Skip to content
5188


14

مرزا اسداللہ خان غالبؔ

(1797-1869)

مرزا غالب ؔ اکبرآباد میں پیدا ہوئے تھے لیکن زندگی کا بڑا حصہ دہلی میں گزرا ۔ غالبؔ اردو ، کے سب سے مشہور کلاسیکی شاعر ہیں۔ انھوں نے فارسی میں بھی شعر کہے ہیں۔ غالب ؔ نے نثر نگاری کا آغاز فارسی کیا اور عمر کے آخر حصّے میں اردو نثر کی جانب متوجہ ہوئے۔ 
نثر میں ان کا بڑا کارنامہ ان کے خطوط ہیں جن میں انھوں نے بات چیت کا انداز اختیار کیا ہے۔ غالبؔ کے اردو خطوط میں ان کی اپنی زندگی اور زمانے کے بہت سے دل چسپ حالات وواقعات سمٹ آئے ہیں۔ 
غالب ؔ کی شاعری اپنے آفاقی پہلو اور انسان دوستی کے اعتبار سے ایک علاحدہ شان رکھی ہے۔ وہ باقاعدہ فلسفی تو نہیں تھے ،مگر ان کے شعروں میں فکر کی بلندی اور رنگا رنگی کا عنصر نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت پیچیدہ شعر بھی کہے ہیں اور بہت آسان بھی ۔ دنیا کو دیکھنے کا ان کا اپنا انداز ہے۔ کسی بھی بات کو وہ آنکھیں بند کرکے قبول نہیں کرتے ہیں۔ ان کی عظمت کا اعتراف ہردور میں کیا گیا ہے ۔ غالب کے کلام کا ترجمہ کئی زبانوں ہوچکا ہے ۔ 

غزل 

درد منّت کشِ دوا نہ ہوا 
میں نہ اچھّا  ہوا برا نہ ہوا 
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو 
اک تماشا ہوا گلا نہ ہو ا
ہے خبر گرم ان کے آنے کی 
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا 
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا 
جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تویہ ہے کہ حق ادا نہ ہو ا 
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں 
آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا 
                                                   ( مرزا اسد اللہ خاں غالب ؔ)

                                   مشق 

سوالات 

1۔    'میں نہ اچھا ہوا برا ہوا‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
2۔    رقیبوں کو جمع کرنا تماشے کا باعث کیوں ہے ؟
3۔    شاعر کو گھر میں بوریا نہ ہونے کا ملال کیوں ہے ؟
4۔    نمرود کی خدائی کہنے سے شاعر کی کیامراد ہے ؟
5۔    اس شعر کی تشریح کیجیے:
           جان دی ،دی ہوئی اُسی کی تھی
           حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا