Skip to content
5188


12

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ

 (1789-1854)

ذوقؔ دہلی کے رہنے والے تھے۔ یہیں ساری زندگی گزاردی ۔ وہ ایک سپاہی کے بیٹھے تھے۔ ان کی باقاعدہ تعلیم تونہ ہوئی لیکن انھوں نے اپنی ذہانت اور محنت کے ذریعے بہت لیاقت پیدا کرلی تھی۔ ابتدا میں وہ شاہ نصیر کے شاگرد ہوئے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنی راہ الگ کرلی ۔ انیس برس کی عمر میں شاہی قلعے سے ان کا تعلق قائم ہوا۔ بہادر شاہ 1837میں بادشاہ ہوئے تو انھوں نے ذوق ؔ کو ’’ملک الشعرا‘‘ اور ’’ خاقانیِ ہند ‘‘ کے خطابات عطا کیے ۔ 
ذوق ؔ کی غزلوں میں خیالات وجذبات کی پیچیدگی یا گہرائی نہیں ہے۔ پھر بھی ان کے بہت سے اشعار زندگی کی ایسی ٹھوس حقیقتوں کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ زبان زدِ عام ہوگئے ہیں۔ 
جہاں تک زبان کے صاف اور صحیح ہونے کا سوال ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذوق کی زبان مستند ہے ، قصیدے میں ذوق کا مرتبہ بہت اونچا ہے ۔ غزل میں ذوق کا سب سے بڑا امتیاز ان کا روز مرّہ اور بامحاورہ زبان کا استعمال ہے ۔ ان کے مطلعے بھی بہت مشہورہیں۔ جذبات کی ترجمانی اور زبان پر اپنی قدرت کے لحاظ سے وہ اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ 

غزل

وقتِ پیری شباب کی باتیں 
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں 
پھر مجھے لے چلا اُدھر ، دیکھو 
دل ِ خانہ خراب کی باتیں 
حرف آیا جو آبرو پہ مری 
ہیں یہ چشمِ پُر آب کی باتیں 
ذکر کیا جوشِ عشق میں یاے ذوقؔ
ہم سے ہوں صبر وتاب کی باتیں 
                                                      (شیخ محمد ابراہیم ذوق ؔ)

                            مشق 

سوالات 

1۔  شاعر نے وقت پیری شباب کی باتوں کو خواب کی باتیں کیوں کہا ہے ؟
2۔  دلِ خانہ خراب سے کیا مرا دہے؟
3۔  شاعر کی آبرو پہ حرف کیوں آیا ؟
4۔ شاعر نے اپنی رسوائی کا سبب کیا بتایا ہے ؟ 
5۔ ذوقؔ مقطع میں کیا کہنا چاہتے ہیں ؟