یاس یگانہ چنگیزی
(1884-1956)
مرزا واجد حسین نام تھا، پہلے یاس پھر یگانہ تخلص اختیار کیا اور یا یگانہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ پٹنہ میں پیدا ہوئے ، یہیں ابتدائی تعلیم ہوئی۔ 1940میں کلکتہ گئے ، وہاں بیماری نے طول کھینچا تو علاج کے لیے لکھنؤ آئے، اور لکھنو ہی میں شادی کی پھر یہیں رہائش اختیار کرلی۔ لکھنؤ کا قیام نہایت ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔ اس کے اثر ات ان کی شاعری میں بھی نظرآتے ہیں۔ کئی معاصرین سے ان کے معرکے رہے۔ زندگی کے آخری ایام افسوس ناک بحثوں اور تلخیوں کی نذر ہوئے۔
ان کی شخصیت میں انانیت بہت زیادہ تھی۔ کلام میں قوت اور زور ہے۔ بانکپن اور آزادہ روی ان کے مزاج کا حصہ ہے ۔ ان کی غزل میں فکر کی تازگی اور احساس کی جدت پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں شخصیت کی آزادی کی چمک نمایاں ہے ۔ انھوں نے عا م بول چال کے الفاظ کا استعمال بامعنی انداز میں کیا ہے۔ یگانہ کی رباعیاں بھی مشہور ہیں۔ ان کے کلام کے مجموعے ’’آیاتِ وجدانی‘‘ اور ’’گنجینہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
غزل
کار گاہِ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے
بے دلوں کی ہستی کیا جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
خواب ہے نہ بیداری ہوش ہے نہ مستی ہے
کیابتاؤں کیا ہوں میں قدرتِ خداہوں میں
میری خود پرستی بھی عین حق پرستی ہے
کیمیائے دل کیا ہے خال ہے مگر کیسی
لیجیے تو مہنگی ہے بیچیے تو سستی ہے
خضرِ منزل اپنا ہوں اپنی راہ چلتا ہوں
میرے حال پر دنیا کیا سمجھ کے ہنستی ہے
کیا کہوں سفر اپنا ختم کیوں نہیں ہوتا
فکر کی بلندی یا حوصلے کی پستی ہے
دیدنی ہے یاس اپنے رنج وغم کی طغیانی
جھوم جھوم کر کیا کیا یہ گھٹا برستی ہے
(یاس یگانہ چنگیزی)
مشق
سوالات
1۔ یاس نے مطلع میں دنیا کے بارے میں کیا کہا ہے ؟
2۔ شاعر نے بے دلوں کی زندگی کو کس چیز سے مثال دی ہے ؟
3۔ شاعر اپنی خود پرستی کو حق پرستی کیوں سمجھتا ہے ؟
4۔ شاعر نے کیمیائے دل کی کیا خصوصیات بیان کی ہے ؟
5۔ اس شعر کی تشریح کیجیے :
کیا کہوں سفر اپنا ختم کیوں نہیں ہوتا
فکر کی بلندی یا حوصلے کی پستی ہے