مومن خان مومن
(1800-1852)
مومن دہلی میں پیداہوئے ہیں۔ خاندانی سلسلہ کشمیر سے تھا۔ والد کا نام حکیم غلام نبی کشمیری تھا۔ خاندانی پیشہ طبابت تھا، لیکن مومن کو طب کے علاوہ دوسرے بہت سے علوم اور فنون مثلاً منطق ، نجوم، ریاضی اور شطرنج میں بھی مہارت حاصل تھی۔ مومن اپنے زمانے کے ذہن ترین لوگوں میں شمارے ہوتے تھے۔ انھیں فارسی زبان پر قدرت حاصل تھی ۔ ان کا فارسی کلام بھی اعلی درجے کا ہے ۔ تاریخ گوئی میں بھی انھیں کمال حاصل تھا۔
مومن کی شاعری بہت خوب صورت لیکن محدود موضوعات کی حامل ہے۔ ان کے اکثر اشعار بہت مشکل ہیں ۔ کیوں کہ وہ اشاروں سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ مومن کے کلام میں زبان وبیان کا خاص رچاؤ ہے ۔
مومن کی شاعری میں تغزل کا عنصر حاوی ہے ۔ مومن کے اس رنگ کی پیروی بعد میں بھی کی گئی ۔ مولانا حسرت موہانی کا مشہور شعر ہے :
طرزِ مومنؔ میں مرحبا حسرت
تیری رنگیں بیانیاں نہ گئیں
غزل
وہ جو ہم میں تم میں قرارتھا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمھیں یاد ہو کہ نہ یا د ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیش تر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گئے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکاتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی ایسی بات اگر ہوئی کہ تمھارے جی ہو بُری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
(مومن خاں مومن)
مشق
سوالات
1۔ مومن مطلع میں کس وعدے کو یاد دلا رہے ہیں؟
2۔ شاعر کو ذرا ذرا کون سی باتیں یاد آرہی ہیں ؟
3۔ شاعر نے بیان سے پہلے کس بات کو بھلا نے کو کہا ہے ؟
4۔ شعر کی تشریح کیجیے :
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو