8
مؤثر مواصلات کےلیےلطیف مہارتیں
’’دانشور آدمی کی طرح سوچیے لیکن اظہارِ خیال عوام کی زبان میں کیجیے۔‘‘
ولیم بٹلرایٹس
1923 میں نوبل انعام یافتہ برائے ادب اور ایبے تھیٹر، ڈبلن میں آئرش نیشنل تھیٹر کمپنی کے بانی
مقاصد
اس باب کو مکمل کرلینے کے بعد طلبا:
• مختلف لطیف مہارتوں کی شناخت کرسکیں گے۔
• مؤثر ترسیل کی ساخت اور اعمال (Process) کو سمجھ سکیں گے۔
• لطیف مہارتوں کو مؤثر ترسیل سے جوڑ سکیں گے۔
• اختصار اور وضاحت کے ساتھ لکھ سکیں گے۔
• ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ مؤثر طور پر ترسیل کرسکیں گے،ان کے ساتھ روابط اور تعلقات قائم کرسکیں گے۔
• کسی مقصود ، مشن یا نصب العین کے حصول کے لیے اپنی کوششوں پر پُر جوش طریقے سے توجہ مبذول کرسکیں گے ۔
• مقاصد کے حصول کے لیے منطقی ، مرتب اور منظم طریقۂ کار سے استفادہ کرسکیں گے۔
• دوسروں کے ساتھ مل کر بھر پور پیداواریت کے لیے مؤثر طور پر کام کرسکیں گے۔
• اپنی ترسیل کی تاثیر میں اضافے کے لیے عملی منصوبہ تیار کرسکیں گے ۔
• دوسروں کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے سہولت پیدا کر سکیں گے نیز معاونت کرسکیں گے۔
تعارف
صرف معلومات کا ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ معلومات کو مؤثر طور پر دوسروں تک پہنچانابھی ضروری ہوتاہے۔ در حقیقت مؤثر مواصلات کامیابی کی ایک کنجی ہے ۔ اپنے پیغامات کو کامیابی کے ساتھ دوسروں تک پہنچا کر دراصل ہم اپنے خیالات اور نظریات کو مؤثر طور پر دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ پیغام (Message) و ہ معلومات ہے جس کی ہم ترسیل کرنا چاہتے ہیں ۔ پیغام کا تکنیکی طور پر درست ہونا تو لازمی ہے لیکن ہمارے اندر اپنے خیالات کو حتی الامکان آسان طریقے سے دوسروں تک واضح اور مؤثر ڈھنگ سے پہنچانے کی صلاحیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ مؤثر ترسیل اور لطیف مہارتیں نہ صرف دوسروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کوبہتربناتی ہیں بلکہ ان سے ہماری کارکردگی بھی بہترہوتی ہے۔
پچھلے ابواب میں ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ ترسیل کیا ہے اور پیغامات مختلف تکنیکی مہارتوں [جنھیں کثیف مہارتیں (Hard Skills)کہا جاتا ہے ] جیسے الیکٹرونک ورڈ پروسیسنگ/ پریزنٹیشن اور انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے کس طرح ارسال کیے جاتے ہیں۔ان کے علاوہ چند اور مہارتوں کے بارے میں ہم ویب پبلشنگ ٹیکنولوجی سےمتعلق اگلی اکائی میں پڑھیں گے۔ اس باب میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ لطیف مہارتیں کیا ہیں اور کمپیوٹر /آئی ٹی سے وابستہ ترسیل کے سیاق میں ہم انھیں مؤثر ترسیل کے لیے کس طرح استعمال کرسکیں گے ۔
8.1 لطیف مہارتیں کیا ہیں؟
لطیف یا سماجی مہارتیں (جنھیں غیر تکنیکی مہارتیں بھی کہا جاتا ہے)وہ شخصی قدریں اور بین شخصی (Interpersonal) مہارتیں ہیں جو کسی پروجیکٹ ٹیم میں دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر بہتر کام کرنے کی کسی شخص کی صلاحیت کاتعین کرتی ہیں۔ خارجی دنیا کے ساتھ معاملات کرنے میں اور ساتھیوں کے ساتھ باہمی تعاون سے کام کرنے میں ان لطیف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان مہارتوں میں مؤثر ترسیل، قیادت (Leadership) اور وہ ٹیم ورک (جماعتی کام کی )مہارتیں شامل ہیں جن سے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ، کام شروع کرنے کا حوصلہ اور ترغیبی صلاحیتوں کا اظہار ہونا نیز یہ ایمانداری اورکام کی اخلاقیات کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔
علمی اورپیشہ ورانہ کامیابی میں لطیف مہارتیں غیر معمولی کردار ادا کرتی ہیں۔ان سے مقام عمل(work place)جیسے دفتر، کارخانہ وغیرہ پر ہمارے کام کی عمدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور ابھرتے ہوئے معلوماتی یا علم پر مبنی سماج یا نالج سوسائٹی میں ان مہارتوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خارجی دنیا کے ساتھ معاملات کرنے اور رفقائے کار کے ساتھ باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے میں ان لطیف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
8.1.1 لطیف مہارتوں کی قسمیں
لطیف مہارتوں کے مختلف اجزا ہیں۔ان میں کچھ تو پیدائشی ہوتے ہیں جیسے اعتماد، انسیت اور لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے کی فطرت۔ اس کے برخلاف کچھ مہارتیں ایسی ہیں جن کو سیکھا جاسکتا ہے یا جن کو بہتر بنا یا جاسکتا ہے مثلاً مؤثر ترسیل کی عادت ڈالنا،تنظیم اور سماجی آداب و اخلاق۔
آج ہم بہت سی لطیف مہارتوں سے واقف ہیں لیکن کسی مخصوص قسم / نوعیت کے کام کو انجام دینے کے لیے مختلف قسم کی لطیف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ درج ذیل لطیف مہارتیں ہمارے لیے سود مند ہوسکتی ہیں:
• ترسیلی مہارتیں
• سننے کی مہارت
• پیش کش کی فراہمی کی مہارتیں
• بین شخصی مہارتیں
• جماعتی کام کی مہارتیں
• قیادت کی مہارتیں
• آداب و مراسم (Etiquette)
• بین ثقافتی مہارتیں
• لسانی مہارتیں، وغیرہ
ان میں سے کچھ مہارتوں پر ہم آئندہ صفحات میں گفتگو کریں گے۔
ترسیلی مہارتیں
دوسرے لوگوں تک اپنے خیالات ونظریات کو مؤثر ڈھنگ سے پہنچانے کی صلاحیت ہماری مستقبل سازی (Career Building) کے لیے بے انتہا ضروری ہے۔ واضح اور مربوط گفتگو دیگر لوگوں کے ساتھ ایک مؤثر زبانی ترسیل کی تشکیل کرتی ہے۔ ہم اپنے مخاطب سے جوکچھ کہہ رہے ہیں اس سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ ہم کس طرح کہہ رہے ہیں۔ اسی لیے گفتگو کرتے وقت ہمیں اپنے جسم کی حرکات و سکنات ، اندازِگفتگو اور آواز کے بارے میں بہت محتاط رہنا ضروری ہے۔ترسیل ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اس لیے تو جہ کے ساتھ سنناایک لازمی مہارت ہے۔ کسی بات کو فقط سن لینا اتنا اہم نہیں ہے جتنا غور سے یا توجہ کے ساتھ سنناہے۔مؤثر طورپر اور توجہ کے ساتھ سننے سے دوسروں میں بھی یہ شوق پیدا ہوگا کہ وہ ہماری باتوں کو غور سے سنیں اور جو کچھ ہم کہیں ان کا ڈھنگ سے جواب دیں اگرہم محسوس کرتے ہیں کہ اپنی ترسیلی مہارتوں میں بہتری لاسکتے ہیں تو نمائندگی، توجہ سے سننا اور پیش کش ترسیل میں شامل ہیں۔
جامع تحریری خیالات و نظریات کے پیش کرنے کی صلاحیت ہو تو ہم اپنے خیالات کو ماہرانہ دستاویزی شکل دے سکتے ہیں۔ اس مہارت کو بہت اہم خیال کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اس طرح لکھیں کہ اس کی غلط تشریح وتوضیح کم سے کم ہوسکے تو لوگ ہماری باتوں کو زیادہ توجہ سے سنیں گے۔
مؤثر ترسیل کی مہارتیں ایسی ہیں جو ہر شخص میں ہونی چاہیے۔ زبانی ترسیلی مہارت میں ایک فرد کی دوسرے فردسے گفتگو ، پیش کش / عوام کے سامنے بولنے کی صلاحیت اورٹیلی فون پر گفتگو کرنے کی مہارت شامل ہیں۔ تحریری ترسیل میں پروگرام نویسی، رپورٹ نویسی ، خطوط نویسی اور ای میل کے آداب وغیرہ شامل ہیں۔
8.1.2 لطیف مہارتوں کو کیسے ترقی دی جائے؟
لطیف مہارتوں کو ترقی دینے کے لیے مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھیں فوری طور پر حاصل اور استعمال کرسکتے ہیں۔لطیف مہارتیں صرف درسی کتابیں پڑھ کر ہی نہیں حاصل ہوتیں ۔ہم جولطیف مہارتیں حاصل کرلیتے ہیں ان کے ذریعے ہم اپنی ذاتی زندگی علمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں اپنی کارکردگی کو بہتر بناسکتے ہیں۔یہ ایک مسلسل آموزشی (Learning)عمل ہے۔
لطیف مہار تیں پیدا کرنے کے عمل کے دو حصے ہیں۔ایک حصے کا تعلق رویوں اورخوبیوں (Attitudes and Attributes) کو ترقی دینا ہے اور دوسرے کا تعلق ان رویوں ، نظریات اور خیالات کے اظہار کے لیے ترسیل کی مہارتوں کو چمکانا ہے۔تقریر وتحریر اور غیرزبانی شعبوں میں ترسیلی مہارتوں کے ساتھ رویوں اور نظریات کی مکمل ہم آہنگی کسی بھی کام میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔رویے اور مہارتیں لطیف مہارتوں کا لازمی حصہ ہیں۔ان میں سے ہر ایک دوسرے کومتاثر بھی کرتے ہیں اور ان کی تکمیل بھی کرسکتے ہیں۔
8.1.3 کثیف مہارتیں مقابل لطیف مہارتیں(Soft Skills vs Hard Skills)
کثیف مہارتیں مواصلات کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے تکنیکی اعمال /اوزار ہیں۔اس کے تحت ورک پلیس پروڈکٹیوٹی ٹولز (اکائیII ) ، کمپیوٹر پروٹوکول وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ان مہارتوں کا مشاہدہ کرنااور ناپ تول آسان ہوتا ہے ۔اس کے برخلاف لطیف مہارتوں کا مشاہدہ اور ناپ تول مشکل ہوتا ہے۔ لطیف مہارتیں کثیف مہارتوں کی تکمیل کرتی ہیں جو تکنیکی ضرورتیں ہیں۔لطیف مہارتیں اگر زیادہ اہم نہ ہوتو بھی اتنی اہم ضرور ہیں جتنی کہ مقامِ عمل پر روایتی کثیف مہارتیں اہم ہوتی ہیں۔
8.2 مواصلات
ہم یہ جانتے ہیں کہ ترسیل اپنے پیغامات کو واضح اور غیر مبہم طریقے سے دوسروں تک پہنچانے کا نام ہے اور یہ ہماری پیش رفت کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہمارا پیغام کیا ہے؟مخاطب کون ہے اور اس کی تفہیم کس طرح کرائی جاسکتی ہے۔ ہمیں ان حالات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے جن پر ہمارے ترسیل کا دارومدار ہے۔ مثلاًماحولیاتی اور ثقافتی پس منظر۔
معلومات کچھ دینے کا عمل ہے جب کہ ترسیل کچھ سمجھنے کا عمل۔
8.2.1 مؤثرترسیل(Effective Communication)
مؤثر ترسیل اور بین شخصی مہارتیں(Interpersonal Communication) کسی علمی کام سے وابستہ شخص کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں کیوں کہ یہ مہارتیں جذباتی سطح پر لوگوں کے ساتھ میل جول قائم رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ مؤثر ترسیل اورلطیف مہارتیں نہ صرف رشتوں کو بہتر بناتی ہیں بلکہ کارکردگی کی بھی اصلاح کرتی ہیں۔ فعال سماعت (یعنی انہماک اور دلچسپی کے ساتھ سننا)،پیغامات کو براہ راست انجام دینا، دشواریوں کو حل کرنا، مثبت جسمانی حرکات وسکنات اور صحیح سوالات پوچھنا مؤثر ترسیل کی خصوصیات ہیں۔
اعتماد ، وضاحت اور پر اثر طور پرترسیل کیجیے۔
8.2.2 ترسیلی عمل (Communication Process)
ترسیلی عمل پیغام کے ارسال کنندہ (Sender) اور وصول کنندہ (Receiver) دونوں کی کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگرترسیل کا عمل اغلاط سے پُر ہوگا تو وصول کنندہ اس کو سمجھنے اور اس کی تشریح کرنے میں بھی غلطی کرے گا۔ اگر غلطی کا پتہ نہ چل پائے تو اس کے نتیجے میں بات الجھ جائے گی ، کوشش بھی بے کار جائے گی اور موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔
ترسیل کی دشواریاں، اس عمل کے ہر مرحلے پر پیدا ہوسکتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایک کامیاب ترسیل کار (Communicator) بنیں اور ہماری بات کسی پیچیدگی کے بغیروصول کنندہ تک پہنچ جائے تو ہمیں ہر مرحلے پر ان مشکلات یا دقتوں کی تکرار کو کم کرنا ہوگا۔ ایسا کرنا واضح ، جامع ، درست اور منصوبہ بند ترسیل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ترسیلی عمل ارسال کنندہ، رمز بندی، چینل،رمز کشائی، وصول کنندہ، باز رسی اور سیاق جیسے بنیادی اجزا پر مشتمل ہے۔
ارسال کنندہ (Sender)
پیغام رسانی کے آغاز میں ہی ہمیں یہ بات واضح طور سے معلوم ہونی چاہیے کہ ہم کیا پیغام بھیجنا چاہتے ہیں او ر کیوں بھیجناچاہتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی پکا یقین ہونا چاہیے کہ جو معلومات ہم بھیج رہے ہیں وہ مفید اور صحیح ہے۔
رمز بندی (Encoding)
جس معلومات کو ہم بھیجنا چاہتے ہیں اس کو ایسی شکل میں بدلنے کا عمل ہے جسے بھیجا جاسکے اور اس کودوسری طرف ٹھیک طرح سے پڑھابھی جاسکے۔ ثقافتی امور (Cultural issues)، مشتبہ مفروضات، غیر موجود معلومات وغیرہ کے معاملے میں ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے۔
چینل (Channel)
پیغامات کو چینلوں کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔ یہ چینل زبانی (Verbal) بھی ہوسکتے ہیں اور تحریری بھی۔ زبانی چینلوں میں روبرو ملاقاتیں ، ٹیلیفون اور ویڈیو کانفرنسنگ شامل ہیں جب کہ تحریری چینلوں میں خطوط ، ای میل ، میمورنڈم (Memos) اور رپورٹیں شامل ہیں ۔مختلف چینلوں کی مختلف خوبیاں اور خامیاں ہیں۔ مثال کے طور پر ہدایات کی ایک لمبی فہرست زبانی طور پر دینا مؤثر نہیں ہوتا۔
رمز کشائی (Decoding)
جس طرح کامیاب رمز بندی ایک مہارت ہے اسی طرح کامیاب رمز کشائی بھی ایک مہارت ہے (مثلاً پیغام کو احتیاط کے ساتھ پڑھنے یا فعال طور پر سننے کے لیے وقت نکالنا)۔ جس طرح رمز بندی میں غلطیوں کی وجہ سے الجھنیں پیش آتی ہیں اسی طرح رمز کشائی میں غلطیوں سے بھی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ خاص طور سے ایسااسی وقت ہوتا ہے جب رمز کشائی کرنے والا پیغام کو سمجھنے کے لیے کافی علم نہ رکھتا ہو۔
وصول کنندہ (Receiver)
ہمارا پیغام ان الگ الگ افراد کو بھیجا جاتا ہے جن سے اس کا تعلق ہو ۔بلاشبہ پیغامات کو پاکر پیغام وصول کرنے والوں پرہونے والے عمل یاردعمل سے ہمیں واقف ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان میں سے ہر فرد اپنے نظریات اور احساسات کے ساتھ ترسیلی عمل میں داخل ہوتا ہے جو انھیں ہمارے پیغامات کی تفہیم کے سلسلے میں متاثر کرتے ہیں اور اس طرح ان کا جوابی عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایک کامیاب ترسیل کار (Communicator) بننے کے لیے ہمیں اپنا پیغام بھیجنے سے پہلے اس امر پر غور کرنا اور پھر مناسب عمل کرنا چاہیے ۔
باز رسی (Feedback)
وصول کنندہ کے جواب کا مشاہدہ کرکے بازرسی (Feedback) حاصل کی جاتی ہے ۔ ہمارے مخاطبین (Audience) ہمیں بازرسی مہیا کراتے ہیں۔ یہ بازرسی ہمارے ذریعے بھیجے گئے پیغامات کے تئیں زبانی یا غیر زبانی ردعمل کی شکل میں ہوتی ہے۔ (شکل8.1 ) بازرسی کی ان شکلوں پر خصوصی توجہ دیجیے۔ اس بازرسی سے ہی ہمارے اندر یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے مخاطبین نے ہمارے پیغام کو سمجھ لیا ہے۔ اگر ہم یہ محسوس کریں کہ کہیں غلط فہمی ہو گئی ہے تو کم از کم ہمیں یہ موقع تو ملتا ہی ہے کہ اس پیغام کو دوبارہ بھیج دیں۔

8.2.3 ترسیلی نمونے (Communication Models)
ترسیلی عمل کے لیے مختلف ترسیلی نمونے تجویز کیے گئے ہیں۔ ان نمونوں میں آسان ترین ،ارسال کنندہ—وصول کنندہ نمونوں پر ذیل میں گفتگو کی جائے گی۔
بنیادی ترسیلی نمونہ (Basic Communication Model)
یہ نمونہ (شکل 8.2 ) اس وقت مفید ہوتاہے جب جگہ اور وقت کے اعتبار سے معلومات کی منتقلی اصل مسئلہ ہو۔ چوں کہ یہ نمونہ ترسیل کو پیغام کے نقطئہ نظر سے دیکھتا ہے اس لیے جب معلومات کا تبادلہ اتنا پیچیدہ ہو کہ اس کو پیغام کی اکائیوں میں الگ الگ نہ کیا جاسکے تو اس کی افادیت محدود ہوجاتی ہے۔

مکالماتی ترسیلی نمونہ (Interaction Communication Model)
دو طرفہ ترسیل/مکالمہ میں ارسال کنندہ اور وصول کنندہ اپنی حالتیں (Positions)بدل لیتے ہیں اور پیغامات آگے پیچھے حرکت کرتے ہیں (شکل8.3)۔

مندرجہ بالا نمونہ کو ذیل میں دی گئی شکل 8.4 کے مطابق واضح کیا جاسکتا ہے۔

یہ نمونے اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب ارسال کنندہ اور وصول کنندہ دونوں ایک ہی معلومات کو سمجھتے ہوں۔
8.2.4 سیاق(Context)
کسی بھی ترسیل میں کوئی مشترک سیاق ہوتا ہے۔ممکن ہے ہم ایک ہی مقام پر ہوں یہاں تک کہ فون پر بھی کم از کم ، وقت ایک مشترک قدر ہوگی۔ جب ہم کوئی دستاویز بناتے ہیں تو وہاں بھی میڈیم میں پیوست کوئی نہ کوئی سیاق ضرور ہوتاہے:متن کسی کا نفرنس کی کارروائی میں ہوتاہے، کسی سالگرہ کے تہنیتی کارڈ پر لکھا ہوتاہے یا اس جیسی کوئی اور چیز ہو سکتی ہے۔
8.3 ای میل کے ذریعے ترسیل
ای میل کی مدد سے ہم ارسال کنندہ کے محل وقوع ، وقت ، ذہنی ساخت ، پیشہ، دلچسپیاں یا مستقبل کی قدروں کے بارے میں کچھ بھی فرض نہیں کرسکتے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے وصول کنندہ کا کوئی سیاق متعین کرنے کے سلسلے میں بہت زیادہ محتاط رہناچاہیے۔ یہ کام کرنے کے لیے ہم خصوصی حکمت عملی اپنائیں گے۔
8.3.1 موضوع سے متعلق مفید لائنیں
ایک موضوع سے متعلق کوئی ایسی لائن جو واضح طور پر ای میل کے متن سے ربط رکھتی ہو وہ پیغام پڑھنے سے پہلے ہی مناسب سیاق کی طرف ہمارے ذہن کو منتقل کرنے میں مددگار ہوگی۔ موضوع سے متعلق یہ لائن مختصر ہونی چاہیے (بہت سے میل کرنے والے موضوع سے متعلق طویل لائنوں کو کاٹ چھانٹ دیتے ہیں) یہ بھی ضروری نہیں کہ جملہ مکمل ہی ہو لیکن اس موضوع کے مواد کے بارے میں کچھ اشارہ ضرور ملنا چاہیے۔ مثال کے طور پر:
موضوع : منگل کے دن تین کا روں کی ضرورت ہے۔
رمیش – منگل کے دن دہلی میں نمائش کے لیے مجھے تین کاروں کی ضرورت ہے۔ یہ پٹرول انجن کاریں ہونی چاہئیں اور شپنگ کے لیے ان کی پیکنگ منگل کی راتتک ہو جانی چاہیے۔
اس میں موضوع سے متعلق لائن پیغام کی سب سے اہم معلومات کامؤثر طورپر خلاصہ پیش کررہی ہے۔اگر پیغام کسی دوسرے ای میل کے جواب میں ہے تو ہمارا ای میل سافٹ ویئر موضوع سے متعلق لائن کے شرو ع میں خود ہی Re: یا RE:لکھ دے گا۔ اگر ای میل سافٹ ویئر ایسا نہیں کر تا ہے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ ہم خود ہاتھ سے RE لکھ دیں۔
موضوع : Re : منگل کو تین کاروں کی ضرورت ہے
عبدل – میرے پاس پچھلے ہفتے کی ڈیمو سے پیک شدہ دوکاریں موجود ہیں۔ فی الحال میرے پاس پٹرول انجن کی کوئی دوسری کار موجودنہیں ہے۔ کیا آپ دو پٹرول انجن اور ایک ڈیزل انجن کار سے کام چلا سکتے ہیں؟
فوری تعمیل والے پیغامات کے لیے لفظ URGENT سے بات شروع کرنا ایک اچھا تصور ہے (خاص طور پر جب ہمیں یہ معلوم ہوکہ وصول کنندہ کے پاس ای میل بہت آتے ہیں):
موضوع : URGENT : پٹرول انجن والی کاروں کی ضرورت
مجھے ممبئی میں نمائش کے لیے کل دوپہرتک ایک اور پٹرول انجن والی کار کی ضرورت ہے۔ رمیش کے پاس صرف دو ہیں اور مجھے تین کی ضرورت ہے ۔ اگر اس سلسلے میں کوئی مدد کرسکتا ہو تو میں واقعی شکر گزار ہوں گا!
درخواستوں کے لیے REQ شروع میں لکھیے: یہ اس کا اشارہ ہے کہ کارروائی کی ضرورت ہے۔
موضوع : REQ : پٹرول کاروں کی ضرورت ہے
عبدل کو ایک پٹرول انجن کار کی ضرورت ہے ۔ اپنے گیرج میں چیک کرلیجیے ۔ آپ کے پاس ایسی سات کاریں ہیں جن کو آپ اب استعمال نہیں کررہے ہیں۔ ذرا دیکھ لیجیے کہ جنھیں آپ مزید استعمال نہیں کررہے ہیں کیاان میں پٹرول انجن والی کاریں ہیں۔ انھیں رمیش کو واپس بھجوا دیجیے۔
اگر آپ کو ایسی غیر عاجلانہ اطلاع دینی ہے جس کے لیے دوسرے شخص کی طرف سے جواب ضروری نہیں ہے تو ایسی صورت میں FYI (آپ کی اطلاع کے لیے)لکھنا بھی بہتر ہوتا ہے۔ مثلاً
موضوع : FYI : سامان کے کمرے میں مٹھائی
نیچے سامان کے کمرے میں آرتی کچھ مٹھائی چھوڑ گئی ہے۔ پہلے آؤ۔پہلے پاؤ!
8.3.2 معلومات
موضوع سے متعلق لائن سے لفظ’’ انفارمیشن‘‘ کو حذف کردینا چاہیے( بلکہ پیغام کے متن سے بھی اس لفظ کو نکال دینا چاہیے) کیونکہ اس سے قاری کو غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے ذیل کی مثال دیکھیے:
موضوع : معلومات
برا ہ مہربانی انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (IIT)کے بارے میں معلومات بھیج دیجیے ۔
اس سے قاری کو صحیح اشارہ نہیں ملتا کہ کوئی شخص اس سے کیا جاننا چاہتا ہے: داخلہ ،درخواست یاآخری تاریخیں ؟ طلبا کی تعداد یا عمارتوں کی تعداد؟ کیا قاری کو کاغذی دستاویزات بھیجنی ہیں یا URLs دینی ہیں؟ اس طرح کے ای میل سے صرف یہی کیا جاسکتا ہے کہ مزید سیاق (Context) جاننے کے لیے دوبارہ پوچھا جائے۔ درج ذیل قسم کے میل زیادہ اچھے ہوسکتے ہیں :
موضوع : انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی(IIT) کے داخلہ کا ضابطہ
کیاIITs کے داخلہ کے طریقۂ کار کے بارے میں کوئی ویب صفحات ہیں؟
8.3.3 دستاویزوں کا حوالہ (Quoting Documents)
اگر ہم کسی پچھلے ای میل کا حوالہ دے رہے ہیں تو واضح طور پر اس دستاویز کا حوالہ دینا چاہیے تا کہ موضوع کا سیاق معلوم ہوجائے:
کیا ہمیں وہ تمام معلومات مل گئیں ہیں جن کی ضرورت تھی؟
مندرجہ بالا ای میل بھیجنے کے بجائے اس طرح لکھیے:
<کیا ہمیں وہ تمام معلومات مل گئی ہیں جن کی ضرورت تھی؟
کی نسبت بڑے کانشان (>) کسی بھی شخص کے ای میل (انگریزی زبان میں)کے الفاظ کا حوالہ دینے کے لیے سب سے زیادہ رائج طریقہ ہے۔ لیکن مختلف ای میل سافٹ ویئر مختلف طریقے استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر ہمارے جواب میں بہت سے الفاظ ہیں تب بھی پچھلے پیغام کا حوالہ دینا ضروری ہے۔
کلیدی نکات
جس بات کے بارے میں ہم گفتگو کررہے ہیں اس کو ہم جانتے ہیں ،لیکن ہوسکتا ہے ہمارے قارئین نہ جانتے ہوں۔ان کے لیے صحیح سیاق فراہم کیجیے، ا س طرح:
• موضوع سے متعلق مفید لائنیں لکھ کر
• ابتدائی چند سطروں میں ضمیروں (Pronouns) سے بچتے ہوئے
• پچھلے پیغام یا دستاویز کو نقل کرکے جس کو یا تو استعمال کیا گیا ہو یا جس کا حوالہ دیا گیا ہو۔
ایسے سادے اور واضح الفاظ استعمال کیجیے جو براہ راست مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔ ایسے مبہم فقروں کے استعمال سے بچیں جن کا کوئی مختلف مفہوم بھی نکلتا ہو۔
8.3.4 شناخت (Identification)
جب اجنبیوں کی طرف سے کسی کو ای میل ملتا ہے تو یہ جاننے کے بجائے کہ قاری کو کس طرح مخاطب کیا گیا ہے اس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ ارسال کنندہ کا قاری سے کیا رشتہ ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم کسی ایسے شخص کو ای میل بھیجتے ہیں جو ہمیں نہیں جانتا تو ایسی صورت میں درج ذیل سوالوں کا فوری جواب دینا بہتر ہوتا ہے:
• ہمیں اپنے مراسلہ نگار کے بارے میں کس طرح معلوم ہو؟
• ہم اپنے مراسلہ نگار سے کیا چاہتے ہیں؟
• ہم کون ہیں؟
• ہمارا مراسلہ نگار ہم پر کیوں توجہ دے؟ (اگر ہم اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے ہیں توحیرت کی بات ہے کہ ہم نے ای میل بھیجا ہی کیوں؟)
کچھ شناختی معلومات بھیجنا بھی ضروری ہے۔ یہ اس کی کچھ معلومات کہیں نہ دینے سے بہتر دستخط میں دینا ہے لیکن کئی وجہوں سے اوپری کنارے پر دینا بہتر ہوگا:
• ہماری شناخت پیغا م کے سیاق کے لیے بہت اہم اشارہ ہوتی ہے۔
• اگر ای میل کو بھیجنے میں کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو شروع کے حصے کے مقابلے میں آخری حصے کے گم ہوجانے کا زیادہ امکان رہتا ہے۔
• بہت سے لوگ ایک دن میں بیس بیس پیغام وصول کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کو جلدی میں پڑھتے ہیں ۔ اگر ہم اپنی شناخت فوری طور پر ظاہر نہ کرپائیں تو ہمارا مخاطب یہ جاننے سے پہلے ہی ہمارے پیغام کو حذف کردے گا کہ ہم نے کس وجہ سے میل (Mail) بھیجا ہے۔
سوالوں کے عمدہ جوابات کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں:
ڈیر مس سمن ، میں ایک بہت بڑی پبلشنگ کمپنی کا ایڈیٹر ہوں۔ پچھلے ہفتے میں ایئر انڈیا کے جہاز پرآپ کے بھائی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ آپ کے بھائی نے بتایا تھا کہ آپ اپنی ای میل گائڈ پر مبنی ایک کتاب چھپوانا چاہتی ہیں۔ میں نے آپ کی گائڈ پڑھی ہے اور آپ کی طرف سے اس سلسلے میں کسی بھی تجویز کا خیرمقدم کرنے میں مجھے مسرت ہوگی۔
متبادل طور پر :
میرا نام وجے ہے۔ میں سُرکشا سیکیورٹی سروسز میں قانونی مشیر ہوں۔ آپ نے اپنے ای میل گائیڈ میں ہم پر جو الزامات لگائے ہیں وہ ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔آپ اپنے ای میل گائیڈ میں سرکشا سیکیورٹی سروسزکے سلسلے میں فوری طور پر ہر قسم کے پروپیگنڈے کو بند کردیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ہم آپ کے یا آپ کے وارثین کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ای میل کی دوسری شکل یہ بھی ہوسکتی ہے:
ہیلو، میں نیا نیا ای میل استعمال کنندہ ہوں۔ میں نے ابھی ابھی آپ کی ای میل گائیڈپڑھی ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ میرے سوالوں کے لیے آپ ہی موزوں شخص ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ’’مسٹر‘‘ کے لیے فرانسیسی لفظ کیا ہے ؟ اگرآپ مجھے جواب دے سکیں تو میں آپ کو ایک دلچسپ پوسٹ کارڈ بھیجوں گا۔
دستخط(Signatures)
بہت سے ای میل پروگراموں میں ہر پیغام کے آخر میں غیر ضروری نام اور پتہ درج کردیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس تفصیل کو اپنے نام اور رسائی کے متبادل طریقوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔مثلاً:
ہیلو—آپ لنچ کے لیے کب جائیں گے؟
سریش گپتا،
مینیجنگ ڈائیریکٹر،
سرکشا سیکیورٹی سروسز،
ولسن اسٹریٹ،
دہلی110001 –
فون :+91 11-12346578179
فیکس: +9111-12345689
ای میل : [email protected]
ویب سائٹ www.surakshasecurities.com
ایک مختصر سے سوال کے ساتھ شناخت کی اتنی تفصیلی معلومات غیر ضروری معلوم ہوتی ہے ۔ اگر انھیں آپ کاای میل مل جائے تو وہ ای میل کے ذریعے جواب دے سکتے ہیں۔ اس لیے انھیں ہمارے فیکس نمبریاگھر کے پتے کی ضرورت نہیں ہوگی (اگر انھیں فیکس یا کوئی مجموعہ معلومات بھیجنا ہوگا تو وہ مفصل پتہ حاصل کرسکتے ہیں) ۔پیغام میں ہماراایک ای میل پتہ توہوتا ہی ہے۔انھیں ہمارے دوسرے ای میل پتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
نام کو شامل کرنا بہت معقول بات ہے، خاص طور پر اگر
• ہمارے ای میل پیغامات میں ہمارا پورا نام From : لائن میں شامل نہیں ہے۔( خود اپنے نام ای میل بھیج کر دیکھیے کہ کیا ہمارا پورا نام اس پر ہے یا نہیں)۔
• From:لائن میں جو نام ہے وہ اس نام سے میل نہیں کھاتا جو ہم درحقیقت استعمال کرتے ہیں ۔
• ای میل اکاؤنٹ میں کئی استعمال کنندگان شامل ہوسکتے ہیں(مثلاً دو افراد ایک مشترک ای میل اکاؤنٹ کو استعمال کرتے ہیں)۔
ای میل میں ٹیلیفون نمبر دینابھی بہتر ہے —بشرطیکہ ہمیں فون کالوں سے ہونے والے خلل گوارا ہوں۔ فون پر جذبات کے اظہارمیں آسانی ہوتی ہے ۔ بلکہ کچھ لوگ تو ہر حال میں ای میل کے مقابلے میں ٹیلیفون کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگر پیغام تجارتی امور سے متعلق ہو تو اس میں کمپنی کا نام شامل ہونا بھی دانائی کی بات ہے۔چاہے وہ پیغام اسی کمپنی کے کسی فرد کو بھیجا جا رہا ہو۔
مندرجہ بالا وجے گپتا کی شناختی تفصیل سے یہ اہم بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک شخص اس عہدے سے واقف ہونا چاہتا ہے۔کیا وہ شخص سیلز کا نائب صدر ہے یا شیپنگ کلرک ہے؟ عہدہ دیگرتمام چیزوں کے مقابلے میں زیادہ اثر دار ہوتا ہے۔ نام اور پتے کی اتنی تفصیلات سچائی کی اہمیت کو ختم کردیتی ہے لیکن یہ بھی مناسب نہیں کہ آپ بار بار اپنی شناخت بدلتے رہیں۔
کچھ لوگ اپنی شناختی تفصیلات میں بہت سی باتیں محض تفریحاً شامل کردیتے ہیں ۔مثلاً آرٹ ورک، فلسفیانہ اقوال،لطائف اوریاایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کی زیادتی سے بچیں۔
ایک طے شدہ شناخت جو خود بخود شامل ہوجاتی ہے اسے بھول جاناآسان ہوتا ہے۔اس لیے جب کبھی رابطے کی معلومات میں تبدیلی واقع ہو تو یہ ضرور دیکھ لیجیے کہ آپ کے ذریعے دیا گیا نام اور پتہ صحیح ہے یا نہیں۔اگر شناخت میں کوئی تفریحی حصہ موجود ہے تو اسے وقتا فوقتا تبدیل کرتے رہیے۔ ممکن ہے کہ وہ آپ کے شریک کار کے لیے پہلی مرتبہ جتنا دلچسپ ہو پچاسویں مرتبہ نہ ہو۔
دستخط کے بارے میں آخری بات : یہ ہمارے مراسلہ نگار کو اس بات سے واقف کرانے کا اچھا طریقہ ہے کہ پورا پیغام ٹھیک طرح سے ارسال کردیا گیاہے۔ ای میل میں ہم کسی جسمانی اشارے کے ذریعے بتلا نہیں سکتے کہ ’بات ختم ہوئی‘ اور بدقسمتی سے کبھی کبھار ای میل کی ترسیل میں رکاوٹ آجاتی ہے۔
خطوط فاصل(Separators)
بہت سے لوگ اپنی شناخت کے اردگردخوبصورت خطوط فاصل –خطوط افقی بار(Horizontal bars) وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔مثلاً :
Vijay Gupta ----- Company Secretary,Suraksha Security Services.
+91 11-12346578/79 voice +91 11-123465789-fax
یہ چیزیں ایک عام بینا شخص کے لیے بہت خوبصورت ہو سکتی ہیں لیکن ذرا تصور کیجیے کہ یہ ان لوگوں کو کیسی لگے گی جو نابینا ہیں اور جن کا ای میل خود ان کا کمپیوٹر انھیں پڑھ کر سناتا ہے : ’’ہائیفن ہائیفن ہائیفن ہائیفن ہائیفن...‘‘
یہی نہیں ،کچھ ای میل پروگرام’’____‘‘ کوشناختی فاصل(Signature separator) سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح شناخت پر دوسرے ہی ڈھنگ سے عمل کرتے ہیں۔تکنیکی لحاظ سے شناخت کو دو ہائیفن اور ایک اسپیس(Space) مان لیاجاتاہے لیکن بغیر اسپیس کے دو ہائیفن بھی بہت عام ہیں۔
مانوس شخص کو ای میل بھیجتے وقت بعض افراد مذکورہ بالا شناختی تفصیلات سے گریز کرتے ہیں اور عموماً Regards جیسے الفاظ کے بعد اپنا نام لکھ کر اسے ختم کردیتے ہیں۔
کلیدی نکات
اگر ہمارا مراسلہ نگار ہمیں اچھی طرح جانتا ہے تو ہم غالباً اضافی شناخت(Extra identification) کے شامل کرنے سے بچ سکتے ہیں۔ دیگر معاملات میں میں اپنے مراسلہ نگار کے لیے ایسے اشارات پیش کرنے ہوں گے جن سے وہ معلوم کر سکے کہ ہم کون ہیں،ہم کیوں لکھ رہے ہیں اور ہماری بات کیوں توجہ کی مستحق ہے۔یہ معلومات ترجیحی طور پر پیغام کے بالائی حصے پر ہونی چاہیے۔
تہنیتی پیغامات کی ترسیل مشکل ہوسکتی ہے خاص طور پر جب ہماری ثقافت اور زبان مختلف ہو۔
8.3.5 خود کار جوابی پیغام دہندہ(Auto Message Responder)
کئی بار دیکھا گیا ہے کہ سفرمیں ہونے یا عدم فراہمی کی وجہ سے ای میل کے جواب میں غیر معمولی تاخیر ہو جاتی ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ جب ہم دور ہوں اور ان باکس کو چیک نہ کر سکیں تو خود کار جوابی پیغام دہندہ (یعنی آٹو میسیج اسپانڈر)کے آپشن کو فعال کردیں۔اس سے ہمارے ارسال کنندہ کو ہماری موجودگی /عدم موجودگی کا علم ہو جائے گا اور پھر وہ بے چینی سے ہمارے جواب کا انتظار کرنے سے بچ جائے گا اور اپنے معاملات کو اس کے مطابق مرتب کرے گا ۔ایک مثال سے ہماری بات واضح ہوگی:
بنام :
ازطرف: خود
موضوع: ایک ضروری کام سے منالی میں
جملہ دوستو اور ساتھیو
میں پانچ دن کے لیے ایک ضروری کام سے منالی جا رہا ہوں اور اپنے میل باکس کو دیکھ نہیں پاؤں گا۔میں واپس آنے پر آپ کے میل کا جواب دوں گا۔شدید ضرورت پڑنے پر مسٹر سمیر سنگھ سے Sameer.s@ suraksha.sec.com پر رابطہ قائم کریں۔
نیک خواہشات
وجے
اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ ارسال کنندہ اس اطلاع کی روشنی میں اپنے فیصلے کر سکے گا۔
موثر ای میل لکھنے کے لیے کچھ مختصر ضابطے (نیٹ کے آداب):
1۔ لکھنے سے پہلے سوچیے۔
2۔ پیغام جامع اور مختصر لکھیے۔
3۔ یاد رکھیے کہ ای میل لازماً خفیہ نہیں ہوتا ۔کچھ کمپنیاں تو اپنے ملازمین کے پیغامات کی نگرانی کا حق بھی محفوظ رکھتی ہیں۔
4۔ قاری کو ’’قابو میں رکھنے/نظم وضبط کا پابند بنانے‘‘ کی کوشش مت کیجیے۔شخصی طور پر کنٹرول کھو بیٹھنا غیر پیشہ ورا نہ حرکت ہے۔ تحریری طور پر ایسا کرنے سے صورت حال مزید خراب ہو جاتی ہے۔
5۔ دھوکہ مت دیجیے۔غیر ضروری اور بے بنیاد پیغام مت بھیجے۔اگر ایسا کیا تو لوگ بہت جلد آپ کا پیغام پڑھنا چھوڑ دیں گے۔
6۔ اپنا پیغام بڑے حروف میں نہ لکھیے اس سے ایسا لگتا ہے کہ آپ قاری پر چیخ رہے ہیں۔
7۔ اپنا پیغام اوپر سے نیچے تک چھوٹے حروف میں مت لکھیے۔اگر آپ انگریزی قواعد اور محاورے کی خلاف ورزی کریں گے تو قاری کے لیے پڑھنا اور سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔
8۔ قاری کی توجہ مبذول کرانے کے لیے’’ موضوع‘‘ سے متعلق لائن استعمال کیجیے۔ مثلاً’’XYZ ‘‘پر وجیکٹ کی انفارمیشن ،یا ’’ Q1اسٹیٹس رپورٹ‘‘ (Status Report Q1)۔
9۔ بھیجنے سے پہلے کسی بھی دستاویز کا پروف پڑھنے کے لیے وقت نکالیے۔
8.3.6 ای میل منسلکہ کا سائز(E-Mail Attachmet Size)
ای میل کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،جیسے شبیہوں/عکسوں(images) کی شکل میں اور دیگر ملٹی میڈیا فائلوں میں معلومات کا تبادلہ وغیرہ۔ اس کی وجہ سے کئی بار ارسال کنندہ بھاری فائلوں کو فوٹوگرافس یا MP3 کی شکل میں نتھی(Attach) کردیتا ہے جس سے وصول کنندہ کے ان باکس (Inbox)میں رکاوٹ آجاتی ہے ۔ایک اچھے ای میل استعمال کنندہ کی حیثیت سے میل کے ساتھ بھیجے جانے والے مواد کے حجم کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔حالات ناگزیر ہوں تو بھاری منسلکہ بھیجنے سے پہلے خود وصول کنندہ سے تصدیق کر لینا سب سے اچھا طریقہ ہے۔
8.4 زمانی اور ثقافتی تنوع
آج ای میل عالمی سطح پر ترسیل کا سب سے تیز ذریعہ ہے۔اس حصے میں ہم مختلف ثقافتوں کی بقائے باہم اور وقت کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔در اصل ہم کو وقت کی حدبندیوں میں رہ کر ہی کام کرنا ہے۔مثال کے طور پر کچھ ثقافتیں ایسی ہیں جن میں گفتگو کے دوران موضوع پر ہی بات کرنی ہوتی ہے جب کہ کچھ ثقافتوں میں اصل موضوع پرگفتگو شروع کرنے سے پہلے سلام دعا اور آداب ومراسم کوبھی شاملِ گفتگو کرناہوتاہے۔
ایک اچھا ای میل ارسال کنندہ ہمیشہ ای میل کے وصول کنندہ کی سہولت کو پیش نظر رکھتا ہے ۔ای میل لکھتے وقت وقت کی حدود کا خیال رکھنا ضروری نہیں ہوتا لیکن فون کال کرتے وقت اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ہندوستان میں صبح کے وقت امریکہ کے کسی شخص کو فون کرنا مناسب نہیں ہوگا کیوں کہ اس وقت امریکہ میں آدھی رات ہوگی۔
8.5 تہنیتی پیغامات القاب و آداب
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی ماحول میں بھی ہمیں ثقافتی تنوع ملتا ہے۔ یہاں کے لوگ مختلف طریقوں سے ایک دوسرے کو آداب وسلام پیش کرتے اور ایک دوسرے کی مزاج پرسی کرتے ہیں۔ اس طرح ایک مؤثر ترسیل میں القاب و آداب کا محتاط استعمال بھی شامل ہے خواہ ہم اپنے ملک کے شمال سے جنوب کو یا مشرق سے مغرب کو ہی معلومات کیوں نہ بھیج رہے ہوں ۔کسی بھی دستاویز کے آغاز واختتام کے محتاط انتخاب سے وہ پورا دستاویزبیک وقت موثر اور دلچسپ بن سکتا ہے۔
آغاز واختتام کے تعلق سے ہر میڈیم کے اپنے کچھ پروٹوکول یا اصول ہوتے ہیں۔ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو ’’ہیلو ‘‘سے شروع ہوتی ہے اور ’’گڈبائی‘‘ پر ختم ہوتی ہے۔خطوط عام طور پر’’ ڈیر‘‘ سے شروع ہوتے ہیں اور ’’Sincerely‘‘جیسے الفاظ پر ختم ہوتے ہیں۔ اگر چہ اکثر ای میل ترسیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں اس کے باوجود اس کے آغاز واختتام کے لیے کوئی متعین روایت یا رواج نہیں ہے۔بہت سے لوگ نہ تو سلام وآداب لکھتے ہیں اور نہ دستخط کرتے ہیں۔ایک خط کو لفافے سے آسانی سے الگ کیا جا سکتا ہے لیکن ای میل پیغام کے متن کو تخاطبی (Addressing) معلومات سے الگ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ای میل پیغام خود ہی بتا دیتا ہے کہ یہ کس کے لیے ہے اور کس کی طرف سے ہے۔
اس باب میں ہم آغاز واختتام میں عام طور پر استعمال میں آنے والے القاب و آداب کے بارے میں گفتگو کریں گے البتہ جو کچھ ہم ترسیل کرنا چاہتے ہیں اس کا صراحتاً اور کفایتاًکیا مفہوم ہے اس کا اچھی طرح دھیان رکھنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ اپنے مخاطبین کے رسوم وروایات اور ان کی ثقافت کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔
القاب و آداب بڑے نازک ہوتے ہیں، خاص طور پر جب ثقافتوں کا فرق ہو ۔عام طور پرمردوں اور عورتوں کے القاب مختلف ہوتے ہیں اور کبھی کبھی یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سے القاب استعمال کیے جائیں۔کچھ ثقافتوں میں خاندانی نام شروع میں آتا ہے اور کچھ میں بعد میں۔تعظیمی یا تکریمی الفاظ عمر اور مرتبے کے لحاظ سے مختلف ہو جاتے ہیں۔اگر القاب و آداب کے معاملے میں کوئی دقت پیش آتی ہے تو پریشان نہ ہوں۔یہ مسئلہ ہی ذرا مشکل ہے۔
جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہوکہ ہمارا مخاطب مرد ہے اس وقت تک کچھ ملکوں میں ’سر‘ (sir) یا ’مسٹر‘(Mr.) کا استعمال برا مانا جاتا ہے ۔جب کہ کچھ دوسرے ملکوں میں’ ڈیر سر‘ (Dear Sir) ایک ایسا لقب ہے جسے قبول عام حاصل ہے ۔اسی طرح اگر ہم کسی خاتون کے ازدواجی مرتبے سے واقف نہ ہوں تو اب’ مس‘(Miss)یا ’مسز‘(Mrs)کے بجائے زیادہ مخلوط لقب (Ms)استعمال کرتے ہیں۔
غیر رسمی ای میل کے تبادلوں میں ہم وصول کنندہ کو مخاطب کرنے کے لیے اس سے پہلے نام کے ساتھ ہائی(Hi)یا ڈیر(Dear) کا استعمال کرتے ہیں۔
چوں کہ ای میل نسبتاً غیر رسمی ہوتا ہے اس لیے اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ نام اور القاب کو لکھا ہی نہیں جاتا، خاص طور پر اس صورت میں جب ہم مخاطب سے اونچے درجے پر ہوں۔
ہیلو ۔ میں نے آپ کی ویب سائٹ دیکھی اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ
میں نے 29 اپریل1803 کو فاؤنٹین پین ایجاد کیا ہے *نہ کہ* 28 اپریل 1802 کو
بہت سے لوگ اپنی جان پہچان اپنے شناساؤں کے لیے صرف’ ہائی‘’’Hiـ‘‘کا استعمال کرتے ہیں:
ہائی –کیا تم اگلے ہفتے اسکول جاؤگے؟میں اپنے تمام پروجیکٹ کی رپورٹیں لاسکتاہوں......
ای میل میں ’’گڈ مارننگ‘‘ اور ’’گڈ آفٹرنون‘‘ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اس لیے کہ جب مخاطب نے ای میل وصول کیاہوگا اس وقت تک سورج نے کافی فاصلہ طے کرلیا ہوگا۔
8.6 ان تمام مراحل پر رکاوٹوں کو دور کرنا
اپنے پیغامات کو مؤثر طور پر ارسال کرنے کے لیے ،ہمیں ترسیلی عمل کے ہر ایک مرحلہ پر آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔ آئیے پیغام سے ہی شروع کرتے ہیں۔ اگر ہمارا پیغام بہت طویل ہے،غیر منظم یا اس میں بہت زیادہ اغلاط ہیں توہمیںیہ اندیشہ ہونا چاہیے کہ پیغام نا قابل فہم اور غلط تر جمانی کا باعث ہو سکتا ہے۔
جب ارسال کنندہ بہت زیادہ معلومات بہت تیزی سے بھیجتا ہے تو سیاق میں رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس لیے دوسرے افراد کی دقت کو بھی ذہن میں رکھنا بہتر ہوتا ہے خاص طور سے آج کل کے نہایت مصروف سماج میں ۔جب ہم ایک مرتبہ اسے سمجھ لیتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے مخاطبین کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہم اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ ہم اپنی تنظیم کے اندر،اپنے ملک میں اور بیرون ملک مختلف پس منظر اور ثقافت کے لوگوں تک اپنے پیغام کو پہنچا سکیں۔
8.7 تحریری مہارتیں
بہت سے لوگ تحریر سے گھبراتے ہیں اور ایسے بھی مواقع آتے ہیں جب ترسیل کے لیے تحریرہی سب سے بہتر ذریعہ ہوتی ہے اور اکثر اپنے پیغامات کو دور بھیجنے کے لیے یہ واحد ذریعہ ہوتاہے۔ لکھنے کے دوران یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ جب کسی چیز کو تحریر ی شکل میں ایک مرتبہ بھیج دیا جاتا ہے تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔اس سے تحریر ی طور پر ترسیل کاروں کو اضافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں املا(اسپیلنگ)، قواعد (گرامر) رموز اوقاف ، اوقاف اور یہاں تک کہ طرز تحریر اور الفاظ کی ترتیب (پابندش)بھی شامل ہیں۔
یہ اچھی بات ہے کہ آج ٹیکنالوجی کی بدولت روداد (یاغیر رسمی خط)،خطوط اور منصوبہ( پروپوژل) لکھنا بہت آسان ہو گیا ہے کیوں کہ ٹیکنالوجی نے ورڈ پروسیسر جیسے قابل اعتماداوزار فراہم کر دیے ہیں جو املا اور قواعد کی اغلاط کی نشاندہی کرکے انھیں درست کر دیتے ہیں۔
8.7.1 آداب کی اہمیت(Importance of ‘Etiquette’)
لکھتے وقت درج ذیل بنیادی نکات کا خیال رکھیں:
• عامیانہ الفاظ استعمال کرنے سے احتراز کریں۔
• مخفف کا استعمال کرنے سے گریز کریں (جب تک کہ باقاعدہ معروف یا وسیع طور پر قابل قبول نہ ہوں)
• علامتوں سے دوررہیے(مثلاً& )
• فرسودہ فقروں سے گریز کیا جائے یا کم ازکم ان کے استعمال میں نہایت محتاط رہیں۔
• کم اہمیت کے حامل الفاظ یا فقروں کے لیے قوسین کا استعمال کریں۔
• کسی بات پر زور دینے کے لیے عام طور سے ڈیش کا استعمال کریں۔
• لوگوں اور کمپنیوں کے ناموں کے املا کے معاملے میں ہمیشہ ہی زیادہ محتاط رہیں۔
• اسے الفاظ میں ہی ظاہر کریں اگر عدد 10سے کم ہویا اس کا استعمال جملے کے شروع میں کیا جا رہا ہوتو۔(مثال : دس سال پہلے، میں اور میرا بھائی....)عدد 10 یا 10 سے بڑے عدد کو ہندسوں میں لکھنا چاہیے(مثال :میرے بھائی کے پاس 13 ماچس کی ڈبیوں کی کاریں ہیں۔)
• کسی بھی براہ راست گفتگو یا متن اور کتابوں کے ناموں کے گرد حوالہ جاتی نشان ضرور لگائیں۔
• چھوٹے چھوٹے جملے لکھیے۔
حالاں کہ ان ترکیبوں سے رپورٹ بنانے ،میمور نڈم تیار کرنے اور خطوط لکھنے کے دوران ہونے والی عام غلطیوں کو دور کیا جا سکتا ہے مگر ایسا قطعی نہیں ہے کہ ان سے وہ تمام غلطیاں دور ہوسکتی ہیں جنھیں ہمیں جاننے کی یا اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمارے تحریری ترسیلیں صحیح اور قابل فہم ہوجائیں۔
نیٹ کے ذریعہ انجام دیے جانے والے ترسیل سے متعلق آداب بنیادی طور سے نیٹ ورک آداب (Netiquette)کے تحت آتے ہیں۔
8.7.2 خطوط نویسی کی مہارتیں
خطوط لکھتے وقت بہتر یہ ہوتاہے کہ کسی فرد واحد کو مخاطب کیاجائے۔جب کسی شخض کے نام سے خط شروع کیا جائے تو یقینی طور پر اس کا اختتام موزوں انداز میں ہونا چاہیے مثلاً ’yours sincerely‘ ۔اگر ہم کسی فرد کے نام سے واقف نہ ہوپائیں تو اس کا اختتام زیادہ عمومی انداز میں کر سکتے ہیں جیسے "yours faithfully" ۔
عام غیرر سمی خطکی ابتدا مجموعی خلا صے کے ساتھ ہوتی ہے جس میں پہلے پیراگراف میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ خط قاری کے لیے کیوں بامعنی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ خط کیوں لکھا گیا ہے قاری سے پہلا پورا پیرا گراف پڑھوانا مناسب نہیں ہے۔
خط کے مضمون میں مراسلت کی وجوہات واضح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے،اس میں متعلقہ پس منظر اور موجودہ معلومات شامل ہو سکتی ہے۔اس بات کو یقینی بنائیے کہ منطقی انداز میں پیش کی جارہی ہیں جس سے یہ تعین کیا جا سکے کہ ہم اپنی بات کو مؤثر طور پر رکھ رہے ہیں۔خط کا اختتام قاری پر ہمارا آخری تاثر چھوڑ تا ہے۔اختتام کچھ ایسے جملوں سے کیا جائے جیسے کہ ’’مزید گفت وشیند کے لیے بعد میں اسی ہفتہ آپ سے رابطہ قائم کروں گا‘‘۔
8.8 خط پر محتاط نظر ثانی کی اہمیت
خط لکھتے وقت شاید سب سے اہم بات جو یاد رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ خط کے مکمل ہو جانے کے بعد اس پر ایک مرتبہ نظر ثانی کر لینی چاہیے۔ہر غیر تحریری قاعدے ہر اس چیز پر صادق آتے ہیں جو ہم لکھتے ہیں جیسے کہ میمورنڈم ،خطوط، پروپوژل وغیرہ۔
ہمیں اپنے کمپیوٹر پر ہائی لائٹ ہونے والے ہر ایک لفظ پر اچھی طرح توجہ دے کر قواعد اور املا دونوں کی جانچ کرنی چاہیے۔ ہمیں صرف کمپیوٹر پر ہی مکمل بھروسہ نہیں کر لینا چاہیے بلکہ ہمارے پاس لغت اور تھسارس(طبع شدہ یا آن لائن)بھی ہونی چاہیے تاکہ ہمارے کمپیوٹر کے ایڈیٹنگ ٹول کے ذریعہ ہائی لائٹ کیے جانے والے الفاظ کی ڈکشنری کے ذریعہ بھی جانچ کی جا سکے کیوں کہ یہ ٹول اس ضمن میں ہمیشہ ہی قابل اعتماد ہوں ایسا ہرگز نہیں ہے۔
کیا ہمارے تحریری مواصلات منظم ہیں؟ کیا ہر خیال منطقی انداز میں آگے بڑھ رہا ہے؟ کیا کچھ اضافی سرخیاں(Headings) معاون ثابت ہوں گی؟ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارے تحریری مواصلات پڑھنے میں آسان ہوں اور ضروری اطلاعات پر مشتمل ہوں،جہاں ضروری ہو حقائق کا استعمال کیا جائے اور ان اطلاعات سے گریز کیا جائے جو بامعنی نہ ہوں۔ہمیں اس متوقع کارروائی کا خاکہ بھی بنانا چاہیے مثلاً جوابی کال یا ملاقات۔
آخر میں،ہمیں مناسب طریقے پر جانچ کر لینی چاہیے اور اس بات کو یقینی بھی بنا لینا چاہیے کہ ہمارے رابطے کے بارے میں اطلاع بھی شامل رہے،یہ بات بظاہر عام سی لگتی ہے لیکن کبھی کبھی نظر انداز ہو جاتی ہے اور اس سے ہماری تحریری ترسیل ناپختہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس سے ہماری تحریری ترسیل کے مقاصد کا حصول بھی کم ہوجاتاہے۔
8.9 سمعی بصری مواصلات کی مہارتیں
سی سی ٹی کی مدد سے ہم اپنی آڈیو ویڈیو (سمعی بصری)معلومات کو ڈیجٹل کر سکتے ہیں اور دور دراز جگہوں پر بھیج سکتے ہیں۔اگر آڈیو مواصلات میں بہت سے صارفین آڈیو مواصلات کے کچھ ضروری پہلوؤں کو ذہن میں نہیں رکھتے اور اس کے نتیجہ میں ترسیل میں غلطی ہو جاتی ہے یا پھر سرے سے ترسیل ہی نہیں ہو پاتی۔اس طرح ویڈیو ترسیل کے لیے کسی آلے کو استعمال کرنے میں بھی کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تا کہ ترسیل مؤثر ہو جائے اور جو اطلاعات ہم پہنچانا چاہتے ہیں اس میں سے کچھ چھوٹ جانے کے امکانات کم سے کم رہ جائیں۔
سمعی ترسیلی مہارتیں
• سمعی ترسیل میں جو بات موضو ع گفتگو ہے اور جن فطرت پر ہمیں بحث کرنی ہے ان کے بارے میں ہماری معلومات اچھی ہونی چاہیے(یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ دوسری طرف جو بھی شخص ہے وہ ہماری بات سن سکتا ہے اور ہمارے ذریعہ پیش کی گئی تفصیل کا جواب دے سکتا ہے)۔
• زیادہ لمبے لمبے جملے مت استعمال کیجیے کیوں کہ جملے زیادہ لمبے ہوں گے تو ان کو ذہن میں رکھنا مشکل ہوگا ۔
• آواز کو ہمیشہ معتدل رکھیے جن الفاظ کو ہم پہچانا چاہتے ہیں ان کو بقیہ ترسیل کے مقابلے زیادہ شدت اور زور دار طریقے سے ادا کیجیے۔
• زیر بحث موضوع سے مربوط کلیدی الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال کیجیے۔اس سے اطلاعات کے وصول کنندہ کو بات کے سمجھنے میں کم وقت لگے گا۔
• بہت زیادہ روانی سے مت بولیے۔ہمیشہ صاف صاف اور اس طرح بولیے کہ ہر لفظ الگ الگ سمجھ میں آجائے اور یہ بات وصول کنندہ کے لیے مت چھوڑیے کہ وہ خود آپ کی بات کا مطلب نکالتا رہے۔
• دوسری طرف سے جو شخص اپنی بات کہہ رہا ہے اس کو سننے کے لیے کافی وقت دیجیے ۔اس کو اپنی بات پوری کرلینے دیجیے اور جب اس کی بات مکمل ہو جائے تو جواب دیجیے۔
• وصول کنندہ نے جو اطلاعات بہم پہنچائی ہیں ان کو فوری طور پر نوٹ کرنے کے لیے قلم /پنسل اور نوٹ بک ساتھ رکھیے۔
• اگر چند لوگ کانفرنس کال میں شریک ہیں تو پیغام کو بھیجنے سے پہلے ہم ایک دوسرے سے متعارف ہوجائیں اور پھر ہم اپنا پیغام ارسال کریں۔
• جن لوگوں سے ہم ترسیل کررہے ہیں ان کے علاقائی ؍عالمی سیاق کے اعتبار سے درست القاب و آداب کا استعمال بھی ضروری ہے۔
• میٹنگ کے اختتام پر گفتگو کا خلاصہ کیجیے۔
بصری ترسیلی مہارتیں
• کسی ایک شخص یا بہت سے اشخاص کے ساتھ بصری ترسیل میں،ہمیں یہ بات ذہن میں ر کھنی چاہیے کہ آڈیو،ویڈیو کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔اسی لیے مذکورہ بالا تمام نکات ویڈیو کے سلسلے میں بھی بامعنی ہیں۔
• اس موقع کے لیے تیاری بھی ترسیل ہی کا حصہ ہے کیوں کہ اکثر اوقات ویڈیو کانفرنسیں اپنی نوعیت میں رسمی ہوتی ہیں۔
• اس موقع کے لیے اچھی خاصی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ ترسیل کے وقت ہم اس معلومات کی تلاش میں نہ رہیں جس کے بارے میں دوسری طرف سے دریافت کیا جارہا ہے ۔
• بصری ترسیل میں سلام ودعا کے ساتھ ہمارے لیے خود اپنا تعارف کرانا بھی ضروری ہے خاص طور پر جب ایک سے زیادہ لوگ دوسری طرف موجود ہوں۔
• ہمیشہ دوسرے لوگوں کو بھی ترسیل کے وقت اظہار اور شرکت کا موقع دیجیے۔
8.10 فعال سماعت
لوگ جو کچھ حقیقناً کہہ ر ہے ہیں اس کو سنیے
یہ بات تو ظاہر ہے کہ اگر لوگوں کی بین شخصی(Inter personal) مہارتیں کمزر ہوں گی (ان مہارتوں میں فعال سماعت بھی شامل ہے) تو ہماری پیداواری صلاحیت متاثر ہوگی۔اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ آلات نہیں ہیں جو متاثر کرنے ، آمادہ کرنے اور گفت و شنید کے لیے ضروری ہیں (جب کہ یہ تمام باتیں مقام عمل پر کامیابی کے لیے ضروری ہیں)۔جو لوگ کام کرانے کے لیے ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں ان کے درمیان ترسیلی لائنیں کھلی رہنی چاہئیں۔
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہمیں اپنی توقعات کو پورا کرنا ہے،غلط فہمیوں اور تنازعات سے بچنا ہے اور کامیابی حاصل کرنی ہے تو ہمیں توجہ کے ساتھ سننے کی عادت پیدا کرنی ہوگی۔ذیل میں کچھ مختصر اشارے دیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی ترسیلی مہارتوں کو بڑھا سکتے ہیں اور اچھے سامع بن سکتے ہیں۔
8.10.1 اپنے ذاتی طرز ترسیل کو سمجھ کر آغازکیجیے
اچھی ترسیلی مہارتیں خود شناسی کی اعلیٰ سطح کا تقاضا کرتی ہیں۔ترسیل مواصلات کے اپنے شخصی اسلوب کو سمجھ لینے سے دوسروں پر اچھا اور دیرپا اثر ڈالنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔اگر ہم اس بات سے واقف ہوں کہ دوسرے ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو ہم ان کے اسلوب ترسیل سے جلدی ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم شخصیت کے مطابق خود کو بدل لیں۔اس کے بجائے ہونا یہ چاہیے کہ ہم کچھ رویوں کا انتخاب کرکے اور ان پر زور دے کر دوسروں کو اپنا ہمنوا بنا لیں۔یہ رویے ایسے ہوں کہ ہماری شخصیت سے میل بھی کھاتے ہوں اور دوسروں کو متاثر بھی کرتے ہوں۔
8.10.2 ایک فعال سامع بنیے
لوگ ایک منٹ میں 100 سے 175 لفظ بولتے ہیں لیکن وہ 300 لفظ فی منٹ سمجھ کر سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،چوں کہ ہمارے دماغ کا صرف ایک حصہ ہی متوجہ رہتا ہے،اس لیے جو کچھ ہم نے سنا ہے وہ دماغ کی گرفت سے نکل سکتا ہے۔یعنی ہم سن کچھ رہے ہوں اور سوچ کچھ رہے ہوں اس کا علاج یہ ہے کہ ہم غور سے سنیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم با مقصد طور پر سنیں۔یہ مقصد اطلاعات کا حصول بھی ہو سکتا ہے ،ہدایات کا حاصل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ دوسروں کو سمجھنا بھی ہو سکتا ہے،مسائل کو حل کرنا بھی ہو سکتا ہے،مفادات کا اشتراک بھی ہو سکتا ہے اور یہ دیکھنا بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرا شخص کیا محسوس کرتا ہے۔اگر ہم محسوس کرتے ہیں کہ دوسروں کی کہی ہوئی باتوں پر ہمارے لیے توجہ مرکوز کرنا مشکل ہے تو بولتے وقت ہمیں ان لفظوں کی ذہنی طور پر تکرار کرنی چاہیے۔اس سے پیغام کوتقویت مل جائے گی اور ہمیں اپنے ذہن کے انحراف پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
8.10.3 غیر لسانی ترسیل کا استعمال
بین شخصی ترسیل کو پراثر بنانے کے لیے غیر لسانی رویوں کا استعمال کیجیے۔غیر لسانی ترسیل چہرے کے تاثرات ہیں جیسے کہ مسکرانا،جسمانی حرکات وسکنات،آنکھوں کے اشارے اور طرز نشست۔یہ اس شخص میں ہماری دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں جس کے ساتھ ہم ترسیل کر رہے ہیں۔اس سے قیمتی وقت طلب غلط فہمیوں کو کم سے کم کرکے ترسیل کو تیز تر بنایاجاسکتا ہے۔
8.10.4 بازرسی فراہم کیجیے
یاد رکھیے کہ کس نے کیا کہا اور ہم نے کیا سنا یہ دونوں باتیں حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں!ہمارے شخصی رحجانات ،مفروضات ،انداز ے اور اعتقادات ہماری سنی ہوئی باتوں کو مسخ کرسکتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم نے بات کو سمجھ لیا ہے اس کا خلاصہ اور تکرار ضروری ہے۔جو کچھ ہم سنتے ہیں،سوچتے ہیں اور پوچھتے ہیں ان کو ازسرنو بیان کیجیے۔’’کیا میں آپ کی بات کو صحیح طرح سمجھا ہوں۔‘‘ایسا اس وقت کہا جائے گا جب ہم یہ محسوس کریں کہ جو کچھ دوسرے نے کہا ہے اس کا جواب ہم نے جذباتی طور پر دے دیا ہے۔ایسی صورت میں ہم مزید معلومات کے لیے بھی درخواست کریں گے ’’ممکن ہے میں آپ کی بات کو صحیح نہیں سمجھ پایا ہوں اور جو کچھ میں سمجھا ہوں وہ میرا ذاتی خیال ہو۔‘‘
8.11حجم بندی
زیادہ آسانی سے قابل فہم بنانے کے لیے معلومات کی زمرہ بندی کو حجم بندی (Chunking)کہتے ہیں۔
مؤثر ترسیل اسی وقت ممکن ہے جب ارسال کنندہ اور وصول کنندہ مقرر وقت کے اندر ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کرسکیں۔اسی لیے یہ بات ترسیل کی مؤثر لطیف صلاحیتوں کے ایک اہم جز کی حیثیت رکھتی ہے کہ متعلقہ معلومات کہاں ہیں اور اس کا ذخیرہ کہاں کیا گیا ہے۔معلومات کی اس مقدار کے بارے میں سوچیے جسے ہمیں روزانہ تربیتی عمل سے گذارنا ہے۔ہم رپورٹیں اور میٹنگوں کی بحثیں پڑھتے ہیں۔ہم مسائل پر بات چیت کرتے ہیں،مشترک طور پر مختصر ہدایت کی نشست کرتے ہیں اور ہم واٹر کولر کے پاس کھڑے ہو کر بے تکلفانہ گفتگو کرتے ہیں۔ہمیں موصول ہونے والی بعض معلومات کو سمجھنا اور باقی رکھنا آسان ہوتا ہے اور کچھ کو سمجھنا اور باقی رکھنا آسان نہیں ہوتا۔اکثر فرق اس بات کا ہوتا ہے کہ معلومات کو پیش کیسے کیا گیا ہے۔
تصور کیجیے کہ ہم یادداشت کی آزمائش کا کھیل کھیل رہے ہیں۔جس کا تاثر ’’کیا گم ہو گیا‘‘ ہے۔ اس کھیل میں ہمیں بس وہ تمام چیزیں یاد رکھنی ہوتی ہے جو ہمیں ایک طشت میں پیش کی جاتی ہیں۔پھر ہمیں یہ پتہ لگانا ہوتا ہے کہ ان سب میں سے کون سی چیز نکال لی گئی ہے۔اگر طشت کی چیزوں کو بے ترتیبی سے الجھی ہوئی شکل میں پیش کیا جائے تو کیا ہم یہ بتا سکیں گے کہ کون سی چیز غائب ہے؟ اس کے بجائے اگر چیزیں حجم یعنی سائز ،رنگ اور شکل کے مطابق ترتیب سے رکھی جائیں تو یہ پتہ لگانا بہت زیادہ آسان ہوگا کہ اس بار کون سی چیز غائب ہے!
جب معلومات کی زمرہ بندی کر دی جاتی ہے تو طشت میں موجود معلومات کا ’’مفہوم‘‘ سمجھنا اور باقی رکھنا کافی آسان ہو جاتا ہے۔ہم طشت پر سرسری نظر ڈال کر درست طور پر اس کی نشاندہی کر سکتے ہیں کہ کیا چیز پیش کی گئی ہے۔متعلقہ سامع کو آسانی سے سمجھا نے کے لیے معلومات کی زمرہ بندی کا یہ عمل’’ حجم بندی‘‘ (Chunking)کہلاتا ہے۔
حجم بندی کے مؤثر ہونے کے ثبوت ہمارے آس پاس ہی موجود ہیں:
• فون نمبروں اور کریڈٹ کارڈ نمبروں کی مخصوص طور پر حجم بندی کی جاتی ہے۔دونوں کے نمبروں کی حجم بندی عموماً تین یا چار اعداد کے مجموعوں میں ہوتی ہے۔
• جب ہم کوئی ایسا فون نمبر دیکھتے ہیں جس کی حجم بندی اس طریقے سے مختلف انداز پر کی گئی ہے جس کے ہم عادی ہیں تو اسے یاد رکھنا بہت زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
• اس کے بجائے کہ ہم O - T - M - E - E - R حروف کو یاد کریں انھیں لفظ’’REMOTE ‘‘کی شکل میں مربوط کرنے سے ہمارا کام بہت آسان ہو جاتاہے۔
جب تحریری یا زبانی معلومات کی مؤثر حجم بندی کی جاتی ہے تو وہ منطقی منظم اور مربوط ہوتی ہے۔اس سے سننے والوں کی یہ سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔کوئی تحریری فارمیٹ جس کی حجم بندی کی گئی ہو پڑھنے والوں کے سامنے ایک بڑی تصویر پیش کرتا ہے۔وہاں سے وہ ضرورت کے مطابق تفصیلات میں دلچسپی لے سکتے ہیں اور کوئی زبانی فارمیٹ جس کی ساخت اچھی طرح تیار کی گئی ہو اور جس کی حجم بندی منطقی انداز میں کی گئی ہو حسب ضرورت کلیدی خیالات یا تفصیلات کو سمجھنے اور یاد کرنے میں سننے والوں کی مدد کرتا ہے۔
ذہنی عمل کے واقع ہونے کے طریقے کی ایک مثال:(انگریزی زبان میں )
fi yuo can raed tihs, yuo hvae a sgtrane mnid too Cna yuo raed tihs? Olny 55 plepoe out of 100 can. i cdnuolt blveiee taht I cluod aulaclty uesdnatnrd waht I was rdanieg. The phaonmneal pweor of the hmuan mnid, aoccdrnig to a rscheearch at Cmabrigde Uinervtisy, it dseno’t mtaetr in waht oerdr the ltteres in a wrod are, the olny iproamtnt tihng is taht the frsit and lsat ltteer be in the rghit pclae. The rset can be a taotl mses and wecan sitll raed it whotuit a pboerlm. Tihs is bcuseae the huamn mnid deos not raed ervey lteter by istlef, but the wrod as a wlohe. Azanmig huh? yaeh and I awlyas tghuhot slpeling was ipmorantt.
خلاصہ
• لطیف مہارتیں ذاتی اور صاف ہوتی ہیں جو ایک فرد کے باہمی عمل،کار کردگی کی صلاحیت اور مسلسل پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے امکانات میں اضافہ کرتی ہیں۔
• لطیف مہارتوں میں نہ صرف شخصی مہارتیں شامل ہیں بلکہ ان میں بین شخصی مہارتیں بھی شامل ہیں۔
• کسی میڈیم(وسیلے)کی مدد سے ایک مرسل سے ایک وصول کنندہ تک انفارمیشن کی منتقلی کا عمل مواصلات کہلاتا ہے۔
• مقبول ترین مواصلاتی طریقوں میں سے ایک ای میل ہے۔
• ای میل استعمال کرتے وقت ہمیں موضوع لائن ،مواد(نفسِ مضمون) اور شناخت کےتعلق سے محتاط رہنا چاہیے۔
• ای میل لکھتے وقت ذہن میں ثقافتی تنوع کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
• فعال سماعت دوسرے شخص کو توجہ سے سننے اور جواب دینے کا وہ طریقہ ہے جو باہمی افہام وتفہیم کو بہتر بناتا ہے۔
مشقیں
مختصر جواب والے سوالات
1۔ ترسیل کے ان مراحل کا ذکر کیجیے جہاں غلطیوں کا امکان ہے۔
2۔ ترسیل میں بازرسی(Feed back) کی کیا اہمیت ہے؟
3۔ ان عوامل کا ذکر کیجیے جو وصول کنندہ کے ذریعہ پیغامات کی غلط ترجمانی کی ذمہ دار ہیں۔
4۔ ترسیل کے تعلق سے سیاق (Context) سے کیا مراد ہے؟
5۔ ای ۔میل میں خط مضمون(Subject line) کا فائدہ کیا ہے؟
6۔ ای ۔میل میں القاب وآداب لکھتے وقت ثقافتی تنوع کے معاملے میں کیوں محتاط رہنا چاہیے؟
7۔ ای میل میں دستخط(Signature) سے کیا مراد ہے؟
8۔ (Auto Message Responder) AMRکیا ہوتا ہے؟
9۔ ای میل منسلکہ (e-mail attachmet) کیا ہے؟
10۔ پیغام پر نظر ثانی (proofing) کیوں اہم ہے؟
طویل جواب والے سوالات
1۔ مؤثر ترسیل کے لیے کیا ضرورت ہے؟ اپنے ہم جماعت طلبا کے ساتھ جماعتی مباحثہ(Group discussion) کرکے کچھ کلیدی پہلوؤں کی وضاحت کیجیے۔
2۔ کیا ہم اس بات سے متفق ہیں کہ اگر کسی کو کمپیوٹر ٹول اور تکنیکوں کی بہت اچھی معلومات ہے تو کیا وہ ایک اچھا ترسیل کار (Communicator) بھی ہوگا؟جواب کی حمایت میں اپنے تجربات کے حوالے سے کچھ مثالیں پیش کیجیے۔
3۔ وہ کون سے ثقافتی تنوعات ہیں جن کا احساس ہمیں دوسرے لوگوں کے ساتھ ترسیل کرتے وقت ہونا چاہیے؟جو اب کی حمایت میں ہندوستان یا عالمی سیاق سے مثالیں پیش کیجیے۔
4۔ کسی شخص کو ملٹی میڈیا مواد کے منسلکہ(Attachment)پر مشتمل ای میل بھیجنے کے دوران کون کون سی اہم باتوں کو ہمیں اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔
5۔ تحریر کے دوران کون کون سے آداب پر عمل کرنا چاہیے۔بحث کیجیے۔
6۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران کون کون سی کلیدی باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
7۔ غور سے سننے کی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔
8۔ ایک مناسب مثال سے حجم بندی) (Chunkingکے معنی کی وضاحت کیجیے۔
سرگرمیاں
1۔ ’’ارسال کنندہ ‘‘(Sender) اور ’’وصول کنندہ‘‘(Receiver) کے نام سے دو گروپ تشکیل دیجیے اور مؤثر کمپیوٹر مواصلاتی ٹیکنالوجی کے اہم نکات کو اجاگر کیجیے۔
2۔ اپنی کلاس میں زیادہ سے زیادہ آٹھ افراد پر مشتمل ایک گروپ کے اندر ’’مؤثر ای میل‘‘ اور ’’غیر مؤثر ای میل‘‘ کی مثالوں پرآپس میں گفتگو کیجیے۔
3۔ اگر ہم واشنگٹن میں کسی شخص کو ویڈیو کال کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کون کون سی کلیدی باتوں کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔اپنے ہم عمروں سے مباحثہ کرکے ترسیل میں ثقافتی تنوع اور خط زمانی (Time-line) کی اہمیت کا تعین کیجیے۔