Skip to content
Computeraurmawaslattitechnologypart-2-001


ًٍاکائی VI

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی

باب13

CCTمیں ابھرتے ہوئے رجحانات

باب14

کمپیوٹر منضبط آلات

13

CCTمیں ابھرتے ہوئے رجحانات


مقاصد

اس باب کو مکمل کرنے کے بعد طلبا اس قابل ہوجائیں گے کہ :

•    کمپیوٹر سافٹ ویئر، کمپیوٹر اسٹوریج اور پروسیسنگ نیز اسٹوریج آلات کے شعبہ میں ابھرتے ہوئے رجحانات کو بیان کرسکیں اور ان کی اہمیت کو سمجھ سکیں،
•    اس ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور اُس کی ترجمانی کرسکیں جو اگلی پیڑھی کے کمپیوٹر منضبط آلات (Computer Controlled Devices)   کو مزید  ترقی دے گی اور
•    نینو ٹیکنالوجی کی وضاحت کرسکیں۔


’’منطق آپ کو Aسے Bتک لے جاتی ہے مگرتصور آپ کو کہیں بھی لے جائے گا‘‘
       البرٹ آئن اسٹائن

تعارف

اب تک آپ نے کمپیوٹر کے روایتی تصورات کے بارے میں معلومات حاصل کی ہے چاہے اس کا تعلق کمپیوٹر کی ظاہری بناوٹ سے ہو یا پھر اس کے کام کرنے کے طریقہ سے ہو اور ایسے مختلف شعبے بھی دیکھے جہاں کسی آلے کی ظاہری بناوٹ سے قطع نظر اس کا اصول بروئے کار لایا جاتا ہے۔ الیکٹرانک آلات کا چلن عام ہونے کے ساتھ ہی اس کے جدید رجحانات کے بارے میں  جاننا اورانھیں سمجھنا بہت اہم ہے اورساتھ ہی اس بات کا اندازہ بھی لگانا ضروری ہے کہ مستقبل قریب میں کیا ہونے والا ہے۔ یہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے جس کے باعث کارکردگی اورتفاعلی(Functioanality) میں مستقل طور پر بہتری اور جدت پیدا ہورہی ہے۔
نہ صرف یہ کہ کمپیوٹرسسٹم تیزرفتار ، کامپیکٹ اور کفایتی ہو گیا ہے بلکہ اس سے وابستہ ترسیلی نظام(Communication System) بھی کفایتی، قابل اعتماد اور استعمال میں آسان (User Friendly) ہو گئے ہیں۔
کمپیوٹروں کی پروسیسنگ اسپیڈ تقریباً دوگنی ہو چکی ہے اور ہر سال نیا پروسیسر بازار میں آجاتا ہے۔ بہتر وسائل، نینو ٹیکنا لوجی، ملٹی کور پروسیسر، کوانٹم کمپیوٹر وغیرہ کا استعمال کرکے کمپیوٹر پروسیسنگ کو بہتر بنانے کی غرض سے مختلف راہیں تلاش کرنے کے لیے تحقیق کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
 CCT کے شعبہ میں ابھرتے ہوئے رجحانات توانائی کے کارگر نظام(Energy Efficient Sysytem)، وائر لیس اور آپٹیکل مواصلات، بایومیٹرکس (Biometrics) ، حفاظتی نظام (Security System) ، ملٹی میڈیا اور آن ڈیمانڈ سافٹ ویئر کے شعبوں میں ہونے والی تحقیق وترقی پربھی مرکوز ہیں۔یہ باب خاص طور سے مندرجہ ذیل شعبو ں کا احاطہ کرے گا:
(1)    ہارڈ ویئر
(2)    نیم موصل
(3)    مواصلاتی نظام
(4)    کوانٹم کمپیوٹنگ
(5)    سافٹ ویئر
(6)    نینو ٹیکنالوجی

13.1  ہارڈویئر میں ابھرتے ہوئے رجحانات

CCT میں ہونے والی ترقی کی وجہ سے ہمیں ڈیجیٹل کیمرہ، سیل فون، آئی پوڈ(iPod) اور فلیش ڈسک جیسے بہت چھوٹی شکل والے آلات دستیاب ہورہے ہیں ۔

13.1.1   اسٹوریج ڈیوائس(Storage Devices)

کمپیوٹر اسٹوریج کے معاملے میں جو رجحانات ابھر رہے ہیں ان میں ایک طرف اسٹوریج آلات کی میموری اور پروسیسنگ اسپیڈ میں اضافہ اور دوسری طر ف ان کے سائز اور قیمت کا کم ہونا شامل ہے۔

1

آج ڈیٹا صرف متنی دستاویز کی شکل میں نہیں ہے ، یہ ملٹی میدیا کی شکل میں ہے جس کے اسٹوریج کے لیے بہت زیادہ میموری درکارہوتی ہے۔اس شعبہ میں ہونے والی تحقیق کی روشنی میں ایسے اسٹوریج آلات تیار کیے گئے ہیں جو 50GBتک ڈیٹا اسٹور کر سکتے ہیں۔ ان آلات میں آئی پوڈ، پین ڈرائیو، فلیش ڈسک،DVD وغیرہ شامل ہیں۔ آئی پوڈ (iPod)میں میوزک، ویڈیو، دستاویز، تصاویر اور گیمس وغیرہ کو اسٹور کیا جاسکتا ہے ۔ ان کی اسٹوریج صلاحیت 1GBسے 80GBتک ہے۔

ہارڈ ڈسک(Hard Disk)

ہم نے سال در سال ہارڈ ڈسک کی صلاحیتوں(Capacities)میں بہت زیادہ ترقی کا مشاہدہ کیا ہے اور اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ہارڈ ڈسک ڈرائیوکی رفتار پہلے کے مقابلے میں بہت تیز ہو چکی ہے، ڈسک کے ذریعہ ڈیٹا کو تلاش کرنے میں لگنے والا وقت (Seek Time)بھی کم ہوگیا ہے، ڈسک کے کیشے سائز(Cache Size)اور انٹر فیس اسپیڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے جو پیرا میٹر درکار ہے وہ ہے زیادہ اسپنڈل اسپیڈ(Spindle Speed)،جو اندرونی ڈیٹا شرح(Internal Data Rate)میں مؤثر طور پر سدھار لارہا ہے اور رد عمل کے وقفہ (Latency) میں کمی آرہی ہے۔نینو ٹیکنا لوجی نے ہارڈ ڈسک ڈرائیو کے سائز کو کم کرنے اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
ہائبرڈہارڈ ڈسک ڈرائیو(HHDD) ایک نئی تکنیک ہے جہاں روایتی ڈسک ڈرائیو کو غیر طیران پذیر (Non-volatile) فلیش میموری کے ساتھ متحد کر دیا جاتا ہے ، جس کی میموری 128MBیا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ڈیٹا کو مستقل طور پر ہارڈ ڈسک میں اسٹور کرنے سے پہلے غیر طیران پذیر میموری میں اسٹور کیا جاتا ہے۔ انٹر پرائز HDDsکو مشن کریٹیکل ایپلی کیشن (Mission-critical Application)مثلاً کور سرور(Core Servers)اور بڑے پیمانے کے اسٹوریج سسٹم کے لیے خاص طور سے تیار کیاجاتا ہے ۔سب سے پہلی ہائبرڈ ہارڈ ڈسک ڈرائیو 2.5 inchکی تھی جسے نوٹ بک کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
فل ڈسک اینکرپشن(FDE)ٰٓایک نئی ٹیکنالوجی ہے (ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر)جہاں ڈیٹا کو اسٹور کرنے سے پہلے اینکرپٹ کیا جاتا ہے۔ اس سے ڈیٹا کے غلط ایکسیس یا بازیافت کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔
مائکرو الیکٹرو میکینکل سسٹم [MEMS] پر مبنی اسٹوریج ایک نئی تکنیک ہے جسے نئے زمانے کے میڈیا اسٹوریج کے طور پر تیار کیاجارہا ہے اس کی وجہ اس کی نمایاں خصوصیا ت ہیں مثلاً اس کا چھوٹا سائز، جھٹکوں کو برداشت کرنے کی طاقت اور بجلی کا بہت کم خرچ۔ MEMSپر مبنی اسٹوریج کا موبائل کنزیومر الیکٹرانکس میں بڑے پیمانے پراستعمال متوقع ہے۔

2

(Redundant Array of Inexpensive Disks(RAID

RAID ایک ہی ڈیٹا کوکئی ہارڈ ڈسک میں مختلف جگہوں پر اسٹور کرنے کا طریقہ ہے۔اگر کوئی ڈسک خراب ہوجاتی ہے تو بھی اس طریقے سے ڈیٹا کودوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اس تکنیک کی مدد سے سسٹم کو بند(ShutDown) کیےبغیرخرابڈسک کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
RAID میں ابھرتے ہوئے رجحانات مہنگے Rack Spaceکی بچت اور Co-locationلاگت کو کم کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔

سہ ابعادی آپٹیکل ڈیٹااسٹوریج (3D Optical Data Storage)

3-Dآپٹیکل ڈیٹا اسٹوریج ایک نئی تکنیک ہے جہاں ڈیٹا کو آپٹیکل ڈسک کے اندر کئی سطحوں(Multiple Layers)میں اسٹور کیا جاتا ہے۔آپٹیکل ڈسک میں ڈیٹا کو لکھنے یا اس میں موجود ڈیٹا کو پڑھنے کے لیے لیزر بیم(Laser Beam)استعمال کیا جا سکتا ہے۔ڈسک میں ڈیٹا کی کئی سطحیں ہوتی ہیں اور ہر ایک سطح میڈیا میں مختلف گہرائی میں ہوتی ہے نیز DVDجیسے اسپائرل ٹریک پر مشتمل ہوتی ہے (شکل13.3)۔

3

ہولو گرافک میموری(Holographic Memory) 

ہولو گرافک میموری کافی حد تک 3-Dآپٹیکل اسٹوریج کی طرح ہی ہے۔ یہاں ڈیٹا کو صرف میڈیا کی سطح پر ریکارڈ کرنے کی بجائے اس کی پوری گہرائی میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔اس طرح یہ ڈسک کروڑوں بائٹس پر مشتمل ڈیٹا کو روشنی کی ایک چمک کے ساتھ ریکارڈ کرسکتی ہے اور پڑھ سکتی ہے۔ HDآپٹیکل ڈسک ہولو گرافک اسٹوریج کی ایک مثال ہے۔

نیٹ ورک اسٹوریج (Network Storage) 

نیٹ ورک اسٹوریج کی مدد سے تنظیم (Organisation)کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تمام ڈیٹا کو ایک ایسے مقام پر اکٹھا کیا جاسکتا ہے جہاں سے اسے پورے نیٹ ورک میں کئی ایپلی کیشن کے ذریعہ بیک وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس کام کے لیے دو قسم کی ٹیکنالوجی  –  SAN اور  NASکا استعمال کیا جارہا ہے۔

اسٹوریج ایریا نیٹ ورک(SAN)

اسٹوریج ایریا نیٹ ورک(SAN) ایک ایسا آرکیٹیکچر ہے جہاں ہارڈ ڈسک، Arrays، ٹیپ ڈرائیو وغیرہ جیسے سیکنڈری اسٹوریج ڈیوائس ریموٹ کمپیوٹر اسٹوریج ڈیوائس سے جڑے رہتے ہیں اور تمام سرور SANسوئچ کے ذریعہ SANسے منسلک رہتے ہیں اور یہ سرور ڈیٹا کو لوکل ڈسک ڈرائیو کے طور پر ایکسس کر سکتے ہیں۔ریموٹ اسٹوریج ڈیوائس کو کئی سرور بیک وقت استعما ل کر سکتے ہیں (شکل13.4)۔

4

نیٹ ورک اٹیچڈ اسٹوریج(NAS)

نیٹ ورک اٹیچڈ اسٹوریج(NAS) اسٹوریج ڈیوائس پر مشتمل ریموٹ کمپیوٹر کواستعمال کرتا ہے جو TCP/IPنیٹ ورک کے ذریعہ ایک دوسرے سے منسلک رہتے ہیں جیسا کہ شکل13.5میں دکھایا گیا ہے۔یہ فائل پر مبنی پروٹوکال جیسے نیٹ ورک فائل سسٹم یا کامن انٹر نیٹ فائل سسٹم(CIFS)کا استعما ل کرتا ہے۔ تمام سرور اور اسٹوریج ڈیوائس LANیاWANکے ذریعہ منسلک رہتے ہیں۔

5


اسٹوریج کے آن لائن متبادلات (Online Storage Options)

ٰٓایسی کئی کمپنیاں ہیں جو استعمال کنندہ کو اپنا ڈیٹا کمپنی کے سرور میں اسٹور کرنے کے لیے آن لائن اسٹوریج فراہم کرتی ہیں۔یہ خدمات انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کو مفت میں فراہم کی جاتی ہیں لیکن ا س میں صرف ایک حد تک ہی ڈیٹا اسٹور کیا جاسکتا ہے۔نیٹ ورک اور ڈسٹری بیوٹیڈ فائل سسٹم، انٹر نیٹ پر مبنی ڈیٹا سینٹر آن لائن اسٹوریج کی کچھ مثالیں ہیں۔

پیری فیرل/انٹر فیس(Peripheral/Interface)

 یونیورسل سیریل بس(USB)کا استعمال پیری فیرل کو PCسے منسلک کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔USBاپنی کم قیمت ، استعمال میں آسان اور چھوٹے کنیکٹر سائز کی وجہ سے کافی مقبول ہے۔ کسی بھی پیری فیرل میں USBکی سہولت کوباآسانی شامل کیا جاسکتا ہے۔ USBکے سلسلے میں نئے رجحانات پر آئندہ سیکشن میں بحث کی گئی ہے۔

پیوست نظاموں میں یو ایس بی

سیل فون، PDAs، ڈیجیٹل کیمرے، پرنٹر اور سیٹ ٹاپ باکس جیسے Embedded Systemsمیں USBکے کئی استعمال ہیں۔

وائر لیس یو ایس بی

وائر لیس یوایس بی کے ذریعہ کم رفتار والے آلات کو تار کے بغیر منسلک کیا جاسکتا ہے لیکن یہ میزبان(Host)کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ تار بردار یوایس بی کے ذریعہ منسلک ہیں۔ وائر لیس یو ایس بی (شکل13.7) سادہ کیبل ریپلیسمنٹ ایپلی کیشن کا بہترین حل ہے۔

6

13.1.2  مائکرو پروسیسر(Microprocessor)

مائکرو پروسیسر ایک ایسا کثیرالمقاصد پروگرام کے لائق لاجک ڈیوائس ہے جو اسٹوریج ڈیوائس(جسے میموری کہاجاتا ہے) سے بائنری ہدایات کو پڑھتا ہے ، بائنری ڈیٹا کو ان پٹ کے طور پر حاصل کرتا ہے ، ہدایات کے مطابق ڈیٹا کی پروسیسنگ کرتا ہے اور آؤٹ پٹ کے طور پر نتائج فراہم کرتا ہے۔
سنگل مائکرو پروسیسر کے روایتی بنیادی کام کوزیادہ پیچیدہ مائکرو پروسیسرآرکیٹیکچر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔کسی مخصوص ایپلی کیشن کے لیے کمپیوٹنگ سسٹم کی کارکردگی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سنگل مائکرو پروسیسر کے بجائے ملٹیپل مائکروچپس اور پروسیسر کا پیکج جاری کیا گیا ہے۔ان پیکیجز کو مدر بورڈ پر معیاری انٹر فیس میں نصب کر دیا جاتاہے۔

7

اسی طرح Core 2پروسیسرمیں دوالگ الگ Dual-core diesیعنی CPUsایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو ایک  Quad-core  پیکج کے اندر لگے ہوتے ہیں۔
Xeonپروسیسرایک ہی مدر بورڈ پرDP(Dual Processor)اور ملٹی پروسیسر (MP)کی تشکیل کے لیے انٹل کی ملٹی پروسیسنگ(CPUs) کے کئی خاندانوں سے رجوع کرتے ہیں،ان کا استعمال سرور اور ورک اسٹیشن کمپیوٹروں کے لیے کیا جاتا ہے۔اس کی کئی جنریشن ہیں جنھیں x86اورx86-64پروسیسر کے نام سے جانا جاتا ہے۔Xeon سی پی یو میں عام طور سے دوسرے ڈیسک ٹاپ CPUsکے مقابلے زیادہ Cache میموری ہوتی ہے اور ساتھ ہی ان میں ملٹی پروسیسنگ کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔

8

13.2  نیم موصلوں میں ابھرتے رجحانات

سلیکان -آن- انسولیٹر(SOI)، کمپلی مینٹری میٹل- آکسائڈ- سیمی کنڈکٹر(CMOS)، کیپیسیٹر- لیس میموری ، مائکرو- آپٹک- الیکٹرو- میکینکل -سسٹم (MOEMS)  ،III-Vکمپاؤنڈ میٹیریل- آن- انسولیٹر اور دیگر اختراعی ٹیکنالوجی کی بدولت کنزیومر الیکٹرانکس ڈیوائس کی کارکردگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کا سائز بھی کم ہوا ہے۔
عمدہ ڈیزائن تیار کر نے کے علاوہ محققین تیز رفتار الیکٹرانک چپس بنانے کے لیے سلیکان کا بدل بھی تلاش کر رہے ہیں ۔ گرافین(Graphene)اسی قسم کا ایک مادہ ہے جو خالص کاربن کی ایک شکل ہے، اس میں کاربن ایٹموں کی ایک پرت شہد کی مکھی کے چھتے کی طرح کی جھالرکی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ الیکٹرانوں کومعلومات مرتب کرنے میں مدد دیتا ہے اور سلیکان پر مبنی آلات کے مقابلے میں 10گنا بہتر ریڈیو ٹرانسمیشن پیدا کرتا ہے۔ گرافین کے استعمال سے تیز رفتار سیل فون ، کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک آلات تیار کیے جا سکیں گے کیونکہ الیکٹران کی حرکت کسی بھی موجودہ نیم موصل مادہ(سلیکان، GaAsاور کاربن نینو ٹیوب) کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ 

9

ایک اور کلیدی شعبہ جہاں تحقیق کا کام زور وشورکے ساتھ جاری ہے وہ ہے 3Dگرافکس اورRAMمیموری کے ایپلی کیشن پروسیسر تیار کرنا۔کئی سیمی کنڈکٹروں کو ایک پیکج میں تیار کرنے کے لیے تحقیقی کام جاری ہے۔

13.3   مواصلاتی نظاموں میں ابھرتے رجحانات

مواصلات میں VoIP(Voice over Internet Protocol)،IP TV،،ویڈیو کانفرنسنگ، ویڈیو آن ڈیمانڈ وغیرہ جیسے متحدہ ملٹی میڈیا سسٹم کو فروغ دینے کا رجحان ہے ۔مواصلاتی نظاموں(Legacy Communication System)کی جدید کاری کرکے انھیں ملٹی میڈیا ایپلی کیشن کے اہل بنانے پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
ان سب کے علاوہ کفایتی نیٹ ورکنگ تدبیریں فراہم کرنے اور استعمال کنندہ کے کام کرنے کی جگہ تک نیٹ ورک کی توسیع کے لیے ٹیکنالوجی تیار کی جارہی ہے۔اس ضمن میں ملٹی سروس براڈ بینڈ نیٹ ورک ،DTH(Direct-To-Home)اور فائبر ٹو ہوم (Fibre-to-home) وغیرہ مثالیں دی جاسکتی ہیں۔

13.4  کوانٹم کمپیوٹنگ میں ابھرتے رجحانات

آپٹیکل فائبر اور لیزر(LASER)کی ایجاد کے وقت سے ہی کمپیوٹر اور مواصلاتی نظاموں میں روشنی کے استعمال کی سمت میں تحقیق کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کا مطلب ہے ڈیٹا کے اسٹوریج اور ٹرانسمیشن کے لیے بجلی کے بجائے روشنی کا استعمال۔ بصری مواصلاتی نظام(Optical Communication System)نے ترسیل کی صنعت (Transmission Industry)اور مواصلاتی نیٹ ورک میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔
سلیکان الیکٹرانک چپس کے متبادل کے طور پر سلیکان لیزر تیار کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔اس سے نہ صرف رفتار میں بہتری آئے گی بلکہ توانائی کے لحاظ سے کار گر آلات تیار کیے جا سکیں گے۔سلیکان کے ساتھ آپٹیکل جزو (Optical Component) کااستعمال کرکے آپٹو الیکٹرانک آلات ڈیزائن کرنے کے لیے تحقیق وترقی کاکام جاری ہے۔
فوٹو الیکٹرانکس کے شعبے میں جاری تحقیق کی بدولت اگلی پیڑھی کے ایسے کفایتی آلات تیار کرنے میں مدد ملے گی جو انفارمیشن کی پروسیسنگ کے لیے الیکٹران اور فوٹان دونوں کا استعمال کر سکیں گے۔فوٹو الیکٹرانک آلات تیار کرنے کا کام آپٹکس، کیمسٹری، الیکٹرانکس اور میٹیریل سائنس جیسے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے انجینئروں اور سائنس دانوں کی مجموعی کوششوں کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔
بصری مواصلاتی نظاموں کے علاوہ کنزیومر الیکٹرانک سیکٹر وں کے لیے آپٹیکل ماؤس،آ پٹیکل ہارڈ ڈسک، آپٹیکل سینسر وغیرہ جیسے آپٹیکل ڈیوائس تیار کیے جا چکے ہیں یا تیار کیے جا رہے ہیں۔

 13.5  سافٹ ویئر میں ابھرتے رجحانات

 کمپیوٹر ہارڈ ویئر اور سافٹ وئیر ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں اس لیے ،اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی ترقی ہوتی ہے تو یہ دوسرے میں بھی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ کمپیوٹر سافٹ ویئر کو ڈیزائن کرنے کے عمل میں مثالی تبدیلی آئی ہے جو کہ اسٹرکچرڈ پروگرامنگ سے تبدیل ہوکرمعروض کردار پروگرامنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ۔اوپن سورس سافٹ ویئر کافی مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی ان میں توسیع یا ترمیم کر سکتا ہے اور کسی بھی آلے کے لیے ان کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مفت میں دستیاب ہیں کیونکہ انھیں سافٹ ویئر بنانے والوں کی کمیونٹی کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔
شروع میں سافٹ ویئر کو ماہرین تعلیم اور کارپوریٹ محققین کی مجموعی کوششوں کے ذریعہ تیار کیا جاتا تھا۔آج موبائل فون میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر سے لے کر ہوائی جہاز کی ڈیزائننگ کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر تک کئی طرح کے سافٹ ویئر دستیاب ہیں۔

13.5.1   آپریٹنگ سسٹم  (Operating System)

ایسے آپریٹنگ سسٹم جن سے جو UNIXجیسے ایپلی کیشن ڈیویلپر میں مناسب لچک نہیں آتی ان کا چلن ختم ہوتا جارہا ہے۔ آج قابل ترمیم (Customised)ایپلی کیشن مخصوص آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے کا رجحان ہے جو ہارڈ ویئر کی ناکامی کا پتہ لگا سکتے ہوں اور جن میں Auto-recovery کی خصوصیات موجود ہوں۔

13.5.2   ایپلی کیشن سافٹ ویئر  (Application Software)

 سافٹ ویئر تیار کرنے کا کام زیادہ منظم ہو چکا ہے جہاں سب سے زیاہ زوراستعمال کنندہ کی ضروریات کا پتہ لگانے، پروسس ماڈل تیار کرنے، اپنے گاہکوں کو اس سے پہلے بنائے گئے ورژن دکھانے اور اس بات کو یقینی بنانے پر ہوتا ہے کہ سافٹ ویئر اغلاط سے مستثنیٰ ہے۔علاوہ ازیں اس کے اگر کوئی پروجیکٹ مختصر اور قابل ضبط مراحل میں آگے بڑھ رہا ہے توIncremental Software Developmentکا طریقہ بروئے کار لایا جاتا ہے۔
سافٹ ویئر میں ایک اور اہم رجحان کمپونینٹ سے چلنے والے سافٹ ویئر کی تشکیل ہے۔ اس میںاسکریچ سے بار بار پروگرام تحریر کرنے کے بجائے سافٹ ویئر وضع کرنے والے ماہرین معتبر اور دستاویز شدہ سافٹ ویئر کمپونینٹس کی جامع لائبریریوں سے  کمپونینٹس منتخب کرسکتے ہیں۔ اور مطلوبہ کام انجام دینے کے لیے انھیں ہم آمیز کرسکتے ہیں۔ 
باز ار کا تازہ ترین رجحان کمرشیل- آف- دشیلف (COTS)پیکیجز تیار کرنے سے جو سسٹم کی 50%تفاعلیت کی تکمیل کرتے ہیں اور ان کا استعمال ضرورت سے کسٹمائز اپیلی کیشنزمیں کیا جاتا ہے (جوصارف کی بقیہ ضروریات کی تکمیل کرتی ہیں)۔ ایپلی کیشنزCOTSپیکیجز کے باز قابل استعمال اجزا کی مدد سے انھیں نئی شرط سے ہم آہنگ کرکے وضع کی جاتی ہیں۔ایسے اجزاکا مفید، استعمال میں آسان اور ادل بدل کر چلائے جانے کے قابل ہونا ضروری ہے جو کئی نیٹ ورکوں،انٹرنیٹ اور ویب براؤزر پر کام کرسکیں۔ ایسے کئی پیکیجزمثلاًGIS،سیمولیٹرز،CAM/CAD،SAPوغیرہ بازار میںدستیاب ہیں اور انCOTSپیکیجز کی مدد سے اپیلی کیشنز وضع کی جارہی ہیں۔
ایسے کئی ایپلی کیشن سافٹ ویئر ہیں جو ہماری ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ حسب ضرورت ان کی صلاحیتوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ہم انھیں ان کے استعما ل کے اعتبار سے مندرجہ ذیل زمروں میں رکھ سکتے ہیں:
·    تعلیمی اور مواصلاتی سافٹ ویئر
·    ڈیزائن، میڈیا اور سیمولیشن سافٹ ویئر
·    آفس آٹو میشن اور پروسس مینجمنٹ سافٹ ویئر
·    کنٹرول اینڈ اینا لسس سافٹ ویئر

تعلیمی اور مواصلاتی سافٹ ویئر

آمو زشی مقاصد کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ تعلیمی سافٹ ویئر تیارکیے جا رہے ہیں یہ سافٹ ویئر سادہ ترین موضوعات سے لے کر پیچیدہ قسم کے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں اور حرف تہجی(Alphabet)سیکھنے سے لے کر نسلیات (Genetics)پر تجربات انجام دینے تک کئی زمروں سے تعلق رکھتے ہیں۔اس زمرے میں تعلیمی سافٹ ویئر کی مقبولیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ اس میں مواد کو ملٹی میڈیا کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور آموزشی عمل دلچسپ بن جاتا ہے۔ اس طرح آموزش تناؤ سے آزاد اور دلچسپ مشغلہ بن جاتی ہے۔   Milestone in Genetics،Locus،Ray Opticsوغیرہ ہمارے ملک میں تیار کیے گئے ملٹی میڈیا سافٹ ویئر ہیں۔
(Learning Management System LMS)   ایسے سافٹ ویئر ہیں جو استعمال کنندہ کی آموزشی مداخلت  (Intervention)کا انتظام کرتے ہیں۔زیادہ تر LMSsویب پر مبنی ہیں اور روایتی ٹریننگ ریکارڈ مینجمنٹ اور رپورٹنگ (ATuTor, Moodle, Brihaspati-II, Enrich) سے بہت آگے ہیں۔یہ تربیتی انداز میں استعمال کنندہ کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں (User Notification, Manager Approval, Waitlist Management)، آن لائن آموزش،آن لائن اندازئہ قدر،باہمی آموزش کی سہولت،ٹریننگ ریسورس مینجمنٹ مثلاً معلم،سہولیات،سازوسامان۔ انھیں صنعتوں اور تعلیمی اداروں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔انھیں تیار کرنے کے لیے مختلف قسم کے پلیٹ فارم استعمال کیے جاتے ہیں مثلاً Java/J2EE،.NetاورPHP
ڈیزائن ، میڈیا اور سیمولیشن سافٹ ویئر(Design, Media and Simulation Software) 
CCTمیں ہونے والی ترقی کا نتیجہ صرف تیز رو پروسیسنگ ، اسٹوریج کی صلاحیت میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی ہی نہیں ہے بلکہ اس کی بدولت متعدد قسم کے ہائی ریزولیوشن آؤٹ پٹ ڈیوائس بھی تیار کیے گئے ہیں جو کئی ملین رنگ اور شیڈ کو ظاہر کردیتے ہیں اور مخصوص کاموں کو انجام دے رہے ہیں۔
میڈیا ڈیولپمنٹ سافٹ ویئر(Media development software)ان لوگوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں جو عام طور سے تعلیمی اور تجارتی اداروں میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تیار کرتے ہیں۔ ونڈوز کے لیےCatGrab(ڈیجیٹل کیمرہ سافٹ ویئر)Track 'n share your GPS adventures! اور Ashampoo 3D CAD  Architecture میڈیا ڈیولپمنٹ سافٹ ویئر کی مثالیں ہیں۔
امیج آرگنائزر(Image Organiser)کا استعمال کرکے ڈیجیٹل امیجز کے سائز کو تبدیل کیا جاسکتا ہے، ڈریگ اور ڈراپ کے ذریعہ تصویروں کو البم کے اندر لگایا جا سکتا ہے، بیرونی استعمال(ای-میل یا پرنٹ) کے لیے تصویروں کو ایکسپورٹ(Export)کیا جاسکتا ہے۔ Falco Icon studio 4.8 ،   Tif Joiner وغیرہ اس کی کچھ مثالیں ہیں۔
گرافک آرٹ سافٹ ویئر(Graphic Art Software)کو بنیادی طور پر گرافک ڈیزائن، ملٹی میڈیاڈیولپمنٹ ، امیج کو ایڈٹ کرنے اور گرافک فائلوں کو استعمال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔Ashampoo Photo Optimiser FREE ،Ashampoo Photo Commander ،ACX Diashow XL اس قسم کے سافٹ ویئرکی       مثالیں ہیں۔
امیج ایڈیٹنگ سافٹ ویئر(Image Editing Software)  اسکین کی گئی امیجز کو ایڈٹ کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔ FastStone image viewer، Falco Icon Studio 4.8،Adobe Photoshop، Photo PlusSEاس قسم کے کچھ سافٹ ویئر ہیں۔یہاں Adobe Potoshopکا استعمال کرکے بلیک اینڈ وہائٹ تصویر (شکل13.10)  سے رنگین تصویر (شکل13.11) تیار کی گئی ہے۔
ویڈیو ایڈیٹنگ سافٹ ویئرویڈیو کو ایکسپورٹ امپورٹ کرنے،ویڈیو کلپ کے کسی حصہ کو کاٹنے(Cut)اور چسپاں (Paste) کرنے ، ویڈیو میں اسپیشل ایفیکٹ اور ٹرانزیشن شامل کرنے؛DVD، ویب ویڈیو، موبائل فون ویڈیوبنانے کے لیے ویڈیو کو اینکوڈ کرنے اور ویڈیو فائل میں موجود ویڈیو اور آڈیوکو ہم زمان(Synchronise) بنانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں (مثالیں: Mobilevideo For iPod 3.6 b28،  DVD to Video Converter وغیرہ۔)
ڈیجیٹل آڈیو ورک اسٹیشن (Digital Audio Workstation-DAW)  ریکارڈ کی گئی آوازوں میں ترمیم کرنے( ورڈ پروسیسر میں ٹائپ کیے گئے متن میں ترمیم کی طرح) کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ 

10

  Music Sequencer(اسے MIDI Sequencerبھی کہتے ہیں)سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کا پیکج ہے جسے الیکٹرانک موسیقی تیار کرنے اور اس کا بندوبست (Manage)کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ آج کل Sequencerکو صرف ایک سافٹ ویئر تصور کیا جاتا ہے ، لیکن کچھ ہارڈ ویئر سنتھی سائزر اورتقریباً سبھی میوزک ورک اسٹیشنوں میں MIDI Sequencer ان کے اندر لگے ہوتے ہیں۔پہلے میوزک سکوینسر کے ذریعہ آواز کو ریکارڈ نہیں کیا جا سکتا تھا، یہ صرف’’ریموٹ کنٹرول‘‘ انفارمیشن(مثلاً "note on''اور "note off") کا ہی انتظام رکھتے تھے اور انھیں آلات موسیقی کو بھیج دیتے تھے جس سے آڈیو آؤٹ پٹ حاصل ہوتا تھا۔ آج کل Sequencerآڈیو ایڈیٹنگ اور پروسیسنگ کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ Building Blocks، Space Toad MIDI Sequencer 1.1.4میوزک سکوینسر کی مثالیں ہیں۔
ڈائیگرامنگ سافٹ ویئر(Diagramming Software)کا استعمال گرافیکل ڈائیگرام مثلاً فلو چارٹ، سرکٹ ڈائیگرام ، نیٹ ورک ڈائیگرام، تکنیکی ڈرائنگ ٹولز وغیرہ بنانے میں کیا جاتا ہے۔ان کی مدد سے استعمال کنندہ انفارمیشن کو ڈائیگرام کی شکل میں ظاہر کرسکتا ہے۔ Diagram Designer 1.21،  EDraw Max،Smart Draw ، Dia (GPL  license)، OmniGraffle ، Microsoft Visio، Inspiration، Concept Draw 7ڈائیگرامنگ سافٹ ویئر ہیں۔شکل13.12میں دکھایا گیا فلو چارٹ Diagram Designerکے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔
کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن (Computer Aided Design-CAD)سافٹ ویئر کا استعمال دو یا تین ابعادی آرکیٹیکچرل ڈیزائن بنانے میں کیا جاتا ہے۔آرکیٹیکٹ اور ڈیزائنر اس کا استعمال کرکے پلوں، عمارتوں وغیرہ کی ڈیزائننگ اور ڈرافٹنگ کرتے ہیں اور یہ اس وقت بہت مفید ثابت ہوتے ہیں جب کسی منصوبہ میں ترمیم درکار ہوا س صورت میں پورے منصوبے کو دوبارہ سے بنانے کے بجائے ماؤس کے چند کلک کی مدد سے اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔Autodesk، Streamline، AutoCAD، DWGcolumnاسی قسم کے کچھ سافٹ ویئر ہیں۔CAD استعمال کر نے کے مندرجہ ذیل فائدے ہیں:
·    ڈرائنگ کو بنانے اور انھیں ایڈٹ کرنے میں وقت کی بچت ہوتی ہے
·    ڈیزائنر اپنے کام کو اسکرین پر مکمل کرسکتے ہیں
·    ڈیزائن کے پرنٹ آؤٹ لیے جا سکتے ہیں
·    ڈیزائن سائیکل اور پورے پروڈکٹ کو تیار کرنے کا خرچ کم ہو جاتا ہے 
·    ڈیزائنوں کو مستقبل میں استعمال کرنے کے لیے ڈیجیٹل شکل میں اسٹور کیا جاسکتا ہے۔

11

سیمولیشن سافٹ ویئر(Simulation Software)  آموزش، تحقیق، تربیت یا تفریح کے مقصد سے طبیعی یا تصوراتی نظاموں کو حقیقی شکل فراہم کرتے ہیں۔سوشل سیمولیٹر (Social Simulator) کا استعمال سماجی معاشی پہلوؤں(بحران پیدا ہونے کی صورت میں انتظام و انصرام، تال میل، مسابقت، بازار، سوشل نیٹ ورک حرکیات وغیرہ)کو سیکھنے اور ان کاانتظام و انصرام کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جنگی سیمولیٹر(Battlefield Simulator) کا استعمال جنگی کھیلوں کے طور پر کیا جاتا ہے جو جنگ و جدل کے نظریات پر کام کرتے ہیں۔تربیت کا کام حقیقی جنگی صورت حال کے بغیر انجام دیا جاتا ہے۔چونکہ جنگ فوجی دستوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی اور سماجی پہلوؤں سے بھی وابستہ ہے، اسی لیے کئی حکومتیں اپنی فوجی اور سیاسی پالیسیوں کو پرکھنے اور انھیں بہتر بنانے کے لیے سیمولیشن کا استعمال کرتی ہیں۔فلائٹ سیمولیٹر(Flight Simulator)  خاص طور سے پائلٹوں کومختلف نوعیت کی حقیقی صورت حال فراہم کرکے ان کی ٹریننگ کے لیے استعما ل کیا جا تا ہے۔یہ یا تو ویڈیو گیمس ہوتے ہیں یا پھر پورے سائز کی کاک پٹ ہوتی ہے جو کسی ہائڈرولک(یا برق میکانیکی)نظام پر لگی ہوتی ہے جسے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعہ کنٹرول کیاجاتا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ تربیت کے دوران کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا۔ORBITERایک فری فلائٹ سیمولیٹر ہے جو زمین کے کرۂ باد کی حدو د سے بھی تجاوز کرجاتا ہے۔سائنسی سیمولیٹر (Scientific Simulator) ڈیٹا کو استعمال کنندہ کے سامنے تصویری شکل میں پیش کردیتے ہیں جو کسی ماڈل پر مبنی ہوتے ہیں ؛ یہ پیش کیے جانے والے متغیرات/ڈیٹا کے مابین تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

آفس آٹو میشن اور پراسس مینجمنٹ سافٹ ویئر

مختلف قسم کے کاموں کو آسان اور کارگر بنانے اورخود کار انداز میں انجام دینے کے لیے سافٹ ویئر تیار کیے گئے ہیں۔تجارتی اور کاروباری ماحول میں اکیلا سافٹ ویئر قرض(Loan)، رہن رکھنے(Mortgage)اور بیمہ وغیرہ سے متعلق کاموں کو انجام دے سکتا ہے۔ سافٹ ویئر آفس کے روز مرہ کے کام، انتظامیہ کی کارروائیوں کو خود کار بنا سکتا ہے۔ اکاؤنٹنگ سافٹ ویئر مثلا ً Tally، GnuCash، Turbocash وغیرہ کا استعمال کمپنی کے اندر ادائیگی کھاتے(Accounts Payable)، وصولیابی کھاتے (Accounts Receivable)، پے رول اور ٹرائل بیلنس جیسے فنکشنل ماڈیول کے تحت مالی لین دین کے اندراج اور اس کی پروسیسنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ مختصراً کہا جائے تو ان سافٹ ویئر کے ذریعہ اخراجات، خریداری اور آمدنی وغیرہ کا حساب کتاب رکھا جاسکتا ہے۔
ٹیکس کا حساب لگانے والے سافٹ ویئر(Tax preparation software)ٹیکس کی تحسیب اور ٹیکس ریٹرن فارم کو بھرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں اور اس طرح تحسیبات کے مشکل کام سے ہمیں نجات دلاتے ہیں۔
ٹرانسپورٹیشن سافٹ ویئر(Transportation Software)کا استعمال کسی تنظیم کے اندر لاجسٹکس(Logistics)، ٹرکنگ(Trucking)، سپلائی چین، اور خودکار سپردگی (Automating Dispatching)، آپریشن اور مالی نظاموں (Financial System)میں کیا جاتا ہے۔

ضبط اور تجزیہ سافٹ ویئر(Control and Analysis Software)

ایسے سافٹ ویئر بھی ہیں جو ڈیٹا کو امیج یا چارٹ وغیرہ کی شکل میں پیش کرکے آلات کو کنٹرول کرتے ہیں۔اس زمرے سے تعلق رکھنے والے کچھ سافٹ ویئر مندرجہ ذیل ہیں:
·    طبی سافٹ ویئر (Medical Software)
·    میپنگ سافٹ ویئر(Mapping Software)

طبی سافٹ ویئر(Medical Software)

یہ سافٹ ویئر انجینئرنگ کی سب سے اہم شاخ ہے۔ آج بہت سے طبی آلات جن کا استعمال مریضوں کی نگرانی (Monitoring) کے لیے کیاجاتا ہے ، سافٹ ویئر کے ذریعہ کنٹرول کیے جاتے ہیں۔کچھ طبی سافٹ ویئر ذیل میں دیے گئے ہیں:
·    مانیٹر انٹر پریٹر(Monitors Interpreter):  یہ مریض کی دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، سانس لینے کی شرح سے متعلق سینسر کے ذریعہ ریکارڈ کیے گیے ڈیٹا کی ترجمانی کرنے کے لیے سافٹ         ویئر کا استعمال کرتے ہیں اور اسے مانیٹر پر مطلوبہ شکل میں ظاہر کردیتے ہیں۔
·    میڈیکیشن پمپ انٹر پریٹر (Medication Pump Interpreter): سافٹ ویئر کی مدد سے ان آلات کو اس طرح پروگرام کیا جاتا ہے کہ یہ مریض کوایک مخصوص         شرح سے خون ، نمکین محلول، دواؤں وغیرہ کی مطلوبہ مقدار پمپ کرتے رہتے ہیں۔
·     اینا لسس سافٹ ویئر(Analysis Software):  CATا سکینر جیسے کئی آلات ایسے خام ڈیٹا کی پیمائش کر لیتے ہیں جن کی ترجمانی ایک عام آدمی نہیں کر       سکتا۔اینا لسس سافٹ وئیر اس ڈیٹا کی دوبارہ تشریح کرکے امیجز کی تشکیل کرتے ہیں جنھیں ڈاکٹر حضرات پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔
·    میڈیکل انفارمیٹکس(Medical Informatics): یہ دواؤں کی تجارت اور اس کے معلوماتی پہلوؤں سے متعلق ہے۔

میپنگ سافٹ ویئر(Mapping Software)

انھیں جیوگرافک انفارمیشن سسٹم(GIS)بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا کو جغرافیائی انداز میں، جدولی شکل میں، نقشہ وغیرہ کی شکل میں ظاہر کرنے کے لیے ڈیٹا بیس مینجمنٹ، گرافکس اور اسپریڈ شیٹ وغیرہ جیسے پروگراموں کی صلاحیتوں کو متحدہ شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ کوئی بھی شخص جغرافیائی وقوع کی مناسبت سے ڈیٹا کے اندر مختلف قسم کے ڈیٹا اور اس کے پیٹرن اور تعلق کو دیکھ سکتا ہے۔ان      پیش کش(Presentation)کی بنیاد پر اہم سیاسی، سماجی ، تعلیمی فیصلے لیے جا سکتے ہیں اور پیشن گوئیاں(موسم ، بازار وغیرہ) کی جاسکتی ہیں جو کاشت کاروں، ماہی گیروں، پیشہ وروں،سیاست دانوں اور کارپوریٹ وغیرہ کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ Earthquake 3D، ArcGis،GeoNetwork OpenSource، Key Indicator Data System وغیرہ اس کی چند مثالیں ہیں۔شکل13.3میں دکھایا گیا نقشہ جو 2002میں پرائمری سطح پر استاد شاگرد نسبت (Teacher pupil ratio)کو ظاہر کررہا ہے Geo Media Professional 4کا استعمال کرکے تیار کیا گیا ہے۔

13.6 نینو ٹیکنا لوجی(Nanotehnoloy)

نینو ٹیکنالوجی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے میٹیریل، ڈیوائس(آلات) ، ٹولز وغیرہ کو ممکنہ حد تک چھوٹی شکل (یعنی ایٹم اور سالمہ کے سائز کے پیمانے پر) میں تیار کیا جاتا ہے۔ایک نینو میٹر 1/1,000,000,000 میٹر کے مساوی ہوتا ہے۔
نینو ٹیکنالوجی کی بدولت بہت سے فائدے حاصل ہوں گے اور انسانی زندگی زیادہ آرام دہ بن جائے گی۔ زیادہ تر یہ مانا جاتا ہے کہ نینوٹیکنالوجی ماحول دوست ہونے کے علاوہ توانائی کی کھپت کے معاملے میں انتہائی مؤثر ہے۔اس کے ذریعہ صحت سے متعلق اہم مسئلے حل ہونے کی بھی توقع ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایسی مصنوعات بنانے میں مدد ملے گی جو کم قیمت، مختصر سائز کی اور ہلکی ہوں گی۔
یہ مانا  جاتا ہے کہ نینوٹیکنالوجی کی مدد سے صحت، صفائی ستھرائی، غذائی تحفظ(Food Security)اور ماحولیات سے وابستہ مسئلوں کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔


12

خلاصہ

•    ہارڈ دسک ڈرائیو کی کارکردگی میں ہونے والا سدھار ڈیٹا کی شرح میں اضافہ، ڈیٹا کو تیزی سے تلاش کرلینا، زیادہ Cache سائز، بہت زیادہ انٹر فیس اسپیڈ، مائکرو کوڈ الگورتھم میں ترقی         اور سب سے اہم بہت زیادہ اسپنڈل اسپیڈ کا نتیجہ ہے۔
•    انٹر پرائزHDDs، ہائبرڈHDDs، فل ڈسک اینکرپشن (FDE)اور مائکرو الیکٹرو میکینکل سسٹم(MEMS)ہارڈ ڈسک ڈرائیو کے سلسلے میں ابھرتے ہوئے رجحانات ہیں۔
•    انٹر پرائز ہارڈ ڈسک ڈرائیو کو خاص طور سے کور سرور(Core Server)جیسے مشن کریٹیکل ایپلی کیشن اور بڑے پیمانے کے اسٹوریج سسٹم کے لیے بنایا جاتا ہے۔
•    ہائبرڈ ہارڈ ڈسک ڈرائیو روایتی HDDاور غیر طیران پذیر فلیش میموری کی متحدہ شکل ہے۔
•    فل ڈسک اینکرپشن(FDE)وہ ٹیکنالوجی ہے جس کے تحت ڈیٹا کو اسٹور کرنے سے پہلے اینکرپٹ(Encrypt)کیا جاتا ہے۔
•     MEMS  پر مبنی اسٹوریج نمایاں خصوصیات کے حامل ہیں مثلاً چھوٹا سائز، جھٹکوں کو برداشت کرنے کی طاقت اور بجلی کی کم کھپت
•    RAID(Redundant Array of Inexpensive Disk)کا استعمال ایک ہی ڈیٹا کو کئی ہارڈ ڈسک میں مختلف جگہوں پر اسٹور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
•    SANاورNASجیسے نیٹ ورک اسٹوریج کی مدد سے تنظیم کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تمام ڈیٹا کو ایک ایسے مقام پر اکٹھا کیا جاسکتا ہے اور معلومات کی تکرار کو کم کیا جا سکتا ہے۔
•    آن لائن اسٹوریج کا متبادل عام انٹر نیٹ کنیکشن کے ذریعہ چھوٹی کمپنیوں کے لیے کار گراسٹوریج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
•    3Dآپٹیکل ڈیٹا اسٹوریج ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ڈیٹا کو آپٹیکل ڈسک کے اندر کئی پرتوں(سطحوں) میں اسٹور کیا جاتا ہے۔
•    ہولوگرافک اسٹوریج سسٹم ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جہاں ڈیٹا کو صرف سطح پر اسٹور کرنے کے بجائے میڈیا کی پوری گہرائی میں اسٹور کیاجاتا ہے۔
•    یونیورس سیریل بس(USB)پیری فیرل (Peripherals)کو PCs، سیل فون، پرنٹر وغیرہ سے منسلک کرنے کے لیے پسندیدہ ٹیکنالوجی بن گئی ہے۔
•    وائر لیس یوایس بی کی مدد سے کم رفتار والے آلات کو کم خرچ پر منسلک کیا جاسکتا ہے۔
•    مائکرو پروسیسر کا آرکیٹیکچرسنگل پروسیسر سے تبدیل ہوکر پیوست (Embedded)کمپیوٹنگ ڈیوائس کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کئی مائکرو چپس اور پروسیسر متحد ہو کر ایک پیکج کی          تشکیل کرتے ہیں جو سسٹم کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔
•    جامع ، تیز رفتار اور توانائی کے معاملے میں کار گر نیم موصلوں(Semiconductors)کو تیار کرنے کے لیے نئے مادوں کی تلاش کے سلسلے میں تحقیق جاری ہے۔
•    بصری مواصلاتی نظام بصری سہارے (Optical Backbone)کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے لیے آلات کا استعمال کرتے ہیں۔
•    وائر لیس ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ہونے والی ترقی کے سبب زیادہ بھروسہ مند ، ہائیر بینڈ وڈتھ (Bandwidth)اور اسپیکٹرم کو کار گر طریقے سے استعمال کرنے والے آلات تیار کیے جا       سکے ۔
•    اوپن سورس سافٹ ویئر مفت میں دستیاب ہیں اور کوئی بھی اپنی ضرورت کے مطابق ان میں ترمیم کر سکتا ہے۔
•    سافٹ ویئر تیار کرنے کا کام زیادہ منظم ہو چکا ہے جہاں سب سے زیاہ زوراستعمال کنندہ کی ضروریات کا پتہ لگانے، نمونہ (Prototype) تیار کرنے اور اسے پرکھنے (Testing)پر دیا         جاتا ہے۔
•    کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن(CAD)پروگرام کا استعمال دو یا تین ابعادی آرکیٹیکچرل ڈرائنگ ، انجینئرنگ ڈرائنگ اور پروڈکٹ ڈیزائن کی تشکیل کے لیے کیا جاتا ہے۔کمپیوٹر ایڈڈ مینو                      فیکچرنگ(CAM)سسٹم مصنوعات کی تیاری میں مدد کرنے کے لیے CADکا استعمال کرتے ہیں۔
•    میپنگ سافٹ ویئر ڈیٹا بیس مینجمنٹ، گرافکس اور اسپریڈ شیٹ وغیرہ جیسے پروگراموں کی صلاحیتوں کو متحدہ شکل میں استعمال کرکے ڈیٹا کو جغرافیائی انداز میں ظاہر کرتے ہیں جس سے ڈیٹا         کے جغرافیائی پیٹرن کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
•    فوٹو امیج ایڈیٹر کی مدد سے آپ فوٹو اور دیگر امیجزمیں (جنھیں آپ نے آپٹیکل ا  سکینر کی مدد سے اسکین کیا ہے) پھیر بدل کر سکتے ہیں۔
•    نینو ٹیکنالوجی میٹیریل، ڈیوائس(آلات) ، ٹولز وغیرہ کو ممکنہ حد تک چھوٹی شکل (یعنی ایٹم اور سالمہ کے سائز کے پیمانے پر) میں تیار کرنے کے لیے ایک نیا شعبہ ہے۔

مشقیں

مختصر جواب والے سوالات

1۔    ڈیول کور(Dual Core)پروسیسر کی کوئی دو مثالیں دیجیے۔
2۔    Xeonپروسیسر کی خصوصیات بیان کیجیے۔
3۔    3-Dآپٹیکل اور ہولوگرافک میموری کے درمیان فرق بتائیے۔
4۔    نینو ٹیکنالوجی کیا ہے؟
5۔    کمپونینٹ ڈرائیون سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کیا ہیَ؟
6۔    گرافین کی مدد سے کمپیوٹر پروسیسنگ اسپیڈ میں کس قسم کی بہتری متوقع ہے؟

طویل جواب والے سوالات

1۔    پروسیسر کیا ہوتا ہے؟ مختلف قسم کے پروسیسر کے بارے میں بتائیے۔
2۔    پروسیسر میں استعمال کی جانے والی نئی ٹیکنالوجی کون کون سی ہیں؟
3۔    روایتی ڈسک کے مقابلے میںMEMSپر مبنی اسٹوریج کی کون سی طبیعی خصوصیات مختلف ہیں؟
4۔    3-Dآپٹیکل اسٹوریج ڈیوائس میں بائنری ڈیٹا کو کس طرح اسٹور اور ظاہر کیاجاتا ہے۔
5۔    نیٹ ورک اسٹوریج کیا ہے؟نیٹ ورک اسٹوریج کے نئے رجحانات بیان کیجیے۔
6۔    ہماری روز مرہ کی زندگی میں سافٹ ویئر کا رول بیان کیجیے۔مثالیں بھی دیجیے۔
7۔    میپنگ سافٹ ویئر استعمال کرنے کے کیا فائدے ہیں؟
8۔    ایجوکیشنل سافٹ ویئر اور کمپیوٹر گیم سافٹ ویئر کا موازنہ کیجیے۔
9۔    مختلف قسم کے ایپلی کیشن سافٹ ویئر کی زمرہ بندی ان کے استعمال کے مطابق کیجیے اور ہر ایک کی مثالیں دیجیے۔


سرگرمیاں

1۔    مختلف قسم کے پروسیسر کا تقابلی چارٹ تیار کیجیے۔
2۔    آپ جن اسٹوریج ڈیوائس (مثلاً ہارڈ ڈسک، CDs، DVDs، فلیش ڈسک وغیرہ) کا استعمال کرتے ہیں ان کی ڈیٹا ٹرانسفر اسپیڈ معلوم کیجیے اور ان کا موازنہ کیجیے۔
3۔    کوئی خراب CDیا DVDلیجیے اور ان کے کراس سیکشن کامطالعہ کیجیے۔ ان میں موجود مختلف پرتوں تفاعلیتوں کا مشاہدہ اور موازنہ کیجیے۔
 4۔    ابھرتے ہوئے ہر ایک ڈیٹا اسٹوریج ڈیوائس (جس کا آپ نے مطالعہ کیا ہے)کی کمپنی، اس کا تجارتی پیمانے پر پروڈکشن کی نوعیت کا پتہ لگائیے اور یہ بھی معلوم کیجیے کہ اس کا آغاز کیا            جا چکا ہے یاکیا جائے گا  ۔
5۔    کچھ ایسی تنظیموں یا اداروں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے جہاں نیٹ ورک اسٹوریج سیٹ اپ لگا ہو۔ اس کا مطالعہ کیجیے۔

حوالہ جات

کتابیں

Emerging Web Services Technology by Cesare Pautasso and Christoph Bussler,
Publisher: Birkhause Verlag, P.O. Box 133, CH -4010 Basel, Switzerland

URLs

1.    www.wikipedia.org   
2.    www.intel.com
3.     www.amd.com
4.    www.cyrix.com
5.    www.research.ibm.com
6.    www.ieeexplore.ieee.org
7. www.articlesbase.com
8.    www.science.nasa.gov
9.    www.experts-exchange.com
10.   www.ietcom.oxfordjournals.org
11.   www.crnano.org
12.   www.webopedia.com