مرزا محمد رفیع سوادؔ
(1713-1781)
سوداؔ دہلی میں پیدا ہوئے اوریہیں عربی وفارسی کی تعلیم حاصل کی۔ وہ بچپن ہی سے ذہن اور موزوں طبع تھے۔ کچھ مدّت تک شاہ حاتم کے شاگرد رہے۔ وہ اپنی زندگی ہی میں ایک اہم شاعر تسلیم کیے گئے۔ سودا ؔ کوکئی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔
سوداؔکی شاعری کا شہرہ سُن کر نواب شجاع الدولہ نے انھیں لکھنؤ آنے کی دعوت دی۔ حالات نے بھی انھیں دہلی چھوڑ کر لکھنؤ جانے پر مجبور کردیا، وہاں نواب شجاع الدین الدّولہ اور ان کے بیٹے نواب آصف الدولہ کے زمانے میں خاطر خوا ہ پذیزائی ہوئی۔ تقریبا ستّر برس کی عمر میں لکھنو ٔ میں انتقال کیا۔
سوداؔ مزاجاً قصیدے کے شاعر ہیں لیکن ان کی غزلیں بھی زبان وبیان کی دل آویزی اور لب ولہجے کے بانکپن کی وجہ سے الگ پہچانی جاتی ہیں۔ غزل میں سودا ؔ کا رنگ میرؔ سے بہت مختلف ہے۔ ان کے لہجے میں انفرادیت، اشعار میں مضامین کی رنگارنگی بھی نمایاں ہے۔ داخلی تجربوں کے بیان میں بھی سوداؔ بہت کامیاب ہیں۔ اُن کا ایک مخصوص انداز ہے جس میںد رد مندی کی جگہ شوخی، سوز وگداز کی جگہ نشاط،اور سادگی کی جگہ پُرکاری نمایاں ہے۔ اُن کی وہ نظمیں، جن میں زمانے کی بدحالی کا نقشہ کھینچا گیا ہے، بہت مشہور ہیں۔
غزل
گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں
ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں
نہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنے
سواک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں
یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری
تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں
حباب لب جو ہیں اے باغباں ہم
چمن کو ترے کوئی دم دیکھتے ہیں
خدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھاوے
جو کچھ دوست اپنے میں ہم دیکھتے ہیں
مگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سوداؔ
اُسے تیرے کوچے میں کم دیکھتے ہیں
(مرزا محمد رفیع سودا )
مشق
سوالات
1۔ اپنا دم اور قدم دیکھنے سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟
2۔ شاعر نے باغباں کو مخاطب کرکے کیا کہا ہے ؟
3۔ شاعر نے اپنی بے اختیار کی بات کیوں کی ہے ؟
4۔ اس شعر کی تشریح کیجیے :
خدادشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھاوے
جو کچھ دوست اپنے میں ہم یکھتے ہیں