محمد حسین آزاد
(1829-1910)
محمد حسین آزاد اردو کے اہم ادیب اور شاعر تھے۔ وہ مشہور شاعر استاد ذوق کے شاگرد اور دہلی اردو اخبار کے مدیر مولوی محمد باقر کے بیٹھے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی تھی۔ ابتدا میں انھوں نے ملازمت کے سلسلے میں مختلف شہروں کا سفر کیا۔ آخر میں وہ لاہور میں محکمۂ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔
لاہور میں انھوں نے انجمن پنجاب کی زیرنگرانی ایک نئے انداز کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی ، جس میں شاعروں کو عنوانات دیے جاتے ہیں تھے اور انھیں عنوانات پر شعرا نظمیں سناتے تھے۔ یہیں سے اردو میں جدید نظم نگاری یا جدید شاعری کا آغاز ہوا۔
محمد حسین آزاد نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ’آب حیات ‘ ، ’دربابِ اکبری‘، ’نیرنگ خیال‘ ، ’سخن دان ِ فارس ‘ وغیرہ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔ وہ ایک صاحب طرز ادیب اور انشا پرداز تھے۔ انھوں نے بچوں کی تعلیم وتربیت کے متعلق اردو میں بہت سی ریڈر س بھی لکھیں۔
انھوں نے شاعری میں نئے موضوعات شامل کرنے پر زور دیا اور ’’نیچرل شاعری‘‘ کے ایک نئے تصور کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ شاعری کو سماجی ، اصلاحی اور معاشرتی تعمیر کے ایک وسیلے کے طور پر اختیار کرنے کی باضابطہ روایت بھی آزاد اور حالی سے شروع ہوتی ہے ۔
اولوالعزمی
ہے سامنے کھلا ہوا میدان چلے چلو
باغ ِ مراد ہے ثمر افشاں چلے چلو
دریا ہو بیچ میں کہ بیاباں چلے چلو
ہمت یہ کہہ رہی ہے کھڑی ہاں چلے چلو
چلنا ہی مصلحت ہے مری جاں چلے چلو
ہمت کے شہ سوار جو گھوڑے اٹھائیں گے
دشمن فلک بھی ہوں گے توسر کو جھکا ئیں گے
طوفان بلبلوں کی طرح بیٹھ جائیں گے
نیکی کے زور اٹھ کے بدی کودبائیں گے
بیٹھو نہ تم مگر کسی عنواں چلے چلو
آئینہ دل کا گردِ سفر سے اُجال دو
پوچھے کوئی ارادہ کدھر ہے تو ٹال دو
شیطاں جو شبہ ڈالے تو دل سے نکال دو
ہو خوف کا خیال تو بزدل پہ ٹال دو
اور آپ بن کے شیرِ نیستاں چلے چلو
رکھو رفاہِ قوم پہ اپنا مدار تم
اور ہو کبھی صلے کے نہ امیدوار تم
عزت خدا جو دیوے تو پھر کیوں ہو خوار تم
دودخ کو آبِ فکر سے رنگِ بہار تم
گلشن میں ہوکے بادِ بہاراں چلے چلو
(محمد حسین آزاد )
مشق
سوالات
1۔ ’ہے سامنے کھُلا ہوا میداں چلے چلو ‘ سے شاعر کی کیامراد ہے ؟
2۔ دوسرے بند میں شاعر نے کیا بات کہی ہے ؟
3۔ تیسرے بند میں شاعر نے کیا مشورہ دیا ہے ؟
4۔ نظم ’ اولو العزمی ‘ کو پڑھ کر کیا تاثر پیدا ہوتا ہے ؟