Skip to content
5188


4

خواجہ میر دردؔ

(1721-1785)

خواجہ میر دردؔ دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد خواجہ ناصر عندلیب خود ایک اچھے شاعرتھے۔ دردؔ کے گھرانے میں خاص علمی وروحانی ماحول تھا۔ اس ماھول میں خدا ترسی ، قناعت ، توکل بے نیازی اور سادہ زندگی تھی۔ دردؔ کو تصوف کا یہ ماحول ورثے میں ملا ۔ دردؔ خود بھی سادہ مزاج اور قناعت پسند تھے۔ وہ دہلی کی تباہی کے دنوں میں بھی دہلی چھوڑ کر نہیں گئے جب کہ اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کی وجہ سے سے شعرا کی اکثریت دوسرے شہروں کا رُخ کررہی تھی۔
دردؔ کے کلام میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے ۔ ان کی غزل میں خیالات کی پاگیزگی ، زبان کی سادگی اور اثر وروانی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ 
دردؔ نے چھوٹی بحروں میں بہت رواں اور پُر اثر غزلیں کہی ہیں۔ ان کے بہت سے شعر ضرب المثل ہے ۔ 

غزل 

تجھی کو جویاں جلوہ فرمانہ دیکھا 
برابر ہے ، دنیا کو دیکھا، نہ دیکھا
مراغنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ 
کہ جس کو کسو نے کبھو وانہ دیکھا 
یگانہ ہے تو آہ بے گانگی میں 
کوئی دوسرا اور ایسا ، نہ دیکھا 
کیا مجھ کو داغوں نے سرو چراغاں 
کبھو تو نے آکر تماشا نہ دیکھا 
تغافل نے تیرے، یہ کچھ دن دکھائے 
ادھر تو نے لیکن نہ دیکھا، نہ دیکھا 
شب روز اے دردؔ! درپے ہوں اس کے 
کسونے جسے یاں نہ سمجھا ، نہ دیکھا 

                                               (خواجہ میر درد ؔ)

                            مشق 

سوالات

1۔   درد ؔ نے غزل کے مطلع میں کیا بات کہی ہے ؟
2۔   شاعر اپنے دل کے متعلق کیا کہنا چاہتا ہے ؟ 
3۔   شاعر نے محبوب کو یگانہ کیوں کہا ہے ؟
4۔    اس شعر کی تشریح کیجیے :
            تغافل نے تیرے ، یہ کچھ دن دکھائے
            ادھر  تونے  لیکن  نہ  دیکھا ، نہ دیکھا