Skip to content
5188

7

شیخ غلام ہمدارنی مصحفیؔ

(1749-1824)

مصحفیؔ امروہہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نواب ٹانڈہ (ضلع بریلی) کے یہاں ملازم ہوگئے ۔ لیکن دو ایک برسوں ہی میں نواب کے انتقال کے باعث یہ ملازمت چھوٹ گئی ۔ کچھ دن لکھنؤمیں گزار کر دہلی چلے آئے۔ قریب بارہ سال تک دہلی میں رہے لیکن اطمینان نصیب نہ ہوا۔ معاشی اعتبار سے خاصے پریشان رہے۔ بالآخر 1784میں دوبار لکھنؤ چلے آئے اور 75سال کی عمر میں وہیں انتقال کیا ۔ 
اِن ساری الجھنوں اور پریشانیوں کے باوجود مصحفیؔ شعر وسخن کی آبیاری کرتے رہے اور اردو کے آٹھ دیوان کیے۔ اس کے علاوہ فارسی کا ایک دیوان بھی تیار کیا۔ اردو شعر کے تین تذکرکے بھی ان کی یادگار ہیں۔ شاعری کی جملہ اصناف میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں قابل قدر کارنامے انجام دیے۔ ان کے بہت سے شاگرد تھے، جن میں خواجہ حیدرعلی آتشؔ قابل ذکر ہیں۔ 
مصحفیؔ کے کلام میں اتنی گہرائی اورمضامین میں اتنا پھیلاؤ نہیں ہے جتنا میر تقی میر کے یہاں ہے ، لیکن مصحفیؔ کو زندگی اور خاص کر عشق کے متنوع تجربات کو بیان کرنے پر قدرت حاصل ہے ۔ مصحفی ؔ کے بہت سے شعروں میں بے ساختگی کے عنصر نے ایک خاص اثر انگیزی پیدا کردی ہے ۔ انھوں نے انوکھے اور نئے مضامین بھی خوب صورتی کے ساتھ باندھے ہیں۔ شوخی کا پہلو بھی ان کے اشعار کی ایک خوبی ہے ۔ 

غزل 

کیا کریں جاکے گلستاں میں ہم 
آگ رکھ آئے آشیاں میں ہم 
جانتے آپ سے جداتجھ کو 
کرتے گر فرق جسم وجاں ہم 
شاخِ گل کے گلے سے مِل مِل کر 
روتے ہیں موسمِ خزاں میں ہم 
مصحفیؔ عشق کرکے آخرکار 
خوب رسوا ہوئے جہاں میں ہم 

                                              (شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ)

                           مشق 

سوالات 

1۔  مصحفیؔ نے گلستاں میں نہ جانے کی کیا وجہ بتائی ہے ؟
2۔  جسم وجاں میں فرق کرنے سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟
3۔  شاعر موسم خزاں میں شاخِ گُل مل کر کیوں رورہا ہے ؟ 
4۔  اس شعر کی تشریح کیجیے :
         مصحفیؔ عشق کرکے آخر کار 
         خوب رسوا ہوئے جہاں میں ہم