شخ امام بخش ناسخ ؔ لکھنوی
(1773-1838)
ناسخؔ لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ناسخؔ کو علم وادب کے علاوہ سِپاہیانہ فنون سے بھی دل چسپی تھی، لیکن وہ ان چیزوں سے زیادہ اپنی استادی کے لیے مشہورئے۔ ایسا خیال کیاجاتا ہے کہ ناسخؔ نے زبان اور فن میں بہت سی اصطلاحیں رائج کیں۔ ناسخؔ کو زمانے کے حالات سے مجبور ہوکر لکھنؤ سے کئی بار نکلنا پڑا۔ لیکن آخری ایام میں بڑی عزّت اور شہر ت سے گزرے ۔
ناسخؔ کو لکھنوی رنگِ سخن کا اُستاد تسلیم کیا گیا ہے، خیال بندی او رمضمون آفرینی ان کے کلام کی اہم خصوصیات ہیں ۔ ان کے کلام میں مختلف صنعتوں ، خاص طور پر رعایت لفظی کا استعمال زیادہ ہے۔
ناسخ ؔ کی شاعری کو عارم طو ر پر بے رنگ اور بے اثر کہا گیا ہے ۔ یہ بات ایک حد تک صحیح ہے لیکن اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کا وہ انداز اپنایا جسے ’’ خیال بندی ‘‘ اور ’’ مضمون آفرینی‘‘ کہتے ہیں۔ ناسخؔ کا یہ انداز ان کے زمانے میں مقبول ہوا۔ ممکن ہے کہ غالب نے بھی ناسخ کا تھوڑا بہت اثر قبول کیا ہو، لیکن چوں کہ ناسخ نئی اور بھونڈی بات میں فرق نہ کرسکتے تھے اس لیے ان کا زیادہ تر کلام بے مزہ معلوم ہوتا ہے ، پھر بھی ایسا نہیں ہے کہ ناسخ کو نظر انداز کرنا ممکن ہو ۔ ان کی بہترین شاعری اردو ادب کے سرمائے کا قیمتی حصّہ ہے ۔
غزل
جُنوں پسند مجھے چھاؤں ہے ببولوں کی
عجب بہار ہے ان زرد زرد پھولوں کی
اگرچہ آئی ہے برسات پھول پھولے ہیں
ہوئی شگفتہ طبیعت نہ ہم ملولوں کی
کہاں امید ترقی ہے جیتے جی برسوں
یہ مشت خال ہے بس منتظر بگولوں کی
جو چشم اہل وطن میں نہ ٹھہرے کیا پروا
ہماری خاک سے روشن ہیں آنکھیں غولوں
نجاتِ ناسخ عاصی بھی کیجیو مولا!
تمھیں تو امتیں بخشوگے سب رسولوں کی
( شیخ امام بخش ناسخؔ لکھنوی)
مشق
سوالات
1۔ ناسخؔ نے غزل کے مطلع میں کیا بات کہی ہے ؟
2۔ شاعر برسات کے موسم سے لطف اندوز کیوں نہ ہوسکا ؟
3۔ مشتِ خاک کیا مطلب ہے ؟
4۔ جو چشم اہل وطن میں نہ ٹھہرے کیا پروا
ہماری خاک سے روشن ہیں آنکھیں غولوں کی