12
مقامی تناظر میں CCTپروجیکٹ
مقاصد
اس باب کو مکمل کرنے کے بعد طلبا اس قابل ہوجائیں گے کہ
• ای-گورنینس(e-Governance) کے معنی سمجھ سکیں،
• نیشنل ای-گورنینس پلان(NeGP)کو بیان کر سکیں،
• گورنینس کے نقطہ نظر سے ای-گورنینس کی مناسبت کو سمجھ سکیں،
• ای-گورنینس کی ساخت کو ملحوظ رکھ سکیں،
• ہندوستان میں ای-گورنینس کے طور طریقوں کے ارتقا کی اہمیت کوسمجھ سکیں اور
• مقامی تناطر میں ای-گورنینس کی سمت حکومت کی جانب سے کی گئی پیش قدمی کو پہچان سکیں گے۔
’’تین سال قبل ہندوستان ایکITسپر پاور کے طور پر ابھر رہا تھا۔ آج یہ ملک پوری دنیا میں مشکل ترین پروجیکٹ کو سنبھال رہا ہے۔‘‘
بل گیٹس،30 جولائی 2004
تعارف
ہمارے روز مرہ کے مسئلوں کو حل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے متعدد خدمات (Services) فراہم کی جاتی ہیں۔CCTمیں ہونے والی ترقی کے ساتھ ساتھ حکومت نے اپنے کام کاج کے طریقے کی جدید کاری کے لیے مختلف کمپیوٹر کمیونیکیشن ٹولز اور ٹیکنا لوجی کو استعمال کرنے کی سمت میں کئی اقدامات کیے ہیں۔اس سے خدمات کوآسانی سے فراہم کرنے اور ان خدمات تک عوام کی رسائی کوآسان بنانے میں مدد ملی ہے۔اس نے خدمات کے فراہم کاروں (حکومت )اور خدمات کے صارفین (عوام /شہریوں) دونوںہی کو متاثر کیا ہے۔ان میں سے زیادہ تر پروجیکٹ پر بہتر خدمات، کارکردگی اور شفافیت کے مقصد سے CCTکا استعمال کرنے کے لیے مقامی ضرورتوں کے تحت عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ مختلف ریاستی حکومتیں مقامی تناظر میں ان پروجیکٹوں کو نافذ کر چکی ہیں۔
یہ باب آپ کو سماج کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے پروجیکٹ کو نافذ کرنے کے لیے سر کاری اقدامات سے متعارف کرائے گا۔
12.1 ای-گور نینس کی ضرورت
کوئی بھی تنظیم چاہے وہ سرکاری ہو یا پرائیویٹ،اگر وہ ITمیں عالمی سطح پر ہونے والی توسیع کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنے کے اہل نہیں ہے تو وہ دوڑ میں پچھڑ جائے گی۔ظاہر ہے تیز رفتار دنیا میں صارفین کی توقعات غیر ضروری تاخیر کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوتیں۔لہٰذا اگرکوئی بھی تنظیم اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کلائنٹ تک پہنچنے کے لیے ٹیکنا لوجی کا استعمال کرکے بدلتے ہوئے پیٹرن سے مطابقت پیدا کرے۔ کسی بھی ملک میں وہاں کی سرکار سب سے اہم خدمت کی فراہم کار سروس پرووائڈر ہے اور اس بات کے لیے جواب دہ بھی ہے کہ اس کے شہری ملک کے وسائل سے فائدہ اُٹھا سکیں۔تکنیک سے آراستہ ہونے کے لیے سرکار کے ذریعہ کیے گئے مختلف اقدامات ای-گورنینس کے مختلف عناصر کی تشکیل کرتے ہیں۔
12.2 ای-گورنینس کی تعریف
ای-گورنینس سے مراد ہے ہر سطح پرمعلوماتی(Informational) اور لین دین سے متعلق(Transactional) تبادلات کی کارکردگی، اثر پذیری، شفافیت اور جواب دہی کو مزید تقویت دینے کے لیے CCTکا استعمال ۔یہ تبادلات مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:
• سرکار کے اندر یعنی سرکار اور قومی، ریاستی، میونسپل اور مقامی سطح کی سرکاری ایجنسیوں کے درمیان،
• شہریوں اور سرکار کے درمیان۔
ای-گورنینس کا مقصد ہے معلومات (Information)تک رسائی اور اس کے استعمال کے ذریعہ شہریوں کو مزید اختیا رات فراہم کرنا۔
12.3 ای-گورنینس سے امیدیں
ای-گورنینس کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمات دیر پا (Sustainable)اور مقامی ضروریات کے اعتبار سے کفایتی اور خاص طور سے تیار کی ہوئی (Customised)ہونی چاہئیںتاکہ سماج کے سبھی طبقات اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ان کے ذریعہ فراہم کردہ خدمات قابل اعتماد، مصدقہ، وقت کی پابند اور ایسی شکل میں ہونی چاہئیں کہ وہ استعمال کنندہ کے لیے آسان ہوں۔اسے مقصد کی تکمیل کے لیے مکمل خدمات فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیا جاتا ہے۔
ایم-گورنینس(m-Governance)کو ای-گورنینس خدمات کے مستقبل کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے جو موبائل آلات سے لیس لیپ ٹاپ،پام ٹوپ، موبائل فون وغیرہ جیسے آلات کے استعمال کے ذریعہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی ای-گورنینس خدمات تک رسائی اور ناگزیریت(Inevitablity)کو یقینی بنائے گی۔
12.4 سرکار کی طرف سے کی جانے والی پیش قدمی
12.4.1 ای-گورنینس پروجیکٹ
زیادہ ترای-گورنینس پروجیکٹ کو مختلف مقاصد کے حصول کے لحاظ سے تیار کیاجاتا ہے مثلاً رسائی کو آسان بنانا، ایسے طبقات تک رسائی کو ممکن بنانا جو اس سے محروم ہیں، خدمات کی فراہمی میں شفافیت پیدا کرنا، لین دین سے متعلق کارروائیوں(Transaction Procedures)کو سہل بنانا، شہریوں اور سرکار دونوں کے لیے لاگت کو کم سے کم کرنا، سرکاری محاصل میں اضافہ کرنا ، لین دین میں لگنے والے وقت کو کم کرنا، نئی خدمات کوپیش کرنا، بہترین طور طریقوں کو اختیار کرنا اور ان کی جدید کاری۔
ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ ان پروجیکٹوں کا نفاذ مرکزی سرکار ، ریاستی سرکار، ضلع کی سطح پر اور گاؤں کی سطح پر عام لوگوں کی زندگی کو بہتر بنا دیتا ہے ۔
نیشنل ای-گورنینس پلان(NeGP)
NeGPمنصوبہ(2003-2007) کو محکمۂ اطلاعاتی ٹیکنا لوجی(DIT)وزارت مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی ، حکومت ہند کے ذریعہ ہمارے ملک میں ای-گورنینس کی طویل مدتی ترقی کے لیے پیش قدمی کرنے اور فراہم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل مقصد کے پیش نظر وضع کیا گیا تھا:
’’ مشترک سروس ڈلیوری آؤٹ لیٹ کے ذریعہ تما م سرکاری خدمات تک ایک عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنانااور ایک عام آدمی کی بنیادی ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے مناسب خرچ پر ان تمام خدمات کی کارکردگی، شفافیت اور اس کی اعتمادیت کو یقینی بنانا۔‘‘
NeGPکا مقصد ان طریقوں میں تبدیلی اور سدھار لاناہے جن کے ذریعہ سرکار اپنے شہریوں کو خدمات فراہم کرتی ہے اورانھیں کم لاگت اور شفاف خدمات کے حصول کے سلسلے میں با اختیا ر بناتی ہے۔
NeGPکی ساخت تین سطحوں پر مشتمل ہے: تنظیمی سطح، ٹیکنالوجی کی سطح اور استعمال کنندہ کی سطح۔ NeGPتحت جس بنیادی ڈھانچہ (انفرااسٹرکچر) کو مشترک طور پر استعمال کیا جاتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(a) بالکل بنیادی سطح پر الیکٹرانک ذریعہ سے خدمات کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے مشترک خدماتی مراکز (Common Services Centres)
(b) اسٹیٹ وائڈ ایریا نیٹ ورک(SWANs)
(c) اسٹیٹ ڈیٹا سینٹر(SDCs)
ہندوستانی زبانوں کے لیے ٹیکنالوجی میں ترقی(TDIL)
اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے TDILپروگرام کی شروعات کی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ہے ہندوستانی زبانوں کے لیے انفارمیشن پروسیسنگ ٹولز اور تکنیکوں کے استعمال کو فروغ دینا۔اس پروگرام کے کچھ مقاصد مندرجہ ذیل ہیں:
• ہندوستانی زبانوں اور کثیر لسانی معلومات کے وسائل میں انسان اور مشین کے درمیان تفاعل(Interaction) میں معاونت کرنا۔
• ہندوستانی زبانوں کے لیے فروغ دی گئی تکنیکوں کو جمع کرنا (Consolidate)اوراستعمال کنندہ کے لیے اختراعی حاصلات(Products) اور خدمات مثلاً کثیر لسانی لغات، انسائیکلوپیڈیا، GCWS(Gyan-nidhi Creative Writing System) ،ترجمہ معاون نظام، متن- تکلم (Text-To-speech) اور متن شناسی نظام) (Speech Recognition System، پاکیٹ ٹرانسلیٹر، نابینا اورسماعت سے معذور افرادپورٹل کے لیے ریڈنگ مشین وغیرہ کو فروغ دینے کے لیے انھیں یکجا کرنا۔
• مناسب ٹیکنا لوجی کا فروغ اور ہندوستان کی جن ریاستوں میں ہندی بولی جاتی ہے وہاں کی موجودہ ٹیکنا لوجی کے خلا کو پر کرنا۔
12.4.2 ای -گورنینسپروجیکٹ —مقامی تناظر میں
مختلف ریاستوں میں علاقائی زبانوں میں کئی پروجیکٹ چل رہے ہیں۔ایک عام آدمی کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں ٹیکنا لوجی کے ذریعہ مختلف خدمات اور اسکیموں کو مہیا کرانا ان پروجیکٹوں کااہم مقصد ہے ۔ITپر مبنی ان پروجیکٹوں کے ذریعہ سرکار مندرجہ ذیل باتوں کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے:
• انفارمیشن ٹیکنا لوجی سے آراستہ خدمات کے تئیں بیداری کو بڑھانا
• ITکی پہنچ میں بہتری لانا
• علاقائی زبان میں ITسے متعلق آموزشی مواد کی دستیابی
• معیاربندی(Standardisation)
12.4.3 مشن موڈ پروجیکٹ(MMPs)
NeGPمتعدد مشن موڈ پروجیکٹ (MMPs) نیز مرکزی اور ریاستی سرکار کی سطح پر مختلف پروجیکٹوں کو نافذ کرتا ہے۔
مآخذ: DIT، وزارت مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی
12.5 ای-گورنینس پروجیکٹکے تحت آنے والے شعبے
کچھ ایسے محکمے اور خدمات جہاں ای-گورنینس کا اطلاق ہوتا ہے مندرجہ ذیل ہیں:
• عوامی شکایات: بجلی، پانی، ٹیلی فون،راشن کارڈ، صفائی ستھرائی، عوامی نقل وحمل کے ذرائع، پولس۔
• دیہی خدمات: زمین کے ریکارڈ، خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے والے(BPL)/معاشی طور پر کمزور طبقات (EWS) سے متعلق کنبے۔
• پولس: ایف۔آئی۔آر(FIR) کا اندراج، سامان اور افراد کی گمشدگی اور ان کی تلاش۔
• سماجی خدمات: پینشن، بیوائیں، Ex-gratiaاسکیم، تحصیل/بازآبادکاری اور معاوضہ، لائسینس اور سرٹیفکیٹ کا رجسٹریشن، راشن کارڈ، پیدائش سرٹیفکیٹ، جائے سکونت سے متعلق سرٹیفکیٹ، ذات/قبیلہ کا سرٹیفکیٹ، ہتھیار وں سے متعلق لائسینس کی تجدید، دستاویزات کا رجسٹریشن، اسکول رجسٹریشن، یونیورسٹی رجسٹریشن، موٹر گاڑیوں کا رجسٹریشن، ڈرائیونگ لائسینس۔
• عوامی معلومات: روزگار دفتر (Employment Exchange) میں رجسٹریشن، روزگار کے مواقع، امتحانات کے نتائج، اسپتالوں کی دستیابی/خدمات، ریلوے کا نظام الاوقات(Railway Time Table)، ائیر لائنز ٹائم ٹیبل، سڑک ٹرانسپورٹ سے متعلق ٹائم ٹیبل، امدادی ادارے، سرکاری اطلاع نامہ(Government Notification)، سرکاری فارم، سرکاری اسکیم۔
• نیوز(NEWS) خدمات: سول سپلائی، بزرگ افراد کی پینشن، بیوہ عورتوں کی پینشن، معذور افراد کی پینشن/خدمات، Ex-gratiaکی ادائیگی۔
• زرعی سیکٹر: بیجوں کی معلومات، گھن مار دوائیں،مصنوعی کھاد، فصلوں کی بیماریاں، موسم کی پیشین گوئی—مختصر رینج/ضلع وار ، بازاری قیمت۔
• بلوں کی ادائیگی: بجلی، پانی، ٹیلیفون۔
• تجارتی: ٹیکس اور ریٹرن جمع کرنا، آمدنی ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، سینٹرل/اسٹیٹ ایکسائز ڈیوٹی، سیلس ٹیکس، ہاؤس ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، آکٹورائی، روڈ ٹیکس، کمپنی ریٹرن۔
• سرکاری: الیکٹرانک تحصیل(Electronic Procurement)، تعلیم، ای-گورنینس کے لیے یونیورسٹی ماڈل۔
12.6 مختلف پروجیکٹوں کا نفاذ
جدول12.1 : مختلف ریاستی سرکاروں کے ذریعہ نافذ کیے گیے کچھ پروجیکٹ
خلاصہ
• NeGP کی آمد کے ساتھ ہی سرکار نے مختلف تکنیکوں کے استعمال کے ذریعہ اپنے کام کاج کی جدید کاری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
• کئی ریاستی سرکاروں نے بھی مقامی تناظر میں ای-گورنینس پروجیکٹ کو نافذ کیا ہے۔
• معلوماتی(Informational) اور لین دین سے متعلق تبادلات(Transactional Exchange) کی کارکردگی، اثر پذیری، شفافیت اور جواب دہی میں تبدیلی لانے کے لیے معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کااطلاق ہی ای-گورنینس ہے۔
• NeGPای-گورنینس کے لیے عوام مرکوز ماحول کی تشکیل کے لیے مرکزی اور ریاستی سرکار کی سطح پر متعدد مشن موڈ پروجیکٹوں(MMPs)کو نافذ کرتی ہے۔
• TDIL کا مقصد ہے ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں خدمات فراہم کرنے کے لیے ITٹولز کے استعما ل کو فروغ دینا ۔
• مقامی تناظر میں پروجیکٹ کا مقصد ہے، ایک عام آدمی کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں مختلف عوامی خدمات اور اسکیموں کو مہیا کرانا ۔
مشقیں
مختصر جواب والے سوالات
1۔ ای-گورنینس کی تعریف بیان کیجیے۔
2۔ ای-گورنینس کی کیا ضرورت ہے؟
3۔ ایم-گورنینس کیا ہے؟
4۔ مندرجہ ذیل کے پورے نام لکھیے:
• CSC
• NeGP
• SWAN
• SDC
• MMPs
5۔ کچھ ای-گورنینس پروجیکٹوں کے نام بتائیے؟
طویل جواب والے سوالات
1۔ ای-گورنینس سے آپ کیا سمجھتے ہیں اور اس کے اجزا کون کون سے ہیں؟
2۔ کچھ ایسے پروجیکٹوں کے نام بتائیے جنھیں حال ہی میں آپ کی ریاستی /UTسرکاروں نے نافذ کیا ہے؟
3۔ ای-گورنینس کے نفاذ کے لیے سرکار نے حال ہی میں کیا پیش قدمی کی ہے؟
4۔ ایسے شعبوں /محکموں کے نام بتائیے جہاں ای-گورنینس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔
5۔ ایم-گورنینس کے ذریعہ فراہم کی جانے والی خدمات سے استعمال کنندگان کی کیا توقعات ہیں؟
6۔ ڈائیکرام کی مدد سے NeGPکا خاکہ (Architechture) واضح کیجیے۔
7۔ ہندوستانی زبانوں میں CCTٹولز کے فروغ کی سمت میں حکومت کے اقدامات کی وضاحت کیجیے۔
8۔ مثالوں کی مدد سے مقامی تناظر میں ای-گورنینس پروجیکٹ کے اطلاق سے بحث کیجیے۔