غزلیات
غزل
’’ غزل‘‘ کا رویاتی مفہوم ہے محبوب سے باتیں کرنا یا عورتوں سے باتیں کرنا۔ عام طورپر غزل میں حسن وعشق کے مضامین بیان کے جاتے ہیں، لیکن اس میں شروع سے ہی دوسرے مضامین بھی داخل ہوتے گئے۔ اب غزل میں تقریباً ہر طرح کی باتیں بیان ہوتی ہیں۔ فلسفیانہ باتیں، سیاسی واقعات ، مسائل ، عام انسان کی زندگی کے درپیش تجربے، تصوف کے مضامین ، یہ سب غزل کے اشعار میں جگہ پاسکتے ہیں۔ غزل آج بھی اردو کی مقبول صنفِ سخن ہے اور اس کے شائقین میں عام لوگوں کی اکثریت ہے۔ اِ س کا ہر شعر مفہوم کے اعتبار سے اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے ۔اپنی ہیئت کے لحاظ سے یہ ایک انوکھی صنف ہے ۔ اردو کے پہلے فارسی میں غزل کی صنف نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی تھی۔ قدیم عربی شاعری میں قصیدے کے ابتدائی اشعار میں بعض شعر عشقیہ یا بہاریہ ہوتے تھے۔ قصیدے کا پہلا حصہ ’’ تشبیب‘‘کہلاتا ہے۔ رفتہ رفتہ تشبیب کے اشعار آزادانہ بھی کہے جانے لگے ۔ اس طرح ایک نئی صنف غزل وجود میں آئی ۔
جس طرح غزل میں مضامین کی قید نہیں ہے اسی طرح اشعار کی تعداد بھی مقرّر نہیں ۔ عام طور پر غزل میں پانچ یاسات شعر ہوتے ہیں ۔ لیکن بعض غزلوں میں اس سے زیادہ اشعار بھی ملتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک ہی ردیف وقافیے میں شاعر ایک سے زیادہ غزلیں کہہ دیتا ہے۔ ایسی غزلوں کو ’دوغزلہ‘، ’سہ غزلہ‘ وغیرہ کہا جاتا ہے ۔
غزل کا پہلا شعر’’مطلع‘‘ کہلاتا ہے۔ جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ مطلعے کے بعد دوسرا مطلع بھی ہوسکتاہے۔ اس کو ’’ حسن مطلع‘‘ کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنا تخلّص استعمال کرتا ہے۔ اس شعر کو ’’مقطع‘‘ کہتے ہیں۔ غزل کا سب سے اچھا شعر ’’بیت الغزل‘‘ یا ’’شا ہ بیت ‘‘ کہلاتاہے۔ جس غزل میں ردیف نہ ہو اور صرف قافیے ہوں وہ غیر ’’مردّف‘‘ کہلاتی ہے۔ جس بحر ، ردیف اور قافیہ کے تحت غزل کہی جاتی ہے، اسے غزل کی ’’ زمین‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
میر تقی میر
(1722-1810)
میر تقی میرؔآگرہ ( اکبر آباد) میں پیدا ہوئے۔ وہ دس برس کے تھے جب ان کے والد محمد علی عرف علی متّقی کا انتقال ہوگیا۔ لہذا وہ آگرہ سے دہلی منتقل ہوگئے۔ اپنے سوتیلے ماموں اور اُردو فارسی کے معروف عالم سراج الدین علی خانِ آرزو کے ساتھ قیام رہا اور اُن سے علمی وادبی فیض اٹھایا ۔ دہلی میں ہی ان کی ملاقات سید سعادت علی امروہوی سے ہوئی جنھوں نے میر کو اردو میں شعر گوئی کی طرف راغب کیا۔ 1782میں نواب آصف الدولہ کی دعوت پر وہ لکھنؤ چلے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔
میرؔ بہت پُرگو شاعرتھے۔ انھوں نے بڑی تعداد میں شہر کہے۔ اردو میں ان کے چھے دیوان ہیں۔ انھوں نے غزل کے علاوہ بہت اعلی درجے کی مثنویاں بھی لکھی ہیں۔ میر کی عظمت اور شاعرانہ کمال کا اعتراف سب نے کیا ہے۔
میرؔ کے غزلیہ اشعار کا سب سے بڑا وصف اثر انگیزی ہے، جذبات اور احساسات کے بیان پر میر ؔ کو غیر معمولی قدرت حاصل کی تھی۔ ان کی زبان میں سادگی اور بے تکلفی بہت ہے۔ ان کا ذخیرۂ بھی روایتی غزل گویوں کے مقابلے میں بڑا مختلف ہے۔
غزل
فقیرانہ آئے صدا کرچلے
میاں! خوش رہو ہم دعا کرچلے
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سوا س عہد کو اب وفا کرچلے
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کرچلے
وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے
بہت آرزو تھی گلی کی تری
سویاں سے لہو میں نہاکرچلے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جداکرچلے
جبیں سجدے کرتے ہی کرتے گئی
حقِ بندگی ہم ادا کرچلے
کٹی عمر دربندِ فکر غزل
سوا س فن کو ایسا بڑا کرچلے
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے کیا کرچلے
(میر تقی میر )
مشق
سوالات
1۔ 'فقیرانہ آئے صدا کرچلے‘ اس سے کیا مراد ہے ؟
2 شاعر نے کس وعدے کو وفا کرنے کی بات کہی ہے ؟
3۔ شاعری کی آرزو کا انجام کیا ہوا ؟
4۔ میرؔ نے اپنے شاعرانہ کمال کے متعلق کیا کہا ہے ؟
5۔ اس شعر کی تشریح کیجیے :
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جد اکر چلے