Skip to content

باب  2 

تحریر میں تخلیقی اظہار

پچھلے باب میں ہم نے تخلیق اور تخلیقیت کے بارے میں پڑھا۔ اس باب میں ہم تحریری شکل میں ظاہر ہونے والی تخلیقیت پر بات کریں گے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ زبان تخلیقیت کے بنیادی وسائل میں سے ایک ہے ۔ زبان ہمیں اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ اظہار زبانی بھی ہوسکتا ہے اور تحریری بھی۔ تحریر میں تخلیقیت کے اظہار کی بہت سی شکلیں ہیں۔ واضح طور پر اس کے تین روپ ہیں— ادب، میڈیا اورترجمہ۔ آئیے ان تینوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔


خاص واقعات یا ٹھوس حقائق یاجزئیات میں معنویت تلاش کرنا اور اس کا احساس عام کرنا دانشوری ہے۔ دانشور دوسروں سے زیادہ مرتب اور منظم ذہن رکھتا ہے اور وہ انسان اور سماج کے عمومی اور بنیادی عناصر کا نبّاض ہوتا ہے۔ یہ ایک تخلیقی جوہر ہے جو ایک طرف سائنس ، اسکالرشپ، فلسفہ، دینیات، ادب اور آرٹ میں اپنے کو ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف روایت سے بھی ایک رشتہ رکھتا ہے
  Pic2 Capture1 آلِ احمد سرور

سرگرمی  1.10

ایسی نظمیں تلاش کیجیے جن میں :
◊ کسی  قدرتی منظر کو بیان کیا گیا ہے۔             
◊ کسی آدمی یا شے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔
◊  کسی تہواریا میلے ٹھیلے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہر نظم کو غور سے پڑھیے اور دیکھیے کہ شاعر نے اپنی بات کہنے کے لیے کس طرح کی زبان استعمال کی ہے؟ اُن الفاظ کی نشاندہی کیجیے جن سے بات میں زور پیدا کیا گیا ہے۔

Pic18 Capture1

2.1    ادبی تحریر

ایسی تحریر جس میں ہم اپنے تجربات واحساسات کو اس طرح ظاہرکریں کہ وہ ہمارے اور پڑھنے والے کے لیے مسرّت اور بصیرت کا باعث ہو، ’ادبی تحریر‘ کہلاتی ہے۔ دراصل زبان کو سجا سنوار کر لکھنا ہی ادب ہے جو ہمارے جمالیاتی احساس کو طمانیت بخشتا ہے۔ادبی تحریر میں ہمارا مقصد مسرّت کا حصول یا جمالیات کی تسکین کے علاوہ اپنی بات زیادہ بہتر اور مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچانا بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی بات کو سجا سنوار کر اور مؤثر انداز میں قاری تک پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس زبان کی اچھی خاصی 

 غزل

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پہ جیے ہم، تو یہ جان، جھُوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
کوئی میرے دل سے پُوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست، ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گُسار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

  غالبؔ

واقفیت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ’’زبان کی تہذیب‘‘ سے بھی واقفیت لازمی ہے۔ ادبی تحریر میں تخلیقیت کا عنصر بہت اہم ہے۔ لہٰذا تحریر میں نئے تجربات، نیا انداز اور نئی بات شامل کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ تخلیقیت کا یہی عنصر انسانوں کو عروج اور ادب کو ترقی عطا کرتا ہے۔ تاہم ’’خیال کی پرواز‘‘یا’’ قوتِ متخیلہ‘‘ اور ’’ زبان پر گرفت‘‘ یا ’’مہارت‘‘ ادبی تحریر کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
ہم اپنے آس پاس کی دنیا سے ادبی تحریر کے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں انسانوں، انسانی سماج،ماحولیات اور انسانی زندگی کے مسائل کے تئیں حساس ہونا لازمی ہے۔ ایک اچھا قلم کار بننے کے لیے ہمیں اچھا قاری بھی ہونا چاہیے کیوں کہ ایک اچھا قاری دوسروں کی تخلیقات کا مطالعہ اور تجزیہ کرکے ان پر ردّ عمل کا  اظہار کرتا ہے اور یہیں سے تخلیقی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ وہی قلم کار اچھا ہوتاہے جو مشاہدے کے بعد غور وفکر کرتا ہے، ردّ عمل ظاہرکرتا ہے، خیالات بُنتاہے اور صحیح موقع پر صحیح لفظ لکھتا ہے۔
Pic3 Capture2

ذیل میں ’’ادبی تحریر‘‘ کے کچھ نمونے پیش کیے جارہے ہیں:

 گرم کوٹ  :  راجندر سنگھ بیدی
’’نئے نئے سوٹ پہننا اور خوب شان سے رہنا ہمارے افلاس کا بدیہی ثبوت ہے۔ ورنہ جو لوگ حقیقتاً امیر ہوتے ہیں، وہ ظاہری بناوٹ کی چنداں پروا نہیں کرتے۔‘‘  
Pic4 Capture2

غور کیجیے
اس اقتباس میں بیدی نے ہمارے معاشرے میں  غریبی کے مسئلے اور ظاہرداری یا دکھاوے کی طرف اشارہ   کیا ہے۔
غور کیجیے
نظم کے اس حصّے میں خیال کی پرواز اور دو بے زبانوں کے درمیان ڈرامائی گفتگو کی لطیف مثال پیش کی گئی ہے
پہاڑ اور گلہری  :  اقبال
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم، تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چیز ہے، اس پر غرور! کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور! کیا کہنا!
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے؟
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
Pic5 Capture2
میں ، وہ  :  شفیع جاوید
’’وہ عہد وپیماں کے جزیرے جہاں محبت کی فصلیں اُگتی تھیں، تمھارے لائے ہوئے زہر کے سمندر میں ڈوب گئے۔ اب تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ میں کون ہوں؟ دل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے تو لوگوں کی پہچان بھی بند ہو جاتی ہے۔‘‘    

غور کیجیے
افسانے کے اس اقتباس میں رشتوں کے بکھرنے اور بھیٖڑمیں تنہائی کے احساس کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیاہے۔

غور کیجیے
نظم کے ان اشعار میں آس پاس موجود عام چیزوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔
Pic6 Capture2
1843/44-1917
ہماری گائے  :  اسمٰعیل میرٹھی
رَب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی
اُس مالک کو کیوں نہ پکاریں جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں
خاک کو اُس نے سبزہ بنایا سبزے کو پھر گائے نے کھایا
کل جو گھاس چری تھی  بن میں دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں
Pic7 Capture2

سرگرمی  1.11

نثر اور نظم سے ایک ایک ایسا اقتباس منتخب کیجیے جو ادبی تحریر کی مثال ہو۔ اپنے انتخاب کی وجہ بھی لکھیے۔
Pic8 Capture2


 نام دیومالی:   مولوی عبدالحق
’’کام اسی وقت تک کام ہے جب اس میں لطف آنے لگے۔ بے مزاکام، کام نہیں بے گار ہے۔‘‘  
غور کیجیے
اس اقتباس میں مشاہدے و تجربے کا عالمانہ اور سنجیدہ بیان نظر آتا ہے۔


2.2 میڈیا تحریر

واقعات و حادثات، خیالات وتجربات، تصورات ونظریات، علوم وفنون اور تفریح و معلومات سے متعلق تصدیق شدہ تحریر کو ’’ترسیلی تحریر‘‘ یا ’’میڈیا تحریر‘‘ کہتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے تک ترسیل کی دنیا اخبارات تک ہی محدود تھی۔ لیکن آج کے دور میں ترسیلی نظام پر الیکٹرانک میڈیا (Electronic Media)کا راج ہے۔ برقی مواصلات کا سفر ریڈیو سے شروع ہو کر ٹیلی ویژن، موبائل اور انٹرنیٹ تک پہنچ گیاہے۔
عوامی ترسیل کے شعبے میں ’’زبان‘‘ ایک بنیادی وسیلہ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زبان کے بغیر مؤثر ترسیل ممکن نہیں۔ محض اشاروں، حرکتوں اور چہرے کے تاثرات سے ہم دوسروں تک اپنے خیالات کی مکمل اور مؤثر ترسیل نہیں کرسکتے۔ اس لیے پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں ہی قسم کے میڈیا کے لیے تحریر کی ضرورت پیش آتی ہے۔میڈیا تحریر کی  زبان آسان اور سادہ ہونی چاہیے۔ مشکل الفاظ اور ابہام سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔ اخبارات کی زبان کے مقابلے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی میڈیا تحریر میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے کیوں کہ ضروری نہیں کہ سامع و ناظر پڑھے لکھے ہوں۔ میڈیا تحریر میں سب سے زیادہ اہمیت ’’ترسیل‘‘ کی ہوتی ہے۔ اگر میڈیا تحریر قاری، سامع اور ناظر کی سمجھ میں نہیں آئی تو یہ بے معنی ہوجائے گی اور اس کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ اس لیے میڈیا میں ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے کہ عرضِ مطلب واضح طور پر ادا ہوسکے اور وہی معنی و مفہوم برآمد ہو جسے بیان کرنا مقصود ہے۔میڈیا تحریر میں روز مرّہ کے الفاظ اور سادہ زبان استعمال کی جاتی ہے تاکہ قارئین اور ناظرین کو خبروں اور اطلاعات و معلومات سے باخبر کیا جاسکے اور ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

ریڈیو، ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر، کیبل ٹی وی، ہوم ویڈیو، سیٹیلائٹ اور انٹرنیٹ وغیرہ نے دنیا میں نشریات کا ایسا جال بچھادیا ہے کہ وسیع و  عریض دنیا گھر آنگن اور ڈرائنگ روم میں سمٹ کر آگئی ہے۔  آج گھر کی کھڑکیوں سے پورے عالم کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے مارشل میکلوہان (Marshall McLuhan) نے آج کی دنیا کو ’’ گلوبل گاؤں‘‘ کے نام سے موسوم کیا  ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف علوم وفنون ، سائنس اور تعلیم و تفریح کے وافر سامان مہیا ہوئے ہیں، وہیں یہ انسانی جذبات و احساسات اور خیالات کو بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر متاثر کررہی ہے۔

  دیوندر اسّر
Pic9 Capture2
Pic10 Capture2

سرگرمی  1.12

اپنے اسکول یا محلے کے کچھ اہم واقعات اور مسائل قلم بند کیجیے۔
Pic0 Capture


کسی مخاطب گروہ سے ترسیل کا رشتہ قائم کرتے وقت سب سے بنیادی ضرورت اسی امر کی ہوتی ہے کہ مخاطب کرنے والے اور مخاطب کیے جانے والوں کے درمیان ایک ذہنی اور معنویہم آہنگی قائم ہو۔اس مقصد کے پیشِ نظر مخاطب فرد یا گروہ کو یہ یقین دلانا لازمی ہوتا ہے کہ کہنے والا اپنی بات پوری سچائی اور خلوص سے کہہ رہا ہے اور وہ بات سننے والے کے اپنے مفاد میں بھی  ہے دوسرے لفظوں میں،پیغام اور اس کی ترسیل مؤثر اور معتبر ہونے چاہئیں۔
–  عرفان صدیقی
Pic11 Capture2

Pic12 Capture2
Pic13 Capture2

صحافتی دنیا کی سرگرمیوں میں وقت کی قید ہوتی ہے۔ معمولی سی تاخیر سارے نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔ صحافتی تحریر میں غوروفکر کرنے اور زبان کو سجانے سنوارنے کی مہلت کم ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اس میں استعمال ہونے والی زبان ایسی ہونی چاہیے کہ وہ سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی سمجھ میں آجائے۔ دراصل میڈیا تحریر کا بنیادی مقصد اپنی بات لوگوں تک پہنچانا یعنی ترسیل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا تحریر کے مقاصد میں ذہن سازی اور قاری کو لطف اندوز کرنا بھی شامل ہے جن کے بارے میں ہم اگلے ابواب میں تفصیل کے ساتھ پڑھیں گے۔
خبروں کی ترسیل میں ا گرچہ وقت کی قید ہوتی ہے اور انھیں عجلت میں تحریر کیا جاتا ہے لیکن ان خبروں پر مبنی تبصروں، اداریوں،  فیچروں اور خصوصی شماروں کی تیاری کے لیے نسبتاً زیادہ وقت ملتا ہے۔ اسی طرح روز ناموں کے مقابلے سہ روزہ ،  ہفت روزہ، پندرہ روزہ اور ماہناموں نیز سہ ماہی رسائل و جرائد کے ضمن میں واقعات و حادثات ا ور حقائق کو تحریر کرنے اور ان پر رائے یا تبصرہ دینے کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔ اس لیے ان میں زبان کی چاشنی اور بیان کے چٹخارے کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات میں کلیپنگ، موسیقی اور وائس اوور (Voice-over)  کے ذریعے رپورٹ کی تزئین کاری کرکے اُسے مزید دلچسپ اور دیدہ زیب بنایا جاتا ہے۔ محاوروں، کہاوتوں ، اقوال، اشعار کے برجستہ استعمال سے بھی زبان وبیان میں جاذبیت پیدا کی جاتی ہے۔

بہرحال دونوں ہی صورتوں میں ’’ میڈیا تحریر‘‘ کی اہمیت و افادیت مسلّم ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں میڈیا کے لیے لکھنے والوں کی مانگ روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔

ذیل میں میڈیا تحریر کے کچھ نمونے پیش کیے جارہے ہیں:

◊   انتظامی امور سے متعلق خبر

ووٹر شناختی کارڈ بنانے کی مہم
دہلی کے چیف الیکٹورل افسر نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام موجودہ ووٹر لسٹ میں نہیں ہیں وہ لوگ دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔ خواہش مند افراد اپنا نام دہلی کے چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کی ویب سائٹ سے چیک کریں تاکہ وقت پر اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرا سکیں۔ انھوں نے بتایا کہ لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک مہم چلائی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ لٹریری آرٹ کونسل کے تعاون سے دہلی کے اہم میٹرو اسٹیشنوں پر نکڑ ناٹک منعقد کرائے جائیں گے۔

غورکیجیے
  • آسان الفاظ
  • زبان سادہ
  • جملے مختصر
  •  اضافت سے اجتناب
  •  انگریزی کی مانوس اصطلاحات
  •  اطلاعات کی تر سیل کو اولین ترجیح

Pic14 Capture2

 بین الاقوامی اقتصادی حالات پر تبصرہ ◊

غور کیجیے
  • مشکل الفاظ
  • طویل جملے
  • اضافتوں کا استعمال
  • اطلاعات کے مقابلے خیالات کی ترسیل کو ترجیح غیر مانوس اصطلاحات
Pic15 Capture2

معاشی بحران کا خاتمہ

2014

 میں دنیا کی معاشی صورتِ حال میں خاصی تبدیلی واقع ہوئی۔ عالمی اقتصادی بحران کے نتیجے میں جو بھونچال امریکہ اور مغربی دنیا میں آیا تھا وہ نہ صرف تھم گیا بلکہ ان ممالک کی معیشتیں بڑی تیزی سے بحال ہونا شروع ہوئیں۔ دوسری جانب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت کم ہونے پر جہاں دنیا کے کچھ حصّوں میں جشن منایا جا رہا ہے تو بعض ممالک میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ سیاسی معاملات سے جڑے اقتصادی معاملات نے بھی 2014 میں کچھ اہم تبدیلیوں کا اشارہ دیا… اس سلسلے میں امریکہ کی معیشت کی بحالی نے ڈرائیونگ فورس کا کام کیااور اس کی شرحِ نمو بڑھنے کے ساتھ ہی یورپ کی تجارتی منڈیوں میں بھی مثبت اشارے ملے۔

حادثے کی خبر

ایئر ایشیا کے طیارے کے ملبے کی تلاش جاری
جکارتہ/سنگاپور۔ ایئر ایشیا کے بدقسمت طیارے کا ملبہ اور اس میں سوار افراد کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ طیارہ اتوار کو پُراسرار طریقے سے جاوا کے سمندر پر حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ 
تلاشی مہم میں مصروف ٹیموں نے اب تک 22 لاشیں برآمد کرلی ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ دیگر کئی مسافروں کی لاشیںسیٹوں کے نیچے پھنسی ہوئی ہو سکتی ہیں۔ بین الاقوامی بچاؤ ٹیمیں عصری سمندری آلات سے لیس ہیں اور طیارے کے ملبے میں بلیک باکس اور مزید لاشوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غورکیجیے
  • اطلاع رسانی کے ساتھ ساتھ تاسف اور افسردگی کا امتزاج
  •  امید و امکانات کے درمیان کارروائی کی خبر 
  •  عالمی برادری کا تال میل
  •   انگریزی اصطلاحات کا استعمال
Pic16 Capture2

  • کھیل کی خبر
  • غورکیجیے 

    •    انگریزی اصطلاحات کا استعمال
    •    جو شیلا بیان
    •   سبقت لے جانے کا جذبہ اور
    •    آگے بڑھنے کی اُمیّد 

    ہندوستانی خواتین ٹیم نے مالدیپ کو روندا
    ہندوستانی خاتون فٹ بال ٹیم نے ایشین گیمز میں اپنی مہم کی زوردار شروعات کرتے ہوئے گروپ- اے کے ایک میچ میں مالدیپ کو 15-0سے روند دیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی ہندوستان کا ان کھیلوں کے کوارٹر فائنل میں پہنچنا تقریباًطے ہوگیا ہے۔

    Pic17 Capture2

    سماجی اور تعلیمی خبر

    ستیارتھی اور ملالہ کو نوبل انعام
    اوسلو- بچپن بچاؤ تحریک کے بانی کیلاش ستیارتھی اور لڑکیوں کی تعلیم کی حامی پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کو آج مشترکہ طور پر امن کے نوبل پرائز  سے سرفراز کیا گیا۔ نوبل پرائز کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی ہندوستانی اور پاکستانی کو مشترکہ طور پر اس پرائز سے نوازا گیا ہے۔ ذاتی طور پر بہادری کا ثبوت پیش کرنے اور بچوں اور نوجوانوں کے استحصال کے خلاف ان کی جدوجہد کے علاوہ بچوں کی تعلیم کے حقوق کے لیے کام کرنے کے سبب ستیارتھی اور ملالہ کو یہ پرائز پیش کیا گیا۔

    غورکیجیے
    •    سماجی  اور تعلیمی امور سے متعلق خبر
    •    مناسب الفاظ کا انتخاب 
    •    اطلاع کے ساتھ ساتھ تعارف پر زور
    •    دونوں انعام یافتگان کو مساوی اہمیت
    Pic18 Capture2
    Pic19 Capture2

    سرگرمی  1.13

    اپنے اسکول میں حالیہ دنوں میں کھیلے گئے کسی میچ کی روداد کو خبر کی شکل میں لکھیے اور مناسب عنوان بھی تجویز کیجیے۔ اس سرگرمی کو کرنے کے لیے آپ کسی اردو اخبار کے’ کھیل کود‘ کے صفحات سے مدد لے سکتے ہیں۔
    Pic0 Capture

    2.3 ترجمہ 

     کسی ایک زبان کے متن یا مواد کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنے کو ترجمہ کہتے ہیں۔ اس عمل میں زبان و الفاظ کے ساتھ ساتھ معنی ومفہوم اور معلومات و خیالات بھی دوسری زبان میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ ترجمہ نگار یا مترجم الفاظ کے انتخاب، جملوں  کی ترتیب کے مزاج کو بھی مدِّنظر رکھتا ہے۔ ترجمے کے لیے اسے متن کی اصل زبان ( Sourse Language) اور ترجمے کی زبان (Target Language) دونوں پر ہی عبور حاصل ہونا ضروری ہے تاکہ ایک زبان کے معنی و مفہوم کو دوسری زبان میں اس طرح منتقل کیا جا سکے کہ اصل متن کی خوبیاں، اثرات اور مطالب اسی طرح برقرار رہیں۔ مترجم کو دونوں زبانوں کی تہذیب ، سماجی رویّے اور محاوروں سے بھی واقفیت ہونی چاہیے۔ ترجمہ نگاری میں خاصی مہارت اور ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔
     
    ترجمہ نگار کو زبان کے ساتھ ساتھ موضوع کی بھی معلومات ہونی چاہیے۔ دونوں زبانوں میں مروّجہ اصطلاحات کا علم بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات مترجم کو اصطلاحات وضع کرنی پڑتی ہیں اور کبھی کبھی عام استعمال کے سادہ الفاظ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔محض لفظ کے بدلے دوسری زبان کا لفظ لکھ دینے سے ترجمہ نہیں ہوتا۔ پورے جملے کے مفہوم کو سمجھ کر ترجمے کی زبان میں جملہ لکھا جاتا ہے۔ ہر موضوع کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ قانونی معاملات کی زبان، مذہبی موضوعات کی زبان اور عمومی موضوعات وغیرہ کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ترجمہ نگار کو ان سبھی کی سمجھ ہونی لازمی ہے۔ موضوعات کے اعتبار سے تراجم کو تخلیقی ادب، سائنسی علوم، سماجی علوم، مذہب اور صحافت کے خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ترجمہ نگار کو اپنے موضوع کے مطابق الفاظ کے انتخاب، اصطلاحات کی تشکیل اور لسانی ڈھانچے کی بھی سمجھ ہونی چاہیے۔

    سرگرمی  1.14

    اپنی دلچسپی کی ایک خبر کا انتخاب کرکے اس کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں کیجیے (انگریزی سے اردو یا ہندی سے اردو)۔
    Pic0 Capture


    آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا نے ایک چھوٹے سے گاؤں کی شکل اختیار کرلی ہے۔ دنیا بھر کے لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔مختلف ممالک میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی زبان سیکھنے اور معلومات کا تبادلہ کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کی زبانیں سیکھے بغیر ہم ایک دوسرے کے خیالات، تہذیب وتمدن اور علم وادب سے واقف نہیں ہوسکتے۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک انسان دنیا کی تمام زبانیں سیکھ لے۔ اس لیے مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان رابطے اور میل جول کے لیے ترجمے کا سہارا لینا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ترجمہ ہماری ترسیلی صلاحیتوں کو علاقائی یا قومی سطح سے اوپر اٹھاکرعالمی یا بین الاقوامی معیار کا بنادیتا ہے۔ ہم اپنی معلومات پوری دنیا تک پہنچاسکتے ہیں۔ اسی طرح دوسروں کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ معلومات کا ذخیرہ روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ترجمے کا فن اس ذخیرے میں مزیدربط و تسلسل اور وسعت پیدا کردیتا ہے۔ دنیا کے ایک گوشے میں ہونے والی ایجاد ، تخلیق اورتحقیق پر دوسرے گوشے کے لوگ اپنی رائے دیتے ہیں اور اسے مزید آگے لے جاتے ہیں۔ اس پورے عمل میں ’’ترجمہ ‘‘ رابطہ کار کے فرائض انجام دیتا ہے۔ اگر جرمنی میں ہونے والی ایجاد سے متعلق معلومات یا ہندوستان میں تخلیق ہونے والے اردو ادب کا انگریزی میں ترجمہ نہیں کیا جائے تو اسے امریکہ اور برطانیہ کے لوگ نہیں سمجھ سکیں گے۔ مختصر یہ کہ انسان کے باہمی ربط ضبط اور ارتقا میں ترجمہ نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آئندہ ابواب میں ہم تفصیل کے ساتھ ان کے بارے میں پڑھیں گے۔

    سچن تندولکر کو ہمیشہ اعلیٰ توصیفی کلمات کے ساتھ یاد کیا جاتا رہا ہے اور ایک قومی آئیڈیل کا ہالہ اُن کے ارد گرد پھوٹتا نظر آتا ہے۔ اُن کی شخصیت اس امر کی درخشاں مثال رہی ہے کہ ذہن کی یکسوئی کن کامیابیوں کی ضمانت ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ وہ باصلاحیت ہیں، لیکن انھوں نے ان صلاحیتوں کو خود نکھارا ہے اور اُن کے تئیں قومی ستائش اس لیے ہے کیونکہ انھوں نے اولوالعزمی کے ساتھ یہ راستہ دکھایا ہے۔
    ایک اعلیٰ درجہ کے پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر بیس برس گزارنا ہی اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے اور انھیں ایک بار بھی ہندوستانی ٹیم سے نہیں نکالا گیا سوائے اس کے کہ چوٹ لگنے کے باعث اُنھوں نے خود ٹیم سے الگ رہنا پسند کیا ہو۔ یہ اُن کی باکمال مستقل مزاجی ہے جو اُن کے لاکھوں شائقین کو اُن کا گرویدہ بناتی ہے۔ ماہر موسیقار سچن دیو برمن کے نام پر رکھے گئے اُن کے نام سچن نے بلاشبہہ جاوداں ستائش کی قومی نغمگی کو چھیڑا ہے۔

    Sachin Tendulkar is always accompanied by superlatives and has an aura of a national icon. He has been a sterling example of what single minded devotion can achieve. He has talent no doubt, but he built on that and the national admiration for him is because he has shown the way with ferocious determination. 
    To spend twenty years as a top-class professional itself is achievement enough and he hasn't been dropped from the Indian team even once, unless he opted out due to injuries. It is that sheer doggedness that fascinates millions of his fans. Sachin, named after the music maestro Sachin Dev Burman, has indeed whipped up a national orchestra of perpetual adulation.