Skip to content
5188


22

شاد عظیم آبادی 

(1846-1927)

علی محمد شادکے والد سید عباس مرزا الہ آباد کے رہنے والے تھے۔ وہ چودہ پندرہ سال کی عمر میں عظیم آباد ( پٹنہ ) چلے گئے۔ جہاں شاد عظیم آبادی پیدا ہوئے۔ تعلیم گھر ہی پرہوئی جس کا سلسلہ چار سال کی عمرسے شروع ہوگیا تھا۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصے تک شاد نے انگریزی بھی پڑھی۔ اپنی لیاقت اور اساتذہ کی تربیت سے اردو، فارسی اور عربی زبانوں نیز مذہبی علوم اور فن شعر میں بھی مہارت حاصل کی۔ ان کا شمار دور ِ جدید کے اہل علم شعرا میں ہوتا ہے ۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے 1891میں انھیں خان بہادر کا خطاب دیا۔ 
شاد نے نثر ونظم دونوں میں کئی تصانیف یاد گار چھوڑی ہیں۔ شاد کی غزلوں کا دیوان ان کی وفات کے بعد ’’نغمۂ الہام‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بعد میں ان کی خود نوشت ’’شاد کی کہانی شاد کی زبانی‘‘ اور متعدد مجموعے بھی منظر عام پرآئے۔ 
شاد نے غزل کے علاوہ مثنوی ، قصیدہ ، مرثیہ اور دوسری اصناف سخن میں بھی طبع آزمائی کی۔ لیکن ان کی شہرت کا باعث اُن کی غزلیں ہیں۔ شاد کا کلام سادگی اور گھلاوٹ ، ترنم وشیرینی ، کیف وسرور اور تازگی وتاثیر کے باعث لائق توجہ ہے۔ زبان کی صفائی وسادگی شاد کی شاعری کا خاص وصف ہے۔

غزل

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں 
ہوں اس کوچے کے ہر ذرہ سے آگاہ 
ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں 
دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم 
میں خود آیا نہیں ، لایا گیا ہوں 
نہ تھا میں معتقد اعجازِ مے کا 
بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں 
کجا میں اور کجا اے شاد دنیا 
کہاں سے کس جگہ سے لایا گیا ہون 
                                               (شاد عظیم آبادی )

                     مشق 

سوالات 

1۔  کھلونے دے کے بہلانے سے کیا مراد ہے ؟
2۔  شاعر اس کوچے کے ہر ذرہ سے آگاہ کیوں ہے ؟
3۔  ’میں خود آیا نہیں لایاگیاہوں ‘ کا کیا مطلب ؟ 
4۔  اعجاز مے کا متعقد ہونے سے کیا مراد ہے ؟
5۔  اس شعر کی تشریح کیجیے:
        کجا میں اور کجا اے شادؔ دنیا 
       کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں