Skip to content

باب  3

جملہ، پیراگراف اور بیان کے اسالیب

3.1  جملے کی ساخت

ہم اپنی بات لفظوں کی مدد سے کہتے ہیں۔ لیکن چند الفاظ کو بغیر کسی ترتیب کے جمع کردینے سے بات نہیں بنتی۔بولنے یا لکھنے سے بات واضح نہیں ہوتی۔ہم جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اس کا مفہوم تب ہی مکمل ہوتا ہے جب الفاظ ایک خاص ترتیب سے آئیں۔ الفاظ کی یہ ترتیب کم و بیش زبان کے قواعد کے مطابق ہوتی ہے۔ لفظوں کو ایک خاص ترتیب میں رکھ کر ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح لفظوں سے جملے بنتے ہیں۔ گویا جملے کی تعریف یہ ہوئی کہ
لفظوں کا ایسا مجموعہ جو معنی کے لحاظ سے مکمل ہو اور زبان کے قواعد کے مطابق ہو ، جملہ کہلاتا ہے۔
بولتے وقت جملے کی ساخت پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی جاتی لیکن لکھتے وقت جملے کی ساخت پر خاص توجہ دینا ضروری ہے۔ ہم اپنی بات تب ہی پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں جب ہمارے جملے ترسیلِ خیال میں پوری طرح معاون ہوں۔ بعض اوقات جملے میں لفظ کی جگہ کو ذرا سا تبدیل کرنے یا اس میں اضافہ کرنے سے معنی میں فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ مثلاً درج ذیل جملے دیکھیے:
  • آپ نے یہ بات کہی تھی۔
  • آپ نے ہی یہ بات کہی تھی۔
  • آپ نے یہی بات کہی تھی۔
  • پہلا جملہ یہ بتاتا ہے کہ کسی نے کوئی بات کہی تھی جو اسے یاد دلائی جا رہی ہے۔ دوسرے جملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی اور نے نہیں، ایک خاص آدمی نے یہ بات کہی تھی اور اسے یاد دلایا جارہا ہے کہ آپ نے ہی یہ بات کہی تھی۔ تیسرے جملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والے نے کوئی اور بات نہیں کہی، یہی بات کہی تھی۔
    کسی بھی جملے کو مؤثر بنانے کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • خیال کی وحدت
  • لفظوں کی مناسب ترتیب
  • لفظوں کی مناسب ترتیب سے پیدا ہونے والا تاثر/زورِ بیان

  • ایک جملے میں کوئی ایک بات کہی جاتی ہے۔ کبھی کبھی ایک جملے میں دو باتیں بھی آجاتی ہیں۔ لیکن بنیادی طور پر وہ مرکزی نقطے سے جڑی ہوتی ہیں۔ مثلاً درجِ ذیل جملے دیکھیے:

  • میں گھر جاؤں گا۔
  • میں ٹیکسی سے گھر جاؤں گا۔
  • میں گھرجانے کے لیے ٹیکسی ہی لوں گا۔
  • پہلے جملے میں گھر جانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہاں ایک ہی بات کا ذکر ہے۔ دوسرے جملے میں ٹیکسی سے گھر جانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تیسرے جملے میں گھر جانے کے لیے ٹیکسی لینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
    کبھی کبھی کسی جملے میں خیال کی وحدت مجروح بھی ہوجاتی ہے۔ ایسے جملے مکمل ہونے کے باوجود اچھے جملے نہیں کہے جاسکتے، مثلاً:
    ’’سرسید احمد خاں1817میں پیدا ہو کر اردو کے نامور ادیب کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔‘‘
    مندرجہ بالا جملہ قواعد کے مطابق ہونے کے باوجود خیال کی وحدت نہیں رکھتا۔1817میں سرسید کا پیدا ہونا ایک بات ہے اوراردو کے نامور ادیب کی حیثیت سے ان کا مشہور ہونا دوسری بات ہے۔ دونوں باتوں کو ایک جملے میں بغیر کسی معنوی ربط کے بیان کردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے جملہ ناقص ہوگیاہے۔ لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جملے میں کسی ایک بات پر ہی توجہ مرکوز رکھی جائے۔

    سرگرمی  1.15

    درج ذیل جملوں کو اس طرح لکھیے کہ وحدتِ خیال مجروح نہ ہو:

    • اسکول پہنچ کر وہ چھٹی ہوتے ہی گھر چلا گیا۔       
    • میں دن میں کھانا کھا کر رات میں سوؤں گا۔
    • میں ابھی خط لکھ کر پر سوں علی گڑھ جاؤں گا۔

    جملے کی نمود کا اصل مقصد اظہاریا بیان ہے جو عملی طور پر تقریر یا تحریر کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ تقریر میں ایک متکلم یا مرسِل (Encoder) کے علاوہ ایک سامع یا مفہم (Decoder) کا موجود ہونا لازمی ہے۔ ان دو عوامل کی موجودگی سے جو لسانی ترسیل و توصیل؛ (Communication) ہوتی ہے اسے کلام بلاواسطہ (Direct Speech) کہتے ہیں جو جملے کی نمود کا فوری تجربہ ہوتا ہے۔ اگر کچھ مدّت گزرنے کے بعد پیشتر کا کوئی لسانی تعمل کسی دوسرے متکلم کے ذریعے دہرایا گیا تو اب اس کا کلام بالوسطہ (Indirect Speech)  کہلائے گا۔
    - -سلیم شہزاد

    3.1.1 لفظوں کی مناسب ترتیب

    لفظوں کی موزوں ترتیب کے بغیر ہم اپنی بات دوسروں تک مناسب طور پر پہنچاہی نہیں سکتے۔ مثلاً مندرجہ ذیل جملوں پر غور کیجیے:
  •  یہ آپ کی کتاب ہے۔ 
  •  یہ کتاب آپ کی ہے۔
  • آپ کی یہ کتاب ہے۔
  • پہلے جملے میں یہ کہا جارہا ہے کہ یہ کتاب فلاں شخص کی ہے۔ دوسرے جملے میں کتاب پر زور ہے اور بتایا جارہا ہے کہ کس کی ہے۔ تیسرے جملے میں یہ بتایا جارہا ہے کہ کوئی اور کتاب نہیں، بلکہ ’’ یہ کتاب‘‘ آپ کی ہے۔
    لفظوں کی مناسب ترتیب نہ ہونے سے اور لہجے کے اتار چڑھاؤ سے معنی خبط ہوجاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی معنی کچھ کے کچھ ہوجاتے ہیں۔مندرجہ ذیل جملہ دیکھیے:
  • بینک میں اپنی محنت سے اس نے جو کچھ کمایا جمع کردیا۔
  • اس جملے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے بینک میں جو رقم جمع کی وہ بینک کی ملازمت کے دوران کمائی گئی تھی یا کہیں اور سے کمائی ہوئی رقم بینک میں جمع کی گئی ہے۔ یہ مغالطہ جملے میں لفظوں کی نامناسب ترتیب کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس جملے کو اس طرح بھی لکھا جاسکتا ہے۔
  • اس نے اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم بینک میں جمع کردی۔
  • سرگرمی  1.16

    مندرجہ ذیل جملوں کو پڑھیے اور ان کی ترتیب درست کیجیے۔
    • وہ خوب صورت گلے کا ہار ہے۔             
    • یہ خوب صورت آنکھوں کا فریم ہے۔
    • یہ اعلیٰ درجہ کا کھانا ہوٹل سے لایا گیا ہے۔

    تعقید

    آوازوں کے مجموعے کا نام ’لفظ‘ ہے۔ ہر لفظ کے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ معنی ہوتے ہیں۔ معنی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک لغوی معنی یعنی وہ معنی جو لغت میں درج ہیں۔ دوسرے وہ جو مجازی کہلاتے ہیں جنھیں ہم استعاراتی معنی بھی کہتے ہیں۔ لفظ کو استعاراتی یا مجازی معنی میں شاعری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لفظ سے بڑا ’’فقرہ‘‘ ہوتا ہے جسے دو چار لفظوں پر مشتمل نامکمل جملہ بھی کہہ سکتے ہیں جیسے ’صحن کے بیچوں بیچ‘ ۔یہ ایک فقرہ ہے جو کہ ادھورا ہے۔ ادھورا اس لیے ہے کہ اس میں نہ تو اسم ہے نہ ضمیر ہے۔ جیسے میں،وہ، یہ یا احمد وغیرہ۔ اس میں ’فعل‘ بھی نہیں ہے۔ جس سے کسی کام کا ہونا ظاہر ہو،نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کام کا کس پراثر ہوا ہے۔ یعنی مفعول نہیں ہے اور نہ امدادی فعل ہے۔ ہمیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ یہ فعل کس زمانے میں واقع ہوا ہے۔ فاعل، فعل اور مفعول بھی اسی ترتیب کے ساتھ جب کسی کلام میں واقع ہوتے ہیں تو جملہ مکمل ہوجاتا ہے۔ جیسے ’صحن کے بیچوں بیچ‘ کے بجائے اگر الفاظ کی ترتیب اس طرح ہوتو اسے ہم مکمل جملہ کہیں گے:
    ’احمد صحن کے بیچوں بیچ کھڑا ہے‘
    اب یہ جملہ پورے معنی دے رہا ہے کیونکہ جملے کے اجزا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ لیکن اگر یہی جملہ اس طرح ادا کیا گیا ہو:
    کھڑا ہے بیچوں بیچ صحن کے احمد
    تو قواعد کی رو سے اسے تعقیدِ لفظی کہیں گے یعنی اجزائے کلام کا جگہ سے بے جگہ ہونا۔ تعقید کے لغوی معنی صاف بات نہ کہنے کے ہیں۔ کیفیؔ چِرَیّا کوٹی نے ایک بڑی اچھی مثال دی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’مثلاً قاعدہ یہ ہے کہ حرفِ نافیہ (یعنی نہ) فعل سے پہلے آئے۔ ایک جملہ ہے ’’تم نہ جاؤ‘‘ معنی ظاہر ہیں کہ متکلّم( بات کرنے والا) چاہتا ہے کہ مخاطب نہ جائے۔ اب اگر اسی کو الٹ کر کہا جائے ’’ تم جاؤنہ‘‘ تویہ جملہ متکلّم کی طرف سے فوراً چلے جانے پر دلالت کرے گا۔ یعنی ’’تم جاتے کیوں نہیں۔‘‘ گویا صرف ’’ نہ‘‘ کی جگہ بدلنے سے معنی بالکل اُلٹ گئے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جملہ دو تین لفظوں پر بھی مشتمل ہوسکتا ہے۔ جیسے ’’ تمھیں آنا تھا ‘‘یا ’’ابھی کون آیا‘‘ وغیرہ۔ ان جملوں میں بات ادھوری نہیں ہے، پوری ہوگئی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ تعقید کے باعث بات کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے یا دیر لگتی ہے۔ جیسے غالبؔ کا شعر ہے:
    لیتا، نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چین
    کرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور
    اس شعر کا اصل مفہوم یوں ہے کہ اگرتمھیں دل نہ دیتا تو کوئی دَم اور چین لیتا اور جو نہ مرتا تو کوئی دن اور آہ وفغاں کرتا۔

    سرگرمی  1.17 

    ایسے چند اشعار تلاش کر کے پیش کیجیے جو سہلِ ممتنع کی مثال ہوں۔

    شاعری میں تعقید کی مثالیں زیادہ واقع ہوتی ہیں کیونکہ بحر کی پابندی کی وجہ سے مصرعے میں اجزائے کلام کی ترتیب کو نثری جملے کی طرح قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔شعرا نے ایسے شعر بھی کہے ہیں جن میں اجزائے کلام کی ترتیب نثری جملے کی طرح قائم ہوتی ہے۔ اس طرح کی صورت ان اشعار میں زیادہ ہوتی ہے جو سہلِ ممتنع کے ذیل میں آتے ہیں، جیسے :
    تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
    جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
    سہلِ ممتنع کے اشعار بظاہر سادہ ہوتے ہیں لیکن بغور پڑھنے پر پتہ چلتا ہے کہ ان کے باطن میں گہرے معنی چھپے ہیں۔
    تعقید لفظی کے علاوہ تعقید معنوی کی مثالوں سے بھی اکثر سابقہ پڑتا ہے۔ اس طرح کے جملوں یا مصرعوں میں معنی ومفہوم کے اعتبار سے جو پیچیدگی یا ابہام پیدا ہوتا ہے اس کی ایک وجہ تعقید معنوی بھی ہوتی ہے جیسے غالب کے اس شعر میں تعقید معنوی کا ایک خاص سبب یہ ہے کہ شعر کا مصرعۂ اولیٰ خود مکتفی نہیں ہے۔ یعنی معنی و مفہوم کے اعتبار سے مکمل نہیں ہے۔ درمیان میں شاعر کے تخلص اسدؔنے دونوں مصرعوں میں اور دوری پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے تعقید معنوی پیدا ہوگئی ہے اور اسی باعث شعر میں ا بہام بھی واقع ہوا ہے۔
    ہم مشقِ فکرِ وصل و غم ہجر سے، اسدؔ!
    لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
    شعر کا مطلب ہے اے اسدؔ، ہم اس قدر وصالِ یار کی فکر اور ہجر کے غم میں گرفتار ہیں کہ اب تو ہم دنیا کے غم کے لائق بھی نہیں رہے۔ یعنی نہ تو وصل کی فکر کام آئی اور نہ ہجر کا غم اور بد نصیبی کا یہ عالم ہے کہ دنیا کا غم بھی ہمیں خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

    3.1.2  زورِ بیان/اثر آفرینی

    زورِ بیان سے مراد یہ ہے کہ مصنف جس کیفیت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے، وہ پورے طور پر بیان ہو جائے، جو تصویر وہ کھینچنا چاہتا ہے، وہ واضح طور پر نظروں کے سامنے آجائے، جو کچھ بیان کرنا چاہتا ہے اس میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
    بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اپنی تحریروں میں رعب، خوف یا شان و شوکت پیدا کرنے سے بیان میں زور پیدا ہوتا ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس تحریر میں کوئی کیفیت یا کوئی جذبہ شدّت کے ساتھ دکھایا جائے، اسے زوردار کہا جا سکتا ہے۔
    ہم اپنی گفتگو یا تحریر میں لفظوں کو مختلف طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور بعض لفظوں پر خصوصی طور پر ہمارا زیادہ زور ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہم اپنی بات میں زیادہ سے زیادہ اثر پیدا کرنا چاہتے ہیں یا دوسرے کو زیادہ سے زیادہ اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور اگر ہمارا مقصود تحکّم ہوتا ہے تو محض مقصد کے تحت ہمارا لہجہ بھی بدل جاتا ہے۔ یعنی جملوں ، شعروں یا بعض لفظوں کی ادائیگی میں محض مقصد کے تحت ہمارے لہجے میں بھی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے جس سے بیان میں زیادہ زور اور اثر پیدا ہوتا ہے۔ بعض تاکیدی الفاظ کی شمولیت سے بھی جملے میں زور اور اثر پیدا ہوتا ہے۔ جیسے ہی، بھی،  ضرور، لازمی وغیرہ الفاظ سے بھی بیان میں زور پیدا کیا جاسکتا ہے۔
     کسی بات پر ہم اپنے لب ولہجے سے زور دیتے ہیں، لیکن لکھتے وقت جملے میں جو کچھ کہنا ہے لفظوں کے سہارے ہی کہنا ہے۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بات کس طرح کہی جائے کہ مناسب پہلو پر قاری کی توجہ مبذول ہوجائے۔ مثلاً اگر کسی کو بہ اصرار بلانا ہے تو ایسے لفظوں کا انتخاب کرنا ہوگا کہ اصل مقصد واضح ہو جائے۔ مندرجہ ذیل جملے دیکھیے:
  • آپ کل تشریف لائیں۔
  • آپ کل ضرور تشریف لائیں۔
  • آپ کو کل آناہی پڑے گا۔
  • آپ کو کل آناہی ہے۔
  • یہاں الگ الگ جملے سے الگ الگ تاثر پیدا ہورہا ہے۔ مصنف یا مضمون نگار کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سامنے اپنا مقصد واضح ہو۔ اسے معلوم ہوکہ کیا کہنا ہے اور کس طرح کا تاثر پیدا کرنا ہے۔
    زور پیدا کرنے کے لیے نثر نگار بعض اوقات لفظوں کی تکرار سے بھی کام لیتا ہے۔مثلاً
  • اندھیرا، گہرا اندھیرا ، ہر چیز اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔
  • سناٹا — ایک بیکراں سناٹا ہر سمت پھیلا ہوا تھا۔
  • آئیے، آئیے، تشریف لائیے۔
  • جائیے، جایئے، بے وفا ہوجائیے۔
  • کبھی کبھی زور پیدا کرنے کے لیے ہم اس طرح کے جملے بھی کہتے ہیں:
  • اس کا کون ہے ، کوئی بھی تو نہیں۔
  • وہ تنہا چلا آرہا تھا، تھکن سے نڈھال، بھوکا پیاسا!
  • سرگرمی  1.18

    درج ذیل الفاظ کو نیچے دیے گئے جملوں میں اس طرح استعمال کیجیے کہ ان میں زورِبیان پیدا ہو جائے :
    شفّاف شدید گہرا زور کچھ
    • چاروں جانب اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ 
    • میرے سر میں درد ہے۔
    • جھیل کا پانی صاف ہے۔ 
    • کہرے کی وجہ سے سڑک پر نظر نہیں آرہا تھا۔
    • عامر درد کے سبب زور سے چلّا رہا تھا۔

    3.2 پیراگراف کی ترتیب

    جب ہم اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو ایک کے بعد دوسرے جملے آتے چلے جاتے ہیں۔ یہ جملے آپس میں مربوط ہوتے ہیں اور ہمارے سلسلۂ خیال کو آگے بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ لکھتے وقت بھی یہی صورت ہوتی ہے۔
    مصنف یا مضمون نگار جس طرح اپنی بات جملوں میں مکمل کرتا ہے، اسی طرح وہ اپنے خیالات کو بھی مختلف حصوں میں بانٹ کر ادا کرتا ہے۔ وہ ساری باتیں ایک ساتھ نہیں کہتا یا تمام باتیں بغیر کسی ترتیب کے نہیں کہتا بلکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی بات پہلے کہنی ہے اور کون سی بعد میں۔ اسی طرح اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تحریر کا کون سا حصہ دوسرے حصّے سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ یعنی مضمون نگار حسبِ ضرورت اپنے مضمون کو کئی حصّوں میں تقسیم کرلیتا ہے۔ ایک سلسلے کے جملے وہ ایک ساتھ لکھ کر ایک پیراگراف مکمل کرتا ہے۔ پھر اسی سلسلۂ کلام کی دوسری باتیں الگ پیراگراف سے شروع کرتا ہے۔ اس سے پڑھنے والے کو بھی سہولت ہوتی ہے اور لکھنے والے کو بھی۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ :
    ←  پیراگراف کسی سلسلۂ خیال کی ایک اکائی کا نام ہے۔
     یہ خیالات کو ترتیب وار پیش کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے قاری تفہیم کے مراحل آسانی سے طے کرلیتا ہے۔
    مصنف کے لیے ضروری ہے کہ اسے پیراگراف کی مناسب تقسیم کا ہنر آتا ہو۔ یہ نہیں کہ جب چاہا، نیا پیراگراف شروع کردیا اور جہاں چاہا ختم کردیا۔

    3.2.1 پیراگراف کے ضروری عناصر

  • تکمیلِ خیال
  • مربوط اور مرتب جملے
  • مناسب تاثر
  • تنّوع
  • تکمیلِ خیال
  • ہر پیراگراف میں موضوع کے کسی ایک پہلو سے متعلق خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ خیال کی تکمیل کے ساتھ ہی پیراگراف مکمل ہوجاتا ہے۔

  • مربوط اور مرتّب جملے
  • پیراگراف کے جملوں کا باہم مربوط ہونا ضروری ہے۔ ایک پیراگراف ختم ہو تو دوسرے پیراگراف سے خیال کا ربط بھی ظاہر ہونا ضروری ہے۔ یعنی یہ معلوم ہو کہ ایک بات مکمل ہوگئی ۔اب اس سلسلے کی دوسری بات دوسرے پیراگراف سے شروع ہورہی ہے۔

  • مناسب تاثر
  • ہر پیراگراف سے ایک تاثر پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہ تمام تاثرات مل کر مجموعی تاثر کی تکمیل کرتے ہیں۔

  •   تنّوع
  • مختلف پیراگراف سے مضمون میں ایک طرح کا تنوع پیدا ہوتا ہے۔ یہ اندازہ ہوتاہے کہ پورے مضمون میں ایک ہی بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ موضوع کے دائرے میں رہ کر مصنف نے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔

    3.3  زبان و بیان کے مختلف اسالیب

    ایک ہی بات کئی طرح سے کہی جاسکتی ہے۔ کہنے کا یہ ڈھنگ جس حد تک متاثر کن یا دل کش ہوگا، سننے والے پر اس کا اتنا ہی اچھا اثر پڑے گا۔ بعض لوگ باتیں کرتے ہیں تو جی چاہتا ہے بس ان کی گفتگو سنتے ہی رہیے۔ بعض اساتذہ اپنے اندازِ بیان سے سبق کو اس قدر دلچسپ بنادیتے ہیں کہ طلبا کو ان کی کلاس کا انتظار رہتا ہے۔
    اسالیبِ بیان کے حوالے سے یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ایک موقع پر جو اسلوبِ بیان نہایت مناسب ہے، بہت ممکن ہے کہ دوسرے موقع کے لیے وہ اتنا مناسب نہ ہو۔ اس لیے کہتے ہیں کہ موقع و محل کے لحاظ سے طرزِ بیان اختیار کرنا چاہیے۔ مصنف کے لیے تو یہ جاننا اوربھی ضروری ہے کہ کون سی بات کس ڈھنگ سے لکھی جائے۔ بعض اہم اسالیبِ بیان یہ ہیں:

    3.3.1 سادہ اسلوب

    اسے عام استعمال کی زبان بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہم عام طور پر اپنے معمولات کا اظہار اسی سادہ اسلوب میں کرتے ہیں۔ عام خیالات اور ضرورتوں کے اظہار کے لیے جب عام فہم زبان اور سیدھاسادہ اندازِ بیان اختیار کیا جائے تو اسے سادہ اسلوب کہیں گے۔ اس اسلوب میں مشکل الفاظ، تراکیب، تشبیہات واستعارات کا استعمال کم سے کم کیا جاتا ہے۔ بات  گھما پھرا کر یا اشارے کنایے میں نہیں کہی جاتی۔ اس میں نہایت وضاحت اور قطعیت کے ساتھ خیالات پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرح کی نثر واضح، سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہوتی ہے۔ یہ اندازِ بیان عموماً کاروباری معاملات یا عام قارئین تک خیالات کی ترسیل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ سادہ اسلوب کی مثال کے طور پر درجِ ذیل عبارت پیش کی جاسکتی ہے:
    پرانے زمانے میں بھارت میں ایک راجا راج کرتا تھا۔ یہ راجا بہت رحم دل تھا۔ اس کے راج میں سب خوش تھے۔ راجا اپنی پرجا کی حالت دیکھنے کے لیے کبھی کبھی محل سے باہر نکلا کرتا۔ سب لوگ راجا کی عزت کرتے تھے۔ (عقل مند کسان)

    3.3.2 خطیبانہ اسلوب

    بعض اوقات مصنف قاری کو متاثر یا مرعوب کرکے اسے اپنا ہم خیال بنانا چاہتا ہے۔ ایسے موقعوں پر وہ عام طور سے خطیبانہ اسلوبِ بیان اختیار کرتا ہے۔ اس اسلوب میں سادہ زبان استعمال نہیں کی جاتی۔ اس کے لیے پُر زور اندازِبیان اور بھاری بھرکم الفاظ و تراکیب کاانتخاب کیا جاتا ہے۔ قارئین کے جذبات واحساسات کو ابھارنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے اور حسبِ ضرورت قاری کو براہ ِراست مخاطب کرکے بات کہی جاتی ہے۔ ابوالکلام آزاد کی نثر اس طرزِ بیان کی عمدہ مثال ہے:


    قولِ فیصل

    مسٹر مجسٹریٹ! اب میں اور زیادہ وقت کورٹ کا نہ لوںگا۔ یہ تاریخ کا ایک دلچسپ اور حیرت انگیز باب ہے، جس کی ترتیب میںہم دونوں یکساں طور پر مشغول ہیں۔ ہمارے حصّے میں یہ مجرموں کا کٹہرا آیا ہے، تمھارے حصّے میں وہ مجسٹریٹ کی کرسی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس کام کے لیے وہ کرسی بھی اتنی ہی ضروری چیز ہے جس قدر یہ کٹہرا۔ آؤاس یادگار اور افسانہ بننے والے کام کو جلد ختم کردیں۔مؤرّخ ہمارے انتظار میں ہے اور مستقبل کب سے ہماری راہ تک رہا ہے۔ ہمیں جلد جلد یہاں آنے دو اور تم بھی جلد جلد فیصلہ لکھتے رہو۔ ابھی کچھ دن تک یہ کام جاری رہے گا یہاں تک کہ ایک دوسری عدالت کا دروازہ کھل جائے۔ یہ خدا کے قانون کی عدالت ہے۔ وقت اس کا جج ہے۔ وہ فیصلہ لکھے گا اور اسی کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا۔

    Capture-1

    –   مولانا ابوالکلام آزاد


    سرگرمی  1.19

    مندرجہ ذیل عبارتوں کو پڑھ کر بتائیے کہ مصنف نے کون سا طرز بیان اختیار کیا ہے؟

  •  ’’غور کیجیے تو اس کا رگارہ عمل کے ہر گوشے کی قدم رانیاں ہمیشہ اسی ایک قدم کے انتظار میں رہا کرتی ہیں۔ جب تک یہ نہیں اٹھتا، سارے قدم زمین میں گڑے رہتے ہیں۔ یہ اٹھا اور گویا ساری دنیا اچانک اٹھ گئی۔اس بزم سود و زیاں میں کامرانی کا جام کبھی کوتاہ دستوں کے لیے نہیں بھرا گیا۔ وہ ہمیشہ انھیں کے حصے میں آیا جو خود بڑھ کر اٹھالینے کی جُرأت رکھتے تھے۔‘‘ 
  • (ابوالکلام (آزاد- چڑیا چڑے کی کہانی)
    • ’’سنو، عالم دو ہیں: ایک عالَم ارواح اور ایک عالَمِ آب و گِل۔ حاکم ان دونوں عالَموں کا وہ ایک ہے … ہر چند قاعدۂ عام یہ ہے کہ عالَم آب وگِل کے مجرم عالَمِ ارواح میں سزا پاتے ہیں، لیکن یوٗں بھی ہوا ہے کہ عالَمِ ارواح کے گنہ گار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں۔‘‘       
    (غالب کا خط بنام مرزا علاء الدین احمد خاں علائیؔ)

    • ’’بچپن میں سر سیّد پر نہ تو ایسی قید تھی کہ کھیلنے کودنے کی بالکل پابندی ہو اور نہ ایسی آزادی تھی کہ جہاں چاہیں اور جن کے ساتھ چاہیں کھیلتے کودتے پھریں۔ ان کی بڑی خوش نصیبی  یہ تھی کہ خود ان کے ماموں ان کی خالہ اور دیگر نزدیکی رشتہ داروں کے چودہ پندرہ لڑکے ان کے ہم عمر تھے جو آپس میں کھیلنے کودنے کے لیے کافی تھے۔ اس لیے ان کو نوکروں اور اجلافوں کے بچوں اور اشرافوں کے آوارہ لڑکوں سے ملنے جُلنے اور ان کے ساتھ کھیلنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔‘‘                                   
    (حیات جاوید : الطاف حسین حالیؔ) (حیاتِ 

     3.3.3 پُرشکوہ اسلوبِ بیان

    جب قلم کار عالمانہ انداز میں منتخب الفاظ، تراکیب، تشبیہات و استعارات کی مدد سے ایسا لب ولہجہ اختیار کرتا ہے جس سے ایک طرح کا جلال ظاہر ہو تو اسے پُرشکوہ اسلوبِ بیان کہا جاتا ہے۔ اردو کے مشہور ناول نگار قاضی عبدالستار کی نثر پُرشکوہ اسلوبِ بیان کی مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔ امتیاز علی تاج کے ڈرامے ’’انارکلی‘‘ کے مکالمے بھی پُرشکوہ اسلوب ِبیان کا نمونہ ہیں۔ تاریخی ناولوں اور ڈراموں میں اس اسلوبِ بیان سے اکثر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    داراشکوہ 

    دربارِ عام کے صحن میں مشہورِ عالم ’’دِل بادِل‘‘ شامیانہ آراستہ ہو چکا تھا، جسے سیکڑوں آدمیوں نے ہاتھیوں کی مدد سے کتنے ہی دنوں میں کھڑا کیا تھا۔ طلاباف مخمل کی چھت کے نیچے ٹھوس چاندی کے تین گز اونچے اسّی ستون سونے کے پھولوں کی قبا پہنے اصفہانی قالینوں پر حاضرین دربار کی طرح اپنے اپنے مقام پر نصب تھے۔ قلب میں پانچ ہاتھ اونچا، سوا تین ہاتھ لانبا، ڈھائی ہاتھ چوڑا تخت طاؤس تھا۔ اس کی چھت زمرّد کے بارہ ستونوں پر قائم تھی۔ دو طاؤس جواہرات سے سجے کھڑے تھے۔ ان کی منقاروں میں موتیوں کی مالائیں تھیں اور وہ دونوں اس لہلہاتے ہوئے درخت کو دیکھ رہے تھے، جس کی ڈالیں پکھراج کی تھیں۔ پتیاں زمرد سے تراشی گئی تھیں اور پھل یاقوت کے بنائے گئے تھے۔
    Unit 1 Capture-3 Pc 2
    -  قاضی عبدالستّار

     ◊  غور کرنے کی بات

    • تخلیقی صلاحیت خدا داد ہوتی ہے، قدرت نے جسے تمام انسانوں کو ودیعت کیا ہے۔ لیکن جو لوگ مشق اور محنت سے اسے جِلا بخشتے رہتے ہیں ان کے یہاں یہ قائم رہتی ہے اور طرح طرح سے اپنا اظہار کرتی رہتی ہے۔
    • محض کوئی نئی چیز خلق کرنا ہی تخلیقیت سے تعلق نہیں رکھتا، پہلے سے دریافت شدہ چیزمیں اضافہ کرنا یا اسے کوئی اور نئی شکل عطا کرنا بھی تخلیقیت میں شامل ہے۔
    • انسانی ذہن ہمیشہ فطرت سے سیکھتا آیا ہے۔ فطرت کا ہر جز تخلیقیت سے سرشار ہے۔ زمین میں بیج کا پھوٹنا، پودے سے درخت بننا، پھول اور پھل کا پیدا ہونا۔ یہ سب تخلیقیت ہی کے مظاہر ہیں۔
    • تخلیقیت کا تعلق محض ادب ہی سے نہیں ہے۔ سائنسی اختراعات اور صنعتی و تکنیکی سطح پر بھی جو نئی نئی چیزیں ایجاد ہوتی رہتی ہیں۔ ان کا تعلق بھی انسان کے تخلیقی شعور سے ہے۔
    • مٹی کے برتن بنا نے والا کوزہ گر، تصویر بنانے والا مصّور ، پتھرکو تراش کر اس میں انسانی نقوش اجاگر کر نے والا مجسّمہ ساز، آوازوں کو ایک خوبصورت تنظیم وترتیب عطا کرنے والا موسیقار بھی تخلیقیت ہی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
    • تجربہ ، تخیّل اور وجدان تخلیقیت کے سرچشمے ہیں۔ تخلیق کار اپنے تجربے کو تخیّل اور وجدان کی سرگرمی سے ایک نئی حقیقت میں بدل  دیتا ہے۔
    • شاعر کے لیے تخلیقی زبان کی خاص اہمیت ہے۔ جسے جذباتی زبان بھی کہا جاتا ہے اور جو علمی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔
    Capture
    Pic 3 Capture3

    مشق EXERCISE

    1۔ تخلیقیت کیا ہے اور یہ کس طرح پروان چڑھتی ہے؟
    2۔ تخلیقیت میں تجربے اور مشق ومہارت کی کیا اہمیت ہے؟ مثالیں دے کر سمجھایئے۔
    3۔ زبان و ادب میں تخلیقیت کا کیا رول ہے اور یہ دوسرے فنون سے کس طور پر مختلف ہے؟
    4۔ ادبی تحریر کی کیا خصوصیات ہیں؟ مثالوں سے واضح کیجیے۔
    5۔ میڈیا تحریر سے کیا مراد ہے اور اس کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
    ترجمہ کیا ہے ؟ اس کی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔
    7۔ آپ کے خیال میں ایک اچھے مترجم میں کون کون سی خوبیاں ہونی ضروری ہیں؟
    8۔ جملے کی ساخت میں کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ کچھ مثالوں سے واضح کیجیے۔
    پیراگراف کسے کہتے ہیں اور اس کے ضروری عناصر کون کون سے ہیں؟
    10۔ اردو کے اہم اسالیب بیان کا تعارف کرایئے اور ان کی ایک ایک مثال بطور نمونہ پیش کیجیے۔