Skip to content
5188


10

خواجہ حیدر علی آتش ؔ لکھنوی

(1777-1847)

آتشؔ کے بزرگ بغداد سے ہندوستان آئے اور دہلی میں سکونت اختیار کی۔ نواب شجاع الدولہ کے عہد میں ان کے والد خواجہ علی بخش دہلی سے فیض آباد منتقل ہوگئے۔ آتشؔ کی پیدائش فیض آباد میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس لیے ان کی تعلیم مکمل نہ ہوسکی، البتہ عربی ، فارسی ، کی کچھ تعلیم انھوں نے گھر پر حاصل کی ۔ آتش ؔ نے اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیت کے باعث مقبولیت حاصل کی اور نواب محمد تقی خاں کے دربار سے منسلک ہوگئے۔ پھر انھیں کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے اور مستقل یہیں رہے۔ انھوں نے عمر کا بڑا حصہ دستی کی حالت میں بسر کیا لیکن طبیعت کی قلندری اور بانکپن نہ گیا ۔ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ آخر عمر میں آنکھوں کی روشنی جارتی رہی ۔ ان کا انتقال لکھنؤ میں ہوا۔ 
آتشؔ کی غزل میں روز مرہ کے بے تکلف اور برجستہ استعمال سے گفتگو اور مکالمے کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ وہ صاف اور شستہ زبان کو فن کارانہ انداز میں برتنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی غزل کی ایک منفرد اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ ایک طرف وہ حسنِ محبوب کے بیان میں شوخی اور رنگینی سے کام لیتے ہیں تو دوسرے طرف زندگی کے سنجیدہ موضوعات اور تصوف ومعرفت کے مضامین کو شعر میں سنجیدگی اور درویشانہ سرشاری کی کیفیت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان  امتیازی خصوصیات کی بنا پر ان کا شمار اُردو کے ممتاز غزل گو شعرا میں ہوتا ہے ۔ آتشؔ کی غزل اپنے لہجے کی بانکپن اور خود اعتمادی سے بھی پہچانی جاتی ہے ۔ 

غزل 

حُسنِ پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا 
ہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا 
وہ یاد ہے اس کی کہ بھلا دے دو جہاں کو 
حالت کو کرے غیر وہ یارانہ ہے اس کا 
 یوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سے 
قیمت جو دوعالم کی ہے بیعانہ ہے اس کا 
یہ حال ہوا اس کے فقیروں سے ہویدا 
آلودۂ دنیا جو ہے بیگانہ ہے  اس کا 
شکرانۂ ساقی ازل کرتا ہے آتش 
لبریز مے شوق سے پیمانہ ہے اس کا 
                                                                  ( خواجہ حیدر علی آتش لکھنوی)


                          مشق 

سوالات 

1۔   شاعر نے ہشیار کس کو کہا ہے ؟
2۔   محبوب کی یاد کا شاعر پر کیا اثر ہورہا ہے ؟
3۔   شاعر کے نزدیک محبوب کی کیا قدروقیمت ہے ؟
4۔   نگہت گل کی آوارگی سے کیا مرا ہے ؟
 5۔   اس شعر کی تشریح کیجیے :
       یہ حال ہوا اس کے فقیروں سے ہویدا 
        آلودۂ دنیا جو ہے بیگانہ ہے اس کا