے جواب پر پنسل سے لائن بنادیتا ہے۔سوالنا موں اور جائزوں میں بھی اس طریقے کو استعمال کرسکتے ہیں۔

خوبیاں

· ایک  OMRفارم پر اپنی پسند کو منتخب کرکے اسے صحیح جگہ پرنشان زد کرنے کے مقابلے میں ڈیٹا میں ٹائپ کرنا اور لکھنا آسان ہوتا ہے۔
· دستاویزوں کو اسکین کر کے ان کی جانچ بہت تیزی سے کی جاسکتی ہے اور غلطی کے امکانات بھی بہت کم ہوتے ہیں (جدید OMRمشینوں میں صرف 2-3% غلطی کا امکان ہے)

خامیاں

· فارموں کے رکھ رکھاؤ کے لیے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت زیادہ خراب ، مڑے ہوئے یا شکن والے فارم رد کیے جاسکتے ہیں۔
· ان کا استعمال صرف اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب ان پٹ کیا جانے والا ڈیٹا لائنوں کے ذریعہ نشان زد کرکے منتخب کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ ہر آپشن کوفارم میں فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے اس لیے کبھی کبھی یہ فارم اتنے پیچیدہ ہوجاتے ہیں کہ انھیں سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے اور غلطی ہوسکتی ہے۔

(iii)  آپٹکل کیریکٹر —ریڈر س  (Optical Character Readers—) OCR 

آپٹکل کیریکٹر ریڈر (OCR) ایسے آلات ہیں جو نشانات کے پیٹرن کا پتہ لگا سکتے ہیںجوکیریکٹر کی شکل (اعداد، حروف ، اوقاف اورکچھ مخصوص تحریری معلومات مثلاً’–، @  ‘ --,وغیرہ) میں ہوتے ہیں  — صرف چھپی ہوئی تحریری علامات کی ہی شناخت کی جاسکتی ہے کیوں کہ تحریر کے مختلف اسالیب کی رہنمائی کرنا مشکل کام ہے۔ کیریکٹر کو اسکینر کے ذریعہ پکچر فارمیٹ سے رمزی تحریری علامات (کوڈیڈ کیریکٹر) میں تبدیل کیا جاسکتاہے تاکہ ان کو کمپیوٹر استعمال کرسکے۔ASCIIیہ عام طور سے(American Standard Code for Information Interchange) فارمیٹ میں ہوتا ہے۔ OCR سافٹ ویئر کو کسی معیاریA4 اسکینر کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے علاحدہ سے خریدا جاسکتا ہے۔ OCR کا استعمال عام طور سے ورڈپروسیسر میں استعمال کے لیے متن کو اسکین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

خوبیاں

جب کوئی کمپیوٹر آراستہ دستاویز کے اندر محفوظ نہ کیا گیاہو اور صرف چھپا ہوامتن دستیاب ہوتوOCR  کا استعمال کرکے متن کی اسکیننگ کی جاتی ہے تاکہ بعد میں اس کی ایڈیٹنگ کی جاسکے اور اسے دوبارہ مرتب کیا جاسکے۔

خامیاں

کچھ تحریری علامات کو آسانی سے سمجھا نہیں جا سکتا اور تبدیلی کے دوران غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ یہ خاص طور سے اس وقت ہوتا ہے جب بہت زیادہ خاکے اور تحریری علامات اس طرح آجاتے ہیں کہ سافٹ ویئر ان کی ترجمانی نہیں کرسکتا۔

(iv)  میگنیٹک اِنک کیریکٹر ریکگنیشن  (MICR)

وہ کیریکٹر جنھیں مقنا طیسی سیاہی کے ذریعہ پرنٹ کیاجاتا ہے انھیں میگنیٹک انک کیریکٹر ریڈر ڈیوائس کی مدد سے شناخت کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے ڈیٹا کا بہت محدود استعمال ہوتا ہے اور یہ صرف بینکوں تک ہی محدود ہے کیوں کہ اس میں مہنگے آلات درکار ہوتے ہیں۔ چیک کے اوپر پہلے ہی سے کچھ کوڈ اور اکاؤنٹ نمبر چھپے رہتے ہیں۔ جب چیک بھرے جاتے ہیں تو ڈیٹا ان پٹ کلرک کو بھی چیک کی رقم کو مقناطیسی سیاہی سے مارک کرنا پڑتا ہے۔ 
MICR کا استعمال بینک چیک پروسیسنگ میں کیا جاتا ہے۔

خوبیاں

· بڑی مقدار میں ڈیٹا کو تیزی سے ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
· ڈیٹا جمع کرنے کا یہ خاصامحفوظ طریقہ ہے کیوں کہ تحریری علامات کی شکل کو مہنگے آلات کے بغیر تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
· ان پٹ کا یہ طریقہ بہت زیادہ قابل اعتماد ہے کیوں کہ دستاویز کی ریڈنگ کے دوران غلطی کاامکان تقریباً نہیں ہوتا ہے۔

خامیاں

· MICR  استعمال کرنا بہت مہنگا پڑتا ہے کیوں کہ کیریکٹر تیار کرنے اور انھیں پڑھنے کے لیے مخصوص آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔

(v)  بارکوڈریڈرس(Bar Code Readers) 

بارکوڈ (شکل 2.15) موٹی اور پتلی عمودی لائنوں کا سلسلہ ہے۔ اس میں لائنیں ایک گروپ میں ہوتی ہیں۔ بارکوڈ ریڈر (شکل 2.16) ایسے آلات ہیں جن کا استعمال اس قسم کے بارکوڈ سیٹ سے ڈیٹا ان پٹ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ریڈر بارکوڈ نمبر کو ظاہر کرنے والی موٹی اور پتلی لائنوں کے سلسلے کو پڑھنے کے لیے لیزر شعاع کا استعمال کرتا ہے۔ سپر مارکیٹ میں جتنی بھی اشیا ہم دیکھتے ہیں تقریباً ہر ایک پر بارکوڈ ہوتے ہیں۔ بارکوڈ 13ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں چار اہم حصے ہوتے ہیں۔ بارکوڈ کا پہلا حصہ (دوہندسے) ملک کو ظاہر کرتے ہیں، دوسراحصہ مینو فیکچرر کے کوڈ (پانچ ہندسے) کو ظاہر کرتاہے، تیسرا حصہ متعلقہ سامان (پروڈکٹ)کاکوڈ(پانچ ہندسے) کو ظاہر کرتا ہے اور آخری ہندسہ چیک ڈیجٹ کو ظاہر کرتا ہے۔آخری ہندسہ تحسیب شدہ ہندسہ ہوتا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بارکوڈ کو ٹھیک طرح سے پڑھا جارہا ہے۔ اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو ریڈر سے بیپ (Beep)کی آواز سنائی دیتی ہے اور پھر آپریٹر تمام ہندسوں کو اپنے ہاتھ سے ان پٹ کرتا ہے۔ جب بارکوڈکو پڑھا جاتا ہے، تو یہ انونٹیری فائل (Inventory File) پر صحیح پروڈکٹ کی انوینٹری کرتاہے جو کمپیوٹر کی ڈسک پر اسٹور ہوتا ہے۔ قیمت کو فائل سے پڑھ لیا جاتا ہے اور اس شے کی فروخت درج ہوجاتی ہے اور گاہک کی رسید پر اسے درج کردیتا ہے۔ انو ینٹری میں بھرے ہوے نمبروںمیں ایک کی کمی ہو جاتی ہے۔
34
بارکوڈ کا استعمال لائبریری ٹکٹ، ایئرپورٹ پر سامان پر لگائے جانے والے لیبل، کتابوں ، سپر مارکیٹ پروڈکٹ، کپڑوں اور دیگر کئی اشیا پر کیا جاتا ہے۔ بارکوڈ ریڈر کا استعمال زیادہ تر ان جگہوں پر کیا جاتا ہے جہاں الیکٹرونک پوائنٹ آف سیل  ٹرمنل (EPOS Terminal) ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر ڈپارٹمنٹ اسٹور، سپرمارکیٹ ۔

خوبیاں

· بالکل صحیح صحیح اور تیز ی سے ڈیٹا اینٹری—
· سامان کی تیاری کا ملک اور تیار کنندہ نیز پروڈکٹ کوڈ سے متعلق تمام تفصیلات کو اسٹور کرنا ممکن ہے۔ یہ تفصیلات بار کوڈ کے اندر معیاری شکل میں درج ہوتی ہیں۔

خامیاں

· اگر بارکو ڈ خراب  ہوجاتا ہے تو بار کوڈ ریڈر اسے پڑھ نہیں سکتا۔ اس صورت میں کی پیڈ کا استعمال کرکے تمام الگ الگ ہندسوں کو درج کرنے میں وقت لگتا ہے۔

(d)   وائس ان پٹ (Voice Input) 

اب ہم محض مائکروفون میں بول کر اور آوازکی شناخت کرنے والے مخصوص سافٹ ویئر کا استعمال کرکے ڈیٹا ان پٹ کرسکتے ہیں۔  گفتگو کی ترجمانی (Interprete) اور کمپیوٹر میں اسے منتقل کرنے سے پہلے یوزر کے لیے الفاظ کے تلفظ سے متعلق سافٹ ویئر میں تربیت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کچھ کمپیوٹر سسٹم وائس کمانڈ کے تئیں رد عمل کرتے ہیں اور کام کو انجام دے سکتے ہیں کیوں کہ بولے گئے الفاظ کی سافٹ ویئر ترجمانی کرتا ہے اور انھیں ہدایات میں تبدیل کردیتا ہے۔ ان کا استعمال ورڈ پروسیسنگ سافٹ ویئر میں متن کو ان پٹ کرنے، الیکٹرونی اعتبار سے کنٹرول کیے جانے والے دروازوں اور مشینوں جیسے آلات کو کنٹرول کرنے میں کیا جاتا ہے۔

خوبیاں

· وائس ان پٹ ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو کی بورڈ اور ماؤس کا استعمال نہیں کرسکتے۔

خامیاں

· سسٹم میں ہریوزر کی آواز کو شناخت کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔ سافٹ ویئر کو ’پڑھانا ‘ تھکا دینے والا ہوتا ہے اور اس کے لیے بہت سارا وقت درکار ہوتا ہے۔
· آواز شناسی سافٹ ویئر ابھی بھی بہت زیادہ درستگی کے ساتھ کام نہیں کرپاتے ہیں۔

(e)   ریموٹ کنٹرول

 ڈیٹا کی ترسیل کے لیے ریموٹ کنٹرول کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب اس کو استعمال کرنے والا پروسیسر سے کچھ فاصلے پر ہوتا ہے۔ ویڈیو ریکارڈر جیسے آلات اس ڈیٹا کو حاصل کرلیتے ہیں جو ریموٹ ہینڈ سیٹ سے سسٹم میں پروگرام کیا گیا ہے۔ ہینڈ سیٹ پر مخصوص کام یا سیلیکشن کے لیے مخصوص بٹن (Keys)  ہوتے ہیں۔ مرکزی پروسیسنگ یونٹ پر لگا ہوا زیر سرخ( انفراریڈ) سینسر اس وقت سگنلوں کو حاصل کرلیتا ہے جب بٹن کو دبایاجاتا ہے۔ اس کا استعمال ڈیٹا کو فاصلے سے داخل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

خوبیاں

· ڈیوائس، استعمال کنندہ کو پروسیسنگ یونٹ سے دور رہ کر ڈیٹا ان پٹ کرنے اور کام کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

خامیاں

· چھوٹے ریموٹ ڈیوائس آسانی سے گم ہوسکتے ہیں۔
· یونٹ اور ریموٹ کو ایک دوسرے کے تھوڑا قریب رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور دونوں کے درمیان کوئی شے نہیں ہونی چاہیے تاکہ بھیجے گئے سگنلوں میں خلل پیدا نہ ہو۔

(f)   میگنیٹک اسٹرپ ریڈر

میگنیٹک اسٹرپ (مقناطیسی پٹیاں) سیاہی مائل رنگ کی پٹیاں ہیں جنھیں کئی پلاسٹک کارڈ کے پیچھے کی طرف دیکھا جاسکتا ہے جیسے بینک کارڈ۔ مقناطیسی پٹی میں کارڈ ہولڈر کے متعلق ڈیٹا موجود ہوتا ہے، بینک کارڈ میں بینک اکاؤنٹ نمبر (کارڈ ہولڈر کا ذاتی اکاؤنٹ نمبر) اور سورٹ کوڈ ( وہ کوڈ جس کی مدد سے بینک کی اس شاخ کی شناخت کی جاتی ہے جہاں اکاؤنٹ موجود ہے) جیسی تفصیلات موجود ہوں گی۔  یہ آلہ (شکل 2.17) مقناطیسی پٹی پر ڈیٹا کو پڑھ لیتا ہے اور بل ادا کرنے کے لیے صحیح اکاؤنٹ سے رقم نکال لی جاتی ہے۔ رقم کو بینک اکاؤنٹ سے نکالا جاتا ہے نہ کہ کارڈ سے۔ مقناطیسی پٹی پر موجود ڈیٹا میں تبدیلی نہیں آتی اور کارڈ کے اوپر کسی قسم کا بقایا درج نہیں کیاجاتا۔ یہاں پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کارڈ کے اوپر کریڈٹ لمٹ (Credit Limit) کی تفصیلات درج نہیں ہوتی ہیں۔ میگنیٹک اسٹرپ ریڈرس کو عام طور سے سپر مارکیٹ اور دیگر کئی قسم کی دوکانوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔ درحقیقت ان تمام جگہوں پر جہاں ’پوائنٹ آف سیل‘ (جہاں ہم سامان خریدنے پررقم ادا کرتے ہیں) موجود ہے۔ جہاں ڈیٹا کو برقی طریقے سے پڑھا جاتا ہے تو مقام فروخت کو EPOS (Electronic Point of Sale)  کہاجاتا ہے۔
35

خوبیاں

· کارڈ کو کئی مرتبہ پڑھا جاسکتا ہے اور اس میں پٹی (Strip) کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔
· ڈیٹا لوگوں کو نظر نہیں آتا کیوں کہ ڈیٹا کو پڑھنے کے لیے مشین کی ضرورت ہوتی ہے (حالانکہ ڈیبٹ کارڈ میں کارڈ کے اوپر بینک کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں)
· کارڈ پر مقناطیسی پٹی  لگانے کا کام مہنگا نہیں ہوتا ہے اس لیے کارڈ بنانا بہت سستاہے۔
· پٹی سے ڈیٹا کو بہت تیزی کے ساتھ اور آسانی سے پڑھ لیا جاتا ہے۔

خامیاں

· مقناطیسی پٹی ضائع ہوسکتی ہے اور میگنیٹک اسٹرائپ ریڈر ٹوٹ سکتاہے۔
· مقناطیسی پٹی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ عام آلہ اسے پڑھ توسکتاہے مگر ڈیٹا کو تبدیل نہیںکرسکتا۔ اسی لیے اسمارٹ کارڈ زیادہ مقبول ہورہے ہیں۔ ان کارڈوں میں مقناطیسی پٹی کے بجائے ایک چھوٹی سی چپ( یا ایک چھوٹا سا پروسیسر جن میں کچھ میموری بھی ہوتی ہے) لگی ہوتی ہے۔ جب اسمارٹ کارڈ کو استعمال کیا جاتا ہے تو چپ میں موجود ڈیٹا کو تبدیل کیا جاسکتاہے۔

(g)   ساؤنڈ سینسر مائکروفون

36
ساؤنڈ سینسر جو ایک مائکروفون ہوتاہے (شکل2.18) ایک ایسا ڈیوائس ہے جو آواز کو محسوس کرتا ہے اور اسے کمپیوٹر میں ان پٹ کرتا ہے اور پھر آواز جو اینا لاگ (Analogue) نوعیت کی ہوتی ہے ، ڈیجٹل فارمیٹ میں تبدیل کردی جاتی ہے۔
      کمپیوٹر کو استعمال کرنے والا شخص مائکروفون میں بولتا ہے۔ کمپیوٹر میں موجود آواز کی شناخت کرنے والا سافٹ ویئر اس شخص کے ذریعے کہے گئے الفاظ کو متن میں تبدیل کردیتاہے۔ متن اسکرین پر ظاہر ہوجاتا ہے اور ورڈ پر ترتیب شدہ فائل کے طور پر اسے محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ آواز شناسی(Speech Recognition) زیادہ قابل اعتماد ہوتی جارہی ہے حالاں کہ صارف کی آواز کو شناخت کرنے کے لیے سسٹم کی 'Teaching' میں کچھ وقت  صرف کرنا ضروری ہے۔ یاد رکھیے یہ اب بھی آواز کو ہمیشہ متن میں درستگی صحت کے ساتھ تبدیل نہیں کرپاتا۔
 بعض صارفین کسی بھی ذریعہ سے مخصوص آوازوں کو ریکارڈ کرتے ہیں یعنی آواز اور موسیقی دونوں کو ۔ ان آوازوں کا استعمال کمپیوٹرائزڈپریزینٹیشن میں کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ملٹی میڈیا تدریسی سافٹ ویئر۔

خوبیاں

· ایسے لوگ جو کئی طرح سے معذور ہیں وہ مائکروفون اور آوازشناسی (Speech Recognition)کا استعمال کرکے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ افراد جو کی بورڈکا استعمال نہیں کرسکتے۔ وہ ٹائپ کرنے کے بجائے بول کر ورڈ پروسیسر میں دستاویز تیار کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی گھر یلو آلات کو آوازکے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتاہے۔
· اپنی آواز کو ریکارڈ کر نے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے پریزینٹیشن(presentation)یا ای میل(e-mail) میں زبانی پیغامات یا موسیقی کا اضافہ کر سکتے ہیں۔

خامیاں

· ریکارڈنگ کے وقت پس منظر میں کسی طرح کا شور نہیں ہونا چاہیے ورنہ آواز خراب ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات پس منظر کے شور کو ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور مائکروفون کے ذریعہ ریکارڈ کی جانے والی آواز عموماً بہت اچھی نہیں ہوتی۔
· آواز نمونہ کاری (سافٹ ویئر کی مدد سے اینالاگ ساؤنڈ کو ڈیجٹل ساؤنڈ میں تبدیل کرنا) سے ڈیٹا فائل عموماً بہت بڑی ہوجاتی ہے۔

(h)   MIDI   (Musical Instrument Digital Interface)آلہ

یہ ایک سلسلہ وار انٹرفیس معیار ہے جو میوزک سنتھیسائزر(Synthesiser) موسیقی کے آلات اور کمپیوٹر کو آپس میں جوڑنے میں مدد کرتا ہے۔ کی بورڈ، گٹار اور ڈرم جیسے کئی موسیقی کے آلات ہیں جو برقی پیغامات بھیج سکتے اوروصول کرسکتے ہیں۔ اگر کسی میوزیکل کی بورڈ کو MIDI آلے کی مدد سے کمپیوٹر سے منسلک کر دیا جائے (شکل 2.19) تو موسیقی کی معلومات  جیسے پچ(pitch)کو ڈیجٹل ڈیٹا میں تبدیل کردیا جاتا ہے جسے پھر کمپیوٹر میں محفوظ کرلیاجاتا ہے۔
37
 موسیقی کی صنعت میں MIDI کااستعمال موسیقی کوکمپیوٹر میں براہ راست داخل کرنے کے لیے کیاجاتا ہے تاکہ اسے ایڈٹ کرکے نئی شکل دی جا سکے۔  یہ کام اکثر اسے دوسری آوازوں کے ساتھ ملا کر کیا جاتا ہے جو کسی مائکروفون سے کمپیوٹر میں داخل کی جاتی ہیں۔ کچھ پروگرام اپنے صارف کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ ایک آلہ موسیقی کے ذریعہ کسی دُھن(Tune)کو داخل کریں اور بعد میں اسے تحریری موسیقی میں تبدیل کریںجسے چھاپا بھی جاسکتاہے۔

خوبیاں

· جب کسی آلہ موسیقی سے کوئی دھن بجائی جاتی ہے تو اس کی تمام تفصیلات کمپیوٹر میں پہنچ جاتی ہیں۔ ان تفصیلات کو تبدیل کیاجاسکتا ہے۔ دھن کی رفتار کو بڑھایا جاسکتاہے، کم کیا جاسکتاہے یا اس میں اتنی تبدیلی کی جاسکتی ہے کہ یہ کسی دوسرے آلہ موسیقی کی آواز معلوم ہونے لگے۔
· محفوظ کیا گیا ڈیٹا بہت مربوط(Compact)ہوتا ہے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے کمتر معیار کے ساؤنڈ سیمپل کو اسٹور کرنے میں خرچ ہونے والی جگہ کا 1/20 حصہ ہی درکار ہوتا ہے۔

خامیاں

· کسی موسیقار کو ان پٹ حاصل کرنے کے لیے کوئی ساز بجانا ہوتا ہے اس لیے اس کے لیے موسیقی کی واقفیت ضروری ہے۔
· ڈیجٹل شکل میں ریکارڈ کی گئی آواز سے فائدہ اٹھانے کے لیے سافٹ ویئر اور موسیقی کی واقفیت ضروری ہے تاکہ ریکارڈ کی گئی دھنوں میں ترمیم کی جاسکے۔

2.2.2  میموری یا اسٹوریج ڈیوائس

کمپیوٹر میں پروگرام اور پروگراموں کے ذریعے ترتیب دیے گئے ڈیٹا کو اسٹور کرنے کے لیے میموری(یادداشت) درکار ہوتی ہے ۔
 کمپیوٹر حافظہ بہت سارے خانوں(Cells)سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ ہر خانہ اطلاع ( انفارمیشن)کی ایک) (Bitبٹ کو بائنری اعداد کی شکل میں محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔

میموری سسٹم(حافظے کا نظام)

کمپیوٹری نظام میں ہدایات اور ڈیٹا کو محفوظ کرنے اور ان کی بازیافت کے لیے حافظے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمپیوٹر نظام اپنے اعمال کے لیے درکار ڈیٹا اور ہدایات کو اسٹور کرنے کے لیے کئی قسم کے آلات استعمال میں لاتا ہے ۔عام طور سے کمپیوٹر میں اسٹور کی جانے والی اطلاع کی درجہ بندی دو بنیادی زمروں میں کی جاتی ہے یعنی  —  ڈیٹا اور ہدایات۔
حالاں کہ میموری سسٹم ایک بہت سادہ نظام ہے اس کے باوجود اس میں ٹیکنالوجی کا ایک وسیع سلسلہ پایا جاتا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ تیز رفتار حافظہ بہت زیادہ مہنگا ہوتاہے۔ اس کے برعکس سستے حافظوں تک رسائی میں بہت وقت لگتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جو  CPU کو میموری میں کسی مقام کی رسائی میں لگتاہے۔ اس کے نتیجے میں CPU کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ اس طرح قیمت بالمقابل ایکسس ٹائم سے میموری کا نظام مراتب وجود میں آتا ہے جہاں ہم تیز رفتار میموری کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا میموری کے نظام کی مختلف قسمیں،قیمتوں،تنظیموں،ٹیکنالوجیاں اور کارکردگیاں ہو سکتی ہیں (شکل 2.20)۔
38

میموری کی اقسام

میموری سسٹم مندرجہ ذیل تین قسم کی میموری پر مشتمل سمجھا جا سکتا ہے:

.1 انٹرنل پروسیسر میموری
.2 پرائمری میموری یا مین میموری
.3 سیکنڈری یا آگزیلری میموری

کمپیوٹر کی کسی بھی اسٹوریج یونٹ میں مندرجہ ذیل خصوصیات ہوتی ہیں:

اسٹوریج کیپسٹی(Storage Capacity): یہ اطلاع/ ڈیٹا کی وہ مقدار ہے جو کسی اسٹوریج یونٹ میں سماسکتی ہے۔ ان  حافظوں سے یا حافظوں میں ڈیٹا کا ایکسس تیز یا سست ہوسکتاہے۔
سستی میموری کی دستیابی اور رفتار(Speed) نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو بہت زیادہ متاثرکیاہے۔تیز رفتارمیموری آلات نسبتاً مہنگے ہیں اور سست رفتار میموری آلات کے مقابلے میں کم جگہ گھیرتے ہیں۔

انٹرنل پروسیسر میموری

یہ ہائی اسپیڈ رجسٹرس اور ہائی اسپیڈ بفر میموری (cache)کے مختصر سے مجموعے پر مشتمل ہوتی ہے جو پروسیسر کے اندر ہوتی ہیں اور ان کا استعمال عارضی مقامات کے طور پر کیا جاتا ہے جہاں حقیقی ترتیب کاری انجام دی جاتی ہے۔
رجسٹر CPUپر دستیاب اسٹوریج کی تھوڑی سی مقدار ہے جس کے مواد (Contents) کو کسی دوسری جگہ پر دستیاب موادکے مقابلے میں بہت تیزی کے ساتھ ایکسس کیا جاسکتاہے۔ پروسیسر رجسٹرس میموری کے نظام مراتب میں سب سے اوپر ہیں اور ڈیٹا کو ایکسس کرنے کے لیے CPU کو تیز رفتار راستہ فراہم کرتے ہیں۔

CPU کے اندر اہم رجسٹرس مندرجہ ذیل ہیں:

پروگرام کاؤنٹر (PC): پروگرام کاؤنٹراس بات پر نظر رکھتاہے کہ اگلی کس ہدایت پر عمل کیاجانا ہے۔ 

ہدایت رجسٹر(IR) وہ رجسٹر ہے جس میں وہ ہدایت موجود ہوتی ہے جسے کنٹرول یونٹ کے ذریعہ ڈی کوڈ (Decode)کیاجانا ہے۔

میموری ایڈریس رجسٹر(MAR):  وہ رجسٹر ہے جو اس مقام حافظے کی نشاندہی کرتاہے جس طرف CPU رسائی کا منصوبہ رکھتا ہے یہ رسائی یا تو ڈیٹا کو پڑھنے کے لیے ہوسکتی ہے۔

حافظے کا فاضل رجسٹرMBR  (Memory Buffer Register): وہ رجسٹر ہے جسے میموری ڈیٹا رجسٹر (MDR) سے بھی موسوم کیاجاتا ہے۔ اس کا استعمال CPU کی طرف آنے والے یا CPUکے ذریعہ منتقل کیے جانے والے ڈیٹا کو اسٹور کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔

ACC  (Accumular)عام مقصد کا رجسٹر ہوتاہے ۔اس کا استعمال متغیرات، عارضی نتائج اور CPUکے(Arithmetic Logic Unit) کے ذریعہ فراہم کیے جانے والے نتائج کو اسٹور کرنے میں کیاجاتا ہے۔

ان سب کے علاوہ پروسیسر میں اور بھی کئی رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ لیکن مذکورہ رجسٹرس کسی بھی CPU  کے لیے سب سے زیادہ بنیادی اور سب سے زیادہ ضروری ہوتے  ہیں۔


 کیش میموری  (Cache Memory)

کیش میموری کم گنجائش والی تیز رفتار بفر میموری ہوتی ہے جس کا استعمال پروسیسنگ کے دوران ہدایات کو عارضی طور پر روکے رکھنے کے لیے کیا جاتاہے۔
کمپیوٹرسسٹم کا CPUعام طور سے اس کیش میموری کو استعمال کرتا ہے (شکل 2.21 )  جہاں یہ اصل میموری کے مواد کو قابو میں رکھتا یا بچا کر رکھتا ہے کیوں کہ اصل میموری کے مقابلے میں CPU زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔ لہٰذا CPU کے وقفۂ انتظار کوکم کرنے کے لیے کیش میموری کا استعمال کیاجاتا ہے۔ فاضل حافظہ یا یادداشت روایتی نظام کے تنگی کو کم کرتا ہے کیوں کہ سسٹم RAM  سی پی یو کے مقابلے میں زیادہ سست ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے پروسیسر کو سست رفتار اصل میموری کے ڈیٹا اور پروگرام کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
 فاضل حافظہ خاص طور پر اسٹوریج کے بلاک کی کاپیوں کو برقرار رکھ کر کام کرتا ہے۔ ہر ایک بلاک اسٹوریج میں فی الحال استعمال ہونے والی اطلاع موجود رہتی ہے۔ یہ میموری (Cache)عام طور سے شفاف یا پروسیسر کے لیے غیر مرئی ہوتی ہے۔
39

؎ کیش  (Cache) ڈیٹا کا وہ مجموعہ ہے جو پہلے سے تحسیب شدہ یا کہیں پر بھی ذخیرہ شدہ اصل قدروں کی نقل بنادیتاہے جب کہ ڈیٹا کو کیش سے پڑھنے کے مقابلے میں اصل ڈیٹا کا نکالنا یا اس کی تحسیب مہنگی پڑتی ہے(کیوں کہ اس میں وقت زیادہ لگتاہے)بالفاظ دیگرکیش ایک عارضی اسٹوریج علاقہ ہے جہاں ڈیٹا تک تیزی سے پہنچنے کے لیے زیادہ استعمال میں آنے والے ڈیٹا کو اسٹور کرسکتے ہیں۔ جب ایک مرتبہ ڈیٹا کو کیشے میں اسٹورکرلیاجاتاہے تو مستقبل میں اس کا استعمال اصل ڈیٹا کو نکالنے یا اس کی تحسیب کے مقابلے کیش شدہ کاپی تک رسائی کے ذریعہ کیاجاسکتاہے اور اس سے ایکسس ٹائم کی بچت ہوتی ہے۔

40

بنیادی حافظہ( پرائمری میموری)

یہ بڑی میموری ہے جو بہت تیز ہوتی ہے لیکن اتنی تیز نہیں ہوتی جتنا کہ انٹرنل پروسیسر رجسٹر ہوتا ہے۔ پروسیسر اس میموری کو براہ راست ایکسس کرتا ہے۔ یہ خاص طور سےIntegrated circuit یعنی ICپر مبنی ہوتی ہے۔
پرائمری میموری یا مرکزی حافظہ اصل کمپیوٹرنظام کا ایک حصہ ہے۔ پروسیسر یا CPU اطلاع کو براہ راست اس میں جمع کرتاہے اور اس کی بازیافت کرتا ہے۔ CPUاس میموری کو بے ترتیب انداز(Random fashion) میں ایکسس کرتاہے۔ اس کامطلب ہے کہCPU اس میں سے کسی انفارمیشن کو پڑھنے یا اس میں کسی انفارمیشن کو اسٹور کرنے کے لیے اس میموری کی کسی بھی لوکیشن کو ایکسس کر سکتا ہے۔ پرائمری میموری خود بھی دوقسم کی میموری ٹیکنالوجی سے مربوط ہوتی ہے۔ پہلیRAM یعنی Random Access Memory کہلاتی ہے اور دوسری ROM یعنی Read Only Memory کہلاتی ہے۔ RAMکے لیے زیادہ موزوں نام RWM یعنی Read Write Memory ہے۔CPUکسی بھی پرائمری میموری لوکیشن سے انفارمیشن کو RAM کی مدد سے لکھ سکتا اور پڑھ سکتاہے۔ پرائمری میموری کا دوسرا حصہ ROMسے مربوط ہوتاہے جسےRead Only Memoryکہتے ہیں۔

داخلی طورپر نصب شدہ) (Built-inمیموری دوقسم کی ہوتی ہیں، مستقل اور عارضی ،جنھیں بالترتیب ROMاور RAMکہاجاتاہے۔ذیل میں ہر ایک کی تفصیل دی جا رہی ہے :

(ROM)  Read Only Memory

جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ  کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں ، ’پڑھنے‘ (Read) کا مطلب ہوتاہے ڈیٹا ہدایت کو ان پٹ مآخذ سے کمپیوٹر کے مین میموری یا  CPU میں منتقل کرنا اور ’لکھنے‘ (write)کا مطلب ہے ڈیٹا/ہدایت کو کمپیوٹر کی مین میموری سے آؤٹ پٹ ڈیوائس میں منتقل کرنا۔ لہٰذا Read only  کا مطلب ہے کہ ڈیٹا / ہدایت کی ROM چپ سے بازیافت کی جاسکتی ہے ۔اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی جاسکتی ۔

ROM کی اقسام

بنیادی طور پر ROMکی دوقسمیں ہیں تیار کنندہ کی پروگرام شدہ اور استعمال کنندہ کی پروگرام شدہ۔

تیار کنندہ کی پروگرام شدہ  ROM

تیار کنندہ کی پروگرام شدہ  ROM وہ میموری ہے جس میں ڈیٹا ROMکے مینوفیکچرر کے ذریعہ مستقل طور پر اسٹور کیاجاتاہے۔ مثال کے طور پر کمپیوٹر تیار کنندہ سسٹم بو‘ٹ پروگرام کو مستقل طور پر مدر بورڈ پر استعمال ہونے والی  ROM چپ میں جمع کرسکتاہے۔
صارف استعمال کنندہ کی پروگرام شدہ  ROM
صارف استعمال کنندہ کی پروگرام شدہ  ROM میں صارف’’ Read only‘‘ پروگرام اور ڈیٹا کو لوڈ کرسکتااور اسٹور کرسکتاہے۔ اس قسم کی ROM کو عموماًقابل پروگرام قرآت محدود حافظہ  (Programmable Read Only Memory) بھی یا PROMکہاجاتاہے کیوں کہ صارف  اسے پروگرام کرسکتاہے۔ PROM وہ میموری چپ ہے جس پر ہم پروگرام اسٹور کرسکتے ہیں۔ لیکن ایک مرتبہ PROM استعمال ہونے کے بعد ہم اسے خالی نہیں کرسکتے اور اس کی جگہ پر کچھ اور اسٹور نہیں کیاجاسکتا۔ ROM کی طرح PROMS بھی ناقابل اتلاف) Non-Volatile (ہوتی ہیں۔
صارف کے ذریعہ پروگرام کی گئی میموری کی دیگر اقسام  EPROM اور EEPROMہیں۔دونوں ہیPROMکی مخصوص قسمیں ہیں ۔ EPROM  (Erasable programmable Read Only Memory) کو الٹراوائلٹ شعاعوں کے ذریعہ مٹایا جاسکتاہے جب کہ EEPROM  (Electrically Erasable Programmable Read Only Memory) کو برقی چارج کی زد میں لاکر مٹایا جاسکتاہے۔

(RAM) Random Access Memory  

RAM چپ کا استعمال پرائمری اسٹوریج کے لیے کیا جاتاہے۔ یہ پروسیسنگ سے پہلے اور بعد میں (a) سافٹ ویئر/پروگرام ہدایات اور (b)ڈیٹا کو عارضی طور پر اسٹور کرتی ہیں۔
رینڈم ایکسس کامطلب ہے کہ کسی بھی لوکیشن کی تفویض یکساں وقت اور اسی انداز میں کی جاسکتی ہے جیسے کہ یہ میموری میں ایڈریس یا لوکیشن سے آزاد ہو۔ یہ ایک قابل اتلاف حافظہ ہے۔ یہ ڈیٹا اور ہدایات کو ان کے تعمیل (Execution) کے دوران سنبھالتی ہے۔اضافی RAMچپ کو مدربورڈ کے مخصوص ساکٹ میں جسے) (SIMM Single in line Memory Module کہتے ہیں لگایاجاسکتاہے۔ RAMکی گنجائش پرسنل کمپیوٹر میں 16 MBسے   4 GBتک ہوتی ہے۔

RAM کی اقسام

RAM چپ دوقسم کی ہوتی ہیں۔ سکونی  (SRAM) RAM  اور حرکی (DRAM) RAM ۔

سکونی (SRAM) RAM 

SRAM ڈیٹا کو اس وقت تک اسٹور رکھتی ہے جب تک کہ اس میں برقی سپلائی جاری رہتی ہے۔ اس میں ڈیٹا کو میموری میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس RAM کے مشمولات (میموری سیل) دی ہوئی حالت میں (Store a  bit) اس وقت تک رہتے ہیں جب تک کہ اس کی برقی سپلائی میں کسی قسم کا خلل پیدا نہیں ہوتا۔ SRAM کا خاص استعمال ان جگہوں پر ہوتاہے جہاں صرف تھوڑی میموری ہی درکار ہوتی ہے یا  جہاں زیادہ رفتار کی ضرورت ہوتی ہے۔

خوبی

SRAM سے بہت زیادہ رفتار حاصل کی جاسکتی ہے۔

خامی

SRAM مہنگی ہوتی ہے اور اس کی   Power Packing Density بہت کم ہوتی ہے۔

حر کی DRAM) RAM )

یہ میموری ڈیٹا کو اس طرح اسٹور کرتی ہے جیسے کہ کیپسیٹر چارجوں کو اسٹور کرتاہے۔ DRAMمیں اسٹور شدہ چارج کیپسیٹرچارج کی وجہ سے آہستہ آہستہ غائب ہوجائے گا اس لیے ڈیٹا کو ایک خاص وقفہ کے بعد تازہ کرنا پڑتاہے (یعنی کیپسیٹر کودوبارہ چارج کرنا) دوبارہ چارج کرنے کے عمل کے دوران میموری سیل سے اطلاع کو پڑھا جاتا ہے اور پھر اسی لوکیشن پر دوبارہ لکھاجاتاہے۔ DRAM کا ہر ایک میموری سیل 2-10 ملی سیکنڈ کے وقفے سے تازہ کرنا ضروری ہے ورنہ ڈیٹاضائع ہوجائے گا۔

خوبی

اس کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے اور اس میں بجلی کی کھپت کم ہوتی ہے۔

خامی

حرکی RAM کو تازہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ بعض خارجی تازہ کاری دورانیے درکار ہیں۔

(Complementary Metal Oxide Semiconductor  Memory) CMOS

RAM اور ROMکے علاوہ ایک تیسری قسم کی پرائمری میموری بھی ہوتی ہے جسے CMOSکہتے ہیں۔ اس کا استعمال سسٹم کی تشکیل (System Configuration) تاریخ، وقت اور دیگر اہم ڈیٹا کو اسٹور کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔ کمپیوٹر کا سوئچ جب کھولا جاتاہے تو BIOS سب سے پہلے CMOSکی معلومات کی ذیلی آلات کے ساتھ مطابقت کرتا ہے اور اگر ملانے میں کسی قسم کی غلطی پائی جاتی ہے تو یہ اسے ظاہر کردیتاہے۔

جدول 2.4  :  ROM اور RAM کے درمیان موازنہ

ROM

ریڈ آن لی میموری
یہ اطلاعات کو مستقل طور پرجمع کرتی ہے۔
اگر کمپیوٹر بند کردیاجائے تو بھی اطلاع ضائع نہیں ہوتی۔
ناقابل اتلاف حافظہ کہلاتا ہے۔
بوٹ لوڈر(Boot Loader) جیسے سسٹم سافٹ ویئر کو سنبھالتی ہے۔
PROM، EPROM، EEPROMیہ سب ROMکی اقسام ہیں۔

RAM

رینڈم ایکسس میموری
یہ اطلاعات کو عارضی طور پر جمع کرتی ہے۔
جب پاور سپلائی بند ہوجاتی ہے تو اطلاع ضائع ہوجاتی ہے۔
 قابل اتلاف حافظہ کہلاتا ہے
آپریٹنگ سسٹم اور ان پروگراموں کو سنبھالتی ہے جو سردست استعمال میں ہوتے ہیں۔
RAMکی قسمیں حرکی اور سکونی RAMہیں۔
41

ثانوی یا امدادی حافظہ میموری

 معاون میموری مین میموری کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑی ہوتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں بہت سست ہوتی ہے۔ یہ عام طور سے سسٹم پروگرام اور ڈیٹا فائل کو اسٹور کرتی ہے۔ انھیں پروسیسر کے ذریعے براہ راست ایکسس نہیں کیا جاسکتا۔
 ثانوی یا معاون میموری کو سیکندڑی اسٹوریج بھی کہاجاتا ہے۔یہ وہ میموری ہے جو مین اسٹوریج میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ طویل مدتی اور ناقابل اتلاف حافظہ ہے۔ اصطلاح ناقابل اتلاف (Non-volatile)کا مطلب ہے کہ یہ پروگرام اور ڈیٹا کو اس وقت بھی برقرار رکھتی ہے جب کمپیوٹر بند کردیاجاتاہے۔ RAM جو کہ ایسی میموری ہے جس کا مواداس وقت ضائع ہوجاتاہے جب کمپیوٹر بند ہوجاتاہے اور ROM وہ میموری ہے جس میں کوئی نیا مواد داخل نہیں کیا جا سکتا۔ان دونوں کے برعکس معاون اسٹوریج ڈیوائس کی مدد سے کمپیوٹر میں انفارمیشن کو نیم مستقل طور پر اسٹور کیا جاسکتاہے۔ یہ اس بات کویقینی بناتی ہے کہ اس انفارمیشن کو اسی کمپیوٹر یا کسی دوسرے کمپیوٹر کے ذریعہ بعد میں پڑھاجاسکتاہے۔ معاون اسٹوریج ڈیوائس ڈیٹا یا پروگرام کو ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں منتقل کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ یہ بیک اپ (Back Up) ڈیوائس کے طور پر بھی کام کرتے ہیں جو ان اہم اطلاعات کا بیک اپ حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں جن پر ہم کام کر رہے ہیں۔لہٰذا اگر کسی حادثہ کی وجہ سے ہمارا کمپیوٹر خراب ہوجاتاہے اور اس میں موجود ڈیٹا دوبارہ حاصل کرنے کی حالت میں نہیں ہے تو آپ اسے اپنے بیک اپ سے دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔ فلاپی ڈسک (Floppy Disk)،    ہارڈ ڈسک(Hard Disk) مقناطیسی ٹیپ اور مقناطیسی ڈسک معاون اسٹوریج ڈیوائس کی عام قسمیں ہیں۔

ترتیبی اور بے ترتیبی معاون اسٹوریج کے آلات   (Sequential and Random Auxiliary Storage Devices) 

 ڈیٹا ایکسس کی قسم کی بنیاد پر ترتیبی اور بے ترتیبی معاون اسٹور یج کے آلات کی درجہ بندی سیکوینشیل ایکسس میڈیا اور رینڈم میڈیا کے طور پر کی جاسکتی ہے۔

سیکوینشیل ایکسس میڈیا کے معاملے میں میڈیا میں اسٹور شدہ ڈیٹا کو صرف تسلسل میں پڑھا جاسکتاہے۔ میڈیا پر کسی مخصوص نقطہ تک پہنچنے کے لیے ہمیں اس سے پہلے کے تمام نقطوں سے ہوکر گزرنا پڑے گا۔ مقناطیسی ٹیپ سکوینشیل ایکسس میڈیا کی مثالیں ہیں۔

اس کے برعکس، ڈسک (Disc) رینڈم ایکسس میڈیا ہیں۔ انھیں ڈائریکٹ ایکسس میڈیا بھی کہتے ہیں کیوں کہ ڈسک ڈرائیو(Disk Drive) کسی بھی نقطہ کو راہ میں حائل نقطوں سے گزرے بغیر براہ راست ایکسس کرسکتی ہے۔ مقناطیسی ڈسک آپٹکل ڈسک وغیرہ ڈائریکٹ ایکسس میڈیا کی دیگر  مثالیں ہیں۔

فلاپی ڈسک(Floppy Disk) 

فلاپی ڈسک ( Floppiesیا  Diskettes بھی کہلاتی ہیں)ایک نرم مقناطیسی ڈسک ہے۔ اسے فلاپی اس لیے کہاجاتاہے کیوں کہ اگر ہم اسے زور سے حرکت دیں تو یہ  لچکتی ہے۔ فلاپی ڈسک کے اوپر ڈیٹا ٹریک (Tracks) اور سیکٹر  (Sector) کی شکل میں منظم رہتاہے۔ ہارڈ ڈسک کے برعکس فلاپی ڈسک پورٹیبل ہوتی ہیں کیوں کہ انھیں ڈسک ڈرائیو سے علاحدہ کیاجاسکتاہے۔   فلاپی ڈسک کے ڈسک ڈرائیو کو فلاپی ڈرائیو کہتے ہیں۔ ہارڈ ڈسک کے مقابلے میں فلاپی ڈسک کاایکسس سست ہوتا ہے اور ان کی گنجائش (Storage Capacity) بھی کم ہوتی ہے لیکن یہ سستی اور قابل منتقلی ہیں۔
فلاپی دوبنیادی سائزوں میں پائی جاتی ہیں۔ ایک 5¼ انچ اور دوسری3½ انچ۔  
 5¼انچ: یہ فلاپی کا عام سائز ہے جسے PCکے لیے 1987سے پہلے بنایاگیا تھا۔ یہ فلاپی عام طور سے 100k اور 1.2MB ڈیٹا کو اسٹور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 360k اور 1.2MB عام سائز ہیں۔
3½ انچ:  فلاپی (شکل 2.22) دراصل ان ڈسک کے لیے غلط نام ہے کیوں کہ یہ ایک سخت خول میں بند رہتی ہیں۔ چھوٹے سائز کی ہونے کے باوجودد ا س فلاپی میں 400k سے 1.4MB والی فلاپی کے مقابلے میں زیادہ اسٹوریج کی صلاحیت ہوتی ہے۔ PCکے لیے عام سائز 720k  (double density)اور 1.44MB ہیں۔
42

آپٹکل ڈسک (Optical Disk) 

آپٹکل ڈسک ایک الیکٹرونک ڈیٹا اسٹوریج میڈیم ہے جسے کم پاور والے لیزر بیم کا استعمال کرکے پڑھا اور لکھا جاسکتاہے۔ آپٹکل ڈسک کافی زیادہ یعنی  6 GB تک ڈیٹا اسٹور کرسکتی ہے۔ تین قسم کی آپٹکل ڈسک ہیں— CD-ROM، WROM  اور  Erasable۔
CD-ROM: آڈیو CDs کی طرح ہی ہوCD-ROM بھی پہلے سے کوڈ شدہ ڈیٹا کے ساتھ آتی ہیں۔ ڈیٹا مستقل ہوتا ہے اور اسے متعدد بار پڑھا جاسکتاہے لیکن CD-ROMs میں ترمیم نہیں کی جاسکتی(شکل 2.23 )۔
 WROM:  اس کامطلب ہے -''Write Once, Read Many''  WORM ڈسک ڈرائیو میں ڈیٹا کو صرف ایک مرتبہ لکھا جاسکتاہے اس کے بعد یہ ڈسک بالکل CD-ROM کی طرح کام کرتی ہے۔ 
43
 Erasable:  وہ آپٹکل ڈسک جسے صاف کیاجاسکتاہے (یعنی ڈیٹا کو مٹایا جاسکتاہے) اور اس میں نیاڈیٹا لوڈ کیا جاسکتاہے۔ یہ بالکل مقناطیسی ڈسک کی ہی طرح ہیں۔ انھیں عام طور سے EO ڈسک (Erasable Optical Disk) کہاجاتاہے۔

ہارڈ ڈسک(Hard Disk)

ہارڈ ڈسک ایک مقناطیسی ڈسک (شکل2.24) ہے جس پر کمپیوٹر ڈیٹا اسٹور کیا جاسکتاہے۔ ہارڈ ڈسک پر بہت زیادہ ڈیٹا اسٹور کیاجاسکتاہے اور یہ فلاپی ڈسک کے مقابلے میں بہت زیادہ تیز رفتار ہوتی ہیں اور الگ ہارڈ ڈسک عام طور سے متعدد پلیٹر(Platters) پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر پلیٹر کو دو Read/write ہیڈ درکار ہوتے ہیں، ایک سائڈ کے لیے ایک ہیڈ۔ تمام Read/write ہیڈ واحد ایکسس بازو سے منسلک رہتے ہیں تاکہ وہ آزادانہ طور پر حرکت نہ کرسکیں۔ ہر پلیٹر میں ٹریک (Track) کی تعداد یکساں ہوتی ہے۔ وہ ٹریک لوکیشن جو تمام پلیٹر کو آر پار کاٹتی ہے سلنڈرکہلاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک 84 MB ہارڈ ڈسک میں دو پلیٹر (چار سائڈ ) اور 053،1سلنڈر ہوتے ہیں۔
44

مقناطیسی ٹیپ(Magnetic Tape) 

مقناطیسی ٹیپ (شکل2.25) ایک پلاسٹک کی پٹی ہوتی ہے جس پر مقناطیس کی پرت چڑھی رہتی ہے۔ اس پر ڈیٹا کی رمز بندی کی جاسکتی ہے۔کمپیوٹروں کے لیے استعمال ہونے والی ٹیپ موسیقی کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیپ جیسی ہوتی ہے۔
45
 کچھ پرسنل کمپیوٹر میں نارمل کیسٹ ٹیپ کا بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔ ڈسک پر ڈیٹا اسٹور کرنے کے مقابلے میں ٹیپ زیادہ کفایتی ہے لیکن ٹیپ سے ڈیٹا کا ایکسس بہت سست روی سے ہوتا ہے۔ ٹیپ کی اسٹور کرنے کی گنجائش بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ چندسو KBسے لے کر کئی GB تک ہوسکتی ہے۔ ان کااستعمال عام طور سے طویل مدت کے لیے کیے جانے والے اسٹوریج اور بیک اپ میں کیاجاتاہے۔

جدول 2.5  :  پرائمری اسٹوریج مقابل ثانوی اسٹوریج

پرائمری اسٹوریج


یہ CPU کی خاص میموری ہے۔
یہ بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔
اسٹوریج کی گنجائش عام طور سے MB  یا GB میں ہوتی ہے۔
بازیافت اور پروسیسنگ بہت تیزی سے ہوتی ہے۔
نیم موصل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہے۔

 ثانوی  اسٹوریج

یہ معاون میموری ہے جو  CPU کے  تحت کام کرتی ہے۔
یہ پرائمری میموری کے مقابلے  میں کم خرچ ہوتی ہے۔
اسٹوریج کی گنجائش  GB  اور   TB  میں ہوتی ہے۔
بازیافت اور پروسیسنگ نسبتاً سست روی سے ہوتی ہے۔
مقناطیسی یا آپٹکل ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہے۔
49

 2.2.3 سینٹرل پروسیسنگ یونٹ (CPU) 

سینٹرل پروسیسنگ یونٹ مائکرو کمپیوٹر کے دو اہم ترین اجزا میں سے ایک ہے۔ یہ کمپیوٹر کا الیکٹرونک دماغ ہے۔ یہ ڈیٹا کی پروسیسنگ کے ساتھ ساتھ دیگر پرزوں کے افعال کو بھی کنٹرول کرتاہے۔
سینٹرل پروسیسنگ یونٹ (CPU) یا ’’سینٹرل پروسیسر‘‘ ڈیٹا کے استعمال سے متعلق متعدد کارروائیوں (بشمول ارتھمیٹک/ لاجیکل تحسیبات، موازنہ/چھانٹنا وغیرہ) اور کنٹرول سے متعلق کاموں کو انجام دیتا ہے۔ CPU ارتھمیٹک لاجک یونٹ(ALU) اور کنٹرول یونٹ(CU)پر مشتمل ہوتا ہے۔
50

میموری یونٹ ٹیبل

 1  بائٹ(بائنری ڈیجٹ) 0  یا 1 
 1  بائٹ 8  بِٹ
1  کلوبائٹ  (KB) 210  بائٹ یا 1024   بائٹ
میگا بائٹ  (MB) 1024کلو بائٹ
1  گیگا بائٹ  (GB)   1024 میگا بائٹ
1  ٹیرا بائٹ  (TB) 1024 گیگابائٹ
1  پیٹا بائٹ  (PB) 1024 ٹیرا بائٹ

ہر مائکروپروسیسر میں ایک سسٹم گھڑی ہوتی ہے۔ جس رفتار سے پروسیسر ہدایات پر عمل درآمد کرتا ہے اسے کلاک اسپیڈ (Clock Speed) کہتے ہیں اور اس کی پیمائش میگاہرٹز (MHz)میں کی جاتی ہے۔
میگاہرٹز(MHz):  فریکوئنسی کی پیمائش جو کہ 10لاکھ سائیکل فی سیکنڈ کے مساوی ہے۔ 
گیگاہرٹز(GHz):  ایک بلین سائیکل فی سیکنڈ۔

یہاں میگا  کا مطلب ملین اور ہرٹز کا مطلب سائیکل ہے لہٰذا 550 MHz کا پروسیسر ہر سیکنڈ 550 ملین سائیکل انجام دیتا ہے۔ عام طور سے سسٹم کی کارکردگی کا تعین کلاک اسپیڈ کرتی ہے۔ ہائر کلاک اسپیڈ کے ذریعے ٹیکنالوجی آگے بڑھتی ہے۔ پروسیسر کی جدیدترسیل گیگا ہرٹز (GHz) میں کام کرتی ہے یعنی بلین سائیکل فی سیکنڈ۔

ارتھمیٹک لاجک یونٹ (Arithmetic Logic Unit) 

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ارتھمیٹک لاجک یونٹ دستیاب ڈیٹا پر حسابی اور منطقی (Logical) کا رروائیاں انجام دیتی ہے۔ جمع اور تفریق وہ بنیادی حسابی عمل ہیں جنھیں ALU انجام دیتی ہے۔ زیادہ طاقتور CPUs مزید ریاضیاتی عملوں کو انجام دے سکتے ہیں جیسے کہ ضرب اور تقسیم۔ یہ یونٹ جن منطقی عملوں کو انجام دے سکتی ہے ان میں شامل ہیں: ’’سے بڑا‘‘ ، ’’کے برابر‘‘،  ’’سے کم‘‘ اور دو اعداد کے درمیان موازنہ۔ ان اعمال کے علاوہ کچھ پروسیسر ایسے اعمال میں بھی مدد گار ہوتے ہیں جو اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ کوئی مخصوص Bits آن ہے یا آف۔

کمپیوٹر اپنے کام کو سیکنڈ سے بھی کم وقفہ میں مکمل کرلیتا ہے۔بڑھتی ہوئی رفتار ذیل کے مطابق ہیں:

51

کنٹرول یونٹ

کنٹرول یونٹ کو CPU کا دماغ تصور کیاجاسکتاہے۔ یہ ہدایات کی رمزکشائی(Decodation) کرکے کمپیوٹر کو کنٹرول کرتاہے۔

رجسٹر

رجسٹر CPU کے اندر ایک تیز رو اسٹوریج علاقہ ہے۔ تمام ڈیٹا کو پروسیسنگ سے پہلے رجسٹر میں پیش کرنا لازمی ہے۔ مثال کے طور پر اگر دو اعداد کو ضرب دیاجانا ہو تو دونوں اعداد رجسٹر کے اندر ہونے چاہئیں۔ نتیجہ کو بھی رجسٹر میں ہی رکھاجاتاہے۔ (رجسٹر میں ڈیٹا کو لکھنے کے مقابلے میں اس حافظے کے مقام کا پتہ موجود ہوسکتاہے جہاں ڈیٹامحفوظ کیا گیاہے نہ کہ خود حقیقی ڈیٹا۔)

 2.2.4 آؤٹ پٹ ڈیوائس

کمپیوٹر کے آئوٹ پٹ ڈیوائس کا استعمال نتائج کو الیکٹرونک میڈیم یا کاغذ پر ظاہر کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔ 
عام آؤٹ پٹ ڈیوائس جو کہ بآسانی سمجھ میں آنے والا آؤٹ پٹ فراہم کرتے ہیں پرنٹر اور مانیٹر ہیں۔
آؤٹ پٹ ڈیوائس کے ذریعے فراہم کیے جانے والے نتائج دوقسم کے ہوسکتے ہیں :
ہارڈکاپی آؤٹ پٹ  :  اس قسم کے آؤٹ پٹ غیر الیکٹرونک دائمی شکل میں ہوتے ہیں اور ان کا استعمال بعد میں جہاں پر بھی ضروری ہوکیاجاسکتاہے۔ یہ عموماً کاغذ پر ہوتے ہیں اور ان کا استعمال رپورٹ پیش کرنے کے لیے کیا جاتاہے ۔ وہ ڈیوائس جن کا استعمال ہارڈ کاپی آؤٹ پٹ تیار کرنے میں کیاجاتاہے پرنٹر، گراف پلاٹر، کمپیوٹر آؤٹ پٹ، مائکرو فلم وغیرہ ہیں۔
سافٹ کاپی آؤٹ پٹ  :  اس قسم کے آؤٹ پٹ الیکٹرونک ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ یا تو اسکرین پر دستیاب رہتے ہیں یا پھر انھیں اسٹوریج ڈیوائس پر ڈیجٹل شکل میں اسٹور کیا جاسکتاہے۔ سافٹ کاپی کو یا تو براہ راست اسکرین پر دیکھا جاسکتاہے یا پھر ہارڈ ڈسک DVD/ CD/پر مزید استعمال کے لیے اسٹور کیاجاسکتاہے۔

پروجیکٹر، ساؤنڈ کارڈ، اسپیکر اور ویڈیو کارڈ دیگر آؤٹ پٹ ڈیوائس ہیں جن کا استعمال خاص مقاصد کے تحت کیاجاتاہے۔

پرنٹرس(Printers)

پرنٹر ایک آؤٹ پٹ ڈیوائس ہے جو حروف، تصاویر اور تحریری علامتوں کو کاغذ پر چھاپ کردیتاہے۔پرنٹنگ تکنیک کی بنیاد پر پرنٹر کی درجہ بندی امپیکٹ اور نان امپیکٹ پرنٹر کے طور پر کی جاتی ہے۔
امپیکٹ پرنٹرس(Impact Printers)  ٹائپ رائٹر کی طرح ہوتے ہیں جو حروف یا پیٹرن کی تخلیق کے لیے کاغذ کے اوپر کاربن یا کپڑے کے ربن کو ضرب لگا کر دباتاہے۔ یہ آلات بہت شور کرتے ہیں اور ہائی ریزولیوشن گرافکس کو تیار نہیں کرپاتے — عام ترین امپیکٹ پرنٹر تحریری علامات والے پرنٹر ہیں (مثلاً ڈینری وہیل، ڈوٹ میٹرکس) اور لائن پرنٹر (مثلاً چین پرنٹر، ڈرم پرنٹر)۔ امپیکٹ پرنٹر میں لائن پرنٹر ایک وقت میں ایک لائن پرنٹ کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ پرنٹر انتہائی تیز رفتار ہوتے ہیں۔ امپیکٹ پرنٹر کاربن کاپیاں تیار کرنے کے لیے زیادہ بہتر سمجھے جاتے ہیں۔

ڈوٹ میٹرکس پرنٹرس(Dot-matrix Printers)

ڈوٹ میٹرکس پرنٹر کا پرنٹ ہیڈ (شکل 2.26)چھوٹی چھوٹی پن کااستعمال کرتاہے جو کاغذ سے ٹکراتی ہیں اور حروف یا شبیہہ بناتی ہیں۔ یہ دوسری قسم کے پرنٹرس کے مقابلے میں زیادہ کفایتی ہوتے ہیں اور ان سے پرنٹ کرنے کا خرچ بھی سب سے کم آتا ہے۔ آج کل یہ پرنٹر زیادہ استعمال نہیں کیے جاتے۔ لیکن جن جگہوں پر رسیدیں اور مال کی فراہمی کے طلب نامے مع نقل کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں اور معیار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی وہاں ان کا استعمال اب بھی جاری ہے۔

52

خوبیاں

· ڈوٹ میٹرکس پرنٹر کاسب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان میں کاربن کاپی تیار کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ پرنٹ آؤٹ کی متعدد کاپیاں حاصل کرنے کا قابل اعتماد اور کفایتی ذریعہ ہے۔
· دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ان کا پرنٹ آؤٹ سستا ہوتاہے ۔ان کی مرمت اور چلانے کا خرچ بہت کم ہوتا ہے۔

خامیاں

· یہ پُر شور اور سست رفتار ہوتے ہیں اور پست معیار کے آؤٹ پٹ تیار کرتے ہیں۔
امپیکٹ پرنٹر کی خامیوں پر نان امپیکٹ پرنٹر(Non-Impact Printer)کے ذریعے قابو پایاگیاہے۔ یہ پرنٹ ہیڈ کو کاغذ سے ٹکرائے بغیر اس پر حروف اور تصاویر کو پرنٹ کر دیتے ہیں۔ پرنٹ شدہ آؤٹ پٹ فراہم کرنے کے لیے یہ حرارتی، برق سکونی، کیمیائی یا انک جیٹ (Inkjet) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔یہ تیز رفتاری سے اور شور کیے بغیر کام کرتے ہیں۔ انک جیکٹ پرنٹر (Inkjet printer) اور لیزر پرنٹر (Laser Printer) سب سے زیادہ عام نان امپیکٹ پرنٹر ہیں یہ پرنٹر دو زمروںمیں دستیاب ہیں۔ ایک زمرہ کے پرنٹر صرف ایک رنگ کا آؤٹ پٹ( یعنی سیاہ رنگ کا ) فراہم کرتے ہیں جب کہ دوسرے زمرے کے پرنٹر رنگین (Multi colour)آؤٹ پٹ فراہم کرتے ہیں۔
پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی روزافزوں ترقی کے سبب ان پرنٹروں کی رفتار اور معیارمیں روز برو ز اضافہ ہورہاہے اور قیمتیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ رنگین پرنٹر کا استعمال گھروں اور دفاتر میں بڑھتا جارہا ہے۔ 

انک جیٹ پرنٹرس(Inkjet Printers) 

انک جیٹ پرنٹرس (شکل 2.27) میں رقیق روشنائی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتاہے۔ یہ پرنٹر نسبتاً کم قیمت میں دستیاب ہیں اور عمدہ معیار کے پرنٹ فراہم کرتے ہیں ۔ ان سے پرنٹ کرنے پر زیادہ خرچ آتا ہے لہٰذا جو لوگ بہت زیادہ پرنٹ نکالنا چاہتے ہیں وہ انھیں ترجیح نہیں دیتے۔پرنٹنگ آپریشن کے دوران یہ پرنٹر نسبتاً بے آواز رہتے ہیں۔
53

خوبیاں

· انک جیٹ پرنٹر نسبتاً کم مہنگے ہوتے ہیں خاص طور سے جب رنگین پرنٹ درکار ہوتاہے۔ 
· انک جیٹ پرنٹر دیگر پرنٹر کے مقابلے میں وزن میں ہلکے ہوتے ہیں اور کچھ تو اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انھیں پورٹیبل کیس کے اندر رکھ کر لے جایا جاسکتاہے۔

خامیاں

· انک جیٹ پرنٹر لیزر پرنٹر کے مقابلے میں سست رفتار ہوتے ہیں۔ 
· اگر لمبے عرصے تک ان کا استعمال نہ کیاجائے تو ان کا کارٹرج  (Cartridge)آسانی سے خشک ہوجاتاہے۔ 
· رنگین کارٹرج نسبتاً مہنگے ہوتے ہیں۔

لیزر پرنٹر (نان امپیکٹ پرنٹر)(Laser Printer)

لیزر پرنٹر تیز رفتاری کے ساتھ اعلٰی معیار کے کاغذی پرنٹ فراہم کرتے ہیں (6تا12 صفحات فی منٹ کے اوسط رفتار سے ) ۔ یہ آواز نہیں پیدا کرتے اور ان میں خشک روشنائی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتاہے۔

خوبیاں

· لیزر پرنٹر بغیر آواز کے اور تیز رفتار سے کام کرتے ہیں اور اعلیٰ معیار کے پرنٹر ہیں۔
· بہت زیادہ پرنٹ آؤٹ کے معاملے میں لیزر پرنٹر نسبتاً کفایتی ثابت ہوتے ہیں۔

خامیاں

· لیزر پرنٹر کی ابتدائی قیمت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے ۔
· لیزر پرنٹر کی جسامت نسبتا ًزیادہ ہوتیہے۔
· لیزر پرنٹر کی مرمت اور کارٹرج مہنگے ہوتے ہیں۔

پلاٹر(Plotter) 

پلاٹر (جسے گراف پلاٹر بھی کہتے ہیں) ایک آؤٹ پٹ ڈیوائس ہے جو کاغذ پر اعلیٰ معیار کے  خاکے بناتاہے۔ پلاٹر کے اندر رکھے گئے کاغذ پر لائنیں بنانے کے لیے رنگین فلموں کا استعمال کیا جاتاہے۔ کچھ پلاٹر میں کاغذ کو رکھنے کے لیے مسطح جگہ (Plotter Base) ہوتی ہے اسی لیے انھیں فلیٹ بیڈ (Flatbed) پلاٹر کہاجاتاہے(شکل 2.29)۔ پلاٹر کی دوسری قسم رولر پلاٹر (Roller Plotter) کہلاتی ہے۔ ان میں کاغذ کا ایک بڑا رول استعمال کیا جاتا ہے جو رولر پر لپٹا رہتاہے(شکل 2.30)۔ عام طور سے پلاٹر کاغذ کی بڑی شیٹ پر پرنٹ کرسکتے ہیں لیکن ان کی رفتار پرنٹر کے مقابلے میں کم ہوتی ہے ۔ گراف پلاٹر کا استعمال تعمیراتی منصوبوں ، گراف اور سہ ابعادی ڈرائنگ بنانے میں کیا جاتاہے۔ ماہرین تعمیر اور انجینئران کا استعمال اکثرمشینوں،پلوں وغیرہ کو ڈیزائننگ میں کرتے ہیں۔
54

جدول 2.6:   امپیکٹ اور نان ا مپیکٹ پرنٹر کا موازنہ

امپیکٹ پرنٹر

ٹائپ رائٹر کی طرح کام کرتے ہیں اور مقررہ جگہ پر نشانہ لگانے/ضرب لگانے کے عمل کو کام میں لاتے ہیں۔

بلیک یا صرف ایک ہی رنگ میں  چھاپتے  ہیں۔
آواز پیدا کرتے ہیں۔
 اونچے ریزولیوشن کے گرافکس نہیں حاصل کیے جا سکتے ۔
مثالیں  :  ڈاٹ میٹرکس پرنٹر، کیریکٹر پرنٹر او رلائن پرنٹر۔

نان امپیکٹ پرنٹر

ان میں حرارتی ، برق سکونی، کیمیائی اور انک جیٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتاہے۔
ایک رنگ/کئی رنگوں میں چھاپتے ہیں۔
 ان میں تقریباً  بالکل آواز نہیں ہوتی۔
اونچے ریزولیوشن کے گرافکس حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
مثالیں  :  انک جیٹ ، لیزر پرنٹر، پلاٹر وغیرہ۔
55

کنٹرول کرنے والے آلات  (روشنی، بزر، روبوٹک آرمس، موٹر)

آؤٹ پٹ حاصل کرنے کے لیے کئی دوسرے آلات کو کمپیوٹر سے منسلک کیا جاسکتاہے۔ مثال کے طور پر روشنی کو کمپیوٹر سے منسلک کیا جاسکتاہے جو برقی سگنلوں کے تئیں رد عمل ظاہر کرے گی۔یہ برقی اشارے روشنیوں کو جلنے اور بجھنے کی ہدایت دیتے ہیں۔  بزر(Buzzers) کا استعمال آواز کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے جب کمپیوٹر ان کے کھلنے یا بند ہونے کے لیے ایک برقی سگنل بھیجتاہے ۔
       مزید یہ کہ کمپیوٹر ان تمام آلات کو کنٹرو ل کرسکتاہے جن کو موٹر کے ذریعے چلا یا جاتاہے۔ روبوٹک آرمس(Robotic Arms) ایک ایسا ہی آلہ ہے جس کی حرکات کمپیوٹر کے ذریعہ کنٹرول کی جاتی ہیں۔جب کوئی آؤٹ پٹ ڈیوائس کسی چیز کو حرکت دیتا ہے تو اسے ایکچیوایٹر (Actuator) کہاجاتاہے۔
       ٹریفک لائٹس ، بزر اور موٹر جیسے کنٹرول ڈیوائس کا استعمال اس وقت کیا جاتاہے جب کمپیوٹر کسی صورت حال کو کنٹرول کررہا ہوتاہے جیسے کہ ٹریفک لائٹوں کے وقت پر جلنے بجھنے پر قابو میں رکھنا یا کار کے پرزوں کو جوڑنا۔
56

سافٹ کاپی آؤٹ پٹ  :  ڈسپلے آلات

ٹرمنل(Terminals)

ٹرمنل ایک ڈسپلے آلہ ہے جس کا استعمال دوردراز کے مقام سے کند ذہن یعنی آن لائن ڈیٹا اینٹری یا ڈیٹا کی بازیافت کے لیے کیا جاتا ہے ۔ پروسیسنگ کی صلاحیت کی بنیادپر ٹرمنل کی درجہ بندی ذہین یعنی انٹیلی جینٹ(Intelligent) یا کند ذہن یعنی ڈمب(Dumb)ٹرمنل کے طور پر کی جاتی ہے۔
ذہین (انٹیلی جنٹ) ٹرمنل وہ ٹرمنل ہیں جن میں خود اپنا میموری پروسیسر اور فرم ویئر(Firmware)لگاہوتاہے جو آزادانہ طور پر بعض کاموں کو انجام دے سکتاہے۔یہ عموماً پرسنل کمپیوٹر ہوتے ہیں جن میں لوکل ڈیٹا پروسیسنگ ، ڈیٹا اسٹوریج اور ڈیٹا ان پٹ/آؤٹ پٹ کی صلاحیت ہوتی ہے۔پرسنل کمپیوٹر(PC)کو ٹرمنل بنانے کے لیے ایک مواصلاتی اڈیپٹر(یہ موڈیم بھی ہو سکتاہے)ضروری ہے۔ اگر ٹرمنل ایک یاکئی میزبانوں (Host) اور احباب (peers) کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہیں تو ایک نیٹ ورک پروگرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انٹلی جنٹ ٹرمنل دوطرح کے ہوتے ہیں ۔ جنرل پرپز(General Purpose) اور جاب اورینٹیڈ (Job oriented)۔ جنرل پرپز ٹرمنل کی مثال PCہے۔ ٹرمنل کا عمومی مقصدکے  استعمال کے لیے انٹرنیٹ کنکشن ہے۔ یہ سب سے زیادہ سرایت دار ایپلی کیشن ہے جو موڈیم اور براؤزر سافٹ ویئر(Browser Software)کے ساتھ آتاہے۔ Job oriented ٹرمنل کو مخصوص کاموں کے لیے ڈیزائن کیا اور فروغ دیا جاتاہے۔ ٹرمنل کے Job Oriented ایپلی کیشن میں ایئر لائن ریزرویشن سسٹم ٹرمنل ، تیز پیش رو ٹرمنلATM اور اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ٹرمنل شامل ہیں۔ اس قسم کے ٹرمنل میں ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو ایپلی کیشن کے مطابق ڈھالا جاتاہے ۔
ڈمب ٹرمنل کا استعمال ڈیٹا داخل کرنے اوراصل (Main) کمپیوٹر سے آؤٹ پٹ حاصل کرنے کے لیے کیاجاتاہے کیوں کہ وہ ڈیٹا کی پروسیسنگ خود نہیں کرسکتے۔ یہ ٹرمنل کسی مواصلاتی رابطے کے ذریعے اصل  کمپیوٹر سے منسلک رہتے ہیں۔

ویڈیوڈسپلے سسٹم(Video Display System) 

ویڈیو ڈسپلے سسٹم صارف اور کمپیوٹر کے درمیان بصری رابطہ فراہم کرتا ہے۔ PCکا ویڈیو ذیلی نظام دو اہم اجزا پر مشتمل ہوتا ہے۔
(a) مانیٹر اور
(b) ویڈیو اڈیپٹر (جسے ویڈیو کارڈ یا گرافک اڈیپٹر بھی کہتے ہیں)
مانیٹر ایک ڈسپلے آلہ ہے جو متن اور گرافک کوآؤٹ پٹ کی شکل میں فراہم کرتاہے۔ مانیٹر میں مختلف قسم کی ڈسپلے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتاہے جیسے کیتھوڈرے ٹیوب(CRT) اور لکوِڈ کرسٹل ڈسپلے(LCD) ۔ CRTمیں ایک وکیوم ٹیوب ہوتی ہے جسے کمپیوٹر میں اسکرین پر ڈسپلے کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔ LCDوہ ٹیکنالوجی ہے جس میں رقیق کرسٹل کے سالمات اس انداز میں مرتب ہوجاتے ہیں کہ یہ اسکرین پر روشنی کو بلاک کرکے یا اس کی ترسیل کرکے تصاویر کو پردے پر ابھارتے ہیں۔
57

آواز جواب یونٹ(Audio Response Unit) 

جس طرح آواز شناس نظام کی مدد سے صارف کمپیوٹر سے بات کرسکتاہے ، اسی طرح آواز جواب نظام کی مدد سے کمپیوٹر واپس صارف سے بات کرسکتاہے۔ کئی تنظیمیں مرکزی کمپیوٹر پر ٹیلی فون لائنوں کے ذریعے ترسیل کی جانے والی انسانی پوچھ تاچھ (Inquiry)کے لیے آواز جواب نظام  (ARS) استعمال کرتی ہیں۔
وائس آؤٹ پٹ ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو جزوی طور پر دیکھ پاتے ہیں۔ کمپیوٹر ورڈ پروسیس شدہ دستاویزات کو پڑھ سکتاہے اور آواز آؤٹ پٹ کے ذریعے ترسیل کرتاہے۔ وائس آؤٹ پٹ ان افراد کے لیے بھی مفید ہے جو جسمانی طور پر معذور ہیں اور بول نہیں سکتے۔ بولے جانے والے الفاظ کو کی بورڈ پر ٹائپ کرکے وہ ترسیل کرسکتے ہیں۔ ٹیلی کام سروسز پر ڈائریکٹری انکوائری کے دوران کمپیوٹر سسٹم کے ذریعے تلاش کیاگیا نمبر فون کرنے والے (Caller)کو بتانے کے لیے آواز آؤٹ پٹ کا استعمال کیا جاتاہے۔ ملٹی میڈیا پیش کش میں بھی آواز آؤٹ پٹ کا استعمال کیا جاتاہے جو مواصلات کا گراں قدر ذریعہ فراہم کرتاہے۔
58

خوبیاں

· صارف کمپیوٹراسکرین پر نتیجہ نہیں دیکھ سکتا لیکن نتیجہ کے بارے میں اس وقت بھی معلومات حاصل ہوسکتی ہے جب کہ وہ دور ہو یا وہ دیکھنے سے معذور ہو۔ 

خامیاں

· وائس آؤٹ پٹ کے معیار میں بہتری آ رہی ہے مگر یہ ابھی بھی ایسی آواز کی طرح ہے جس میں چھوٹی چھوٹی آوازیں ایک ساتھ پروئی ہوئی ہیں اور اسی لیے الیکٹرونک ہونے کی وجہ سے یہ غیر فطری محسوس ہوتی ہے۔
· وائس آؤٹ پٹ کے لیے استعمال کی جانے والی ساؤنڈ فائل زیادہ میموری گھیر لیتی ہے۔

59

2.2.5 کمپیوٹر پورٹس(Computer Ports) 

ان پٹ/آؤٹ پٹ ڈیوائس ہارڈ ویئر کا وہ حصہ ہے جس کا استعمال کمپیوٹرکو ڈیٹافراہم کرنے اور اس سے اطلاع حاصل کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔ لیکن کمپیوٹر ان بیرونی آلات سے کس طرح  ترسیل کرتاہے؟ کمپیوٹر میں ان پٹ /آؤٹ پٹ انٹرفیس (Interface)ہوتے ہیں جنھیں پورٹس (Ports) کہتے ہیں (شکل2.34)۔
کمپیوٹر پورٹ ایک انسلاکی ساکٹ(Connecting Socket) ہوتاہے جو کمپیوٹر سسٹم کے باہر لگاہوتاہے جس میں مختلف قسم کے کیبل لگائے جاسکتے ہیں۔ I/O پورٹس ایسے انٹرفیس ہیں جن کے ذریعہ کمپیوٹر بیرونی ڈیوائس جیسے پرنٹر، موڈیم، جوائے اسٹک(joystick)اور ٹرمنل کے ساتھ ترسیل کرتاہے۔طبعی طور پر ان پورٹس کی شناخت ان کی بیرونی شکل، انسلاکی پین/ پوائنٹ کی تعداد اور شکل کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔CPUکی طرف یااس سے ڈیٹا کو لانے اور لے جانے کے لیے مختلف انٹرفیس اور پورٹس کی مواصلات کرنے کی رفتار اور بینڈ وسعت (Band widht)مختلف ہوتی ہیں۔ عام طور سے استعمال کیے جانے والے کچھ پورٹس کی وضاحت حسب ذیل  ہے۔
متوازی پورٹ(Parallal Port) : متوازی پورٹ ایک بائٹ(Byte) ڈیٹا کے 8بٹ(Bit) کومتوازی طور پر منتقل  کرتاہے کیوں کہ اس میں I/Oڈیوائس کو کنٹرول کرنے کے لیے آٹھ یا اس سے زیادہ ڈیٹا لائنس ہوتی ہیں۔ اس کا استعمال عام طور سے پرنٹر کو کمپیوٹر سے منسلک کرنے کے لیے کیا جاتاہے اور کم فاصلوں پر ڈیٹا کی تیز رو ترسیل کے لیے بھی کرتے ہیں کیوں کہ کثیر سگنلوںمیں ہونے والی مداخلت کیبل کو نسبتاًمختصر فاصلوں کے لیے محدود کردیتی ہے۔ 
سلسلہ وار پورٹ(Serial Port) :  ایک سلسلہ وار پورٹ بائٹ کے ایک بٹ کی ترسیل ایک وقت میں بٹس(Bits)کی واحد رو(Single Streem) کی شکل میں کرتا ہے ۔ ان کا استعمال طویل فاصلوں تک ڈیٹا کی سست رو ترسیل کے لیے کیا جاتاہے۔ فون سسٹم پر ہونے والی مواصلات سلسلہ وار مواصلات کی مثال ہے۔ موڈیم ، اسکینر، بارکوڈریڈر اور ڈیوائس کنٹرول سرکٹ جیسے متعدد آلات کو سیریل پورٹ سے منسلک کیاجاتاہے۔
PS/2پورٹ :   یہ سیریل پورٹ کنیکٹرس(Connecters)میں سے ایک ہے جس کااستعمال ماؤس اور کی بورڈ کو پرسنل کمپیوٹر سے منسلک کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔یہ چھ پِنوں پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک چھوٹے سے گول ساکٹ میں لگی ہوتی ہیں۔
یونیورسل سیریل بس (USB)پورٹ:   USBپورٹ سب سے زیادہ مقبول پورٹ ہے جس کا استعمال ڈیجٹل کیمرہ ، اسپیکر، اسکینر، پرنٹر، پلاٹر، موڈیم، جوائے اسٹک، پین ڈرائیو جیسے127 ثانوی آلات (Peripheral Devices)کو منسلک کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔ USB پلگ اور پلے(Plug and Play) کی سہولت فراہم کرتاہے یعنی ہم ڈیوائس ڈرائیورس کو اس وقت نصب  کرسکتے ہیں جب ڈیوائس پلگ آن ہوں۔
(Small Computer System Interface) SCSIپورٹ:  SCSIپورٹ کے ذریعے ڈیٹا کی ترسیل ڈیزی چین (Daisy Chain) میں 7 ڈیوائسزتک سلسلہ وار اور متوازی پورٹ کے مقابلے میں بہت زیادہ رفتار (ایک وقت میں 32بٹ) سے ہوتی ہے۔ ہارڈ ڈسک ڈرائیو، CD-ROM ڈرائیو، اسکینر، بیک اپ یونٹ ، نیٹ ورک اڈیپٹروغیرہ کو SCSIپورٹ سے منسلک کیاجاسکتاہے۔ ڈیزی چین میں متعدد ڈیوائس کو سلسلہ وار منسلک کیاجاتاہے۔ اگر ڈیٹا کو ساتویں ڈیوائس تک پہنچنا ہے تو اسے اس سے پہلے کے تمام چھ ڈیوائس سے ہوکر گزرنا پڑے گا۔ 
60
فائر وائر(IEEE 1394)پورٹ:   فائر وائر پورٹ ڈیٹا کے تیز رفتار مواصلات کی ایک نئی ٹیکنالوجی ہے۔ ملٹی میڈیا ڈیوائس سے آڈیو اور ویڈیو ڈیٹا کی زیادہ نقل وحرکت کی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کی ضرورت پیش آئی۔ ویڈیو کیمرہ، ایکسٹرنل ہارڈڈسک ڈرائیو،ایکسٹرنل  CD/DVDڈرائیو کو فائر وائر پورٹ سے منسلک کیاجاتاہے۔ مائکرو سافٹ نے ونڈوز 95کے بعد والے تمام شکلوں (Versions)میں IEEE1394کو چلانے والے ڈیوائس ڈرائیور تیار کیے ہیں۔لائنکس) (Linux آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ بھی یہ پورٹ کام کرتاہے ۔اس پورٹ کے ذریعے ڈیٹا کی منتقلی کی شرح  400 Mb/sec  تک تیزہوتی ہے۔

2.2.6کمپیوٹر آلات کی مرمت ونگرانی

کمپیوٹر کی دیکھ بھال چار رخی حفاظت کی وجہ سے کی جاتی ہے، جیسے ہارڈویئر کا خراب ہونا ، حفاظت کو لاحق خطرات، سافٹ ویئر بگ (Software Bugs) اور کارکردگی میں ابتری۔ ان میں سے ہر ایک غیر معمولی یا معمولی محسوس ہوتی ہے لیکن کمپیوٹر سسٹم آپریشن کی اہمیت کے پیش نظر کمپیوٹر کے خرا ب ہوجانے کے مقابلے میں لاگت اور وقت غیر اہم ہیں۔
درحقیقت ہمیں ہر تین سال کے بعد کمپیوٹر کو اپ گریڈ (Upgrade)کرنا چاہیے اس کے لیے ہمیں تمام ڈیٹا اور سافٹ ویئر کو اصل کمپیوٹر سے منتقل کرنا ہوگا، حالاں کہ ہارڈ ڈرائیو کی تبدیلی ایک شفاف اصلاح یا ترمیم ہے۔

انسدادی دیکھ بھال(Preventive Maintenance) 

کمپیوٹر کے آلات اور سازوسامان کی دیکھ بھال کی بڑی اہمیت ہے ۔ انسدادی دیکھ بھال اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کمپیوٹر کے آلات اور سازوسامان درست حالت میں ہیں۔ کی بورڈ ، مانیٹر اور ماؤس کی صفائی کمپیوٹر کے آلات کے انسدادی دیکھ بھال کی مثالیں ہیں۔ کچھ ایسی اہم باتیں ہیں جنھیں کرنا چاہیے اورکچھ وہ ہیں جنھیں نہیں کرنا چاہیے(DOs and DON'T)۔ اگر ان پر عمل کیاجائے تو  دیکھ بھال اور مرمت کی لاگت کو کم کیا جاسکتاہے۔ اسے انسدادی دیکھ بھال کہتے ہیں۔ بنیادی انسدادی دیکھ بھال کی خصوصیات ضمیمہ2.1میں دی گئی ہیں۔

2.3مواصلاتی ٹیکنالوجی

خطوط اور تار ایک لمبے عرصے سے مواصلات کا ذریعہ ہیں ۔ اس کے لیے مختلف علاقوں میں ڈاک خانے قائم کرنے پڑتے ہیں اور پھرڈاک لے جانے کے لیے نظام مراتب کے لحاظ سے ڈاک افسران اور نقل وحمل کا نظام درکار ہوتاہے۔ ڈاک کی تقسیم کے اس نظام کے لیے کافی بڑے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ڈاک لانے لے جانے کی انسانی ٹیکنالوجی تھی۔
اس کے بعد ٹیلی فون نے عام لوگوں کے لیے بڑی سہولت پیدا کر دی جس سے خطوط کے ذریعے مواصلات میں قابل لحاظ حد تک کمی آگئی۔ ای میل(e-mail) نے ہماری زندگیوںمیں انقلاب برپاکردیا کیوں کہ اس سے وقت اور جگہ کی بچت ہوتی ہے اور یہ مواصلات کا فوری اور کفایتی ذریعہ ہے۔ ای میل کے ذریعے پیغامات کی دسترس ڈاک یا ٹیلی فون کے مقابلے میں چونکا دینے والی ہے۔ 
ای میل کے ذریعے کوئی بھی ویڈیو ، فوٹوگراف، گرافکس اور آڈیو پر مشتمل کسی بھی سائز کے پیغام کو بھیجا جاسکتاہے۔ بھیجے گئے اور موصول ہونے والے پیغامات کا ریکارڈ رکھا جاسکتاہے۔ مواصلات کی ایک اور ٹیکنالوجی چیٹ (Chat)ہے جس میں دو افراد ایک دوسرے کوفوری پیغامات بھیج کر گفتگو کر سکتے ہیں،وہ ویب کیمرے کی مدد سے ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں۔ ای میل اور چیٹ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ پر مبنی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی حفاظتی بندوبست کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے تمام متبا دلات فراہم کرتی ہے۔
مواصلات  بنیادی طور پراطلاعات کا تبادلہ ہے اور اطلاعات نے خود اپنے طور پر ایک آزاد ٹیکنالوجی کی حیثیت حاصل کر لی ہے ۔اطلاعاتی دھماکہ جو پورے عالم میں واقع ہوا ہے اس کی وجہ سے علم کی پیاس بڑھی ہے ۔انفارمیشن پیدا کرنے اور جمع کرنے کے ساتھ ساتھ broad band ٹیکنا لوجی جس پر انٹر نیٹ کا انحصار ہے ،کے تعلق سے کمپیوٹر نے اہم رول اداکیا ہے ۔

2.3.1 تعلیم کے میدان میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی

کمپیوٹر ٹیکنالوجی خود انحصاری اور خود احتسابی (Self-assessment) کوفروغ دیتی ہے۔ یہ طلبا میں د لچسپی پیداکرتی ہے۔ سسٹم میں موجود متعدد پروگرام خود احتسابی میںطلبا کی مدد کرتے ہیں۔ورڈ پروسیسرپروگرام کی مدد سے طلبا اپنے تحریری کام کو مرتب کرسکتے ہیں۔مکالماتی کمپیوٹر (Interactive computer) کے ذریعے طلبا اپنے تلفظ کو بھی درست کرسکتے ہیں۔کمپیوٹر ٹیکنالوجی مختلف زبانیں سیکھنے میں لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اساتذہ کمپیوٹر کی مدد سے اپنے تدریسی طریقوں کی جانچ کرسکتے ہیں۔ وہ اپنی تدریسی مہارتوں میں اضافہ کرنے  کے لیے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا مؤثر طور پر استعمال کرسکتے ہیں ۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی ایسے افراد کی بھی مدد کرتی ہے جو آموزشی استعداد سے محروم ہیں۔ جسمانی طور پر معذور افراد اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے گرافکس سافٹ ویئر اور ورڈ پروسیسر کا استعمال کرسکتے ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے ایسے افراد بھی استفادہ کرسکتے ہیں جو بولنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔وہ اپنی تقریروں؍گفتگو کے فلم کلپ کو دوبارہ چلا کر اور مشق کرکے بولنے کی مہار ت حاصل کر سکتے ہیں۔

2.4سافٹ ویئر(Software) 

کمپیوٹر ایک قابل پروگرام آلہ ہے۔ پروگرام ان مراحل کی قدم بہ قدم تنظیم ہے جن کے تحت کوئی کام انجام دیاگیاہے۔ جب ان مراحل کا پہلے سے تعین کرکے ڈیوائس میں شامل کردیا جاتاہے تو ہم دراصل کسی ڈیوائس کو ایک خاص کام انجام دینے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ہمارا انسانی دماغ بھی ایک پروگرام شدہ ڈیوائس کی طرح کام کرتاہے۔دماغ میں ایک ایسی عجیب قوت بھی ہے جو اس میں پہلے سے جاری کسی پروگرام کو صورت حال کے تقاضے کے مطابق بدل سکتی ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں کمپیوٹر انسانی دماغ سے مختلف ہو جاتا ہے۔ کمپیوٹرکی اپنی کوئی ذہانت نہیں ہوتی یہ فرماں بردار نوکر کی طرح کام کرتاہے اور ہدایات پر عمل کرتاہے ۔ لیکن کمپیوٹر انسان کی طبعی صلاحیتوں سے کہیں بڑھ کر تیز اور صحیح ڈھنگ سے عمل کر سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی ضروریات کے تحت انسانی دماغ نے کمپیوٹر کی محدودیت پرقابو پاتے ہوئے اس کی بہترین صلاحیتوںکو استعمال کرنے کے لیے بہت سے پیچیدہ پروگرام بنائے ہیں ۔ 
61

سافٹ ویئر کو عام طور پر دواہم زمروں میں تقسیم کیا جاتاہے؛

سسٹم سافٹ ویئر
ایپلی کیشن سافٹ ویئر
2.4.1 سسٹم سافٹ ویئر(System Software) 
سسٹم سافٹ ویئر ایک یا ایک سے زیادہ ایسے پروگراموں کا مجموعہ ہے جسے کمپیوٹر کے عمل اور نیٹ ورکنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ کمپیوٹر ہارڈ ویئر اور ایپلی کیشن پروگرام کے درمیان ایک رابطے کا کام کرتاہے۔ اس کی مزید تین قسمیں ہیں: آپریٹنگ سسٹم،  لینگوئج پروسیسنگ اور یوٹیلیٹیز۔
آپریٹنگ سسٹم(Opreting System)   :  آپریٹنگ سسٹم ہدایات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو CPU، میموری، 1/O ڈیوائس جیسے وسائل اور سسٹم کے اندر اطلاعات کے بہاؤ کو کنٹرول کرکے کمپیوٹر سسٹم کی مجموعی کارکردگی اور نظام عمل کا انتظام کرتاہے۔یہ مشین اور اس کے استعمال کرنے والوں کے درمیان انٹرفیس کا کام کرتاہے۔ Linux، Mac Os, MS/PC-DOS ،  ونڈوز ME/NT/98/95 /ملینیم/VISTA اس کی کچھ مثالیں ہیں۔
 لینگوئج پروسیسر(Language Proccessor)  :  پروگرام پر عمل درآمد کرنے کے لیے ہدایات کومشینی زبان میںتبدیل کرنا ضروری ہوتاہے۔ لینگویج پروسیسرکا استعمال ا سمبلی لینگویج اور ہائی لیول لینگویج پروگرام کو مشین لینگویج میں تبدیل کرنے کے لیے  کیا جاتاہے۔ مثالیں: اسیمبلر، ٹرانسلیٹر اور کمپائلر۔
 یوٹیلیٹیز(Utilities)   :  انھیں کمپیوٹر ہارڈ ویئر آپریٹر سسٹم یا ایپلی کیشن سافٹ ویئر کی معاونت کرنے ، انھیں ہم آہنگ کرنے اور ان کا بندوبست کرنے کے لیے وضع کیا جاتاہے۔ انھیں سروس پروگرام، سروس روٹین (Service routine)، ٹولس (Tools)یایوٹیلیٹی روٹین(Utility Routine)بھی کہاجاتاہے۔ مثالیں: ڈسک ڈی فریگمینٹر(Disk Defragmenter)، ڈسک کمپریشن(Disk Compression)، ڈسک کلین اپ (Disk Cleanup)، ڈسک چیک اپ  (Disk Checkup) وغیرہ۔

2.4.2  ایپلی کیشن سافٹ ویئر

ایپلی کیشن سافٹ ویئر ایک یا ایک سے زیادہ پروگراموں کاایسا مجموعہ ہے جسے کسی خاص کام کو انجام دینے کے لیے وضع کیا جاتاہے۔ جیسے طلبا کے داخلہ اور امتحان کا نتیجہ، تنخواہ کا حساب وکتاب، پے رول(payroll)،جنرل اکاؤنٹنگ، انوینٹری کنٹرول (Inventory Control)کی پروسیسنگ ۔ مختلف تنظیموں کو مختلف ایپلی کیشن پروگراموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مخصوص مقاصد کے لیے تیار کیے گئے پروگرام’’ پیکیج‘‘(packages) بھی کہلاتے ہیں۔
کمپیوٹر سسٹم صرف ہارڈ ویئر یا صرف سافٹ ویئر پرنہیںبلکہ دونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہارڈویئر کو عام طور سے سافٹ ویئر کے ذریعے کنٹرول کیا جاتاہے۔ سافٹ ویئر ہدایات /احکامات کا سیٹ ہے جسے پروگرام کہاجاتاہے ۔ عام طور پر لفظ پروگرام کا مطلب ہے مراحل کا تسلسل مثلاً گھر آئیے، ہاتھ دھوئیے، ایک کپ چائے یا لنچ لیجیے اور اسی طرح ہم ان تمام سرگرمیوں کی فہرست تیار کرتے ہیں جنھیں ہم دن بھر انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح سافٹ ویئر کو ڈیزائن کرنے کے دوران احکامات کو مناسب تسلسل میں لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
سافٹ ویئر کی درجہ بندی مندرجہ ذیل طریقے سے بھی کی جاسکتی ہے  :

2.4.3 شیئر ویئر(Shareware) 

شیئر ویئر سافٹ ویئر محفوظ حق اشاعت والاسافٹ ویئر ہے جسے ’’خریدنے سے پہلے آزمائش‘‘ کے تحت تقسیم کیاجاتاہے جس کے لیے معمولی سی شیئر ویئر فیس ادا کرنی پڑتی ہے ۔وہ صارف جو آزمائشی مدت ختم ہونے کے بعد پروگرام کو آگے استعمال کرنا چاہتے ہیں انھیں پروگرام تیار کرنے والے کو پروگرام کے لیے رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ شیئر ویئر عموماً کم خرچ  ہوتے ہیں کیوں کہ انھیں عام طور سے ایک پروگرامر ہی تیار کرتاہے۔

 2.4.4  فری ویئر(Freeware) 

فری ویئر پروگرام ایسے پروگرام ہیں جنھیں بغیر فیس کے فراہم کیا جاتاہے اور یہ عام طور سے انٹرنیٹ پر دستیاب رہتے ہیں ۔پروگرامر ان پروگراموں کو ذاتی طور سے مطمئن ہونے کے لیے یا اس میں دل چسپی رکھنے والے صارف میں اس کی مقبولیت کا پتہ لگانے کے لیے مفت فراہم کرتے ہیں۔ ان فری ویئر پروگراموں کا حق اشاعت انھیںتیار کرنے والے پروگرامر کے پاس ہوتا ہے اور صارفین کو  اسے کاپی کرنے یا تقسیم کرنے یا اس کی مزید فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

اوپن سورس (Open Source) 

’’ اوپن سورس متعددسامان ، مصنوعات، وسائل او رتکنیکی نتائج یا ہدایت کے لیے پروڈکشن اور ڈیزائن کاری تک کھلی رسائی کی ترغیب دینے کے لیے اصولوں اور طریقہ کار کو بیان کرتا ہے۔ عام طور پریہ اصطلاح اس سافٹ ویئر کے سورس کوڈ کے لیے استعمال کی جاتی ہے جسے عام لوگوں کو فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیا جاتاہے۔ اس سے یہ استعمال کرنے والوں کو صارف کے ذریعے تیار شدہ مواد انفرادی طور پر یا کسی کی شراکت سے تیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘‘

OSS  —  خوبیاں

کوڈر کے لیے بہتر–اوپن سورس سافٹ ویئرکی تشکیل روایتی کلوزڈ سورس سافٹ ویئر کی تشکیل سے کافی مختلف ہے۔ لوگ پہلے سے موجود کوڈ لیول سے کوڈنگ شروع کرتے ہیں۔ انھیں ان چیزوں پر تحقیق (ریسرچ) کرنے میں اپنا وقت اور توانائی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی جنھیں دوسرے لوگ پہلے ہی تیار کرچکے ہیں ۔

 صارف  کے لیے بہتر– صارف کو ایپلی کیشن استعمال کرنے کے لیے بہت زیادہ خرچ کے مسئلہ سے پریشان نہیں ہونا پڑتا۔ صارف اپنی ایپلی کیشن کو بہت زیادہ سرمایہ کاری کے بغیر اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال (Customise)سکتاہے۔ 

 تیز تر تشکیل  –   عالمی طور پر کام کررہے OSSڈویلپر سے حوالوں کا استعمال کرکے ایپلی کیشن کو بہت تیزی کے ساتھ تیار کیا جاتاہے۔

اوپن سورس کا مستقبل  —  آخر اس سب کا خاتمہ کہا ں ہوتا ہے؟ہماری زندگیوں کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کے لیے اوپن سورس کہاں تک ہماری رہنمائی کر سکتا ہے؟ موجودہ ترقی اور بڑھوتری کی سطح کے پیش نظر ہمیں یقین ہے کہ اوپن سورس آئندہ کچھ برسوں میں سافٹ ویئر انڈ سٹری کے لیے متحرک قوت کے طور پر سامنے آئے گا۔

وسیع تر آزادی  – OSS  استعمال کنندگان ہی میں ڈیولپرس ڈھونڈتا ہے۔OSS  کی تعمیر کے لیے جو رہنما خطوط تیار کیے گئے ہیں ان کے مطابق ہر ایک کے لیے بہتر سے بہتر اسباب تیار کیے جا سکیں گے۔

کھلے معیارات  –  انھیں اوپن فارمیٹ بھی کہا جاتا ہے۔یہ ڈیجٹل مواد (Digital Content) ،میڈیا یا ڈیٹا کو اسٹور کرنے کے لیے شائع شدہ تخصیصات سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔یہ آزادی کی کنجی ہے۔

الگورتھم(Algorithm) 

جب کسی کام کو آسان انگریزی زبان میں سلسلہ وار مرحلوں کی شکل میں لکھا یا بیان کیا جاتاہے تو اسے الگورتھم کہاجاتاہے۔  اس میں ایسے سادہ الفاظ شامل ہو سکتے ہیں جو کسی کام کو انجام دینے کے لیے معنی ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر دو اعداد کو جمع کرنے کی الگورتھم کو درج ذیل مراحل میں بیان کیا جاسکتاہے :
.1 شروع کیجیے
.2 پہلے عدد کو A کے طورپر قبول کیجیے
.3 دوسرے عدد کو Bکے طور پر قبول کیجیے
.4 ایک عدد اس طرح لیجیے کہ C=A+B
.5 Cکو ظاہر کیجیے
.6 ختم کیجیے
چوں کہ کمپیوٹر ایک مشین ہے اور اس کا اپنا دماغ نہیں ہوتا لہٰذا ہمیں اسے یہ بتانے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ کہاں سے کام شروع کرنا ہے اور کہاں ختم کرنا ہے۔ مذکورہ بالا مثال میں ’’شروع‘‘ اور’’ ختم‘‘ کا استعمال کام کی شروعات اور اس کے اختتام کو ظاہر کرتاہے۔

فلوچارٹ (Flow Chart) 

 مذکورہ بالا مراحل کا تصویری اظہار فلوچارٹ کہلاتاہے۔ ایک فلو چارٹ میں مخصوص علامتوں کا استعمال ہوتاہے۔ جسے جدول 2.7میں دکھایاگیاہے۔کسی فلو چارٹ سے پروگرام میں دشواریوں اور خامیوں کا پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ 

جدول 2.7  :  فلو چارٹ میں استعمال ہونے والی مختلف علامات


پروگرام کی ابتدا اور اختتام

کسی پروگرام کے حسابی مراحل یا اس کا  ترتیبی عمل پروسیسنگ یاتحسیبی مراحل

ان پٹ یا آؤٹ پٹ آپریشن

فیصلہ سازی اور برانچنگ(Branching)

کنیکٹر (Connector)یا پروگرام کے دو حصوں کو منسلک کرنا

مقناطیسی ٹیپ

مقناطیسی ڈسک

آف پیج کنیکٹر

فلولائن

 اناٹیشن (Annotation)

ڈسپلے
62
63

 2.5  پروگرامنگ کی زبانیں(Programming Languages) 

2.5.1   مشین لینگوئج(پہلی نسل کے کمپیوٹر کی زبان) 

کسی مخصوص سافٹ وئیر کا الگورتھم اور فلو چارٹ تیار کرنے کے بعد اسے کمپیوٹر کی رمز بند زبان میں لکھنا ہوتا ہے۔ انسانوں کے برخلاف کمپیوٹر صرف صفر اور 1 کی زبان (بائنری ڈیجٹ)سمجھ سکتے ہیں یعنی بائنری عدد کا نظام (عددی نظام ضمیمہ 2.2میں دیاگیاہے)۔ صفراور1 کی زبان میں لکھا گیا پروگرام مشین لینگوئج پروگرام یا بائنری لینگوئج پروگرام کہلاتاہے۔ مشین لینگوئج پہلی نسل کے کمپیوٹر کی زبان تھی (شکل 2.37)۔ مشین لینگوئج میں نمونے کا کو ڈ نیچے دکھایاگیا ہے:
64

مشین لینگوئج میں نیچے دکھایا گیا کوڈ کا نمونہ  :

ADD 011814کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاتاہے
0001000000000010011101100001100
مشین لینگوئج اپنے عمل میں زیادہ تیز ہوتی ہے کیوں کہ کمپیوٹرا سے براہ راست عمل میں لاتا ہے مگر اسی کے ساتھ ساتھ اسے لکھنا اور سمجھنا بہت مشکل ہے۔

2.5.2  اسمبلی لینگوئج  (دوسری نسل کے کمپیوٹر کی زبان)

چوں کہ مشین لینگوئج میں کوڈ تشکیل کرنا بہت مشکل ہوتا تھا، لہٰذا اسمبلی لینگوئج کو فروغ دیاگیا جو چھوٹے چھوٹے بامعنی ارکان پر مشتمل تھی۔ اسے دوسری نسل کے کمپیوٹر کی زبان تصور کیاجاتاہے(شکل 2.38) ۔
65
دو اعداد   X  اور Yکو جمع کرنے اور نتیجہ کو کسی میموری لوکیشن پر اسٹور کرنے کے لیے اسمبلی لینگوئج پروگرام کی مثال ذیل میں دی گئی ہے:
کی قدر لوڈ کیجیے ۔     A   اکیومولیٹر LDA
 کی قدر کا اضافہ کیجیے   B  اکیومولیٹر کی قدر میں ADA
OUTA آؤٹ پٹ ڈیوائس پر اکیومولیٹر کے مشمولات کو ظاہر کیجیے  
کوئی مشین اسمبلی لینگوئج پروگرام کو براہ راست عملی شکل نہیں دے سکتی ہے کیوں کہ یہ بائنری شکل میں نہیں ہوتی۔ اسمبلی لینگوئج پروگرام کو مشین کے ذریعہ قابل عمل آبجیکٹ کو ڈ میں تبدیل کرنے کے لیے اسیمبلرکی ضرورت ہوتی ہے۔
اسے شکل  2.39  میں دکھایاگیاہے:
66
مشین لینگوئج میں آبجیکٹ کوڈ®اسیمبلر¬ اسمبلی لینگوئج پروگرام

شکل 2.39 : اسیمبلر

مشین لینگوئج کے مقابلے میں اسمبلی لینگوئج میں پروگرام کولکھنا زیادہ آسان ہے۔ اسے زیادہ آسانی سے پڑھا جاسکتاہے۔ لیکن اسمبلی لینگوئج میں کچھ پیچیدگیاں ہیں۔مثلاً  :
· اسمبلی لینگوئج کو ایک سے دوسرے پروسیسر میں منتقل نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک پروسیسر کے لیے لکھاگیا اسمبلی لینگوئج  پروگرام دوسرے پروسیسر پر کام نہیں کرے گا۔ 
· اسمبلی لینگوئج پروگرام اتنا تیز نہیں ہوتا جتنا کہ مشین لینگوئج پروگرام ، کیوں کہ پہلے اسے مشین لینگوئج کوڈ (بائنری کوڈ) میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔
· مشین لینگوئج اور اسمبلی لینگوئج کمتر سطح کی زبانیں تصور کی جاتی ہیںکیوں کہ کسی مسئلہ کی کوڈنگ انفرادی ہدایتی سطح کی ہوتی ہے۔ 

2.5.3  اعلیٰ سطح کی لینگوئج (تیسری نسل کے کمپیوٹر کی زبان)

ہم نے کئی پروگرامنگ لینگوئج کے بارے میں سنا ہے۔ جیسے کہ C، PASCAL،  COBOL،  FORTRAN  اور BASIC - یہ اعلیٰ سطح کی لینگوئج (HLL) یا تیسری نسل  (Third Generation)کی زبانیں کہلاتی ہیں۔ (شکل 2.40) مندرجہ ذیل پروگرام کو دو اعداد کا حاصل جمع معلوم کرنے کے لیے BASICمیں لکھا گیاہے:
10 X = 7
20 Y = 10
30 Print X + Y
40 END ( .)
مشین اور اسمبلی لینگوئج کی تخلیق میں بہت پیسہ اور وقت لگتا تھا۔ اعلیٰ سطح کی لینگوئج (HLL) کو فروغ دینے میں اصل محرک یہی تھا۔
67
کسی اعلیٰ سطح کے اصل پروگرام سب سے پہلے اس شکل میں لایا جانا چاہیے جسے مشین سمجھ سکے۔یہ کام کمپائلر(Compiler) کہلانے والے ایک سافٹ ویئر کی مدد سے کیا جاتا ہے (شکل 2.41)۔

اعلیٰ سطح کی لینگوئج پروگرام کمپائلر ، آبجیکٹ کوڈ (مشین لینگوئج)

شکل 2.41 : کمپائلر

68

خوبیاں
· پڑھنے میں سہولت
· منتقلی میں سہولت
· غلطیوں کی درستگی(Debugging)  میں آسانی
· سافٹ ویئر کی تشکیل میں آسانی

2.5.4  چوتھی نسل کے کمپیوٹر کی زبان  

چوتھی نسل کے کمپیوٹر کی زیادہ تر زبانیں (شکل 2.42)بے ضابطہ (Non-procedural)  زبانیں ہیں۔ پروگرامر کو  پروگرام کے طریقئہ کار کی تفصیلات دینے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ محض اس کی وضاحت کرنی ہوتی ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔
چوتھی نسل کی زیادہ تر زبانوں کا استعمال فائل اور ڈیٹا بیس سے انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔ یہ سوال و جواب کی  زبانیں (Query Languages) ہیںجن کا استعمال ڈیٹا بیس کے ڈیٹا سے متعلق دریافت کرنے یا سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے کیا جاتاہے ۔مثال کے طور پر
SELECT Name , Address
FROM Personal
WHERE Name = "Ekambaram Vasudevan ;’’   ‘ ‘
69

  2.5.5پانچویں نسل کے کمپیوٹر کی زبان 

پانچویں نسل کی پروگرامنگ لینگوئجز کی مدد سے صارف زیادہ مکالماتی انداز میں کمانڈ دے سکتاہے۔ ان میں روایتی کی بورڈ یا اشارتی آلات کے بجائے وائس ان پٹ ڈیوائس کا استعمال کیا جائے گا۔پانچویں نسل کی لینگوئجز کا استعمال خصوصاً مصنوعی ذہانت کی تحقیق (Artificial Intelligence) میں کیا جاتاہے۔ پانچویں نسل کی زبانوں کی مثالیں : PROLOG،  OPS5 اور MERCURY  پانچویں نسل کی سب سے مشہور زبانیں ہیں۔

خلاصہ

· کمپیوٹر سسٹم ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کا مجموعہ ہے جس کا استعمال کسی کام کو بہت زیادہ صحیح اور کارگر انداز میں انجام دینے کے لیے کیاجاتاہے۔ 
· ہارڈ ویئر چھوئے جانے والے (Tangible)اور طبیعیاتی اجزا کاسیٹ ہے۔ 
· سافٹ ویئر احکامات /ہدایات کے سیٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔
· ان پٹ ڈیوائس کا استعمال احکامات ، یاڈیٹا کو کمپیوٹر میں داخل (Feed)کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔
· آؤٹ پٹ ڈیوائس کا استعمال کمپیوٹر سے مرتب شدہ نتائج کو ظاہر کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔
· ان پٹ /آؤٹ پٹ متن ، گرافکس یا آواز کی شکل میں ہوسکتاہے۔
· پورٹ ایک انسلاکی ساکٹ ہے جس کا استعمال کمپیوٹر میں یا کمپیوٹر سے ڈیٹا کو منتقل کرنے کے لیے کیاجاتاہے۔
· پورٹ ، متوازی پورٹ یا سلسلہ وار پورٹ ہوسکتاہے۔
· CPUکمپیوٹر کادماغ ہے جو تمام تر معلومات کو مرتب کرتاہے۔
· سافٹ ویئر سسٹم سافٹ ویئر یا ایپلی کیشن سافٹ ویئر ہو سکتا ہے۔
· سسٹم سافٹ ویئر کمپیوٹر کے نظام عمل کو ضابطے میں رکھتاہے۔
· ایپلی کیشن سافٹ ویئر روزمرہ کی زندگی سے وابستہ کسی خاص ایپلی کیشن کے لیے مفید ہے۔
· شیئر ویئر کافی سستا سافٹ ویئر ہوتاہے۔
· فری ویئر ایسا سافٹ ویئر ہے جو بلا معاوضہ دستیاب ہوتا ہے۔

مشق

مختصر جواب والے سوالات

.1 ’CPUکمپیوٹر کادماغ ہوتاہے‘  وضاحت کیجیے۔
.2 کیشے میموری(Cache Memory)کو تیز رفتار میموری کیوں کہاجاتاہے؟
.3 ALU کے ذریعہ کس قسم کے کام انجام دیے جاتے ہیں؟
.4 کمپیوٹر سسٹم کے اسٹوریج یونٹ کے اجزا کون کون سے ہیں؟
.5 ان پٹ اور آؤٹ پٹ آلات کی تعریف بیان کیجیے۔
.6 شیئر ویئر اور فری ویئر کے درمیان فرق  بتائیے۔
.7 کلاک اسپیڈ(Clock Speed)کیاہے؟
.8 بٹ(Bit)، بائٹ(Byte)، کلوبائٹ، میگابائٹ ،گیگابائٹ، ٹیرابائٹ اور پیٹا بائٹ(Petabyte)کے درمیان کیا تعلق ہے؟
.9 ’’ایک ڈیوائس کا استعمال ان پٹ کے ساتھ ساتھ آؤٹ پٹ کے طور پربھی کیاجاسکتاہے‘‘ مثال کی مدد سے وضاحت کیجیے۔
.10 لفظ مائکروپروسیسر سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
.11 انسانی تکلم (گفتگو) کا استعمال ان پٹ اور آؤٹ پٹ کے طور پر کیاجاسکتاہے، بحث کیجیے اس کے لیے کس ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کی ضرورت ہے؟
.12 لینگوئج پروسیسر سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟اس کی کچھ مثالیں دیجیے۔

.13 مندرجہ ذیل اصطلاحات کی توسیع کیجیے

(i) ROM (x) VDU
(ii) RAM (xi) CRT
(iii) USB (xii) MDA
(iv) SCSI (xiii) CGA
(v) OMR (xiv) VGA
(vi) MICR (xv) SVGA
(vii) OCR (xvi) DPI
(viii) EPOS (xvii) XGA
(ix) MIDI (xviii) RAID
.14 اضافی (سیکنڈری )اسٹوریج سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟سیکنڈری اسٹوریج ڈیوائسز کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
.15 فرم ویئر (Firmware)کیاہے؟ فرم ویئر کا استعمال بیان کیجیے۔

طویل جواب والے سوالات

.1 کمپیوٹر سسٹم کی بنیادی تنظیم کو واضح کرنے کے لیے بلاک ڈائیگرام بنائیے اور مختلف اکائیوں (Units)کے اعمال کی تشریح کیجیے۔
.2 فلوچارٹ اور الگورتھم کے درمیان کیاتعلق ہے؟
.3 مواصلات میں کمپیوٹر کا کیا کردارہے؟
.4 کمپیوٹر کے مختلف حصے کون کون سے ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں؟
.5 مندرجہ ذیل کے درمیان فرق واضح کیجیے:
(a) سسٹم سافٹ ویئر اور ایپلی کیشن سافٹ ویئر 
(b) سافٹ ویئر اور فرم ویئر
(c) فرم ویئر اور لائیوویئر(Liveware)
(d) ہارڈویئر اور سافٹ ویئر
(e) بنیادی حافظہ(Primary Memory)  اورثانوی حافظہ (Secondary Memory)
.6 افادی (یوٹیلیٹی )سافٹ ویئر  (Utility Software)کیاہے؟ اس کا استعمال کہاں ہوتاہے؟
.7 آپریٹنگ سسٹم کیاہے؟ اس کے اہم کاموں کو بیان کیجیے۔
.8 کمپیوٹر سسٹم کے سسٹم سافٹ ویئر کے ذریعہ انجام دیے جانے والے کچھ کلیدی افعال کی فہرست بنائیے۔
.9 ’’کمپیوٹر خود سے کوئی کام انجام نہیں دے سکتا لہٰذا آؤٹ پٹ میں کسی قسم کی غلطی ٹیکنالوجی سے متعلق نہیں ہوتی ہے‘‘  وضاحت کیجیے۔
.10 ’’کمپیوٹر کے متعدد فائدے ہیں پھر بھی اس کی کچھ حدود ہیں‘‘ وضاحت کیجیے۔
.11 I/0 آلات کیا ہیں؟ اس قسم کے آلات کے استعمال کی کیا اہمیت ہے؟
.12 متوازی پورٹ اور سلسلہ وار پورٹ کے درمیان کیا فرق ہے؟ یہ کمپیوٹر سسٹم کے لیے کیوں ضروری ہیں؟
.13 مکالماتی ان پٹ آلات(Interactive Input Devices)سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟کس صورت میں ان کا استعمال مناسب ہے؟
.14 لوکیٹر(Locator)اور پوائنٹنگ ڈیوائسز (Pointing Devices)میں کیا فرق ہے؟ ان کے استعمال بیان کیجیے۔
.15 ڈیجیٹائزنگ ٹیبلیٹ (Digitising Tablet) کیا ہے؟ یہ ان پٹ ڈیوائس ہے یا آؤٹ پٹ ڈیوائس؟ اس ڈیوائس سے کس قسم کی ایپلی کیشن وابستہ ہیں؟
.16 ویژن— ان پٹ سسٹم اور امیج اسکیننگ سسٹم کے درمیان فرق کی شناخت کیجیے۔
.17 آف لائن ڈیٹاانٹری ڈیوائس کیا ہیں؟ یہ آن لائن ڈیٹا انٹری ڈیوائس سے کس طرح مختلف ہیں؟
.18 ہمیں آؤٹ پٹ ڈیوائس کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟آؤٹ پٹ کی مختلف شکلوں کو بیان کیجیے۔
.19 کسی تنظیم کے منیجروں کے لیے ایک رپورٹ تیار کرنی ہے جس میں پانچ برسوں کی فروخت کا گراف پیش کیا گیا ہو اور آئندہ سال کی فروخت کی پیشین گوئی بھی کی گئی ہو۔ اس مقصد کے لیے کس قسم کا آؤٹ پٹ ڈیوائس مناسب ہوگا اور کیوں؟
.20 پرنٹر وںکی افادیت بیان کیجیے۔

.21 مندرجہ ذیل پر مختصر نوٹ لکھیے:

(a) اسکینر
(b) MIDI
(c) انٹیلجنٹ ٹرمنل
(d) پورٹس
(e) نان امپیکٹ پرنٹرس

.22 مندرجہ ذیل کے درمیان فرق واضح کیجیے:

(a) لیزر پرنٹر اور ڈاٹ میٹرکس پرنٹر
(b) کند ذہن ٹرمنل اور ذہین ٹرمنل
(c) امپیکٹ پرنٹر اور نان امپیکٹ پرنٹر
(d) آپٹکل مارک ریڈر اور آپٹکل کیریکٹر ریڈر

متبادل جواب والے سوالات

.1 ذیل کے کس لینگوئج کی سب سے اہم خصوصیات منتقلی کی صلاحیت(Portability) ہے۔
(i) اسمبلی لینگوئج
(ii) اعلی سطح کی لینگوئج
(iii) مشین  لینگوئج
(iv) 4GL
.2 Debuggingکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے 
(i) کمپائلیشن (تدوین)کے لیے 
(ii) ایگزیکیوشن (عمل درآمد)کے لیے 
(iii) غلطیاں دور کرنے کے لیے
(iv) رائے زنی (تبصرے )نہ پڑھنے کے لیے
.3 ہارڈ ویئر ایک
(i) چھوا جا سکنے والا آلہ ہے۔
(ii) نہ چھوا جانے والاآلہ ہے۔
(iii) احکامات کا مجموعہ ہے۔
(iv) آپریٹنگ سسٹم ہے۔
.4 اسمبلرتبدیل کرتا ہے
(i) اسمبلی لینگو ئجکو مشین  لینگوئج میں تبدیل کرتاہے۔
(ii) مشین  لینگوئج کو اسمبلی  لینگوئج میں تبدیل کرتاہے۔
(iii) اسمبلی  لینگوئجکو اعلیٰ سطح کی زبان میں تبدیل کرتاہے۔
(iv) اعلیٰ سطح کی زبان کو اسمبلی  لینگوئج میں تبدیل کرتاہے۔

سرگرمیاں

.1 اپنے اسکول میں کمپیوٹر کو دیکھیے اور مندرجہ ذیل باتوں کا مشاہدہ کیجیے:
(a) کس قسم کے آؤٹ پٹ اور ان پٹ آلات کا استعمال کیاگیاہے؟
(b) وہ کس طرح کے پورٹ سے جوڑے گئے ہیں؟
.2 اپنے استادسے انکجیٹ پرنٹ کارٹرج اور لیزر ٹونر کارٹرج کو دکھانے کے لیے کہیے۔ آپ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ انکجیٹ پرنٹ کارٹرج لیزر ٹونر کارٹرج کے مقابلے میں جلدی خشک ہوجاتاہے۔
.3 ورڈ پروسیسنگ سافٹ ویئر کا استعمال کرنے کے لیے کیا آپ مائکرو فون کی مدد سے کمپیوٹر پر کام کرسکتے ہیں؟
.4 مشاہدہ کیجیے کہ آپ کمپیوٹر میں کس قسم کے سافٹ ویئر اور یوٹیلٹی (Utility) کا استعمال کرتے ہیں؟ 
.5 اپنے کمپیوٹر کو دیکھیے اور اس کی میموری، رفتار اور قسم کو نوٹ کیجیے۔ کمپیوٹر کے خاص خاص حصوں کا نامزد خاکہ تیار کیجیے۔ اپنے کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کا مشاہدہ کیجیے۔

ضمیمے

ضمیمہ    2.1 :  کمپیوٹر آلات کی انسدادی دیکھ بھال

 بنیادی انسدادی دیکھ بھال کے طریقے ذیل میں بیان کیے گئے ہیں:
· کمپیوٹر کے اندر بہت زیادہ گرد جمع ہوجانے کی وجہ سے اس کے آلات بہت زیادہ گرم ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے اندرونی حصوں کی کارکردگی کم ہوجاتی ہے اور ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہونے لگتاہے۔ اگرہم کمپیوٹر کے اندر کی گرد صاف کرنے اسے کھولنے کے طریقے سے واقف نہیں ہیں تو اس کی مکمل صفائی کے لیے کسی ماہرشخص کی خدمت حاصل کی جانی چاہیے۔
· کی بورڈ کو پلٹ کر اس کی تہہ کو تھپتھپا کر اسے صاف کیا جاسکتاہے۔
· مانیٹر کو خشک ملائم سوتی کپڑے کی مدد سے صاف کیاجاسکتاہے۔
· پرنٹر کی دیکھ بھال کے لیے اس کی پابندی سے جانچ کی جانی چاہیے۔ پھنسے ہوئے کاغذ کو ہٹانے ، کارٹرج کو بدلنے اور پرنٹر کو صاف ستھرارکھنے سے اس کی عمر میں اضافہ ہوتاہے۔ زیادہ تر پرنٹروں میں پرنٹ ہیڈ کو صاف کرنے کا فنکشن ہوتاہے یا ہم پرنٹ ہیڈکلیننگ کٹِ کا استعمال کرسکتے ہیں۔ کسی بھی طرح کی دیکھ بھال سے پہلے مینوفیکچرر کی ہدایات کوبغور پڑھنے کا خیال رکھیں۔
فلاپی ڈسک، CD، DVD اور کاغذ جیسی استعمال کی جانے والی چیزوں کو صحیح طریقے سے اسٹور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جب ضرورت ہوتوانھیں استعمال کیاجاسکے۔ انھیں صاف اور خشک جگہ پر رکھنا چاہیے۔
· خیال رہے کہ کاغذ میں نمی کی سطح کم سے کم رہے۔ کاغذ کو سیل بند ڈبے میں رکھا جانا چاہیے ۔مرطوب کاغذ مڑجاتے ہیں اور پرنٹر میں پھنس جاتے ہیں۔
· جس خول (Case) میں مدربورڈ ، پاور سپلائی، ڈرائیو رس وغیرہ لگے ہوتے ہیں اس میں متعدد جھریاں (Vents) بنی ہوتی ہیں جن میں پاور سپلائی کے ذریعہ ضبط شدہ ہوا کے بہاؤ کو بنائے رکھاجاتا ہے اور پروسیسر کا پنکھا آلات کے لیے مطلوبہ آپریٹنگ درجۂ حرارت قائم رکھتاہے۔

کمپیوٹر آلات سے بے توجہی برتنے کے اثرات

· پیسے کی بربادی  :  ہارڈ ویئر اجزا کے میکانیکی طور پر خراب ہوجانے کی وجہ سے کمپیوٹر آلے کا نقصان عام بات ہے۔ جب نقصان ہوتاہے تو مرمت کی لاگت کا اثر کو متاثرہ تنظیم کے بجٹ پر پڑتا ہے۔
· وقت اور ساکھ کی بربادی   :  کمپیوٹر کے آلات کو مکمل طور سے نظر انداز کرنے پر یہ طبیعی اعتبار سے خراب ہوسکتا ہے ، اس کے آلات ضائع ہوسکتے ہیں، بد شکل ہوسکتے ہیں، چوری ہوسکتے ہیں ، کوئی شخص ان کا غلط استعمال کرسکتا ہے، اس میں ہیر پھیر کی جاسکتی ہے، اس کے پروگرام، کمانڈ فائلوں ، ڈیٹا فائلوں ، دستاویزوں یا دیگر مواد کو  اس میں سے مٹایا جاسکتا ہے۔
· کارکردگی میں ابتری (Performance Degradation)   : کمپیوٹر میں عام طور سے بہت زیادہ عارضی فائلیں ہوتی ہیں جو سسٹم کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں جیسے بے ترتیب فائل سسٹم ، وائرس ، اسپا ئی وئیر(Spyware) ایڈوئیر(Adware) اور ایسے کئی غیر ضروری پروگرام ہوتے ہیں جو کمپیوٹر کے شروع ہوتے ہی چلتے ہیں ۔ونڈوز XP میں ایسے کئی سافٹ وئیر پیکج دستیاب ہیں جو سسٹم کو صاف کرنے (Clean up System) میں مدد کرتے ہیں جیسے ڈسک کلین اپ (Disk Clean Up)، ڈسک ڈی فراگمینٹر (Disk Defragmenter) اور چیک ڈسک (Check Disk) ۔ یہ پروگرام کمپیوٹر کی رفتار کو بڑھا دیتے ہیں اور نو مشقوں کے لیے استعمال میں آسان ہوتے ہیں۔
اگر اب بھی کمپیوٹر کی رفتار توقع سے کم ہو تو ہمیں ایسے سافٹ وئیر پیکج کا استعمال کرنا چاہیے جو پورے سسٹم کی گہرائی سے جانچ کرسکے،اس کی رجسٹری کا معائنہ کرسکے ، گم شدہ شارٹ کٹ اور ونڈوز فائلوں کی جانچ کرسکے۔ یہ پروگرام غیر نصب شدہ (Uninstalled) سافٹ وئیر سے ہزاروں     غیر ضروری رجسٹری سیٹنگ کو ہٹا کر کمپیوٹر کی کارکردگی میں اضافہ کرسکتے ہیں ۔ اسٹارٹ اپ (Startup) سے غیر ضروری پروگراموں کو ختم کرسکتے ہیں اور کمپیوٹر میں اسٹور عارضی فائلوں کو ہٹا سکتے ہیں۔

ضمیمہ 2.2   :  عددی نظام 

عشری عددی نظام  

آج کل زیادہ تر لوگ شمار کرنے کے کام میں عشری عددی نظام کا استعمال کرتے ہیں۔ عشری نظام میں 10 ہندسے ہوتے ہیں۔
0, 1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 
یہ ہندسے کسی بھی قدر کو ظاہر کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر 
754
اس قدر کو حاصل کرنے کے لیے ہر ایک ہندسہ کو اساس (اس مثال میں یہ 10 ہے کیونکہ عشری نظام میں 10 ہندسے ہوتے ہیں)پر ہندسے کے مقام (صفر سے شمار کرتے ہوئے)کو قوت کی شکل میں لے کر ضرب کرکے اور پھر ان کا حاصل جمع معلوم کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔
70
7 . 10 2 + 5 . 10 1 + 4 . 10 0  = 700 + 50 + 4 = 754
ہندسہ کا مقام اساس
ہر ایک ہندسہ کا مقام نہایت اہم ہے۔ مثلاً اگر ہم ’’7 ‘‘کو آخر میں لکھ دیں:
547
تو یہ علاحدہ قدر کو ظاہر کرے گا۔
71
5 . 10 2 + 4 . 10 1 + 7 . 10 0  = 500 + 40 + 7 = 547
ہندسہ کا مقام اساس
اہم وضاحت  : کسی بھی عدد کی قوت صفر ہونے پر اس کی قدر 1 ہوتی ہے یہاں تک کہ صفر کی قوت صفر بھی 1 کو ظاہر کرتی ہے:
72
10 0 = 1 0 0 = 1 X 0 = 1

بائنری عددی نظام  

زیادہ تر جدید کمپیوٹر بائنری منطق (Binary Logic)کا استعمال کرکے اپنے کام کو انجام دیتے ہیں ۔ روایت کی رو سے ہم صفر اور ایک قدروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ دونوں قدریں بائنری عددی نظام میں استعمال ہونے والے دو ہندسوں کے نظیری ہیں۔ لہٰذا کمپیوٹروں میں بائنری نظام کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ، بائنری نظام میں (اساس 2 – )ہر ایک کالم 2 کی قوت میں ہے۔ مندرجہ ذیل جدول پر غور کیجیے جس میں بائنری عددی نظام کے لیے چار اہم ہندسی مقام کو اسی طرح دکھایا گیا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا عشری عددی نظام کے جدول میں ہے۔
73
بائنری عدد 10100101b عشری قدر 165 کے مساوی ہے۔
= 10100101b 
74
مثال کے طور پر مندرجہ ذیل بائنری عدد پر غور کیجیے:
1011
اور اسے ا عشار یہ عدد میں تبدیل کیجیے:
75
میزان :  11(اعشاری نظام میں ) جو 8 + 0 + 2 + 1 کے مساوی ہے 
باالفاظ دیگر
10112 = 1110

ذیلی تحریر میں لکھا گیا عدد عددی نظام کے اساس کو ظاہر کرتا ہے ۔

مثال  1
بائنری عدد0111   (اسے 01112بھی لکھا جاتا ہے) کا اعشاری متبادل کیا ہے؟
جواب
76
میزان 7 = (اسے 710 بھی لکھا جاتا ہے)
مثال  2
بائنری عدد  1010  (جسے  10102بھی لکھا جاتا ہے) کا اعشاری متبادل کیا ہے؟
جواب
77
میزان  10 =(1010بھی لکھا جاتا ہے)
مختلف عددی نظاموں کا خلاصہ جدول 2.8 میں دیا گیا ہے۔

جدول 2.8   :  بائنری سے اعشاری عدد میں تبدیلی
78

عشری عدد کی بائنری عدد میں تبدیلی

عشری عدد کو بائنری عدد میں تبدیل کرنے کے لیے سب سے پہلے 2 کی سب سے بڑی ممکنہ قوت کو گھٹائیے اور حاصل تفریق میں سے اگلی ممکنہ بڑی سے بڑی پاور کوگھٹاتے جائیے جو قوت اس عمل میں شامل ہیں کالم میں ان کے سامنے 1 لکھیے اور جو نہیں ہیں ان کے سامنے 0 لکھیے۔
مثال 3   (عشری عدد44 کو بائنری عدد میں تبدیل کیجیے)
4 4
– 3 2
1 2
– 8
4
– 4
0

32 16 8 4 2 1

1 0 1 1 0 0


مثال 4     (عشری عدد15 کو بائنری عدد میں تبدیل کیجیے)
1 5
– 8
7
– 4
3
– 2
1

32 16 8 4 2 1

0 0 1 1 1 1

بائنری حساب 

بائنری جمع کے قاعدے
0 = 0 + 0 
1 = 1 + 0 
1 = 0 + 1 
0 = 1 + 1  اور 1 اگلے اہم بِٹ کی طرف لے جائیں۔
مثال  5

11 = 11 + 11 1 حاصل

0 1 1 = ( 10اساس )3 

+ 1 1 = ( 10اساس )3 

1 1 0 = ( 10اساس )6 

بائنری تفریق کے قاعدے

0 = 0 – 0 
1 = 0 – 1   اور اگلے اہم بٹ سے 1 ادھار لیجیے۔
0 = 1 – 0 
0 = 1 – 1 
مثال  6

00100101 – 00010001 = 0 حاصل

00010100 0 0 1 0 0 1 0 1 = 37  (10  اساس )

– 0 0 0 1 0 0 0 1 = (10  اساس )17 

0 0 0 1 0 1 0 0 = (10  اساس )20 

بائنری ضرب کے قاعدے

0 = 0 x 0 
0 = 0 x 1 
0 = 1 x 0 
= 1 x 1  1  اور بٹ حاصل یا ادھار نہیں ہوگا

مثال  7
= 00100101 × 00010001 0 0 1 0 1 0 0 1 = 10)  اساس41 (
11110110 × 0 0 0 0 0 1 1 0 = 10)  اساس6 (
0 0 0 0 0 0 0 0 = 10)  اساس17 (
0 0 1 0 1 0 0 1
0 0 1 0 1 0 0 1
0 0 1 1 1 1 0 1 1 0 = 10)  اساس246 (

79

بائنری تقسیم

یہ بار بار گھٹانے کا عمل ہے (جیسا کہ عشری تقسیم میں ہوتا ہے)۔
مثال  8
00101010 ÷  00000110 = 1 1 1 = 10)  اساس7 (
00000111 1 1 0 ) 0 0 + 20 1 0 1 0 = 10)  اساس42 (
– 1 1 0 = 10)  اساس6 (
1 حاصل
1 0  20 1
– 1 1 0
1 1 0
– 1 1 0
0
کچھ اور عددی نظام بھی ہیں۔ جدول 2.9 میں مختلف عددی نظاموں کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے۔

جدول  2.9 :  مختلف عددی نظاموں میں موازنہ

80