Skip to content
5188


20

مرزا داغ دہلوی

(1831-1905)

مرزا خاں نام، داغ تخلص تھا۔ نواب شمس الدین احمدخان رئیس لوہارو کے بیٹے تھے ۔ دہلی میں پیدا ہوئے، لال قلعے میں پرورش پائی۔ ذوق کے شاگرد تھے۔ 1857کے بعد رام پور چلے گئے۔ 1888میں حیدار آباد پہنچے۔ میر محبوب علی خاں آصف جاہ ان کے شاگرد ہوئے۔ انھوں نے اپنے استاد داغ دہلوی کو ’ناظم یار جنگ‘ ، ’دبیر الدولہ‘ ، فصیح الملک ‘ کا خطاب عطا کیااور گراں قدر وظیفہ مقرر کیا ۔ داغ نے آکر دم تک عزت ووقار کی زندگی بسر کی ۔
داغ کو دہلی کی زبان اور محاورے پر قدر ت حاصل تھی۔ وہ روز مرہ کے استعمال کا خاص سلیقہ رکھتے ۔ ان کا خیال تھا کہ اردو زبان کی باریکیوں کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ داغ کی زبان دانی کا دبدبہ اتنا کہ اس زمانے کے بہت سے شاعروں نے ان سے اصلاح لی۔ علامہ اقبال نے بھی اپنا ابتدائی کلام داغ کو دکھایا تھا اور وہ داغ سے اس تعلق پر فخر کرتے تھے۔ زبان کے مزے اور بیان کی شوخی کے لحاظ سے داغ ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں۔ اردو شاعری کا مذاق عام کرنے میں داغ کا رول بہت نمایاں ہے۔ ان کی جیسی شہرت اور مقبولیت کسی اور شاعر کو نہیں ملی۔ سامنے کی باتیں اور مضامین وہ سہل، سادہ اور عام بول چال کی زبان میں بہت خوبی کے ساتھ باندھتے ہیں۔ اس لیے داغ کے اشعار بہ آسانی زبان پر چڑھ جاتے ہیں۔ 
ان کے کلام کے مجموعے ’ گلزارِ داغ، آفتاب ِ داغ، فریاد ِداغ، مہتابِ داغ، اور ، یادگار ِ داغ شائع ہوچکے ہیں۔

غزل

سبق ایسا پڑھا دیا تونے 
دل سے سب کچھ بھلا دیا تونے 
لاکھ دینے کا ایک دینا ہے 
دلِ بے مدّعا دیا تونے 
نارِ نمرور کو کیا گلزار 
دوست کو یوں بچالیا تونے
کہیں مشتاق سے حجاب ہوا 
کہیں پردہ اٹھا دیا تو نے 
مٹ گئے دل سے نقشِ باطل سب 
نقش اپنا جما دیا تو نے 
داغؔ کو کون دینے والا تھا
جو دیا اے خدا تو نے 
                                (مرزاداغ دہلوی)

              مشق 

سوالات 

1۔   دلِ مدعا سے کیا مراد ہے ؟
2۔   نقشِ باطل مٹنے کا کیا انجام ہوا؟
3۔   داغ نے اس غزل میں خدا کی کن کن عنایات کا ذکر کیا ہے ؟
4۔   شعر کی تشریح کیجیے :
           نارِ  نمرور  کو  کیا  گلزار 
           دوست کو یوں بچالیا تونے