Skip to content
5188

30

اکبر الہ آبادی 

(1846-1921)

سید اکبر حسین رضوی نام، اکبر تخلص تھا۔ بارہ ، ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد سے حاصل کی ۔ پہلے مکتب اور پھر جمنامشن اسکول میں داخل ہوئے ۔ ملازمت کی ابتدا عرضی نویسی کی حیثیت سے کی ۔ 1837میں ہائی کورٹ کی وکالت کا امتحان پاس کرکے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ اس کے بعد سب جج اور سیشن جج مقرر ہوئے۔ 
اکبر کو شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ شاعری کی ابتدا غزل گوئی سے کی۔ ان کی انفرادیت طنزیہ ومزاحیہ شاعری میں نظرآتی ہے۔ یہی ان کی شہرت کا سبب بنی۔ انھوں نے شاعری کو اصلاحِ قوم کے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انگریزی تعلیم کے منفی اثرات اور انگریزی تہذیب کی اندھی تقلید پر بھر پور وار کیے۔ وہ مشرقی تہذیب کے دل دادہ تھے۔ اسی لیے مذہبی اورتہذیبی روایات سے نئی نسل کی بے گانگی ، نوجوانوں کی بے راہ روی ، عورتوں کی بے جا آزادی خاص طور پر اکبرکے طنزکا نشانہ بنی۔ اکبر تعلیم ِ نسواں کے حامی تھے۔ انھوں نے عام بول چال کے لفظوں کو نہایت دل آویزی اورفن کارانہ انداز میں استعمال کیا ہے ۔ انگریزی الفاظ سے بھی کاخاطر خواہ فائدہ اٹھایا ۔ اکبر کا کلام ’کلیات اکبر ‘ کے نام سے چار حصوں میں شائع ہوچکا ہے۔ شاعری میں طنز ومزاح کی روایت کے پس منظر میں اکبر کانام سب سے زیادہ نمایاں اور ممتاز ہے۔ ان کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف سب نے کیا ہے ۔ 

 جلوۂ دربارِ دہلی 

سر میں شوق کا سودا دیکھا
دہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا 
جو کچھ دیکھا اچھا دیکھا
کیابتلائیں کیا کیا دیکھا
جمنا جی کے پاٹ کو دیکھا 
اچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا 
سب سے اونچے لاٹ کو دیکھا 
حضرت ڈیوک کناٹ کو دیکھا
پلٹن اور رسالے دیکھے 
گورے دیکھے کالے دیکھے
خیموں کا اِک جنگل دیکھا 
اس جنگل میں منگل دیکھا
برھما اور ورنگل دیکھا
عزت خواہوں کا دنگل دیکھا
ڈالی میں نارنگی دیکھی 
محفل میں سارنگی دیکھی 
بیرنگی بارنگی دیکھی
دہر کی رنگا رنگی دیکھی
اچھے اچھوں کو بھٹکا دیکھا 
بھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھا 
منہ کو اگر چہ لٹکا دیکھا 
دل دربار سے اٹکا دیکھا
پُر تھا پہلوئے مسجدِ جامع 
روشنیاں تھیں ہر سو لامع 
کوئی نہیں تھا کسی کا سامع 
سب کے سب تھے دید کے طامع 
سرخی سڑک پر کٹتی دیکھی 
سانس بھی بھیڑ میں گھُٹتی دیکھی 
آتش بازی چھٹی دیکھی 
مفت کی دولت لٹتی دیکھی 
ایک کا حصہ من ّ وسلوا 
ایک کا حصہ تھوڑا جلوا
ایک کا حصہ بھیڑ اور بلوا 
میر احصہّ دور کا جلوا 
اوجِ بخت ملاقی ان کا 
چرخ ہفت طباقی ان کا 
محفل اُن کی ساقی اُن کا 
آنکھیں میری باقی اُن کا 
                                       ( اکبر الہ آبادی )

                  مشق 

سوالات 

 1۔ ’سر میں شوق کا سودا دیکھا ‘ اس کا کیا مطلب ہے ؟
2۔  اس نظم میں شاعر نے دہلی کے کن مقامات کا ذکر کیا ہے ؟
3۔  نظم ’جلوۂ دربارِ دہلی ‘ میں شاعر نے کن مناظر کی تصویر کشی کی ہے ؟
4۔  ’ میر احصہ دور کا جلوہ‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟