Skip to content
5188

منظومات 


                                                                  نظم 


نظم کے معنی ’انتظام ، ترتیب یا آرائش ‘ کے ہیں۔ نظم شاعری کی ایسی صنف ہے جس میں کسی خیال کو تسلسل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ۔ نظم کے لیے نہ تو ہیئت کی کوئی قید ہے او رنہ موضوعات کی ۔ غزل اور مثنوی کی ہیئت میں بھی نظمیں کہی گئی ہیں۔ 
ہیئت کے اعتبار سے نظم کی چار قسمیں ہیں :

1۔پابند نظم 
ایسی نظم جس میں بحر استعمال اور قافیوں کی ترتیب میں مقررہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو، پابند نظم کہلاتی ہے۔ 

2۔نظم معّرا
ایسی نظم جس کے تمام مصرعے برابر ہوں مگران میں قافیے کی پابندی نہ ہو، نظم ِ معّرا کہلاتی ہے۔
3۔آزاد نظم 
 ایسی نظم جس میں نہ تو قافیے کی پابندی کی جاتی ہے ، نہ مصرعے برابر ہوتی ہیں تاہم بحر کی پابندی کی جاتی ہے ۔ 
4۔ نثری نظم 
نثری نظم چھوٹی بڑی نثری سطروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں نہ تو ردیف اور قافیے کی پابندی ہوتی ہے اور نہ ہی وزن کی۔ نثرنظم کا روان دنیا کی تمام زبانوں میں عام ہے۔ اردو میں بھی اسے مقبولیت حاصل ہوچکی ہے۔ یوں پرانی وضع کے بہت سے لوگ شاعری کی صنف کے طور پر اب بھی تسلیم کرتے ہیں۔ 

27

نظیر اکبر آبادی 

(1740-1830)

نظیر کا پورا نام ولی محمد تھا۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے ۔ بارہ برس کی عمر میں اکبر آباد ( آگرہ) چلے گئے اور اکبر اآباد کو اپنا وطن بنایا ۔ وہ گھر گھر جاکر بچوں کو پڑھاتے تھے۔ انھوں نےبہت سادگی اور قلندری کے ساتھ زندگی بسر کی ۔
نظیر اکبر آبادی سے اردو میں عوامی شاعری کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ ایک فطری شاعر تھے۔ انھوں نے عوام کی زندگی کے سکھ دکھ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور انہی کی زبان کا استعمال کیا۔ 
ہندوستانی موسم، میلے ، تہواروں اور انسانی زندگی کے اہم پہلوؤں اور معاملات پر لکھی ہوئی ان کی نظموں کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ نظیر کے پاس الفاط کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ اس لیے وہ موقع اور موضوعات کی مناسبت سے مناسب الفاظ استعمال کرکے کلام میں بلاکی تاثیر پیدا کردیتے ہیں۔ نظیر کی شاعری میں موضوعات کی کثرت بھی نمایاں ہے۔ 
رواداری اور انسان دوستی کے ساتھ ساتھ نظیر کا صلح کا رویہ بھی انھیں سماج کے ہر طبقے اور گروہ کا شاعر بناتا ہے ،وہ پیچیدہ موضوعات پر بھی سیدھی سادی زبان میں شعر کہنے کا ملکہ رکھتے تھے۔ 

روٹیاں 

جس جاپہ ہانڈی چولھا توا اور تنور ہے 
خالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے 
چولھے کے آگے آگ جو جلتی حضور ہے 
جتنے ہیں نور ان میں یہی خاص نور ہے

اس نو رکے سبب نظر آتی ہیں روٹیاں 
روٹی جب آئی پیٹ میں ، سوقند گُھل گئے 
گل زار پھولے آنکھوں میں اور عیش تُل گئے 
دو تر نوالے پیٹ میں جب آکے ڈھل گئے 
چودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئے 

یہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاں 

روٹی نہ پیٹ میں ہوتو پھر کچھ جتن نہ ہو
میلے کی سیر ، خواہش ِ باغ وچمن نہ ہو 
بھوکے غریب دل کی خداسے لگن نہ ہو 
سچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو 

اللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاں 

پوچھا کسی نے یہ کسی کا ملِ فقیر سے 
یہ مہر وماہ حق نے بنائے ہیں کا ہے کے 
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے 
ہم تونہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے 

بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں 
                                                        (نظیر اکبر آبادی )

مشق 

سوالات 

1۔ شاعر نے روٹیوں کو خاص نور کیوں کہا ہے ؟ 
2۔ شاعر نے روٹیوں کا کیا کشف وکمال بیان کیا ہے ؟
3۔ شاعر کے نزدیک روٹیاں کس طرح اللہ کی یاد دلاتی ہیں ؟
4۔ فقیر کو چاند اور سورج میں ’’ روٹیاں‘‘ کیوں نظر آتی ہیں ؟