Skip to content
5188


18

بہادر شاہ ظفر 

(1775-1862)

سراج الدین محمد بہادر شاہ نام اور ظفر تخلص تھا۔ ابوظفر ان کا تاریخی نام ہے۔تعلیم وتربیت لال قلعہ میں ہوئی۔ انھوں نے مختلف علوم وفنون میں مہارت حاصل کی اردو، عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ برج بھاشا اور پنجابی میں ان کا کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ان زبانوں سے بھی بخوبی واقف تھے۔
ظفر نے ابتدا میں شاہ نصیر سے اصلاح لی ، لیکن شیخ ابراہم ذوق کو ’’استاد شاہ‘‘ کی حیثیت سے ذیادہ شہرت ملی ۔ ذوق کے انتقال کے بعد وہ غالب سے اصلاح لینے لگے۔ ظفر نے شاہ نصیر سے متاثر ہوکر مشکل زمینوں میں چند غزلیں کہی ہیں۔ ظفر کا اپنا زنداز ہے جو ان استادان فن سے مختلف ہے۔ ان کے یہاں قلعہ معلی کی پاکیزہ زبان ، دہلی کا روز مرہ اور محاورہ ہے۔ ان کے کلام میں فارسی تراکیب کا استعمال برائے نام ہے۔ انھوں نے بیشتر اصناف ِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزلوں کے علاوہ سلام، مرثیہ ، مجرا ، شہر آشوب، رباعی، قطعہ ، سہرا دوسرے صنفوں کے ساتھ ساتھ گیت، بھجن ، ٹھمری اور دوہے بھی ان کے کلیات میں شامل ہیں۔ ظفر کی شاعری میں فارسی اثرات کم سے کم اور اردو پن زیادہ سے زیادہ ہے۔ 
ظفر نے اردو میں چار دیوان یاد گار چھوڑے ہیں ۔ جو بعد میں ’’کلیات ِ ظفر‘‘ کے نام سے ایک ساتھ شائع ہوئے ۔ 

غزل 

لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں 
کسی کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
بلبل کو آشیاں سے نہ صیاد سے گلہ 
قسمت میں قید تھی لکھی فصلِ بہار میں 
کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں او رجا بسیں 
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغ دار میں 
اک شاخِ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادماں
کانٹے بچھادیے ہیں دلِ لالہ زار میں 
عمر ِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن 
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں 
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے 
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں 

                                                    (بہادرشاہ ظفر)

                            مشق 

سوالات 

1۔  اجڑے دیار سے شاعر کی کیامراد ہے ؟

2۔  کس کی بنی ہے عالم ناپائدار میں ، اس کا کیا مطلب ہے ؟
3   حسرتوں کے تعلق سے کیا بات کہی گئی ہے ؟
4۔  شاعر نے زندگی کے دن کس طرح بسر کیے ؟
5۔  اس شعر کی تشریح کیجیے :
        اک شاخِ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادماں 
        کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں