اکائی V
ٹیم ورک اور ویب پر مبنی ہم کاری ٹولز
باب11
پروجیکٹ پر مبنی آموزش
باب12
مقامی تناظر میں CCTپروجیکٹ
یونٹ کا پہلا باب ’’پرو جیکٹ پر مبنی آموزش‘‘ طلبا میں CCTٹولز کا استعمال کرکے باہمی تعاون سے پروجیکٹ کو انجام دینے کی آموزشی عادات کو فروغ دینے کے بارے میں ہے۔اس کے تحت طلبا تفہیم اور حقیقی زندگی سے وابستہ مسئلوں کو عملی طور پر حل کرنے کے ذریعے سیکھتے ہیں۔
وہ مختلف قسم کے طریقوں سے روبرو ہوتے ہیں، پروجیکٹوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف طریقوں کو بروئے کار لاتے ہیں اورٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مسئلوں کے حل تلاش کرتے ہیں تاکہ یہ پروجیکٹ کامیاب آموزشی تجربات بن جائیں۔یہ باب حقیقی زندگی سے وابستہ مختلف قسم کے امور مثلاً پلس پولیو بیداری پروگرام(Pulse Polio Aware- ness Programme)، ہیلتھ اینالائزر سسٹم(Health Analyser System) کی تشکیل وغیرہ کی انجام دہی کے لیے بھی رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔اس قسم کے آموزشی عملوں/نظاموں سے حاصل ہونے والے تجربات طلبا کے اعتماد، آموزشی اور ترسیلی مہارتوں نیز لیڈر شپ اور ٹیم کی حیثیت سے کام کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دے کر سماج کی بدلتی ہوئی ضروریات کے ساتھ توافق قائم کرنے میں معاون ہوں گے۔ حالانکہ استاد یا ماہر مضمون حسب ضرورت ان کی رہنمائی کرے گا۔اسے’’کرکے سیکھنے‘‘سے بھی تعبیرکیاجاسکتا ہے۔ پروجیکٹ پر مبنی آموزش کی اصل روح ’’ٹیم ورک‘‘ ہے۔
یونٹ کے دوسرے باب بعنوان’’مقامی تناظر میں CCTپروجیکٹ‘‘میں ای-گورنینس(e-Governance) اور ٹیکنالوجی سے مزین موجودہ سماج میں اس کی اہمیت نیز روزمرہ کے لین دین سے متعلق امور تک ایک عام آدمی کی رسائی کو آسان اور شفاف بنانے کی غرض سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے حکومت ہند کی جانب سے اٹھائے گئے ای-گورنینس اقدامات کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔مقامی تناظر میں مختلف قسم کے پروجیکٹ اور ان کے اہداف پر بحث کے ساتھ ساتھ ان اہم شعبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جہاں یہ پروجیکٹ نافذالعمل ہیں، اس سے طلبا کو ہمارے ملک میں ای-گورنینس(e-Governance) کے طور طریقوں کی ارتقا کو واضح طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔اس باب کے ذریعے نیشنل ای-گورنینس پلان (NeGP) اور NeGPکے ذریعے نافذ کردہ مشن موڈ پروجیکٹس(MMPs)کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا ہے۔ان پروجیکٹوں کی تشکیل ای-گورنینس کا آغاز اور اس کی طویل مدتی نشوونما کے مقصد سے کی گئی ہے۔ہندوستانی زبانوں کے لیے ITٹولز اور تکنیکو ں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فار انڈینلینگویجز یعنیTDILحکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ایک اور قدم ہے۔مختصر یہ کہ ای-گورنینس اور ای-گورنینس پروجیکٹ حکومت کے طریقۂ کار کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے معیاری حل کی تشکیل میں معاون ہوں گے نتیجتاً شہریوں میں ٹیکنالوجی کے تئیں بیداری پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور بہتر زندگی کے لیے انھیں بہتر سہولیات اور متبادلات دستیاب ہوں گے۔
11
پروجیکٹ پر مبنی آموزش
مقاصد
اس باب کو مکمل کرنے کے بعد طلبا اس قابل ہوں گے کہ:
· پروجیکٹ اور پروجیکٹ پر مبنی آموزش کے بارے میں جان سکیں
⇐ پروجیکٹ کونافذ کرنے کے امکانات کی چھان بین کر سکیں،
⇐ ـ’عملی کام کے ذریعہ آموزش‘ کے تصور کی آزمائش(تجربہ)کر سکیں،
⇐ CCTٹولز کا استعمال کرکے مسئلوں کے حل تلاش کرسکیں۔
· پروجیکٹ پر مبنی آموزش سے وابستہ مختلف اعمال(کارروائیوں) اور پروجیکٹ پر مبنی آموزش میں ٹیم ورک کی اہمیت کو سمجھ سکیں
⇐ حقیقی زندگی سے وابستہ مختلف امور کے لیے پروجیکٹ تیار کر سکیں،
⇐ ایسے ماحول میں کام کرناجس میں حقیقی زندگی سے وابستہ مسائل کو حل کیا جاتاہے۔
⇐ مطلوبہ نتیجہ(Output)حاصل کرکے پروجیکٹ کی کامیابی کی حقیقت کو تسلیم کر سکیں۔
· پروجیکٹ پر مبنی آموزشی اعمال کی تفہیم اور معلومات کا نئی صورت حال پر اطلاق کر سکیں
⇐ ترسیلی مہارتوں میں سدھارلا سکیں،
⇐ خوداعتمادی کو تقویت دے سکیں،
⇐ اس بات کی اہمیت کوسمجھ سکیں کہ پروجیکٹ کاکام کئی طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ہے،
⇐ ٹیم ورک اور لیڈر شپ کی مہارتیں پیدا کرسکیں۔
’’کسی نظریے کو فروغ دیاجائے اور اس پر عمل کیا جائے وہ کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے جو محض نظریہ بن کر ہی رہ جائے۔‘‘
گوتم بدھ
تعارف
پروجیکٹ پر مبنی آموزش اس مسئلہ کو عملی طور پر حل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے جس پر یہ پروجیکٹ مبنی ہے۔پروجیکٹ کا کام عام طور سے گروپ میں کیا جاتا ہے جہاں طلبا کئی چیزیں سیکھ سکتے ہیں مثلاًایک ساتھ کام کرنا، مسئلوں کو حل کرنا، فیصلہ سازی اور اختراعی سرگرمیاں۔ پروجیکٹ پر مبنی آموزش کئی مراحل پر مشتمل ہوتی ہے مثلاً مسئلہ کا تجزیہ، مسئلہ کو چھوٹے چھوٹے ماڈیول میں تقسیم کرنا، ہر ایک ماڈیول کو حل کرنے کے لیے میکانزم یا طریقہ کا استعمال اور پھر تمام ماڈیول کے حل کو یکجا کرنا تا کہ مسئلہ کا مکمل حل تلاش کیا جا سکے۔مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اس پر کام کرنے والے افراد کو متعلقہ ڈیٹا جمع کرنا پڑتا ہے اور پھر مخصوص طریقوں کا استعمال کرکے اس کی پروسیسینگ کی جاتی ہے۔ڈیٹا کو پروجیکٹ کی ضروریات کے اعتبار سے مخصوص فارمیٹ میں جمع کیا جاسکتا ہے۔ٹیم کے سبھی ممبران کو ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہوکر کام انجام دینا چاہیے۔ڈیٹا جمع کرنے کے بعد ، مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے اسے پروسیس کیا جاتا ہے۔ نتیجہ کی رپورٹ کو پہلے سے متعین کیے گئے فارمیٹ میں تیار کیاجانا چاہیے۔
11.1 پروجیکٹ کا ماڈیولر طریقہ کار
کسی پروجیکٹ پر عمل درآمد کے کئی طریقے ہیں مثلاًماڈیولر طریقہ کار(Modular Approach)، ٹاپ ڈاؤن طریقہ کار (Top Down Approach) اور باٹم اپ طریقہ کار(Bottom Up Approach)۔پروجیکٹ پر مبنی آموزش کی عام ترین شکلوں میں سے پروجیکٹ پر عمل درآمد کا ماڈیولر طریقہ کار سب سے زیادہ قابل اعتماد تکنیک ہے۔کسی پروجیکٹ کے ماڈیولر طریقہ کار سے مراد یہ ہے کہ پروجیکٹ کو چھوٹے چھوٹے ماڈیولوں میں تقسیم کرلیا جاتا ہے اور ہر ایک ماڈیول ان پٹ کے سیٹ کی مدد سے ایک متعینہ کام کو انجام دیتا ہے۔ان ماڈیولوں کے آؤٹ پٹ کو یکجا کرکے مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔
پروجیکٹ پر مبنی آموزش کے مراحل
پروجیکٹ پر مبنی آموزش کے مختلف مراحل ہیں (شکل11.1) :
1۔ پروجیکٹ کی شناخت: پروجیکٹ کا تصور حقیقی زندگی سے وابستہ کسی بھی صورت حال سے پیدا ہوسکتا ہے۔مثال کے طور پر کسی سیمینار کے انعقاد سے متعلق پروجیکٹ کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ پروجیکٹ کی افادیت اور اس کے اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔طلبا میں بین موضوعاتی( انٹر ڈسپلنری )پروجیکٹ پر کام کرنے کا شوق پیدا کیا جا نا چاہیے۔
2۔ منصوبہ کا تعین: عام طور سے کسی بھی قسم کے پروجیکٹ کے لیے ، اس میں متعدد پروجیکٹ ممبران شامل رہتے ہیں۔کسی شخص کو پروجیکٹ لیڈر مقرر کیا جاتا ہے۔ پروجیکٹ لیڈر اور ہر ایک پروجیکٹ ممبر کا کام واضح طور پر متعین ہونا چاہیے۔ جو طلبا پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں انھیں مخصوص سرگرمیاں تفویض کی جانی چاہئیں۔ سرگرمیوں کاا نجام دینے کے لیے درکار مختلف قسم کے ٹولز کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے۔ بہتر حل کے حصولوں کے لیے ہمیشہ انتہائی حالات پر غور کرنا چاہیے۔
3۔ وقت کا تعین اور پروسیسنگ: ہر ایک پروجیکٹ کا ایک متعین وقفہ ہوتا ہے۔ پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے وقت کی پابندی کی کیا اہمیت ہے،یہ بات ہر ایک طالب کو سمجھ لینی چاہیے۔ پروجیکٹ میں جن سرگرمیوں کو انجام دیا جائے گا انھیں مکمل کرنے کے لیے ایک مخصوص مدت درکار ہوتی ہے۔ ہر ایک پروجیکٹ کی منصوبہ بندی باقاعدہ ہونی چاہیے اور ساتھ ہی اس کو مکمل کرنے میں لگنے والے وقت میں لچک پیدا ہونی چاہیے۔
4۔ رہنمائی اور پروجیکٹ کی نگہداشت: بعض اوقات پروجیکٹ کے شرکا کسی مرحلے پر پھنس جاتے ہیں اور اپنے کام کو آگے نہیں بڑھا پاتے ہیں تو ایسی صورت میں یا کسی اور وجہ سے انھیں رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ رہنمائی مختلف وسیلوں سے حاصل کی جاسکتی ہے جیسے کتابیں ، ویب سائٹ اور اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین۔ حالانکہ پروجیکٹ لیڈر کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ پروجیکٹ کی نگہداشت کو یقینی بنائے ، مگر گائڈ ٹیچر کو بھی پروجیکٹ کی نگہداشت میں مدد کرنی چاہیے۔
5۔ پروجیکٹ کا نتیجہ: یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ پروجیکٹ کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔پروجیکٹ ایک نتیجہ بھی ہوسکتا ہے اور کئی نتیجے بھی۔ پروجیکٹ کے نتیجہ پر ساتھیوں کے ساتھ نظر ثانی کی جاسکتی ہے نیز استعمال کنندگان یا ماہرین کے جوابی تاثر (Feedback) کے مطابق اس میں اصلاح کی جاسکتی ہے۔
آئیے ایک پروجیکٹ پر غور کرتے ہیں جو ’’اسکول میں کیریئر کونسلنگ کے لیے منعقد کیے جانے والے سیمینار‘‘ سے متعلق ہے۔پروجیکٹ کو ذیلی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:
• تصوراتی خاکہ تیار کرنا جو اس قسم کے سیمینار کے انعقاد کی ضرورت کو متعین کرتا ہے،
• سیمینار کے لیے ہال کا بندوبست کرنا جس میں بیٹھنے کا مناسب انتظام ہو اور سمعی- بصری سہولیات موجود ہوں،
• شرکا کی فہرست تیار کرنا اور شرکا کو اس کی اطلاع دینا،
• مہمانوں کو دعوت نامے ارسال کرنا،
• سیمینار کے لیے کیرئر کونسلروں کا انتظام کرنا،
• مہمانوں کی ضیافت(Hospitality)کے انتظامات کرنا۔
مذکورہ بالا مثالیں پروجیکٹ کے لیے ماڈیولر اپروچ کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہیں۔مذکورہ بالا ہر ایک ذیلی کام کو انجام دینے کے لیے لوگوں کی الگ الگ ٹیمیں مقرر کی جا سکتی ہیں۔
ماڈیولر اپروچ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ چھوٹے کام کا خاکہ تیار کرنے کے لیے بہت آسان ہے۔اس کے علاوہ کچھ ماڈیول کودوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے اگرانھیں کسی دوسرے پروجیکٹ کے لیے پہلے ہی استعما ل کیا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر شرکا کی فہرست کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اگراسے پہلے کسی دوسرے سیمینار کے لیے تیار کیاگیا تھا۔ یہ طریقہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ کچھ کاموں کو ساتھ ساتھ کیا جا سکتا ہے جو پروجیکٹ کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے بہت کارآمد ہے۔
11.2 ٹیم ورک
حقیقی زندگی سے وابستہ کئی امور بہت زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور انھیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے متعدد افراد کا تعاون درکار ہوتا ہے۔ کسی کام کو انجام تک پہنچانے کے لیے کئی افراد کے ذریعہ ایک ساتھ کی گئی کوشش ٹیم ورک(Teamwork)کہلاتی ہے۔
مثا ل کے طور پر ، کئی کھیلوں میں کھلاڑیوں کی ایک ٹیم ہوتی ہے۔ یہ کھلاڑی میچ جیتنے کے لیے ایک ساتھ مل کر کھیلتے ہیں۔ آئیے کرکٹ ٹیم کی مثال لیتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ اگر گیند باز اچھی گیند بازی کرتا ہے مگر فیلڈر کیچ نہیں لے پاتا ہے تو وکٹ نہیں گرایا جا سکتا ۔ لہٰذا کیچ لینے کے لیے گیند باز کے ساتھ ساتھ فیلڈروں کی کوشش بھی درکار ہوگی۔ کرکٹ میچ کو جیتنے کے لیے گیند بازی، بلے بازی اور فیلڈنگ سے تعلق رکھنے والے تمام ٹیم ممبران کا تعاون درکار ہوگا۔
11.2.1 ٹیم ورک کے اجز ا
تکنیکی مہارت کے علاوہ اور بھی کئی اجزا ہیں جو کامیاب ٹیم ورک کی تشکیل کرتے ہیں۔یہ ایسے ہنر مند ٹیم ممبران پر مشتمل ہوتا ہے جو مقصد کے حصول کے لیے مخصوص کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسرے افراد کے ساتھ رابطہ قائم رکھیے
جب لوگ مجموعی طور پر کسی مخصوص کام کو انجام دیتے ہیں تو ٹیم کے ممبران کے درمیان مؤثر رابطہ قائم ہونا بہت ضروری ہے۔ اس قسم کا رابطہ ای -میل ، ٹیلی فون یا گروپ میٹنگ کے ذریعہ قائم رکھا جا سکتا ہے۔اس سے ٹیم ممبران کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور مقصد کے حصول میں درپیش مسائل کے حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسرے افراد کی بات کو سنیے
کسی کام کو مجموعی طور پر انجام دینے کے لیے دوسرے افراد کے خیالات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے جب ٹیم ممبران گروپ میٹنگ میں ایک دوسرے کی بات کو سنیں اور جن باتوں پر اتفاق ہوجائے ان پر عمل کیا جائے۔
دوسروں کے ساتھ اشتراک کیجیے
کسی کام کو انجام ینے کے لیے خیالات، امیجز(Images)اورٹولز (Tools)کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنا ضروری ہے۔ اشتراک ٹیم ورک کا اہم عنصر(جزو) ہے۔ ٹیم کا وہ فرد جو کسی مخصوص کام میں ماہر ہے اسے اپنی مہارت اور تجربات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہیے تاکہ متعینہ مدت کے اندر کام کو مؤثر طور پر مکمل کیا جاسکے۔
دوسرے افرادکا احترام کیجیے
ٹیم کے ہر ایک رکن کی عزت کی جانی چاہیے۔ گروپ میٹنگ میں جو بھی تصورات اور خیالات پیش کیے جائیں ان کا احترام کیا جائے اور ان کا مناسب لحاظ رکھا جائے۔ کسی رکن کے خیالات یا نظریات کی عزت نہ کرنے کی وجہ سے مشکلات پیداہوسکتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ رکن شاندار کارکردگی کامظاہرہ نہ کر پائے۔
دوسروں کی مدد کیجیے
ہر ایک ممبر کی طرف سے ایک دوسرے کو دی جانے والی مدد کامیابی کی کنجی ہے۔ کام کو مکمل کرنے کے لیے ،بعض اوقات ایسے لوگوں سے بھی مدد طلب کی جاتی ہے جو ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔
شرکت کیجیے
ٹیم کے تمام ممبران کے ذریعہ ایک دوسرے کو پروجیکٹ کی تکمیل اور گروپ میٹنگ میں شرکت کرنے کی طرف راغب کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر ایک ممبر کو فعال طور پر شرکت کرنی چاہیے تاکہ ٹیم میں ان کی اہمیت کو محسوس کیا جاسکے۔
11.3 ایک کامیاب آموزشی تجربہ
پروجیکٹ کو ایک کامیاب آموزشی تجربہ بنانے کے لیے ہر ایک طالب علم میں:
• شرکت کی سمجھ ہونی چاہیے،
• پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے مناسب وقت ہونا چاہیے،
• سوالات، اپروچ وغیرہ کی تشکیل میں کچھ متبادلات ہونے چاہئیں،
• دوسرے افراد کے ساتھ کام کرنے کی مہارت ہونی چاہیے،
• پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری معلومات ہونی چاہیے،
• استاد کے طریقۂ تحسیب کو سمجھنا چاہیے۔
حقیقی زندگی سے وابستہ پروجیکٹ کے مختلف پہلوؤں کو بروئے کار لانے اور ان کو نافذ کرنے کے لیے طلبا کوعملی تجربہ فراہم کرنے کے مقصد سے کچھ پروجیکٹ ذیل میں دیے گیے ہیں، جیسے پلس پولیو پراگرام کے تئیں بیداری،روبوٹکس،تجزیۂ نظام صحت (Health Analyser System)، بارہویں جماعت کی الوداعی تقریب، اپنے ضلع/علاقے کے بارے میں جانیے۔
11.3.1 اسکول میگزین
پروجیکٹ کا عنوان: اسکول میگزین کی تیاری
تفصیل
پروجیکٹ کا مقصدہے آپ کے اسکول کی ماہانہ رسالہ(Monthly Magazine) تیار کرنا جس میں کھیل(Sports)، تعلیم کے شعبوں میں رونما ہونے والے واقعات اور کارہائے نمایاںسے متعلق مضامین(Article)اور گذشتہ مہینہ میںانجام دی گئی مختلف سرگرمیوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔اس میں ایسے کسی بھی مضمون کو شامل نہیں کیاجا نا چاہیے جو حق اشاعت سے مشروط مواد کی نقل ہو۔ اس میں صرف طلبا کی تخلیقات کو ہی شامل کیا جانا چاہیے۔
رہنما اصول
اسکول میگزین تیار کرنے سے متعلق پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے طلبا کا ایک گروپ بنائیے۔ اس گروپ کو مزید 2-3طلبا کے ذیلی گروپوں میں تقسیم کیجیے:
(a) ٹاسک فورس(Task force): یہ گروپ اسکول میگزین کے لیے مواد کی تخلیق کرنے اور اسے جمع کرانے کے لیے طلبا میں شوق پیدا کرے گا۔
(b) طلبا کے مضامین(Students Articles): اس گروپ کو طلبا کے ذریعہ ان کی دلچسپی کے اعتبار سے تیار کیے گئے مضامین کو جمع کرنا چاہیے۔ مضامین میں کوئز، مزاحیہ مضامین، معمے اور نظمیں وغیرہ بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
(c) اسپورٹس سیکشن(Sports Section): اس پروجیکٹ ٹیم کواسکول میں ہونے والی اسپورٹس سے متعلق تمام سرگرمیوں کی معلومات جمع کرنی چاہیے جیسے علاقائی یا ضلع کی سطح پر ہونے والے کھیل ، حصہ لینے والے ٹیم ممبران وغیرہ۔
(d) تعلیم کے شعبہ/ثقافتی سرگرمیو ں میں نمایاں کارکردگی: یہ ٹیم اسکول کی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں سے متعلق مواد کو اکٹھا کرے گی۔
(e)
Illustration: یہ گروپ میگزین کو زیادہ پرکشش اور معلوماتی بنانے کے لیے تصاویر، ڈرائنگ وغیرہ تیار کرے گا۔
(f) طباعت کے لیے تدوین و ترتیب(Editing and layouts for printing): اداراتی گروپ کویہ یقینی بنائے گا کہ تمام مضامین طلبا کے ذریعہ ہی تیار کیے گئے ہیں۔ تصدیق کے بعد ایڈیٹوریل گروپ باقی تما م گروپوں کے ذریعہ باہم مل جل کر کیے گئے کاموں کی تالیف (یکجا)کرے گا اورکمپیوٹر پر اس کاخاکہ(Layout) تیار کرے گا۔لے آوٹ تیار کرنے کے بعد ایڈیٹوریل گروپ اس لے آوٹ کو اپنے ان اساتذہ کو دکھائے گا جن کی رہنمائی میں یہ پروجیکٹ انجام دیا جارہا ہے۔
لے آوٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد میگزین کی طباعت کی جانی چاہیے اور اسکول کے تمام طلبا اور اساتذہ میں اسے تقسیم کیا جانا چاہیے۔
نتیجہ
اسکول میگزین
11.3.2 پلس پولیو(Pulse Polio)
پروجیکٹ کا عنوان: آپ کے گاؤں /شہر میں منعقد ہونے والے ’’پلس پولیو اتوار‘‘ پر ایک رپورٹ۔
تفصیل
پروجیکٹ کا مقصد آپ کے علاقے میں پلس پولیو پروگرام میں معاونت کرنا اور اس کے لیے نگرانی رپورٹ کی تشکیل کرناہے (شکل11.3)۔ گروپ بھارت سرکار کے ذریعہ پولیو کو ختم کرنے کے لیے چلائی جا رہی مہم کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گا ۔
رہنما اصول
آئیے 8-10طلبا کے ایک گروپ کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس گروپ کو مزید 2-3طلبا کے ذیلی گروپوں میں تقسیم کیاجانا چاہیے تا کہ ہر ایک گروپ الگ الگ علاقہ کا احاطہ کرتے ہوئے متعینہ کام کو انجام دے سکے۔
(a) ٹاسک فورس(Task force): اس گروپ میں شامل طلبا اپنے علاقے کے پلس پولیو سینٹر پر پلس پولیو پروگرام کو آرڈی نیٹر سے رابطہ قائم کریں گے۔
(b) ترغیبی گروپ(Motivation group): اس گروپ کو پولیو کے ٹیکے سے متعلق ڈیجیٹل پوسٹر تیار کرنے چاہئیں جن کا استعمال اس علاقے کے لوگوں میں پلس پولیو کے تئیں بیداری پیداکرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
(c) ڈیٹا جمع کرنا(Data collection): اس ماہ کا پلس پولیو پروگرام مکمل ہوجانے کے بعد وہ اپنے علاقے میں ڈیٹا جمع کریں گے یعنی کتنے بچوں کو پولیو ٹیکہ دیا گیااورکتنے بچے ایسے ہیں جنھیں ابھی یہ ٹیکہ نہیں لگا۔
(d) رپورٹ تیار کرنا(Report generation): مناسب کمپیوٹر سافٹ ویئر کا استعمال کرکے ایک چارٹ تیار کیا جائے جس میں ڈیٹا کو دکھایا گیا ہو۔
پولیو ویکسینیشن کا ڈیٹا پورے سال کے لیے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ
پاور پوائنٹ(PowerPoint)یاImpressجیسے پیش کش سافٹ ویئر کا استعما ل کر کے آپ کے علاقے میں پولیو کو ختم کرنے کے لیے چلائے جا رہے پروگرام کی نوعیت کو نمایاں کرتے ہوئے تیار کی گئی ’’پلس پولیو رپورٹ‘‘ ۔
11.3.3 روبوٹکس(Robotics)
پروجیکٹ کا عنوان: مختلف شعبوں میں روبوٹ کا استعمال
تفصیل
پروجیکٹ کا مقصد ہے مختلف شعبوں میں روبوٹ کے استعمال پر ایک رپورٹ تیار کرنا(شکل11.4)۔ اس سے طلبا کو صنعت کے مختلف شعبوں میں روبوٹ کی کارکردگی اور آٹومیشن کی وسعت کی حقیقت کو تسلیم کرنے میں مدد ملے گی۔
رہنما اصول
پروجیکٹ کے لیے 10-8طلبا کے ایک گروپ کی تشکیل کیجیے۔متعینہ کاموں کو مندرجہ ذیل رہنما اصولوں کے پیش نظر انجام دینے کے لیے اس گروپ کو مزید3-2طلبا کے ذیلی گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(a) ایک ذیلی گروپ ویب سائٹس یا دیگر ذرائع سے مختلف قسم کے روبوٹس (Robots)کے بارے میں معلومات اکٹھا کرے گا۔
(b) دوسرا ذیلی گروپ ایسی صنعتوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرے گا جو اپنی مینوفیکچرنگ اکائیوں میں مخصوص قسم کے روبوٹ کا استعمال کر رہی ہیں اور موزوں ترین ویب سائٹ بھی تجویز کرے گا۔
(c) تیسراذیلی گروپ مینوفیکچرنگ اکائیوں میں روبوٹ کے ذریعہ انجام دیے جانے والے مختلف کاموں کے بارے میں رپورٹ تیار کرے گا۔
(d) چوتھا ذیلیگروپ روبوٹ استعمال کرنے کے فائدوں کو ظاہر کرنے والا ماڈیول تیار کرے گا۔
نتیجہ
ایک جامع دستاویز جس میں روبوٹ کے مختلف اجزا اور افعال نیز مخصوص مینوفیکچرنگ ورکشاپ میں روبوٹ کے ذریعہ انجام دیے جانے والے کاموں کو بیان کیا گیا ہے ساتھ ہی متعلقہ معلومات اور تصاویر بھی پیش کی گئی ہیں۔
11.3.4 اپنی صحت کے بارے میں جانیے
پروجیکٹ کا عنوان : اپنی صحت کے بارے میں جانیے: کلاس/اسکول کے طلبا کی صحت سے متعلق ڈیٹا کا تجزیہ اور ریکارڈ کرنے کے سسٹم (System)کو فروغ دینا۔
تفصیل
اس پروجیکٹ کا تعلق کسی مخصوص اسکول/کلاس کے طلبا کی صحت سے متعلق ڈیٹا کو جمع کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے سے ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت طلبا کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا مثلاً ان کی اونچائی، وزن، روزمرہ کی کھانے کی عادتیں، صحت سے متعلق پرانی تفصیلات وغیرہ۔کچھ ڈیٹاان کے والدین سے متعلق بھی جمع کیاجائے گا(شکل11.5)۔
ڈیٹا کو سروے کے ذریعہ اکٹھا کیاجائے گا اور اسے کسی معلومات نگرانی نظام(Data Management System)میں اسٹور کیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے اور طلبااور ان کے والدین کو کچھ ابتدائی تدابیر تجویز کی جا سکتی ہیں۔
اس سے طلبا کو اپنی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اورنتیجتاً وہ اپنے تعلیم پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔
رہنما اصول
(i) طلبا کا ایک گروپ بنائیے جو ڈیٹا کو اکٹھا کرے گا۔ 2-3طلبا کا گروپ 20طلبا سے ڈیٹا کو اکٹھا کر سکتا ہے۔
(ii) کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرکے اکٹھا کیے جانے والے ڈیٹا کا فارمیٹ متعین کیجیے۔ طلبا کی اونچائی، وزن،کھانے کی عادتیں اور کسرت کرنے کی عادت جیسے اہم معلومات کو نوٹ کیجیے۔
(iii) ڈیٹا کو سروے کے ذریعہ یعنی فارمیٹ کو طلبا میں تقسیم کرکے اکٹھا کیجیے ۔
(iv) اکٹھا کیے گئے ڈیٹا کو کسی ڈیٹا بیس سسٹم(Database System)مثلاً MS Accessیا MS Excelمیں اسٹور کیجیے۔
(v) جمع شدہ ڈیٹا کی جانچ کیجیے
(vi) اکٹھا کیے گیے ڈیٹا کی بنیاد پر کچھ رپورٹیں /گراف تیار کیجیے۔ گراف کو طلبا کے اعتبار سے یا کلاس کے اعتبار سے تیار کیا جاسکتا ہے۔
(vii) یہ گراف ڈاکٹر کو دکھائیے اور ہر ایک طالب علم کے بارے میں مخصوص مشورے حاصل کیجیے۔
(viii) تجاویز کو طلبا/والدین میں تقسیم کیجیے۔
(ix) پروجیکٹ کی افادیت کے متعلق طلبا /والدین سے جوابی تاثر(Feedback)حاصل کیجیے اور اس فیڈ بیک کا استعمال کرکے اس میں اصلاح کیجیے۔
ڈیٹا اکٹھا کرنے کا فارمیٹ
1۔ طالب علم کا نام :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ کلاس :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ عمر(سال میں) :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4۔ اونچائی(سینٹی میٹر میں) :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ وزن(کلوگرام میں) :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6۔ کھانے کی عادتیں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(a) کتنی مرتبہ کھانا کھاتے ہیں(2/3/4):
(b) کس قسم کا کھانا کھاتے ہیں(سبزی خور/گوشت خور):
(c) مستقل طور پر کھائی جانے والی غذائیں(چپاتی، چاول، دال، سبزیاں)/کبھی کبھی کھائی جانے والی غذائیں(فاسٹ فوڈ):
7۔ ورزش کرنے کی عادتیں
(a) کیا آپ روزانہ ورزش کرتے ہیں؟(ہاں/نہیں):
(b) اگر ہاں ، تو کتنے منٹ تک؟:
(c) کس قسم کی ورزش کرتے ہیں(دوڑنا/کھیلنا/مشین پر ورزش کرنا/یوگا/سوریہ نمسکار/دیگر):
8۔ صبح اٹھنے کا وقت :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9۔ رات کو سونے کا وقت :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
10۔ صحت سے متعلق گزشتہ تفصیلات :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
11۔ اپنی روزمرہ سرگرمیوں کا گوشوارہ بنائیے:
سرگرمی
وقت
صبح 6بجے سے8بجے تک
صبح 8بجے سے10بجے تک
صبح 10بجے سے12بجے تک
دوپہر12بجے سے شام 2بجے تک
شام2بجے سے4بجے تک
شام4بجے سے6بجے تک
شام6بجے سے8بجے تک
شام8بجے سے10بجے تک
شام10بجے سے رات12 بجے تک
طلبا کی صحت سے متعلق ڈیٹا پر رپورٹ
11.3.5بارھویں جماعت کی الواداعی تقریب
پروجیکٹ کا عنوان: باہمی شرکت کے ذریعہ کیے جانے والے پروجیکٹ کے طور پر اسکول میں بارہویں جماعت کے لیے الوداعی تقریب کا انعقاد۔
تفصیل
پروجیکٹ کا مقصدہے طلبا کے اشتراک اور CCTٹولز کا استعمال کرکے کسی تقریب کا انعقاد کرنا(شکل11.6)۔
(a) شرکا کی شناخت(Identification of Participants)
پروگرام کے شرکا بارہویں اور گیارہویں جماعت کے طلبا، اساتذہ، مہمان خصوصی اور خاص طور سے مدعو کیے گئے مہمان ہوں گے۔شرکا میں بارہویں اور گیارہویں جماعت کے طلباکلیدی ممبران ہیں جو اس تقریب کا اہتمام کریں گے۔ بارہویں جماعت کے طلبا، اساتذہ، مہمان خصوصی اور دیگر مہمان سامعین کی حیثیت سے موجود رہیں گے۔ گیارہویں جماعت کے طلبا ،جو اس تقریب کا انعقاد کر رہے ہیں دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ سرگرم ممبران ہیں۔سب سے پہلا کام یہ ہے کہ طلبا اور اساتذہ کی فہرست تیار کی جائے۔ بارہویں اور گیارہویں جماعت کے طلباکے نام حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک سیکشن کے کسی ایک رکن سے متعلقہ جماعت کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے کہا جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تفصیلات کو براہ راست اسکول کی ویب سائٹ یاجماعت کے حاضری رجسٹر سے حاصل کر لیا جائے۔
(b) منصوبہ بندی(Planning)
سبھی پروگرام منصوبہ کے ساتھ شروع ہونے چاہئیں اور اس کے لیے شرکا کے درمیان باقاعدہ بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پروجیکٹ کے مقاصد، ضروریات اور مجوزہ لائحہ عمل پر بحث کے لیے شروع میں ایک گروپ میٹنگ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے ۔ میٹنگ منعقد کرنے کا روایتی طریقہ یہ ہے کہ طلبا کو نوٹس بورڈ کے ذریعہ یا کلاس میں اعلان کرکے اس کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سبھی شرکا کو اس سلسلے میں ایک ای-میل بھیج دیا جائے۔ الوداعی تقریب کا ایجنڈا تیار کیا جائے اور اس میں میٹنگ کی تاریخ، وقت اور مقام کو شامل کرکے سبھی ممبران کو ارسال کر دیا جائے۔
(c) کام کی شناخت(Identification of Task)
اصل تقریب سے وابستہ ایسے کئی ذیلی امور ہیں جنھیں مختلف گروپوں کے سپرد کیاجاسکتا ہے۔موٹے طور پر مندرجہ ذیل کام تفویض کیے جا سکتے ہیں:
• تاریخ، مقام تقریب، مہمان خصوصی اور دیگر مہمانوں کے سلسلے میں مربوط انتظام
• بجٹ کا تخمینہ
• رقم جمع کرنا
• کھانا اور کولڈ ڈرنکس(مشروبات) وغیرہ کی خریداری
• تحائف اور یادگاری تمغوں(Memento)کی خریداری
• ثقافتی پروگرام کا انعقاد
• حسابیات کی دیکھ بھال
• کو آرڈی نیشن اور مانیٹرنک
رہنما اصول
ٹاسک فورس کی تشکیل کے لیے اپنے اسکول کی ای-میل سروس یا Yahoo massenger(یا کسی اور سروس پرووائڈر کاIM ) جیسے کمیونیکیشن ٹولز کا استعمال کیجیے۔ ہر ایک گروپ کے ممبران کو اطلاعات (معلومات) کا تبادلہ کرنا چاہیے اور مجموعی نظریہ اخذ کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں لیا گیا فیصلہ کو آرڈی نی نیشن اینڈ مانیٹرنگ گروپ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ ہر ایک کام کی تازہ ترین صورت حال نوٹس بورڈ یا ویب سائٹ پر فراہم کی جانی چاہیے یا اس کی رپورٹ ای-میل کے ذریعہ سبھی ممبران کو ارسال کی جانی چاہیے۔ اس سے سبھی ممبران میں دلچسپی اور جوش پیدا ہوگا بھلے ہی وہ اس پروجیکٹ سے بالواسطہ طور پر یا بلا واسطہ طور پر جڑے ہوں۔ایک ویب سائٹ بھی تیار کی جا سکتی ہے جہاں ہر ایک ممبر کام کی نوعیت کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
(a) کام کی سپردگی(Delegation of Task)
ذیلی امور کا تعین ہوجانے کے بعد انھیں مختلف گروپوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔کام تفویض کرتے وقت یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ سبھی جماعتوں کے نمائندوں کاانتخاب صحیح طریقے سے کیاجائے۔
(b) تخمینہ کاری (Estimation)
روایتی طور پر ممبران مفروضات اور اندازوں کی بنیاد پر مختلف مدوں میںرقم مخصوص کرتے ہیں۔ ہر ایک گروپ ممبر متوقع خرچ کا حساب لگا سکتا ہے ۔ بہتر اندازہ کے لیے ممبران مختلف اشیا کی موجودہ بازاری قیمت معلوم کرنے کے لیے بازار کا سروے کر سکتے ہیں۔مارکیٹ کا سروے براہ راست کیا جا سکتا ہے یا معلومات انٹر نیٹ یا ٹیلیفون کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس سے اخراجات اور ہر ایک طالب علم کے تعاون کا صحیح اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔چندہ کہاں اور کس کے پاس جمع کیا جانا ہے ، اس کی اطلاع سبھی ممبران کو دی جاسکتی ہے ۔
(c) رقوم کو جمع کرنا (Collection of funds)
سبھی ممبران اپنا اپنا چندہ اپنی اپنی کلاس کے مقررہ ممبر کے پاس جمع کر سکتے ہیں۔ اس معلومات کو دیٹا بیس میں شامل کیاجا سکتا ہے اور اگر ضروری لگے تو اسے ویب سائٹ پر بھی دیا جا سکتا ہے۔جمع کی گئی رقم اور اخراجات پر نظر رکھنے کے لیے ایک سسٹم تیار کیا جاسکتا ہے۔
(d) رقوم کی تخصیص(Allocation of Funds)
تخمینہ کے اعتبار سے ہر ایک گروپ کورقوم مختص کر دی جائیں گی۔ گروپ تمام اخراجات کے بل/رسید کو سنبھال کر رکھنے کے ساتھ ساتھ خرچ کی تفصیل باقاعدگی سے تجدید(Update)بھی کرے گا
(e) ثقافتی پروگرام(Cultural Programme)
اس گروپ میں زیادہ سے زیادہ ممبران حصہ لیں گے اور پروگرام کو دلچسپ بنانے کے لیے مستقل طور پر میٹنگ کرنے اور باہمی تال میل کی ضرورت ہوگی۔ کو آرڈی نیشن برقرار رکھنے کے لیے ای-میل کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ ای-میل بہت زیادہ اثر دارمواصلاتی ذریعہ ہے اور اس کا استعمال رہرسل پروگرام کی اطلاع دینے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ کمیونیکیشن اور پروگرام کے انتظام کے لیے متحدہ پیغام رسانی نظام(Unified Messaging System)کااستعمال بہتر رہے گا۔
نتیجہ
اسکول چھوڑ کر جانے والے بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے بہترین الوداعی تقریب کا انعقاد
11.3.6 اپنے ضلع کے بارے میں جانیے (Know your district)
پروجیکٹ کا عنوان : آپ کے ضلع سے متعلق ڈیٹا کو ریکارڈ کرنے کے لیے سسٹم تیار کرنا تا کہ ضلع کی اہم معلومات اخذ کی جا سکیں۔
تفصیل(Description)
یہ ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس کا تعلق اپنے ضلع کی معلومات جمع کرنے سے ہے تا کہ ہر ایک طالب علم اپنے ضلع کی تاریخی، جغرافیائی، سیاسی، ثقافتی معلومات سے باخبر ہے۔ اس سے طلبا کو اپنے ضلع کے بارے میں بہت سی باتوں کو جاننے میں مد ملے گی جو ان کے مطالعہ میں معاون ہوں گی کیونکہ اس معلومات کا استعمال تاریخ، جغرافیہ اور سائنس جیسے مضامین میں کیا جا سکتا ہے۔
رہنما اصول
1۔ طلبا کاایک گروپ بنائیے۔ اس گروپ کو مزید ذیلی گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ہر ایک گروپ کو ایک مخصوص شعبہ سے معلومات کو جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی مثلاً ایک ذیلی گروپ تاریخی معلومات جمع کرے گا اور دوسرا گروپ جغرافیائی معلومات جمع کرے گا جبکہ تیسرا ذیلی گروپ سیاسی معلومات جمع کرے گا۔
2۔ دیے ہوئے فارمیٹ کے مطابق ضلع کی معلومات جمع کیجیے۔ اس کام کو متعلقہ مضمون کے استاد سے صلاح مشورہ کر کے انجام دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً جو گروپ تاریخی ڈیٹا جمع کرے گا وہ تاریخ کے استاد سے صلاح لے گا اور جو گروپ جغرافیائی ڈیٹا اکٹھا کرے گا وہ جغرافیہ کے استاد سے صلاح مشورہ کرے گا اور جو سیاسی ڈیٹا جمع کرے گا وہ سیاسیات کے استاد سے مشورہ کرے گا۔
3۔ کتابوں، رسالوں، اخبارات اور انٹر نیٹ جیسے مختلف ذرائع سے ڈیٹا جمع کیجیے۔
4۔ متعلقہ استاد جمع کیے گیے ڈیٹا کی درستگی کی جانچ کریں گے۔
5۔ ڈیٹا کو اسپریڈ شیٹ میں داخل کیجیے اور مختلف قسم کے چارٹ اور گراف بنائیے تاکہ عددی معلومات کو تصویری شکل میں ظاہر کیا جا سکے۔
6۔ ان چارٹ اور گرافوں کو کلاس/اسکول میں مختلف مقامات پر لگا دیجیے۔
7۔ ایک مختصر مکالماتی اجلاس کا انعقاد کیجیے تا کہ ہر ایک طالب علم جمع کی گئی معلومات سے با خبر ہوجائے۔
8۔ جمع کی گئی معلومات کی مدد سے کچھ ایسے نتائج اخذ کیجیے، جن سے طلبا ناواقف ہیں ۔
9۔ طلبا /اساتذہ سے جوابی(فیڈ بیک) حاصل کیجیے اور اس کا استعمال کرکے اپنے پروجیکٹ میں اصلاح کیجیے۔
ڈیٹا جمع کرنے کا فارمیٹ
1۔ ضلع کے بارے میں تاریخی معلومات
(a) معلومات جمع کرنے کی تاریخ
(b) نمایاں خصوصیات(سیاحتی مقامات/تاریخی یادگاریں/عبادت گاہیں
(c) قدیم حکمراں
(d) مقام کی تاریخ(آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد)
2۔ جغرافیائی معلومات
(a) آبادی
(b) رقبہ
(c) گاؤں کی تعداد
(d) اہم فصلی پیداوار
(e) دریاؤں/جھیلوں کی تعداد اور ان کے نام
3۔ تعلیمی معلومات
(a) اسکولوں کی تعداد
(b) کالجوں کی تعداد
(c) اسکول میں طلبا کی تعداد
(d) کالج میں طلبا کی تعداد
(e) یونیورسٹیوں کے نام
(f) پیشہ ورانہ کورسوں کی تعداد
(g) آنگن باڑیوں کی تعداد
4۔ سیاسی معلومات
(a) اسمبلی حلقوں کی تعداد اور ان کے نام
(b) پارلیمانی حلقہ کی تعداد اور ان کے نام
(c) سابق اراکین ِ پارلیمنٹ کے نام
(d) موجودہ ارکین پارلیمنٹ (MP)اوراراکین اسمبلی(MLA)کے نام
(e) سیاسی پارٹیاں اور ضلع میں انھیں حاصل ہونے والے ووٹوں کی شرح
(f) لوکل گورنمنٹ باڈی میں خواتین کی شمولیت(%میں)
نتیجہ
آپ کے ضلع سے متعلق تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی معلومات پر مبنی ایک مختصر رپورٹ
11.3.7 ٹیم ورک کے طور پر ویب سائٹ کی تشکیل کرنا
پروجیکٹ کا عنوان: ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ویب سائٹ کی تشکیل کرنا اور معلومات کو ویب پر پیش کرنا۔
تفصیل
آپ انٹر نیٹ پر مختلف قسم کی ویب سائٹس کے بارے میں جانتے ہیں۔ آپ نے ویب سائٹ کی تشکیل کے لیے درکار متعدد ٹولز اور استعداد کے بارے میں بھی سیکھ لیا ہے۔ اب آپ اسکول، کمپنی، ہوٹل ،کلب، فیملی یا ذاتی استعمال کے لیے ویب سائٹ تیار کر سکتے ہیں(شکل11.7)۔ کسی ویب سائٹ کی تشکیل کے مختلف مراحل ذیل میں دیے گئے ہیں:
(a) منصوبہ بندی(Planning): ویب سائٹ بنانے کا مقصد ٹیم کے سبھی ممبران پر واضح ہونا چاہیے۔ ایک تفصیلی دستاویز تیار کیجیے جس میں ویب سائٹ سے متعلق تمام معلومات موجود ہوں۔
(b) ڈیزائننگ(Designing): دستاویز تیار کر لینے کے بعد آپ کا اگلا قدم یہ ہوگا کہ آپ ویب ایڈیٹر کا استعمال کرکے ویب صفحات کو ڈیزائن کریں گے۔
(c) کوڈنگ(Coding): اب یہ ٹیم جاوا اسکرپٹنگلینگویج کا استعمال کرکے ویب صفحات کوکار آمد(Validate) کرنے کے لیے تیار ہے۔کوڈنگ ٹیم کو اپنا کوڈ متعینہ وقت پر ٹیم لیڈر کے پاس جمع کرنا ہوگا۔سبھی در آمد ویب صفحات کو جمع کرنے کے بعد انھیں مناسب جگہ پر اور مناسب فولڈر میں مرتب کیجیے۔
(d) ٹیسٹنگ ویب سائٹ(Testing Website): جب آپ کی ویب سائٹ تیار ہو جائے تو ٹیم کے کم از کم دو ممبران اس بات کی جانچ کریں گے کہ ویب سائٹ صحیح طریقے سے کام کر رہی ہے یا نہیں۔ ٹیم کے سبھی ممبران ویب سائٹ کو ایکسس کریں گے اور اس میں مزید اصلاحکے لیے تجاویز پیش کریں گے۔
(e) نظر ثانی(Review): ٹیم ممبران سے جوابی تاثر (Feedback)حاصل کرنے کے بعد ویب سائٹ کو اپ لوڈ (Upload) کیجیے اور اسے کسی بھی سرچ انجن– Google، Yahoo، bingکے سپرد کر دیجیے۔
رہنما اصول
1۔ اپنی ویب سائٹ پرمعلومات کی درستگی کی تصدیق کو آسان بنائیے۔
2۔ اس بات کو یقینی بنائیے کہ آپ کی ویب سائٹ سے ایک حقیقی تنظیم وابستہ ہے۔
3۔ اس بات کو یقینی بنائیے کہ آپ کی ویب سائٹ سے ایمان داراور قابل اعتماد افرادوابستہ ہیں۔
4۔ آپ سے رابطہ قائم کرناآسان ہو۔
5۔ اپنی سائٹ کو اس طرح ڈیزائن کیجیے کہ یہ پروفیشنل نظر آئے(یا آپ کے مقصد کے لیے موزوں ہو)۔
6۔ اس میں کسی بھی قسم کی غلطی نہیں ہونی چاہیے چاہے وہ بہت معمولی کیوں نہ ہو۔
7۔ اسے آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہو یعنی لوڈ کرنے، پڑھنے، ایک صفحہ سے دوسرے صفحہ پر جانے، معلومات کو براؤز کرنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے میں ۔
نتیجہ
ایک مکمل ویب سائٹ۔
11.3.8 کمپیوٹر نیٹ ورک کا قیام(Establishment Of A Computer Network)
پروجیکٹ کا عنوان: اسکول میں کمپیوٹر نیٹ ورک قائم کرنا۔
تفصیل
فرض کیجیے کہ اسکول میں کئی کمپیوٹر ہیں مگر یہ ایک دوسرے سے منسلک (Connected)نہیں ہیں۔طلبا ان کمپیوٹروں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا چاہتے ہیں اور انٹر نیٹ ایکسس کرنا چاہتے ہیں۔ کمپیوٹروں کو سوئچ(Switch)،ہب(Hub) ، راؤٹر (Router) اور سرور(Server) کے ذریعہ ایک دوسرے سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ ہب کے مقابلے میں سوئچ زیادہ کار گر ثابت ہوتا ہے اور راؤٹر پورے نیٹ ورک کو راستہ(Path)فراہم کرتا ہے اور سرور سبھی اعمال (Processes)مثلاً IPکی تشکیل، پابندیوں (Restrictions)اور سکیوریٹی وغیرہ کاانتظام کرتا ہے۔
طلبا کو چاہیے کہ وہ LANکیبل، سوئچ، راؤٹر وغیرہ جیسے وسائل جمع کرلیں۔ جمع کرنے کے بعدکمپیوٹروں کی LANکیبل کو سوئچ سے، سوئچ کو سرور سے ، سرور کو راؤٹر سے اور راؤٹر کو انٹر نیٹ کے تار سے جوڑ دیں۔ راؤٹر سے سرور کو مربوط کیجیے اور اس نیٹ ورک کے تمام کمپیوٹروں کو IP addressesفراہم کیجیے نیز کلائنٹ اور سرور کی ارتباط (Connectivity)کی جانچ کیجیے۔اگر ارتباط ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نیٹ ورک کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
مطلوبہ سامان (Items Required)
• LANکارڈ، سوئچ، راؤٹر، LANکیبل ،کنیکٹر(Connecter)
• سرور کمپیوٹر کے لیے دوLANکارڈ۔
طریقہ(Procedure)
• شکل11.8میں کمپیوٹر نیٹ ورک کو دیکھیے۔
• سب سے پہلے سبھی کمپیوٹروں کو مناسب جگہ پر رکھیے۔
• کمپیوٹر اور سوئچ کے درمیان فاصلے کے اعتبار سے LANکیبل کو کاٹ لیجیے۔
• LANکیبل کے ذریعہ کمپیوٹروں اور سوئچ کوایک دوسرے سے منسلکدیجیے۔
• سوئچ کو LANکیبل کے ذریعہ سرور کمپیوٹر کے LANکارڈ سے جوڑ دیجیے۔
• راؤٹر کو ایسی ٹیلی فون لائن سے جوڑ دیجیے جس میں ISDNیا براڈ بینڈ کنکشن ہو۔
• سبھی کمپیوٹروں کو سوئچ اور راؤٹر سے جوڑنے کے بعد IP Addressکی کلاس(Class)متعین کیجیے۔
کلاسAنیٹ ورک پتہ (1.0.0.0سے127.0.0.0تک)پر مشتمل ہوتا ہے؛ کلاس Bنیٹ ورک پتہ (128.0.0.0 سے191.255.0.0 تک) پر مشتمل ہوتا ہے اور کلاسC نیٹ ورک پتہ (192.0.0.0سے 223.255.255.0 تک) پر مشتمل ہوتا ہے۔IPوسعت متعین کرنے کے بعد ونڈوز(Windows)یا Linux serverکو مربوط کیجیے۔
رہنما اصول
• ہر ایک کمپیوٹر کا ٰIPپتہ منفرد ہونا چاہیے۔
• سرور کمپیوٹر کی سکیوریٹی اعلیٰ سطح کی ہونی چاہیے۔
نتیجہ
اسکول کے تمام کمپیوٹر نیٹ ورک اور انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
پروجیکٹ کا عنوان: میسنجر کے ذریعہ اشتراک
ایسے کئی میسنجر (Google,Yahoo)ہیں جو میل(Mail)، چیٹ(Chat)، وائس کال(Voice Call)جیسی خدمات فراہم کرتے ہیں اور استعمال کنندہ کے ذریعہ اپنے اکاؤنٹ میں شناختی لفظ (Password)کی مدد سے لاگ ان(Login)یا سائن ان(Sign in) کرنے کے بعدیہ میسنجر پیغامات کی فوری ترسیل کرسکتا ہے۔ اس قسم کی سہولت کسی تقریب کے انتظام میں بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
مثال1: یاہو میسنجر(Yahoo Messenger)
Yahoo Massengerکو طلب کیجیے اور Login IDاور پا سور ڈ داخل کیجیے ۔ Yahoo Massengerمیں لاگ ان (Login) ہونے کے بعد یہ ان لوگوں کے نام کو نمایاں(Highlighted) کرکے ظا ہر کردے گا جو آپ کی فہرست میں آن لائن ہیں (شکل11.9)۔
مختلف خدمات(Services)کی فہرست ایکشن پُل ڈاؤن مینو (Actions pull down menu)میں پیش کی گئی ہے۔ ماؤس پوائنٹر کو کسی بھی ایکشن کے اوپر لائیے اور اسے استعمال کرنے (مثلاً کانفرنس میں مدعو کرنے ) کے لیے اس پر کلک کیجیے۔ (شکل11.10)۔
کلک کرنے کے بعد آپ پیغامات ٹائپ کرکے اپنے دوستوں کے ساتھ کانفرنسنگ کر سکتے ہیں(شکل11.11)
ایکشن پل ڈاؤن مینو سے کسی دوسری سروس جیسے Send a fileکا انتخاب کیجیے(شکل11.12)۔
براؤزنگ کے ذریعہ اپنے کمپیوٹر پر فائل کا مقام تلاش کرکے اسے منتخب کیجیے جیسا کہ شکل11.13میں دکھایا گیا ہے۔
اپنے موبائل کو رجسٹر کرنے کے لیے میسنجر پل ڈاؤن مینو میں Preferences پر کلک کیجیے(شکل11.14)۔
General preferencesمیں جایئے اور موبائل ڈیوائس کو ایڈٹ کیجیے(شکل11.15)۔
Yahoo Messengerکی خدمات کا استعمال کرکے اپنے دوست کو موبائل پر SMSکیجیے(شکل11.16)۔
فوٹو شیئرنگ کے لیے استعمال کنندگان کا گروپ تشکیل دیجیے (شکل11.17 )۔
مثال2 : Google Talkکا استعمال
Google Talkایک اور بہت مقبول متحدہ پیغام رسانی نظام(Unified Messaging System)ہے۔ یہ بھی تقریباً سبھی خدمات خدمات فراہم کرتا ہے مثلاً ای- میل، چیٹ، شیئرنگ ڈاکیومنٹ، وائس کال اور IM Instant Messeges ۔
اپنے کمپیوٹر پر Google Talkچلائیے اور Login ID اور پاسورڈ داخل کیجیے۔ لاگن ان ہونے کے بعد Google Talkونڈو آپ کے ان دوستوں کی فہرست کو ظاہر کر دے گی جو آن لائن ہیں (شکل11.18) ۔
Google Talkکا استعمال کرکے IMاور چیٹنگ کی جا سکتی ہے جیسا کہ ذیل کی شکل11.19اور11.20میں دکھایا گیا ہے۔
Google Talk میں callبٹن پر کلک کرکے وائس کال کی جا سکتی ہے۔
خلاصہ
• پروجیکٹ پر مبنی آموزشی سرگرمیاں طلبا کو ان کی حقیقی زندگی سے وابستہ مسئلوں پر کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
• کسی پروجیکٹ پر عمل درآمد کرنے کے لیے سب سے بہتر اپروچ ماڈیولر اپروچ ہے۔
• یہ پروجیکٹ طلبا میں ذاتی اہداف اور کار کردگی کے معیارات مقرر کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔
• پروجیکٹ کی کامیابی کا انحصار کسی فرد واحد پر نہیں بلکہ پوری ٹیم پر ہوتا ہے۔
• ہر ایک ٹیم ممبرکو مثالی کردار بننے کے لیے کو آرڈی نیٹر ، شیپر ، ورکر، اپیشلسٹ ، ایکسیلیریٹر ہر ، فنیشر اور کرٹیکس جیسی خصوصیات کا مالک ہونا چاہیے۔
• ٹیم ورک دوسروں کی بات کو سننے، خیالات اور آرا کو دوسرے ٹیم ممبران کے ساتھ بانٹنے، ہر ایک ٹیم ممبر کا احترام کرنے ، دوسروں کی مدد کرنے کی عادت، کام اور بات چیت میں ہر ایک ممبر کی شرکت کو یقینی بنانے پر منحصر ہے۔
• پروجیکٹ ورک میں تبدیلیوں پر نظر رکھنا بہت مفید رہتا ہے۔
• مجوزہ مقاصد کے حصول کے لیے روزمرہ کے مسئلوں کو مختلف مرحلوں میں حل کرنے کے لیے متعدد تکنیکوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مشقیں
مختصر جواب والے سوالات
1۔ پروجیکٹ پر مبنی آموزش کیا ہے؟ اور اس کی خصوصیات کیا ہیں؟
2۔ ــ’کسی پروجیکٹ کوصرف ٹیم ورک کے ساتھ ہی انجام دیا جا سکتا ہیــ‘مثالوں کی مدد سے تبصرہ کیجیے۔
3۔ پروجیکٹ پر مبنی آموزش کی ماڈیولر اپروچ کیا ہے؟ مثالوں کی مدد سے اس کے ذیلی کاموں کی وضاحت کیجیے۔
4۔ مثال دے کر ٹیم ورک کے مختلف اجزا(عناصر) کی وضاحت کیجیے۔
5۔ پروجیکٹ کے ذریعہ کام کرنے کے کیا فائدے ہیں؟
6۔ ماڈیولر اپروچ کی کیا خوبیاں ہیں؟
7۔ پروجیکٹ میں مختلف ٹیم ممبران کے کردار کو بیان کیجیے۔
طویل جواب والے سوالات
1۔ مناسب مثال کی مدد سے پروجیکٹ پر مبنی آموزش کے مختلف مرحلوں کی وضاحت کیجیے۔
2۔ کسی پروجیکٹ کے نفاذ میں CCTٹولز(مثلاً ای-میل، انٹر نیٹ، Track Changesوغیرہ) کی افادیت کو مثال کی مدد سے واضح کیجیے۔
3۔ کسی تقریب کے انتظام(Event Management)میں Yahoo Messengerکی استعمال کو مناسب مثال کی مدد سے واضح کیجیے۔
متبادل جواب والے سوالات
1۔ کسی مخصوص مقصد کے حصول کے لیے پروجیکٹ ایک ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کام ہے جس کی منصوبہ بندی محتاط انداز میں کی جاتی ہے۔
(a) سخت
(b) اشتراک والا (Collaborative)
(c) باقاعدہ(مستقل)
(d) سادہ
2۔ کسی پروجیکٹ پر عمل آوری کے لیے عام طور سے استعمال کی جانے والی اپروچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپروچ ہے۔
(a) ٹاپ ڈاؤن(Top Down)
(b) ماڈیولر(Moduler)
(c) باٹم اپ(Bottom Up)
(d) سلسلہ وار(Sequential)
3۔ کسی کام کو انجام تک پہنچانے کے لیے کئی افراد کے ذریعہ ایک ساتھ کی گئی کوشش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہلاتی ہے۔
(a) ٹیم ورک(Teamwork)
(b) اچھا کام(Good Work)
(c) سخت کام(Hard Work)
(d) بہترین کام(Best Work)
4۔ ٹیم ورک میٹنگ کا انعقاد صرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے لیے کیا جاتا ہے۔
(a) دوسروں کی بات سننے کے لیے
(b) دوسروں پر چلانے کے لیے
(c) سماجی مجمع
(d) تفریح
5۔ مندرجہ ذیل میں سے کیا چیزٹیم ورک (Teamwork)کا جزو(عنصر) نہیں ہے۔
(a) دوسرو ںکی بات سننا
(b) دوسروں کے ساتھ اپنے خیالات کو بانٹنا
(c) دوسروں کا احترام کرنا
(d) دوسروں پر الزام لگانا
سرگرمیاں
مندرجہ ذیل پروجیکٹ پر عمل درآمد کرنے کے لیے بروئے کار لائے جانے والے اقدامات لکھیے۔
1۔ کسی تقریب کا انتظام(Event Management)
2۔ کسی علاقے کی خواندگی کی نگرانی(Literacy Monitoring)
3۔ اسکول کے نظام الاوقات(Time Table)کے لیے ویب سائٹ کی تیاری
4۔ وائر لیس کمپیوٹر نیٹ ورک کا قیام