Skip to content
Takhleeqi Jauhar Chapter-2

اکائی- I

تخلیقیت اور تحریر 

Pic1 Capture1Pic3 Capture1

Pic5 Capture1Pic2 Capture1

باب1 :  تخلیقیت کیا ہے؟

1.1  تخلیقیت کے مختلف مظاہر
2.1 روز مرّہ زندگی میں تخلیقیت
3.1  زبان کے ذریعے تخلیقیت

باب2 :  تحریر میں تخلیقی اظہار

2.1  ادبی تحریر   
2.2  میڈیا تحریر
2.3  ترجمہ

باب3 :  جملہ ، پیراگراف اور بیان کے اسالیب

3.1 جملے کی ساخت
3.1.1  لفظوں کی مناسب ترتیب
3.1.2  زورِ بیان/ اثر آفرینی
3.2  پیراگراف کی ترتیب
3.2.1 پیراگراف کے ضروری عناصر
3.3 زبان و بیان کے مختلف اسالیب
3.3.1 سادہ اسلوب
3.3.2 خطیبانہ اسلوب
3.3.3 پُرشکوہ اسلوبِ بیان

Pic6 Capture1

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سوداے خام خونِ جگر کے بغیر

        اقبالؔ



اس اکائی میں تخلیقیت کی تعریف کا تعین کیا گیا ہے، تخلیقیت کے عمل اور زندگی میں اس کے مختلف مظاہر پر بحث کی گئی ہے، اس تخلیقی جوہر کو موضوع بنایا گیا ہے جسے خدا نے ہر انسان کو ودیعت  کیا ہے۔ اس جوہرکو قائم رکھنے کے لیے مسلسل مشق اور ریاضت کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟    ہم اسے کس طرح مزید نکھار اور سنوارسکتے ہیں؟ ان سوالات کے جواب بھی اس اکائی میں فراہم کیے گئے ہیں۔
Pic7 Capture1
(1938-77/1872)

باب   1

تخلیقیت کیا ہے؟

زمین کی تہوں میں بیج سے انکُر کا پھوٹنا کیا ہے؟ زمین کے سینے کو پھاڑ کر پیڑ کے تنے کا سر باہر نکالنا کیا کہلائے گا؟ تنے کے اندر سے شاخوں اور شاخوں سے ننھی ننھی ٹہنیوں کے پھوٹنے کو کیا نام دیا جائے گا؟ پھر انھیں نرم ونازک ٹہنیوں سے کونپلوں کا برآمد ہونا، کلیوں کا چٹکنا اور پھر ان کا پھول اور پھل کا روپ اختیار کرنا کیاہے؟ یہی تو تخلیقیت ہے۔ فطرت کا ہر ایک جزو، ہر ایک گوشہ تخلیقیت سے سرشار ہے۔ انسان خود اس خالق عظیم کا تخلیق کردہ شاہ کار ہے جس نے اسے گراں قدرتخلیقیت کا اہل بنایا ہے۔
Pic8 Capture1
تخلیقیت ایک داخلی رَو کا نام ہے جسے جِبِلّت سے بھی موسوم کیا جاتاہے۔ یعنی وہ صلاحیت جو خداداد کہلاتی ہے اور جسے کم یا زیادہ ہر ایک کو ودیعت کیا گیاہے۔ بہت سی جبلّتوں میں سے ایک نقل ہے۔ نقل کا عمل شعوری بھی ہوتا ہے اور غیر شعوری بھی۔ بچے میں ایک خاص عمر تک نقل کا عمل غیر شعوری ہوتا ہے۔ اسے نقل سے گہری طمانیت ملتی ہے۔ وہ نقل اس لیے کرتا ہے کہ جلد از جلد ویسا ہی بننا چاہتا ہے جیسا وہ اصل کو دیکھ رہا ہے۔ پہلے پہل اس کی نقل کی کوششوں میں ناپختگی ہوتی ہے۔ وہ مسلسل اس ادھ کچرے پن کو دور کرنے کی سعی بھی کرتا ہے۔ کبھی وہ بہت جلد کامیابی حاصل کرلیتا ہے، کبھی اسے بارہا ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 


Pic9 Capture1

اسے ہر نقل کی کوشش میں تھوڑی اکتاہٹ ہوتی ہے تو تھوڑا لطف بھی آتا ہے۔ نقل کی یہی کوشش تخلیقیت کا پہلا مرحلہ ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی نقل کردہ چیز یا فن پارہ اپنے اصل سے ملتا جلتا تو ہوسکتا ہے لیکن مکمل طور پر اصل کے مطابق نہیں ہوتا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کے اصل کے مطابق نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ نقل کرنے والا خواہ بچہ ہو کہ بڑا محض عقل و شعور ہی سے کام نہیں لیتا، تخیّل سے بھی کام لیتا ہے۔ جہاں تخیل کی سرگرمی ہوگی وہاں ترکیب کا عمل بھی ہوگا۔ جہاں ترکیب کا عمل ہوگا وہاں نقل میں کچھ نہ کچھ نیا ضرور شامل ہوجاتا ہے۔ جس کے باعث وہ چیز جس کی نقل کی جاتی ہے وہ ہو بہو رنگوں یا لفظوں میں منتقل نہیں ہوتی، اسے کچھ بدلنا ضرور پڑتا ہے ۔ترکیب کے عمل کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ اس میں بہ یک وقت کئی قوتیں کام کرتی ہیں۔ جیسے تجربہ، تخیل اور وجدان۔ یہ صلاحیتیں جن کا تعلق تخلیقیت سے ہے، کبھی سلسلہ وار واقع نہیں ہوتیں۔نقل کی وہ کوشش جو شعوری طور پر شروع ہوتی ہے، آگے چل کر غیر شعوری بن جاتی ہے۔ کبھی یہی کوشش غیر شعوری طور پر شروع ہو کر شعور کے عمل میں بدل جاتی ہے۔ کوئی پیدائش سے مصور یا موسیقار نہیں ہوتا اور نہ کوئی پیدائشی شاعر یا افسانہ نگار ہوتا ہے۔اس میں صرف تخلیقیت کا جوہر ہوتا ہے اسے پہلے پہل نقل کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور نقل کے عمل کا وقفہ مشق کا وقفہ ہوتا ہے۔ جب سُر اور تال پر گرفت مضبوط ہوجاتی ہے تو ہم موسیقار بن جاتے ہیں اور جب رنگوں اور خطوط کی تمیز پیدا ہوجاتی ہے تو ہم ایک مصور کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں۔ لفظوں کو سلیقے اور موزونیت سے جمانا آجاتا ہے تو پھر شاعر بننے میں دیر نہیں لگتی۔

Pic11 Capture1
Pic10 Capture1
Pic12 Capture1

سرگرمی   1.1

تخلیقیت کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں مثلاً مصوری، سنگ تراشی، مجسمہ سازی، رقص، موسیقی، گلوکاری وغیرہ۔ مصوری میں رنگوں، لکیروں اور شکلوں کی بڑی اہمیت ہے۔ کسی بڑے مصوّر مثلاً مائیکل اینجیلو، پکاسو، لیوناردودا ونسی، عبدالرحمن چغتائی، ایم۔ ایف۔ حسین وغیرہ کی مصوری (Paintings) کے نمونے حاصل کیجیے اور دیکھیے کہ ان کے یہاں کن رنگوں، لکیروں اور شکلوں کا زیادہ استعمال ملتا ہے۔ اسے اپنے الفاظ میں بیان کیجیے اور ہر تصویر پر بھی اظہار خیال کیجیے۔
Pic13 Capture1
Pic14 Capture1

1.1 تخلیقیت کے مختلف مظاہر  

فنونِ لطیفہ کے دائرے میں آنے والے ہر فن کے اپنے الگ تقاضے ہوتے ہیں۔ ایک فن میں مہارت حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے فنون بھی دسترس میں آگئے۔سنگ تراش پتھر میں اپنے مطلوبہ مجسمے کی شکل دیکھ لیتا ہے۔ مصّوری اور خطاطی میں رنگوں ، خطوط اورہئیتوں کی سوجھ بوجھ ضروری ہے۔ رقّاص اپنے چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات میں ایک ایسے تناسب اور ہم آہنگی قائم کرلیتا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ موسیقار اور گلوکار کے لیے سُروں کی پہچان پہلی شرط ہے۔صحیح سُر کے بغیر نغمہ وجود میں نہیں آتا۔ اسی طرح فنِ تعمیر میں بھی ہنر اور مشاقی کے ساتھ ساتھ اپنے تخیّل سے کام لینے کا سلیقہ ضروری ہے۔ کسی عمارت کا نقشہ پہلے دماغ میں بنتا ہے، پھروہ کاغذ پر اترتا ہے اور اس کے بعد عمارت تیار کی جاتی ہے۔یہی صورت حال ادا کاری اور نقّالی کے ساتھ ہے۔ ہر فن کی اپنی شرطیں ہیں اور ہر ایک کے لیے کوئی خاص صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
Pic15 Capture1

سرگرمی   1.2

اپنے ارد گرد کے ماحول اور منظر کو غور سے دیکھیے:
Pic16 Capture1
ایسی سرگرمیوں اور مناظر کی فہرست بنائیے جن میں آپ کو تخلیقیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔


تخلیقیت کا دار ومدار ماحول اور مسلسل توجہ پر بھی ہے۔اسی لیے مٹی کے برتن گڑھنے والے کوزہ گر اور تصویر بنانے والے مصور یا شعر کہنے والے فن کار میں بھی اسی نسبت سے فرق پایا جاتا ہے۔برتن گڑھنے والے کے لیے انسان کی روز مرہ کی ضرورت اہم چیز ہے اور اس کی کوشش عموماً ایک ہی طرح کی چیزیں تیار کرنے کی طرف ہوتی ہے۔ لیکن وہ ان چیزوں میں بھی ساخت اور رنگ کی سطح پر کچھ نہ کچھ نیا شامل کرنے کی ضرورکوشش کرتا ہے جنھیں دیکھ کر کوزہ گر/ کمہار خود بھی خوش ہوتاہے اور دوسرے بھی اسے دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن جو فن کار زبان کے وسیلے سے کام لیتے ہیں ان کے فن میں تنوع ہوتا ہے۔ کسی نئے مضمون کے علاوہ اگر وہ کوئی فرسودہ مضمون بھی دوہراتے ہیں تو اس کا انداز بھی اس لیے مختلف اورنیا ہوتا ہے کہ وہ تخلیقی زبان کا استعمال ہر بار ایک نئے طریقے سے کرتے ہیں۔ یہ زبان دوسرے علوم کی زبان سے اسی معنی میں مختلف ہوتی ہے کہ اس کا مقصد کسی علم کی فراہمی نہیں ہے بلکہ انسانوں کو مسرت بہم پہنچانا ہے۔
Pic13 Capture1

سرگرمی   1.3

اپنے گھر کے کسی ایک کمرے کی سجاوٹ کا منصوبہ بنایئے۔ سجاوٹ سے پہلے کمرے کی مختلف تصاویر کھینچیے۔ اس کے بعد بھائی بہنوں کی مدد سے کمرے کو نئے سرے سے سجایئے۔ خیال رہے کہ کمرے میں موجود چیزوں کی ترتیب اور جگہوں کو بدل کر ہی سجاوٹ کا کام کرنا ہے، باہر سے چیزیں نہیں لانی ہیں۔ سجاوٹ کے بعد کمرے کی کئی تصویریں کھینچیے اور ان کا موازنہ پہلے کھینچی گئی تصویروں سے کیجیے۔ اپنے احساسات اورتاثرات کو قلم بند کیجیے۔ تصاویر کو دوستوں کو دکھائیے اور اُن کی رائے جانیے۔

  1.2    روز مرّہ زندگی میں تخلیقیت

انسان اپنی تغیّرپسند طبیعت کے سبب ہر لمحے اور ہر قدم پر ایسا کچھ کرنا چاہتا ہے جس سے اس کے آس پاس کی صورتِ حال بدل جائے، کوئی نئی چیز پیدا ہوجائے، پرانا نیا ہوجائے اور ماحول میں تازگی کا احساس ہو۔دل ودماغ کو لطف و انبساط حاصل ہوتا رہے۔اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں بھی رنگ اور رس بھرتا رہے۔ انسان کی یہی خواہش، اس کے باطن کی یہی رَواور اس کا اظہار اس کی تخلیقیت ہے۔ اسی تخلیقیت کے اظہار کے لیے ادب و فنون وجود میں آئے ہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ صرف ادب اور فنون کو تخلیق کرنا ہی تخلیقیت ہے بلکہ تخلیقیت کی دوسری صورتیں بھی موجود ہیں۔ زندگی کی الجھنوں کو سلجھانے، فطرت اور کائنات کوسمجھنے اور سمجھانے، معاشرے میں امن و آشتی برقرار رکھنے اور انسانوں کے ذہنی و قلبی اطمینان اور ان کے کیف و نشاط میں اضافہ کرنے والے چھوٹے چھوٹے کام بھی تخلیقیت کے مظہر ہوسکتے ہیں۔مثلاً کسی اداس آدمی کو ہنسادینا، کسی کے بوجھ کو ہلکا کردینا، کسی بھٹکے ہوئے مسافر کو راہ دکھادینا، کسی لاچار اور بے بس کی مددکردینا ، کسی مسئلہ کو سلجھادینا یا سلجھا نے میں ہاتھ بٹا دینا۔ یہ سارے کام بھی تخلیقی روکے تحت ہی ہوتے ہیں۔ تخلیقی رو کے زیرِ اثر ہی اظہار کے نت نئے وسیلے وجود میں آتے ہیں۔  

سرگرمی   1.4

Pic17 Capture1
یہ تصویر آپ سے کیا کہتی ہے؟ اسے دیکھ کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
Pic18 Capture1


’لفظ‘ انسان کے سماجی رشتے کا پہلا عمل ہے اور اسی لیے زبان انسان کی سب سے اہم سماجی سرگرمی ہے اور چوں کہ ’ادب‘ بھی لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے۔ اس لیے خود ادب بھی بنیادی طور پر ایک سماجی عمل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سماجی عمل ادب کے وجود میں، اس کے مزاج میں ، اس کے خون میں شامل ہے اور یہی اس کا پہلا بنیادی رشتہ ہے۔ اسی رشتے کی وجہ سے ادب انسان کے سماجی رشتوں کا سب سے اہم مظہر بن کر قوم کی روح کے اظہارکا سب سے بڑا وسیلہ بن جاتا ہے۔
–   ڈاکٹر جمیل جالبی
PIc20 Capture1

سرگرمی   1.5

  اپنے اسکول کو خوبصورت بنانے کے لیے آپ کون سا ایک کام کرنا چاہیں گے۔ اسے لکھیے اور اس کا ایک منصوبہ بناکر استاد کو پیش کیجیے۔
Pic18 Capture1


تخلیقیت کے سلسلے میں سب سے پہلا مرحلہ تجربہ ہے۔ خارجی زندگی اور دنیا کا مشاہدہ، زندگی کی گہری سمجھ عطا کرتاہے اور ہم زندگی کے تئیں بہت حسّاس ہوجاتے ہیں، پھر وہ ویسی نظر نہیں آتی ہے جس کا تجربہ عام لوگ کرتے ہیں۔تخلیق کار اسے اپنا جذباتی تجربہ بنالیتا ہے۔ اس طرح وہ اردگرد کی چیزوں اور واقعات کو عقل کے بجائے جذباتی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ اپنے فن میں ان کی ہو بہو نقل پیش نہیں کرتا، انھیں از سر نو خلق یعنی Reproduceکرتا ہے۔ ازسر نو خلق کرنے کے اس عمل میں حقیقت پھر وہ حقیقت نہیں رہتی جس کا ہم نے مشاہدہ کیا تھا بلکہ وہ حقیقت کا تاثر ہوتا ہے، حقیقت کی ایک نئی بدلی ہوئی شکل ہوتی ہے جسے ہم حقیقت کے بجائے ایک نئی حقیقت کہتے ہیں۔
Pic21 Capture1
انسانی تجربہ جس کا ہمارے مشاہدے اور محسوسات سے گہرا تعلق ہے، تخلیقیت کا بیج اسی سے پھوٹتا ہے۔ تجربہ محض بصارت کے ذریعے ہی میسر نہیں آتا بلکہ پانچوں حواس میں سے کسی ایک حِس (Sense)سے حاصل ہونے والی کیفیت کا نام تجربہ ہے۔ سائنس داں اس کیفیت پر غیر جذباتی طریقے سے غورو خوض کرتا اور عقل کی روشنی میں اسے تجربے سے گزارتا یا کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے لیکن ایک تخلیق کار کے لیے اس سے محض جذباتی رشتہ قائم کرنا ہی کافی ہوتا ہے جو تخلیقیت کے لیے تحریک کا کام کرتا ہے۔ شاعر کی زبان بھی جذباتی ہوتی ہے اور گلوکار کی آواز میں بھی مٹھاس اور گھلاوٹ نہ ہو تو وہ سننے والے کے دل میں کسک نہیں پیدا کرسکتی۔ جہاں تخلیقیت ہوگی وہاں بے ساختگی ہوگی اور جہاں بے ساختگی ہوگی وہاں تاثیر بھی گہری ہوگی۔ تاثیر میں ہی اس کا اصل حسن بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔

سرگرمی   1.6

آپ کے گھر میں مختلف لوگ الگ الگ کام کرتے ہیں۔ ان میں سے کن کن کے کاموں میں آپ کو تخلیقیت نظر آتی ہے اورکیوں؟ مناسب مثالوں کے ساتھ بیان کیجیے۔

سرگرمی   1.7

اپنے کسی خیال کو تحریر اور تصویر دونوں شکل میں پیش کیجیے۔
Pic18 Capture1

ترے وعدےپہ جیےہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ  خوشی سے مرنہ جاتےاگر اعتبار ہوتا

  (مرزا غالبؔ)
Pic22 Capture1
دادی نانی کا ہر روز کوئی نئی کہانی گڑھنا اور اپنے ننھے منّوں کو سنانا،مائوں کا ترنّم کے ساتھ ہولے ہولے لوری سنانا، گھر کی ہر چیز کو قرینے سے رکھنا، صفائی ستھرائی رکھنا، دروازوں اور کھڑکیوں پر رنگ برنگ پردے لگانا، ڈرائنگ روم کو طرح طرح کے گلدانوں سے سجانا کیاہے؟ ایک سطح پر روز مرّہ کے یہ سارے کام تخلیقیت ہی سے سروکار رکھتے ہیں۔ ان اعمال سے ہمیں مالی فائدے نہیں ملتے، انھیں دیکھ کر ہمارے جذبوں کو تسکین ملتی ہے اور ہم لطف اندوز ہوتے ہیں۔
بچے گھروندے بناتے ہیں، کھلونوں کو توڑتے اور پھر انھیں بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کھیل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے راستے نکالتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں حرکات وسکنات ہی سے کام نہیں لیتے، آواز کے اتار چڑھائو سے بھی کام لیتے ہیں۔ اپنے چلنے پھرنے میں بھی وہ نت نئے طرز اختیار کرتے رہتے ہیں اور خود اپنی حرکات وسکنات پر خوش ہوتے ہیں۔ اس طرح کے تمام اعمال بھی کسی نہ کسی سطح پر ان کے تخلیقی جوہر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان سے انھیں کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچتا، کیوں کہ تخلیقیت کا بنیادی مقصد جذباتی طمانیت فراہم کرنا ہے جسے روحانی سرخوشی سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
Pic23 Capture1
ہمیں اپنی روز مرّہ زندگی میں اکثر بہت سی نئی چیزوں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔ کچھ چیزیں انسانی محنت اور آلات کے ذریعے وجود میں آتی ہیں کچھ کا تعلق فطرت کے مظاہر سے ہے اور کچھ کا ذریعۂ اظہار زبان ہوتی ہے۔ ہمیں بخوبی علم ہے کہ تخلیقیت ایک فطری صلاحیت کا نام بھی ہے اور اسے حاصل بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس جوہر کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل مشق اور ریاضت ضروری ہے ۔ سماجی ماحول ، شخصیت، زندگی کے رنگارنگ تجربات بھی تخلیقیت کی تحریک کا ذریعہ بنتے ہیں،اس کو جِلا بخشتے ہیں اور کبھی کبھی اتفاقاً بھی تخلیقیت کا اَنکُر پھوٹتا ہے اور بے اختیار کوئی نئی چیز پیدا ہوجاتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تخلیقیت بھی ایک فن ہے جس کی تربیت کی جاسکتی ہے۔ یقینا اس کی تربیت کی جاسکتی ہے لیکن ذہنی رجحان اور ایک خاص قسم کے ذوق اور تخیل کی صلاحیت کے بغیر تخلیقیت برقرار نہیں رہ سکتی۔  
Pic24 Capture1

1.3 زبان کے ذریعے تخلیقیت  

زبان کسی بھی خیال کو مناسب لفظوں میں بیان کرنے اور اسے قلم بند کرنے کاایک ذریعہ ہے۔ خیال یا کسی تصور کا اظہار ہی سب کچھ نہیں ہے۔موضوع کے مطابق لفظوں کا انتخاب اور مناسب طریقے سے انھیں ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ جب ہی جملے ڈھلے ڈھلائے اور مکمل صورت میں تشکیل پاتے ہیں۔ اس قسم کی زبان کو تخلیقی زبان کہا جاتا ہے۔  
غیر رسمی مواقع پر بھی تخلیقی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ استاد کا لیکچر ہو کہ کسی رہنما کا خطاب، کوئی مباحثہ ہو یا کسی انٹرویو میں سوالوں کے جواب دینے کا موقع، تخلیقی زبان ہی ایک مؤثر آلۂ کار کے طور پر کام آتی ہے۔ بعض صورتوں جیسے مکتوب نگاری میں اکثر تخلیقی زبان کا اہتمام ضروری نہیں ہوتا ، خاص طور پر جب ہم اپنے کسی بے تکلف دوست کو خط لکھتے ہیں یا ای میل یا ایس ایم ایس کے ذریعے کوئی پیغام پہنچانا چاہتے ہیں تب ہمارے جملوں میں وہ نظم و ضبط اور تکمیل کاپہلو قائم نہیں رہ پاتا جو تخلیقی زبان کے لیے لازمی شرط ہے۔تخلیقی زبان اس عام بول چال کی زبان سے مختلف ہوتی ہے جس میں افعال اور اسما کو غیر رسمی طریقے سے برتا جاتا ہے اور جملوں میں بھی ادھوراپن پیدا ہوتا ہے۔  
Pic25 Capture1
فنّی شہ پارے پر بحث مباحثے کا سلسلہ گزشتہ کئی صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ معروف فلسفی افلاطون (Plato) نے فیڈرس (Phadrus) میں اس بات پر اصرار کیا ہے کہ جس خیال کو ادا کیا جائے اس کا منظم ہونا ضروری ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ جو اقتباس اخذ کیے جائیں انھیں توجہ کے ساتھ پڑھا جائے، ان سے لطف لیا جائے اور ان سے تربیت حاصل کی جائے۔ اس کا اصرار ہے کہ :
تقریر کی زبان میں یکسانیت اور ہمواری ہونی چاہیے۔

سرگرمی   1.8

روز مرّہ کے معمولات میں آپ کچھ ایسا کرتے ہیں جس سے آپ کو دلی مسرت حاصل ہوتی ہے، اس کے بارے میں تفصیل سے لکھ کر اپنے استاد کو دکھائیے۔
Pic18 Capture1
Pic26 Capture1

سرگرمی   1.9

ہر انسان کے اندر تخلیقیت کا جوہر موجود ہوتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ میں تخلیقیت ہے؟ آپ اسے کس طرح ظاہر کرنا چاہیں گے اور اس کے لیے آپ کو کس طرح کی تربیت اور مشق کی ضرورت ہے، لکھیے۔
Pic18 Capture1

  بڑے گھر کی بیٹی  

آنندی دیوی اپنے نئے گھر آئیں تو یہاں کا رنگ ڈھنگ کچھ اور ہی دیکھا۔ جن دلچسپیوں اور تفریحوں کی وہ بچپن سے عادی ہو رہی تھیں ان کا یہاں وجود بھی نہ تھا۔ ہاتھی گھوڑوں کا کیا ذکر کوئی سجی ہوئی خوب صورت بہلی بھی نہ تھی۔ مکان میں کھڑکیاں تک نہ تھیں۔ زمین پر فرش، نہ دیواروں پر تصویریں۔ یہ ایک سیدھا سادا دہقانی مکان تھا۔
آنندی نے تھوڑے ہی دنوں میں ان تبدیلیوں سے اپنے تئیں اس قدر مانوس بنا لیا گویا اس نے تکلّفات کبھی دیکھے ہی نہیں۔
Pic27 Capture1

   (1880-1936)   پریم چند  

سامعین کے ذوق کے مطابق زبان کا استعمال اور اسلوب ہو یعنی زبان کا استعمال موقع کی مناسبت سے ہونا چاہیے۔ ◊
   بنیادی مقصد ہے اس کا شروع سے آخر تک لحاظ رکھنا چاہیے۔ 
   سامع اور مقصد کے مطابق ہو۔ یعنی مخاطبے میں جو بنیادی مقصد ہے اس کا شروع سے آخر تک لحاظ رکھنا چاہیے۔  (Discourse) مخاطبہ  ◊
ماہر لسانیات دریدا(Derrida) کا نظریہ ہے کہ تقریری یا تکلمی (بات چیت) زبان ہی اولیت رکھتی ہے۔  تحریری زبان کا درجہ دوم ہے۔
  اس طرح اگر ہم تحریری اور تقریری زبان کے فرق کو بحث کا موضوع بنائیں تو اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ دونوں سطح پر زبان کا استعمال بے حد توجّہ کا تقاضا کرتاہے اور دونوں میں جملے مکمل ہونے چاہئیں۔ البتہ بول چال کی زبان اور غیررسمی تکلّمی زبان میں جو فرق ہے اسے بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔
Pic28 Capture1
تخلیقیت جب زبان میں ڈھلتی ہے تو کہانی بن جاتی ہے ، شاعری ہوجاتی ہے، ناول کا روپ لے لیتی ہے، ڈرامے کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور زبان فکر و خیال کے اظہار میں جادو بھر دیتی ہے ، اس کی معنویت کووسعت و گہرائی عطا کردیتی ہے اور اس طرح   ایک معمولی خیال بھی زبان میں ڈھل کر کہا ں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ تخلیقی زبان اور عام زبان میں یہی فرق ہوتا ہے کہ عام زبان میں صرف معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں جبکہ تخلیقی زبان میں لطف وانبساط بھی فراہم کیا جاتا ہے۔مثلاً جب یہ کہا جائے کہ’’میں ایک ایسی خبر لایا ہوں جسے سن کر تم چونک پڑو گے۔‘‘ تو یہ ایک عام زبان کی مثال ہوگی اور اسی بات کو جب سعادت حسن منٹو اپنی کہانی ’’نیا قانون‘‘ میں کہتا ہے ’’لا ہاتھ دے، ایسی خبر سناؤں کہ تری گنجی کھوپڑی پر بال اُگ آئیں۔‘‘تو یہ تخلیقی زبان کی مثال بن جائے گی۔
Pic29 Capture1
Pic30 Capture1
زبان میں تخلیقیت یوں ہی نہیں ظاہر ہوتی بلکہ قوتِ متخیّلہ اس میں تشبیہ ، استعارہ ، علامت اور دوسری شعری صنعتوں کی مددسے رنگ بھرتی ہے۔اسی انتخاب اور ترتیب کی بدولت موزونیت پیدا ہوتی ہے جس سے موسیقی پھوٹتی ہے اورجس سے کوئی خیال یا جذبہ تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔مثلاًمیرؔ کے اس شعرمیں لفظوں کے انتخاب اور ان کی مخصوص ترتیب سے ہی موسیقی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔

پتّا پتّا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

اسی طرح میرؔ نے مندرجہ ذیل شعر میں محض لفظوں کے انتخاب اور ان کی ترتیب سے تصویر بنادی ہے ۔  

رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ
Pic31 Capture1