
اکائی- II
ادبی اظہار


باب1 : نثر
1.1 تخلیقی نثر
1.2 غیر تخلیقی نثر
1.3 افسانوی نثر
1.3.1 ڈراما
1.4غیر افسانوی نثر
1.4.1 مضمون
1.4.2 سفرنامہ
1.4.3 خودنوشت/آپ بیتی
1.4.4 خط
1.4.5 انشائیہ
1.4.6 سوانح
1.4.7خاکہ
باب2 : شاعری
2.1 تخیّل
2.2 نظم کا فن
2.3 نظم کی اقسام
2.3.1 پابند نظم
2.3.2 معرّا نظم
2.3.3 آزاد نظم
2.3.4 نثری نظم
2.4 نظم کی ہئیتیں
ادب تخلیقی اظہار کا بہترین مظہر ہے۔ ادب لفظوں کی عمدہ ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے۔ یہ انسان کے سماجی رشتوں کا سب سے اہم مظہر بن کر قوم کی روح کے اظہار کا سب سے بڑا وسیلہ بن جاتا ہے۔ ادب کا دامن بے حد وسیع ہے۔ ادب کی مختلف اصناف اور ہیئتیں تخلیق کار کو یہ موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنی پسند کے کسی بھی پیرائے میں اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرسکتا ہے۔ اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے تخلیق کار نظم یا نثر کی کسی صنف کا استعمال کرسکتا ہے۔ مختلف ادیبوں کی تحریروں کا مطالعہ اس کی اپنی تحریر اور ذوق کو جلا بخشتا ہے۔
اس اکائی میں طلبا کو اردو کی مقبول اصناف سے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ طلبا ادبی اظہار کے مختلف پیرایوں سے اچھی طرح واقف ہوسکیں۔ ادبی اصناف کی تفہیم کے بعد انھیں اپنا کر اظہار خیال کرسکیں۔
باب 1
ادب اور تقاضے
آخر ادب کیوں پڑھا جائے؟ جب ایک محفل میں مجھے اس سوال کا جواب دینا پڑا تھا تو مجھے سوال کرنے والا بہت فضول آدمی نظر آیا تھا۔ اب میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو یہ طے کیا کہ فضول آدمی میں ہوں۔ سوال کرنے والا شخص تو اپنے زمانے کی ترجمانی کر رہا تھا۔ بات یہ ہے کہ زمانہ تو گزر گیا جب ایسے کاموں کو بھی اہم اور بامعنی سمجھا جاتا تھا جن کی بظاہر کوئی افادیت نظر نہیں آتی تھی مگر اب ہم ایک افادیت پسند عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ کاموں اور چیزوں کی اہمیت اور معنویت کا تعین ہم اس طور پر کرتے ہین کہ ان کی ہمارے لیے افادیت کیا ہے۔ اس عمل میں ہم پر یہ کھلا کہ ہماری غزل تو نری گل و بلبل کی شاعری ہے اور یہ کہ گل و بلبل کی شاعری کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے مگر مرغے کی وہی ایک ٹانگ۔ نت نئی اصلاحی اور انقلابی تحریکوں کے باوجود ہماری شاعری گل و بلبل سے گلوخلاصی نہیں پا سکی سو یہ سوال اٹھنا ہی تھا کہ شاعری پڑھنے کا فائدہ کیا ہے اور ادب کیوں پڑھا جائے؟
انتظارحسین

نثر
تخلیقی اظہار کی دو صورتیں ہیں۔ ایک نثری صورت اور دوسری شعری صورت۔ نثر تخلیقی اظہار کی وہ صورت ہے جس میں تخلیق کار اپنے خیالات و تجربات یا جذبات و محسوسات کو وضاحت اور صراحت کے ساتھ پیش کرتا ہے اور جملوں میں قواعدی ساخت یا ترتیب کو برقرار رکھتا ہے۔ نثر میں بات پھیلاکر کہی جاتی ہے اور یہ کوشش کی جاتی ہے کہ موضوع یا خیال بغیر کسی ابہام یا رکاوٹ کے ادا ہوجائے اور وہ آسانی سے قاری کے دل ودماغ تک پہنچ جائے اور اس کی فہم کا حصّہ بن جائے۔ تخلیقی اظہار کی یہ نثری صورت چونکہ عام اظہار یا علمی نثر سے مختلف ہوتی ہے اس لیے اس میں ادبی چاشنی بھی ہوتی ہے جو پڑھتے وقت قاری کو لطف و انبساط فراہم کرتی ہے۔
نثر کی قسمیں
عام طور سے نثر ایسے کلام کو کہتے ہیں جس میں وزن اور قافیے کی پابندی نہ کی گئی ہو۔ نثر کی یہ تعریف خالص علمی نثر کے لیے موزوں ہے۔ یعنی خالص نثر وزن اور قافیے سے خالی ہوتی ہے۔لیکن بعض مصنفین نے ایسی نثر بھی لکھی ہے جس میں کہیں قافیے کا اہتمام کیا گیا ہے اور کہیں وزن کا خیا ل رکھا گیا ہے ۔ قدیم زمانے میں نثر میں قافیہ یا وزن کا اہتمام کرنا باقاعدہ فن سمجھا جاتا تھا۔ اب اس طرح کی نثر کا رواج نہیں ہے۔ نثر کی چار قسمیں ہیں:
(i) نثرِ عاری
یہ نثر کی سب سے سادہ قسم ہے۔ اس میں نہ تو قافیہ پیمائی ہوتی ہے اور نہ ہی وزن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ ہرطرح کے تکلّف اور تصنّع سے پاک ہوتی ہے۔روزمرّہ کی عام گفتگو نثر عاری کا ہی نمونہ ہے۔
(ii) نثرِ مقفّٰی
اس میں قافیے کا اہتمام کیاجاتا ہے لیکن وزن کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔
(iii) نثرِ مسجّع
اس میں پہلے فقرے کے تمام الفاظ کی آوازیں دوسرے فقرے کے تمام الفاظ کی آوازوں سے موافقت رکھتی ہیں۔
(iv) نثرِ مرجّز
نثرِ مرجزّ میں وزن ہوتا ہے لیکن قافیہ نہیں ہوتا۔یہ نثرمقفّٰی کے برعکس ہے۔
ہمارے قدیم نثر نگار معنوی سطح پر بھی نثر کو دل کش بنانے کے لیے مختلف ترکیبیں اختیار کرتے تھے۔ کبھی سیدھے سادے انداز میں بات کہہ دی، کبھی تشبیہ واستعارے سے سجا کر اپنی بات پیش کی، کبھی کلام کو ایسا مشکل بنادیا کہ بہت غور کیجیے تب اصل معنی تک رسائی ہو۔
معنی کے لحاظ سے نثر کی چار قسمیں ہوتی ہیں۔
(i) سلیس سادہ
لفظ و معنی دونوں اعتبار سے آسان اور عام فہم نثر سلیس سادہ کہلاتی ہے۔ اس میں رعایتِ لفظی یا وزن و قافیہ کی پابندی نہیں کی جاتی۔
(ii) دقیق سادہ
ایسی نثر جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے مشکل ہو لیکن رعایتِ لفظی یا شعری صنعتوں سے پاک ہو۔
سرگرمی 2.1
گیارہویں اور بارہویں جماعت کی اردو کی درسی کتابوں سے نثر کی مختلف قسموں پر مبنی جملے تلاش کر کے لکھیے۔
(iii) سلیس رنگین
ایسی نثر جو الفاظ ومعنی کے اعتبار سے تو آسان اور عام فہم ہو لیکن نثر نگار نے مناسباتِ لفظی کا بھی اہتمام کیا ہو۔
(iv) دقیق رنگین
ایسی نثر جو الفاظ ومعنی دونوں اعتبار سے مشکل ہو اور اس میں صنائع لفظی و معنوی کا بھی اہتمام کیا گیا ہو۔
اس روایتی تقسیم کے علاوہ نثر کی ایک اور تقسیم ممکن ہے۔ تخلیقی نثر اور غیر تخلیقی نثر نیز افسانوی نثر اور غیر افسانوی نثر۔
1.1 تخلیقی نثر
تخلیقی نثر غیر رسمی ہوتی ہے جس میں زبان کاتخلیقی استعمال کیا جاتاہے ۔ اس طرز کی نثر میں جذباتی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں جذباتی زبان ہوتی ہے وہاں بے ساختہ پن ہوتاہے جو پڑھنے والے کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔ تخلیقی نثر زبان کی بیش بہاقوتوں کو کام میں لے کر دلوں کو تحریک بخشتی ہے اور اس میں تاثیر کی غیر معمولی قدرت ہوتی ہے۔
عام طورپر یہ سمجھا جاتاہے کہ تخلیقی نثرکا اسلوب تشبیہ، استعارے ، کنائے وغیرہ صنعتوں سے آراستہ ہوتاہے ۔ قدیم نثر نگار استعاروں سے اسلوب کی آرائش وزیبائش کا کام لیتے تھے اور خوب صورت تراکیب وضع کرتے تھے۔ اس طرح کے اسلوب میں تصنّع اور تکلّف کا پہلو زیادہ حاوی ہوتاہے ۔ تاہم تخلیقی نثر محض زبان کے متنوع استعمال کانام نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تخیّل کی مدد سے نئے نئے پیکر تخلیق کیے جاتے ہیں۔ تخیّل خود ایک تخلیقی قوت ہے جو ایسی نئی نئی صورتیں وضع کرتی ہے جس سے خیال و احساس کی نئی دنیائیں سامنے آتی ہیں اور پڑھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کرتی ہیں۔ تخلیقی نثر میں زبان کا استعمال چوں کہ براہِ راست نہیں ہوتا ہے اس لیے اس میں معنی بھی کئی جہتوں کے حامل ہوتے ہیں۔
کہیں کہیں تخلیقی نثر میں قواعد کی پابندیوں کا بھی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ایک خاص قسم کا تاثر قائم کرنے یا بیان میں زور پیدا کرنے کے لیے جملوں کی ساخت انوکھی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ تخلیقی نثر نگار اپنے خیال کے اظہار کے لیے ذہن کو آزاد چھوڑ دیتا ہے جس کے باعث قواعد سے انحراف کی صورتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ نثری اصناف میں اس قسم کے لسانی تجربے عام طور پر نظر آتے ہیں ۔ افسانوں ، ناولوں اور انشائیوں میں زبان کا یہ عمل جابجا دیکھا جاسکتاہے۔
قرۃ العین حیدرنے ’’ستمبر کا چاند‘‘ میں ہالی ووڈ کی فلمی دنیا کے رنگا رنگ تجربات کو جس اسلوب میں پیش کیا ہے بظاہر وہ سادہ نظر آتاہے ، لیکن دراصل وہ تخلیقیت سے سرشار ہے ۔درج ذیل اقتباس میں قرۃ العین حیدر اس جھیل کا ذکر کررہی ہیں جسے فلم ٹین کمانڈینٹس (Ten Commandments ) میں سمندر کے طورپر پیش کیا گیا ہے ۔ یہ ایک مصنوعی سیٹ ہے اور اس سیٹ کو دیکھ کر وہ اپنے خیالات میں اتنی غرق ہوگئیں کہ انھیں محسوس ہوا جیسے سمندر انھیں کے سامنے شق ہوا اور حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کے ساتھ فرعون کی فوج کو پیچھے چھوڑ کر بہ خیریت دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔وہ لکھتی ہیں:
’’ہماری ٹرین اب ندی کے اونچے چوبی پل پر چڑھی ۔ وسط میں پہنچتے ہی پُل ٹوٹ گیا۔ ٹرین ایک دھچکے سے ٹوٹے ہوئے راستے پر سے نکل کر بحیرۂ احمر پر آئی۔ یہ جھیلTen Commandments فلم کے لیے بنائی گئی تھی۔ اچانک پانی کے دوحصّے ہوئے اور ٹرین حضرت موسیٰ ؑکی قوم کی طرح ’’بحیرۂ احمر‘‘ میں سے نکل گئی۔ ایک اور جھیل پرپہنچے جس کے اندر ’’Jaws‘‘ والی شارک پڑی ہوئی تھی۔ دور جھیل کے وسط میں آدمی ناؤ میں بیٹھا تھا۔ مصنوعی شارک نے اس پر حملہ کیا۔ مصنوعی آدمی پانی میں گرپڑا۔ خون کا فوّارہ اُبلا۔ وہ شارک منھ کھول کر ہماری طرف لپکی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اصلی شارک نہیں۔ ٹرین جھیل کے کنارے سے آگے بڑھی۔
یہ سارے تماشے متواتر بالکل صحیح وقت پر دکھائے جاتے ہیں۔
ایک سیکنڈ کی بھول چوک نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر اس شارک سے میکینکل حرکت اور رفتار میں ذرا بھی غلطی یا دیر ہو تو یہ ٹرین سے ٹکراسکتی ہے ۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا۔‘‘

یہاں بیان کرنے کے طریقے میں تخلیقی اندا ز سے کام لیا گیا ہے جیسے ’’پل ٹوٹ گیا۔‘‘ جب کہ اصل میں پل ٹوٹا نہیں ہے ۔ یہاں کہیں ’’بحیرۂ احمر‘‘ بھی نہیں ہے محض ایک مصنوعی جھیل ہے جسے فلم میں ’’بحیرۂ احمر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پانی کے دوحصّے ہوئے نہ ٹرین نے اسے عبور کیا ۔ شارک مچھلی بھی مصنوعی تھی لیکن مصّنفہ نے ناؤ والے آدمی کے بارے میں لکھا ہے کہ شارک کے حملے سے خون کافوّارہ اُبل پڑا جب کہ ایسا ہوا نہیں۔ دراصل خون کا ابل پڑنا بھی مصنوعی تھا۔ قرۃ العین حیدر کا یہ خاص انداز ہے جوان کی افسانوی اور غیر افسانوی نثر دونوں میں یکساں طورپر قائم رہتاہے۔ ہمارے دور میں تخلیقی نثر کو استعمال کرنے والوں میں قرۃ العین حیدر کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
1.2 غیر تخلیقی نثر
غیر تخلیقی نثر سے مراد وہ نثرہے جو اپنی صفائی، شفافیت اورمنطقی طریقۂ کار سے پہچانی جاتی ہے ۔ایسی نثر میں قواعد کا لحاظ رکھا جاتاہے ۔ موضوع اور عنوان ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔ خیالات کے سلسلے میں ربط و ضبط کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ عموماً غیر ضروری اور غیر متعلق باتوں سے پرہیز کیا جاتاہے۔ انھیں باتوں کو شامل کیا جاتاہے جو مقصد کی وضاحت میں معاون ہوں۔ غیر تخلیقی نثر کی خصوصیات میں استدلال کی خاص اہمیت ہے ۔ اس سے غیر تخلیقی نثر میں وزن پیدا ہوتاہے کیوں کہ غیر تخلیقی نثر کا استعمال اُن تحریروں میں کیا جاتا ہے جن کا مقصد علم مہیا کرنا یا کوئی دعویٰ پیش کرنا ہوتاہے ۔ اس کے لیے ہمیشہ جواز اور ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے غیر تخلیقی نثر میں قطعیت اور وضاحت پائی جاتی ہے۔ نثر نگاراپنی بات کو زیادہ سے زیادہ واضح طورپر پیش کرنے کے لیے حوالوں اور مثالوں سے کام لیتاہے ۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر نثری صنف کے اپنے تقاضے ہیں۔ افسانوی نثر ، تخلیقی اسلوب کا تقاضا کرتی ہے لیکن علمی موضوعات پر لکھی ہوئی تحریروں کا تقاضا اس سے مختلف ہوتاہے۔ علمی تحریروں کا مقصدپڑھنے والوں کی بصیرت کو جلا بخشنا، کوئی خاص علم مہیا کرنا یا کسی خاص پیغام کی ترسیل ہوتا ہے۔ قاری علم سے بھی لطف اندوزہوسکتاہے لیکن یہ لطف اندوزی تخلیقی نثرسے ملنے والی لطف اندوزی سے مختلف ہوتی ہے بلکہ غیرتخلیقی نثر لطف اندوزی سے زیادہ طمانیت بخشتی ہے۔ وہ طمانیت جو کسی علم کی تحصیل کے بعد میّسر آتی ہے ۔غیر تخلیقی نثر کی مثال دیکھیے:
اُمّید کی خوشی
اے آسمان پر بھورے بادلوں میں بجلی کی طرح چمکنے والی دھنک، اے آسمان کے تارے تمھاری خوشنما چمک، اے بلند پہاڑوں کی آسمان سے باتیں کرنے والی دھندلی چوٹیو! اے پہاڑ کے عالی شان درختو! اے اونچے اور نیچے ٹیلوں کے دل کش بیل بوٹو! تم بہ نسبت ہمارے پاس کے درختوں اور سرسبز کھیتوں اور لہراتی ہوئی نہروں کے کیوں زیادہ خوش نما معلوم ہوتے ہو۔ اس لیے کہ ہم سے بہت دور ہو۔ اس دوری ہی نے تم کو خوبصورتی بخشی ہے۔ اس دوری ہی سے تمھارا نیلا رنگ ہماری آنکھ کو بھایا ہے۔ تو ہماری زندگی میں بھی جو چیز بہت دور ہے وہی ہم کو زیادہ خوش کرنے والی ہے۔
او نورانی چہرہ والے یقین کی اکلوتی خوبصورت بیٹی امید! یہ خدائی روشنی تیرے ہی ساتھ ہے۔ تو ہی ہماری مصیبت کے وقتوں میں ہم کو تسلی دیتی ہے۔ تو ہی ہمارے آڑے وقتوں میں ہماری مدد کرتی ہے۔ تیری ہی بدولت نہایت دور و دراز خوشیاں ہم کو نہایت ہی پاس نظر آتی ہیں۔
-سرسیّد احمد خاں
1.3 افسانوی نثر
وہ نثر جس میں کوئی افسانہ بیان کیا گیا ہو یا کہانی کہی گئی ہو یا جس میں افسانویت یا کہانی پن ہو ، افسانوی نثر کہلاتی ہے۔ یہ نثر ان خوبیوں سے سجی ہوتی ہے جو کسی تحریر کو تخلیقی اظہار کا روپ دے دیتی ہیں یعنی اسے دلچسپ اور پُراثر بنادیتی ہیں۔ افسانوی نثر میں تین قوتیں اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔
قوّتِ ممّیزہ، قوّتِ احساس اور قوت متخیّلہ۔
قوّتِ ممّیزہ تمیز کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہ واقعات کے انتخاب اور ان کی بہتر و مناسب ترتیب میں مدد دیتی ہے۔ قوّتِ احساس کی مدد سے واقعات اور جذبات کے اظہار میں شدّت پیدا ہوتی ہے۔ قوّتِ متخیّلہ تخیّل کی صلاحیت یا قوّت ہے جس سے موضوع اور مواد میں افسانویت اور زبان و بیان میں خوبصورتی اور دلکشی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ وہ قوتیں ہیں جن کی بدولت افسانہ نگار کے ذہن میں پہلے سے موجود واقعات و تجربات میں سے بہتر اور انوکھے واقعات و تجربات کا انتخاب، ان کی منطقی ترتیب اور پُراثر پیش کش ممکن ہوپاتی ہے۔ انھیں کی مدد سے کہانی کا پلاٹ تیار ہوتا ہے۔ اس پلاٹ میں جیتے جاگتے اور چلتے پھرتے کردار نظر آتے ہیں اور وہ کردار اپنی حرکات و سکنات اور اپنی بات چیت سے خیال ( Theme)کو آگے بڑھاتے ہیں اور کہانی کو انجام تک پہنچاتے ہیں۔زبان و بیان سے موضوع کو روانی ملتی ہے اور اس طرح ان قوتوں کی مدد سے زندگی کے واقعات و حادثات مخصوص ترتیب پا کر اور زبان و بیان کے زیور سے آراستہ ہو کر دلچسپ قصّے کا روپ اختیا رکرلیتے ہیں۔ اس طرح قصّہ بیان کرنے والی نثر افسانوی نثر بن جاتی ہے۔ اردو کی مشہور اصناف داستان ، افسانہ ، ناول اور ڈراما اسی افسانوی نثر کے نمونے ہیں۔
سرگرمی 2.2
اپنی اردو کی کتاب سے ان اسباق کے نام اور کچھ عبارتیں تحریر کیجیے جو تخلیقی نثر کا نمونہ ہیں۔
مخلوط زبان
’’انسانی خیال کی کوئی تھاہ نہیں اور نہ اس کے تنوع اور وسعت کی کوئی حد ہے۔ زبان کیسی ہی وقیع اور بھرپور ہو، خیال کی گہرائیوں اور باریکیوں اور نازک حرفوں کو صحت کے ساتھ ادا کرنے میں قاصر رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ادا کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جاتے ہیں۔ مترادف الفاظ ایسے موقعوں پر بہت کام آتے ہیں۔ مترادف الفاظ سب ہم معنی نہیں ہوتے۔ ان کے مفہوم اور استعمال میں کچھ نہ کچھ ضرور فرق ہوتا ہے۔ اس لیے ادائے مطالب میں ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے خاص کر شاعری کے اغراض کے لیے مترادف الفاظ کا کثرت سے ہونا بہت کام آتا ہے۔ شاعر ان کے ذریعہ سے لطیف خیال اور نازک سے نازک جذبات کو ادا کر سکتا ہے، پھر اس سے ردیف و قافیے کے لیے بہت سہولت ہوجاتی ہے۔‘‘
- مولوی عبدالحق

فوٹو گرافر
موسم بہار کے پھولوں سے گھِرا بے حد نظر فریب گیسٹ ہاؤس ہرے، بھرے ٹیلے کی چوٹی پر دور سے نظر آجاتا ہے۔ ٹیلے کے عین نیچے پہاڑی جھیل ہے۔ ایک بل کھاتی سڑک جھیل کے کنارے کنارے گیسٹ ہاؤس کے پھاٹک تک پہنچتی ہے۔ پھاٹک کے نزدیک والرس کی ایسی مونچھوں والا ایک فوٹوگرافر اپنا سازوسامان پھیلائے ایک ٹین کی کرسی پر چپ چاپ بیٹھا رہتا ہے۔ یہ گم نام پہاڑی قصبہ ٹورسٹ علاقہ میں نہیں ہے اس وجہ سے بہت کم سیّاح اس طرف آتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی ماہِ عسل منانے والا جوڑا یا کوئی مسافر گیسٹ ہاؤس میں آ پہنچتا ہے تو فوٹوگرافر بڑی اُمیّد اور صبر کے ساتھ اپنا کیمرہ سنبھالے باغ کی سڑک پر ٹہلنے لگتا ہے۔ باغ کے مالی سے اس کا سمجھوتا ہے۔ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہری کسی نوجوان خاتون کے لیے صبح سویرے گلدستہ لے جاتے وقت مالی فوٹوگرافر کو اشارہ کر دیتا ہے اور جب ماہِ عسل منانے والا جوڑا ناشتے کے بعد نیچے باغ میں آتا ہے تو مالی اور فوٹوگرافر دونوں ان کے انتظار میں چوکس ملتے ہیں۔
– قرۃ العین حیدر

سرگرمی 2.3
اپنی زندگی کے کسی یادگار واقعہ کو قلم بند کیجیے۔
افسانوی نثر کی ہر ایک صنف میں پیشکش کا ایک خاص ڈھنگ ہوتا ہے۔ داستان، ناول، افسانہ اور ڈراما اہم افسانوی اصناف ہیں۔ ہر افسانوی صنف کی مخصوص تکنیک یا تکنیکیں ہوتی ہیں۔ مثلاً داستان قصہ در قصہ کی تکنیک میں لکھی جاتی ہے یعنی ایک قصّہ شروع ہوتا ہے اور اس کے درمیان میں کچھ دوسرے قصے بھی آجاتے ہیں۔ پھر ان قصّوں کا سرا کسی موڑ پر بنیادی قصّے سے جا ملتا ہے۔افسانہ اور ناول کی کوئی ایک مخصوص تکنیک نہیں ہوتی۔ یہ مختلف تکنیک میں لکھے جاتے ہیں۔اس لیے ہمیں کوئی افسانہ یا ناول خط کی تکنیک میں ملتا ہے تو کوئی تمثیل کی تکنیک میں نظر آتا ہے۔کوئی بیانیہ کی تکنیک میں سامنے آتا ہے تو کوئی تجرید یا علامت کی تکنیک میں۔افسانہ اور ناول کے لیے شعور کی رَو کی تکنیک بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ڈراما چونکہ دیکھنے کے ساتھ پڑھنے کی بھی صنف ہے اس لیے اس کی پیش کش کا طریقہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیج کے تقاضوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے اور رنگ و روشنی کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔افسانوی نثر کے تحت ’ڈرامے‘ کا تعارف ذیل میں پیش کیا جارہا ہے ۔ دیگر افسانوی اصناف کے بارے میں ہم اگلی جماعت میں پڑھیں گے۔
1.3.1 ڈراما
ڈراما اردو کی ایک اہم صنف ہے۔ دیگر اصناف ادب کے برخلاف ڈرامے کی دوہری نوعیت ہے۔ یہ پڑھا بھی جاتا ہے اور اسٹیج پر پیش بھی کیا جاتاہے۔ ڈرامے کے معنی ’کرکے دکھانے ‘کے ہیں۔ ارسطو نے ڈرامے کو زندگی کی نقّالی قراردیا ہے۔ ڈرامے میں کسی قصے کو کرداروں، مکالموں اور مناظر کے ذریعے اسٹیج پر پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی قصے کے مختلف واقعات عملاً کرکے دکھائے جاتے ہیں۔ اس میں کرداروں کی ذہنی کش مکش اور ان کے جذبات واحساسات کی عکّاسی، جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات اور آواز کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے کی جاتی ہے۔ ڈرامے میں چونکہ عمل کی بالادستی ہوتی ہے اس لیے کوئی ڈراما خواہ کتنا بھی اچھا لکھا گیا ہو جب تک اسٹیج پر عمدگی سے پیش نہ کیا جائے، کمزور ہی مانا جائے گا۔
موضوع اور مواد کے اعتبار سے ڈرا مے کی تین قسمیں ہیں۔ المیہ، طربیہ اور الم طربیہ ۔ جن ڈراموں کا انجام الم ناک ہو انھیں المیہ ڈراما کہا جاتا ہے۔ جن ڈراموں کا اختتام خوشی اور مسرت پر ہوتا ہے انھیں طربیہ کہا جاتاہے۔ جن ڈراموں میں المیہ اور طربیہ دونوں عناصر موجود ہوں انھیں الم طربیہ کہا جاتا ہے ۔ المیہ ڈرامے کا مقصد دکھ اور ہمدردی کے جذبے کو بیدار کرنا ہے جب کہ طربیہ ڈرامے کا مقصد ناظرین کو لطف و انبساط عطا کرنا ہوتاہے۔مغرب خصوصاً یونان میں المیہ ڈرامے کو مقبولیت حاصل تھی۔ ہندوستان میں طربیہ ڈرامے کی روایت زیادہ پروان چڑھی۔
پیش کش کے اعتبار سے بھی ڈرامے کی کئی قسمیں ہیں جن میں اسٹیج ڈراما،نکّڑ ناٹک،ریڈیو ڈراما، ٹی وی ڈراما اور اوپیرا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
خدا حافظ
میر صاحب : اَماں تم ہی بتاؤ مرزا صاحب کہ اس ریل کے سفر میں نصیبِ دشمناں جان جو کھم تو نہیں ہے۔
مرزا صاحب: آپ کی بھی واللہ کیا باتیں ہیں۔ یعنی میں کہہ تو رہا ہوں کہ اس ریل کے سفر میں سر کے بال سفید کرلیے ہیں۔ پھر آپ کا یہ سفر تو قدم بھر کا ہے۔
میر صاحب: انشاء اللہ! مگر بھئی بات یہ ہے کہ یہ پہلا اتفاق ہے ، اسی سے جی گھبراتا ہے۔ اَماں تم بھی چلونا ساتھ۔ تم کو ذرا اس سفرکا تجربہ ہے اور میں بالکل نیا آدمی ، تمھارے سرِ عزیز کی قسم کلیجا ہاتھوں اُچھلتا ہے۔
مرزا صاحب: اگر آپ کہتے ہیں تو مجھے کیا عذر ہوسکتا ہے۔ مگر آپ نے تو واللہ کمال کردیا۔ اس زمانے میں آپ ایسے بہت کم نکلیں گے جو ریل کے سفر سے ناواقف ہوں۔
میر صاحب: بھئی یقین جانو، میں خاندانی وضع کے خلاف یہ بات کررہا ہوں ۔ اللہ جنت نصیب کرے۔ ابّا جان مرحوم تو کبھی اس محلے سے باہر نہ نکلے تھے اور خدا بخشے دادا جان مرحوم کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کبھی اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے۔ ایک میں ہوں کہ دیس چھوڑ کر پردیس کی ٹھانی ہے۔

– شوکت تھانوی
سرگرمی 2.4
آپ نے کئی ڈرامے دیکھے ہوں گے۔ ان ڈراموں کو المیہ، طربیہ اور الم طربیہ کے زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک فہرست بنائیے۔
اسٹیج ڈراما
عام طورسے جب ہم ڈراماکہتے ہیں تو اسٹیج ڈراما مراد لیتے ہیں۔ یہ ڈرامے کی بنیادی قسم ہے۔ اسٹیج ڈرامے میں اسٹیج ایسی جگہ پر واقع ہونا چاہیے کہ تمام ناظرین کرداروں کی حرکات و سکنات اور چہرے کے تاثرات اچھی طرح دیکھ سکیں۔ اسٹیج کی سطح عموماً ناظرین کے بیٹھنے کی جگہ سے کچھ اونچی ہوتی ہے۔ یہ ایک پلیٹ فارم کی طرح ہوتا ہے۔جس پر دونوں طرف اداکاروں کے آنے جانے کا راستہ ہوتا ہے جسے وِنگ کہتے ہیں۔ اکثر آگے گرنے والا پردہ ہوتا ہے جسے پروسینیم کہتے ہیں۔ یہ ناظرین اور اداکاروں کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ سین یا ایکٹ کے ختم ہونے پر یہ گرتا، اٹھتا ہے۔ اسٹیج پر پچھلی دیوار پر ڈرامے کے موضوع سے متعلق سینریاں لگائی جاتی ہیں۔ روایتی اسٹیج پر اس کی پابندی ضروری سمجھی جاتی تھی۔اسٹیج کی سجاوٹ بھی ڈرامے کا ایک لازمی جزو ہے۔ ڈرامے کے موضوع اور سین دونوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسٹیج کی سجاوٹ کی جاتی ہے۔ روشنی بھی اسٹیج ڈرامے کا ایک بے حد اہم حصّہ ہے۔ اس سے کسی کردار کے تاثرات کوا بھارنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے ذریعے کبھی کسی ایک کردار کو فوکس کیا جاتا ہے، کبھی دوکرداروں کو اور کبھی پورے اسٹیج کو۔
میک اپ اور ملبوسات کا بھی اسٹیج ڈرامے میں نمایاں کردار ہوتا ہے۔ مختلف قسم کے کردار نبھانے والے اداکاراپنے رول کے مطابق میک اپ کرتے ہیں اور اسی کی مناسبت سے ملبوسات زیب تن کرکے ناظرین کے سامنے آتے ہیں۔مثلاً اداکار کو کسی سادھو کا کردار نبھانا ہو تو وہ سادھو کے لباس اور وضع قطع میں اسٹیج پر آئے گا اور اگر کسی اداکار کو کسان کا رول ادا کرنا ہو تو اس کے جیسا رنگ ڈھنگ اپنائے گا۔
ڈرامے کے لیے ناظرین بھی بے حد اہم ہیں۔ ڈراما تحریر کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کے ناظرین کیسے ہیں۔

سرگرمی 2.5
اپنے دوست کے ساتھ کسی موقع پر کی گئی گفتگو کو مکالماتی انداز میں لکھ کر پیش کیجیے۔
ڈرامے کے اجزائے ترکیبی ہیں، پلاٹ، مرکزی خیال، کردار ، مکالمہ، پیش کش۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے :
(i) پلاٹ
ڈرامے کا پلاٹ روز مرہ کی انسانی زندگی اور ماحول و معاشرے سے ماخوذ ہوتاہے۔ اس کا پلاٹ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ترتیب دیا جاتاہے کہ اسے ایک خاص وقت یا دورانیے میں اسٹیج پر پیش کرنا ہے ۔ اس کے پلاٹ میں ایسے واقعات شامل کیے جاتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ عمل پر مبنی ہوں۔ کامیاب پلاٹ کے لیے مؤثر آغاز، کش مکش، تصادم، نقطۂ عروج اور انجام ضروری سمجھے جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آغاز اچھا ہو تو انجام بھی اچھا ہوتا ہے۔ ڈرامے کا آغاز اس قدر مؤثر اور زور دار ہوناچاہیے کہ پہلے منظرسے ہی ناظرین اسٹیج کی طرف متوجہ ہوجائیں اور کردار و واقعات سے اجنبیت نہ محسوس کریں۔
کش مکش ڈرامے کی وہ صورت حال ہے جس میں د وقوتیں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے آپس میں زور آزما ہوتی ہیں۔ ناظرین کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ ان میں جیت کس کی ہوگی۔ یہ کش مکش کبھی دو نظریات کے درمیان ہوتی ہے، کبھی دو افراد کے درمیان اور کبھی ایک ہی انسان کے اندر موجود دورویّوں کے درمیان ۔کش مکش جتنی شدید ہوگی، ناظرین کی توجہ بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی اور یہی ڈرامے کی کامیابی ہے۔
تصادم کش مکش کے منطقی انجام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کش مکش میں مصروف دونوں قوتوں میں فیصلہ کن ٹکراؤہوتا ہے اور کوئی ایک قوت فتح اور دوسری شکست سے دوچار ہوتی ہے۔
کش مکش اور تصادم سے ڈرامے میں تناؤ کا ماحول پیدا ہوتا ہے جسےنقطۂ عروج کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی ڈراما اپنے انجام کی طرف بڑھتا ہے۔

سرگرمی 2.6
آپ نے بچپن میں کئی کہانیاں پڑھی یا سُنی ہوں گی۔ مثلاً کچھوے اور خرگوش کی کہانی، سارس اور لومڑی کی دعوت والی کہانی، کنویں کے مینڈک والی کہانی وغیرہ۔ ان میں سے کسی ایک کہانی کو مکالماتی انداز میں لکھیے۔ جہاں ضرورت ہووہاں قوسین میں منظر اور کردار کی وضاحت کر دیجیے۔


ہر ڈرامے کا ایک انجام ہوتا ہے۔ المیہ میں اس کا انجام دکھ اورالم پر اور طربیہ میں خوشی اور مسّرت پر ہوتاہے۔
(ii) مرکزی خیال
ہر ڈرامے کا ایک مرکزی خیال ہوتا ہے جس کو ذہن میں رکھتے ہوئے قصّہ، پلاٹ اور کرداروں کی تخلیق کی جاتی ہے۔ یہ مرکزی خیال شروع سے آخر تک ڈرامے میں زیریں لہر کے طور پر موجود رہتا ہے۔
(iii) کردار
ڈرامے میں کردار کی بہت اہمیت ہے کیوں کہ عمل انھیں کے ذریعے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ ڈرامے کی کا میابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے کردار پوری طرح فعال اور متحّرک ہوں۔ ڈرامے میں عام طور سے مرکزی کردار (ہیرو، ہیروئن، وِلن)، معاون کردار اور ضمنی کردار ہوتے ہیں۔ مرکزی کرداروں پر ڈرامے کا سب سے زیادہ انحصار ہوتا ہے کیوں کہ پورا پلاٹ ان کے گرد گھومتا ہے۔ اس لیے انھیں زیادہ توانا، بااثر اور دلچسپ ہونا چاہیے۔ کردار وں کے لیے فطری ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ ناظرین کو ایسا محسوس ہونا چاہیے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت ہے۔
(iv) مکالمہ
مکالمے ڈرامے کی جان ہیں۔ ڈرامے کی کہانی کرداروں کی آپسی بات چیت کے ذریعے ہی آگے بڑھتی ہے۔ اس لیے مکالمے کردار کے پس منظر، ماحول، عمر اور جنس کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحریر کیے جانے چاہئیں۔ مکالمے مختصر، سادہ، سلیس اور برجستہ ہونے چاہئیں۔ بناوٹ اور طوالت مکالمے کا عیب ہیں۔
(v) پیش کش
ڈرامے کی اسکرپٹ مکمل ہوجانے کے بعد اسٹیج پر ا س کی پیش کش کی جاتی ہے۔ اسکرپٹ بہت اچھی ہو لیکن پیش کش معیاری نہ ہو تو ساری محنت اکارت چلی جاتی ہے۔ اس لیے اس کی پیش کش پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ ڈرامے کے موضوع کی مناسبت سے اسٹیج کی سجاوٹ ،پوشاک ، موسیقی، روشنی، مناظر اور دیگر چیزوں کا انتظام کیا جاتا ہے اور ضرورت کے وقت ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہدایت کار ہر منظر پر نظر رکھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اداکار اسٹیج پر فطری انداز میں نظر آئیں۔ وہ مکالموں کی ادائیگی اچھی طرح سے کریں ، تلفظ کا خیال رکھیں اور ضرورت کے مطابق چہرے کے ہاؤ بھاؤ (تاثرات) ، جسمانی حرکات و سکنات اور آواز کے اتار چڑھاؤسے کردار کی بھرپور عکاسی کریں۔



سرگرمی 2.7
اپنی پسند کے کسی نکڑ ناٹک کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسکول یا محلّے میں پیش کیجیے۔
انارکلی
رانی: مہاراج! رحم کیجیے! پہلے میری التجا تھی، اس کو چھوڑ دیجیے۔ اب میری فرمائش ہے۔ انار کلی کو چھوڑ دیجیے۔
اکبر: انارکلی کو سلیم کے لیے! یہ تم کہہ رہی ہو رانی؟
رانی: سب کچھ سوچ کر، سب کچھ سوچ کر ، سب پہلوؤں پر غور کرکے۔
اکبر: تمھارا مشورہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے تمام خواب چکناچور کر ڈالوں۔ وہ خواب جو میرے دنوں کا پسینہ، میری راتوں کی نیند ، میری رگوں کا لہو، میری ہڈیوں کامغز ہیں۔ تمھارا مشورہ ہے کہ میں ان سب کو چکنا چور کرڈالوں۔
رانی: ( کچھ کہنا چاہتی ہے، مگر نہیں کہتی، سرجھکالیتی ہے) اولاد کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔
اکبر: ( دبے ہوئے جوش سے) کیا کچھ نہیں کیا گیا۔
رانی: ( سرجھکائے ہوئے) پھر اب بھی ہم کیوں نہ صرف ماں ا باپ کا حق ادا کریں۔
اکبر: اور اس سے کب تک اولاد کی فرض کی امیّد نہ رکھیں۔
رانی: (سر اٹھا کر) کیوں امّید رکھیں۔ ہمیں تو تھے جو اولاد کی آرزو میں سائے کی طرح اداس پھرتے تھے۔ ہمیں تو تھے جو اولاد پا کر دونوں جہاں حاصل کربیٹھے تھے اور ہمارے ہی لیے اس کا ایک تبسّم زندگی کے تمام زخموں پر مرہم تھا۔ ہم تو صرف اس لیے اس کی تمنّاکرتے تھے کہ اس سے ہمارا ویران دل آباد ہواور ہم اپنی موت کے بعد بھی اس میں زندہ رہ سکیں۔ پھر اس سے توقع کیسی؟
اکبر: تم ماں ہو، صرف ماں۔
رانی: (جل کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ ضبط کی کوشش کرتی ہے مگر نہیں رہا جاتا، پھٹ پڑتی ہے) میں خوش ہوں کہ میں صرف ماں ہوں اور مجھ کو رنج ہے کہ آپ شہنشاہ ہیں، صرف شہنشاہ۔

– امتیاز علی تاج
◊ نُکّڑناٹک
یہ عوامی ڈرامے کی ایک شکل ہے جس میں شہر یا دیہات کے کسی چوراہے یا موڑ پر کسی اسکرپٹ ، اسٹیج یا ڈرامے کے دیگر لوازم کے بغیر عام زندگی میں پیش آنے والے کسی اہم مسئلے کو چند اداکار ناٹک کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ نکڑ ناٹک میں سماجی ، سیاسی یا کسی اور اہم مسئلے کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ نکڑناٹک کے اداکار گلی یا محلے میں ڈھول بجا کر یا کسی اور طریقے سے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتے ہیں اور ناٹک پیش کرتے ہیں۔ اس کا مقصد کسی مسئلے کے تئیں عوام کو بیدار کرنا اور رائے عامہ تیار کرنا ہے۔ اِپٹا (Indian People's Theatre Association - IPTA)، جن ناٹیہ منچ، حبیب تنویر اور صفدر ہاشمی کی ناٹک منڈلیوں نے بہترین نُکّڑ ناٹک پیش کیے ہیں۔
◊ ریڈیو ڈراما
ڈراما عمل سے عبارت ہے جب کہ ریڈیو پر صرف آواز سنی جاسکتی ہے۔ چنانچہ ریڈیو ڈرامے میں عمل کو کرداروں کی آپسی بات چیت اور مختلف آوازوں کی مدد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ریڈیو ڈرامے کے لیے مکالمے، صوتی اثرات اور موسیقی کی بڑی اہمیت ہے۔ ریڈیو ڈرامے کے مکالمے عام فہم، مختصر اور پُراثر ہونے چاہئیں۔ مختلف کرداروں کی آواز میں نمایاں فرق ہونا بھی ضروری ہے تاکہ سامعین آواز کے ذریعے کرداروں کو پہچان سکیں۔ کرداروں کی شخصیت اور تہذیبی انفرادیت بھی ان کے مکالموں سے ظاہر ہونی چاہیے۔صوتی اثرات سے ڈرامے میں پس منظر کا کام لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بارش کی آواز، بازار کا شور وغل، کسی گاڑی کی آواز، پولیس کا سائرن یا ایمبولینس کی آواز وغیرہ۔موسیقی سے ڈرامے کی فضا ، حالات اور کردار کے جذبات و احساسات سے سامعین کو واقف کرانے میں مدد ملتی ہے۔ ریڈیو ڈرامے کی ترقی میں آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی اردو سروس اور ان سے وابستہ قلم کاروں نے نمایاں حصہ لیا ہے۔ کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی،اوپندر ناتھ اشک، محمد حسن وغیرہ نے خاصی تعداد میں ریڈیو ڈرامے لکھے۔

سرگرمی 2.8
کسی ریڈیو ڈرامے کو سنیے اور اس کے مختلف اجزاکا جائزہ پیش کیجیے۔
سرگرمی 2.9
ٹی وی کے کسی ڈرامے کا انتخاب کیجیے اور اس کی روشنی میں ڈرامے کے مختلف اجزائے ترکیبی کا تجزیہ کیجیے۔

◊ ٹی وی ڈراما
ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے ڈرامے کو ٹی وی ڈراما کہا جاتا ہے۔اس کی تکنیک ریڈیو سے مختلف ہے ۔ اس میں چونکہ کردار نظر آتے ہیں اس لیے اس میں اسٹیج ڈرامے کی بہت سی خصوصیات ملتی ہیں۔ اس کے مکالمے عام فہم، سلیس اور مختصر ہوتے ہیں اور کرداروں کے ذریعے ان کی مؤثر ادائیگی پر زور ہوتاہے۔ٹی وی ڈرامے میں بھی حرکت، کش مکش اور تصادم کا ہونا لازمی ہے۔اس کی عکس بندی اور نشرو اشاعت کے مسائل خالص تکنیکی اور مشینی ہوتے ہیں۔
◊ اوپیرا
لاطینی زبان میں ’اوپیرا‘ کے معنی عمل کے ہیں۔ اوپیرا منظوم ہوتاہے اور اسٹیج پر اسے موسیقی اور رقص کے ساتھ پیش کیا جاتاہے۔ اس لحاظ سے اردو میں اسے ’غنائیہ‘ بھی کہتے ہیں۔ لفظ’ اوپیرا‘ اردو میں سب سے پہلے حافظ عبداللہ نے استعمال کیا۔ اوپیرا کے واقعے اور موسیقی میں کرداروں کے مزاج کے مطابق راگ راگنیاں متعین ہوتی ہیں۔ اس میں کہانی کے موضوع کے مطابق ہی موسیقی پیش کی جاتی ہے جس کا تسلسل کہیں ٹوٹنے نہیں دیا جاتا اور واقعے کے نشیب و فراز اور کرداروں کی نفسیاتی صورت حال سب پر موسیقی کا گہرا اثر ہوتا ہے۔
◊ ڈراما کیسے لکھیں
کسی بھی تخلیق کار کے لیے خیال سب سے اہم ہے۔پہلے اس کے ذہن میں کوئی خیال آتا ہے اور پھر اس خیال کی مناسبت سے اس کی پیش کش کے لیے صنف اور ہیئت کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اچھا اور کامیاب ڈراما نگار بننے کے لیے ضروری ہے کہ ڈرامے کے فن اور اس کی روایت پر آپ کی گہری نظر ہو۔ جب تک آپ اس کی تکنیک سے بخوبی واقف نہ ہوں، اچھے ڈرامے نہیں لکھ سکتے۔ڈراما نگار کے لیے ضروری ہے کہ آس پاس کے ماحول اور معاشرے پر اس کی گہری نظر ہو، سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات سے وہ بخوبی واقف ہو اور ان سے اپنے ڈرامے کے موضوع اور کردار اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ڈراما تحریر کرتے وقت ڈراما نگار کے لیے کردار(اداکار) اسٹیج اور ناظرین کو ذہن میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ڈراما دراصل معلوم حقائق کو ایک نئے اور منفرد صورت میں پیش کرنے کا نام ہے ۔کسی بھی واقعہ ، صورتِ حال یا رشتے کو ڈرامے کے پلاٹ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ڈرامے کے لیے موضوعات کی کوئی قید نہیں ہے۔ سماجی، سیاسی،مذہبی،تاریخی یا کسی بھی موضوع پر ڈراما تحریر کیا جاسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس میں فنّی سلیقہ مندی اور اسٹیج کے لیے ضروری عناصر موجود ہوں۔
1.4 غیر افسانوی نثر
افسانوی نثر کے علاوہ تخلیقی اظہار کی باقی دوسری تمام تحریری صورتیں غیر افسانوی نثر کے زمرے میں آتی ہیں۔ غیرافسانوی نثر میں کوئی افسانہ پن تو نہیں ہوتا مگر ادبیت ضرور ہوتی ہے۔ اس نثر میں بھی وہ قوتیں اپنا کام کرتی ہیں جن سے تحریر میں دلکشی اور دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی یہاں بھی تخیّل اپنی اڑان بھرتا ہے، ممیزہ یعنی فرق کرنے کی طاقت اپنا کردار نبھاتی ہے اور احساس اپنا اثر دکھاتا ہے۔ اس نثر میں افسانہ یا کہانی تو نہیں ہوتی مگر زندگی کے دیگر رنگ، جیسے شخصیت کے سوانحی کوائف ، اس کی نمایاں صفات ،سفر کے احوال، حیات وکائنات کی ہلکی پھلکی باتیں، تخلیقی موڈ میں لکھے گئے خطوط، شعروادب کے تجزیے وغیرہ ضرور ہوتے ہیں اور ان سب کے بیا ن میں زبان اپنا تخلیقی جادو بھی دکھاتی ہے۔ اس لیے سوانح حیات ، خود نوشت، خاکے، سفرنامے، انشائیے، خطوط، تنقیدی مضامین وغیرہ بھی فکشن کی طرح پڑھے جاتے ہیں اور ان سے بھی قاری کو اسی طرح لطف حاصل ہوسکتا ہے جس طرح کہ داستان، افسانہ یا ناول کے مطالعہ سے ملتا ہے۔
1.4.1 مضمون
کسی بھی موضوع یا مسئلے پر معلوماتی یا تجزیاتی تحریر کو مضمون کہتے ہیں۔ مضمون میں علمیت اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ معلوماتی مضامین کا انداز غیر شخصی اور غیرجانبدارانہ ہوتا ہے۔ تاہم اکثر صورتوں میں لکھنے والے کی ترجیحات اور پسند و ناپسند در آتی ہے۔ مضمون عام طور پر مختصر ہوتا ہے۔
سرگرمی 2.10
اپنے ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے کہ آپ کوئی ڈراما لکھنے کے لیے کن بنیادی نکات کو پیش نظر رکھیں گے۔
فانوس کی گردش
ایک زمانہ تھا جب تربیت میں زیادہ زور ادب پر دیا جاتا تھا۔ بچّوں کی بڑی خوبی یہ سمجھی جاتی تھی کہ بڑوں کے سامنے وہ مؤدب ہو کر، دَم سادھ کر بیٹھیں، جو کچھ وہ کہیں سنتے رہیں، خاموش بیٹھے رہیں یا زیادہ سے زیادہ ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ اس وضعِ تربیت کا نتیجہ ظاہر ہے۔ بچّہ ادب تو سیکھ جاتا ہے لیکن اس کی انفرادیت دب جاتی ہے۔ اُسے پیش قدمی کی عادت ہی نہیں پڑتی۔ اس کا ذہن مقیّد ہوجاتا ہے اور ا س کی فکر پابہ زنجیر۔ اس کے پرِپرواز کترجاتے ہیں۔ اپنے مافی الضمیر کا اظہار وہ وضاحت اور مہارت کے ساتھ نہیں کرپاتا۔ جب وہ زندگی میں قدم رکھتا ہے، ملازمت یا کاروبار سنبھالتا ہے تو اپنے ساتھیوں یا نِگرانوں سے مؤثر ڈھنگ سے گفتگو کرنے کی صلاحیت خود میں نہیں پاتا۔ وہ اپنی بات منوانے کے گُر نہیں جانتا۔ اس کے جسم کی زبان اس کی مسکینی کا اعلان کرتے نہیں تھکتی۔ پہلے زمانہ میں اس وضعِ تربیت سے زیادہ نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانہ میں جو سخت مقابلے اور اپنی صلاحیتیں جَتانے کا زمانہ ہے، تربیت کی یہ وضع سخت مضر ہے۔بچّوں پر نگاہ رکھیے انھیں بُری صحبت سے بچائیے، چاہے وہ ہمسِنوں کی صحبت ہو، چاہے کتابوں کی، چاہے الیکٹرونک میڈیا کے پروگراموں کی۔ لیکن خدا را ان کی فکر پر پابندیاں نہ لگائیے، ان کی زبان بندی نہ کیجیے۔ ان کے اُفق کو سمٹنے نہ دیجیے۔ رٹنے اور سمجھنے کے فرق کو تربیت کے دوران ضرور ملحوظ رکھیے۔ سمجھائیے گا تو ذہن جِلا پائے گا، رٹا ئیے گا تو ذہن منجمد ہو جائے گا۔

– سیّد حامد
موضوعات کے لحاظ سے مضمون کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ادبی موضوعات پر لکھے گئے مضا مین کی نوعیت تنقیدی، تحقیقی اور لسانیاتی ہوتی ہے۔ غیرادبی موضوعات میں مذہب، فلسفہ، سوانح، سماج، سیاست، اقتصادیات، صنعت و حرفت، تجارت، زراعت، ماحولیات، طِب، صحت، قانون، سائنس و ٹکنالوجی وغیرہ سے متعلق معلوماتی مضامین شامل ہیں۔ سرسید کے مضامین ’بحث و تکرار‘ یا ’خوشامد‘ اصلاحی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے لکھے گئے ہیں۔ انھیں سماجی موضوع سے متعلق کہا جائے گا۔
مضمون کی کامیابی کا انحصار ربط و ترتیب اور تنظیم کی خوبی پر ہے۔ ایک اچھے مضمون میں موضوع یا مسئلے کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے تمام اہم پہلو زیر بحث آجائیں۔ تمہیدی حصے میں موضوع کا ایسا تعارف کرایا جاتا ہے جس سے اس کی اہمیت اور لکھنے والے کی منشا پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد منطقی ترتیب میں سنجیدہ اور مدلّل طریقے سے اہم نکتوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔ انتشار سے بچتے ہوئے ضروری وضاحت اور صراحت کے ساتھ بات پوری کی جاتی ہے اور کسی نتیجے پر پہنچ کر مضمون ختم کیا جاتا ہے۔ مضمون میں زبان اور طرزِ بیان کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ الفاظ میں جس قدر قطعیت اور شفّافیت ہوگی اسی قدر مقصد کی وضاحت ہوگی۔
سرگرمی 2.11
مضمون نگاری کے بنیادی نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی عنوان پر مضمون لکھیے۔
1.4.2 سفرنامہ
سفرنامہ ایک بیانیہ نثری صنف ہے۔ بعض سفرنامے منظوم بھی لکھے گئے ہیں۔ سفرنامے میں سفر کی روداد بیان کی جاتی ہے۔ سیّاح اپنے سفر کے دوران جن مقامات کی سیر کرتا ہے،وہاں جو کچھ دیکھتا ہے،اس کی تفصیل سفرنامے میں پیش کر دیتا ہے۔اس تفصیل میں جغرافیائی محل وقوع، تاریخی مقامات، تہذیب وتمدن، رسم و رواج، سماجی حالات، سیاسی صورت حال، ادبی وثقافتی سرگرمیاںٍ وغیرہ جیسے بہت سے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔سفر نامہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سفر کے احوال و کوائف سچائی اور ایمان داری کے ساتھ قلم بند کرے۔اس کا انداز بیان دلچسپ ہوناچاہیے تاکہ قاری اسے توجہ سے پڑھے۔جامعیت اور اختصار بھی سفر نامے کے لیے ضروری ہے۔ غیرضروری تفصیل ٍسفرنامے کو بوجھل اور غیردلچسپ بنا دیتی ہے۔
اردو میں سفرنامے کا آغاز انیسویں صدی کے نصف میں ہوا۔یوسف خاں کمبل پوش کا سفرنامہ ’عجائباتِ فرنگ‘ اردو کا پہلا سفرنامہ ہے جو 1847 میں لکھا گیا تھا۔ انیسویں صدی کے اہم سفرناموں میں سرسید احمد خاں کا’مسافرانِ لندن‘، محمد حسین آزاد کا’سیرِ ایران‘ اور شبلی نعمانی کا ’سفرنامۂ روم و مصروشام‘قابل ذکر ہیں۔
قاضی عبدالغفار کا ’نقشِ فرنگ‘، سید سلیمان ندوی کا ’سفرنامۂ برما‘، بیگم حسرت موہانی کا ’سفرنامۂ عراق‘، احتشام حسین کا ’ساحل اور سمندر‘،بیگم اختر ریاض کا ’سمندر پار سے‘، قرۃ العین حیدر کا ’ستمبر کا چاند‘ اور مستنصر حسین تارڑکا ’اندلس میں اجنبی‘ وغیرہ اہم سفرنامے ہیں۔بعض سفرنامے مزاحیہ انداز میں بھی لکھے گئے ہیں۔ان میں کرنل محمدخاں کا ’بہ سلامت روی‘،ابن انشا کا ’چلتے ہو تو چین کو چلیے‘،’شفیق الرحمٰن کا ’دجلہ‘اور مجتبیٰ حسین کا ’جاپان چلو،جاپان چلو‘ اہم ہیں۔
1.4.3 خود نوشت / آپ بیتی
آپ بیتی ایک ایسی صنف ہے جس میں لکھنے والا اپنی زندگی کے بعض اہم اور قابلِ ذکر واقعات و تجربات کو دلچسپ انداز میں پیش کرتا ہے۔ آپ بیتی دراصل اپنے بارے میں لکھنا ہے۔ مگر لکھنے والے کا ایمان دار ہونا بے حد ضروری ہے۔ ادیبوں کی لکھی ہوئی آپ بیتیاں اپنے اسلوب اور تکنیک کے باعث فکشن کا تاثر پیدا کرتی ہیں۔ بعض افراد کی آپ بیتی میں خود ستائی اور احساسِ تفاخر پایا جاتا ہے۔
سرگرمی 2.12
آپ سیاحت کی غرض سے دوسرے شہر گئے ہوں گے۔ وہاں کے دلچسپ حالات وواقعات ، وہاں کے رہن سہن،دیکھنے لائق مقامات وغیرہ قلم بند کیجیے۔
عجائباتِ فرنگ
سیر کرتے ہوئے ایک شہر میں پہنچا۔ وہاں ناؤسے اُترکر سرا میں گیا۔ اچھی سراتھی کہ زبان اس کی توصیف سے عاجز ہوئی۔ ہر طرف شیشہ آلات اور آئینہ تصویر کے لٹکے۔ اور کمرے میں کرسیاں اور میز رکھے۔ سب کے سب صفائی سے آئینہ کی طرح چمکتے۔ فرش فروش زرینہ ہر مکان میں بچھے۔ مالک اُس سرا کا ایک انگریز بہت خوب آدمی تھا۔ محبت اور اخلاص سے اس سرا کی عمارت اور ہر مکان مہربانی کرکے دکھایا۔ مجھ کو ہرگز یقین نہ ہوتا کہ یہ سراہے، بلکہ جانتا یہ شخص ہنسی کرتا ہے۔ پہررات تک جلسہ گرم رہا، بعد اس کے ہر ایک اپنی جگہ پرجا کرسویا۔
-یوسف خاں کمبل پوش

اس آباد خرابے میں
ان تصویروں میں جن کا تعلق میرے ذہنی پس منظر سے ہے۔ ایک تصویر میرے ذہن میں بہت واضح ہے۔ میں ایک بیل گاڑی کے پاس کھڑا ہوں۔ ہم ایک گاؤں چھوڑ کر دوسرے گاؤں میں جا رہے ہیں۔ ہمارا سامان بیل گاڑی میں لادا جا رہا ہے اور میں یہ منظر بڑی بے بسی کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ بے بسی اس لیے کہ میں یہ گاؤں نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اس گاؤں کا نام رَکڑی تھا۔ یہاں بہت سے جوہڑ تھے۔ جوہڑوں میں کنول اور نیلوفر کھلتے تھے۔ سب طرف بڑے بڑے آموں کے گھنے باغ تھے۔ باغوں میں کھلیان پڑتے تھے۔ کوئلیں کوکتی تھیں۔ پپیہے بولتے تھے۔ ہرے ہرے جنگلوں اور کھیتوں میں ہرنوں کی ڈاریں کلیلیں کرتی دکھائی دیتی تھیں۔ کیکر اور کھجور کے پیڑوں میں بَیوں کے گھونسلے تھے جن میں بیٹھے وہ جھولتے رہتے تھے، گیت گاتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے کا تعاقب کرتے رہتے تھے۔ پدّے تھے۔ شامائیں تھیں، لال تھے جو موسم کی تبدیلی کے ساتھ رنگ بدلتے تھے، مینائیں تھیں، خوبصورت آواز والے دیّڑ تھے۔ غرض کہ وہ سب کچھ تھا جو مجھے مرغوب اور پسند تھا۔ مگر میری مرضی نہیں چلی، مجھے گاڑی میں بٹھا دیا گیا اور گاڑی مجھے لے کر روانہ ہو گئی۔ مگر میں وہیں کھڑا رہ گیا۔ یہی وہ گاؤں رکڑی تھا جسے چھوڑ کر ہم کمباسی گئے تھے۔

– اخترالایمان
سرگرمی 2.13
اپنی زندگی کے کسی ایک دن کی آپ بیتی تحریر کریں۔
آپ بیتی کے عناصر بہت سے ادیبوں کے یہاں ان کی کتابوں کے مقدمات، دیباچوں یا ان کے مکاتیب میں مل جاتے ہیں۔ مثلاً باقر آغا کے نثری دیباچوں میں ان کے ذاتی احوال ملتے ہیں۔ اسی طرح غالب کے ایک خط میں ان کی زندگی کے سلسلے وار واقعات کا مختصر بیان ملتا ہے۔ حالی نے بھی مختصراً اپنی آپ بیتی لکھی ہے جسے مولوی عبدالحق نے مقالاتِ حالیؔ میں شامل کر دیا ہے۔ اردو کی پہلی معروف آپ بیتی سر رضا علی کی ’اعمال نامہ‘ ہے۔ اس کے بعد کثرت سے آپ بیتیاں لکھی گئی ہیں۔ چند اہم خود نوشت سوانح عمریوں میں ’آپ بیتی‘ (خواجہ حسن نظامی)، ’کالا پانی‘ (جعفر تھانیسری)، ’آپ بیتی‘ (عبدالماجد دریابادی)، ’جو رہی سو بے خبری رہی‘ (بیگم ادا جعفری)، ’یادوں کی برات‘ (جوش ملیح آبادی)، ’اپنی تلاش میں‘ (کلیم الدین احمد)، ’کاروانِ زندگی‘ (سید ابوالحسن علی ندوی)، ’اس آباد خرابے میں‘ (اخترالایمان) اور ’شام کی منڈیر سے‘ (وزیر آغا) وغیرہ شامل ہیں۔
1.4.4 خط
مکتوب، مراسلہ اور خط مترادف الفاظ ہیں۔ خط لکھنا پیغام رسانی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کی روز مرّہ کی ضرورت میں شامل ہے۔ خطوط میں لکھنے والے کی ضروریات، جذبات و خیالات اور اس کی زندگی کے دیگر مسائل بیان ہوتے ہیں۔ ان سے نہ صرف مکتوب نگار بلکہ مکتوب الیہ کی شخصیت پر بھی ہلکی سی روشنی پڑتی ہے۔ ادبی خطوط کی کوئی مخصوص ساخت اور فنّی شرائط مقرر نہیں ہیں۔
ادبیت اور انشا پر دازی کے سبب خطوط کو صنف کی حیثیت حاصل ہوئی۔ خطوط میں لکھنے والے کی شخصیت جھلکتی ہے۔ ان میں مکتوب نگار کا باطن کھل کر سامنے آتا ہے۔ لیکن اشاعت کی غرض سے لکھے جانے والے اکثر خطوط میں حقیقی شخصیت پس پردہ رہ جاتی ہے۔ سوانحی نقطۂ نظر سے وہ خطوط زیادہ اہم ہیں جن میں بے تکلّفی، بے ساختگی اور ذاتی تاثرات کی جھلک ہو۔
تاریخی نقطۂ نظر سے بھی مکتوبات اہمیت رکھتے ہیں۔ مشاہیر کے خطوط میں بعض ایسے اشارے یا تفصیلات ہوتی ہیں جوتاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتیں۔غالب کے خطوط میں1857سے قبل اور بعد کے بعض ایسے واقعات درج ہیں جن کا سراغ کہیں اور نہیں ملتا۔
اردو میں ادبی مکتوب نگاری کی روایت غالب سے شروع ہوتی ہے۔ غالب کے خطوط میں ان کی شخصیت اور ان کا عہد پوری طرح جھلکتا ہے۔ غالب کے بعد سرسید، شبلی ، اکبر الہٰ آبادی، علامہ اقبال، مہدی افادی اور نیاز فتح پوری کے خطوط ادبی اہمیت کے حامل ہیں۔ محمد علی جوہر، عبدالماجد دریابادی، ابوالکلام آزاد ، رشید احمد صدیقی اور فیض احمد فیض کے خطوط ہمارے مکتوباتی ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط اپنے مخصوص اسلوب کے اعتبار سے منفرد نوعیت کے ہیں۔
1.4.5 انشائیہ
انشائیہ ایک نثری صنف ہے۔اس میں کوئی واقعہ نہیں ہوتابلکہ بات سے بات پیدا کی جاتی ہے۔ اس میں خیالات کا منضبط ہونا بھی ضروری نہیں۔ اسے ذہن کی ترنگ بھی کہا گیا ہے۔ انشائیہ مضمون کی ایک ایسی قسم ہے جس میں علم و استدلال کے بجائے تاثراتی اور تخلیقی کیفیت پائی جاتی ہے۔
غالب کا خط نواب امین الدین خاں کے نام
بھائی صاحب!
آج تک سونچتا رہا کہ بیگم صاحبہ قبلہ کے انتقال کے باب میں تم کو کیا لکھوں۔ تعزیت کے واسطے تین باتیں ہیں، اظہارغم، تلقین صبر، دعائے مغفرت۔ سو بھائی اظہارِ غم تکلفِ محض ہے۔ جو غم تم کو ہوا ہے ، ممکن نہیں کہ دوسرے کو ہوا ہو، تلقینِ صبر بے دردی ہے۔ یہ سانحۂ عظیم ایسا ہے جس نے غم رحلتِ نوابِ مغفور کو تازہ کیا ۔ پس ایسے موقع پر صبر کی تلقین کی جائے۔ رہی دعائے مغفرت، میں کیا اور میری دعا کیا؟ مگر چوں کہ وہ میری مرّبیہ اور محسنہ تھیں، دل سے دعا نکلتی ہے۔ مع ہٰذا تمھارا یہاں آنا سنا جاتا تھا۔ اس واسطے خط نہ لکھا۔ اب جو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی طبیعت ناساز ہے اور اس سبب سے آنا نہ ہوا، یہ چند سطریں لکھی گئیں۔ حق تعالیٰ تم کو سلامت اور تندرست اور خوش رکھے۔
تمھاری خوشی کا طالب
غالبؔ

15؍نومبر1866
سرگرمی 2.14
اپنے استاد کی مدد سے ہم جماعتوں کی جوڑیاں بنائیں۔ ہر جوڑی کے طلبا ایک دوسرے کو خط لکھیں اور پھر ان کی روشنی میں جوابی خطوط لکھیں۔
دعوت
پہلی دعوت مجھے ایسے صاحب کے ہاں کھانی پڑی جو کپڑے بنتے تھے اور غازی کے معتقد تھے۔ ساری بستی مدعو تھی۔مئی کا مہینہ اور دو پہر کا وقت۔ مکان و میدان کا کوئی نشیب و فراز ایسا نہ تھا جہاں کھانے والے نہ بیٹھے ہوں۔ فرش و دسترخوان کا وہاں کوئی دستور نہ تھا۔ جس کو جہاں جگہ مل گئی بیٹھ رہا۔ ایک نیم کی جڑ پر میں بیٹھ رہا۔ ایک ہاتھ میں گرم گرم تنوری روٹی دے دی گئی۔ مٹی کے ایک برتن میں زمین پر سالن رکھ دیا گیا۔ بھِشتی نے مشک سے تام چینی کے گندے شکستہ گلاس میں پانی پلانا شروع کیا۔ سامنے ایک نیاز مند کتّے صاحب بھی موجود تھے۔ دُم ٹانگوں کے درمیان، خود دوزانو بیٹھے ہوئے۔ نظریں نیچی ، بہت بھوکی۔ پاس ہی ایک بوڑھے کھانستے جاتے تھے، کھاتے جاتے تھے اور خلال کرتے

جاتے تھے۔ ناتی گود میں ، پوتا کندھے پر۔ پوتے نے ایک ہڈّی کتّے کے سامنے پھینک دی۔ اب معلوم ہوا کہ ایک اور کتّے صاحب کہیں قریب ہی مراقبے میں بیٹھے ہوئے تھے، جنھوں نے یک لخت غرّا کر جو جست کی تو میرے مقابل کے کتّے پر آگرے۔ خلال دادا یا نانا کے گلے میں جاپھنسا، پوتے ناتی میرے سالن میں آرہے۔ ایک ہُلّڑ مچا۔ مشہور ہوا کہ مہتو ؔدادا پر غازی میاں آگئے۔ سارے کھانے والے بھاگ کھڑے ہوئے۔

– رشید احمد صدیقی
کسی بھی موضوع پر شخصی اور انفرادی طرز کے اظہارِ خیال کو انشائیہ کہتے ہیں۔ انشائیہ میں قدم قدم پرمصنف کی شخصیت جھلکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انشائیہ میں واقعات سے زیادہ تاثرات اہمیت رکھتے ہیں۔
انشائیہ کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں بلکہ موضوع کے انوکھے پہلو سامنے لائے جاتے ہیں۔ اس کا سارا حسن اسی انوکھے پہلو میں مضمر ہے۔ انشائیہ کی دل کشی کا راز اس کی شگفتگی اور بے تکلفی میں ہے۔ انشائیہ نگار ایک ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں پیغام یا تلقین کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ بے تکلفی کے ساتھ سنجیدہ بات کو بھی غیر سنجیدہ طریقے سے کہتا ہے۔ انشائیہ میں طنز و ظرافت سے بھی کام لیا جاتا ہے۔خواجہ حسن نظامی، رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری، نظیر صدیقی، وزیر آغا، مشتاق یوسفی اور مجتبیٰ حسین وغیرہ اردو کے مشہور انشائیہ نگار ہیں۔
1.4.6 سوانح
سوانح نگاری ایک بیانیہ صنف ہے۔ زندگی کے واقعات کو تاریخ اور ترتیب کے ساتھ لکھنا سوانح نگاری ہے۔ سوانح عمری میں جس شخص کی زندگی کے حالات لکھنا مقصود ہے، اس کے مزاج اور اس کی نفسیات اور اصل فطرت کو بھی سوانح نگار سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
سوانح کا موضوع کسی ایسی شخصیت کو بنایا جاتا ہے جس نے ادبی، سیاسی، سماجی یا کسی اور سطح پر کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ لیکن سوانح نگار صرف شخصیت ہی کو موضوع نہیں بناتا بلکہ اس شخص کے عہد ، تہذیبی و ثقافتی نیز سیاسی و سماجی صورتِ حال پر بھی نگاہ ڈالتا ہے اور اس کا تجزیہ کرتا ہے۔
سوانح نگار غیر معمولی واقعات کے بیان کے علاوہ صاحبِ سوانح کے وطن، خاندانی پس منظر، بچپن،لڑکپن اور تعلیم کے مراحل پر بھی خصوصی توجہ کرتا ہے۔ اسی طرح کسبِ معاش کی جدو جہد، ملکی و ملّی خدمات، نظریات اور اس کے عقائد بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ اپنے عہد کے اہم و غیر اہم رجحانات یا تحریکات سے اس کی وابستگی، اپنے عہد کے دیگر اہم علمی و ادبی شخصیات سے اس کے تعلق کی نوعیت، اس کی رفاقتیں، رقابتیں اور اختلافات بھی کسی شخص اور شخصیت کو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ اس کی سرگرمیوں پر بے لاگ رائے بھی دی جاتی ہے۔
اردو کی اہم سوانح عمریوں میں ’یادگارِ غالب‘ اور ’حیاتِ جاوید‘ (حالی)، ’الفاروق‘ اور ’سیرۃ النبی (شبلی)‘، ’سیرتِ عائشہ ؓ (سیّد سلیمان ندوی)، ’وقارِ حیات‘ (اکرام اللہ ندوی)، ’غالب نامہ‘ (شیخ محمد اکرام) اور ’زندہ رود‘ (جاوید اقبال) وغیرہ شامل ہیں۔
سرگرمی 2.15
کسی دعوت میں شرکت کے اپنے تجربے کو انشایئے کے انداز میں تحریر کیجیے۔
سرگرمی 2.16
اپنے آس پاس کی کسی اہم شخصیت جیسے والد، والدہ یا استاد وغیرہ کی مختصر سوانح لکھیے اور اپنے استاد کو دکھائیے۔
1.4.7 خاکہ
’خاکہ‘ انگریزی لفظ اسکیچ (Sketch) کا ترجمہ ہے۔ خاکہ ایک ایسی نثری تحریر ہے جس میں کسی شخص کی منفرد اور نمایاں خصوصیات کو اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے کہ اس شخص کی ایک تصویر نظروں کے سامنے آجائے۔ خاکہ میں کسی شخص کے خیالات و افکار ، سیرت و کردار، عادات و اطوار وغیرہ کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ خاکے میں شخصیت کی ظاہری اور باطنی خصوصیات میں سے ایسی نمایاں خوبیوں کو بیان کیا جاتا ہے جن سے اس شخص کی انفرادیت اور پہچان قائم ہوجاتی ہے۔
خاکہ نگار کسی شخصیت سے متاثر ہو کر اس کا خاکہ لکھتا ہے لیکن اس میں مرعوبیت کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔ خاکہ لکھتے وقت شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو بیان کیا جاتا ہے تاکہ کسی شخص کی مکمل تصویر ابھر سکے۔ جس طرح خوبیوں کے بیان میں مرعوبیت اور غیر ضروری احترام سے بچنا چاہیے ٹھیک اسی طرح خامیوں کے ذکر میں ذاتی دشمنی اور بغض وعناد کا پہلو سامنے نہیں آنا چاہیے۔
سلیمان اریبؔ
شعر سنا کر سماں باندھنا تو سب کو آتا ہے لیکن اریبؔ مشاعرہ میں صرف اپنی مخصوص آمد کے ذریعہ ہی سماں باندھ دیا کرتے تھے۔ مشاعرہ گاہ میں جب اریبؔ داخل ہوتے تو یوں معلوم ہوتا جیسے سچ مچ ایک شاعر چلا آرہا ہے۔ بہکتی ہوئی چال، اطراف دوستوں کا ہجوم، یوں لگتا جیسے اریبؔ کو پابہ زنجیر کرکے مشاعرہ میں لایا جارہا ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ رک جاتے سامعین پر پلٹ کر نگاہ ڈالتے۔ کوئی شناسا نظر آتا تو لہراتا ہوا سلام کردیتے۔ اگر بہت زیادہ’’موڈ‘‘ میں رہتے تو سامعین کی بھیڑ کو چیرتے ہوئے اپنے مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتے اور ان کے احباب انھیں زبردستی روکنے کی کوشش کرتے۔ اریبؔ اپنی مخصوص آمد کے ذریعے ہی سامعین سے داد وصول کرلیا کرتے تھے۔ شعر سنا کر داد وصول کرنے کی نوبت تو بہت بعد میں آتی۔

– مجتبیٰ حسین
اردو میں سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں نوعیت کے خاکے لکھے گئے ہیں۔ خاکہ کی زبان شگفتہ اور غیر رسمی ہوتی ہے۔ مزاح کے عناصر خاکہ کو دلچسپ بناتے ہیں۔ مشہور ومعروف اشعار یا اقوال میں تحریف و اضافہ کرکے مزاح کے خوبصورت شگوفے کھلائے جاتے ہیں۔مولوی عبدالحق ، مرزا فرحت اللہ بیگ، سعادت حسن منٹو، ضمیر حسن دہلوی، مجتبیٰ حسین اور عابد سہیل کا شمار چند اہم خاکہ نگاروں میں ہوتا ہے۔
سرگرمی 2.17
اپنی اردو کی کتاب میں شامل کسی خاکے کی روشنی میں اپنے کسی دوست کا خاکہ تحریر کیجیے۔